25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 25:17–20

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن وہ ( اللہ تعالیٰ ) اکٹھا کرے گا ان کو اور ان کو جن کی یہ اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے ، پس فرمائے گا ، کیا تم نے گمراہ کیا میرے ان بندوں کو یا یہ خود راستے سے گمراہ ہوگئے

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے ، پاک ہے تیری ذات ، نہیں لائق ہمارے کہ ہم بنائیں تیرے سوا کسی کو کار ساز ، لیکن تو نے ان کو فائدہ پہنچایا اور ان کے آبائو اجداد کو یہاں تک کہ یہ تیری یاد کو بھول گئے ، اور تھے یہ لوگ ہلاک ہونے والے

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

پس بیشک انہوں نے جھٹلا دیا تم کو جو کچھ تم کہتے تھے پس نہیں طاقت رکھتے تم اپنے آپ سے تکلیف کو ہٹانے اور نہ مدد کی ، اور جو ظلم کے گا تم میں سے ہم چکھائیں گے اس کو بڑا عذاب

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور نہیں بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے رسول مگر یہ کہ وہ البتہ کھانا کھاتے تھے ، اور چلتے تھے بازاروں میں ، اور بنایا ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے آزمائش ، کیا تم صبر کرتے ہو ، اور تیرا پروردگار ، سب کچھ دیکھتا ہے

ربطہ آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے بطور وحی منزل من اللہ ہونے کا ذکر کیا ۔ اس سے پہلے توحید کا بیان ہوا ۔ رسالت کے باب میں ان معترضین کے اعتراضات کا جواب دیا جو کہتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترا جو اس کی تصدیق کرے ۔ اس رسول کے پاس خزانے اور باغات کیوں نہیں ، بعض بد بخت آدمی رسول کو سحر زدہ کہنے سے بھی نہ چوکتے ۔ اللہ نے ان تمام اعتراضات کو مسترد کردیا اور فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو اپنے نبی کو معترضین کی فرمائش سے بڑھ کر بھی عطا کر دے ۔ مگر ان لوگوں کا اعتراض محض اس وجہ سے ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور جو شخص قیامت کا انکار کرتا ہے وہ ایمان کے باقی اجزاء کا بھی منکر ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے قیامت والے دن کی سختی اور تلخی کا ذکر فرمایا اور یہ بھی کہ منکرین توحید ، رسالت اور وحی الٰہی کا اس دن بہت برا حال ہوگا ۔ اب آج کی ابتدائی آیات میں قیامت والے دن خود ساختہ معبود ان اور ان کے متبعین سے سوال و جواب کا تذکرہ ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ویوم یحشرھم وما یعبدون من دون اللہ اور جس دن اللہ تعالیٰ ان کو اور اللہ کے اور ان کے خود ساختہ معبود سب میدان محشر میں جمع کیے جائیں گے۔ اللہ کے سوا معبودوں میں انبیاء ، اولیاء ، فرشتے اور جنات بھی ہوں گے ۔ تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہوگا فیقول اور کہے گاء انتھم اضللتھم عبادی ھولاء کیا دنیا میں تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا ۔ یہ لوگ تمہاری پرستش کرتے تھے ، کیا تم نے اپنی پوجا کا حکم دیا تھا ، اور انہیں شرک میں مبتلا کیا تھا ؟ امر ھم ضلوا السبیل کا یا ۔ لوگ از خود راہ راست سے بھٹک گئے تھے ۔ سورة مائدہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست اس قسم کے سوال کا ذکر بھی آتا ہے۔ واذ قال اللہ یعسی ابن مریمء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ (آیت : 611) اللہ تعالیٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے سوال کریں گے کہ کیا تو نے ان لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لو ۔ تو حضرت مسیح (علیہ السلام) نہایت عاجزی کے ساتھ جواب دیں گے کہ پروردگار ! تیری ذات پاک ہے ، بھلا میں وہ بات کیسے کرسکتا ہوں جس کے کرنے کا مجھے حق نہیں ہے۔ تو یہاں بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عابدوں اور معبودوں کو جمع کر کے جب معبودوں سے سوال کریں گے قالوا تو وہ جواب میں کہیں گے سبحنک پروردگار ! تیری ذات پاک ہے ما کان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیاء یہ بات ہمارے لائق نہیں ہے کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو کار ساز بنائیں ۔ ہم تو خود تجھے ہی اپنا کار ساز مانتے رہے ہیں پھر بھلا ہم ان سے کیسے کہہ سکتے تھے کہ وہ ہمیں اپنا کار ساز تسلیم کرلیں ۔ مطلب یہ کہ مشرک لوگ دنیا میں جن مقربین الٰہی کو اپنا مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے رہے ، وہ قیامت والے دن اپنی معبودیت کا صاف انکار کردیں گے۔ وہ کہیں گے کہ ہم نے تو ان کو نہیں کہا تھا کہ ہمیں اپنا معبود بنا لو ۔ انہوں نے تو شیطان کے بہکاوے میں آ کر اور اپنی نفسانی خواہش کی بناء پر ہمیں اپنا کار ساز بنا لیا ۔ اس میں ہمارا کوئی دخل نہیں یہ ۔ پھر وہ مقربین بارگاہ الٰہی میں مزید عرض کریں گے کہ مولا کریم ! اصل بات یہ ہے کہ ولکن متعتھم واباء ھم کہ تو نے ان کو اور ان کے آبائو اجداد کو دنیا میں طرح طرح کا فائدہ پہنچایا ۔ ان کو اپنی نعمتوں سے نوازا ، اسباب معیشت مہیا کیے ، مال و متاع کی فروانی دی اور دنیا کی زندگی میں ان کو خوشحال بنایا حتیٰ نسو الذکر یہاں تک کہ یہ تیری یاد کو ہی بھول گئے ۔ یہ لوگ دنیا کی آسودگی اور عیش و عشرت میں اس قدر منہمک ہوگئے کہ اپنے پروردگار کو بھی بھلا بیٹھے وکانوا قوما بوراً اور یہ تباہ و برباد ہونے والے لوگ بن گئے ۔ انہوں نے انبیاء کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ، کسی کو نصیحت پر کان نہ دھرا ۔ تیری نعمتوں اور مہربانیوں کا غلط فائدہ اٹھاتے رہے۔ ان کے حصے میں ہلاکت کے سوا کچھ نہی آیا۔ بور کا معنی اس آیت میں آمدہ الفاظ قوما بورا کا ترجمہ ہلاک ہونے والے لوگ کیا ہے۔ ان معانی کی تصدیق بعض دوسرے ذرائع سے بھی ہوتی ہے مثلاً حضور ﷺ کی سکھائی ہوئی دعا میں یہ الفاظ آتے ہیں اللھم انی اعوذ بک من بورا الاقیم اے اللہ میں رانڈ ہونے کی تباہی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ عبد اللہ ابن زبعری ؓ عرب کا شاعر تھا۔ پہلے سخت مخالفین میں سے تھا مگر بعد میں اللہ نے ایمان کی دولت نصیب فرمائی۔ اس کے بعض اشعار میں بھی بورکا لفظ استعمال ہوا ہے۔ کہتا ہے 1 ؎ یا رسول الملیک ان لسانی راتق ما فتقت اذا اناابور اے اللہ کے پیغمبر اور بر حق رسول ! میری زبان اب ان چیزوں کو جوڑنے والی ہے ۔ جن کو میں توڑتا رہا ہوں جب کہ میں ہلاکت میں مبتلا تھا ۔ گویا جاہلیت میں نبی کی شان میں جو گستاخی کرتا تھا ، توحید کے خلاف مات کرتا تھا ، اب میں اپنے سابقہ گناہوں کی معافی طلب کرنا ہوں ۔ اب میری زبان سے حق و صداقت کی بات نکلے گی جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے والی بات ہو کی کہتا ہے کہ میں یہ اس وقت کی بات کر رہا ہوں۔ اذا جادی الشیطن فی سنن الغنی و من مال میلہ مشبور جب میں شیطان کے ساتھ گمراہی کے راستے پر چل رہا تھا۔ اور ان لوگوں نے راستے پر چل رہا تھا۔ جن کا میلان ہلاکت میں ڈال ہوا تھا۔ یعنی جو لوگ حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف چلے گئے تھے میں بھی ان کے پیچھے جا رہا تھا ، بہر حال بور کا معنی ہلاکت اور تباہی ہے۔ معبودان کا اعلان بیزاری جب مشرکین کے خود ساختہ معبودان اپنے متبعین سے اظہار بیزاری کردیں گے تو اللہ تعالیٰ ان متبعین سے فرمائے گا فقد کذبوکم بما تقولون تمہارے ان معبودان نے تمہاری بات کو جھٹلا دیا ہے تم کہا کرتے تھے کہ یہ تمہاری مدد کریں گے یا سفارش کر کے تمہیں بچا لیں گے اللہ نے ان کو اختیار دے رکھا ہے اور یہ لوگوں کی مشکلات حل کرتے ہیں ۔ انہوں نے تو آ ج تمہیں جھٹلا دیا ہے اور صاف کہہ دیا ہے کہ ہم تو خود اللہ کے سوا کسی کو کار ساز نہیں مانتے ، بھلا ہم دوسروں کو کیسے کہہ سکتے تھے کہ تم ہمیں کار ساز تسلیم کرلو ۔ فما تستطیعون صرفا آج حالت یہ ہے کہ تم اتنی بھی طاقت نہیں رکھتے کہ اپنے آپ سے کسی تکلیف کو ہٹا سکو ۔ اس کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کی گرفت کو دوسری طرف نہیں پھیر سکتے۔ ولا نصرا اور نہ ہی تم ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہو ، اور نہ کوئی دوسرا مختاری مدد کرسکتا ہے۔ تمہارے معبودان نے بھی تم سے بیزاری کا اعلان کردیا ہے۔ خود ساختہ معبودان کا اپنے متبعین سے بیزاری کا مضمون قرآن پاک کے مختلف مقامات پر بیان ہوا ہے ۔ سورة بقرہ میں ہے اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا (آیت 661) جب کہ متبوع اپنے متبعین سے برأت کا اظہار کردیں گے ، اور وہ عذاب کر دیکھیں گے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے ۔ متبوع صاف کہہ دیں گے کہ ہم نے تمہیں کب کہا تھا کہ ہمیں الٰہ تسلیم کرلو ۔ تم نے تو از خود یہ کام کیا ، لہٰذا آج نتائج کے ذمہ دار بھی تم خود ہو ۔ اس دن شیطان کا اتباع کرنے والے بھی مایوس ہوجائیں گے۔ وہ بھی کہہ دے گا فلا تلوا مونی ولو موانفسکم ( ابراہیم : 22) آج مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو ۔ میرا تم پر کوئی تسلط تو نہیں تھا ، میں تو نہیں برائی کی طرف ترغیب دیتا تھا۔ دوسری طرف اللہ کے نبی تمہیں نیکی کی ترغیب دیتے تھے اور عذاب الٰہی سے ڈراتے تھے ، مگر تم نے ان کی بات نہ مانی اور میرے جھانسے میں آگئے ۔ اب اپنی کار گزاری کا مزا چکھو ۔ فرمایا ومن بظلم منکم نذقہ عذاباً کبیر تم میں سے جو کوئی ظلم کا ارتکاب کریگا ۔ ہم اس کو بڑا عذاب چکھائیں گے ۔ ظلم میں ہر قسم کی تعدی شامل ہے مگر یہاں پر خاص طور پر عقیدے کا ظلم یعنی کفر اور شرک مراد ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے والکفرون ھم الظمون ( البقرہ : 452) کفر کرنے والے ہی برے ظالم ہیں نیز فرماں ان الشرک لظم عظیم (لقمان : 31) شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ مقصدیہ کہ اگرچہ حق بمعنی …نا حق جیسے بڑے بڑے ظلم ہیں مگر عقیدے کا ظلم ایسا ہے۔ جسکی کوئی معانی نہیں ۔ اسی لیے فرمایا کہ ہم ظالم کو بڑا عذاب چکھائیں گے۔ بشریت اب کلی آیت اس سابقہ آیت کے جواب میں ہے جس میں معترضین نے اعتراض کیا تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھاتا ، پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ تو اللہ نے فرمایا تو اللہ نے فرمایا وما ارسلنا قبلک من المرسلین الا انھم لیا کلون الطعام و یمشون فی الاسواق آپ سے پہلے ہم نے کوئی ایسے رسول نہیں بھیجے مگر وہ کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے ، مشرک اور کافر لوازمات بشریہ کو رسالت کے منافی سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہماری طرح کھانے پینے اور چلنے پھرنے والا رسول کیسے ہو سکتا ہے ، مگر اللہ نے ان کے اس باطل خیال کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ تمام انبیاء اور رسل انسان تھے اور ان میں تمام انسانی لوازمات منجملہ کھانا پینا ، سونا جاگنا ، صحت بیماری ، بیوی ، بچے ، رونا ہنسنا وغیرہ پائے جاتے تھے۔ اللہ نے سورة مائدہ میں حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کا ذکر کر کے فرمایا ہے کا تا یا کلن الطعام ( آیت : 57) دونوں کھانا کھاتے تھے جو کھانا کھاتا ہے اس کو قضائے حاجت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ تو یہ سب چیزیں لوازمات ِ بشریت میں سے ہیں جو تمام رسولوں میں پائی جاتی تھیں ۔ انبیاء ان چیزوں سے مستثنیٰ نہیں ہیں سورة الکہف میں صاف موجود ہے ۔ اللہ نے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے قل انما انا بشر مثلکم ( آیت : 011) آپ ان لوگوں پر واضح کردیں کہ میں تمہارے جیسا ہی ایک انسان ہوں ۔ میں اپنے والدین کے گھر پیدا ہوا ۔ میرے بیوی بچے ہیں ، میں کام کاج کرتا ہوں ، بازار سے سودا سلف خریدتا ہوں۔ اس میں کون سی عیب والی بات ہے۔ ہاں میری خصوصیت یہ ہے کہ اللہ نے مجھے تمام امت پر شرف عطاء فرمائے ہے۔ مجھے معصوم عن الخطاء اور پاکیزہ کردار کا مالک بنایا ہے۔ اللہ نے سارے نبیوں کو خطاب فرمایا ہے یایھا الرسل کلوا من الطیب واعملوا صالحا ً ( المومنون : 15) کہ اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھائو اور نیک اعمال انجام دو ۔ یہی صفت اللہ نے ایمان والوں کی بھی بتلائی ہے کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰـکُمْ وَاشْکُرُوْا ِ اللہ ِ (البقرہ : 271) لوگو ! ہماری عطا کردہ حلال اور پاکیزہ چیزیں کھائو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ بازار میں جانا بازار میں جانا بذاتہٖ کوئی عیب والی بات نہیں ۔ ضرورت کے مطابق دکانداری کے لیے سودا سلف خریدنے کے لیے بازار میں جانا ہے تو اس میں کوئی حروج نہیں ہے۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ بازار کے مقابلے میں اللہ نے مسجد کو بہت زیادہ فضلیت عطا فرمائی ہے ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ نے یوں فرمایا ہے شر البقاع اسوا قھا و خیر البقاع مساجد ھا ( مسند احمد) یعنی بد تر خطے بازار ہیں اور بہترین خطے مساجد ہیں ۔ بازاروں کی قباحت اس وجہ سے ہے کہ وہاں تجارت کے دوران دھوکہ کا فریب اور غلط بیانی کا ارتکاب ہوتا ہے۔ جھوٹی قسمیں کھائی جاتی ہیں ۔ وگرنہ ضرورت کے تحت بازار میں جانا معیوب نہیں ہے۔ امام ترمذی نے حضرت عمر ؓ سے یہ روایت بیان کی ہے جسے ابو دائود طیاسی نے بھی روایت کی ہے۔ کہ جس شخص نے بازار میں داخل ہو کر یہ دعا پڑھی لا الہ اللہ وحدہٗ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحی و یمیت و ھو حتیٰ لا یموت بیدہ الخیر وھوعلی کل شی قدیر تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکی لکھ دیگا ۔ اس کے ایک لاکھ چھوٹے گناہ معاف کر دے گا اور ایک لاکھ درجات بلند فرمائے گا گویا بازار میں داخل ہو کر انسان اتنی نیکیاں بھی کما سکتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ اپنے ایک شاگرد کے ہمراہ بازار جانے کے لیے تیار ہوئے تو شاگرد نے عرض کیا ، حضرت ! آپ نے کوئی خریداری تو کرنی نہیں ، پھر یہیں بیٹھ کر درس و تدریس کا کام کریں ۔ فرمانے لگے ۔ (1 ؎ قرطبی ص 71 ج 31) (فیاض) تمہیں سمجھ نہیں ، ہم بازار میں سودا خریدنے کے لیے نہیں جاتے بلکہ وہاں ہمیں بہت سے لوگ ملتے ہیں جن کو ہم سلام کرتے ہیں ایک دفعہ السلام علیکم رحمتہ اللہ و برکاتہٗ کہنے سے تیس نیکیاں حاصل ہوتی ہیں ، لہٰذا یہ کوئی برا سودا نہیں ہے اگر کوئی شخص بازار میں غلط کام کے لیے جاتا ہے تو وہ اس کے لیے باعث وبال ہوگا ۔ ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ آگے ارشاد ہے۔ وجعلنا بعضکم لبعض فتنۃ ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے ذریعہ آزمائش بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے مثلا ً اللہ کے نبی منکرین کے لیے آزمائش کا ذریعہ ہیں اور وہ نبی کے لیے ذریعہ آزمائش ہیں ۔ جب کافر اور مشرک طعن اور تشنیع اور بیہودہ اعتراض کرتے ہیں ۔ توہین آمیز باتیں کرتے ہیں تو یہ چیزیں اللہ کے نبی اور اہل ایمان کے لیے آززائش ہوتی ہیں کہ وہ کس حد تک صبر سے کام لیتے ہیں ۔ اسی طرح اللہ کے نبی اور اہل ایمان نافرمانوں کے لیے ذریعہ آزمائش ہیں کہ وہ ان کی اطاعت کر کے اپنے لیے آخرت کا سامان پیدا کرتے ہیں یا نافرمانی کرکے ہمیشہ کی ناکامی کا منہ دیکھتے ہیں ۔ اسی طرح فقیر دولت مند کے لیے آزمائش کا ذریعہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے حقوق ادا کرتا ہے یا نہیں ۔ اور فقیر اس لحاظ سے مبتلائے آزمائش ہوتا ہے کہ وہ اس حالت میں صبر کا دامن تھامتا ہے یا جزع فزع کرتا ہے ۔ چناچہ بیمار تندرست کے لیے اور صحت مند مریض کے لیے ذریعہ آزمائش ہے۔ بادشاہ رعیت کے لیے اور رعیت حاکم کے لیے آزمائش کا ذریعہ ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اب یہ تم پر موقوف ہے کہ اس آزمائش میں کس حد تک پورا اترتے ہو۔ فرمایا : اس آزمائش کا مقصد یہ دیکھنا ہے اتصبرون کہ کیا تم صبر کرتے ہو ؟ ہر شخص کسی نہ کسی طرح امتحان سے گزر رہا ہے ۔ کیا اہل ایمان کفار کی ایذا رسانیوں پر صبر کرتے ہیں یا نہیں ؟ اور کیا عام لوگ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت پر اس کا شکر یہ بھی ادا کرتے ہیں یا نہیں ؟ غرضیکہ کوئی بھی شخص آزمائش سے مستثنیٰ نہیں ۔ فرمایا وکان ربک بصیر ًتیرا پروردگار تجھے ہر آن دیکھ رہا ہے ۔ تمہارا ہر عمل اور کائنات کی ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے وہ انسانوں کی نیت اور ارادے کو بھی جانتا ہے اور پھر وہ ہر ایک کے ساتھ اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق ہی سلوک کریگا۔ نظریہ مساوات اس آیت سے موجودہ زمانے کا نظریہ مساوات بھی باطل ثابت ہوتا ہے اللہ نے انسانوں کی صلاحیت اور استعداد یکساں نہیں رکھی ، اسی لیے ان کے اشغال بھی یکساں نہیں ، جب ان کی ذہانت بھی یکساں نہیں تو پھر ان میں مساوات کیسے قائم کی جاسکتی ہے ؟ اصل مسئلہ معیشت کا ہے جسے قرآن اور حضور ﷺ کی سنت نے بیان کیا ہے کہ ہر انسان بلکہ ہر جاندار کو حق معیشت حاصل ہونا چاہیے اور کوئی بھی اس حق سے محروم نہیں رہنا چاہئے کیونکہ یہ فطرت کے خلاف ہے ۔ کوئی انسان بھوکا کا ننا نہیں رہنا چاہئے۔ ہر ایک کو مکان ، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات ملنی چاہیں ۔ تا ہم جہاں تک درجات کا تعلق ہے یہ برابر نہیں ہو سکتے ۔ ہر شخص کو اس کی قابلیت کے مطابق ہی مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب بنی نوع انسان کی تمام ارواح کو آدم (علیہ السلام) کے سامنے حاضر کیا گیا تو انہوں نے عرض کیا ، پروردگار ! لولا سویت بین عبادک تو نے اپنے بندوں کے درمیان مساوات کیوں نہیں قائم کی ۔ کوئی بھاری بھر کم ہے ، کوئی کمزور ، کوئی صحت مند اور کوئی بیماری ، کوئی امیر ہے اور کوئی غریب ، کوئی گورا ہے اور کوئی کالا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اگر میں ان سب کو برابر کردیتا تو مجھے پہنچاننے والا کوئی نہ ہوتا بلکہ سب کے سب نافرمان ہوجاتے ۔ حضور ﷺ کا فرمان 1 ؎ (معالم التنزیل ص 19 ج 3 و خازن ص 79 ج 5 ( فیاض) مبارک ہے اذا نظر احد کم الیٰ من فض علیہ فی المسال و الجسم جب تم میں سے کوئی شخص ایسے شخص کو دیکھے جو تم میں مال اور جسم میں فضلیت رکھتا ہے ، یعنی اللہ نے اس کو مال بھی زیادہ دیا ہے اور صحت بھی اچھی عطا کی ہے ، تو فرمایا فلینظر الی من ھو اسفل منہ تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے سے کم تر آدمی کی طرف دیکھے۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ اگر ایسا کرو گے تو الا تذدروا نعمۃ اللہ اللہ کی نعمت کو حقیر نہیں سمجھو گے ۔ بلا شبہ تم سے اعلیٰ حیثیت کے لوگ بھی ہیں مگر تم سے کمزور ، نادار اور مفلس لوگ بھی تو ہیں ۔ ان کی طرف دیکھو گے تو اپنی حالت پر اللہ کا شکر ادا کرو گے ، اور اگر اوپر والوں کی طرف ہی دیکھتے رہے تو پھر ناشکر گزاری میں مبتلا ہو کر اللہ کی نعمتوں سے محروم ہو سکتے ہو۔
Ayahs 25:21–29

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور کہا ان لوگوں نے جو نہیں رکھتے تھے ہماری ملاقات کی کہ کیوں نہیں اتارے جاتے ہم پر فرشتے ۔ یا ( کیوں نہیں) دیکھتے ہم اپنے پروردگار کو ( فرمایا) البتہ تحقیق انہوں نے تکبر کیا ہے اپنے نفسوں میں اور سر کشی کی ہے۔ انہوں نے حد سے زیادہ بڑی سر کشی

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن دیکھیں گے یہ فرشتوں کو انہیں خوشخبری ہوگی اس دن مجرموں کے لیے اور کہیں گے کاش کہ ہمارے درمیان کوئی آڑ کھڑی ہوتی

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور ہم متوجہ ہوں گے ان کاموں کی طرف جو انہوں نے کیے ہیں ، پھر ہم کردیں گے اس کو ذرات بکھیرے ہوئے

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

جنت والے لوگ اس دن بہتر ہوں گے ٹھکانے کے اعتبار سے اور بہتر ہوں گے آرام کی جگہ کے اعتبار سے

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان بادل کے ساتھ ، اور اتارے جائیں گے فرشتے لگا تار

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

بادشاہی اس دن سچی خدائے رحمان کے لیے ہوگی ۔ اور وہ دن کافروں پر بہت دشوار ہوگا

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن کاٹیں گے ظالم لوگ اپنے ہاتھوں کو ( افسوس کی وجہ سے) اور کہیں گے کاش کہ میں نے پکڑ لیا ہوتا رسول کے ساتھ راستہ

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

اے خرابی ! کاش کہ میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

البتہ تحقیق اس نے گمراہ کیا مجھے نصیحت سے جب کہ میرے پاس وہ ( نصیحت) آئی ۔ اور شیطان ہے انسان کے لیے دغا دینے والا

ربطِ آیات اس سورة مبارکہ میں تمام بنیادی عقائد بیان کیے گئے ہیں ، میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں ۔ قیامت اور جزائے عمل کا سلسلہ ہے نبوت و رسالت کا بیان اور اس پر اعتراض کرنے والوں کے باطل شکوک کا ازالہ ہے اس کے علاوہ دیگر بہت سی اخلاقی تعلیمات ہیں مگر زیادہ تر نبوت و رسالت کا بیان ہے کافر اور مشرک لوگ نبی آخر الزمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ ان کے نزدیک بشریت نبوت و رسالت کے منافی تھی ۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ حضور ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول دنیا میں آئے وہ سب کے سب انسان تھے ۔ وہ سارے کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے تھے۔ یہ چیز نبوت کے منافی نہیں ہے۔ فرمایا ان لوگوں کے انکار نبوت کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کا انکار کر کے بیباک ہوگئے ہیں اور اس قسم کے بیہودہ اعتراضات کرتے ہیں ۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے پہلے مشرکین کا شکوہ بیان کیا ہے ، اور پھر قیامت کو پیش آنے والے بعض واقعات کا اجمالی خاکہ پیش کیا ہے۔ فرشتوں اور …سے ملاقات کی خواہشات ارشاد ہوتا ہے وقا ل الذین لا یرجون لقاء نا اور کہا ان لوگوں نے جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی ، یعنی جن کو بعثت بعد الموت پر یقین نہیں ہے اور مرنے کے بعد انہیں بارگاہ رب العزت میں پہنچنے کی کوئی توقع نہیں ۔ رجیٰ کا معنی امید بھی ہوتا ہے اور خوف بھی ۔ گویا نہ انہیں خدا تعالیٰ کے روبرو پیش ہو نیکی امید ہے اور نہ خوف ، وہ گستاخی کے یہ کلمے کہتے تھے لو لا انزل علینا الملئکۃ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے ۔ اگر نبی پر فرشتے وحی لاتے ہیں تو وہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتے تا کہ ہمیں بھی یقین ہوجائے کہ وہ واقعی خدا کا پیغام لاتے ہیں اوتری ربنا یا ہم خود اپنے پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور اس سے ہم کلام ہوں ۔ گویا کفار و مشرکین نے ایمان لانے کے لیے فرشتوں اور خدا تعالیٰ کو اپنے سامنے لا کھڑا کرنے کی شرط عائد کردی ۔ فرمایا لقد استکبروا فی انفسھم انہوں نے یہ بات کر کے اپنے جی میں کس قدر تکبر کیا کہ وہ فرشتوں اور خدا کو اپنی پیشی میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ فرمایا یہ مطالبہ کر کے وعتوعتوا کبیرا انہوں نے حد سے بڑھ کر سر کشی کا ارتکاب کیا ۔ کام تو ان کے کفر اور شرک والے ہیں مگر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ سے براہ راست ہم کلام ہونے کا اہل سمجھتے ہیں ۔ یہ بڑی بےادبی اور گستاخی کی بات ہے۔ بروقت موت فرشتوں سے ملاقات اللہ نے فرمایا کہ ان کو فرشتوں سے ملاقات کا شوق ہے تو ہم ان کا یہ شوق بھی پورا کردیں گے ۔ جب ان کی موت کا وقت قریب آئے گا ۔ اور پھر ایسا ہوگا یوم یرون الملئکۃ جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے لا بشری یومئذ للمجرمین اس دن مجرموں کے لیے خوش خبری کا کوئی موقع نہیں ہوگا ۔ فرشتے موت کے وقت بھی نظر آتے ہیں اور برزخ میں بھی ۔ قرآن پاک میں ہے کہ جب کفار و مشرکین کی موت کا وقت قریب آتا ہے یَضْرِبُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَاَدْبَارَہُمْ ( محمد : 72) تو فرشتے ان کو چہروں اور پشتوں پر مارتے ہیں ۔ ان پر دہشت طاری ہوتی ہے اور اس حالت میں ان کی روحوں کو نکالتے ہیں پھر ان کو اگلا خطرہ بھی نظر آنے لگتا ہے۔ اس وقت یہ لوگ ویقولون حجراً مجوراً کہتے ہیں ۔ کاش ہمارے اور اس خوفناک منظر کے درمیان کوئی آڑ ہوتی اور ہمیں یہ خوفناک منظر دیکھنا نہ ہوتا ۔ بعض 1 ؎ مفسرین فرماتے ہیں کہ یقولون کا فاعن فرشتے بھی ہو سکتے ہیں اگر ایسا ہو تو پھر معنی یہ ہوگا کہ اس دن فرشتے ان منکرین سے کہیں گے کہ آج تمہارے اور بہتری (ابن کثیر ص 413 ج 3 (فیاض) کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی ہے ۔ آڑ کھڑی کردی گئی ۔ اب تم بہتری کی بات تک کبھی نہیں پہنچ سکو گے تم نے اس کا موقع دنیا میں ضائع کردیا ، اب تمہیں کبھی کامیابی نصیب نہیں ہو سکتی ۔ اعمال کا ضیاع فرمایا وقد منا الی ما عملوا من عمل اور ہم متوجہ ہوں گے ان کے کردہ اعمال کی طرف ۔ دنیا میں رہ کر اگر انہوں نے کوئی نیک عمل بھی کیا ہوگا تو ان کے کفر اور شرک کی وجہ سے فجعلنہ ھباء منثورا ہم انہیں بکھرے ہوئے ذرات کی مانند نابود کردیں گے۔ اور ایسے اعمال کا انہیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔ دوسرے مقام پر ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا فَحَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَـلَا نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا (الکہف : 501) ان کے تمام اعمال ضائع ہوجائیں گے اور وہاں میزان قائم کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی ، چونکہ ان لوگوں کے پاس ایمان اور توحید نہیں ہوگی۔ لہٰذاہم ان کے اچھے اعمال بھی ذرات کی طرح پر اکندہ کردیں گے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ قیامت والے دن بعض لوگوں کے اعمال پہاڑوں جیسے بڑے بڑے ہوں گے مگر انہیں ان کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔ آپ سے پوچھا گیا کہ یہ کون لوگ ہوں گے ؟ تو فرمایا کہ وہ ایسے لوگ ہوں گے جو دنیا میں نماز ، روزے کے پابند تھے مگر حلت و حرمت میں امتیاز نہیں کرتے تھے ، جونہی ان کے سامنے کوئی حرام چیز آئی تھی تو اسے بےدریغ استعمال کرلیتے تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے سارے اعمال ہی غارت کردیے۔ فرمایا : اس کے بر خلاف اصحب الجنۃ یومئذ خیر مستقر اس دن اہل جنت ٹھکانے کے اعتبار سے بھی بہتر ہوں گے واحسن مقیلاً اور آرام کے اعتبار سے بھی اچھے ہوں گے ۔ مستقر مستقل ٹھکانے کو کہتے ہیں اور مقیل آرام کرنے کی جگہ کو جیسے کوئی دوپہر کے وقت تھوڑی دیر کے لیے قیلولہ کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ منکرین کے مقابلے میں اطاعت گزاروں کی ہر طرح کا آرام و آسائش حاصل ہوگا اور انہیں کوئی پریشانی لا حق نہیں ہوگی۔ نزول ملائکہ کفار و مشرکین کے نزول ملائکہ کے مطالبہ کے پیش نظر فرمایا و یوم تشقق السماء بالغمام اور جس دن بادل کے ساتھ آسمان پھٹ جائے گا ، یعنی قیامت کی گھڑی آن پہنچے گی تو آسمان دریچے دریچے ہوجائیگا۔ غمام بادل کو کہتے ہیں اور اس کی حقیقت کے متعلق بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی خصوصی تجلی یا نورانیت ہوگی ۔ جس کی شکل لطیف بادلوں جیسی ہوگی ۔ پھر اس وقت ونزل الملئکۃ تنزیلا ان بادلوں جیسی تجلی سے فرشتے لگا تار اتریں گے۔ میدان محشر برپا ہوگا اور فرشتے اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر حاضر ہوجائیں گے۔ سلطنت خداوندی فرمایا اس دن کی کیفیت یہ ہوگی الملک یومئذ الحق للرحمن اس دن سچی بادشاہ خدائے رحمان کے لیے ہوگی ۔ بادشاہی تو آج بھی پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ ہی کی ہے مگر اس دنیا میں اللہ نے مجازی طور پر بعض بادشاہوں کو محدود علاقے میں محدود اختیار بھی دے رکھے ہیں ۔ دنیا میں بیش شمار چھوٹی موٹی سلطنتیں اور جاگیریں ہیں جہاں لوگوں کا سکہ چلتا ہے مگر جب قیامت برپا ہوگی تو پھر اللہ کے سوا نہ کوئی حقیقی بادشاہی باقی رہے گی اور نہ کوئی مجازی سلطنت ہوگی نہ کوئی سپر طاقت ہوگی اور نہ زیر دست حکومت ، ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کا کوئی تصور باقی نہیں رہے گا اور نہ کسی داخلی اور خارجی مختاری کی بات ہوگی ۔ بلکہ ظاہری باطنی ، حقیقی ، مجازی غرضیکہ ہر طرح کی سلطنت صرف خدا تعالیٰ کی ہوگی ۔ وکان یوما علی الکفرین عیسرا اور کافروں کے لیے یہ دن بڑا ہی دشوار ہوگا ۔ ان کے اعمال ان کے سامنے کردیئے جائیں گے اور پھر ان سے ذرے ذرے کا حساب لیا جائے گا ۔ اس دن حالت یہ ہوگی کہ یوم بعض الظالم علی یذید کہ ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹیں گے ۔ یقول اور نہایت افسوس کے ساتھ کہیں گے یلتی اتخذت مع الرسول سبیلا کاش کہ میں نے دنیا میں رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا ۔ وہاں تو میں اللہ کے نبیوں کی تکذیب کرتا رہا نیکی رسالت پر بیہودہ اعتراض کرتا رہا ، ان کو تکلیفیں پہنچاتا رہا ۔ کاش کہ میں انکے راستہ پر چلتا تو آج ذلیل و خوار نہ ہوتا ۔ ایک تو ابنیاء سے دور رہنے (1 ؎۔ تفسیر ابن کثیر ص 613 ج 3 (فیاض) کی وجہ سے حسرت کریگا اور دوسری بات یہ کریگا یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا ً خلیلاً ہائے میری خرابی ! افسوس ، میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا ۔ دنیا میں نبی کو چھوڑ کر دوسروں کو پیشوا بنایا ۔ ان کی رہنمائی میں زندگی میں غلط راستے پر چلتا رہا ، خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کی لیڈری چمکاتا رہا ، مگر اب پتہ چلا کہ وہ سب دھوکہ تھا ۔ کاش کہ ان کی بجائے نبی کے بتائے ہوئے راستے کو اختیار کرتا تو آج کامیاب و کامران ہوتا۔ پھر ظالم شخص حسرت کے ساتھ یہ بھی کہے گا ۔ لقد اضلنی عن الذکر بعد از جاء فی جب میرے پاس نصیحت آئی ۔ خدا کا کلام آیا ، نبی کا فرمان آیا تو ان بد بخت نام نہاد رہنمائوں نے مجھے گمراہ کردیا ۔ میں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو چھوڑ کر ان کے پیچھے چل پڑا تو آج یہ روز بددیکھنا نصیب ہوا ۔ کاش کہ میں ان جھوٹے خدائوں کے بہکاوے میں نہ آتا۔ یہ سارا شیطان ہی کا بہکاوا تھا۔ وکان الشیطن للانسان خذولا اور شیطان تو انسان کے حق میں سراسر دھوکہ دینے والا ہے ، وہ تو دغا باز ہے جس نے مجھے پھسلا کر غلط راستے پر ڈال دیا۔ مجھے نصیحت سے بیگانہ رکھا اور برائیوں کی طرف مائل کردیا۔ اچھی اور بری خبر حدیث شریف 1 ؎ (1 ؎ السراج انمیر ص 756 ج 2 ۔ میں آتا ہے کہ صالح ہم نشین کستوری والے کی مانند اس کے پاس بیٹھو گے تو کستوری خریدو گے جو کہ اچھی چیز ہے ۔ اور اگر نہ بھی خریدو تو کم از کم اس کی خوشبو پائو گے ۔ اور برے ہم نشین کی مثال بھی ڈالے کی ہے اس کے پاس بیٹھے سے اول تو چنگاریوں سے کپڑے جلا بیٹھو گے ورنہ دھواں اور بدبو تو بہر حال تمہارے حصے میں آئے گی ۔ 2 ؎ 2 ؎ السراج المنیر ص 756 ج 2 و خازن ص 001 ج 5 ( فیاض) ترمذی شریف اور مسند احمد کی روایت میں آتا ہے لا تصاحب الامومنا صرف مومن کی رفاقت اختیار کرو کسی غلط آدمی کے قریب نہ جائو مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ کافر ، مشرک اور دہریے کے ساتھ دوستی اور ہم نشینی پر فخر کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہمارے اور ان کے خیالات یکساں ہیں ۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے ؟ کجا ایک مرد مومن کے پاکیزہ خیالات اور کجا ایک کافر کے باطل خیالات ، اسی لیے فرمایا کہ مومن کے سوا کسی دوسرے کی رفاقت اختیار نہ کرو ۔ حدیث 1 ؎ (1 ؎ خازن ص 001 ج 6 ) میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں لا یا کل طعامک الا تقی تمہارا کھانا صرف متقی آدمی کو کھانا چاہئے ۔ کسی نیک آدمی کی محبت کے ساتھ دعوت کرو گے تو اس کی وجہ سے اس میں توانائی آئے گی ۔ وہ خدا کی عبادت کرے گا تو اس میں سے تمہیں بھی حصے ملے گا ۔ وہ دعا کرے گا تو تمہاری دعا بھی مستجاب ہوگی ۔ حضور ﷺ کسی شخص کے ہاں کھانا کھاتے تو اس کے حق میں دعا فرماتے کہ اللہ تعالیٰ برکت عطا کرے۔ اس کے بر خلاف اگر فاسق فاجر لوگوں کو کھلائو گے تو وہ لہو و لعب میں مشغول ہوں گے۔ نافرمانی کے کام کریں گے اور ان کی برائی میں تمہارا حصہ بھی ہوگا ۔ صحبت کا اثر حضور ﷺ نے بری رفاقت سے بھی منع فرمایا ہے۔ ایک حدیث 2 ؎ (السراج منیر ص 756 ج 3 و خازن ص 011 ج 5 ترمذی ص 443 (فیاض) میں آپ کا فرمان ہے المرء علی دین خلیلہ آدمی اپنے دوست کے مذہب پر ہوا کرتا ہے۔ فرمایا تم میں سے ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس کی دوستی کس کے ساتھ ہے ۔ اگر بد عقیدہ ، بد عتی اور مشرک کے ساتھ دوسی کرو گے تو تمہارا عقیدہ بھی خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ مرزائی ، عیسائی ، یہودی اور دہریے کی صحبت اختیار کروگے تو تم پر بھی ویسا ہی اثر ہوگا اور اکثر پاکیزہ اور دین دار لوگوں کے پاس بیٹھو گے تو تمہارا عقیدہ بھی پاکیزہ ہوگا ۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا المرء مع من احب انجام کے اعتبار سے آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس کی محبت ہوگی بزرگان دین کا بھی مقولہ ہے صحبۃ الاشرار ثورث بغض الاخیار یعنی اگر تم برے لوگوں کی صحبت اختیار کرو کے تو نیک لوگوں کے لیے تمہارے دل میں نفرت پیدا ہوگی ۔ حضرت مالک ابن دینار (رح) فرماتے ہیں۔؎ (1 ؎ تفسیر روح البیان ص 602 ج 6 (فیاض) نقل الاحجار مع الابرار خیر من الکل الخبیص مع الفجار یعنی نیک لوگوں کے ساتھ پتھر اٹھانے جیسی سخت محنت کرنا اس بات سے بہتر ہے کہ کوئی شخص برے لوگوں میں بیٹھ کر حلوہ کھانے ، مطلب یہ کہ نیک لوگوں کی رفاقت بہر حال انجام کے لحاظ سے بہتر ہے اگرچہ بری مجلس میں بظاہر کوئی فائدہ بھی نظر آتا ہو۔
Ayahs 25:30–34

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور کہا اللہ کے رسول نے اے میرے پروردگار بیشک میری قوم نے بنا لیا ہے اس قرآن کو ترک کیا ہو

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی رح ہم نے بنائے ہیں یہ ایک نبی کے لیے دشمن مجرموں میں ہے اور کافی ہے تیرا پروردگار دیت دینے والا اور مدد کرنے والا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ کیوں نہیں اتارا گیا اس پر قرآن ایک ہی دفعہ ؟ اسی طرح اتارا ہے ہم نے اس کو تا کہ ثابت رکھیں ہم اس کے ساتھ آپ کے دل کو اور ہم نے اس کو اتارا ہے آہستہ آہستہ

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور نہیں لاتے یہ لوگ تیرے پاس کوئی مثال مگر لاتے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بہتر تفسیر

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

وہ لوگ جو اٹھائے جائیں گے اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف یہ لوگ ہیں برے ٹھکانے کے اعتبار سے ، اور زیادہ گمراہ ہیں راستے کے اعتبار سے

ربطِ آیات یہ آیات بھی گزشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا شکوہ کیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے ۔ نیز اللہ تعالیٰ خود ان کے سامنے کیوں نہیں آتا ؟ اللہ نے جواباً فرمایا کہ یہ لوگ بڑی گستاخی کی بات کرتے ہیں ۔ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب فرشتوں کے ظاہر ہونے کا وقت آئے گا تو اس دن ان مجرموں کا بہت برا حال ہوگا ۔ وہ افسوس کے ساتھ اپنے ہاتھ کاٹیں گے اور کہیں گے کاش کہ ہم نے رسول کے ساتھ راستہ پکڑا ہوتا ۔ اس کی اتباع کی ہوتی اور اس کے بجائے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا ۔ یہ سب شیطان کا بہکاوا ہے وہ انسان کو دھوکہ دیکر ذلیل و رسوال کرتا ہے۔ بہر حال اس دن مجرم لوگ اپنے کیے پر پشیمان ہوں گے اور افسوس کا اظہار کریں گے مگر اس وقت ان کا پچھناتا کسی کام نہیں آئے گا ۔ ترک قرآن پر گواہی کفار و مشرکین ایک طرف تو رسالت کا انکار کرتے تھے اور دوسری طرف قرآن کو خود ساختہ بتلا کر اس سے اعراض کرتے تھے ۔ تو اللہ نے اس سلسلے میں حضور ﷺ کی اس شکایت کا ذکر کیا ہے جو وہ قیامت کے روز بارگاہ رب العزت میں پیش کریں گے۔ ارشاد ہوتا ہے وقال الرسول اور اللہ کا رسول کہے گا یرب ان قومی اتخذو ھذا القرآن مھجورا اے میرے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن پاک کو پس پشت ڈال دیا ۔ اے مولا کریم ! میں ان کو تیرا قرآن سناتا تھا یہ اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے تھے بلکہ کہتے تھے لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُوْنَ (حم السجدۃ : 62) اس قرآن کو مت سنو بلکہ شورشرابہ کرو تا کہ تم غالب آ سکو ۔ قرآن کو شاعری کہتے ، کبھی کہانت اور کبھی پہلے لوگوں کے قصے کہانیوں سے تعبیر کرتے ۔ تو اس طرح خود صاحب قرآن اس سے اعراض کرنے والوں کے خلاف گواہی دیں گے۔ مجہور کا عام معنی تو متروک ہی ہے کہ منکرین نے اس کو ترک کردیا نہ اس کو سنا ، نہ سمجھا اور نہ اس پر عمل کیا ۔ اور اگر یہ ہجر کے مارے سے ہو تو اس کا معنی بیہودہ کلام بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ کافر لوگ اس کو کلام الٰہی تسلیم کرنے کی بجائے اسے بیہودہ کلام سمجھتے تھے ( العاذ باللہ) بہر حال جس دن منکرین قرآن کے خلاف اللہ کے رسول کی شہادت ہوگی ۔ اس دن ان کا برا حال ہوگا ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ کفار کی طرف سے ترک قرآن تو سمجھ میں آتا ہے کہ انہوں نے سرے سے اس کو تسلیم ہی نہ کیا ۔ لیکن اس کو بر حق تسلیم کرکے اس کے پروگرام پر عمل نہ کرنا بھی قرآن پاک کے عملی ترک پر دلالت کرتا ہے ۔ اس میں اہل ایمان بھی آجائیں گے جو اس کے احکام پر عمل پیرا نہ ہوئے یا جنہوں نے عملی طور پر اس کے پروگرام کی مخالفت کی ۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے خلاف بھی اللہ کے رسول اور خود قرآن کی گواہی ہوگی ۔ حدیث شریف 1 ؎ (1 ؎۔ مسلم ص 811 ج 1 ( فیاض) میں حضور ﷺ کا فرمان ہے الفرقان حجۃ لک و علیک قرآن تیرے حق میں یا تیرے خلاف گواہی دے گا ۔ اگر دنیا میں اس کو مان کر اس کے پروگرام کو عملی شکل دی ہے تو پھر تو یہ آدمی کے حق میں بطور گواہ پیش ہوگا اور اگر اس سے روگردانی کی ہے یا اس کی مخالفت کی ہے تو پھر یہ اس شخص کے خلاف گواہی دے گا اور بارگاہ ایزدی میں شکایت کرے گا کہ اس شخص نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ۔ حضور ﷺ نے اس سلسلہ میں یہ دعا بھی سکھائی ہے۔ اللھم لا تجعل القرآن حجۃ علینا واجعلہ حجۃ لنا اے مولا کریم ! اس قرآن کو ہمارے خلاف دلیل نہ بنا بلکہ اسے ہمارے حق میں دلیل بنا دے۔ خود قرآن بھی آدمی کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دے گا جس نے اس کو تسلیم کیا اور پھر اس کے احکامات پر عمل کیا ۔ قرآن اس کے حق میں گواہی دیگا بلکہ ہر ہر سورة اور ہر ہر آیت اپنے قاری کے حق میں سفارش کرے گی ۔ اور جس شخص نے ایمان لانے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا ۔ قرآن اس کے خلاف گواہی دے گا ۔ اس زمانے میں تو کوئی شاذ لوگ ہی ہیں جو قرآن پر عمل پیرا ہیں وگرنہ تسلیم کرنے کے باوجود لوگوں کی اکثریت اس کے کسی شعبے پر بھی عمل نہیں کرتی بلکہ اس کے خلاف چلتے ہیں۔ قرآن کی تعلیم حاصل نہ کرنا ، اس کی تلاوت اور اس میں غور و فکر سے گریز اور اس کی عدم تصدیق وغیرہ اس کو ترک کرنے کے مترادف ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قرآن اور صاحب قرآن ایسے لوگوں کے خلاف گواہی دیں گے۔ یہود و نصاریٰ تو قرآن کو کلام الٰہی تسلیم ہی نہیں کرتے لہٰذا ان کی طرف سے اس پر عمل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر افسوس تو ان اہل ایمان پر ہے جو اس کو خدا کا آخری کلام مانتے ہوئے بھی اس سے اعراض کر رہے ہیں ۔ اسی اعراض کی وجہ سے تو ذلت آتی ہے حضور ﷺ کا فرمان 1 ؎ (1 ؎۔ مسلم ص 272 ج 1 ( فیاض) ہے ان اللہ یرفع بھذا الکتب اقواماً ویضع بہ اخرین اس قرآن پاک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بعض اقوام کی بلندعطا کرتا ہے اور بعض کو پست کردیتا ہے ۔ جس نے اس پر عمل کیا وہ ترقی کی منازل طے کر گیا اور جس نے روگردانی کی وہ رسوائی کے گڑھے میں جا پڑا ۔ حضور ﷺ کے لیے تسلی قرآن پاک سے روگردانی کا شکوہ بیا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو کفار کی ایذاء رسانیوں پر تسلی دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے مجرموں میں سے دشمن بنائے ہیں مطلب یہ کہ حق کی مخالفت کرنیوالی صرف آپ ہی کی قوم نہیں بلکہ آپ کی طرح ہر نبی کی قوم نے اپنے پیغمبر کی تکذیب کی ، اسے ساحر اور مجنوں کہا ، اس کو تکلیف پہنچائی ۔ بعض کو ہجرت پر مجبور کیا تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ لہٰذا آپ دل شکستہ نہ ہوں بلکہ تسلی رکھیں بالآخر کامیابی آپ ہی کے حصے میں آئے گی ۔ وکف بربک ھادیا و نصیراً آپ کا پروردگار ہدایت دینے اور مدد گار کے لیے کافی ہے ۔ وہ آپ کو یونہی نہیں چھوڑ دے گا بلکہ آپ کی پوری پوری مدد کریگا۔ اور آپ کی بات کو لوگوں کے دلوں میں پیوست کر دے گا ۔ کفار و مشرکین کے بیہودہ اعتراضات سے قطع نظر آپ اپنا کام جاری رکھیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں وہ آپ کا حامی و ناصر ہوگا ۔ بتدریج نزول قرآن پر اعتراض کفار و مشرکین قرآن پاک پر طرح طرح کے اعتراض کرتے تھے ۔ کبھی کہتے کہ یہ خود ساختہ ہے ، کبھی کہتے کہ نبی یہ باتیں دوسروں سے سیکھتا ہے اور پھر قرآن بنا کر پیش کرتا ہے ، اور کبھی اسے پرانے لوگوں کی قصے کہانیاں بتاتے۔ اب آگے اللہ نے اس کا ایک نیا اعتراض نقل کیا ہے وقال الذین کفروا لولا نزل علیہ القران جملۃ واحدۃ کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا یہ قرآن اس شخص پر بیک وقت کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اس سے پہلے انجیل ، تورات اور دیگر صحائف یک مشت نازل ہوتے رہے ہیں مگر قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے تئیس سال کے طویل عرصہ پر کیوں پھیلا دیا گیا ہے۔ کہتے ، معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص تھوڑا تھوڑا سوچ سوچ کر بتاتا رہتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ اسے خدا تعالیٰ نے اتارا ہے۔ اس قسم کا اعتراض پہلے رکوع میں بھی گزر چکا ہے ۔ کافر لوگ کہتے تھے ۔ ان ھذا الا افلک افتراہ واعانہ علیہ قوم اخرون ( آیت : 4) یہ تو اس شخص کا گھڑا ہوا ہے اور اس معاملے میں بعض دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ بہر حال ان کا اعتراض یہ تھا کہ یہ قرآن یکمشت کیوں نہیں نازل ہوا ۔ جواب نمبر 1 دل کی پختگی اللہ نے جواب میں فرمایا کذلک ہم نے قرآن کو اسی طرح یعنی تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے۔ اور اس کی دو وجوہات ہیں ۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ لنثبت بہ فوادک تا کہ اس کتاب کے ساتھ ہم آپ کے دل کو پختہ کریں ۔ ظاہر ہے کہ وحی کے بار بار نزول سے ہر بار دل میں یقین اور پختگی پیدا ہوگی ۔ ورتلنہ ترتیلا اور ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا ہے ۔ ترتیل کا لغوی معنی آہستہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا ہوتا ہے۔ جیسے سورة المزمل میں ہے وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً (آیت 4) قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کریں۔ تا ہم یہاں پر یہ لفظ نزول کے معنی میں آیا ہے کہ ہم نے اس کو بتدریج نازل فرمایا ۔ اس میں بڑی حکمت ہے جو چیز آہستہ آہستہ آئے گی وہ اچھے طریقے سے ضبط ہوتی جائے گی اور دل و دماغ پر گہرے اثرات مرتب کرے گی ۔ بر خلاف اس کے جو چیز جلدی جلدی سامنے آئے گی ، وہ نہ تو اچھی طرح ضبط ہو سکے گی اور ن ہی اس پر پختگی حاصل ہوگی ۔ تو فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو اس لیے بتدریج نازل فرمایا ہے کہ یہ آپ کے قلب میں پختہ ہوجائے۔ صحابہ کرام ؓ فرماتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ سے قرآن پاک کی جو آیات سیکھتے تھے ۔ ان پر فوراً عمل شروع کردیتے تھے۔ اس لیے ہر حکم دل میں اچھی طرح پیوست ہوجاتا تھا اور ہم اس کا مفہوم اچھی طرح سمجھ جاتے تھے جب علم کے ساتھ عمل بھی شامل ہوجاتا تو پھر ایمان میں مزید پختگی آجاتی ہے۔ ویسے اصولی طور پر بھی جو چیز آہستہ آہستہ سبق سبقا پڑھی جائے وہ اچھی طرح ذہن نشین ہوجاتی ہے ۔ اس کے بر خلاف اگر کوئی پوری کتاب ایک ہی دن یا رات میں ختم کردی جائے تو اس کے اثرات بھی دیر پا نہیں ہوں گے کسی حصے کی سمجھے آئے گی اور کسی کی نہیں آئے گی ۔ ذہین لوگ تو پھر بھی بہت کچھ پا لیتے ہیں مگر عام آدمی اس طریقہ تعلیم سے کما حقہ ، مستند نہیں ہو پاتے ۔ اسی لیے امام بخاری فرماتے ہیں انما العلم بالتعلیم یعنی علم سیکھنے سے ہی آتا ہے جو لوگ اخبار کی طرح کسی چیز کا بیک وقت مطالعہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو علم میں پختگی حاصل نہیں ہوتی ۔ بر خلاف اس کے جو سبق استاد سے سمجھ کر پڑھا ہو ۔ اس میں وقت لگایا ہو ، غور و فکر کیا ہو ، وہ علم یقینی اور دیرپا ہوگا ۔ جہاں تک قرآن پاک کے عرصہ نزول کا تعلق ہے تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو لیلۃ القدر میں حظیرہ القدس یا لوح محفوظ سے آسان دنیا کی طرف نازل فرمایا ، اور پھر تئیس سال میں تھوڑا تھوڑاکر کے حضور ﷺ پر نازل ہوتا رہا ۔ اس عرصہ میں تین سال کا فترت ِ وحی کا عرصہ بھی شامل ہے جس میں سلسلہ وحی منقطع رہا ۔ اما م ابن کثیر (رح) 1 ؎ ( بخاری ص 61 ج 1) ۔۔ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 813 ج 3) (فیاض) بھی فرماتے ہیں کہ اللہ نے اس کو ملاء اعلیٰ کے مقام سے آسمان دنیا میں بیت العزت کے مقام پر بیک وقت لیلۃ القدر میں نازل فرمایا اور پھر آگے حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا کر کے تئیس سال میں اس کا نزول پالہ تکمیل کو پہنچا۔ جواب 2 ازالہ شبہات فرمایا : قرآن پاک کے بتدریج نزول کی دوسری حکمت یہ ہے ولا یا تونک بمثل الا جئنک بالحق نہیں لاتے یہ لوگ آپ کے پاس کوئی مثال مگر ہم آپ کے پاس حق لاتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری آیت پر جب معترضین کوئی اشکال لاتے ہیں تو ہم فوراً دوسری آیت نازل کر کے ان کے شکوک و شبہات کا ازالہ کردیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک کی بہت سی آیت یسئلونک کے جواب میں نازل ہوئیں ۔ اپنوں یا غیروں نے کوئی چیز دریافت کی تو اللہ نے اس کے جواب میں آیت نازل کرکے مسئلے کا حل پیش کردیا ۔ تو گویا بتدریج نزول قرآن کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ہر اعتراض اور اشکال کا جواب ساتھ کے ساتھ ملتا رہا ۔ فرمایا ہم ہر اشکال کے جواب میں حق لاتے ہیں واحسن تفسیر اور حسب ضرورت بہتر تفسیر بھی لاتے ہیں ۔ جب کوئی مسئلہ وضاحت طلب ہوتا ہے تو اس کی وضاحت کردیتے ہیں ۔ اس بتدریج نزول کے ذریعے تمام مسائل حل ہوتے جاتے ہیں ۔ اگر پورا قرآن ایک مشت نازل کردیا جاتا تو اس کی تفہیم ازالہ شبہات اور عملدرآمد کرنا مشکل ہوجاتا ۔ لہٰذا اس کا آہستہ آہستہ نزول ہی بہترین صورت نزول ہے۔ چہروں کے بل بعث آگے منکرین کتاب و رسالت کا انجام بھی بیان کیا گیا ہے الذین یحشرون علی وجوھم الی جھنم وہ لوگ جو اٹھائے جائیں گے اپنے چہروں کے بل جہنم کی طرف ، یہ لوگ محشر میں پائوں کی بجائے سر کے بل چلیں گے ۔ صحیح حدیث 1 ؎ (1 ؎ تفسیر مبرک ص 661 و کبیر و مظہری ص 9 ج 7) (2 ؎۔ تفسیر مظہری ص 91 ج 7 ) (3 ؎۔ تفسیر الوسعود ص 98 ج 4) (فیاض) میں آتا ہے کہ پوچھنے والے نے پوچھا کیف یحشر الکفر علی وجھہ یعنی کافر آدمی اپنے چہرے کے بل کیسے اٹھایا جائے گا ۔ تو حضور ﷺ والسلام نے فرمایا الیس الذی امشہ علی رجلیہ فی الدنیا قادرا علی ان تمشید علی وجھہ جس مالک الملک نے اسے دنیا میں پائوں پر چلایا ، کیا وہ چہرے کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے ؟ دوسروں کے بل چلتے ہوئے جہنم کی طرف جائیں گے ترمذی شریف 2 ؎ کی روایت میں تین گروہوں کا ذکر ہے انکم تحشرون رجالاً ورکبانا و تجرون علی وجوھکم بعض پید چلیں گے بعض سواریوں پر اور بعض سر کے بل دوڑتے ہوئے جائیں گے ۔ ایک حدیث 3 ؎ میں اس طرح آتا ہے کہ حشر کے دن تین قسم کے لوگ ہوں گے ۔ بعض کو زیادہ فکر نہیں ہوگی اور وہ سواری پر سوار ہو کر جائیں گے۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہوں گے جو پائوں پر دوڑتے ہوئے جائیں گے ۔ اور تیسرا گروہ ایسا ہوگا جسے فرشتے چہروں کے بل گھسیٹتے ہوئے دوزخ کی طرف لے جائیں گے۔ فرمایا : جن کو چہروں کے بل اٹھایا جائے گا اولئک شرمکان ، وہ ٹھکانے کے اعتبار سے بد ترین قسم کے لوگ ہونگے ، ان کو بہت ہی برا ٹھکانہ میسر آئیگا ۔ واضل سبیلاً اور راستے کے اعتبار سے بھی یہ لوگ سخت گمراہ ہوں گے ۔ دنیا میں بھی انہوں نے غلط راستہ اختیار کیا اور گمراہی میں مبتلا رہے آگے حشر میں بھی یہ گمراہ کن راستے کے مسافر ہوں گے ۔ دنیا میں انہوں نے قرآن و رسالت کا انکار کیا ، توحید باری تعالیٰ سے بیگانہ رہے ، کسی اچھے راستے کی طرف جانہ ہوا ۔ لہٰذا آخرت میں بھی یہ بھٹکتے ہی پھیریں گے ۔ اور انہیں جنت والا راستہ میسر نہیں آئیگا ۔ دوسرے مقام پر ہے وَمَنْ کَانَ فِیْ ہٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَہُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَاَضَلُّ سَبِیْلًا (بنی اسرائیل : 27) جو اس دنیا میں اندھا یعنی ہدایت سے محروم رہا اس کو جنت کا راستہ بھی نہیں ملے گا ۔ وہ اس لحاظ سے وہاں پر اندھا ہی ہوگا اور بالآخر جہنم کی تاریکی میں داخل ہوجائے گا۔