24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 24:33–34

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور چاہیے کہ عفیف بن کر رہیں وہ لوگ جو نہیں پاتے نکاح کی طاقت یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے مستغنی کردے۔ اور وہ لوگ جو تلاش کرتے ہیں (خواہش رکھتے ہیں) مکاتبت کی تمہارے غلاموں میں سے ، پس مکاتبت کرو ان کے ساتھ اگر تم ان میں بہتری سمجھو۔ اور دو ان کو اللہ کے مال میں سے جو اس نے تم کو دیا ہے۔ اور نہ مجبور کرو اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر جب کہ وہ پاکدامنی کی خواہشمند ہیں ، تاکہ تم تلاش کرو دنیا کی زندگی کا سامان اور جو شخص مجبور کریگا ان کو ، پس بیشک اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد بخشش کرنے والا اور مہربان ہے

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے نازل کی ہیں تمہاری طرف کھلی آیتیں اور کچھ حال ان لوگوں کا جو تم سے پہلے گزرے ہیں ، اور نصیحت متقیوں کے لئے

ربط آیات : اس آیت کے پہلے حصے میں پاکدامنی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی تھی۔ اور اس سے پہلے نکاح کو عام کرنے کا قانون بیان کیا گیا تھا۔ فرمایا تم میں سے جو بےنکاح ہوں اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو باصلاحیت ہوں ان کے نکاح کرادو۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں مستغنی کردے گا۔ اور جو لوگ نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے ان کو پاکدامن بن کر رہنا چاہیے اور اپنے آپ پر ضبط کرنا چاہیے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے مستغنی کردے اور وہ نکاح کرنے کے قابل ہوسکیں۔ مکاتبت کی تعریف : اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مکاتبت کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور اس کی ترغیب دی ہے۔ مکاتبت کا مطلب یہ ہے کہ مالک اور مملوک کے درمیان تحریر معاہدہ ہوجائے کہ اگر کسی کا غلام یا لونڈی اپنے مالک کو اتنا مال ادا کردے تو وہ اس آزاد کردے گا۔ اس قسم کے معاہدہ میں کل مال کی ادائیگی کے لئے مدت بھی مقرر کی جاسکتی ہے اور اسے کھلا بھی چھوڑا جاسکتا ہے کہ جب بھی اس قدر مال کی ادائیگی ہوجائے گی تو فلاں آزاد ہوجائے گا۔ اب تو شخصی غلامی کا سلسلہ ہی ختم ہوچکا ہے ، پرانے زمانے میں یہ عام دستور تھا کہ اس قسم کے معاہدے کے بعد متعلقہ لونڈی یا غلام کو کاروبار کے لئے آزاد کردیا جاتا تھا تاکہ وہ پوری آزادی کے ساتھ جو کام چاہے کرے اور مطلوبہ رقم مالک کو مہیا کرے۔ تاہم جب تک کل مال ادا نہیں ہوجاتا تھا۔ وہ شخص غلام ہی تصور ہوتا تھا۔ اگر اس دوران غلام مرجاتا تو اس کے ترکہ کا جائزہ لیا جاتا اگر اس سے مطلوبہ مال مہیا ہوجاتا تو وہ مالک وصول کرلیتا اور غلام آزاد تصور ہوتا اور اگر مطلوبہ مال پورا نہ ہوتا تو پھر اسے غلامی کی موت سمجھا جاتا۔ جمہور علماء کہتے ہیں کہ مکاتبت ضروری نہیں بلکہ استحباب کے درجے میں ہے۔ تاہم بعض فرماتے ہیں کہ اگر غلام خواہش کرے تو مالک کے لئے مکاتبت کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ بہرحال مکاتبت کا طریقہ آزادی کی طرف کی طرف ایک قدم تھا اور اس کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔ یہاں پر ملک یمین کا ذکر ہے جو غلام اور لونڈی دونوں کے لئے آتا ہے ، تاہم عام طور پر مکاتبت غلام کے ساتھ ہی ہوتی تھی۔ غلامی کا عالمگیر رواج : دنیا میں غلامی کا رواج ہزاروں سال تک چلتا رہا ہے اور نزول قرآن کے زمانے میں بھی یہ رواج پوری دنیا میں موجود تھا۔ پرانے زمانے میں مختلف اقوام کے درمیان جنگ ہوتی تھی جس کے نتیجے میں فریقین کے کچھ لو گ مارے جاتے اور کچھ قیدی بنا لئے جاتے۔ جنگ کے اختتام پر قیدیوں کی قسمت کا فیصلہ ہوتا۔ جس کی عام طور پر چار صورتیں ہوتی تھیں۔ پہلی صورت یہ تھی کہ جنگ کے دونوں فریق جنگی قیدیوں کاتبادلہ کرلیں۔ دوسری صورت یہ تھی کہ قیدیوں کو فدیہ (معاوضہ) لے کر رہا کردیا جائے یا بلامعاوضہ چھوڑ دیا جائے ، تیسری صورت یہ تھی قیدیوں کو قتل کردیاجائے اور چوتھی صورت میں انہیں لونڈی غلام بنالیا جاتا تھا۔ اس طرح بنائے گئے لونڈی غلام جس جس شخص کے حصے میں آتے تھے وہ ان کا مالک سمجھا جاتا تھا اور لونڈی غلام کی حیثیت ایک عام مال کی ہوجاتی تھی ، مالک ان سے ہر طرح کی خدمت سے سکتا تھا اور دیگر مال کی طرح ان کی خریدوفروخت بھی ہوتی تھی۔ غلاموں اور لونڈیوں کی اولاد بھی غلام اور لونڈیاں بن جاتے تھے اور اس طرح دنیا بھر میں لونڈی غلام کا وسیع سلسلہ رائج تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے اس رواج کو یکسر ختم نہیں کیا بلکہ اسے روا رکھا البتہ اس کے خاتمے کے لئے بہت سی ترغیبات پیدا کی گئیں۔ کفر واسلام کی جنگوں کے نتیجے میں مسلمانوں کے ہاتھ میں بھی بہت سے قیدی آتے اسلام حکومت ان قیدیوں کو بطور لونڈی یا غلام مجاہدین میں تقسیم کردیتی۔ حاصل کرنے والا شخص چاہتا تو غلام کو آزاد کردیتا یا اس سے خدمت لیتارہتا یا اسے فروخت کردیتا۔ کسی لونڈی کا کسی شخص کی ملکیت میں آنا نکاح کے قائم مقام سمجھا جاتا ہے کیونکہ نکاح کے ذریعے بھی کوئی عورت کسی مرد کی ملکیت میں دی جاتی ہے۔ تو لونڈی کا مالک بغیر نکاح کیے اس سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اگر کوئی لونڈی پہلے سے منکوحہ ہو تو اس سے استفادہ حاصل کرنے سے پہلے عورت کی تکمیل ضروری ہے۔ اور اگر لونڈی حاملہ ہو تو وضع حمل تک مالک اس سے مستفید نہیں ہوسکتا۔ مالک اپنی خوشی سے لونڈی کا نکاح کسی دوسرے شخص سے بھی کراسکتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ لونڈی سے عام خدمت تو لے سکتا ہے مگر اس کے خاوند کے حق میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ اسلام نے اس نظام میں اصلاح کی۔ غلاموں کو ان کے حقوق دلوائے ۔ ان پر ظلم و زیادتی کرنے سے منع فرمایا۔ لوگوں کو باور کرایا کہ غلامی ایک غیر فطری چیز ہے کیونکہ فطری طور پر ہر انسان آزاد ہے۔ اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لئے ترغیب دی اور اس کے لئے بہت سے مواقع پیدا کیے۔ چناچہ قسم توڑنے کے کفارے کے طور پر جتنی چیزیں بیان کیں ان میں غلام کی آزادی سرفہرست ہے۔ روزے کے کفارے میں بھی غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔ اگر اتنی طاقت نہ پائے تو ساٹھ متواتر روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اگر کوئی شخص ظہار کا مرتکب ہو یعنی اپنی بیوی کو ماں بہن کے ساتھ تشبیہ دے دے ، تو اگرچہ شخص ظہار کا مرتکب ہو یعنی اپنی بیوی کو ماں بہن کے ساتھ تشبیہ دے دے۔ تو اگرچہ ایسا کہنے سے طلاق تو واقع نہیں ہوتی مگر جب تک کفارہ ادا نہ کرے بیوی کے قریب نہیں جاسکتا۔ اس کفارے میں بھی پہلا نمبر غلام کی آزادی ہے۔ اسی طرح قتل خطا میں دیت کے علاوہ کفارہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے جو کہ ایک غلام کی آزادی ہے۔ ترغیب کے سلسلہ میں قرآن پاک نے غلام کی آزادی کو فک رقبۃ سے تعبیر کیا ہے۔ سورة البلد میں ہے کہ لوگ اونچی گھاٹی پر کیوں نہیں چڑھتے ؟ آگے فرمایا یہ اونچی گھاٹی کیا ہے ؟ یہ غلام کی آزادی ہی تو ہے ۔ مطلب یہ کہ غلام کی آزادی بہت بڑا کارنامہ ہے جسے اہل ایمان کو سرانجام دینا چاہیے الغرض اسلام نے غلام کی آزادی کے راستے کو مختلف طریقوں سے ہموار کیا ہے تاکہ یہ رواج ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔ یہ تو اس زمانے کی بات ہے۔ آج دنیا میں دیکھ لیں کہ اس طرح کی شخصی غلامی کارواج بالکل ختم ہوچکا ہے۔ اسلام پر اکثر اعتراض کیا گیا ہے کہ اس نے غلامی کو روا رکھا ہے جو کہ اچھا نہیں ہے۔ اس ضمن میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اسلام نے غلامی کے رواج کو صرف جائز قرار دیا ہے ، اس کو برداشت کیا ہے مگر اس کو لازم قرار نہیں دیا۔ اس کی بجائے اسلام نے غلامی کے خاتمے کے لئے طرح طرح کی ترغیبات دی ہیں اور جیسا کہ پہلے بیان کیا ان کی آزادی کے لئے کئی ایک صورتیں نکالی ہیں۔ آیت زیر درس میں بیان کردہ مکاتبت بھی غلاموں کی آزادی کا ایک ذریعہ ہے جس کی نہ صرف ترغیب دی گئی ہے بلکہ اللہ کے دیے ہوئے مال سے خرچ کرکے غلاموں کی آزادی کا حکم دیا گیا ہے ، یعنی اگر کسی غلام کو مکاتبت کے لئے مالی امداد کی ضرورت ہو تو اس سے دریغ نہ کرو ، سورة توبہ میں اللہ نے زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان فرمائے ہیں جن میں ایک مصرف فی الرقاب بھی ہے یعنی غلاموں کی آزادی کے لئے بھی زکوٰۃ کا مال صرف کیا جاسکتا ہے۔ اجتماعی غلامی کی لعنت : جیسا کہ میں نے عرض کیا اس وقت دنیا میں شخصی غلامی تو کہیں نہیں پائی جاتی ، البتہ اجتماعی غلامی عام ہے جو کہ شخص غلامی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس وقت دنیا کی بڑی طاقتوں نے غریب اور چھوٹے ملکوں کو اقتصادی ، سیاسی اور معاشرتی غلامی میں جکڑ رکھا ہے۔ اقتصادی غلامی کا یہ حال ہے کہ امداد کے نام پر قرض دیا جاتا ہے جس پر سود بھی وصول کیا جاتا ہے۔ آج ہم دنیا میں دیکھ رہے ہیں کہ مقروض ملک اس جال میں اس قدر جکڑے جاچکے ہیں کہ اب انہیں صرف سود کی ادائیگی کے لئے ہر سال اربوں ڈالر کے نئے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو ملک ایک دفعہ اقتصادی غلامی میں جکڑا گیا وہ کبھی بھی اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا۔ خود پاکستان اسی مرض میں مبتلا ہے۔ ہر آنے والی حکومت نے قرضوں پر انحصار کیا جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ پاکستان کا ہر فرد لاکھوں کروڑوں ڈالر کا مقروض ہے اور اس جال سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اب بات یہاں تک بڑھ چکی ہے کہ ملک کا سالانہ بجٹ بھی بڑی طاقتوں کے مشورے سے بنتا ہے۔ سیاسی غلامی کا بھی یہی حال ہے۔ ہر زیر دست ملک زبردست طاقتوں کا سیاسی غلام ہے۔ اوپر والوں کی مرضی کے بغیر نہ کوئی حکومت بن سکتی ہے اور نہ چل سکتی ہے تمام بین الاقوامی امور بڑی طاقتوں کے مشورے کے مطابق طے پاتے ہیں۔ اگر کوئی ملک اپنی پالیسی بنانا چاہے تو اس کی امداد روک کر اسے ہر بات ماننے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ دنیا میں کتنے بین الاقوامی مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ جو مسئلہ امریکہ ، روس ، برطانیہ ، فرانس اور چین باہمی رضامندی سے حل کرنا چاہتے ہیں ، وہ حل ہوجاتا ہے اور جو نہیں کرنا چاہتے اسے ویٹوکر دیا جاتا ہے۔ کہنے کہ تو اقوام متحدہ (U.N.O) میں تمام ممالک کو یکساں نمائندگی حاصل ہے۔ مگر عملی طور پر چھوٹے اور غریب ملکوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ عرب ممالک اقتصادی طور پر نہایت طاقتور ہونے کے باوجود بڑی طاقتوں کے زیر نگر ہیں۔ عربوں کی دولت امریکہ کھاتا ہے مگر جب فلسطین کا مسئلہ آتا ہے تو اسرائیل کی حمایت کرتا ہے۔ اگر عربوں کے حق میں کوئی قرار داد پیش بھی ہوجائے تو بڑی طاقت ہونے کے ناطے اسے مسترد (ویٹو) کردیا جاتا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے اور کہاں کی سیاسی آزادی ہے ؟ اتنی دولت ہونے کے باوجود عرب ممالک تیل نکالنے کے لئے انگریزوں کے محتاج ہیں۔ عربوں میں تو آج تک ایک انجینئر نہیں پیدا ہونے دیا جو تیل کا کنواں ہی کھدواسکے۔ ساری ٹیکنالوجی اور افرادی قوت تو باہر سے آتی ہے اور عرب امیر ترین ممالک ہونے کے باوجود بےبس ہیں۔ کیا یہ اجتماعی غلامی نہیں ہے ؟ انگریزوں نے دنیا بھر کو دو سو سال تک اجتماعی غلامی میں جکڑے رکھا۔ لوگوں کے مذاہب کو بگاڑا ، ملکوں کو تہس نہس کردیا۔ ان کے راستے میں مصنوعی رکاوٹیں کھڑی کیں مسلمان قوم کو خاص طور پر تختہ مشق بنایا اور ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے۔ برصغیر میں مسلمانوں کو تختہ دار پر چڑھایا گیا اور انہیں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ یہ سب اجتماعی غلامی کی مثالیں ہیں جو دنیا میں آج بھی موجود ہیں۔ اس اجتماعی غلامی میں مغلوب قوموں کا اخلاق اور تہذیب بھی تباہ ہوجاتا ہے معاشرتی طور پر ان کے عادات وخصائل بدل جاتے ہیں ؟ لوگ مذہب سے بیگانہ ہوجاتے ہیں ، اپنے رسم و رواج بھول جاتے ہیں اور غالب اقوام کی ادائوں پر ہی فخر کرنے لگتے ہیں۔ آہستہ آہستہ انہی کی زبان اور انہی کے اخلاق کو اپنانے میں بڑائی سمجھتے ہیں۔ اپنی زبان تک بھول جاتے ہیں۔ برصغیر میں یہی کچھ ہوا ہے۔ پاکستان کو آزادی حاصل ہوئے بھی چالیس سال ہوچکے ہیں مگر آج بھی ہم انگریزی زبان سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکے۔ اس میں شک نہیں کہ انگریزی ایک وسیع زبان ہے مگر عربی ، فارسی اور اردو اس سے کسی طرح بھی کم نہیں ہم آج تک نہ ذریعہ تعلیم کو بدل سکے ہیں اور نہ دفتری کاروبار میں اپنی قومی زبان رائج کرسکے ہیں۔ ہر آمدہ حکومت اپنی ثقافت کر اپنانے کے بلند بانگ دعویٰ کرتی ہے مگر عملاً کچھ نہیں ہوتا ، ہم آج تک قانون ، سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنی قومی زبان میں نہیں ڈھال سکے ، عربی اور فارسی بھی عظیم زبانیں ہیں ، ان کو کیوں ترقی نہیں دی جاتی ؟ اگر حیدر آباد دکن میں قانون ، سائنس اور طب کی تعلیم اردو میں ہوسکتی ہے تو یہاں کیوں نہیں ہوسکتی ؟ اگر روسی ، جرمنی اور فرانسیسی زبانیں اس قابل ہیں کہ ان کے تمام امور انہی زبانوں میں انجام پاتے ہیں تو ہم محض انگریزی پر انحصار کرکے کیوں بیٹھ گئے ہیں ؟ عربی مدارس کی اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم کو بھی تسلیم نہیں کیا جاتا ، جب تک اس کے ساتھ میٹرک تک انگریزی تعلیم نہ ہو۔ اس کے بغیر نہ فوج میں بھرتی ہوسکتے ہیں اور نہ محکمہ تعلیم میں تدریس کا فریضہ انجام دیا جاسکتا ہے۔ آخر یہ سب کچھ کیا ہے ؟ محض اغیار کی تہذیب و تمدن اور ان کی ذہنی غلامی کا اثر ہے کہ مغلوب اقوام اپنا سب کچھ بھول کر انہی کے رنگ میں رنگی جاتی ہیں۔ یہی اجتماعی غلامی ہے جو شخصی غلامی سے بھی بدتر ہے۔ مکاتیب کے ساتھ مالی تعاون : ارشاد ہوتا ہے والذین یبتغون الکتب مما ملکت ایمانکم تمہارے جو غلام مکاتبت اختیار کرنا چاہیں یعنی مال کے بدلے میں آزادی حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں۔ ان کے متعلق فرمایا فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرا پس اگر تم ان میں بہتری معلوم کرو تو انہیں کاتبت کا حق دے دو یعنی ان کے ساتھ اس قسم کا معاہدہ کرلو کہ وہ مقررہ رقم ادا کرکے آزاد ہوجائیں۔ بہتری معلوم کرنے سے مراد یہ ہے کہ ایسے غلاموں کی اچھی طرح چھان بین کرلو اور ان کی صلاحیت کو جانچ لو کہ آزاد ہو کر اور نکاح کرکے شرافت کی زندگی بسر کریں گے یا بدکاری اور فحاشی کا سبب بنیں گے۔ اگر تم سمجھے ہو کہ آزاد ہو کر یہ معاشرے کے بہتر فرد ثابت ہوں گے تو ان سے نہ صرف مکاتبت کا معاہدہ کرلو بلکہ واتوھم من مال اللہ الذی اتکم جو مال تمہیں اللہ نے دیا ہے اس میں اس سے ایسے مکاتیب کو بھی ادا کرو تاکہ وہ جلد سے جلد مقررہ رقم ادا کرکے آزادی کی نعمت حاصل کرسکیں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا مالی تعاون خود مالک سے تو توقع نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اسے تو یہ مال وصول کرنا ہے لہٰذا اس حکم کے مخاطب عام صاحب ثروت مومن ہیں کہ اس قسم کے باصلاحیت لوگ اگر غلامی کا جو اتار پھینکنا چاہیں تو ان کی مدد کردو۔ یہ بھی غلامی کے خاتمے کی اللہ نے ایک صورت بیان فرمائی ہے۔ مختلف نظام ہائے معیشت : آیت کے ان دو جملوں میں اللہ تعالیٰ نے معیشت کے اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں دو بڑے معاشی نظام رائج ہیں۔ ایک سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) ہے جب کہ دوسرا اشتراکی نظام (Socialism) ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ اس میں شخصی ملکیت کا تصور پایا جاتا ہے۔ جو آدمی جتنا چاہیکاٹے ، جائداد پیدا کرے اور جتنا چاہے خرچ کرے اس پر کوئی پابندی نہیں سوائے اس کے کہ وہ حکومت کو مقرر ٹیکس ادا کرتا رہے۔ اس نظام میں بنیادی خرابی یہ ہے کہ نہ تو اس کے ذرائع آمدنی پر جائز وناجائز کی پابندی ہے اور نہ اس کے اخراجات پر کسی حلت و حرمت کا اطلاق ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر کوئی شخص بدترین قسم کا کاروبار کرتا ہے یا کوئی عورت قحبہ گری کے ذریعے دولت کمانا چاہتی ہے تو اسے لائسنس مل جائے گا اور اس کے راتے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اپنی دولت عیاشی ، فحاشی ، جوئے اور حرام کاری پر خرچ کرتا ہے تو بھی اس پر کوئی قدغن نہیں۔ اس وقت امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی پاکستان اور ہندوستان غرضیکہ تقریباً نصف دنیا میں یہی سرمایہ دارانہ نظام رائج ہے۔ دوسری طرف اشتراکی نظام ہے ۔ جو روس ، چین اور دیگر ممالک میں رائج ہے اس میں قباحت یہ ہے کہ اس نظام میں شخصی ملکیت کا کوئی تصور نہیں بلکہ ہر چیز حکومت کی ملکیت میں ہوتی ہے۔ نہ زمین کسی کی شخصی ملکیت میں ہوتی ہے نہ مکان نہ کارخانہ اور نہ تجارت ، تمام وسائل آمدنی حکومت کی تحویل میں ہوتے ہیں اور کارکن اپنی محنت کے مطابق معاوضہ پاتے ہیں یہ بھی غیر فطری نظام ہے۔ اور اس کی بنیاد بےدینی پر ہے اس نظام کے پیروکار کسی آسمانی کتاب یا شریعۃ کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے بقول مذہب کا سارا سلسلہ ہی باطل ہے کہتے ہیں کہ مذہب ایک قسم کی افیون ہے جو لوگوں کو قابو رکھنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دونوں نظام لعنتی ہیں اور اسلام کا معاشی نظام ہی فطرت کے عین مطابق اور صحیح ہے۔ اسلامی نظام معیشت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر چیز کا حقیقی مالک تو خدا تعالیٰ ہے مگر اس نے عارضی طور پر انسانوں کو بھی مالک بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے لوگوں کو کسب وصرف میں آزاد نہیں چھوڑا کہ جس طرح چاہے کمائے اور جہاں چاہے خرچ کرے ، بلکہ مال کے کمانے اور اس کو خرچ کرنے پر حلت و حرمت اور جائز وناجائز کی پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔ اسلام نے مال کو جمع کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں لگائی بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال کے حقوق ادا کرنے کا پابند ضرور بانیا ہے۔ اسلام حلال اور جائز ذرائع سے ہی مال حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور چوری ، ڈکیتی ، سمگلنگ ، قحبہ گری ، فوٹو گرافی شراب فروشی اور جوئے کے ذریعے کمائی سے منع کرتا ہے۔ اس طرح اسلام اخراجات کے معاملے میں بھی صرف جائز امور پر خرچ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ رسم و رواج ، گانے ، بجانے ، عیاشی ، فحاشی ، بدکاری وغیرہ پر خرچ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اللہ نے جمع شدہ مال میں سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا ہے ، صدقہ و خیرات کی تلقین غرباء مساکین اور ہمسایوں کے حقوق پر زور دیا ہے۔ حج ، قربانی ، عمرہ وغیرہ پر خرچ کرنے کی تلقین ، وصیت اور وراثت کا طریقہ بتلایا ہے اور اس طرح پوری اسلامی سوسائٹی کو نظم وضبط کا پابند کرکے شخصی ملکیت کے حقوق بھی دیے ہیں انسان جائز ذرائع سے مکان بنا سکتا ہے ، زمین خرید سکتا ہے۔ پانی رقم تجارت اور کارخانے اور کھیتی باڑی میں لگا سکتا ہے۔ اسلامی معیشت کا ایک زریں اصول یہ ہے کہ حلال کمائی میں سے مستحقین کو حصہ اداکرو تاکہ تمہارا مال محض امراء میں ہی نہ گردش کرتا رہے بلکہ اس کا رخ اوپر کے طبقے سے نیچے کے طبقے کی طرف ہونا چاہیے ، تاکہ اللہ کی مخلوق کا کوئی فردواحد بھی اپنی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے۔ بہرحال سرمابہ دارانہ اور اشتراکی دونوں نظام ہائے معیشت غیر فطری اور باطل ہیں اور اسلامی نظام معیشت ہی فطری اور جائز ہے۔ آج دنیا کی اقتصادی بدحالی کا علاج صرف اسلامی نظام میں مضمر ہے۔ آیت ہذا کے اس جملے سے یہ ساری بات واضح ہوتی ہے۔ قحبہ گری کی ممانعت : زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ اپنی لونڈیوں سے ناجائز کمائی کرواتے تھے۔ مدینہ کے منافقوں میں عبداللہ بن ابی کی چھ سات لونڈیاں اسی کام پر مامور تھیں اور ان میں سے بعض ایمان بھی لاچکی تھیں مگر اپنے مالک کے ہاتھوں مجبور تھیں انہوں نے حضور ﷺ سے اس بات کی شکایت کی تو اللہ نے یہ حکم نازل فرمادیا۔ ولا تکرھوا فتیتکم علی البغاء اپنی لونڈیوں کو بد کاری پر مجبور نہ کرو ان اردن تخصنا اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہیں۔ اور تم چاہتے ہو۔ لتبتغوا عرض الحیوۃ الدنیا کہ اس قبیح ذریعہ سے دنیا کا سامان حاصل کرلو۔ فرمایا یہ تو بہت ہی بری بات ہے کہ تم دنیا کے مال کے لالچ میں لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرتے ہو۔ فرمایا ومن یکرھھن اور جو کوئی ان کو مجبور کریگا ۔ تو اس کا گناہ اس مالک پر ہوگا جو انہیں مجبور کرتا ہے حالانکہ لونڈیاں ایسا نہیں کرنا چاہتیں۔ جہاں تک ان کی ذات کا تعلق ہے فان اللہ من بعدا کر اھھن غفور رحیم ، ان کی مجبوری کی بناء پر اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔ چونکہ لونڈیاں اس فعل بد سے بچنا چاہتی ہیں ، اس لئے اس عمل کا گناہ ان پر نہیں ہوگا ، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے انہیں معاف فرمادے گا۔ زنا کے معاملہ میں مسئلہ یہی ہے کہ اگر کسی کو مجبور کرکے بدفعلی کی جائے تو مجبور پر حد جاری نہیں کی جائے گی۔ ترمذی شریف میں روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ زبردستی کی۔ جب معاملہ حضور ﷺ کی سامنے پیش ہوا تو اس عورت نے اپنی بےبسی کا اظہار کیا۔ اس پر آپ نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ پھر متعلقہ مرد کو بلایا گیا۔ اس نے اس حرکت کا اقرار کیا تو اس پر حد جاری کردی گئی۔ بہرحال قحبہ گری ہو یا زبردستی کا معاملہ ، اللہ تعالیٰ نے اس کی سخت مذمت بیان فرمائی۔ فرمایا کسب البغی خبیث بدکاری کے نتیجہ میں حاصل ہونے والا مال قطعاً خبیث یعنی حرام ہے۔ قانون کی پابندی : اس رکوع کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے قانون کی پابندی اختیار کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ولقد انزلنا الیکم آیت مبینت بیشک ہم تمہاری طرف واضح واضح آیتیں نازل کی ہیں۔ اس سے مراد احکام قانون اور دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی راہنمائی کے لئے نازل فرمائے ہیں اب کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے قانون خداوندی کی سمجھ نہیں آئی۔ اسی سورة مبارکہ میں اللہ نے انسداد زنا کا قانون دیا ہے۔ قذف کی حد مقرر کی اور لعان کا طریقہ بتایا ہے۔ پھر غض بصر کی تعلیم دے کر پردے کے احکام نازل فرمائے ہیں ، پاکدامنی کی تاکید کی ہے۔ یہ تمام احکام وقوانین ایسے ہیں جو آسانی سے سمجھ میں آجاتے ہیں۔ اور ان پر عمل درآمد میں کوئی چیز مانع نظر نہیں آتی۔ اسی لئے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف بالکل واضح آیتیں نازل فرمائی ہیں تاکہ تم ان پر عمل پیرا ہو کر ہر قسم کی خرابی سے بچ جائو۔ سابقہ واقعات بطور نصیحت : اس آیت میں اللہ نے دوسری بات یہ بیان کی ہے ومثلا من الذین خلوا من قبلکم اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی کچھ مثالیں اور حال بھی بیان کیا ہے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ یہ واقعات تمہارے سامنے بطور نمونہ ہیں تاکہ انہیں دیکھ کر اور سن کر تم عبرت حاصل کرسکو۔ ان عبرت آموز واقعات میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر اتہام ہے جو منافقین نے لگایا اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی بریت فرمائی۔ بالکل اسی قسم کا واقعہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی پیش آیا۔ جب زلیخا نے آپ پر زیادتی کا الزام لگایا مگر زلیخا کے خاندان کے ایک بچے نے آپ کی پاکدامنی کے حق میں بیان دیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش پر حضرت مریم ؓ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا اور انہیں بدکاری کے جرم میں مہتم کیا گیا مگر خود عیسیٰ (علیہ السلام) نے بول کر آپ کی بریت کردی۔ بہرحال ناجائز طور پر مہتم کرنے کی یہ مثالیں تاریخ عالم میں موجود ہیں جن کی طرف اشارہ کرکے اللہ نے یہاں فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے سامنے سابقہ لوگوں کی کچھ مثالیں اور واقعات بھی بیان کیے ہیں جن میں عبرت کا سامان ہے۔ نیز وموعظۃ للمتقین اور متقیوں کے لئے نصیحت بھی ہے۔ اس قانون زنا وقذف کے ذریعے لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ خبردار ! کسی بیگناہ پر تہمت نہ لگانا۔ اگر ایسا کرو گے تو قانون کی رو سے سزا کے مستحق ٹھہرو گے جس سے دنیا میں رسوائی ہوگی اور اگر توبہ نہیں کرو گے تو آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوگے۔
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نور ہے آسمان کا اور زمین کا۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق ہو جس میں ایک چراغ ہو۔ اور چراغ شیشے میں رکھا ہوا ہو۔ اور شیشہ بھی ایسا چمکیلا گویا کہ وہ ایک چمکتا ہوا ستارہ ہے۔ جس کو جلایا جاتا ہے ایسے تیل سے جو زیتون کے مبارک درخت سے حاصل کیا گیا ہو ، جو نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ قریب ہے کہ اس کا تیل چمک اٹھے اگرچہ نہ پہنچے اس کو آگ ، روشنی پر روشنی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے اپنی روشنی کے لئے جس کو چاہے ۔ اور بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ مثالیں لوگوں کے لئے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے

ربط آیات : اس سورة میں پہلے اللہ نے حدود کا ذکر کیا ، پھر واقعہ افک بیان ہوا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے نظام عفت وعصمت کے مختلف قوانین بیان ہوئے۔ دوسروں کے گھروں میں جانے کے آداب بیان ہوئے ، غیر محرموں اور اجنبیوں سے ملاقات کے وقت نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہوا ، عورتوں کے لئے پردے کے خصوصی احکام دیئے گئے کہ وہ اپنی زیب وزینت کو محرموں کے علاوہ کسی پر ظاہر نہ کریں۔ پھر اللہ نے نکاح کرنے کی ترغیب دی تاکہ سوسائٹی میں بدکاری کا سلسلہ پیدا نہ ہو۔ اور نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو تو معاشرے میں پاکدامن بن کر رہنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد مکاتبت کا قانون بیان ہوا۔ کہ اس معاملہ میں غلاموں کے ساتھ مالی تعاون کروجو لوگ اپنی لونڈیوں سے بدکاری کے ذریعے مال کمانا چاہتے تھے ان کی مذمت بیان ہوئی۔ پھر اللہ نے نصیحت کے طور پر فرمایا کہ ہم نے تمام واضح احکام نازل کردیے ہیں اور پہلے لوگوں کی بعض مثالیں بھی پیش کی ہیں جن میں تمہارے لئے عبرت اور نصیحت کا سامان ہے۔ مشکل ترین آیت : آج کی آیت نور قرآن پاک کی مشکل ترین آیت سمجھی جاتی ہے جس میں اللہ نے اپنے آپ کو آسمانوں اور زمین کا نور قرار دے کر اسے ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے۔ قرآن پاک میں کئی ایک چیزوں کو نور کا نام دیا گیا ہے مثلاً قرآن پاک کے متعلق فرمایا وانزلنا الیکم نور ا مبینا (النساء 175) گویا قرآن کو نور کہا گیا ہے۔ پھر آسمانی کتابوں تورات اور انجیل کو بھی نور کہا گیا ہے۔ جیسے ارشاد ہے انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور (مائدہ 44) اسی طرح انجیل کے متعلق فرمایا واتینہ… ………ونور (مائدہ 46) حدیث (ابن ماجہ ص 310 وتفیر مظہری ص 305 ج 4 وکنز العمال ص 206 ج 7 (فیاض) میں نماز کو بھی نور کہا گیا ہے الصلوٰۃ نور المومن (ابن ماجہ) ہدایت کو بھی نور کہا گیا ہے اور اس کے برخلاف کفر ، شرک ، بدعت ، گمراہی اور برائیوں کو ظلمت اور تاریکی کا نا دیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کی ایک مثال بیان فرمائی ہے جس کا سمجھنا انتہائی مشکل ہے اور اس کے لئے بڑی کاوش کی ضرورت ہے۔ امام غزالی (رح) نے اس آیت کی تشریح میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس کا نام مشکوۃ الانوار ہے۔ شاہ رفیع الدین محدث دہلوی (رح) نے بھی اس آیت کی تفسیر میں ایک رسالہ موسومہ (یہ رسالہ ادارہ نشرواشاعۃ مدرسہ نصرۃ العلوم نے شائع کیا ہے (فیاض) تفسیر آیت نورلکھا ہے ۔ اس رسالہ میں پچیس مختلف تفسیریں بیان کی گئی ہیں۔ امام رازی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین نے بھی اس آیت کی تشریح میں بہت کچھ لکھا ہے۔ اللہ نے اپنے آپ کو آسمانوں اور زمین کا نور فرمایا ہے۔ ادھر سورج اور چاند کا اپنا نور ہے ، آگ کا بھی نور ہے مگر یہ سارے نور حادث ہیں جو اللہ نے پیدا کیے ہیں مگر اللہ تو قدیم ہے۔ چناچہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس نور کو اللہ نے اپنی طرف منسوب کرکے آسمانوں اور زمین کا نور فرمایا ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین کرام نے اپنے اپنے طریقے پر اس کی تشریح بیان کی تاکہ اس کا مطلب ہمارے ذہنوں کے قریب آسکے۔ شاہ ولی اللہ (رح) کی تفسیر : شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اپنے فارسی ترجمہ قرآن فتح الرحمان اور اصول تفسیر کی کتاب الفوز الکبیر میں اللہ نور السموت والارض میں نور سے مراد ہادی لیا ہے ۔ اور مطلب یہ نکالا ہے کہ اللہ ہی ہدایت دینے والا ہے اہل سماوات اور اہل ارض کو ، پھر فرماتے ہیں مثل نورہ کمشکوۃ فیھا مصباح اس کے نور کی مثال ایک طاق کی ہے۔ جس میں چراغ ہو۔ اس سے مراد اللہ کی دی ہوئی ہدایت اور روشنی ہے جو مومن کے دل میں ہے۔ یہ تو اللہ کے نور کی تشبیہ ہے اور اصل بات یہ ہے کہ جب عبد مومن طہارت اور خدا تعالیٰ کی عبادت پر مواظبت کرتا ہے تو اس کے اندر یہ نور پیدا ہوتا ہے اور اس کی مثال اس چراغ کے ساتھ دی ہے جس کی روشنی نہایت ہی چمکدار ہے۔ پھر اس میں جلائے جانے والے تیل کی تعریف کی ہے اور اس کی شفافیت کا ذکر کیا ہے۔ تو اس طریقے سے شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں نور سے مراد ہادی اور راہنما ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ کی تفسیر : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی اسی قسم کی تفسیر منقول ہے ۔ کہ انہوں نے نور سے مراد ہادی لیا ہے یعنی خدا تعالیٰ زمین وآسمان والوں کے لئے ہادی اور راہنما ہے ، پس وہ اللہ کے دیے ہوئے نور کے ساتھ ہی حق کی طرف ہدایت پاتے ہیں ، اور اس ہدایت کے ذریعے وہ گمراہی کی حیرت سے نجات پاتے ہیں۔ گویا اس نور سے وہی نور مراد ہے جس کے ذریعے مومن آدمی خدا تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات اور اس کے فرمودات کی تصدیق کی طرف راہنمائی حاصل کرتا ہے اور یہ نور مومن کے دل میں ہوتا ہے۔ مومن کے دل میں تو پہلے سے ہی علوم ومعارف اور اطمینان کا نورہوتا ہے ، پھر جب اس کے پاس باہر سے کتاب و سنت کا علم آتا ہے تو اس کی روشنی بہت بڑھ جاتی ہے۔ جسے نور علی نور کا نام دیا گیا ہے۔ گویا ایک قلب کا نور ہے اور دوسرا قرآن وسنت کا۔ مومن کے دل کے ابتدائی علوم ومعارف کی بناء پر ہی حضور ﷺ کا فرمان (مظہری ص 531 ج 6 (فیاض) ہے۔ استفت قلبک ونفسک وان افتک المفتون اگرچہ مفتی لوگ تمہیں فتویٰ دیں مگر پہلے تم اپنے قلب اور نفس کے اطمینان کی حالت کو دیکھو اور اس سے دریافت کرو کہ وہ کیا کہتا ہے۔ ابی ابن کعب ؓ کی تفسیر : حضرت ابی ابن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ مشکوٰۃ سے مرادسینہ ہے ، اور مصباح سے مراد قرآن اور شیشے سے مراد مومن کا دل ہے۔ مطلب یہ کہ مرد مومن کا قلب شیشے کی طرح شفاف ہے اور اس کے سینے میں قرآن کریم کا چراغ روشن ہے۔ فرماتے ہیں کہ مومن میں چار خصلتیں پائی جاتی ہیں (1) جب اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت حاصل ہو تو شکر ادا کرتا ہے (2) اگر کسی مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو صبر سے کام لیتا ہے (3) جب وہ فیصلہ کرتا ہے تو عدل سے کرتا ہے۔ کسی پر ظلم و زیادتی نہیں کرتا ۔ اور (4) جب بات کرتا ہے تو ہمیشہ سچائی کی بات کرتا ہے ، جھوٹ ، فریب اور کذب بیانی کو قریب نہیں آنے دیتا۔ ایسا شخص نور علی نور پر ہے اور وہ پانچ قسم کے انوار سے منور ہوتا ہے۔ اس کا کلام بھی ہوتا ہے اور عمل بھی۔ اس کا کسی جگہ داخل ہونا بھی نورہوتا ہے۔ اور خارج ہونا بھی نور ہوتا ہے۔ اور پانچویں بات یہ کہ اس کا چلنا بھی بالا نتہا نور کی طرف ہوگا یعنی قیامت والے دن وہ شخص جنت کی طرف چلے گا جو مقام نور ہے۔ گویا ایسے شخص کو ہر طریقے سے نور ہی نور حاصل ہوگا۔ اس تفسیر کو امام ابن کثیر (رح) نے بھی اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ امام ابوبکر حصاص (رح) پہلے نور سے مراد نور توحید اور نور ایمان لیتے ہیں جو مومن کے دل میں پایا جاتا ہے اور دوسرے نور سے قرآن مراد لیتے ہیں۔ اور اس طرح قرآن وسنت کی صورت میں آنے والا بیرونی نور نور قلب میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) کی تفسیر : صاحب تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نور السموت والارض میں نور اللہ تعالیٰ کا اسم پاک اور اس کی صفت بھی ہے۔ اللہ کے اسمائے پاک میں نور اور ہادی کے اسماء آتے ہیں۔ تو آپ فرماتے ہیں کہ یہاں پر لفظ نور فاعل کے معنوی میں استعمال ہوا ہے اللہ منور السموت والارض یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو روشن کرنے والے ہے۔ فرماتے ہیں کہ اللہ نے آسمان اور بلندی کو سورج ، چاند اور ستاروں کے ذریعے قائم کیے جانے والے نظام شمسی کے ذریعے روشن کیا ہے۔ اور زمین کی روشنی سب سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) ، پھر ملائکہ اور پھر ایمان والوں کے ذریعے پیدا ہوتی ہے غرضیکہ قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں نور بمعنی منور آیا ہے۔ امام غزالی (رح) کی تشریح : امام غزالی (رح) نے آیت نور کی تشریح اپنی کتاب مشکوٰۃ الانوار میں کمی ہے۔ فرماتے ہیں کہ نور ایک ایسی چیز ہے جو خود ظاہر ہوتا ہے اور دوسری چیزوں کو ظاہر کرتا ہے اور اس مقام پر اللہ نور السموت والارض سے مراد یہ ہے اور اس مقام پر اللہ نور السموت والارض سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا موجد یعنی ظاہر کرنے والا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہر چیز کا موجد اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ساری کائنات کتم عدم میں تھی اور عدم سے بڑھ کر کوئی تاریکی نہیں۔ پھر اللہ نے عدم کے اندھیرے سے کائنات کو ظاہر کیا ، اس کو وجود بخشا اور وجودنور ہی ہوتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات خدا تعالیٰ کے وجود کا عکس ہے اس طرح اللہ ہی حقیقت میں آسمانوں اور زمین کی ہستی کا موجد یعنی اس کو ظاہر کرنے والا ہے۔ فرماتے ہیں کہ کائنات کا وجود دو عدموں کے درمیان ہے۔ کائنات کی تخلیق سے پہلے بھی عدم تھا اور اس کے فنا ہوجانے کے بعد بھی عدم ہوگا ، اور جو چیز دو عدموں کے درمیان ہو وہ معدوم ہی سمجھی جاتی ہے ۔ تو اس لحاظ سے کائنات کا کوئی وجود نہیں کیونکہ یہ بالکل عارضی ہے اور فنا ہوجانے والی ہے۔ حقیقت میں وجود صرف ذات خداوندی کا ہے جو لازوال ہے بہرحال امام غزالی (رح) نے نور کو موجد کے معنی میں لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کو ظاہر کرنے والا ہے ، تاہم عام مفسرین نے نور کا معنی ہادی کیا ہے کہ آسمانوں اور زمین والوں کی راہنمائی کرنے اور ہدایت دینے والا اللہ ہی ہے۔ نورربط مدح : عربی زبان میں نور مدح کے طور پر بھی استعمال کیا گیا ہے اور اس سے مراد قبیلے کا سردار ہوتا ہے۔ مثلاً کسی قبیلے کا سردار اپنی قوم پر فخر کرتے ہوئے کہتا ہے۔ الم ترانا نور قوم وانما یبین فی الظلماء للناس نورھا کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہم قوم کے نور یعنی راہنما ہیں اور ہم ہی لوگوں کے لئے اندھیروں میں روشنی کی شمع جلاتے ہیں یعنی مشکلات میں ہم ہی کام آتے ہیں۔ جب بھی کوئی معرکہ پیش آتا ہے تو م قبیلے کے فخر کو برقرار رکھتے ہیں۔ اسی طریقے سے ایک شاعر نہ بھی کہا ہے ؎ اذا سار عبداللہ من مرولیلۃ فقد سار منھا نورھا وجما لھا جب عبداللہ کسی رات مرو سے چلا جائے تو شہر کی روشنی اور خوبصورتی ہی چلی جاتی ہے۔ یہ غالباً حضرت عبداللہ بن مبارک (رح) کے بارے میں کہا گیا ہے کہ آپ مرو کے رہنے والے تھے۔ اس کے علاوہ محدثین کرام نے بھی نور کی تشریح بیان کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جب رات کو سو کر بیدار ہوتے تو اس طرح دعائیہ کلمات ادا فرماتے اللھم لک الحمد انت نورالسموت والارض ولک الحمد انت قیام السموت والارض…الخ اے اللہ سب تعریفیں تیرے لئے ہیں تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور تو ہی آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے۔ آپ یہ کلمات بھی ادا فرماتے تھے الھم اجعل فی قلبی نورا وفی بصرف نورا وفی سمعی نورا…الخ اے اللہ میرے دل میں نورہدایت ڈال دے ، اور آنکھوں اور کانوں میں نور بنادے۔ حضور ﷺ تمام اعضاء کا ذکر فرماتے کہ مولا کریم ! ان کو منور کردے۔ نور الٰہی کی مثال : فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے مثل نورہ کمشکوۃ اس کے نور کی مثال ایک طاق ہے فیھا مصباح جس میں چراغ ہو المصباح فی زجاجۃ چراغ شیشے کی قندیل میں ہو الزجاجۃ کانھا کوکب دری اور قندیل چمکدار ستارے کی طرح شفاف ہو۔ یوقد من شجرۃ مبرکۃ زیتونۃ چراغ ایسے تیل سے جلایا جاتا ہو جو زیتون کے مبارک درخت سے حاصل کیا گیا ہو۔ لا شرقیۃ ولا غربیۃ جو نہ مشرقی ہو اور نہ مغربی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہاں پر خاص طور پر حضور ﷺ کے قلب مبارک کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ عتالیٰ نے آپ کے قلب میں قرآن کا نور ڈالا ہے اور آپ نہ مشرق کے رہنے والے ہیں اور نہ مغرب کے بلکہ آپ کو اللہ نے عرب کے خطہ وسطیٰ میں پیدا کیا جہاں کی بود وباش مشقت طلب تھی اور اللہ نے اس خطے میں ہدایت کے سلسلے کو جاری فرمایا۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس سے حضور ﷺ کا قلب مراد لیا جائے یا عام ایمان والوں کا ، اس میں جس تیل کا ذکر ہے وہ باغ کے مشرق ومغرب کی بجائے وسطی حصے سے ہو ، ظاہر ہے کہ جو تیل باغ کے بیرونی گرم حصوں سے لیا جائے وہ اتنا لطیف نہیں ہوگا جتنا باغ کے وسطی حصے کے درخت سے حاصل کیا گیا ہو۔ اس لئے فرمایا کہ چراغ کو ایسے درخت کے تیل سے روشن کیا گیا ہو جو نہ شرقی ہو اور نہ غربی۔ اور وہ تیل اتنا شفاف اور لطیف ہوگا یکاد زیتھا یضیء ولولم تمسسہ نار قریب ہے وہ چمک اٹھے اگرچہ آگ اس کو چھوٹے بھی نہ۔ گویا اس تیل میں جل اٹھنے کی اتنی صلاحیت ہو کہ وہ بغیر آگ دکھائے جل اٹھے۔ چراغ کے ساتھ تشبیہ کیوں ؟ : امام ابوبکر محمد ابن عبدالقادر رازی (رح) نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کی مثال چراغ کے ساتھ کیوں دی ہے۔ حالانکہ اس کے مقابلے میں سورج لاکھوں کروڑوں درجے زیادہ چمکدار اور روشن ہے۔ پھر خدا ہی بیان کرتے ہیں کہ نور ایمان اور توحید مومن کے قلب میں ہوتا ہے ، قلب سینے اور سینہ انسان کے جسم میں ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے چراغ کی مثال ہی زیادہ موزوں ہے کہ چراغ ایک شیشے میں ہے اور شیشہ طاق میں رکھا ہوا ہے۔ یہ تشبیہ سورج کے ساتھ کسی طرح بھی موزوں نہیں ہوسکتی۔ دوسری وجہ یہ فرماتے ہیں کہ جس طرح چراغ جلانے کے لئے تیل ، بتی اور قندیل وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے ، اسی طرح نور قلب کے لئے بھی ذہن ، فہم ، بیداری اور انشراح کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے بھی نور ایمان کو چراغ کے ساتھ ہی زیادہ مناسبت ہے کیونکہ سورج میں یہ لوازمات نہیں پائے جاتے۔ اس تشبیہ کی تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ سورج کی روشنی کا رخ عالم زیریں کی طرف ہوتا ہے جب کہ نور معرفت کا رخ عالم بالا کی طرف ہوتا ہے۔ چراغ کی روشنی کا رخ بھی چونکہ اوپر کی طرف ہوتا ہے اس لئے چراغ کی مثال بیان کی گئی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ سورج کی روشنی تو صرف دن کے وقت ہوتی ہے۔ چونکہ نور معروفت بھی دن رات جاری رہتا ہے ، اس لئے اس کی چراغ کے ساتھ زیادہ مشابہت ہے۔ اس تشبیہ کی پانچویں وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ سورج کی روشنی اور گرمی تو مومن کافر ، ملحد سب کے لئے یکساں مفید ہے۔ جب کہ نور معرفت خواص کو حاصل ہوتا ہے۔ چونکہ چراغ کی روشنی بھی عام کے لئے نہیں بلکہ خواص کے لئے ہوتی ہے ، اس لئے نور کو چراغ کے ساتھ تشبیہ دی گئی۔ بعض کہتے ہیں کہ نور الٰہی کو چراغ کی بجائے شمع کے ساتھ تشبیہ دینی چاہیے تھی ، مگر امام ابوبکر بن عبدالقادر رازی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ نسبت بھی مناسب نہیں کیونکہ شمع میں روشنی والے اصل مادہ کے علاوہ ملاوٹ بھی ہوتی ہے۔ جس کہ نور ایمان کسی ملاوٹ سے بالکل پاک ہوتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ شمع کا فوری جلانا صرف اغنیا کا کام ہے جس میں غرباء کو حصہ نہیں ملتا۔ اس کے برخلاف نور معرفت زیادہ فقرا کے حصے میں آتا ہے ، اس لئے بھی شمع کے ساتھ تشبیہ موزوں نہیں ہے۔ قلب کی حالت : مسند احمد میں ابو سعیدخدری ؓ سے روایت بیان کی گئی ہے۔ کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ قلوب چار قسم کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کو قلب اجرد کہا جاتا ہے جو بالکل صاف شفاف ہوتا ہے اور جس میں نور ایمان کا چراغ روشن ہوتا ہے یہ مومن کا قلب ہے دوسری قسم کا قلب بند قلب ہوتا ہے اور جس پر غلاف چڑھا ہوتا ہے ، یہ کافر کا دل ہے جس میں ہدایت کی کوئی چیز داخل نہیں ہوتی۔ تیسرا قلب الٹا ہے جو منافق کا ہے ۔ وہ حقیقت کو دل سے تسلیم نہیں کرتا ، بلکہ پہچان کر پھر انکار کردیتا ہے۔ چوتھا دل پہلودا ر ہے۔ اس کے کئی پہلو ہیں ، کسی میں ایمان ہے اور کسی میں نفاق ہے ۔ ایمان کی مثال ایک پاکیزہ پودے کی ہے جس کو پانی ملتا رہے تو وہ نشونما پاتا رہتا ہے اور خوب پھلتا پھولتا ہے اس کے برخلاف نفاق کی مثال ایک پھوڑے کی ہے جس میں خون اور پیپ دو قسم کے مادے پائے جاتے ہیں۔ اگر خون غالب آجائے تو آدمی صحت یاب ہوجاتا ہے اور اگر پیپ غالب آجائے تو وہ مہلک ثابت ہوتی ہے ، منافق کا دل بھی ایسا ہی ہے۔ اگر اس میں ایمان کو غلبہ ہوجائے تو وہ ایماندار بن جاتا ہے اور اگر نفاق غالب آجائے تو کافر ہوجاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) کا فلسفہ : امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے تفیہمات الٰہیہ میں بیان کیا ہے کہ اس مقام پر قلب سے مراد قلب محمدی بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اللہ نے سب سے زیادہ روشنی اسی قلب میں رکھی ہے۔ تاہم عام مومنین کے قلوب بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ آپ نے اپنی کتاب سطعات میں لکھا ہے کہ اگر کج فہمی مانع نہ ہو تو میں یہ کہوں گا کہ یہاں بیان کردہ مثال کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے طلسم الٰہی کو ظاہر کیا ہے۔ اس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ربط یا تعلق کائنات کے ساتھ کس طرح ہے۔ فرماتے ہیں کہ ساری کائنات ایک شخص واحد کی طرح ہے جس کے اندر تجلی اعظم کار فرما ہے۔ یہ تجلی سب سے پہلے خطیرہ القدس کے مقام پر اترتی ہے۔ پھر یہ عالم مثال کے ذریعے ملاء اعلیٰ اور ملاء سافل کے فرشتوں تک پہنچتی ہے۔ عالم مثال مادی جہان اور مجرد جہان کے درمیان واقع ہے مگر اس کی نسبت مادی جہان سے کم اور مجرد جہان کے ساتھ زیادہ ہے۔ تاہم یہ درمیان میں ایک واسطہ ہے جس کے ذریعے تجلی اعظم فرشتوں تک پہنچتی ہے اور پھر فرشتوں کے ذریعے اس کا ظہور تمام کائنات پر ہوتا ہے۔ خلاصہ کلام : بہرحال مفسرین کرام نے اس مشکل ترین آیت کی تشریح مختلف طریقوں سے بیان کی ہے۔ میں نے ان میں سے آسان آسان باتیں ذکر کردی ہیں۔ ان میں سے ہادی یا منور یا موجدنور الٰہی کے آسان مطالب ہیں اور اس نور کو حضور ﷺ کے قلب مبارک اور عام مومنین کے قلب پرچیاں کرنا زیادہ آسان ہے۔ فرمایا نور علی نور روشنی ہے۔ یعنی ایک روشنی مومن کے نور ایمان اور نور توحید کی روشنی ہے اور باہر سے آنے والی قرآن وسنت کی روشنی ہے یہ مل کر نور علی نور ہوجاتا ہے اور پھر یھدی اللہ لنورہ من یشاء ، اللہ تعالیٰ اپنے نور کے لئے جس کو چاہتا ہے راہ دکھاتا ہے۔ ویضرب اللہ الامثال للناس اور لوگوں کو سمجھانے کے لئے مثالیں بھی بیان کرتا ہے واللہ بکل شیء علیہم اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ کوئی چیز اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں ہے۔