Ayahs 25:1–3مذکورہ کوائف
اس سور ۃ مبارکہ کا نام سورة الفرقان ہے جو کہ اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ سے مآخوذ ہے ۔ فرقان قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نامہ ہے قرآن کا معنی پڑھی جانے والی کتاب جب کہ فرقان کا معنی حق و باطل میں فیصلہ کن کتاب ہے ۔ اس سورة میں چونکہ قرآن پاک کی عظمت و بزرگی اور اس کے منزل من اللہ ہونے کا بیان بھی ہے ۔ اس لیے اس سورة کا نام سورة الفرقان رکھا گیا ہے ۔ اس سورة کی ستر آیتیں اور چھ رکوع ہیں ۔ سورة 393 الفاظ اور 3673 حروف پر مشتمل ہے۔
ربط سورت
یہ سورة ملکی زندگی میں نازل ہوئی ، جب کہ اس سے پہلی سورة نور مدنی تھی ۔ ان دونوں سورتوں میں مکی اور مدنی بعد ہونے کے باوجود ان کے بعض مضامین مشترک ہیں ۔ مثلاً توحید کے دلائل ، نبوت و رسالت کی صداقت اور اس پر معترضین کے اعتراضات کا وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال جیسے مضامین دونوں سورتوں میں پائے جاتے ہیں ۔ اس سورة کے بعد سات مزید سورتیں مکی زدگی سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے بعد سورة الاحزاب کا تعلق مدنی زندگی سے ہے گویا یہ مسلسل آٹھ سورتیں مکی ہیں ۔ ان مکی سورتوں کے مضامین بھی آپس میں ملتے جلتے ہیں۔
یہ سورة مبارکہ ہجرت سے دو یا تین سال پہلے نازل ہوئی ۔ بعض مفسرین اس کا زمانہ نزول سورة النساء سے آٹھ سال پہلے متعین کرتے ہیں ۔ سورة نساء پانچ یا چھ ہجری میں نازل ہوئی تو اس لحاظ سے بھی اس سورة کا نزول ہجرت سے تقریباً تین سال پہلے بنتا ہے۔ واللہ اعلم۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ کے مضامین بھی زیادہ تر عقائد سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جن میں توحید ، رسالت ، معدد اور قرآن پاک کی حقانیت و صداقت شامل ہیں ۔ یہ اسلام کا ابتدائی دور تھا اور اس میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے عقائد اور اخلاق کی درستی پر زیادہ دیا ہے ۔ کیونکہ اگر عقیدہ ہی درست نہ ہو تو اللہ کی بارگاہ میں کوئی عمل قبول نہیں ہوتا ۔ اگرچہ تمام مکی سورتوں میں یہی بنیادی مضامین بیان ہوئے ہیں تا ہم بعض سورتوں میں کسی ایک مضمون پر زور دیا گیا ہے ۔ جب کہ دوسری سورة میں دوسرے مضمون کو زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر روئے سخن کفار کی طرف سے رسالت پر اعتراضات کی طرف ہے جس کا اللہ نے جواب دیا ہے اس سورة کا ایک خاص مضمون اللہ کے بندوں کے اوصاف ہیں جو اس کے آخری رکوع میں بیان ہوئے۔
با برکت ذات خداوندی
ارشاد ہوتا ہے تبرک الذی بڑی برکت دینے والی ہے وہ ذات یہ الفاظ بعض سورتوں کی ابتداء میں اور بعض کے آخر میں ذکر کیے گئے ہیں اور اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ وارفع ذات کا ذکر کر کے اس کی بعض صفات کا تذکرہ ہوتا ہے ۔ برکت کا عام فہم معنی زیادتی ہوتا ہے ، تا ہم امام رازی اور تمام شارحین اس بات پر متفق ہیں کہ ہر قسم کی زیادتی کا نام برکت نہیں بلکہ برکت ایسی زیادتی ہے جس میں تقدس کا مفہوم پایا جائے ۔ گویا جس چیز میں معجزے یا کراہت کے طور پر اضافہ ہوجائے تو ہم کہیں گے کہ یہ چیز برکت والی ہے ۔ مسیح (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کی گود میں کہا تھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، اللہ نے مجھے کتاب دے کر بھیجا ہے ، مجھے نبی بنایا ہے وجعلنی مبرکا (مریم : 3) اور مجھے با برکت بنایا ہے ۔ دوران سفر پانی ختم ہوگیا ۔ تمام صحابہ ؓ اور جانور مشقت میں پڑگئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کسی کے پاس پانی کا ایک پیالہ
(1 ؎ تفسیر بسیر ص 24 ج 42 (فیاض)
ہو تو لے آئے ، ایک پیالہ پانی آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ آپ نے اپنا ہاتھ مبارک اس پیالے میں رکھا تو انگلیوں کے نیچے سے پانی کے سوتے پھوٹنے لگے ۔ پانی جوش مار کر اوپر آ رہا تھا جسے تمام صحابہ ؓ نے پیا ، اونٹوں نے پیا حتیٰ کہ مشکیزے بھر لیے گئے ، پھر آپ نے پیالے سے ہاتھ نکالا تو وہ اسی طرح پانی سے لبا لب تھا۔ مطلب یہ کہ معجزے یا کرامت کے طور پر کسی چیز میں جو زیادتی آجاتی ہے اسے برکت کے ساتھ موسوم کیا گیا ہے۔
تو فرمایا برکت دینے والی ذات خداوند ہے ۔ اگر ہم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص کی عمر میں برکت عطا کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص تھوڑی عمر میں بھی زیادہ کام انجام دے لے ۔ بعض آدمیوں کی کارکردگی پر حیرت ہوتی ہے کہ اتنی مختصر زندگی میں اتنے بڑے بڑے کام کیے انجام دے لیے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ جب کسی کام میں برکت عطا کرتا ہے تو تمام مشکلات آسان ہوجاتی ہیں اور انسان بڑے سے بڑا کام بھی انجام دے جاتا ہے۔
کمال عبدیت
فرمایا برکت دینے والی ذات فقط ذات ِ خداوندی ہے اور یہ وہی ذات ہے نزل الفرقان علی عبدہ جس نے فیصلہ کن کتاب یعنی قرآن پاک نازل فرمایا ۔ یہ کتاب اس لیے فرقان ہے کہ یہ حق و باطل جائز اور ناجائز ، حلال اور حرام ، صحیح اور غلط کے درمیان فیصلہ کرتی ہے ۔ یہ ہر چیز کو اس طرح کھول کر بیان کرتی ہے کہ کوئی شبہ باقی نہیں رہتا ۔ اور یہ اتاری ہے اس نے اپنے بندے پر اس بندہ سے مراد کامل اور اکمل بندہ حضور ﷺ کی ذات مبارکہ ہے کہ کمال عہدیت کی بناء پر جن کا لقب عہد ہے۔ حضور ﷺ نے فرما ای انی عبد اللہ فقولوا عبد اللہ ورسولہ ، لوگو ! میں اللہ کا بندہ ہوں لہٰذا مجھے اللہ کے بندے اور اس کے رسول کے نام سے ہی پکارا کرو ۔ فرمایا عیسائیوں کی طرح میری ذات میں مبالغہ نہ کرنا کہ مجھے الوہیت کے درجے پر پہنچا دو اور اس طرح شرک میں مبتلا ہو جائو گے۔ الغرض ! عبدیت تمام کمالات میں سے بلند ترین
(1 ؎۔ ترمذی مع شمائل ص 495 (فیاض)
کمال ہے جس کے ساتھ اللہ نے حضور خاتم النبین ﷺ کو موصوف فرمایا ہے ۔ تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فیصلہ کن کتاب کو اپنے کامل بندے پر نازل فرمایا۔
نزول قرآن کی غایت
فرمایا : اللہ نے اس فرقان کا نزول اس لیے فرمایا ہے لیکون للعلمین نذیراً تا کہ وہ بندہ تمام اقوال عالم کے لیے ڈر سنانے والاہ و جائے ۔ لوگوں کو ان کے برے انجام سے خوفزدہ کر دے۔ انداز و بیشتر ہر نبی کے مشن میں شامل ہے۔ اللہ کو ہر پیغمبر اپنی امت کے اچھے کاموں پر انہیں خوش خبری دیتا ہے اور برے کاروں کے انجام سے ڈراتا ہے ۔ سورة یونس کی ابتداء میں ہے کہ کیا لوگوں کو یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرا دے اور اہل ایمان کو خوشخبری سنا دے ان لھم قدم صدق عند ربھم ( آیت : 2) کہ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سچائی کا پایہ ہوگا ۔ اور جو کفر ، شرک ، نفاق اور معاشی کا ارتکاب کرینگے اس کا نتیجہ خدا تعالیٰ کی گرفت کی صورت میں نکلے گا ۔ اسی لیے فرمایا کہ نزول کتاب کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کا نبی لوگوں کو ان کے برے انجام سے خبردار کر دے۔
توحید خداوندی
آگے فرمایا : وہ ذات خداوندی وہ ہے الذی لہ ملک السموات والارض جسکی بادشاہی آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور وہ ایسا پروردگار ہے ولم یتخذ ولداً جس نے کوئی بیٹا نہیں بنایا۔ نہ حقیقی اور نہ مجازی ، حقیقی بیٹا باپ سے جنسیت میں مشابہ ہوتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ جنسیت سے پاک ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کا حقیقی بیٹا ہونا محال ہے۔ ویسے بھی خدا تعالیٰ کا فرمان ہے لم یلدہ ولم یولد ( الاخلاص : 3) نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ کسی سے جنا گیا ہے یعنی نہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی باپ ، جہاں تک مجازی بیٹے کا تعلق ہے ۔ قرآن نے عیسائیوں کا یہ عقیدہ بیان کیا ہے وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ ( الانبیائ : 62) وہ کہتے ہیں کہ خدائے رحمان نے بیٹا بنا لیا ہے حالانکہ وہ تو پاک ہے ، کہتے ہیں اللہ نے مسیح (علیہ السلام) کو اختیارات تفویض کردیئے ہیں کہ وہ لوگوں کی حاجات پوری کریں ۔ اللہ نے ان پر الوہیت کی چادر ڈال دی ( استغفر اللہ) یہ سب شرکیہ عقائد ہیں ، جن کی اللہ نے تردید فرمائی ہے۔
بہر حال فرمایا کہ اللہ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا ولمہ یکن لہ شریک فی الملک اور نہ ہی اس کی بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے۔ وخلق کل شی اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے فقد رہ تقدیر اور اسے ایک خاص اندازے سے مطابق مقرر کیا ہے لہٰذا کسی چیز میں کوئی نقص یا عیب نہیں ہے۔ بلا شبہ جو چیز اللہ کی تقدیر سے کائنات میں ظاہر ہوگی ۔ اس میں کوئی نقص نہیں ہوگا بلکہ وہ بہترین شے ہوگی ۔ بزرگوں کا مقولہ ہے جیسے کہ امام غزالی نے کہا ہے لیس ابدع مما کان کائنات میں جو چیزیں وقع ہوتی ہے ان سے عمدہ کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے معرض وجود میں آئی ہے۔ اس نے ہر چیز کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کر رکھا ہے اور ہر چیز کی تقدیراسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔
اس کے باوجود انسان اتنے ظالم ہیں واتخذو ا من دونہ الھۃ کہ انہوں نے اللہ کے سوا وسرے معبود بنا لیے ہیں یہ غیروں کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں ، دوسروں کی عبادت کرتے ہیں ۔ ان کو نافع وضار سمجھ کر ان کی نذریں دیتے ہیں ۔ کوئی فرشتوں اور جنات کی پوجا کرتے ہیں اور کوئی قبروں والے اولیاء اللہ سے مرادیں پوری کرواتے ہیں ۔ گویا لوگوں نے شرک کے مختلف راستے بنا رکھے ہیں جن کے ذریعے وہ دوسروں کو خدا کے منصب پر فائز کرتے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے معبود جبری سفارش کر کے ان کے کام کروا دیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی سفارش کو رد نہیں کرتا ، بعض لوگوں نے یہ باطل عقیدہ بنا رکھا ہے کہ ہم ان کو راضی کریں گے تو اللہ ہم سے راضی ہوجائے گا ۔ لہٰذا ان کی تذر و نیاز کرنا ضروری ہے ۔ بعض اپنے اور خدا تعالیٰ کے درمیان واسطہ کی تلاش میں رہتے ہیں کہ ہماری تو وہاں تک رسائی نہیں درمیان میں کوئی ایسی ہستی ضروری ہے جو ہمیں وہاں تک پہنچا دے ۔ یہ سب کفریہ اور شرکیہ عقائد ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں ۔
صفت ِ تخلیق
اللہ نے فرمایا کہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں حالانکہ لا یخلقون شیئاً وہ کوئی چیز پیدا کرنے پر قادر نہیں وھم یخلقون اور وہ تو خود تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں ۔ سورة النحل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ افمن یخلق کمن لا یخلق ( آیت 71) بھلا پیدا کرنے والی ہستی اور نہ پیدا کرنے والے برابر ہو سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں کائنات کی ہر چیز خدا تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہے ۔ انسان ، روح ، جبرئیل ، شیاطین سب مخلوق ہیں اللہ خالق کل شی ( الزہر : 36) ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔ اللہ کے سوا ہر چیز مخلوق ہے ۔ جو پیدا نہیں کرسکتے وہ الٰہ کیسے ہوسکتے ہیں ، لہٰذا غیر اللہ کو معبود سمجھ کر ان سے حاجت براری کرانا کتنی حماقت کی بات ہے۔ مصب یہ کہ صفت ِ تخلیق بھی اللہ کے سوا کسی دوسری ذات میں نہیں پائی جاتی۔
نفع نقصان کا اختیار
فرمایا کہ اللہ کے سوا دوسروں کی حالت تو یہ ہے کہ ولا یملکون لا نفسھم ضرا ولا نفعاً وہ تو اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں مگر لوگ پھر بھی ان کی حاجت روا اور مشکل کشا تسلیم کرتے ہیں ولا یملکون موتاً و لا حیوۃً و ہ تو موت وحیات کے مالک بھی نہیں ہیں نہ کسی کو زندگی بخش سکتے ہیں اور نہ کسی کو موت دے سکتے یہ ۔ یہ اختیارات بھی اللہ وحدہٗ لا شریک کے پاس ہیں ۔ ولا نشورا اور یہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر نہیں ہیں ۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ہی سب کو فنا کرے گا اور پھر وہی سب کو دوبارہ زندہ کر کے حساب کتاب کے لیے اپنے سامنے لا کھڑا کرے گا ۔ اس کے سوا اور کون سی ذات ہے جو یہ کام کرسکے ۔ اور ظاہر ہے کہ جو ذات مذکور امور میں سے کوئی کام بھی کرنے پر قدرت نہیں رکھتی ۔ وہ الٰہ کیسے ہو سکتی ہے ؟ معبود بر حق تو وہی ہے جو خالق مالک ، مختار ، نافع ، ضار ہے ۔ وہ جس کو چاہتا ہے نفع پہنچاتا یہ اور جس کو چاہتا ہے نقصان پہنچاتا ہے ، وہی مشکلیں حل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی کے پاس کوئی اختیار نہیں ، لہٰذا اس کے سوا کوئی معبود بھی نہیں ہوسکتا ۔
Ayahs 25:4–9ربط آیات
برکات دینے والی ذات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نازل فرمایا ہے جو کہ ایک فیصلہ کن کتاب ہے۔ اس کے نزول کی غایت یہ ہے کہ اللہ کا کامل ترین بندہ اور اس کا آخری رسول اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو ڈرانے والا بن جائے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی آسمان و زمین پر محیط سلطنت کا ذکر بھی ہو۔ اللہ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا کہ وہ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں ۔ حالانکہ وہ بےاختیار ہیں ، نہ تو وہ کوئی چیز تخلیق کرسکتے ہیں اور نہ نفع نقصان کے مالک ہیں ، یہ کس قدر ظلم و زیادتی کی بات ہے۔
قرآن پاک پر اعتراض
سورۃ کے اس ابتدائی تمہیدی بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی طرف سے قرآن پاک پر کیے جانے والے اعتراضات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وقال الذین کفروا یہ کافر لوگ کہتے ہیں لا ھذا الا افک افتراتہ یہ تو محض ایک جھوٹ ہے۔ جسے اس (رسول) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے کفار و مشرکین کی طرف سے ایسے بیہودہ اعتراضات کا ذکر سورة یونس اور بعض دیگر سورتوں میں بھی موجود ہے۔ وہ لوگ قرآن پاک کو اللہ کا کلام تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے ، اس لیے طرح طرح کے اعتراضات کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اعتراضات کے جوابات بھی دیئے ہیں ، مثلاً ایک مقام فر مایاقُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ (ہود : 53) اے پیغمبر ! آپ ان کو بتا دیں کہ اگر تمہارے بقول اس قرآن پاک کو میں نے کھڑا ہے تو پھر اس کا گناہ بھی مجھ پر ہی ہوگا ۔ اس کا ذمہ دار میں ہوگا ۔ البتہ تم اپنی فکر کرو کہ تم کیا کر رہے ہو۔ دوسری جگہ فرمایا کہ تم اس قرآن کو من گھڑت کہتے ہوفاتوا بسورۃ مثلہ ( یونس : 13) تم اس جیسی ایک سورة تو بنا کر لائو ، پھر پتہ چل جائے گا کہ کیا واقعی یہ انسان کا کلام ہے یا حقیقت میں خدا تعالیٰ کا کلام ہے جس کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی ۔ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی صفت ہے جسے اس نے اپنے علم اور مشیت کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔
افک گھڑی ہوئی بناوٹی بات کو کہتے ہیں ، کسی پر جھوٹ کا طومار باندھ دیا گیا ہو ۔ پچھلی سورة نور میں واقعہ افک گزر چکا ہے جس میں منافقوں نے حضرت عائشہ ؓ پر افتراء باندھا تھا اور پھر اس کی خوب تشہیر بھی کی تھی ۔ اسی طرح قرآن پاک کے متعلق بھی یہ لوگ کہتے تھے کہ محض جھوٹ ہے ۔ من گھڑت ہے ۔ اس کو وضع کرنے میں داعانہ علیہ قوم اخرون بعض دوسرے لوگوں نے اللہ کے نبی کی مدد ہے۔ اس کو بعض اوقات 1 ؎ (معالہ التزیل ص 98 ج 3 ( فیاض) یہود و نصاریٰ کی طرف منسوب کرتے تھے کہ حضور ﷺ ان سے مل کر یہ باتیں سیکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس پرانی کتابوں کا کچھ علم موجود تھا۔ بعض اس کو ایرانی ، رومی ، اور بعض قدیم عراقی زبان بولنے والے غلاموں کی طرف منسوب کرتے تھے۔ کہ یہ لوگ اللہ کے نبی کے کچھ باتیں بتاتے ہیں جنہیں آپ قرآن بنا کر پیش کردیتے ہیں ۔ جبر الیار ، عارس وغیرہ بعض غلام تھے مگر وہ تو بیچارے عربی زبان سے ہی ناواقف تھے ، ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ قبیح بلیغ عربی میں ایسا کلام پیش کریں جس کی نظیر عربی زبان کے بڑے بڑے شاعر اور ادیب بھی نہ پیش کرسکیں ، فرمایا ان لوگوں کا اعتراض بالکل لغو ہے حقیقت میں فقد جاء وظلمات وزورا یہ مشرک لوگ بہت بڑا ظلم اور جھوٹ لانے ہیں جو قرآن کو خود ساختہ کلام کہتے ہیں یہ بڑے بےانصاف لوگ ہیں جو صریح جھوٹ بول رہے ہیں۔
پھر فرمایا ، وہ یہ بھی کہتے ہی وقالواساطین الاولین کہ یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ۔ اکتبہا جنہیں اس شخص نے لکھ لیا ہے اور پھر ہمیں سناتا رہتا ہے ، ظالم مشرک حضور ﷺ کہتے کہ تم ہمیں اقوام عاد اور ثمود کے قصے سناتے ہو ، آئو ہم تمہیں ایران کے مہمند اور اسفندیار کے افسانے سناتے ہیں ، وہ تمہارے افسانوں سے بھی دلچسپ ہیں ( العیاذ اللہ) بہر حال انہوں نے کہا کہ یہ پہلے لوگوں کے واقعات ہیں فھی تملی علیہ بکرۃ واصیلا جو اس شخص پر صبح و شام پڑھے جاتے ہیں ۔ اور پھر یہ انہیں وحی الٰہی کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کردیتا ہے۔
اللہ کی طرف سے جواب
اس بیہودہ اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ یہ قرآن پاک نہ عربوں کا بنایاہ ہوا ہے نہ عجمیوں کا وضع کردہ ہے بلکہ انزلہ الذی یعلم انس فی السموات والارض یہ تو اس ذات پاک کا نازل کردہ ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز کو جانتا ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی ذہنیت کو بھی جانتا ہے اور ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جو لوگوں کی تہذیب وتربیت کے لیے ضروری ہے ، دوسری جگہ فرمایا نزل الکتب 1 ؎ (معالم التزیل ص 91 و تفسیر طبریٰ ص 28 ، ج 81 ( فیاض) و ھو یتولی الصلحین ( الاعراف : 691) یہ کلام خدا تعالیٰ نے ہی منزل کیا ہے اور نیکو کاروں کی سر پرستی اور کار سازی بھی وہی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ خالق فطرت ہے وہ علیم کل ہے ، لہٰذا انسانوں کی ضروریات اور قویل کی بارچیاں بھی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ اپنی کمال قدرت سے ایسے احکام اور قوانین نازل فرماتا ہے جو انسانوں کی فطرت و ضرورت کے عین مطابق ہوتے ہیں ۔
سورۃ النساء میں فرمایا ہے انزلہ بعلم آیت 61 اللہ نے اس کلام کو اپنے علم کی روشنی میں نازل فرمایا ہے۔ یہ من گھڑت کلام نہیں ہے بلکہ یہ تو تنزیل من رب العلمین ( الواقعہ :…) تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ انہ کان عفورحیم بیشک وہ ذت بڑی بخشش کرنے والی اور نہایت مہربان ہے وہ ایک طرف تو ظلم اور جھوٹے لوگوں کو بسا اوقات مہلت دیتا رہتا ہے اور دوسری طرف کسی کی بخشش کو مغفرت بھی ایک کرشمہ ہے ۔ وہ ایسی باتیں کرنے والوں کی فوراط گرفت بھی کرسکتا ہے مگر یہ اس کی مہربانی کا نتیجہ ہے کہ اس نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے قرآن کریم جیسی عظیم الشان کتاب نازل فرمائی ہے۔ جس میں ابرار و رموز معارف کے خزانے ہیں۔
پیغمبر خدا پر اعتراض
کفار کا پہلا اعتراض تو قرآن حکیم پر تھا کہ یہ نعوذ باللہ من گھڑت ہے ۔ اب دوسرا اعتراض پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات پر کیا وقالو مال ھذا الرسول یا کل الطعام و یمشی فی الاسواق کہنے لگے یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ ان کا زعم یہ تھا کہ جس نبی میں لوازمات بشر یہ پائے جائیں وہ رسول نہیں ہو سکتا ۔ وہ لوگ بشریت اور رسالت کو دو متضاد چیزیں سمجھتے تھے کہتے تھے۔ ہماری طرح کھاتا پیتاپھرتا ہے ، مگر رسالت کا دعویٰ کرتا ہے ۔ یہ لوگوں کی پرانی بیماری ہے۔ قوم ثمود نے بھی یہی کہہ کر صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔
بشر منا واحد نتیعۃ ( القمر : 41) کیا ہم اپنے میں سے ایک بشر کو اتباع کریں ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ حضور خاتم النبین ﷺ کے بارے میں بھی کافر و شرک یہی کہتے تھے کہ یہ تو ہمارا جانا پہچانا انسان ہے ہم اس کو کیسے رسول تسلیم کرلیں ۔ اگر اللہ کسی کو رسول بنا کر بھیجات تو وہ کوئی فرشتہ ہوتا جو نہ کھاتا پیتا ، نہ اس کے بیوی بچے ہوتے اور نہ دیگر انسانی لوازمات اس میں پائے جاتے۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء میں پائے جانے والے لوازمات بشری ہی ان کی اقوام کے لیے پردہ بن گئے ۔ انہوں نے خلاف نبوت سمجھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں چونکہ انسانوں کی اصلاح مطلوب تھی ۔ اس لیے اللہ نے انسانوں ہی ک رسول بنا کر بھیجا یہ مضمون اللہ نے قرآن پاک میں مختلف عنوانات سے وسیع پیمانے پر بیان فرمایا ہے اگر اللہ تعالیٰ کسی فرشتے کو رسول بنا کر زمین پر بھیج دیتا تو عام انسان اس سے کیسے مستفید ہو سکتے تھے ؟ انسان کسی غیر جنس سے ہدایت حاصل نہیں کرسکتا ۔ اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے انسانوں کی ہدایت کے لیے جن شخصیات کو منتخب فرماتا ہے ۔ ان کو امتیاز بخشتا ہے۔ وہ معصوم عن الخطاء اور اخلاقی لحاظ سے بہت بلند ہوتے ہیں ۔ وہ لوگ امت کے لیے بطور نمونہ ہوتے ہیں ، مگر ہوتے انسان ہی ہیں ۔ ان میں تمام لوازمات بشری پائے جاتے ہیں ۔ عام انسانوں کی طر ح انہیں بھی بھوک پیاس لگتی ہے ، وہ بھی کھاتے پیتے ہیں ۔ ان پر بیمار ی اور تندرسی بھی آتی ہے ان کے بیوی بچے بھی ہوتے ہیں اور یہ چیزیں منصب نبوت کے خلاف نہیں ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کے جسم مبارک کو ہاتھ سے چھو کر کہا کہ حضور ! آپ کو تو شدید بخار ہے ۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہاری نسبت مجھے دگنا بخار آتا ہے۔ ابن مسعود ؓ نے (1 ؎۔ النور الکبیر ص 11 (فیاض) عرض کیا ، حضور ! پھر آپ کو اجر بھی تو بڑا بنتا ہے۔ فرمایا : یہ بھی درست ہے۔ غرضیکہ پیغمبر دوسرے لوگوں کی طرح زخمی بھی ہوتا ہے ، وہ ہنستا اور روتا بھی ہے اس کی بیوی بھی ہوتی ہے کسی کی صرف بچیاں اور کسی کے صرف بچے اور کسی کے بچے اور بچیاں دونوں ہوتے ہیں ۔ اور وہ نوع انسانی سے خارج نہیں ہوتے علم کلام کی کتابوں میں نبی کی تعریف ہی یہ کی گئی ہے۔ ھو انسان بعثہ اللہ لتبلیغ ما او حاہ اللہ الیہ نبی ایک انسان ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اس چیز کی تبلیغ کے لیے مبعوث فرماتا ہے جو اس کی طرف وحی کی جاتی ہے ۔ مطلب یہ کہ نوع انسانی کو ایک انسان ہی ہدایت دے سکتا ہے۔ انسان کسی غیر جنس سے استفادہ حاصل نہیں کرسکتے۔
…کی امتیازی نسبت
تمام انبیاء و رسل میں انسانی لوازمات ہونے کے باوجود عام انسانوں پر انہیں دینی اور اخلاقی اعتبار سے امتیاز حاصل ہوتا ہے۔ نبی عام انسانوں کی نسبت معصوم ہوتا ہے ۔ اللہ کی طرف سے اسے گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ اس سے کوئی گناہ سر زد نہیں ہونے دیا جاتا ۔ البتہ صحابہ کرام ؓ اور اولیاء اور صلحاء گناہ سے محفوظ ہوتے ہیں ۔ معصوم نہیں ہوتے ۔ پھر وحی الٰہی سب سے بڑا اعزاز ہے۔ جو انبیاء کو حاصل ہوتا ہے کسی غیر نبی پر وحی نہیں آتی ۔ انبیاء میں کامل درجے کی عبودیت ہوتی ہے ۔ وہ کمال درجے کے عبادت گزار اور کمال اخلاص کے مالک ہوتے ہیں ۔ ان کے اعمال میں بڑا وزن ہوتا ہے۔ البتہ ہوتے انسان ہی ہیں ۔ ان پر بھی زندگی اور موت اسی طرح وارد ہوتی ہے۔ جیسے دوسرے انسانوں پر ہوتی ہے۔
عیسائیوں نے مسیح (علیہ السلام) کو اس لیے خدا کا بیٹا کہہ دیا کہ آپ کا باپ نہیں ہے۔ اگر عقیدہ انبسیت کا یہی معیار ہے تو پھر وہ آدم (علیہ السلام) کے متعلق ایسا عقیدہ کیوں نہیں رکھتے جن کا نہ باپ ہے اور نہ ماں ہے ابراہیم (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کو عیسائی بھی انسان مانتے ہیں مگر مسیح (علیہ السلام) کو الوہیت کا درجہ دینے کے لئے انہیں خدا کا بیٹا کہہ دیا ، یہ کتنی زیادتی کی بات ہے۔ وہ اللہ کے بندے اور انسان تھے اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت کے مطابق جس طریقے سے چاہا ان کو پیدا فرما دیا ۔
بازاروں میں جانا
مشرکوں کا عقیدہ یہ تھا کہ بازاروں میں چلنا پھرنا عیب ہے۔ اسی لیے تو وہ بازاروں میں جانے والے رسول کو رسول ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ سودا سلف لانے یا کسی اور اچھے کام کے لیے بازار میں جانا کوئی عیب کی بات نہیں ہے ۔ تا ہم یہ بات درست ہے کہ مساجد کی فضلیت بازاروں کے مقابلے میں تو اپنی جگہ مسلم ہے۔ مسجدوں میں اللہ کی عبادت ہوتی ہے ، انہیں صاف ستھرا رکھا جاتا ہے ۔ جب کہ بازاروں میں بعض اوقات دھوکہ ، فریب ، وعدہ خلافی ، ما پ تول میں کمی بیشی کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں ۔ تا ہم جائز کام کے لیے بازار جانا ممنوع نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے اپنے شاگرد سے فرمایا ، چلو بازار چلیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ نے کوئی سودا سلف تو خریدنا نہیں ، پھر وہاں جانے کا کیا فائدہ ؟ آپ نے فرمایا : بیوقوف ! ہم بازارجا کر لوگوں کو سلام کرتے ہیں تو ہمیں نیکیاں حاصل ہوتی ہیں ۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ برکاتہ کہنے سے تیس نیکیاں تو حاصل ہوگئیں ۔ چلو چلتے ہیں ۔ واپس آ کر پھر درس و تدریس میں مصروف ہوجائیں گے۔ غرضیکہ نیک کام کے لیے بازار جانا کوئی عیب کی بات نہیں ۔ البتہ بلا ضرورت یا کسی غلط مقصد کے لیے بازار جانا یقینا گناہ کا باعث ہوگا ۔ اور غلط کام اگر مسجد میں بھی کرے گا تو وہ غلط ہی ہوگا ۔ بلکہ بازار کی نسبت دگنا گنا لازم آئے گا ۔
معترفین کا تصور رسالت
کفار و مشرکین کی نبوت و رسالت پر یہ اعتراض بھی کرتے تھے لو لا انزل لیہ ملک فیکون معہ نذیر اللہ کے نبی کے ساتھ ایک فرشتہ کیوں نہیں اترتا جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہے اور لوگوں کو بتائے کہ یہ اللہ کا رسول ہے ، نیز وہ لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائے اس اعتراض کا جواب اللہ نے سورة الانعام میں دیا ہے۔ اللہ اعلم خیث یجعل رسلت ( الانعام : 521) وہ خوب جانتا ہے کہ رسالت کو کہاں رکھ رہا ہے ۔ وہ انسانوں کی استعداد اور صلاحیت کے مطابق ہی منصب رسالت کے لئے انتخاب کرتا ہے۔ نبوت و رسالت کسی کو خواہش اور کوشش سے نہیں ملتی بلکہ یہ تو اللہ کی مہربانی ہوتی ہے۔ فرمایا اگر ان کی خواہش کے مطابق ہم کسی فرشتے کو نبی بناکر بھیجتے تو اس کی دو ہی صورتیں تھیں ۔ یا تو فرشتہ انسانی شکل میں آتا یا اپنی ہی شکل میں ۔ اگر وہ انسانی شکل میں آتا تو پھر بھی وہی اعتراض ہوتا کہ یہ انسان ہے ہم اس کی پیروی کیوں کریں ؟ اور اگر فرشتہ اپنی اصل شکل میں نازل ہوتا تو انسان اس کی تاب نہ لاسکتے اور فوراً ہلاک ہوجاتے ، لہٰذا انسانوں کا فرشتوں سے مستفید ہونا کسی طور پر ممکن نہیں ۔ انسانوں کی رہنمائی کے لیے انسان کا رسول ہونا ہی قابل عمل ہے۔
کفار و مشرکین کہنے لگے اگر نبی کے ساتھ فرشتہ نازل نہیں ہوا تو کم از کم اتنا تو ہوتا کہ او یلقی الیہ کنز ص اس پر کوئی خزانہ اتارا جاتا اللہ کا رسول مالدار آدمی ہوتا۔ اس کے نوکر چاکر ہوتے ، عالیشان مکان ہوتا تو پھر بھی ہم سمجھتے کہ یہ اللہ کا رسول ہے۔ مکہ والوں نے بھی یہ کہا تھا کہ ہم اس یتیم کو کیسے نبی تسلیم کرلیں گے۔ اگر وحی کا نزول مکہ یا طائف کے کسی بڑے سردار پر ہونا تو ہم مان بھی لیتے ۔ کہتے او تکون لہ جنت یا کل منھا یا اس کا کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا پیتا ، پھر بھی ہم کہتے کہ یہ کوئی بڑا آدمی ہے۔ وحی کا نزول اس پر ممکن ہے ، مگر نبوت کے اس دعویدار کے پاس تو کچھ بھی نہیں ۔ لہٰذا ہم اس کی رسالت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اس کے برعکس وقال الظلمون ان تتبعون الا رجلاً مسحوراً ان ظالم لوگوں نے کہا کہ تم تو ایک سحر زدہ آدمی کی پیروی کر رہے ہو ۔ اس پر تو جادو کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے ( نعوذ باللہ) اس کے حواص درست نہیں ہیں ، تم اس کے پیچھے کیسے لگ رہے ہو ؟ اس قسم کی بیہودہ باتوں کے ذریعے منصب رسالت پر اعتراض کرتے تھے۔
معترضین کی گمراہی
اللہ نے فرمایا انظر کیف ضربوا لک الامثال اے پیغمبر ! آپ دیکھیں کہ ان بد بختوں نے آپ کے لیے کیسی کیسی مثالیں بیان کی ہیں ۔ یہ لوگ اپنے باطل عقائد کی وجہ سے فضلوا گمراہ ہوچکے ہیں ۔ اور گمراہی میں اس قدر دور جا پڑے ہیں فلا یستطیعون سبیلاً کہ راہ راست پر چلنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہوچکے ہیں ۔ یہ اسی زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ انسان رسول نہیں ہو سکتا گویا بشریت منصب نبوت کے منافی ہے۔ یہ بد نصیب لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے اپنے نبی کو کتنا مال اور شرف بخشا ہے ۔ اس کا اخلاق کتنا پاکیزہ ہے اور اس کا کردار کتنا بلند ہے۔ نبی کے اخلاق و کردار پر مخالف ترین آدمی بھی کبھی انگلی نہیں اٹھا سکتا ۔ یہ لوگ دنیا کے مال و دولت کو لازمہ نبوت سمجھ رہے ہیں ۔ جو کہ بالکل غلط اور گمراہی کا باعث ہے۔
آج بھی دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ہدایت کو مال و دولت کے پیمانے سے ماپتے ہیں ۔ یہی دولت مندی ہے جو انسانوں کی گمراہی کا سبب بنتی ہے اللہ کے رسول 1 ؎ (مسلم ص 48 ج 1 (فیاض) نے فرمایا بد الاسلام غریب و سیعود کما بد ا دین اسلا م کی ابتداء غریبوں سے ہوئی اور آخر میں بھی یہ غریب طبقے میں سمٹ کر رہ جائے کا ، اکثر نچلے اور درمیان طبقے کے لوگ ہی ہدایت قبول کرتے ہیں اور دنیاوی اعتبار سے اعلیٰ درجے کے لوگ کم ہی اس طرف آتے ہیں ۔ البتہ جب مجبور ہوجائیں تو پھر ان کا دین کی طرف آنا ممکن ہوجاتا ہے ابو سفیان کی مثال آپ کے سامنے ہے۔ بیس سال تک مسلمانوں کے خلاف زور آزمائی کرتے رہے فتح مکہ پر جب کوئی صورت باقی نہ رہی تو اسلام قبول کرلیا ۔ تا ہم بعد میں ان کی حالت بہت اچھی ہوگئی اور نبی کے ساتھ کمال درجے کی محبت کا ثبوت دیا۔
Ayahs 25:10–16حقانیات
گزشتہ آیات میں کفار و مشرکین کی طرف سے قرآن پاک کی حقانیت کے متعلق اعتراض تھا کہ یہ خود ساختہ ہے اور پرانے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں بلکہ خدائے علیم وخبیر کا نازل کردہ ہے۔ ان کا دوسرا اعتراض رسالت پر تھا کہ یہ کیسے نبی ہو سکتا ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا ہے۔ کہتے تھے کہ اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہونا چاہئے تھا جو اس کی تصدیق کرتا اور لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈراتا ۔ نیز یہ ہے کہ پیغمبر کے خزانے اور باغات ہونے چاہئیں ۔ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ لوازمات بشریت رسالت و نبوت کے مانع نہیں ہیں ۔ رسول بھی انسان ہی ہوتا ہے جو کھاتا پیتا اور تمام بشری تقاضے پورے کرتا ہے۔ البتہ وہ معصوم عن افطار اور تمام امت سے افضل ہوتا ہے۔ نبی کی مالی کمزوری بھی نبوت کے منافی نہیں ہوتی کیونکہ مال و دولت رسالت کا لازمی جزو نہیں ہے۔ اب آج کے درس میں ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو دنیا کا مال و متاع اور باغات و محلات بھی عطاکر سکتا ہے ، مگر متقیوں کو آخرت میں ملنے والے انعامات دنیا کے لوازمات سے بہت بہتر اور دائمی ہوں گے۔
نبی کے لیے دینی لوازمات
ارشاد ہوتا ہے تبرک الذی برسی برکت دینے والی ہے ۔ ذات خداوندی ان شاء جعل لک خیر ا من ذلک کہ اگر وہ چاہے تو بنا دے آپ کے لیے اس سے بہتر یہ مطلب یہ کہ کافر اور مشرک لوگ تو آپ کے لیے باغات ، کوٹھی ، خزانہ اور نوکر چاکر کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ تو ان چیزوں سے کہیں زیادہ آپ کو عطا کرنے پر قادر ہیں ۔ فرمایا جنت تجری من تحتھا الانھر وہ ایسے باغات عنایت کرسکتا ہے جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں ۔ صرف باغات ہی نہیں بلکہ وہ یجعل لک قصورا وہ آپ کو من پسند محلات بھی عطا کرسکتا ہے ۔ اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ۔ وہ نہ صرف جنت میں عالی شان محل دے گا ۔ بلکہ اس دنیا میں بھی عطا کرنے پر قادر ہے۔ معترضین کا اعتراض بیہودہ ہے کہ نبی کے پاس مال و دولت ، زر و جواہر ، باغات اور مکانات ہونے چاہئیں ، نبوت و رسالت کے لیے یہ چیزیں ضروری نہیں ہیں یہ تو اضافی چیزیں ہیں اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی حکمت کے مطابق عطا کرتا ہے ۔ نبی کے لیے تو علم و عصمت ، پاکیزگی اور اعلیٰ اخلاق واطوار کی ضرورت ہے جو اسے اس دنیا میں میسر آتے ہیں ۔ تا ہم اللہ کے نبی دنیا میں مصائب و تکالیف برداشت کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور آخرت میں بہتر اجر کے امیدوار ہوتے ہیں ۔ صحیح حدیث میں امام احمد اور امام ترمذی نے ابو امامہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پیش کش کی ان یجعل لی بطحاء مکۃ فھبا کہ اگر میں چاہوں تو میرے لیے مکہ کی پتھریلی زمین سونے کی بنا دی جائے ۔ میں نے اس پیش کش کے جواب عرض کیا ، پروردگار ! مجھے اس چیز کی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ اشبع یوما ً و اجوع یوماً میں ایک د پیٹ بھر کر کھائوں تو دوسرے دن بھوکارہوں ۔ اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ
(1 ؎۔ معالم التنزیل ص 91 و تفسیر …………)
………نے نقل کیا ہے کہ جب میں بھوکا ہوں گا قضر عت الیک تو تیرے سامنے گڑ گڑائوں گا اور جب پیٹ بھرا ہوا ہوگا حمد تک وشکر تک تو تیری تعریف بیان کروں گا اور تیرا شکر کروں گا ۔ بہر حال مجھے دنیا کے ان خزانوں اور مال کی ضرورت نہیں۔
حضور ﷺ کی انکساری
حضرت عائشہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک موقع پر ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور کہا کہ پروردگار آپ کو سلا م کہتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں ان شئت نبیاً عبدا او شدت نبیاً ملکاً یعنی اگر آپ چاہیں تو نبی اور اللہ کے عبادت گزار بن جائیں یا چاہیں تو نبی اور بادشاہ ہوں ۔ فرماتے ہیں کہ پاس ہی جبریل (علیہ السلام) بھی کھڑے تھے ، انہوں نے مجھے اشارے سے کہا کہ آپ تواضع والی بات پسند کریں چناچہ میں نے اس فرشتے سے کہا کہ میں نبوت اور عبدیت کا طلب گار ہوں مجھے بادشاہت کی ضرورت نہیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ جب کھانا تناول فرماتے تھے تو نہایت عاجزی کے ساھ بیٹھ کر کھاتے ۔ آپ نے کبھی ٹیک لگاکر کھانا نہیں کھایا ۔ آج کل کے طریقے کے مطابق نہ کبھی میز کرسی پر بیٹھ کر کھانا کھایا اور نہ کھڑے ہو کر بلکہ انکساری کے ساتھ بیٹھ کر ۔ آپ نے فرمایا اکل کمایا کل العبد میں تو اس طرح کھانا کھاتا ہوں جس طرح اللہ کا کوئی بندہ کھانا کھاتا ہے۔ حضرت عمر ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ آپ نے حضور ﷺ کے جسم مبارک پر چٹائی کے نشان دیکھے تو آبدیدہ ہو کر عرض کیا حضور ! قیصر و کسریٰ کے بڑے بڑے نافرمان تو عیش و عشرت میں زندگی بسر کر رہے ہیں جب کہ آپ اللہ کے برگزیدہ رسول ہو کر عسرت کا وقت گزار رہے ہیں ۔ حضور ﷺ نے پر جوش انداز میں فرمایا افی ھذا ایا ابن الخطاب اے ابن خطاب ( عمر ؓ آپ
(1 ؎۔ معالم التنزیل ص 98 ، 43 و خازن ص 45 ج 5 (فیاض)
اس قسم کے تصورات میں پڑے ہوئے ہیں ۔ ان آرام پسند لوگوں کی حالت تو یہ ہے کہ عجلت لھم طیبت فی الحیوۃ الدنیا ان کو ساری بھلائیاں اور عیش و آرام دنیا میں ہی دے دیا گیا ہے جب کہ آخرت میں یہ لوگ تہی دامن ہوں گے ۔ تو کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ ہم اہل ایمان کو بہتری کی ساری چیزیں آخرت میں نصیب ہوں اور یہ لوگ وہاں محروم ہیں ؟ آخرت میں ان لوگوں کے پاس کفر و شرک اور معاصی کے پلندوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ اگرچہ صحابہ کرام ؓ کو بعد میں اللہ نے بڑا مال و دولت بھی دیا مگر وہ ہمیشہ اس خیال میں متفکر رہتے تھے کہ کہیں آخرت کے ہمارے اجر میں کمی نہ آجائے ۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کثیر المال صحابی تھے اور بڑے فیاض بھی تھے ۔ ایک موقع پر آپ کے سامنے بہترین گوشت کے ساتھ کھانا آیا تو دیکھ کر رونے لگے حتیٰ کہ آپ سے کھانا ہی نہ کھایا گیا ۔ کہنے لگے کہ اتنی اچھی نعمتیں کھالوں تو قیامت والے خدا تعالیٰ کہیں یہ نہ کہہ دے کہ میں نے تمہیں ساری نعمتیں دنیا میں ہی دے دی تھیں اور اس طرح میں آخرت کے اجر سے محروم نہ رہ جائوں۔
وقوع قیامت کی تکذیب
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے پیغمبر (علیہ السلام) ! یہ کفار و مشرکین آپ کی کسی کمزوری یا خامی کی وجہ سے تکذیب رسالت نہیں کرتے بل کذبوابالساعۃ بلکہ در حقیقت انہوں نے وقوع قیامت کو جھٹلایا ہے جو شخص قیامت کا انکار کرتا ہے وہ احساس ذمہ داری سے قطعاً محروم ہوتا ہے ، کفر و شرک کی بنیاد عام طور پر احساس ذمہ داری سے محرومی ہوتی ہے۔ جب کسی شخص کو یہ وہم ہوجائے کہ اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی ، کوئی قیامت نہیں آئے گی ، نہ کوئی حساب کتاب کی منزل ہوگی ۔ اور نہ جنت دوزخ کا کوئی تصور ہے تو پھر انسان چھوٹ ہوجاتا ہے ۔ وہ کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتابل کہ جو چاہے آزادی کے ساتھ کرتا رہتا ہے ۔ نہ اسے اپنے کسی قول کا خیال آتا ہے اور نہ کسی عمل کی ذمہ داری کی طرف دھیان جاتا ہے ۔ فرمایا ایسے مادر پدر آزاد لوگوں کے لیے واعتدنا لمن کذب بالساعۃ بسعیر جنہوں نے قیامت کا انکار کیا ، بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے قیامت والے دن ان کا یہی ٹھکانہ ہوگا ۔ جس قیامت کی تکذیب کرتے تھے وہ ان کے لیے ابدی سزا کا موجب بن جائے گی ۔
دور معیوب کی چیخ و پکار
فرمایا اذا راتھم من مکان بعید جب وہ دوزخ ان کو دور سے دیکھے گی ۔ سمعوالھا تغیظ ورفیر تو وہ لوگ اس کے جوش اور چلانے کی آواز کو سنیں گے۔ یہ اتنی سخت اور غضبناک آواز ہوگی کہ دور سے ہی ناقابل برداشت ہوگی ۔ دوزخ کے جوش اور غیظ و غضب کے متعلق ابو وائل ؓ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ کہیں جا رہے تھے ۔ ایک بزرگ صحابی ربیع ؓ بھی ہمراہ تھے ۔ راستے میں لوہار کی دکان آئی ۔ جہاں لوہا آگ میں تپایا جا رہا تھا ۔ اس بھٹی کو دیکھ کر حضرت بیع کا حال تو خراب ہوگیا ۔ عذاب الٰہی کا نقشہ آنکھوں میں گھوم گیا ۔ اور قریب تھا کہ آپ بےہوش ہو کر گر پڑیں ۔ پھر آگے نہر کے کنارے پر ایک آتشیں بھٹی کو جوش مارتے ہوئے دیکھا ۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی زبا ن سے یہ آیت نکلی اذا راتھم۔۔ تفسظا وزفیر پھر آپ نے پلٹ کر دیکھا تو حضرت ربیع ؓ پر غشی طاری ہوچکی تھی ۔ وہ اس حال میں مستغرق ہوگئے کہ جب دنیا کی اس بھٹی کا یہ جوش و خروش ہے تو جہنم کا جوش و خروش کہ قدر تند و تیز ہوگا ۔ حضرت ابن مسعود ؓ دوپہر تک حضرت ربیع ؓ کے پاس بیٹھے ان کو ہوش میں لانے کا چارہ کرتے رہے مگر وہ ہوش میں نہ آئے اور اسی حالت میں ختم ہوگئے۔
فرمایا واذا القوا منھا مکانا ضیقا مقرنین جب دوزخی دوزخ میں کسی تنگ جگہ میں جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے۔
(1 ؎ تفسیر مواہب الرحمن 773 (فیاض)
دعوا ھنالک تبورا تو اس ہلاکت کو پکاریں گے اور کہیں گے ہائے ! ہماری ہلاکت و تباہی ۔ مسند احمد کی روایت 1 ؎
(1 ؎ مسند احمد ص ابن کثیر ص 13 ج 3 و معالم التنزیل ص 9 و قرطبی ص 8 ص 2 ابو دائودص 833 ج 2 ( فیاض)
میں آتا ہے کہ ابلیس کو دوزخ کی آگ کا لباس پہنایا جائے گا ۔ وہ اس لباس کو اپنے سر پر رکھ کر چیخ و پکار کریگا ۔ اور ہائے ہلاکت ، ہلائے ہلاکت کہتا ہوا دوڑے گا ۔ اس کے ساتھ اس کے ماننے والے بھی ہلاکت و تباہی کو پکاریں گے ۔ پھر ادھر سے جواب آئے گا ۔ لا تدعوا الیوم ثبورا واحدا آج صرف ایک ہلاکت کو نہ پکارو بلکہ وادعوا تبورا نثین بہت سی ہلاکتوں کو پکارو ۔ آج تمہیں ہر عملی کی علیحدہ علیحدہ سزا ملے گی ، لہٰذا تم پر بہت سی ہلاکتیں آئیں گی ، ان سب کو پکارو اور کسی ایک پر اکتفا نہ کرو۔
دوزخ میں تنگ جگہ میں ڈالنے کے متعلق بعض روایات میں آتا ہے کہ دوزخیوں کو کسی تنگ و تاریک مقام پر اس طرح ٹھونس دیا جائے گا ، جس طرح کسی پتھر میں کیل ٹھونک دیا جائے۔ اس کے علاوہ حشر کے دن کی تنگی بھی ہوگی ۔ اس لیے حضور ﷺ نے دعا 2 ؎ میں سکھا یا ہے اللھم انی اعوذ بک من ضیوالدنیا و ضیق یوم القیمۃ اے اللہ ! میں تیری ذات کے ساتھ دنیا اور قیامت کے دن کی تنگی سے پناہ چاہتا ہوں ۔ حشر کی تنگی کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ لوگوں کو پائوں ٹکانے کی جگہ بھی میسر نہیں آئے گی ۔ اوپر سے گرمی اور پسینہ ہوگا ، اور پھر دوزخ کی تنگی کا تو کیا کہنا ۔
متقیوں کے لیے انعامات
فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے اذلک خیر کیا یہ بات بہتر ہے کہ انسان جہنم کی تنگ و تاریک جگہوں پر جکڑ دیا جائے ؟ امر جنۃ الخلد التی و عد المتقون یا ہمیشہ کا باغ بہتر ہے جس کا وعدہ متقیوں سے کیا گیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی توحید کو ماننے والے اور کفر ، شرک ، اور معاصی سے بچنے والے لوگوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں اپنی رحمت کے مقا م جنت میں پہنچائے گا ۔ اور پھر ان کا بدلہ بھی یہ بتلایا کانت لھم جزاء و ومصیر اور یہی ان کا بدلہ اور لوٹ کر جانے کی جگہ ہوگی ۔ لھو فیہا مایشاءون وہاں ان کے لیے ہر وہ شے ہوگی جسے وہ چاہیں گے ۔ ہاں اپنی من مانی مرادیں پائیں گے۔ اور یہ نعمتیں عارضی نہیں ہوں گی اور نہ ختم ہوجانے والی ہوں گی خلدین جنتی لوگ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور ان کے انعامات بھی لازوال ہوں گے۔ وہاں سے نکلنے یا کسی نعمت کے ختم ہوجانے کا خطرہ نہیں ہوگا پھر فرمایا کان علی ربک وعدا مسئولاً اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم کے ساتھ یہ وعدہ اپنے ذمے لے رکھا ہے جو کہ پورا ہو کر رہے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اپنی رحمت کے مقام جنت میں ضرو ر پہنچائے گا ۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان آیت میں دونوں مقامات کا ذکر دیا ہے۔ قیامت کے منکرین کے لیے دوزخ کی تنگ ترین وادیاں ہوں گی اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب ہوگا ۔ اس کے بر خلاف متقین کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغات ہوں گے جہاں انہیں خواہش کے مطاق ہر چیز میسر ہوگی ۔ وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے۔ نہ وہاں سے نکال جائیں گے اور نہ کسی نعمت میں کمی آئے گی ۔ اللہ نے انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو لو ان دونوں مقامات میں سے کون سا مقام بہتر ہے اور تم کس کو پسند کرتے ہو ؟ اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ اپنے عقیدے اور عمل کی بناء پر جونسا مقام چاہو منتخب کرلو۔