24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 24:45–46

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ہر چلنے پھرنے والے جانور کو پانی سے۔ پس ان میں سے بعض چلتے ہیں اپنے پیٹ کے بل اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو چلتے ہیں دو پائوں پر۔ اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو چلتے ہیں چارپائوں پر۔ اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے جو چاہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

البتہ تحقیق ہم نے اتاری ہیں آیتیں کھول کر بیان کرنے والی اور اللہ تعالیٰ راہنمائی کرتا ہے جس کو چاہے سیدھے راستے کی طرف

ربط آیات : ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے نظام عصمت وعفت کی برقراری کے لئے قوانین بیان فرمائے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی صفت اور اس کی توحید کا بیان ہوا۔ اور مشرکین کا رد ہوا۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کے عقلی دلائل تھے اور آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ گزشتہ درس میں توحید کی یہ دلیل دی جاچکی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تمام چیزیں اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہیں حتیٰ کہ ہوا میں اڑنے والے پرندے بھی اپنے مالک کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بادلوں کے اجتماع ان میں سے بارش اور اولوں کے نزول اور پھر ان کے ذریعے بعض کی تکلیف دہی اور بعض کی حفاظت کا ذکر کیا۔ رات اور دن کے تغیر وتبدل اور ان کی طوالت میں کمی بیشی کو بیان کرکے فرمایا کہ ان تمام چیزوں میں صاحب بصیرت لوگوں کے لئے عبرت کا سامان ہے۔ ان دلائل میں غوروفکر کرکے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکتا ہے۔ پانی بطور منبع حیات : اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بعض جانوروں کی تخلیق کا ذکر کرکے اسے بھی اپنی وحدانیت کی دلیل قرار دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ زمین پرچلنے پھرنے والے ہر جاندار کو۔ لفظ دابۃ اگرچہ کبھی گھوڑے پر بھی بولتے ہیں تاہم یہ لفظ ہر اس جاندار کے لئے استعمال ہوتا ہے لمن یدب علی الارض جو زمین پر چلتا پھرتا ہے۔ اس میں انسان ، جانور ، چرند ، پرند اور کیڑے مکوڑے سب آجاتے ہیں۔ فرمایا ان سب جانداروں کو اللہ نے پیدا کیا من ماء پانی سے ، گویا تمام جانداروں کا منبع حیات پانی ہے۔ یہ مضمون سورة الانبیاء میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں فرمایا وجعلنا من الماء کل شیء حی (آیت 30) ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندگی بخشی۔ چناچہ تمام جانداروں اور نباتات کی غذا میں پانی ایک اہم اور بڑا حصہ ہے اللہ نے ان کی تخلیق بھی پانی سے ہی فرمائی ہے۔ اس مقام پر بعض مفسرین نے یہ اشکال پیدا کیا ہے کہ مذکورہ آیت میں ہر چیز کا منبع حیات پانی کو قرار دیا ہے۔ جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی چیزیں ایسی بھی ہیں جن کی تخلیق پانی سے نہیں ہوئی۔ مثلاً حضور ﷺ کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا اور جنات اور شیاطین کو آگ سے تخلیق کیا۔ اسی طرح فرشتوں کی تخلیق ایک خاص نور سے ہوئی۔ اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کو اللہ نے قوم کے سامنے پتھر سے پیدا کیا۔ مفسرین کرام اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اگرچہ مٹی سے ہوئی مگر جہاں تک پوری نوع انسانی کا تعلق ہے اس کو اللہ نے پانی ہی کے ذریعے زندگی بخشی ہے۔ قرآن پاک نے انسان کی پیدائش کے سلسلے میں قطرہ آب کا بار بار ذکر کیا ہے۔ جیسے سورة السجدہ میں ہے وبدا………………طین (آیت 7) اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے انسان کی تخلیق ابتدائی طور پر مٹی سے کی ثم جعل………………مھین (آیت 8) پھر اس کی نسل کو حقیر پانی کے اخلاط سے چلایا۔ سورة القیمۃ میں ہے الم یک……………یمنی (آیت 37) کیا انسان ٹپکائے جانے والے مادہ تولید کا ایک قطرہ آب نہیں تھا ؟ مطلب یہ ہے کہ تمام نسل انسانی کی تخلیق قطرہ آب سے ہی ہوئی ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہاں پر بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح کی تخلیق مراد ہے یعنی ہر چیز میں پانی کی شراکت ضرور ہے ۔ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے سلسلہ میں عناصر اربعہ کو تو تسلیم کیا جاتا ہے جن میں پانی بھی شامل ہے۔ اللہ نے آپ کا خمیر مٹی کو پانی سے گوندھ کر ہی تو بنایا تھا۔ لہٰذا آدم (علیہ السلام) کی تخلیق میں بھی پانی کا عنصر موجود ہے۔ باقی رہ گئی یہ بات کہ فرشتوں کی تخلیق نور سے اور جنات کی تخلیق نار سے ہوئی تو اس میں بھی بالواسطہ پانی کی شراکت ثابت ہوتی ہے۔ سائنسدانوں کے تجزیہ کے مطابق پانی دو گیسوں کا مجموعہ ہے یعنی آکسیجن اور ہائیڈروجن۔ ان دونوں گیسوں کو خاص مقدار میں جمع کیا جائے تو پانی تخلیق ہوتا ہے۔ اب آکسیجن ایک ایسی چیز ہے جس میں ناری مادہ بھی پایا جاتا ہے۔ ہم روز مرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ کسی چیز کو آگ دکھانے کے لئے آکسیجن کا ہونا لازمی ہے ورنہ آگ نہیں بھڑکتی۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ آکسیجن کی وساطت سے پانی میں آگ کا مادہ بھی موجود ہے چناچہ فرشتوں اور جنات کی تخلیق میں بھی کسی حد تک پانی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ نے ہر چیز کو پانی سے زندگی بخشی۔ شاہ ولی اللہ (رح) کا فلسفہ : امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنے مخصوص فلسفیانہ انداز میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تخلیق میں جس پانی کا ذکر فرمایا ہے۔ اس سے یہ پانی مراد نہیں جو ہم روز مرہ استعمال کرتے ہیں بلکہ اعنی بالماء اھل الموجودات لا ھذا النوع من العناصر اس پانی سے مراد تمام موجودات کی اصل ہے۔ وہ ایک خاص قسم کی چیز ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ اس بات کو سمجھانے کے لئے امام بغوی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت بیان کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ انسان کی تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص جوہر پیدا کیا جو نہایت ہی خوبصورت اور چمکدار تھا پھر جب اللہ تعالیٰ کی ہیبت ناک تجلی اس جوہر پر پڑی تو وہ پگھل کر پانی بن گیا۔ اس بات کا تجربہ ہم خود بھی کرتے ہیں کہ کوئی سخت سے سخت دھات سونا ، چاندی ، لوہا وغیرہ ہو جب اسے ایک خاص درجے تک حرارت پہنچائی جاتی ہے تو وہ دھات پگھل کر پانی بن جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ہیبت ناک تجلی سے وہ خاص جوہر پانی بن گیا اور پھر اس پانی سے اللہ تعالیٰ کی ہیبت ناک تجلی سے وہ خاص جوہر پانی بن گیا اور پھر اس پانی سے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو تخلیق کیا۔ اس پانی کو شاہ صاحب تمام موجودات کی اصل قرار دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے بھی ہر چیز کی پانی سے تخلیق سمجھ میں آتی ہے۔ چلنے پھرنے کی صلاحیت : اللہ نے فرمایا کہ اس نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ آگے ان جانداروں کی مختلف قسمیں ہیں اور ان میں چلنے پھرنے کی صلاحیت بھی مختلف ہے۔ فمنھم من یمشی علی بطنہ ان میں سے بعض جانور ایسے ہیں جو اپنے پیٹ پر چلتے ہیں یعنی پیٹ کے بل رینگتے ہیں۔ اگرچہ ان جانوروں کے پائوں نہیں ہوتے مگر اللہ تعالیٰ نے ان میں اتنی صلاحیت رکھی ہے کہ پیٹ کے بل گھسٹ کر نہایت تیزی سے ساتھ بھاگ سکتے ہیں۔ رینگنے والے جانوروں میں مچھلی پانی میں نہایت تیزی سے حرکت کرتی ہے اور زمین پر چلنے والوں میں سانپ نہایت تیزرفتار کیڑا ہے حتیٰ کہ پائوں ہونے کے باوجود انسان سانپ کے برابر تیز نہیں دوڑ سکتا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہے کہ اس نے کیسی کیسی عجیب و غریب مخلوق پیدا کی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت والے دن لوگ سر کے بل دوڑتے ہوئے چلیں گے ، کسی نے عرض کیا ، حضور ! پائوں پر چلنا تو سمجھ میں آتا ہے ، سر کے بل کیسے چلنا ہوگا ؟ فرمایا کہ جس خدا تعالیٰ نے پائوں پر چلنے کی قوت بخشی ہے وہ سر کے بل چلنے کی طاقت بھی عطا کردے گا۔ اس میں حیرت کی کونسی بات ہے۔ فرمایا ومنھم من یمشی علی رجلین ، اور بعض جاندار ان میں سے ایسے ہیں جو دوپائوں پر چلتے ہیں۔ ان جانداروں میں انسان سرفہرست ہے جس کو اللہ نے اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے اور اس کو دو پائوں عطا کیے گئے جو اس کی نقل و حرکت کا کام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام پرندے بھی دو پائوں پر چلتے ہیں اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق دوڑ سکتے ہیں۔ مرغ ، بطخ ، چڑیا ، کوا ، کبوتر وغیرہ ہمارے سامنے موجود ہیں۔ جو دو پائوں پر چلتے ہیں۔ فرمایا ومنھم من یمشی علی اربع اور ان میں سے بعض جانور چار پائوں پر چلتے ہیں۔ ان میں اونٹ ، گھوڑا ، بیل ، بھیڑ ، بکری ، گائے وغیرہ ہمارے سامنے موجود ہیں۔ چوپائیوں میں چیتا ایک سو دس میل اور بھیڑیا اسی میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ان کو چارپائوں عنایت کیے ہیں۔ حضرت ابی ابن کعب ؓ کے مصحف میں چار کے بعداکثر کا ذکر بھی آتا ہے۔ یعنی بعض ایسے جاندار ، کیڑے مکوڑے بھی ہیں جن کو اللہ نے چار سے زیادہ پائوں بھی دیے ہیں۔ پانی میں رہنے والے کیکڑے کے بہت سے پائوں ہوتے ہیں۔ کن کھجور کے متعلق مشہور ہے کہ اس کے ایک ہزار پائوں ہوتے ہیں۔ شیخ سعدی (رح) نے قدرت خداوندی کے نمونے کے طور پر اپنی کتاب گلستان میں لکھا ہے ” بےدست وپاہزار پائے راکشت “ یعنی ہاتھ پائوں سے محروم ایک شخص نے ہزار پائوں رکھنے والے کن کھجورے کو مار دیا۔ یہ بیچارہ اتنے کثیر پائوں ہونے کے باوجود بھاگ نہیں سکتا۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کی قدرت کا نمونہ ہے۔ دلائل توحید : ارشاد ہوتا ہے یخلق اللہ مایشاء اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اس کی مشیت اور حکمت کو کوئی نہیں جان سکتا۔ سورة یسٓ میں ہے وھوالخلق العلیم (آیت 81) وہ بہت بڑا پیدا کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ ہی کی تخلیق کردہ ہے اور اس معاملہ میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق تو مسلمہ عندالکل ہے یعنی دہریوں کی قلیل تعداد کے علاوہ دنیا کے کسی بھی آدمی سے پوچھو ، خواہ وہ کسی بھی مذہب وملت کا پیروکار ہو ، جواب یہی ہوگا۔ کہ ہرچیز کا خالق اللہ ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا واجب الوجود ہونے کو بھی سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات خود بخود ہے جو کسی دوسری ہستی کی پیدا کردہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ذات خود ہر چیز کی خالق ہے۔ البتہ اللہ کی باقی دو صفات مخصوصہ عبادت اور تدبیر میں لوگ اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کے سوا دیوی دیوتائوں اور بتوں کی پوجا بھی ضروری ہے کیونکہ کچھ نہ کچھ وہ بھی کرتے ہیں یعنی حاجات پوری کرتے ہیں اور بگڑی بناتے ہیں ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنی صفت خلق کا تذکرہ فرمایا ہے۔ جب ہر چیز کا خالق وہ ہے تو پھر عبادت کے لائق بھی وہی ہے نہ تو کوئی دوسرا کوئی چیز پیدا کرسکتا ہے اور نہ وہ عبادت کے لائق ہوسکتا ہے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہے۔ فرمایا ان اللہ علی کل شیء قدیر اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہدایت بذریعہ قرآن حکیم : آگے ارشاد ہوتا ہے لقد انزلنا ایت مبینت تحقیق ہم نے واضح واضح آیتیں نازل فرمائی ہیں۔ سورة ہذا کی ابتداء میں معاشرے کی طہارت کے لئے حدود کا قانون بتایا۔ پھر اعتقاد اور اخلاق کی درستگی کے لئے بہترین اصول وضع فرمائے۔ یہ اصول وقوانین دنیا اور آخرت کی فلاح کے ضامن ہیں اور بالکل واضح ہیں۔ جن پر آسانی سے عمل کیا جاسکتا ہے۔ فرمایا واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے ، راہنمائی کرتا ہے ۔ مگر یہ چیز طلب اور خواہش سے حاصل ہوتی ہے۔ ہر منصف مزاج اور خواہشمند آدمی اللہ تعالیٰ کی راہنمائی سے مستفید ہوسکتا ہے۔ سیدھے راستے سے مراد دین حق اور دین توحید اسلام کا راستہ ہے جس پر چل کر انسان دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کرسکتا ہے اور جس کی تعلیم قرآن پاک کی یہ واضح آیتیں مہیا کرتی ہیں۔ اسی پر تمام انبیاء چلتے رہے اور اسی کو ملت ابراہیمیہ اور ملت اسلامیہ اور دین حق کا نام دیا گیا ہے اور اسی کو الاسلام کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
Ayahs 24:47–50

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور رسول پر اور ہم نے اطاعت کی۔ پھر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ روگردانی کرتا ہے۔ اور یہ لوگ (در حقیقت) ایمان والے نہیں ہیں

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف تاکہ وہ فیصلہ کرے ان کے درمیان تو اچانک ان میں سے ایک گروہ اعراض کرنے والا ہوتا ہے

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر (فیصلہ) ان کے حق میں ہو تو آتے ہیں اس کی طرف قبول کرتے ہوئے

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے ، یا انہوں نے شک کیا ہے ، یا یہ خوف کھاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ان پر بےانصافی کریگا۔ (نہیں) بلکہ یہی لوگ (حقیقت میں) ظلم کرنے والے ہیں

ربط آیات : پہلے اللہ نے عصمت وعفت کا نظام بیان فرمایا اور اس سلسلے میں حدود اور احکام نازل فرمائے۔ پھر اللہ کی توحید کے بعض عقلی دلائل بیان فرمائے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ارض وسما کی ہر چیز خدا تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتی ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ ہم نے انسانوں کو ہدایت کے لئے بڑی واضح آیتیں نازل کی ہیں جب کائنات کی ہر چیز تسبیح وتحمید بیان کرتی ہے تو پھر انسانوں کا تو بطریق اولیٰ فرض ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے بن جائیں اور اس کی توحید کو تسلیم کرلیں۔ آپ آج کی آیات میں اللہ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتے۔ فرمایا صحیح معنوں میں یہ لوگ ایمان دار نہیں ہیں بلکہ منافق ہیں جن کو اللہ کے رسول کے فیصلے پر اعتماد نہیں۔ یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ منافقین کا کردار : ارشاد ہوتا ہے ویقولون امنا باللہ وبالرسول یہ منافق قسم کے لوگ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں۔ حالانکہ وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے ومن الناس…………………بمومنین (آیت 8) بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت پر ایمان لائے مگر درحقیقت وہ ایماندار نہیں ہیں۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ اللہ اور رسول پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں ظاہر ہے کہ ایمان میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، اس کے رسول کی رسالت اور ان کی اطاعت بھی شامل ہے۔ جب تک اللہ اور رسول کی اطاعت نہیں کریگا۔ ایمان کا کچھ فائدہ نہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اطاعت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں واطعنا ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت قبول کی۔ ان کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کردیں گے ، مگر عملی طور پر یہ ہوتا ہے ثم یتولی فریق منھم من بعد ذلک کہ اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ روگردانی کرجاتا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ تین باتوں کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ایمان باللہ ، ایمان بالرسول اور اطاعت ۔ ظاہر ہے کہ ان چیزوں کے بغیر کوئی شخص ہدایت نہیں پاسکتا اور نہ ہی خدا تعالیٰ کی مرضیات اور نامرضیات جان کر اس کے احکام کی تعمیل کرسکتا ہے ، مگر فرمایا کہ ان تین دعادی کے باوجود یہ لوگ روگردانی کرتے ہیں اور دعویٰ کا عملی ثبوت پیش نہیں کرتے۔ اللہ نے فرمایا ایسے لوگ قطعاً ایماندار نہیں ہوسکتے۔ وما اولئک بالمومنین مومن تو وہ ہوتا ہے جس کے قول وفعل میں تضاد نہ ہو اور جس کے دل میں بھی وہی بات ہو جو اس کی زبان پر ہے۔ فرمایا اگر قول وفعل میں تضاد ہے ، دل میں پختہ یقین نہیں ہے تو ایسا شخص مومن نہیں ہوسکتا۔ فرمایا ان لوگوں کے ایمان سے خالی ہونے کا ثبوت یہ ہے واذادعوا الی اللہ ورسولہ کی جب ان کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے لحکم بینھم تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کیا جائے اذا فریق منھم معرضون تو ان میں سے ایک گروہ اعراض کرنے والا ہوتا ہے دراصل منافقین کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے ہر معاملے کا فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق ہو۔ وہ سمجھتے تھے کہ بارگاہ نبوی میں ہر مقدمہ کا فیصلہ ٹھیک ٹھیک ہوگا ، لہٰذا جب وہ کسی معاملہ میں اپنا موقف کمزور پاتے تو دربار رسالت میں جانے سے اعراض کرتے۔ حضرت علی ؓ اور ایک ایسے ہی منافق خصلت شخص کے درمیان کسی معاملہ میں تنازعہ پیدا ہوگیا۔ حضرت علی ؓ نے اس شخص کے کہا کہ چلو اس کا فیصلہ حضور ﷺ سے کروالیتے ہیں۔ مگر چونکہ اس کو من مانی کی توقع نہیں تھی اس لئے اس نے یہودیوں کے عالم کعب بن اشرف کے پاس چلنے کی تجویز پیش کی تاکہ وہاں سے اپنی مرضی کا فیصلہ کراسکے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اسی کردار کے پیش نظر فرمایا ہے وان یکن لھم الحق اگر ان کو یقین ہو کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا یاتوا الیہ مذعنین تو آتے ہیں آپ کی طرف دوڑتے ہوئے۔ اذعان کا معنی یقین کرنا ہوتا ہے ، اور مطلب یہ ہے کہ اگر انہیں اپنے حق میں فیصلہ ہونے کا یقین ہو تو پھر تو اللہ کے رسول کی طرف دوڑ کر آتے ہیں اور اگر فیصلہ اس کے برخلاف متوقع ہو تو پھر اس عدالت میں آنے سے گریز کرتے ہیں۔ حضرت حسن بصری (رح) کی روایت میں آتا ہے من دعی الی حاکم فلم یجب فھو ظالم جس شخص کو کسی تنازعہ کے فیصلہ کے مسلمان حاکم کے پاس بلایا جائے اور وہ وہاں آنے کے لئے تیار نہ ہو تو ایسا شخص ظالم ہے۔ حضرت سمرہ ؓ کی روایت میں بھی اس قسم کے الفاظ آتے ہیں۔ امام ابوبکر حبصاص (رح) نے ان روایتوں کو اپنی تفسیر (احکام القرآن للبصاص ص 405 ج 3 (فیاض) میں نقل کیا ہے ۔ بہرحال فرمایا کہ اس کردار کے آدمی مومن نہیں بلکہ یہ محض زبانی دعویٰ ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک یہودی نے حضور ﷺ کی عدالت میں یہ دعویٰ دائر کیا ہے کہ اس کے چار درہم ایک صحابی ابی حدرد ؓ کے ذمے واجب الادا ہیں مگر وہ واپس نہیں کرتا۔ اس شخص کو بلایا گیا تو اس نے اقرار کیا کہ اس نے چار دہم کی رقم دینی ہے مگر ابھی وہ استطاعت نہیں رکھتاوہاولین فرصت پر ادائیگی کردے گا۔ حضور ﷺ نے دوسرے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اس شخص کا حق ادا کرو۔ آپ نے دوبارہ سہ بارہ ان الفاظ کو دہرایا مگر کوئی شخص یہ رقم ادا کرنے پر تیار نہ ہوا۔ پھر وہ مقروض صحابی خودہی اٹھا یہودی قرض خواہ کو ساتھ لیا اور بازار چلا گیا۔ اس کی پگڑی تو معمولی تھی البتہ اس کے تہبند کی چادر اچھی حالت میں تھی۔ اس نے پگڑی کو تہ بند کے طور پر باندھ لیا اور قرض کے عوض چادر پیش کردی جسے یہودی نے منظور کرلیا اور اس طرح اس نے یہودی کا حق ادا کردیا۔ یہ تو سچے مسلمان کی بات تھی۔ مگر غلط کار لوگ چاہتے ہیں کہ فیصلہ لازماً انہی کے حق میں ہو ، لہٰذا جب انہیں اپنے حق میں فیصلے کی توقع ہو تو عدالت میں دوڑ کر آتے ہیں ورنہ اعراض کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی عملی منافقت : اسی قسم کی منافقت مسلمانوں میں بھی چل نکلی ہے۔ یہ بھی اپنے مفاد کی طرف تو دوڑ کر جاتے ہیں ، مگر جہاں کوئی ذمہ داری عاید ہوتی ہو وہاں جانے سے گریز کرتے ہیں۔ قرآن پاک کا حکم یہ ہے کہ نفع ہو یا نقصان ہر صورت میں اللہ کے رسول کے فیصلے پر اراضی ہوجائو کہ اسی میں کامیابی کا راز ہے۔ اگر آج قدرے نقصان بھی ہورہا ہے تو آگے بہت بڑے فائدے کی توقع بھی ہے انسانیت کی تعمیر اور اس کے مفاد کے لئے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے سے بہتر کوئی فیصلہ نہیں۔ اگر بوجوہ اس دنیا میں اس کا فائدہ نہ بھی ہو تو آخرت میں تو بہرحال فائدہ ہی فائدہ ہوگا ، لہٰذا اللہ کے رسول کے فیصلے کو دل وجان سے قبول کرلینا چاہیے۔ سورة الاحزاب میں ہے وما کان……… …………………امرھم (آیت 36) جب اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا فیصلہ کردیں تو پھر کسی مومن مرد یا مومن عورت کو اس میں چون وچرا کا حق نہیں ہے۔ اسے فوراً تسلیم کرلینا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ فیصلے میں فائدہ بھی ہوسکتا ہے اور نقصان بھی۔ فرمایا دونوں صورتوں میں بلا چون وچرا تسلیم کرلینا چاہیے اور اس میں کوئی حیل وحجت نہیں ہونی چاہیے۔ بعض لوگ دین اور مذہب کو اس شرط پر قبول کرتے ہیں کہ اگر اس میں ذاتی منفعت ہوگی تو اس پر قائم رہیں گے ورنہ روگردانی کرجائیں گے۔ یہ منافقانہ کردار ہے۔ دیکھ لیں کسی کونسل یا اسمبلی کا ممبر بننے کے لئے لوگ کتنی تگ ودو کرتے ہیں کیونکہ اس میں انہیں مفاد نظر آتا ہے ، ادھر دوڑ دوڑ کر جاتے ہیں مگر اسلام کی بات کی طرف رخ ہی نہیں کرتے۔ اصل بیماری یہی ہے کہ لوگ مفاد کو دیکھتے ہیں کہ کہاں سے حاصل ہوتا ہے اور پھر ادھر کا ہی رخ کرتے ہیں اسلام برحق ہے اور اس کی قبولیت میں پس وپیش نہیں ہونا چاہیے۔ خواہ وقتی طور پر نقصان بھی نظرآتا ہو۔ منافقت دل کا روگ ہے : آگے اللہ نے منافق صفت لوگوں کا تجزیہ کیا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر کیوں راضی نہیں ہوتے۔ اللہ نے اس ضمن میں تین وجوہات کا ذکر فرمایا ہے افی قلوبھم مرض کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے ؟ اللہ نے نفاق کو بیماری کے ساتھ تشبیہ دی ہے یہ ایسا روگ ہے۔ جس کا تعلق دل کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر دل میں کفر ہے یا اعتقادی یا عملی نفاق ہے تو ایسا شخص منافقت جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہے۔ فرمایا ، کیا یہ بات ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں روگ ہے ارم ارتابوا یا انہوں نے شک کیا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، نبی کی رسالت یا وقوع قیامت اور حساب کتاب کی منزل کے متعلق شک کرتے ہیں۔ یا نبی کے فیصلے پر تردد ہے۔ کہ پتہ نہیں کہ ٹھیک ہوگا یا نہیں۔ اگر ایسا شک کرکے گا تو آدمی اعتقادی منافق اور کافر بن جائے گا۔ نبی کی نبوت اور رسالت میں شک کرنا بھی کفر ہے کیونکہ اللہ کا نبی تو سچا ہے اور اس کا ہر حکم واجب التعمیل ہے۔ ناانصافی کا تصور : فرمایا تیسری وجہ یہ ہوسکتی ہے ام یخافون ان یحیف اللہ علیھم ورسولہ ، یا ان کو اس بات کا خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر کوئی زیادتی کرے گا (العیاذ باللہ) حیف کا معنی زیادتی یا بےانصافی ہوتا ہے ایسا آدمی بھی قطعاً ایماندار نہیں ہوسکتا۔ اللہ کے رسول کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے اور اس میں کسی پر ذرا برابر بھی زیادتی نہیں ہوتی ، فرمایا جو لوگ اس قسم کا نظریہ رکھتے ہیں بل اولئک ھم الظلمون بلکہ یہی لوگ ظالم ہیں۔ بہرحال اللہ نے تین قسم کے لوگوں کو یہاں پر ظالم کا لقب دیا ہے۔ (1) جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے (2) جو کسی محکم بات میں شک کرتے ہیں اور (2) جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کسی زیادتی کا گمان کرتے ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ ایک رات انہوں نے حضور ﷺ کو بستر پر نہ پایا تو دل میں خیال آیا کہ شاید آپ کسی دوسری بیوی کے گھر تشریف لے گئے ہیں۔ پھر بعد میں انکشاف ہوا کہ آپ گھر میں ہی ہیں اور نماز پڑھ رہے ہیں۔ ایک دوسرے موقعہ پر حضور ﷺ نے دیکھا کہ حضرت عائشہ ؓ سو رہی ہیں۔ آپ چپکے سے اٹھے اور جنت البقیع چلے گئے کیونکہ اللہ نے جبرئیل (علیہ السلام) کی معرفت پیغام بھیجا تھا کہ اہل بقیع کے لئے جاکر دعا کریں ، جب حضرت عائشہ ؓ بیدار ہوئیں تو آپ کو نہ پایا اور آپ پریشان ہوگئیں کہ شاید آپ کسی دوسری بیوی کے ہاں چلے گئے ہیں۔ جب حضور ﷺ بقیع سے واپس آئے تو سارا معاملہ صاف ہوا۔ اس موقع پر حضور ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا کہ تم گمان کرتی ہو ان یحیف اللہ علیک ورسولہ کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کرے گا ؟ نہیں ، ایسا نہیں ہوسکتا۔ آج جس بیوی کا حق ہے ، میں اسی کے پاس رہوں گا۔ غرضیکہ آپ نے بےانصافی کے لئے یہی حیف کا لفظ استعمال کیا جو اس آیت میں آیا ہے۔ بہرحال شریعت کا فیصلہ خواہ کسی کی ذات کے خلاف ہو یا اس کے رسم و رواج کے خلاف جاتا ہو ، اسے قبول کرلینا چاہیے کہ انسانیت کی فلاح اسی میں ہے اس میں شک کرنا منافقوں اور ظالموں کا کام ہے۔ اب اگلی آیت میں مومنین کے کردار کا ذکر آئے گا۔
Ayahs 24:51–54

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

بیشک ایمان والوں کی بات تو یہ ہے کہ جب نہیں بلایا جاتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف تاکہ وہ فیصلہ کرے ان کے درمیان ، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور ہم اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص اطاعت کریگا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ، اور ڈرتا رہے گا اللہ سے اور بچتا رہے گا (اس کی نافرمانی سے) پس یہی لوگ ہیں فائز المرام ہونے والے

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور قسمیں اٹھائیں ان لوگوں نے پختہ قسمیں کہ اگر آپ ان کو حکم دیں گے تو یہ ضرور باہر نکلیں گے ۔ آپ کہہ دیجئے (اے پیغمبر ! ) مت قسمیں اٹھائو۔ دستور کے مطابق اطاعت (مطلوب ہے) بیشک اللہ تعالیٰ خبر رکھتا ہے ان باتوں کی جو تم عمل میں لاتے ہو

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے (اے پیغمبر ! ) اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی ۔ پس اگر تم نے روگردانی کی تو بیشک رسول کے ذمے وہی ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا اور تم پر وہ ہے جو تم پر بوجھ ڈالا گیا۔ اور اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جائو گے اور نہیں ہے رسول کے ذمے مگر کھول کر پہنچا دینا

ربط آیات : پہلے اللہ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور پھر منافقوں کی مذمت بیان کی کہ جب کسی تنازعہ کے فیصلے کی خاطر انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اعراض کرتے ہیں۔ ہاں ، اگر انہیں یقین ہو کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا ، تو اطاعت کے انداز میں دوڑ کر آتے ہیں۔ اور اگر ان کی توقع اس کے برخلاف ہو تو دربار نبوی میں آنے سے ٹال مٹول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کی ذہنیت کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یا تو ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہوگی ، یا اللہ کی توحید ، نبی کی رسالت یا دین کے متعلق شک ہوگا اور یا پھر انہیں اللہ اور اس کے رسول سے ناانصافی کی توقع ہوگی۔ فرمایا ایسے شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ ، اس کے رسول اور دین حق کے متعلق اسی قسم کا نظریہ رکھتا ہو۔ اس کے برخلاف اب آج کی پہلی دو آیات میں اہل ایمان کے کردار کا ذکر ہے اور اگلی دو آیتوں میں روئے سخن پر منافقوں کی طرف ہے۔ مومنوں کا کردار : ارشاد ہوتا ہے انما کان قول المومنین بیشک ایمان والوں کی بات تو یہ ہے اذا دعوا الی اللہ ورسولہ کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے لیحکم بینھم تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کرے یعنی جب دوفریقوں کے درمیان کوئی تنازعہ پیدا ہوجائے تو ظاہر ہے کہ فیصلے کے لئے دربار رسالت کی طرف ہی دعوت دی جائیگی کہ آئو اپنے متنازعہ امر میں فیصلہ حاصل کرلو ، تو مومنوں کا کردار یہ ہوتا ہے ۔ ان یقولوا سمعنا واطعنا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات سن لی ہے اور تعمیل حکم کے لئے تیار ہیں۔ اہل ایمان نفع یا نقصان سے قطع نظر نبی (علیہ السلام) کی دعوت پر فوراً حاضر ہوجاتے ہیں ۔ اس کے برخلاف منافقوں کا حال پہلے بیان ہوچکا ہے کہ نبی کی ایسی دعوت پر کہتے ہیں اطعنا یعنی ہم نے نبی کی بات مان لی مگر جلد ی ہی ان میں سے ایک گروہ اعراض کرجاتا ہے۔ ان کا رویہ بالکل بنی اسرائیل والا ہوتا ہے وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات سن کر کہتے ہیں سمعنا وعصینا (انساء 46) ہم نے بات تو سن لی مگر اس پر عمل نہیں کریں گے۔ بہرحال فرمایا کہ مومنوں کا کردار یہ ہے کہ وہ بات سن کر اطاعت کے لئے فوراً تیار ہوجاتے ہیں واولئک ھم المفلحون حقیقت میں فلاح پانے والے یہی لوگ ہیں۔ کامیابی انہی لوگوں کے حصے میں آئے گی۔ جو اللہ اور اس کے رسول کے ہر حکم کی اطاعت پر ہر وقت کمر بستہ رہتے ہیں۔ اللہ اور رسول کی اطاعت : آگے اللہ نے ایک عام اصول کے طور پر فرمایا ہے ومن یطع اللہ ورسولہ جس شخص نے اللہ اور اس کی رسول کی اطاعت کی ویخش اللہ اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا یتقہ اور وہ بچتارہا (اللہ کی نافرمانی سے) فرمایا فاولئک ھم الفائزون تو پھر یہی لوگ ہیں۔ فائز المرام ہونے والے یہاں پر اللہ تعالیٰ نے کامیاب لوگوں کی چار صفات بیان کی ہیں جن میں سے پہلی صفت اللہ کی اطاعت اور دوسری رسول کی اطاعت گزاری ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی اطاعت میں اس کی ذات اور صفات کو تسلیم کرنا اور اس کی واحدنیت کو ماننا اولین اور بنیادی فرض ہے اور اس کے بعد اس کے ہر حکم کی تعمیل شامل ہے اللہ تعالیٰ خالق اور مالک ہے ، وہ منعم اور محسن ہے۔ جو شخص ایسے معبود برحق کی بات کو نہیں مانے گا وہ ہمیشہ مردود رہیگا۔ اسی طرح اللہ کے رسول کی اطاعت بحیثیت رسالت فرض ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا دین ، شریعت اور احکام رسول کی وساطت سے آتے ہیں۔ جب تک نبی کی اطاعت نہیں ہوگی ۔ خدا تعالیٰ کی اطاعت نہیں ہوسکتی ، حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ تمہیں خوشی ہو یا ناخوشی ، ہر حالت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے۔ غرضیکہ یہ دو باتیں ہیں ، ایک اللہ کی اطاعت اور دوسری اس کے رسول کی اطاعت۔ خشیت اور تقویٰ : تیسری بات خشیت یعنی خوف خدا ہے اور اس کا تعلق دل کے ساتھ ہوتا ہے۔ سورة مومنون کے آغاز میں بھی گزر چکا ہے قد افلح المومنین الذین ھم فی صلاتھم خشعون کامیاب ہوگئے وہ مومن لوگ جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور نیاز مندی کا اظہار ہے اور دل میں اس کا خوف تمام انبیاء کی بنیادی تعلیم کا حصہ رہا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ (حجۃ اللہ البالغہ ص 53 ج 1 وھمعات ص 89 (فیاض) چار خصلتیں تمام انبیاء کی شرائع میں اٹل رہی ہیں اور یہ ہمارے دین کا بھی حصہ ہیں۔ پہلی چیز طہارت ہے ، اس میں ظاہر اور باطن کی ساری طہارت شامل ہے ، انسان کا بدن اور لباس پاک ہو ، اس کی خوراک پاک ہو اور سب سے بڑھ کر اس کا عقیدہ اور فکر ہر قسم کے کفر ، شرک اور نفاق سے پاک ہو۔ دوسری چیز اخبات ہے۔ خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے ان الذین……………ربھم (ہود 23) وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دیے اور پھر انہوں نے اپنے رب کے سامنے عاجزی کا اظہار کیا۔ اسی کو خشوع و خضوع بھی کہتے ہیں اور اس صفت کے حاملین ، خاشعین ، خاضعین اور منجتین کہلاتے ہیں۔ اپنی نیاز مندی اور کمزور ی اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی کا خیال کرنا اخبات کہلاتا ہے۔ سورة المدثر میں ہے۔ وربک فکبر (آیت 3) ہمیشہ اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کرتے رہو۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء کی شرائع کی تیسری خصلت سماحت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان حقیر اور خبیس چیزوں سے بچتا رہے ، یعنی حرص ، لالچ ، طمع اور خود غرضی کو قریب نہ آنے دے اور چوتھی خصلت عدالت ہے یعنی انسان ہمیشہ عدل و انصاف کا پرچم بلند رکھے اور کسی پر ظلم و زیادتی سے پرہیز کرے ، بہرحال ان چار بنیادی صفات میں خشوع یعنی اخبات بھی ہے جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ فرمایا جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ، اور اللہ سے ڈرتا رہا۔ اور اس کی نافرمانی سے بچتا رہا تو یہی لوگ فائز المرام ہونے والے ہیں چوتھی صفت تقویٰ کا تعلق بھی دل سے ہوتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ تقویٰ کا معنی یوں کرتے ہیں (الطاف القدس فی معرفۃ لطائف النفس مترجم ص 93 (فیاض) ” محافظت پر حدود شرع “ یعنی شریعت کی حدود کی حفاظت کرنا ہی تقویٰ ہے۔ شرک ، کفر ، نفاق ، کبائر اور صغائر سے بچنا تقویٰ میں شامل ہے ۔ تو فرمایا جس میں یہ چار صفات ہوں گی وہی فائز المرام ہوں گے۔ ایمان افروز واقعہ : امام قرطبی (رح) نے اپنی تفسیر میں یہ واقعہ نقل یکا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے پاس ایک رومی دیہاتی آدمی کھڑا ہو کر کہہ رہا تھا انا اشھدان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ۔ آپ نے اس سے پوچھا کیا بات ہے ؟ تو اس نے کہا کہ میں ایمان لایا ہوں۔ آپ نے پھر پوچھا تمہارے ایمان لانے کی وجہ کیا ہوئی ؟ کہنے لگا۔ میں نے زبور تورات ، انجیل اور بعض آسمانی صحائف پڑھے ہیں اور میں ان کی چاشنی کو جانتا ہوں۔ پھر ہمارے ہاں ایک مسلمان قیدی تھا جو قرآن پاک کی یہ آیت پڑھتا تھا ومن یطع اللہ ورسولہ یخش اللہ ویتقہ فاولئک ھم الفائزون میں نے اس آیت پر غور کیا تو مجھے یہ ایسی جامع آیت محسوس ہوئی جس میں تمام سابقہ کتب سماویہ کا لب لباب آگیا ہے۔ چناچہ مجھے یقین آگیا کہ واقعی یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور میں نے ایمان قبول کرلیا۔ کہنے لگا من یطع اللہ میں تمام فرائض آگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردو ، اور ورسولہ میں اللہ کے رسول کی تمام سنن آگئی ہیں۔ پھر یخش اللہ گزری ہوئی عمر کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ پچھلے دور میں جس قدر غلطیاں اور کوتاہیاں ہوئی ہیں ان کی وجہ سے انسان کے دل میں خوف خدا پیدا ہوجائے اور وہ تمام گناہوں کی معافی طلب کرلے۔ اور پھر ویتقہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی باقی ماندہ زندگی کی فکر کرلے اور محتاط ہو کر وقت گزارے ۔ ہر قسم کے کفر ، شرک ، نفاق ، معاصی اور مشتبہ چیزوں سے بچتا رہے تو اس کی آئندہ زندگی سنور جائے گی۔ اور یہی وہ چار باتیں ہیں جن کی بدولت انسان اپنی زندگی کا لائحہ عمل متعین کرسکتا ہے اور پھر اس پر عمل پیرا ہو کر فاگز المرام لوگوں کی فہرست میں شامل ہوسکتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے رومی دیہاتی کی یہ بات سن کر فرمایا کہ بیشک تیری یہ بات درست ہے۔ حضور ﷺ کی جامع فرمودات : یہ تو اللہ کے کلام کی جامعیت کا تذکرہ تھا۔ حضور ﷺ کا فرمان (قرطبی ص 295 ج 2) ہے اوتیت جوامع الکلم اللہ نے مجھے جامع کلام عطا فرمایا ہے چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ایک چھوٹے سے جملے میں بھی ایک جہان معنی آباد ہوتا ہے (مسلم ص 354 ج 1) مثلاً الدین النصیحۃ یعنی دین تو خیر خواہی کا نام ہے۔ فرمایا (بخاری ص 2 ج 1 ومسلم ص 140 ج 2) انما الاعمال باالنیت اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔ نیز فرمایا (بخاری ص 978 ج 2 (فیاض) انما الاعمال لاخواتیم اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہوتا ہے۔ اس قسم کے چھوٹے چھوٹے کلمات میں تعلیم کا ایک وسیع سلسلہ ہوتا ہے۔ بہرحال اس آیت کریمہ میں اتنی جامع تعلیم موجود ہے جو انسان کی زندگی کے ہر موڑ پر راہنمائی کرتی ہے۔ انسانی زندگی کا یہی تو خلاصہ ہے کہ اس کے ذمے فرائض کی ادائیگی ہوتی ہے یا سنن کی۔ اور یا اسے گزشتہ کی فکر ہوتی ہے یا آئندہ زندگی کے لئے لائحہ عمل ہوتا ہے ۔ بہرحال فرمایا کہ ان چار صفات کے حاملین ہی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوں گے۔ منافقین کی جھوٹی قسمیں : مومنین کے مذکورہ بالا تذکرے کے بعد اللہ نے پھر منافقین کے کردار کی طرف اشارہ فرمایا ہے واقسموا باللہ جھد ایمانھم یہ لو گ اللہ کی پختہ قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں لئن امرتھم لیخرجن ، اگر آپ ان کو حکم دیں گے تو یہ ضرور باہر نکلیں گے۔ باہر نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ جہاد میں جانے کی ضرورت ہو ، حصول علم کے لئے جانا ہو ، تبلیغ کا فریضہ انجام دینا یا کسی دیگر اشغال کے لئے اللہ کی راہ میں نکلنا مطلوب ہو تو وہ اس کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ اللہ نے فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں لا تقسموا مت قسمیں کھائو۔ اللہ کو تمہاری قسموں کی ضرورت نہیں بلکہ جو چیز مطلوب ہے وہ طاعۃ معروفۃ یعنی دستور کے مطابق اطاعت ہے۔ اللہ اور رسول کے ہر حکم پر عمل پیرا ہو کر دکھائو۔ وگرنہ تمہاری زبانوں باتوں کا کچھ اعتبار نہیں۔ فرمایا ان اللہ خبیر بما تعملون بیشک اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ان لوگوں کے قول وفعل میں تضاد ہے ، لہٰذا ان کی جھوٹی قسموں کا کچھ فائدہ نہیں۔ اصلاح نفس اور اصلاح عالم : ظاہر ہے کہ تبلیغ کی خاطر گھر سے نکلنا بہت بڑی قربانی ہے۔ اور تبلیغ میں دو باتیں شامل ہیں یعنی اصلاح نفس اور اصلاح عالم۔ انسان کے اپنے نفس کی اصلاح اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے آئے گی۔ جب کوئی شخص اطاعت شروع کردے گا تو اس میں تقویٰ اور خشیت آجائے گی۔ دوسرا اہم پروگرام اصلاح عالم ہے اور اس کے لئے دوسروں کے پاس جانا پڑے گا۔ دوسروں سے مراد غیر مسلم اقوام ہیں جن کو دین اسلام کی حقانیت سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس کی طرف راغب کرسکیں۔ مگر اس وقت مسلمان اس قدر انحطاط کا شکار ہیں کہ غیر مسلموں کے پاس جانے کی جرات ہی نہیں کرتے الاماشء اللہ۔ اب تو تبلیغ کا فریضہ خود مسلمانوں کے حلقوں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ بلکہ اپنے مسلمان بھائیوں کے پاس جاکر بھی خوشامد کرنا پڑتی ہے کہ خدا کے لئے اپنے دین کو سمجھنے کی کوشش کرو ۔ مسلمان دین کی مبادیات سے بھی غافل ہوچکے ہیں۔ اور انہیں اپنے مشن کا کچھ علم نہیں کہ ہم دنیا میں کیوں آئے ہیں۔ آج مسلمانوں کو بتانا پڑتا ہے کہ تمہارے دین کے کیا تقاضے ہیں اور اگر ان کو پورا کرو گے تو تمہارا بھلا ہوگا۔ ایوب کے زمانے میں ایک جاپانی پروفیسر نے اسلام قبول کیا اور اس نے راولپنڈی میں انٹرویو دیا تھا کہ اس نے اسلام کیسے قبول کیا۔ اس نے کہا تھا کہ میں مسلمانوں کے کردار سے متاثر ہو کر مسلمان نہیں ہوا بلکہ اتفاق سے قرآن کریم کا ایک نسخہ میرے ہاتھ آگیا۔ اس کا مطالعہ کرکے میں اسلام کے لئے بےچین ہوگیا۔ پھر دو سال تک مصر میں تعلیم حاصل کی تو اللہ نے مجھے ایمان کی دولت نصیب فرمادی۔ مقصدیہ ہے کہ آج کا مسلمان اس قدر گر چکا ہے کہ اپنی تہذیب و تمدن اور اپنا دین تک بھول گیا ہے۔ غیروں کی غلامی کی وجہ سے نہ ذہن اس کا اپنا ہے اور نہ فکر۔ یہ ہر وقت دوسروں کے دست نگر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تبلیغ دین جیسا اہم فریضہ بھی بالکل بھول چکے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ نے منافقوں کا حال بیان کیا ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں نکلنے کی جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں مگر نکلتے نہیں ۔ آج مسلمانوں کا حال بھی یہ ہے کہ کسی نیک کام خصوصاً تبلیغ دین کے لئے نکلنا ان کے لئے محال ہوچکا ہے۔ یہ آیت منافقوں کے حق میں اتری تھی مگر آج اس کا اطلاق خود مسلمانوں پر ہورہا ہے۔ رسول اور امت کی ذمہ داری : آگے پھر ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے فرما دیں۔ اطیعوا اللہ واطیعوالرسول کہ جھوٹے وعدے اور جھوٹی قسمیں کھانے کے بجائے اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ وہ جس کام کا حکم دیں اسے کر گزرو۔ اور جس کام سے منع کریں۔ اس سے رک جائو۔ اس کے بجائے فان تولوا اگر اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے روگردانی کرو گے تو یاد رکھو ! فانما علیہ ماحمل تو رسول کے ذمے تو وہی کچھ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا۔ رسول کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام تم تک پہنچادے اور پ ھر آگے ان کو قبول کرکے منزل مقصود تک پہنچتے ہو یا نہیں ، یہ رسول کی ذمہ داری نہیں ہے۔ رسول کے لئے یہی حکم ہے بلغ ما انزل الیک من ربک (مائدہ 67) اے پیغمبر ! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے آپ اسے آگے پہنچادیں۔ اور پھر آگے حضور ﷺ نے امت کو حکم دیا۔ (سنن دارمی ص 111 ج 1 وترمذی ص 382 (فیاض) بلغو ا عنی ولوایۃ لوگو ! تمہیں میری ایک بات بھی معلوم ہو تو اسے اگلے لوگوں تک پہنچائو۔ فرمایا کہ رسول کا کام تو یہ ہے کہ وہ میرے احکام تم تک پہنچا دیے۔ وعلیکم ماحملتم اور تمہاری ذمہ داری وہ ہے جو تم پر ڈالی گئی ہے یعنی اللہ کے حکم اور رسول کے فرمان کو تسلیم کرکے اس پر عمل پیرا ہوجائو اور یہ احکام دوسروں تک بھی پہنچائو۔ مطلب یہ کہ رسول کا کام پہنچانا ہے ، منوانا نہیں۔ اگر تم روگردانی کرو گے تو اس کے ذمہ دار تم خود ہوگے۔ اطاعت زینہ ہدایت : ارشاد ہوتا ہے ، لوگو ! غور سے سن لو وان تطیعوہ تھتدوا اگر تم اللہ کے رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاجائو گے۔ اور اگر نہیں مانو گے تو ہدایت سے محروم ہوجائو گے ، اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ شقی اور بدبخت بن کو جہنم رسید ہوگے۔ صاحب تفسیر روح المعانی سے مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) نے بیان کیا ہے کہ ایک بزرگ ابوعثمان (رح) کا وقل ہے من امبر السنۃ علی نفسہ قولا وقعلا نطق باالحکمۃ جس نے قولی اور فعل طور پر سنت کو اپنے آپ پر حاوی کرلیا تو اس کی زبان سے ہمیشہ حکمت کی باتیں نکلیں گی۔ گویا سنت پر عمل کرنا کامیابی کی دلیل ہے۔ فرمایا وما علی الرسول الا البلغ المبین ، رسول کے ذمے تو صرف کھول کر پہنچا دینا ہے اور باقی کام تمہارے ذمے ہے۔ اب تمہارا فرض ہے کہ رسول کی بات کو تسلیم کرو اور اس کی تعمیل کرو۔ تاکہ تم فائزالمرام بن جائو۔