Ayahs 24:27–29ربط آیات :
سورۃ ہذا کے ابتدائی حصہ میں اللہ تعالیٰ نے برائی ، بدکاری اور فحاشی کے انسداد کے لئے حدود کا ذکر فرمایا۔ زنا اور قذف کی حدود بیان کیں اور لعان کا مسئلہ سمجھایا پھر اللہ نے واقعہ افک کا ذکر کیا جس میں منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر اتہام لگایا تھا۔ اللہ نے آپ کی بریت کو واضح فرمایا اور اس ضمن میں بہت سی دیگر باتیں بھی سمجھائیں۔ منافقین کی مذمت اور مومنین کو تنبیہ فرمائی۔ ساتھ ساتھ ام المومنین ؓ کی فضیلت کا ذکر بھی ہوا۔
قانون انسداد بےحیائی کا یہ پہلا حصہ تھا۔ آب آمدہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس قانون کا دوسرا حصہ بیان فرمایا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اسلامی معاشرے سے عریانی ، فحاشی اور بےحیائی کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا جائے۔ ان جرائم کی ترغیب عام طور پر عورتوں کے بےپردگی سے ہوتی ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے آج کی آیات میں کسی کے گھر میں داخلے کے وقت پردے کو ملحوظ رکھنے سے متعلق بعض قوانین بیان فرمائے ہیں۔ ان قوانین کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے ۔ کہ مخلوق کے تخلیق شدہ قوانین سے دنیا کی عدالتیں عام طور پر لوگوں سے بھری رہتی ہیں جب کہ اسلامی قوانین کا بنیادی مقصد معاشرے سے مخاصمت اور شرف و فساد کو بیخ کنی ہوتا ہے۔ جب کوئی جھگڑا ہی پیدا نہیں ہوگا تو نہ کوئی عدالتوں میں جائے گا اور نہ وہاں ہجوم ہوگا۔
گھروں میں داخلے کے آداب :
آیات زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان کے دوسرے کے گھر میں جانے کے آداب بیان فرمائے ہیں۔ اس میل ملاقات کے سلسلے میں چار قسم کے حالات پیش آسکتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے لئے اللہ کے قوانین جاری فرمائے ہیں اور کسی بھی گھر میں داخلے کے لئے اجازت حاصل کرنے کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔
(1) پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے ہی گھر میں داخل ہوتا ہے جاں اس کی منکوحہ بیوی موجود ہے تو اس کے لئے داخلے سے قبل اجازت حاصل کرنا ضروری نہیں۔ البتہ پھر بھی مستحب بات یہ ہے کہ داخلے کے وقت خاوند کوئی ایسی حرکت کردے جس سے بیوی کو اطلاع ہوجائے کہ اس کا خاوند گھر میں داخل ہورہا ہے ۔ اس ضمن میں دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا ہے یا آج کل کے حالات میں دروازے پر لگی ہوئی گھنٹی بجائی جاسکتی ہے۔ یا کم از کم خاوند زبان سے کوئی لفظ ادا کردے یا کھانس لے جس سے بیوی کو اطلاع ہوجائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی کا بیان ہے کہ ان کے خاوند بھی گھر میں آتے تو داخلے کے وقت کھنکھارتے جس سے مجھے ان کی آمد کی اطلاع مل جاتی۔
(2) گھر میں داخلے کی دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص ایسے گھر میں داخل ہوتا ہے۔ جہاں اس کی بیوی کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ہوں۔ ان میں والدہ بہن اور بیٹی بھی ہوسکتی ہے۔ اگرچہ یہ سب محرم ہیں مگر آنے والے شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اجازت لے کر گھر میں داخل ہو۔ ایک صحابی نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کو حضور ! میں ایسے گھر میں رہتا ہوں جہاں صرف میری والدہ رہائش رکھتی ہے تو کیا مجھے بوقت داخلہ اجازت لینے کی ضرورت ہے ؟ آپ نے فرمایا ، ہاں۔ اس شخص نے پھر عرض کیا کہ حضور ! میں اور میری والدہ صرف دو افراد خانہ ہیں اور میں ان کی خدمت کرتا ہوں۔ گھر میں کوئی دوسرا فرد تو ہے نہیں تو ایسی حالت میں بھی اجازت کی ضرورت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا (قرطبی ص 219 ج 12 وطبری ص 111 ج 18 و احکام القرآن للبصاص ص 313 ج 3 وکشاف ص 227 ج 3 (فیاض) اتحب ان تراھاعریانۃ کیا تو اپنی والدہ کو عریانی کی حالت میں دیکھنا چاہتا ہے ؟ عرض کیا ، نہیں۔ فرمایا ، پھر ضروری ہے کہ بلا اطلاع نہ داخل ہو کیونکہ بعض اوقات انسان بےپردگی کی حالت میں ہوتا ہے۔ لہٰذا داخلے سے قبل اطلاع دینا ضروری ہے خواہ گھر میں والدہ ، بہن یا بیٹی ہی ہو۔
(3) تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص ایسے مقام میں داخل ہونا چاہتا ہو جہاں رہائش اور عدم رہائش دونوں کا امکان ہے ، تو ایسے مقام پر بھی بلا اجازت داخل ہونے کی گنجائش نہیں ہے۔
(4) چوتھی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی ایسی جگہ میں داخل ہونا چاہتا ہے ، جس میں کسی خاص فرد یا خاندان کی رہائش نہیں بلکہ وہ مفاد عامہ کی جگہ (Public places) ہے۔ مثال کے طور پر کوئی مسجد ہے ، مدرسہ ہے ، ریلوے سٹیشن یا ائیرپورٹ ہے ، کوئی ہوٹل یا سرائے ہے ، ڈاکخانہ یا تار گھر ، عدالت ، سکول ، کالج ، ہسپتال ، سرکاری دفاتر وغیرہ ہیں تو وہاں کوئی بھی شخص بلا اجازت داخل ہوسکتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضور ﷺ کے سامنے عرض کیا کہ ہم شام وغیرہ میں تجارت کے لئے جاتے ہیں۔ جہاں ہمیں کسی سرائے یا مسافر خانہ میں قیام کرنا ہوتا ہے ، تو کیا وہاں بھی اجازت لے کر داخل ہوں ؟ آپ نے فرمایا ، ایسی جگہوں میں تم بلا اجازت جاسکتے ہو۔
بعض مخصوص مقامات و حالات :
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مفاد عامہ کے ادارے اگرچہ عام لوگوں کے لئے کھلے ہوتے ہیں اور لوگ وہاں بلا روک ٹوک آجاسکتے ہیں مگر وہاں بھی بعض مخصوص حصے ہوتے ہیں جہاں ہر شخص کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایسے مقامات کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے کہ داخلہ ممنوع ہے یا یہ شارع عام نہیں ہے ، یا ممنوعہ علاقہ یا اپنی شناخت کرائیے وغیرہ۔ اس قسم کے بورڈ عام اداروں ، دفتروں ، ریلوے سٹیشن اور ائیر پورٹ پر بھی نظر آتے ہیں۔ تو ایسے مقامات پر بلا اجازت جانا شرعاً بھی ممنوع ہوگا مثال کے طور پر ریلوے پلیٹ پر جانے کے لئے پلیٹ فارم ٹکٹ ضروری ہے یا کسی عجائب گھر یا پارک میں داخلے کے لئے ٹکٹ حاصل کرنا ضروری ہے تو وہاں مطلوبہ لوازمات پورے کیے بغیر داخلے کی اجازت نہیں ہے بعض اوقات کوئی شخص تخلیہ کی حالت میں ہوتا ہے اور وہ کسی دوسرے شخص کی مداخلت پسند نہیں کرتا۔ تو ایسی صورت میں اگرچہ قریبی رشتہ دارہی کیوں نہ ہو اس کی نجی حالت (Privacy) مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔ اسی لئے اللہ نے سلام کرنے اور اجازت حاصل کرنے کی پابندی لگادی ہے۔
فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ کسی نابینا آدمی کو بھی بلا اجازت کسی کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ اگرچہ وہ کسی کی برہنگی کر دیکھ تو نہیں سکتا مگر گفتگو تو سن سکتا ہے۔ اور کسی کی پرائیویٹ بات کو بلا اجازت سننا بھی روا نہیں کہ اس سے بھی شروفساد کا دروازہ کھلتا ہے۔ ایسے ہی مواقع پر بڑے بڑے سکینڈل پیدا ہوتے ہیں ، لہٰذا شریعت نے اس کی بھی اجازت نہیں دی۔
جس طرح مردوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ دوسرے کے گھر میں داخلے کے لئے اجازت حاصل کریں ، اسی طرح عورت کے لئے بھی اجازت نامہ ضروری ہے ۔ عورت بھی کسی دوسری عورت کے پاس بلا اجازت داخل نہ ہو ایک خاتون ام عیاص کا بیان ہے کہ ہم چار عورتیں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی ملاقات کے لئے جاتیں تو ان سے اجازت حاصل کرکے ان کے گھر میں داخل ہوتیں۔
طریقہ استیذان :
اب رہ گئی یہ بات کو داخلے کے لئے اجازت طلب کرنے کا طریقہ کیا ہے ، تو حدیث شریف (ابن کثیر ص 280 ج 3 وقرطبی ص 215 ج 12 (فیاض) میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ دروازے پر پہنچ کر السلام علیکم کہو اور پھر کہو ادخل کیا میں اندر آسکتا ہو ؟ یادروازے پر دستک دے کر کہو کہ فلاں آدمی آنا چاہتا ہے۔ کیا اجازت ہے ؟ دستک دیتے وقت دروازے کی دراڑوں میں سے جھانکنا بھی جائز نہیں کہ یہ مکروہ تحریمی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ ایسی حالت میں اگر گھر کے اندر سے کوئی شخص جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دے تو ہم اس کا قصاص نہیں لیں گے کیونکہ اس نے خود ایک غلط کام کیا ہے۔ اجازت طلب کرتے وقت دروازے کے سامنے کھڑا ہونے کی بھی اجازت نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ یکدم دروازہ کھلنے پر اندر نگاہ جاپڑے اور صاحب خانہ کی بےپردگی ہو۔ ایک شخص آیا ، اس نے اندر آنے کی اجازت بایں الفاظ طلب کی ا الج کیا میں اندر گھس آوں ؟ حضور ﷺ نے اپنے خادم (ابن کثیر ص 280 ج 3 (فیاض) سے فرمایا کہ اس شخص کو اجازت طلب کرنے کے آداب سکھائو کہ ا الج جیسے سخت لفظ کی بجائے ادخل لفظ استعمال کرے۔ اسی طرح ایک صحابی نے اپنے خادم کو کوئی تحفہ دے کر حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ اس شخص نے نہ سلام کیا اور نہ اجازت طلب کی۔ بلکہ سیدھا اندر آگیا۔ آپ نے فرمایا ، واپس جائو۔ دروازے سے باہر کھڑے ہو کر السلام علیکم اور ادخل کہو۔ وہ شخص باہر گیا۔ اجازت طلب کی تو آپ نے اندر آنے کی اجازت دی۔
یہ بھی استیذان کے آداب میں داخل ہے کہ اجازت زیادہ سے زیادہ تین دفعہ طلب کی جائے۔ اگر تینوں مرتبہ کوئی جواب نہ آئے تو ملاقاتی کو واپس چلا جانا چاہیے۔ یہ بھی آداب میں شامل ہے کہ اجازت طلبی پر اگر صاحب خانہ پوچھے کہ کون ہے ؟ تو ملاقاتی یہ نہ کہے انا (میں ہوں) بلکہ اپنا نام بتائے تاکہ صاحب خانہ کو علم ہوسکے۔ ایک موقع پر حضرت جابر ؓ نے ایسا ہی کیا تو آپ سخت ناراض ہوئے۔ فرمایا انا کیا ہوتا ہے۔ کہو انا جابر کہہ میں جابر ہوں یا میں فلاں ہوں اور فلاں کام سے آیا ہوں۔
یہ بھی اداب ملاقت میں سے ہے کہ اگر کسی بڑے آدمی ، عالم یا بزرگ کی ملاقات کے لئے آیا ہے تو باہر دروازے پر رک کر انتظار کرے جب صاحب خانہ خود باہر آئے تو ملاقات کرے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی آمد کی اطلاع بھی نہ دے اور باہر انتظار کرتا رہے۔ اس قسم کے ادب کی خود قرآن نے حضور ﷺ کے لئے تعلیم دی ہے۔ بعض لوگ حضور ﷺ کے دردولت پر حاضر ہو کر باہر سے ہی آواز دیتے تھے یا محمد اخرج الینا۔ اے محمد ! باہر تشریف لائیے۔ اللہ کو یہ طریقہ بھی پسند نہ آیا اور سورة الحجرات میں فرمایا ولوانھم……………لھم (آیت 5) اگر وہ لوگ صبر کرتے حتیٰ کہ حضور خود باہر تشریف لے آتے تو یہ ان کے آوازیں دینے سے بہتر ہوتا۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بڑی ہستی کے مالک تھے ۔ کسی انصاری کے گھر میں جاتے تو باہر منتظر رہتے کہ خود ہی نکلیں گے تو بات کرلیں گے۔ حالانکہ آپ کوئی حدیث معلوم کرنے کے لئے جاتے تھے۔ انصاری باہر آکر کہتا کہ آپ تو بڑے مرتبے کے مالک ہیں اور حضور ﷺ کے چچا زادہ ہیں۔ آپ دستک دے دیا کریں تو میں فوراً حاضر ہوجائوں۔ فرماتے ، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے یہی تعلیم دی ہے کہ صاحب خانہ کے لئے باہر منتظر رہنا ہی بہتر ہے تاکہ وہ اپنی سہولت کے مطابق باہر آئے تو بات ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ اور آپ کے رسول مقبول نے دوسرے گھروں میں جانے کے یہ آداب سکھائے ہیں۔
خلاصہ احکام بزبان قرآن :
ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا لا تدخلوا بیوتا غیر بیوتکم حتی تستانسو وتسلموا علی اھلھا ، اے ایمان والو ! نہ داخل ہو اپنے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں یہاں تک کہ پہلے اجازت طلب کرلو اور اہل خانہ کو سلام کرلو۔ داخلے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ پہلے السلام علیکم کہو اور پھر اندر آنے کی اجازت طلب کرو۔ فرمایا ذلکم خیرلکم ، یہ تمہارے لئے بہتر ہے لعلکم تذکرون تاکہ تم نصیحت حاصل کرو فان لم تجدوا فیھا احدا اور اگر تم اس گھر میں کسی کو نہ پائو فلا تدخلوھا حتی یوذن لکم تو اس میں مت داخل ہو۔ یہاں تک کہ تمہیں اجازت دی جائے بعض اوقات صاحب خانہ کسی کام میں مصروت ہوتا ہے یا وہ فوری طور پر ملاقات نہیں کرنا چاہتا تو ایسی حالت میں وان قیل لکم ارجعوا اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جائو فارجعوا ھواز کی لکم تو واپس لوٹ جائو کہ یہی بات تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔ عدم ملاقات پر ناراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ صاحب خانہ کو کوئی مجبوری ہو۔ واللہ بما تعملون علیم اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
آگے فرمایا لیس علیکم جناح ان تدخلوا بیوتا غیر مسکونۃ فیھا متاع لکم تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم غیررہائش مقام میں داخل ہو جس میں تمہارا کچھ مفاد ہے۔ اس میں مفاد عامہ کے ادارے (Public places) آتے ہیں جن کی تفصیل میں نے عرض کردی ہے ، ایسی جگہوں پر بلا اجازت داخل ہوسکتے ہو۔ فرمایا واللہ یعلم ماتبدون وما تکتمون اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری نیت اور ارادے سے بھی واقف ہے۔ اس نے گھروں میں داخلے کے قوانین بیان کردیے ہیں۔ اگر ان کی پابندی کرو گے تو فتنہ و فساد پیدا نہیں ہوگا ، فحاشی اور عریانی کی نوبت نہیں آئے گی اور معاشرے میں امن وامان قائم ہوگا۔
Ayahs 24:30–31ربط آیات :
گزشتہ آیات میں دوسروں کے گھروں میں جانے کے مسائل بیان ہوئے کہ کوئی شخص اپنے گھروں میں بلا اجازت جاسکتا ہے البتہ بہتر یہی ہے کہ اطلاع کرے۔ اپنے عزیزوں اور دوستوں کے گھروں میں یا جن گھروں میں سامان پڑا ہوا ہے ، وہاں بھی اجازت کے بغیر نہیں جانا چاہیے۔ البتہ مفاد عامہ کے ایسے مقامات جن میں کسی کی انفرادی رہائش نہ ہو وہاں بلا اجازت داخل ہوسکتا ہے۔ البتہ ان کے مخصوص حصوں میں بھی بلا اجازت داخل ہونا جائز نہیں۔ دراصل یہ پابندی برائی ، زنا اور بدکاری کی روک تھام کے لئے لگائی گئی ہے کیونکہ برائی تحریک بلا تکلف میل جول کے ذریعے ہی پیدا ہوتی ہے۔
اب آج کی آیات بھی اسی قانون کا تتمہ ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں جاتا ہے یا راستہ چلتے کسی غیرمحرم سے واسطہ پڑتا ہے تو نگاہوں کو نیچا رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اگر کسی مومن مرد کے سامنے غیر محرم عورت آجائے یا مومن عورت کے سامنے غیر محرم مرد آجائے تو دونوں کو غض بصر کا حکم دیا گیا۔ عام محاورہ ہے النظر بریدالزنا یعنی نگاہ زنا کی ڈاک ہوتی ہے۔ پہلے کسی غیر محرم پر نگاہ پڑتی ہے پھر خیالات فاسد ہوتے ہیں اور پھر برائی کی ترغیب پیدا ہوتی ہے ، اسی لئے نظر کی آنکھوں کا زنا قرار دیا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے نگاہ کی حفاظت کا سختی سے حکم دیا ہے تاکہ برائی ، بدکاری اور زنا کی نوبت ہی نہ آسکے۔ اور مسلمانوں کی سوسائٹی ایسی قباحتوں سے پاک رہے۔
بعض صحابہ کرام ؓ مختلف راستوں ، گھاٹیوں ، پلوں یا دیگر اونچی جگہوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ حضور ﷺ نے اس سے منع فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم ایسے مقامات پر بلا مقصد نہیں بیٹھتے بلکہ بعض اوقات کسی سے ملاقات کرنی ہوتی ہے ، کوئی مشورہ وغیرہ کرنا ہوتا ہے تو ہم ایسی جگہوں پر اکٹھے ہوجاتے ہیں آپ نے فرمایا کہ اگر آپ کا وہاں بیٹھنا ضروری ہے تو پھر ایسے مقام کا حق بھی ادا کرو۔ صحابہ ؓ کے دریافت کرنے پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایسے مقامات پر بیٹھنے کا حق یہ ہے کہ کسی کو تکلیف ن پہنچائو ، اپنی نگاہوں کو نیچا رکھو ، کوئی ضرورتمند ہو تو اس کی مددکرو اور اسلام کا جواب دو ۔ طلب یہ ہے کہ حضور ﷺ نے ہر موقع پر اپنی نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ ان آیات میں دوسرا مسئلہ شرمگاہوں کی حفاظت کا بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں دونوں کو اپنے اپنے ستر کی نگرانی کا حکم دیا ہے۔
زبان اور اعضائے مستورہ کی ضمانت :
صحیح حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا من یکفلنی مابین لحییہ وبین رجلیہ اکفل لہ الجنۃ جو شخص مجھے ضمانت دے گا ان چیزوں کی جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے یعنی زبان اور جو دورانوں کے درمیان ہے یعنی شرمگاہ ، تو میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ زبان اور شرمگاہ دو ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے اکثر فتنہ و فساد پیدا ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنی زبان پر کنٹرول نہیں کرتا اور اس کے ذریعے جھوٹ ، غیبت ، اتہام اور گالی گلوچ کرتے ہیں ، وہ اس کی وجہ سے سخت مشکل میں پڑتے ہیں۔ اس طرح شرمگاہ کی حفاظت ہی عصف وعصمت کی علامت ہے ، ورنہ انسان ، زنا ، فحاشی اور بدکاری میں مبتلا ہو کر جنت سے محروم ہوجاتا ہے اسی لئے اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جو شخص مجھے ان دو چیزوں یعنی زبان اور شرمگاہ کا ضمانت دے ، میں اسے جنت کی ضانت دیتا ہوں کہ وہ اللہ کی رحمت کے مقام میں ضرور پہنچے گا۔
نگاہ اور شرمگاہ کی حفاظت :
پہلے اللہ نے نگاہ اور شرمگاہ کی حفاظت کا حکم دیا ہے اور یہ حکم مردوں اور عورتوں کے لئے الگ الگ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ قل للمومنین یغضوا من ابصارھم اے پیغمبر ! آپ ان مومن مردوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ یعنی جب کسی غیر محرم عورت سے آمنا سامنا ہو تو اس کی طرف بار بار دیکھنے کی بجائے اپنی نظروں کو جھکالے۔ بیہقی نے شعب الایمان میں یہ روایت نقل کی ہے لعن اللہ الناظروالمنظور الیہ ، اللہ نے لعنت کی ہے اس مرد پر جو اپنی نظر کسی غیر محرم عورت پر اٹھاتا ہے۔ اور اگر عورت کے دل میں بھی یہی جذبہ ہے تو اس پر بھی خدا کی پھٹکار ہے مسند احمد ، ترمذی ، ابودائود اور دارمی وغیرہ میں یہ روایت بھی موجود ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا (احکام القرآن للجصاص ص 315 ج 3 وفتح القدری ص 25 ج 4 (فیاض) لا تتبع النظرۃ النظرۃ اے علی ؓ ، پہلی نگاہ کے بعد دوسری نگاہ مت اٹھانا ، اگر اتفاقاً کسی غیر محرم عورت پر نظر پڑگئی ہے تو اسے فوراً پست کردو۔ دوسری بار نگاہ اٹھائو گے تو گنہگار بن جائو گے پہلی نگاہ تو معاف ہے۔ مگر دوسری نہیں ، حضرت جریر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر کسی غیر محرم پر نظر پڑجائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ کہتے ہیں امرنی ان اصرف کہ حضور ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ نگاہ کو فوراً پھیر لو اور دوبارہ دیکھنے کی کوشش نہ کرو ، ورنہ مجرم بن جائو گے۔ حضور ﷺ نے نگاہ کی حفاظت کرنے والے کی فضیلت بھی بیان فرمائی ہے کہ جس شخص کی نگاہ کسی غیر محرم کے حسن و جمال پر پڑگئی اور اس نے اپنی نگاہ کو فوراً پست کرلیا تو اس کے دل میں اللہ تعالیٰ ایسی عبادت پیدا کرے گا جس کی وجہ سے اسے لطف محسوس ہوگا۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا حکم یہ دیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! آپ مسلمان مردوں سے یہ بھی کہہ دیں ویحفظوا فروجھم کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ پہلے حد زنا اور حد قذف کا ذکر ہوچکا ہے۔ عریانی ، فحاشی اور بےحیائی پر گفتگو ہوچکی ہے۔ یہ چیزیں شرمگاہ کے عدم تحفظ کی وج سے پیدا ہوتی ہیں۔ لہٰذا مسلمان مردوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور ان کا بےجا استعمال نہ کریں کہ یہ بہت بڑا جرم ہے۔ فرمایا ذلک ازکی لھم یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے۔ ان اللہ خبیر بما یصنعون ، اللہ تعالیٰ ان کے ہر کام کی خبر رکھتا ہے اور وہ ان کے نیت اور ارادے سے بھی واقف ہے لہٰذا ان احکام کی پابندی ضروری ہے۔
عورتوں کے لئے پردے کا حکم :
اگلی آیت میں اللہ نے یہی حکم عورتوں کو بھی دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پردے کے دیگر مسائل بھی بیان فرمائے ہیں ارشاد ہوتا ہے وقل للمومنت یغضن من ابصارھن اے پیغمبر ﷺ ! آپ مومنہ عورتوں سے بھی کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں پست رکھیں۔ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی غضن بصر سے بھی کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں پست رکھیں۔ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی عضن بصر کا حکم دیا گیا ہے کہ برائی کی طرف میلان کا پہلا زینہ نگاہ کی خرابی ہوتا ہے۔ مردوزن اگر اس پر کنٹرول کرلیں تو بہت حد تک برائی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ آگے فرمایا کہ مومن عورتوں کو یہ حکم بھی دے دیں و یحفظن فروجھن کہ وہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ اپنی عفت وناموس پر داغ نہ لگنے دیں۔ فرمایا ولا یبدین زینتھن الا ماظھر منھا اور اپنی زینت کو ظاہرنہ کریں سوائے اس کے جو اس سے کھلی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عورتیں اپنی بناوٹی زیب وزینت یا بنائو سنگھار کو غیر محرموں کے سامنے ظاہر نہ کریں کہ یہ چیز فتنہ کا باعث بنتی ہے جہاں تک ماظھر کا تعلق ہے یعنی وہ چیزیں جو عورت سے خود بخود ظاہر ہیں تو اس سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عورت کا چہرہ اور ہاتھ مراد لیتے ہیں کہ ان کے اظہار میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ دو اعضاء ستر میں شامل نہیں اگرچہ جب ہاتھ کھلے ہوں گے تو ان میں لگی مہندی یا پہنی ہوئی انگوٹھی وغیرہ بھی نظر آئے گی۔ البتہ اس کے علاوہ زینت کی کوئی چیز ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ہے بعض فرماتے ہیں کہ ماظھر سے مراد صرف بیرونی لباس ہے جو بیشک نظر آجائے اس کے علاوہ باقی تمام اعضاء کو حتیٰ الامکان پچھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
آگے اللہ نے پردے سے متعلق یہ حکم بھی دیا ہے ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن اور عورتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں۔ عورت کا گریبان بالکل کھلا نہیں ہونا چاہیے۔ ولا یبدین زینتھن اپنی زیب وزینت اور بنائو سنگھار کو نہ ظاہر کریں۔ آگے اللہ نے مردوں کی فہرست دی ہے جو اس حکم سے مستثنیٰ ہیں یعنی جن سے عورتوں کو پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہ۔ فرمایا الا لبعولتھن اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں کے لئے۔ ظاہر ہے کہ خاوند سے پردہ کیا بلکہ صحیح معنوں میں عورت کی زیب وزینت اس کے خاوند کے لئے ہوتی ہے۔ فرمایا او ابائھن یا اپنے خاوند کے با پ کے سامنے یعنی خسر بھی پردے سے مستثنیٰ ہے پھر فرمایا او ابنائھن عورتیں اپنے بیٹوں کے سامنے بھی زینت کا اظہار کرسکتی ہے او ابناء بعولتھن اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے لئے بھی کوئی پابندی نہیں۔ اواخوانھن یا اپنے بھائیوں کے سامنے او بنی اخونھن یا اپنے بھتیجوں کے سامنے اوبنی اخواتھن یا اپنے بھانجوں کے سامنے بھی زیب وزینت کا اظہار کرسکتی ہیں یہ بھی پردے سے مستثنیٰ ہیں کہ یہ سب محرم ہیں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ چچا اور ماموں کے لئے بھی یہی حکم ہے کیونکہ وہ بھی محرم ہیں۔
آگے فرمایا اونسائھن یا اپنی عورتوں کے سامنے بھی زینت کا اظہار کرسکتی ہیں۔ اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے مراد مسلمان عورتیں ہیں۔ لہٰذا کسی مسلمان عورت کو کسی کافرہ عورت کے سامنے بھی زیب وزینت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں۔ ان کو بھی اجنبی کے حکم میں شمار کیا جاتا ہے۔ اوماملکت ایمانھن یا جو ان کے داہنے ہاتھ کی ملکیت ہیں یعنی لونڈی غلام ہیں اس سے بھی پردے کی ضرورت نہیں اولتابعین غیر اولی الا ربہ من الرجال گھروں میں کام کرنے والے مرد بھی پردے سے مستثنیٰ ہیں۔ جو شہوانی غرض نہیں رکھتے۔ اس قسم کے نوکرچاکرمعمولی حیثیت کے لوگ ہوتے ہیں اور اپنے کام یا کھانے پینے اور کپڑا پہننے کے سوا ان کی کسی طرف توجہ ہی ہیں ہوتی۔ تاہم فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اس ضمن میں سخت احتیاط کی ضرورت ہے اور جو ان مردوں کے گھر کے کام کاج کے لئے مقرر نہیں کرنا چاہیے۔ فرمایا اوالطفل الذین لم یظھروا علی عورت النساء وہ چھوٹے بچے بھی پردے سے مستثنیٰ ہیں جو عورتوں کے بھیدوں پر مطلع نہیں ہیں یعنی ابھی انہیں عورتوں سے متمع ہونے کا علم نہیں ہے۔ ان کے سامنے بھی اگر زینت ظاہر ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔
آگے اللہ نے عورتوں پر یہ پابندی بھی لگائی ہے ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یفین من زینتھن عورتیں چلتے وقت اپنے پائو زمین پر زور سے نہ ماریں کہ جس سے ان کی پوشیدہ زینت کا اظہار ہوتا ہے اگر پائوں میں کوئی زیور پہن رکھا ہے تو زور سے پائوں مارنے پر اس کی جھنکار سنائی دے گی اور سننے والے کو فتنے میں ڈالنے کا باعث بن سکتی ہے۔ لہٰذا ایسا کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے تو یہ حکم بھی دیا ہے۔ کہ جو عورتیں نماز کے لئے مسجد میں آئیں۔ سادہ لباس پہنیں اور خوشبو استعمال نہ کریں تاکہ مردوں کی توجہ ان کی طرف مبذول نہ ہو۔
ستر کا مسئلہ :
ناف سے لے کر گھٹنوں تک شرعی ستر ہے۔ لہٰذا کسی مرد کے لئے دوسرے مرد کے اس حصے پر دیکھنا حرام ہے عورت کے لئے بھی یہی حکم ہے کہ وہ کسی عورت کے ستر کو نہیں دیکھ سکتی۔ اس ضمن میں مرد اور عورت کے حکم میں کچھ اختلاف بھی ہے۔ مثلاً اگر کسی عورت کی نگاہ مرد کے ستر والے حصے کے علاوہ جسم کے کسی دیگر حصے میں پڑجائے تو کوئی گناہ نہیں۔ البتہ عورت کا سارا جسم ماسوائے چہرے اور ہاتھوں کے ستر ہے۔ لہٰذا کسی مرد کی نظر عورت کے کسی حصہ پر نہیں پڑنی چاہیے۔ ماسوائے مستثنیٰ حصوں کے۔ اگر ایسا کرے گا تو سخت گنہگار ہوگا۔ بعض فقہاء پائوں کو بھی ستر میں داخل کرتے ہیں اور بعض نہیں کرتے۔ اسی طرح ورت کے بال بھی ستر میں داخل ہیں ، ان پر بھی کسی اجنبی کی نظر نہیں پڑنی چاہیے۔ اگرچہ عورت کا چہرہ ستر میں داخل نہیں مگر جیسا کہ شامی اور درمختار میں ہے نوجوان عورت کو اپنا چہرہ بھی ڈھانپ کر رکھنا چاہییتا کہ فتنہ سے بچا جاسکے کسی مرد کے لئے یہ قطعاً روا نہیں کہ وہ اپنی بیوی یا شرعی لونڈی کے مقام شہوت کے سوا کسی دوسری عورت کے ایسے مقام کی طرف دیکھے۔ اسی طرح عورت کے لئے اپنے خاوند کے مقام ستر کے علاوہ کسی اجنبی کی طرف دیکھنا حرام ہے۔ البتہ مرد ہو یا عورت مجبوری کی حالت میں اعضائے مستورہ کو دیکھنے کی اجازت ہے۔ مثال کے طور پر اگر طبی لحاظ سے دیکھنا ضروری ہے یا کوئی آپریشن وغیرہ کرنا ہے تو دیکھنے کی اجازت ہے۔ تاہم فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ایسے حالات میں بھی حتیٰ الامکان بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور بےتکلف ہونے سے ہمیشہ پرہیز کرنا چاہیے۔
استغفار کی تعلیم :
آخر میں اللہ نے فرمایا ہے وتوبوا الی اللہ جمعیا ایہ المومنون لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! تم سارے کے سارے اللہ کے سامنے توبہ کرو۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ کوئی نہ کوئی لغزش ہوتی رہتی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ سچے دل سے توبہ کرو۔ اٹھتے بیٹھتے ہر وقت استغفار کرتے رہو۔ خود حضور ﷺ کی خاطر ایک ایک مجلس میں سو سو دفعہ استغفار کرتے تھے۔ فرمایا توبہ کرو تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے۔ تم گناہوں سے پاک ہوجائو اور یہی انسان کا منتہائے مقصود ہے۔
Ayah 24:32ربط آیات :
گزشتہ آیات میں نگاہ کو پست رکھنے کا حکم دیا گیا تھا اور عورتوں کو پردے کی تلقین کی گئی تھی۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے گھروں میں جانے کے آداب سکھائے تھے اور فرمایا تھا کہ کسی کے گھر میں بلا اجازت اور بلا اطلاع مت جائو اور اگر کسی غیر محرم اور اجنبی پر اچانک نظر پڑجائے تو اپنی نگاہ کو فوراً پست کرلو اور ارادتاً دیکھنے کی کوشش نہ کرو۔ یہ حکم اللہ نے مردوں اور عورتوں دونوں کو دیا اس کے ساتھ ساتھ اپنی ناموس کی حفاظت کا حکم دیا ۔ فرمایا کہ عورتیں اپنی زیب وزینت کا اظہار سوائے اپنے خاوندوں اور محرموں کے کسی غیر محرم کے سامنے نہ کریں۔ اگر اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی واقع ہوجائے تو سب کو اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنی چاہیے۔ انسان خطا کا پتلا ہے لہٰذا اسے چاہیے کہ ہمیشہ استغفار کرتا رہے۔
انسداد زنا ، بدکاری اور فحاشی کے قوانین کا یہ پہلا حصہ تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے کچھ تعزیری احکام بیان فرمائے اور کچھ اخلاقی تعلیم دی۔ مقصد یہی ہے کہ کس طرح لوگ برائی سے بچ جائیں۔ اس اسی سلسلہ میں آج کی آیات میں اس قانون کا دوسرا حصہ بیان کیا جارہا ہے آگے اس کے بھی دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں نکاح کو عام کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ساتھترغیب دی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص محتاج ہے تو اللہ تعالیٰ اسے مستغنی کردیگا۔ دوسرے حصے میں ان لوگوں کو پاکدامنی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی جو کسی صورت میں بھی نکاح کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
نکاح کی ترغیب :
ارشاد ہوتا ہے وانکحوا الایامی منکم اور تم میں سے جو بےنکاح مرد وزن ہوں ان کے نکاح کرادو۔ والصلحین من عبادکم امائکم اور اپنے باصلاحیت غلاموں اور لونڈیوں کے بھی نکاح کرادو۔ ایامی ، ایم کی جمع ہے جس کا ترجمہ ہم نے بےنکاح کیا ہے ۔ دراصل ایم اس عورت پر بولا جاتا ہے جس کا پہلے نکاح ہوچکا ہو اور بعد میں وہ رانڈیا مطلقہ ہوجائے۔ کنواری یا کنوارہ اس کا صحیح ترجمہ نہیں ہے کیونکہ یہ لفظ تو اس کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کا ابھی نکاح ہوا ہی نہ ہو۔ تاہم مجازی طور پر ایم کا اطلاق ہر مجرد مرد وزن پر بھی کیا جاتا ہے جو ابھی تک کنوارہ یا کنواری (Bachelor) ہو۔ مگر اس کا صحیح معنی رانڈیا مطلقہ ہے اور اس کی تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے الا یم احق بنفسھا والبکر تستشار یعنی نکاح کے سلسلے میں رانڈیا یا مطلقہ عورت اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا خود حق رکھتی ہے کہ وہ کس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہے اسے زبان سے بول کر بتانا ہوگا کہ اسے فلاں کے ساتھ نکاح منظور ہے یا نہیں البتہ بکر یعنی کنواری عورت کے ساتھ مشورہ کیا جائے گا۔ اگر وہ زبان سے کچھ جواب نہ دے تو اس کی خاموشی بھی اس می رضا تصور ہوگی۔ ہاں اگر وہ مجوزہ نکاح سے انکار کردے تو پھر اس پر جبر نہیں کیا جائے گا۔ بہرحال مقصد یہ ہے کہ اس حدیث میں ایم کو بکر کے مقابلے میں لاکر معنی واضح کردیا گیا ہے۔
فرمایا نہ صرف آزاد بےنکاحوں کے نکاح کرادو بلکہ تمہارے غلام اور لونڈیاں بھی اگر باصلاحیت ہیں تو ان کو بھی نکاح سے محروم نہ رکھو صلاحیت سے مراد یہ ہے کہ وہ نیک ہوں اور نکاح کے بعد مالک سے بغاوت کرنے کا خدشہ نہ ہو بلکہ وہ اس طرح خدمت کرتے رہیں تو ان کو بھی رشتہ ازواج میں منسلک کردو۔
نکاح کی اہمیت :
قرآن وسنت میں جہاں نکاح کی ترغیب دی گئی ہے وہاں اس کی اہمیت بھی بیان کی گئی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک (ترمذی ص 174) ہے کہ نکاح کرنا تمام انبیاء کی سنت ہے۔ حضور ﷺ کے صحابی حضرت عیاض ؓ اپنے خاندان کے لوگوں سے کہتے تھے کہ میرا نکاح کرادو کیونکہ میں نے اپنے آقا (علیہ السلام) سے سنا ہے کہ ، آپ فرماتے تھے کہ تم اللہ سے ایسی حالت میں ملو کہ مجرد نہ ہو۔ اللہ کو تجرد کی زندگی پسند نہیں۔ مسنداحمد کی روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں مافی الجنۃ اعزب یعنی کوئی مجرد جنت میں نہیں ہوگا بلکہ سب شادی شدہ ہوں گے۔ ترمذی شریف کی ایک روایت (ترمذی ص 174 ومسلم ص 449 ج 1) کے مطابق حضور ﷺ نے نھی عن التبتل قطع تعلقی ، قطع نکاح یا تجرد کی زندگی سے منع فرمایا بعض صحابہ ؓ نے خصی ہونے کے لئے آپ سے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ میری امت کے لوگوں کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر شہوت کا غلبہ ہو اور کوئی شخص نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو تو چاہیے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ خصاء امتی الصیام میری امت کا خصی ہونا روزے رکھنا ہے کہ روزے شہوانی طاقت میں کمی کردیتے ہیں۔ صحیحین (بخاری ص 758 ج وترمذی ص 174 (فیاض) میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی موجود ہے یا معشر الشباب من استطاع منکم ان یتزوج فلیتزوج اے نوجوانوں کے گروہ ! تم میں سے جو کوئی نکاح کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اسے ضرور نکاح کرلینا چاہیے۔ فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ، کیونکہ نکاح انسان کی آنکھوں کو پست رکھنے اور اعضائے مستورہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی کام کی طاقت نہیں رکھتا ، مکان نہیں ہے ، پس انداز کچھ نہیں یاروزگار نہیں ہے فعلیہ بالصوم اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے کیونکہ فانہ لہ وجاء یہ اس کے مادہ شہوت کو کچل کر رکھ دیں گے۔ بہرحال اللہ نے بےنکاح مردوں اور عورتوں کو نکاح کرنے کا حکم دیا ہے خواہ وہ کنوارے ہوں ، مطلقہ یا رانڈہوں۔ جو لوگ نکاح ثانی کو معیوب سمجھتے ہیں۔ وہ غلط کار ہیں نکاح ثانی کو عیب کی بات نہیں ہے بلہ پہلے نکاح کی طرح دوسرا نکاح بھی ضروری ہے۔
نکاح کی حکمت :
فرمایا ، اپنے بےنکاح آزاد مردوں اور عورتوں کے نکاح کرادو۔ حتیٰ کہ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے بھی نکاح کرادو کہ اس کا فائدہ یہ ہوگا ان یکونوں فقراء یغنھم اللہ من فضلہ ، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مستغنی کردے گا۔ جو لوگ نکاح سے پہلے محتاج ہیں ضروری نہیں کہ وہ نکاح کے بعد بھی محتاج رہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے فقر کو فراخی میں تبدیل کرنے پر قادر ہے ہوسکتا ہے کہ اس میں احساس ذمہ داری اور پھر فکر معاش پیدا ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کے دن پھیر دے اور وہ آسودہ حال ہوجائے ، لہٰذا محض محتاجی کی بناء پر نکاح میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ فقروغنی تو کسی اور قانون کے تحت چلتا ہے۔ یہ چیز نکاح میں حائل نہیں ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے گا۔ رزق میں وسعت پیدا کردے گا۔ واللہ واسع علیم کیونکہ اللہ تعالیٰ وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ ہر شخص کے حالات سے واقف ہے اور اس نے ہر ایک کے لئے تنگی اور فراخی کا ایک وقت مقررکررکھا ہے۔ لہٰذا نکاح کا پیغام ملنے پر مال و دولت کی طرف نہ دیکھو کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے بلکہ صلاحیت کو دیکھو۔ اگر صلاحیت ہے تو نکاح کردو ، اللہ تعالیٰ وسعت بھی پیدا کردے گا۔ اگر کوئی صلاحیت سے محروم ہے ، جسمانی طور پر معذور ہے تو لامحالہ اس کو نکاح نہیں کرنا چاہیے کہ اس سے فریق ثانی کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے حجۃ اللہ البالغہ (حجۃ اللہ البالغہ ص 291 (فیاض) میں یہ فلسفہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مردوزن پر شہوت کا مادہ مسلط کیا ہوا ہے۔ جس طرح انسان کے لئے کھانا پینا مطلوب ہوتا ہے ، اسی طرح اس کی جنسی خواہشات کی تکمیل بھی ضروری ہے اور اس کام کے لئے اسے آزاد نہیں چھوڑا جاسکتا کہ جہاں چاہے شہوت کو پورا کرتا پھرے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے جانوروں کے برخلاف انسان کو نکاح کا پابند بنایا ہے۔ نکاح کی وجہ سے انسان پر ذمہ داری عاید ہوتی ہے اور وہ بہت سی قباحتوں سے بچ جاتا ہے۔ نکاح کرنے سے انسان قوانین کا پابند ہوجاتا ہے اور یہی چیز نسل انسانی کی بقا کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر نکاح نہیں کیا تو حرام نسل پیدا ہوگی ، اخلاق تباہ اور نسل گندی ہوجائیگی۔ اسی لئے اللہ نے نکاح کو عام کرنے کا حکم دیا ہے۔ نکاح کے علاوہ قضائے شہوت کی کوئی دوسری صورت نہیں ہے۔ لواطت ، مشت زنی یا جانوروں کو تختہ مشق بنانا کسی طور پر جائز نہیں۔
نکاح کو عام کرو :
اگر زنا کا انسداد مطلوب ہے تو پھر نکاح کو عام کرو۔ نکاح کے راستے میں مشکلات پیدا کرنا اور اس پر ناروا پابندیاں عاید کرنا کسی طرح بھی درست نہیں۔ ہمارے ملک میں باطل رسومات نے نکاح کو ایک مشکل مسئلہ بنادیا ہے۔ زیورات کی فرمائش ، حق مہر کی زیادتی اور جہیز کی لعنت کی وجہ سے نکاح میں بلاوجہ دیر ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے معاشرتی برائیاں جنم لیتی ہیں۔ خاندانی پابندیاں اور رسم و رواج بھی نکاح کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ جب تک نکاح کی اصل روح کے مطابق اسے عام نہیں کیا جائے گا۔ معاشرے میں خرابیاں پیدا ہوتی رہیں گی حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ اے علی ؓ تین چیزوں میں کبھی دیر نہ کرو۔ پہلی بات یہ ہے کہ جب فرض نماز کا وقت ہوجائے تو دیر نہ کرو ، فوراً ادا کرلو۔ پھر فرمایا ، جب جنازہ تیار ہوجائے تو اس کے کفن دفن میں دیر نہ کرو والایم ، اوجدت لھا کفوا جب ہمسر مل جائے تو پھر نکاح کرنے میں بھی دیر نہ کرو۔
حضور ﷺ کا یہ فرمان (احکام القران للجصاص ص 320 ج 3 وفتح القدیر ص 31 ج 4 (فیاض) بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تین قسم کے آدمیوں کی امداد فرماتا ہے۔ پہلا شخص وہ ہے یرید العفاف جو اس غرض سے نکاح کرتا ہے کہ اسے پاکدامنی نصیب ہو اور وہ برائی سے بچ جائے۔ دوسرا شخص مکاتب غلام ہے جو آزادی حاصل کرنے کی فکر میں لگاتار محنت کرتا ہے۔ اور تیسرا شخص وہ ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی مدد فرماتا ہے۔ اسی لئے فقائہ کرام فرماتے ہیں کہ عام حالات میں نکاح کرنا سنت ہے اور اگر شہوت کا غلبہ ہو تو نکاح واجب ہوجاتا ہے۔ یہ ایک عام فہم بات ہے کہ جو شخص پیٹ بھر کر کھانا کھائیگا اسے دوسرے کے کھانے کی طرف نگاہ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اور اگر وہ بھوکا ہے اور اسے روٹی میسر نہیں آرہی تو وہ دوسرے سے چھیننے کی کوشش بھی کرے گا۔ نکاح کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ جو شخص حلال طریقے سینکاح کرلے گا۔ وہ غیر محرم کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے نہیں دیکھے گا۔ اس کے برخلاف نکاح سے محروم شخص کے لئے ہر وقت برائی میں مبتلا ہونے کا ڈر ہوگا۔
حضور ﷺ کے ایک صحابی حضرت عکاف ؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا ، کیا تمہاری بیوی ہے ؟ اس نے عرض کیا ، نہیں پھر پوچھا ، کیا مال ہے ؟ عرض کیا ، ہر قسم کا مال منجملہ بھیڑبکریاں ، اونٹ ، مال تجارت اور لونڈی غلام وغیرہ بھی ہیں۔ پھر پوچھا کیا تمہارے پاس کوئی شرعی لونڈی ہے اس نے نفی میں جواب دیا تو حضور ﷺ نے فرمایا انت من اخوان الشیاطین تم تو شیطان کے بھائیوں میں سے ہو۔ جب تم تندرست ہو ، تمام وسائل میسر ہیں تو پھر نکاح کیوں نہیں کرتے ؟ نکاح نہیں کرو گے ، تو برائی میں مبتلا ہوجائو گے۔ غرضیکہ اللہ اور اس کے رسول نے نکاح کو عام کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاکہ لوگ اپنی فطرتی خواہش کو فرو کرکے بدکاری اور بےحیائی بچے۔
پاکدامنی پر :
آگے اس مضمون کو دوسرا حصہ یہ بیان فرمایا ہے والیستعفف الذین لا ینبدون نکاحا اور چاہیے کہ پاکدامن رہیں وہ لوگ جو نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اگر رہنے کے لئے مکان نہیں۔ مہر کے لئے رقم نہیں پاتا اور بیوی کے لئے نان ونفقہ کے لئے بھی وسائل موجود نہیں تو فرمایا نکاح کے بغیر پاکدامن بن کر رہو اور شدت شہوت سے مغلوب ہو کر کوئی غلط قدم نہ اٹھا بیٹھو۔ اپنے آپ پر ضبط کرو اور زنا جیسی قبیح خصلت میں ملوث نہ ہو ۔ ایسے حالات میں شہوت پر قابو پانے کے لئے نفلی روزے رکھنے کا حکم ہے ۔ عبادت میں مصروف رہو تاکہ غلط کام کی طرف تمہاری توجہ ہی نہ ہو۔ اس کے علاوہ اچھی سوسائٹی میں نشت وبرخاست رکھو تاکہ تمہیں نیکی کی بات حاصل ہو اور برائی سے بچ سکو۔ بہرحال بےلگام ہونے کی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں ہے۔ اگر وسعت ہے تو نکاح کرو ورنہ اپنے آپ پر کنٹرول کرو۔ اور پاکدامنی کی زندگی بسرکرو۔
فرمایا چاہیے کہ عفت اختیار کریں وہ لوگ جو نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے حتی یغنیھم الل من فضلہ حتی کہ کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے مستغنی کردے۔ جب تک حالات درست نہیں صبر کرو اور جب استطاعت پیدا ہوجائے تو پھر نکاح کرلو۔