25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 25:48–52

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور اللہ کی ذات وہی ہے جس نے چلائی ہیں ہوائیں خوش خبری لانے والی اس کے باران رحمت سے پہلے ، اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پاک کرنے والا

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تا کہ ہم زندہ کریں اس کے ساتھ مردہ شہر کو ، اور پلائیں ہم اس کو ان کو جو پیدا کیے ہیں ہم نے مویشی اور بہت سے انسان

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے تقسیم کیا ہے اس کو ان کے درمیان تا کہ وہ نصیحت حاصل کریں ، پس انکار کیا اکثر انسانوں نے مگر نا شکرگزاری ہی

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو بھیجتے یہ بستی میں ڈر سنانے والا

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

پس آپ کو نہ بات مانیں کافروں کی ، اور جہاد کریں ان سے اس ( قرآن ، کے ذریعے بڑا جہاد)

ربطہ آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید کے سلسلے میں سائے کا ذکر کیا کہ اس کا تعلق سورج کے ساتھ ہے ۔ سورج اس کی رہنمائی کرتا ہے اور یہ گھٹتا بڑھتا ہے ۔ پھر اللہ نے رات اور دن کا ذکر فرمایا کہ یہ بھی قدرت ِ الٰہی کے ہوتے ہیں ۔ اللہ نے رات کو بمنزلہ لباس قرار دیا ، اور نیند کو آرام کو ذریعہ بنایا ۔ پھر دن کے وقت کا روبار اور محنت مزدوری کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جنہیں دیکھ کر اس کی توحید سمجھ میں آتی ہے۔ باران رحمت کی دعائیں اب دلائل قدرت ہی کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ہوا اور پانی کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھو الذی ارسل الریح بشرا بین یدی رحمتہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جو چلاتا ہے خوش خبری دینے والی ہوائوں کو اس کو باران رحمت سے قبل ، ظاہر ہے کہ بارش سے پہلے ہوائیں چلتی ہیں جن کے دوش پر پانی سے لبریز بادل اٹھتے ہیں ۔ پھر جہاں اللہ تعالیٰ کو بارش برسانا مطلوب ہوتا ہے ، ہوائیں بادلوں کو وہاں لے جاتی ہیں ۔ ان ہوائوں کو دیکھ کر ہی انسان پر امید ہوتے ہیں کہ اب اللہ کی رحمت بارش کی صورت میں نازل ہوگی اور خطے کی خشک سالی دور ہوگی انسانوں اور جانوروں کی حیات کا سامان ہوگا ۔ اور کھیتیاں اور درخت پھل پیدا کردیں گے۔ گھاس پھونس ہوگا اور اس طرح انسانوں اور جانوروں کے لیے اکل و شرب کا انتظام ہوگا ۔ گویا یہ ہوائیں ہیں جو بارش کی آمد سے پہلے بارش کی خوش خبری دیتی ہیں۔ پاکیزہ پانی کا نزول ارشاد ہوتا ہے وانزلنا من السماء ماء اور ہم نے آسمان کی طرف سے پانی اتارا ۔ آسمان کا اطلاق بادل ، فضا ، ہوا اور ہر بلندی پر ہوتا ہے۔ بظاہر تو پانی اللہ تعالیٰ بادلوں میں سے اتارتا ہے ۔ مگر یہ صرف بادلوں کا کمال نہیں بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کا حکم بھی شامل ہوتا ہے۔ چونکہ باران رحمت کے نزول کا فیصلہ اوپر ہوتا ہے ۔ اس لیے اس کے نزول کو آسمان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ فرمایا ہم نے آسمان کی طرف سے پانی اتارا جو کہ طھہور ا خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرتا ہے چناچہ پانی کے علاوہ کسی دوسری چیز سے طہارت حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ مثال کے طور پر دودھ ، عرق ، کیوڑا ، پٹرول وغیرہ خود پاک اشیاء ہیں مگر ان کے ذریعے دوسری چیزوں کو پاک نہیں کیا جاسکتا ۔ ہاں فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ان چیزوں کو ازالہ نجاست کے لیے بوقت مجبوری استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً کپڑے کو نجاست لگ گئی اور پانی میسر نہیں تو اس نجاست کو پٹرول غیرہ سے دور کیا جاسکتا ہے مگر ان سے وضو یا غسل نہیں کیا جاسکتا ۔ پانی کا بدل اللہ نے مٹی کو قرار دیا ہے۔ جیسے فرمایا فَلَمْ تَجِدُوْا مَآئًَ فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا (النسائ : 34) اگر پانی میسر نہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کیا جاسکتا ہے جو وضو یا غسل کا بدل ہوگا ۔ تا ہم جونہی پانی میسر آجائے وضو با غسل ضروری ہوجائے گا ۔ طہور بالغے کا صیغہ ہے یعنی یہ پانی خوراک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرنے والا ہے چناچہ ہم روز مرہ کپڑے ، برتن ، جسم ، فرش غرضیکہ ہر چیز پانی ہی ہے پاک صاف کرتے ہیں اور یہی اس کی صفت ہے۔ پانی کی افادیت آگے اللہ تعالیٰ نے پانی کی حکمت بھی بیان فرمائی ہے کہ اللہ کی یہ نعمت انسان ، حیوان اور نباتات کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔ اللہ نے اس کو بقائے حیات کا ذریعہ بنایا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے پاکیزہ پانی کو نازل رفمایا لنجی بہ بلدۃ میتا تا کہ ہم اس کے ساتھ مردہ شہر یا خشک زمین کو زندہ کریں ۔ جب زمین بالکل خشک ہو کر سبزہ اگانے کے قابل نہیں رہتی تو اللہ تعالیٰ باران رحمت کے ذریعے پانی بہم پہنچاتا ہے ۔ اور زمین نرم ہو کر روئیدگی کے قابل ہوجاتی ہے۔ اس میں سبزیاں ، پھل اور اناج پیدا ہوتا ہے۔ فرمایا پانی کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اس سے زمین سیراب ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ ونسقیہ مما خلقنا انعاما وانا ستی کثیرا تا کہ ہم پلائیں یہ پانی اپنے پیدا کردہ مویشوں اور بہت سے انسانوں کو جیسا کہ پہلے عرض کیا پانی انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کے لیے بنیادی ضرورت ہے نباتات کا ذکر آیت کے پہلے حصہ میں ہوا کہ پانی کے ذریعہ ہم مردہ زمین کو زندگی بخشتے ہیں ۔ اور انسانوں اور حیوانوں کا ذکر اس حصہ آیت میں آ گیا ہے کہ یہ دونوں انواع پانی کی محتاج ہیں ۔ اگرچہ پانی کی ضرورت ہر قسم کے حیوانات کے لیے مسلم ہے مگر یہاں پر مویشوں کا ذکر انسانوں کی مناسبت سے کیا ہے کہ ان کو پانی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہ مویشی انسان سے زیادہ مانوس ہیں ۔ انسان کے خادم ہیں اور انسان ان کا دودھ پیتے ہیں ۔ سورة المائدہ میں ان کو لھیمۃ الانعام یعنی چوپائے جانور کہا گیا ہے ۔ اور سورة الانعام میں ان کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے کہ یہ ثمینۃ زواج یعنی آٹھ جوڑے ہیں ۔ ان میں بھیڑ ، بکری ، گائے اور اونٹ کے زیادہ شامل ہیں ۔ تا ہم باقی تمام جانوروں ، درندوں ، پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کو بھی پانی کی ضرورت ہے اور ان کی زندگی کا انحصار بھی پانی پر ہے۔ البتہ بعض جانور ایسے ہیں جنہیں پانی کی فوری ضرورت نہیں پڑتی ۔ بعض جاندار چھ چھ ماہ بعد پانی پیتے ہیں ۔ جیسے گوہ ہے جو مٹی میں رہتی ہے اور کبھی کبھار پانی استعمال کرتی ہے ۔ تا ہم مذکورہ مویشی دن میں کئی کئی مرتبہ پانی پیتے ہیں اس لیے اللہ نے بطور خاص ذکر فرمایا ہے۔ جہاں تک انسان کا تعلق ہے ۔ پانی اس کی غذا کا لازمی حصہ ہے۔ انسان جو بھی غذا اسعتمال کرتا ہے وہ خون پیدا کرتی ہے اور خون میں اسی فیصد پانی اور باقی بیس فیصددیگر اجزاء مثلاً نمک ، چربی ، پروٹین ، لحمیات ، شکر ، پنیر وغیرہ ہوتے ہیں ۔ گویا انسانوں کے لیے بھی پانی ضرروی ہے۔ پانی کی فراہمی سپلائی انسان کے لیے سب سے ضروری چیز ہوا ہے ۔ اس کے بغیر انسان چند لمحے کے لیے بھی زندہ نہیں رہ سکتا ۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر پانی ہے اللہ نے اس کو بھی باافراط پیدا کیا ہے۔ یہ ایسی بنیادی ضرورت ہے جو مفت مہیا ہونی چاہئے ، ہر حکومت کا فرض ہے کہ وہ انسانوں اور جانوروں کے لیے پانی کی فری سپلائی کا بندوست کرے ۔ ہوا اور پانی کے بعد غذا ضروری چیز ہے جس کے حصول کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ پھر لباس اور رہائش کا حصول ہے۔ یہ بھی جدوجہد کے بغیر حاصل نہیں ہوتا ۔ انسان کی بنیادی ضرورت میں صحت بھی شامل ہے۔ ہر ایک کو مناسب علاج معالجے کی سہولت حاصل ہونی چاہئے۔ اور تعلیم بھی کم از کم اتنی تو لازمی ہے کہ انسان کو اپنے فرائض کا علم ہو سکے۔ یہ ہر انسان پر فرض عین کا درجہ رکھتی ہے۔ غرضیکہ پانی انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے مگر اکثر لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اور اسے ضائع کرتے رہتے ہیں ، پانی کی قدر ان علاقوں میں ہے جہاں یہ مشکل سے دستیاب ہوتا ہوے ۔ خود ہمارے ملک میں ایسے مقامات بھی ہیں جہاں پورے ایک دن کی مسافت سے پانی لانا پڑتا ہے۔ لہٰذا جہاں پانی وافر دستیاب ہے ، اس کی قدر کرنی چاہئے اور جہاں نایاب ہے وہاں مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ فرمایا ولقد صرفنہ بینھم ہم نے پانی کو مختلف طبقات میں تقسیم کیا ہے یعنی پانی کی فراہمی کو تمام خطوں میں یکساں نہیں رکھا بلکہ کہیں با افراط موجود ہے ، کہیں مشقت سے حاصل ہوتا ہے اور کہیں نایاب ہے ۔ زیر زمین پانی عام طور پر میٹھا ہوتا ہے ۔ مگر بعض علاقوں میں کھاری بھی ہے۔ بارش ، ندی ، نالے اور دریائوں کا پانی انسانی زندگی میں استعمال ہوتا ہے۔ مگر کھاری پانی تمام معمولات میں استعمال نہیں ہو سکتا بعض جگہوں پر پانی بالکل کڑوا ہے جو نہ پینے کے کام آتا ہے اور نہ کھیتی باڑی کے پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ سمندرہ ہے مگر وہ پینے کے قابل نہیں ہے۔ بڑے بڑے صحرائوں میں پانی بالکل نایاب ہے۔ اب جدید دور میں سمندر کے پانی کو صاف کر کے قابل استعمال بنایا جا رہا ہے ، مگر اس پر بہت زیادہ لاگت آتی ہے۔ بہر حال اللہ نے فرمایا کہ ہم نے پانی کو لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا لیذکرو ا تا کہ وہ نصیحت پکڑیں ، مگر حقیقت یہ ہے فابی اکثر الناس الا کفوراً مگر اکثر لوگوں نے انکار کیا اور اس نعمت کی ناقدری کی ، لوگوں کو چاہئے تھا کہ اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے مگر انہوں نے نعمت کا حق ادا نہیں کیا ۔ اللہ نے یہ شکوہ بھی کیا ہے۔ منذرین کی بعثت کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اللہ نے ہر ہر بستی اور ہر ہر مقام پر اپنے رسول کیوں نہیں بھیجے۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا ہے ولوشئنا لبعثنا فی کل قریۃ نذیراً اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ڈرانے والے بھیج دیتے ۔ یہ کام ہماری قدرت سے باہر نہیں ہے مگر یہ ہماری حکمت کے خلاف ہے ۔ اللہ نے مختلف علاقوں میں خاص خاص لوگوں میں اپنے رسول بھیجے۔ ان پر وحی نازل کی اور اس طرح لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کا انتظام فرمایا ۔ اور پھر آخر میں اقوام عالم اور تمام بنی نوع انسان بلکہ جنات کے لیے اپنا آخری رسول کو مبعوث فرماتا ۔ لا نذرکم بہ ومن ابلغ ( الانعام : 91) تا کہ وہ اس قرآن کے ذریعہ اپنے مخاطبین اور تمام ان لوگوں کو ڈرائے جن تک یہ قرآن پہنچے۔ اللہ نے اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے بیہودہ اعتراض کی طرف توجہ نہ دیں بلکہ اپنا کام کرتے چلے جائیں۔ جہاد کبیر آخر میں اللہ نے فرمایا ہے فلا نطع الکفرین آپ کافروں کی بات نہ مانیں بلکہ ان کے خلاف قرآن پاک کے ذریعہ ایک ضروری کام یہ ہے کہ وجاھد ھم بہ جھاد کبیرا کہ آپ ان لوگوں کے ساتھ جہاں کبیر کریں۔ 1 ؎ بہ کام جمع قرآن ہے کہ اس کے ذریعے آپ بڑا جہاد کریں آپ جس طرح اللہ نے بارش نازل فرما کر انسان کی جسمانی ضرورت پوری کیں ۔ اسی طرح وحی الٰہی کے ذریعے قرآن نازل فرما کر انسان کی روحانی اور عقلی ضرورتوں کی تکمیل کی اور اس کی روحانی پیاس کو بجھا یا ۔ گویا اللہ نے قرآن نازل فرما کر انسان کی ہدایت کا سامان مہیا فرمایا۔ جہاد اپنے اندر وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اس سے مراد محض جنگ نہیں بلکہ جنگ بھی جہاد کا ایک حصہ ہے۔ جہاں سے مراد اپنی تمام ظاہری اور باظنی قوتوں کو دشمن کے مقابلے میں صرف کرنا ہے۔ جہاں کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ جاھد والکفار والمشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم یعنی کافروں اور مشرکوں سے اپنے مالوں ، اپنی زبانوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔ مطلب یہ کہ جہا د صرف قتال کا نام نہیں بلکہ زبان کے ذریعہ فریضہ تبلیغ ادا کرنا ، دین کے احکام لوگوں تک پہنچانا ۔ لوگوں کے شکوک و شبہات دور کرنا ۔ بوقت ضرورت بحث مباحثہ کرنا ۔ تصنیف و تالیف کے ذریعے لوگوں تک علم پہنچانا ، مال خرچ کرنا ، سب جہاد میں آتا ہے۔ مگر قرآن کی تبلیغ کو اللہ نے جہاد کبیر سے موسوم کیا ہے۔ حضور ﷺ جب کسی جنگ کے لیے جاتے تو دیگر دعائوں کے علاوہ یہ دعا بھی فرماتے اللھم منزل الکتب و محری السحاب و ھازم الاحزاب اھزمھم وانصرنا علیھم سے بادلوں کو اٹھانے والے ، کتاب کو نازل کرنے والے اللہ ! مخاطب لشکروں کو شکست دے اور ہماری مدد فرما کر ہمیں غلبہ عطا فرما ۔ ہمارا مقصد ملک گیری نہیں بلکہ اس کتاب کے پروگرام کو آگے چلانا ہے تا کہ لوگوں کی فکر پاک ہوجائے اور ان (1 ؎۔ معالم التنزیل ص 59 ج 3 فخازن 501 ج 5 ) (فیاض) کے اعمال درست ہوجائیں ۔ شاہ عبد العزیز (رح) فرماتے ہیں کہ دشمن کے مقابلے میں ظاہری ، باطنی ، مالی اور جانی قویٰ کو صرف کرنا جہاد کا ایک حصہ ہے۔ اعدائے دین دین کے چار مسلمہ دشمن ہیں جن کا مقابلہ کرنے کے لیے قرآن نے تعلیم دی ہے۔ سب سے پہلا دشمن دین خود نفس انسانی ہے جس کے متعلق فرمایا اعدی عدوک نفسک التی بین جنبیک تمہارا بڑا دشمن تو خود تمہارا نفس ہے جو تمہارے دو پہلوئوں کے درمیان ہے اور انسان کو ہمیشہ برائی کی طرف راغب کرتا ہے۔ نفس کا مقابلہ عبادت و ریاضت سے ہوتا ہے ۔ جو شخص عبادت الٰہی میں مصروف ہوتا ہے اس کا نفس مغلوب ہوجاتا ہے۔ فرمایا دین کا دوسرا دشمن شیطان ہے۔ قرآن نے اس کو انہ لکم عدومبین ( البقرہ : 861) کہا ہے یعنی یہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ شیطان کا مقابلہ اللہ کے ذکر کے ذریعے سے ہوتا ہے ۔ جب خدا تعالیٰ کا کثر سے ذکر کرو گے تو شیطان دفع ہوگا ۔ فرمایا دین کا تیسرا دشمن کافر ہے جو خدا تعالیٰ کی توحید اور شریعت کا انکار کرتا ہے اور اس کو مٹانے کو کوشش کرتا ہے اس کے ساتھ مقابلہ کرنا بھی ضروری ہے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ (الانفال : 06) ان دشموں کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کرو ۔ تیر کمان سے لے کر ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم تک جتنے بھی وسائل میسر ہوں سب کو بروئے کار لائو ۔ پھر فرمایا کہ دین کا چوتھا دشمن منافق ہے جو اندرونی طور پر ریشہ دوانیاں کر کے جماعت المسلمین اور ان کے دین کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ نے فرمایا جاھد الکفار والمنفقین واغلظ علیھم (التوبہ : 37) اے پیغمبر ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ ان کی شرارتوں اور سازشوں کو بےنقاب کرو اور انہیں خوب رسوا کروتا کہ کہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں بہر حال ان چاروں دشمنان دین کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ جہاد مسلسل دشمن کے خلاف جہاد تو وقتی طور پر ہوتا ہے جو بالآخر ہوجاتا ہے مگر قرآن کے ذریعے جس جہاد کا حکم دیا گیا ہے وہ مسلسل اور دائمی ہے ۔ جب تک پوری دنیا کفر ، شرک ، بدعات اور معاصی سے پاک نہ ہوجائے جب تک لوگوں کی فکر پاک نہ ہوجائے ، جب تک ظلم و ناانصافی کا خاتمہ نہ ہوجائے ۔ یہ جہاد جاری رہے گا ۔ مخالفین قرآن بھی اپنی تگ و دو جاری رکھیں گے ۔ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے غلط پراپیگنڈہ کریں گے ۔ ان سب کے خلاف جہاد کرنا جہاد کبیر ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ جب تک دنیا میں کفر ، شرک ، بد عملی اور بد اخلاقی پائی جاتی ہے۔ ان کی اصلاح کرنا اور توحید کا پرچم بلند کرنا ، فسق و فجور اور جہالت کو دور کرنا اور نیکی کو پھیلانا ضروری ہے۔ قرآن کو یہ آیات چیخ چیخ کر جہاد کبیر کی دعوت دے رہی ہے جب تک برائی کو ختم نہیں کرو گے تم فلاح نہیں پا سکتے ۔ آج مسلمان اسی فریضہ کو ترک کرنے کی وجہ سے ذلت کی پستی میں جا گرے ہیں ۔ آج بھی دنیا کی پانچ ارب آبادی میں چار ارب لوگ کفر اور شرک میں مبتلا ہیں اور باقی ایک ارب بھی برائے نام توحید پرست ہیں ۔ ان میں سے بھی بہت قلیل تعداد راہ راست پر ہے۔ بہر حال برائی کے خلاف قرآن کے ذریعے جہا د ہر وقت جاری ہے اور جاری رہے گا ۔
Ayahs 25:53–55

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہ اللہ تعالیٰ وہی ذات ہے جس نے ملا دیا ہے دو دریائوں کو ، ایک میٹھا ہے اور خوشگوار یعنی پیاس بجھانے والا ، اور دوسرا کھاری اور کروڑا ہے اور بنا دی ہے ان دونوں کے درمیان ایک آڑ روک بنائی ہوئی

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہ وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا ہے پانی سے انسان ، پس بنا دیا اس کے لیے نسب اور سسرال اور تیرا پروردگار قدرت رکھنے والا

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور پرستش کرتے ہیں یہ لوگ اللہ کے سوا ان چیزوں کی جو نہیں پہنچاتیں ان کو فائدہ اور نہ نقصان اور کافر اپنے رب کے سامنے ( پشت پھیرنے والا) اور ( شیطان کا) مدد گار ہی

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے نمونے اور توحید کے دلائل بیان فرمائے پہلے سائے کا ذکر ہوا ، پھر شب و روز کے تغیر و تبدل اور ہوائوں کے چلنے کا ذکر ہوا ۔ اللہ نے خاص طور پر پانی کے نزول اور اس کی افادیت کا ذکر کیا ، پھر کافروں کی مذمت بیان ہوئی اور اللہ نے اپنے پیغمبر کو نافرمانوں کے ساتھ بڑا جہاد کرنے کا حکم دیا ۔ معترضین کے رسالت کے متعلق اعتراضات کا ثباتی جواب بھی دیا ۔ اب آج کی آیات بھی خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل ہیں۔ دو متضاد پانیوں کا ملاپ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی پہلی دلیل یہ بیان فرمائی ہے وھو الذی مرج البحرین کمال قدرت کی مالک وہ ذات خداوندی ہے جس نے دو پانیوں کو ملا دیا ہے۔ مرج کا معنی خلط ملط کردیا ہے اور آپس میں ملا دینا ہوتا ہے۔ اس لیے عربی زبان میں مروج سبزہ زار کو کہا جاتا ہے جہاں مختلف قسم کے پودے اور گھاس وغیرہ ملے ہوتے ہیں۔ صحیح 1 ؎ حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان ہے لا تقوم لساعۃ حتی تسیر ارض العرب مروجاو انھا ا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک عرب کی سرزمین میں سبز ہ زار اور نہریں نہ جاری ہوجائیں ۔ اور فرمایا اس وقت عرب کا علاقہ وسیع ریگستان اور لا متنازعی سلسلہ کوہ پر مشتمل ہے مگر ایک وقعت آنے والا ہے جب بہت سے مقامات پر سبزہ زار ہوں گے اور وہاں پر نہریں چلیں گی۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے دو دریائوں ، دو سمندروں یا دو پانیوں کو اکٹھا چلا دیا اور عجب شان ہے کہ ان دو پانیوں میں ھذا عذب ثرت ایک پانی میٹھا اور پیاس بجھانے کے لیے خوشگوار ہے وھذا ملج حاج اور دوسرا کھاری اور کڑوا ہے جو کہ پینے کے قابل نہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ کی دلیل ہے ۔ یہاں پر دو مختلف دریا سمندر یا ندی نالے مراد نہیں جن کے پانی کا ذائقہ مختلف ہو ، بلکہ اس حقیقت کا اظہار مغصو ہے کہ اللہ تعالیٰ (1 ؎۔ مسلم ص 623 ج 1 (فیاض) نے بعض مقامات پر ایسے پانیوں کو اکٹھا رواں دواں کیا ہے کہ جن کے ذائقے مختلف ہیں اور عجب بات یہ ہے کہ یہ دونوں قسم کے پانی اکٹھا بہنے کے باوجود آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے بلکہ اپنی اپنی نوعیت کے اعتبار سے الگ الگ رہتے ہیں اللہ نے فرمایا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وجعل بینھما برزخا ہم نے ان کے درمیان ایک آڑ قائم کردی ہے وحجرا محجورا اور ایک رکاوٹ کھڑی کردی ہے جو دونوں قسم کے پانیوں ک خلط ملط ہونے سے روکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر میٹھا اور کڑوا پانی آپس میں خلط ملط ہوجائیں تو سارے کا سارا پانی ہی کڑوا ہوجائے ۔ دنیا کے تمام دریائوں کا پانی میٹھا ہے اور جہاں جہاں سے یہ گزرتے ہیں لوگ اس پانی کو پیتے ہیں اور اس سے کھیتی باڑی کرتے ہیں ۔ بر خلاف اس کے کہ سمندر کا پانی کڑوا ہے اور جونہی کسی دریا کا پانی سمندر میں جا کر گرتا ہے تو وہ بھی ویسا ہی کڑوا ہوتا ہے مگر اللہ نے اپنے جس شاہکار کا یہاں ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ کسی ایک دریا ، سمندر یا ندی نالے میں دو مختلف الذائقہ پانی اکٹھے چلتے ہیں مگر آپس میں مل کر ان کے ذائقہ میں فرق نہیں آتا اور ان کی اپنی اپنی نوعیت قائم رہتی ہے۔ مشاہدات قدرت اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مفسرین نے بعض مشاہدات کا ذکر کیا ہے۔ جن سے اللہ تعالیٰ کی اس بیان کردہ حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے ۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی نے اپنے ایک بنگالی شاگرد کو لکھا کہ بنگال چونکہ دریائوں اور سمندروں کا علاقہ ہے۔ لہٰذا آپ وہاں کسی دریا وغیرہ کے حالات لکھیں جہاں مختلف خواص کے پانی اکٹھے بہتے ہوں ۔ تو انہوں نے دو معتبرعلماء کی شہادتیں لے کر مولانا تھانوی کو آگاہ کیا جس کو آپ نے اپنی تفسیر بیان القرآن میں نوٹ کیا ہے لکھتے 1 ؎ ہیں کہ بنگال میں ارکان سے لیکر چاٹگام تک دریا کی شان یہ ہے کہ اس کے پیٹ میں دو مختلف نوعیت کے پانی چلتے ہیں ۔ ایک پانی سفید ہے ، جب کہ دوسرا سیاہ ، سفید پانی میٹھا ہے۔ (1 ؎۔ بیان القرآن ص 55 ج 8 (فیاض) اور سیاہ پانی کڑوا ہے۔ سیاہ پانی میں سمندر ی کی طرح تلاطمہہوتا ہے۔ جب کہ سفید پانی ساکن چلتا ہے کشتی رانی بھی سفید پانی میں ہی ہوسکتی ہے تو اس طرح کو ایک دریا میں دو مختلف الانواع پانی الگ الگ نظر آتے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو الگ الگ دریا ہیں حالانکہ وہ دوکناروں کے درمیان اکٹھے بہہ رہے ہیں ۔ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی نے حاشیہ قرآن 1 ؎ میں لکھا ہے کہ بنگال کے ضلع باریسال کے بعض طلباء نے میرے سامنے یہ حقیقت بیان کی کہ ان کے علاقہ میں دو ندیاں ایک ہی منبع سے نکلتی ہیں مگر ایک کا پانی کڑوا اور ناقابل استعمال ہے جب کہ دوسرے کا شریں اور لذیز ہے ۔ آپ سورت میں بھی مقیم رہے ہیں ۔ آپ وہاں کے حالات لکھتے ہیں کہ صوبہ گجرات میں ضلع سورت کے مقام دھابیل سملک سے سمندر تقریباً بارہ میل کے فاصلے پر ہے ۔ جب سمندر میں مد آتا ہے تو اس کا پانی سمندر میں گرنے والی ندی میں چڑھ آتا ہے۔ بات یہ ہے کہ سمندر کا کڑوا پانی ندی کے میٹھے پانی کے اوپر تہہ کی صورت میں آجاتا ہے اور دونوں پانی آپس میں خلط ملط بھی نہیں ہوتے۔ کڑوا پانی اوپر بہتا ہے اور میٹھا نیچے ، پھر جب جذر ہوتا ہے تو کھاری پانی سمندر میں واپس چلا جاتا ہے ۔ جب کہ ندی کا میٹھا پانی باقی رہ جاتا ہے ۔ وہاں کے لوگ بتاتے ہیں کہ سمندر کا پانی ندی میں کئی کئی میل تک چلا جاتا ہے مگر دونوں پانیوں کا آپس میں ختلائو نہیں ہوتا ۔ یہ بھی مشاہدے میں آتا ہے کہ زیر زمین پانی کہیں کھاری ہے اور کہیں میٹھا کسی ایک ہی بستی میں کھاری اور میٹھے پانی کے کنوئیں قریب قریب ہوتے ہیں ۔ مگر یہ پانی آپس میں خلط ملط نہیں ہوتا ۔ مدینہ طیبہ کے اکثر کنوئوں کا پانی کھاری تھا ، مگر بیئر روسہ کا پانی میٹھا تھا جو یہودیوں کی ملکیت تھا ۔ حضور ﷺ کے ترغیب دلانے پر حضرت عثمان ؓ نے یہ کنواں پینتیس ہزار دینار میں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا تھا یہ بھی کمال قدرت کا نمونہ ہے ۔ اللہ نے اپنا احسان جتلاتے ہوئے فرمایا ہے ۔ لو تشاء جعلنا احاجا فلق لا تشکرون (الواقعہ : 07) (1 ؎۔ تفسیر عثمانی ص 274 ) (فیاض) اگر ہم چاہتے تو سارے پانی کو کڑو بنا دیتے اور تم مصیبت میں مبتلا ہوجاتے ۔ تم میٹھا پانی پا کر اللہ کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے ؟ فرمایا اس پانی کی بہم رسانی ہمارے ذمے ہے۔ بھلا بتائوئَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ (الواقعہ : 95) کیا تم نے اس پانی کو بادلوں سے اتارا ہے یا ہم اس کے اتارنے والے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ وہ آسمان کی طرف سے میٹھا اور قابل استعمال پانی نازل فرماتا ہے ، مخلوق میں یہ طاقت کہاں ہے ؟ سمندر کا پانی کڑوا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے خاص مصلحت رکھی ہے اس کی کڑواہٹ کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے اس میں مختلف قسم کے نمکیات اور دیگر کیمیائی مادے رکھے ہیں جن کی وجہ سے یہ گلنے سڑنے اور تعفن پیدا کرنے سے محفوظ ہے ، اگر تمام سمندروں کا پانی میٹھا ہوتا ، تو اس میں تعفن پیدا ہو کر انسانوں اور جانوروں کے لیے وبال جان بن جاتا ، آبی جانوروں کی گندگی اور ان کے مردے بھی اتنی نمکیات کی وجہ سے گل سڑجاتے ہیں مگر بد بو پیدا نہیں ہوتی یہ بھی اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کا ایک نمونہ ہے۔ پانی پینے کی دعا حضور ﷺ نے میٹھا پانی پینے کے بعد یہ دعا بھی سکھلائی ہے ۔ الحمد للہ الذی سقانا عذبا فاتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحا اجاجا بذنوبنا آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اس پانی کو میٹھا بنایا ہے اور ہمارے گناہوں کی وجہ سے اسے کڑوا نہیں کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے گناہوں کا اثر مختلف چیزوں پر پڑتا ہے۔ چناچہ حضور ﷺ کا فرمان 1 ؎ ہے کہ حجر اسود جب جنت سے اترا تھا تو یہ بالکل سفید تھا ۔ پھر ابن آدم کے گناہوں نے اسے بیاہ کردیا ۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی نعمتیں کھا کر اور ٹھنڈاپانی پی کر اللہ کا شکریہ ادا کرتا ہے اور الحمد اللہ کہتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر راضی ہوجاتا ہے۔ قطرہ آب سے تخلیق انسانی اللہ نے اپنی دوسری دلیل قدرت یہ بیان فرمائی ہے وھو الذی خلق من الماء بشرا اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے قطرہ آب سے انسان جیسی ہستی کو پیدا کیا ۔ اور وہ قطرہ بھی ایسا کہ کپڑے کو لگ جائے تو کپڑا نا پاک ہوجائے ۔ اللہ نے اسی قطرہ آب کے متعلق فرمایا ہے اَلَمْ نَخْلُقْکُّمْ مِّنْ مَّآئٍ مَّہِیْنٍ ( المرسلات : 02) کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟ اللہ نے اس نا پاک قطرہ سے حسین و جمیل انسان کو پیدا کیا جو بہت سی خوبیوں کا مالک ہے۔ اللہ نے اس کو بہت سی قوتیں اور حواس بخشے فجعلہ نسبا و صہد پھر انسان کا سلسلہ نسب اور سلسلہ مصاہرت قائم کیا ۔ اس کی مختلف گرتیں اور خاندنا بنائے بیٹوں سے نسبی سلسلہ چلتا ہے اور بیٹوں سے سسرالی اس طرح اللہ نے سلسلہ انسانی کو پھیلا دیا ۔ یہ سارا آدم (علیہ السلام) پر منتہی ہوتا ہے ۔ گویا پوری نسل انسانی کا سلسلہ مٹی کے ساتھ جا کر جڑ جاتا ہے ۔ اسی لیے فرمایا کلکم ابناء آدم و آدم من تواب تم سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو اور آدم (علیہ السلام) کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی ۔ غرضیکہ یہ سارا سلسلہ اللہ نے قطرہ آب سے پلایا ۔ وکان ربک قدیرا اور تیرا پروردگار کمال قدرت کا مالک ہے۔ یہ سارا سلسلہ اس نے اپنی قدرت کاملہ کے ساتھ بنایا ہے۔ غیر اللہ کی عبادت فرمایا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت کے اس قدر دلائل کے باوجود حالت یہ ہے ویعبدون من دون اللہ یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں مالا ینفہم ولا یضرھم جو نہ ان کو نفع پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان ۔ النافع اور انصار تو فقط ذات خداوندی ہے۔ بھلادوسری کون سی ذات ہے جو نفع نقصان کی مالک ہو۔ پرستش کے لائق تو وہ ذات ہے جو علیم کل اور قادر مطلق ہے۔ اللہ کے سوا باقی سب عاجز مخلوق ہے ، لہٰذا ان صفات کا حامل بھی کوئی نہیں تو ایسی ہستیوں کی عبادت کرنا اور ان کو خدا کا شریک بنانا کتنی بےعقلی کی بات ہے ۔ وہ تو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں ، بھلا وہ دوسروں کی حاجت براری کیسے کرسکتے ہیں ؟ فرمایا وکان الح کافر علی ربہ ظھیرا دیکھو ! کافر آدمی کس طرح اپنے رب سے پشت پھیر کر شیطان کا مدد گار بنا ہوا ہے ۔ شرکیہ امور میں ملوث ہونا شیطان کی اتباع کے مترادف ہے۔ شیطان کفر اور شرک کو پسند کرتا ہے اور اسی کی ترغیب دیتا ہے ، لہٰذا شیطان کے بہکاوے میں آ کر غیر اللہ کی عبادت نہیں کرنی چاہئے۔ یہ ایسا جرم ہے جس کی کوئی معافی نہیں ، لہٰذا اس سے بچنا چاہئے۔
Ayahs 25:56–60

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور ( اے پیغمبر) نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

آپ کردیجیے میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کوئی بدلہ ، مگر جو چاہے بنائے اپنے پروردگار کی طرف راستہ

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور آپ بھروسہ کریں اس زندہ ہستی پر جو کبھی نہیں مرے گا ، اور تسبیح بیان کریں آپ اسکی تعریف کے ساتھ ، اور کافی ہے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے والا

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

وہ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، چھ دن کے وقفہ میں۔ پھر وہ مستوی ہوا عرش پر ، وہ بڑے رحمت والا ہے ، پس پوچھیں آپ اس کے بارے میں خبر رکھنے والے سے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا ہے ان لوگوں سے کہ سجدہ کرو رحمان کے سامنے تو کہتے ہیں کیا ہے رحمان ؟ کیا ہم سجدہ کریں اس کے ہے جس کے لیے تو ہمیں حکم دیتا ہے ؟ وہ بڑھ جاتی ہے کہ نفرت اور زیادہ

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ کی دو باتوں کا ذکر کیا تھا۔ پہلی بات یہ تھی کہ وہ دو مختلف پانیوں کو اکٹھے چلا کر ان کے درمیان رکاوٹ کٹھ ہی کردیتا ہے جس کی وجہ سے وہ پانی آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے ۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ اس نے انسان کا سلسلہ نسب حقیرقطرہ آب سے چلایا ہے ۔ یہ دونوں باتیں کس کی قدرت کا نمونہ اور توحید کے دو پل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے مگر ان تمام تر دلائل و شواہد کے باوجود لوگ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان کرسکتی ہیں ۔ فرمایا یہ لوگ خدا کی طرف سے پست پھیر کر شیطان کے …بنے ہوئے ہیں۔ آج کے درس کی ابتدائی آیات میں رسالت کا ذکر ہے ، کفار و مشرکین حضور ﷺ سے من مانی نشانیاں طلب کرتے تھے جس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ آپ کا کام نشانیاں دکھانا نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ وہ جب چاہے کوئی نشانی ظاہر کر دے ۔ آپ کے فرائض کے متعلق فرمایا۔ وما ارسلنک الا مبشرا و نذیرا اے پیغمبر ! تمہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوش خبری دینے والا اور ڈر سنانے والا جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے گا اور اس کی توحید کو مانے گا ۔ اس کے متعلق آپ کا کام یہ ہے کہ آپ اسے خوش خبری سنا دیں اَنَّ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّہِمْ (یونس : 2) کہ ایسے لوگوں کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں سچائی کا پایہ ہے ، ان کے درجات بلند ہوں گے ۔ وہ خطیرۃ القدس کے ممبر بنیں گے اور بالآخر جنت میں پہنچ جائیں گے ۔ فرمایا آپ ایسے لوگوں کو خوش خبری دے دیں۔ اس کے بر خلاف جو لوگ کافر اور مشرک ہیں ۔ معاصی اور ظلموں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ ان پر خدا کا غضب ہوگا ۔ جنت بسے گی اور وہ ناکام ہو کر جہنم رسید ہوں گے۔ آپ ان کو اس کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ غرضیکہ آپ کے ذمے نیکو کاروں کو خوش خبری دینا اور برے لوگوں کو ڈر سنانا ہے۔ بے لوث تبلیغ فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے کہ دین کہ میں جو کچھ اللہ کا پیغام تمہیں پہنچاتا ہوں اور جو تعلیم تمہیں دیتا ہوں ، یہ بےلوث اور بلا معاوضہ ہے ما اسئلکم علیہ من اجر میں اس پر تم سے کوئی اجرت مزدوری یا معاوضہ طلب نہیں کرتا ، مجھے تم سے کوئی دنیاوی غرض نہیں ۔ میرا کوئی مالی مفاد وابستہ نہیں ، نہ میں تم سے اس سلسلہ میں کوئی فیس مانگتا ہوں ۔ ہاں میری غرض یہ ہے الا من شاء ان یتخذ الی ربہ سبیلاً کہ تم میں سے جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف راستہ بنا ہے اور اس کی اطاعت کر کے اس کی رضا کے مقام تک پہنچ جائے۔ بلا معاوضہ خدمت کے پیش کش صرف حضور ﷺ تک ہی محدود نہ تھی ۔ بلکہ اللہ کے تمام انبیاء (علیہم السلام) یہی مشن لے کر آئے۔ رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہ ِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ (النسائ : 561) تمام رسول خوش خبری دیتے رہے اور ڈر سناتے رہے تا کہ ان کے بعد لوگوں کے لیے کوئی محبت باقی نہ رہے ۔ تمام رسولوں نے یہی کہا وَمَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍج اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ (الشعرائ : 901) لوگو ! میں پیغام خدا پہنچانے پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ۔ میرا اجر تو اللہ کے پاس ہے ۔ وہی مجھے صلہ دے گا ۔ تم میری بات ماننے کی بجائے مجھ سے بد سلوکی سے پیش آتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے یہ بھی کہلوایا ہے کہ اے لوگو ! میں تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی (الشوریٰ : 32) کم از کم میری قرابت داری کا ہی خیال کرو ، میں بھی تمہارے خاندان اور برادری کا آدمی ہوں تمہارے فائدے کی بات کرتا ہوں مگر تم مجھ سے اس طرح بد سلوکی تو نہ کرو ۔ بعض مفسرین 1 ؎ اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا بلکہ چاہتا ہوں کہ تم نیکی اور تقرب کے کاموں کو اختیار کرو ۔ ظاہر ہے جو شخص اپنا کوئی ذاتی مفاد پیش نظر نہیں رکھتا ۔ اس کی سچی بات کی مخالفت کرنا شقاوت کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ توکل علی اللہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی بھی دی ہے کہ آپ کفار و مشرکین کی بد سلوکی پر دل برداشتہ نہ ہوں و توکل علی الحی الذی لا یموت بلکہ اللہ تعالیٰ کی اس زندہ ذات پر بھروسہ رکھیں جس پر کبھی موت نہیں آئے گی ۔ اور اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے چلے جائیں ۔ مخالفین آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ امام ابن ابی 2 ؎ دنیا نے اپنی کتاب ” توکل “ میں اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں عقبہ ابن ابی ثبیث کا یہ قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ تورات میں یہ بات موجود ہے لا تتوکل علی بن اٰدم فان بن ادم لیس لذقوا ما آدم کے کسی بیٹے پر بھروسہ نہ کرو کیونکہ آدم کے بیٹے کے لیے کوئی اثبات نہیں ہے۔ وہ تو فانی ہے ۔ اس کی ہر چیز مستعار ہے اس پر تم کیسے بھروسہ کرسکتے ہو ؟ ولکن تو کان علی لحی لدن لا تموث بلکہ توکل ہمیشہ اس ذات خداوندی پر کرو جو زندہ ہے اور جسے کبھی موت نہیں آئے گی ۔ اسی لیے بزرگان دین فرماتے ہیں کہ دنیا میں رہ کر اسباب کو اختیار کرو مگر ان پر بھروسہ نہ کرو ۔ بھروسہ صرف خدا کی ذات پر ہو چاہئے ۔ وہ چاہے گا تو اسباب کو موثر بنا دے گا ۔ ورنہ وہ (1 ؎ تفسیر کبیر ص 201 ج 42 ۔ 2 ؎ در منثور ص 47 ج 5 (فیاض) ویسے ہی دھرے کے دھرے رہ جائیں گے ۔ سورة آل عمرامن میں ہے علی اللہ فلیتوکل المومنون ( آیت : 01) مومن تو ہے جو اللہ پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں ۔ نیز فرمایا وَعَلَی اللہ ِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ ( ابراہیم : 21) بھروسہ کرنے والے صرف اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں ۔ مطلب یہ کہ اے پیغمبر ! آپ اللہ کی ذات پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے مشن کو جاری رکھیں۔ او دوسری بات یہ فرمائی وسبح بحمدہ اور اس کی تسبیح بیان کریں اس کی تعریف کے ساتھ ۔ وکفی بہ بذنون عبادہ خبیر اور کافی ہے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے والا ۔ تمام مجرم اس کی نگاہوں میں ہیں اور اس کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ تخلیق ارض و سما اگلی آیت کریمہ میں پھر توحید کے دلائل میں ارشاد ہوتا الذی خلق السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں کے وقفہ میں ۔ قرآن کی متعدد آیات میں آسمان و زمین کی چھ دنوں میں تخلیق کا ذکر آیا ہے۔ اور یہ ذکر تورات میں بھی بیان ہوا ہے ۔ البتہ یہودیوں نے تورات میں ایک بات بڑھا دی ہے جہاں زمین و آسمان کی چھ دن میں تخلیق کا ذکر ہے وہاں آگے یہ اضافہ ہے ثم استراح یعنی ارض و سما کی تخلیق کے بعد اللہ نے آرام کیا گویا اللہ تعالیٰ یہ کام کر کے تھک گیا تھا جو اسے آرام کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی العیاذ باللہ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جسے نہ نیند آتی ہے اور نہ اونگھ اور اس کا ارشاد ہے وما مسنا من لغوب (ق : 83) ہم نے آسمان و زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور ہمیں کوئی تھکاوٹ لاحق نہیں ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ تو ایک لحظہ میں تمام چیزوں کو پیدا کرسکتا ہے۔ یہ چھ دن کا وقفہ تو اس کی خاص مصلحت پر مبنی ہے ۔ اس کی طرف تھکاوٹ کو منسوب کرنا تو کفر کی بات ہے۔ استوی علی العرش تخلیق ارض و سما کے بعد فرمایا ثم استوی علی العرش پھر اللہ تعالیٰ عرش پر ستوی ہوا ۔ بعض مفسرین استوی کا معنی کرتے ہیں ید بس الامر یعنی وہ معاملے کی تدبیر کرتا ہے۔ سورة الم السجدہ میں موجود ہے ید بن الامن من السما الی الارض (آیت : 5) وہ آسمان کی بلندیوں سے لیکر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر کرتا ہے۔ نوع انسانی کے متعلق خاص طور پر ارشاد ہے وھو القاھر فوق عبادہ ( الانعام : 16) وہ اپنے بندوں پر غالب ہے ۔ تفسیر جلالین والے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش پر اس طرح مستوی ہے کما یلیق بشانہ جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے ، وہ اس طرح عرش پر نہیں بیٹھا جیسا کہ ہم چار پائی یا کرسی پر بیٹھتے ہیں کیونکہ وہ جسمیت اور جہت سے پاک ہے ۔ ہم اس کے استوی کو نہیں سمجھ سکتے۔ اسی لیے بعض بزرگان دین فرماتے ہیں ۔ رب العزش فوق العرش لکن بلا وسواس التمکن والتصال عرش کا مالک عرش کے اوپر ہے لیکن ایسا نہیں جیسا کہ کوئی اوپر ٹکا ہوا ہو یعنی اتصال نہیں ہے۔ اتصال ماننے سے جسمیت لازم آئے گی مگر اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے۔ اس کا استوی علی العرش متشابات میں سے ہے اور انسانی عقل وفکر سے بعید ہے۔ استوی علی العرش کی مثال بھی ایسی ہے جیسے قرب خداوندی ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنا فرمان ہے ۔ ونحن اقرب الیہ من حبل الورید ( ق : 61) ہم بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں مگر وہ قرب بلا کیف ہے۔ اس کی کیفیت کو وہ خود ہی جانتا ہے۔ ہست رب الناس را با جان ناس اتصال بےتکلیف بےقیاس لوگوں کا پروردگار ان کی جانوں سے متصل ہے مگر اس کی کیفیت کو کوئی نہیں جانتا ۔ اسی طرح استوی علی العزش کے متعلق بھی یہی عقیدہ ہونا چاہئے کہ وہ عرش پر اسی طرح ستوی ہے جسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔ فرمایا الرحمن وہ بڑا ہی مہربان ہے فسئل بہ خبیر پس پوچھ لیں آپ کسی غیر رکھنے والے سے نزول قرآن کے زمانہ میں تورات کے عالم موجود تھے۔ یہ نبی کی طرف اشارہ ہے کہ کم از کم ان سے پوچھ لیں وہ بھی بتائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض و سماء کو چھ دن کے وقفہ میں پیدا فرمایا عام مفسرین 1 ؎ بہ کی ضمیر خدا تعالیٰ کی طرف لوٹاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں اہل علم سے دریافت کرلیں ۔ بعض مفسرین 2 ؎ بہ کا معنی منہ بھی کرتے ہیں یعنی آپ اس سے پوچھ لیں جو خبر رکھنے والا ہے کیونکہ دوسروں کو تو علم ہی نہیں ہے۔ رحمان کے سلسلہ سجدہ ارشاد ہوتا ہے واذا قیل لھم اسجدو اللرحمن جب ان کفار سے کہا جاتا ہے کہ خدائے رحمان کے سامنے سجدہ کروتو وہ اس سے بد کتے ہیں ۔ قالوا وما الرحمن کہتے ہیں رحمان کیا ہے ؟ ہم کسی رحمان کو نہیں جانتے۔ واقعہ 3 ؎ حدیبیہ میں بھی معاملہ اسی بات پر آ کر رگ گیا تھا۔ صلح نامہ کی ابتداء میں جب حضور ﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا ، تو مشرکوں نے فوراً اعتراض کردیا کہ ہم کسی رحمان اور رحیم کو نہیں جانتے ، لہٰذا بسمک اللھم لکھ جیسا پہلے لکھا کرتے تھے ، چناچہ ایسے ہی لکھا گیا ۔ مشرکین کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ نبوت کا دعویدار ہمیں تو توحید کی دعوت دیتا ہے اور خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ رحمان اور رحیم کو پکارنے کے لیے بھی کہتا ہے۔ اللہ نے اس اعترات کا جواب متعدد مقامات پر دیا ہے جیسے فرمایا وَ ِ اللہ ِ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَا (الاعراف : 081) (1 ؎۔ تفسیر کبیر ص 501 ج 42 ۔ 2 ؎ کبیر ص 501 ج 42 تفسیر ابن کثیر ص 323 ج 3) (فیاض) خدا کی ذات تو ایک ہی ہے البتہ اس کے اسمائے پاک اور صفات بہت سی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو جس نام سے بھی پکارو گے ۔ وہ راضی ہوگا وہ رحمان ، رحیم ، ستار ، غفار اور رازق ہے ۔ اس کے تمام نام بھلے ہیں اور اسے کسی بھی نام سے … سکتا ہے ۔ اور صرف اسی کے سامنے سجدہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا کسی کے لیے سجدہ روا نہیں ۔ اللہ نے سورة حم سجدہ میں صراحتاً فرمایا ہے لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْـقَمَرِ وَاسْجُدُوْا ِ اللہ ِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ (آیت : 73) نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ ان کے خالق اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو جائو۔ ابن ابی حاتم محدث نے روایت 1 ؎ بیان کی ہے جسے امام ابن کثیر (رح) نے بھی نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ مدینے کی کسی گلی بازار میں جا رہے تھے ۔ راستے میں حضرت سلیمان فارسی ؓ ملے ۔ ایران کے لوگ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے تھے ، تو سلمان فارسی ؓ نے حضور ﷺ کو سجدہ کیا ۔ اس پر آپ نے اس کو سمجھایا لا تسجد لی یا سلمان واسجد للحی الذی لا یموت اے سلمان ! مجھے سجدہ نہ کرو بلکہ اس زندہ جاوید ہستی کو سجدہ کرو جس کو موت نہیں ۔ دوسری حدیث میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ روا ہوتا تو میں عورت سے کہتا کہ وہ اپنے خاوند کے سامنے سجدہ کرے کیونکہ اللہ نے خاوند کا بڑا حق رکھا ہے۔ آج کل کی مغربی تہذیب والے زن و شوہر کی مساوات کا فرض دار پیٹتے ہیں حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاوند کو بیوی پر فضلیت عطا کی ۔ ایک صحابی نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا : حضور ! ہم غیر ممالک میں جا کر دیکھتے ہیں کہ وہاں لوگ اپنے ملوک کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں تو آپ تو اس کے زیادہ حق دار ہیں ، پھر کیوں نہ ہم آپ کے سامنے سجدہ کیا کریں۔ (1 ؎۔ تفسیر بن کثیر ص 333 ج 3 ) (فیاض) آپ نے فرمایا کہ میری وفات کے بعد اگر تمہارا گزر میری قبر پر سے ہوا تو کیا میری قبر پر بھی سجدہ کرو گے ؟ اس نے عرض کیا ، حضور ! ایسا تو نہیں ہوگا ۔ فرمایا جس طرح میری قبر پر سجدہ روا نہیں اسی طرح میری زندگی میں بھی میرے سامنے سجدہ روا نہیں ۔ سجدہ صرف اللہ کے سامنے کرو۔ اس زمانے میں لوگ قبروں پر سجدہ کرتے ہیں جو کہ شرک اور قطعی حرام ہے مرید اپنے پیروں کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ۔ حالانکہ خود حضور ﷺ نے اپنے سامنے سجدہ کرنے سے منع فرما دیا تھا۔ کسی ہندو پیر کے متعلق اخبار میں آیا تھا کہ وہ کرسی پر بیٹھ جاتا اور اس کے چیلے اس کے سامنے آ کر سجدہ کرتے یہ تو انسانیت کی توہین ہے۔ اگر کوئی شخص دوسرے کو نافع اور ضار سمجھ کر سجدہ کرتا ہے تو وہ کافر اور مرتد ہوجائے گا ۔ اور ایسا نہیں سمجھتا تو سجدہ بہر حال حرام ہے ، اس آخری امت میں نہ عبادت کا سجدہ روا ہے اور نہ تعظیمی سجدہ ۔ فرمایا جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کے سامنے سجدہ کرو تو وہ کہتے ہیں ہم کسی رحمان کو نہیں جانتے اور ساتھ یہ بھی انسجد لماتا مرنا کیا ہم اس کے لیے سجدہ کریں جس کا تو ہمیں حکم دیتا ہے ؟ کافر اور مشرک لوگ جہالت میں مبتلا تھے ۔ وہ خدائے رحمان کے سامنے سجدہ کرنے سے بدکتے تھے مگر انسانوں اور بتوں کے سامنے جھکنے میں ذرا عار محسوس نہیں کرتے تھے وزاد ھم نفورا اور خدا تعالیٰ کو سجدہ کرنے کے متعلق ان کی نفرت مزید بڑھ جاتی تھی ۔ قرآن پاک میں کل چودہ آیات سجدہ ہیں جن کو پڑھنے سننے سے سجدہ لازم آتا ہے۔ ان میں سے ایک یہ آیت بھی ہے۔ تمام سامعین بعد میں سجدہ کرلیں ۔
Ayahs 25:61–62

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

بڑی با برکت ہے وہ ذات جس نے بنائے ہیں آسمانوں میں برج اور رکھا ہے ان میں ایک چراغ اور روشنی کرنے والا چاند

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہ وہی ذات ہے جس نے بنایا ہے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا اس شخص کے لیے جو ارادہ کرتا ہے کہ نصیحت پکڑے یا جو ارادہ کرتا ہے شکر گزاری کا

آسمان …… گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب کفار و مشرکین کو خدائے رحمان کے سامنے سجدہ کرنے کے لیے کہا جاتا تو وہ کہتے کہ ہم کسی رحمان کو نہیں جانتے اب آج کی پہلی آیت میں اسی اعتراض کا جواب ہے اور اس ذا ت کی تعریف بیان کی گئی ہے جس کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے تبرک الذی جعل فی السماء بروجا بڑی با برکت ہے وہ ذات خداوندی جس نے آسمانوں میں برج بنا دیئے ہیں ۔ وجعل فیھا سرلجا ً اور ان آسمانوں میں ایک روشن چراغ بھی رکھا ہے۔ وقمرامنیرا اور اجالا کرنے والا چاند بھی رکھا ہے ۔ مطلب یہ کہ خدا تعالیٰ کی وہ ذات ہے جو ان صفات کی حامل ہے کہ اس نے آسمانوں میں برج سورج اور چاند جیسی چیزوں کو پیدا کیا ہے اور اسی کے سامنے سجدہ ریزہ ہونے کا حکم دیا جاتا ہے۔ روشن چراغ سے مراد سورج ہے جو ساری دنیا کو روشنی اور حرارت پہنچا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت با برکت اس سورة میں دو دفعہ پہلے بھی بیان ہوچکی ہے سورة کی ابتداء میں پڑھ چکے ہیں تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ ( آیت : 1) بڑی برکتیں دینے والی ہے۔ وہ ذات جس نے فرقان کو نازل فرمایا ہے۔ پھر دوسرے رکوع کی ابتداء میں رسالت کے باب میں فرمایا تبرک الذی ان شاء جعل لک خیرا من ذالک ( آیت : 01) با برکت ہے وہ ذات کہ اگر چاہے تو اے پیغمبر آپ کو اس سے بہتر چیزیں عطا کر دے۔ اور اب تیسری مرتبہ یہی لفظ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے سلسلہ میں آیا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ برج سے مراد آسمان کے بڑے بڑے ستارے ہیں جو رات کو نظر آتے ہیں اور ان میں کسی کی روشنی سفید ، کسی کی سرخ اور کسی کی نیلی ہوتی ہے۔ اللہ نے ان میں مختلف قسم کے خواص رکھے ہیں ، اور بعض 2 ؎ فرماتے ہیں کہ آسمان کے مختلف مقامات پر بڑے بڑے قلعے اور دروازے بنے ہوئے ہیں جہاں اللہ نے فرشتوں کی ڈیوٹیاں لگا رکھی ہیں اور وہاں پر پہرہ دیتے ہیں۔ ان قلعوں اور دروازوں کو بروج کو نام دیا گیا ہے۔ معروف بارہ برج البتہ 3 ؎ بعض کا نظریہ ہے کہ یہاں پر بروج سے مراد وہ معروف بارہ برج میں جو سات بڑے بڑے سیاروں کی منزلیں ہیں جن کے اندر یہ سیارے چلتے ہیں ۔ سورج اور چاند بھی اس سبع سیارات میں شامل ہیں جن کی منازل کا ہم ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ ہر روز تبدیل ہوتی رہتی ہے اور پھر ان کے ذریعے ہر ماہ اور چار موسم نمایاں طور پر واقع ہوتے رہتے ہیں ۔ ان بارہ برجوں میں جو ستارے اکٹھے ہوتے ہیں ان کی ایک خاص شکل بن جاتی ہے اور اسی شکل کی مناسبت سے ان برجوں کے نام بھی رکھے گئے ہیں ۔ بارہ برجوں کے نام اور ان کی شکلوں کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ (1 ؎۔ تفسیر ابن کثیر ص 323 ج 3۔ 2 ؎۔ ابن کثیر ص 422 ج 3۔ 3 ؎۔ السرج کثیر ص 5966 ج 2) (فیاض) نام برج اس میں موجود ستاروں سے بننے والی شکلیں 1۔ حمل بھیڑ کا بچہ 2۔ ثور بیل 3۔ جو زا اخروٹ درخت 4۔ سرطان پانی کا کیکڑا 5۔ اسد شیر 6۔ سنبلہ اناج کا خوشہ 7۔ میزان ترازو 8۔ عقرب بچھو 9۔ قوس کمان 01۔ جدی بکری کا بچہ 11۔ دلو ڈول 21۔ حوت مچھلی سبع سیارات کی منازل جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے ہمارے اس نظام شمسی میں سات بڑے بڑے سیارے ہیں جو ان برجوں میں چلتے ہیں ۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہیں۔ نام سیارہ نام سرج 1۔ مریخ حمل اور عقرب 2۔ زہرہ ثور اور میزان 3۔ عطارد جو زا اور سنبلہ 4۔ قمر سرطان 5۔ شمس اسد 6۔ مشتری قوس اور حوت 7۔ زحل جدی اور دلو اکثر اخبارات کے ہفتہ وار ایڈیشن میں ان سیاروں اور برجوں کی مدد سے منجر لوگ بعض پیش گوئیاں بھی کرتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے ۔ نجوم کے ذریعے غیب کی خبریں معلوم کرنا سحر اور شرک میں شمار ہوتا ہے۔ البتہ ان سیاروں اور برجوں کے ذریعے موسموں کے تغیر و تبدل وغیرہ معلوم کرنا درست ہے بعض منجم لوگوں کی سعادت اور شقاوت کو ان سیاروں کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں اور پھر غیب کی خبریں دیتے ہیں ، ایسا کرنا باطل ہے۔ سورج اور چاند کے فوائد سات بڑے بڑے سیاروں میں سے سورج اور چاند کا ذکر اللہ نے اس آیت میں کیا ہے اور دیگر بہت سے مقامات پر بھی ہے۔ مثلاً سورة نوح میں فرمایا ہے وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا (آیت : 61) اللہ نے سات آسمانوں کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان میں چاند کو اجالا کرنے والا اور سورج کو چراغ بنایا ۔ چاند اور سورج دونوں بڑے نمایاں سیارے ہیں جن کو تعلق براہ راست مخلوق کے ساتھ ہے۔ رات کے وقت چاند کی مدہم روشنی اور ستاروں کی اولا بدلی رات کے مسافروں کے لیے رہنمائی کا کام دیتی ہے۔ اور سورج سب سے چمکدار سیارہ ہے اللہ نے اس میں روشنی اور حرارت کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کردیا ہے جس کی وجہ سے یہ پورے نظام شمسی کو یہ دونوں چیزیں مہیا کر رہا ہے۔ جب سے اللہ نے سورج کو پیدا کیا ہے۔ اس کا ایندھن پر برعل رہا ہے اور قیامت تک جلتا رہے گا اور اس کی حرارت اور روشنی میں کوئی فرق نہیں آئے گا ۔ لیکن آخر میں ایک وقت ایسا آئے گا جس یہ ایندھن بھی ختم ہوجائے گا پھر اس پورے نظام کو تبدیل کردیا جائے وہ اس کی جگہ دوسرا نظام لیا جائے گا ۔ آج کل ہم ایٹمی دور سے گزر رہے ہیں ۔ سائنس بہت ترقی کرچکی ہے ابتداء میں لکڑی سے ایندھن کا کام لیا جاتا تھا ۔ جوں جوں آبادی بڑھتی گئی اور………ایندھن کا کام کوئلہ سے لیا جانے لگا ۔ پھر گیس اور پٹرول دریافت ہوئے مگر ان تمام چیزوں سے ……بجلی پیدا ہوچکی ہے اور اس سے نہایت ہی مفید کام لیے جا رہے ہیں ، مگر اس کی پیداوار کا انحصار بھی تیل یا پانی پر ہے اور یہ چیزیں بھی لا محدود ہیں لہٰذا سائنسدان آئندہ کی ایندھن کی ضروریات کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور ایندھن کے نئے نئے وسائل بھی دریافت کرتے رہتے ہیں ۔ اب سورج کی حرارت کو عام استعمال میں لانے کے لیے تجربات کر رہے ہیں اور اس میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ اکیسویں صدی میں شمسی توانائی کا استعمال عام ہوجائے گا ۔ اور عام گھریلو استعمال کے علاوہ اس سے بڑے بڑے کارخانے ، بجلی گھر اور گاڑیاں بھی چلنے لگیں گی ۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے سورج میں اس قدر حرارت اور روشنی دکھائی ہے جو صدیوں سے کام آ رہی ہے اور آئندہ نامعلوم کب تک اور کس کس طرح استعمال میں آتی رہے گی تو یہاں پر اللہ نے بطور احسان یاد دلایا ہے کہ وہ ایسی با برکت ذات ہے جس نے آسمانوں میں برج کھڑے کئے ہیں اور ان میں خاص طور پر دو نہایت ہی مفید سیارے چاند اور سورج مقرر کیے ہیں جن سے جاندار اور نباتات مستفید ہو رہے ہیں۔ جس طرح شمس ایک نہایت ہی کار آمد سیارہ ہے۔ اسی طرح چاند سے بھی بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ قمر کی مدہم اور دھیمی روشنی اپنے اندر خاص اثرات رکھتی ہے۔ مثلاً پھلوں میں رس چاندنی کی وجہ پیدا ہوتا ہے انسانوں جانوروں اور نباتات پر بھی اس کے خاص اثرات پڑتے ہیں ۔ سمندروں میں مدو جزر بھی چاند کے اثرات کی وجہ سے ہوتا ہے ، یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ شب و روز کی تفسیر کی حکمت آگے پھر اللہ نے فرمایا وھو الذی جعل الیل و النھار خلقۃ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والے بنایا۔ یہ آپس میں بدلتے رہتے ہیں ۔ رات گئی تو دن نمودار ہوگیا۔ اور دن ختم ہوا تو رات کی تاریکی چھا گئی ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ کی قدر ت کے یہ نشانات اس شخص کے غور و فکر کے لیے ہیں لمن اراد ان یذکر جو نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اواراد شکورا یا جو شکر ادا کرنا چاہتا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ مناظر قدرت سے جو شخص مستفید ہونا چاہے گا ۔ ان میں غور و فکر کریگا اور آخر کار اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل ہوجائے گا ۔ مگر جو شخص ان میں دھیان ہی نہیں کرتا ۔ سوچتا سمجھتا ہی نہیں ، وہ نہ تو ان سے کوئی نصیحت حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے ۔ اس کے لیے سارا نظام قدرت محض بیکار ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دن کے وقت بھی آنکھیں بند کرے اور پھر کائنات کی ہر چیز کا انکار کر دے۔ صحیح حدیث 1 ؎ میں حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے ان اللہ عزوجل یبسط یدہ بالیل لیتوب مسی النھار اللہ تعالیٰ اپنی شفقت کا ہاتھ رات کو پھیلا دیتا ہے تا کہ دن کے وقت برائی کرنیوالا کو توبہ کرے اس طرح فرمایا یبسط یدہ بالنھار لیتوب مسی اللیل اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ دن کے وقت پھیلا دیتا ہے تا کہ رات کو گناہ کرنیوالا دن کے وقت معافی الگ سے شب و روز کے تغیر و تبدل کی ایک یہ حکمت بھی بیان کی ہے۔ ایک دوسری حدیث 2 ؎ میں دن رات کی حکمت اور مصلحت اس طرح بھی بیان کی گئی ہے۔ من نام عن حزبہ او عن شیء منہ فقراہ فیما بین صلوٰۃ الفجر و صلوٰۃ الظھہر کتب لہ کانما قراہ ٗ من الیل ( مسلم) جو آدمی رات کو اپنا ورد پورا کیے بغیرسو گیا ۔ پھر اگر اس نے وہ عمل فجر اور ظہر کے درمیان ادا (1 ؎۔ تفسیر ابن کثیر ص 222 ج 3 ۔ 2 ؎۔ احکام القرآن للجصاص ص 722 ج 3) (فیاض) کر لیا تو ایسا ہی ہے جیسا اس نے وہ عمل رات کے وقت ہی کیا ۔ کسی شخص نے کسی ورد ، تلاوت یا نماز کا معمول بنا رکھا ہے کہ وہ رات کو اٹھ کر یہ عمل کرے گا ، مگر نہیں کرسکا تو اس کی تلافی بھی حضور ﷺ نے بتا دی کہ وہ اپناعمل دن کے وقت کرلے تو اسے پورا پورا ثواب ملے گا۔ ایک 1 ؎ دفعہ حضرت عمر ؓ نے چاشت کی نماز بڑی دراز کر کے پڑھی ۔ لوگوں نے پوچھا حضرت اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو فرمایا ، آ ج رات کی نماز مجھ سے رہ گئی تھی جسے میں نے اب ادا کیا ہے نیز فرمایا بدل ما فاتک من لیلک فی نھارک جو چیز تم سے رات کے وقت رہ گئی ہے اس کا بدل دن میں ادا کرلو کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے جعل الیل والنھار خلفۃ کہ اس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنیا ہے۔ مگر یہ اس شخص کے لیے جو دھیان کرتا ہے ، نصیحت پکڑتا یا شکر گزاری کرتا ہے ، جو شخص غور و فکر سے عاری ہے ، وہ رات دن کی مصلحت کیا سمجھے گا ؟ اس کا تو نصیحت پکڑنے یا شکر کرنے کا ارادہ ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورج ، چاند اور پھر رات دن کا سلسلہ اس لیے قائم کیا ہے تا کہ لوگ پورے طریقے سے اس میں غور و فکر کریں اور پھر خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کریں تمام تقلبات اور تصرفات خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔ سب کی کار سازی اسی کے پاس ہے ۔ رات اور دن کے فوائد کو دیکھ کر انسان کو شکر گزار بننا چاہیے ۔ یہ سارا اس خدائے رحمان کا کارخانہ قدرت ہے جس کے نام سے مشرک بدکتے ہیں ، حالانکہ پورے نظام کائنات میں بیشمار مصلحتیں ہیں جن سے نصیحت حاصل کی جاسکتی ہے اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا جاسکتا ہے۔ (1 ؎۔ احکام القرآن خصائص ص 324 ج 3 ابن کثیر ص 423 ج 3) (فیاض)