24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمعالم العرفان

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ ایک سورة ہے جس کو ہم نے اتارا ہے اور اس کے احکام کو ہم نے ہی فرض قرار دیا ہے۔ اور اتاری ہیں ہم نے اس میں واضح اور کھلی باتیں تاکہ تم نصیحت پکڑ لو

نام اور کوائف : اس سورة کا نام سورة نور ہے جو اس کی آیت اللہ نور السموت والارض سے ماخوذ ہے۔ اس سورة مبارکہ کی دوسری وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں ایسے احکام وقوانین بیان کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے اہل ایمان کے دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔ اس سورة مبارکہ کی چونسٹھ آیات ، نورکوع ، 1316 الفاظ اور 5980 حروف ہیں۔ یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ زمانہ نزول : اس سورة میں واقعہ افک بیان ہوا ہے جو کہ 6 ھ میں پیش آیا۔ قبیلہ بنی مصطلقی کے لوگ اکثر اسلام دشمن کاروائیوں میں ملوث رہتے تھے۔ جب ان کی ریشہ دوانیاں حد سے بڑھ گئیں ، تو حضور ﷺ نے ان کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا اور خود مجاہدین کی قیادت فرمائی۔ اس سفر میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بھی آپ کے ہمراہ تھیں۔ واپسی پر ایک ایسا حادثہ پیش آیا کہ قافلے نے ایک مقام پر رات کے وقت قیام کیا۔ صبح سویرے حضرت عائشہ ؓ باہر نکلیں تو ان کا ہار گم ہوگیا ، اس کی تلاش میں انہیں دیر ہوگئی ۔ قافلے کی روانگی کا وقت ہوا تو چار آدمیوں نے حضرت عائشہ ؓ کا خالی ہودہ اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا اور چل دیے۔ قافلے کے پیچھے دیکھ بھال کے لئے جانے والے ایک صحابی صفوان بن معطل سلمی ؓ نے آپ کو دیکھ لیا اور اپنے اونٹ پر سوار کرکے قافلے تک پہنچایا۔ اس واقع پر منافقین نے بڑا پروپیگنڈا کیا حتیٰ کہ حضرت عائشہ ؓ پر اتہام لگایا۔ اس سے اہل ایمان کی بڑی کوفت ہوئی۔ پھر ایک ماہ بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ ؓ کی برات میں اس سورة کی سولہ آیات نازل فرمائیں۔ اس واقعہ سے اس سورة کے نزول کا تعین ہوتا ہے۔ گذشتہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة المومنون کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے کامیاب اہل ایمان کا ذکر کیا تھا اور ساتھ ان کی بعض صفات بھی بیان کی گئی تھیں۔ پھر آخر سورة میں کافروں کی ناکامی کا ذکر ہوا۔ اور یہ بھی واضح کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بیکار محض پیدا نہیں کیا کہ وہ اس دنیا میں جو چاہے کرتا پھرے ، اس سے باز پرس ہی نہیں ہوگی بلکہ انسان کو اللہ نے مکلف پیدا فرمایا ہے اور وہ اس کے عاید کردہ قوانین کا پابند ہے۔ قانون کی یہ پابندی یا عدم پابندی ہی اس کی کامیابی یا ناکامی کا سبب ہے۔ اب اس سورة میں اللہ نے بعض معاشرتی قوانین بیان فرمائے ہیں جن کی پابندی انسان پر لازم ہے۔ اور یہی اس سورة کا پہلی سورة کے ساتھ ربط ہے ان دونوں سورتوں کا دوسرا باہمی ربط یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں بعض مضامین جیسے توحید اور اس کے عقلی ونقلی دلائل ، رسالت پر اعتراضات اور ان کے جوابات ، قیامت اور جزائے عمل وغیرہ مشترک ہیں۔ سورة کی اہمیت : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگرد اور مشہور تابعی حضرت مجاہد (رح) نے حدیث (تفسیر فتح القدیر ص 3 ج 4 (فیاض) بیان کی ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے علموا رجالکم سورة المائدۃ وعلموا نساء لکم سورة النور اپنے مردوں کو سورة مائدہ سکھائو کیونکہ اس میں حلت و حرمت اور دیگر مسائل بیان ہوئے ہیں جو زیادہ مردوں سے متعلق ہیں۔ اور اپنی عورتوں کو سورة نور سکھائو کیونکہ اس میں ناموس وعفت کی حفاظت اور بدکاری کے انسداد کے کے قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں (روح المعانی ص 74 ج 18 (فیاض) کہ حضرت عمر ؓ نے بعض حضرات کو اس مضمون کا مکتوب لکھا تھا ان تعلموا نساء کم سورة النساء والا حزاب والنور یعنی اپنی عورتوں کو سورة نسائ ، سورة احزاب اور سورة نور سکھائو۔ کیونکہ ان سورتوں میں عورتوں سے متعلق بہت سے مسائل آئے ہیں۔ مضامین سورة : اس سورة مبارکہ میں مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے متعلق بہت سے معاشرتی قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ تاہم اس کامرکزی مضمون اسلام کا نظام عفت وعصمت ہے۔ اس لحاظ سے یہ سورة فحاشی ، بےحیائی ، بداخلاقی اور زنا کے انسداد کا ایکٹ ہے۔ اس میں عصمت وناموس کی حفاظت کے قوانین بیان کیے گئے ۔ پردے کا حکم دیا گیا۔ حد زنا کے علاوہ اس سورة میں حد قذف بھی بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لعان کا قانون بیان کیا گیا ہے کہ اگر مرد اپنی عورت پر بےحیائی کا الزام لگائے تو اس معاملے کو کس طرح نمٹایا جائے۔ حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ افک بھی اسی سورة میں بیان ہوا ہے۔ کسی کے گھر میں داخلے کے لئے اجازت کا قانون۔ قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر بھی ہے۔ قرآن پاک کی تعلیمات سے استفادہ کرنے والے اور محروم رہنے والے لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے باہمی تعلقات ، عزیز و اقارب سے حسن سلوک اور آداب رسالت بھی اس سورة کی زینت ہیں۔ اجتماعی مسائل میں خلافت راشدہ کا ذکر اجمالی طور پر بیان کیا گیا ہے۔ منافقین کی مذمت بیان ہوئی ہے۔ غلامی اور مکاتبت کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے احکام ، حدود ، مثالیں ، حقائق ومعارف ، نصیحت آموز باتیں۔ توحید اور تنبیہات بھی اس سورة کے مضامین میں شامل ہیں ، جہاد کا حکم دیا گیا ہے اور رسول کی مخالفت کرنے سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ سورۃ کی تمہید : سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے بڑے زور دار طریقے سے اس کی تمہید بیان کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے سورة انزلنھا یہ ایک سورة ہے جس کا نزول ہماری طرف سے ہوا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کے شاہی فرمان ہیں اور اس کی طرف سے جاری کردہ قوانین ہیں وفرضنھا اور ہم نے ہی ان احکام کو فرض قرار دیا ہے۔ ان احکام میں فرائض ، واجبات ، سنن اور مستحبات ہیں جن کو ہم نے ہی مقرر کیا ہے۔ یہاں پر فرض سے مراد مقرر کرنا ہے کہ تمام احکام و فرامین اللہ ہی کی طرف سے مقرر کیے جاتے ہیں۔ دوسرے مقام پر آتا ہے قد علمنا…………علیھم (الاحزاب 80) ہم جانتے ہیں جو کچھ ہم نے ان پر مقرر کیا ہے۔ یعنی ہم نے تمام احکامات مصلحت کے مطابق نازل کیے ہیں غرضیکہ فرمایا کہ یہ سورة ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے اور اس میں احکام مقرر کیے ہیں وانزلنا فیھا ایت بینت اس میں ہم نے واضح احکام نازل فرمائے ہیں جن کی تعمیل ضروری ہے لعلکم تذکرون تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ یہ پہلی آیت گویا سورة کی تمہید ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ تمام قوانین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں جو حاکم علی الاطلاق اور شہنشاء مطلق ہے۔ یہ کوئی من گھڑت یارسمی باتیں نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ جل جلالہ کے نازل کردہ قوانین ہیں۔ اگر ان قوانین پر عمل کرو گے تو اس سے تمہارے ذاتی اخلاق بھی درست رہیں گے۔ اور تمہارا معاشرہ بھی سدھر جائے گا۔ تم اجتماعی طور پر مضبوط ہوجائو گے۔ جس کی وجہ سے تمہارادشمن مغلوب ہوجائے گا۔ دراصل قوانین پر عمل درآمد سے ہی کوئی چیز زندہ اور قائم ہوتی ہے۔ اگر عمل نہ ہو تو قانون کی حیثیت فلسفہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ بہرحال اس ابتدائی آیت میں قوانین پر عمل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کے بعد اصل قوانین آرہے ہیں جن کا آغاز حدود سے کیا جارہا ہے۔
Ayahs 24:2–3

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد ، پس مارو ان میں سے ہر ایک سو درے۔ اور نہ پکڑے تم کو ان دونوں کے بارے میں نرمی اللہ کے دین میں اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ اور چاہیے کہ حاضر ہو ان کی سزا کے وقت ایک گروہ ایمان والوں کا

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

اور بدکار مرد نہیں نکاح کرتا مگر بدکار عورت سے یا شرک کرنے والی سے۔ اور بدکار عورت نہیں نکاح کرتی اس کے ساتھ مگر بدکار مرد یا شرک کرنیوالا۔ اور حرام قرار دیا گیا ہے یہ ایمان والوں پر

قانون انسداد زنا : سورۃ ہذا کی پہلی آیات میں اللہ نے بڑے زور دار طریقے سے اس کی اہمیت بیان فرمائی تاکہ اس سے نصیحت حاصل کی جاسکے ، اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسداد زنا کا قانون بتلایا ہے اور اس کی بعض ذیلی دفعات کا ذکر کیا۔ بدکار مردوزن کی سزا کا ایک حصہ اس آیت میں ہے۔ جب کہ دوسرا حصہ اور مزید تفصیلات احادیث میں موجود ہیں۔ اس ضمن میں فقہائے کرام کی وضاحتیں بھی موجود ہیں۔ مفسرین کرام اور علماء عظام یہ بنیادی بات بیان کرتے ہیں کہ قانون خواہ کتنا اچھا ہو جب تک اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر کوئی ڈاکٹر مریض کے لئے نسخہ تجویز کرتا ہے تو اس اچھے سے اچھے نسخے کو بھی محض زبانی پڑھنے سے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب تک نسخے کے مطابق دوائی خریدکر استعمال نہ کی جائے۔ اسی طرح قانون کی محض تلاوت کا کچھ فائدہ نہیں جب تک اس پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔ زنا دو قسم سے ہے۔ اگر کوئی کنوارہ شخص اس فعل کا مرتکب ہوگا تو اسے اس آیت میں مذکورہ سزا دی جائیگی یعنی سو درے لگائے جائیں گی اور اگر کوئی شادی شدہ شخص زنا میں ملوث ہوتا ہے تو اس کی سزا سنگساری ہے۔ تو رات میں بھی یہی قانون تھا کہ ایسا شخص جان سے مارا جائے گا۔ امام رازی (رح) نے اپنی تفسیر (تفسیر کبیرص 131 ج 23 والسراج المنیرص 593 ج 2 (فیاض) میں حضرت حذیفہ ؓ سے یہ روایت بیان کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا یا معشرالناس اتقوا الزنا اے انسانوں کے گروہ ! زنا جیسی برائی سے بچتے رہو کیونکہ اسمیں چھ باتیں پائی جاتی ہیں جن میں سے تین کا تعلق دنیا سے اور تین کا تعلق آخرت سے ہے۔ دنیا سے متعلق تین باتیں یہ ہیں کہ زانی کے چہرے کی رونق ختم ہوجاتی ہے ، بعض اوقات وہ محتاجی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس کی عمر میں خیروبرکت ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اس کی آخرت کی خرابی یہ ہے کہ اس پر اللہ کی ناراضگی نازل ہوتی ہے۔ اس کا حساب برا ہوگا اور وہ جہنم کا شکار بنے گا۔ بدکاری اور اس قبیل کے دیگر جرائم کی قباحت میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ قرآن میں دوسری جگہ اللہ نے فرمایا ہے کہ بدکاری کا فعل عرف یعنی انسانی سوسائٹی کے اخلاق کے اعتبار کے بھی خلاف ہے اور انسانی عقل کے بھی خلاف ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی ناراضگی کے اعتبار سے یہ بڑا قبیح گناہ ہے۔ اس فعل کے ارتکاب سے نہ صرف خود زناکار متاثر ہوتا ہے بلکہ اس سے پوری سوسائٹی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ بدکاری کے نتیجے میں نسل خراب ہوتی ہے ، اخلاق بگڑتا ہے اور معاشرے میں دیگر خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ حضور ! کون سا گنازیادہ قبیح ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ، سب سے بڑا گناہ شرک ہے۔ عرض کیا ، اس کے بعد ؟ فرمایا کہ اولاد کو اس وجہ سے قتل کرنا کہ انہیں کما کر کون کھلائے گا۔ ابن مسعود ؓ نے پھر عرض کیا کہ اس کے بعد کون سا گناہ ہے ؟ فرمایا کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ برائی کرو۔ تورات میں بھی اس کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ زنا کا ثبوت اور سزا : زنا کا ثبوت دوصورتوں میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ زانی پر چار عینی گواہ پیش کیے جائیں جس کا ذکر اگلی آیات میں آرہا ہے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ زانی مرد یا زانی عورت خود اقرار کرے کہ اس نے اس فعل بد کا ارتکاب کیا ہے۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں جن مجرمین کو زنا کی سزا دی گئی ، ان سب نے جرم کا خود اقرار کیا تھا۔ سنگساری کی سزا کے لئے مجرم کا محصن ہونا ضروری ہے ، ورنہ یہ سزا نہیں دی جاسکے گی۔ محصن کی شرائط یہ ہیں کہ مجرم مسلمان ہو۔ کہ غیر مسلم اس سزا کا مستحق نہیں ہے۔ البتہ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سزا کے لئے یہ شرط نہیں ہے بلکہ مسلم یا غیر مسلم سب کو سنگسار کیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے من اشرک فلیس بمحصن یعنی مشرک آدمی محصن نہیں ہوسکتا۔ اس حدیث کو امام اسحاق ابن راہویہ (رح) نے بھی اپنی مسند میں بیان کیا ہے۔ اور امام دارقطنی اور صاحب ہدایہ نے اس کو نقل کیا ہے۔ امام شافعی (رح) کی دلیل یہ ہے کہ حضور ﷺ نے ایک یہودی اور یہودیہ کو اس جرم میں رجم کیا تھا۔ اس کے جواب میں امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ غیر مسلموں کی یہ سزا اسلامی ضابطے کے مطابق نہیں تھی بلکہ تورات کے قانون کے مطابق تھی۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ سورة المائدہ میں موجود ہے۔ جب یہودی مجرم حضور ﷺ کی عدالت میں پیش ہوئے تو آپ نے تورات منگوا کر اسے پڑھنے کے لئے کہا۔ یہودی سنگساری کی سزا کو چھپانا چاہتے تھے مگر حضور ﷺ کی وجہ سے اللہ نے اسے ظاہر کردیا۔ یہودی نادم ہوئے اور مجرموں کو سنگساری کی سزا دی گئی۔ محصن بننے کی شرائط : جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ رحم کی سزا عائد کرنے کے لئے مجرم کا محصن ہونا ضروری ہے۔ کسی شخص کے محصن بننے کے لئے پانچ شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ مجرم مسلمان ہو ، کسی غیر مسلم کو یہ یہ سزا نہیں دی جائے گی۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ آزاد کر کیونکہ لونڈی یا غلام کو یہ سزا نہیں ملے گی۔ ان کے لئے قرآن پاک نے آزاد کی نسبت آدھی سزا مقرر کی ہے۔ محصن ہونے کی تیسری شرط یہ ہے کہ آدمی عاقل ہو کر کسی پاگل آدمی کو یہ سزا نہیں دی جائے گی۔ چوتھے نمبر پر مجرم کا بالغ ہونا بھی ضروری ہے کسی نابالغ کو سنگسار نہیں کیا جائے گا۔ اور پانچویں شرط یہ ہے کہ مجرم صحیح نکاح کرکے اپنی بیوی سے مباشرت کرچکا ہو۔ جب یہ ساری شرائط پائی جایں تو مجرم محصن سمجھا جائے گا اور اسے سنگساری کی سزا دی جائے گی۔ زنا کی طرح لواطت بھی حرام ہے بلکہ زنا سے بھی زیادہ قبیح فعل ہے۔ امام شافعی (رح) اس کو زنا کے زمرے میں شمار کرکے سنگساری کی سزا کے قائل ہیں مگر امام ابوحنیفہ (رح) اور بہت سے دیگر فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ فعل اگرچہ زنا سے بھی بدتر ہے مگر اس پر سنگساری کی سزا عاید نہیں ہوتی بلکہ حاکم کی صوابدید پر ایسے مجرم تر تعزیر لگے گی۔ جرم کی نوعیت کے اعتبار سے حاکم مجرم کے قتل کا حکم دے سکتا ہے۔ اس پر دیوار گرا سکتا ہے۔ کسی بلندی سے گرا کر ہلاک کرسکتا ہے۔ یا قید میں ڈال سکتا ہے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ جانوروں کے ساتھ بدفعلی کرنا بھی بالاتفاق حرام ہے ، تاہم اس جرم پر حد کی بجائے تعزیر لگے گی۔ اسی طرح مشت زنی بھی اگرچہ سخت قبیع فعل ہے مگر اس پر بھی تعزیر لگے گی۔ ایسے شخص پر لعنت بھیجی گئی ہے۔ زنا کی شرعی سزا : ارشاد ہوتا ہے الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منھما مائۃ جلدۃ زانی عورت اور زانی مرد ، ان میں سے ہر ایک کو سودرے مارو۔ یہ غیر شادی شدہ مرد یا عورت کی سزا ہے۔ اس کے علاوہ اگر حاکم مناسب سمجھے تو ایک سال کے لئے جلا وطنی بھی کرسکتا ہے۔ یا مجرم کو جیل میں ڈال سکتا ہے۔ اور اگر مجرم مرد یا عورت شادی شدہ محصن ہیں تو ان کی سزا قرآن نے بیان نہیں کی بلکہ اس کی سزا سنت میں موجود ہے۔ امام ابوبکر حبصاص (رح) فرماتے ہیں کہ متواتر اور مشہور احادیث سے ثابت ہے کہ محصن شادی شدہ عورت یا مرد کے لئے رجم کی سزا ہے یعنی انہیں سنگسار کیا جائیگا۔ حضور ﷺ کے زمانے میں یہ سزا عملی طور پر نافذ ہوچکی ہے۔ فرمایا ، ہر ایک کو سو درے مارو ولا تاخذکم بھما رائۃ فی دین اللہ اور نہ پکڑے تم کو نرمی ان دونوں کے بارے میں اللہ کے دین میں یعنی شرعی سزا نافذ کرتے وقت مجرموں کے متعلق تمہارے دل میں جذبہ ترحم وہمدردی نہیں پیدا ہونا چاہیے بلکہ ان کو پوری پوری سزا دو ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر اگر تم اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ خدا تعالیٰ پر ایمان ہوگا تو جان لو گے کہ سزا اسی نے مقرر کی ہے اور اس کے حکم کی تعمیل ضروری ہے اور اگر وقوع قیامت پر ایمان ہے۔ تو تمہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کی اس عارضی سزا سے آخرت کی دائمی سزاسخت ترین ہے۔ لہٰذا مجرم کی بھلائی بھی اسی میں ہے کہ اسے اللہ کے مقرر کردہ سزا دے دی جائے اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی نرمی اختیارنہ کی جائے۔ اور دوسری بات یہ فرمائی ولیشھد عذبھما طائفۃ من المومنین اور چاہیے کہ اس سزا کو مومنوں کا ایک گروہ مشاہد ہ کرے مطلب یہ کہ یہ سزا سرعام دی جائے تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ کیا درے کی سزا وحشیانہ ہے : اللہ تعالیٰ نے جرم زنا اور بعض دوسرے جرموں میں درے مارنے کی سزا مقرر کی ہے جب کہ بعض لوگ اسے وحشیانہ سزا قرار دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ شیطان کی وسوسہ اندازی کا نتیجہ ہے وگرنہ اسلام کی مقرر کردہ دروں کی سزا ہرگز وحشیانہ نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس سزا کی تفصیل میں فرماتے ہیں کہ درے لگانے والا شخص اس فن کا ماہر ہونا چاہیے اور ایک خاص مقدار سے زیادہ شدید ضرب نہیں ہونی چاہیے۔ چناچہ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ دروں کی سخت ترین ضرب وہ ہے جو تعزیر کے طور پر لگائی جائے۔ اس سے کم تر ضرب حد زنا کی ہے ، اور پھر اس سے کم حد قذف کی ضرب ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ کوڑا پھلدار نہ ہو بلکہ صاف ہونا چاہیے۔ اگر کوڑا نشان زدہ ہوگا تو ضرب میں شدت پیدا ہوگی جس کی اجازت نہیں دی گئی امام صاحب فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے جن مجرموں کو زنا کے کوڑے لگوائے تھے ، ان کے زاید کپڑے مثلاً کوٹ ، چادر وغیرہ اتروائے تھے۔ قمیض پاجامہ وغیرہ جس پر چھوڑ دیے تھے تاکہ برہنگی نہ ہو۔ خاص طور پر عورت کو تو گڑھے میں کھڑا کرکے یہ سزا دی تھی تاکہ اس کی بےپردگی نہ ہو۔ درے مارتے وقت یہ بھی خیال رکھا جائے گا کہ ان کی ضرب سر ، چہرے اور اعضائے تنا سلیہ پر نہ پڑے۔ اس کے برخلاف انگریزی قانون کے مطابق جو کوڑے لگائے جاتے ہیں وہ شدید ترین ہوتے ہیں۔ جسم کے سارے کپڑے اتروالیے جاتے ہیں اور صرف ایک لنگوٹی پہنا کر ایک ماہر آدمی دور سے دوڑتا ہوا آکر شدید ترین ضرب لگاتا ہے جس سے جسم کے اندر گوشت کی قیمہ بن جاتا ہے۔ ایک بڑے سے بڑا صحت مند آدمی بھی ایسے تیس کوڑے برداشت نہیں کرسکتا۔ اب آپ خود ہی انصاف کریں کہ اسلامی وحشیانہ ہے یا انگریزی قانون کے تحت دی گئی سزا وحشیانہ ہے۔ زانیہ اور زنی میں تقدم نہ تاخر : اس آیت کریمہ میں زانیہ کو زانی پر مقدم رکھا گیا ہے۔ حالانکہ جہاں چوری کی سزا کا ذکر ہے وہاں فرمایا والسارق والسارقۃ (المائدۃ 38) یعنی چور مرد اور چور عورت۔ یہاں مرد کو عورت کے مقابلے میں مقدم لایا گیا ہے امام محمد بن ابوبکر رازی (رح) اس کی توجیہہ یہ بیان کرتے ہیں کہ مرد کی نسبت عورت کا مادہ شہوت زیادہ قوی ہوتا ہے ، اس لئے اس کا ذکر پہلے کیا گیا ہے حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ میرے استاد شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی (رح) کا قول ہے کہ اللہ نے اس معاملے میں عورت کو اس لئے مقدم رکھا ہے کہ عورتیں اکثر ناقصات العقل ہوتی ہیں اور بہکاوے میں جلدی آجاتی ہیں اور اکثر ان کی تحریض پر ہی اس جرم کا ارتکاب ہوتا ہے اس لئے عورت کو پہلے بیان کیا گیا ہے۔ آپ نے اس کی دوسری وجہ بیان کی ہے کہ عورت مرد کے مقابلے میں ضعیف اور قابل رحم ہوتی ہے مگر اس سزا کے معاملے میں اللہ نے نرمی اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے ، اس لئے عورت کا ذکر پہلے کیا ہے۔ مطلب یہ کہ جب عورت صنف نازک ہونے کے باوجود کسی نرمی کی مستحق نہیں تو مرد کو سزا دیتے وقت تو بطریق اولیٰ نرمی اختیار نہیں کی جائے گی۔ آپ نے ایک تیسری وجہ بھی بیان فرمائی ہے۔ کہتے ہیں کہ جہاں تک زنا کی قباحت کا تعلق ہے وہ تو مردوزن کے لئے یکساں ہے ، لیکن حمل ٹھہر جانے کی صورت میں عورت کے لئے زیادہ شرم وعار کا باعث ہوگا۔ لہٰذا عورت کو مقدم رکھا گیا ہے۔ زانی اور زانیہ کے لئے قومی سزا : اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے زانی اور زانیہ کے لئے سو کوڑوں کی شرعی سزا کے علاوہ ایک قومی سزا بھی مقرر فرمائی ہے۔ یعنی شرعی سزا کے علاوہ اسے معاشرے اور قوم کی طرف سے بھی ایک سزا ملتی ہے۔ اور وہ یہ ہے ۔ الزانی لا ینکح الا زانیۃ او مشرکۃ زانی مرد نہیں نکاح کرتا مگر زانیہ عورت یا مشرکہ عورت کے ساتھ کیونکہ ایسا شخص پاکدامن عورت کے ساتھ نکاح کا اہل ہی نہیں بلکہ بدکار مشرکہ عورت کے قابل ہے۔ اسی طرح فرمایا والزانیۃ لا ینکحھا الا زان او مشرک اور بدکار عورت ، نہیں نکاح کرتا اس سے مگر بدکار مرد یا مشرک آدمی۔ امام احمد (رح) تو یہی فرماتے ہیں کہ پاکدامن عورت کے ساتھ بدکار مرد اور زانیہ عورت کے ساتھ پاکدامن مرد کا نکاح حلال نہیں جب تک وہ توبہ نہ کرلیں۔ البتہ دیگر آئمہ کرام فرماتے ہیں کہ اگر آدمی ایماندار ہے اگرچہ بدکار ہے تو اس کا نکاح تو ہوجائے گا مگر یہ بہتر نہیں ہے۔ بہرحال یہاں پر زنا اور شرک کو ایک زمرے میں شمار کیا گیا ہے جس طرح شرک ذہنی طور پر بےحیائی کی بات ہے۔ اسی طرح زنا بھی سخت بےحیائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک زنا کار مرد کو ایک زنا کار عورت کے ساتھ ہی مناسبت ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ زانیہ عورت صرف زانی مرد سے نکاح کرتی ہے اور زانی مرد زانیہ عورت سے ہی نکاح پسند کرتا ہے کیونکہ مشہور مقولہ ہے۔ کند ہم جنس باہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر باز با باز تاہم فرمایا وحرم ذلک علی المومنین اور یہ حرام قرار دیا گیا ہے ایمان والوں پر۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے امام احمد (رح) ذلک سے مراد نکاح لیتے ہیں کہ پاکدامن اور زنا کار کا نکاح حلال نہیں ہے۔ بعض دوسرے آئمہ فرماتے ہیں کہ ذلک کا اشارہ زنا کی طرف ہے اور مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کے لئے زنا حرام قرار دیا گیا ہے چاہے رضامندی سے ہو یا زبردستی ۔ بہرحال شرعی سزا کے علاوہ اللہ نے ایک قومی سزا بھی مقرر کی ہے تاکہ بدکار مرد یا عورت قابل نفریں ہوجائیں اور رشتے ناطے کے قابل نہ رہے۔
Ayahs 24:4–5

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو تہمت لگاتے ہیں پاکدامن عورتوں پر ، پھر نہیں لاتے وہ چارگواہ ، پس مارو ان کو اسی درے ، اور نہ قبول کرو ان کی گواہی کبھی بھی۔ اور یہی لوگ ہیں فاسق

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اس کے بعد اور جنہوں نے اصلاح کی ، پس بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور مہربان ہے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں زنا کی حد بیان ہوئی ، جو کوئی محصن آدمی زنا کا ارتکاب کرے ، پھر اس کا جرم بذریعہ گواہان پایہ ثبوت کو پہنچ جائے یا متعلقہ شخص خود اقرار جرم کرلے تو فرمایا ایسے شخص کو اسلامی عدالت سو درے مارنے کی سزادیگی۔ یہ شرعی سزا غیر شادی شدہ کے لئے ہے اور اگر زنا کار شادی شدہ محصن ہو تو اس کی سزا سنت میں بیان کی گئی ہے کہ ایسے شخص کو پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا۔ اس حد کے نفاذ کے متعلق اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے دین میں نرمی نہ کرو اور یہ سزا دیتے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ موجود ہونا چاہیے تاکہ اس جرم اور اس کی سزا کی تشہیر ہو اور دوسرے لوگوں کو عبرت حاصل ہو اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے ایک معاشرتی سزا کا ذکر بھی کیا ہے کہ ایک پاکدامن مرد یا عورت کسی زانیہ یا مشرکہ سے نکاح نہیں کریگا مطلب یہ کہ بدکار مرد وزن کو معاشرے میں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ قذف کی تعریف : بدکاری کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے اور عدم ثبوت کی صورت میں تہمت لگانے والے کی سزا کا ذکر کیا ہے۔ اس جرم کے لئے شریعت میں قذف کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے قذف کی حد بھی بیان فرمائی ہے۔ ان حدود کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کو جرائم سے پاک رکھا جائے اور فحاشی اور بدکاری کا انسداد کیا جائے۔ حدیث میں قذف کے جرم کو اکبر الکبائر میں شمار کیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں محصنت یعنی پاکدامن عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے جن پر تہمت لگائی جائے۔ اللہ نے عورتوں کا ذکر خاص طور پر ان کی عفت وعصمت ، پاکیزگی ، صیانت اور ان کی لاچاری مجبوری کی بنا پر کیا ہے۔ وگرنہ اس لفظ میں عورتوں کے علاوہ پاکدامن مرد بھی شامل ہیں جن پر بلا ثبوت زنا کا الزام لگایا گیا ہو۔ مطلب یہ کہ اگر کسی مرد پر بھی زنا کا الزام لگایا جائے ثابت نہ کیا جاسکے تو مہتم (اتہام لگانے والے) پر اسی طرح حد جاری ہوگی جس طرح پاکدامن عورت پر اتہام لگانے کی صورت میں جاری ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر اتہام لگانے والی کوئی عورت ہے تو اس کا اتہام خواہ مرد پر ہو یا عورت پر ، عدم ثبوت کی صورت میں وہ حد قذف کی مستحق ہوگی۔ اور اگر کوئی مرد کسی مرد پر زنا کا اتہام لگاتا ہے جسے ثابت نہیں کرسکتا تو اس پر بھی حدقذف جاری کی جائے گی۔ اس آیت کریمہ میں یرمون کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا لغوی معنی تیراندازی ہے۔ تاہم یہاں عیب جوئی یا تہمت لگانا مراد ہے۔ یہ لفظ صرف زنا کی تہمت پر بولا جاتا ہے ، اس کا اطلاق کسی دوسری تہمت پر نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر کوئی شخص کسی مومن آدمی کو یہودی یا کافر کہہ دیتا ہے تو یہ اگرچہ اتہام ہے مگر یہ حد قذف میں نہیں آئے گا کیونکہ حد قذف صرف زنا کے الزام کے لئے مقرر کی گئی ہے ۔ دیگر جھوٹے الزامات کے سلسلے میں عدالت ملزم کو بیس درے لگانے کی سزا دے سکتی ہے۔ قذف کی سزا اسی درے : ارشاد ہوتا ہے والذین یرمون المحصنت جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں۔ ثم لم یا تو باربعۃ شھداء اور پھر وہ چار گواہ پیش نہیں کرتے۔ فاجلدوھم ثمنین جلدۃ پس لگائو ان کو اسی درے۔ یہ سزا اس صورت میں ہے جب کہ مہتم محصن یعنی مسلمان ، عاقل ، بالغ ، پاکدامن اور آزاد ہو۔ اگر کسی نابالغ ، غلام ، مجنون ، غیر مسلم پر زنا کا اتہام لگایا جائے تو ایسی صورت میں حد جاری نہیں ہوگی۔ بلکہ حاکم کی صوابدید پر اتہام لگانے والا تعزیر کا مستحق ہوگا۔ حضور ﷺ کا فرمان (ترمذی ص 224 و احکام القرآن للجساص ص 331 ج 3 (فیاض) ہے رفع القلم عن ثلثۃ یعنی تین قسم کے لوگ مرفوع القلم یعنی اجرائے حد سے بری ہیں۔ ان میں نابالغ ہے جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے۔ کیونکہ نابالغ مکلف نہیں ہوتا۔ دوسرا پاگل ہے جب تک کہ وہ صحت یاب نہ ہوجائے اور تیسرا ایسا اتہام لگانے والا ہے جس نے خطا یا نسیان کی بنا پر تہمت لگائی ہو۔ زنا کے ثبوت کے لئے شریعت نے چار گواہوں کا نصاب مقرر کیا ہے حالانکہ قتل کے ثبوت کے لئے دوگواہ بھی کافی ہیں بشرطیکہ وہ عادل اور پسندیدہ ہوں۔ زنا کے جرم میں چونکہ سخت سزا ہے ، اس لئے اس کے ثبوت کو بھی مشکل بنایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اتنی سخت سزا کسی بےگناہ کو نہ مل جائے۔ کسی شخص کے خلاف زنا کا جرم اس وقت تک پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتا جب تک چار عینی مرد گواہ اس بات کی واضح شہادت نہ دیں کہ انہوں نے فلاں مرد اور عورت کو مباشرت کرتے ہوئے اس طرح دیکھا ہے جس طرح سلائی سرمہ دانی میں داخل ہوتی ہے۔ اگر گواہ محصن اس قدر شہادت دے کہ اس نے فلاں مردوزن کو ایک کمرے میں یا ایک چارپائی پر اکٹھے لیتے ہوئے دیکھا ہے ، تو یہ گواہی کافی نہیں ہوگی اور نہ ہی مہتم (جس پر اتہام لگایا گیا ہے) پر حد جاری ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی گواہ عدالت میں جاکر منحرف ہوجائے۔ اگرچہ زنافی الواقعہ ہوا ہو ، پھر بھی زنا کے عدم ثبوت کی بنا پر اتہام لگانے والے پر حد جاری ہوگی۔ ایسی صورت میں اتہام لگانے والا اللہ کے ہاں تو فاسق (گنہگار) نہیں ہوگا کیونکہ زنا کا ارتکاب فی الواقعہ ہوا ہے البتہ وہ عدالت کی طرف سے حد قذف سے نہیں بچ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قذف کا قانون نازل فرما کر بہت سے شریف لوگوں کو رسوائی سے بچا لیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہر شخص کسی بھی شریف آدمی پر زنا کی تہمت لگا کر اسے بدنام کرسکتا تھا۔ مگر اللہ نے چار گواہوں کا نصاب مقرر کرکے اور عدم ثبوت کی بناء پر حد قذف جاری کرنے کا حکم دے کر بہت سی دیگر خرابیوں کا راستہ بند کردیا ہے۔ اب کوئی بھی شخص الزام لگانے سے پہلے اس کی خوب چھان بین کرے گا ، اور اگر اس معاملہ میں جلد بازی کرے گا تو عدم ثبوت کی بناء پر خود پکڑا جائے گا۔ حد قذف کے اسقاط کیا یک صورت یہ بھی ہے کہ مہتم خود اتہام لگانے والے کو معاف کردے۔ اگر گواہ عدالت تک آئے مگر گواہی نہ دی تو پھر بھی اتہام لگانے والے پر حد جاری ہوگی۔ شہادت کی عدم قبولیت : ثبوت پیش نہ کرنے والے اتہام لگانے والے پر اللہ نے ایک سزا تو یہ تجویز کی کہ اسے درے مارے جائیں اور دوسری معاشرتی سزا یہ بھی دی ولا تقبطوا لھم شھادۃ ابداً ایسے لوگوں کی (دوسرے معاملات میں بھی) شہادت کبھی قبول نہ کرو۔ جو شخص اتہام لگانے کے بعد عدم ثبوت کی بناء پر جھوٹا ثابت ہوچکا ہے۔ اب وہ معاشرے میں اس قدر حقیر ہوچکا ہے کہ اس کی گواہی کوئی عدالت عمر بھر قبول نہیں کریگی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اتہام کے عدم ثبوت پر اتہام لگانے والے کی زبان کاٹ دی جاتی مگر اس کے لئے ذلت ورسوائی کا یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ اس کی شہادت ہمیشہ کے لئے غیر معتبر قرار دے دید گئی ہے۔ مولاناشاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ جس شخص پر حد فذف جاری ہوچکی ہو اس کی گواہی مالی معاملات میں تو توبہ کے بعد بھی قابل قبول نہیں ہوگی مگر دیانت کے معاملات مثلاً رویت ہلال یا روایت حدیث وغیرہ میں ایسے شخص کی شہادت معتبر سمجھی جائے گی اور قابل قبول ہوگی۔ فرمایا واولئک ھم الفسقون جن پر حد قذف جاری ہوچکی ، یہ لوگ فاسق ، نافرمان اور حد سے باہر نکلنے والے ہیں کہ انہوں نے پاکدامن عورتوں یا مردوں پر زنا کا اتہام لگایا۔ بعداز توبہ واصلاح : فرمایا : الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا جن لوگوں نے اس (حدقذف کے اجرا) کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اپنے آپ کو درست کرلیا فان اللہ غفور رحیم ، تو بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔ حدقذف کے اجرا کے بعد توبہ کرلینے کی صورت میں شہادت کی قبولیت کے مسئلہ پر آئمہ کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ایسا شخص توبہ کرلینے کے بعد اللہ کے ہاں فاسق بھی نہیں رہے گا اور اس کی شہادت بھی معتبر ہوگی۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ الا الذین کا اطلاق سابقہ آیت میں مذکور عدم قبولیت گواہی پر ہوتا ہے یعنی ان کی گواہی بھی معتبر ہوگی اور وہ فاسق بھی نہیں رہیں گے۔ اس کے برخلاف امام ابوحنیفہ (رح) اور سلف میں سے قاضی شریح (رح) ، ابراہیم نخعی (رح) ، سعید ابن جبیر (رح) ، امام مکحول (رح) ، عبدالرحمن ابن زید ابن جابر (رح) ، حسن بصری (رح) ، محمد ابن سیرین (رح) اور سعید ابن المسیب (رح) کا مسلک یہ ہے کہ توبہ کرلینے کے بعد قذف کا سزا یافتہ آدمی فاسق یعنی اللہ کے ہاں گنہگار تو نہیں رہے گا۔ اسے معافی مل جائے گی۔ البتہ شہادت کی عدم قبولیت کا داغ اس کے ماتھے پر ہمیشہ قائم رہے گا۔ ان اصحاب کی دلیل یہ ہے کہ الا الذین کا تعلق صرف ملحقہ لفظ فسقون سے ہے یعنی وہ اللہ کے ہاں تو اس گناہ سے معاف کردیے جائیں گے مگر باقی دوسزائیں یعنی اسی درے اور عدم قبولیت شہادت برقرار رہے گی۔ امام صاحب کی دلیل میں اس بات سے مزید وزن پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی اجرائے حد سے قبل تائب ہوجائے تو کیا اسی سے اسی کوڑوں کی سزا بھی زائل ہوجائیگی ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر عدم قبولیت شہادت کی معاشرتی سزا بھی قائم رہے گی اور توبہ سے معاف نہیں ہوگی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اصول عربیت اور اصول نحو کے لحاظ سے بھی امام صاحب کے مسلک کی تصدیق ہوتی ہے۔ فاجلدوا اور ولا تقبلوا والے دونوں جملے انشائیہ ہیں جب کہ واولئک ھم الفسقون والا جملہ خبر یہ ہے۔ اور یہ گرائمر کا اصول ہے کہ جملہ خبر یہ کہ اطلاق جملہ انشائیہ پر نہیں ہوتا ، لہٰذا فاسقوں کا اطلاق نہ تو سزا کے دروں پر ہوتا ہے اور نہ عدم شہادت پر۔ البتہ اس کا اطلاق والذین یرمون پر ہوتا ہے کہ اتہام لگانے والے لوگ فاسق ہیں۔ اگر وہ توبہ کرکے اصلاح کرلیں تو فاسق یعنی آخرت میں ماخوذ نہیں ہوں گے۔ البتہ مردود الشہادت ضرور رہیں گے۔ اس کی معافی نہیں۔
Ayahs 24:6–10

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر اتہام لگاتے ہیں بدکاری کا اور نہیں ہیں ان کے لئے گواہ سوائے اپنی جانوں کے ، پس گواہی ان میں سے ایک کی چار مرتبہ گواہی دے اللہ کا نام لے کر کہ بیشک وہ سچا ہے

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں مرتبہ کی گواہی یہ کہ بیشک اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر وہ جھوٹا ہے

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور اس عورت سے بھی سزا کو ہٹا دیگی یہ بات کہ وہ چار مرتبہ گواہی دے اللہ کا نام لے کر بیشک یہ شخص جھوٹا ہے

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں گواہی یہ کہ اللہ کا غضب ہو اس عورت پر اگر مرد سچا ہے

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اس کی مہربانی۔ اور (یہ بات کہ ) بیشک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور حکمت والا ہے تو یقینا تم مشکلات میں مبتلا ہوتے

ربط آیات : سورۃ ہذا کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے زنا ، فحاشی اور بدکاری وغیرہ سے متعلق تین قوانین کا ذکر کیا ہے۔ اس سے پہلے حد زنا اور حد قذف کا ذکر ہوچکا ہے۔ اور آج کے درس میں لعان کا بیان آرہا ہے۔ پہلے حد زنا بیان ہوئی تھی جس کے مطابق غیر شادی شدہ زنا کار مرد یا عورت کو سوکوڑے لگانے کا حکم دیا گیا ، شادی شدہ محصن کی سزا کا ذکر قرآن میں نہیں کیا گیا۔…البتہ سنت میں ایسے مرد یا عورت کی سزا سنگساری مقرر کی گئی ہے اور خود حضور ﷺ کے زمانے میں اس سزا پر عمل درآمد ہوا۔ یہ سزا سرعام دینے کا حکم ہے تاکہ تمام لوگوں کو اس قبیح جرم کے مرتکب کا پتہ چل جائے اور انہیں عبرت حاصل ہو۔ پھر حد قذف کے متعلق فرمایا کہ اگر کوئی آدمی کسی پاکدامن مردیا عورت پر زنا کا اتہام لگائے اور پ ھر اسے چار گواہوں کے ذریعے ثابت نہ کرسکے تو اتام لگانے والے کو اسی درے مارنے کی سزا دی جائے گی ، یہ حد قذف کہلاتی ہے۔ لعان کا بیان : اب تیسرے نمبر پر لعان کا بیان ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی خاوند اپنی بیوی پر زنا کا اتہام لگائے اور اس کی دو صورتیں ہیں یا تو اس نے خود اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ ناشائستہ حالت میں دیکھا ہوا اور یا پھر اس کی بیوی کے ہاں بچہ پیدا ہوجائے۔ جب کہ خاوند کئی سال سے بوجوہ اس کے قریب نہ گیا ہو۔ ایسی صورت میں اسے یقین ہوگا کہ یہ بچہ اس کا نہیں بلکہ زنا کا نتیجہ ہے۔ ظاہر ہے کہ زنا کے ثبوت کے لئے چار گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر میاں بیوی کے درمیان اس معاملہ میں گواہ لانا قریباً قریباً ناممکن ہے۔ اگر خاوند نے بیوی کو خود برائی کرتے دیکھا ہے تو جب وہ گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر میاں بیوی کے درمیان اس معاملہ میں گواہ لانا قریباً قریباً ناممکن ہے۔ اگر خاوند نے بیوی کو خودبرائی کرتے دیکھا ہے تو جب وہ گواہوں کو تلاش کرے گا۔ مجرمین اپنا کام ختم کرچکے ہوں گے۔ لہٰذا عینی گواہوں کا حصول بڑا ہی مشکل ہے۔ اور اگر بدکاری کا علم حمل کے نمایاں ہونے یا بچے کی پیدائش پر ہوا ہے تو گواہوں کو پیش کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے لعان کا قانون بیان فرمایا ہے جس کی رو سے میاں بیوی کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا۔ اس قسم کے واقعات خود حضور ﷺ کے زمانے میں بھی پیش آئے جن کا تذکرہ صحیحین اور بعض دوسری کتب احادیث میں موجود ہے۔ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، حضور ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی غیرمرد کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں پائے تو وہ کیا کرے ؟ اگر کوئی غیرت مند آدمی اس بدکار شخص کو قتل کردے تو کیا قاتل کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا ؟ ظاہر ہے کہ اگر وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی خاموش رہتا ہے تو وہ ہر وقت غصے میں بھرا رہے گا۔ جس کی وجہ سے کسی وقت بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔ حضور ﷺ نے سائل سے فرمایا کہ زنا کے الزام کے لئے چار گواہوں کی ضرورت ہے اگر کوئی شخص الزام لگانے کے بعد گواہ پیش نہیں کرتا تو وہ خودحد قذف کا مستحق ٹھہرے گا۔ حدیث (تفسیر ابن کثیر ص 266 ج 3 وقرطبی ص 183 ج 12 و بخاری ص 695 ج 7 (فیاض) کے الفاظ ہیں فحد فی ظھرک تیری پیٹھ پر درے لگیں گے۔ صحیح حدیث میں سا قسم کا واقعہ حضرت سعد بن عبادۃ ؓ کا بھی ملتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا ، حضرت ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھے گا تو وہ گواہ تلاش کرنے کے لئے جائیگا یا تلوار سے اس آدمی کا سر قلم کردے گا ؟ حضور ﷺ نے انصار مدینہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ دیکھو ! تمہارا سردار یہ بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ سردار بڑا باغیرت آدمی ہے اور اس کے لئے ایسی صورت حال ناقابل برداشت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر یہ بڑا غیرت مند ہے تو میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ سب سے زیادہ غیرت والا ہے ، مگر مسئلہ یہی ہے کہ ایسے اتہام کے ثبوت کے لئے چار گواہی لازمی ہیں ، ورنہ نہ تو مجرم کو سزا دی جاسکتی ہے اور نہ ہی متعلق شخص خود قانون کو ہاتھ میں لے سکتا ہے۔ ایسے معاملے کو عدالت میں لے جانا ہوگا۔ ثبوت پیش کرنا ہوگا اور عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہوگا۔ مرد کی پانچ قسمیں : ایسے ہی معاملے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے والذین یرمون ازواجھم جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کا اتہام لگاتے ہیں ، یعنی انہیں شواہد وقرائن کی بناء پر یقین ہے کہ ان کی بیویاں گناہ میں ملوث ہوتی ہیں۔ اور اس کی دو ہی صورتیں ہیں ، جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ ناشائستہ حالت میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یا بیوی سے قربت کے بغیر اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے یا پیدائش متوقع ہے ، مگر اس شخص کے پاس اس اتہام کے ثبوت کے لئے چار عینی گواہ موجود نہیں ہیں ولم یکن لھم شھداء الا انفسھم یعنی اپنی ذات کے سوا ان کے پاس کوئی دوسرا گواہ موجود نہیں۔ تو ایسی صورت میں متعلق شخص معاملے کو عدالت میں لے جائے گا۔ عدالت فریقین کو طلب کرکے کاروائی کا آغاز کریگی۔ پہلے مرد سے پوچھا جائے گا کہ اس کا الزام کس حد تک درست ہے۔ اگر وہ اپنے دعویٰ سے پھرجائے تو عدالت اسے جھوٹا قرار دے کر حد قذف جاری کرے گی جس کے مطابق اسے اسی درے مارے جائیں گے۔ پھر عورت سے پوچھا جائے گا اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے رجم کی سزا دی جائے گی اور اگر وہ انکار کرے تو اگلی کاروائی ہوگی۔ جب مرد اپنی بات پر اصرار کرے کہ اس کی بیوی نے فی الواقعہ زنا کا ارتکاب کیا ہے اور عورت مسلسل انکار کرے ۔ تو پھر فشھادۃ احدھم اربع شھدت باللہ عدالت مرد سے کہے گی کہ وہ کھڑا ہوکرچار دفعہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر کہے کہ اس کا الزام درست ہے انہ لمن الصدیقن اور وہ اپنی بات میں سچا ہے۔ والخامسۃ ان لعنت اللہ علیہ ان کان من الکذبین ، اور پانچویں دفعہ اللہ کی قسم کھا کر کہے گا کہ اگر وہ اس معاملہ میں جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ یہ پانچ قسمیں اٹھانے کے بعد وہ شخص بری ہوجائے گا اور اس پر کوئی حد جاری نہیں ہوگی۔ عورت کی پانچ قسمیں : اس کے بعد حاکم عورت کی طرف متوجہ ہوگا اور پوچھے گا کہ کیا تو خاوند کی طرف سے لگائے گئے الزام کو تسلیم کرتی ہے ؟ اگر وہ گناہ کا اقرار کرلے تو اسے رجم کرنے کی سزا دی جائے گی ، اور اگر عورت الزام کو تسلیم کرنے سے انکار کردے تو فرمایا ویدرئواعنھا العذاب ان تشھد اربع شھدت باللہ یہ بات اس سے عذاب ہٹا دے گی کہ وہ اللہ کے نام کی چار قسمیں کھا کر کہے انہ لمن الکذبین کہ ان کا خاوند جھوٹا ہے یعنی اس (عورت) پر جو الزام لگایا گیا ہے وہ درست نہیں ہے والخامسۃ ان غضب اللہ علیھا ان کان من الصدقین۔ اور پانچویں دفعہ قسم اٹھا کر یہ کہے کہ اس (عورت) پر اللہ کا غضب ہو اگر اس کا خاوند سچا ہے۔ لعنت اور غضب میں فرق : یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرد کی قسم کے بارے میں اللہ نے لعنت کا ذکر کیا ہے جب کہ عورت کے لئے غضب الٰہی تجویز کیا ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ لعنت کے مقابلے میں غضب الٰہی زیادہ شدید امر ہے لعنت کا معنی اللہ کی رحمت سے دوری ہے اور یہ لفظ عام طور پر شیطان یا کسی دوسرے کے لئے استعمال ہوتا ہے کہ وہ ملعون ہے یعنی رحمت الٰہی سے بعید ہے۔ اور غضب سے مراد یہ ہے کہ ایسا شخص نہ صرف رحمت سے محروم ہے بلکہ اس پر اللہ کی ناراضگی بھی ہے۔ تو فرماتے ہیں کہ عورت کے لئے غضب کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ لعنت تو ایک معمولی چیز ہے جو عورتیں خود بھی ایک دوسری پر بھیجتی رہتی ہیں۔ جونہی دوسری عورت سے ناراضگی ہوئی تو جھٹ اس کو ملعون کہہ دیا ، لہٰذا عورتیں لعنت سے زیادہ شدید سزا کی مستحق ہی۔ صحیحین کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری اکثریت جہنم میں جائیگی ۔ ایک عورت نے عرض کیا ، حضور ! اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ تمہاری زبانوں پر لعنت بہت زیادہ ہوتی ہے بعض عورتوں کا تکیہ کلام ہوتا ہے کہ وہ بات بات پر لعنت بھیجتی ہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ تم اپنے خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔ اسی لئے اللہ نے عورت کی زبان سے بوقت قسم غضب کا لفظ نکلوایا ہے ، شاید کہ وہ ڈر جائے اور اگر واقعی گنہگار ہے تو گناہ کا اقرار کرکے آخرت میں غضب الٰہی سے بچ جائے۔ میاں بیوی میں جدائی : اب صورت حال یہ ہوگئی کہ خاوند نے پانچ قسمیں کھا کر بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور بیوی نے پانچ قسمیں اٹھا کر اپنی بریت کا اظہار کیا۔ اب قاضی کا فیصلہ یہ ہوگا کہ وہ میاں بیوی میں جدائی کردیگا۔ قاضی کا یہ حکم طلاق بائن کے قائم مقام ہوگا اور یہ مردوزن دوبارہ نکاح بھی نہیں کرسکیں گے۔ ہاں ایک صورت ہے کہ اگر کسی وقت مرد اپنے الزام کو واپس لے لے اور عدالت میں یہ بیان دے کہ اس نے بیوی پر اتہام لگاتے وقت جھوٹ بولا تھا ، تو قاضی اس شخص کو حد قذف یعنی اسی کوڑوں کی سزا دے گا اور اس کے بعدوہی مردوزن دوبارہ نکاح کرسکیں گے۔ اس بارے میں کچھ فقہی اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میاں بیوی کی طرف سے پانچ پانچ قسمیں اٹھانے کے بعد جب لعان مکمل ہوگیا تو عورت خود بخود مرد سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئی۔ اب نہ کسی طلاق کی ضرورت ہے اور نہ قاضی کے فیصلے کی۔ اگر عورت کے پاس بچہ موجود ہے یا ابھی پیدا ہونے والا ہے تو وہ ماں کا تصور ہوگا ، خاوند کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا ، نہ تو بچہ اس کی نسل میں شمار ہوگا۔ اور نہ وہ مرد کی وراثت کا حقدار ہوگا۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) اور بعض دوسرے فقہائے کرام کا مسلک یہ ہے۔ کہ محض لعان کی تکمیل پر جدائی نہیں ہوجاتی بلکہ لعان کے بعد یا تو خاوندخود طلاق دے دے یا قاضی جدا کردے۔ صحیح حدیث میں بھی ایسا ہی آتا ہے کہ اس قسم کے ایک کیس میں ثم فرق بینھما خود حضور ﷺ نے میاں بیوی میں تفریق کرادی تھی۔ امام صاحب (رح) کے مسلک کے مطابق اگر نہ خاوند طلاق دے اور نہ قاضی تفریق کرے تو پھر متعلقہ عورت اپنے خاوند کے نکاح سے باہر نہیں نکلے گی۔ بلکہ بدستور نکاح میں رہے گی۔ اور ادھر یہ ہے کہ مذکورہ شخص لعان کے بعد اس عورت سے مباشرت بھی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ حرام ہے۔ اب نکاح فسخ نہیں ہوا اور مباشرت حرام ہے تو مزید پیچیدگی پیدا ہوگی ۔ اور اگر اس حالت میں میاں بیوی میں سے کسی ایک کی موت واقع ہوجائے تو دوسرے کو وراثت کا حق حاصل ہوگا۔ کیونکہ ان کا نکاح قائم ہے۔ البتہ بچہ عورت کا تصور ہوگا۔ اور مرد کی وراثت کا حقدار نہیں ہوگا۔ قانون لعان کی افادیت : آگے فرمایا ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمۃ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس مہربانی تمہارے شامل حال نہ ہوتی ، اور یہ بھی وان اللہ تراب حکیم ، بیشک اللہ تعالیٰ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور حکمت والا ہے ، تو تمہارے لئے بہت سی مشکلات پیدا ہوجاتیں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لعان کا ایسا حکیمانہ قانون وضع فرمایا ہے کہ جس کے ذریعے ایک تو مردوزن کے درمیان پردہ پوشی قائم رہتی ہے اور دوسرے دنیاوی مشکلات بھی آسان ہوجاتی ہیں۔ اگر یہ قانون نہ ہوتا اور خاوند کی طرف سے لگائے گئے الزام کو بیوی قبول نہ کرتی تو عمر بھرکے لئے عداوت کا دروازہ کھلا رہتا اور زوجین میں سے کسی ایک بھی سکھ کا سانس نصیب نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ مہربانی فرمائی ہے کہ تم اس قانون کو اپنے اوپر نافذ کرو گے تو تمہاری سو سائٹی پاک رہے گی اور تمہاری نسلیں اور اخلاق بھی نہیں بگڑیں گے۔ کسی قانون کی افادیت جبھی ہوتی ہے جب اس پر عمل کیا جائے۔ قانون کی محض تلاوت کرنے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا ، لہٰذا تمہارا فرض ہے کہ اللہ کے جاری کردہ قانون پر عمل کرکے دنیا وآخرت کی بہتری حاصل کرلو۔