Ayahs 25:35–40ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے رسالت کے بارے میں اعتراضات کے جوابات دیئے اور ان کے برے انجام کا ذکر کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے نبی اور اس کے پیرواکروں کو تسلی بھی دی ۔ فرمایا منکرین توحید و رسالت کی طرف سے صرف آپ کو ہی ایذا نہیں پہنچائی گئیں بلکہ اللہ کے ہر نبی کے ساتھ دشمنوں نے ایسا ہی سلوک کیا ۔ آپ گھبرائیں نہیں بلکہ اپنا کام کرتے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دینے والا اور آپ کا مددگار ہے۔
کفارو مشرکین نے یہ اعتراض بھی کیا کہ قرآن پاک کو اللہ کے نبی پر یکمشت کیوں نہیں نازل کیا گیا ۔ حالانکہ سابقہ کتب کا یہ توریت ، انجیل و دیگرصحیفے انبیاء (علیہم السلام) پر بیک وقت نازل ہوئے۔ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ قرآن کے بتدریج نزول کا مقصد نبی کے دل کی پختگی اور آیات کا بتہ ضبط ہے۔ نیز اس ضمن میں معترضین جو شگاں وقتاً فوقتاً پیش کرتے ہیں ۔ ان کا جواب بھی ملتا رہتا ہے اور قرآن پاک کی بہتر تفسیر پیش ہوتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ اللہ نے نافرمانوں کے برے انجام کا کچھ تذکرہ بھی بیان فرمایا۔
اب آج کی آیات بھی پیغمبر (علیہ السلام) اور اہل ایمان کے لیے …کے ہیں ۔ اللہ نے بعض انبیاء اور ان کی قوموں کا حال ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں نافرمانوں کی ایک ہی روش ہی ہے لہٰذا اس بات سے گھبرانا نہیں چاہیے کہ اہل مکہ اللہ کے آخری نبی کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں ۔ حضور خاتم النبین (علیہ السلام) کے کچھ حالات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملتے جلتے ہیں ۔ ان کا واسطہ بھی ایک جابر شخص فرعون کے ساتھ تھا مگر اللہ کے اس عظیم نبی نے خدا کا پیغام دیا نامساعد حالات میں لوگوں تک پہنچایا ، ان کی ایذاء رسانیوں پر صبر کیا اور بالآخر اللہ نے فرعون اور اس کے حواریوں کو تباہ و برباد کیا ۔ پھر بعض دوسری اقوام کی تباہی کا حال بھی ذکر کیا گیا ہے اور اس طرح حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی دی گئی ہے کہ وہ صبر کا دامن نہ چھوڑیں ۔ بالآخر کامیابی و کامرانی انہیں کے حصے میں آئے گی۔ اور وہ دنیا اور آخرت دونوں مقامات پر سرخرو ہوں گے۔
موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
ارشاد ہوتا ہے ولقد اتینا موسیٰ الکتب اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا کی ۔ اللہ نے بڑا احسان کیا کہ بنی اسرائیل کے لیے تورات جیسی عظیم الشان کتاب نازل فرمائی۔ اللہ نے تورات کی تعریف قرآن میں بھی بیان کی ہے۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّنُوْرٌ ( المائدہ : 44) ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں مدت اور روشنی ہے ۔ اللہ کے بہت سے نبی اور نیک لوگ اس کتاب کی تعلیم دیتے رہے ۔ موجودہ بالیل میں پہلے پانچ بڑے باب تورات کا حصہ ہیں ۔ اس کے علاوہ چار انجیلیں ، زبور اور 93 صحائف ہیں۔
فرمایا : ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دی وجعلنا معہ اخاہ ھرون وزیرا اور ہم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا معاون بنایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے خود اللہ کی بارگاہ میں دعا کی تھی واجعل لی وزیرا من اھلی ھرون احی ( سورة طہٰ ) کہ میرے گھر والوں میں سے میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو میرا معاون بنا دے ، کیونکہ ھو افصح منی لسانا ( القصص : 43) وہ مجھ سے زبان میں زیادہ فصیح ہے ۔ تو اللہ نے ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ اور پھر قفلنا اذھبار الی القوم الذین کانوابایتنا ہم نے کہا کہ تم دونوں اس قوم کی طرف جائو جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے۔ اللہ کے نبیوں کو حکم ہوا کہ فرعون اور اس کے حوالوں کے پاس جا کر میرا پیغام ان تک پہنچائو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) دو قوموں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ ایک تو ان کی اپنی قوم بنی اسرائیل تھے اور دوسرے قطبی لوگ تھے جن کا بادشاہ فرعون تھا۔ بنی اسرائیل تو اس وقت فرعونیوں کے غلام تھے۔ اس لیے اللہ نے سب سے پہلے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس تبلیغ حق کے لیے بھیجا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے چالیس سال تک اللہ کا پیغام قوم فرعون کو پہنچایا مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ وہ بنی اسرائیل کو زیادہ تکلیفیں دینے۔ لگے کبھی موسیٰ (علیہ السلام) بات کرتے اور ہارون (علیہ السلام) ان کی تائید کرتے اور کبھی ہارون (علیہ السلام) حسب موقع بات کرتے۔ مگر فرعون بڑا جابر اور مستبد تھا ۔ اس پر اس وعظ کا کوئی اثر نہ ہوا ۔ پھر جیسا کہ دوسری سورتوں میں مذکور ہے موسیٰ علیہ السلا م اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کو لے کر راتوں رات بحر قلزم پر پہنچ گئے۔ جب فرعون کو پتہ چلا تو اس نے بمع لشکر بنی اسرائیل کا تعاقب کیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے لیے تو اللہ نے سمندر میں راستہ بنا دیا اور وہ دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔ مگر فرعون مع لائو لشکر اسی راستے پر سمندر کے عین وسط میں پہنچا تو اللہ نے فرمایا قدمو لھم تد میرا ہم نے ان کو جڑ بنیاد سے ہی اکھاڑ دیا ۔ اللہ نے پانی کو حکم دیا ، وہ آپس میں مل گیا اور ساری قوم و ہیں غر ق ہوگئی ۔ ان میں سے ایک فرد بھی باقی نہ بچا ۔ البتہ جو لوگ پیچھے مصر میں رہ گئے تھے۔ وہ بچ گئے اللہ نے اپنے نبی آخر الزماں کی توجہ ان حالات کی طرف دلائی ہے کہ دیکھو ہم نے مجرموں کو کس طرح صفحہ ہستی سے نابود کردیا ۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو مہلت دیتا رہتا ہے۔ پھر آخر ان کو گرفت میں لے لیتا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ آپ حوصلہ رکھیں آپ کے دشمن بھی ناکام ہوں گے اور کلمہ حق بھی بلند ہوگا۔
قوم نوح کی ہلاکت
فرمایا : ذرا قوم نوح کا حال بھی دیکھو وقوم نوح لما کذبوا الرسل جب قوم نوح نے رسولوں کی تکذیب کی اغرقنھم ان کو بھی ہم نے پانی میں ڈبو دیا ۔ یہاں پر رسل جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے حالانکہ اس وقت اللہ کے واحد نبی نوح (علیہ السلام) ہی ان کو اللہ کا پیغام سناتے تھے ۔ مفسرین کرام 1 ؎ فرماتے ہیں کہ امت تو ہر شخص کسی ایک نبی کی ہتا ہے ، مگر ایمان تمام انبیاء اور رسل پر لانا ضروری ہوتا ہے ۔ اسی طرح کسی ایک نبی کا انکار سارے انبیاء کے انکار کے مترادف ہوتا ہے ۔ قوم نوح نے اگرچہ نوح (علیہ السلام) کا انکار کیا تھا۔ ان کا جھٹلانا سارے رسولوں کا جھٹلانا ٹھہرا ۔ اس لیے یہاں پر جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ تمام انبیاء کا دین تو ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے ۔ جیسے مشہور 2 ؎
(1 ؎۔ قرطبی ص 12 ج 31۔ 2 ؎ ابن کثیر 611 ج 1 ۔ 3 ؎ تفسیر کبیر ص 2 ج 42 والسنہ ج المنیر ص 956 ج 3 ( فیاض)
حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان ہے نحن معشر الانبیاء الاود علات دینا واحد یعنی ہم انبیاء کا گروہ علاقی بھائی بھائی میں ہیں جن کا باپ اور مائیں مختلف ہوں ۔ ہمارا باپ یعنی دین تو سب کا ایک ہی ہے۔ البتہ ہماری مائیں یعنی شرائع مختلف ہیں ۔ جو دین آدم (علیہ السلام) کا تھا۔ وہی عیسیٰ (علیہ السلام) کا تھا اور وہی نبی آخرالزما ن حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ہے ۔
بہر حال جیسا کہ سورة ہود اور دیگر سورتوں میں موجود ہے نوح (علیہ السلام) کی ساڑھے نو سو سال تبلیغ کے باوجود چند گنتی کے آدمی ایمان لانے اور باقی ساری قوم نے آپ کو جھٹلایا جس کے نتیجے میں ان پر ہلاکت و تباہی آئی چالیس شب و روز تک آسمان سے موسلا دھار بارش برستی رہی اور نیچے سے زمین کے سوتے بھی پھوٹ پڑے اور اس طرح پانی کی اس قدر فراوانی ہوگئی کہ اونچی سے اونچی پہاڑی کے اوپر بھی بیس بیس فٹ تک پانی چلا گیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں نہ کوئی جانور بچ سکتا تھا اور نہ کوئی انسان سوائے ان کم و بیش اسی آدمیوں کے جو نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار ہوگئے تو فرمایا اس طر ح ہم نے ا ن کو پانی میں ڈبودیا وجعلنھم للناس ایۃ اور ان نافرمانوں کو ہم نے باقی لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا ۔ واعتدنا للظمین عذابا الیما اور ظلم کرنے والوں کے لیے ہم نے درد ناک عذاب بھی تیار کر رکھا ہے جو انہیں قیامت کو ملے گا ۔ ظلم میں ہر قسم کا ظلم وتعدی ، صنعائر ، کبائر ، حق تلفی ، چوری ، ڈاکہ ، زنا ، دھوکہ فریب آتا ہے ۔ تا ہم سب سے بڑا ظلم عقیدے کا ظلم کفر اور شرک ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا اعلان والکفرون ھم الظلمون ( البقرہ : 452) کفر کرنے والے بہت بڑے ظالم ہیں۔ نیز فرمایا ان الشیک لظلم عظیم ( لقمان : 31) شرک سے بڑا ظلم ہے ۔
عاد ثمود اور کنوئیں والوں کی تباہی
پھر فرمایا وعادا وثمود عاد اور ثمود اقوام کی ہلاکت کا حال بھی دیکھیں کہ ان کہ ہم نے کس طرح تباہ و برباد کیا ۔ ان قوموں کا حال سورة اعراف سورة ہود اور دیگر سورتوں میں مذکور ہے۔ واصحب الرس اور کنونیں والوں کو بھی اللہ نے ہلاک کیا ۔ یہ کنوئیں والے لوگ کون تھے ، کسی صحیح حدیث میں ان کے کوائف نہیں ملتے ۔ البتہ امام ابن 1 ؎
(1 ؎۔ تفسیر ابن جریر طبری ص 31 ج 9 ۔ 2 ؎۔ مظہر ص 92 ج 3 و معالم التزیل ص 39 ج 3 و خازن ص 001 ج 6
3 ؎۔ معالم التنزیل ص 39 ج 3 و خازن ص 101 ج 5 ۔ 5 ؎۔ معالم التنزیل ص 35 ج 3 و خازن ص 01 ج 5 ( فیاض)
جریر طبری (رح) نے کعب اخبار کی ایک ضعیف روایت نقل کی ہے جو قابل اعتماد نہیں بہر حال بعض کہتے ہیں کہ یہ قوم تہامہ کے مقام پر آباد تھی اور بعض 2 ؎ اسے یمن میں یمامہ کے باشندے بتاتے ہیں ۔ بعض 3 ؎ نے ان کا وطن شام کا مقام انطاکیہ بتایا ہے۔ مفسرین نے اس قوم کا ذکر اجمالی طور پر کیا ہے کہ اللہ نے ان کی طرف اپنا ایک نبی معبوث فرمایا۔ بعض 4 ؎ کہتے ہیں ان کا نام حنظلہ ابن صفوان تھا جو کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے کوئی نبی نہیں ہوا ۔ سوائے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بہر حال کوئی بستی تھی جہاں اللہ نے اپنا نبی مبعوث فرمایا۔ اس 1 ؎
(1 ؎۔ تفسیر کبیر ص 39 ج 42 و طبری ص 41 ج 91 و قرطبی ص 32 و ابن کثیر ص 913
2 ؎۔ ابن کثری ص 912 ج 3 و تفسیر البحر المحیط ص 994 ج 6 و درمنثور ص 17 ج 5 ( فیاض)
بستی میں ایک سیاہ رنگ کے حبشی غلام کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا ۔ ایک دن ان کافروں نے منصوبہ بنایا کہ اللہ کا نبی ہیں ہر روز تنگ کرتا ہے ۔ ہمارے معبودوں کو برا کھلا کہتا ہے ۔ اسے فلاں کنویں میں پھینک کر اس کا کام تمام کردیا جائے ، چناچہ انہوں نے اللہ کے نبی کو کنوئیں میں پھینکا اور اس کے منہ پر ایک بڑی چٹان رکھ دی تا کہ اللہ کا نبی باہر نہ نکل سکے ۔ وہ ایماندار حبشی غلام دن بھر محنت مزدوری کرتا اور شام کو کھانا لا کر کسی طرح اللہ کے نبی کو کنوئیں میں پہنچا دیتا یہ سلسلہ کافی دنوں تک چلتا رہا ۔ ایک دن اس حبشی نے عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو میں بھی آپ کے پاس کنوئیں میں آ جائوں مگر اللہ کے نبی نے منع کردیا ۔ ایک دن بستی والے کنوئیں پر آئے تا کہ دیکھیں کہ اللہ کا نبی زندہ بھی ہے یا نہیں ۔ جونہی انہوں نے چٹان کو ذرا سا سرکاکر آواز دی تو نیچے سے آواز آئی اعْبُدُوا اللہ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (ہود : 16) لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں جب اس قوم نے نبی کو زندہ پایا تو انہوں نے مٹی اور پتھر ڈال کر کنوئیں کو ہمیشہ کے لئے بند کردیا ، پھر اللہ کا عذاب آیا اور وہ سارے کے سارے ہلاک ہوئے بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے پتھر کو مٹا دیا تھا۔ اللہ کے نبی باہر نکل آئے اور وہ لوگ تائب ہوگئے ۔ مگر قرآئن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے نبی کو ہلاک ہی کردیا کیونکہ یہاں قوموں کی ہلاکت کا حال ہی بیان ہو رہا ہے ، لہٰذا ہلاکت والی بات راجح ہے۔
دیگر اقوام کا حال
فرمایا وقرونا بین ذلک کثیر اس کے درمیان ہم نے اور بھی بہت سی قوموں اور جماعتوں کو ہلاک کیا ۔ جب انہوں نے اللہ کے نبیوں کی نافرمانی کی ، ان کو اذیتیں پہنچائیں ، اللہ کی توحید کا انکار کیا تو ان پر بھی تباہی آئی ۔ ایسی بعض قوموں اور ان کے انبیاء کا ذکر تورات میں ملتا ہے اور بعض کے حالات قرآن پاک نے بیان کیے ہیں تا ہم بہت سے ایسے انبیاء اور ان کی قوموں کا حال بالکل بیان نہیں کیا ۔ جیسے سورة المومن میں ہے کہ ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے ہیں منھم من ققصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک ( آیت : 87) ان میں سے بعض کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور بعض کا نہیں ۔ بہر حال فرمایا کہ ہم نے بعض دیگر قوموں کو بھی تباہ و برباد کیا ، جنہوں نے اللہ کے نبیوں کی تکذیب کی تاہم وکلا ضربنا لذ الامثال اور سب کے لیے ہم نے مثالیں بیان کی ہیں تا کہ وہ سمجھ جائیں ۔ جب اللہ کا نبی آتا ہے تو وہ اپنی زبان میں خدا کا پیغام لوگوں کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کرتا ہے اور پورے طریقے سے بات سمجھاتا ہے ، لیکن اکثر و بیشتر یہی ہوا کہ لوگوں نے اللہ کے نبی کو جھٹلایا ، تو حید اور قیامت کا انکار کیا ، اور پھر وکلا تبرنا تبیرا ایسے تمام فرقوں کو ہم نے ملیا میٹ کردیا ۔ ان میں سے ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑا ۔
فرمایا لقد اتوعلی القریۃ التی امطرت مطر السوء اور یہ مکہ والے اس بستی پر سے گزرتے ہیں جس پر بڑی بارش برسائی گئی۔ مکہ سے شام و فلسطین کے رستے پر وہ بستیاں آباد تھیں جن کو اللہ نے بڑی بارش برسا کر تباہ کیا ۔ ان پر پتھروں کی بارش ہوئی اور انہیں زمین سے اوپر اٹھا کر پھر پلٹ دیا گیا ۔ فرمایا مکہ والے تجارتی سفر پر جاتے ہیں تو ان اجڑی ہوئی بستیوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہیں فلم یکونوا برو تھا کیا یہ ان کو دیکھتے نہیں جو یعنی ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔ امام ابن کثیر اور دیگر مفسرین لکھتے ہیں کہ یہاں پر بڑے بڑے چھ شہر آباد تھے جن کی آبادی چار لاکھ نفوس سے زیادہ تھی وہاں ان بستیوں کے کھنڈرات اور بحر میت بھی نظر آتا ہے ۔ وہاں کوئی انسانی زندہ نہ بچا ۔ آج بھی بحر میت کے بعض حصوں میں کوئی آبی جانور بھی زندہ نہیں رہتا ۔ یہ ساری نشانیاں ہیں ۔ اللہ نے فرمایا کہ مکہ والے ان کو دیکھ کر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔
فرمایا حقیقت یہ ہے کہ بل کانوا لا یرجون نشور کہ یہ لوگ مر کر دوبارہ جی اٹھنے پر یقین ہی نہیں رکھتے ۔ اگر ان کو بعث بعد الموت اور جزائے عمل کی فکر ہوتی تو نافرمانی کی اتنی بڑی جرأت نہ کرتے ۔ دراصل عقیدہ قیامت کا انکار لوگوں کو آخرت کے فکر سے آزاد کرا دیتا ہے لہٰذا وہ غافل ہوجاتے ہیں اور بالآخر اللہ کی گرفت میں آجاتے ہیں ۔
Ayahs 25:41–44ربط ِ آیات
اس رکوع کی پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر کر کے حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی ۔ ان انبیائے کرام کو بڑے سر کش اور مغرور لوگوں سے واسطہ پڑا ۔ اللہ نے ان کے غرور کو توڑا اور ان کو تباہ و برباد کیا ۔ اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی فرمایا کہ آپ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا ، پھر قوم عاد ، ثمود اور کنوئیں والوں نے اللہ کے نبیوں کے ساتھ زیادتی کی تو ان کو بھی ہلاک کیا گیا ۔ درمیان میں بہت سی دیگر قومیں بھی گزر ی ہیں جن کا تذکرہ نہ تو کتب سماویہ نے کیا ہے اور نہ ہی تاریخ نے انہیں محفوظ رکھا ہے ہر قوم کے لیے اللہ نے رسول بھیجے ، مثالیں بیان کی کیں ، ان کو ہر طریقے سے سمجھایا گیا مگر اکثر لوگوں نے تسلیم نہ کیا اور ہلاک ہوئے ، پھر ان بستیوں کا تذکرہ جن پر سے اہل مکہ تجارتی سفر کے دوران گزرتے ہیں ۔ اللہ نے ان پر بڑی یعنی پتھروں کی بارش برسا کر انہیں تہس نہس کردیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ قیامت اور جزائے عمل کا انکار کردیتے ہیں ۔ وہ آخرت سے غافل اور لا پرواہ ہوجاتے ہیں اور یہی چیز ان کی ہمیشہ کی تباہی کا باعث بنتی ہے ۔
باطل پر ڈٹے رہنے کی خواہش
اس سورة میں زیادہ تر انکار رسالت کا مسئلہ بیان ہوا ہے لوگ اللہ کے نبیوں پر طرح طرح کے اعتراض کرتے تھے بلکہ ان کے ساتھ ٹھٹا کرتے تھے اور اہل ایمان کی تکلیفیں پہنچاتے تھے ۔ آج کی پہلی آیت میں اسی بات کا تذکرہ ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے واذا راوک جب کفار و مشرکین آپ کو دیکھتے ہیں ان یتخذونک الا ھزوا تو بناتے ہیں آپ کو ٹھٹا کیا ہوا یعنی آپ کا تمسخر اڑاتے ہیں ۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ اللہ کو نبوت و رسالت کے لیے ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی ملا تھا ، نہ اس کے پاس مال نہ جانور ، نہ باغات نہ محلات اور نہ نوکر چاکر ، بھلا یہ کیسے نبی ہوسکتا ہے ؟ کہتے تھے اھذا الذی بعث اللہ رسولاً کیا یہ وہ شخص ہے جس کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ پھر یہ بھی کہتے ان کاد لیضلناعن الھتنا قریب تھا کہ یہ شخص ہمیں ہمارے معبودوں سے گمراہ کردیتا ہے لو لا ان صبرنا علیھا اگر ہم ان پر صبر نہ کرتے یعنی ان پر مستحکم نہ رہتے ۔ اس شخص کی تقریر بڑی پر اثر ہے اگر ہمارے معبودوں کے متعلق ہمارا عقیدہ ذرا بھی کمزور ہوتا تو یہ شخص ہمیں بد ظن کر کے گمراہ کردیتا ۔ چناچہ ایک دوسرے کو اپنے معبودان باطلہ پر پختگی اختیار کرنے کی تلقین کرتے تھے وَقَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِھَتَکُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا وَّلَا یَغُوْثَ وَیَعُوْقَ وَنَسْرًا (نوح : 32) کہتے تھے اس شخص کے کہنے میں آ کر اپنے معبودوں ود ، سواع ، بغوث ، یعوق اور کسر کو نہ چھوڑ بیٹھنا ، بلکہ ان پر اپنا عقیدہ مضبوط کھنا ہو ۔ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے یہی کہا یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللہ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (ہود : 05) لوگو عبادت صرف اللہ کی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، مگر قوم نے یہی جواب دیا وَّمَا نَحْنُ بِتَارِکِیْٓ اٰلِہَتِنَا عَنْ قَوْلِکَ (ہود : 35) ہم تیرے کہنے پر اپنے معبودوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔
ارشاد ہوتا ہے وسوف یعلمون حین یرون العذاب جب عذاب کو اپنے سامنے دیکھیں گے تو انہیں جلدی ہی معلوم ہوجائے گا من اضل سبیلاً کہ کون زیادہ بہکا ہوا ہے ۔ راستے کے اعتبار سے آج تو یہ کہتے ہیں کہ اللہ کا نبی معبودوں سے ہٹا کر غلط راستے پر ڈال رہا ہے مگر جب قیامت کا دن آئے گا اور یہ لوگ مستحق عذاب ٹھہریں گے تو پھر انہیں پتہ چلے گا کہ غلط راستے پر کون تھا۔
خواہشات نفسانی بطور معبود
اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی ایک بہت بڑی قباحت کا ذکر کیا ہے کہ خواہشات نفسانی کے پیچھے چلنا اس کو معبود بنا لینے کے مترادف ہے ۔ یہ بیماری انسانوں میں ابتداء سے چلی آ رہی ہے ، اب بھی ہے اور تا قیام قیامت موجود رہیگی۔ حق و باطل میں امتیاز نہ کرنا خواہش نفس کو پورا کرنا ہے ۔ اکثر و بیشتر لوگ اسی خواہش میں مبتلا ہو کر گمراہ ہوجاتے ہیں اور پھر جدھر خواہش چاہتی ہے ادھر ہی چلتے رہتے ہیں ۔ یہ بات اللہ نے یہاں پر اس طرح بیان فرمائی ہے ۔ ارء یت من اتخذ الھہ ھو ہ کیا آپ نے اس شخص کی طرف دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش کو ہی اپنا معبودبنا رکھا ہے ۔ یہاں پر الٰہ کو مقدم اور ہوی کو مؤخر کیا گیا ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ ترکیب بات میں زور پیدا کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ ایسے لوگوں کے نزدیک صرف خواہش ہی ان کا معبود ہے ۔ جدھر خواہش جاتی ہے ادھر ہی وہ جاتے ہیں ۔ ان کے نزدیک حق اور باطل میں امتیاز کرنے والی اور کوئی چیز نہیں ہے۔
خواہش کی آفرنیشن کبھی خاندان کی وجہ سے ہوتی ہے ، کبھی سوسائٹی کی وجہ سے اور کبھی علاقائی رسم و رواج کی وجہ سے ، لوگ قانون کی پابندی کی پرواہ کیے بغیر اسی خواہش کے پیچھے چلنے لگتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خطیرۃ القدس کا ممبر بننے کی بجائے ہلاکت کے گڑھے میں جا گرتا ہے ۔ مفسرین 1 ؎
(تفسیر بیان القرآن ص 15 ج 8 (فیاض)
کرام حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت بیان کرتے ہیں جسے مفسرطبریٰ ، صاحب حلیۃ الاولیاء اور مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) نے بھی نقل کیا ہے۔
حضورعلیہ السلام کا ارشاد مبا رک ہے ماتخت ظل السماء من الہ یعبد من دون اللہ عزوجل اعظم عند اللہ من ھوی یتبع یعنی آسمان کے سائے کے نیچے اللہ کے سوا سب سے بڑا معبود خوش ہے۔ جس کے اتباع کی جاتی ہے ۔ فرمایا افانت تکون علیہ وکیلا ، کیا آپ اس کے ذمہ دار ہیں ؟ مطلب یہ کہ خواہش کے پچاریوں کی ذمہ داری آپ پر نہیں آتی بلکہ اللہ تعالیٰ خودہی ان سے قیامت کو نپٹ لے گا اور ان سے وہی سلوک کرے گا جس کے یہ لوگ مستحق ہیں ۔
چار چیزیں ذریعہ آزمائش
تفسیر حسینی 1 ؎ والے مفسر لکھتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) اور حوا کے ملاپ سے انسان پیدا ہوا ، اور جب شیطان کا ملاپ دنیا سے ہوا تو اس سے خواہش پیدا ہوئی۔ گویا شیطان کا عقد دنیا سے ہوا ہے ۔ اس بات کو کسی شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے ؎
انی بلیت باربع ما سلطوا
الا لعظلم بلیتی وشقائی
ابلیس والدنیا ونفسی والھوی
کیف الاخلاص وکلھم اعدائی
میری آزمائش اور شقاوت کو بڑا بنانے کے لیے مجھے چار چیزوں سے آزمایا گیا ہے یعنی یہ چیزیں مجھ پر مسلط کی گئی ہیں ۔ ابلیس ، دنیا ، نفس اور خواہش ، یہ ساری چیزیں انسان کی دشمن ہیں جو اسے حق کے راستے سے بہکاتی ہیں ۔ ابلیس نے تو شروع سے ہی وعدہ لے رکھا ہے کہ وہ انسان کو قیامت تک گمراہ کرتا رہے گا ۔ دنیا بھی ہمیشہ انسانوں کو اپنی طرف راغب کر کے غفلت میں مبتلا کرتی ہے۔ نفس کے متعلق قرآن میں موجود ہے ان النفس لا مارۃ بالسوء ( یوسف : 35) انسان کا نفس اسے ہمیشہ برائی کی طرف راغب کرتا ہے۔ اگر اس پر قابو پا لیا جائے تو پھر یہ نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ بنتا ہے ۔ اور خواہش ایک ایسی چیز ہے جسے انسان الوہیت کا درجہ دے دیتا ہے اور پھر اسی کے پیچھے چلتا رہتا ہے۔ بہر حال خواہش کے پیچھے لگ کر لوگ گمراہ ہوتے ہیں ۔ تو فرمایا کیا آپ نے اس شخص کی طرف نہیں دیکھا جس نے خواہش کو ہی اپنا معبود بنا رکھا ہے ؟
قانون کی پابندی
قانون کی پابندی ہر مکلف کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ مگر اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی اولین چیز انسان کی خواہش ہے ۔ جب انسان اپنی خواہش کے پیچھے چل نکلتا ہے تو پھر وہ قانون کی کچھ پرواہ نہیں کرتا بلکہ وہی کرتا ہے جو اس کی خواہش ہوتی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی حکمت کے مطابق بیان کرتے ہیں کہ قانون کی پابندی کے بغیر انسان خطیرۃ القدس کے پاس مقام تک نہیں پہنچ سکتا مگر اسی کی اکثر لوگ خلاف ورزی کرتے ہیں حالانکہ قرآن پاک نے قانون کی پابندی کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ مثلاً فرمایاٰیٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰـکُمْ (البقرہ : 271) اے لوگو ! ہماری عطا کردہ روزی میں سے پاک چیزیں کھائو۔ دوسری جگہ آیا ہییٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ (البقرہ : 12) اے لوگو ! عبادت صرف اللہ ی کرو ۔ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ اپنے عقیدے کو پاک کرو ۔ جب تک عقیدہ پاک نہیں ہوگا ۔ اخلاق اور عمل پاک نہیں ہوگا ۔ جس کی فکر پاک نہیں ہے اس کا ذہن ، روح ، دل اور دماغ پاک نہیں ہے ۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ ( التوبہ : 82) مشرک لوگ سراپا ناپاک ہیں کیونکہ ان کی فکر میں شک کی ملاوٹ ہے ۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ ( الحج : 03) بت پرستی کی گندگی سے بچو کہ یہ نجاست ہے ۔ غرضیکہ قانون کی پابندی کے بغیر انسان ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتا ۔ بلکہ ہمیشہ تنزل کا شکار رہتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ( البقرہ : 861) شیطان کے نقش قدم پر نہ چلنا کہ یہی خواہش کی پیروی ہے جس کے متعلق فرمایا کہ لوگ خواہش کو ہی اپنا معبود بنا لیتے ہیں۔
جانوروں سے بد تر انسان
ارشاد ہوتا ہے ام تحسب ان اکثر ھم یسمعون او یعقلون کیا آپ گمان کرتے ہیں کہ ان مشرکوں میں سے اکثر لوگ سنتے ہیں یا سمجھتے ہیں ؟ فرمایا نہیں ۔ ان ھم الاکالا نعام یہ تو جانوروں کی مانند ہیں بل ھم اضل سبیلا بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں بےعقل لوگوں کے جانوروں سے بھی بد تر ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جانوروں میں تو اللہ نے عقل کا مادہ ہی نہیں رکھا جب کہ انسان کی عقل و شعور جیسا بہترین جو ہر عطا کیا جس کے ذریعے وہ حق و باطل میں امتیاز کرسکتا ہے۔ جانور تو زیادہ سے زیادہ جہل بسیط میں مبتلا ہوں گے کہ انہیں شعور ہی نہیں مگر کافر اور مشرک جہل مرکب کا شکار ہیں جو صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح قرار دیتے ہیں ۔ یہ لوگ ہدایت کو گمراہی سے تعبیر کر رہے ہیں اور گمراہی کو ہدایت سمجھ رہے ہیں ۔ یہ بڑی خطرناک روش ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ جانوروں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔
جانور ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنے مالک اور محسن کو پہچانتی ہے اور اس کا حکم مانتی ہے ، کسی بھی خدمت گزار جانور کو آواز دو تو وہ فوراً متوجہ ہوتا ہے جانور کھلانے پلانے والے مالک یا کارندے کی آواز پر چونک پڑتا ہے مگر کافر اور مشرک اشرف المخلوقات کافر و ہونے کے باوجود اپنے مالک حقیقی اور محسن حقیقی کو ذرا نہیں پہچانتا اور نہ ہی اس کو آواز پر لبیک کہتا ہے۔
صاحب دروس کا جانور کے بارے میں ذاتی تجربہ
ہم نے ایک بلی پال رکھی تھی جو جوان ہوئی ، پھر اس نے بچے دیئے۔ وہ بیماری بیمار ہوگئی ۔ اندر آنا چاہتی تھی مگر دروازہ بند تھا۔ آخر دیوار پھلانگ کر اندر آئی اور میرے پائوں کے قریب آ کر بیٹھ گئی ۔ میں نے کہا اے دودھ پلائو ، مگر اس نے نہ پیا ، تھوڑی دیر بعد درازے کے راستے باہر نکلی اور پھر پتہ چلا کہ بیماری میں مر گئی ہے۔ مجھے فوراً خیال آیا کہ یہ بلی اپنی زندگی سے مایوس ہوچکی تھی ۔ اور آخری وقت سلام کرنے کے لیے آئی تھی ۔ مقصد یہ ہے کہ جانوروں میں بھی اتنا شعور ہوتا ہے کہ وہ اپنے محسن کو پہچانتے ہیں ، مگر انسان جانوروں سے بھی گیا گزرا ہے جو اپنے حقیقی محسن کو نہیں پہچانتا بلکہ یا تو اس کا انکار کر کے کافر بن جاتا ہے اور یا پھر غیروں کے دروازے پر دستک دیکر مشرک ہوجاتا ہے۔ جانور بےشعور ہو کر بھی اپنا مقصد حیات پورا کر رہا ہے جب کہ انسان انسان ہو کر بھی اپنے مقصد حیات سے غافل ہے اسی لیے فرمایا کہ جو لوگ اپنی خواہش کو ہی اپنا معبود بنا لیتے ہیں ، وہ حقیقی معبود سے کٹ جاتے ہیں اور ایسے لوگ جانوروں سے بھی بد تر ہیں۔
Ayahs 25:45–47ربط آیات
گزشتہ آیات میں تسلی کا مضمون تھا۔ اس کے بعد مشرکوں کا رد تھا۔ عبرت کے لیے بعض سابقہ اقوام کا حال بیان ہوا اور ان کی سزا کا ذکر کیا گیا ۔ اللہ نے فرمایا کہ کافر اور مشرک لوگ اللہ کے نبی کو دیکھ کر اس کا تمسخر اڑاتے تھے ۔ اور اپنے باطل عقیدے پر پختگی کا اظہار کرتے تھے ۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ عنقریب عذاب الٰہی کو دیکھیں گے تو پھر انہیں پتہ چلے گا کہ گمراہ کون تھا اور راہ راست پر کون ۔ نیز یہ کہ ان لوگوں سے قبولیت حق کو توقع نہیں رکھنی چاہئے ، جو شخص اپنی خواہش کو ہی معبود بنا لیتا ہے ۔ وہ حق و باطل کی تمیز سے محروم ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ نہ تو حق بات سنتے ہیں اور نہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ جانوروں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی بد تر کیونکہ جانور تو اپنے مقصد حیات کو پورا کر رہے ہیں مگر مشرک اور کافر اس سے بھی عاری ہیں ۔ اب آج کی بات میں اللہ تعالیٰ نے بعض دلائل قدرت بیان فرماتے ہیں اور اسی ضمن میں نبوت و رسالت کا تذکرہ بھی آ گیا ہے۔
سایہ بطور دلیل قدرت
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ کفار و مشرکین سننے اور سمجھنے سے محروم ہیں اگر یہ دلائل قدرت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ، تو توحید خداوندی آسانی سے سمجھ میں آسکتی تھی ۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے دلیل توحید ہی کے علے میں سائے کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے الم ترالی ربک اے مخاطب ! کیا تو نے نہیں دیکھا اپنے رب کی طرف یہاں پر رویت بصری مراد نہیں بلکہ رویت قلبی اور رذیت علمی مراد ہے کیا تمہارے علم و فہم میں یہ بات نہیں کیف مد الظا کہ تیرے پروردگار نے سائے کو کس طرح دراز کیا ہر چیز کا سایہ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے ۔ ولو شاء لجعلہ ساکنا اور وہ چاہتا تو اس سائے کو ساک یعنی ایک جگہ ٹھہرا ہوا با دیتا ہے اور ہر چیز کا سایہ گھٹنے بڑھنے کی بجائے ہمیشہ ایک ہی حالت پر قائم رہتا ۔ گویا سایہ میں کمی بیشی دلیل قدرت خداوندی ہے۔ پھر فرمایا ثم جعلنا الشمس علیہ دلیلا کہ ہم نے سورج کو اس پر راہ بتلانے والا بنایا ہے ۔ سورج کی روشنی کی وجہ سے چیزوں کے سائے بنتے اور آگے پیچھے ہوتے ہیں ۔ گویا سائے کا گھٹنا اور بڑھنا سورج پر موقوف ہے ۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز کا سایہ مغرب کی جانب پھیلتا ہے۔ پھر جوں جوں اوپر کی طرف آتا ہے۔ سایہ گھٹتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ عین دوپہر کے وقت سایہ اپنے فضل کے ساتھ آ کر مل جاتا ہے۔ پھر جب سورج مغرب کی طرف سفر شروع کرتا ہے تو سایہ مشرق کی طرف پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اور غروب شمس کے ساتھ ہی سایہ بھی غائب ہوجاتا ہے۔ غرضیکہ سائے کا وجود سورج کے ساتھ متعلق ہے۔
سائے کے فوائد
قرآن و سنت میں سائے کا ذکر کثرت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ یہ سایہ بھی دلائل قدرت میں سے ہے۔ بعض حالات میں سایہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے ، جب کہ بعض حالات میں یہ ایک نعمت ہوتا ہے۔ دھوپ اور شدید گرمی میں انسان کسی درخت ، پہاڑ یا دیوار کے سائے کے متلاشی ہوتے ہیں ۔ ترمذی شریف میں حضور ﷺ کا فرمان موجود ہے کہ جب مجاہد جہاد کے لیے جاتے ہیں تو اس وقت بہترین صدیقہ ظل فسطاط یعنی خیمہ کا سایہ ہے۔ مجاہدین کو خیمہ مہیا کردیا جسے وہ دوران سفر و حضر سائے کے طور پر استعمال کرسکیں ، بہت بڑی نیکی ہے۔ سائے کا ذکر دوزخیوں کی سزا کیلئے میں بھی آتا ہے۔ فِیْ سَمُوْمٍ وَّحَمِیْمٍ وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ (الواقعہ : 24 ، 34) ا ن کے لیے تند و تیز ہوا اور سخت تپش ہوگی ۔ نیز دھوئیں کا سایہ ہوگا ، جو بہت ہی تکلیف دہ ہوگا ۔ جس طرح ہائیڈروجن بم سے زہریلا دھواں نکل کر تباہی پھیلاتا ہے۔ اسی طرح دوزخیوں کے لیے بھی نہایت ہی مہلک دھواں کا سایہ ہوگا ۔ زمانہ جاہلیت کا شاعر ابو کبیر ہذلی اپنے شکار کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے ؎
ولقد صبرت علی السموم یکتنی
قرد علی الیتین غیر مرجل
میں نے سخت لو میں بڑا صبر کیا ۔ جب کہ میرے پاس کوئی چیز نہ تھی سو ائے سر کی لٹوں کے جو کہ غیر کنگی شدہ تھیں اور میری گردن پر سایہ فگن تھیں۔ مطلب یہ کہ اس قدر شدید تپش میں میرے سر کے بالوں کی لٹیں ہی میری گردن کو لو سے بچا رہی تھیں گردن کے پٹھے بڑے نازک ہوتے ہیں جو دھوپ لگنے سے خراب ہوجاتے ہیں ۔ اس کو لو لگنا یا (Sun Staoke) کہتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے اکثر لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ اسی لیے عرب کے لوگ سر پر رومال باندھتے ہیں ۔ جو ان کی گردن کو لو لگے سے محفوظ رکھتی ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے۔ اتقوا اللعین یعنی دو لعنت والی چیزوں سے بچو۔ لوگوں نے عرض کیا ! حضور ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں ؟ فرمایا راستے میں پاسائے کی جگہ میں پاخانہ کرنا ۔ ظاہر ہے کہ اگر ان مقامات پر کوئی شخص گندگی پھیلائے گا تو راستہ چلنے والے یا سائے میں تھوڑی دیر آرام کرنے والے مسافروں کو تکلیف ہوگی ۔ لہٰذا ان دو جگہوں پر بول و برا نہ کرنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ایسا کرنے والوں کے حق میں مسافر لعنت کرینگے ۔
غزوہ فتح مکہ ماہ رمضان میں پیش آیا ۔ سخت گرمی کے ایام تھے ۔ حضور ﷺ دس ہزار صحابہ ؓ کی جماعت لے کر مدینہ سے نکلے۔ حضور ﷺ نے سفر میں روزہ افطار نہ کرنے کا حکم دیا ۔ پھر جب ایک دن کا سفر باقی رہ گیا تو فرمایا کہ کل تو دشمن سے مٹھ بھیڑ ہوجانے کا احتمال ہے لہٰذا روزہ نہ رکھو۔ صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ اس سفر کے دوران ہم میں سے سایہ صرف اس شخص کے پاس ہوتا تھا جس کے پاس کوئی کمبل ہوتا تھا جسے وہ تان کر سایہ بنا لیتا تھا ، ورنہ ہم میں سے اکثر لوگ سورج کی تپش سے بچنے کے لیے اپنے چہروں کو ہاتھوں سے ہی ڈھانپتے تھے ، سایہ کے لیے کوئی خیمہ ، کپڑا یا درخت نہیں تھا۔
سایہ کے نقصانات
موسم گرما میں جہاں سایہ راحت کا باعث ہوتا ہے وہاں سخت سرد ی میں سایہ تکلیف کا باعث بھی ہوتا ہے۔ جوں جوں سورج خط استوا سے دور اور قطبین سے قریب ہوتا جاتا ہے تو سردی بڑھتی جاتی ہے ۔ اور دھوپ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔ مشہور ہے کہ سکندر اعظم کے زمانے میں یونان میں بڑے بڑے حکماء گزرے ہیں ۔ ان میں سے ایک دیو جانس کلبی تھا جو کتوں کے ساتھ بڑا انس رکھتا تھا۔ سردی کا موسم تھا ، یہ شخص دھوپ میں بیٹھا دھوپ سینک رہا تھا۔ اسی اثناء میں آدھی دنیا کا حکمران سکندر اعظم اس کے سامنے آکھڑا ہوا اور دست بستہ عرض کیا ۔ جناب عالی ! کوئی کار خدمت ہو تو حاضر ہوں ۔ کلبی نے نگاہ اٹھا کر سکندر اعظم کی طرف دیکھنا تو بولا ، مہربانی کر کے اپنا سایہ یہاں سے ہٹا دو اور مجھے دھوپ سے لطف اندوز ہونے دو ۔۔۔ بڑے آئے ہو۔ دنیاوی حاجتیں پوری کرنے والے ۔ جاد اپنا کار کرو ، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔ یہ واقعہ علم کے استغناء کے سلسلے میں بیان کیا جاتا ہے۔ بہر حال اس وقت ایک آدمی کا سایہ بھی ناقابل برداشت ہو رہا تھا جب کہ یہی سایہ بعض اوقات باعث ِ رحمت ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ دنیا میں دو سکندر بڑے مشہور گزرے ہیں ۔ ایک سکندر ذوالقرنین ہے جس کا ذکر سورة الکہف میں ہے جس نے مشرق و مغرب کا سفر کیا تھا اور لوگوں کو یاجوج ماجوج کی یلغار سے بچانے کے لیے سد سکندری تعمیر کی تھی ، یہ شخص ایماندار تھا۔ دوسرا سکندر جو سکندر اعظم کے نام سے مشہو رہے ، یونان میں ہوا ہے۔ اس نے 13/ 23 سال کی عمر میں نصف دنیا کو فتح کیا ۔ اس کا زمانہ مسیح (علیہ السلام) سے کچھ عرصہ پہلے کا ہے ۔ یہ شخص مشرک تھا اور مذکورہ بالا واقعہ اسی کا ہے۔
سائے کی حقیقت
سایہ حقیقت میں ایک تاریکی ہوتی ہے جو کبھی ہلکی اور کبھی بھاری ہوتی ہے ۔ اس مقام پر اللہ نے سائے کو بطور دلیل بیان فرماتا ہے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں کہ ان کے پہلے پہر کسی چیز کا سایہ سورج کی الٹی طرف گھٹتا چلا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ اصل چیز کی جڑ سے آ کر مل جاتا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں ثم قبضنہ الینا قبضا یسیرا کا یہی مطلب ہے کہ ہم اس کو سمیٹ لیتے ہیں اپنی طرآہستہ آہستہ سمیٹنا ۔ وہ سایہ آہستہ آہستہ متعلقہ شے کی جڑ سے آ ملتا ہے۔
ہر چیز کی اصل تو ذات خداوندی ہے اور اس کا ارشاد ہے۔ وَاِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ کُلُّہٗ (ہود : 321) سب چیزیں اسی کی طرف
(1 ؎۔ موضع القرآن ص 534) (فیاض)
رجوع کرتی ہیں ۔ کائنات کی کسی چیز کا اپنا کوئی مستقبل وجود نہیں بلکہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا عکس یا سایہ ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ ہر چیز اس کی طرف لوٹتی ہے۔ بہر حال فرمایا کہ دن کے پہلے پہر میں ہر چیز کو اپنی طرف آہستہ آہستہ سمیٹ لیتے ہیں ۔ اور جب پچھلے پہر دوسرا رخ شروع ہوتا ہے تو سایہ دوسری طرف لمبا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ حتیٰ کہ جب سورج غروب ہوجاتا ہے تو سایہ بھی غائب ہوجاتا ہے۔
حضرت مولانا شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی (رح) اور بعض دیگر مفسرین 1 ؎ بیان کرتے ہیں کہ اسی سائے سے ہم دنیا کی ہستی کی مثال بھی سمجھ سکتے ہیں ۔ اول عدم یعنی کچھ نہیں تھا ۔ پھر نور یعنی دنیا کا وجود آیا اور آخر میں یہ سب کچھ پھر عد میں چلا جائے گا یعنی پوری کائنات ختم ہوجائے گی ۔ جس طرح جسمانی نور اور سائے کی مثال ہے۔ اسی طرح ۔۔۔ روحانی نور اور ظلمت کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔ جب انسانیت کفر ، شرک اور معاصی کی تاریکی میں مبتلا ہوتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ آفتاب نبوت کی روشنی بھیجنا ہے جس کے ذریعے لوگوں کو صحیح راستہ نصیب ہوتا ہے گویا انبیاء کے ذریعہ نور ہدایت میسر آتا ہے ۔ توحید روشنی ہے اور کفر ، شرک اور معاصی ظلمت ہے۔ یہ ظلمت نبوت کی تعلیم یعنی آسمانی ہدایت کے ذریعے ہی دور ہوتی ہے۔
غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ اے مخاطب ! کیا تم نے نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں سائے کو کس طرح دراز کیا ، اور اگر وہ چاہتا تو یہ سایہ ایک ہی مقام پڑے رہتا ۔ مگر اس نے نظام شمسی اس طریقے سے قائم کیا ہے کہ سورج کی رفتار کے ساتھ ساتھ سایہ بھی گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اور آخر میں بالکل ختم ہوجاتا ہے ۔ مطلب یہ کہ سائے کا گھٹنا بڑھنا سورج پر بیوقوف ہے اور یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ
(1 ؎۔ تفسیر عثمانی ص 174 ) (فیاض)
کو سرا جامنیرا ( الاحزاب : 64) فرمایا ہے یعنی آپ ﷺ روشن چراغ ہیں ۔ اس طرح قرآن ، تورات اور انجیل کو بھی اللہ نے نور یعنی روشنی کا لقب دیا ہے۔ تو گویا جو روشن چراغ انبیاء کرام کتب سمایہ کی صورت میں لے کر آتے ہیں اس سے نور ہدایت پھیلتا ہے اور کفر ، شرک اور معاصی کی تاریکی دور ہوتی ہے۔ تو گویا یہ سایہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی توحید کی دلیل ہے تو دوسری طرف نبوت کی دلیل بھی بنتی ہے کہ نور نبوت کی بدولت ہی دنیا سے تاریکی دور ہوتی ہے۔
رات ، نیند اور دن
آگے اللہ نے مزید تین چیزوں کو اپنی قدرت و وحدانیت کی دلیل کے طور پر بیان کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھو الذی جعل لکم الیل لباسا اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے بمنزلہ لباس کے بنایا ہے۔ لباس سے انسان کو دو فوائد حاصل ہوتے ہیں ، ایک زینت اور دوسرا پردہ ۔ اللہ نے قرآن پاک میں لباس کی حکمت اس طرح بیان فرمائی ہے یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیْشًا (الاعراف : 62) اے آدم کے بیٹو ! ہم نے تم پر لباس نازل کیا جو تمہارے لیے پردہ پوشی کرتا ہے اور باعث زینت بھی ہے۔ ویسے بھی یہ عام مقولہ ہے الناس یا اللناس یعنی لوگ لباس پہن کر ہی اچھے لگتے ہیں جب کہ یہ برہنگی ایک عیب ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں 1 ؎ کہ تمام متمدن دنیا کے لوگ خواہ وہ کسی مذہب ، مسلک ، فرقے سے تعلق رکھتے ہیں ، اس بات پر متفق ہیں کہ لباس باعث زینت اور برہنگی عیب ہے۔ برہنہ انسان جانوروں کی طرح ہوتا ہے۔ اللہ نے لباس نازل کر کے انسان کو شرف بخشا ہے ۔ گویا جس طرح انسان لباس پہن کر آرام پکڑتے ہیں ۔ اسی طرح رات بھی لوگوں کے لیے آرام و سکون کا باعث ہوتی ہے۔
(1 ؎۔ حجۃ اللہ البالغہ ص 04 ) (فیاض)
پھر اللہ نے نیند کے متعلق فرمایا والیوم سباتا یعنی ہم نے نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا ۔ انسانی صحت کے لیے نیند بہت ضروری ہے ۔ اطباء کے مطابق دن رات میں سات گھنٹے سونا ضروری ہے۔ مختلف طبائع کے مطابق کم و بیش بھی ہوتا ہے ۔ اگر کئی دن تک نیند نہ آئے تو دماغ میں خشکی پیدا ہو کر انسان شدید قسم کے مالیخولیا میں مبتلا ہو سکتا ہے ۔ جب نیند آتی ہے تو انسان کی تحلیل شدہ قوتیں بحال ہوجاتی ہیں اور وہ تازہ دم ہو کر دوبارہ کام کاج کے قابل ہوجاتا ہے۔
بہر حال فرمایا کہ اللہ نے رات کو تمہارے لیے زینت اور پردہ پوشی کا ذریعہ بنایا اور نیند کو آرام و استراحت کا سبب بنایا۔ وجعل النھار نشورا اور دن کو اٹھ کر باہر نکلنے کا ذریعہ بنایا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل ہیں ۔ اگر انسان شب و رو کے اس نظام پر ہی غور کرے تو اسے اللہ کی وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے ۔ وہ جان سکتا ہے کہ یہ پورا نظام اللہ تعالیٰ ہی کا قائم کردہ ہے ، اس میں کسی دوسرے کا کوئی دخل نہیں ہے۔