26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 26:69–77

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور بے ( اے پیغمبر ! ) آپ ان کو ابراہیم (علیہ السلام) کی خبر سنا دیں

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جب کہا اس نے اپنے باپ سے اور اس کی قوم سے کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

کہا انہوں نے ہم مورتیوں کی پوجا کرتے ہیں ، پس ہم سارا دن ان کے سامنے جھکے رہتے ہیں

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

کہا ( ابراہیم (علیہ السلام) نے ) کہا وہ تمہاری بات کو سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو ؟

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا تم کو نفع پہنچاتے ہیں یا نقصان پہنچاتے ہیں ؟

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

انہوں نے کہا ، نہیں بلکہ پایا ہے ہم نے اپنے آبائواجدا د کو ۔ وہ اسی طرح کرتے تھے

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

کہا ( ابراہیم (علیہ السلام) نے) بھلا کیا تم دیکھتے ہو جن چیزوں کی تم عبادت کرتے رہے ہو

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

تم بھی اور تمہارے پہلے آبائو اجداد بھی

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

پس وہ میرے دشمن ہیں مگر رب العالمین ( میرا دوست ہے)

ربط آیات گزشتہ تین رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات باتفصیل بیان فرمائے۔ اس سورة مبارکہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات ان کی فرعون کی طرف روانگی سے شروع ہوئے۔ اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کی ظالم قوم کو میرا پیغام توحید سنائو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کی تائید چاہی اور ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا ، شدید کہ وہ مجھے بھی نہ مار ڈالیں ۔ اللہ نے تسلی دی تو آپ فرعون کے پاس پہنچے ۔ اپنی رسالت کا اعلان کیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا ۔ فرعون نے آپ پر بچپن میں کیے گئے احسانات یا دلائے اور کہا کہ تو ہماری نا شکری کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تو میرے رب کا احسان ہے کہ اس نے مجھے تمہارے ظلم سے بچایا اور نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا فرعون کے استفسار پر رب العالمین کا تعارف بھی کرایا کہ وہ وہی ہے جس نے تمہیں اور تمہارے آبا ئو اجداد کو پیدا کیا اور وہ مشرق و مغرب کا رب ہے۔ فرعون نے کہا کہ اگر تو نے میرے سوا کسی کو مبعود بنایا تو تجھے قید میں ڈال دوں گا ۔ پھر فرعون کے مطالبہ پر آپ نے عصا اور ید بیضاء کے معجزات پیش کیے۔ فرعون نے مقابلہ کے لیے ملک بھر سے جادوگر اکٹھے کیے ۔ تمام لوگوں کی موجودگی میں ایک کھلے میدان میں موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگروں کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں موسیٰ (علیہ السلام) غالب آئے اور جادوگر موقع پر ہی ایمان لے آئے پھر اللہ کے حکم سے موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل کھڑے ہوئے فرعون کے لشکر نے پیچھا کیا تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی پانی پر مارو ایسا کرنے سے سمندر میں بارہ خشک راستے بن گئے جن کے ذریعے بنی اسرائیل سمندر پار جانے کے لیے چل پڑے ۔ لشکر فرعون بھی انہی راستوں پر سمندر میں اتر آیا مگر اللہ نے سب کو بمع فرعون غرق کردیا اور اس طرح بنی اسرائیل فرعون کی غلامی سے آزاد ہوگئے ۔ اب اگلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر فرمایا ہے۔ جو انہوں نے اپنے باپ اور قوم کے سامنے پیش کی اور عقلی دلائل دیئے کہ اللہ تعالیٰ وعدہٗ لا شریک ہے اور جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو انہیں کچھ اختیار نہیں اور وہ تمہارے کچھ کام نہیں آسکتے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ابتدائی حالات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے جلیل القدر پیغمبر ہیں جنہیں جد الانبیاء بھی کہا جاتا ہے۔ آپ عراق کے قصبہ ہر مز جرو میں پیدا ہوئے ۔ مؤرخ ابن سعد کی روایت کے مطابق آپ کے والد کا نام تاریخ اور لقب آزاد تھا۔ دراصل آزر ایک بت کا نام تھا اور اسی لقب سے آپ نے شہرت پائی۔ قرآن میں دوسرے مقام پر آپ کے باپ کے لیے آزر کا لفظ آیا ہے۔ جسے فرمایا واذ قال ابراہیم لابیہ ازر ( الانعام : 57) آزر خود بت ساز بت پرست اور بت پرستی کا مرکز اور پوری قوم کا محور بن چکے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد اور قوم سے جدا ہو کر دریائے فرات کے مغربی کنارے سے پر اور کلداینین نامی بستی میں کچھ عرصہ رہائش پذیر رہے۔ آپ کی بیوی حضرت سارہ ؓ اور آپ کے بھیجتے حضرت لوط (علیہ السلام) بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہاں سے آپ ہر ان کی طرف چلے گئے اور پھر آگے فلسطین کے مغربی حصے میں کنعانیوں کے زیر اثر شہر نابلس میں قیام کیا ۔ پھر وہاں سے مغرب کی جانب مصر جا پہنچے۔ مصر میں ملک جبار والا واقعہ پیش آیا جو بخاری اور مسلم میں مذکور ہ۔ فرعون بھی ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح سامی نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ جب اس نے حضرت سارہ ؓ کی بددعا اور ان کی کرامت کو دیکھا تو اپنی بیٹی ہاجرہ ؓ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجیت میں دے دیا ۔ وہ سمجھ گیا کہ خاندان ابراہیم اللہ کے نزدیک ایک مقرب خاندان ہے اور اگر اس کی بیٹی حضرت سارہ ؓ کی خدمت بنی کریگی تو اس کے لیے باعث سعادت ہوئی ۔ بعض بنی اسرائیل کہتے ہیں کہ حضرت ہاجرہ ؓ بادشاہ مصر کی لونڈی تھی اور اس طرح اسماعیلی خاندان لونڈی کی اولاد میں جو کہ درست نہیں ہے۔ بعض یہدی علماء بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت ہاجرہ ؓ تو خودفرعون مصر کی بیٹی تھی یا پھر کوئی دوسری شہزادی تھی جو فرعون کے قبضہ میں تھی ۔ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری (رح) نے یہی بیان فرمایا ہے۔ واللہ اعلم۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی مادری زبا ن سریانی تھی مگر جب آپ اور کلداینین پہنچے تو وہاں پر عبرانی زبان بولی جاتی تھی لہٰذا آپ یہ زبا ن بھی بولنے لگے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ متعدد انبیاء کا سلسلہ وابستہ تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) آپ کے بھتیجے تھے جن کو اللہ نے شرق اردن کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ علاوہ ازیں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) آپ کے حقیقی فرزند اور اللہ کے نبی اور رسول تھے ۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ولادت اس وقت ہوئی جب ابراہیم (علیہ السلام) اسی یا تراسی سال کی عمر کو پہنچ چکے تھے۔ پھر جب آپ کی عمر سو سال ہوئی تو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی ۔ ابن سعد کی روایت کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کل دو سوس ال عمر پائی اور اس دوران آپ کے پوتے یعقوب (علیہ السلام) بھی پیدا ہوچکے تھے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر خیر قرآن پاک کی پچیس مختلف سورتوں میں آیا ہے۔ سورة الانبیاء میں خصوصیت کے ساتھ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اوائل عمر میں سمجھ ، بوجھ ، رشد و ہدایت اور بصیرت سے نوازا تھا ۔ آپ ابتداء ہی سے بت پرستی کے سخت خلاف تھے اور آپ کو یقین تھا کہ یہ مورتیاں نہ تو سن سکتی ہیں نہ دیکھ سکتی ہیں اور نہ کسی کی پکار کا جواب دے سکتی ہیں ۔ لکڑی اور پتھر کے بنے ہونے پر بت کسی نفع و نقصان کے مالک نہ تھے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعوت توحید کا آغاز اپنے والد اور خاندان سے کیا ۔ آپ نے نہایت نرمی اور لطف کے ساتھ پند و نصیحت کا حق ادا کیا مگر باپ نے کوئی بات نہ مانی بلکہ دھکے دیکر گھر سے باہر نکال دیا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کے حق پر بڑے جاندار اور وزنی دلائل پیش کئے مگر پوری قوم ان کا جواب دینے سے قاصر تھی ۔ آخر انہوں نے وہی جہال والا طریقہ اختیار کیا اور آپ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچانے لگے نمرود نے سات سال تک آپ کی قید میں بھی رکھا مگر آپ دعوت ِ توحیددینے سے باز نہ آئے بالآخر اس نے آپ کو ہمیشہ کے لیے ختم کردینے کا فیصلہ کیا ۔ اس مقصد کے لیے بہت بڑا آگ کا آلائو جلا کر آپ کو اس میں پھینک دیا گیا مگر اللہ نے وہاں بھی آپ کو صحیح سلامت رکھا اور مشرکین کی ہر تدبیر کو ناکارہ بنایا ۔ آپ عراق سے ہجرت کر کے شام و فلسطین پہنچے اور تین دفعہ مکہ مکرمہ کا سفر بھی اختیار کیا ۔ آپ نے اپنی دوسری بیوی ہاجرہ ؓ اور نو مولو د بچے اسماعیل (علیہ السلام) کو مکہ میں آباد کیا ۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کی اور حج کا اعلان فرمایا۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) آپ کی پہلی بیوی سارہ ؓ سے تھے جو کہ سو سال کی عمر میں پیدا ہوئے ۔ سارہ کی وفات کے بعد آپ نے بنی کنعان کی ایک خاتون قنطورہ سے نکاح کیا جس سے چار فرزند پیدا ہوئے ۔ اس کے بعد ایک اور خاتون حجونی سے نکاح لیا جس سے سات بیٹے پیدا ہوئے ۔ اس طرح آپ کے جملہ بیٹوں کی تعداد تیرہ بنتی ہے ۔ ابن سعد کی روایت کے مطابق آپ کی والدہ کا نام نونا بنت کر بنایا ابیونا تھا۔ درس تعید اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے اس درس توحید کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو دیا ۔ ارشاد ہوتا ہے وائل علیھم نبا ابراہیم اے پیغمبر ! ذرا آپ ان مشرکین مکہ کو ابراہیم (علیہ السلام) کی خبر سنا دیں ۔ یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد اور ان کے دین حنیف کے پیروکار ہونے کے دعویدار ہیں ، ذرا ان پر واضح کردیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے کونسا دین پیش کیا اور تم کہاں جا پہنچے ہو ، تمہیں تو دین ابراہیمی سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے ۔ اذقال لا بیہ وقومہ جب کہ کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے ما تعبدون تم کس چیز کی پوجا کرتے ہو ؟ قالو نعبد اصنا ما وہ کہنے لگے کہ ہم تو ان بتوں کی پوجا کرتے ہیں فنظل لھا لکفین پس ہم متواتر نبی پر جھکے رہتے ہیں ۔ صنم دہ بت ہوتا ہے جو کسی انسان ، جانور ، سیارے یا ستارے کی شکل پر بنایا گیا ہو اور روشن دہ بت ہوتا ہے جو ان گھڑا پتھر ، لکڑی وغیرہ ہو۔ مشرکین مکہ نے بھی مختلف ناموں اور مختلف شکلوں پر بیشمار بت تراش رکھتے تھے حتی کہ بیت اللہ شریف کی دیواروں کے ساتھ بھی تین سو ساٹھ بت لگا رکھے تھے اور ہر وقت ان کی پوجا پاٹ میں لگے رہتے تھے ۔ کبھی ان کو غسل دیتے ، کبھی کپڑے پہناتے کبھی ان کے سامنے نذر و نیاز پیش کرتے اور کبھی ان سے حاجت والی اور مشعل کشائش کے طالب ہوتے ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے کے مشرکوں کا بھی یہی حال تھا کہنے لگے کہ ہم تو ہمہ وقت ان بتوں کی پوجا کرتے رہتے ہیں ۔ اب ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکین کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے چوٹ لگائی ۔ قال ھل یسمعونکم اذتدعون کہنے لگے کیا یہ تمہاری بات کو سنتے ہیں جب کہ تم ان کو پکارتے ہو ؟ ظاہر ہے کہ وہ تو مٹی ، پتھر اور دھات کی بنی مورتیاں تھیں ، بھلا وہ کیسے کسی کو پکار کو سن سکتی تھیں ۔ مشرکین لا جواب تھے ، وہ بتوں کی سماعت کا دعویٰ نہیں کرسکتے تھے پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے دوسرا سوال کیا او یفعونکم او یضرو ن یا وہ تمہیں نفع پہنچا سکتے ہیں یا نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔ آخر بتائو تو سہی کہ تم کس مقصد کے لیے ان بتوں کی پرستش کر رہے ہو ؟ اندھی تقلید جب مشرکوں سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو وہی اندھی تقلید والی پرانی رٹ لگائی قالوا بل وجدنا اباء نا کذلک یفعلون کہنے لگے ، بلکہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو اسی طرح کرتے پایا ہے ، وہ بھی ان بتوں کی پوجا کرتے تھے ان کو نذر و نیاز پیش کرتے تھے اور پھر ان سے مرادیں مانگتے تھے ، ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں ، ہم کسی دلیل کو نہیں جانتے ۔ مشرکوں کی یہ حیلہ سازی اللہ نے قرآن میں جگہ جگہ بیان فرمائی ہے۔ سورة الانبیاء میں ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے مشرکوں سے پوچھا کہ تم ان مورتیوں کی پوجا کیوں کرتے ہو قالوا وحدنااباء نا لھا عبدین ( آیت : 35) کہنے لگے ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا تو ہم بھی ایسا ہی کر رہے ہیں ۔ تقریباً یہی الفا ظ سورة الشعراء اور سورة الزخرف میں بھی ہیں ۔ سورة البقرہ میں بھی مشرکوں کا یہی جواب بیان کیا گیا ہے کہ ہم تو اس چیز کا اتباع کرتے ہیں جس پر ہم نے اپنے آبائو اجداد کو پایا ۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّلَا یَھْتَدُوْنَ (البقرہ : 071) اگرچہ تمہارے باپ دادا بےعقل اور غیر ہدایت یافتہ ہوں تو پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلو گے ؟ بہر حال مشرکین نے ابراہیم (علیہ السلام) کو یہی جواب دیا کہ ہم نے تو اپنے آبائو اجداد کو اسی طرح بتوں کی پوجا کرتے پایا ہے ، لہٰذا ہم بھی ویسے ہی کیے جا رہے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا ا اعلان حق پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے دوسرے طریقے سے قوم کو سمجھانے کی کوشش کی قال افرء یتم ما کنتم تعبدون کہنے لگے ، کیا تم نے دیکھا ہے یعنی کیا تمہیں خبر ہے کہ جن کی تم پوجا کرتے ہو انتم واباء کم الا قدمون تم بھی اور تمہارے پہلے آبائو اجداد بھی ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ فانھم عدولی یہ سب میرے تو دشمن ہیں ، چونکہ میں موخد ہوں اور ان کی مذمت بیان کیے بغیر نہیں رہ سکتا ، لہٰذا یہ بھی میرے دوست نہیں ہو سکتے۔ الا رب العالمین ۔ سوائے تمام جہانوں کے پروردگار کہ وہی میرا دوست ہے اور وہی میرا کار ساز ہے ۔ میں نے اسی کے حکم کے مطابق ان تمام جھوٹے معبودوں کی دشمنی لی ہے ۔ مجھے امید ہے کہ وہ مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ ان سب کے مقابلے میں اکیلا ہی میری مدد کرے گا اور ان سب پر غالب بنائے گا ۔
Ayahs 26:78–89

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

وہ جس نے مجھے پیدا کیا ، پس وہی میری رہنمائی فرماتا ہے

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہ جو مجھ کو کھلاتا اور ملاتا ہے

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور وہ کہ جب میں بیمار پڑجاتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور وہ جو مجھ پر موت طاری کرے گا ، پھر مجھے زندہ کرے گا

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور وہ کہ میں امید رکھتا ہوں کہ میر کوتاہی کو انصاف کے دن معاف فرمادے گا

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے پروردگار عطا فرما دے مجھے حکم ( حکمت) اور ملا دے مجھے نیکو کاروں کے ساتھ

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور رکھ دے میرے لیے سچی زبان پچھلوں میں

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور بنا دے مجھے نعمت کے باغ کے وارثوں میں سے

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور معاف کر دے میرے باپ کو ، بیشک وہ ہے گمراہوں میں سے

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور مجھے رسوا نہ کرنا جس دن لوگ دوبارہ اٹھا لیے جائیں گے

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن فائدہ نہ پہنچائے گا مال اور نہ بیٹے

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

مگر جو کوئی آیا اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تھا کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو توحید کا درس دیا ۔ آپ نے یہ انداز اختیار کیا کہ خود ان مشرکین سے ہی پوچھا کہ تم رکن چیزوں کی پوجا کرتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان بتوں پر جھکے پڑتے ہیں ۔ فرمایا ، کیا یہ بت تمہاری بات کو سنتے ہیں یا تمہارے لیے کسی نفع نقصان کے مالک ہیں ۔ کہنے لگے ، ہم یہ باتیں تو نہیں جانتے ، البتہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے ، لہٰذا ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی پوجا کر رہے ہیں ۔ فرمایا تم تو ان کو اپنا معبود اور کار ساز سمجھتے ہو ۔ مگر یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے کہ فقط وہی میرا دوست اور کار ساز ہے اور مجھے اسی پر بھروسہ ہے کہ وہ مجھے بےیارو مدد گار نہیں چھوڑے گا ۔ صفات ربانی تخلیق اور بدیت مشرکین تو اپنے جھوٹے معبودوں کا کوئی کام پیش نہ کرسکے گا ، البتہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کی بعض صفات بیان کیں جس پر مشرکین کوئی اعتراض نہ کرسکے ۔ فرمایا میرا پروردگار ، کار ساز ، خاجت روا اور مشکل کشادہ ہے الذی خلقنی جس نے مجھے پیدا کیا ۔ ظاہر ہے کہ ہر چیز کا خالق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ اس نے نسل انسانی کی ابتداء مٹی سے کی اور پھر اسے نطفہ کے ذریعے آگے چلایا ، سعدۃ النجم میں ہے وانہ خلق الزوجین الذکر والانثی من نطفۃ اذاتسنی اسی نے نطفہ کے ذریعہ مرد وزن کے جوڑے پیدا کیے ۔ تو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا۔ پھر فرمایا فھویھدین پس وہی میری رہنمائی کرتا ہے۔ خورد و نوش کا بندوست آپ نے اپنے پروردگار کی تیسری صفت یہ بیان کی والذین ھو یطعمنی ویسقین میرا پروردگار وہ ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہ جاندار کی روزی بھی اللہ ہی کے ذمے ہے۔ اس کا اعلان ہے وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہ ِ رِزْقُھَا ( ھود : 6) زمین پر چلنے پھرنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ وہی وسائل رزق مہیا کرتا ہے تو انسان اور دوسرے جانداروں کو غذا ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا ذکر قرآن پاک میں بار بار کیا ہے کہ وہ سمندروں سے بادلوں کی صورت میں بخارات اٹھاتا ہے ، پھر ہوا ان بادلوں کو مطلوبہ خطے کی طرف لے جاتی ہے۔ وہاں پر اس کے حکم کے مطابق بارش ہوتی ہے جس سے مردہ زمین میں زندگی کی لہر پیدا ہوتی ہے۔ زمین میں پھل اناج اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک بنتی ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ ہی کسی خطے سے بارش کو روک لے تو وہاں کچھ پیدا ہو اور نہ کسی جاندار کو خوراک میسرآئے۔ اسی لیے فرمایا کہ میرا پروردگار تو وہ ہے جس نے میرے لیے اکل و شرب کا انتظام کردیا ہے۔ شفا منجاب اللہ پھر چوتھے نمبر پر فرمایا واذامرضت فھو یشفین اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا بخشتا ہے۔ بیماری اور شفا دونوں قبضہ قدرت میں ہیں مگر یہاں پر ابراہیم (علیہ السلام) کے کمال ادب کا نمونہ دیکھیئے کہ انہوں نے مرضت کہہ کر بیماری کو اپنی طرف منسوب کیا ہے وگرنہ آپ خلقنی فھو فھدین کی طرح مرضنی کہہ کر بیمار کرنے کو بھی اللہ کی طرف منسوب کرسکتے تھے مگر آپ نے بیماری جیسی تکلیف دہ چیز کو اللہ کی بجائے خود پانی طرف منسوب کیا ہے کہ اکل و شرب میں بےاعتدالی یا بود و باش میں کسی بےاحتیاطی کی بناء پر خود بیمار ہوتا ہوں اللہ تعالیٰ کسی کو بلا وجہ تکلیف میں مبتلا نہیں کرتا ۔ اور پھر جب بیمار ہوجاتا ہوں تو شفا وہ بخشتا ہے گویا بندے کے حق میں بہتر چیز شفا کو اللہ کی طرف منسوب کیا کہ وہ چاہے تو شفاء ہوتی ہے وگرنہ نہیں دنیا میں بڑے بڑے حکیم اور ڈاکٹر گزرے ہیں جو بڑی بڑی پیچیدہ بیماریوں کا علاج کرتے ہیں مگر کسی دوائی میں شفا کی خاصیت پیدا کرنے والی اللہ ہی کی ذات ہے ۔ جب تک اس کا حکم نہ ہو کوئی دوائی کار گر نہیں ہو سکتی ۔ اسی لیے بزرگان دین فرماتے ہیں کہ حیلے کے طور پر علاج کرنا تو درست ہے مگر دوائی کو موثر بالذات سمجھنا شرک میں ملوث ہونے کے مترادف ہے۔ شفا ہمیشہ منجانب اللہ ہوتی ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ 1 ؎ نے امت کو یہ دعا سکھائی ہے اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی لا شفاء الاشفاء ک اے سب لوگوں کے پروردگار تکلیف کو دور کردے ۔ اور شفاء دے کہ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیرے سوا کہیں بھی شفا نہیں ہے۔ موت و حیات ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی پانچویں صفت یہ بیان کی والذین یمیتنی ثم یحین کہ وہی مجھے موت دے گا اور وہی قیامت کو دوبارہ زندہ کریگا ، موت اور زندگی بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ، وہی انسان کو پیدا کرتا ہے ، کسی کو کم عمر دیتا ہے اور کسی کو زیادہ ، اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ موت سے ہمکنار کردیتا ہے۔ انسان کی انفرادی موت پر ایسی قوم کی مجموعی موت 1 ؎۔ بخاری ص 748 ج 2 و ابن کثیر ص 494 ج 2 وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌج فَاِذَا جَآئَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ( الاعراف : 43) جب مقرر وقت آجاتا ہے تو پھر گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتی ۔ اللہ کا یہ فرمان ہے کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ( آل عمران : 581) ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور اس سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ حفاظت کرنا چاہے تو کوئی دوسرا شخص لاکھ کوشش کرے نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ الغرض ! ابراہیم (علیہ السلام) نے واضح طور پر فرما دیا کہ میری موت میرے اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ تم لاکھ تدابیر اختیار کرلو ، اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر مجھے ختم نہیں کرسکتے کیونکہ مجھے موت دینے والا بھی وہی ہے۔ موت ایک مصیبت ہے مگر اس مقام پر ابراہیم (علیہ السلام) نے موت کی نسبت اپنی طرف کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے کہ وہی مجھے موت سے ہمکنار کرے گا ۔ مفسرین کرام اس اشکال کا جواب دیتے ہیں کہ دراصل موت اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور اس کے عزت کے مقام کی طرف اتصال کا ایک ذریعہ ہے۔ اس لحاظ سے موت ایک نعمت بھی ہے اور اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بالکل درست ہے مسلم شریف کی حدیث میں جہاں جمعہ کی فضلیت کا ذکر ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی دن آدم (علیہ السلام) کی تخلیق فرمائی۔ اسی دن ان کو جنت میں داخل کیا ، اور اسی روز آپ کو جنت سے نکالا گیا ۔ یہاں بھی یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ تو نعمت خداوندی ہے اور اللہ نے اس کا ذکر فضلیت جمعہ کے طور پر کیا مگر جنت سے اخراج تو نعمت نہیں ، پھر اس سے جمعہ کی فضلیت کیسے ثابت ہوئی ۔ تو یہاں بھی محدثین کرام فرماتے ہیں کہ جنت سے اخراج دراصل اس میں دوبارہ اور ابدی دخول کا سبب اور ذریعہ ہے لہٰذا یہ اخراج نعمت میں شامل ہے۔ مشرکین بعثت بعد الموت کے بھی منکر تھے اور کہتے تھے کہ نہ کوئی قیامت برپا ہوگی ، نہ مردے دوبارہ زندہ ہوں گے اور نہ حساب کتاب کی منزل کے بعد کوئی جزا و سزا کا فیصلہ ہوگا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس مقام پر بخیین کا لفظ بول کر کفار و مشرکین پر واضح کردیا کہ میرا پروردگار وہ ہے جو مجھے دوبارہ زندہ کرے گا ۔ اور وہ تمہیں بھی دوبارہ زندگی دینے پر قادر ہے ۔ وہ ضرور تمہیں قیامت کو دوبارہ زندہ کر کے اپنے سامنے لا کھڑا کرے گا اور پھر تمام کردہ عقائد و اعمال کا حساب ہوگا ۔ مکہ کے مشرک بھی قوم ابراہیم کی طرح قیامت اور جزائے عمل کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل جائینگے ، ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی ۔ تو کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ جیسا کہ دوسری سورة میں مذکور ہے۔ اللہ نے فرمایا وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَاِذَا ہُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّہِمْ یَنْسِلُوْنَ (یٰسین : 15) جب صور میں پھونگا جائیگا تو سب لوگ اپنی خواب گاہوں سے اٹھ کر دوڑتے ہوئے اپنے پروردگار کی طرف جائیں گے ، پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی اور اعمال کے فیصلے ہوں گے۔ اچھائی اور برائی کی نسبت ان آیات میں ابراہیم (علیہ السلام) کا اچھائی کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور برائی کو اپنی طرف منسوب کرنے کا اصول خود اللہ تعالیٰ کا وضع کردہ ہے۔ سورة النساء میں ارشاد ربانی ہے مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللہ ِز وَمَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ (آیت : 97) تمہیں جو بھی اچھائی پہنچے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو بھی برائی پہنچے وہ تمہارے اپنے نفس کی طرف سے ہے حضرت موسیٰ اور خضر (علیہما السلام) کے سفر کے واقعہ میں بھی اسکی مثال ملتی ہے۔ حضر (علیہ السلام) نے اچھی بھلی کشتی کو عیب ناک کردیا تو اس فعل کو اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کشتی بعض مسکین لوگوں کی تھی جو اس کے ذریعے روزی کماتے تھے مگر پیچھے بادشاہ ہر اچھی کشتی پر قبضہ کر رہا تھا فاردت ان اعیبھ ( الکہف : 97) پس میں نے ارادہ کیا کہ اس کو داغدار کر دوں اگرچہ یہ فعل بھی کشتی کے مالکان کے حق میں تھا ، مگر عیب ناک کرنے کے فعل کو اپنی طرف منسوب کیا کہ ادب کا یہی تقاضا تھا ، اور آگے جہاں گری پڑی دیوار کو یتیم بچوں کی خاطر دوبارہ تعمیر کرنے کا فعل تھا تو اسے اللہ کی طرف منسوب کیا فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنْ یَّبْلُغَآ اَشُدَّہُمَا وَیَسْتَخْرِجَا کَنْزَہُمَا (الکہف : 28) تیرے رب نے ارادہ کیا کہ دیوار کو اس وقت تک قائم رہنا چاہئے جب تک یتیم بچے بالغ ہو کر اس کے نیچے سے خزاز حاصل کرنے کے قابل نہ ہوجائیں۔ معافی کی درخواست اللہ تعالیٰ کی مذکورہ پانچ صفات کا ذکر کرنے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) نے عبدیت کے کمال انداز میں اپنی خطائوں کی بخشش کی دعا کی ۔ عرض کیا میرا اللہ وہ ہے جس کی یہ صفات ہیں والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین میرا پروردگار وہ ہے کہ میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن وہ میری کوتاہیوں کو معاف فرمادے گا ۔ اللہ کے نبی اور رسول اس کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی خود حفاصت کرتا ہے اور ان سے گناہ سر زد نہیں ہونے دیتا ۔ اس کے بعد حدود اللہ کے نبی جتنے یادہ مقرب ہوتے ہیں اتنا ہی زیادہ خدا تعالیٰ سے ڈرتے بھی ہیں ۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنے ڈوبتے ہوئے بیٹے کے لیے براہ راست دعا نہیں کی بلکہ کمال عجز کے ساتھ پروردگار کی بارگاہ میں عرض کیا رب ان ابنی من اھلی ( ہود : 54) پروردگار میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ مطلب یہ کہ اسے بچا لے مگر جواب ملا کہ اپنے غیر صالح اعمال کی وجہ سے وہ تیرے اہل خانہ میں سے خارج ہوچکا ہے اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی اور بھائی کی کوتاہیوں کی معافی کی درخواست کی رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِاَخِیْ وَاَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ ( الاعراف : 151) پروردگار ! مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کرلے ۔ خود حضور خاتم النبین ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا رب اغفروا رحم وانت خیر الرحمین ( المومنون : 801) پروردگار ! مجھے معاف کر دے اور رحم فرما کہ تو بہترین رحم کرنے والا ہے۔ بہر حال ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی کوتاہیوں کی معافی اس انداز میں چاہی کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری کوتاہی کو معاف فرمادے گا ۔ ابراہیم کی دعا پھر عرض کیا رب ھب لی حکما ً پروردگار ، مجھے حکم یعنی حکمت عطا فرما 1 ؎ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ حکمت سے مراد نبوت نہیں کیونکہ یہ تو پہلے ہی آپ کو حاصل تھی البتہ اس سے مرادقوت علمی و نظری کا کمال ہے جس کے ذریعے اشیائے عالم کو کما حقہ سمجھنے کی اہلیت حاصل ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس کام پر مامور کیا تھا۔ اس کے لیے ان چیزوں کی اشد ضرورت تھی لہٰذا آپ نے ان چیزوں کے لیے دعا کی اور ساتھ یہ بھی عرض کیا والحقنی بالصلحین اور مجھے نیکو کاروں کے ساتھ ملا دے۔ اس سے آخرت میں نیک لوگوں سے ملاقات روا ہے اور مطلب یہ ہے کہ میرا نجام بخیر فرما اور مجھے عزت والے مقام میں جگہ عطا فرما۔ دعا اللہ کے سب نبی اور صالحین کرتے رہے ہیں ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر بھی قرآن پاک میں موجود ہے ۔ آپ نے عرض کیا تھا ، اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے ، دنیا و آخرت میں تو ہی میرا کار ساز ہے توفنی مسلما ً والحقنی بالصلحین ( یوسف : 101) مجھے اسلام کی حالت میں وفات دینا اور پنے نیک بندوں کی رفافت نصیب کرنا ۔ ایک 2 ؎ حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی منقول ہے اللھم احینا مسلمین و امتنا مسلمین والحقنا بالصلحین غیر خزایا ولا مبدلین اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور اسلام کی حالت میں یہ موت دے اور نیکوں کے ساتھ ملا دے درآنحالیکہ نہ رسوائی ہو اور نہ تبدیلی ۔ اس سے مراد قوت عملیہ بھی ہے کہ جس کے ذریعے اعمال و افعال کو صحیح طریقے پر انجام دیا جاسکے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا بھی کی وجعل لی نسان صدق فی الاخرین اور میرے لیے سچی زبان یعنی میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی 1 ؎۔ تفسیر کبیر 741 ج 42 ۔ 2 ؎ تفسیر ابن کبیر ص 933 ج 3 ( فیاض) رکھ ۔ اسی لیے اہل اللہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کا طریقہ باقی رہے تا کہ ان کو اجر وثواب ملتا رہے۔ مطلب یہ ہے کہ میرے بعد آنے والی نسلیں بھی میرے طریقے پر چلیں اور اس طرح میرا ذکر خیر کرتی رہیں ۔ آپ کی دعا کی قبولیت کا یہ عالم ہے کہ یہود ، عیسائی اور اہل ایمان بیک وقت ابراہیم (علیہ السلام) کو جد الانبیاء تسلیم کرتے ہیں اگرچہ اہل کتاب آپ کی تعلیمات سے منحرف ہوچکے ہیں مگر وہ آپ کا ذکر خحیر ہمیشہ ادب احترام سے کرتے ہیں ۔ جہاں تک اہل ایمان کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آخری امت کو ملت ابراہیمی کو اختیار کرنے کا حکم دیا ۔ سورة البقرہ میں اللہ نے اہل کتاب کی بات نقل کی ہے کہ وہ اہل ایمان کو یہودی یا نصرانی بن جانے کا مشورہ دیتے ہیں مگر اللہ نے اپنے آخری نبی کو فرمایا قل بل ملد ابراہیم حنیف وما کان من المشرکین (آیت : 531) آپ ان سے کہہ دیں کہ ہم تو دین ابراہیمی کو اختیار کیے ہوئے ہیں جو ہر طرف سے کٹ کر صرف خدائے واحد کی طرف رجوع کرنے والے تھے اور دو مشرکوں میں سے نہیں تھے۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ اگر ریا مقصود نہ ہو تو کوئی خروج نہیں کہ کوئی پسند کرے کہ اس کی تعریف کی جائے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں یہ دعا بھی کی واجلعنی من ورثۃ جنۃ النعیم 1 ؎ اور مجھے نعمت کے باغوں کے وارثوں میں سے بنائے یعنی آخرت میں مجھے کامیابی عطا کرنا اور ہشت میں داخل کرنا ظاہر ہے کہ ہر شخص کی آخری خواہش تو یہی ہے کہ اسے جنت میں داخلہ مل جائے ۔ سورة آل عمران میں جہاں جزائے عمل کا ذکر ہے وہاں اللہ نے فرمایا فمن زحزج عن النار وادخل الجنۃ فقد ناز ( آیت 581) جو دوزخ سے جا کر جنت میں داخل نہ دیا گیا وہ کامیاب ہو کیا ۔ تو ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنے لیے نعمتوں کے باغ یعنی جنت کی دعا کی ۔ پھر عرض کیا مولا کریم واغفرلا بی میرے باپ کو معاف کردے انہ کان من الضالین بیشک وہ گمراہیوں میں سے تھا۔ مشرکین کے لیے دعا کا مسئلہ بھی وضاحت طلب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ میں فیصلہ کردیا ہے کہ کسی نبی اور اہل ایمان کے لائق نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش طلب کریں اگرچہ ان کے قرابت دار حق کیوں نہ ہوں جب کہ ان کا جہنمی ہونا واضح ہوچکا ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ بیشک مشرک اور جہنمی تھے مگر یہاں وہ اپنے گمراہ باپ کے لیے بخشش کی دعا کر رہے ہیں ۔ اس بات کی وضاحت سورة توبہ ہی کی اگلی آیت میں موجود ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کے لیے دعائے مغفرت ایک وعدے کی بناء پر تھی جو وہ اپنے باپ سے کرچکے تھے۔ سورة مریم میں ہے کہ بتوں کی مذمت کی پاداش میں جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے باپ نے گھر سے نکال دیا تو جاتے وقت انہوں نے کہا تھا سَاَسْتَغْفِرُلَکَ رَبِّیْ اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا ( مریم : 74) میں تیرے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا ۔ بیشک میرا پروردگار بڑا ہی مہربان ہے چناچہ اسی وعدے کے مطابق آپ نے بخشش کی دعا کی جو آیت زیر درس میں مذکورہ ہے۔ مگر سورة توبہ میں فرمایا فلما تبین لہ انہ عدو للہ تبرا منہ ( آیت : 411) مگر جب آپ پر واضح ہوگیا کہ باپ اللہ کا دشمن ہے تو آپ اس سے بیزار ہوگئے اور پھر کبھی باپ کے لیے دعا نہیں کی ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کیا ولا تحزنی یوم یبعثون مولا کریم ! مجھے رسوا نہ کرنا جس دن لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اس دعا کا تعلق بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کے مشرک ہونے سے ہے۔ ظاہر ہے کہ مشرک کی مغفرت نہیں اور اسی وجہ سے ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لیے دوبارہ دعا بھی نہیں کی۔ اب قیامت والے دن جب سب اگلے پچھلے لوگ جمع ہوں گے تو اس دن ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کی ذلت آپ کے لیے رسوائی کا سبب بن سکتی ہے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت والے دن ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی ۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت اور گرد و غبار سے آلودہ ہورہا ہے دوسری روایت میں ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ پروردگار ! تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سن لے جنت تو کافر پر قطعاً حرام ہے ایک اور روایت میں ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ با پ ! میں تجھے نہ کہتا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر باپ جواب دے گا ۔ اچھا اب نہ کروں گا ۔ ابراہیم (علیہ السلام) بارگاہ رب العزت میں عرض کریں گے ، پروردگار ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ کرے گا مگر اس سے بڑھ کر کیا رسوائی ہوگی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ۔ میرے خلیل ! میں نے جنت تو کافروں پر حرام کردی ہے ، پھر حکم ہوگا۔ ابراہیم ! دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے ۔ آپ دیکھیں گے کہ ایک بد صورت بجو کیچڑ پانی میں لتھڑا ہے جس کو پائوں سے چڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ ہوں گے جن کی شکل تبدیل کردی جائے گی۔ مال و اولاد فرمایا قیامت کا دن ایسا ہوگا یوم لا ینفع مال ولا بننون جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے ۔ اس دن کوئی کسی کی سفارش نہیں کرسکے گا اور نہ کوئی کسی کی طرف سے وکیل پیش ہو کر مقدمہ پیش کرسکے گا ۔ وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ فَرْدًا (مریم : 59) قیامت والے دن ہر شخص اکیلا ہی حساب کتاب کے لیے پیش ہوگا ۔ سورة آل عمران میں بھی فرمایا ان الذین کفروا لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولاد ھم من اللہ شیئاً ( آیت : 01) کافروں کو ان کے اموال اور اولاد کچھ کام نہیں آئیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہاں کا مال تو یہیں رہ جائے گا اور انسان خالی ہاتھ اللہ کی عدالت میں پیش ہوگا ۔ جہاں تک اولاد اور دیگر عزیز و اقارب کا تعلق ہے تو وہ سب اپنی اپنی فکر میں ہوں گے ۔ یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ (عبس : 43۔ 63) انسان اپنے بھائی ، باپ ، ماں ، بیوی اور بیٹے سے بھاگے گا کہ کہیں مجھ سے کوئی نیکی نہ طلب کرے۔ ہر ایک کو اپنی فکر ہوگی کہ کس طرح میں بچ جائوں ۔ البتہ بعض مال اور اولاد کا م بھی آئیں گے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں مگر تین چیزوں کا فائدہ اس کو مرنے کے بعد پہنچتا رہتا ہے۔ پہلی چیزصدقہ جاریہ ہے کہ آدمی اپنا مالاچھی جگہ صرف کر کے گیا جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ وہ قیامت کے دن فائدہ دے گا ، دوسری چیز نافع علم ہے جس سے دوسرے لوگ مستفید ہوں اور تیسری نیک اولاد ہے جو باپ کے حق میں دعائیں کرے۔ حدیث میں آتا ہے کہ بچپن میں فوت ہونے والا بچہ بھی والدین کے حق میں سفارش کرے گا ۔ تو یہ چیزیں موت کے بعد نافع ہوتی ہیں ۔ تو اس آیت کریمہ میں غیر مفید ہونا غیر مومن کے لیے ہے۔ ایسے شخص کو نہ مال کام آئے گا اور نہ اس کی اولاد بلکہ اس کا فیصلہ اس کے اعمال و عقائد کے مطابق ہوگا ۔ قلب سلیم فرمایا قیامت والے دن ہر شخص کا مال و اولاد تو مفید نہیں ہوگی ، البتہ الا من اتی اللہ بقلب سلیم مگر جو کوئی اللہ تعالیٰ کے پاس قلب سلیم لے کر آیا وہ کامیاب ہوگا ، اس دن قلب سلیم ہی مفید ہوگا ۔ مطلب یہ کہ جس انسان کا دل کفر ، شرک ، نفاق اور بد عقید کی کی آلودگیوں سے پاک ہوگا اس لیے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کیا ہوا مال بھی مفید ہوگا اور اس کی نیک اولاد بھی مفید ہوگی جو اس کے لیے دعائیں کرے گی۔ حضرت خواجہ ضیاء الدین نخشی (رح) اپنی کتاب سلک السلوکک میں لکھتے ہیں کہ لوگوں نے ایک بزرگ سے پوچھا کہ قلب سلیم کس کو کہتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ قلب سلیم ایسا دل ہے چوبیس خصلتوں سے پاک اور بیس خصلتوں سے پر ہو۔ فرمایا بری خصلتیں یہ ہیں ۔ شرک ، کفر ، نفاق ، عداوت ( بلا وجہ) اور رغبت ( لا یعنی امور کی طرف احرص ، جہالت ، اصرار ( گناہ پر) تعبیر ، تعلق ( غلط باتوں سے) طمع ، لمبی آرزو ، بےصری ، خود پسندی ، بخل ، مایوسی ، بےفکری ( خدا کی گرفت سے) حسد ، بد گمانی اور نسیان ( حق و انجام کو فراموش کردینا) پھر فرمایا اچھی خصلتیں یہ ہیں ۔ جو انسان میں موجود ہونی چاہئیں یعنی توحید ، اخلاص ، نصیحت ، زہد ، قناعت ، یقین ، علم ، تفویض ( اپنے امو ر کو اللہ کے سپرد کرنا) لوگوں سے مایوسی ، آرزو کا اختصار ، صبر ، موت کی یاد ، سخاوت ، توبہ ، تواضع ، خوف ورجاء ، بھوک ، حسن ظن ، اللہ کا ذکر اور اس کی محبت ۔
Ayahs 26:90–104

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور قریب کردی جائے گی جنت متقین ( ڈرنے والوں کے لیے)

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور ظاہر کردیا جائے گا دوزخ کو گمراہوں کے لیے

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور کہا جائے گا ان سے کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم عبادت کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

اللہ کے سوا ، کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں ، یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر اوندھے منہ ڈالے جائیں گے اس میں وہ سب اور کجرو

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور ابلیس کے تمام لشکروں کو بھی

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

اور کہیں گے وہ جب کہ وہ اس دوزخ میں جھگڑا کرتے ہوں گے

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

اللہ کی قسم ، بیشک ہم تھے البتہ کھلی گمراہی میں

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جب کہ ہم تمہیں پروردگار عالم کے ساتھ برابر کرتے تھے

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور نہیں بہکایا ہم کو مگر مجرموں نے

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

پس اب نہیں ہے کوئی ہماری سفارش کرنے والا

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی محبت کرنے والا دوست

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

پس کاش کہ ہمارے لیے دنیا میں دوبارہ پلٹنے کا موقع ہوتا تو ہم ایمان والوں میں سے ہوتے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

بیشک اس میں البتہ نشانی ہے ، اور اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور بیشک تیرا پروردگار ہی زبردست اور رحم والا ہے

ربط آیات اس رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات بیان ہو رہے ہیں ۔ گزشتہ درس میں آپ کی بعض دعائوں کا ذکر تھا جو اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بھی بیان کی گئی تھیں کہ وہی خالق ہے اور صراط مستقیم بھی وہی دکھاتا ہے ۔ مجھے اور جاندار کی روزی کا وہی ذمہ دار ہے اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو شفا بھی وہی بخشتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی مجھے موت دیگا اور پھر قیامت کو دوبارہ زندہ کرے گا ۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار ! میری خفائوں کو معاف فرما ، مجھے حکمت عطا فرما اور نیکیوں کے ساتھ انجام فرما ۔ آپ نے پچھلے لوگوں میں اپنے ذکر خیر کے جاری رکھنے کی دعا بھی کی ۔ اپنے لیے جنت کی درخواست اور باپ کے لیے بخشش کی دعا مانگی ۔ اب آج کے درس میں نیکو کاروں کے لیے جنت کی بشارت اور سر کشوں کے لیے جہنم کی وعیدسنائی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ جہنمیوں کے بعض حالات بھی بیان کیے گئے ہیں جو قیامت کو پیش آنے والے ہیں ۔ متقین کے لیے جنت ارشاد ہوتا ہے وازلفت الجنۃ للمتقین اور جنت متقیوں کے قریب کردی جائے گی ۔ قرآن پاک میں جنت تک رسائی دو طریقوں سے بیان کی گئی ہے۔ مگر مفہوم ایک ہی ہے ایک طرز بیان یہ ہے کہ جو بیان بیان کیا گیا ہے۔ یعنی جنت متقیوں کے قریب کردی جائے گی سورة ق میں بھی یہی الفاظ میں اور آگے اضافہ ہے غیر بعید ( آیت : 13) جو کہ دور نہیں ہوگی ۔ اسی طرح سورة التکویر میں و اذالجنۃ از لفت ( آیت : 31) جب جنت قریب کردی جائے گی ۔ بیان کا دوسرا طریقہ عام ہے کہ اہل ایمان کو جنت میں داخل کیا جائے گا ۔ جیسے سورة النحل میں متقیوں کے متعلق فرمایا جنت علن یدخلونھا ( آیت : 13) ہمیشہ رہنے کے باغات میں جن میں وہ داخل ہوں گے۔ اسی طرح سورة زہر میں ہے کہ فرشتے نیکو کاروں کو گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائیں گے ۔ اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ۔ تو اس کے داروغے ان سے کہیں گے ۔ تم پر سلام ہو ، تم بہت اچھے ہو۔ فادخلوھا خلدین ( آیت 37) اب اس میں ہمیشہ کے لیے داخل ہو جائو ۔ اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جنت یا دوزخ لوگوں سے نجات میں ہوں گے ۔ پھر جب وہ حجاب اٹھا دیا جائے گا ۔ تو جنتی جنت کو قریب ہی پائیں گے ، ایک عام مقولہ بھی ہے کہ جب کوئی مسافر سفر کرتے ہوئے کسی شر یا بستی میں پہنچتا ہے تو کہتا ہے کہ فلاں بستی قریب آگئی ہے حالانکہ بستی تو اپنی جگہ قائم ہوتی ہے اور مسافر خود وہاں پہنچتا ہے۔ اسی طرح جنت تو اپنی جگہ پر قائم ہے مگر جب جنتی وہاں قریب پہنچیں گے تو اسی کو کہا گیا ہے کہ جنت ان کے قریب کردی جائے گی ۔ اگر اس جملے کو بعینہٖ ظاہر ی معنوں میں لیا جائے تو بھی درست ہے ، جیسا کہ دوزخ کے متعلق مسلم شریف میں آتا ہے یوتی بجھنم یومئذ لھا سبعون الف زمام مع کل زمام سبعون الف ملک اس دن جہنم کو کھینچ کر میدان محشر کے قریب لایا جائیگا جس کی ستر ہزار زنجیریں ہوں گی اور ہر زنجیر کے ساتھ ستر ہزار کھینچنے والے فرشتے ہوں گے۔ گمراہوں کا انجام فرمایا وبرزت الحجیم للغوین اور ظاہر کردیا جائے گا ، دوزخ کی گمراہیوں کے لیے جو لوگ عمر بھر کفر و شرک اور گمراہی میں پھنسے رہے ۔ ان کو دوزخ کا نظارہ کرادیا جائے گا ۔ جس کے متعلق سورة المعارج میں فرمایا کلا انھا لظی نزاعۃ لشوی ( آیت 51) یہ بھڑکتی ہوئی آگ سے جو کھال ادھیڑ کر رکھ دے گی ۔ امام ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس جہنم میں سے ایک گردن نکلے گی جو گناہ گاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے دیکھے گی اور ایشا شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے ۔ کلیجے ہل جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرمایا جائے گا وقیل لھم اینما کنتم تعبدون من دون اللہ کہاں ہیں تمہارے وہ باطل معبود جن کی تم اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے ھل ینصرون لکم کیا آج وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں ؟ او ینتصرون یا وہ بدلہ لے سکتے ہیں ؟ مگر وہ کوئی جواب نہیں دے سکیں گے فکبکوا فیھا ھم والغاون پھر وہ اور تمام کج رو جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیئے جائیں گے ۔ تابع اور متبوع سب کا ایک ہی ٹھکانہ ہوگا اور کوئی ان کی مدد کو نہیں پہنچے گا ۔ صرف یہی نہیں بلکہ وجنود ابلیس اجمعون ، شیطان کے تمام لشکر بھی جہنم رسید کردیئے جائیں گے جو لوگوں کو ہکا کر کفر اور شرک پر آمادہ کرتے رہے۔ قالو وھم فیھا یختصمون دوزخ میں پہنچنے والے آپس میں جھگڑتے ہوئے کہیں گے تا للہ ان کنا لفی ضلل مبین اللہ کی قسم ہم تو کھلی گمراہی میں تھے۔ اس وقت اقرار کریں گے کہ دنیا میں ہم نے صحیح راستہ اختیار نہ کیا اور ادھرادھر بھٹکتے رہے اذ نسویکم برب العلمین جب کہ ہم تمہیں پروردگار عالم کے ساتھ برابر کرتے تھے وما اضلنا الا المجرمون ہمیں تو ان مجرموں یعنی گناہ گاروں نے گمراہ کردیا تھا۔ اس وقت چھوٹے لوگ بڑے لوگوں کی طرف اشارہ کریں گے اور تابعین اپنے متبوعین کو مورد الزام ٹھہرائیں گے کہ یہ ہم سے اپنی عبادت کراتے رہے ہم ان کے حکم کو خدا کا حکم سمجھ کر عمل کرتے رہے۔ ان کو نذر ونیاز پیش کرتے رہے مگر یہ آج ہماری کچھ مدد نہیں کر پائے بلکہ ہمارے ساتھ یہ بھی جہنم میں پہنچ چکے ہیں ، ہمیں تو انہوں نے مروا دیا ۔ 1 ؎۔ تفسیر ابن کثیر ص 933 ج 3 ( فیاض) فما لنا من شافعین آج ہماری سفارش کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا جو ہمیں اس عذاب سے چھڑا سکے ولا صدیق حمیم اور نہ ہی کوئی محبت کرنے والا دوست ہے جو دوستی کا حق ادا کرسکے۔ اس وقت تابعین سخت مایوسی کا اظہار کریں گے۔ یہاں پر یہ نقطہ غور طلب ہے کہ لفظ شافعین کو جمع لایا گیا ہے جب کہ صدیق مفرد ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ صدیق اسم جنس کی طرح ہے جس کا اطلاق مفرد اور جمع دونوں پر ہوتا ہے ۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ سفارشی تو عاد تاً بہت ہوتے ہیں اس لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جب کہ مخلص دوست عزیز الوجود یعنی بہت کم ہوتے ہیں اس لیے صدیق مفرد دلایا گیا ہے۔ دنیا میں واپسی کی حسرت پھر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں گے فلوان لنا کرہ فنکنو من المومنین کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹ جائیں اور وہاں جا کر ایمان لانے والوں میں ہوجائیں ۔ اب کی بارہم کفر اور شرک کے قریب نہیں جائیں گے اور نہ شیطان اور دوسرے معبود ان باطلہ کے جھانسے میں آئیں گے بلکہ صدق دل سے اللہ کی وحدانیت پر ایمان لے آئیں گے ، کیا ایسا ممکن ہے ؟ مگر ان کی یہ حسرت کبھی پوری نہیں ہوگی ۔ سورة البقرہ میں ہے کہ تابعین کہیں گے کہ اگر ہمیں دنیا میں دوبارہ لوٹا دیا جائے ، تو ہم ان متبوعین سے اسی طرح بیزاری کا اظہار کریں گے جس طرح آج یہ ہم سے کر رہے ہیں ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو حسرت کی صورت میں دکھانے کا وما ھم بخرجین من النار ( آیت : 761) مگر وہ دوزخ سے کبھی نہیں نکل سکیں گے۔ ان کی حسرت ان کے دل میں ہی رہ جائے گی ۔ سور ہ السجدہ میں بھی ہے کہ مجرم لوگ اپنے پروردگار کے سامنے سرنگوں کھڑے ہوں گے اور کہیں گے پروردگار ! ہم نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور سن لیا فارجعنانعمل صالحا ً ( آیت : 21) ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے۔ اب ہم اچھے اعمال انجام دیں گے ، مگر جواب ملے گا کہ وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعلمون ( آیت : 41) اب اپنی کار گزاری کے بدلے میں ہمیشہ کا عذاب چکھو ۔ اب تم واپس نہیں جاسکتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بد بخت اگر دوبارہ بھی دنیا میں لوٹا دیئے جائیں تو پھر وہی بد اعمالیاں شروع کردیں جو پہلے کرتے رہے ہیں ۔ حرف آخر فرمایا ان فی ذلک لا یۃ بیشک اس میں البتہ نشانی ہے اور وہ یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے اللہ کی وحدانیت کی جو بھی دلیلیں پیش کیں اور قوم کو جس طریقے سے سمجھایا ۔ اس میں خدا تعالیٰ کی یکتائی کی برہان صاف موجود ہے۔ انسان اگر ذرا سا بھی غور و فکر کرے تو اس کے تمام شکوک و شبہات رفع ہو سکتے ہیں ۔ اس کے باوجود وما کان اکثر ھم مومنین ان میں سے لوگوں کی اکثریت ایمان سے محروم رہتی ہے۔ انہیں توحید کی بات سمجھ میں ہی نہیں آتی اور اس طرح کفر و شرک پر اڑے رہتے ہیں فرمایا یادرکھو ! وان ربک لھو العزیز الرحیم بیشک تیرا پروردگار زبردست ہے آج تو یہ لوگ اس کی توحید کو تسلیم نہیں کرتے مگر قیامت والے دن ان کو پتہ چلے گا کہ جس کے ساتھ غیروں کو شریک بناتے رہے وہ کتنا زبردست اور غالب ہے۔ سورة یوسف میں ہے واللہ غالب علی امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون ( آیت : 12) اللہ تعالیٰ اپنے ہر کام پر غالب ہے ۔ اس کے ارادے اور مشیت میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے اور وہ گمراہی میں لا پرواہ پر رہتے ہیں ، فرمایا اس کے ساتھ ساتھ وہ ابراہیم بھی ہے ۔ اس کا کوئی بندہ جب قد سرکشی کو چھوڑ کر اس کے دروازے پر آجائے اور اس کی وحدانیت کو تسلیم کرلے تو وہ نہایت رحم والا ہے اور معاف کردیتا ہے کتب علی نفسہ الرحمۃ ( الانعام : 31) اس نے اپنے اوپر رحمت کو واجب کر رکھا ہے اس تا یہ بھی فرمان ہے ۔ ورحمتی وسعت کل شی ( الاعراف : 651) میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے جونہی اس کا کوئی بندہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کی رحمت بندے لو ڈھانپ لیتی ہے اور وہ بندے کو معاف کر کے اپنی آغوش رحمت میں لے لیتا ہے۔