26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 26:176–191

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

جھٹلایا ایک والوں نے اللہ کے رسولوں کو

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب کہا ان کے لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کیا تم ڈرتے نہیں

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے رسول ہوں امانت دار

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

ڈرو اللہ سے اور میری بات مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کوئی بدلہ ، میرا بدلہ نہیں ہے مگر رب العالمین کے ذمے

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

(میں تم سے کہتا ہوں) پورا کرو ماپ کو ، اور نہ ہو تم گھٹانے والوں میں سے

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور تولو سیدھے ترازو کے ساتھ

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور نہ گھٹائو لوگوں سے ان کی چیزوں کو ، اور نہ چلو زمین میں فساد کرتے ہوئے

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور ڈرو اس ذات سے جس نے تم کو پیدا کیا ہے اور پہلی مخلوق کو

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

انہوں نے کہا بیشک تو ان لوگوں میں ہے جن پر جادو کیا گیا ہے

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور نہیں ہے تو مگر انسان ہمارے جیسا اور ہم خیال کرتے ہیں تجھ کو جھوٹوں میں سے

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

پس گرا ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا ، اگر تو سچا ہے

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

کہا ( شعیب (علیہ السلام) نے) میرا پروردگار خوب جانتا ہے جو کام تم کرتے ہو

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

پس جھٹلایا ان لوگوں نے اس کو بس پکڑا ان کو سائبان کے دن کے عذاب نے ۔ بیشک وہ بڑے دن کا عذاب تھا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

بیشک البتہ اس بات میں نشانی ہے ، اور انہیں ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور بیشک تیرا پروردگار وہی عزیز اور رحیم ہے

حضرت شعیب (علیہ السلام) اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت اور عبرت کی غرض سے چند انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ گزشتہ آیات میں لوط (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، اب شعیب (علیہ السلام) کے حالات بیان کیے جا رہے ہیں ۔ آپ کو بعثت کے سلسلہ میں دو مقامات کا نام آتا ہے۔ یعنی مدین اور ایکہ بعض کہتے ہیں کہ مدین اور ایکہ کے لوگ دو مختلف اقوام تھیں اور اللہ نے دونوں کی طرف آپ کو رسول بنا کر بھیجا در بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی قوم تھی ، مدین ان کے قبیلے کا نام تھا اور اسی نام کی بستی بھی تھی ۔ ایکہ گھنے جنگلات کو کہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے علاقے میں واقع جنگل سے بھی مستفید ہوتے تھے۔ اس لیے ان کو اصحاب الایکہ بھی کہا گیا ہے۔ بہر حال اللہ نے مدین اور ایکہ کی طرف اللہ کی رسول شعیب (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا ۔ ان کا سلسلہ نسب پانچویں یا چھٹی پشت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جانتا ہے۔ مشہوریہی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں قبطی کے قتل کے بعد آپ کئی روز کی مسافت طے کرنے کے بعد مدین پہنچے تھے جہاں آپ کی ملاقات حضرت شعیب (علیہ السلام) سے ہوئی ۔ اور انہوں نے ایک تدبیر کے ذریعے آپ کو آٹھ یا دس سال تک روکے رکھا اور پھر اپنا داما بھی بنا لیا ، اسی لیے شاعر لوگ کہتے ہیں کلبی سے شعیبی دو قدم ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ جن کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں مقیم ہوئے تھے وہ شعیب (علیہ السلام) نہیں بلکہ ان کے بھیجتے تھے ، وہ بھی ایماندار اور نیک آدمی تھے۔ بائبل میں ان کا نام خوب بیان کیا گیا ہے ۔ ان کو تیرو بھی کہا جاتا ہے ، تا ہم مشہور یہی ہے کہ وہ اللہ کے نبی شعب (علیہ السلام) تھے۔ اسد نے آپ کا ذکر سورة اعراف ، سورة ہود اور دیگر سورتوں میں بھی کیا ہے۔ تسلی کا مضمون جیسا کہ میں نے ارشاد کیا انبیاء (علیہم السلام) کے یہ واقعات حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کی تسلی کے لیے بیان کیے جا رہے ہیں ۔ انہیں علم ہونا چاہئے کہ مختلف اقوام نے اپنے اپنے نبیوں کے ساتھ کیسے سلوک کیا ۔ انبیاء نے کیا کیا تکالیف برداشت کیں مگر صبر و ہمت سے کام لیا ، لہٰذا آپ کے ساتھ پیش آنے والے نامساعد حالات کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ راہ حق کے مسافروں پر اس قسم کی ابتلائیں آیا ہی کرتی ہیں ، لہٰذا آپ بھی ان مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کریں ۔ اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ (الاحقاف : 53) آپ اولولعزم رسولوں کی طرح صبر کریں اور نافرمانوں کو سزا دلوانے میں جلدی نہ کریں۔ شعیب (علیہ السلام) کی تقریر ارشاد ہوتا ہے کذب اصحب لیئکۃ المرسلین جھٹلایا مکہ والوں نے اللہ کے رسولوں کو ۔ یہاں بھی وہی ترکیب استعمال کی گئی ہے جو اس سے پہلے حضرت نوح ، ہود ، صالح اور لوط (علیہم السلام) کے لیے استعمال ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی ایک رسول کی تکذیب اللہ کے ساتھ رسولوں کی تکذیب کے مترادف ہے کیونکہ تمام انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لانا ضروری ہے ۔ کسی ایک کے انکار سے آدمی کافر ہوجاتا ہے۔ اذ قال لھم شعیب الاتتقون جب کہاشعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہ کیا تم ڈرتے نہیں ؟ دیگر سابقہ اقوام کی طرح یہ لوگ بھی کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ غیر اللہ سے مرادیں مانگتے تھے۔ سورة الاعراف اور ہود میں موجود ہے کہ وہ لوگ کہتے تھے کہ ہم اپنے آبائو اجداد کے معبودوں اور ان کی مذہبی رسوم کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں ، ہم تو ان کو ادا کرتے رہیں گے۔ اللہ کے نبی نے فرمایا انی لکم رسول امین میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا امانت دار رسول ہوں ، میں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچانے میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتا ۔ فاتقوا اللہ واطیعون پس اللہ سے ڈر جائو اور میری بات مانو ۔ کہنے لگے میری یہ بات بالکل بےلوث ہے۔ وما اسئلکم علیہ من اجر میں اس کام کا تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ان اجری الاعلی رب العالمین کیونکہ میرا بدلہ تو اللہ کی ذمہ داری ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے ۔ میر ی تبلیغ کا اجر وہی مجھے عطا کرے گا ۔ اس معاملہ میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے ۔ میں تمہاری خیر خواہی کی بات کر رہا ہوں ۔ اسی لیے کہتا ہوں کہ میری بات مانو۔ عقیدے کی درستگی شعیب (علیہ السلام) نے سب سے پہلے قوم کو عقیدے کی اصلاح کا درس دیا اور یہی درس اللہ کے سارے نبی دیتے آئے ہیں ۔ نبیوں کے بعد اللہ کے نیک بندے بھی ہمیشہ سب سے پہلے عقیدے کی طرف توجہ دلاتے ہیں کیونکہ نجات کا دارومدار اسی چیز پر ہے ۔ ہر ولی کتاب و سنت کے مطابق عقیدے کی اصلاح کا سبق دیگا ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اور حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں اسی بات کا تذکرہ کیا ہے۔ شیخ عبد القادر جیلانی (رح) فرماتے ہیں کہ اہل سنت سے مراد حضور ﷺ کی سنت پر چلنے والا گروہ اور جماعت سے مراد صحابہ ؓ کی جماعت ہے ۔ ان کے مطابق اپنا عقیدہ بنا لو گے تو نجات حاصل ہوجائے گی ۔ اور اگر انسان کا عقیدہ ہی درست نہیں تو اس کے کسی عمل کا کچھ اعتبار نہیں ۔ اس بات کی تصریح قرآن میں جگہ جگہ کی گئی ہے۔ مثلاً سورة الانبیاء میں ہے فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَـلَا کُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ (آیت : 49) جس نے نیک اعمال انجام دیئے ، بشرطیکہ وہ ایماندار ہو تو اس کی محنت کی ناقدری نہیں کی جائے گی ۔ گویا اعمال کے لیے ایمان کا ہونا لازمی ہے۔ اسی طرح فرمایا اِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ (الانشقاق : 52) و ہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیئے ، ان کے لیے بےانتہاء اجرم ہوگا ۔ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن پہاڑوں جتنے بڑے بڑے عمل بھی ھباء منثور ( الفرقان : 32) اڑتی ہوئی خاک بن کر رہ جائیں گے ، ان کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ، کیونکہ ان کی تہہ میں ایمان نہیں ہے غرضیکہ عقیدے کی درستگی کے متعلق سارے نبی یہی درس دیتے رہے۔ یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللہ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (اعراف : 37) لوگو ! عبادت خالص اللہ کی کرو کیونکہ اس کے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں ، خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو ، نہ ذات میں ، نہ صفات میں ، نہ پکارنے میں ، نہ حاضر ناظر سمجھنے میں ، نہ حاجت روا اور مشکل کشا تسلیم کرنے میں ، غرضیکہ کسی چیز میں خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو نہ نبی نے درس توحید کے بعد اپنی اپنی قوم کی اخلاقی بیماریوں کی طرف توجہ دی۔ قوم شعیب کا متعارف قوم شعیب بھی بڑی متمدن قوم تھی ۔ یہ زیادہ تر تاجر پیشہ لوگ تھے۔ ان کی بستیاں بڑی شاہراہ پر واقع تھیں ۔ حراسان اور ہندوستان کے تجارتی قافلے اسی شاہراہ کے ذریعے مصر اور شام جاتے تھے اور افریقہ کے قافلے اسی راستہ سے ادھر آتے تھے۔ اس قوم کی اخلاقی بیماری یہ تھی کہ یہ لوگ ماپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے جس کی وجہ سے لوگوں کے حقوق ضائع ہوتے تھے۔ شعیب (علیہ السلام) کے قوم سے خطاب کے بعض حصے سورة ہود میں بھی موجود ہیں آپ نے قوم کی توجہ اس طرح دلائی کہ تجارت میں ڈنڈی مار کر لوگوں کے حقوق ضائع نہ کرو ، بلکہ تمام حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کرو اور اس کے بعد بقیت اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین ( آیت : 681) جو کچھ بچ رہے ۔ وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم میں ایمان کی کوئی رتی موجود ہے اور جو چیز تم بےایمانی سے حاصل کرو گے ، وہ خیر و برکت سے خالی ہوگی ۔ یہی ہماری اہل مدینہ میں بھی پائی جاتی تھی ۔ یہود زیادہ تر تجارت پیشہ لوگ تھے اور وہ دیتے ، وقت کم تولتے تھے جس کا ذکر سورة مطففین میں موجود ہے۔ ماپ تول میں استقامت بہر حال شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو ان کی اخلاقی بیماری کی طرف توجہ دلاتے ہو فرمایا افوا الکیل پورا کردیا ماپ کو ولا تکونو من الخسرین اور نہ ہو تم گھٹانے والوں میں ۔ اناج کو ماپ کردینے کا رواج قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے نزول قرآن کے زمانے میں مد اور صاع وغیرہ کے پیمانے ہوتے تھے ۔ یہاں پنجاب میں ٹوپہ اور دڑوپہ کے پیمانے اب تک رائج رہے ہیں ۔ انہی پیمانوں کے متعلق فرمایا کہ جب گندم ، جو ، کھجوریں یا دیگر اناج ماپ کردو تو پورا پورا ماپو اور اس میں کمی نہ کرو ۔ کہ اس سے لینے والے کا حق ضائع ہوگا ۔ سورة مطففین میں اس چیز کی مذمت بیان کی گئی ہے کہ ہلاکت ہے ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے کہ جب وہ ماپ کر یا تول کرلیتے ہیں تو پورا پورا کرلیتے ہیں اور جب دینا ہوتام ہے تو اس میں کمی کردیتے ہیں ۔ کیا انہیں اس بات کا خوف نہیں ہے کہ ایک دن انہوں نے رب تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو کر حساب دینا ہے ؟ تو یہی نصیحت شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کی کہ کہ ماپ میں کمی نہ کرو وزثوا بالقسط س المستقیم اور جب کسی چیز کو تول کر دو تو سیدھی ترازو کے ساتھ تولو ۔ اس میں کمی بیشی نہ کرو ، تجارت میں ڈنڈی مارنا حقوق العباد میں خیانت کرنا ہے۔ جس کا مواخذہ ہوگا ۔ فرمایا ولا تخسوا لناس اشیاء ھم اور لوگوں سے ان کی چیزوں کو مت گھٹائو یعنی وزن کرتے وقت تول میں کمی نہ کرو۔ تاجروں کی ذمہ داری ترمذی شریف 1 ؎ کی روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ بازار شریف لے گئے تو آپ نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا یمش التجار قا ولیتم امرین قد ھلکت امم السالفۃ قبلکم اے تاجروں کے گروہ ! آج تم دو چیزوں کے والی ہو ، انہی دو چیزوں کی وجہ سے پہلے کئی امتیں تباہ ہوئیں ۔ یہ دو چیزیں ماپ اور تول ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ شعیب (علیہ السلام) کے علاوہ بھی کئی قومیں اس بیماری میں مبتلا رہی ہیں ۔ اس لیے حضور ﷺ نے خبردار کیا کہ آج تم ان چیزوں کے والی ہو ، دیکھنا کسی کا حق ضائع نہ کرنا اور نہ تم بھی سابقہ قوموں کی طرح تباہ ہو جائو گے۔ اگر تاجروں میں یہ عیب نہ ہو تو وہ پیشے کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر آتے ہیں ۔ اور حدیث 2 ؎ میں ان کو بڑی فضلیت آئی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے التاجر الصدوق الامین مع النبین والصدیقین والشھداء یوم القیمد سچا اور امانت دار تاجر قیامت والے دن انبیاء ، صدقا اور شہدا کی قطار میں ہوگا اس کے بر خلاف جھوٹی قسم اٹھا کر گاہک کو مطمئن کرنے والے کے متعلق فرمایا منفقۃ ممحقہ ایسا مال بک تو جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ اس کی برکت کو مٹا دیتا ہے ایسی کمائی حرام کی کمائی ہوگی اور پھر بقول مال حرام بود بجائے حرام رفت یہ کسی اچھے ٹھکانے پر بھی نہیں لگے گی بلکہ مقدمہ بیماری ، رسم و رواج یا لہو و لعب میں ہی صرف ہوگی ۔ جو مال حرام راستے سے آیا ، وہ اسی راستے سے چلا گیا ۔ بر خلاف اس کے جو مال جائز اور حلال راستے سے آتا ہے وہ تمام اہل خانہ کے لیے باعث برکت ہوتا ہے۔ تاجروں کا ایک اور عیب تدلیس ہے ۔ اگر مال میں کوئی نقص ہو تو وہ اسے ظاہر نہیں کرتے بلکہ چھپا جاتے ہیں اور اس طرح گاہک کو عیب دار مال چلا جاتا ہے۔ 1 ؎۔ ترمذی ص 691۔ 2 ؎۔ سنن دارمی ص 361 ج 2 و ترمذی ص 591 ( فیاض) یہ بھی بد یانتی ہیں کی ایک قسم ہے۔ اگر کپڑے کا کوئی تھان پھٹا ہوا ہے یا اس کی پیمائش کم ہے تو گاہک کو بتا دینا چاہئے کہ اس میں یہ عیب ہے اور اس کی قیمت میں اس قدر فرق ہے۔ اب یہ گاہک کی مرضی ہے کہ وہ ایسے مال کو خرید ناپسند کرتا ہے یا نہیں کم از کم تاجر نے تو اپنی ذمہ داری پوری کردی ۔ اسی طرح دیسی مال کو ولایتی یا ولایتی کو دیسی کہہ کر فروخت کرنا بھی اسی وعید کی زد میں آتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ چیز یہاں بنتی ہے مکروہ غیر ممالک کی لگا دی جاتی ہے۔ یہ گاہک کو دھوکہ دینا ہے اور یہی چیز حرام ہے بعض اوقات ناپنے میں کمی کی جاتی ہے اگر کپڑا میٹر کے حساب سے فروخت نہ کیا جائے تو ناپتے وقت میٹر کی بجائے گز استعمال کیا ہے۔ یا کلو کی بجائے سیر دے دیا ہے یہ سب باتیں دھوکہ دہی میں آتی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ لوگوں سے ان کی چیزیں مت گھٹائو۔ فساد فی الارض ارشاد ہوتا ہے ولا تعثوا فی الارض مفسدین اور نہ چلو زمین میں فساد کرتے ہوئے خدا کے دین اور شریعت کو توڑنا ہی فساد فی الارض ہے ۔ سورة اعراف میں قوم شعیب کی ایک یہ خرابی بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ راستوں پر ڈاکے ڈالتے تھے ۔ مسافروں سے ان کا مال چھین لیتے اور بعض اوقات ان کو قتل بھی کردیتے اللہ نے فرمایا ولا تقعدوا بکل صراط توعدون وتصدون عن سبیل اللہ ( آیت 68) ڈاکے ڈالنے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے راستوں پر مٹ بیٹھو ۔ یہ لوگ ناکہ بندی کر کے غنڈہ گردی کرتے تھے ۔ قافلے لوٹتے تھے اور جو لوگ شعیب (علیہ السلام) کی ملاقات کے لیے آتے تھے ، ان کو آپ تک پہنچنے ہی نہیں دیتے تھے ، اہل مکہ بھی ایسا ہی کرتے تھے ان کی کوشش ہوتی تھی کہ باہر سے آنے والا کوئی شخص آنحضرت ﷺ سے ملنے نہ پائے ۔ وہ جانتے تھے کہ جو کوئی آپ کی صحبت میں پہنچ جاتا تھا وہ ایمان لے آتا تھا۔ حضرت ابو ذر غفاری ؓ کا حال حدیث میں بیان ہوا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے ملنا چاہا تو کفار مکہ نے دو دفعہ آپ کی پٹائی کی ۔ اسی طرح حضرت عمرو ابن عتبہ ؓ کا بیان ہے کہ وہ مکہ آئے تو دیکھا کہ قوم کے لو گ اس قدر مشتعل ہیں کہ آپ تک پہنچنا ہی مشکل ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے بڑے لطیف بہانے کے ذریعے آپ (علیہ السلام) تک رسائی حاصل کی اور ایمان قبول کیا یہ سب چیزیں فساد فی الارض میں شامل ہیں ۔ تبلیغی جماعت والے اللہ کا دین لوگوں تک پہنچانے کی حتیٰ المقدور کوشش کر رہے ہیں ، مگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ کچھ لوگ ان کے راستے میں بھی رکاوٹ بن رہے ہیں ۔ طرح طرح کا طعن کرتے ہیں کہ یہ بےدین لوگ ہیں ۔ بستر اٹھائے پھرتے ہیں اور لوگوں کو اصل دین سے برگشتہ کرتے ہیں ، محض الزام تراشی کے ذریعے لوگوں کو روکتے ہیں کہ کہیں ان کے دام میں نہ پھنس جانا ۔ اس طرح بعض آدمی عوام کو علمائے حق کے پاس جانے سے روکتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ یہ گستاخ اور بےادب ہیں ، ان کی بات سنو گے تو گمراہ ہو جائو گے ، العیاذ باللہ ، غرضیکہ اللہ کے راستے سے روکنے کی مختلف صورتیں ہیں ۔ کبھی اخبارات میں غلط ملط مضامین دیکر اللہ کے بندوں سے بد ظن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی کتابوں کے ذریعے الزام تراشی کر کے لوگوں کو متنفر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، غرضیکہ اللہ کے راستے سے روکنے کی روایت قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہے اور مختلف زمانوں میں اس کے مختلف طریقے رہے ہیں ۔ یہ فساد فی الارض کی ہی قسم ہے۔ اس ضمن میں انگریز نے بھی بڑا جال پھیلایا ہے ، اگرچہ سیاسی طور پر وہ بات نہیں رہی ، مگر دین حق سے روکنے کا دائو بیچ اب بھی چل رہا ہے انگریز مشنریاں آج بھی دنیا بھر میں سرگرم عمل ہیں ، کبھی تعلیم کے ذریعے عیسائیت پھیلائی جا رہی ہے سکول اور کالج قائم کر کے انجیل کی تعلیم دی جاتی ہے اور کبھی ہسپتالوں میں عیسائیت کا پرچار کیا جاتا ہے ، کبھی تبلیغی اخبارات اور رسائل مفت تقسیم کیے جاتے ہیں اور کبھی ایڈ کے نام پر لوگوں کو اپنے جال میں پھنسایا جاتا ہے۔ غرضیکہ جس طرح مکڑی شہد میں پھنس کر نکل نہیں سکتی ۔ اسی طرح جو لوگ ان کے جال میں کسی نہ کسی طرح پھنس جاتے ہیں ، پھر وہ وہاں سے نکل نہیں سکتے فساد فی الارض کے یہ مختلف طریقے ہیں ۔ اس ضمن میں مکہ والوں کا واقعہ مشہور ہے ، عرب کا ایک نامی گرامی شاعر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا تھا ، مگر مشرکین نہیں چاہتے تھے کہ یہ وہاں تک پہنچے کی وجہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ شخص ایمان لے آیا تو اس کا بہت زیادہ اثر پڑے گا چناچہ اہل مکہ نے اس شاعر کو اناج سے لدے ہوئے سو اونٹ دے کر واپس کردیا جو حضور ﷺ سے نہیں ملنے دیا ۔ فرمایا زمین میں فساد کرتے ہوئے مت چلو واتقوا الذی خلقکم والجبلۃ الاولین اور ڈرو اس ذات سے جس نے تمہیں بھی پیدا کیا اور پہلی مخلوق کو بھی حضرت شعیب (علیہ السلام) نے یہ ساری باتیں قوم کو خطاب کرتے ہوئے فرمائیں۔ قوم کا جواب شعیب (علیہ السلام) کی اس تقریر کے جاب میں قانوا انما انت من المسحرین قوم کے لوگ کہنے لگے کہ تم تو جادو ٹونے والے لوگوں میں سے ہو بہکی بہی باتیں کرتے ہو اور ہمیں ہمارے دین سے روکنا چاہتے ہو ۔ انہوں نے یہ اعتراض بھی کیا وما انت الا بشر مثلنا تم تو ہمارے جیسے انسان ہو تمہیں ہم پر کون سی برتری حاصل ہے وان نظنک لمن تکذبین اور ہم تو تجھے جھوٹا خیال کرتے ہیں تمہارے دعویٰ نبوت میں کوئی صداقت نہیں ہے گویا انہوں نے بشریت کو نبوت کے منافی خیال کیا حالانکہ قرآن میں یہ بات بار بار سمجھائی گئی ہے کہ انسانوں کی تربیت کے لیے انسان کا نبی ہونا ہی موزوں ہو سکتا ہے ۔ انسان کسی غیر جنس سے تعلیم و تربیت حاصل نہیں کرسکتا ، نہ کوئی فرشتہ انسان کی تربیت کرسکتا ہے اور نہ کوئی جن ، بلکہ انسان کو انسان ہی اپنے قول و فعل سے منزل مقصود تک پہنچا سکتا ہے۔ قوم کہنے لگی ! اگر تو سچا ہے فاسقط علینا کسفا من سبا ان کنت من الصدیق تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی گرادے۔ ہم جان لیں گے کہ تیرے کہنے سے ہمیں سزا ملی ہے ، اگر تو سچا ہے۔ سورة اعراف میں کفارو مشرکین کا یہ بیان بھی نقل کیا گیا ہے ۔ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ( آیت : 07) جس چیز سے تو ہمیں ڈراتا ہے اس کو لے آئو یعنی ہم پر عذاب نازل کرو ، شعیب (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں فرمایا قال ربی اعلم بما تعملون میرا پروردگار خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو ۔ وہ بہتر جاتا ہے کہ کس مجرم کو کس وقت سزا میں مبتلا کرنا ہے ۔ سزا دینا میرا کام نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی گرفت وقت مقررہ پر آ جائیگی لہٰذا اس کا انتظار کرو۔ قوم پر عذاب غرضیکہ فکذبوہ قوم نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا ۔ آپ کی نبوت و رسالت کا مکمل طور پر انکار کردیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا فاخذھم عذاب یوم الظلون پکڑ لیا ان کو سائبان کے دن کے عذاب نے ۔ انہ کان عذاب یوم عظیم بیشک یہ بڑے دن کا عذاب تھا ۔ ظلہ سائبان کو کہتے ہیں اور اس کا اطلاق بادل کے سائے پر ہوتا ہے۔ قوم شعیب کو تین قسم کا عذاب دیا گیا ، نیچے سے زلزلہ آیا ، اوپر سے چیخ مسلط کی گئی اور پھر اوپر سائبان کا سایہ بھی ہوا ۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ جب اس قوم پر عذاب کا وقت آیا تو اللہ نے ان پر سخت گرمی پیدا کردی ۔ سات دن تک متواتر سخت ترین تپش نازل ہوئی ۔ پھر ایک بادل اٹھا جس کے سائے میں قدرے سکون محسوس ہوا ۔ سب لو گ دوڑ دوڑ کر بادل کے نچیی جمع ہوگئے۔ پھر اللہ نے اس بادل سے ایسی آ گ برسائی کہ سارے نافرمان بھسم ہو کر رہ گئے۔ اس قوم کا حال قرآن بائبل اور تاریخ میں بھی مذکور ہے ، اللہ نے اس قوم کا حال بیان کر کے مکہ والوں اور بعد والوں کو عبرت ودلائی ہے کہ دیکھنا اللہ کے نبی کی نافرمانی کر کے تم بھی کہیں عذاب الٰہی کا شکار نہ ہوجانا ۔ چناچہ اللہ نے فرمایا ان فی ذلک یا یۃ اس واقعہ میں عقل مندوں کے لیے نشانی ہے ، وہ سابقہ اقوام کا حال دیکھ کر سنبھل سکتے ہیں اور خدا نے وحدہٗ لا شریک پر ایمان لاسکتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وما کان اکثر ھم مومنین ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔ وان ربک لھو العزیز الرحیم اور بیشک تیرا پروردگار البتہ زبردست اور نہایت مہربان ہے ۔ وہ نافرمانوں کے حق میں جبا ر اور قہار ہے ۔ جب کہ مومنوں کے لیے بڑا ہی شفیق اور مہربان ہے۔
Ayahs 26:192–209

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور بیشک یہ ( قرآن) البتہ اتارا ہوا ہے رب العالمین کی طرف سے

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

لے کر اترا ہے اس کو روح الامین

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

آپ کے قلب مبارک پر تا کہ ہوجائیں آپ ڈرانے والوں میں سے

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

اور ہے یہ عربی زبان میں کھول کر بیان کرنے والا

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور بیشک یہ البتہ پہلی کتابوں میں بھی ہے

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا اس کے لیے یہ نشانی نہیں ہے کہ جانتے ہیں اس کو بنی اسرائیل کے علماء

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر ہم اتارتے اس کو کسی عجمی پر

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

پس وہ پڑھتا ہے پر تو پھر بھی نہیں تھے یہ ایمان لانے والے

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے چلایا ہے اس کو مجرموں کے دلوں میں

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

نہیں ایمان لاتے اس کے ساتھ یہاں تک کہ دیکھ لیں وہ درد ناک عذاب

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

پس آئے گا وہ ( عذاب) اچانک اور وہ بیخبر ہوں گے

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

پس کہیں گے ، کیا ہم کو مہلت مل سکتی ہے ؟

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

کیا ہمارے عذاب کے ساتھ یہ جلدی کرتے ہیں

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

آپ بتلائیں کہ اگر ہم ان کو فائدہ پہنچائیں کئی سال تک

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر آجائے ان کے پاس وہ چیز جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو نہیں بچائے گا ان کو جس کے ساتھ یہ فائدہ اٹھاتے ہیں

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور نہیں ہلاک کیا ہم نے کسی بستی کو مگر یہ کہ اس کے لیے ڈرانے والے تھے

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

نصیحت کے لیے اور نہیں ہم ظلم کرنے والے

ربط آیات گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔ اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی تلک ایت الکتب المبین ( آیت 03) یہ کیوں کر بیان کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیں ۔ وما یاتیھم من ذکر من رحمن محدث لا کانو عنہ معرضین ( آیت : 05) ان لوگوں کے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آتی ہے۔ یہ اس سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں ۔ اور اب سورة کے آخری حصے میں بھی یہی مضمون آ رہا ہے اور نزول قرآن کے بارے میں بعض حقائق بیان کئے گئے ہیں۔ مکی سورتوں کے مضامین مکی سورتوں میں بالعموم چار اہم مضامین بیان ہوئے ہیں ۔ ان میں سے پہلا مضمون توحید ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں ، ہزاروں عنوانات کے تحت توحید کے دلائل بیان کیے ہیں اور شرک و تو لیا میں یہ مضمون سورة کے آخری حصے میں بھی آ رہا ہے ۔ مکی سورتوں کا دوسرا اہم مضمون رسالت کا ہے۔ مشرکین رسالت کا انکار کرتے تھے ۔ سابقہ امتوں اور آخری امت کے مشرکین کا عندیہ یہ تھا وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَائَ ہُمُ الْہُدٰٓی اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللہ ُ بَشَرًا رَّسُوْلًا (بنی اسرائیل : 49) جب بھی لوگوں کے پاس اللہ کی ہدایت آئی تو انہوں نے یہ کہہ کر ایمان لانے سے انکار کردیا کہ کیا اللہ نے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا ہے ، ان کے نزدیک بشریت رسالت کے منافی تھی ، حالانکہ اللہ نے انسانوں کی طرف انسانوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا ہے ۔ ان کا دوسرا زخم یہ تھا کہ اگر کسی انسان کو ہی رسول بنانا ہوتا تو اللہ تعالیٰ کسی صاحب حیثیت آدمی کو رسول بناتا جس کے باغات ہوتے ، نوکر چاکر اور فوج ہوتی ۔ بھلا ایک نادار آدمی کیسے رسول ہو سکتا ہے ۔ اس مضمون میں اللہ نے رسالت کے تصور کو واضح کیا ہے اور منکرین کے اعتراضات کو رد فرما یا ہے۔ مکی سورتوں کا تیسرا اہم مضمون معاد ہے ۔ وقوع قیامت کے منکرین ہمیشہ سے اور آج بھی ایسا ایک طبقہ موجود ہے ۔ اللہ نے مکی سورتوں میں بعث بعد الموت اور فی سبہ اعمال کے مسئلہ کو بھی کھول کر بیان کیا ہے حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کی ساری تعلیمات میں ایک تہائی حصہ بعث بعد الموت پر مشتمل ہے۔ اللہ نے آخرت کے معاملہ کو اس قدر اہمیت دی ہے اور ان سورتوں کا چوتھا مضمون قرآن پاک کی حقانیت و صداقت ہے ، دنیا میں بیشمار لوگ ایسے ہیں جو قرآن کو خدا کا کلام ماننے کے لیے تیار نہیں اور اس ضمن میں طرح طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں ۔ اللہ نے قرآن پاک کی حقانیت و صداقت کو مختلف دلائل سے واضح کیا ہے اور منکرین کے زعم باطل کا رد فرمایا ہے آج کے درس میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ نزول قرآن ارشاد ہوتا ہے وانہ لتتن یل رب العالمین بیشک یہ قرآن پاک البتہ اتارا ہوا ہے۔ رب العالمین کی طرف سے یہ کلام الٰہی ہے کسی مخلوق کا کلام نہیں ہے اور اس کے طریقہ نزول کے متعلق فرمایا نزل بہ الروح الامین اس کو ایک امانتدار فرشتہ جبرائیل (علیہ السلام) لے کر اترا ہے۔ روح کا معنی جبرئیل فرشتہ ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) پر وحی لانے پر مامور رہا ہے اور وہ امانت دار ہے کہ اللہ کا پیغام ٹھیک ٹھیک اس کے انبیاء اور رسل تک پہنچاتا رہا ہے۔ یہ اللہ کی عظیم المرتب مخلوق میں سے مقرب ترین فرشتہ ہے جس نے اس قرآن پاک کو اتارا ہے علی قلبک آپ کے قلب مبارک پر لتکون من المنذرین تا کہ ہوجائیں آپ ڈر سنانے والوں میں سے ، گویا نزول قرآن کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مجرمین کو ان کے بر انجام سے آگاہ کردیا جائے اللہ نے سورة المدثر میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ اے مدثر ! قم نافذر ( آیت : 2) آپ اٹھ کھڑے ہوں اور مختلف خدا کو ان کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ ہر نبی مبشر اور منذر ہوتا ہے ۔ جو نیکی والوں کو اچھے انجام کی خوش خبری اور برائی والوں کو برے انجام کی اطلاع دیتا ہے ۔ سورة الصف میں ہے وما نرسل المرسلین الا مبرشین و منذرین ( آیت 65) ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوش خبری دینے اور ڈرانے والے بنا کر۔ نزول اور وحی مختلف صورتیں فرمایا ہم نے یہ قرآن روح الامین کی وساطت سے آپ کے قلب مبارک پر اتارا ہے عام طور پر وحی کے نزول کی یہی صورت رہی ہے۔ تا ہم بعض دوسرے طرقوں سے بھی وحی کا نزول ہوتا رہا ہے ۔ ایک صحابی نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ حضور ! کیف یاتیک الوحی آپ پر وحی کس طرح آتی ہے ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس کی مختلف سورتیں ہیں۔ مثلاً کبھی فرشتہ انسانی شکل میں منتقل ہو کر آتا ہے اور میں اس کی بات کو یاد کرلیتا ہوں ۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے 1 ؎ یا تینی مثل صلحصلۃ الجرس وحی اس طرح آئی ہے جیسے گھنٹی بجتی ہے مگر اس کی آواز کو کوئی دوسرا شخص نہیں سن سکتا ۔ اس کی سماعت پیغمبر تک ہی محدود ہوتی ہے اور اس طرح وحی قلب مبارک پر اترتی ہے۔ حدیث میں حضور ﷺ کے قلب کی تعریف میں فرشتوں نے آ کر آپ کو اللہ نے قلب ولیہ مضبوط دل عطا فرما یا ہے۔ اس میں سننے کے لیے دوکان اور دیکھنے کے لیے دو آنکھیں ہیں ۔ بہر حال حضور ﷺ نے فرمایا وحی کی گھنٹی والی صورت زیادہ شدید ہوتی ہے کیونکہ فرشتہ خطیرۃ القدس سے براہ راست آپ کے قلب کے ساتھ تعلق جوڑتا (وحی الٰہی لاتا ہے ۔ آپ نے فرمایا ھو اشد علی صور ت یہ مجھ پر بڑی شان ہوتی ہے۔ صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں کی دسمبر جنوری جتنی شدید سردی میں بھی نزول وحی کے وقت حضور ﷺ کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکنے لگتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کا رنگ بھی مشغیر ہوجاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ آپ پر غنودگی کی سی کیفیت طاری ہو رہی ہے۔ مسلم شریف کی احادیث میں آتا ہے کہ ایک موقع پر جب ایسی ہی حالت طاری ہوئی اور پھر آپ کی حالت معمول پر آئی تو آپ نے فرمایا : لوگو ! خوشخبری حاصل کرو کہ اللہ نے مجھے پر سورة الکوثر نازل فرمائی ہے پھر آپ نے اس مختصر ترین سورة کی تلاوت فرمائی۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ وقوع تغیر میں انسلاخ ہوتا ہے ، یعنی ایسی حالت میں اللہ کا نبی بشریت سے نکل کر ملکیت کی طرف آتا ہے اور ادھر فرشتہ ملکیت سے نیچے اتر آتا ہے ، اس طرح گویا دونوں طرف سے انسلاخ ہوتا ہے تا کہ وحی الٰہی پیغمبر کے قلب پر اتر سکے۔ اس طرح وحی کے الفاظ اور ان کے مطائب پوری طرح دل پر منتقل کردیئے جاتے ہیں ۔ حضور ﷺ قلب مبارک وہ عظیم قلب تھا ، جس پر پورا قرآن نازل ہوا ۔ 1 ؎۔ بخاری ص 2 ج 1 ( فیاض) قلب انسانی کی اہمیت انسانی جسم میں دل اور دماغ کو رئیس الاعضاء کہا جاتا ہے ، یہ دونوں اعلیٰ ترین عضو ہیں مرکز الحلاق اور قوت ارادی کے اعتبار سے انسان کا قلب رئیس الاعضاء ہے ۔ جب کہ امور طبعیہ اور حس و حرکت کے اعتبار سے مہاع اعلیٰ عضو ہے ۔ اخلاق اچھا ہو یا برا اس کا مرکزہر حال دل ہے۔ اسی لیے انسان کی سزا کے متعلق اللہ کا فرمان ہے کہ دوزخ کی آگ سب سے پہلے انسان کے دل پر اثر انداز ہوئی۔ سورة الہمزہ کے الفاظ ہیں ۔ التی تطلع علی الافدۃ ( آیت : 7) یہ وہ لوگ ہے جو دلوں پر چڑھے گی ۔ جسم پر اس کا اثر بعد میں ہوگا ۔ بہر حال جس شخص نے قلب جیسے مرکز اخلاق عضو کو خراب کردیا تو سزا کا اثر بھی سب سے پہلے اسی پر ہوگا ہر آدمی کے سینے میں قلب ایک بےمثال نعمت ہے۔ اور جس دل پر قرآن نازل ہوا وہ سب سے عظیم قلب ہے ۔ اس دل میں جو نورایت اور کمال تھا وہ کسی مخلوق کے کسی دل میں نہیں ہے۔ قرآن اور عربی زبان فرمایا اس قرآن پاک کو روح الامین لے کر آئے یلسان عربی مبین جس کی زبان عربی ہے جو بالکل واضح اور فصیح زبان ہے ۔ اس سے یہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے کہ عربی زبان میں نازل ہونے والا یہ قرآن پاک اپنے مضامین ، مطالب معانی دلائل ، مسائل احکام اور شواہد کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک کہلانے کا مستحق وہی نسخہ ہوگا جو عربی زبان میں ہوگا ، کسی دوسری زبان میں ہونے والا ترجمہ قرآن تو کہلا سکتا ہے مگر قرآن نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فاقرء واما تیسر من القرن ( المزمل : 02) نماز میں جیتا میسر آسکے قرآن پڑھا کریں ۔ اور قرآن وہی ہے جو عربی میں ہے ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ نماز عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں نہیں پڑھی جاسکتی ۔ بعض محد قسم کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم عربی کو سمجھتے نہیں لہٰذا اگر نماز اپنی زبان اردو ، پنجابی وغیرہ میں پڑھ لیا کریں تو مطلب بھی سمجھ میں آئے گا اور نماز اچھے طریقے سے ادا ہوگی ۔ یہ سخت بےدینی کی بات ہے ، بجائے اس کے کہ نماز اور قرآن پاک کی چند سورتوں کا ترجمہ سیکھ لیا ائے۔ انہوں نے نماز کو اردو میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ لوگ انگریزی ، فارسی ، فرانسیسی اور جرمن زبان سیکھنے میں تو کوئی دقت محسوس نہیں کرتے مگر قرآن پاک کی زبان عربی کی باری آتی ہے تو اس کو سیکھنے کی بجائے قرآن اور نماز کے ترجمے پر گزارہ کرنا چاہتے ہیں ۔ آدمی تھوڑی سی کوشش کرے تو نماز کی حد تک تو قرآن کے الفاظ اور ترجمہ سیکھ سکتا ہے اور پھر پوری دلجمعی کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے۔ سابقہ کتب کی پیش گوئیاں فرمایا وانہ لفی زبر الاولین اور بیشک یہ قرآن البتہ پہلی کتابوں میں بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کا ذکر اور اس کی پیش گوئیاں ساقہ صحائف یعنی لقب کا ویہ میں بھی موجود ہیں ، چناچہ تورات میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ اے موسیٰ ! میں تیرے بھائی بندوں میں سے تیرے جیسا عظیم رسول برپا کروں گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا ۔ یہ وہی کلام ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی صورت میں نازل فرمایا اور بھائی بندوں سے مراد دوسرا خاندا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اسرائیلی خاندان سے تھے جب کہ حضور خاتم النبین ﷺ کا تعلق اسماعیلی خاندان سے ہے البتہ دونوں خاندان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ، لہٰذا یہ آپس میں بھائی بند ٹھہرے۔ کلام منہ میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ میں اس کو اپنا کلام سکھائوں گا ۔ دوسری جگہ مذکور ہے کہ قرآن پاک کے بعض احکام پہلی کتابوں میں بھی موجود ہے ، مثلاً توحید ، رسالت اور معاد ہر نبی کی تعلیمات کا جزو رہے ہیں ۔ بہت سے دیگر اصول بھی تمام نبیوں میں متفق علیہ رہے ہیں ۔ قصاص کا مسئلہ جس طرح قرآن پاک میں ہے اسی طرح تورات میں بھی تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان وغیرہ قرآن پاک میں اس قدر علومو معارف موجود ہے کہ کوئی انسان ان سب پر حاوی نہیں ہو سکتا ۔ قرآن خدا تعالیٰ کی صفت ہے۔ اللہ نے اس کو اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے چونکہ خدا کی صفت اور اس کا علم لا محدود ہے لہٰذا کوئی انسان قرآن کا احاطہ نہیں کرسکتا البتہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ کوئی شخص جس قدر قرآن میں نگاہ و نظر کریگا اس کے ذہن اور اسکی معلومات میں اسی قدر وسعت پیدا ہوگی ۔ یہ سلسلہ ابدلاً تک ترقی کرتا چلا جائے گا ۔ فرمایا اولم یکن لھم ایۃ کیا ان کے لیے یہ نشانی کافی نہیں ہے۔ ان یعلمہ علمو بنی اسرائیل کہ اس قرآن پاک کو علمائے بنی اسرائیل جانتے ہیں کہ یہ واقعی وہی کتاب ہے جسکی پیشن گوئیاں سابقہ کتب سماویہ میں موجود ہیں ، چناچہ منصف مزاج علماء نے بنی اسرائیل اس کی گواہی دیتے تھے۔ ان میں حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ اور بعض دیگر علماء شامل ہیں جو سابقہ کتابوں کے عالم تھے اور جنہیں اللہ نے ایمان کی دولت بھی نصیب فرمائی ۔ انہوں نے تصدیق کی یہ اللہ کی سچی کتاب ہے جس کی پیشن گوئیاں سابقہ کتب میں موجود ہیں ۔ فرمایا اس بات کو تو بنی اسرائیل کے علماء بخوبی جانتے ہیں تو کیا یہ بات مشرکین کے لیے کافی دلیل نہیں ہے کہ قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے اس کے باوجود یہ لوگ انکار کیوں کرتے ہیں ؟ انکا ر کے لیے حیلے بہانے ارشاد ہوتا ہے ولو نزلنہ علی بعض الاعجمین اور اگر ہم اتارتے اس قرآن کریم کو کسی عجمی ( غیر عربی) پر فقراہ علیھم پھر وہ ان کو پڑھ کر سناتا ما کانوا بہ مومنین تو پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے ، پھر ان کا بہانہ یہ ہوتا کہ ہم عربی ہیں اور اس عجمی کی بات کیسے سمجھ سکتے ہیں ۔ شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ کفار یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اللہ کا رسول عربی ہے اور عربی بھی عربی ہے کہ یہ اس کا خود ساختہ ہو سکتا ہے اگر یہ قرآن کسی غری عربی پر اترتا اور وہ ہمیں پڑھ کر سناتا تو ہم مان جاتے کہ واقعی یہ خدا کا کلام ہے جو ایک غیر عربی کی زبان سے ادا ہو رہا ہے۔ مطلب یہ کہ مکنرین نے ہر صورت میں انکار ہی کرنا ہوتا ہے۔ وہ کوئی بھی حیلہ بہانہ تلاش کرسکتے ہیں۔ فرمایا کذلک سلکنہ فی قلوب المجرمین اسی طرح ہم نے اس کو گناہ گاروں کے دلوں میں چلایا ہے۔ یہ لوگ اسی طرح کے حیلے بہانوں سے لا یومنون بہ اس کلام الٰہی پر ایمان نہیں لاتے ۔ حتی یرو العذاب الالیم کہاں تک ، درد ناک عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں یہ لوگ آخر عذاب کا کیوں انتظا کر رہے ہیں ۔ جب وہ آئے گا فیاتیھم بغتۃ و ھم لایشعرون تو وہ چانک آجائیگا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی ۔ فیقولوا ھل نحن منظرون پھر اس وقت کہیں گے کاش کہ ہمیں چھ مہلت مل جائے ۔ اگر یہ عذاب کسی طرح ٹل جائے تو اب ہم ایمان لے آئیں گے ۔ اللہ نے فرمایا افبعذا بنا یستعجلون کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے دینے میں جلدی کرتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ان کا رویہ اس قد مخالفانہ ہے کہ یہ عذاب کو خود دعوت سے ہے ہیں مگر جب وہ وارد ہوجائے گا تو پھر مہلت مانگنے لگیں گے۔ فرمایا افرایت ان متعنھم سنین آپ دیکھ لیں اگر ہم ان کو کئی سال تک فائدہ دیتے ہیں ۔ یہ جس طرح آج عیش و آرام میں پڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ہم ان کو نہ ، سال یا سال تک اس دنیا میں فائدہ پہنچاتے رہیں۔ ثم جاء ھم ما گانو یوعدون پھر آجائے ان کے پاس وہ چیز جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی سال ہا سال کے عیش و آرام کے بعد اگر ان پر عذاب آجائے ۔ ما اغنی منھم ما کانوا یمتعون تو یہ مال و دولت اور جاہ واقتدار مانگو کچھ فائدہ نہیں دے گا ۔ یعنی کوئی چیز ان کو اللہ کی گرفت سے بچا نہیں سکے گی دنیا کے یہ سارے سازو سامان دھرے کے دھرے رہ جائیں گے ۔ اور اس وقت یہ لوگ … ملیں گے۔ اتمام حجت آگے ، اللہ نے تسلی کے سلسلے میں فرمایا وما اھلکنا من قریۃ الا لھا منذرون ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لیے ڈرانے والے ہوتے تھے ۔ پہلے اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) یا ان کے متبعین کو بھیج کر حجت تمام کرتا ہے اور پھر کسی قوم پر گرفت کرتا ہے۔ ذکری یہ نصیحت کی باتیں ہیں جو لوگوں کو سمجھائی جاتی ہیں تا کہ وہ ایمان قبو ل کرلیں ۔ ایسا نہیں ہوتا کہ بغیر خبردار کیے اور بغیر موقع دیے کسی قوم پر عذاب بھیج دیں۔ سورة بنی اسرائیل میں بھی ہے وماکنسم معذبین حتی نبعث رسولا ( آیت 5) ہم کسی قوم کو اس وقت تک سزا میں مبتلا نہیں کرتے جب تک کہ ان کی طرف رسول مبعوث نہیں کرتے جو ان کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا ہے ۔ پھر جب وہ انکار پر اصرار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت آجاتی ہے۔ وما کنا ظلمین اور ہم ظالم نہیں ہیں یعنی کسی پر زیادتی نہیں کرتے کہ حجت تمام کیے بغیر کسی پر عذاب نازل کردیں ، یہ ہمارے طریقے کے خلاف ہے۔