Ayahs 25:63–67ربط آیات
گزشتہ رکوع کے آخر میں مشرکین کا ذکر ہوا کہ جب انہیں خدائے رحمان کے سامنے سجدہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں ۔ کون ہے رحمان ؟ ہم کسی رحمان کو نہیں جانتے ، اللہ نے ان کے اس بیہودہ کلام کے جواب میں خدائے رحمان کی صفات اور اس کے کمالات کا تذکرہ فرمایا کہ رحمان وہ برکتیں دینے والی ہستی ہے جس نے آسمانوں میں برج قائم کیے۔ سورج جیسا روشن چراغ اور چاند جیسا اجالا کرنے والا سیارہ بنایا ۔ اس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایا اور اس تغیر و تبدل میں خاص مصلحت رکھی جو نصیحت پکڑنے اور شکر ادا کرنے والوں کو دعوت و غور دے رہی ہے۔ اب اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے خدائے رحمان کے بندوں کی چودہ صفات بیان کی ہیں تا کہ مشرکوں کو معلوم ہوجائے کہ جس رحمان کے بندوں میں یہ اعلیٰ صفات پائی جاتی ہیں ۔ خود رحمان کن کمالات کا مالک ہے جس کے سامنے انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے مگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتے ، بلکہ بیہودہ اعتراضات کرتے ہیں۔
عباد الرحمان کی صفات (1) چال میں طمانیت
ارشاد ہوتا ہے وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر وقار اور طمانیت کے ساتھ چلتے ہیں ۔ یہ عباد الرحمن کی پہلی صفت ہے کہ وہ دنیا کی اس زندگی میں غرور وتکبر اور اکڑ کا اظہار نہیں کریت بلکہ خدا کی زمین پر چلتے وقت پر سکون اور پر وقار نظر آتے ہیں ۔ ان کی چال ڈھال میں کما ل درجے کی تواضع اور متانت ہوتی ہے۔ اس کے بر خلاف کفار و مشرکین ہمیشہ غرور میں مبتلا رہتے ہیں ۔ یہ ان کا تکبر ہی تھا ، جس کی وجہ سے انہوں نے خدائے رحمان کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کردیا ۔ حضرت عمر ؓ نے دیکھا کہ ایک نوجوان سینہ آگے نکال کر اکڑتے ہوئے جا رہا تھا ۔ آپ نے اس کو بلا کر کہا کہ اکڑ کی چال اللہ کو پسند نہیں ہے سوائے جاد کے وقت کافرو کے مقابلے میں کہ ایسے موقع پر اکڑنا درست ہے۔ تا کہ دشمن مرغوب ہو ، سورة القمان میں ہیواقصد بی مشیک (آیت : 91) اپنی جان میں میانہ روی اختیار کرو ۔ جس طرح غرور وتکبر والی چال درست نہیں۔
1 ؎۔ ابن کثیر ص 432 ج 3 و در منثور ص 67 ج 5 (فیاض)
اسی طرح ضعیفوں والی چال ڈھال بھی ٹھیک نہیں ۔ حضور ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ متواضعانہ طریقے پر چلتے تھے مگر پائوں زمین سے اٹھا کر ۔ بیماروں کی طرح پائوں زمین پر گھسیٹ کر چلنا بھی ٹھیک نہیں ۔ حضور 1 ؎ (علیہ السلام) چلتے وقت آگے کی طرف جھکے ہوئے ہوتے تھے گویا کہ آپ کسی ڈھلوان میں اتر رہے ہیں ۔ سینہ تان کر تکبر کی چال چلنا اللہ کو ہرگز پسند نہیں ۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے کہ اگر اکڑ کر چلو گے ۔ اناک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولا ( آیت : 73) تو نہ تو زمین کو پھاڑ سکے گا ۔ اور نہ تمہارا سر آسمان سے ٹکرائے گا ، بلکہ رہو گے ، پھر بھی انسان ہی ، لہٰذا اکڑ کی چال اللہ کو ہرگز پسند نہیں ۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ کے بندے زمین پر ہمیشہ وقار کے ساتھ چلتے ہیں ، سکون اور اطمینان کو اپنا وطیرہ بناتے ہیں ۔ بلا وجہ دوڑنا بھی بیوقوفوں والی بات ہے ایسا بھی نہیں کرنا چاہئے۔ حدیث 2 ؎ میں آتا ہے کہ جب نمازر کے لیے آئو تو تیز مت چلو بلکہ علیکم السکینۃ والوقار تم پر اطمینان اور وقار لازم ہے آرام سے آئو ، نماز کا جتنا حسنہ جماعت سے مل جائے ادا کرو اور باقی حصہ بعد میں پڑھ لو مگر طمانیت کا دامن مت چھوڑو کہ یہ ناپسندیدہ ہے۔
عباد الرحمن کی دوسری صفت اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے واذا خاطبھم الجھلون قالوا سلماً جب ان سے جاہل لوگ بات چیت کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں سلام ہو ۔ کفار و مشرکین بےادب ، گستاخ اور بیوقوف لوگ ہیں مگر اللہ کے بندے بےادبی اور گستاخی کا جواب اس طرح نہیں دیتے بلکہ سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں ۔ یہ سلام متارکت کہلاتا ہے ، نہ ہم تمہارے ساتھ الجھیں گے نہیں ، تمہاری اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیں گے ، گالی کا جواب گالی نہیں ہوگی ، کیونکہ جہالت کا جواب جہالت سے دینا جاہلوں کا کام ہے۔ عرب کے مشرک کہتے تھے ؎
الا لا یجھلن احذ علینا فجھل فوق جھل الجاھلینا
1 ؎ ابن کثیر ص 423 ج 3 و قرطبی ص 96 ج 31 2 ؎۔ ابن کثیر ص 423 ج 3 (فیاض)
خبردار کوئی ہمارے ساتھ جہالت سے پیش نہ آئے ، ورنہ ہم تمام جاہلوں سے بڑھ کر جہالت سے پیش آئیں گے۔ غرضیہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ جب جاہل لوگ کوئی ایسی بات کرتے ہیں تو اللہ کے بندے مناسب طریقے سے صاحب سلام کہہ کر الگ ہوجاتے ہیں اور بیہودہ لوگوں کو منہ نہیں لگاتے روزے والی حدیث میں آتا ہے کہ اگر کوئی شخص روزے دار کے ساتھ بیہودہ بات کرے تو روزے دار کو چاہیے کہ وہ کردے بھائی ! انی امرء صائم میں روزہ دار ہوں ۔ میں تمہاری بہیودہ بات کا جواب بیہودگی سے نہیں دوں گا ۔ اسی طرح عباد الرحمان کی صفت یہ ہے کہ جاہلوں کے ساتھ بجھنے کی بجائے سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں۔
(3) سجود و قیام
فرمایا والذین یبیتون لربجھ سجدا وقیاما اللہ کے بندے وہ ہیں جو اپنے رب کے سامنے سجدہ گرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے یعنی نماز پڑھتے ہوئے رات گزار دیتے ہیں یہ ان کی تیسری صفت بیان ہوئی ہے۔ ایسے لوگوں کی راتیں لہو و لعب کھیل تماشے اور غفلت میں نہیں گزرتیں بلکہ اپنے پروردگار کے حضور ﷺ گڑگڑاتے ہوئے بسرہوتی ہیں ۔ پرانے زمانے میں لوگ رات کے وقت بڑی بڑی مجلسیں قائم کیا کرتے تھے جہاں قصے کہانیاں سنائے جاتے ۔ شعر و شاعری ہوتی ، لطیفہ گوئی ہوتی ۔ آج کے ترقی یافتہ زمانے میں لوگوں کی راتیں سینما ، آرٹ گیلری اور کلب میں گزر جاتی ہیں ۔ جہاں گانا بجانا ، رقص و سرور اور بیہودہ باتیں ہوتی ہیں ۔ عریانی اور فحاشی کا بازار گرم ہوتا ہے مگر جو اللہ کے بندے ہیں وہ پرانے زمانے میں بھی ان لغویات سے مبرا تھے اور آج بھی ان کی راتیں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو کر گزرتی ہیں ۔ حضور ﷺ کا فرمان 1 ؎ ہے کہ تہجد کی نماز عبادتوں سے افضل ہے ۔ مسند احمد کی روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں ۔ افضل الصلوٰۃبعد المفروضہ صلوٰۃ فی جوف اللیل
1 ؎۔ مسند احمد ص و ترمذی ص 09 ( فیاض)
یعنی فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز وہ ہے جو رات کو پڑھی جائے ۔ ترمذی شریف 1 ؎ میں آپ کا یہ فرمان بھی موجود ہے۔ علیکم بقیام اللیل فانہ راب الصلحین قبلکم وھو قربۃ لکم الی ربکم و مکفرۃ للسیات ومنھاۃ عن الاثم لوگو ! رات کے قیام کو لازم پکڑو کہ تم سے پہلے نیک لوگوں کی یہی عادت تھی ۔ یہ تمہارے لیے خدا تعالیٰ کا قرب دلانے ، برائیوں ک مٹانے اور گناہوں سے روکنے کا ذریعہ ہے ، غرضیکہ فرمایا کہ اللہ کے بندوں کی تیسری صفت یہ ہے کہ ان کی راتیں سجود و قیام میں گزرتی ہیں۔
(4) جہنم سے دور رہنے کی دعا
فرمایا اللہ کے بندوں کی چوتھی صفت یہ ہے والذین یقولون ربنا اصرف عنا عذاب جھنم یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم سے جہنم کے عذاب کو دور کر دے۔ اللہ کے بندوں کو ہمیشہ یہ فکر رہتی ہے کہ کہیں وہ دوزخ کے عذاب کا شکار ہوجائیں اس لیے وہ ہمیشہ اس سے پناہ مانگتے رہتے ہیں ۔ سورة بقرہ میں موجود ہے کہ اللہ کے بندے اپنے پروردگار سے جہاں دنیا اور آخرت کی بھلائی طلب کرتے ہیں ۔ وہ یہ بھی درخواست کرتے ہیں وقنا عذاب النار ( آیت : 103) پروردگار ! ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھنا ۔ سورة آل عمران میں ہے فمن زجزع عن النار وادخل الجنۃ ففقد فاز (آیت 581) جو شخص دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوگیا ۔ اللہ کے بندے ہمیشہ ایسی ہی کامیابی کی دعائیں کرتے ہیں ۔ بہر حال اللہ کے بندوں کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ جہنم کے عذاب سے رہائی چاہتے ہیں کیونکہ ان عذابھا کان غراما بیشک جہنم کا عذاب لازم ہونے والا یعنی جمیت جانے والا ہے ۔ غرامہ تاوان کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ متعلقہ شخص کو چمٹ جاتا ہے۔ انھا ساء ت مستقرا و مقامات بیشک یہ دوزخ رہائش کی بہت بڑی جگہ اور بہت بڑا ٹھکانا ہے۔
1 ؎ ۔ ترمذی ص 015 (فیاض)
مسند احمد میں حضرت انس ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ دوزخ میں پڑا ہو ایک شخص ایک ہزار سال تک یلحنان یا منان یعنی اے تفقت کرنے والے اور احسان کرنے والے خدا پکارتا رہے گا ۔ بالآخر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا کہ جائو اس شخص کو پکڑ کرلے آئو ۔ فرشتے جا کر دیکھیں گے تو سب دوزخی اوندھے منہ پڑے ہوں گے اور مطلوبہ شخص کی شناخت نہیں ہو سکے گی ۔ واپس آ کر اللہ کے سامنے صورت حال بیان کریں گے ۔ اللہ فرمائے گا ۔ جائو اس کو لے کر آئو ۔ فرشتے اس شخص کو پکڑ کرلے آئیں گے جب وہ اللہ کے سامنے پیش ہوگا ۔ تو اللہ فرمائے گا ۔ اے میرے بندے ! دوزخ کا ٹھکانہ کیسا ہے ؟ وہ کہے گا ، بہت ہی برا ہے ، نہایت ہی تکلیف دہ ہے ، اللہ فرمائے گا ، جائو واپس اسی میں چلے جائو ۔ وہ بندہ عرض کرے گا ، مولاکریم ! تیری رحمت سے مجھے یہ امید تو نہ تھی کہ ایک دفعہ دوزخ سے نکالنے کے بعد پھر اسی میں داخل کردے گا ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئے گی اور حکم ہوگا کہ اس کو دوزخ سے رہا کر دو ، غرضیہ بہت ہی بڑا ٹھکانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے۔
(5) خرچ میں میانہ روی
عباد الرحمن کی پانچویں صفت یہ بیان فرمائی ہے والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا اللہ کے بندے وہ ہیں کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل ۔ اسراف دو طرح سے ہوتا ہے ۔ ایک اسراف تو یہ ہے کہ انسان حرام ، مکروہ اور ناجائز تعلقات پر مال خرچ کرے جیسا کہ دعوتوں ، شادیوں اور پارٹیوں پر کیا جاتا ہے۔ مختلف تقریبات اور باطل رسوم پر روپیہ خرچ کیا جاتا ہے یا پھر مکان کی زیب وزینت لباس و فضول خرچی اور دیگر ناجائز امور پر خرچ ہوتا ہے۔ دوسرا اسراف یہ
1 ؎۔ ابن کثیر ص 533 ج 3 (فیاض)
ہے کہ ضرورت سے زیادہ خرچ کیا جائے۔ ایک کام تھوڑے خرچہ سے بآسانی پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے مگر ذاتی نمود و نمائش کی خاطر بےدریغ روپیہ بہانا اسراف ہے۔ ایک دعوت کا انتظام دو سو ورپے میں ہو سکتا ہے تو اس پر ایک ہزار روپے خرچ کردینا اسراف میں داخل ہے۔ چار چھ ڈش کی بجائے اگر ایک دو ڈش پر گزرا کرلیا جائے تو مال ضائع نہیں ہوگا ، مگر اب تو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر نمائش کی جاتی ہے اور پھر اس کے لیے کسی حد کا تعین نہیں ہو سکتا ۔ جتنا بڑھائو گے بڑھتا چلا جائے گا ۔ یہی اسراف ہے حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ نفس کی ہر خواہش کو پورا کرنا ، جو جی چاہے کھانے کے لیے فوراً مہیا کرلینا بھی اسراف میں داخل ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت 1 ؎ میں آتا ہے ما عال من اقتصد جو میانہ روی اختیار کرتا ہے وہ محتاج نہیں ہوتا ۔ اللہ کا فرمان ہے کلو واشربوا ولا تسرفوا ( الاعراف : 13) کھائو ، پیو مگر فضول خرچی نہ کرو۔ جس طرح فضول خرچی ناپسندیدہ ہے اسی طرح بخل بھی بہت بر ی بیماری ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ای راء اروء من البخل بخل سے بڑھ کر کونسی بیماری ہو سکتی ہے۔ اپنے بال بچوں کی جائز ضروریات بھی پوری نہ کرنا بخل ہے ۔ غرباء و مساکین کی حق تلفی کرنا ، عزیز و اقارب سے رو گردانی کرنا وغیرہ بخل کی علامات ہیں جو کہ حرام اور ممنوع ہیں ۔ بخل اور فضول خرچی کے درمیان بہترین راستہ میانہ روی کا راستہ ہے۔ حضور ﷺ نے دعا بھی سکھائی ہے ، اے پروردگار ! میں تجھ سے میانہ روی کا سوال کرتا ہوں ۔ جب کوئی انسان فقر ، غنی اور معیشت میں میانہ روی اختیار کرے گا تو اس کو پریشانی لا حق نہیں ہوگی کیونکہ اس کی معیشت کا توازن برقرار رہے گا ۔ جونہی کوئی شخص اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتا ہے ۔ مقروض ہو کر ذلیل و خوار ہوجاتا ہے۔
1 ؎۔ السراج المنیرص 176 ج 3 وابن کثیر ص 523 ج 3 ۔ 2 ؎ مسند احمد ص 803 ج 3 و کنز العمال ص 752 ج 3 ( فیاض)
فرمایا ، رحمان کے بندے وہ ہیں کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل وکان بین ذلک قواما بلکہ ان کا گزران دونوں کے درمیان ہوتا ہے۔ وہ اعتدال کے ساتھ خرچ کرتے ہیں ۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ قوام اگر ق کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جس سے انسان کی ضرورت پوری ہوجائے اور قوام کا معنی گزران ہے دونوں لحاظ سے معنی ایک ہی ہے کہ اللہ کے بندے خرچ کرتے وقت میانہ روی اختیار کرتے ہیں ۔ اپنی جائز ضروریات بخوشی پورا کرتے ہیں مگر جائز امور پر اپنا مال خرچ نہیں کرتے۔
1 ؎۔ بیضاوی ص 051 ج 2 (فیاض)
Ayahs 25:68–72ربط آیات
پہلے خدائے رحمان کے اوصاف اور کمالات کا ذکر ہوا ۔ پھر اللہ نے عباد الرحمان کی صفات بیان فرمائیں ۔ اب تک پانچ صفات کا بیان ہوچکا ہے یعنی خدائے رحمان کے بندے وہ ہیں جو (1) زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے بلکہ وقار اور سکنیت کے ساتھ چلتے ہیں (2) جب ان سے نادان لوگ بات کرتے ہیں تو وہ الجھنے کی بجائے سلام کر کے گزر جاتے ہیں۔ (3) اللہ کے بندوں کی راتیں سجود و قیام میں گزرتی ہیں (4) وہ اپنے پروردگار سے دوزخ کو دور کرنے کی دعائیں کرتے ہیں (5) وہ لوگ خرچ کتے وقت نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل بلکہ میانہ روی اختیار کرتے ہیں۔
(6) شرک سے بیزاری
اب آج کی آیات میں عباد الرحمان کی چھٹی صفت یہ بیان ہوئی ہے والذین لا یدعون مع اللہ لھا آخریہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو اللہ نہیں پکارتے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں کسی کو شریک نہیں بناتے۔ یہ بڑی عظیم اور سب سے مقدر صفت ہے۔ خدا کا بندہ کسی کو الوہیت میں شریک نہیں کرے گا ، چونکہ حالق ومالک ، قادرمطلق ، مختار مطلق اور علیم کل صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے لہٰذا اس کے سوا مستحق عبادت بھی کوئی نہیں ، قولاً فعلاً ، عملاً غایت درجے کی تعظیم کے لائق صرف ذات خداوندی ہے۔ صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت 1 ؎ میں آتا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا ان تجعل للہ ندا وھو خلقک سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو اللہ کا شریک ٹھہرائے
1 ؎۔ بحر الحبط ص 405 ج 6 احکام للحصاص ص 623 ج 4 رکشاف ص 492 ج 3 (فیاض)
حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے ، غرض کیا ، اس کے بعد کونسا گناہ ہے۔ فرمایا ان تقبل ولدک خشیۃ ان یطعم معات تو اپنے بچے کو اس وجہ سے قتل کر دے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے پینے میں شریک ہوجائے گا ۔ اولاد کی پرورش کے خوف سے اسے مار ڈالے ۔ ابن مسعود ؓ نے پھر عرض کیا ۔ اس کے بعد کون سا گناہ ہے ۔ آپ نے فرمایا ۔ انتزانی حلیلۃ جارک کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرے۔ گویا یہ اکبر الکیانیہ میں سے بعض جرائم ہیں ک ، اور ان میں سے سر فہرست اشراک باللہ ہے اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی دوسرے کو اللہ کی عبادت میں یا صفت میں شریک کرے گا ، کسی کو نافع اور ضاء سمجھ کر اس سے حاجت طلب کرے گا ، مراد مانگے گا ، یا کسی کی نذر و نیاز پیش کریگا تو یہ شرک ہوگا جسے سب سے بڑا جرم شمار کیا گیا ہے۔
(7) قتل نفس سے اجتناب
فرمایا اللہ کے بندوں کی ساتویں صفت یہ ہے ولا یقتلون الفنس التی حرم اللہ الا بالحق کہ وہ کسی جان کو ناحق قتل نہیں کرتے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ صرف تین صورتوں میں قتل کرنا روا ہے ایک ایسا قتل جو قتل کے بدلے میں قصاص کے طور پر کیا جائے ۔ دوسرا مرتد کا قتل ہے جو دین اسلام سے پھرجائے اور سمجھانے بجھانے اور شکوک و شبہات دور کرنے کے باوجود دین میں واپس نہ آئے ، اور تیسرا قتل محض زانی کا ہے جسے سنگسار کردیا جائے ۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ کے بندے وہ ہیں جو اللہ کی حرام کردہ کسی جان کو قتل نہیں کرتے سوائے قتل حق کے۔
(8) زنا سے پرہیز
آگے فرمایا اللہ کے بندے وہ ہیں ولا یزنون جو بدکاری کا ارتکاب نہیں کرتے ۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے ، زنا بھی اکبر العبائر میں شامل ہے پھر اس میں بھی قبیح بدکاری وہ ہے جو اپنے پڑوسی کی بیوی سے کی جائے کیونکہ ان للجار علی الجار حقا ً پڑوسی کا پڑوسی پر بڑا حق ہوتا ہے۔ ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کے مال اور عزت و ناموس کا محافظ ہوتا ہے اور اگر وہی اس کی آبروریزی کرے تو یہ بہت برا گناہ ہوگا ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے 1 ؎ کہ دس گھروں سے چوری کرنا زیادہ ہلکا ہے اس سے کہ پڑوسی کے ایک گھر سے چوری کی جائے ۔ چوری تو مطلق حرام ہے مگر پڑوسی کی چوری دس گناہ زیادہ قبیح ہے۔ فرمایا ومن یفعل ذلک یلق اثاما جو کوئی ایسے فعل کا ارتکاب کرے گا ۔ وہ گناہوں کے جرم کو پا لے گا ۔ آثام ، اتم کی جمع ہے جس کا معنی گناہ 1 ؎ ہوتا ہے ۔ بعض 2 ؎ فرماتے ہیں کہ آثام جہنم کی ایک وادی کا نام ہے ۔ جس میں سخت سزا دی جائے گی ۔ اگر یہ معنی ہو تو جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایساشخص جہنم کی اس وادی کو پالے گا یعنی اس میں پہنچ جائے گا ۔ فرمایا ایسے مجرم کے لیے یضعف لہ العذاب یوم القیمۃ قیامت والے دن اس کے عذاب کو دگنا کردیا جائے گا ۔ نہ اس کا جرم ختم ہوگا اور نہ سزا ختم ہوگی ۔ بلکہ بڑھتی ہی جائے گی ، اس لیے فرمایا کہ اس کی سزا کو ڈبل کردیا جائے گا ۔ ویخلد فیہ مھانا اور وہ اس میں ذلیل و خوار ہو کر رہے گا ۔ یہ لو ایک گناہ کی سا ہے۔ اگر اس کے علاوہ دیگر جرائم بھی ہیں تو ہر جرم کی الگ الگ سزا ملے گی اور وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی۔
(9) توبہ اور ایانت
فرمایا الا من تاب وامن وعمل عملا صالحا مگر جس شخص نے توبہ کرلی ، وہ ایمان لے آیا ، اور اس نے اچھا عمل بھی کیا ۔ فاولئک یبدل اللہ سیاتھم حسنت پس یہی لوگ ہیں کہ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں میں تبدیل کر دے گا یعنی پہلے جرائم معاف ہو کر ان کی جگہ نیکیاں لکھ دی جائیں گی ۔ جب تک انسان کے ہوش و حواس قائم ہیں اور اس پر موت کا غرغرہ طاہری نہیں ہوجاتا ۔ اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، وہ ہر گناہ سے حتیٰ کہ کفر اور شرک جیسے بد ترین گناہوں سے بھی تائب ہو کر اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہو سکتا ہے۔
1 ؎۔ ابن کثیر ص 623 ج 3 در منثور ص 17 ج 5 ( فیاض)
حضرت ابو ذر غفاری (رح) کی روایت 1 ؎ میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ایک بندے کو حاضر کرنے کا حکم دیں گے۔ 1 ؎ جب وہ حاضر ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو شمار کیا جائے ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے یہ گناہ کیا ، وہ شخص اقرار کرتا جائے ۔۔۔ گا اور ساتھ ساتھ خائف بھی ہوگا کہ کہیں اللہ تعالیٰ بڑے بڑے جرائم کے متعلق نہ پوچھ لے ۔ پھر حکم ہوگا ، جائو ہم نے تمہارے یہ چھوٹے چھوٹے گناہ معاف کردیئے ، اور ان کے بدلے میں ایک ایک نیکی دے دی ۔ وہ شخص دلیر ہوجائے گا کہ گناہوں کے بدلے میں نیکیاں ہی مل رہی ہیں تو کیوں نہ بڑے بڑے گناہوں کا تذکرہ بھی ہوجائے تا کہ ان کے بدلے میں بھی نیکیاں مل جائیں پھر وہ عرض کرے گا ۔ کہ مولا کریم ! ابھی میرے بعض گناہوں کا ذکر نہیں ہوا ۔ یہ بیان کرتے ہوئے حضور ﷺ نے تبسم فرمایا کہ دیکھو ! یہ شخص پہلے تو اپنے گناہوں سے خائف تھا مگر اب اللہ کی مہربانی دیکھ کر اتنا دلیر ہوگیا کہ خود ان کا تذکرہ کر رہا ہے۔ بہر حال بعض لوگوں پر اللہ تعالیٰ اس قدر راضی ہوجائے گا کہ ان کے گناہوں کی بجائے ان کے نام نیکیاں درج ہوجائیں گی ۔ یہ سب سچے دل سے توبہ کرنے کی وجہ سے ہوگا ۔ وکان اللہ غفوررحیما ً اور بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے ۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا ومن تاب و عمل صالحا ً جس نے توبہ کرلی اور نیک عمل ، نجاردیا فانہ یتوب الی اللہ متابا پس بیشک وہ شخص اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھتا ہے۔ رجوع رکھنا ، یہ ایمان والوں کی علی صفت ہے کہ کوتاہی ہوجاتی ہے تو فوراً تائب ہوجاتے ہیں ۔ ایسا کرنے والے شخص کے نہ صرف گناہ معاف ہوجائیں گے بلکہ اس کے گناہ نیکیوں میں بدل دیئے جائیں گے۔
(01) جھوٹ سے پرہیز
اس کے علاوہ اللہ کے بندوں کی دسویں صفت یہ ہے والذین لا یشھدون الزور کہ و ہ جھوٹے کام میں حاضر نہیں ہوتے بلکہ ہر جھوٹے
1 ؎۔ منثور ص 97 ج 5 ( فیاض)
فعل سے پرہیز کرتے ہیں ۔ بعض اس سے مراد جھوٹی گواہی لیتے ہیں یعنی اللہ کے بندے وہ ہیں جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے کہ جھوٹی بھی اکبر الکبائر میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے واقیمو الشھادۃ للہ ( الطلاق : 3) یعنی اللہ کے لیے گواہی صحیح صحیح دو ، چناچہ گواہ کا عادل ہونا ضروری ہے۔ کسی فاسق فاجر اور غیر عادل گواہ کی گواہی معتبر نہیں ہے کیونکہ جھوٹی گواہی سے یا تو کسی کا جائز حق ضائع ہوتا ہے یا ناجائز ثابت ہوتا ہے ، کسی مسلمان حق تلفی بھی بہت بڑا جرم ہے۔ اسی لیے مصنف ابن ابی شیبہ (رح) اور مصنف عبد الرزاق (رح) جیسی کتب احادیث میں یہ حدیث موجود ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ جس شخص کے بارے میں ثابت ہوجائے کہ اس نے کسی معاملہ میں جھوٹی گواہی دی ہے تو اس کو چالیس درے مارے جائیں ۔ اس کا منہ سیاہ کر کے اس کی تشہیر کی جائے کہ یہ جھوٹا گواہ ہے ، نیز اس کو قید میں بھی ڈالا جائے وہ تینوں سزائوں کا مستحق ہے۔ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو ہماری عدالتوں کا سارا نظام ہی جھوٹی گواہیوں پر چل رہا ہے۔ پولیس والے گواہ کو اچھی طرح پڑھا کر عدالت میں پیش کرتے ہیں کہ یوں کہنا اور یوں نہ کہنا ۔ در حقیقت ہونا تو یہ چاہئے کہ گواہ جو کچھ جانتا ہے یا اس نے جو دیکھا ہے بےکم وکاست بیان کرے ۔ مگر اس طرح تو مقدمہ خراب ہوجاتا ہے۔ جب تک اس میں جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہوگی ۔ مقدمے کا فیصلہ حسب منشاء حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ سارا قانون شہادت ہی غلط ہے۔ عدالتوں میں روزمرہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ تھوڑی سی فیس کے بدلے پیشہ ور اجرتی گواہ مل جاتے ہیں ۔ بعض تو ایک سگریٹ کے بدلے جھوٹی گواہی دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں ۔ لوگ گواہی کی اہمیت سے اس قدر بےخوف ہوچکے ہیں ایسے حالات میں عدالتوں کا نظام کیسے درست ہو سکتا ہے اور سوسائٹی کیسے پاک ہو سکتی ہے ؟ بہر حال عباد الرحمان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ نہ وہ جھوٹی گواہی دیتے ہیں اور نہ کسی مطلق جھوٹے معاملے میں شریک ہوتے ہیں۔
(01) لغو بات سے کنارہ کشی
اللہ کے بندوں کی گیارہوں صفت یہ ہے کہ واذا مروا بالغو مرواکراما کہ جب وہ کسی لغو بات کے پاس سے گزرتے ہیں ۔ تو شریفانہ طریقہ پر گزر جاتے ہیں ۔ ہر بیہودہ ، ناجائز اور فحش بات لغو کے زمرہ میں آتی ہے ۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ اور امام ابوحنیفہ ؓ لغو بات سے گانا ، بجانا مراد لیتے ہیں ۔ کھیل تماشہ ، گانا بجانا ، عشق و محبت کی داستانیں سب لغو یات میں شامل ہیں بعض آثار میں آتا ہے ینبت النفاق فی القلب کہ یہ چیزیں دل میں نفاق پیدا کرتی ہیں ۔ مگر آج آپ معاشرے میں نظر مار کر دیکھ لیں ، کوئی گھر ، کوئی مکان ، کوئی رفاہ عامہ کا ادارہ ، کوئی کلب اور آرٹ گیلری اس قباحت سے پاک نہیں ہے۔ ریڈیو ہو یا ٹی وی ہر وقت موسیقی کا پروگرام چل رہا ہے کھیل تماشے کے لیے وازرتیں بنی ہوئی ہیں ۔ لاکھوں روپیہ کا زرمبادلہ خرچ کر کے بین الاقوامی کھیلوں میں حصہ لیا جاتا ہے اور پھر جیتنے پر صدر اور وزیراعظم کی طرف سے مبارکباد دی جاتی ہے ۔ اللہ کے بندو ! انہوں نے کون سا قلعہ فتح کرلیا ہے۔ کوئی قوم اور ملک کی خدمت کی ہوتی ، دین کی خدمت کی ہوتی تو کچھ فائدہ بھی ہوتا ۔ یہی حال پہلوانی اور باڈی بلڈنگ کے فن کا ہے۔ محض فضولیات اور تضیع اوقات ہے۔ پیسے کی بربادی ہے ، عیسائیوں ، یہودیوں اور دہریوں کے نقش قدم پر بلا سوچے سمجھے چل رہے ہیں ۔ آخر ان ڈراموں سے قوم کی کون سی اصلاح ہوتی ، یہ تو الٹا چوری ، ڈکیتی اور عشق و محبت کی تربیت گاہیں بن چکی ہیں مگر ساری انہی لغو یات میں الجھ کر رہ گئی ہے ، کوئی نہیں کہتا کہ بھائی ان لغویات کی بجائے کوئی اچھا کام کرو ، اللہ نے فرمایا کہ اللہ کے مقبول بندے وہ ہیں جو ایسی لغویات سے شریفانہ طریقے سے گزر جاتے ہیں اور ان میں ملوث نہیں ہوتے۔
Ayahs 25:73–77(21) آیا …………
عبد الرحمن کی صفات ہی کا ذکر ہو رہا ہے ارشاد ہوتا ہے والذین اذا ذکروا بایت ربھم اور اللہ کے بندے وہ ہیں کہ جب انہیں ان کے پروردگار کی آیات یعنی احکام اور دلائل یاددلائے جاتے ہیں سمجھائے جاتے ہیں ۔ لم یخرواغا یھا صم و عمیانا تو وہ اس پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گر پڑتے۔ اس کے بر خلاف وہ اللہ تعالیٰ کے دلائل قدر ت میں غورو فکر کر کے اس کی معرفت حاصل کرتے ہیں ، اس کے احکام کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور پھر ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ کے بندے آیات الٰہی کے ساتھ کفارو مشرکین جیسے بہرے اور اندھوں کا سا سلوک نہیں کرتے کہ ان کو سنا ، نہ سمجھا ، نہ غور و فکر کیا اور نہ اس پر عمل کیا ۔ بہر حال عباد الرحمان آیات الٰہی سے غفلت نہیں برتتے ، جن باتوں پر یقین رکھنا ضروری ہوتا ان کو دل و دماغ میں جگہ دیتے ہیں اور جن پر عمل کرنا ہوتا ہے ان پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں ۔ یہ ان کی باہویں صفت ہے۔
تعلیم و تعلم
ذکروا کا معنی یاد دلانا یا سمجھانا ہوتا ہے۔ گویا آیات ِ الٰہی کا سمجھانا ضرور ی امر ہے۔ سب سے پہلے اللہ کا نبی وحی الٰہی کو اپنے مخاطبین تک پہنچاتا ہے اور اس کی جزیات سمجھاتا ہے۔ پھر امت کے اہل علم لوگ احکام الٰہی کونسل در نسل سمجھاتے چلے جاتے ہیں ۔ اس سے یہ بات بھی اخذ ہوتی ہے کہ علم سمجھانے سے آتا ہے اور جو لوگ خود بخود محض مطالعہ کے زور پر کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ، وہ غلطیاں کرتے ہیں ۔ استاد کے بغیر کوئی شخص کسی بھی علم میں کمال حاصل نہیں کرسکتا ۔ امام شاہ ولی اللہ 1 ؎ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی کسب و ہنر خواہ وہ موچی ، بڑھئی ، درزی یا لوہار کا ہو ، استاد کے
1 ؎۔ حجۃ اللہ البالغہ ص 05 ( فیاض)
سمجھائے بغیر نہیں آتا ، کوئی ڈاکٹر خود بخود مطالعہ کر کے ڈاکٹر نہیں بن سکتا اور نہ ہی کوئی انجینئر ذاتی مطالعہ کے ساتھ کامیاب انجینئر بن سکتا ہے۔ یہ شعبہ میں سخت محنت اور کشادگی کی ضرورت ہوتی ہے تب جا کر کسی شخص کو اپنے فن میں مہارت حاصل ہوتی ہے اسی طرح حکمت الٰہی کو سمجھنے کے لیے استاد کی ضرورت ہے ۔ ……عربی زبان پڑھ کر قرآن کریم کا ترجمہ شروع کردیتے ہیں تو پھر وہ گمراہی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے فاسئلموا اھل الذکر ان کنتم لا تعملون (النحل : 34) جس چیز کا تمہیں علم نہیں وہ یاد کرنے والے یعنی اہل علم سے دریافت کرلو ۔ قرآن پاک میں اس بات کا بار بار تذکرہ آیا ہے کہ ناواقف لوگ جاننے والوں سے پوچھ لیا کریں تا کہ ان کا رخ سیدھا ہوجائے۔ جب بھی کسی معاملہ میں مشکل در پیش ہو ، کسی بات کو سمجھ نہ آتی ہو تو پھر لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْھُمْ ( النسائ : 38) اہل علم کے پاس جائو ، وہ استنباط و استخراج کر کے تمہارا مسئلہ حل کردیں گے اور اس طرح گویا استاد سے صرف سیکھنا ہی کافی نہیں بلکہ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے سچے پیروکاروں کا نمونہ بھی سامنے رکھنا ضروری ہے اور پھر اس کے مطابق عمل کرنا بھی لازم ہے۔
(31) ازواج اولاد کی فکر
عبد الرحمان کی ایک صفت یہ بھی ہے والذین یقولون ربنا لھب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین اور اللہ کے بندے وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! بخش دے ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک ۔ مطلب یہ کہ ہماری بیویوں کو ایسی ہدایت عطا فرما کہ وہ قلب و نظر کا سرور بن جائیں اور اولاد بھی ایسی ہو کہ جسے دیکھ کر دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں جس کامل الایمان آدمی کی بیوی فرمانبردار ہو ۔ اس کا عقیدہ اور اخلاق درست ہو اور عمل صالح ہو تو وہ اس کے لیے مسرت کا باعث ہوگی ۔ اسی طرح جس کی اولاد نیک اور با عمل ہوگی وہ بھی اس شخص کے لیے اطمینان کا باعث ہوگی ۔ اس کے بر خلاف اگر بیوی یا اولاد کا عقیدہ خراب ہوگا ۔ یا عمل میں کوتاہی ہوگی ۔ اخلاق غیر معیاری ہوگا تو ایسے شخص کو سرور اور اطمینان کیسے حاصل ہو سکے گا ؟ حدیث میں آتا ہے کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی اولاد اس کے حق میں جو دعا کرتی ہے ، اللہ تعالیٰ اس کا صلہ مرنے والے کو دیتا ہے۔ حدیث 1 ؎ کے الفاظ ہیں او ولد صالح یدعولہ یعنی وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے ۔ ظاہر ہے کہ اگر اولاد نیک ہوگی تو وہ دعا بھی کرے گی اور اس کا فائدہ بھی ہوگا اور اگر اولاد نیک ہی نہیں ہے تو وہ والدین کو ان کے مرنے کے بعد کیا فائدہ پہنچا سکے گی ۔ اسی لیے اللہ کے بندے یہ تمنا رکھتے ہیں کہ ان کی اولاد اطاعت کے راستے پر گامزن رہے وہ مفید علم حاصل کرے اور اچھی باتوں کے ساتھ شغل رکھے تا کہ اس کو دیکھ کر دل کو سرو ر اور آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہو ۔ اگر اولاد نالائق فرمان اور بد معاش ہوگی تو مومن کا دل کیسے مطمئن ہوگا ؟ جو اولاد نقصان پہنچائے ، والدین کے مال کو ضائع کرے تو ایسی اولاد سے تو سانپ اچھا ہوتا ہے بد کار اولاد والدین اور خاندان کو بد نام کرتی ہے اور ان کی عزت و شرافت کو بٹہ لگاتی ہے۔ چناچہ عباد الرحمان یہی دعا کرتے ہیں کہ مولا کریم ! انکی بیویوں اور اولادوں کو نیک بنا دے جن کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہوں مطلب یہ ہے کہ ہر مومن آدمی کو اپنی بیوی اور اولاد کی فکر کرنی چاہئے کہ وہ صراط مستقیم پر قائم رہے۔ ان کو خود بھی سمجھانا چاہئے اور صحیح استے پر ڈالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
(41) ذاتی اصلاح
ایک مومن آدمی جہاں اپنے اہل خانہ کی بہتری اور اصلاح کے لیے دعا کرتا ہے ، وہاں وہ اپنی ذات کے لیے بھی ایسی ہی خواہش رکھتا ہے
1 ؎۔ ابن کثیر ص 033 ج 3 (فیاض)
چنانچہ عبد الرحمان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ سے یوں دعا کرتے ہیں واجعلنا للمتقین اماماً اے پروردگار ! کہ خود ہمیں ایسا اصلاح یافتہ بنا دے کہ ہم متقیوں کے پیشوا بن جائیں یعنی آئندہ آنے والے لوگ ہمارے نقش قدم پر چلنے میں فخر محسوس کریں ۔ انسان کی ابدی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے درجے میں ایسی روحانی ترقی حاصل کرے کہ دوسروں کے لیے پیشوا بن جائے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنے لیے یہی دعا کی تھی واجعل لی لسان صدق فی الاخرین ( الشعرائ : 48) پچھلے لوگوں میں میرا نیک ذکر جاری فرما۔ ہمارے بعد آنے والے ہمارے نقش قدم پر چلیں۔
ظاہ ہے کہ نیکی ، ایمان اور توحید کا راستہ ہی ایسا راستہ ہے جس پر چل کر لوگ فخر محسوس کرسکتے ہیں ۔ جو شخص ایمان سے عاری احیاء سے خالی ، اور کھیل تماشے کا دلدادہ ہوگا ۔ وہ آئندہ آنے والوں کے لیے کیسے نمونہ بن سکتا ہے۔ ہمارے سلف صالحین نے کیسا اچھا نظام قائم کیا جس پر چل کر دنیا و آخرت میں سرخرو ہوئے ، لیکن ایک ہم ہیں کہ ان کی تعلیم کو بھول چکے ہیں ۔ آج ہمارے پاس اپنا کوئی نظام ہی نہیں ہے۔ ہم یہود و نصاریٰ اور دہریوں کے نظام کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور اسی کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ہاں ! جو اللہ کے بندے ہیں وہ ہمیشہ متقیوں کی پیشوائی کے لیے دعا کرتے ہیں۔
عباد الرحمان کے لیے انعامات
یہ اوصاف بیان کرنے کے بعد اللہ نے عباد الرحمان کے انعامات کا تذکرہ بھی فرمایا ہے اولئک یجزون الغ قد بما صبرو کیا ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے ؎ 1 کہ جنتیوں کے لیے عجیب و غریب بالائی منزلیں ہوں گی جو اس قدر شفاف ہوں گی کہ اندر کا منظر باہر سے نظر آئے گا
1 ؎۔ در منثور ص 18 ج 5 (فیاض)
اور باہر کا منظر اندر سے دیکھا جاسکے گا ۔ یہ ان کے صبر کا اجر ہوگا۔ کیونکہ صبر بھی دین کے بڑے اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔ خدا کی وحدانیت ، اس کا ذکر ، اس کی نعمتوں کی قدردانی ، اس کا شکر ادا کرنا ، شعائر اللہ کی تعظیم ، خدا کی عبادت وغیرہ بڑے بڑے اصول ہیں جن میں سے صبر بھی ایک اصول ہے صبر اطاعت کے وقت بھی کام آتا ہے اور مصیبت کے وقت بھی ۔ فرمایا ویلقون فیھا تحتۃ وسلم ا اللہ کے نیک بندوں کو جنت میں دعا اور سلام کے تحفے ملیں گے۔ ان سے جو بھی ملے گا اچھے دعائیہ کلمات کے ساتھ ملاقات کرے گا ۔ مومن اور فرشتے سب سلام کریں گے۔ سورة یٰسین میں بھی ہے سلم قولا ً من رب رحیم ( آیت : 85) اہل جنت کو مہربان پروردگار کی طرف سے بھی سلام ہوگا ۔ خلدین فیھا وہ اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی نکالے نہیں جائیں گے۔ حسنت مستقراً ومقاما یہ ان کے لیے بہترین قرار گاہ ( ٹھہرنے کی جگہ ہوگی اور بہترین رہنے کا مقام ہوگا ، جنت کی خوبصورتی ، پاکیزگی اور سہولتوں کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے لموضع سوط فی الجنۃ خیر من الدنیا وما فیھا یعنی جنت میں ایک کوڑا بھر جگہ ساری دنیا اور ا س میں موجود ہر چیز سے بہتر ہے۔ وہاں اہل جنت کے سامنے اعلان کرنے والا اعلان کرے گا ، اے اہل جنت ! ان لکم ان تصحوا فلا تسقموا وان لکم ان تحیق ولا تموتوا وان لکم ان تشبوا ولا نھرموا وان تنعموا ولا تبئسوا ابدا اب تم ہمیشہ کے لیے تندرست رہو گے اور بیمار نہیں ہو گے۔ تم ہمیشہ زندہ رہو گے اور کبھی موت نہیں آئے گی ۔ تم ہمیشہ جوان رہو گے اور تم پر بڑھاپا نہیں آئے گا ۔ تم ہمیشہ خوشحال رہو گے اور کبھی بد حالی اور تکلیف کا شکار نہیں ہوگے اسی لیے فرمایا کہ جنت کے بالا خانے ٹھہرنے کی بہترین جگہ اور رہنے کے لیے بہترین مقام ہوگا ۔
اتہال الی اللہ
آخر میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں ما یعبوا بکم ربی لولا دعائو کم میرے پروردگار کو کچھ پروا نہیں اگر تم اس کو نہیں پکارو گے ۔ اگر تم خدا تعالیٰ کی اطاعت یا اس کی عبادت نہیں کرو گے تو اس کی خدائی میں کوئی فر ق نہیں پڑے گا ۔ تم اسے پکارو یا نہ پکارو وہ اپنے تمام تر اختیارات کے ساتھ قائم و دائم ہے بعض اس کا معنی یوں کرتے ہیں کہ ” اگر میرے پروردگار کو تمہارا پکارنا نہ ہوتا تو وہ تمہاری کچھ پرواہ نہ کرتا “ جب مصیبت آتی ہے تو کافر اور مشرک لوگ بھی خدا تعالیٰ کو پکارنے لگتے ہیں ۔ فرمایا تمہاری یہی پکار تمہارے لیے مہلت کا باعث بن رہی ہے ، ورنہ اسے تمہاری کچھ پرواہ نہیں ہے۔ وہ جب چاہے تمہیں ہلاک کر دے اور آخرت بھی برباد ہوجائے ۔ اس کے علاوہ بعض نے یہ ترجمہ بھی کیا ہے اگر تمہیں ایمان کی طرف دعوت دینا مقصود نہ ہوتا تو میرا پروردگار تمہاری کچھ پرواہ نہ رکھتا ۔ ظاہر ہے کہ انسانوں اور جنوں کی تخلیق کا مقصد ہی اللہ کی عبادت ہے وما خلقت الجن والانس الا لیبعدون ( الذرایت 05) میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ لہٰذا اس کا معنی ایمان کی دعوت بھی ہو سکتا ہے۔
فرمایا فقد کذبتم پس تم نے جھٹلا دیا ہے یعنی تم نے اللہ کی توحید ، رسالت ، وحی الٰہی اور قیامت کا انکار کردیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فسوف یکون لزاما ً کہ عنقریب تم سے مٹھ بھیڑ ہوگی۔ جنگ و جہا د ہوگا اور پھر تمہاری سر کو بی ہوگی ، چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ جنگ بدر کے موقع پر پورا ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی تو بڑے بڑے سرداران کفر مارے گئے ، کچھ قیدی بنے اور باقی بھاگ گئے۔ حصور (علیہ السلام) نے بدر کے کنوئیں پر کھڑے ہو کر کفار کو خطاب کیا کہ اے فلاں اے فلاں ! اللہ نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ تو آج پورا ہوگیا ۔ اللہ نے ہمیں فتح مبین عطا فرمائی اس وعدے کو تو ہم نے سچا پایا ۔ اب تم بتائو کہ اللہ نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کہ نافرمانی کرو گے تو سزا دوں گا ۔ وہ وعدہ پورا ہوا یا نہیں ، اور کیا تم نے سزا پائی یا نہیں ۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا ۔ حضور ! یہ تو مردہ لاشیں پڑی ہیں ۔ آپ ان سے خطاب فرما رہے ہیں ، آپ نے فرمایا کہ بیشک یہ مردہ ہیں مگر تم سے زیادہ سنتے ہیں ، لیکن جواب نہیں دے سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ان کو میری بات سنا رہا ہے مگر ان کو جواب دینے کی قدرت نہیں ۔ غرضیکہ اللہ نے مکذبین کو حضور ﷺ کی زبان سے کہلوا دیا کہ اب ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ میدان جنگ میں ہوگا ۔ لہٰذا اس کے لیے تیار ہو جائویہ سورة اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حقانیت سے شروع کی ۔ پھر معاد کا مسئلہ بیان ہوا ۔ رسالت کے متعلق شکوک و شہبات کرنے والوں او منکرین کا رد فرمایا ۔ بعض دیگر باتوں کے علاوہ اللہ نے عباد الرحمان کی چودہ صفات بیان فرمائی ہیں اور آخر میں کفار و مشرکین کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو تمہارے ساتھ میدان جنگ میں مٹھ بھیڑ ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو غالب کرے گا اور تمہیں ذلیل و خوار ہونا پڑیگا۔