Ayahs 24:11–13ربط آیات :
پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حدزنا ، حد قذف اور لعان کا ذکر فرمایا اب اگلے دو رکوع میں اس بہتان کا ذکر فرمایا ہے۔ جو منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر باندھا تھا۔ اللہ نے اس الزام کو رد کرتے ہوئے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے ، اور مسلمانوں کی جماعت کو تنبیہ فرمائی ہے کہ آئندہ اس قسم کی کاروائی میں ملوث نہ ہوں۔ افک کا معنی صریح گھڑا ہوا جھوٹ ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے یہ واقعہ اس سفر کے دوران پیش آیا تھا جب حضور ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ہمراہ قبیلہ بنی المصطلق کے خلاف جہاد کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ یہ 6 ھ کا واقعہ ہے ۔ یہ بڑا وسیع قبیلہ تھا اور لوگ بڑے سرکش تھے لہٰذا ان کے خلاف جہاد ضروری ہوگیا تھا۔
اقعہ افک کا پس منظر :
صحاح ستہ کی کتابوں میں خود ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ جب حضور ﷺ کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو آپ کسی ایک بیوی کو ہمراہ لے جاتے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو انتخاب کا مکمل اختیار دیا گیا تھا تاہم آپ اس امر کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کرتے تاکہ کسی بیوی کے دل میں کوئی تکدر پیدا نہ ہو قبیلہ بنی المصطلق کے ساتھ جہاد کے سفر کے لئے قرعہ حضرت عائشہ ؓ کے نام نکلا اور آپ نے انہی کو اپنا ہم سفر بنایا۔
بعض فرماتے ہیں کہ اس سفر کے دوران دو حادثات پیش آئے۔ سفر پر جاتے وقت یہ واقعہ پیش آیا کہ کسی مقام پر قافلے نے رات کو قیام کیا۔ اس جگہ حضرت عائشہ ؓ کا وہ ہار گم ہوگیا جو آپ کسی سے عاریتہ لے کر گئیں تھیں۔ ہار کی تلاش کے لئے بڑی تگ ودو کی گئی مگر وہ نہ ملا بالآخر قافلے کی وہاں سے روانگی کا وقت آیا اور سواری کے اونٹ کو اٹھایا گیا تو ہار اس کے نیچے سے برآمد ہوگیا۔ اسی مقام پر پانی کی سخت قلت پیدا ہوگئی حتیٰ کہ وضو کے لئے بھی پانی میسر نہیں تھا۔ صحابہ کو بڑی پریشانی لاحق ہوئی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کا حکم نازل فرما کر اہل ایمان کے لئے آسانی پیدا فرمادی۔ لوگوں نے پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرکے نمازیں ادا کرنا شروع کردیں۔
اسی سفر سے واپسی پر افک کا واقعہ پیش آیا۔ مجاہدین کا قافلہ رات کے پچھلے حصہ میں ایک مقام پر تھوڑی دیر کے لئے رکا۔ علی الصبح روانگی کا پروگرام تھا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ حضرت عائشہ ؓ قضائے حاجت کے لئے قافلے سے ذرا دور نکل گئیں۔ ابھی اندھیرا تھا کہ قافلے کی روانگی کا اعلان ہوگیا۔ آپ کی خدمت پر مامور آدمیوں نے حضرت عائشہ ؓ کا کجاوہ اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیا۔ آپ کا جسم ہلکا پھلکا تھا۔ اس لئے ان آدمیوں کو محسوس ہی نہ ہوا کہ آپ کجاوے میں موجود نہیں ہیں۔ قافلہ روانہ ہوگیا۔ اتنے میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فارغ ہو کر واپس آئیں تو قافلہ جاچکا تھا ، چناچہ آپ نے یہی سمجھا کہ اسی مقام پر بیٹھ جائیں تاکہ جب بھی ان کی عدم موجودگی کا علم ہو تو لوگ ان کی تلاش کے لئے اسی مقام پر آئیں۔ وہیں بیٹھے بیٹھے آپ کو نیند بھی آگئی۔
اس قسم کے قافلوں کا یہ عام دستور تھا کہ کسی شخص کو مقرر کردیتے جو قافلے سے دو تین میل پیچھے پیچھے چلتا تاکہ قافلے کی کوئی گری پری چیزیں جائے تو اسے اٹھالے۔ اس قافلے کی یہ ڈیوٹی صفوان ابن معطل سلمی ؓ کے سپرد تھی۔ جب آپ قافلے کی روانگی کے بعد اس مقام پر پہنچے تو انہوں نے کسی کو لیٹے ہوئے پایا۔ آپ قبلیلہ سلم کے بزرگ صحابی ؓ تھے اور آپ نے حضرت عائشہ ؓ کو پہچان لیا کہ بچپن میں کبھی دیکھا تھا ۔ اس پر ان کی زبان سے انا للہ وانا الیہ رجعون کے الفاظ ادا ہوئے۔ حضرت عائشہ ؓ نے یہ اسرتجارع سنا تو بیدار ہوگئیں۔ حضرت صفوان ؓ نے اپنے اونٹ کو بٹھایا ، حضرت عائشہ ؓ اس پر سوار ہوگئیں۔ آپ نے مہار پکڑی اور آگے آگے چل دیے۔ اس دوران ، دونوں کی آپس میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی حتیٰ کہ آپ دوپہر کے وقت قافلے سے جاملے۔
منافقین کا پروپیگنڈا :
رائیس المانفقین عبداللہ بن ابی حضور ﷺ اور اہل ایمان کا سخت دشمن تھا۔ اس واقعہ سے اسے ایک بہانہ مل گیا اور اس نے اسے خوب اچھالا کہنے لگا کہ تنہائی کے اس موقع پر حضرت عائشہ ؓ برائی سے بچ نہیں سکتیں ، یہ ضرور کچھ معاملہ ہوا ہے۔ بعض سادہ لوح مسلمان بھی اس پروپیگنڈا کا شکار ہوگئے۔ اس ضمن میں عورتوں میں سے ام المومنین حضرت زینب ؓ کی بہن حمنہ ؓ اور مردوں میں سے شاعر اسلام حضرت حسان بن ثابت ؓ اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے خالہ زاد بھائی اور بدری صحابی حضرت مسطح ؓ کا ذکر آتا ہے۔
لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے پروپیگنڈا ہمیشہ سے ایک موثر ہتھیار بنارہا ہے۔ آج کل حکومتی سطح پر اس کا بڑارواج ہے۔ ہر حکومت اپنے حق میں یا دوسری حکومت کے خلاف یہ ہتھیار استعمال کرتی ہے ، خاص طور پر جنگ کے دنوں میں پراپیگنڈا کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے اور یہ اس منظم طریقے پر کیا جاتا ہے کہ غلط بات کو بھی لوگ سو فیصدی درست سمجھنے لگتے ہیں۔ پراپیگنڈے کا یہی طریقہ عبداللہ بن ابی نے بھی استعمال کرکے بعض مسلمانوں کو ورغلالیا۔
حضور ﷺ کی پریشانی :
قافلہ واپس مدینہ پہنچ گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بعارضہ بخار کچھ بیمار بھی ہوگئیں اور ادھر چہ میگوئیاں بھی ہوتی رہیں حتیٰ کہ ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا۔ حضور ﷺ مختلف قسم کی باتیں سنتے تھے مگر بلا تحقیق کسی نتیجے پر پہنچنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اس دوران حضور ﷺ سخت پریشانی میں مبتلا تھے ، واقف کار اور مخلص صحابہ ؓ بھی ذہنی پریشانی کا شکار تھے۔ جب مجلسوں میں اس واقعہ کے تذکرے ہوتے تو صحابہ سے برداشت نہ ہوپاتا۔ ایک ماہ کے بعد حضرت عائشہ ؓ کو پتہ چلا کہ ان کے بارے میں اس قسم کی باتیں ہورہی ہیں تو وہ حضور ﷺ سے اجازت لے کر اپنے والدین کے ہاں آگئیں۔ جب یہ بات ان کے علم میں لائی گئی تو وہ بھی پریشان ہوئے مگر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ پھر حضرت صدیق ؓ نے صدیقہ ؓ کو واپس بھیج دیا۔ آپ تین دن تک مسلسل روتی رہیں ، ان کے آنسو نہیں تھمتے تھے۔ خود حضور ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا ، لوگو ! میرے اہل کے بارے میں اس قسم کی باتیں ہورہی ہیں ، مجھے مشورہ دو کہ میں کیا کروں۔ جب آپ کسی سے علیحدگی میں پوچھتے تو ہر شخص حضرت عائشہ ؓ کی صفائی پیش کرتا۔ ایک موقع پر حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کی بیوی نے آپ سے تذکرہ کیا کہ لو گ حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں۔ تو آپ نے اپنی بیوی سے پوچھا کیا تم کوئی ایسی حرکت کرسکتی ہو ؟ کہنے لگی میں تو اس کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ آپ نے فرمایا اگر ابوایوب انصاری ؓ کی بیوی سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تو پھر صدیق اکبر ؓ کی بیٹی اور حضور ﷺ کی بیوی سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے۔ یہ سب جھوٹے لوگ ہیں جو اس قسم کا پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ ؓ سے براہ راست بھی بات کی کہ اگر کوئی غلطی ہوگئی ہے تو اقرار کرلو۔ اللہ تعالیٰ معاف کردے گا ، اور اگر ایسی بات نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ خود تمہاری برات فرمادے گا ، اس وقت حضرت عائشہ ؓ نے کچھ زیادہ جواب نہ دیا اور کہا کہ میں اس کے علاوہ کیا کرسکتی ہوں جو کچھ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا تھا فصبر جمیل (یوسف 18) میں تو صبر جمیل ہی کرسکتی ہوں اوفوض امری الی اللہ (المومن 44) اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتی ہوں۔ وہی بہتر فیصلہ کرے گا۔
حضرت عائشہ ؓ کی برات :
بہرحال مکمل ایک ماہ تک حضور ﷺ اور آپ کے اہل خانہ اور مخلص صحابہ ؓ پر سخت پریشانی کا عالم رہا۔ اس کے بعد اللہ کی طرف سے پورے دو رکوع کی سولہ آیات نازل ہوئیں جن میں حضرت عائشہ ؓ کی برات اور دوسری ضمنی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے ان الذین جاء وبالا فک ، بیشک جن لوگوں نے جھوٹا طوفان کھڑا کیا ہے۔ افک کا معنی من گھڑت اور صریح طوفان ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا عصبۃ منکم ، یہ تم میں سے ایک گروہ ہے۔ احادیث میں اس گروہ سے متعلق رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اور تین مسلمانوں کے نام آتے ہیں جو کہ میں نے پہلے عرض کردیے ہیں۔ ان تینوں مسلمانوں پر حدقذف جاری ہوئی۔ انہوں نے توبہ کرلی جو قبول ہوئی۔ البتہ عبداللہ بن ابی کا معاملہ آخرت پر چھوڑ دیا گیا اسے اس دنیا میں کوئی سزا نہیں دی گئی اللہ نے اس کے لئے آخرت کے عذاب عظیم کا ذکر فرمایا ہے۔ عربی محاورے میں عصبہ کا اطلاق دس سے بیس افراد تک کے گروہ پر بولاجاتا ہے تاہم حدیث کی کتابوں سے صرف چار مذکورہ اشخاص کے نام ملتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ عبداللہ ابن ابی کے ساتھ بہت سے دوسرے منافقین بھی شامل ہوں جن کے نام معلوم نہیں۔
واقعہ افک میں بہتری :
فرمایا اس گروہ نے جو طوفان بدتمیزی اٹھایا ہے لا تحسبوہ شرا لکم اسے اپنے حق میں برا خیال نہکرو بل ھو خیر لکم بلکہ یہ تو تمہارے لئے بہتر ہے۔ اگرچہ بظاہر اس میں حضور ﷺ اور دیگر متعلقین کو ایک مہینہ بھر سخت ذہنی پریشانی رہی مگر مومنوں کو فرمایا کہ نتیجہ کے لحاظ سے یہ واقعہ تمہارے حق میں بہتر ثابت ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ ؓ کی پاکیزگی میں سولہ آیات نازل فرمائیں جو کہ آپ کے حق میں بڑی خوبی کی بات ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کا اپنا بیان ہے کہ یہ تو مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ضرور میری بریت فرمادے گا مگر مجھے یہ گمان نہیں تھا۔ کہ میرے حق میں قرآن پاک کے پورے دور کو ع نازل ہوں گے۔ آپ کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ اس کے علاوہ اس واقعہ کی وجہ سے حضور ﷺ ، حضرت صدیق اکبر ؓ اور دیگر مخلص مومنین کو جو ذہنی اذیت پہنچی تھی اور انہوں نے صبر کا مظاہرہ کیا ، اس پر وہ اللہ کے ہاں بہت بڑے اجر کے مستحق ٹھہرے۔ پھر یہ بھی کہ اہل ایمان کے لئے یہ بات ہمیشہ کے لئے ایک نصیحت بن گئی کہ بلا تحقیق اس قسم کا الزام ہرگز نہیں لگانا چاہیے۔
اس کے علاوہ وہ بہتان تراشی کرنے والوں کو سزا بھی ملی۔ یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ اللہ نے فرمایا کہ اس واقعہ کو اپنے لئے شر نہ سمجھو بلکہ اس میں تمہارے لئے بہتری کا پہلو نمایاں ہے۔ یہ واقعہ تمہارے لئے ترقی کا زینہ بن گیا ہے۔
سزا بمطابق جرم :
فرمایا لکل امریء منھم ما اکتسب من الاثم ان میں سے ہر شخص کے لئے گناہ میں حصہ ہے جس نے یہ برائی کمائی ہے۔ یعنی اس سلسلے میں ملوث جس جس شخص نے جس قدر بدگمانی کی اور اس طوفان کو اٹھانے میں جس قدرحصہ لیا ، اس قدر اس کے ذمہ گناہ بھی لازم آگیا ہے والذی تولی کبرہ منھم اور جو شخص ان میں سے اس افترا میں بڑے حصے کا مالک بنا ، یعنی جس نے اس معاملہ میں بدترین کردار ادا کیا لہ عذاب عظیم اس کے لئے اللہ کے ہاں عذاب عظیم ہے۔ اس سے مراد رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی ہے جس نے اس واقعہ کو سب سے زیادہ اچھالا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی ہے۔ لو لا اذا سمعتموہ ظن المومنون والمومنت بانفسھم خیرا کہ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب مومن مردوں اور مومن عورتوں نے ایسی بات سنی تھی۔ تو انہوں نے اپنے لوگوں پر بہتری کا گمان کیوں نہ کیا ۔ مومنوں کو آپس میں بہتر گمان کرتے ہوئے اس قسم کے افتراء پر کان نہیں دھرنا چاہیے تھا۔ بخاری شریف میں اس واقعہ سے متعلق آتا ہے کہ جب لوگوں نے صفوان بن معطل سلمی ؓ سے اس الزام کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگے ، خدا کی قسم میں نے تو جاہلیت کے زمانے میں بھی کسی غیر عورت کے منہ سے پردہ نہیں اٹھایا ، بھلا اسلام لانے کے بعد تو میں ایسی بات کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے بعد میں ایک جہاد میں شہادت کا مرتبہ حاصل کیا۔ بہرحال فرمایا کہ ایک طرف صفوان ؓ جیسا کم گو ، مسکین طبع اور نیک آدمی ہے اور دوسری طرف صدیق اکبر ؓ کی بیٹی اور ختم المرسلین (علیہ السلام) کی زوجہ ہے جہ کہ بذات خود بڑی سمجھدار اور نیک خاتون تھیں ، ان کے متعلق تم نے ایسابرا گمان کیوں کیا۔ تمہیں تو آپس کے معاملات میں بہتر گمان کرنا چاہیے تھا۔ عام مومنوں کے متعلق بھی یہی حکم ہے کہ خواہ مخواہ بدگمانی نہ کیا کرو ، بلکہ اچھا گمان رکھا کرو۔ وقالوا ھذا افک مبین یہ پروپیگنڈا سن کر تم نے یوں کیوں نہ کہا یہ تو صریح بہتان ہے۔
صریح بہتان کی مذمت :
ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ان لوگوں کو ایسی ہی بدگمانی تھی لو لا جاء وعلیہ باربعۃ سھداء تو پھر یہ لوگ اپنے دعویٰ کے ثبوت میں چار گواہ کیوں نہ لائے۔ گزشہ آیات میں گزر چکا ہے کہ زنا کے الزام کو ثابت کرنے کے لئے چار گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے جو چشم دیدگواہی دیں ، ورنہ یہ جرم ثابت نہیں ہوتا الزام لگانے والوں پر حدقذف جاری ہوجاتی ہے۔ فرمایا فاذلم یاتوا بالشھداء اگر یہ چار گواہ پیش نہیں کرتے فاولائک عنداللہ ھم الکذبون تو یقین جانو کہ اللہ کے نزدیک یہ لوگ جھوٹے ہیں اور ان کا الزام صریح بہتان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب زنا کے اتہام کے لئے چار عینی گواہ موجود نہ ہوں ، ایسی بات زبان سے نہیں نکالنی چاہیے۔ اس سے ایک مسلمان کی خواہ مخواہ بےآبروئی ہوتی ہے۔ حد قذف کا قانون بھی اسی لئے جاری کیا گیا ہے کہ کوئی گناہ مرد یا عورت بےعزت نہ ہونے پائے ۔ آگے منافقین کی مذمت اور مزید تنبیہ آرہی ہے۔ بعض ضمنی مسائل اور ایک مثال بھی پیش کی گئی ہے۔
Ayahs 24:14–20بہتان تراشی پر تنبیہ :
واقعہ افک کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مزید تنبیہ فرمائی ہے ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ فی الدنیا والاخرۃ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی دنیا اور آخرت میں لمسکم فی ما افضتم فیہ عذاب عظیم تو ضرور تم کو عذاب عظیم پہنچتا اس چیزیں جس کا تم نے چرچا کیا ہے ظاہر ہے کہ یہ تشہیر واقعہ افک سے متعلق تھی جس میں منافقوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر الزام تراشی کی تھی اور بعض مسلمان بھی اس پراپیگنڈا کا شکار ہوگئے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کے فضل ورحمت کی وجہ سے تم سخت سزا سے بچ گئے ، وگرنہ یہ بہت بری بات تھی جس سے ناموس رسول میں خلل واقع ہوتا تھا۔ فرمایا اذ تلقونہ بالسنتکم جب تم اس بات کو اپنی زبانوں پر چڑھا رہے تھے وتقولون بافواھکم ما لیس لکم بہ علم اور اپنے مونہوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں علم نہیں۔ یعنی تم بلا تحقیق منافقوں کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔ وتحسبونہ ھینا ، اور تم اسے ہلکی بات خیال کر رہے تھے۔ وھوعند اللہ عظیم حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات تھی کیونکہ اس کے ذریعے صدیق اکبر ؓ کی بیٹی اور حضور ﷺ کی پاک بیوی کی عزت پر بٹہ لگ رہا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ تم اسے معمولی بات سمجھ رہے تھے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ولولا اذسمعتموہ قلتم مایکون لنا ان نتکلم بھذا ایسا کیوں نہیں ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تھی تو یوں کہہ دیتے کہ اس بات کو زبان پر لانا ہمارے لئے مناسب نہیں ہے تمہیں تو ایسے الزام کی فوراً تردید کرنی چاہیے تھی اور صاف کہہ دینا چاہیے تھا سبحنک ھذا بھتان عظیم اے پروردگار ! تیری ذات پاک ہے اور جو منافق کر رہے ہیں یہ بہت بڑا بہتان ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں۔ تمہیں تو نبی کے اہل بیت کے متعلق اچھا گمان کرنا چاہیے تھا مگر تم بھی منافقوں کے جھانسے میں آگئے اور ایسی غلط بات زبان سے نکالی۔ اللہ نے سخت تنبیہ فرمائی ہے۔
پھر فرمایا یعظکم اللہ ان تعودوا لمثلہ ابدا ان کنتم مومنین اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم ایمان والے ہو تو آئندہ ایسی بات کبھی نہ کرنا بلکہ ان منافقوں کی سازشوں سے چوکس رہنا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اہل بیت کا ادب واحترام ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا ۔ اللہ نے یہ بھی فرما دیا ویبین اللہ لکم الایت اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آیات یعنی احکام کھول کر بیان کرتا ہے واللہ علیم حکیم اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ اس نے تمام احکام اور حدود اور نصیحت کی باتیں تمہارے فائدے کے لئے بیان کردی ہیں۔ اس کی ہر بات کی بنیاد اس کے کلی علم اور کمال حکمت پر مبنی ہوتی ، لہٰذا اس کے ہر حکم کو کامل یقین کے ساتھ اپنے دلوں میں جگہ دو اور اس پر عمل پیرا ہوجائو۔
اہل ایمان کے باہمی روابط :
اہل ایمان کے باہمی تعلقات کے متعلق ایک بات تو پہلے بیان ہوچکی ہے ظن ………… …خیرا (آیت 12) یعنی مومن مردوں اور مومن عورتوں کو آپس میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ اور بدگمانی سے بچنا چاہیے۔ کسی کے خلاف بلا تحقیق الزام تراشی نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے المومن للمومن کالبنیان یشد بعضہ بعضا (بخاری ، مسلم) ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے ایک عمارت کی مانند ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کے لئے تقویت کا باعث ہوتی ہے۔ اسی طرح اہل ایمان کو بھی ایک دوسرے کی مضبوطی کا باعث بننا چاہیے نہ کہ ضعف کا۔ نبی رحمت نے عام مومنوں کے لئے یہ قانون بھی بیان فرمادیا۔ المومن من امن جارہ بوائقہ مومن وہ ہے جس کا پڑوسی اس سے امن میں ہے۔ جس کا پڑوسی اس سے نالاں ہے وہ مومن کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔ نیز فرمایا المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ (ترمذی ونسائی) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں آنحضرت ﷺ کا یہ بھی فرمان (بخاری ص 6 ج 1) ہے من سران یزحزح عن النار ویدخل الجنۃ فلتاتہ منیتہ یشھد ان لا الہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ جو شخص پسند کرتا ہے کہ اسے دوزخ کی آگ سے بچا لیاجائے اور جنت میں داخل کردیا جائے تو اس کی موت ایسی حالت میں آنی چاہیے کہ وہ توحید و رسالت کی گواہی دینے والا ہو۔ اور دوسری بات یہ ہونی چاہیے یحب ان یاتی الی الناس ما یحب ان یاتی الناس الیہ…وہ لوگوں کے ساتھ بھی اس بات کو پسند کرتا ہو جو اپنے لئے پسند کرتا ہے جس چیز کوئی شخص خود اپنے لئے پسند نہیں کرتا ہو دوسروں پر الزام تراشی کیسے کریگا۔ حضور ﷺ (بخاری ص 6 ج 1 ومسلم ص 50 ج 1 (فیاض) کا یہ بھی فرمان ہے لا یومن احدکم حتی یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ (بخاری ، مسلم) کوئی شخص صحیح معنوں میں مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ کوئی اپنی تذلیل وتحقیر کو پسند نہیں کرتا ، اس لئے اسے دوسرے کی عزت وناموس کی بھی حفاظت کرنی چاہیے۔
عیب جوئی کی ممانعت :
مسند احمد میں حضور ﷺ کا یہ فرمان موجود (بحوالہ تفسیر ابن کثیر ص 285 ج 3 (فیاض) ہے لا توذوا عباد للہ ولا تطلبوا عوراتھم لوگو ! اللہ کے بندوں کو تکلیف نہ پہنچائو اور ان کی عیب جوئی کرو۔ جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کو تلاش کیا طلب اللہ عورتہ حتی یخذ لہ فی بیتہ اللہ اس کے عیب اس طرح ظاہر کرے گا کہ اسے گھر بیٹھے بیٹھے ہی ذلیل ورسوا کردیگا جب عام مسلمانوں کے لئے یہ قانون ہے کہ کسی کی پردہ داری نہ کرو اللہ کے نبی اور اس کی پاک بیوی پر اتہام لگانا اور پھر اس کی تشہیر کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سخت تنبیہ فرمائی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی شامل حال نہ ہوتی تو تمہیں اس بدگمانی کی وجہ سے دنیا و آخرت میں سخت ذلت اٹھانا پڑتی۔ یہ تو اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے وحی کے ذریعے معاملہ کر واضح کردیا ہے وگرنہ تم تو پکڑے گئے تھے۔
فحاشی کی تشہیر :
آگے اللہ تعالیٰ نے ایک اور بات بھی بیان فرمادی ہے۔ ان الذین تحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا تحقیق وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں۔ کہ بےحیائی کی بات کی تشہیر ہو ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لا چکے ہیں۔ فرمایا لھم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ بھی واقعہ افک ہی کی طرف اشارہ ہے۔ اس الزام تراشی کا کرتا دھرتا رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی تھا۔ اسی نے اس بات کا چرچا کیا اور اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں اس کے لئے درد ناک عذاب کی وعید سنائی ۔ قولا یا عملاً کسی طرح بھی فحاشی کی بات کو پھیلانا درست نہیں۔ یہ آیت بتلارہی ہے کہ بےحیائی کی تمام باتیں منجملہ زنا ، لواطت ، برہنگی ، عریانی وغیرہ کی تشہیر معاشرے کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ نے ایسے لوگوں کو سزا کا مستحق قرار دیا ہے۔ یورپ اور مشرکین کی تہذیب تو اس تشہیر کی بانی مبانی ہیں آج کے زمانے میں مسلمان قوم کا بھی یہی حال ہے۔ مسلمان چاہے عرب کے ہوں یا عجم کے ، ایرانی ہوں یاتورانی ہر جگہ بےحیائی کا چرچا ہے۔ اخباروں اور رسالوں میں دیکھ لیں نیم عریاں تصویروں کی بھر مار ہے۔ کھیل تماشے کی تصویریں ہوں یا فلمی اشتہارات ، فن کے نام پر انٹرویو ہو یا فیشن شو کی خبریں ہر جگہ عریانی اور فحاشی کا دور دورہ ہے۔ اور تمام اخبارات اور رسائل اس کی تشہیر کا ذریعہ ہیں۔ اب ٹیلیوژن ان سب پر بازی لے گیا ہے جو محض بےحیائی اور عیاشی کا اڈہ بن چکا ہے۔ ٹھیک ہے اس میں چندمنٹ کے لئے اچھی باتیں بھی ہوتی ہیں مگر بحیثیت مجموعی نت نئے فیشن معارف کرانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
بہرحال فحش بات کی تشہیر کو سخت ناپسند کیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے دنیا وآخرت کی تذلیل کی وعید سنائی گئی ہے تم بےحیائی کی باتوں کو ترقی کا زینہ سمجھو مگر حقیقت میں یہ تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔ فرمایا واللہ یعلم وانتم لا تعلمون اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے تم نہیں جانتے وہ اپنے علم اور حکمت کی بناء پر ایسے احکام نازل فرماتا ہے جو تمہیں برائی سے ہٹا کر نیکی کی طرف دعوت دیتے ہیں اور تباہی سے بچا کر دائمی راحت کا سبب بنتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرو گے تو سوسائٹی پاک ہوگی۔ اور تم بداخلاقی اور بےحیائی سے بچ جائو گے اور تمہیں ترقی نصیب ہوگی۔
فرمایا ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی اور یہ بھی کہ وان اللہ رء وف رحیم اللہ تعالیٰ بہت شفقت کرنے والا اور بڑا مہربان ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو تم یقینا تباہی و بربادی کے عمیق گڑھے میں جاگرتے۔
گزشتہ رکوع کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت کا ذکر کرکے فرمایا تھا وان اللہ تواب حکیم ، اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفت رء وف رحیم کا ذکر ہے۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ گزشتہ رکوع میں تین جرائم زنا ، قذف اور لعان اور پھر ان کی حدود کا بیان تھا۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ کی صفت حکیم کا تذکرہ ہی مناسب تھا کہ دیکھو ! اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت ومہربانی کے ساتھ تمہیں کیسے قوانین دیے ہیں جو تمہاری سوسائٹی سے برائی اور بےحیائی کو ختم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ خاص طور پر لعان کا قانون ایسا ہے جس سے میاں بیوی کی حیثیت بھی بچ گئی وگرنہ کسی ایک کو تو ضرور سزا ملتی۔ اگر خاوند کی طرف سے بیوی پر عاید کردہ اتہام زنا تسلیم کرلیا جاتا تو اسے سنگسار کرنا پڑتا ، اور اگر یہ الزام پایہ ثبوت کو نہ پہنچتا تو خاوند پر حد قذف جاری ہوتی۔ اللہ نے قانون لعان کے ذریعے دونوں کو بچالیا۔ میاں بیوی بدنامی سے بھی سچ گئے اور انہیں توبہ کا موقع بھی مل گیا ۔
اور اب اس آیت میں صرف معافی کا قانون ذکر کیا گیا ہے۔ جن لوگوں سے غلطی ہوئی ان پر حد قذف جاری ہوئی اور خدا نے ان کو معاف کردیا۔ اگر قرآن پاک کی آیات نازل ہو کر حضرت عائشہ ؓ کی بریت کا ذریعہ نہ بنتیں تو ہوسکتا ہے کہ امت کسی بڑے فتنے میں مبتلا ہوجاتی۔ سو یہ اللہ تعالیٰ کی رافت اور مہربانی تھی۔ اس کا فضل شامل حال تھا کہ اس نے ایسے قوانین نازل فرمائے اور ان کو ایسی نصیحت کی جس کے ذریعے وہ مزید خرابی سے بچ گئے۔ گویا اس مقام پر الفاظ رئوف اور رحیم ہی زیادہ مناسب حال ہیں۔
Ayahs 24:21–22ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر اتہام لگانے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور ان لوگوں کی بھی جنہوں نے اس واقعہ کی بلا سوچے سمجھے اور بلا تحقیق تشہیر کی تھی۔ اللہ نے ان کو سزا بھی دی کہ ان پر حدقذف جاری ہوئی۔ ساتھ ساتھ اللہ نے سخت تنبیہ بھی کی کہ ایسی بات آئندہ نہیں ہونی چاہیے۔ پھر اللہ نے انہیں معاف بھی فرمادیا۔ البتہ رئیس المافقین پر حد جاری نہیں ہوئی تھی۔ اور اس کا معاملہ آخرت پر چھوڑ دیا گیا۔ اللہ نے اس کے لئے سخت عذاب کی وعید سنائی۔ اور پھر اللہ نے معاشرے کو بےحیائی کی باتوں سے پاک رکھنے کا حکم دیا۔ فرمایا جو لوگ بری باتوں کی تشہیر کو پسند کرتے ہیں وہ دنیا وآخرت میں عذاب کے مستحق ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو معاف نہیں کریگا۔
شیطان کے نقش قدم پر :
اب آج کی دوآیات میں اللہ تعالیٰ نے دو مختلف مسائل بیان فرمائے ہیں۔ پہلی آیت میں اللہ نے اس کے مقرر کردہ قانون کی پابندی کرنے کا حکم دیا ہے اور قانون کی عدم پابندی کو شیطان کے نقش قدم پر چلنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا لا تتبعوا خطوت الشیطن۔ اے ایمان والو ! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ اللہ تعالیٰ نے جو قوانین مقرر فرمائے ہیں۔ ان پر عمل درآمد میں ہی اہل اسلام کی عزت و آبرو ہے اور اسی کے ذریعے ان کی ظاہری اور باطنی تطہیر ہوتی ہے۔ دیکھو ! اللہ نے زنا اور بےحیائی کے انسداد کے لئے حد مقرر کی ہے تاکہ بدمعاشوں اور غلط کار لوگوں کو برائی سے روکا جائے۔ اسی طرح اگر میاں بیوی کے درمیان الزام تراشی تک نوبت پہنچی ہے تو اس معاملے کو نپٹانے کا بھی بہترین قانون دیا ہے جس سے زوجین کی پردہ دری بھی نہیں ہوتی اور معاملے کا فیصلہ بھی ہوجاتا ہے۔ یہ قوانین معاشرے کی درستگی کا ذریعہ ہیں ، لہٰذا ان کی پابندی لازمی ہے۔ ان قوانین کو توڑنے سے نہ دنیا میں چین نصیب ہوگا اور نہ آخرت کے عذاب سے بچ سکیں گے۔
غرضیکہ فرمایا کے شیطان کے نقش قدم پر مت چلو۔ ومن یتبع خطوت الشیطن ، جو کوئی شیطان کے نقش قدم پر چلے گا فانہ یامربالفشاء والمنکر ، تو وہ بےحیائی اور بری باتوں کا ہی حکم دیتا ہے۔ شیطان سے اچھی اور نیکی کی بات کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ شیطان کے نقش قدم پر چلنے سے یہی مراد ہے اللہ کے جاری کردہ قانون کی پابندی نہ کی جائے بلکہ اپنی خواہشات کو قانون کے قائم مقام سمجھ لیا جائے۔ اس کو اتباع ہویٰ سے تعبیر کیا گیا ہے اپنی خواہشات کا اتباع کرنے کے علاوہ…کسی خود ساختہ قاون پر چلنا بھی شیطان کے نقش قدم پر چلنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح قومی ، ملکی یا خاندانی رسم و رواج کے پیچھے چلتے رہنا اور خدائی احکام کی پرواہ نہ کرنا بھی شیطان کے اتباع کے مترادف ہے۔ سنت کی بجائے بدعات کو اختیار کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ اگر شیطان کی پیروی کرو گے تو بےحیائی اور برائی میں مبتلا ہوجائو گے۔ اگر اس قباحت سے بچنا چاہتے ہو اور اپنے دنیوی اور اخری حالات کو درست رکھنا چاہتے ہو تو خدا تعالیٰ کے قوانین کی پابندی اختیار کرو۔ یہی صراط مستقیم ہے اور اسی میں تمہاری فلاح ہے۔
واقع افک پر تبصرہ :
اب واقعہ افک کو ہی دیکھ لو۔ بعض لوگوں نے شیطان کا اتباع کرتے ہوئے اللہ کے پاک نبی کی پاک بیوی پر اتہام لگایا اور آپ کو بدنام کرنے کی کوشش کی تو انہیں کس قدر خفت اٹھانا پڑی اہل ایمان پر حدقذف جاری ہوئی اور منافقوں کو آخرت کے درد ناک عذاب کی وعید سنائی گئی۔ یہ شیطان کے نقش قدم پر چلنے کا ہی نتیجہ ہے۔ قرآن نے ہر معاملہ میں قانون کی پابندی کا حکم دیا ہے۔ کہیں حلال و حرام کی پابندی کا ذکر ہے تو کہیں نکاح و طلاق کے معاملہ میں پابندی عائد کی گئی ہے۔ کہیں نماز وزکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے تو کہیں شرک سے منع کیا گیا ہے۔ غرضیکہ رسم وراج ، لڑائی ، دنگا ، فساد ، بدکاری ، عریانی ، فحاشی اور ہر قسم کی برائی سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ نے انہی قوانین کی پابندی کا حکم دیا ہے اور ان کی عدم پابندی کو اتباع شیطان سے تعبیر کیا ہے۔
تطہیر نفس :
ارشاد ہوتا ہے ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی زکی منکم من احد ابدا ، تو تم میں سے کسی کو کبھی بھی پاک نہ کرتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ورحمت تھی کہ اس نے اتہام لگانے والوں کو توبہ کی توفیق دی ، پھر ان پر حد جاری کرکے ان کو پاک کیا گیا ، اور آئندہ کے لئے محتاط رہنے کا حکم بھی دیا گیا۔ اللہ نے اپنی رحمت سے ایسا قانون ایسی شریعت نازل فرمائی جس میں اہل ایمان کی سراسر بہتری ہے۔ فرمایا ولکن اللہ یزکی من یشاء اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے جس کو توبہ کی توفیق مل گئی اور معافی حاصل ہوگئی۔ وہ پاک ہوگیا اور یاد رکھو واللہ سمیع علیم اللہ تعالیٰ ہر بات کو سنات ہے اور ہر چیز کو جانتا ہے۔ وہ تمہاری نیت اور ارادے تک سے واقف ہے۔ اگر تم اس کے جاری کردہ قوانین پر عمل کرو گے تو وہ تمہاری دستگیری فرمائے گا اور تمہیں برائیوں سے پاک کردے گا۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہی بات سمجھائی ہے کہ اس کے قوانین کی پابندی لازمی ہے۔
حضرت صدیق ؓ کی قسم :
گزشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ پر اتہام لگانے والوں میں تین مومن بھی شامل تھے۔ ان میں ایک عورت حمنہ بنت جحش ؓ اور دو مرد حسان بن ثابت ؓ اور مسطح ابن اثاثہ ؓ تھے۔ حضرت مسطح ؓ مہاجرین میں سے تھے مگر غریب آدمی تھے۔ یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے خالہ زادہ بھائی یا بھانجھے تھے اور آپ ان کی مالی امداد بھی کیا کرتے تھے۔ جب واقعہ افک پیش آیا اور حضرت مسطح ؓ پر حد قذف بھی جاری ہوئی تو حضرت ابوبکر ؓ کو ان کی طرف سے بڑا دکھ پہنچا کر یہ میرے قرابت دار بھی ہیں اور میں ان کی مالی مدد بھی کرتا ہوں مگر انہوں نے کسی بات کو ملحوظ نہیں رکھا اور میری بیٹی پر اتہام لگانے والوں میں شامل ہوگئے۔ چناچہ آپ نے قسم اٹھالی کہ میں آئندہ اس شخص کی مالی مدد نہیں کروں گا۔ آپ کا غصہ اپنی جگہ پر کسی حد تک بجا تھا۔ اس سلسلے میں عربی کا مقولہ بھی ہے۔
وظلم ذوی القربیٰ اشد مضافۃ
علی المرء من وقع الحسام المہند
یعنی قرابت داری کا ظلم و زیادتی تلوار سے بھی زیاد ہ سخت ہوتا ہے۔ ان کی معمولی سی بات پر بھی زیادہ غصہ آتا ہے کہ اپنا ہو کر اس نے کیوں ایسی حرکت کی۔ بہرحال حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس شخص کی مالی امداد روک دینے کی قسم اٹھائی تو اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی اور اس نے ایسی قسم سے منع فرما دیا آج کی دوسری آیت میں اسی بات کا تذکرہ ہے۔
ارشاد ہوتا ہے ولا یاتل اولو الفضل منکم والسعۃ اور نہ قسم اٹھائیں تم میں سے صاحب فضیلت اور وسعت والے اس بات سے ان یوتوا اولی القربیٰ والمسکین والمھجرین فی سبیل اللہ ، کہ وہ نہ دیں گے قرابت داروں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو۔ ظاہر ہے کہ صاحب فضیلت سے مراد حضرت صدیق ؓ ہیں آپ کو پوری امت میں سب سے زیادہ فضیلت حاصل ہے۔ آپ نے صرف زہد وتقویٰ کے لحاظ سے افضل ہیں بلکہ آپ حضور ﷺ کے سسر اور اولین جانشین بھی ہیں مالی لحاظ سے بھی آپ صاحب وسعت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کی بھی فراوانی دی تھی اور آپ غرباء و مساکین اور قرابت داروں کی مدد بھی فرماتے تھے۔ دوسری طرف حضرت مسطح ؓ ہیں جو حضرت صدیق ؓ کے قرابت دار بھی ہیں ، مسکین بھی ہیں کہ مالی حالت کمزور ہے اور پھر مہاجر بھی ہیں۔ تو اس آیت کریمہ میں اللہ نے یہی بات سمجھائی ہے کہ غصے میں آکر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو حضرت مسطح ؓ کی امداد روک لینے کی قسم نہیں اٹھانی چاہیے۔ بلکہ والیعفوا چاہیے کہ انہیں معاف کردیں…جب اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی ہے ان کو سزا مل گئی ہے تو اب معاملہ ختم ہوجانا چاہیے ولیصفحوا ، اور درگز کرنا چاہیے یعنی اس بات کو اب ذہن سے بالکل نکال دینا چاہیے۔ اب اس کا تذکرہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔
فرمایا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم ، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری لغزشوں کو معاف کردے۔ تم سے بھی تو غلطیاں ہوتی ہیں۔ جب تم اپنی کوتاہیوں کی معافی کو پسند کرتے ہو تو جن مومنوں نے واقعہ افک میں غلطی کی ، ان کی معافی کو بھی پسند کرنا چاہیے اور ان کے معاملہ کو مزید طول نہیں دینا چاہیے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہ آیت سنی تو کہا ، خدا کی قسم ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہماری لغزشوں کو معاف فرمادے لہٰذا میں نے بھی مسطح ؓ کو معاف کردیا اور اس بات سے درگزر کیا۔ اس کے بعد آپ نے صرف مالی امداد کو جاری رکھا ، بلکہ اسے دگنا کردیا۔ فرمایا واللہ غفور رحیم ، اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا اور ازحد مہربان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خطاکاروں پر مہربانی فرمائی اور انہیں معاف کردیا۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرما کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو بھی یہ بات سمجھا دی اور یہ آپ پر بھی مہربانی تھی جس کا اثر پھر حضرت مسطح ؓ پر دوہری امداد کی صورت میں ظاہر ہوا۔
قانون میں کمی بیشی :
اس آیت کریمہ سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جاری کردہ قانون میں کمی بیشی کرنے کا کسی کو اختیار ن ہیں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے۔ اس واقعہ سے متعلق لوگوں پر حد قذف جاری ہوئی جو کہ اللہ کی طرف سے مقرر کی ہوئی تھی۔ اب صدیق اکبر ؓ نے اس سزا میں اضافہ کرکے ایک شخص کی امداد روک دینے کی قسم اٹھائی تو اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی ، لہٰذا اس سے منع کردیا گیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ایک حاکم سے فرمائے گا کہ فلاں شخص کے جرم کی سزا چالیس درے تھی ، مگر تم نے اس میں ایک درے کا اضافہ کیوں کیا ؟ وہ عرض کریگا کہ مولیٰ کریم میں نے یہ اضافہ جرائم کی روک تھام کے لئے کیا تھا۔ اللہ فرمائے گا کہ میں نے ایک جرم کی سزا مقرر کی تھی مگر کیا تم مجھ سے زیادہ لوگوں کو روکنا چاہتے تھے۔ پھر حکم ہوگا اس حاکم کو جہنم میں لے جائو۔ اسی طرح ایک دوسرا حاکم پیش ہوگا۔ اللہ فرمائے گا کہ میں نے اس جرم کی حد چالیس درے مقرر کی تھی تم نے اس میں ایک درے کی کمی کیوں کی ، وہ عرض کرے گا ، باری تعالیٰ ! مجھے اس مجرم پر رحم آگیا تھا۔ اللہ فرمائے گا ، کیا تو مجھ سے زیادہ رحیم بننا چاہتا تھا جو اس کی سزا میں کمی کردی حکم ہوگا کہ اس کو بھی جہنم رسید کردو۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کے ایک گورنر نے آپ کو لکھا کہ میرے علاقے میں چوری کی وارداتیں کثرت سے ہوتی ہیں۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں چوروں پر جرمانے کی سزا میں اضافہ کردوں۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ مرکز سے کچھ رقم بھجوائیں تاکہ میں شہر کی سڑکیں اور گلیاں صاف کرادوں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جواب میں لکھا کہ جس قانون کا اجراء پر جرم نہیں رکتے ، خدا کرے کہ وہ کبھی نہ رکیں یعنی جب اللہ کی مقرر کردہ حد سے جرم نہیں رکے گا تو پھر کس سزا سے رکے گا۔ اور گلیوں اور بازاروں کی صفائی کے متعلق آپ نے گورنر کو لکھا کہ تم ان گلیوں اور بازاروں کو عدل و انصاف سے بھردو گے تو گ خودبخود انہیں صاف کرنے لگیں گے اور تمہاری کسی کاوش کی ضرورت نہیں رہے گی۔ چناچہ اس گورنر نے لوگوں پر سختی کرنا چھوڑ دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چوری کی وارداتیں کم ہوگئیں۔ لوگوں کو یقین ہوگیا کہ کوئی شخص بلا قصور نہیں پکڑا جائے گا۔ انگریزی قانون میں یہی خرابی ہے کہ جرم کی سزا میں کمی بیشی کی جاتی ہے۔ کوئی اپنا آدمی ملوث ہوگیا۔ تو چھوڑ دیا یا سزا میں ممکنہ حد تک کمی کردی اور اگر کوئی غیر پھنس گیا تو اسے سولی پر لٹکا دیا۔ انگریزی قوانین میں مقرر کردہ سزائیں خدائی حدود سے متصادم ہیں یہی وجہ ہے کہ نہ چوری رکتی ہے ، نہ قتل اور نہ ڈاکہ زنی ، ہر طرف بےحیائی کا دور دورہ ہے ، لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ نہ کسی کی عزت محفوظ ہے اور نہ مال وجان ۔ یہ سب اسلامی تعزیرات سے انحراف کا نتیجہ ہے۔ جب اسلامی تعزیرات کی پابندی کی جائیگی تو جرائم خود بخود ختم ہوجائیں گے۔ سزائوں میں کمی بیشی کرنا قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی سمجھا دی ہے کہ اس مقرر کردہ حدوں میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرو ورنہ قانون کی روح ہی فنا ہوجائے گی۔
Ayahs 24:23–26ربط آیات :
گزشتہ دروس میں افک کا واقعہ بیان ہوا ہے ۔ یہ منافقوں کی سازش تھی جس کی لپیٹ میں بعض مخلص مسلمان بھی آگئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ میں ملوث ہونے والے منافقوں اور مسلمانوں کو سخت ترین الفاظ میں مذمت بیان کی ہے مسلمانوں پر حد قذف جاری ہوئی اور اللہ نے ان کی توبہ بھی قبول فرمائی۔ پھر اللہ نے تنبیہ کی کہ اس کے جاری کردہ قوانین کی پابندی کرو اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کیونکہ شیطان ہمیشہ بےحیائی اور برائی کی تلقین کرتا ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان اور اس کی مہربانی ہوئی کہ اس نے تمہیں پاک کیا۔ تمہیں پاکیزہ قانون عطا کیا اور موقع دیا کہ آئندہ ایسی کسی سازش میں شریک نہ ہوں۔ پھر دوسری بات اللہ نے یہ بھی سمجھائی کہ اس کی طرف سے نافذ کردہ قانون میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرو بلکہ اس پر ٹھیک ٹھیک عمل کرو۔ اور جن لوگوں سے افک کے سلسلہ میں غلطی ہوئی تھی ، ان کو معاف کردو ، اور ان سے درگزر کرو ۔ جس طرح تم اپنے لئے چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری خطائوں کو معاف کردے ، اسی طرح دوسروں کی خطائوں سے بھی درگزر کرو۔
منافقین پر لعنت اور عذاب عظیم :
جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے اللہ نے مسلمانوں پر حد جاری ہونے کے بعد ان کی توبہ قبول فرمالی مگر اس سازش کے اصل سرغنہ عبداللہ بن ابی اور دیگر منافقین پر نہ تو حد قذف جاری ہوئی اور نہ ہی انہوں نے توبہ کی۔ ان لوگوں کے پارے میں اللہ تعالیٰ نے اب یہ فیصلہ کیا ہے۔ ان الذین یرمون المحصنت الغفلت المومنت ، بیشک وہ لوگ جو مہتم کرتے ہیں پاکدامن اور بیخبر مومن عورتوں کو ، محصنت سے مراد ایسی عورتیں ہیں جو شادی شدہ اور پاکدامن ہوں اور غافل اس لحاظ سے کہ ان کو خبر ہی نہیں کہ ان پر کیا الزام تراشی ہورہی ہے۔ اور مومنات سے مراد صاحب عورتیں ہیں ۔ جن کے ایمان میں کوئی شبہ نہیں۔ اس واقعہ کے تناظر میں اس سے مراد حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہیں اور عام قانون کے طور پر ان صفات کی حامل کوئی بھی عورت ہوسکتی ہے۔ تو فرمایا ایسی عورتوں پر الزام زنا کی تہمت لگانے والوں کی سزا یہ ہے کہ لعنوا فی الدنیا والاخرۃ ، کہ ان پر لعنت کی گئی ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس دنیا میں ایسے لوگوں کو ہمیشہ برائی کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ لوگ انہیں ملعون کا لقب دیں گے ولھم عذاب عظیم ، اور آخرت میں ان کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کیا گیا ہے گزشتہ آیت 11 میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے متعلق خاص طور پر اسی عذاب کی وعیدآچ کی ہے والذی تولی کبرہ منھم لہ عذاب عظیم واقعہ افک کا سب سے زیادہ ذمہ دار یہ شخص تھا لہٰذا اللہ نے اس کے لئے خاص طور پر عذاب عظیم کی وعید سنائی۔
مہتم کیے جانے والے جوڑے میں ایک طرف صالح اور بےگناہ شخص صفوان بن معطل ؓ ہے جس کا بیان ہے کہ اس نے جاہلیت کے زمانہ میں بھی کبھی ایسی برائی نہیں کی چہ جائیکہ اسلام لانے کے بعد کوئی ایسی حرکت کرتا۔ اور دوسری طرف وہ پاکباز خاتون ہے جو اللہ کے نبی کی بیوی اور اس کی ماں بنتی ہے۔ اس نے تو صرف یہ کیا کہ حضرت عائشہ ؓ کو اکیلی پاکر اونٹ کو بٹھایا ، خود دوسری طرف منہ کرلیا اور ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ سوارہوگئیں۔ پھر اونٹ کی مہار پکڑے قافلے سے ملادیا۔ اور سارا راستہ ایک لفظ بھی زبان سے ادا نہیں کیا۔ تو ایسے لوگوں پر الزام تراشی کرنے والوں کے لئے اللہ نے دنیا وآخرت میں لعنت اور عذاب عظیم کی وعید سنائی ہے۔
سات مہلک گناہ :
صحیحین کی روایت میں سات مہلک گناہوں کا ذکر آتا ہے ۔ جو کبائر میں بھی بڑادرجہ رکھتے ہیں اور ان میں پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا بھی ہے جو ان دور رکوعات کا موضوع ہے۔ حضور ﷺ کا ارشادمبارک (مسلم ص 64 ج 1 (فیاض) ہے اجتنبوا سبع الموبقات یعنی سات شدید مہلک گناہوں سے بچو جو کہ یہ ہیں (1) الشرک باللہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا مہلت ترین گناہ ہے جو انسانوں کی عاقبت کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے۔ (2) شھادۃ الزور یعنی جھوٹی گواہی (3) قتل النفس التی حرم اللہ الا بالحق کسی جان کا ناحق قتل (4) اکل الربوسودی خوری (5) اکل المال الیتیم یتیم کا مال ناحق طور پر کھانا (6) تولی یوم الزحف جہاد میں پشت پھیر کر بھاگنا ۔ جب تک دشمن اپنے سے دگنی تعداد سے زیادہ نہ ہو ، اس کے مقابلے میں بھاگ جانا بھی مہلک گناہ ہے۔ اللہ نے سورة انفال میں اس پر جہنم کی وعید سنائی ہے اگر دشمن کی تعداد اپنی تعداد سے دوگنا سے زیادہ ہو تو پھر پیچھے ہٹ جانے کی اجازت ہے (7) قذف المحصنت یعنی پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان سات مہلک گناہوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ یہ ایسا جرم ہے جس کی سزا ابتدائی آیات میں اسی درے مقرر کی گئی ہے۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے اس جرم کے لئے دوسزائیں نازل فرمائی ہیں۔ ایک سزا تو اسی درے ہیں اور دوسری یہ کہ ایسا شخص ہمیشہ کے لئے مردود الشہادت ہوجاتا ہے۔ اگرچہ معانی کے بعد اخروی سزا سے بچ جاتا ہے مگر معاشرتی طور پر اس کی گواہی ہمیشہ کے لئے غیر معتبر ہوجاتی ہے۔
حضرت عائشہ ؓ کی نو خصوصیات :
مفسر قرآن امام بغوی ، صاحب تفسیر مشہری ، مفسر قرطبی اور بعض دیگر مفسرین نے یہ روایت (مظہری ص 485 ج 6 والسراج النبین ص 610 ج 2 (فیاض) بیان کی ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نو خصوصیات عطا فرمائی ہیں۔ پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ نے میری تصویر حضور ﷺ کو میرے نکاح سے پہلے دکھا دی تھی۔ چناچہ خود حضور ﷺ نے بیان کیا ہے کہ عائشہ ؓ تیری تصویر مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے ریشم کے ٹکڑے پر خواب میں دکھائی ، تو میں نے اس خواب کی یہی تعبیر نکالی کو ایسا ہو کر رہے گا۔ چناچہ ہجرت سے پہلے آپ کا نکاح حضرت صدیقہ ؓ سے ہوگیا جب کہ اس وقت صدیقہ ؓ کی عمر صرف چھ سات سال تھی البتہ رخصتی تین سال بعد مدینہ منورہ جاکر ہوئی۔ یہ نکاح حضرت صدیق اکبر ؓ نے خود کیا۔
ام المومنین نے فرمایا کہ میری دوسری خصوصیت یہ ہے کہ حضور ﷺ کی تمام ازواج مطہرات میں سے صرف میں دوشیزہ ہوں ، باتق سب پہلے سے ایک یا دودفعہ شادی شدہ ہیں۔ فرمایا میری تیسری خصوصیت یہ ہے کہ جب اللہ کے رسول کا اس دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آیا تو اس وقت آپ کا سر مبارک میری گود میں تھا۔ یہ پھر انتہائی قرب کی علامت ہے ۔ چوتھی خصوصیت یہ بیان کہ کہ حضور ﷺ کی قبر بھی میرے گھر میں بنی۔ اس گھر میں فرشتوں کا ہمیشہ ہجوم رہتا ہے ، آپ کی زندگی میں بھی اور اس کے بعد بھی۔ پھر فرمایا کہ پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ بسا اوقات حضور ﷺ پر ایسی حالت میں وحی نازل ہوتی کہ میں آپ کے ساتھ ایک ہی لحاف میں ہوتی۔ یہ خصوصیت بھی کسی دوسری بیوی کو حاصل نہیں ہوئی۔ چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ میں حضور ﷺ کے خلیفہ اول اور آپ کے صدیق کی بیٹی ہوں۔ فرمایا ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ میری برات میں اللہ نے پورے دو رکوع کی سولہ آیات نازل فرمائیں۔ آٹھویں خصوصیت یہ ہے خلقت طیبۃ اللہ نے مجھے پاک پیدا کیا ہے اور پاک ہستی کے پاس ہی رکھا ہے ۔ امہات المومنین کے متعلق قرآن کی عمومی شہادت بھی یہی ہے۔ انما یرید……… ……………تطھیرا (الاحزاب 33) اللہ نے نبی کی تمام بیویوں کو ظاہری اور باطنی نجاست سے پاک رکھا ہے اور آخر میں نویں خصوصیت یہ ہے کہ اللہ نے مجھے اس اتہام سے بری فرما کر مغفرت اور عزت والی روزی کا وعدہ فرمایا ہے۔ لھم مغفرۃ ورزق کریم۔
حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت :
حدیث شریف میں بھی حضرت عائشہ ؓ کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد (بخاری ص 532 ج 1 وترمذی ص 579 (فیاض) ہے فضل العائشۃ علی سائر النساء کفضل الثرید علی سائر الطام یعنی تمام عورتوں کے مقابلے میں حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت ایسی ہے جیسے ثرید کھانے کو تمام کھانے پر فوقیت حاصل ہے۔ آپ شکل و صورت ، علم وفقاہت ، نیکی اور تقویٰ میں جامع الصفات ہیں امت کی تربیت کے سلسلہ میں آپ کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ حضور ﷺ کے وصال کے بعد آپ 47 یا 48 سال زندگی پائی ہے اور لوگوں کی دینی معاملات میں راہنمائی فرمائی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریٰ ؓ اور بعض دیگر صحابہ کرام ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کو جب بھی کوئی مشکل مسئلہ درپیش ہوتا تو اس کا حل حضرت عائشہ ؓ سے ملتا۔ آپ نے بڑی زہد کی زندگی بسر کی۔ ہاتھ اتنا کشادہ تھا کہ اگر کسی دن میں دو بوری درہم بھی آتے ہیں تو سارے عرباء میں تقسیم کردیے اور اپنے افطار کے لئے بھی کچھ نہیں رکھا۔ لونڈی سے پوچھا افطاری کے لئے کوئی چیز ہے تو اس نے عرض کیا کہ آپ نے اپنے لئے کچھ رکھنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ سب کچھ تقسیم کردیا ہے۔
امام بیضاوی (رح) اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں برء اللہ اربعۃ باربعۃ یعنی چار شخصیتوں کی اللہ نے چار ذرائع سے بریت فرمائی ہے۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) پر زلیخا نے الزام لگایا تو زلیخا کے خاندن کے ایک بچے نے گوایہ دی تھی شھد شاھد من اھلھا (یوسف 26) کہ اگر یوسف (علیہ السلام) کی قمیض آگے سے پھٹی ہے تو زلیخا سچی ہے اور اگر پیچھے سے پھٹی ہے تو یوسف (علیہ السلام) سچے ہیں۔ اسی طرح آپ کی بریت ہوئی اسی طرح لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) پر عیبناک ہونے کا شبہ کیا کہ آپ کو کوئی خطرناک بیماری ہے۔ آپ کو اس اتہام سے بری کرنے کے لئے اللہ نے پتھر کو حکم دیا تو وہ آپ کے کپڑے لے کر پھاگ کھڑا ہوا۔ لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو برہنہ حالت میں دیکھ کر تسلی کرلی کہ آپ کے جسم میں کوئی عیب نہیں ہے تیسری برات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ماں کی کی تھی جب کہ آپ ان کی گود میں تھے۔ قال انی عبداللہ (مریم 30) آپ نے اس وقت بول کر گواہی دی تھی کہ میری ماں پر اتہام نہ لگائو ، میں تو اللہ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا شاہکار ہوں۔ اور چوتھی بریت حضرت عائشہ ؓ کی تھی جس کے حق میں اللہ نے یہ سولہ آیات نازل فرمائیں۔
قیامت کو پورا پورا بدلہ :
فرمایا جنہوں جنہوں نے الزام تراشی کرنے کے بعد توبہ بھی نہیں کی ان کے لئے دنیاوآخرت میں لعنت اور عذاب عظیم ہے۔ پھر ان کی حالت یہ ہوگی۔ یوم تشھد علیھم السنتھم جس دن ان کی زبانیں گواہی دیں گی کہ انہوں نے بےگناہوں پر اتہام لگاکر سخت غلطی کی تھی۔ اگر وہ خود اقرار نہیں کریں گے وایدیھم وارجلھم تو ان کے ہاتھ اور پائوں شہادت دیں گے کہ یہ لوگ اس جرم میں ملوث تھے۔ بماکانوا یعملون جو بھی غلط کام کیے ہیں سب کو ظاہر کردیا جائے گا۔ یہی مضمون سورة یسٓ میں بیان ہوا ہے۔ الیوم…………………یکسبون (آیت 65) اس دن ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے ، اور ان کے ہاتھ اور پائوں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کچھ کرتے رہے ہیں۔
فرمایا یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق اس دن اللہ تعالیٰ ان کا پورا پورا بدلہ دیگا جو صحیح ہے۔ دین کا معنی قیامت اور اطاعت بھی ہوتا ہے مگر یہاں پر جزا کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ فرمایا ان کو پورا پورا بدلہ ملے گا۔ ویعلمون ان اللہ ھوالحق المبین ، اور یہ لوگ جان لیں گے کہ بیشک اللہ کی ذات ہی برحق ہے اور وہ سب چیزوں کو کھولنے والا یعنی ظاہر کرنے والا ہے۔ جن لوگوں نے تعدی وتجاویز کیا ، بےگناہوں پر زیادتی کی ، قیامت والے دن وہ سخت سزا کے مستحق ہوں گے۔
کند ہم جنس باہم جنس پرواز :
اب واقعہ افک کی آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک پیغمبر کی پاک بیوی کی کی برات کو ایک عام قانون کے ذریعے بھی سمجھایا ہے۔ حدیث میں بھی آتا ہے کہ تاریخ انبیاء میں بعض نبیوں نوح (علیہ السلام) اور لوط کی بیویوں میں عقیدے کی خرابی تو ملتی ہے مگر کسی نبی کی بیوی پر بدکاری کا الزام نہیں لگا۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی بیویاں ہمیشہ پاک رہی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے الخبیثت للخبثیین والخبیثون للخبیثت ، خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لائق ہوتے ہیں۔ اللہ کا نبی ہمیشہ پاک ہوتا ہے لہٰذا اس کی بیوی بھی ہمیشہ ظاہرہ ہوتی ہے۔ اسی لئے یہ بھی فرمایا والطیبت لطیبین والطیبون للطیبت پاک عورتیں پاک مردوں کے لائق ہوتی ہے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لائق ہوتے ہیں ، اللہ کے نبی کے گھرانے کے یہ قطعی لائق نہیں کہ وہ کوئی برائی یا بےحیائی کی بات کریں اس آیت کو مفسرین عام معانی پر بھی محمول کرتے ہیں کہ خبیث کام خبیث لوگوں کے اور پاکیزہ کام پاکیزہ لوگوں کے لائق ہوتے ہیں۔ خبیثت سے مرادنہ صرف خبیث لوگ ہیں بلکہ اس سے گندے عقائد ، اخلاق اور اعمال بھی مراد ہیں۔ اسی طرح طیبات سے پاک عقائد ، پاک اخلاق اور پاک اعمال بھی ہیں اس طرح معنی یہ ہوگا۔ کہ گندے عقائد ، اخلاق اور اعمال گندیلوگ اختیار کرتے ہیں۔ جب کہ پاکیزہ عقائد ، پاکیزہ اخلاق اور پاکیزہ اعمال پاکیزہ لوگوں کے حصے میں آتے ہیں گندی رسومات گندے لوگ اختیار کرتے ہیں جب کہ اللہ کے پاک انبیائ ، ان کے اہل بیت اور نیکوکار لوگوں کے متعلق فرمایا اولئک مبرء ون مما یقولون ، یہ سب لوگ پاک ہیں اس چیز سے جو یہ منافق لوگ کہتے ہیں۔ بلکہ اس قسم کے اتہام لگانے والے خود غلط کار اور نحس میں جنہوں نے نہ توبہ کی نہ معافی مانگی اور نہ غلطی کا اقرار کیا۔ یہ لوگ سزا کے مستحق ہیں۔ البتہ جو لوگ اس الزام سے پاک ہیں یعنی حضرت عائشہ ؓ اور حضرت صفوان ؓ لھم مغفرۃ ورزق کریم ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت کا پروانہ ہے اگر کوئی معمولی تقصیر ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا اور انہیں عزت کی روزی بھی نصیب ہوگی۔ اللہ نے ان دو رکوع میں منافقوں کی سازش کا پردہ چاک کرکے اپنے نیک بندوں کی بریت واضح کی ہے اور منافقین کی سخت ترین الفاظ میں مذمت بیان کی ہے۔