24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 24:55–57

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں ، اور جنہوں نے اچھے اعمال کیے ہیں کہ وہ ضرور ان کو خلافت بخشے گا زمین میں جیسا کہ اس نے خلافت بخشی ان لوگوں کو جوان سے پہلے گزرے ہیں۔ اور وہ ضرور جما دے گا ان کے لئے ان کے دین کو جو اللہ نے ان کے لئے پسند کیا ہے۔ اور ضرور تبدیل کردے گا ، وہ (اللہ ) ان کے لئے امن کی حالت کو خوف کے بعد ۔ یہ صرف میری ہی عبادت کریں گے اور نہ شریک ٹھہرائیں گے میرے ساتھ کسی کو۔ اور جس نے ناشکرگزاری کی اس کے بعد ، پس یہی لوگ ہیں نافرمان

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور قائم کرو نماز کو اور دیتے رہو زکوٰۃ۔ اور اطاعت کرو رسول کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اور نہ گمان کریں آپ ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے کفر کیا کہ وہ عاجز کرنے والے ہیں زمین میں۔ اور ان کا ٹھکانا (دوزخ کی) آگ ہے اور البتہ بہت بری جگہ ہے لوٹ کر جانے کی

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافق قسم کے لوگوں کی مذمت بیان کی کہ جب ان کے تنازعات کے تصفیہ کے لئے ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اعراض کرتے ہیں۔ پھر اگر انہیں اپنی مطلب براری کی توقع ہو تو آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرمایا یہ بڑے ظالم قسم کے لوگ ہیں۔ ان کے دلوں میں نفاق بھرا ہوا ہے۔ یا یہ شک میں سرگرداں ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے ان پر زیادتی ہوگی۔ دوسری طرف اللہ نے اہل ایمان کے متعلق فرمایا کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو فوراً سمعنا واطعنا کہہ دیتے ہیں ، یعنی ہم نے سن لیا۔ اور اطاعت کے لئے حاضر ہیں۔ فرمایا یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے ایک عام اصول بیان فرمایا کہ جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا اور اس کے دل میں خشیت الٰہی اور تقویٰ ہوگا ، ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہوں گے۔ اس کے بعد پھر منافقوں کا کردار بیان کیا کہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسول کے حکم پر ضرور نکلیں گے مگر اللہ نے فرمایا کہ قسمیں اٹھانے کی ضرورت نہیں بلکہ دستور کے مطابق تمہاری اطاعت مطلوب ہے۔ پھر اگر تم اللہ اور رسول کی اطاعت سے روگردانی کرو گے تو یاد رکھو اس میں تمہارا ہی نقصان ہے کیونکہ رسول کے ذمے تو فقط پہنچا دینا ہے۔ اس نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے اور تمہیں اللہ کے احکا پہنچا دیے ہیں۔ اب ان احکام کو تسلیم کرنا اور ان پر عمل کرنا تمہارا فریضہ ہے اگر اعراض کرو گے تو خود عنداللہ ذمہ دار ٹھہرو گے۔ خلافت ارضی کا وعدہ : اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے ایک بہت بڑی نعمت خلافت ارضی کا وعدہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وعداللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصلحت اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور جنہوں نے اچھے اعمال انجام دیے لیستخلفنھم فی الارض کہ وہ انہیں ضرور زمین میں خلافت عطا کرے گا کما استخلف الذین من قبلھم جس طرح اس نے خلافت بخشی ان سے پہلے لوگوں کو تاریخی لحاظ سے یہ سورة مبارکہ 5 ھ یا 6 ھ میں غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر نازل ہوئی ، لہٰذا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے خلافت ارضی کا وعدہ ان لوگوں سے کیا جو اس وقت تک ایمان لاچکے تھے۔ امام ابوبکر حبصاص (رح) اپنی تفسیر ” احکام القرآن “ میں رقمطراز ہیں کہ موعودہ خلافت کے مصداق چاروں خلفائے راشدین ؓ ہیں جو کہ اس آیت کے نزول کے وقت ایمان کی دولت سے مشرف ہوچکے تھے۔ جہاں تک پہلے لوگوں کو خلافت عطا کرنے کا سوال ہے تو اس سے قوم عمالقہ مراد ہے جس کی جگہ پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خلافت ارضی کا منصب عطا کیا ہے۔ اور حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو خلافت ارضی پر فائز کیا۔ تاریخ خلافت : اس وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے چاروں خلفائے راشدین ؓ کو خلافت پر متمکن کیا۔ پہلے دو خلفاء کے زمانے میں دین کا بڑا کام ہوا ، اسلام کی بنیادیں مستحکم ہوئیں اور اسلامی ریاست کی سرحد میں عرب سے نکل کر عجم تک پھیل گئیں۔ خلیفہ ثالث حضرت عثمان ؓ کی خلافت کے پہلے چھ سال بھی امن وامان میں گزرے مگر اس کے بعد یہودیوں اور منافقوں کی سازش کی وجہ سے قصر خلافت میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئیں۔ تاہم اس دور میں بھی بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیے گئے۔ پھر چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی ؓ کے زمانے میں مسلمانوں کے آپس کے اختلافات بہت بڑھ گئے مگر انہوں نے بھی پانچ سالہ دور میں سابقہ تین ادوار کے نمونے کو برقرار رکھا۔ حضور ﷺ (ترمذی ص 323 وقرطبی ص 298 ج 12 (فیاض) نے فرمایا تھا ” الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ “ یعنی میرے بعد خلافت علیٰ منہاج النبوت تیس سال تک قائم رہیگی۔ چناچہ چاروں خلفائے راشدین ؓ اور حضر ت حسن ؓ کے چھ ماہ کو شمار کیا جائے تو پورے تیس سال بنتے ہیں۔ فرمایا اس عرصہ کے بعد خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوجائے گی ، تاہم ابتدائی دور ملوکیت عادلہ کا ہوگا۔ چناچہ حضور ﷺ کی پیشین گوئی پوری ہوئی۔ حضرت حسن ؓ کے بعد حضرت معاویہ ؓ کا دور خلافت میں شمار نہیں ہوتا ، البتہ یہ ملوکیت عادلہ میں شمار ہوتا ہے۔ آپ نے بیس سال تک گورنری اور بیس سال تک خلافت کا فریضہ انجام دیا۔ آپ کے زمانے میں اختلافات ختم ہوچکے تھے اور پوری امت مسلمہ متفق تھی۔ ان حالات سے خلافت راشدہ برحق ثابت ہوتی ہے۔ اور جو رافضی یا ناصبی اس خلافت میں شک کرتے ہیں وہ گمراہ اور اسلام کے دشمن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا تھا ، وہ خلفائے راشدین ؓ پر پورا ہوگیا اور چاروں خلفاء نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق امور خلافت کو ٹھیک ٹھیک انجام دیا۔ ملوکیت کا زمانہ : اس کے بعدچودہ سو سالہ تاریخ میں مسلمانوں کے حالات خراب ہی رہے ہیں۔ ملوکیت کے دوران جبرواستبداد کا دور دورہ رہا ہے۔ درمیان میں کوئی عمر بن عبدالعزیز (رح) جیسا اچھا حکمران آگیا تو کام درست ہوگیا۔ آپ کے زمانہ کو تو محدثین اور فقہاء خلافت راشدہ میں شمار کرتے ہیں کیونکہ آپ نے انہی کے نقش قدم پر خلافت کی ذمہ داری پوری کی۔ لیکن آپ کے بعد اموی خاندان پھر ذاتی منفعت میں پڑگیا ۔ اس خاندان کے بعد عباسیوں نے ساڑھے چھ سو سال تک حکومت کی لیکن وہ بھی مکمل ملوکیت تھی۔ وہی عیش و آرام اور وہی جاہ پسندی۔ چونکہ اس سارے دور میں سب سے اعلیٰ قانون قرآن کو ہی تسلیم کیا جاتا تھا۔ لہٰذا اجتماعی طور پر قرآن کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ مگر ذاتی طور پر ایک دوسرے کو مغلوب کرنے ہی کی کوشش کرتے رہے۔ اس زمانے میں بھی بعض اچھے لوگ پیدا ہوئے ہیں بعض ملوک بھی ذاتی طور پر صاحب علم اور اچھے آدمی تھے ، انہوں نے اچھے کام کرنے کی کوشش بھی کی ہے مگر نظام حکومت کو تبدیل نہیں کرسکے۔ وہاں خلافت کی بجائے ملوکیت ہی چلتی رہی۔ کردوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی (رح) نے ذاتی طور پر بڑے کار ہائے نمایاں انجام دے خاص طور پر صلیبی جنگوں میں انہوں نے عیسائیوں کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ ادھر برصغیر میں سلطان ناصر الدین التمش (رح) کا دور بڑا اچھا دور تھا مگر وہ بھی ملوک ہی تھے۔ اور نگ زیب عالمگیر (رح) نے بڑے اچھے کام کیے مگر نظام خلافت کو جاری نہ کرسکے۔ ترکوں میں سلطان محمد خامس (رح) اور سلطان سلیم (رح) کی حالت اچھی رہی مگر بعد والے انحطاط میں چلے گئے اور بڑی خرابیاں پیدا ہوئیں۔ ملوکیت ایک بڑا عذاب ہے جو فحاشی ، عیاشی اور لہو ولعب کی بنا پر اصل مقصد سے بہت دور لے جاتا ہے۔ ادھر خلافت کے لفظ سے ہی واضح ہے کہ اس میں من مانی نہیں ہوتی ، بلکہ خلیفہ رسول اللہ کا نائب ہوتا ہے اور وہ وہی کام کرتا ہے جو اللہ کے نبی نے کئے۔ وہ دین کو سربلند کرتے ہیں جب کہ ملوک مذہب کو اپنے تابع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ علمائے سوء سے غلط فتوے لے کر دین میں خرابیاں پیدا کرتے ہیں ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خلافت عطا کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کردیا اور اس کی ابتداء خلفائے راشدین سے ہوئی۔ دین کی پختگی : اس آیت کریمہ میں اللہ نے اہل ایمان کے ساتھ دوسرا وعدہ یہ فرمایا ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم اور وہ ضرور جما دیگا پختہ کردے گا ان کے لئے ان کے دین کو جو اللہ نے ان کے لئے پسند کیا ہے۔ یہ وعدہ بھی اللہ نے خلفائے راشدین ؓ کے زمانہ میں پورا کردیا۔ 38 ھ میں حضرت علی ؓ اور امیر معاویہ ؓ کے درمیان واقعہ صفین پیش آیا۔ اس وقت تک نصف دنیا پر اسلام کا غلبہ ہوچکا تھا اور باقی نصف دنیا میں اتنی جرات نہیں تھی جو وہ مسلمانوں کا مقابلہ کرسکتے۔ اس دور تک ایرانی ختم ہوچکے تھے۔ البتہ رومیوں میں قدرے دم خم باقی تھے مگر مسلمانوں جیسی قوت کسی کے پاس نہیں تھی۔ واقعہ صفین سے اسلام کی اجتماعی تحریک کو سخت نقصان پہنچا اور عالمی تحریک رک گئی۔ دو سال بعد حضرت علی ؓ کی شہادت کے ساتھ ہی خلافت راشدہ کا دور تو ختم ہوگیا تاہم اسلام کے پچاس سالہ دور کی کامیابیوں سے مسلمان مزید ساڑھے چھ سو سال تک فائدہ اٹھاتے رہے۔ امویوں کے زمانہ میں بڑی جنگیں لڑی گئیں۔ پھر عباسیوں کے دور میں علم اور سائنس کی بڑی ترقی ہوئی۔ اس دوران میں بہت کچھ ہوا مگر اجتماعی نظام درست نہ ہوا اور بدستور ملوکیت کے سائے میں چلتا رہا۔ اب حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق اسلام کو قرب قیامت میں ہی عروج نصیب ہوگا۔ بہرحال اللہ نے دین کو مستحکم کردیا جس کے اثرات آج تک مسلمانوں میں چلے آرہے ہیں۔ دنیا میں اس وقت ایک ارب مسلمان موجود ہیں۔ پچاس کے قریب مسلمانوں کی ریاستیں بھی ہیں مگر خلافت کے نظام سے ہٹ جانے کی وجہ سے دنیا میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ، سب غیروں کے دست نگر ہیں۔ تاہم دین کی جھلک ضرور نظر آتی ہے۔ خوف کے بعد امن : اللہ نے تیسرا وعدہ یہ فرمایا ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا ، کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے خوف کو ضرور امن میں بدل دیگا۔ ابتدائی دور میں مسلمانوں کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سورة کے نزول کے وقت بھی مسلمان سخت خوف اور خطرہ کی حالت میں تھے۔ ساری دنیا مٹھی بھر مسلمانوں کی مخالف تھی۔ سورة نساء اور دوسری سورتوں میں بھی موجود ہے کہ مسلمان دشمن کے خوف سے ہر وقت ہتھیار بندرہتے تھے۔ حتیٰ کہ نماز کے دوران بھی ہتھیار اتارنے کی اجازت نہ تھی۔ خود حضور ﷺ نے دس مرتبہ صلوٰۃ الخوف ادا فرمائی ہے۔ ایک طرف مشرک جانی دشمن تھے اور دوسری طرف یہودیوں اور منافقوں نے سازشوں کا جال پھیلارکھا تھا۔ قبیلہ مضر کے مشرک خاص طور پر جانی دشمن تھے۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ وہ ان کی خوف کی حالت کو امن کی حالت میں تبدیل کردے گا۔ حضور ﷺ (تفسیر کبیر ص 21 ج 6 (فیاض) نے بھی پیشگوئی فرمائی تھی کہ مسلمانوں پر ایک ایسا پرامن دور بھی آئے گا کہ ایک عورت صنعاء سے حضرت موت تک اکیلی سفر کرے گی مگر سوائے خدا کے خوف کے اسے کوئی خوف نہیں ہوگا۔ حضرت عدی ؓ بن حاتم طائی کہتے ہیں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے حضور کی پیشین گوئی کو پورا ہوتے دیکھا۔ زیورات سے آراستہ ایک تن تنہا عورت اونٹ پر سفرکررہی تھی ، مگر کوئی چور ، ڈاکو یا دشمن تعرض کرنے والا نہیں تھا۔ ایفائے وعدہ کی شرط : بہرحال اللہ نے اہل ایمان سے تین وعدے فرمائے (1) خلافت ارضی (2) دین کا استحکام اور (3) امن کی حالت ۔ مگر ساتھ شرط بھی عائد کردی کہ یعبدوننی لا یشرکون بی شیئا لوگ صرف میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنائیں گے۔ جب تک مسلمان اس شرط پر قائم رہے اللہ نے تینوں وعدے پورے کئے۔ پھر جوں جوں اس شرط کی خلاف ورزی ہوتی گئی۔ اللہ کے یہ انعامات بھی اٹھتے گئے۔ پھر نہ خلافت ارضی رہی نہ دین کا استحکام باقی رہا ، اور نہ ہی امن قائم رہا۔ آج پوری دنیا اور خاص طور پر مسلمانوں کے حالات ہمارے سامنے ہیں جب سے اس شرط کو توڑا ہے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ کفران نعمت : فرمایا ومن کفربعدذلک جس نے اس کے بعد کفران نعمت یعنی ناشکر گزاری کی فاولئک ھم الفسقون پس یہی لوگ نافرمان ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کے ان انعامات کے اولین ناقدر دان حضرت عثمان ؓ کے خلاف سازش کرنے والے تھے۔ یہ کفران نعمت کا نتیجہ تھا کہ آپ کی شہادت کے بعد مسلمانوں کا آپس میں ایسا قتال شروع ہوا جو قیامت تک جاری رہے گا۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ سازشی ٹولہ دو تین ہزار افراد پر مشتمل تھا جن میں کچھ مصری ، بصری ، کوفی اور عراق تھے۔ دراصل یہ یہودیوں اور منافقوں کی سازش تھی جو خود تو پیچھے رہتے تھے اور دوسروں کو آگے کر رکھا تھا۔ سازشیوں نے حضرت عثمان ؓ کی برطرفی کا مطالبہ کیا مگر آپ نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا اور فرمایا کہ حضور ﷺ نے میرے متعلق فرمایا تھا کہ اگر تم نے خدا کی پہنائی ہوئی قمیص کو اتار دیا تو جہنم میں جائو گے ، لہٰذا میں خلافت کی یہ قمیض کیسے اتارسکتا ہوں۔ آپ کا کمال یہ تھا کہ آپ نے مخالفین کے خلاف قتال بھی نہیں کیا حالانکہ آپ ایسا کرسکتے تھے۔ کہتے تھے میں اپنی جان دے دوں گا۔ مگر مسلمانوں کا خون نہیں بہائوں گا۔ آج تو حضرت عثمان ؓ کو بر بھلا کہنے والے بھی موجود ہیں مگر یہ ساری حقیقت قیامت کو ظاہر ہوگی کہ حق پر کون تھا۔ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ مخالفین سے کہتے تھے کہ خدا کے بندو ! جب سے رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے ہیں اللہ کے فرشتوں نے اس سرزمین کو گھیر رکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی بیشمار رحمتیں اس سر زمین پر نازل ہورہی ہیں۔ اگر تم نے خلیفہ راشد کو شہید کردیا تو اللہ کے فرشتے ناراض ہو کر چلے جائیں گے اور پھر کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ جو تلوار حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے لئے میان سے نکلی ، وہ پھر واپس نہیں گئی ، اور پوری دنیا میں آج تک قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ اتفاق و اتحاد کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ہر شخص دوسرے کو ختم کرکے اپنا راستہ صاف کرنا چاہتا ہے یہ کمال صرف حضرت عثمان ؓ کا تھا کہ انہوں نے اپنی ذات کے لئے مسلمانوں کا ایک قطرہ خون نہیں بہنے دیا۔ بہرحال اللہ کی نعمتوں کے اولین ناقدردان حضرت عثمان ؓ کے مخالفین تھے اور یہ سارے کے سارے کلمہ گو تھے ۔ آپ کی شہادت کے بعد کربلا کے میدان میں اہل بیت کے قتل کا بازار گرم کیا گیا۔ یہ ایسا سلسلہ ہے جو حضرت مسیح (علیہ السلام) اور امام مہدی (رح) کے ظہور تک جاری رہیگا۔ فلاح کے تین اصول : آگے اللہ نے خلاصے کے طور پر فلاں و کامیابی کے تین اصول بیان فرمائے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے واقیموا الصلوٰۃ واتوا الزکوٰۃ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو………واطیعوالرسول… اور اس کے رسول کی فرمانبرداری پر کار بند رہو۔ ان تین چیزوں میں نماز بدنی عبادت ہے جب کہ زکوٰۃ مالی عبادت ہے۔ اور دین کا سارا دارومدار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری پر ہے۔ ان تین باتوں پر کار بند ہونا فلاح کی ضمانت ہے۔ اگر ان کے خلاف کرو گے تو نہ فلاح حاصل ہوگی اور نہ نجات ملیگی۔ فرمایا ان اصولوں کو اپنالو لعلکم ترحمون تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش ان اصولوں کی پابندی کے ساتھ مشروط ہے۔ اہل ایمان کے لئے تسلی : اس سورة کے نزول کے وقت دنیا میں کافروں کو غلبہ حاصل تھا۔ اور مسلمان ان کے ظلم وستم برداشت کر رہے تھے۔ اللہ نے ایسے حالات میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا لا تحسبن الذین کفروا معجزین فی الارض آپ ان کافروں کے متعلق یہ گمان نہ کریں کہ وہ زمین میں عاجز کرنے والے ہیں یعنی وہ خدائی پروگرام کو ناکام بنادیں گے۔ فرمایا ایسا نہیں ہوگا۔ ان کا وقتی غلبہ محض استدراج ہے ، انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت مل رہی ہے۔ جب یہ مہلت ختم ہوجائے گی تو یہ لوگ نہ صرف دنیا میں مغلوب ہوجائیں گے بلکہ جب قیامت کو خدا تعالیٰ کے ہاں پہنچیں گے تو پھر وماوھم النار ان کا بالآخر ٹھکانا جہنم ہی ہے ولبئس المصیر اور یہ لوٹ کر جانے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافر امریکی ہو ، برطانوی ، روسی ہو یا جرمن ان کی اچھی حالت دیکھ کر رشک نہیں کرنا چاہیے۔ چند روز کی بات ہے ، آخر کار یہ جہنم کے کندہ ناتراش ہے جو حضرت مسیح (علیہ السلام) اور امام مہدی (رح) کے ظہور تک جاری رہیگا۔ فلاح کے تین اصول : آگے اللہ نے خلاصے کے طور پر فلاح و کامیابی کے تین اصول بیان فرمائے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے واقیموا الصلوٰۃ واتوالزکوٰۃ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو……واطیعوالرسول……اور اس کے رسول کی فرمانبرداری پر کار بند رہو۔ ان تین چیزوں میں نماز بدنی عبادت ہے جب کہ زکوٰۃ مالی عبادت ہے۔ اور دین کا سارا دارومدار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری پر ہے۔ ان تین باتوں پر کار بند ہونا فلاح کی ضمانت ہے۔ اگر ان کے خلاف کرو گے تو نہ فلاح حاصل ہوگی اور نہ نجات ملیگی۔ فرمایا ان اصولوں کو اپنا لو لعلکم ترحمون تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش ان اصولوں کی پابندی کے ساتھ مشروط ہے۔ اہل ایمان کے لئے تسلی : اس سورة کے نزول کے وقت دنیا میں کافروں کو غلبہ حاصل تھا اور مسلمان ان کے ظلم وستم برداشت کر رہے تھے۔ اللہ نے ایسے حالات میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا لا تحسبن الذین کفروا معجزین فی الارض آپ ان کافروں کے متعلق یہ گمان نہ کریں کہ وہ زمین میں عاجز کرنے والے ہیں یعنی وہ خدائی پروگرام کو ناکام بنادیں گے۔ فرمایا ایسا نہیں ہوگا۔ ان کا وقتی غلبہ محض استدراج ہے ، انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت مل رہی ہے۔ جب یہ مہلت ختم ہوجائے گی تو یہ لوگ نہ صرف دنیا میں مغلوب ہوجائیں گے بلکہ جب قیامت کو خدا تعالیٰ کے ہاں پہنچیں گے تو پھر وماوھم النار ان کا بالآخر ٹھکانا جہنم ہی ہے ولبئس المصیر اور یہ لوٹ کرجانے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافر امریکی ہو ، برطانوی ، روسی ہو یا جرمن ان کی اچھی حالت دیکھ کر رشک نہیں کرنا چاہیے۔ چند روز کی بات ہے ، آخر کار یہ جہنم کے کندہ ناتراش ہی بنیں گے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ تین چیزوں کا وعدہ کیا۔ اور پھر اس کے ساتھ وعید بھی سنائی کہ اگر کفران نعمت کرو گے تو فاسق بن جائو گے۔ اگر نماز ادا کرتے رہوگے ، زکوٰۃ دیتے رہو گے ، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ راضی ہوگا ، تم پر اپنی رحمتیں نازل کرے گا اور اس کے وعدے بھی پورے ہوتے رہیں گے ، ورنہ وہ اپنے انعامات کا دروازہ بند کرنے پر بھی قادر ہے۔
Ayahs 24:58–60

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو ! چاہیے کہ اجازت لیں تم سے وہ لوگ جو تمہارے غلام ہیں ، اور وہ جو قریب البلوغ ہیں تم میں سے ، تین مرتبہ (یعنی) نماز فجر سے پہلے ، اور جب کہ تم اپنے کپڑے اتارتے ہو بوقت دوپہر ، اور بعد از نماز عشائ۔ یہ تین اوقات تمہارے بدن کھلنے کے ہیں۔ اور نہیں حرج تم پر اور نہ ان پر ان اوقات کے بعد۔ چکر لگانے والے ہیں تم پر بعض تم میں سے بعض پر۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کھول کر بیان کرتا ہے تمہارے لئے آیات اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور حکمت والا ہے

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب پہنچ جائیں تم میں سے بچے بلوغت کی حد تک ، پس چاہیے کہ وہ اجازت طلب کریں جیسا کہ اجازت طلب کی ہے ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے تمہارے لئے اپنی آیتیں ۔ اور اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور جو عورتیں بیٹھنے والی ہیں کہ وہ نہیں توقع رکھتیں نکاح کی۔ پس نہیں حرج ان کے اوپر کہ وہ اتاریں اپنے کپڑے اس حال میں کہ نہ ظاہر کرنے والی ہوں زینت کو۔ اور اگر وہ بچ کر رہیں تو بہتر ہے ان کے لئے ۔ اور اللہ تعالیٰ سمیع اور علیم ہے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں مسئلہ خلافت اور رسول کی اطاعت کا ذکر تھا اس سے پہلے توحید کے عقلی دلائل بیان کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے اللہ نے اپنے نور کی مثال بیان فرمائی۔ ایمان والوں کے انعامات اور کفر شرک کرنے والوں کے انجام کا ذکر تھا۔ ابتدائے سورة میں حدود کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نظام عصمت وعفت کی حفاظت کے لئے تعزیری قوانین بیان فرمائے تاکہ لوگ برائی اور بےحیائی سے بچ جائیں۔ اللہ نے اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا لا تتبعوا خطوت الشیطن ، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلنا۔ اپنے خواہش نفسانی پر چلنا بھی شیطان کے نقش قدم پر چلنے کے مترادف ہے اور شیطان ہمیشہ برے راستے پر ڈالتا ہے ، لہٰذا اللہ نے اس سے بچنے کی تلقین کی۔ پھر استیذان کا مسئلہ بیان ہو۔ کہ اے ایمان والو ! دوسروں کے گھروں میں جانا ہو تو بغیر اطلاع اور اجازت مت داخل ہو۔ اللہ نے واقعہ افک میں ملوث منافقین کی سخت مذمت بیان فرمائی اور اہل ایمان کو آئندہ کے لئے محتاط رہنے کا درس دیا۔ تین ممنوعہ اوقات : آج کی آیات بھی مسئلہ استیذان اور نظام عصمت وعفت کے ساتھ مربوط ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنو اے ایمان والو ! لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم چاہیے کہ تمہارے غلام تم سے اجازت لے کر تمہارے پاس آئیں۔ لونڈی غلاموں کا گھر میں عام آنا جانا ہوتا ہے کیونکہ وہ خدمت پر مامور ہوتے ہیں مگر ان کو بھی خاص اوقات میں پابند کردیا گیا کہ وہ بلا اجازت اپنے مالک کی خلوت میں داخل نہ ہو۔ غلاموں کے علاوہ فرمایا والذین لم یبلغوا الحلم منکم وہ بچے بھی اجازت لے کر آئیں جو ابھی سن بلوغت کو نہیں پہنچے امام قرطبی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض محدثین اور بزرگان دین نے فرمایا ہے کہ چار سال کے بچے کو بھی سکھا دو کہ اگر اس کے والدین بھی علیحدہ کمرے میں ہوں تو بغیر اجازت کے وہاں نہ جائے۔ ثلث مرات تین مرتبہ وہ کون سے اوقات ہیں جن میں بلا اجازت جانے پر اللہ نے پابندی لگا دی ہے۔ فرمایا من قبل صلوٰۃ الفجر ، رات کے پچھلے پہر یعنی قبل از نماز فجر بلا اطلاع اور بلا اجازت مت داخل ہو۔ یہ حکم لونڈی غلام کے لئے بھی ہے اور ان بچوں کے لئے بھی کو قریب البلوغ ہوں۔ فرمایا دوسرا وقت وہ ہے وحین تضعون ثیابکم من الطھیرۃ ، جب تم دوپہر کے واقت استراحت کے لئے اپنے کپڑے اتار دیتے ہو۔ خصوصاً گرمی کے زمانے میں عام طور پر لوگ دوپہر کے وقت صرف دھوتی وغیرہ پہن کر آرام کرتے ہیں اور بعض اوقات برہنہ بھی ہوجاتے ہیں لہٰذا اس وقت میں بھی سیدھے اندر چلے آنے سے منع فرمادیا۔ اور تیسرا ممنوعہ وقت ہے ومن بعد صلوٰۃ العشاء نماز عشاء کے بعد بھی کسی کے ہاں بلا اطلاع نہ جائو کہ اس وقت بھی پردہ دری کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ تین اوقات ایسے ہیں کہ جن میں انسان کا ستر کھل جاتا ہے فرمایا ثلث عورت لکم یہ تین اوقات تمہارے بدن کھلنے کے ہیں۔ بعض اوقات میاں بیوی بےتکلف بھی ہوتے ہیں یا کوئی شخص سوتے میں برہنہ ہوجاتا ہے ، لہٰذا ان اوقات میں بلا تکلف آنے جانے سے منع فرمادیا۔ البتہ فرمایا لیس علیکم ولا علیھم جناح بعن ھن ، ان اوقات کے علاوہ نہ تم پر کچھ گناہ ہے اور نہ ان آنے والوں پر جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا یعنی لونڈی غلام اور چھوٹے بچے۔ فرمایا اس اجازت کی وجہ یہ ہے طوافون علیکم بعضکم علی بعض ، کہ تم میں سے بعض تم پر چکر لگانے والے ہیں۔ ان کو کام کاج کے لئے ہر وقت آنا جانا ہوتا ہے لہٰذا ان تین اوقات کے علاوہ انہیں اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ شان نزول : اس آیت کا پس منظر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک موقع پر حضور ﷺ نے ایک جوان لڑکے کو بلا کر کہا جائو حضرت عمر ؓ کو بلا لائو۔ دوپہر کا وقت تھا۔ حضرت عمر ؓ نے تہبندپن رکھا تھا۔ آپ آرام کر رہے تھے اور جسم پر واحد چادر کا اکثر حصہ جسم سے اترا ہوا تھا۔ وہ لڑکا اسی حالت میں بلا اطلاع اندر چلا گیا جس کی وجہ سے حضرت عمر ؓ کو سخت ندامت ہوئی اور آپ کے دل میں خیال آیا کہ کتنا اچھا ہو کہ اللہ تعالیٰ ایسے حالات میں آنے جانے پر پابندی عائد کردیے چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر حضرت عمر ؓ کی دعا قبول فرمالی۔ پردے کے مسائل : بہرحال مسئلہ یہی ہے کہ برہنہ حالت میں کسی محرم کو دیکھنا بھی روا نہیں حالانکہ محرم سے تو پردہ نہیں ہوتا۔ محرم کو صرف چہرہ ، سر ، گردن ، بازو ، پنڈلی وغیرہ دیکھنے کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ جسم کے دیگر حصوں کو وہ بھی نہیں دیکھ سکتا۔ ماں ، بیٹی یا بہن ہو ، سب کے لئے یہی مسئلہ ہے جسم کے پردے والے حصے کہ نہیں دیکھ سکتا۔ ادھر مرد کے متعلق بھی یہی حکم ہے کہ ناف سے لے کر گھٹنے تک کا حصہ پردے والا حصہ ہے ، اس کو کوئی غیر محرم نہ دیکھے۔ (ابودائود ص 201 ج 2 و تفسیر کبیر ص 202 ج 23) فرمایا لاتنظر الی فخذحی والا میت کسی زندہ یا مردہ کی ران کی طرف مت دیکھو۔ کیونکہ یہ حصہ اس کے ستر میں داخل ہے۔ فرمایا کذلک یبین اللہ لکم الایت ، اسی طرح اللہ تعالیٰ کھول کر بیان کرتا ہے تمہارے لئے اپنی آیتیں تاکہ تمہیں مسائل کا ٹھیک ٹھیک علم ہوجائے واللہ علیم حکیم ، اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور وہ حکمت والا ہے اس نے اپنے علم اور حکمت کی بنیاد پر یہ قوانین نازل فرمائے ہیں۔ ان پر عمل کرو گے تو تمہیں ہی فائدہ ہوگا ، تمہاری سوسائٹی ، برہنگی اور عریانی اور پھر ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قباحتوں سے پاک رہیگی۔ بلوغت کے بعد : فرمایا واذا بلغ الاطفال منکم الحلم ، جب تمہارے بچے بلوغت کی عمر تک پہنچ جائیں فلیستاذنوا کما استاذن الذین من قبلھم ، تو چاہیے کہ وہ بھی اجازت طلب کریں جیسا کہ تم سے پہلے لوگ اجازت لے کر آتے ہیں۔ سن بلوغت کے متعلق فقہائے کرام میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔ صحیح تعین یہ ہے کہ جب لڑکی کو حیض آنے لگے اور لڑکے کو احتلام ہوجائے تو وہ بالغ ہوجاتے ہیں ۔ مگر بعض اوقات ان علامات کا پتہ نہیں چلتا ، تو ایسی صورت میں امام شافعی (رح) امام ابو یوسف (رح) اور امام محمد (رح) کو مسلک یہ ہے کہ سولہ سال کا لڑکا اور پندرہ سال کی لڑکی بالغ تصور ہوں گے۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) کے مطابق لڑکے اور لڑکی کا سن بلوغت علی الترتیب اٹھارہ اور سترہ ہے۔ فرمایا کذلک یبین اللہ لکم ایہ ، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے واللہ علیم حکیم اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اس کے تمام احکام اس کی حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ سن رسیدہ عورتوں کا مسئلہ : اسی مسئلہ استیذان کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے بوڑھی عورتوں کے متعلق فرمایا ہے والقواعد من النساء التی لا یرجون نصاحا ، اور بیٹھ رہنے والی وہ عورتیں جن کو اب نکاح کی توقع نہیں ہے۔ یعنی جو عمر کے اس حصے میں پہنچ چکی ہیں کہ اب ان میں نکاح کی نہ خواہش باقی ہے اور نہ اس کا کچھ فائدہ ہے لیس علیھن جناح ان یضعن ثیابھن ، تو ان پر کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اپنے کپڑے اتار دیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر گھر میں بیٹھی ہیں تو اپنے زائد کپڑے ، برقعہ ، چادر وغیرہ اتار سکتی ہیں کیونکہ گھر میں تو ہلکا دوپتہ بھی کافی ہوتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ شرط یہ ہے غیر متبرجت بزینۃ کہ ان کا مقصد زینت کا اظہار نہ ہو۔ اگر فالتو کپڑے اتاردینے سے زینت ظاہر نہیں ہوتی تو پھر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں (موضح القرآن ص 428 (فیاض) کہ سن رسیدہ عورتیں گھر میں اگر تھوڑے کپڑے بھی استعمال کریں تو درست ہے ، لیکن اگر پردے کا پورا اہتمام کریں تو یہ ان کے لئے بہتر ہے۔ اس آیت کریمہ میں آمدہ لفظ قواعد جمع ہے قاعد کی ۔ یہ لفظ مذکر کے لئے استعمال ہوتا ہے جب کہ اس کی تانیث قاعدۃ ہونا چاہیے تاہم عربی زبان کی رو سے اگر کسی عورت کا مطلق بیٹھنا مراد ہو تو قاعدۃ کا لفظ استعمال ہوگا اور اگر نکاح سے بیٹھنا یعنی علیحدہ رہنا مراد ہو تو پھر قاعد ہی آتا ہے جس کی جمع قواعد اس آیت میں استعمال ہوئی ہے ۔ فرمایا بوڑھی عورتوں کو گھر میں زائد کپڑے اتارنے کی اجازت تو ہے۔ وان یستعففن خیرلھن لیکن وہ اپنی عصمت وعفت کو بچا کر رکھیں یعنی پردے کا پورا خیال رکھیں تو یہ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ واللہ سمیع علیم اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے آج کی آیات احکام استیذان کا تتمہ ہیں جن کا ذکر اللہ نے یہاں پر کردیا ہے۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہیں ہے کسی اندھے پر کوئی حرج اور نہ لنگڑے پر کوئی حرج اور نہ بیمار پر کوئی حرج اور نہ تمہاری اپنی جانوں پر کہ تم کھائو اپنے گھروں سے یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی مائوں کے گھروں سے اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموئوں کے گھروں سے ، یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیوں کے مالک تم ہو ، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ تم پر اس میں بھی کوئی گناہ نہیں کہ تم کھائو اکٹھے یا الگ الگ۔ پس جب تم داخل ہو گھروں میں تو سلام کرو اپنے لوگوں پر ، دعائے خیر ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے جو بابرکت اور پاکیزہ ہے۔ اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ کھول کر تمہارے لئے اپنی آیتیں تاکہ تم سمجھ لو

ربط آیات : گزشتہ درس میں پردے کے احکام بیان ہوئے تھے اور اس ضمن میں دو قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا تھا کہ غلام اور نابالغ بچے بھی تین اوقات میں بلا اجازت خلوت میں دخل اندازی نہ کریں۔ یہ اوقات قبل از نماز فجر ، دوپہر بوقت آرام اور بعد نماز عشاء ہیں۔ اللہ نے یہ احکام بھی نازل فرمائے کہ جب بچے سن بلوغت کو پہنچ جائیں تو پھر کسی بھی وقت وہ بلا اجازت نہ آیا کریں۔ فرمایا کہ عمر رسیدہ عورتیں اگر چاہیں تو اپنے غیر ضروری کپڑے اتارسکتی ہیں بشرطیکہ بنائو سنگھار کا اظہار مقصود نہ ہو۔ البتہ اگر وہ بھی پردے کا پورا پورا خیال رکھیں تو یہ ان کے لئے زیادہ اچھا ہے۔ اب آج کی آیت میں کھانے سے متعلق استیذان کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ کن کن گھروں سے بلا اجازت کھانا کھایا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک گروہ تو وہ ہے جو معذور ہے۔ ان کے لئے اجازت ہے کہ وہ بلا اجازت کھاسکتے ہیں اور دوسرا گروہ وہ عام لوگوں کا ہے جو اپنے عزیزوں کے ہاں اجازت حاصل کیے بغیر کھانا کھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکٹھے اور علیحدہ علیحدہ کھانے کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے اور گھروں میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ معذور لوگوں کے لئے اجازت نامہ : ارشاد ہوتا ہے لیس علی الاعمی حرج کسی اندھے پر کوئی حرج نہیں ہے ولا علی الاعرج حرج ، اور نہ کسی لنگڑے پر کوئی حرج ہے ولا علی المریض حرچ اور نہ ہی بیمار پر حرج ہے ولا علی انفسکم اور خود تم پر بھی کوئی حرج نہیں ہے ان تاکلوا من بیوتکم کہ تم اپنے گھروں سے کھائو۔ ظاہر ہے کہ پہلے تین قسم کے لوگ یعنی اندھے ، لنگڑے اور بیمار تو معذوروں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی یہ معذوری ہی سارے معاشرے پر ان کا حق قائم کردیتی ہے کہ وہ اپنی بھوک رفع کرنے کے لئے ہر جگہ اور ہر گھر سے کھانا کھا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی عام اجازت دے دی ہے۔ حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اس قسم کے معذوروں کے ساتھ مل کر کھانا نہیں کھاتے تھے مبادا کہ وہ کم کھائیں اور ہم ان کے مقابلہ میں زیادہ کھاجائیں یا اچھی اچھی چیزیں کھالیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اس میں تم پر کوئی حرج نہیں بعض لوگ ایسے معذور لوگوں سے نفرت کی بناء پر بھی اپنے ساتھ کھانے میں شریک نہیں کرتے تھے ، اللہ نے اس کا بھی رد فرمادیا۔ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ بعض لوگ ایسے معذوروں کو اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہاں پہنچا آتے تھے کہ یہ ہمارے ساتھ نہ کھائیں بلکہ دوسرے گھروں میں جاکر کھانا کھاتے رہیں۔ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نازل کرکے اللہ نے ایسے لوگوں کو اپنے گھروں میں اپنے ساتھ کھانا کھانے کی ترغیب دی بہرحال معذوروں کے لئے حکم یہ ہے کہ انہیں اپنے یا بیگانے جہاں سے بھی کھانا میسر ہو ، وہ بلا تکلف کھاسکتے ہیں اور اس میں انہیں کسی قسم کا تردد نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں تک خود اپنے گھر سے کھانے کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ اپنے گھر سے تو ویسے ہی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم یہ دوسرے عزیز و اقارب پر عطف کے طور پر بیان کیا گیا ہے جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اقرباء کے ہاں کھانے کی اجازت : فرمایا تم پر کوئی حرج نہیں ہے کہ تم اپنے ہی گھروں سے کھائو او بیوت ابائکم یا اپنے باپوں کے گھروں سے کھائو ظاہر ہے کہ باپ اور بیٹے کا قریب ترین رشتہ ہے اور اگر بیٹا اپنے باپ کے گھر جاکر باپ کی اجازت کے بغیر یا اہل خانہ کی دعوت پر کھانا کھا لیتا ہے تو اس کی بھی اجازت ہے۔ یہاں پر بیٹے کا باپ کے گھر سے کھانے کا ذکر تو موجود ہے مگر باپ کا بیٹے کے گھر سے کھانے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جس حکم میں باپ اور بیٹا دونوں شامل ہیں کہ ایک دوسرے کے گھر سے کھا سکتے ہیں۔ مسند احمد میں روایت موجود ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا انت ومالک لا بیک یعنی تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ جب بیٹے کی ہرچیز پر باپ کا حق ہے تو پھر اس کے کھانا کھانے میں کیا حرج ہوسکتا ہے ؟ اوبیوت امھتکم تمہیں اپنی مائوں کے گھروں سے کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جب باپ کے گھر سے کھانے کی اجازت ہے تو ماں کا گھر بھی عام طور پر وہی ہوتا ہے۔ جو باپ کا گھر ہوتا ہے۔ لہٰذا وہاں سے کھانے میں بھی کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ بعض صورتوں میں باپ اور ماں کا گھر الگ الگ بھی ہوسکتا ہیں۔ اگر کسی عورت نے طلاق کے بعد یا بیوگی کے بعد دوسرا خاوند کرلیا ہے تو پہلے بیٹے کے لئے وہ ماں کا گھر تو ہوگا کیونکہ وہ اس کی حقیقی ماں ہے مگر اس کے باپ کا گھر نہیں ہے ، تو ایسی صورت میں ماں کے ہاں سے بھی بلا اجازت کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اوبیوت اخوانکم او بیوت اخوتکم فرمایا تمہیں اپنے بھائی بہنوں کے گھروں سے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ بھائی بہن کا رشتہ بھی نہایت ہی قریبی رشتہ ہے۔ ماں باپ کی فوتیگی کے کہ بھائی بہن کا رشتہ بھی نہایت ہی قریبی رشتہ ہے۔ ماں باپ کی فوتیدگی کے بعد بہنوں کے لئے ان کے بھائی ہی بمنزلہ باپ کے ہوتے ہیں۔ جو ان کی خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں اور بوقت ضرورت بہنوں کی مدد بھی کرتے ہیں۔ لہٰذا بھائیوں کو بہنوں کے گھروں سے بلا تکلف کھانے کی بھی اجازت ہے ۔ اسی طرح بھائیوں کا رشتہ بھی آپس میں نہایت ہی قریب ہے ایک ماں باپ کی اولاد ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا ایک فطری امر ہے۔ مشکل کے وقت ایک بھائی ہی دوسرے بھائی کا دست وبازو بنتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ بھائیوں کے گھروں سے بھی بلا اجازت کھانا کھایا جاسکتا ہے۔ پھر فرمایا اوبیوت اعمامکم او بیوت عمتکم تم اپنے چچائوں اور پھوپھیوں کے گھروں سے بلا تکلف کھانا کھاسکتے ہو۔ باپ کا بھائی ہو یا باپ کی بہن ، ان کا تعلق بھی ایسے ہی ہے جیسے اپنے بھائی بہن کا لہٰذا ان کے ہاں بےتکلف آنا جانا اور کھانا کھانا بھی روا ہے بعض صورتوں میں ایسا ضروری بھی ہوجاتا ہے۔ اگر چچا یا پھوپھی میں بوجہ بعد پیدا ہورہا ہو تو آپس میں میل ملاقات اور ایک دوسرے کی دعوت سے یہ رشتہ مضبوط رہتا ہے یہی صلہ رحمی ہے ، جس کے متعلق حضور ﷺ نے بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔ بخاری شریف (بخاری ص 885 ج 2 (فیاض) میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا الرحم شجنۃ من الرحمن قال اللہ تعالیٰ من وصلک وصلتہ ومن قطعک قطعتہ رحم (یعنی حق قرابت داری) مشتق ہے ” رحمن “ سے اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا ہے کہ تجھے جوڑے گا میں اس کو جوڑوں گا اور جو تجھے توڑے گا میں اس کو توڑوں گا۔ فرمایا او بیوت اخوالکم او بیوت خلتکم تمہیں اپنے ماموئوں اور خلائوں کے گھروں سے کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ جس طرح باپ کے بہن بھائی بیٹے کے لئے عزت واحترام کے قابل ہیں ، اسی طرح ماں کے بھائی بہن یا ماموں اور خالہ بھی اس کے لئے قابل احترام ہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے چچائوں اور پھوپھیوں کی نسبت ماموئوں اور خالائوں کو اپنے بھانجے بھانیوں سے زیادہ الفت ہوتی ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے ماموں یا اپنی خالہ کے گھر سے کھانے میں بھی حرج محسوس نہ کرے کہ ایسا کرنا مزید پیار و محبت کا باعث بنتا ہے۔ ترمذی شریف کی روایت (ترمذی ص 283 (فیاض) میں آتا ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھ سے ایک بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے ، کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے آپ نے پوچھا ، کیا تیری ماں زندہ ہے ؟ عرض کیا ، نہیں ۔ پھر پوچھا ، کیا تمہاری کوئی خالہ ہے ؟ کہنے لگا ، ہاں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا تو اپنی خالہ کی خدمت اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کر۔ کنجی بردار دوست : آگے فرمایا کہ ان گھروں سے کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں اوما ملکتم مفاتحہ جن کی کنجیاں تمہاری ملکیت میں ہیں۔ ان سے مراد غلا یادراوغے ہیں جو کسی کے دوران سفر ان کے گھر کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں۔ ایسے لوگ بھی اگر اپنے آقا کے گھر سے کھاپی لیتے ہیں تو انہیں اجازت ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بیان ہے کہ جب حضور ﷺ کسی غزوہ میں چلنے کا اعلان کرتے تو ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ وہ آپ کی ہمسفری کا شرف حاصل کرے۔ ایسے حالات میں وہ اپنے گھروں کی چابیاں اپنے خاص دوستوں کو دے جاتے تھے اور ساتھ کہہ دیتے تھے کہ حسب ضرورت یہاں سے کھاپی لیا کریں۔ ایسے لوگ بعض اوقات یہ سمجھتے تھے کہ شاید انہوں نے بادل نخواستہ کھانے پینے کی اجازت دی ہو ، لہٰذا وہ کسی چیز کے استعمال سے پرہیز کرتے تھے ، اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم نازل ہوا۔ او صدیقکم ، یعنی تمہیں اپنے دوستوں کے گھروں سے کھانے پینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے شبہ کو دور فرمادیا۔ اکٹھے اور تنہا کھانے کی اجازت : آگے ارشاد ہوتا ہے لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا ، تمہیں اس بات پر بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ تم اکٹھے مل کر کھائو یا الگ الگ ۔ عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔ لا تاکلوا………………بالباطل (البقرہ 188) ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھائو تو صحابہ کو خیال پیدا ہوا کہ کھانے پینے کی اشیاء بھی تو مال کی تعریف میں آتی ہیں ، لہٰذا وہ اس وجہ سے رک گئے کہ اکٹھا کھانے میں کسی کمی بیشی کی بناء پر اس پر باطل کا اطلاق نہ ہوجائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر وضاحت فرمادی کہ تمہیں اکٹھا کھانا کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ کسی نے کم کھالیا اور کسی نے زیادہ تو یہ کوئی قابل گرفت بات نہیں ہے۔ بعض لوگ اکیلے کھانے میں کراہیت محسوس کرتے تھے اور جب تک کوئی ساتھ نہ ہوتا کھانا نہ کھاتے تھے۔ بنو کنانہ کے لوگ خاص طور پر اس مرض میں مبتلا تھے۔ وہ بھوکا رہنا پسند کرتے تھے مگر اکیلے کھانا نہیں کھاتے تھے۔ اللہ نے اس آیت کے ذریعے تنہا کھانے کی بھی رخصت دے دی۔ اگرچہ مہمان کو کھلانا بڑی عمدہ خصلت ہے مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ اس کے بغیر خود بھی نہ کھایا جائے۔ تاہم حضور ﷺ کے ارشادات سے ثابت ہوتا ہے دوسروں کے ساتھ مل کر کھانے میں برکت ہے۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم کھاتے تو ہیں مگر آسودگی حاصل نہیں ہوتی آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ، شاید تم الگ الگ کھاتے ہوگے۔ اگر تم ایک جگہ بیٹھ کر اکٹھے کھانا کھائو اور اللہ کا نام لے کر کھائو تو تمہیں برکت حاصل ہوگی۔ ابن ماجہ (ابن ماجہ ص 236 والسراج المنیرص 641 ج 2 (فیاض) شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی موجود ہے۔ مل کر کھائو اور تنہا نہ کھائو کیونکہ مل کر بیٹھنے میں برکت ہے۔ بہرحال فرمایا کہ اکٹھے مل کر کھائو یا الگ الگ کھائو۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ گھر والوں کو سلام : اگلے حصہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے گھر میں داخلے کے آداب میں سے ایک ادب بیان فرمایا ہے فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں پر سلام کیا کرو۔ یہاں پر علی انفسکم کا لفظی ترجمہ یہ بنتا ہے کہ اپنے آپ پر سلام کرلیا کرو تاہم مطلب یہ ہے کہ اپنے ھگر والوں کو السلام علیکم کہہ دیا کرو۔ اس قسم کی آیت چوتھے رکوع کے آغاز میں بھی گزر چکی ہے۔ یایھا الذین …………………………اھلھا (آیت 27) اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے علاوہ دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو حتیٰ کہ تم اجازت طلب کرلو اور گھر والوں پر سلام کرلو۔ وہاں پر اغیار کے گھروں میں داخلے کے وقت سلام کرنے کا حکمدیا گیا ہے۔ جب کہ یہاں پر خود اپنے گھروں میں داخلے کے وقت بھی اہل خانہ کو سلام کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ ابن طائوس فرماتے ہیں کہ تم میں سے جو شخص گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کہے۔ حضرت جابر ؓ کا قول ہے کہ جب تم گھروں میں جائو تو خدا تعالیٰ کا سکھایا ہوا بابرکت سلام کہو۔ فرماتے ہیں کہ میں نے آزمایا ہے کہ یہ سراسر برکت ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جب مسجد میں جائو تو کہو السلام علی رسول اللہ اور جب اپنے گھروں میں جائو تو اپنے بال بچوں کو سلام کرو ۔ اور جب کسی ایسے گھر میں جائو۔ جہاں کوئی نہ ہو تو یوں کہو السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین یعنی ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔ فرمایا السلام علیکم کہنا تحیۃ من عنداللہ ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعائے خیر ہے مبرکۃ طیبۃ جو کہ بابرکت اور پاکیزہ ہے۔ لہٰذا گھر میں داخلے کے وقت سلام کرکے داخل ہوا کرو۔ ارشاد ہوتا ہے کذلک یبین اللہ لکم الایت یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جنہیں وہ تمہارے لئے کول کر بیان کرتا ہے آیات سے مراد آیات قرآن ، احکام قرآن ، دلائل اور معجزات بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیات میں یہ سب چیزیں پائی جاتی ہیں۔ جن پر غور کرکے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچانتا ہے اور ان پر عمل کرکے منزل مقصود تک پہنچتا ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنی آیتیں تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان کرتا ہے لعلکم تعقلون ، تاکہ تم ان میں غوروفکر کرکے ان کو سمجھ لو اور پھر ان پر عمل پیرا ہوجائو۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

بیشک اہل ایمان وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور اس کے رسول پر۔ اور جب وہ اس (نبی) کے ساتھ ہوتے ہیں کسی اجتماعی معاملہ میں تو نہیں جاتے حتیٰ کہ آپ سے اجازت حاصل کرلیں۔ بیشک وہ لوگ جو آپ سے اجازت حاصل کرلیتے ہیں ، وہی ہیں جو ایمان لاچکے ہیں اللہ پر اور اس کے رسول پر۔ پس جب وہ اجازت طلب کریں آپ سے اپنے کسی کام کی غرض سے تو آپ اجازت دے دیں جس کو چاہیں ان میں سے اور بخشش مانگیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے

ربط آیات : گزشتہ درس میں کھانے کے آداب بیان ہوئے تھے کہ بعض معذوروں اور عام لوگوں کو کن کن کے گھروں سے بلا اجازت کھانا کھانے کی اجازت ہے ان میں ان قریبی رشتہ داروں کا ذکر تھا جن کے ساتھ صلہ رحمی ویسے بھی ضروری ہے ، لہٰذا ان کے گھروں سے کھانا کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ بیان ہوا کہ اکٹھے مل کر کھانا یا علیحدہ علیحدہ کھانا دونوں طرح جائز ہے۔ ضرورت کے مطابق جس طرح چاہو کھاسکتے ہو مگر مل کر کھانے میں برکت ہے۔ پھر تیسرا مسئلہ اللہ نے یہ بیان فرمایا کہ جب گھروں میں داخل ہو تو سلام کہہ کر داخل ہوا کرو کیونکہ سلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعائے خیر اور بابرکت وپاکیزہ چیز ہے۔ اب آج کے درس میں آداب رسالت کا یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ جب تم حضور ﷺ کی مجلس میں کسی اجتماعی غرض سے جمع ہو تو بلا اجازت مجلس سے اٹھ کر نہ جائو۔ حضور ﷺ کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی مومن آدمی کسی خاص کام کے لئے اجازت طلب کرے تو آپ جس کو چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لئے مغفرت کی دعا بھی کریں دوسرا مسئلہ امتیوں کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ رسول کے بلانے کو ایک دوسرے کے بلانے کی طرح معمولی حیثیت نہ دو بلکہ اسے خاص اہمیت دو اور نہ ہی نظر بچا کر مجلس سے کھسک جایا کرو۔ شرائط ایمان : ارشاد ہوتا ہے انما المومنون الذین امنوا باللہ و رسولہ بیشک پکے سچے ایماندار وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر۔ اس آیت کریمہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کو مومن کا خطاب دیا گیا ہے کیونکہ یہاں پر آداب رسالت بیان کرنا مقصود ہے۔ تاہم قرآن کے مختلف مقامات پر ایمان کے دیگر لازمی اجزاء کا ذکر بھی موجود ہے۔ مثلاً سورة البقرہ کے آخر میں چار اجزاء کا ذکر کیا گیا ہے کل امن……………ورسلہ (آیت 285) ایماندار کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اسی طرح سور ۃ بقرہ کی ابتداء میں ہے وبالاخر ۃ ھم یوقنون (آیت 4) متقیوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں یعنی بعث بعدالموت پر بھی ان کا ایمان ہے۔ تو اللہ نے مومنوں کی یہ پانچ شرائط بیان کی ہیں۔ جب تک وہ ان پانچوں چیزوں پر ایمان نہیں لاتے ، اہل ایمان کہلانے کا حقدار نہیں ہیں۔ مومنوں کے لئے اجازت طلبی : فرمایا صحیح معنوں میں ایماندر وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں۔ اور اس ایمان کا تقاضا یہ ہے واذا کانوا معہ علی امر جامع کہ جب وہ کسی اجتماعی کام کے سلسلے میں اپنے نبی کے ساتھ ہوں یعنی آپ کی مجلس میں بیٹھے ہوں۔ لم یذھبوا حتیٰ یساذنوہ تو وہ خود بخود اٹھ کر چلے نہیں جاتے یہاں تک کہ آپ سے جانے کی اجازت طلب کرلیں۔ امر جامع سے مراد مسلمانوں کے اجتماعی کام ہیں۔ جب بھی کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتاتو حضور ﷺ صحابہ کو جمع فرماتے ، اگر قرآن پاک کی کوئی سورة یا آیات نازل ہوتیں تو ہ بتادیتے ۔ کوئی دیگر اجتماعی ہدایات جاری کرنا ہوتیں تو وہ کردیتے یا پھر اگر کسی اہم معاملہ میں صحابہ کا مشورہو مطلوب ہوتا تو وہ طلب کرتے۔ سورة آل عمران میں اللہ کا ارشاد ہے وشاورھم فی الامر آپ اپنے صحابہ سے مشورہ کرلیا کریں فاذا عزمت فتوکل علی اللہ (آیت 159) پھر جب کسی کام کا عزم کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے وہ کام کر گزریں ہجرت سے پہلے چونکہ کفار کا غالبہ تھا اس لئے مسلمانوں کے اجتماعی امور میں مشاورت اور فیصلہ خفیہ طور پر کیا جاتا تھا۔ چناچہ قیام مکہ کے دوران آپ نے دارارقم کو مسلمانوں کا خفیہ مرکز بنایا۔ وہیں اجتماعی امور کے متعلق مشاورت ہوتی تھی اور آئندہ کے لئے لائحہ عمل کے متعلق ہدایات جاری ہوتی تھیں۔ کفار کے ہاتھوں مسلمانوں کے بچائو کے طریقے حبشہ کی طرف دو دفعہ ہجرت اور پھر مدینہ کی طرف ہجرت کے متعلق مشورے اسی مکان میں ہوتے تھے۔ پھر جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لے گئے اور اسلامی ریاست قائم ہوگئی تو مسجد نبوی کو اسلام کا مرکز بنالیا گیا۔ اور وہیں صحابہ کا اجتماع ہوتا اور اہم فیصلے کیے جاتے اس وقت عام طور پر موضوعات بحث مختلف قائل میں تبلیغ ، ان کے ساتھ معاہدات ، کفار مکہ کی طرف سے حملے کا ئچائو ، جنگی حکمت عملی ، اور مختلف اطراف میں لشکروں کی رونگی ایسے اجتماعی امور تھے جن کے متعلق فیصلے کیے جاتے تھے۔ تو فرمایا کہ مومن وہ ہیں کہ جو ایمان لائے ہیں اللہ پر اس کے رسول پر اور جب وہ کسی اجتماعی کام کے سلسلے میں رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو بلا اجازت چلے نہیں جاتے۔ آگے اسی بات کو دوسرے انداز میں فرمایا ان الذین یستاذنونک بیشک وہ اللہ جو آپ سے جانے کی اجازت حاصل کرلیتے ہیں اولئک الذین یومنون باللہ ورسولہ ، یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ پھر فرمایا فاذا ستاذنوک لبعض شانھم ، پس جب وہ آپ سے اجازت طلب کریں اپنے کسی ذاتی کام کی وجہ سے فاذن لمن شئت منھم تو آپ ان میں سے جس کو چاہیں اجازت دے دیں۔ یعنی اگر کوئی شخص معقول عذر پیش کرتا ہے اور اللہ کا نبی سمجھتا ہے کہ اس کا انفرادی کام زیر توجہ اجتماعی کام سے زیادہ ضروری ہے یا اس شخص کے چلے جانے سے اجتماعی کام میں کوئی رکاوٹ پڑنے کا خطرہ نہیں ہے تو یہ آپ کی صوابدید پر موف ہے کہ ایسے شخص کو اجازت دیں یا نہ دیں۔ یہ تو اس زمانے کی بات ہے جب حضور ﷺ بنفس نفیس صحابہ کرام ؓ میں موجود تھے ، مجلس مشاورت طلب کرتے تھے اور ایسے واقعات بھی پیش آجاتے تھے کہ کسی صحابی کو میٹنگ کے دوران ہی چلے جانے کی ضرورت پیش آجاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو حضور ﷺ کے بعد خلافت راشدہ اور بعد کے ادوار پر بھی منطبق کیا جاسکتا ہے۔ اسلامی سلطنت میں جب کوئی امیر مجلس مشاورت منعقد کرے تو کسی کو بلا اجازت اٹھ کر نہیں چلے جانا چاہیے بکلہ صاحب صدر سے باقاعدہ اجازت طلب کرنی چاہیے۔ پھر معاملے کی نوعیت کے پیش نظر اگر کسی شخص کی غیر حاضری کو برداشت کیا جاسکتا ہو تو امیر اس کی اجازت دے سکتا ہے۔ فرمایا جب آپ کسی اجازت طلبی پر اجازت دے دیں واستغفر لھم اللہ تو پھر ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا بھی کریں اس میں یہ تبنیہ بھی پائی جاتی ہے کہ اگر اجازت طلبی میں ذرا بھی بہانہ سازی کو دخل ہوا یا اجتماعی معاملہ کسی شخص کی انفرادی ضرورت سے زیادہ اہم ہوا تو پھر ایسے شخص کے لئے اجازت حاصل کرنا کوتاہی ہوگی۔ اسی لئے فرمایا کہ ایسے شخص کی معمولی لغزش کے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست بھی کریں ان اللہ غفور رحیم بیشک اللہ تعالیٰ نہایت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے۔ جب کوئی شخص غلطی کرکے معافی طلب کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آکر اسے معاف بھی کردیتی ہے۔ رسول اللہ کا بلانا : اگلی آیت آداب رسالت کے سلسلہ میں ہے۔ ارشاد ہوتا ہے لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا نبی (علیہ السلام) کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کے بلانے کی طرح نہ سمجھو۔ اسی آیت کریمہ میں لفظ دعا استعمال ہوا ہے جو کہ تین مختلف معافی میں استعمال ہوسکتا ہے۔ پہلا معنی تو یہ ہے کہ جب اللہ کا نبی تمہیں بلائے تو اسے عام آدمی کے بلانے پر محمول نہ کرو بلکہ آپ کے ادب واحترام کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھی اللہ کا رسول بلائے ، لبیک کہتے ہوئے فوراً حاضر ہوجائو اور دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کرو ، ورنہ ایمان کے ضیاع کا خطرہ ہے۔ دعا کا دوسرا معنی یہ ہوسکتا ہے کہ جب تم اللہ کے رسول کو پکارو تو آپ کے ادب واحترام کو پیش نظر رکھو۔ عام آدمیوں کی طرح نام لے کر اور بلند آواز سے مت پکارو بلکہ پست آواز کے ساتھ نام لینے کی بجائے ” یا رسول اللہ “ یا نبی اللہ کہہ کر پکارو۔ اس ادب کا ذکر سورة الحجرات میں بھی بیان ہوا ہے کہ اے ایمان والو ! لا ترفعوا……………………اعمالکم (آیت 20) نبی کی آواز سے اپنی آواز کو بلند نہ کرو۔ اور نہ آپ کو اس طرح بلند آواز سے پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے تمام اعمال ہی ضائع ہوجائیں۔ اس دعا کا تیسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ کی دعا کو عام آدمیوں کی دعا کی طرف مت سمجھو۔ آپ کی دعا تو مقبول ہے تمہارے کسی قول یا فعل سے نبی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے منہ سے کوئی ایسی دعا نکل جائے جس سے تم ہلاک ہوجائو۔ اسی طرح اگر اللہ کے نبی تم سے خوش ہو کر تمہیں دعا دیں تو یہ تمہارے لئے بہت بڑی سعادت ہوگی۔ بہرحال یہ تینوں معافی ہوسکتے ہیں تاہم پہلا معنی زیادہ راجح ہے۔ فرمایا قدیعلم اللہ الذین یتسلون منکم لواذا بیشک اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو نظر بچا کر کھسک جاتے ہیں۔ یہاں پر ان منافقین کی مذمت بیان کی گئی ہے جو مسلمانوں کی مجلس میں آتو جاتے تھے مگر بےچین رہتے تھے اور کسی نہ کسی طرح نظر بچا کر چلے جاتے تھے۔ خاص طور پر جمعہ کے خطبہ میں بیٹھنا منافقوں پر بہت گراں گزرتا تھا مگر خطبہ شروع ہونے کے بعد کوئی شخص بلا اجازت نہیں جاسکتا تھا۔ جب کسی شخص کو خاص ضرورت پڑتی تو وہ اشارے کی ذریعیحضور ﷺ سے اجازت لے لیتا مگر منافق ایسا بھی نہیں کرسکتے تھے لہٰذا ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ کسی کی اڑ لے کر اور نظر بچا کر سرک جائیں۔ جمعہ کے علاوہ دوسری مجالس کا بھی یہی حال تھا۔ منافق قسم کے لوگ جب موقع ملتا مجلس سے چلے جاتے حالانکہ اللہ نے نبی کی اجازت کے بغیر مجلس سے چلے جانے کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔ فرمایا کہ نبی کی دعوت کو عام لوگوں کو دعوت نہ سمجھو کہ جب بلایا آگئے اور جب جی چاہا چلے گئے بلکہ نبی کی مجلس میں شریک ہو کر بغیر اجازت مت جائو۔ اللہ نے ان لوگوں کی نشاندہی بھی فرمادی ہے۔ جو بلا اجازت چلے جاتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگ اگرچہ نبی سے آنکھ بچا کر کھسک جاتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ تو ایسے لوگوں کو خوب جانتا ہے کہ یہ کس قماش کے لوگ ہیں۔ اور ان کے دلوں میں کس حد تک ایمان راسخ ہے۔ آیت کے اگلے حصے میں حکم رسول کی مخالفت کرنے والوں کو درد ناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔