Ayahs 24:36–38ربط آیات : قرآن پاک کے بارے میں ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے نور کا ذکر کیا گیا اور اس کی مثال بھی اللہ نے بیان فرمائی۔ اس نور کے متعلق مختلف مفسرین نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ میں ان آیات کا سابقہ آیت کے ساتھ ربط یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے جس نور کا ذکر فرمایا ہے وہ زیادہ تر اللہ کی مساجد میں عبادت وذکر کی وجہ سے مومن کے قلب میں جاگزیں ہوتا ہے۔
مساجد میں ذکر الٰہی :
ارشاد ہوتا ہے فی بیوت وہ روشنی اللہ تعالیٰ کے گھروں میں پائی جاتی ہے اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ جن کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان گھروں کو بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کے نام کا ذکر کیا جائے۔ ان گھروں سے مراد اللہ کی مسجدیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدیات اور رروشنی زیادہ تر انہی گھروں سے حاصل ہوگی جن کو بلند کرنے اور ان میں اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یسبح لہ فیھا بالغدوہالا صال ان مسجدوں میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ صبح اور پچھلے پہر ۔ یہی اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی عبادت ہے جو اللہ کے ان گھروں کا حق ہے۔ اگلی آیت میں ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں جو مساجد میں ذکر الٰہی کا اہتمام کرتے ہیں۔
مساجد کی تعمیر :
اس آیت کریمہ میں مساجد سے متعلق ترفع کا لفظ قابل توجہ ہے اللہ نے اپنے گھروں کو بلند کرنے کا حکم دیا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سے دو چیزیں مراد ہیں۔ ایک مسجدوں کی تعمیر اور دوسری ان کی صفائی۔ جہاں تک مساجد کی تعمیر کا تعلق ہے ، حضور ﷺ نے اس کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے ، سورة توبہ میں اللہ تعالیٰ نے مساجد کی تعمیر کو اہل ایمان کی ایک علامت کے طور پر بیان کیا ہے۔ انما……………الاخر (آیت 18) بیشک مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان (قرطبی ص 269 ج 12 (فیاض) بھی ہے اذارایتم الرجل یعتاد المسجد فاشھدوا لہ بالایمان ، جب تم کسی شخص کو مسجد کو دیکھ بھال کرتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو ۔ حضرت عثمان ؓ نے مسجد نبوی کو از سر نو تعمیر کیا تو بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا کہ مسجد کو اسی طرح رہنے دیا جاتا۔ جیسا حضور ﷺ کے زمانے میں تھی۔ آپ خاموش رہے۔ پھر جب اصرار بڑھا۔ تو آپ نے فرمایا ، تم لوگ مسجد کی تعمیر نور پر اعتراض کرتے ہو حالانکہ میں نے خود حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سنا (بخایر ص 64 ج 1 ومسلم ص 201 ج 1 (فیاض) ہے من ابنی للہ مسجدا بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ (صحیحین) جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر مسجد بنائی ، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا۔ فرمایا جہاں تک تعمیر نور پر اخراجات کا تعلق ہے ، تو میں کسی سے چندہ نہیں مانگتا بلکہ اپنے حلال مال سے مسجد کی تعمیر کررہا ہوں۔ حضرت عثمان ؓ تاجر پیشہ تھے اور اللہ نے آپ کو بڑی دولت سے نوازا تھا۔ چناچہ آپ نے مسجد کی تعمیر کے لئے بہترین کاریگروں کی خدمات حاصل کیں۔ برصغیر سے ساگوان کی لکڑی منگوا کر استعمال کی جو زیادہ خوبصورت اور دیرپا ہوتی ہے ، حضرت عثمان ؓ نے انپے بارہ سالہ دور خلافت میں بیت المال سے ایک پیسہ بھی وظیفہ کے طور پر وصول نہیں کیا ، بلکہ اپنے ذاتی اخراجات اپنے ذاتی مال سے پورا کرتے رہے ، البتہ خلافت کے امور کے لئے خرچہ بیت المال سے کرتے تھے ، بہرحال جب حضرت عثمان ؓ نے یہ حدیث لوگوں کو سنائی تو لوگ خاموش ہوگئے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جب کسی شخص کا ذاتی مکان گر جائے تو وہ اسے اچھی تعمیر کیے بغیر نہیں رہتا تو یہ تو اللہ کا گھر ہے ، اس کی تعمیر اچھے طریقے سے کیوں نہ کیا جائے۔
مساجد کی طہارت :
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ مساجد کی بلندی میں دوسری چیز ان کا طہارت ہے۔ جس کوئی مسجد تیار ہوجائے ، مسلمان اس میں نماز ادا کرنے لگیں تو پھر اس مسجد کی طہارت وصفائی بھی ضروری ہے۔ مسجدوں کو ہر قسم کی غلاظت سے پاک صاف رکھنا ضروری ہے حتیٰ کہ بیہودہ باتوں اور بیہودہ کاموں سے بھی مسجد کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ ابن ماجہ شریف کی روایت میں ہے کہ جو کوئی مسجد کی طہارت کا خیال نہیں رکھ سکتا۔ اسے مسجد میں جانے سے روک دینا چاہیے۔ چھوٹے بچے یا مجنوں آدمی کو مسجد کے آداب کا کچھ علم نہیں ہوتا اور ان کے بول ویراز کرنے کا بھی احتمال ہوتا ہے ، لہٰذا ان کو مسجد میں نہ جانے دیا جائے۔ ہاں جب بچہ پانچ سات سال کا باشعور ہوجائے۔ تو پھر بیشک مسجد میں جائے۔ مطلب یہ کہ مسجد کی طہارت کا ہر حال میں اہتمام ہونا چاہیے۔ ابودائو شریف کی روایت میں آتا ہے کہ گھر میں نماز کے لئے مخصوص جگہ کو بھی صاف رکھناچاہیے۔ وہاں کسی قسم کی گندگی نہ پھینکی جائے تاہم مساجد کی صفائی کا اہتمام تو بطور خاص ہونا چاہیے۔ تھوک اگرچہ ناپاک نہیں ہے مگر اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا مسجد میں تھوک گرانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔
حقیقت میں مساجد میں وہی کام ہونے چاہئیں جن کے لئے وہ تعمیر کی جاتی ہیں وہاں پر اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی عبادت ہونی چاہیے ، مساجد کو حصول علم کا ذریعہ بننا چاہیے۔ اگر یہ حقیقی مقاصد حاصل نہ ہوں تو پھر ظاہری ٹیپ ٹاپ کی وجہ سے مسجدیں آباد کہلانے کی مستحق نہیں ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان (ابودائود ص 71 ج 1) ہے لتزخرفنھا کما زخرفت الیھود والنصاریٰ (ابودائود) تم بھی مسجدوں کی ایسی ہی ٹیپ ٹاپ کرو گے یعنی ان کو مزین کرو گے جس طرح یہودونصاریٰ نے اپنی عبادت گاہوں کو کیا۔ بہرحال مسجد کی ظاہری نمودونمائش کو اتنا پسند نہیں کیا گیا۔ جتنا اس کی حقیقی آبادی کو پسند کیا گیا ہے کہ ان میں اللہ کی عبادت و ریاضت کی جائے۔
آداب مساجد :
آداب مساجد کے متعلق حضور ﷺ نے بہت سی توضیح فرمائی ہے۔ مثلاً مسجد میں آکر سلام کرنا اس کے آداب میں ہے۔ جب کوئی شخص مسجد میں آئے تو اگر مکروہ وقت نہیں تو دو رکعت نماز تحیۃ المسجد پڑھے کہ یہ بھی مسجد کے آداب میں سے ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان (بخاری ص 63 ج 1 ومسلم ص 248 ج 1) ہے اذا دخل احدکم المسجد فلیرکع رکعتین قبل ان یجلس (صحیحین) جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے۔ اگر بیٹھنے کے بعد پڑھو گے تو ثواب میں کمی آجائے گی۔
یہ بھی آداب مسجد میں داخل ہے کہ مسجد میں خریدوفروخت نہ کی جائے۔ حضور ﷺ نے (تفسیر ابن کثیر ص 293 ج 3 (فیاض) فرمایا کہ جب تم کسی کو مسجد میں خریدوفروخت کرتا دیکھو تو یوں کہوں لا ارئج اللہ تجارتک (ترمذی شریف) اللہ تعالیٰ تیری تجارت میں تمہیں نفع نہ دے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر معتکف آدمی کا کوئی کارندہ موجود نہ ہو تو وہ لین دین کی زبانی بات چیت کرسکتا ہے ، حضور ﷺ نے مسجد میں کھلا ہتھیار ، تیر ، تلوار ، نیزہ وغیرہ لے کر آنے کی ممانعت فرمائی ہے کہ یہ بھی سوء ادب میں داخل ہے۔
اگر مسجد سے باہر کوئی انسان ، جانور ، مال ومتاع گم ہوجائے تو اس کا اعلان مسجد میں کرنا خلاف ادب ہے۔ حضور ﷺ نے سختی سے منع فرمایا ہے ، اگر کوئی شخص گمشدگی کا اعلان کرتا ہے تو اسی طرح (بحوالہ قرطبی ص 282 ج 12 (فیاض) بددعا کرو لا ردھا اللہ علیک فان المسجد لا تبن لھذا (مسلم شریف) اللہ تعالیٰ تمہاری اس چیز کو واپس نہ لوٹائے ، مسجدیں اس کام کے لئے تو نہیں بنائی گئیں البتہ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر مسجد کے اندر کوئی چیز کم ہوجائے تو اس کا اعلان ایک دو صف تک کرلینے کی اجازت ہے آج کل مسجد کے لاوڈ سپیکر پر گمشدگی کے اعلان کا عام رواج ہوگیا ہے۔ چونکہ یہ اعلان مسجد کے اندر سے کیا جاتا ہے ، اس لئے درست نہیں۔ ہاں اگر اعلان کی جگہ اور لائوڈ سپیکر کے ہارن مسجد سے باہر ہوں تو پھر ایسا اعلان کیا جاسکتا ہے ، عام طور پر دارالعلوم دیو بند میں طلباء کی بعض چیزیں قلم ، کتاب وغیرہ گم ہوجاتی تھیں ، ہمارے زمانے میں وہاں کے ایک بزرگ ” بڑے میاں “ تقریباً ہر نماز کے بعد دروازے سے باہر کھڑے ہو کر اعلان کیا کرتے تھے کہ اگر کسی کا پن ، گھڑی یا کتاب وغیرہ گم ہوگئی ہے تو وہ نشانی بتا کرلے سکتا ہے ۔ مطلب یہ کہ مسجد میں گمشدگی کا اعلان نہیں ہونا چاہیے۔
مسجد میں دنیاوی باتیں کرنا بھی خلاف ادب ہے۔ ہمارے استاد شیخ الفقر والادب مولانا محمد اعزاز (رح) جب مسجد میں کسی کو گفتگو کرتے پاتے تو خاموشی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر مسجد سے باہر لے آتے اور کہتے کہ گفتگو کرنا ہے تو یہاں کرو ، مسجد میں فضول باتیں کرنا مکروہات میں داخل ہے۔ اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ مسجد میں کسی خاص جگہ پر بیٹھنے کے لئے جھگڑا کرنا بھی مسجد کے آداب کے خلاف ہے ، جو آدمی پہلے آکر کسی جگہ پر بیٹھ گیا ، اسے وہاں سے مت اٹھائو مسجد میں آواز کرنا بھی ٹھیک نہیں۔ حضور ﷺ نے منع فرمایا ہے ورفع اصواتکم (ابن مجاجہ) کہ تم مسجدوں میں اپنی آوازیں بلند کرو۔ اگلی صف میں جانے کے لئے گردنیں پھلانگنے سے بھی منع کیا گیا ہے بلکہ جہاں جگہ ملے بیٹھ جائو۔
یہ بھی مسجد کے آداب میں ہے کہ نمازی کے آگے سے نہ گزرو حضور ﷺ کا فرمان (بخاری ص 73 ج 1 ومسلم ص 197 ج 1 ونصب الرایہ ص 79 ج 2 بحوالہ بزار) ہے کہ اگر کسی کو پتہ چل جائے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے میں کتنا گناہ ہے تو وہ چالیس سال تک اپنی جگہ پر کھڑے رہنے کو پسند کرے بجائے اس کے کہ نمازی کے آگے سے گزر جائے۔ حضور ﷺ (بخاری ص 73 ج 1) نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے آگے سے گزرنا چاہتا ہے تو اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دو ۔ اگر پھر بھی وہ باز نہیں آتا تو وہ شیطان کا بھائی تصور ہوگا۔ مسجد میں بیٹھ کر انگلیاں چٹخانا اور بدن کے کسی حصے کے ساتھ کھیلنا بھی خلاف ادب ہے۔
مساجد کا ادب یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے ان میں اللہ کا ذکر کثرت سے کیا جائے۔ حضور ﷺ کا فرمان (ترمذی ص 505 (فیاض) ہے اذا مرر تم بریاض الجنۃ فارتعوا (ترمذی شریف) جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرو تو وہاں چرچگ لیا کرو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا ، حضور ﷺ ! جنت کے باغ کون سے ہی اور وہاں سے کھانے پینے کا کیا مطلب ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ مسجدیں جنت کے باغ میں اور وہاں سے کھانا پینا اللہ کا ذکر ، تسبیح وتحمید ہے۔ ان اذکار کا صلہ تمہیں جنت میں بہترین پھلوں کی صورت میں ملے گا۔ جو شخص اخلاص کے ساتھ ایک دفعہ سبحان اللہ کہتا ہے اس کے لئے جنت میں ایک پھلدار درخت لگا دیا جاتا ہے۔ یہ سب آداب مساجد ہیں جن کا خیال کرنا چاہیے۔
مومن مردوں کی صفات :
پہلی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ کے بندے اللہ کے گھروں میں صبح وشام تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اب دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بعض صفات بیان فرمائی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے رجال وہ ایسے مرد ہیں لا تلھیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ جنہیں تجارت اور فروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتیں۔ تجارت میں خرید وفروخت دونوں چیزیں آتی ہیں مگر اللہ نے فروخت کو علیحدہ بھی ذکر کیا ہے۔
اس کے متعلق بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ تجارت سے مراد وہ کاروبار ہے جو منافع کے لئے کیا جائے اور بیع مطلق ہے اگر کوئی شخص اپنی ضرورت کے تحت اپنی کوئی چیز فروخت کرتا ہے جس سے نفع حاصل مقصود نہیں تو وہ فروخت کہلائے گی۔ اس لئے اللہ نے ان دونوں چیزوں کو علیحدہ علیحدہ بیان کیا ہے۔
فرمایا ایسے لوگوں کونہ تو تجارت ذکر الٰہی سے غافل کرتی ہے واقام الصلوٰۃ وایتاء الزکوٰۃ اور نہ ہی نماز کے قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے روکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اپنا کاروبار بھی جاری رکھتے ہیں اور فرائض کو بھی برابر ادا کرتے رہتے ہیں اور اس میں سستی نہیں کرتے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ پہلے درجے میں یہ حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کی مدح ہے کہ ان کے ایمان اتنے پختہ تھے کہ دنیا کا کاروبار ان کے ذکر الٰہی میں حائل نہیں ہوتا تھا۔ بعد والے لوگ تو ان کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے تاہم ایسے خدا پرست ہمیشہ رہیں گے جن کے تعلق باللہ میں کوئی چیز مانع نہیں ہوسکتی اور وہ کاروبار دنیا کے ساتھ ساتھ ذکر وفکر میں بھی مصروف رہیں گے۔
فرمایا ان لوگوں کی دوسری صفت یہ ہے یخافون یوما تتقلب فیہ القلوب والابصار کہ وہ اس دن سے خوف کھاتے ہیں جس دن دل اور آنکھیں پلٹ جائیں گی۔ قیامت والے دن مضطرب ہوجائیں گے۔ ان کی آنکھیں کبھی پست ہوں گی اور کبھی اوپر ٹکٹکی باندھے حیرت انگیز واقعات کا مشاہدہ کریں گی۔ اس دن دل دھڑک رہے ہوں گے اور خوف سے بےقابو ہو رہے ہوں گے۔ مطلب یہ کہ ایسے لوگ قیامت کے خوف سے ہمیشہ لرزاں رہتے ہیں۔
ان کی جزا :
فرمایا ایسے خدا پرست لوگوں کا صلہ یہ ہوگا۔ لیجزیھم اللہ احسن ماعملو ویزیدھم من فضلہ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو بدلہ دے ان کے اچھے اعمال کا جو انہوں نے انجام دیے اور زیادہ دے ان کو اپنے فضل سے ، ان کے پاکیزہ عقائد ، ذکر الٰہی اور آداب مساجد کو ملحوظ رکھنے کا یقینا اچھا بدلہ ملے گا۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا مزید احسان بھی للذین احسنوا الحسنی و زیادۃ (یونس 26) بھلائی کا نتیجہ بلا شبہ اچھا نکلے گا مگر اس کے ساتھ مزید برآں بھی ملیگا جس کی کی تفسیر میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار اور اس کی تجلیات نصیب ہوں گی ، اللہ تعالیٰ اتنا زیادہ عطا کردے گا۔ جس کا انسان اس دنیا میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔
فرمایا واللہ یرز ق من یشاء بغیر حساب اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بغیر حساب کے روزی دیتا ہے ، خاص طور پر جنتیوں کو تو بےحساب ملے گا۔ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق بعض کو بےحساب دیتا ہے اور بعض کی روزی تنگ کردیتا ہے۔ اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر (الرعد 26) اس کی حکمت کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اولین درجہ میں صحابہ کرام ؓ کو ان انعامات سے نوازیں گے اور پھر ان کی اقتداء کرنے والے مومنین بھی اللہ کے ایسے ہی سلوک کے مستحق ہوں گے۔
Ayahs 24:39–40ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیت میں نور ہدایت کی مثال بتائی جو مومن کے دل میں ہوتا ہے اور پھر اوپر سے قرآن وسنت کی روشنی مل کر اس نور کو کئی گناہ بڑھا دیتی ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مساجد کے متعلق فرمایا کہ مذکورہ نور ہدایت زیادہ تر انہی گھروں میں ملتا ہے۔ اللہ نے ان گھروں کو بلند رکھنے اور ان میں کثرت سے اس کا ذکر کرنے کا حکم دیا۔ پھر اللہ نے اہل ایمان کی تعریف بیان کی کہ وہ ان پاکیزہ گھروں میں صبح اور پچھلے پہر اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اور وہ ایسے مرد ہیں کہ جن کی تجارت انہیں ذکر الٰہی ، اقامت صلوٰۃ اور ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کرتی ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں قیامت کا خوف ہے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو قیامت والے دن بہترین بدلہ اور اپنی طرف سے مزید انعام واکرام بھی عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد آج کی آیات میں اہل ایمان کے مقابلے میں کافروں اور مشرکوں کا حال بیان کیا ہے۔ قرآن پاک کا اسلوب بیان ہے دونوں گروہوں کا ذکر ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اگر اخلاص والوں کا ذکر ہو تو ساتھ منافقین کا حال بیان ہوتا ہے ، اور اگر اچھے لوگوں کا تذکرہ ہو تو ساتھ برے لوگوں کا انجام بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اس کو ترغیب اور ترہیب کا نام دیا گیا ہے ، ترغیب کا معنی رغبت دلانا ہے یعنی نیکوکاروں کا انجام بیان کرکے نیکی کی ترغیب دی جاتی ہے اور برے لوگوں کا ذکر کرکے خوب دلایا جاتا ہے۔ ترغیب وترہیب اسلام کے دوبڑے اصول ہیں۔ تو یہاں پر اللہ نے کفار ومشرکین کے اعمال کا انجام دو مثالوں کے ذریعہ سمجھایا ہے۔
ایمان بمقابلہ کفر :
جس طرح ہر شخص کا ایمان اور اخلاص یکساں نہیں ہوتا بلکہ اس کے مختلف مراتب اور درجات ہوتے ہیں ، اسی طر ح کفر کے بھی مختلف مراتب ہوتے ہیں بعض کم درجے کے کافر ہوتے ہیں ، بعض اس سے اوپر درجے کے اور بعض شدید درجے کے کافر اور مخالف ہیں ، اسی لئے بخاری شریف (بخاری ص 9 ج 1 (فیاض) میں کفرودون لقن ظلم دون ظلم کے الفاظ آتے ہیں ۔ تو ان آیات میں اللہ تعالیٰ شدید درجے کے کفار کی دو مثالیں اور ان کا انجام بیان کیا ہے۔ ایمان کی طرح کفر بھی قرآن و سنت کی اصطلاح ہے۔ کفر کا معنی یہ ہے کہ جس چیز کو تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کا انکار کردے اور جس چیز کو ظاہر کرنے کا حکم ہو اس کو چھپالے جہاں پر مطلق کفر کا ذکر ہو ، وہاں الل کی واحدانیت کا انکار مراد ہوتا ہے گویا سب سے پہلے اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا ، پھر رسالت کا انکار کیا ، پھر کتب سماویہ ، ملائکہ اور قیامت کا انکار کیا ، خدا کی صفات کا انکار کیا ، یہ سب باتیں کفر میں داخل ہیں۔
سراب کی مثال :
ارشاد ہوتا ہے والذین کفروا اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا ۔ اعمالھم کسراب بقیعۃ ان کے اعمال چٹیل بیابان میں سراب کی مانند ہیں۔ سراب چمکتی ہوئی دیت کو کہتے ہیں جو دور سے ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے پانی کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہو۔ وسیع و عریض ریگستان میں جب شدید گرمی پڑتی ہے تو زمین کے نچلے طبقے کی لطیف ہوا بہت گرم ہوجاتی ہے اس سے اوپر کے طبقے کی نسبتاً مزید کم ہوتی چلی جاتی ہے بہرحال نچلے طبقے کی لطیف اور شدید گرم ہوا جب اوپر کے طبقات کی ہوا سے ٹکراتی ہے تو سطح ارضی پر پانی کی لہریں نظر آتی ہیں حالانکہ وہ حقیقت میں ہوا ہی ہوتی ہے جو سورج کی تپش کی وجہ سے چمکتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کو سراب کہتے ہیں۔
فرمایا یحسبہ الظمان ماء پیاسا آدمی اس سراب یعنی چمکتی ہوئی ریت کو پانی سمجھتا ہے اور پیاس بجھانے کے لئے اس طرف دوڑتا ہے حتیٰ اذا جاء ہ یہاں تک کہ جب وہ اس کے قریب پہنچتا ہے لم یجدہ شیئا تو وہاں کوئی چیز نہیں پاتا۔ وہ پانی نہیں بلکہ پانی کا دھوکہ ہوتا ہے۔
صحیحین کی روایت میں ہے کہ قیامت والے دن یہودیوں سے سوال ہوگا۔ کہ تم دنیا میں کسی کی عبادت کرتے تھے۔ وہ جواب دیں گے کہ خدا کے بیٹے عزیر (علیہ السلام) کی۔ ان سے کہا جائیگا کہ تم جھوٹے ہو۔ خدا کا کوئی بیٹا نہیں اچھا بتلائو اب کیا چاہتے ہو ؟ عرض کریں گے ، مولیٰ کریم ! ہم سخت پیاسے ہیں ، ہمیں پانی پلوایا جائے۔ انہیں کہا جائے گا کہ دیکھو تم ادھر کیوں نہیں جاتے ، جہاں پانی نظر آرہا ہے ، وہ ادھر جائیں گے جہاں انہیں سراب نظرآتا ہوگا ، مگر وہ جہنم کی آگ ہوگی جس پر پانی کا دھوکہ ہوتا ہوگا۔ جب وہ پہنچیں گے تو دوزخ میں ڈال دیے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین اور یہود ونصاریٰ کی یہ مثال بیان کی ہے کہ یہ لوگ دنیا میں تو کفر وشرک کا ارتکاب کرتے رہے مگر اپنے زعم باطل میں یہ سمجھتے رہے کہ انہوں نے بڑے اچھے اچھے کام کیے ہیں اور اللہ کے ہاں انہیں بہت بڑا اجر ملنے والا ہے ، مگر جب قیامت والے دن خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو وہاں اپنے اعمال میں سے کچھ نہیں پائیں گے۔ جس طرح پیاسا آدمی تپتی ہوئی ریت کو پانی سمجھ کر اس کی طرف دوڑتا ہے مگر وہاں کچھ نہیں پاتا۔ اسی طرح کفر کرنے والے قیامت کے دن اپنے اعمال کی طرف جائیں گے۔ مگر انہیں وہاں کوئی نیک عمل نہیں ملے گی ووجد اللہ عندہ ، پس وہ اپنے اپنے اللہ تعالیٰ کو پاتا ہے۔ فوفہ حسابہ جو اس کا حساب پورا پورا دیتا ہے واللہ سریع الحساب اور اللہ تعالیٰ جلد حساب کرنے والا ہے۔ جب ایسے لوگوں کو حساب کتاب کی منزل آئے گی تو ان کے عقائد و اعمال کا فوراً حساب کرکے انہیں جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔
اعمال کا انحصار ایمان پر ہے :
دراصل نیک اعمال کا انحصار ایمان پر ہوتا ہے۔ اگر ایمان موجود ہے ، تو نیک اعمال بھی کار آمد ہوں گے اور اگر کوئی شخص ایمان سے خالی ہے اس کے مفاد عامہ کے کتنے بھی اچھے کام ہوں ، ان کی کچھ حیثیت نہیں ہوگی۔ اکثر کفار ومشرکین یہود ونصاریٰ دنیا میں مفاد عامہ (Public works) کے بڑے بڑے کام کرتے ہیں ، ہندوسکھ بھی ایسا کرتے ہیں۔ کہیں سرائے بنادی سکول اور کالج قائم کیے ، ہسپتال بنائے ، یتیم خانے قائم کیے ، حتیٰکہ بعض لوگ جانوروں اور پرندوں کی خدمت بھی کرتے رہے ، چڑیوں کو دانا اور پانی پلاتے رہے کیڑے مکوڑوں کی بلوں پر کھانے پینے کی چیزیں ڈالتے رہے ، بظاہر اچھے کام ہیں مگر ایمان کے فقدان کی وجہ سے اللہ کے ہاں یہ نامقبول ہوں گے۔ اللہ کے ہاں وہ عمل صالح مقبول ہوگا جو ایمان کے جذبے کے ساتھ انجام دیا گیا ہوگا ، کیونکہ اس کا بار بار اعلان ہے ان الذین……………الصلحت (البروج 11) جنت ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے اور پھر نیک اعمال انجام دیے ، سور ۃ الانبیاء میں فرمایا فمن…… ………………لسعیہ (آیت 94) جس شخص نے نیک عمل کیا بشرطیکہ وہ مومن ہو تو اس کی کاوش کی ناقدری نہیں کی جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ عمل کی قبولیت کا دارومدار ایمان اور اخلاص پر ہے۔ اگر عقیدہ پاک ہے تو چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی فائدہ دے گا اور اگر عقیدے میں کفر وشرک کی ملاوٹ ہے یا اس میں نفاق کا عمل وحسنن ہے تو اعمال کتنے بھی اچھے ہوں ، خدا تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے۔ ان کو اچھا سمجھنے والا بالکل اسی طرح ہے جس طرح کوئی تپتی ہوئی ریت کو پانی سمجھ کر اس سے امیدوابستہ کرلیتا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عبداللہ بن جدعان کے متعلق حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ وہ مکہ کے سرداروں میں سے بڑا سخی آدمی تھا ، غرباء مساکین پر بڑا احسان کرتا تھا۔ ایک ایک مجلس میں سو سو اونٹ بخش دیتا تھا ، تو کیا اس کو ان اعمال کا کچھ فائدہ آخرت میں ہوگا ؟ آپ نے فرمایا کہ ہرگز نہیں ، وجہ یہ (مسلم ص 115 ج 1 (فیاض) ہے۔ لم یقل یوما رب اغفرلی خطیئتی یوم الدین اس نے زندگی بھر ایک دن بھی یوں نہیں کہا کہ پروردگار ! میرے گناہ معاف کردے ، وہ شخص قیامت کا منکر تھا لہٰذا اس کی بڑی سے بڑی نیکی بھی کچھ فائدہ نہیں دے گی۔ ایسے لوگوں کو ان کے کارناموں کا صلہ دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔ رفاہ عامہ کے کام کرنے کی وجہ سے ان کی شہرت ہوجاتی ہے۔ مال و دولت مل جاتا ہے اولاد مل جاتی ہے مگر آخرت میں ان کے لئے کچھ نہیں ہوتا ، صحیح حدیث میں آتا ہے کہ کافروں کے اچھے اعمال کا نتیجہ عام طور پر انہیں دنیا میں ہی مل جاتا ہے ، اور آخرت میں ان کے لئے کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
ظلمات کی مثال :
پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کافروں کی مثال سراب کے ساتھ بیان کی جو دنیا میں بعض اچھے کام بھی انجام دے جاتے ہیں وہ ان نیک کاموں کا بدلہ آخرت میں چاہتے ہیں مگر وہاں وہ محروم رہیں گے۔ اب دوسری مثال اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بیان فرمائی ہے جو نہ تو دنیا میں ایمان لائے اور نہ ہی کوئی اچھا کام انجام دیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ان کی مثال ایسی ہے اوکظلمت فی بحر لجی جیسے گہرے سمندر میں اندھیرے ہوں۔ اور پھر یغشہ موج من فوقہ موج جس کو ڈھانپ رہی ہو موج کے اوپر موج۔ من فوقہ سحاب پھر اوپر سے بادل بھی ہو۔ گویا ظلمت بعضھا فوق بعض کہ اندھیرے ہیں بعض کے اوپر بعض ۔ اوپر تلے اندھیرے ہی اندھیر ہیں۔ جن کی کیفیت یہ ہے اذا اخرج یدہ لم یکدیرھا کہ کوئی شخص اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ سکے ، گہرے سمندر کی تاریکی ، پھر پانی کی موجوں کی تاریکی ، اس کے اوپر بادلوں کی تاریکی اور پھر اگر رات بھی ہو تو تاریکی در تاریکی۔ اللہ نے کافروں کے اعمال کی مثال ایسی تاریکی کے ساتھ دی ہے۔ یہ لوگ عمر بھر اندھیرے میں سرگرداں رہتے ہیں اور انہی اندھیروں میں ان کا خاتمہ ہوجاتا ہے ؎
زادی بہ حجاب اندر میری بہ حجاب اندر (اقبال (رح)
وہ تاریکی میں ہی پیدا ہوئے اور تاریکی میں ہی چل بسے۔ پھر آگے ان کے لئے جہنم کی تاریکی ہے جو شدید ترین ظلمت ہوگی ۔ درمیان میں برزخ کی تاریکی بھی موجود ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص صحیح طریقے سے نماز ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لئے قبر میں روشنی کا باعث ہوگی۔
حجاب درحجاب :
امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ کافروں کے لئے یہ تاریکیاں حجاب در حجاب ہیں۔ یہ لوگ پہلے حجاب طبع میں مبتلا ہوئے ۔ ہر وقت کھانا پینا ، لباس مکان ، دکان ، سواری وغیرہ میں پھنسے رہے اور آخرت کی کوئی فکر نہ کی۔ اس سے ذرا باہر نکلے تو حجاب رسوم میں پھنس گئے۔ قوم ، ملک ، خاندان اور علاقائی رسم و رواج میں ڈوبے رہے۔ ان کو ان رسم و رواج سے ہی فرصت نہ ملتی تھی۔ لہٰذا آخرت کی فکر کے لئے تو وقت نہیں تھا۔ اس سے آگے نکلے ، تو حجاب سوء معرفت کا شکار ہوگئے ، خدا تعالیٰ کو پہچانا مگر غلط طریقے پر صحیح پہچان نہیں ہوسکی۔ کبھی شرک میں مبتلا ہوئے اور کبھی عقیدہ تشبیہ کا شکار ہوگئے۔ اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ میں کسی کو شریک کرتا ہے۔ کسی دوسرے کو بھی علیم کل ، مختار کل ، حاجت روا ، مشکل کشا ، ہمہ دان ، ہمہ بین اور ہمہ تو ان سمجھتا ہے۔ تو وہ مشرک ہے۔ اس نے شرک کا عقیدہ اختیار کرلیا ہے۔ اور اگر کوئی شخص مخلوق کی صفت خدا تعالیٰ میں مانتا ہے تو وہ عقیدہ تشبیہ میں غرق ہوگیا۔ یہودیوں نے عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہا اور اس طرح مخلوق کی صفت خدا تعالیٰ میں مان کر اس عقیدہ میں مبتلا ہوئے ۔ نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہہ کر عقیدہ تشبیہ میں غرق ہوگئے۔ اسی طرح ہندو بھی دیوی اور دیوتائوں کو فرزندان خدایا اوتار مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا ان میں حلول کر آیا ہے۔ یہ بھی تشبیہ کے عقیدہ میں پھنس گئے اور کافر ٹھہرے ۔ غرضیکہ انسانوں پر یہ تینوں حجاب پڑے ہوئے ہیں۔ جو شخص ان تینوں سے بچ کر نکل گیا۔ اسے خدا تعالیٰ کی صحیح پہچان حاصل ہوجاتی ہے اور وہی کامیاب وکامران ہوتا ہے۔
منبع نور :
فرمایا کافروں کے لئے ہر طرف اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔ ان کے سامنے روشنی کی کوئی کرن نہیں ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی بغاوت کی اور خدا تعالیٰ نے انہیں نور ہدایت سے محروم رکھا۔ ومن لم یجعل اللہ لہ نورا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی نور نہیں بنایا فمالہ من نور تو اسے کہیں سے بھی نور اور روشنی میسر نہیں آئے گی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ روشنی اس شخص کے لئے بنائے گا۔ جس میں انصاف ہوگا اور طلب ہوگی۔ جو شخص ضد ، عناد ، انکار پر اڑا رہے گا۔ اسے کبھی روشنی نصیب نہیں ہوسکتی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ نور طلب کرنا چاہیے ، جو کہ دنیا اور آخرت میں فلاح کا ذریعہ بن سکے۔
Ayahs 24:41–44ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کا ذکر کیا جو مومنوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔ اللہ نے اس کی مثال بھی بیان فرمائی۔ پھر اللہ کے گھروں مساجد کا تذکرہ فرمایا جہاں سے متذکرہ نور حاصل ہوتا ہے۔ اللہ نے ان گھروں کو بلند کرنے اور انہیں پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ، اور ان لوگوں کی صفات بیان کیں جو مساجد میں اللہ کی عبادت اور اس کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں۔ اللہ نے ان کو بہتر بدلہ عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ پھر اللہ نے نافرمان اور کفر کرنے والوں کا انجام بھی بیان فرمایا۔ پھر کفار کی دوقسموں کا ذکر کیا۔ ان کی ایک قسم وہ ہے ، جو رفاہ عامہ کے کام بھی کرتے ہیں اور آخرت میں اچھے صلے کی امید بھی رکھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ایمان اور توحید کے بغیر ایسے لوگوں کا کوئی عمل بھی مقبول نہیں۔ ان کی طرف سے اچھے بدلے کی توقع سراب کے پیچھے بھاگنے کے مترادف ہے۔ دوسرے قسم کے کافر وہ ہیں ، جو کفروشرک کے ساتھ ساتھ ظلم وتعدی کے کام بھی انجام دیتے ہیں اور ان کے نامہ اعمال میں کوئی اچھا کام نہیں ہے۔ فرمایا ایسے لوگوں کی مثال ظلمت درظلمت کی ہے۔ گویا کہ وہ سمندر کی تہ میں سخت اندھیرے میں پڑے ہیں۔ اس پر موج درمود تاریکی اور پھر اوپر رات کی بھی تاریکی ہے۔ گویا ایسے لوگ سخت ترین تاریکیوں میں پڑے ہیں۔ جن سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
خدا تعالیٰ کی تسبیح :
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے ہیں اور ان میں غوروفکر کی دعوت دی ہے ارشاد ہوتا ہے الم تران اللہ یسبح لہ من فی السموت والارض کیا تم نے اس بات کی طرف دھیان نہیں کیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے والطیر صفت اور پر کھولے یعنی اڑنے والے پرندے بھی اسی کی تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہیں۔ آسمانوں میں ملائکہ ہیں اور بعض دوسری مخلوق بھی ہے جو خدا تعالیٰ کی حمدوثنا میں مصروف رہتی ہے۔ اور زمینی مخلوق کا ذکر گزشتہ سورتوں میں ہوچکا ہے ، کہ انسان ، جانور کیڑے مکوڑے ، آبی مخلوق ، پہاڑ اور درخت وغیرہ سب خدا تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ البتہ انسانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے۔ جو خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ اگرچہ اپنے اختیار اور ارادے سے تو سجدہ نہیں کرتے مگر ان کے سائے صبح وشام سجدہ ریز ہوتے رہتے ہیں۔ تو یہاں بھی فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی تمام چیزیں اور ان دونوں کے درمیان فضا میں اڑنے والے پرندے بھی اپنے مالک کو یاد کرتے ہیں۔ فرمایا کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ یہ سب کے سب اپنی نماز اور تسبیح کو جانتے ہیں۔ بعض اس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ ہر نوع کی مخلوق کو اس کی تسبیح اور عبادت کا طریقہ معلوم ہے ، اور ہر نوع جن الفاظ کے ساتھ اللہ کی تقدیس بیان کرتی ہے ، وہ اس کو بھی جانتے ہیں ، لہٰذا وہ اپنے اپنے طریقے کے مطابق تسبیح و تقدیس اور عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے ہیں۔
بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ علم کا فاعل خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور جملے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نوع کی مخلوق کی عبادت اور تسبیح کو جانتا جب کہ نوع کی تسبیح دوسری نوع نہیں جانتی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو جانتا ہے کہ کون کس زبان اور کس کیفیت کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کررہا ہے واللہ علیم بما یفعلون اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ یہ کرتے ہیں۔ یعنی خداوند تعالیٰ اپنی ساری مخلوق کی تسبیح وتحمید کے علاوہ اسکی دیگر کارکردگی کو بھی جانتا ہے کہ وہ کون سے کام انجام دے رہے ہیں۔ بہرحال خدا کی مخلوق میں سے ہر چیز کا اس کی حمد کے ترانے گانا ہی اس کی توحید کی دلیل ہے۔ صرف وہی وحدہ لاشریک ہے جو ہر قسم کی عبادت و ریاضت اور تسبیح و تقدیس کے لائق ہے۔
تسبیح بزان حال یا قادر :
بعض معتزلہ قسم کے عقل کے دعویدار کہتے ہیں کہ انسانوں کا اپنی زبان سے خاص الفاظ کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرنا تو واضح ہے لیکن باقی مخلوق کا زبان کے ساتھ اللہ کی حمد بیان کرنا ممکن نہیں ، البتہ وہ کہتے ہیں کہ ہر چیز کا زبان حال سے خدا کی تسبیح بیان کرنا ممکن ہوسکتا ہے ، صاحب تفسیر کبیر امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ اس قسم کے عقلمندوں کا نظریہ درست نہیں ہے ، کیونکہ روزمرہ ہمارے مشاہدہ میں آتا ہے کہ جانور ، چرند اور پرند جو ہماری نظروں میں بےشعور مخلوق ہیں ، ان میں ایسی ایسی شعوری باتیں پائی جاتی ہیں کہ عقلمند اور باشعور انسان بھی انہیں انجام دینے سے قاصر ہیں۔ فرماتے ہیں…کہ امام جعفر صادق (رح) کی مجلس میں موجود ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ صبح وشام چڑیوں کے چہچہانے کا مطلب ہے اور یہ کیا کہتی ہیں تو آپ نے فرمایا کہ یہ اپنے پروردگار کی تسبیح و تقدیس بیان کرتی ہیں اور اسی سے اپنی روزی طلب کرتی ہیں۔ اسی طرح بعض جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے ایسے ایسے کارنامے مشاہدہ میں آتے ہیں کہ انسان اس کی توجیہہ کرنے سے عاجز آجاتے ہیں ، مثلاً مکڑی اپنے شکار کے لئے ایسا نازک مگر مضبوط جالا بنتی ہے کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اگر کوئی آدمی اپنے ہاتھوں سے ایسا جالا بننا چاہے تو نہیں بن سکتا۔
ریچھ بڑا ذہین جانور ہے۔ جب وہ بیل کا شکار کرنا چاہتا ہے۔ تو اس کے راستے میں لیٹ جاتا ہے۔ جب بیل قریب آکر ریچھ کر سینگ مارنے کی کوشش کرتا ہے تو ریچھ اس کے پائوں کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔ پھر اس کو ایسا زخمی کرتا ہے کہ اس کا سارا خون نچڑ جاتا ہے اور وہ اس پر غالب آجاتا ہے ، ریچھ کو اللہ نے اتنی عقل عطا کی ہے کہ یہ آسانی سے درخت پر چڑھ جاتا ہے ، خود آدمی سے لاٹھی چھین کر ساری کو مارتا ہے اور خوراک کی تلاش میں اخروٹ کے درخت پر چڑھ جاتا ہے اور وہاں سے اخروٹ توڑ لیتا ہے پھر ان کو ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا کر توڑ لیتا ہے اور اس طرح اپنی خوراک کے لئے گودہ حاصل کرلیتا ہے۔
شہد کی مکھیوں کی ذہانت دیکھ لیں۔ یہ سب اپنی ملکہ مکھی کی قیادت میں کام کرتی ہیں اور اپنے گھر ایسے مسدس خانوں کی صورت میں بناتی ہیں کہ دنیا کا بڑے سے بڑا انجینئر بھی آلات کے بغیر ایسا نہیں کرسکتا۔ وہ باہر سے اپنے مونہوں میں موم لا لا کر نہایت ہی نفیس اور ہم شکل گھروندے بناتی ہیں ، ان میں رہائش رکھتی ہیں ، انہیں میں ان کے بچے پیدا ہوتے ہیں اور پھر انہی میں شہد کا ذخیرہ بھی ہوتا ہے۔ آخر اتنا نرم ونازک کام بلا شعور تو نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے لازماً ان کو وہ شعور بخشا ہے جسے بروئے کار لاکر وہ اپنا فرض انجام دیتی ہیں۔
لمبی ٹانگوں اور لمبی چونچوں والے پرندے ” سارس “ جنہیں عربی زبان میں ” کر کی “ کہتے ہیں بڑے ذہین واقع ہوئے ہیں یہ پوری دنیا کا سفر کرسکتے ہیں…اور جہاں ان کے لئے آب وہوا موافق ہوتی ہے ، وہیں پہنچ جاتے ہیں ۔ گھوڑے کی ذہانت وفطانت کے متعلق مشہور ہے کہ اگر وہ کسی دوسرے گھوڑے کی آواز ایک دفعہ سن لے تو اسے زندگی بھر یاد رکھتا ہے اور اگر برسوں بعد بھی وہ آواز دوبارہ سنائی دے تو فوراً پہچان لیتا ہے ، چیتے کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اسے سانپ ڈس لے یا وہ کوئی زہریلی چیز کھالے تو فوراً انسان کا براز کھاتا ہے جو اس کے لئے تریاق کا کام دیتا ہے۔ اسی طرح اگر کچھوے کو سانپ کاٹ لے تو وہ صعترنامی جنگلی بوٹی کھالیتا ہے جس سے سانپ کے زہر کا اثر زائل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر نیولے کو سانپ کاٹ کھائے تو وہ فوراً سراب نامی بوٹی کا تریاق استعمال کرتا ہے ، اسی طرح جنگی مرغ (برخاب) تریاق کے طور پر جرجیر بوٹی کھالیتا ہے ، اللہ نے اتنی سمجھ عطا کی ہے۔ خطاف نامی جانور جو بڑھئی جانور کہلاتا ہے اور درختوں پر اپنی چونچ سے ٹھک ٹھک کرتا رہتا ہے ، یہ اپنا گھونسلہ نہایت پاک وصاف رکھتا ہے۔ اگر اس کا بچہ گھونسلے میں بیٹ کر دے تو چونچ سے پکڑ کر فوراً باہر پھینک دیتا ہے۔ اور جب بچے ذرا سمجھدار ہوجاتے ہیں تو انہیں گھونسلے کے کنارے پر جاکر باہر بیٹ کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔ غرانیق (کونج کی قسم کا جانور) بہت اونچی پرواز کرتا ہے حتیٰ کہ بادلوں سے بھی اوپر نکل جاتا ہے۔ جب ان کے غول کے پرندوں کو ایک دوسرے سے بچھڑنے کا خطرہ ہو تو اپنے پروں سے ایسی آواز نکالتے ہیں کہ ایک دوسرے کا آپس میں ربط قائم ہوجاتا ہے۔
سائنسدانوں نے چیونٹیوں کی بود وباش اور ان کے اطوار کے متعلق بڑی تحقیق کی ہے اور بڑے عجیب و غریب انکشافات کئے ہیں ، یہ تو ہم روز مرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ چیونٹیاں سیدھی قطار میں سفر کرتی ہیں اور آپس میں کمال درجے کے تعاون کرتی ہیں۔ سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق چیونٹیوں کی عام رہائشی بستیوں کے علاوہ ان کے علیحدہ قبرستان بھی ہوتے ہیں جہاں وہ اپنے مردے دفن کرتی ہیں………جہاں کہیں کوئی مری پڑی چیونٹی ملے اسے اٹھا کر قبرستان میں دفن کردیا جاتا ہے۔ انسانی سلطنتوں کی کی طرح چیونٹیوں کی بھی علیحدہ علیحدہ حکومتیں ہوتی ہیں۔ اگر کسی چیونٹی کو احساس ہوجائے کہ وہ کسی غیر علاقہ میں داخل ہوگئی ہے تو فوراً الٹی ہوجاتی ہے۔ جب اس علاقے کی چیونٹیوں کو غیر چیونٹی کی آمد کا علم ہوتا ہے تو اس کے کارندے اس الٹی چیونٹی کو اٹھا کر اپنے علاقے سے باہر پھینک آتے ہیں ، اللہ کی قدرت ہے کہ اتنا چھوٹا سا جانور بھی اس قدر حساس ہوتا ہے۔ سیہہ کے جسم پر کانٹے ہوتے ہیں جس سے اسے موسم کی تبدیلی کا پیشگی علم ہوجاتا ہے۔ گوہ کے متعلق مشہور ہے کہ یہ اپنا گھر چار مختلف سوراخوں ، چار مختلف جگہوں پر بناتا ہے تاکہ شکاری کو پتہ ہی نہ چل سکے کہ وہ کس وقت کس گھر میں رہائش پذیر ہے ، یہ اس کے شکاری سے بچ نکلنے کی ایک تدبیر ہے۔ شتر مرغ میں اللہ نے ایسا وصف رکھا ہے کہ یہ لوہے کا گرم گولہ نگل جاتا ہے۔ غرضیکہ دیگر جاندار ، بندر ، کتا ، بلی ، لومڑی ، کبوتر کسی کو بھی دیکھ لیں۔ ہر ایک اپنے اپنے شعور کے مطابق کام کرتا ہے۔ حیال الحیوانات پر جدید دور میں تو بڑی تحقیق ہوئی ہے ، پرانے زمانے کے امام دمیری (رح) نے بھی اس موضوع پر کتاب لکھی ہے ۔ اسی طرح دوسری صدی کے امام جاحظ نے بھی ” کتاب الحیوان “ میں حیوانات کے حیرت انگیز حالات لکھے ہیں۔ امام ولی اللہ دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں میں ایسے خواص رکھے ہیں جو ان کی صورت نوعیہ کے راستے سے آتے ہیں۔
بہرحال امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ جس مالک الملک نے جانوروں ، کیڑے مکوڑوں اور پرندوں کو ایسے ایسے اوصاف بخشے ہیں ، اور ان میں اتناشعور پیدا کیا ہے کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ انہیں تسبیح بیان کرنے کا طریقہ بھی سکھلادے لہٰذا انسانوں کے علاوہ باقی مخلوق کا زبان قال سے تسبیح بیان کرنا عین ممکن ہے اور اس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
یہ تو جانوروں کا ذکر تھا۔ اب ذرا بعض بےجان چیزوں کا حال بھی دیکھ لیں۔ حضور ﷺ کا احد پہاڑ پر گزرہوا تو فرمایا (بخاری ص 585 ج 1 (فیاض) ھذا جبل یحبنا و نحبہ یہ احد ایک پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پہاڑ جیسی سخت چیز میں بھی اللہ نے کوئی حس اور شعور رکھا ہے۔ حضور ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مکہ کی ایک گزرگاہ کے ایک پتھر کو میں اب بھی پہچانتا ہوں جو قبل از نبوت مجھے ان الفاظ کے ساتھ سلام کیا کرتا تھا۔ السلام علیک یا نبی اللہ۔ پھر آپ کو کھجور کا خشک تنا بھی یاد ہے جس کا ذکر معجزات کے باب میں کیا جاتا ہے۔ حضور ﷺ اس تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر مسجد نبوی میں لوگوں سے خطاب فرمایا کرتے تھے۔ جب آپ کے لیے منبر تیار ہوگیا تو آپ اس پر تشریف لے گئے۔ وہ خشک تنا حضور ﷺ کی اس جدائی کو برداشت نہ کرسکا ، اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔ پھر حضور ﷺ نے اس کو تھپکی دی تو وہ آہستہ آہستہ خاموش ہوگیا۔ آخر اس میں بھی تو کوئی شعور ہی کام کررہا تھا۔ اس ساری بحث کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ہو چیز کا اپنے پروردگار کی تسبیح و تقدیس بیان کرنا کوئی اچنبے کی بات نہیں ہے بلکہ اس کا انکار کرنے والے ہی غلط کار ہیں۔
ارشاد ہوتا ہے وللہ ملک السموت والارض حقیقت میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔ اس نے جس مخلوق کو پیدا کیا ہے اسے اس کے حسب حال شعور بھی بخشا ہے اور اس کے سپرد فرائض بھی کیے ہیں جن میں تسبیح و تقدیس بیان کرنا بھی شامل ہے۔ یہ عجیب و غریب حالات اس کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ جب ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گاتی ہے۔ تو اشرف المخلوقات انسان کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے پروردگار کی عبادت سے غافل نہ رہے اسے معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی اس کی آخری منزل نہیں ہے ، بلکہ والی اللہ المصیر سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ وہاں پر وہ پوری زندگی کا حساب لے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔
توحید کے عقلی دلائل :
توحید کے عقلی دلائل کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور مثال بھی بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے الم تران اللہ یزجی سحابا کیا تم نے اس بات میں غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو چلاتا ہے ثم یولف بینہ پھر ان کو اکٹھا کرتا ہے۔ ثم یجعلہ رکاما پھر بنا دیتا ہے اسے تہ بہ تہ تودوں کی شکل میں فتری الودق یخرج من خللہ پس دیکھتا ہے تو کہ اس کے درمیان سے بارش نکلتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ہے وینزل من السماء من جبال فیھا من برد وہ آسمان یعنی پہاڑوں سے اولے اتارتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پہاڑوں جیسے بڑے بڑے بادلوں کے تودوں سے اولے برساتا ہے اور پھر ان اولوں کے ذریعے فیصیب بہ من یشاء پس وہ پہنچاتا ہے اس کے ذریعہ جس کو چاہے ، مطلب یہ کہ جس کو تکلیف پہنچانا مقصود ہوتا ہے ، وہاں پر اللہ تعالیٰ اولے برسا کر فصلوں اور باغوں کو تباہ کردیتا ہے اور اس طرح لوگ آزمائش میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ آپ نے تاریخ میں پڑھا سنا ہے کہ بعض مقامات پر آدھ آدھ سیر اولے بھی پڑے۔ ظاہر ہے کہ جہاں اتنی ژالہ باری ہو ، وہاں کتنی تکلیف پہنچتی ہے اور وہاں کیا چیز بچ سکتی ہے ؟ 1935 ء میں میں لاہور میں زیر تعلیم تھا کہ مئی کے مہینے میں کوئٹہ کا تاریخی زلزلہ آیا۔ اسی دن لاہور میں اتنے بڑے بڑے اولے پڑے جو شدید گرمی کے موسم میں بھی چوبیس گھنٹے تک پگل نہ سکے۔ ایسے مواقع پر فصلیں تباہ اور جانور ہلاک ہوجاتے ہیں۔ تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اولے برساتا ہے اور پھر جس کو چاہتا ہے ان کے ذریعے مشقت میں ڈال دیتا ہے ویصرفہ عن من یشاء اور جس سے چاہے اولوں کو پھیر دیتا ہے ۔ جس بستی اور علاقے کو بچانا مقصود ہوتا ہے ، وہاں سے اولوں کو دوسری طرف لے جاتا ہے بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ جنگل میں کام کر رہے ہیں اور اچانک اولے برسنا شروع ہوجاتے ہیں تو جس کو تکلیف دینا مقصود ہوتا ہے اس شخص یا جانور پر اولے پڑ کر اسے ہلاک کردیتے ہیں اور جس کسی کو بچانا مقصود ہوتا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ اولوں کو پھیر دیتا ہے اور وہ تکلیف سے بچ جاتا ہے۔
فرمایا یکاد سنا برقہ یذھب بالابصار قریب ہے کہ بجلی کی چمک آنکھوں کو لے جائے۔ ظاہر ہے کہ جب بادل گھر کر آتے ہیں ، بارش ہوتی ہے ، ژالہ باری ہوتی ہے تو اس وقت وقفے وقفے سے بجلی چمکتی ہے اور بادل گرجتے ہیں۔ بعض اواقت بجلی کی چمک اس قدر تیز ہوتی ہے کہ انسان کی آنکھیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ اور پھر جب یہ بجلی کسی فصل پر یا درخت پر پڑتی ہے۔ تو اسے تباہ کردیتی ہے اور اگر کسی انسان یا جانور پر گرتی ہے تو وہ ہلاک ہوجاتے ہیں۔ فرمایا یہ ساری چیزیں خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی حکمت کے نشانات ہیں اور اس کی وحدانیت کے دلائل ہیں۔ اگر انسان غور کرے تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز پر کنٹرول صرف اور صرف خدا تعالیٰ کا ہے ، لہٰذا وہ ذات وحدہ لا شریک ہے۔
آگے دوسری دلیل بیان فرمائی کہ وہ خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے یقلب اللہ الیل والنھار جو رات اور دن کو تبدیل کرتا رہتا ہے ، رات گئی دن آیا ، دن رخصت ہوا تو رات آگئی۔ کبھی رات بڑی اور دن چھوٹا اور کبھی دن بڑا اور رات چھوٹی۔ اور پھر یہ صرف شب وروز کا انقلاب ہی نہیں بلکہ موسموں کا تغیر وتبدل بھی ہے۔ کبھی گرمی ہے ، کبھی سردی ہے ، کبھی بہار ہے اور کبھی خزاں ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کرشمے ہیں جو انسان کو غور وفکر کی دعوت دے رہے ہیں کہ ان چیزوں میں غور کرو گے تو اللہ کی وحدانیت ضرور سمجھ میں آجائے گی۔ اور ساتھ یہ بھی فرمادیا ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار ان تمام مشاہدات میں عبرت کا مقام ہے مگر ان لوگوں کے لئے جو آنکھیں رکھتے ہیں۔ جن سینوں میں غوروفکر کے لئے دل کی آنکھیں موجود ہیں ان کے لئے یہ سب باتیں جائے عبرت ہیں۔ جب بھی سوال اٹھائیں کہ بادلوں کو اکٹھا کرکے بارش کون برساتا ہے ، اس میں اولے اور بجلی کون نکالتا ہے ، دن رات اور موسموں کا تغیر وتبدل کون لاتا ہے ۔ جب بھی غور کرو گے سارے سوالوں کا ایک ہی جواب ہوگا کہ ان تمام امور کو انجام دینے والا اللہ وحدہ لاشریک ہے ہر چیز پر سا کا تصرف ہے ، جب یہ بات سمجھ میں آجائے تو پھر کفر اور شرک کی جڑ کٹ جانی چاہیے۔ ان تمام شواہد کی موجودگی میں اگر کوئی شخص از خود آنکھیں بند کرکے کے بیٹھ جائے ، نہ ان کو دیکھے اور نہ ان میں غور وفکر کرے تو اسے توحید کی سمجھ کیسے آسکتی ہے ؟ اگر کوئی شخص سورج کی تیز روشنی بھی اپنے آپ کو کسی تنگ و تاریک کمرے میں بند کرے اور پھر سورج کی موجودگی کا انکار کردے تو پھر اس کی حالت پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے چند عقلی دلائل پیش کرکے ہر انسان کو غوروفکر کی دعوت دی ہے اور وحدانیت کو تسلیم کرنے کی تلقین کی ہے۔