26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 26:105–122

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

جھٹلایا نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ کے رسولوں کو

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جب کہا ان سے ان کے بھائی نوح (علیہ السلام) نے کیا تم ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے لیے رسو ل ہوں امانت دار

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

پس ڈرو اللہ سے اور میری اطاعت کرو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کوئی بدلہ نہیں ہے میرا بدلہ مگر رب العالمین کے ذمے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

پس ڈرو اللہ سے اور میری اطاعت کرو

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

کہا انہوں نے کیا ہم ایمان لائیں تجھ پر حالانکہ تیری پیروی رذیل لوگ کرتے ہیں

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

کہا ( نوح نے) اور مجھے کیا علم ہے اور باتوں کا جو کچھ وہ کر رہے ہیں

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب میرے رب کے ذمے ہے ، اگر تم میں کچھ شعور ہے

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں نہیں دھکیلنیک والا ایمان والوں کو

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں نہیں ہوں مگر ڈر سنانے والا کھول کر

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

کہا انہوں نے اگر تو باز نہیں آئے گا اسے نوح (علیہ السلام) ! البتہ ہوگا تو سنسا کیے ہوئوں میں

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

کہا ( نوح نے) اے میرے پروردگار ! بیشک میری قوم نے مجھے جھٹلایا ہے

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

پس فیصلہ کر میرے درمیان اور ان کے درمیان واضح فیصلہ اور نجات دے مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ایمان والے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

پس ہم نے نجات دی ان کو اور جو ان کے ساتھ تھے بھری ہوئی کشتی میں

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر ہم نے غرق کردیا اس کے بعد دوسروں کو

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

بیشک اس ( واقعہ) میں البتہ نشانی ہے ، اور نہیں ہیں اکثر لوگ ایمان لانے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور بیشک تیرا پروردگار البتہ زبردست اور نہایت رحم کرنے والا ہے

ربط آیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ہے۔ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی قوم مشرکین مکہ کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور اپنے پیغمبر کو تسلی دی کہ آپ اتنی دل سوزی نہ کریں پھر اہل ایمان کی تسلی کے لیے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا ۔ فرعون اور قبطیوں کی غرقابی کا ذکر کیا اس سورة مبارکہ میں مختلف انبیاء کے ادوار کی تربیت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس ترتیب کے لحاظ رکھا گیا ہے۔ یہاں پر مختلف اقوام کے غرور وتکبر کی شدت کے پیش نظر ان اقوام اور ان کے انبیاء کا حال بیان کیا گیا ہے۔ فرعون اور اس کی قوم چونکہ سب سے زیادہ تکبر تھی ، لہٰذا اس سورة میں تاریخ انبیاء اور ان کی اقوا کا حال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شروع کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے کیونکہ آپ کا مخاطب نمرود جیسا مغرور بادشاہ تھا۔ اس کے بعد اب نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر آ رہا ہے کہ غرور وتکبر میں نمرود کے بعد قوم نوح کا نمبر آتا ہے فرعون کے تکبر کا حال یہ تھا کہ اس نے کہہ دیا انا ربکم الاعلی (النزعت : 42) میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں اور نمرود نے ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے اپنی بڑائی کا اظہار اس طرح کیا انا احی و امیت ( البقرہ : 52) میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں ۔ اب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے غرور وتکبر کا ذکر ہو رہا ہے۔ نوح (علیہ السلام) کا قوم سے خطاب ارشاد ہوتا ہے کذبت قوم نوح المرسلین حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا ۔ یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں صرف آپ ہی ان کی طرف رسول مبعوث ہوئے تھے جیسا کہ سورة نوح میں صاف موجود ہے انا ارسلنا نوحاً الی قومہ (آیت : 1) ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا ، مگر یہاں پر فرمایا ہے کہ آپ کی قوم نے مرسلین یعنی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر جمع کا صیغہ اس لیے استعمال ہوا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے کسی ایک کا جھٹلانا سب کے جھٹلانے کے مترادف ہے ۔ اللہ نے تمام نبی توحید اور ایمان ہی کی دعوت دیتے رہے۔ تمام انبیاء کے بنیادی اصول دین ایک ہی میں لہٰذا ہاں پر جمع کا صیغہ مرسلین استعمال کیا گیا ہے۔ اذ قال لھم اخوھم نوح جب ان کے جانی نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا الا تتقون کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ تم اللہ کے نبی کی بات ، کو نہ صرف تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہو ، بلکہ اسے طرح طرح کی ذہنی اور جسمانی تکلیفیں بھی پہنچا رہے ہو ۔ کیا خدا تعالیٰ کی گرفت سے خوف نہیں کھاتے ، یہاں پر نوح (علیہ السلام) کو آپ کی قوم کا بھائی کہا گیا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ آپ اپنی قوم اور برادری ہی کے ایک فرد تھے اس لیے نسب میں ان کے بھائی لگتے تھے بعض نبیوں کو اللہ تعالیٰ نے غیر اقوام کی طرف بھی معبوث فرمایا ہے مثلاً حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے مگر اللہ نے ان کو شرق اردن کی دوسری قوم کی طرف مبعوث فرمایا ۔ آپ ان کے خاندانی بھائی نہیں تھے۔ بھائی بندی کے بعض دوسرے ذرائع بھی ہیں مثلاً ایک ہی دین کے پیروکار آپس میں دینی بھائی ہوتے ہیں ۔ ایک ملک کے باشندے ایک زبان بولنے والے لوگوں میں بھی ملکی یا لسانی رشتہ اخوت موجود ہوتا ہے۔ جب کسی غیر ملک میں جا کر ایک ہی ملک کے رہنے والے دو آدمی اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ مکی بھائی کہلاتے ہیں ۔ بہر حال نوح (علیہ السلام) ملکی ، قومی اور نسبی اعتبار سے اپنی قوم کے فرد اور ان کے بھائی تھے۔ اسی لیے فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم سے ان کے بھائی نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ دیکھو انی لکم رسول امین میں تمہاری طرف امانتدار رسول بنا کر بھجیا گیا ہوں ۔ ظاہر ہے کہ حق تبلیغ کی ادائیگی میں اللہ کا ہر نبی امانت دار ہوتا ہے ، جو تبلیغ کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے ۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ سے خطاب کر کے فرمایا یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَط وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ( المائدہ : 76) اے رسول ! تیرے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اسے امت تک ٹھیک پہنچا دیں۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے حق رسالت ہی ادا نہیں کیا غرضیکہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے فرمایا کہ تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں فاتقوا اللہ واطیعون پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو نہ نبی توحید کی تعلیم اور اپنی اطاعت کا حکم دیتا ہے۔ انبیاء کی اطاعت گویا اللہ ہی کی اطاعت ہے ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ( النسائ : 8) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ نوح (علیہ السلام) نے بھی قوم کو یہی کہا کہ اللہ کی گرفت سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ نیز فرمایا کہ اس تبلیغ حق کے ضمن میں وما اسئلکم علیہ من اجر میں تم سے کوئی بدلہ ، اجرت یا ہزاروں یا مزدوری طلب نہیں کرتا کیونکہ ان اجری الاعلی رب العالمین میرا اجر تو تمام جہانوں کے پروردگار کے ذمے ہے۔ سارے انبیاء کا یہی مشن رہا ہے وہ احکام الٰہی کی تبلیغ وتعلیم کے لیے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے کیونکہ وہ اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ سے بہترین بدلے کے امیدوارہوتے ہیں فرمایا فاتقوا اللہ واطیعون اللہ سے ڈرجائو اور میری اطاعت کرو کہ اس میں تمہاری فلان کا راز پنہاں ہے ۔ میری بےلوث اور بےغرض تبلیغ کا تقاضا یہی ہے کہ میری طرف سے پیش کردہ سچی بات کو مان لو ۔ یہاں پر اللہ نے اختصار کے ساتھ نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ سورة ہود ، سورة یونس ، سورة اعراف اور سورة نوح میں تفصیلات ہی بیان کی گئی ہیں ۔ قوم کا جواب جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے یہ پیغام رکھا قالو انومن لک واتبعک الا رذلون تو وہ کہنے لگے اے نوح (علیہ السلام) ! کیا ہم تیری بات کو مان لیں حالانکہ تیرے پیچھے چلنے والے تو رذدیل لوگ ہیں ۔ تیری مجلس میں کمی نہیں لوگ بیٹھتے ہیں بھلاہم ان کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتے ہیں جب کہ ہم اعلیٰ خاندان اور اعلیٰ روزی کے اشراف لوگ میں ۔ یہی تکبر کی بات تھی ، جو قوم فرعون اور نمرود نے بھی کی تھی ۔ قریش مکہ بھی اسی بیماری میں مبتلا تھے۔ وہ بھی کہتے تھے کہ تیرے پاس گھٹیا درجے کے لوگ آ کر بیٹھتے ہیں ہم ان کی ہم نشینی کیسے اختیار کرسکتے ہیں ۔ حضور ﷺ کی حیات طیبہ میں یہی کچھ ہوا ۔ صدیق اکبر ؓ اور عمر فاروق ؓ جیسے اشراف بہت کم تھے ۔ جو ابتدائی دور میں ایمان لائے ورنہ جمہوری خاندانی آدمیوں کا حال یہی تھا کہ جب کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہا تو چار روز چار ایمان لے آئے۔ ابو سفیان ؓ نے بیس سال تک سخت مخالفت کی جنگیں لڑیں ۔ پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو ایمان لے آئے۔ اس کے بعد ان پر بڑا اخلاص پیدا ہوگیا تھا اور وہ جاہلیت کی زندگی پر سخت افسوس کیا کرتے تھے خود اپنے خاندان کے لوگوں کے روبرو کہا کرتے تھے کہ ہم نے سخت غلطی کی ۔ لہٰذا اس غلطی کی تلافی کی صورت یہی ہے کہ باقی زندگی میں دین کی بڑھ چڑھ کر خدمت کی جائے ، چناچہ حقیقت یہی ہے اکثر انبیاء کی امتوں میں غرباء پہلے اسلام لائے حضور ﷺ کا فرمان 1 ؎ ہے بدا الاسلام غریبا وسیعود کما بدافطوبی للغرباء اسلام کی ابتداء غریبوں سے ہوئی اور پھر یہ غربا میں ہی مٹ کر رہ جائے گا ۔ لہٰذا غرباء لوگ خوشخبری کے مستحق ہیں ۔ نسل رنگ یا خاندان کی بناء پر کسی کو حقیرجاننا سخت جہالت کی بات ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کلکم ابنک ادم وادم من ترب تم سب آدم (علیہ السلام) کی اولادہو اور آپ کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی ۔ لہٰذا پیدائشی طور پر کوئی حقیر یا اشرف نہیں ہے بلکہ ان اکرمکم عند اللہ اتقکم ( الحجرات : 31) اللہ تعالیٰ کے ہاں با عزت اور شریف وہ ہے جو زیادہ متقی ہے لہٰذا کسی کو کسی خاص پیشے کی بناء پر کم تر خیال کرنا نہایت ہی بری بات ہے بلکہ یہ تو انسانیت کی توہین ہے۔ فقہائے کرام نے پیشوں کے لحاظ سے جو کفو کا مسئلہ نکالا ہے وہ محض لوگوں کی سہولت کے لیے ہے کہ ہم پیشہ لوگوں کو آپس میں زیادہ مناسبت ہوتی ہے۔ 1 ؎۔ مسلم ص 48 ج 1 (فیاض) لہٰذا اگر وہ آپس میں میں رشتے ناطے کریں گے تو ان کے لیے آسانی ہوگی ۔ اما م مالک فرماتے ہیں کہ یہ کوئی لازم نہیں ہے بلکہ حقیقت میں یہ مسلمان دوسرے کا کفو ہے اور رشتہ کرسکتا ہے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سادات کی عورتوں کا نکاح امتیوں سے نہیں ہو سکتا ۔ یہ بھی غلط بات ہے خود حضور ﷺ نے اپنے منہ بولے بیٹے زید جو آزاد کردہ غلام تھے کا نکاح قریش خاندان کی حضرت زینب ؓ سے کرایا ، اگرچہ بوجوہ ان کا نباہ نہ ہو سکامگر ہر مومن دوسرے مومن کا کفو ہے۔ ہاں اگر کوئی مرد یا عورت دینی یا اخلاقی اعتبار سے معیوب ہے تو اس میں خرابی آئے گئی گویا شرافت یا ذالت دین اور اخلاق کے اعتبار سے ہے۔ نہ کہ برادری ، خاندان اور پیشوں کے اعتبار سے بعض خاندانوں کو اللہ نے دنیاوی طور پر بھی معزز بنایا ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں ، ورنہ حقیقت میں تو سارے اولاد آدم ہی ہیں ۔ بہر حال نوح (علیہ السلام) کی قوم نے آپ سے کہا کہ ہم آپ پر کیسے ایمان لاسکتے ہیں ۔ جب کہ آپ کے ہم نشین اور اتباع کرنے والے تو رذیل لوگ ہیں ۔ اہل ایمان کی قدر و قیمت ارشادہوتا ہے قال وما علمی بما کانوا یعلمون نوح (علیہ السلام) نے فرمایا ، مجھے کیا علم ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں ان حسابھم الا علی ربی لو تطعرون ان کا حساب تو میرے رب کے پاس ہے اگر تم کچھ شعوررکھتے ہو۔ مطلب یہ کہ جن لوگوں نے صدق دل سے ایمان قبول کیا ہے ان کی نیت اور ارادے کو تو خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے ان کے … سے بھی اللہ تعالیٰ واقف ہے ، تم ان کو حقیر سمجھتے ہو مگر وہ تو ایسا نہیں سمجھتا ، لہٰذا میں ان کو اپنی مجلس سے کیوں اٹھا دوں ۔ میں تو تمہارے کہنے پر ایسا کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں ، تمہارا خیال غلط ہے کہ ہدایت قبول کرنے والے کی کمین لوگ میں بلکہ اللہ کے ہاں بھی اہل ایمان عزت و احترام کے قابل ہیں ۔ لہٰذا وما انا بطار المومنین میں ان مخلص ایمان والوں کو اپنی مجلس سے دور نہیں کرسکتا ۔ ان انا الا نذیر مبین۔ میری حیثیت تو یہ ہے کہ میں کھول کر ڈر سنانے والا ہوں ۔ دوسری جگہ یہ بھی موجود ہے کہ میں ان ایمان والوں کو دھکیل دوں گا تو ظالم بن جائوں گا ( العیاذ باللہ ) یہاں پر کسی کے خاندان اور قبیلے کا لحاظ نہیں بلکہ ایمان اور اخلاص کی قدر و قیمت ہے ۔ یہاں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس کا دل نور ایمان اور نور توحید سے منور ہے ! کون شخص ہے جو اطاعت کرتا ہے اور صدق و امنت کا پاسدار ہے ؟ قوم نوح کی طرف سے دھمکی نوح (علیہ السلام) کی قوم دلیل کے ساتھ تو کوئی با ت نہ کرسکی اس لیے انہوں نے آپ کو دھمکیاں دینی شروع کردیں ۔ قالو لیئن لم تنتہ ینوح کہنے کے اے نوح (علیہ السلام) اگر تو اپنی تبلیغ سے باز نہ آیا لتکونن من المرجومین تو ہوجائے گا تو سنگسار کیے ہوئوں میں سے مطلب یہ کہ اگر تو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے گا تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے ۔ یہ قوم کا غرورو تکبر بول رہا تھا ۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ اکیلا آدمی ہے چند کمزور قسم کے لوگ اس کے حمایتی ہیں ہم جو چاہیں ان کے ساتھ کر گزریں گے چناچہ انہوں نے نوح (علیہ السلام) کو بہت زیادہ تکلیفیں دینا شروع کردیں آپ کو مار مار کر بےہوش کردیتے تھے ۔ ذرا ہوش آتی تو پھر اللہ کا پیغام سناتے تھے۔ …… ان تمام تر تکالیف کے باوجود نوح (علیہ السلام) نے اپنا مشن جاری رکھا سورة نوح میں موجود ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ……انی دعوت قومی لیلا و نھار ( آیت : 5) میں نے اپنی قوم کو شب و روز توحید و ایمان کی دعوت دی ۔ انی دعوتھم جھار ( آیت : 8) میں نے ان کو علی الاعلان تبلیغ کی ۔ ثم انی اعلنت لھم واسرت لھم اسرار ( آیت : 9) میں نے ا ن کو ظاہر بھی دعوت دی اور خفیہ طور پر بھی سمجھایا مگر انہوں نے میری ایک نہ مانی تمام لوگ مغرور اور سر کش تھے سوائے ان ستر یا اسی افراد کے جو کشتی میں سوار ہوئے اللہ نے ساری قوم نوح کو قوما عمین ( الاعراف : 46) اندھی قوم کہا ہے ان کی آنکھیں تو تھیں مگر دل کے اندھے تھے ، وہ حق کو چھپانے کے لیے تیار نہ تھے۔ آخر میں تنگ آ کر نوح (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا قال رب ان قوم کذبون پروردگار ! میری قوم نے مجھے جھٹلادیا ہے ۔ فافتح بینی وبینھم فتحا پس میرے اور ان کے درمیان کھلا فیصلہ کر دے و نجنی ومن معی من المومنین اور مجھے اور میرے ساتھ دوسرے ایمان والوں کو نجات دے اللہ کے سارے ہی مصائب پر صبر کرتے رہے مگر آخر اللہ کے سامنے اپنی مدد کے لیے درخواست کرنے پر مجبورہو گئے۔ قال رب انصرنی بما کذبون ( المومنون : 93) پروردگار ! میری مدد فرما کہ یہ لوگ مجھے جھٹلا رہے ہیں۔ دعا کی قبولیت اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کو شرف قبولیت بخشا فانجینہ ومن معہ فی الفلک المشحون پس ہم نے نجات دی حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کو بھری ہوئی کشتی کے ذریعے یہاں پر کشتی بنا ہے اور پھر طوفان آنے کا ذکر نہیں کیا ۔ دوسری سورتوں میں مفصل حالات مذکور ہیں نوح (علیہ السلام) کی دعا کے ضمن میں صرف اتنا فرمایا ہے کہ ہم نے آپ کو اور آپ کے ساتھ والے ستر یا اسی افرادکو بچا لیا جو کشتی میں سوارہو گئے۔ یہ کشتی اللہ کے حکم سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے خشکی پر بنائی تھی جس کی لمبائی ساڑھے چار سو فٹ تھی اور تین منزلہ کشتی تھی اور ہمارے زمانے کے سفینہ حجاجک جیسے بڑے بحری جہاز کے مانند تھی جس میں جانوروں کا ایک ایک جوڑا اور باقی انسان تھے جن میں نوح (علیہ السلام) کے دو بیٹے اور ان کی بیویاں بھی شامل تھیں۔ بہر حال فرمایا کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ثم اغرقنا بعدالبقین پھر اس کے بعد ہم نے باقی سب انسانوں اور جانوروں کو پانی میں ڈبو کر ہلاک کردیا ، یہ اتنا بڑا سیلاب تھا جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ تورات کے بیان کے مطابق طوفان کا پانی بلند ترین تھا یہ تیس فٹ اونچا چلا گیا اور سب کچھ غرق ہوگیا فرمایا : ان فی ذالک لایۃ اس سارے واقعہ میں ایک نشانی ہے جسے اہل مکہ اور بعد میں آنے الے بھی دیکھ لیں کہ مجرموں کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے۔ اس کشتی کو بھی اللہ نے نشانی کے طور پر باقی رکھا ہے جو کہ انسانی تاریخ کا ایک نمونہ ہے۔ اس قدر برے انجام کے باوجود اللہ نے فرمایا وما کان اکثر ھم مومنین اکثر لوگ ایمان قبول کرنے والے نہیں ہیں ۔ آج بھی دیکھ لیں کہ انبیاء کی آمد کتب کے نزول اور ہدایت کے دیگر تمام تر اسباب مہیا ہونے کے باوجود لوگوں کی اکثریت ایمان سے خالی ہے لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور کفر ، شرک اور رسم و رواج کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ فرمایا وان ربک لھو العزیز الرحیم بیشک تیرا پروردگار غالب بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کے حق میں خدا تعالیٰ کی صفت رحمت کا ظہو ر ہوا جب کہ باقی مجرموں کے لیے اس کی صفت عزیز کا ظہو ہوا کہ وہ سب پر غالب بھی ہے۔
Ayahs 26:123–131

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

جھٹلایا قوم عاد نے اللہ کے رسولوں کو

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جب کہا ان کے لیے ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے ، کیا تم ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے لیے رسول ہوں امانت دار

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

پس اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کوئی بدلہ میرا بدلہ نہیں ہے مگر رب العالمین کے ذمے

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

کیا بناتے ہو تم ہر بلندجگہ پر ایک نشانی جس کے ساتھ تم کھیل کرتے ہو

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور بناتے ہو تو مختلف کاریگریاں ( یا عالیشان مکانات شاید کہ تم نے ہمیشہ رہنا ہے

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب تم ہاتھ ڈالتے ہو کسی پر تو گرفت کرتے ہو تم ظلم کے ساتھ

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

پس اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو

ربط آیات یہ تسلی کا مضمون بیان ہو رہا ہے۔ سورة ہذا کی ابتدائی آیات میں حضور ﷺ اور آپ نے ان کو تسلی دی گئی تھی کہ آپ اتنی زیادہ فکر نہ کریں اور یہ لوگ آپ کی بات کو تسلیم کیوں نہیں کرتے بلکہ آپ اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں اور نتائج اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں اب اسی سلسلے میں سابقہ اقوام کا حال بیان کیا جا رہا ہے مطلب یہ ہے کہ اکثر مشرکین بہت بڑے سر کش میں تو ان سے پہلی اقوام کے لوگ بھی کوئی کم سر کش نہیں تھے۔ انہوں نے بھی اپنے اپنے …علیہم السلام کو سخت تکالیف پہنچائیں ، ان کی تکذیب کی مگر وہ خود ہی ہلاک ہوئے اس ضمن میں قوم فرعون ، قوم ابراہیم اور قوم نوح کا ذکر ہوچکا ہے ۔ قوم فرعون اور قوم نوح کو اللہ نے پانی میں ڈبو کر ہلاک کیا ۔ اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے بابلی لوگ بھی بڑے ظالم اور سر کش تھے ۔ انہوں نے آپ کو سات سال تک قید میں رکھا پھر آپ کو بڑی آگ میں پھینک دیا ، مگر اللہ نے آپ کو صحیح سلامت بچا لیا ، پھر بابل والوں پر اللہ کی گرفت آئی اور وہ تباہ و برباد ہوئے۔ اب آ ج کے برس میں اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کا تذکرہ فرمایا ہے کہ انہوں نے اپنے رسول حضرت ہود (علیہ السلام) کے ساتھ کی سلوک کیا اور ان کا کیا انجام ہوا ۔ قوم عاد کا حال ارشاد ہوتا ہے کذبت عاد المرسلین قوم عاد نے بھی اپنے رسولوں کو جھٹلایا ، اگرچہ انکے رسول تو ہود (علیہ السلام) ہی تھے مگر یہاں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے وجہ یہ ہے کہ تمام رسولوں کا دین اور مشن تو ایک ہی رہا ہے لہٰذا کسی ایک رسول کو جھٹلانا تمام رسولوں کو جھٹلانے کے مترادف ہے ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اسی طرح خطاب کیا اذ قال لھم اخوھم ھود جب کہا ان کو ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح حضرت ہود (علیہ السلام) بھی اس قوم کے فرد تھے۔ اس لیے آپ کو ان کا بھائی کہا گیا ہے تو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا الا تتقون تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ اللہ کے نبی کی تکذیب کرتے ہو ۔ اسراف اور دیگر طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر کفر و شرک تمہارا شعار ہے مگر اس کے باوجود تم خدا تعالیٰ کی گرفت سے ڈرتے نہیں ۔ یاد رکھو انی لکم رسول امین میں تمہاری طرف خدا کا بھیجا ہوا رسول اور امانتدار ہوں ۔ میں تمہیں اللہ کا پیغام بےکم وکاست پہنچاتا ہوں ، کسی کی رو رعایت نہیں رکھتا لہٰذا فاتقو اللہ واطیعون اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری بات جانو ۔ اس کے بعد آپ نے وہی جملہ دہرایا جو سارے نبی کہتے آئے ہیں وما اسئلکم علیہ من خبر میں تم سے اس تبلیغ حق کے عوض کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا کیونکہ ان اجری الا علی رب العالمین کی وجہ میرا بدلہ تو صرف تمام جہانوں کے پروردگار کے ذمے ہے۔ وہی مجھے حق مختار ادا کرے میرا تم سے صرف یہی مطالبہ ہے کہ خدا کی وحدانیت کو تسلیم کرو اور میری بات مان کر ہدایت کے راستہ پر گامزن ہو جائو کفر شرک اور معاصی کو ترک کر کے اللہ کے مقبول بندے بن جائو۔ اسراف کی بیماری مختلف اقوام میں مختلف اخلاقی بیماریاں پائی جاتی رہی ہیں ۔ عقیدے کی بیماری کفر ، شرک تو ہر قوم میں تھا۔ تا ہم قوم نوح ، قوم ابراہیم اور قوم فرعون کی اخلاقی بیماریوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ اسی طرح قوم عاد میں ظلم و ستم کے علاوہ اسراف کی بیماری عام تھی ۔ بڑی بڑی عمارات تعمیر کرنا ان کا عام مشغلہ تھا جن کا کوئی خاص مصرف نہیں بلکہ محض نمود و نمائش مطلوب ہوتی تھی ۔ اسی چیز کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا اتبنون بکل ریع ایۃ تعبون کیا بناتے ہو تم ہر اونچی جگہ پر کوئی نشانی محض کھیل کے لیے ؟ وتتخذون مصائع اور طرح طرح کی کاریگریاں یا مکانات بناتے ہو لعلکم تخلدون گر با تم نے یہاں ہمیشہ رہنا ہے ۔ آپ نے اپنی قوم کی توجہ اس طرف دلائی کہ تم عالیشان عمارات بنا کر اور اس میں نقش و نگار کر کے فضول خرچی کے مرتکب ہو رہے ہو ۔ رہائش یا کسی دوسرے ضروری مقصد کے لیے کوئی عمارت تعمیر کی جائے تو اس میں تو کوئی حرج نہیں مگر اتنی بڑی بڑی عمارات بنانا جن کا کوئی مصرف نہ ہو ، محض اسراف ہے ۔ اللہ کے نبی نے قوم کو ایسی باتوں سے منع فرمایا۔ قوم عاد حضر ت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے سامی نسل سے تعلق رکھتی تھی ان کا مرکز بین کے اطراف میں وادی داہنا اور ریگستانی علاقہ تھا۔ یہ لوگ فن تعمیر کے ماہر تھے ۔ انہوں نے بیشمار عمارتیں تعمیر کیں جن میں قصر عمدان یا عمدان چالیس منزلہ تھا۔ اس کے کھنڈرات حضرت عثمان ؓ کے دور تک پائے جاتے تھے۔ مصر سے لے کر ترکستان ، ہندوستان اور ایشیاء کے دیگر ممالک پر ان کا دبدبہ تھا۔ اہرام مصر بھی ساڑھے پانچ ہزار سال پرانے ہیں ، کچھ سلامت ہیں اور کچھ ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں ۔ جس طرح فراعین مصر کو بڑی بڑی عمارتیں بنانے کا شوق تھا۔ اسی طرح قوم عاد بھی نمود و نمائش کے لیے عالیشان عمارتیں تعمیر کرتی تھیں۔ …عمارات ان آیات میں آمدہ الفاظ ریع تعثون اور مصانع خاص طور پر توجہ طلب ہیں ۔ ریع کا معنی درہ بھی ہوتا ہے مگر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ریع کا معنی اونچی جگہ ہے ۔ قوم عاد کے لوگ اونچے ٹیلے پر اونچی اونچی عمارتیں مینار اور گنبد وغیرہ بناتے تھے۔ دوسرا لفظ مصانع ہے جو مصنع کی جمع ہے۔ آج کل یہ لفظ فیکٹری یا کارخانے کے لیے بولا جاتا ہے۔ اگر یہ لفظ بطور مصدر ہو تو اس کا معنی مختلف کاریگر یاں یا فنون ہوگا ، تا ہم یہاں پر عالیشان مکانات محلات ، مینار ، گنبد اور کبوتر اڑانے کے اونچے چبوترے مراد ہیں جنہیں قوم عاد کے لوگ تعمیر کرتے تھے ۔ قرآن پاک کی رو سے بلا ضرورت ایسی شاندار عمارات تعمیر کرنا اسراف میں داخل ہے۔ جسے اس مقام پر غبت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی فضول بےمقصد ، عبث قول سے ہو یا فعل سے دونوں طرح ناجائز ہے غرضیکہ عبث ہو وہ چیز ہے جس کا نتیجہ انسان کے حق میں آخرت کے اعتبار سے اچھا نہ نکلے اور یہ قابل مذمت ہے۔ پرانی اقوام میں اس قسم کی عبث عمارات مصریوں کے ہاں بھی پائی جاتی ہیں ۔ مشہور احرام مصر فراعین کے قبرستان اور مقبرے ہیں ۔ برصغیر میں تاج محل ، آگرہ مقبرہ جہانگیر ، مقبرہ نور جہاں ، قطب صاحب کی الاٹ ذخیرہ اسی قبیل سے ہیں ۔ حیدر آباد دکن میں کسی امیر آدمی نے قصر فلک نما بنا کر افضل الدولہ کو تحفے میں دیا تھا۔ یہ پہاڑی کے اوپر بنا ہوا عالیشان محل ہے جس کے چالیس کمرے ہیں اور ہر کمرے کی آرائش زیب وزینت ، فرنیچر ، پردے رنگ و روغن اور ماحول الگ الگ ہے۔ اسی طرح پاکستان کی تاریخ میں جناح صاحب کا مقبرہ کروڑوں کی لاگت سے تعمیر ہوا ہے لاہور میں مینار پاکستان سے علامہ اقبال کا مقبرہ ہے اس کے علاوہ کھیلوں کے لیے بڑے بڑے سٹیڈیم اور کمپلیکس تعمیر ہونے ہیں جن پر کروڑوں روپیہ صرف ہوا ہے۔ یہ سب عمارات نام و نمود کے لیے تعمیر ہوئی ہیں وگرنہ ان کا حقیقی فائدہ کچھ نہیں ۔ ان کی بجائے اگر یہی روپیہ سکول کالج یا لائبریریاں بنانے پر صرف ہوتا تو لوگوں کو اجتماعی فائدہ ہوتا ۔ غریب لوگوں کے لیے مکانات تعمیر ہوتے تو ان کے بچوں کو سردی اور گرمی سے پناہ گاہ حاصل ہوجاتی جس سے ہزاروں خاندان مستفید ہو سکتے تھے ، مگر اس قسم کی عالیشان عمارات جن ک کوئی خاص مقصد نہیں عبث کی تعریف میں آتی ہے۔ بھلا اہرام مصر فرعونیوں کو آخرت میں کیا فائدہ دیں گے ان کی شہرت اسی دنیا تک محدود ہے۔ اسی طرح ستر لاکھ روپے سے تعمیر ہونے والا لاہور کا مینار پاکستان کس قدر مفید ہو سکتا ہے۔ یہی رقم اگر لوگوں کی تالیف قلوب پر ہی صرف ہوتی تو لوگ مرید ہونے سے بچ جاتے ۔ عیسائی مشنریاں اسی دولت کی بناء پر مسلمانوں کو عیسائی بنا رہی ہیں ۔ نادار مسلمانوں کی دست گیری کی جائے تو لوگ اسلام جیسے اعلیٰ وارفع دین کو فروخت کرنے پر مجبور نہ ہوں ۔ لبنان کی جنگ کے نتیجے میں بارہ سو لاوارث بچوں کو انگیریزوں نے اپنی کفالت میں لے لیا ۔ آخر وہ عیسائی ہی بن گئے۔ دنیائے اسلام کی نظریں ان ضروری کاموں کی طرف کیوں نہیں اٹھتیں ۔ ذاتی نمائش کے لیے عالیشان محلات ، سربفلک پلازے ، بڑے بڑے اسمبلی ہال ، پریذیڈنٹ ہائوس اور وزیراعظم ہائوس جیسی عمارات محض شان و شوکت کا اظہار نہیں تو اور کیا ہے ؟ کیا یہ ضرورتیں اس خرچ عمارات سے پوری نہیں ہو سکتیں ۔ یہ سب فضول خرچی ہے جو کہ عبث ہے۔ طبرانی نے جید سند کے ساتھ روایت بیان کی ہے جسے صاحب تفسیر مظہری نے بھی نقل کیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی دولت کو مٹی اور گارے میں لگا دیتا ہے۔ دیکھ لیں آج بلڈنگ بازی کا شوق کن لوگوں کے سروں پر سوارہو چکا ہے ۔ آخرت کی کچھ فکر نہیں ۔ محض دنیا کی نمود و نمائش کے لیے عمارات تعمیر کی جا رہی ہیں ، وگرنہ اگر محض رہائش مقصود ہو تو وہ کم خرچ سے تھوڑی جگہ پر بھی بن سکتی ہے۔ اس کے آرائش و زیبائش کے اخراجات کو کم کیا جاسکتا ہے ، مگر لوگ ان کو اس طرح تعمیر کر رہے ہیں گویا کہ ہمیشہ ان میں رہائش پذیر ہوں گے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کل بناء و بال علی صاحبہ لا ما لا الا مالا ہر عمارت اپنے بنانے والے کے لیے باعث وبال ہوگی سوائے اس کے جو ضروری ہے اور جس میں رہائش مقصود ہے دوسری روایت میں آتا ہے۔ ہر بنائی جانے والی عارات وبال ہے الا ما کان من مسجد او دار سوائے مسجد یا گھر کے ۔ مسجد کو اگر خوشنما بھی بنا دے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ باقی عمارتیں انسان کے لیے وبال جان ہیں ۔ لوگ انہیں یادگار کے طور پر بناتے ہیں مگر آخرت میں ان کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ایسے لوگ اسراف کے حربہ میں قابل مواخذہ ہوں گے۔ دنیا کی بےثباتی شداداسی قوم عاد کا ایک فرد تھا جس نے باغ زیر تعمیر کرایا تھا۔ اس نے دنیا میں جنت نمونہ تیار کروایا۔ وہ بھی سمجھتا تھا کہ اس میں ہمیشہ رہے گا ، مگر اس کو اس باغ میں داخلہ بھی نصیب نہ ہوا ۔ ابھی دروازے پر ہی تھا کہ موت کا وقت آگیا ۔ ایک اور روایت میں بھی دنیا کی بےثباتی اور انسانی زندگی کی وقعت اور وقوع موت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ روزمرہ مشاہدہ میں آ رہا ہے مگر ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ موت دوسروں کیلئے ہے اور وہ ہمیشہ رہے ۔ اور اسی زعم میں بڑے بڑے منصوبے بناتا ہے مگر بےعبث حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا۔ راستے میں حضور ﷺ کو پیشاب کی حاجت ہوئی ۔ آپ نے فارغ ہو کر مٹی سے تیمم کرلیا ۔ میں نے عرض کیا حضور اپنی تو قربت ہی ہے آپ ذرا توقفہ فرما کر وضو ہی کرلیتے ۔ آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا وما یدرینی لعلی لا ابلغ مجھے کیا علم کہ میں پانی تک پہنچ بھی سکوں گا یا نہیں ، لہٰذا میں نے طوری طور پر تیمم ہی کرلیا ۔ حضرت عبد اللہ ابن عمرو ابن عاص ؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کا ہمارے پاس گزر ہوا میں اور میری والدہ اس وقت اپنی جھونپڑی مرمت کر رہے تھے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا عبد اللہ ! کیا کر رہے ہو ، عرض کیا حضور ! جھونپڑی اصلاح طلب تھی اس کو ٹھیک کر رہے ہیں ۔ فرمایا الامر اعجل من ذلک معاملہ تو اس سے بھی جلدی کا ہے تمہیں کیا معلوم کہ اس جھونپڑی کی درستگی کے بعد تمہیں اس میں رہنا بھی نصیب ہوگا یا نہیں ۔ کیا پتہ کہ موت کس وقت آجائے۔ حضرت ابو درا ؓ کا وعظ جس طرح حضرت ابو ذر غفاری ؓ ، کمال درجے کے مجذہ ب اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ افقہ الامت یعنی امت محمدیہ کے بڑے فقیہہ تھے۔ اسی طرح حضرت ابو داردا ؓ ، حضور ﷺ کی امت کی حکیم الامت تھے ۔ مسلمانوں کے عروج کے زمانے میں آپ دمشق گئے تو دیکھا کہ لوگ بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کر رہے ہیں ۔ آپ مسجد میں آئے ، اللہ کی حمد وثناء بیان کی اور پھر اعلان کیا ۔ اے اہل دمشق ! میری بات سنو ! کیا تمہیں حیا نہیں آتی کہ عالیشان عمارات بنانے لگے ہو ۔ تجمعون مالا تاکلون تم ایسی چیزیں جمع کرتے ہو جنہیں کھانا نصیب نہیں ہوگا ۔ ایسی عمارات بناتے ہو جن میں رہنا نصیب نہیں ہوگا اور ایسی چیز کی آرزو کرتے ہو جیسے پا نہیں سکتے۔ تم سے پہلے بہت سی قومیں گزری ہیں جو جمع کرتی تھیں ۔ مال و دولت سمیٹ سمیٹ کر رکھتی تھیں ۔ مضبوط تع میرات کرتی تھیں ۔ لمبی آرزئوئیں باندھتی تھیں مگر یہ سب چیزیں باطل ثابت ہوئیں اور وہ قومیں ہلاک ہوگئیں ۔ فرمایا اب ان قوموں کے مساکن قبرستان بنے ہوئے ہیں ۔ دیکھو ! قوم عاد عدن سے عمان تک برسر اقتدار تھی ۔ ان کے گھوڑے اور اونٹ دوڑتے تھے ، ان کے پاس آسائش کی ہر چیز موجود تھی ، مگر آج ان کی پوری وادی ویران اور سنسان پڑی ہوئی ہے جسے کوئی ٹکے پر بھی لینے کے لیے آمادہ نہیں بھلا تم لوگ کن کاموں میں مصروف ہوگئے ہو کہ بڑ بڑ ی عمارتیں بنانا شروع کردی ہیں ۔ بہر حال اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عبث کیسا بھی ہو اچھا نہیں ہے۔ ایسی عمارتیں بنانا جن کا کوئی خاص مصرف نہ ہو ۔ محض نمود و نمائش کا اظہار ہو ۔ ان کا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ ایسا کرنا بری بات ہے اور حضرت ہود (علیہ السلام) کے بیان سے ان کی مذمت ثابت ہوتی ہے۔ ظلم کی ممانعت حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی دوسری خرابی یہ بیان فرمائی واذا بطشتم بطشتم جباربن لوگو ! جب تم کسی پر گفت کرتے ہو تو ظلم و ستم ڈھاتے ہو قوم عاد کے لوگ اپنے ارد گرد کے کمزور لوگوں پر بڑا ظلم کرتے تھے ، ان سے بیگانہ لیتے ۔ ان کی مزدوری ادا نہ کرتے اور ان کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچاتے ۔ اللہ کے نبی نے ان کو ظلم و ستم سے منع کیا ۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے غرور ، تکبر ، شرک ، کفر ، فضول خرچی ، نمود و نمائش ، فضول ، عمارات ، مینار اور گنبد تعمیر کرنے اور ناداروں اور کمزوروں پر ظلم کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اللہ کے نبی ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ان باتوں سے آگاہ کیا اور یہ بھی فرمایا فاتقوا اللہ واطیعون لوگو ! اللہ سے ڈر جائو اور میری بات مانو میں تمہیں اللہ کے احکام ٹھیک ٹھیک پہنچا رہا ہوں کہ میں اس کا امانت دار رسول ہوں ۔ اگلی آیات میں نہ یہ وعظ و نصیحت کا ذکر ہے۔
Ayahs 26:132–140

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور ڈرو اس ذات سے جس نے تم کو مدد پہنچائی ہے ان چیزوں کے ساتھ جن کو تم جانتے ہو

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے مدد پہنچائی ہے تم کو جانوروں کے ساتھ اور بیٹوں کے ساتھ

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اور باغات کے ساتھ اور چشموں کے ساتھ

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

بیشک میں خوف کھاتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

کہا ان لوگوں نے ( جواب میں) برابر ہے کہ تو نصیحت کرے یا نہ ہو تو نصیحت کرنے والوں میں سے

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

نہیں ہے یہ مگر عادت پہلے لوگوں کی

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور نہیں ایسے ہم کو ہمیں سزا دی جائے

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

پس جھٹلایا انہوں نے اس (ہود (علیہ السلام) ) کو ، پھر ہم نے ان کو ہلاک کردیا ۔ بیشک اس میں البتہ نشانی ہے ، اور نہیں ہیں اکثر لوگ ایمان لانے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور تحقیق تیرا پروردگار وہی ہے زبردست ہے اور نہایت رحم کرنے والا ہے

ربط آیات حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کے ساتھ فرعون کا ذکر کیا ۔ پھر نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا ۔ اس سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ۔ پھر ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کا حال بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام میں پائی جانے والی بیماریوں کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ کے نبی اپنی اپنی اقوام کو ان خرابیوں سے منع کرتے رہے۔ کفر و شرک کی بیماری تو تمام اقوام میں قدر مشترک تھی ۔ اس کے علاوہ کسی میں معاملات کی خرابی تھی ، کسی میں ظلم و زیادتی پائی جاتی تھی اور کوئی قوم خلاف وضع فطری امر میں مبتلا تھی ۔ کسی میں ظلم و زیادتی پائی جاتی تھی اور کوئی قوم خلاف وضع فطری امر میں مبتلا تھی ۔ بعض میں غرور وتکبر اس حد تک تھا کہ وہ اللہ کے نبی کو کہتے کہ ہم تمہاری مجلس میں کیسے بیٹھ سکتے ہو جب کہ تمہارے پاس حقیر لوگوں کی نشست و برخاست ہے۔ گزشتہ درس میں حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کے متعلق بیان ہوچکا ہے کہ ایک تو ان میں اسراف بکثرت تھا۔ وہ بڑ ی بڑی عمارات ، گنبد مینار اور مقبرے بنائے تھے ۔ جن کا کوئی فائدہ نہ تھا ، محض نمود و نمائش تھی اور دوسرے یہ کہ و ہ ظالم و جابر قسم کے لوگ تھے کم تر لوگوں پر زیادتی کرتی تھے ۔ جیسا کہ بیان ہوچکا ہے ۔ اذا بطشتم بطشتم جبارین جب تم پر کسی گفت کرتے ہو تو نہایت سختی سے پیش آتے ہو ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی معرکۃ آلارا کتاب 1 ؎ حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ جملہ انبیاء (علیہم السلام) کے مشن میں جہاں عقائد ، اعمال اور اخلاق کی اصلاح شامل تھی وہاں رفع التظام من بین الناس بھی شامل رہا ہے یعنی ہر نبی کا یہ فرض منصبی رہا ہے کہ لوگوں کو ظلم و زیادتی سے منع فرمائے ، چناچہ اللہ کے نبی ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو ظلم و ستم سے منع فرمایا اور ساتھ ساتھ وہ انعامات بھی گنوائے 1 ؎۔ حجۃ اللہ البالغہ ص 151 ج 1 ( فیاض) جو اللہ نے ان پر کیے تھے اور ان کا شکر ادا کرنے کی تلقین فرمائی۔ انعام ہمیشہ اپنے منعم کا شکریہ چاہتا ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے مبارک لا یشکر الناس لا یشکر اللہ جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا ، وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی بھی شکر گزاری نہیں کرتا ، فرمایا جو شخص تمہارے ساتھ احسان کرے ، اس کو احسان کا بدلہ دو ، اگر بدلہ نہیں دے سکتے تو کم از کم اس کے لیے دعائے خیر ہی کر دو ۔ اب آج کے درس میں ہود (علیہ السلام) کی طرف سے بیان کردہ اللہ کے بعض انعامات کا ذکر ہے اس کے ساتھ قوم کا جواب اور پھر ان کی ہلاکت کا تذکرہ ہے۔ انعامات الٰہیہ کا شکرہی ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا واتقوا الذی امد کم بما تعملوں ، اللہ تعالیٰ کی اس ذات سے ڈر جائو جس نے تمہیں مدد پہنچائی ہے ۔ ان چیزوں کے ساتھ جن کو تم جانتے ہو ، سب سے بڑی نعمت تمہارا اپنا وجود ہے اور پھر اس جسم کو ملنے والی بیشمار بیرونی نعمتیں ہیں جن میں تم ڈوئے ہوئے ہو ۔ سورة النمل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ وان تعد و انعمۃ للہ لا تحصوھا ( آیت : 81) اگر تم اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے ۔ ان کی تعداد اور مقدار اس قدر یادہ ہے کہ تم ان کا احاطہ نہیں کرسکتے ۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ ان الانسان لظلوم کفار ( ابراہیم : 43) انسان بڑا ہی ظالم اور ناشکرگزار ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان عمر بھر عبادت و ریاضت میں گزار کر اللہ تعالیٰ کی ایک ادنیٰ ترین نعمت کا بھی شکر یہ ادا نہیں کرسکتا ۔ چہ جائیکہ تمام نعمتوں کا احاطہ کرسکے ۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ وہ انسان کی طرف سے تھوڑے سے شکریہ کے ساتھ بھی راضی ہوجاتا ہے ۔ بہر حال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بیشمار نعمتیں پھیلا دی ہیں جو روزمرہ تمہارے مشاہدہ میں آتی ہیں اور تم انہیں اچھی طرح جانتے ہو۔ مویشی اور بیٹے آگے اللہ نے بعض نعمتوں کا نام لے کر بھی ذکر کیا ہے۔ فرمایا امد کم بانعام و بنین اس نے تمہاری مدد کی مویشوں اور بیٹیوں سے ، مویشی انسانی زندگی کے لوازمات میں داخل ہیں ۔ سورة زمر میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔ احلت لکم بھمیۃ الانعام ( آیت : 1) لوگو ! تمہارے لیے چوپائے مویشی حلال کیے گئے ہیں ، ان کی تفصیل سورة الانعام میں موجود ہے کہ ان سے مراد اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری کے نر مادہ ہیں ۔ لوگ ان کا دودھ ، گھی ، بال اور کھال استعمال کرتے ہیں ۔ ان سے سواری اور باربرداری کا کام لیتے ہیں اور شریعت کے بائے ہو قانون کے مطابق انہیں ذبح کر کے ان کا گوشت بھی کھاتے ہیں ۔ یہ جانور انسان کے خادم ہیں ۔ انسانی خدمت اللہ نے ان کی فطرت میں رکھ دی ہے اونٹ جیسا طاقتور جانور جب بگڑ جاتا ہے تو ہلاک کیے بغیر نہیں چھوڑتا مگر عام طور پر اس کی فطرت یہ ہے کہ ایک تنی سال کا بچہ سو اونٹ کی قطار کی مہار پکڑ کر جدھر چاہے لے جاسکتا ہے ، اونٹ اس قدر فرمانبردار ہے ، اس لیے اس پر سواری کے وقت اللہ نے یوں کہنے کا حکم دیا ہے ۔ سبحان اللہ سخر لنا ھذا وما کنا لہ مقرنین ( الزخرف : 31) پاک ہے ذات جس نے ان کو ہمارے بس میں کردیا ، وگرنہ ان کو قابو کرنا ہمارے لیے ممکن نہ تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ان جانوروں کے ایک بال کا بھی شکریہ ادا نہیں کرسکتا ۔ ایک بال بنانے کے لیے بھی اللہ کی قدرت کا پورا کارخانہ حرکت میں آتا ہے ۔ ورنہ کون ہے جو ایک بال بھی بنا کر دکھائے یہ تو اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے کہ اس کا معمولی سا شکریہ بھی ادا کردیا جائے تو وہ خوش ہوجاتا ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ انسان پانی کا گھونٹ پی کر جب الحمد للہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے بھی راضی ہوجاتا ہے کہ اس کے بندے نے اس کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس قدرقدر دان ہے ۔ قوم عاد کو بھی اللہ نے اونٹوں کی نعمت عطا فرمائی ۔ یمن کے صحرائوں میں ان کے اونٹ دوڑتے تھے جہاں دوسری کوئی سواری میسر نہ تھی ۔ اونٹ کو سفینۃ الصحرا یعنی صحرائوں کی کشتی بھی کہا گیا ہے۔ جب تک جدید ذرائع نقل و حمل نہیں تھے اونٹ کو بڑی اہمیت حاصل تھی ، ہمارے ہاں بھی بالا کوٹ سے گلگت تک ایک اونٹ بارہ من بوجھ اٹھا کر بیس دن میں پہنچا دیتا تھا۔ اب تو ہوائی جہاز میں لوگ راولپنڈی سے گلگت صرف سوا گھنٹے میں پہنچ جاتے ہیں باربرداری کے بڑے بڑے ٹرک ہیں مگر پرانے زمانے میں اونٹ بہت بڑی نعمت شمارہوتا تھا۔ اللہ نے یہاں پر انعام کے طور پر بیٹوں کا ذکر بھی کیا ہے بیٹے اور بیٹیاں بھی اللہ کی نعمت ہیں مگر بیٹوں کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ یہ انسان کے لیے زیادہ مفید ہوتے ہیں ۔ مشقت کے سارے کام بیٹے انجام دیتے ہیں ، مال و جان کی حفاظت کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور انسان کی نسل بھی انہی سے چلتی ہے ۔ بیٹیاں تو فطری طور پر پردہ نشین ہیں ، ان سے بھاری کام نہیں لیے جاسکتے ، ویسے بھی انسان فطرتاً بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دیتے ہیں بچی کی پیدائش پر خوشی نہیں کی جاتی جب کہ بچے کے لیے بڑی خوشی منائی جاتی ہے حالانکہ بیٹا اور بیٹی دونوں اللہ کی عطا ہے اور بقائے نسل کا کام دونوں کے ذریعے سے ہی ممکن ہے ۔ اللہ نے سورة بنی اسرائیل میں جہاں مشرکوں کی مذمت بیان کی ہے وہاں فرمایا افاصفک ربکم بائبنین واتخذ من الملئکۃ انا نا ( آیت : 04) اللہ تعالیٰ نے تمہیں تو بیٹے عطا فرمائے ہیں ۔ تم اپنے لیے بیٹے چاہتے ہو مگر اللہ کے لیے تم فرشتوں کو اس کی بیٹیاں تجویز کرتے ہو ، کتنی ناانصافی کی بات ہے جس جنس کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے اسے اللہ کے لیے رواہ رکھتے ہو۔ باغات اور چشمے اگلی آیت میں اللہ نے باغات اور چشموں کا ذکر کیا ہے کہ اس نے تمہیں مدد پہنچائی وجنت و عیوت باغات اور چشموں کے ساتھ ، اللہ نے چشموں اور نہروں کے ذریعے آبپاشی کا نظام قائم کیا جس سے تمہارے باغات اور کھیتیاں پیدا ہوئیں اور جن سے تمہاری خوراک کے لیے پھل اور اناج پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ …کے خصوصی انعامات ہیں جنکا شکر ادا کرنا ضروری ہے ۔ فرمایا انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو متنبہ فرمایا کہ میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا خوف کھاتا ہوں ۔ آپ سے انہیں بتلا دیا کہ تمہارے افعال و کردار اس نوعیت کے ہیں کہ تم پر اللہ کی گرفت آسکتی ہے ، لہٰذا اس کی سر کشی سے باز آ جائو ۔ اس کی وحدانیت کو تسلیم کرلو ۔ غرور وجہ اور اسراف کا چھوڑ دو ، اور کمزوروں پر ظلم کرنا ترک کر دو ، ورنہ مجھے خطرہ ہے کہ کہیں تم پکڑے نہ جائو ، بڑے دن کا عذاب اس دنیا میں بھی آسکتا ہے اور آخرت میں بھی ، حقیقت میں حساب کتاب کا دن ہی یوم عظیم ہے جس دن انسانوں کے اعمال کا فیصلہ ہوگا لیکن جس دن کسی قوم پر اس دنیا میں بھی عذاب آیا ، ان کے لیے وہ بھی بڑا دن تھا ، یہ دن قوم نوح ، قوم فرعون اور قوم عاد وثمود پر بھی آیا جب انہیں صفحہ ہستی سے نا پید کردیا گیا ، تو ہود (علیہ السلام) نے قوم کو خبردار کیا کہ کہیں تم بڑے دن کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائو ، وقت ہے کہ اب بھی سنبھل جائو ، اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ قوم ہود (علیہ السلام) کا جواب ہود (علیہ السلام) کے اس وعظ و نصیحت کے جواب میں قوم نے یہ کہا قالوا سواء علینا او عظت ام لم تکن من الواعظین کہنے لگے کہ ہمارے لیے برابر ہے تو ہمیں نصیحت کرے یا نہ ہو نصیحت کرنے والوں میں سے مطلب یہ کہ اے ہود (علیہ السلام) ! تو جو مرضی کہتا رہے ۔ تمہارے وعظ و نصیحت کا ہم پر کچھ اثر نہیں ہوتا ، ہم تمہاری بات ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں ۔ سورة ہود میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ قوم نے کہا قالوا یھود ما جئتنا بئینۃ (آیت : 35) تو ہمارے پاس کوئی واضح چیز لے کر نہیں آیا ، لہٰذا ہمیں تمہاری باتوں پر یقین نہیں آتا بلکہ ہم تو تمہارے متعلق یہ سمجھتے ہیں ان نقول الا اعترئک بعض الھتنا بسوء ( آیت : 45) کہ تم پر ہمارے معبودوں کی مار پڑگئی ہے ۔ تمہارا دماغ چل گیا ہے ( نعوذ باللہ) تم ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو ، مگر افسوس کہ قوم کا یہ کردار محض غرور اور جہالت کی بناء پر تھا۔ وعظ بطور مشن انبیاء وعظ کا معنی نصیحت کرنا ہے اور یہ چیز انبیاء (علیہم السلام) کے مشن میں داخل ہوتی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب الخیر الکثیر میں اس کام کو قھو المدارک الظلمانیہ بانوار المعارف القدسانیۃ سے تعمیر فرماتے ہیں یعنی لطیفہ چیزوں کے ذریعے انسانی اذہان کو اس طور پر متاثر کرنا کہ وہ صحیح چیز کو تسلیم کر کے ظلم و ستم اور فتنہ و فساد سے باز آجائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضور ﷺ سے یہ کہلوایا ہے۔ قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍ اَنْ تَقُوْمُوْا ِ اللہ ِ مَثْنٰی وَفُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوْاقف مَابِصَاحِبِکُمْ مِّنْ جِنَّۃٍط (سبا : 64) لوگو ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم مجمع میں ہو یا دودو یا تین تین کی ٹولیوں میں یا اکیلے ہو ، کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر سوچو تو تم اسی نتیجے پر پہنچو گے کہ تمہارا ساتھی محمد رسول اللہ ﷺ دیوانہ نہیں ہے ۔ تم تھوڑا سا غور و فکر بھی کرو گے تو تمہیں احساس ہوجائے گا کہ میں تمہاری خیر خواہی کی بات کرتا ہوں ، لہٰذا میرا اتباع کرو اور ہمیشہ کی ذلت سے بچ جائو ۔ قوم ہود (علیہ السلام) کا صریح انکار الغرض ! حضرت ہود (علیہ السلام) کے تمام تر وعظ کے جواب میں قوم کہنے لگی۔ ان ھذا الا خلق الاولین یہ تو پہلے لوگوں کی عادت ہے جو تم پیش کر رہے ہو ، خلق یا اخلاق عادت کو کہتے ہیں خواہ اچھی عادت ہو یا بری ہو۔ کہنے لگے کہ پہلے بھی لوگ اسی طرح یہ ڈرایا کرتے تھے جس طرح تم ہمیں کسی غائبانہ عذاب سے ڈرا رہے ہو ۔ مگر ہم نے تو ایسی کسی سزا کو آنے نہیں دیکھا ، لہٰذا ہمیں تمہاری ان باتوں پر یقین نہیں آتا۔ ان ھذا کا اشارہ اس طرف بھی ہو سکتا ہے کہ جو کچھ آج ہم کر رہے ہیں ۔ یہی کچھ ہمارے پرانے آبائو اجداد بھی کیا کرتے تھے ، مگر تم ہمیں ان کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہو ، دوسری جگہ پر ہے کہ تم ہمیں آبائو ادجداد ان کے معبودان ان کے طور طریقوں اور ان کے رسم و رواج سے ہٹانا چاہتے ہو لہٰذا ہم تمہاری بات ماننے کے لیے تیار ہیں بلکہ اپنے آبائو اجداد کے پرانے طریقے پر ہی چلتے رہیں گے ۔ حضور ﷺ اور مشرکین مکہ کے درمیان بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا ۔ سورة بقرہ میں موجود ہے کہ جب مشرکین سے کہا جائو اس چیر کی اتباع کرو جو اللہ نے نازل فرمائی ہے تو وہ کہتے کہ ہم تو اس چیز کا اتباع کرینگے جس پر ہم نے اپنے آبائو اجداد کو پایا اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّلَا یَھْتَدُوْنَ اگرچہ ان کے آبائو اجداد ناسمجھ اور غیر ہدایت یافتہ ہی کیوں نہ ہوں ، وہ اپنی ڈگر پر چلتے رہیں گے ۔ ہود (علیہ السلام) کی قوم نے بھی کہا کہ ہم تمہاری بات کو نہیں مانتے اور نہ تمہاری طرف سے کسی سزا کی پیش گوئی کو تسلیم کرتے ہیں من اشد منا قوۃ ً (حم السجدۃ : 51) بھلا ہم سے بڑھ کر کون طاقتور ہے جو ہمیں سزا دے گا ۔ وما نحن بمعذبین اور نہیں ہیں ہم کو ہمیں سزا دی جائے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ بڑی طاقت کا مالک ہے۔ وہ چاہے تو معمولی سی چیز کے ساتھ انہیں ہلاک کردے ۔ اَنَّ اللہ الَّذِیْ خَلَقَھُمْ ھُوَ اَشَدُّ مِنْھُمْ قُوَّۃً (حم السجدۃ : 51) قوم کی ہلاکت اور پھر ایسا ہی ہوا ، ارشاد ہوتا ہے فکذبوہ قوم عاد نے اپنے رسول ہود (علیہ السلام) کو صریحا ً جھٹلا دیا ۔ جس کا نتیجہ آخر یہی نکلا فالکنھم کہ ہم نے اس پوری قوم کو ہلاک کردیا اور ہلاک بھی ہوا ۔ جیسی غیر محسوس چیز سے کیا ۔ یہ بڑے طاقتور لوگ تھے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی ہوئی ہوا کا مقابلہ نہ کرسکے جو سخر ما علیھم سبع لیال و ثمنیۃ ایام ( الحاقہ : 7) ان پر سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل چلتی رہی۔ اس ہوا نے بڑے بڑے کڑیل جوانوں کو اٹھا اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا ۔ وہ ریگستان میں اس طرح پڑے تھے جس طرح کھجور کے بڑے بڑے تنے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے ہوں ۔ اللہ نے فرمایا فھل تری لھم من باقیۃ ( الحاقہ : 8) اے مخاطب ! تم ان میں سے کسی فرد واحد کو بھی زندہ نہیں دیکھتے ۔ اللہ ن سب کو ہلاک کردیا ، زندہ بچ جانے والوں میں نجینا ھودا والدین امنوا معہ ( ہود : 85) صرف ہود (علیہ السلام) اور ان کے ایمان دار ساتھی تھے ، باقی سب ختم ہوگئے ۔ فرمایا ان فی ذلک لایۃ اس واقعہ میں عبرت کی نشانی ہے۔ مکہ کے مشرکین بھی اور دیگر نافرمان بھی غور کریں اور دیکھیں کہ غرور وتکبر اور نافرمانی کا انجام کیا ہوتا ہے۔ انہیں جان لینا چاہئے کہ اگر انہوں نے بھی کفرو شرک کا ارتکاب کیا ، کمزوروں پر ظلم و ستم ڈھائے اور انبیاء کی بات کو جھٹلایا تو خدا تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے آگے انسانی تاریخ کے اعتبار سے یہ جملہ بار بار دہرایا گیا ہے وما کان اکثرھم مومنین اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ سابقہ اقوام کے حالات دیکھ کر بھی لوگ عبرت نہیں پکڑتے تھے بلکہ ان کی اکثریت ایمان سے محروم رہتی تھی اور بالآخر وہ بھی تباہ ہوجاتی تھی ۔ تاریخ شاہدہ ہے کہ ہر دور میں کثرت نافرمانوں کی ہی رہی ہے اور اہل ایمان ہمیشہ قلت میں رہے ہیں ۔ فرمایا وان ربک لھو العزیز الرحیم بیشک تیرا پروردگار عزیز یعنی کمال قدرت کا مالک ہے۔ وہ جب چاہے کسی مجرم کو شدید ترین سزا دے دے وہ رحیم بھی ہے ۔ جن پر زیادتی ہوئی ۔ اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی اور ان کی مشکلات کو دور کیا ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ دونوں صفات کام کررہی ہیں۔