Ayahs 23:1–11نام اور کوائف :
اس سورة کا نام اس کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ المومنون کے نام رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ مفسرین کے قول کے مطابق یہ سورة سابقہ سورة الحج کے معاً بعد نازل ہوئی۔ سورة ہذا ایک سو اٹھارہ آیات ، چھ رکو ، 1840 الفاظ اور 4801 حروف پر مشتمل ہے۔
گزشتہ سورة کے ساتھ ربط :
گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں ہم پڑھ چکے ہیں یایھا الذین امنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون ، اے ایمان والو ! رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔ اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ اب اس سورة کی ابتداء میں بھلائی کے کاموں کی تشریح کی گئی ہے جن پر دنیا وآخرت کی کامیابی کا انحصار ہے۔ گویا گزشتہ سورة میں بھلائی کے کاموں کی نوید سنائی گئی تھی اور اس سورة میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ جو لوگ بھلائی کے کاموں کو بالعفل انجام دیں گے ، وہ کامیاب ہوجائیں گے۔ یہ اس سورة کا گذشتہ سورة کے ساتھ ربط ہے۔
مضامین سورة :
سابقہ سورة الحج کی طرح اس سورة میں بھی اسلام کے بنیادی اصولوں توحید ، رسالت اور قیامت کے متعلق ذکر ہے۔ رسالت کے بارے میں جو لوگ شکوک و شبہات ظاہر کرتے تھے ان کو جواب دیے گئے ہیں توحید کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ علیٰ ہذا سورة الانبیاء کی طرح اس سورة میں بھی بعض انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر ہے جن میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، صالح (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) ، ہارون (علیہ السلام) ، عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ حضرت مریم ؓ شامل ہیں۔ اس سورة مبارکہ میں وحدت ملت انبیاء کا ذکر بھی ملے گا۔ نافرمانوں کی گمراہی اور ناکامی کے اسباب بیان کئے گئے ہیں۔
آج تو کفار ومشرکین اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں مگر قیامت کے دن ان کی جو فضیحت (رسوائی) ہوگی ، اس کو بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس دن یہ لوگ درخواست کریں گے کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے تاکہ وہ نیکی کا کام کرسکیں مگر ان کی یہ خواہش قبول نہیں ہوگی۔ سورة ہذا کے آغاز میں مومنوں کے اوصاف بیان کرکے انہیں کامیابی کی بشارت سنائی گئی جب کہ سورة کے آخر میں کفار کے متعلق فرمایا گیا ہے انہ لا یفلح الکفرون یعنی وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے ، بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناکام ہوجائیں گے۔
اس سورة میں بعض دیگر ضمنی مسائل بھی بیان کیے گئے ہیں تاہم اس کا زیادہ تر حصہ بنیادی تعلیمات پر ہی مشتمل ہے دیگر مکی سورتوں کی طرح یہاں بھی مکارم اخلاق کی بات کی گئی ہے۔ اور نبی کریم اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون بھی موجود ہے۔ قرآن کریم کی تعلیمات سے مستفید ہونے والوں کا نیک انجام اور اعراض کرنے والوں کا برا انجام بھی بیان کیا گیا ہے۔
کامیاب مومنین (1) خشوع کرنے والے :
سب سے پہلے مومنوں کو کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے اور ان کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے قد افلح المومنون تحقیق فلاح پاگئے ایمان والے۔ یعنی ان اہل ایمان نے کامیابی حاصل کرلی الذین ھم فی صلوتھم خشعون ، وہ جو اپنی نمازوں میں خشوع یعنی عاجزی کرنے والے ہیں۔ خشوع کا معنی پشت ہوجانا ، دب جانا ، عجزونیاز مندی کا اظہار کرنا ، سکون اور تذلل اختیار کرنا ہوتا ہے۔ خشوع اعضاء جوارح کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور قلب کے ساتھ بھی۔ گویا نماز کی حالت میں قلب پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور تمام اعضاء کو بالکل پرسکون ہونا چاہیے۔ حتیٰ کہ آنکھ سے ادھر ادھر دیکھنا بھی درست نہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے الالتفات فی الصلوٰۃ ھلکنۃ ، یعنی اس قسم کا فعل ہلاکت کا باعث ہے غرضیکہ دوران نماز بلا وجہ کسی عضو کو حرکت نہیں دینی چاہیے اور قلب میں عاجزی اور نیاز مندی ہونی چاہیے۔ جو لوگ اس معیارپر اترے ہیں۔ انہیں کامیابی کی بشارت دی گئی ہے۔
(2) لغویات سے پرہیز کرنے والے :
کامیاب مومنین کی دوسری صفت اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے والذین ھم عن اللغومعرضون کہ وہ لغو یعنی فضول اور بیہودہ چیزوں سے پرہیز کرنے والے ہوتے ہیں ، لغو بڑا جامع لفظ ہے ، اس میں تمام ناپسندیدہ اشغال مثلاً گانا بجانا ، کھیل تماشہ ، سینما ، تھیٹر ، بیہودہ مجلس ، عریانی ، فحاشی ، تصویر کشی ، بداخلاقی ، غیر اخلاقی کتابوں اور رسالوں کا مطالعہ وغیرہ شامل ہیں۔ غرضیکہ فضول اور بیکار باتیں لغویات میں داخل ہیں جن کے ارتکاب سے فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف مومنوں کی صفت تو یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبودیت کی طرف رجحان رکھتے ہیں اور ایسے افعال انجام دیتے ہیں جو ان کے لئے دنیا وآخرت میں مفید ہوں۔ سورة فرقان میں عبادالرحمن کی صفات میں سے اللہ نے ان کی ایک صفت یہ بھی بیان کی ہے واذامروا………کراما (آیت 76) جب وہ کسی بیہودہ چیز کے قریب سے گزرتے ہیں۔ تو شریفانہ طور پر گزر جاتے ہیں۔ یعنی ادھر توجہ ہی نہیں کرتے۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج لغویات ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ جن کی وجہ سے اخلاق ، دین اور عاقبت کا نقصان ہورہا ہے کام تو وہ ہونا چاہیے جس سے قوم ، ملت اور انسانیت کو فائدہ پہنچے۔ محض اپنے نفس کی تسکین کا انتظام کرلینا تو کوئی کام نہیں ہے۔ عمل وہ ہونا چاہیے جس سے مخلوق خدا کی بہتری اور عاقبت اچھی ہوجائے تو فرمایا کامیاب مومنین وہ ہیں جو لغویات سے اعراض کرتے ہیں۔
(3) زکوٰۃ دینے والے :
فرمایا ان کی تیسری صفت یہ ہے والذین ھم للزکوٰۃ فعلون کہ وہ زکوٰۃ ادا کرنے والے ہوتے ہیں۔ زکوٰۃ سے مراد اصطلاحی زکوٰۃ بھی ہو سکتی ہے جو ہر سال نصاب کے مال کا چالیسواں حصہ ادا کی جاتی ہے اور جو صاحب نصاب اہل ایمان کے لئے فرض ہے۔ البتہ بعض فرماتے ہیں کہ یہاں پر زکوٰۃ سے یہ زکوٰۃ مراد نہیں کیونکہ زکوٰۃ کا حکم تو مدنی زندگی میں نازل ہوا تھا۔ اور یہ سورة مکی دور کی ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق یہاں پر زکوٰۃ سے مراد طہارت اور پاکیزگی ہے۔ اس طرح جملے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ وہ مومنین کامیاب ہوگئے جو اپنی روح اور قلب کی پاکیزگی اختیار کرتے ہیں اور کفر شرک کی نجاست سے بچتے ہیں اور اپنے آپ کو دیگر معاصی سے بھی بچاتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اسی طرح منقول ہے۔
تاہم صحیح بات یہ ہے کہ زکوٰۃ کی فرضیت کا حکم مکی زندگی میں ہی نازل ہوگیا تھا۔ البتہ اس کا نصاب مدنی دور میں مقرر ہوا تھا ۔ مکی زندگی میں زکوٰۃ کی مقدار مقرر نہیں تھی ، تاہم اپنے مال میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ادا کرنے کا حکم تھا۔ چناچہ زکوٰۃ کا حکم سورة المزمل میں بھی موجود ہے جو قرآن پاک کی ابتدائی سورتوں میں سے ہے واقیموا الصلوٰۃ واتوالزکوٰۃ (آیت 20) بہرحال جس طرح نماز اور روزہ بدنی عبادت ہے ، اسی طرح زکوٰۃ کی ادائیگی انسان پر مالی حق ہے۔ مالی عبادات میں سے پہلا نمبر زکوٰۃ کا ہے اس کے بعد واجبات اور نوافل وغیرہ آتے ہیں ۔ تو زکوٰۃ کی ادائیگی بھی صاحب نصاب پر فرض ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں کی صفت کے طور پر بیان کیا ہے۔
(4) مقامات شہوت کے محافطین :
ارشاد ہوتا ہے ، کامیاب مومنین وہ ہیں والذین ھم لفروجھم حفظون جو اپنے مقامات شہوت کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ الا علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم مگر اپنی بیویوں اور شرعی لونڈیوں کے سامنے ۔ فانھم غیر ملومین کہ ان پر کوئی ملامت نہیں فمن ابتغی وراء ذلک فاولئک ھم العدون البتہ جو کوئی دوسرا راستہ اختیار کریگا ، تو یہی زیادتی کرنے والے ہوں گے۔ قدرت نے انسان کے اندر میلان شہوانی فطری طور پر رکھا ہے جس کو فرو کرنے کے لئے اللہ نے صرف دو ذرائع بتلائے ہیں یعنی منکوحہ بیوی اور شرعی لونڈی۔ پرانے زمانے میں لونڈی غلام کا رواج تھا۔ دوران جنگ ہاتھ آنے والے جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنا کر مجاہدین میں تقسیم کردیا جاتا تھا۔ جو شرعی لونڈی ہوتی تھی اس سے تمتع جائز تھا۔ مگر اب پوری دنیا میں یہ سلسلہ ختم ہوچکا ہے لہٰذا شہوت رانی کا اب واحد ذریعہ منکوحہ بیوی ہی رہ گیا ہے گویا اب اپنی بیوی کے علاوہ جو کوئی دوسرا ذریعہ استعمال کرے گا ۔ اس کو اللہ نے تعدی کرنے والا فرمایا ہے۔
شہوت رانی کے غیر شرعی ذرائع میں زنا ، لواطت ، مشت زنی ، یا جانوروں کے ساتھ بدفعلی جیسے قبیح ذرائع شامل ہیں۔ قدیم زمانے میں بعض لوگ ایک دوسرے کی لونڈی عاریۃ لے لیتے تھے ، بعض فرقوں میں متعہ کو جائز قرار دیا گیا ہے یعنی کسی خاص مدت کے لئے نکاح کرلیا جائے اور پھر اس مدت کے بعد خود بخود علیحدگی ہوجاتی ہے۔ یہ تمام ذرائع ناجائز ہیں اسی لئے شریعت نے نکاح عام کرنے کی تلقین کی ہے۔ نکاح کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے آسان بنانا چاہیے۔ رسم و رواج کی پابندیاں اور غیر ضروری جہیز کی لعنت نکاح کے راستے میں رکاوٹیں ہیں ، ان کو ختم ہونا چاہیے تاکہ نکاح عام ہو۔ اس پر غیر ضروری پابندیاں ناجائز ذرائع اختیار کرنے کا موجب بنتی ہیں جس سے نسل خراب ہوتی ہے اخلاق اور دین بگڑتا ہے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ کامیاب مومن وہ ہیں جو اپنے مقامات شہوت کی حفاظت کرتے ہیں اور اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے علاوہ کسی دوسرے ذریعے سے شہوت کو فرو نہیں کرتے۔
انسان کا شہوانی میلان :
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جس طرح بھوک پیاس وغیرہ انسان کی فطرت میں داخل ہے ، اسی طرح اللہ نے شہوت کو بھی انسان پر مسلط کررکھا ہے۔ انسانی جسم میں موجود مادہ تولید باہرنکلنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ ہر جائز یا ناجائز ذرائع سے ممکن ہوتا ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ناجائز ذرائع پر پابندی لگا دی ہے تاکہ انسان کی نسل خراب نہ ہو ، اور شہوت رانی کے بعد انسان اپنی ذمہ داری بھی محسوس کرے ، یہ اسی صورت میں ہوگا۔ جب انسان اپنی منکوحہ بیوی سے متمتع ہوگا۔ پھر وہ اپنی اولاد کی پرورش کی ذمہ داری بھی اٹھائے گا۔ اور اگر محض شہوت رانی کرکے انسان علیحدہ ہوجائے تو نہ وہ قانون کی پابندی کرنے والا ہوگا اور نہ اس کے نتیجے میں آنے والی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائیگا۔ یہی وہ قباحت ہے جو پوری انسانی سوسائٹی کو خراب کرتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے نکاح کی پابندی عائد کرکے معاشرے کہ مہذب ، متمدن اور ذمہ دار بنایا ہے اس طریقے سے نسل انسانی کی حفاظت بھی ہوگی ، جس طرح ایمان اور عقیدے کی حفاظت ضروری ہے اسی طرح نسل اور اخلاق کی حفاظت بھی ضروری ہے اور یہ نکاح کی صورت میں ہی ہوسکتی ہے۔
ایک اچھی حکومت کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرتی حقوق کی حفاظت کرے ، بےحیائی اور بداخلاقی کا قلع قمع کرے ، بلکہ سب سے پہلے تو عقیدے کی حفاظت ضروری ہے۔ حکمران طبقہ چونکہ عام طور پر خود ملحد ہوتا ہے۔ اس لئے وہ عقیدے کی حفاظت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے جس کی وجہ سے کفر شرک اور بدعات فروغ پاتی ہیں۔ بہرحال نکاح کے لوازمات اور مردوزن کی ذمہ داریوں کی تفصیل قرآن وسنت نے واضح کردی ہے۔ جو ان کی پابندی کرے گا وہی کامیاب وکامران ہوگا۔
آج ہم دنیا بھر میں دیکھ رہے ہیں کہ شہوانی جذبات کے فرو کرنے میں خدائی قوانین کی پرواہ نہیں کی جارہی ، بلکہ مغرب کی متمدن دنیا میں تو خود ساختہ قوانین کے ذریعے خدائی احکام کے الٹ کیا جارہا ہے۔ برطانوی قانون کے مطابق اگر دو مرد باہمی رضامندی سے ہم جنسی کے مرتکب ہوتے ہیں تو قانون کی نظر میں ان پر کوئی جرم عائد نہیں ہوتا۔ اسی طرح امریکہ ، برطانیہ اور یورپ کے کئی دوسرے ممالک میں بالغ مردوزن باہمی رضامندی سے بدکاری کرسکتے ہیں ، ان پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ قانون کی نظر میں قصوروار ہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص زنا بالجبر کا مرتکب ہوتا ہے تو پھر ان کا قانون حرکت میں آتا ہے ، ورنہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زنا کے متعلق فرمایا ہے۔ ولا تقربوا……………سبیلا (بنی اسرائیل 32) زناکے قریب نہ جائو کہ یہ بےحیائی اور برا راستہ ہے۔ زنا عقل اور دسور دین سب کے خلاف ہے۔ اور ہم جنسی تو زنا سے بھی زیادہ فحش ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ نکاح کے راستے میں تو معاشرے نے طرح طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں اور غلط راستہ کھلا ہے ۔ فرمایا جائز ذرائع کے علاوہ جو کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے گا تو وہ تعدی کرنے والا ہوگا اور اللہ کے ہاں ماخوذ ہوگا۔
(5) انہت اور عہد کے پابند :
پانچویں قسم کے کامیاب لوگ وہ ہے والذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون جو اپنی امانتوں اور عہد کے پابند ہیں۔ امانت ایک وسیع المعانی لفظ ہے جس کی ضد خیانت ہے۔ غسل ، وضو ، نماز وغیرہ بھی امانت میں داخل ہیں۔ ان کی پابندی کرنا گویا امانت کا حق ادا کرنا ہے۔ اگر کسی کے کام میں شراکت کی ہے تو یہ بھی امانت ہے۔ کسی نے کسی کے پاس وصیت رکھی ہے تو یہ امانت ہے۔ کسی مجلس میں کوئی مخفی صلاح مشورہ ہوا ہے تو وہ بھی امانت ہے۔ کوئی راز کی بات ہے تو اسے فاش نہ کرو کہ یہ تمہارے پاس بطور امانت ہے۔ اگر کسی سے کسی معاملہ میں کوئی عہد و پیمان کیا ہے۔ کوئی قول وقرار کیا ہے تو اس کو پورا کرو۔ امانت میں خیانت کرنا مفاقوں کا کام ہے۔ فرمایا کامیابی ان اہل ایمان کے حصے میں آئیگی جو اپنی امانتوں اور عہدوپیمان میں رعایت کرنے والے ہیں۔
(6) محافظین نماز :
ابتداء میں بھی نماز کا ذکر ہوا تھا ، وہاں نماز میں خشوع و خضوع کرنے والوں کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ اب آخر میں فرمایا والذین ھم علی صلوتھم یحافظون وہ مومن لوگ کامیاب ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ نماز کے لئے وقت کی پابندی ، شرائط کی تکمیل ، طہارت ، خشوع وغیرہ نماز کی حفاظت کرنے والی بات ہے۔ انسان کی فلاح کا دارومدار حقوق اللہ اور حقوق العباد پر ہے۔ نماز تعلق باللہ درست کرنے کا ذریعہ ہے۔ جب کہ زکوٰۃ مخلوق کے ساتھ تعلقات استوار کرتی ہے۔ اب نماز کی حفاظت کو بھی کامیابی کی کلید قرار دیا گیا ہے۔
جنت کی وراثت :
ان تمام صفات کے حاملین کے متعلق اللہ نے فرمایا اولئک ھم الوارثون ، الذین یرثون الفردوس ، یہی لوگ ہیں جو جنت الفردوس کے وارث ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے جب جنت مانگو تو جنت الفردوس کا سوال کرو کہ یہ سب سی اعلی مقام ہے۔ خدائے رحمن کا عرش اسی جنت کے اوپر ہے ۔ اس جنت سے نہریں پھوٹتی ہیں جو دوسری جنتوں کو سیراب کرتی ہیں۔ فرمایا یہ لوگ اسی جنت الفردوس کے مالک ہوں گے ھم فیھا خلدون وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں سے نکلنے کا خطرہ ، نہ زوال کا خدشہ اور نہ رحمت چھن جانے کا ڈر ہوگا اللہ تعالیٰ دائمی کامیابی نصیت فرمائے گا۔
Ayahs 23:12–17ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی بعض صفات بیان فرمائی ہیں اور نوید سنائی ہے کہ جن لوگوں میں یہ اوصاف پائے جائیں گے ان کو کامیابی نصیب ہوگی اور وہ آخرت میں جنت الفردوس کے مالک بن جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسئلہ تخلیق انسانی بیان فرمایا ہے کہ اس نے انسان کی تخلیق کن کن مراحل کے بعد کی۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ انسان اپنی طبعی عمر پوری کرکے فوت ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے گا اور پھر حساب کی منزل آئیگی اور جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔
انسان کی اولین تخلیق مٹی سے :
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسان کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں۔ اس نے پہلے انسان یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو براہ راست مٹی سے پیدا کیا جب کہ باقی نسل کو قطرہ آب کے توسط سے۔ پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین اور البتہ تحقیق ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ اللہ نے فرشتے کو حکم دیا کہ تمام سطح ارض سے چھانٹ کر مٹھی مٹی لائو۔ تعمیل حکم کی گئی تو اسی مٹی سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا ڈھانچہ تیار کیا ، پھر اس میں روح پھونکی تو وہ جیتا جاگتا انسان بن گیا۔ زمین کی مٹی مختلف مقامات پر مختلف نوعیت کی ہے ، کہیں ریتلی ہے اور کہیں چکنی۔ کوئی مٹی سفید ہے ، کوئی سرخ اور کوئی سیاہ ، کوئی پتھریلی ہے اور کوئی بھربھری ، مٹی کی انہی خصوصیات کی وجہ سے انسانوں میں بھی مختلف خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ مختلف علاقوں میں مختلف رنگوں کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ پھر ان کی طبیعتیں بھی مختلف ہوتی ہیں ، کوئی سعادت مند اور کوئی شرپسند۔ کوئی نرم طبیعت اور کوئی سخت طبیعت ، کوئی صلح کن اور کوئی جنگجو ، گویا اس مٹی کا اثر انسانی اخلاق پر بھی پڑتا ہے اور اسی پر مختلف لوگوں کی طبائع مختلف ہوتی ہیں۔
اگرچہ براہ راست مٹی سے تخلیق صرف آدم (علیہ السلام) کی ہوئی تھی تاہم اس کو تمام انسانوں پر بھی منطبق کیا جاسکتا ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ جن غذائوں کے استعمال سے انسان کی پرورش ہوتی ہے اور نسل انسانی کی بقا کے لئے نطفہ کا سلسلہ چلتا ہے ، وہ ساری کی ساری غذائیں مٹی ہی کی پیداوار ہیں۔ اناج ، پھل سبزیاں وغیرہ جو انسان استعمال کرتے ہیں۔ وہ مٹی سے ہی اگتی ہیں۔ لہٰذا اس لحاظ سے بھی انسان کی تخلیق مٹی سے ہی ثابت ہوتی ہے۔ گویا مٹی انسان کی اصل ہے ، مرنے کے بعد پھر مٹی ہی اس کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور قیامت کو دوبارہ اس مٹی سے انسان کو اٹھایا جائے گا۔ مٹی میں فطرتی طور پر عاجزی اور انکساری پائی جاتی ہے۔ لہٰذا جو شخص منکسرالمزاج ہوگا۔ وہ دراصل اپنے اصل کی طرف رجوع کرنے والا ہوگا۔ جو کہ ایک اچھی صفت ہے۔
قطرہ آب سے تخلیق :
مٹی سے ابتدائی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کے فطری ذریعہ تخلیق کا ذکر فرمایا ہے۔ ثم جعلنہ نطفۃ فی قرار مکین ، پھر ہم نے اسے قطرہ آب کی شکل میں جمے ہوئے ٹھکانے یعنی رحم مادر میں رکھا۔ نطفہ شفاف پانی کو کہتے ہیں جس میں کوئی میل کچیل یا کسی دوسری چیز کی ملاوٹ نہ ہو۔ انسان کا مادہ تولید بھی بایں معنی شفاف ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک ہی انسان کا مادہ ہوتا ہے اور اس میں کسی دوسرے شخص کی ملاوٹ نہیں ہوتی۔ غرضیکہ فرمایا کہ ہم نے مرد کے مادہ تولید کو عورت کے رحم میں رکھا اور پھر وہاں اسے مختلف مراحل سے گزارا اور اس کی مختلف شکلیں بنائیں اور پھر اس سے مکمل انسان کو پیدا کردیا۔ قرآن میں دوسری جگہ نطفہ کو ماء مھین بھی کہا گیا ہے یعنی یہ ایک حقیر پانی ہے جس کی ناپاکی میں کوئی شبہ نہیں۔ اگر یہ کپڑے کو لگ جائے تو کپڑا بھی اچھی طرح دھوئے بغیر پاک نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی ہے کہ جس راستے سے اس پانی کا اخراج ہوتا ہے وہ بھی نجاست آلود ہتا ہے۔ اس لئے اس کو حقیر پانی کہا گیا ہے اور پھر اس سے انسان جیسی اشرف مخلوق کو پیدا کیا جو اس کی ساری مخلوق میں شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔
رحم مادر میں تغیرات :
فرمایا ، ہم نے اس قطرہ آب کو رحم مادر میں مقرر جگہ پر رکھا۔ ثم خلقنا النطفۃ علقۃ پھر اس قطرہ آب خون کے لوتھڑے میں تبدیل کیا۔ گویا چالیس دن کے عرصہ میں پانی کا یہ حقیر قطرہ خون کا لوتھڑا بن گیا۔ فخلقنا العلقۃ مضغۃ پھر ہم نے خون کے جمے ہوئے لوتھڑے کو گوشت کے ٹکڑے میں بدل دیا۔ اس تبدیلی پر بھی چالیس دن کا عرصہ صرف ہوا۔ فخلقنا المضغۃ عظما پھر مزید چالیس دن کے عرصہ میں ہم نے اس گوشت میں ہڈیاں پیدا کردیں۔
فکسونا اعلظم لحما پھر ہم نے ان ہڈیوں کو گوشت پہنا دیا یہ کورس بھی چالیس دن میں مکمل ہوا۔ ایک تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں پانچ سو ہڈیاں ہیں جن کو جوڑ کر انسانی ڈھانچہ مکمل کیا جاتا ہے۔ ہڈیوں کو کو جوڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ ان کے درمیان ہی لچکدار مادہ تخلیق کرتا ہے اور ہڈیوں کو باندھنے کے لئے رباطات یعنی رسیاں بھی جسم کے اندر ہی پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جھلیاں اور پٹھے ہوتے ہیں جن کے ذریعے ہڈیوں کو اس طریقے سے آپس میں باندھ دیا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسری سے مربوط ہوجاتی ہیں ، اور پھر ان پر گوشت چڑھا کر انسانی اعضا کو مکمل کردیا جاتا ہے۔
فرمایا ہڈیوں پر گوشت چڑھانے کے بعد ثم انشانہ خلقا اخر پھر ہم نے اس کو ایک نئی شکل و صورت میں لاکھڑا کیا۔ جب ڈھانچہ مکمل ہوگیا تو پھر جس پر کھال پیدا ہوگئی۔ بال اگ آئے ، ناخن بن گئے اور اندرونی اور بیرونی تمام نشیب و فراز بن گئے ۔ ذرا غور کریں کہ کجا ایک حقیر قطرہ آب اور کجا ایک مکمل انسان جس کی آنکھیں ، کان ، دل کام کرنے لگتے ہیں۔ ایک خاص مدت کے بعد دل کی دھڑکن بھی شروع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے تمام ساختوں میں خون گردش کرنے لگتا ہے اور جسم کی نشونما شروع ہوجاتی ہے۔ وگرنہ انسان تو اس قدر کمزور ہے کہ ساری دنیا کے سائنسدان بھی مل کر ایک قطرہ خون نہیں پیدا کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ یہ کام کروڑوں فرشتوں کے ذریعے کرتا ہے۔
قدرت کا شاہکار :
جب کوئی شخص تخلیق انسانی کے ان مراحل پر غور وفکر کرتا ہے۔ تو اس کی زبان پر بےساختہ خدائے بلند برتر کی حمد کا ترانہ آجاتا ہے۔ فتبرک اللہ احسن الخالقین ، پس بڑی بابرکت ہے اللہ تعالیٰ کی ذات جو سب سے بہتر تخلیق کرنے والا ہے۔ انسان کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بہترین شاہکار ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے احسن تقویم کے لفظ سے موصوف کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے انسان اس کی بہترین مخلوق ہے اس کی شکل و صورت اور اعضاء وجوارح اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا بہترین نمونہ ہیں۔
مفسر قرآن علامہ زمحشری (رح) (کشاف ص 178 ج 3 (فیاض) ثم انشانہ خلقا اخر پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ (رح) نے اس جملے سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے مرغی کا انڈا چھین کر اسے مرغی کے نیچے رکھ دے اور اس سے بچہ نکل آئے تو وہ شخص صرف انڈا واپس کرنے کا ذمہ دار ہوگا نہ کہ انڈے سے نکلنے والا بچہ ، اگر انڈا میسر نہ ہو تو اس کی قیمت ادا کریگا وہ شخص بچہ واپس کرنے کا مکلف نہیں کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے اسے دوسری شکل و صورت میں تبدیل کردیا ہے۔ جیسا کہ اس حصہ آیت سے واضح ہے ۔
سائنسی تحقیقات :
میڈیکل سانئس والوں نے انسانی تخلیق کے نو ماہ کے عرصہ پر بڑی عرق ریزی کے ساتھ تحقیق کی ہے۔ اس عرصہ کے دوران ایک ایک لمحہ میں ہونے والے تغیرات کا خورد بینوں کے ذریعے مطالعہ کیا ہے جو کہ دس سال میں مکمل ہوا۔ مڈوائفری کی مشہور کتاب (Ten Teachers دس معلمین) میں اس تحقیق کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں سائنسدانوں نے بڑی بڑی تحقیقات کرکے دنیا کو نئی نئی چیزوں اور نئے نئے تجربات سے روشناس کرایا ہے بعض سائنسدانوں نے محض چیونٹیوں پر چالیس سال تک محنت کی ، ان کے تمام خدوخال ، ان کے حرکات و سکنات اور ان کے معمولات و مشغولات کا مطالعہ کیا اور پھر انہیں کتابی صورت میں شائع کیا ظاہر ہے کہ بغیر محنت کے کوئی چیز حاصل نہیں ہوسکتی ۔ بڑے بڑے تجربات اور مشاہدات ہی صحیح نتیجہ پر پہنچنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اپنے عروج کے زمانے میں مسلمانوں نے بھی سائنسی تجربات کرنے میں بڑی بڑی محنت کی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں ان کے مقابلہ کی کوئی قوم نہ تھ ، اس سے پہلے رومیوں اور یونانیوں نے بھی بڑی بڑی مشقتیں اٹھائیں اور بنی نوح انسان کی خدمت کی ۔ بعد میں ابن سینا جیسے مسلمانوں سائنسدان بھی پیدا ہوئے۔ اس شخص نے صرف سولہ سال کی عمر میں پانچ جلدوں پر محیط فن طب پر ” قانون “ نامی کتاب لکھی جس کے نتائج آج کے سائنسی دور میں بھی پچھتر فیصد تک درست ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کے باوجود اس شخص کا دعویٰ ہے کہ اس کا اصل موضوع تو فلسفہ ہے ، طب کی تحقیق تو اس نے محض شغل کے طور پر اختیار کررکھی ہے۔ جب اسے بادشاہ وقت نے وزارت عظمی کی پیش کش کی تو اس نے قبولیت کے لئے دو شرائط پیش کیں۔ پہلی یہ کہ اگر کوئی مجھ سے علاج معالجے کے متعلق مشورہ طلب کریگا تو مجھے وہ مشورہ دینے کی اجازت ہوگی ، اور دوسری شرط یہ کہ اگر میرے طالب علم حصول علم کے لئے آئیں تو ان کو روکا نہیں جائیگا اور مجھے ان کی تشنگی دور کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ بادشاہ نے آپ کے یہ دونوں شرائط تسلیم کیں اور وزارت عظمیٰ پر فائز کیا۔ افسوس کا مقام ہے کہ اب مسلمانوں میں یہ جذبہ باقی نہیں رہا ، ان کی صلاحیتیں تباہ ہوچکی ہیں ، دوسروں کے غلام بن چکے ہیں اور اب ان کے پاس غیروں کی خوشہ چینی کے سوا کچھ نہیں رہا۔
ایک کاتب وحی کا واقعہ :
حضور ﷺ کے زمانے میں آپ ایک شخص کو قرآن پاک لکھوایا کرتے تھے۔ جب آیت ثم انشانہ خلقا اخرا کا نزول ہوا۔ تو حضور ﷺ نے اس شخص کو لکھنے کے لئے کہا۔ جب وہ شخص یہ الفاظ لکھ چکا تو آگے اس کی زبان پر خود بخود یہ الفاظ جاری ہوگئے فتبرک اللہ احسن الخالقین اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اس پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ خالق ارض وسما کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ جب حضور ﷺ نے اسے یہی الفاظ لکھنے کے لئے کہا تو شیطان نے اس کے دماغ میں فتور پیدا کردیا اور کہنے لگا کہ یہ الفاظ تو پہلے ہی میری زبان پر جاری ہوچکے ہیں لہٰذا یہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے۔ وحی کے نزول کا دعویٰ کرکے وہ شخص مرتد ہوگیا اور مکہ چلا گیا ، تاہم فتح مکہ کے بعد اللہ نے اسے پھر توفیق بخشی اور وہ تائب ہو کر پھر دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا ، تاریخ میں اس کے بڑے بڑے کارناموں کا ذکر بھی ملتا ہے۔
انسان کی موت اور بعثت :
آگے فرمایا ثم انکم بعد ذلک لمیتون پھر اس کے بعد تمہیں موت آنے والی ہے کیونکہ اللہ رب العزت کا یہ اٹل فیصلہ ہے کل نفس ذائقۃ الموت (آلعمران 185) ہر ذی جان کو موت سے ہمکنار ہونا ہے۔ فرمایا ثم انکم یوم القیمۃ تبعثون پھر تم قیامت والے دن دوبارہ اٹھائے جائو گے۔ پھر حساب کتاب اور جزائے عمل کی منزل آئے گی اور تمہیں اسی دنیا کی کارکردگی کا پھل مل کر رہے گا۔
پیدائش انسان کا آغاز تھی۔ اس کے ساتھ اللہ نے انجام کا ذکر بھی کردیا۔ یہ سب باتیں توحید خداوندی کے دلائل ہیں۔ جنہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت سمجھ میں آتی ہے۔ یہ تو انسان کا اندرونی حال تھا ، آگے اللہ نے بیرونی مشاہدات کا تذکرہ بھی کیا ہے ولقد خلقنا فوقکم سبع طرائق ہم نے تمہارے اوپر سات طبقات بناڈالے ، طریق راستے کو بھی کہتے ہیں اور طبقہ کو بھی۔ یہاں آسمان کے ساتھ طبقات مراد ہیں۔ اللہ نے ہر طبقہ میں اپنی حکمت کے شواہد رکھے ہیں۔ فرمایا ہم نے ہر چیز کو تخلیق کیا وما کنا عن الخلق غفلین اور ہم اپنی مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ پیدا کرکے اسے ویسے نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کی مسلسل نگہداشت بھی کرتے ہیں اور ہر مخلوق کے لئے اس کے مناسب حال سامان بھی مہیا کرتے ہیں۔ یہ ہمارے علم و حکمت میں ہے کہ کس کو کیا چیز کس وقت میں دینی ہے اور کس سے کیا چیز کب روکنی ہے ۔ جس نے پیدا کیا ہے۔ وہ اپنی مخلوق سے غافل نہیں ہے۔ فیملی پلاننگ والے تو دنیا کو بھوک سے بچانے کے لئے بڑے بڑے منصوبے بناتے ہیں مگر وہ سارے بیکار محض ہیں۔ ہر جاندار کی روزی کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اٹھا رکھا ہے۔ اس کا واضح اعلان ہے وما من……………رزقھا (ہود 6) وہ پیدا کرتا ہے تو روزی کے وسائل بھی مہیا کرتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے شاہکار ہیں۔ وہ وحدہ لاشریک ہے۔ یہ دلائل قدرت دیکھ کر انسان کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لے آنا چاہیے تاکہ اسے دائمی فلاں نصیب ہوسکے۔
Ayahs 23:18–22ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے درس توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کے کچھ نمونے بیان فرمائے ہیں۔ پہلے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر کیا اور پھر انتہائے عمر تک کے حالات بیان کیے۔ درمیان میں اپنی کبریائی کا ذکر بھی کیا فتبرک اللہ احسن الخالقین یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی ہی برکتوں والی اور بہترین خالق ہے وہی معبود برحق ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
اس زندگی کے بعد اللہ نے انسان کی موت کا ذکر بھی کیا اور پھر قیامت کو دوبارہ اٹھائے جانے کی بات ہوئی۔ اللہ نے آسمان کے ساتھ طبقات کا ذکر بھی کیا اور یہ بھی کہ اللہ کے فرشتے آسمانوں کے مختلف مقامات پرچلتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ان کے راستے مقرر ہیں۔ اللہ نے آخر میں فرمایا کہ ہم اپنی پیدا کردہ مخلوق سے غافل نہیں ہیں بلکہ ہم ان کی مصلحت کو خوب جانتے ہیں۔
پانی کی نعمت :
اب اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی کچھ مزید نشانیوں کا ذکر کیا ہے ابتداء میں پانی کا ذکر ہے وانزلنا من السماء مآء اور ہم نے آسمان کی طرف سے پانی نازل کیا۔ عربی زبان میں ہر بلند چیز پر سما کا لفظ بولا جاتا ہے۔ جس میں آسمان ، فضا اور بادل وغیرہ شامل ہیں۔ بارش بادلوں کے ذریعے برستی ہے اور یہ بھی فضا میں ہوتے ہیں اس لئے یہاں بھی سما کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سما سے مراد صرف بادل نہیں جو بارش کا ذریعہ بنتے ہیں ، بلکہ اس سے یہ بھی مراد ہے کہ بارش کے نزول کا حکم اوپر سے آتا ہے تو بارش برستی ہے ورانہ نہیں ، اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے اللہ نے فرمایا وفی السماء …………توعدون (الذریت 23) یعنی تمہاری روزی آسمان میں ہے۔ وہاں سے حکم آتا ہے تو روزی ملتی ہے اسی طرح جب اوپر سے اللہ تعالیٰ کا حکم آتا ہے تو بارش بھی ہوتی ہے۔ تو فرمایا ہم نے آسمان کی طرف سے پانی نازل کیا ، اور یہ نزول بھی بقدر ایک خاص اندازے کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ بےتحاشا۔ جس قدر اللہ کی مصلحت ہوتی ہے اس کے مطابق بارش ہوجاتی ہے ، بعض اوقات اللہ کی مصلحت میں ضرورت سے زیادہ بارش ہوتی ہے جس کی وجہ سے سیلاب آکر نقصان کا باعث بھی بنتے ہیں بہرحال بارش برسانے کے مقام ، وقت اور مقدار کا تعین اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ پر موقوف ہوتا ہے ۔ دراصل ہر چیز کے خزانے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں جیسے فرمایا ، وان من……………معلوم (الحجر 21) ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم انہیں ایک خاص اندازے کے مطابق اتارتے ہیں۔ بارش کا خزانہ بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، اور وہ اسے اپنی مشیت کے مطابق نازل فرماتا ہے۔
فرمایا ، ہم نے پانی اتارا فاسکنہ فی الارض اور پھر ہم نے اسے زمین میں ٹھہرا دیا یعنی اس کو زمین کے اندر جذب کرلیا۔ بارش کا کچھ پانی زمین کی سطح کے اوپر رہ جاتا ہے ، کچھ حصہ زمین جذب کرلیتی ہے اور کچھ حصہ زمین کی نچلی تہہ میں ذخیرہ کردیا جاتا ہے جو کہ عام طور پر پہاڑی علاقوں میں چشموں کی صورت میں بہ نکلتا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے آسمان کی طرف سے پانی نازل کیا فسل کہ ینابیع فی الارض (الزمر 21) پھر اسے زمین میں چشموں کی صورت میں چلا دیا۔ جس سے انسان اور حیوان سیراب ہوتے ہیں۔ پانی کے زیر زمین ذخیرہ سے کنوئوں اور ٹیوب ویلوں کے ذریعے پانی نکالا جاتا ہے جو انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی آبیاری کرتا ہے۔ البتہ ریگستانی علاقوں میں پانی بہت گہرائ میں ہوتا ہے۔ اس لئے اسے نکالنے کے لئے بہت زیادہ محنت اور رقم درکار ہوتی ہے۔ بعض اوقات پانی میں تیل کی ملاوٹ بھی ہوتی ہے جسے بڑے بڑے پلانٹوں کے ذریعے صاف کرکے قابل استعمال بنایا جاتا ہے ، آگے پانی کی اسی نایابی کی طرف اشارہ ہے وانا علی ذھاب بہ لقدرون اور ہم اس پانی کو کہیں دور لے جانے پر بھی قادر ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کو اس پانی کے ذریعے انسان کی مصلحت منظور ہوتی ہے تو وہ اسے زرخیز زمین پر برساتا ہے۔ جس سے پھل ، پھول اور اناج پیدا ہوتے ہیں۔ پہاڑوں سے چشمے اور ندی نالی جاری ہوتے ہیں جو ساراسال پانی کی ضروریات پوری کرتے رہتے ہیں۔ اور جب اسے منظور نہیں ہوتا تو ایسی چٹانوں پر بارش برساتا ہے جس کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ یا وہ زمین کے اندر اتنی دور لے جاتا ہے کہ اس کا نکالنا مشکل ہوجاتا ہے ، بہرحال فرمایا کہ ہم آسمان کی طرف سے ایک اندازے کے مطابق باپنی نازل کیا اور پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اسے لے جانے پر بھی قادر ہیں۔
پھلوں کی پیداوار :
آگے اللہ نے نازل کردہ پانی کی افادیت کا ذکر کیا فانشانا لکم بہ جنت من نخیل واعناب اس کے ذریعے ہم نے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ جب پانی میسر آتا ہے تو سبزہ ، درخت اور اناج پیدا ہوتا ہے۔ یہاں پر اللہ نے باغات کا ذکر کیا ہے اور ان میں بھی خاص طور پر کھجور اور انگور کا کیونکہ یہ دونوں پھل انسان کے لئے نہایت ہی کار آمد ہیں۔ کھجور ایک سدا بہار درخت ہے جس کا پھل جلدی خراب نہیں ہوتا اور یہ سارا سال بطور غذا استعمال ہوسکتا ہے۔ صحرائی علاقوں میں غذا کا سب سے بڑا ذریعہ کھجور ہی ہے۔ اسی طرح انگور بھی بڑی کار آمد چیز ہے۔ یہ پھل بیک وقت غذا اور مشروب کا کام دیتا ہے۔ اس کے استعمال سے خون کثرت سے پیدا ہوتا ہے جو انسانی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ انسانی جسم کے لئے شکر بھی نہایت ضروری ہے اور انگور شکر کی بہترین قسم مہیا کرکے انسان کو تندرست و توانا رکھتا ہے۔ گرم ممالک کا انگور زیادہ میٹھا نہیں ہوتا ، البتہ سرد علاقوں کا انور بہت شیریں ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ دونوں پھل نہایت مفید ہیں ، اس لئے ان کا یہاں پر خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
فرمایا لکھ فیھا فوالہ کثیرۃ ومنھا تاکلون۔ تمہارے لئے ان میں بہت سے پھل ہیں اور تم ان میں سے کھاتے ہو۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ یہ دونوں پھل نہایت لذیذ ، مقوی اور دیرپا ہیں ، اور یہ سارا سال استعمال ہوتے ہیں۔ حدیث شریف میں کھجور کو مرد مومن کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح ایک ایماندار آدمی عبادت و ریاضت میں مصروف رہتا ہے ، وہ مکارم اخلاق کا نمونہ ہوتا ، خدمت خلق اس کا وطیرہ ہوتا ہے اسی طرح کھجور کا درخت بھی ہمیشہ سرسبز رہتا ہے اور اس کا پھل ہمیشہ کار آمد رہتا ہے۔
زیتون کا درخت :
آگے ایک اور درخت کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے وشجرۃ تخرج من طور سینائ ، ہم نے پانی کے ذریعے ایک اور درخت پیدا فرمایا جو طور سینا سے بکثرت نکلتا ہے۔ اس سے مراد زیتون کا درخت ہے یہ اگرچہ دوسرے مقامات پر بھی ملتا ہے مگر اس کا اصل وطن طور سینا یعنی سرزمین شام و فلسطین ہے۔ اس خطہ کی زمین اس درخت کے لئے زیادہ موزوں ہے اسی لئے یہ درخت وہاں پر پھل بھی زیادہ دیتا ہے۔ اس درخت کی خصوصیت یہ ہے تنبت باالدھن یہ تیل یار وغن اگاتا ہے۔ زیتون میں تیل کا مقدار بکثرت موجود ہوتی ہے جو کہ دوائی اور غذائی لحاظ سے استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی ایک بیماریوں میں اس تیل کی مالش بہت مفید ہے ، اور مشرق وسطیٰ کے اکثر ممالک میں کھانا پکانے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے گویا یہ تیل گھی کا کام بھی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ وصبغ لاکلین یہ کھانے والوں کے لئے سالن کا کام بھی دیتا ہے عام طور پر لوگ سالن میں روٹی کا لقمہ ڈبو کر کھاتے ہیں۔ تاہم جن علاقوں میں زیتون بکثرت ہوتا ہے وہاں اس کے ساتھ روٹی بھی کھاتے ہیں ۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے یہ عجیب و غریب قسم کا درخت پیدا کیا ہے جس کا پھل بھی کھایا جاتا ہے اور اس کا روغن بھی مختلف طریقوں سے استعمال ہوتا ہے ، اس درخت کی طویل العمری کے متعلق شاہ عبدالعزیز محدث (رح) فرماتے (تفسیر عزیزی فارسی ص 298 پ 30 (فیاض) ہیں کہ شام و فلسطین کے علاقے میں زیتون کے بعض درخت دو ہزار سال پرانے ہیں اور یہ یونانیوں کے زمانے سے پھل دیتے آرہے ہیں۔ اس کا چھلکا اور پتے بھی کار آمد ہوتے ہیں۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کلوا الزیت وادھنوا بہ فانہ من شجرۃ مبارکۃ زیتون کا تیل بھی کھائو اور اس کی مالش بھی کرو کیونکہ یہ مبارک درخت کی پیداوا رہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ بعض نبیوں نے اس کی برکت کے لئے دعائیں کیں ، اس لئے اللہ نے اس کو بابرکت بنایا ہے۔
مویشیوں کا دودھ :
زمبنی پیداوار کے تذکرے کے بعد اللہ نے فرمایا وان لکم فی الانعام لعبرۃ بیشک تمہارے لئے چوپائوں میں عبرت کا سامان ہے یہ جانور مختلف طریقوں سے تمہاری خدمت کرتے ہیں۔ تم نہ صرف ان کے بال ، کھال ، اون اور گوشت استعمال کرتے ہو ، اور بعض سواری اور باربرداری کے کام بھی آتے ہیں ، بلکہ نسقیکم مما فی بطونھا ہم تمہیں پلاتے ہیں اس میں جو ان کے پیٹوں میں ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے دودھ مراد ہے جس کے متعلق سورة النحل میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے نسقیکم……………للشربین (آیت 66) ہم تمہیں مویشیوں کے پیٹوں کی چیز پلاتے ہیں جو گوبر اور خون کے درمیان سے گزرتی ہے اور یہ خالص دودھ ہے جو نہایت خوشگوار ہے۔ اللہ نے جانوروں کے پیٹ کے اندر ایسا ملک پلانٹ لگادیا ہے جس کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ لیس شیء یجزء مکان الطعام والشرب غیر اللبن (ترمذی ص 582) یعنی دودھ کے قائم مقام دنیا میں کوئی چیز نہیں ہے۔ جو کھانے اور پینے دونوں کے لئے کفایت کرے۔ یہ ایسی بےمثال چیز ہے جو بیک وقت غذا اور مشروب کا کام دیتی ہے۔ خود جانوروں کے بچے کچھ عرصہ تک اسی دودھ پر گزارہ کرتے ہیں اور انسانوں کے بچے تو دواڑھائی سال تک دودھ پیتے رہتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو اللہ دودھ کی نعمت عطا کرے اسے یوں دعا کرنا چاہیے اللھم زدنا منہ اے اللہ ! اس میں ہمارے لئے اضافہ فرما۔ دیگر نعمتوں کے متعلق حکم ہے کہ اس کا شکریہ ادا کرو اور ساتھ دعا کرو کہ اے اللہ ! ہمیں اس سے بہتر نعمت عطا فرما ، مگر دودھ میں صرف اضافہ کی دعا ہے کیونکہ اس سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ اس میں انسانی غذا کے تمام عناصر من جملہ شکر ، پروٹین ، کیلشیم نمکیات ، نشاستہ ، وٹامن اور روغنیات پائے جاتے ہیں۔ جس طرح مصنوعی گھی اصلی گھی کا بدل نہیں اسی طرح مصنوعی دودھ بھی خدا کے پیدا کردہ دودھ کا کسی طور مقابلہ نہیں کرسکتا۔
مویشیوں کے دیگر فوائد :
فرمایا ، ولکم فیھا منافع کثیرۃ ، تمہارے لئے ان جانوروں میں اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔ ان کی کھال ، اون ، پشم ، ہڈیاں ، چربی اور سینگ وغیرہ سب مفید چیزیں ہیں اور انسانوں کے کام آتی ہیں۔ نیز ومنھا تاکلون تم ان میں سے کھاتے بھی ہو ، یعنی ان کا گوشت تمہاری خوراک کا حصہ ہے۔ یہ وہی چار قسم کے حلال جانور اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری ہیں جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور جنہیں انسانی صحت کے ساتھ خصوصی مناسبت ہے۔ اسی لئے یہ جانور روحانی اور جسمانی لحاظ سے انسان کے لئے مفید ہیں۔ برخلاف اس کے انسانی صحت پر منفی اثرات ڈالنے والے جانوروں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ حرام جانور کھانے سے اخلاق پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثلاً خونخوار جانوروں کا گوشت کھانے سے انسان میں بھی درندگی والی صفت پیدا ہوتی ہے۔ کتا ، بلی ، شکرا ، باز وغیرہ کھانے سے چھینا جھپٹی کی خصلت پیدا ہوتی ہے اور خنزیر کا گوشت استعمال کرنے سے بےغیرتی کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔
سواری کے ذرائع :
فرمایا وعلیھا وعلی الفلک تحملون اور بعض جانور ایسے ہیں جو سواری کا کام دیتے ہیں۔ اسی طرح کشتیاں بھی تمہارے لئے نقل وحمل کا ذریعہ ہیں۔ جانوروں میں اونٹ ، گھوڑا ، خچر ، گدھا ، بیل وغیرہ ایسے جانور ہیں جو قدیم زمانے سے نقلوحمل کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔ اگرچہ سائنسی دور میں اب تیز ترین سواریاں بھی ایجاد ہوچکی ہیں مگر قرآن پاک کے نزول کے زمانے میں یہی سواریاں تھیں جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ بعض دور افتاوہ مقامات میں اب بھی یہی سواریاں کام دیتی ہیں۔ سورة النحل میں اللہ کا ارشاد ہے کہ اونٹ ، گھوڑے اور گدھے تمہاری سواری اور زینت کا سامان ہیں ویخلق……تعلمون (آیت 8) ان کے علاوہ اللہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے۔ ظاہر ہے کہ اس حملے میں وہ تمام سواریاں آجاتی ہیں جو اس زمانے میں نہیں تھیں مگر قیامت تک ایجاد ہوتی رہیں گی۔ اس وقت ہمارے سامنے سائیکل ، موٹر سائیکل ، موٹر کار ، ریل گاڑی ، بحری جہاز اور ہوائی جہاز جیسی سواریاں موجود ہیں ، جو آج تیز ترین سواریاں سمجھی جاتی ہیں۔ آج یہ ہوائی جہاز ہی ہے جس کی بدولت پاکستان کے ساٹھ ستر ہزار حاجی ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہیں اور چار ہفتے میں حج کرکے واپس آجاتے ہیں۔
اس زمانے میں بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں جو سواری اور باربرداری کا کام دیتی تھیں یہ کشتیاں ہوا کے رخ پر چپوئوں کے ذریعے چلتی تھیں۔ ان پر بڑے بڑے بادبان باندھ دیے جاتے تھے۔ مگر اب بحری سواریوں کے لئے موٹر لانچیں اور بڑے بڑے بحری جہاز ایجاد ہوچکے ہیں جو تیز رفتار بھی ہیں اور لاکھوں ٹن سامان ایک ملک سے دوسرے ملک میں لے جاتے ہیں۔ یہ تو اس زمانے کی بات ہے ، ہوسکتا ہے کہ آمدہ زمانے میں اس سے بھی مفید سواریاں ایجاد ہوجائیں جن سے آج ہم بےبہرہ ہیں۔
بہرحال اللہ نے فرمایا کہ جن جانوروں اور کشتیوں کے ذریعے تم اپنی ضروریات پوری کر رہے ہو۔ یہ خدا کی قدرت کے نمونے ہیں۔ اگر اب بھی تم اللہ کی وحدانیت کو تسلیم نہیں کرتے ، بلکہ مخلوق کو خدا کی کرسی پر بٹھاتے ہو ، تو اس کا نتیجہ ذلت ورسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
یہاں پر کشتی کے ذکر کی مناسبت سے اگلی آیات میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ ، قیامت ، توحید اور دلائل قدرت کا ذکر آرہا ہے۔
Ayahs 23:23–30ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قدرت کی نشانیاں اور توحید کے عقلی دلائل بیان کیے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے۔ اللہ نے انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل بیان کیے ، آسمان کے طبقات اور پانی کے نزول کا ذکر کیا۔ زمین میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کی طرف اشارہ کیا اور اس کے ذریعے باغات ، سبزہ ، پھل اور اناج کی پیدائش کو موضوع سخن بنایا۔ زیتون کے درخت کا خصوصی تذکرہ کیا کہ یہ کھانے اور مالش کرنے کے کام آتا ہے اور اس کو اللہ نے بڑا بابرکت بنایا ہے۔ پھر اللہ نے جانوروں کا ذکر کیا کہ اس نے اپنی قدرت تامہ سے جانوروں کے پیٹوں میں دودھ جیسا لذیذ اور غذائیت سیبھر پور مشروب پیدا کیا ہے جو تم استعمال کرتے ہو۔ اس کے علاوہ جانوروں سے بیشمار دیگر فوائد بھی حاصل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کشتیوں کی افادیت بھی بیان کی جو قدیم زمانے سے انسانوں کے لئے نقل وحمل کا کام دے رہی ہیں۔ ان تمام چیزوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے دلائل قدرت اور دلائل توحید کے طور پر کیا۔
کشتی کے ذکر سے متصل اللہ نے آج کے درس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے جنہوں نے دنیا کی اولین کشتی تیار کی اور آپ کے واقعات میں اس کشتی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں پر اللہ نے اپنی وحدانیت کے نقلی دلائل بیان کیے کہ تمام انبیائے کرام نے سب سے پہلے اللہ کی توحید کا درس دیا۔ اور یہی چیز حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کے سامنے پیش کی۔ بہرحال آج کی آیات کو گزشتہ آیت کے ساتھ کشتی کے کی مناسبت ہے۔
نوح (علیہ السلام) کا درس توحید :
ارشاد ہوتا ہے ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ اور البتہ تحقیق ہم نے نوح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا ۔ آپ صاحب شریعت رسول تھے اور آپ نے سب سے پہلے قوم کو توحید کی دعوت دی۔ فقال یقوم اعبدوا اللہ کہنے لگے ، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو اسی کے سامنے سرنیاز خم کرو ، اسی سے اپنی مشکل کشائی اور حاجت روائی کی امید رکھو۔ وحی خالق اور مالک ہے ، وہی علیم کل اور قادر مطلق ہے۔ وہی نافع اور ضار ہے ، وہی تمہاری ضروریات کو پورا کرنے والا ہے لہٰذا عبادت بھی اسی کی کرو۔ اور یادرکھو مالکم من الہ غیرہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ۔ عبادت کے لائق صرف وہی ذات ہے افلا تتقون کیا تم ڈرتے نہیں ؟ ان تمام تر حقائق کے باوجود کیا پھر بھی کفر اور شرک میں مبتلا ہو اور تمہیں خوف نہیں آتا کہ قیامت والے دن خدا تعالیٰ کو کیا جواب دوگے ؟
قوم کا جواب :
حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت توحید کے جواب میں فقال الملوئا الذین کفرو من قومہ کہا سربرآور وہ لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا آپ کی قوم میں سے۔ یعنی سرداران قوم نے دعوت توحید پر اپنا رد عمل اس طرح ظاہر کیا ، کہنے لگے ماھذا الا یشر مثلکم یہ شخص تمہارے جیسا ہی ایک انسان ہے جو تمہیں ایک خدا کی طرف بلارہا ہے اور کہتا ہے کہ اپنے خود ساختہ معبودان ود ، سواع ، یغوث ، یعوق ، اور نسر کو چھوڑ دو ، یہ تمہارے کسی کام نہیں آسکتے ، اور ساتھ ساتھ اپنی رسالت کا دعویٰ بھی کرتا ہے بھلا ہم اپنے جیسے ایک انسان کو کس طرح خدا کا فرستادہ رسول تسلیم کرلیں۔ یرید ان یتفضل علیکم اس کی ساری تبلیغ کا مقصد یہ ہے کہ یہ شخص تم پر برتری حاصل کرنا چاہتا ہے ہم اس کی رسالت کو نہیں مانتے کیونکہ ولو شاء اللہ لانزل ملئکۃ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنانا چاہتا تو اپنے فرشتوں کو اس کام پر مامور کرتا۔ بھلا ایک معمولی انسان کو یہ فرض کیسے تفویض کیا جاسکتا ہے ؟ اس کا جواب اللہ نے دوسرے مقام پر دیا ہے قل لوکان ……………رسولا (بنی اسرائیل 95) اگر زمین میں فرشتے آباد ہوتے تو ہم ان کی طرف لازماً کسی فرشتے کو ہی رسول بنا کر بھیجتے۔ چونکہ اس زمین پر انسان آباد ہیں ، لہٰذا ان کی طرف انسانوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ بہرحال ان کا اعتراض یہ تھا کہ انسان رسول نہیں ہوسکتا۔ ان کی دلیل یہ تھی ما سمعنا بھذا فی ابائنا الاولین کہ ہم نے تو اپنے پہلے آبائو اجداد سے یہ بات نہیں سنی کہ کوئی انسان بھی خدا کا رسول ہوسکتا ہے۔ کہنے لگے بات یہ ہے ان ھو الا رجل بہ جنۃ کہ یہ شخص تو مجنون معلوم ہوتا ہے جو اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا ہے اور اس قسم کی بہکی بہکی باتیں کررہا ہے اس معاملے میں انہوں نے فیصلہ کیا فتربصوا بہ حتی حین کچھ عرصہ تک اس معاملے میں انتظار کرو اور دیکھو۔ چند دن کی بات ہے یا تو یہ ٹھیک ہوجائیگا یعنی اس کا پاگل پن دور ہوجائیگا یا پھر خود بخود ختم ہوجائے گا۔
نوح (علیہ السلام) کی دعوت :
حضرت نوح (علیہ السلام) طویل عرصہ تک قوم میں تبلیغ کرتے رہے اور خدائے وحدہ لاشریک کی طرف بلاتے رہے مگر قوم نے آپ کی بات نہ مانی۔ آخر ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ حق میں شب وروز ایک کردینے کے بعد اللہ کے نبی اللہ کے حضور اسی طرح دست بدعا ہوئے قال رب انصرنی بما کذبون کہنے لگے اے میرے پروردگار ! میری مدد فرما اس وجہ سے کہ ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا فاوحینا الیہ ہم نے اس کی طرف وحی کی ان اصنع الفلک باعیننا ووحینا کہ ہمارے سامنے ہمارے حکم سیایک کشتی تیار کرو۔ فاذا جاء امرنا وفار التنور یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آجائے اور تنور ابلنے لگے۔ تنور مٹی کی اس بھٹی کو کہتے ہیں جس میں روٹی پکائی جاتی ہے عربی ، فارسی ، پنجابی ، اردو وغیرہ یہ لفظ یکساں معنی میں استعمال ہوتا ہے یہ کون سا تنور تھا جس کے جوش مارنے کی بات ہورہی ہے ؟ مفسرین کرام اس کی مختلف توجیہات بیان کرتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کے زمانے کا تنور تھا جس میں پانی نے جوش مارا تھا اور یہ قوم کی ہلاکت کی نشانی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ کوئی خاص چشمہ تھا ، بعض نے تنور کا معنی سطح ارض بھی کیا ہے کہ جب سطح ارض سے پانی نکلنا شروع ہوجائے گا تو فاسئلک فیھا من کل زوجین اثنین تو اس کشتی میں ہر قسم کے جانوروں کا جوڑا جوڑا سوار کرلینا۔ اور ساتھ ہی واھلک الا من سبق علیہ القول منھم اپنے گھر والوں کو بھی بیٹھا لینا سوائے ان کے جن کے بارے میں پہلے بات ہوچکی ہے کہ وہ نافرمان ہیں اور دیگر نافرمانوں کے ساتھ ہی غرق ہوجائیں گے ، ان میں ایک بیوی اور ایک نافرمان بچہ تھا۔ اللہ نے تنبیہ بھی کردی فلا تخاطبنی فی الذین ظلموا اور میرے ساتھ ان لوگوں کے متعلق بات نہ کرنا جنہوں نے ظلم کیا ہے انھم مغرقون ، کیونکہ وہ تو لازماً پانی میں ڈبوئے جانے والے ہیں۔ یہ نافرمان عذاب الٰہی میں مبتلا ہو کر رہیں گے ، لہٰذا ان کے بارے میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرو۔
فرمایا فاذا استویت انت ومن معک علی الفلک جب تم اور تمہارے ساتھی اس کشتی میں سوار ہوجائو۔ ساتھیوں میں تمام اہل ایمان اور گھر والے تھے جن کی تعداد ستر اور اسی کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ فقل الحمد للہ الذی نجنا من القوم الظلمین تو پھر اس طرح کہنا سب تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے ہیں جس نے ہمیں اس ظالم قوم سے نجات دی۔ یہ لوگ ہر آن تکلیفیں دیتے تھے اور ٹھٹھا کرتے تھے اللہ نے ان سے اہل ایمان کو بچا لیا۔ اس واقعہ کی بہت سی تفصیلات ، سورة اعراف ، سورة ہود ، سورة نو ح اور دیگر سورتوں میں موجود ہیں ، تاہم اس مقام پر دلائل توحید کے طور پر مختصر بیان ہے۔
دعا بوقت نزول از کشتی :
زمین وآسمان سے پانی پھوٹ پڑا ، طوفان آگیا جس میں سارے مکذبین ہلاک ہوگئے۔ کشتی چلتی رہی جب تک اللہ کو منظور تھا۔ پھر وہ جودی پہاڑ پر ٹک گئی تو اللہ نے اپنے نبی کو اس سے اترنے کا حکم دیا اور ساتھ یہ دعا سکھلائی وقل رب انزلنی منزلا مبرکا اے اللہ مجھے اس کشتی سے اتاردے بابرکت اتارنا منزلا کا لفظ دو طریقے سے پڑھا جاتا ہے۔ اگر منزلا یعنی زا کی زبر کے ساتھ ہو تو یہ مصدر ہے اور اس کا معنی یہ ہے۔ کہ اے پروردگار ! اتار مجھے برکتوں والا اتارنا۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ جب نوح (علیہ السلام) کشتی سے اترے تو یہ دعا آپ کی زبان پر جاری ہوگئی جس کا مطلب یہ ہے کہ مولا کریم ! زمین پر واپس اتر کر مجھے زندگی کی تمام سہولتیں اور نیکی حاصل ہوجائے جس میں تیری رضا شامل ہو اور اگر منزلا یعنی زا کی زیر کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا معنی ٹھکانا ہوگا یعنی اے اللہ مجھے اچھے ٹھکانے پر اتارنا جہاں تمام سہولتیں اور نیکی کے کام میسر ہوں۔ وانت خیرالمنزلین اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے ، لہٰذا تیرے ہی سامنے دست سوال دراز کرتا ہوں۔
نشانات قدرت :
فرمایا ، یادرکھو ! ان فی ذلک لایت اس سارے واقعہ میں نشانات قدرت موجود ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین آتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طویل جدوجہد محض اس لئے تھی کہ لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف دعوت دی جائے اور انہیں سمجھایا جائے کہ تمہارا معبود صرف ایک معبود ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں تم نے جن ہستیوں کو معبود بنارکھا ہے ان کی کوئی حیثیت نہیں وان کنا لمبتلین اور بیشک ہم البتہ آزمانے والے ہیں۔ ابتلا کا معنی آزمائش بھی ہوتا ہے اور سزا دینا بھی ، اور انعام کرنا بھی ، تاہم یہاں پر مبتلائے عذاب کرنے والی بات زیادہ پر ین قیاس ہے کہ دیکھو ہم نافرمانوں کو کس طرح سزا دیتے ہیں اور قوم نوح کا کیا حشر ہوا۔ انہوں نے توحید خداوندی کا انکار کیا تو پانی میں غرق کردیے گئے۔