Ayahs 23:57–67ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید ذکر کرنے کے بعد نافرمان لوگوں کا حال بیان کیا اور اس سلسلے میں بہت سے نبیوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا مگر انہوں نے انکار کیا۔ آخر میں موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر آیا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا بھی مختصر تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ نے تمام نبیوں کی مشترک تعلیم کا ذکر کیا۔ اللہ نے تمام رسولوں کو یہی اصول سمجھایا کلوا من الطیبت واعملوا صالحا ہمیشہ حلال اور طیب چیز کھائو اور نیک اعمال انجام دو ۔ اسی اصول ملت کی تعلیم انبیاء (علیہم السلام) نے عام لوگوں کو بھی دی ۔ پھر بعد میں لوگوں میں اختلافات پیدا ہوگئے اور وہ مختلف فرقوں میں بٹ گئے ۔ بہت سے گمراہ فرقے پیدا ہوئے جنہوں نے دین کے اصول ترک کردیئے ، یا پھر ان کو غلط معنی پہنا کر ان سے غلط مطلب اخذ کیا۔ ان کا عقیدہ فاسد اور اخلاق بگڑ گیا۔ ہر گروہ اپنے اپنے عقائد میں مگن ہوگیا اور اسی کو اصل دین سمجھنے لگا۔ لیکن اللہ نے اپنے نبی کو فرمایا کہ ان غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چھوڑ دو ، ہم نے ان کو دنیا کا مال ، اولاد ، اور دیگر نعمتیں عطا کی ہیں مگر یہ لوگ ان اشیاء میں اپنی بہتری خیال نہ کریں۔ آج یہ لوگ لہو ولعب اور عیش و عشرت میں پڑے ہوئے ہیں مگر ایک دن آنے والا ہے جب یہ مبتلائے عذاب ہوں گے ۔ ان کی موجودہ آسودہ حالی محض استدراج ہے اور انہیں اللہ کے طرف سے مہلت مل رہی ہے جس سے یہ فائدہ اٹھا کر ایمان نہیں لے آتے۔ دراصل ان کو حق و باطل کی پہچان کا شعور ہی نہیں ہے۔
اہل ایمان کے خصائل :
اب اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کے مقابلے میں اہل ایمان کے بعض خصائل بیان کیے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے ان الذین ھم من خشیۃ ربھم مشفقون ایمان اور نیکی والے لوگ وہ ہیں جو اپنے رب کے خوف سے ڈرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ محتاط رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کسی نافرمانی کا ارتکاب نہ کر بیٹھیں جس کی وجہ سے ان کی گرفت ہوجائے۔ یہ لوگ اپنے رب کے انعامات کی ناقدری نہیں کرتے بلکہ ہر نعمت پر اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
فرمایا نیکی والوں کی دوسری خصلت یہ ہے والذین ھم بایت ربھم یومنون ، وہ اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں آیات میں معجزات ، قدرت کی نشانیاں ، احکام ، کتب سماویہ ، تمام شرائع اور دین وملت کے اصول سب چیزیں شامل ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اطاعت گزار ان سب چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہ برحق ہیں اور انہی کے اتباع میں زندگی بسر کرتے ہیں۔
فرمایا تیسری خصلت یہ ہے والذین ھم بربھم لا یشرکون کہ وہ اپنے رب کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بناتے ۔ وہ خالص ایمان اور توحید پر قائم رہتے ہیں۔ ان میں کسی کا جلی یاخفی شرک نہیں پایا جاتا اور ان کے عمل میں سچائی اور اخلاص ہوتا ہے ۔ غرضیکہ ایسے لوگ نہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی کو شریک بناتے ہیں ، نہ صفات میں اور نہ عبادت میں۔ ان کو یقین ہوتا ہے۔ کہ سارا اختیار اللہ کے پاس ہے اور اختیاری میں بھی اس کا کوئی شرک نہیں ہے ۔
فرمایا والذین یوتون ما اتوا ، اللہ کے نیک بندوں کی چوتھی خصلت یہ ہے کہ وہ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں۔ یا وہ کرتے ہیں جو کچھ کہ کرتے ہیں اس حالت میں وقلوبھم وجلۃ کہ ان کے دل اس بات سے خوفزدہ ہوتے ہیں انھم الی ربھم رجعون ، کہ بیشک وہ اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت میں موجود ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا حضرت ! کیا یوتون ما اتوا میں ہر اچھا بر ا عمل شامل ہے ؟ فرمایا یا بنت صدیق اس سے برائی کے کام از قسم چوری ، ڈاکہ ، زنا وغیرہ نہیں۔ بلکہ صرف نیکی کے کام مراد ہیں۔ یعنی یہ لوگ ایسے ہیں کہ نماز ، روزہ ، صدقہ خیرات وغیرہ کام کرنے کے باوجود اپنے رب سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں ایک دن اپنے پروردگار کے سامنے حاضر ہونا ہے اور ہوسکتا ہے کہ کسی خامی کی بناء پر ان کی کوئی نیکی قبول ہی نہ ہو اور وہاں انہیں شرمندگی اٹھانا پڑے۔ وہ اسی فکر میں غلطان رہتے ہیں۔ امام حسن بصری (رح) کا قول ہے کہ مومن نیکی اور خوف خدا کو جمع کرتا ہے جب کہ منافق آدمی برائی اور بےفکری کو اکٹھا کرتا ہے۔ تو مومن کی حالت یہ ہے کہ نیکی کے کام انجام دینے کے باوجود وہ خدا سے ڈرتے رہتے ہیں۔ جب کہ منافق لوگ برائی بھی کرتے ہیں اور ان میں خوف خدا بھی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی لئے فرمایا الایمان بین الخوف والرجی ، کہ ایمان خوف اور امید کے درمیان ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایمان کی علامت ہیں۔
نیکی کی قبولیت :
نیکی کی قبولیت کا مسئلہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس شخص کی کون سی نیکی درجہ قبولیت کو پہنچتی ہے ، اور کون سی نیکی رائیگاں گئی ہے بہت سے لوگ ہیں جو راہ خدا میں صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں اور نیکی کے دوسرے کام بھی انجام دیتے ہیں مگر وہ غیر معیاری ہونے کی بناء پر درجہ قبولیت کو نہیں پہنچ پاتے۔ اور جو لوگ نیکی کا کام کرنے کے باوجود دل میں ڈرتے رہتے ہیں کہ پتہ نہیں یہ قبول بھی ہوئی ہے یا نہیں ، فرمایا اولئک یسرعون فی الخیرات ، یہی لوگ ہیں جو بھلائی کے کاموں کی طرف دوڑتے ہیں یعنی ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں و ھم لھا سبقون اور وہ ایسے کام میں سبقت کرنے والے ہوتے ہیں۔ یعنی آگے بڑھنے والے ہوتے ہیں۔ آگے ارشاد ہوتا ہے ولا نکلف نفسا الا وسعھا ہم کسی نفس کو اس کی وسعت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتے۔ کسی شخص کی طاقت سے باہر کسی کام پر اللہ تعالیٰ باز پرس نہیں کرتا۔ دین میں اللہ نے بڑی وسعت رکھی ہے اور فرمایا ہے الدین یسرا یعنی دین آسان ہے ، اس میں کوئی مشکل بات نہیں ہے جو انسان کے بس سے باہر ہو۔ اللہ نے انسان کی سہولت کی خاطر اس کے ہر عذر پر رخصت رکھی ہے۔ مگر انسان ہے کہ طاقت رکھنے کے باوجود نیکی کے کاموں میں کوشش نہیں کرتا۔ لاپرواہی کرتا ہے جس کا نتیجہ خطرناک صورت میں ظاہر ہوگا۔
انسان کا نامہ اعمال :
فرمایا ولدینا کتب ینطق بالحق ہمارے پاس ایک نوشتہ اور کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے انسانوں کے اعمال نامے محفوظ کر رکھے ہیں جنہیں جزائے عمل کے وقت سامنے رکھ دیا جائے گا اور ہر شخص سے کہا جائے گا اقراکتبک (بنی اسرائیل 14) اپنا اعمال نامہ خود ہی پڑھ لو۔ جو لوگ اس دنیا میں بالکل ان پڑھ ہیں۔ وہ بھی خدا کے حضور اپنی کارکردگی کا مطالعہ خود کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان میں پڑھنے کی استعداد پیدا کردے گا اور وہ اپنی زندگی بھر کی پونجی کاریکارڈ خود پڑھ سکیں گے۔ اور پھر کہیں گے مال ھذا……………حاضرا (الکہف 49) یہ کیسی کتاب ہے جو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑی کو بلکہ اس نے ہر عمل کا احاطہ کررکھا ہے۔ پھر وہ اپنا ہر عمل اپنے سامنے موجود پائیں گے۔ حدیث قدسی میں حضور کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا انما ھی اعمالکم احصیھا علیکم ، یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جنہیں میں نے شمار کررکھا ہے۔ جو ان میں بھلائی پائے وہ خدا کا شکر ادا کرے اور جو ان میں برائی دیکھے فلا یلومن الانفسہ تو وہ اپنے ہی نفس کو ملامت کرے۔ غرضیکہ قیامت والے دن جزا وسزاکا فیصلہ ہر آدمی کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوگا وھم لا یظلمون ، اور ان پر کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جائے گی۔
نافرمانوں کا حال :
اہل ایمان کے ذکر کے بعد آگے اللہ نے پھر نافرمانوں کا حال بیان کیا ہے بل قلوبھم فی غمرۃ من ھذا ، اس طرف سے یعنی آخرت کی جانب سے ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے ولھم اعمال من دون ذلک ھم لھا عملون ، کہ ان غافل لوگوں کے اعمال اہل ایمان کے اعمال سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہ نیکی کی بجائے برائی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ توحید پر ایمان لاتے وہ کفریہ ، شرکیہ کام انجام دیتے ہیں۔ رسومات باطلہ ، لہو ولعب ، نفاق اور بدعملی میں مبتلا ہیں۔ وہ آخرت کی طرف دھیان ہی نہیں کرتے اور نہ اس کے لئے کوئی تیاری کرتے ہیں۔ اگر کوئی عمل کرتے ہیں تو ریاکاری کے لئے جو ایمان کے تقاضے پورے نہیں کرتے ان کے ہاتھوں قوم وملک کی بھلائی کا کوئی کام انجام نہیں پاتا ، بلکہ شیطان کے اتباع میں غرور وتکبر والے کام کرتے ہیں جن میں رسومات فاسدہ پیش پیش ہوتی ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ غافل لوگ کرنے والے کام تو کرتے ن ہیں اور ان کی بجائے دوسرے کام کرتے ہیں جو انہیں مزید گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
حتی اذا اخذنا مترفیھم بالعذاب ، یہاڈ تک کہ جب ہم ان کے آسودہ حال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیتے ہیں اذا ھم یجرون تو وہ چیخنے چلانے لگتے ہیں۔ واویلا کرتے ہیں کہ یہ کیا ہوگیا ہے۔ پھر ادھر سے آواز آتی ہے لا تجئروا الیوم ، آج کے دن مت چلائو۔ تم نے دنیا میں نیکی کی طرف دھیا ن نہ دیا۔ خدا کی توحید ، اس کے رسولوں اور قیامت کا انکار کیا۔ آج جب تم اپنے انجام کو پہنچ چکے ہو انکم منا لا تنصرون ، تو آ ج ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائیگی ہم نے تمہیں زندگی دی۔ ہدایت کے سارے سامان مہیا کیے مگر تم نے کچھ پرواہ نہ کی۔ قد کانت ایتی تتلی علیکم میری آیتیں تم پر پڑھی جاتی تھیں۔ میرے احکام ، شرائع اور قوانین تمہیں پڑھ کر سنائیجاتے تھے۔ فکنتم علی اعقابکم تنکصون ، مگر تم اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ کر بھاگے تھے اور میری فرامین کو سننے کے لئے بھی تیار نہ تھے عام کافروں کا وطیرہ اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کہتے تھے لا تسمعوا…… …فیہ (حم سجدہ 26) شوروغل مچائو تاکہ قرآن کی آواز ہی کانوں میں نہ پڑے ۔ منافقوں کا حال بھی یہ تھا کہ جب قرآن کی بات ہوتی تو آنکھ بچا کر مجلس سے کھسک جاتے۔ تو فرمایا ، آج تو چیختے چلاتے ہو مگر دنیا میں تو نیکی کے کام سے بھاگتے تھے مستکبرین بہ ، تم غرور وتکبر میں مبتلا تھے۔ انبیاء کو حقیر سمجھتے تھے اور اہل ایمان کو ذلیل کہتے تھے۔ اپنے مالوں اور اولادوں پر اتراتے تھے اور اہل ایمان کی بات تک سننے کے لئے تیار نہ تھے۔
بہ ، کے مرجع کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کا مرجع حرم شریف ہے ، یعنی نافرمان لوگ حرم شریف میں تکبر کرتے تھے۔ اس کامرجع کتاب یعنی قرآن پاک بھی ہوسکتا ہے۔ اور اس طرح معنی یہ ہوگا کہ وہ لوگ قرآن پاک کے ساتھ تکبر کرتے تھے اور الہ بہ کامرجع پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات ہو تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ نبی کے ساتھ تکبر کرتے تھے۔
پھر فرمایا سمرا تھجرون ، سمر ، چاندنی رات میں قصہ گوئی کرنے کو کہتے ہیں کفارومشرکین بیت اللہ شریف کے گرد بیٹھ کر راتوں کو قصے بیان کیا کرتے تھے ، اس لئے ان کی ایک یہ خصلت بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ سامر تھے۔ وہاں پر وہ پیغمبر اسلام کے متعلق بھی بیہودہ گفتگو کرتے تھے۔ کبھی شاعر ، کبھی کاہن اور کبھی مجنون کہتے تھے اللہ نے فرمایا وہ تھجرون یعنی یا واگوائی کرنیوالے تھے۔ فضول باتیں کرتے تھے۔ اگر یہ لفظ ھجر کے مادہ سے ہو تو یہ معنی ہے۔ اور اگر ھجر کے مادہ سے ہو تو اس کا منی چھوڑنا ہوتا ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول کو قصہ گو سمجھ کر چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔ سامر اور تھجر سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ نبی ﷺ کو قصہ گو سمجھ کر تکبر کرتے تھی اور پھر چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔ یہ حال بیان کرنے کے بعد اللہ نے آگے مزید تفصیلات بیان کی ہیں اور ان کا انجام بھی ذکر ہے۔
Ayahs 23:68–77ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف بیان کیے اور پھر نافرمانوں کی غفلت کا شکوہ کیا کہ وہ قرآن پاک اور ہدایت کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے جس کی وجہ سے ان میں مسلسل انکار اور برائی پر اصرار پایا جاتا ہے۔ اللہ نے مشرکین کی اس غلط ذہنیت کا رد فرمایا۔
تدبرفی القرآن :
اس اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے افلم یدبروا القول کیا ان لوگوں نے اس قرآن پاک میں غوروفکر نہیں کیا ؟ یہ وہی قرآن کریم ہے جس کے متعلق گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کفار ومشرکین اسے قصہ کہانی سمجھ کر چھوڑ جاتے تھے۔ اگر یہ لوگ کلام الٰہی میں غوروفکر کرتے تو ان پر ہدایت کے دروازے کھل جاتے اور اللہ کے کلام کا کمال ان پر ظاہر ہوجاتا۔ اللہ نے عام انسانوں کے متعلق بھی فرمایا ہے ، افلا……………اقفالھا (محمد 24) کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ، کیا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں ؟ ذرا غور کریں تو انہیں پتہ چلے کہ یہ بےمثال اور معجز کلام ہے۔ اللہ نے اس کے متعلق فرمایا وانزلنا…………مبینا (النساء 175) ہم نے آپ کی طرف نورمبین نازل کیا ہے۔ اگرچہ ساری کتب سماویہ نور ہیں مگر قرآن کو اللہ نے نور مبین کہہ کر پکارا ہے۔ یہ بڑی واضح روشنی ہے جس کے سامنے کفر وشرک کے تمام اندھیرے چھٹ جاتے ہیں اور ایمان کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ اللہ نے تو یہ عبرت کا سامان مہیا کیا ہے مگر مشرکین اس کی طرف دھیا ن ہی نہیں دیتے۔
قرآن میں تدبر کے فقدان کی وجہ سے ہی آج مسلمانوں کی حالت بحیثیت مجموعی ناگفتہ بہ ہے۔ قرآن میں غوروفکر کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اس کا ترجمہ ہی سیکھ لیں ، مگر یہ تو قرآن کا ظاہری مفہوم بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے چہ جائیکہ اس کے علوم ومعارف تک پہنچتے ۔ اللہ نے فرمایا کتب انزلنہ ………………………لباب (ص 29) ہم نے یہ مبارک کتاب آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ صاحب عقل لوگ اس کی آیات میں غور وفکر کریں اور اس سے نصیحت حاصل کریں۔ مگر آج ہماری حالت یہ ہے کہ اس میں تدبر کرنے اور نصیحت حاصل کرنے کی بجائے اس کلام الٰہی کو موت کی رسومات کے لئے مخصوص کررکھا ہے۔ اس کا مصرف یہ رہ گیا ہے کہ تیسرے ، ساتے ، جمعرات یا چالیسویں کے موقع پر تلاوت کرلی جائے یا پھر قسم اٹھانے کے لئے اس پر ہاتھ رکھ دیا جائے۔ اللہ نے جس قدر تاکید کے ساتھ قرآن میں غوروفکر کی دعوت دی ہے ، ہم اسی قدر اس سے غفلت برت رہے ہیں۔
دنیا کا یہ دعام دستور ہے کہ کوئی شخص کسی کتاب کو سوچے سمجھے بغیر نہیں پڑھتا۔ اگر کوئی قصہ ، کہانی یا ناول کی کتاب بھی پڑھے گا تو اسے سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ مگر یہ اللہ کی پاک کتاب ہی واحد کتاب ہے جس کا معمولی ترجمہ بھی پڑھنے کی کوشش نہیں کی جاتی ، غوروفکر تو دور کی بات ہے بہرحال اللہ نے مشرکین کا شکوہ کیا ہے کہ وہ اس کتاب کو سمجھے بغیر اس کا انکار کردیتے ہیں۔
قرآن کی اساسی تعلیم :
سورۃ ہذا کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے کہ اس میں اللہ نے توحید ، رسالت ، قیامت ، تردید شرک ، انبیاء کی تعلیم اور ان کی ملت واحدۃ کا ذکر ہے ۔ چناچہ انہی بنیادی حقائق کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ام جاء ھم مالم یات ابائھم الاولین کیا ان کے پاس کوئی ایسی نئی چیز آئی ہے جو اس سے پہلے ان کے آبائو اجداد کے پاس نہیں پہنچی ؟ کیا ان کے ایمان نہ لانے کی یہ وجہ ہے کہ اس کی تعلیم سے تو ان کے باپ دادا بھی واقف نہیں تھے۔ فرمایا یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایسی تعلیم ہے جو اللہ کے سارے نبی اپنے اپنے زمانے میں دیتے رہے اور ان کے آبائو اجداد کو بھی یقینا یہی تعلیم پہنچی ہے جو ہر نبی نے دی یقوم…………………غیرہ (المومنون 23) اے میری قوم کے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ گویا یہ تعلیم اور اساس دین تمام انبیاء کی مشترک میراث ہے۔ یہ آخری نبی بھی تمہیں یہی تعلیم دے رہا ہے جو تمہارے بڑوں کو دی گئی ، لہٰذا تمہارے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
معرفت رسول :
فرمایا ، کیا یہ اس لئے کتاب ہدیٰ کا انکار کر رہے ہیں امر لم یعرفوا رسولھم کہ انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا فھم لہ منکرون اور یہ اس کو اوبرا سمجھ رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ انکار کی وجہ یہ بھی نہیں ہے کیونکہ وہ تو اپنے رسول کو اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہیں۔ حضور ﷺ کی قبل از نبوت چالیس سالہ زندگی بھی ان کے درمیان گزری ہے۔ انہوں نے کبھی آپ کی سچائی ۔ امانت ، دیانت ، پاکیزہ اخلاق وگفتگو پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ یہ لوگ آپ کی پوری زندگی سے واقف ہیں ، ہر شخص ان کی دیانت ، امانت اور راست بازی کی تعریف کرتا رہا ہے اور اب دعویٰ نبوت کے بعدان کی آنکھیں ہی بدل گئی ہیں اور آپ کو اچھی طرح پہچاننے کے باوجود آپ کی رسالت کا انکار کر رہے ہیں۔ اسی بات کو اللہ نے سورة یونس میں حضور ﷺ کی زبان سے اس طرح کہلوایا ہے۔ فقد لبثت……………تعقلون (آیت 16) اس سے پیشتر میں نے عمر کا بہت سا حصہ تمہارے درمیان گزارا ہے۔ تم میرے اطوار وخصائل سے بخوبی واقف ہو۔ کیا اس کے باوجود تم عقل سے کام نہیں لیتے اور مجھے جھٹلاتے ہو ؟ فرمایا نہ تو قرآن نے کوئی نئی بات پیش کی ہے جس کا تم انکار کرتے ہو ، اور نہ ہی تم مجھ سے ناواقف ہو ، پھر بھلا ہدایت کو کیوں نہیں قبول کرتے ؟ فرمایا ، کیا تم اس وجہ سے حق کو قبول نہیں کرتے ام یقولون بہ جنۃ کہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے بنی کو نعوذ باللہ جنون ہوگیا ہے۔ یہ پاگلوں جیسی باتیں کرتا ہے۔ فرمایا تمہارا یہ اعتراض بھی غلط ہے ۔ حقیقت یہ ہے بل جاء ھم بالحق کہ اللہ کا رسول ان کے پاس سچی بات لے کر آیا ہے واکثرھم للحق کرھون مگر ان کی اکثریت حق کو پسند نہیں کرتی۔ جنون کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے صاف فرمادیا ہے ما انت…………بمجنون (القلم 2) اللہ کے فضل سے آپ مجنون نہیں ہیں۔ آپ تو منبع علم و حکمت ہیں۔ اللہ کے کلام کی تو کوئی مثال ہی نہیں ، خودآپ کے ذاتی کلام میں بھی کمال درجے کی حکمت اور موعظت پائی جاتی ہے۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو کلام کا ایسا ملکہ عطا فرمایا تھا کہ آپ کے ایک مزاحاً ادا کیے جانے والے جملہ سے محدثین نے ایک سو مسائل نکالے ہیں۔ آپ کو زبان سے نکلے ہوئے ایک ایک جملے کی سارا سارا دن تشریح کرتے رہیں تو اب ان کا حق ادا نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا نبی تو سچی بات لایا ، مگر یہ لوگ ہٹ دھرمی کی بناء پر اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ الٹا ان کی خواہش تو یہ ہے کہ خود نبی ان کی بات مان لیں۔ ودوا…… … …فیدھنون (القلم 9) چاہتے تھے کہ حضور ﷺ کچھ ڈھیلے پڑجائیں یعنی وہ بھی ہماری کوئی بات مان لیں تو ہم بھی ان کی کچھ باتیں تسلیم کرلیں گے۔ اس طرح وہ سودے بازی کرنا چاہتے تھے۔ بعض یہ اعتراض کرتے لو لا نزل…………عظیم (الزخرف 31) یہ قرآن مکہ اور طائف کی دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل ہوا۔ اس شخص کو ہم کیسے نبی مان لیں جس کی مالی طور پر کوئی حیثیت نہیں نہ زمین ہے ، نہ باغات ، نہ مال تجارت رکھتا ہے اور نہ اس کے پاس لونڈی غلام ہیں ۔ کیا اللہ کے پاس رسالت کے منصب کے لئے ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی رہ گیا تھا ؟ بہرحال اللہ نے ان سب اعتراضات کا رد فرمایا ہے اور واضح کیا ہے کہ اللہ کا نبی حق بات ہی لے کر آیا ہے۔
حق و باطل کی کشمکش :
فرمایا ولن اتبع الحق اھواء ھم اگر حق ان منکرین کی خواہشات کی پیروی کرنے لگے لفسدت السموت والارض ومن فیھن تو آسمان و زمین اور ان میں موجود ہر چیز بگڑ جائے ، اگر اللہ کا نبی غلط بات کو تسلیم کرلے تو فرشتے اور انسان بگڑ جائیں۔ اور پھر ساری مخلوق بگڑ جائے۔ ایسی حالت میں کائنات کی بقاء کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔ مطلب یہ ہے کہ باطل ناپائیدار چیز ہے۔ فرمایا بل اتینھم بذکرھم ، بلکہ ہم تو قرآن کی صورت میں ان کے پاس ایک نصیحت لائے ہیں فھم عن ذکرھم معرضون مگر وہ لوگ اپنی نصیحت سے اعراض کرنے والے ہیں۔ یہ کتنی بدبختی کی بات ہے کہ بنی اسرائیل کی طرح پہلے تو کتاب کا خود مطالبہ کیا۔ کہتے تھے کہ اہل کتاب کے پاس کتاب موجود ہے ہمارے پاس بھی کوئی نصیحت کی کتاب ہونی چاہیے۔ مگر اللہ نے وہ کتاب نازل فرمائی تو صاف انکار کردیا۔
انبیاء کی بےلوث تبلیغ :
فرمایا ام تسئلھم خرجا ، کیا آپ ان سے کوئی فیس یا ٹیکس مانگے ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ آپ کی نبوت و رسالت کا انکار کر رہے ہیں۔ ایسی بات بھی نہیں ہے کہ اللہ کا نبی ان کو تبلیغ کرنے کی ان سے مزدور یامعاوضہ طلب کرے اس کے برخلاف اللہ کہ ہر نبی نے تو یہی اعلان کیا وما اسئلکم……………………العلمین (الشعرآئ 127) لوگو ! میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ، کیونکہ میرا معاوضہ تو اللہ کے پاس ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ میں نے تمہارے فائدہ کی بات کی ہے اور یہ میری بےلوث خدمت ہے۔ کاہن ، نجومی ، شاعر ، حکیم وغیرہ بھی اپنی کارکردگی کی فیس وصول کرتے ہیں مگر نبی کہتے ہیں کہ ہماری بات سنو اور قبول کرو ، یہی ہمارا معاوضہ ہے۔
فرمایا ، کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں ؟ ایسی بات نہیں ہے بلکہ فخراج ربک خیر آپ کو اپنے پروردگار سے ملنے والا معاوضہ ہی بہتر ہے۔ دنیا کے حقیر مال اور چند ٹکوں کے مقابلہ میں اللہ کا عطا کردہ معاوضہ لازوال ہے۔ وھوخیرالرزقین ، اور وہ بہترروزی دینے والا ہے چونکہ رزاق اللہ ہے ، اس لئے اللہ کے نبی تم سے کچھ مانگتے ۔ یہاں پر کوئی خود غرضی یا مالی منفعت کی بات نہیں بلکہ سراسر اخلاص اور بےلوث خدمت ہے۔ اب بھی اگر تم اس دعوت حق کو قبول نہ کرو تو پھر یہ تمہاری بدبختی کی علامت ہے۔ فرمایا وانک لتدعوھم الی صراط مستقیم ، آپ تو ان کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔ اس میں آپ کی کوئی ذاتی غرض نہیں ہے۔ ایمان اور نیکی کا راستہ بتلا رہے ہیں ، عقیدے ، اخلاق اور عمل کی پاکیزگی کی بات بتا رہے ہیں۔ اسی کے متعلق اللہ نے فرمایا ھذا………مستقیم (الحجر 41) میری رضا ورحمت تک پہنچنے کا یہی سیدھا راستہ ہے۔
آخرت کی بےیقینی :
فرمایا وان الذین لایومنون بالاخرۃ ، وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے عن الصراط لنا کبون ، وہ سیدھے راستے سے مڑنے والے ہیں۔ اگر انہیں قیامت اور محاسبہ اعمال کا ڈر ہوتا تو یہ ضرور سیدھا راستہ اختیار کرلیتے معاد کا عدم تصور ان کے لئے رکاوٹ کا باعث ہے۔ چناچہ آخرت کی بےیقینی کے متعلق اللہ نے قرآن میں مختلف مقامات پر فرمایا ہے کہ یہ گناہوں کا سبب بنتی ہے جب کوئی شخص محاسبہ اعمال سے بےخوف ہوجاتا ہے تو پھر وہ برائی کے ارتکاب میں کوئی پس وپیش نہیں کرتا۔
کفار کی عہد شکنی :
بعض سورتوں میں یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ مشرکین کے شرور سے تنگ آکر حضور ﷺ نے اللہ کے ہاں درخواست کی کہ مولیٰ کریم ! ان کو کسی ابتلا میں ڈال شاید ان کو اسی طریقے سے تنبیہ ہوجائے۔ چناچہ مکہ میں قحط پڑگیا۔ پھر مشرکین کا ایک وفد نبی (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ اللہ کی بارگاہ میں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قحط سے نجات دے۔ انہوں نے آپ کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ اس مصیبت کے دور ہوجانے پر ہم آپ کی بات مان لیں گے۔ مگر جب وہ تکلیف دور ہوگئی تو ان کا کفر اور شرک پہلے سے بھی بڑھ گیا۔ اللہ نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے ولو رحمنھم وکشفنا مابھم من ضر اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور کی تکلیف دور کردیں للجوا فی طغیانھم یعمھون ، تو وہ اپنی سرکشی میں سرگرداں ہوجائیں گے۔ چناچہ جب مکہ والوں سے قحط دور ہوگیا۔ تو وہ پھر کفر پر اصرار کرنے لگے۔
فرعونیوں کے ذکر میں بھی ملتا ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) سے آکر کہتے کہ دعا کرو تاکہ یہ تنگی دور ہوجائے تو ہم بنی اسرائیل کو آزاد کردیں گے۔ اور آپ پر ایمان بھی لے آئیں گے فلما ………………ینکفرون (الاعراف 35) پھر جب ہم نے ان کی تکلیف کو دور کردیا جو ان کہ پہنچنے والی تھی تو انہوں نے اس عہد کو توڑ دیا۔
شدید عذاب کا دروازہ :
فرمایا ولقد اخذنھم بالعذاب بیشک ہم نے ان کو پکڑا عذاب کے ساتھ۔ فما استکا نوا لربھم وما یتضرعون پس یہ نہ دبے اپنے پروردگار کے سامنے اور نہ گڑگڑائے۔ شاہ عبدالقادر (رح) مفسر قرآن فرماتے ہیں کہ اس عذاب سے وہی مکہ کا قحط مراد ہے۔ اس آزمائش پر انہیں خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرنا چاہیے تھا ، گڑ گڑکر معافی طلب کرنی چاہیے تھی ، مگر انہوں نے نہ تو معافی طلب کی اور نہ حق کو تسلیم کیا۔ حتیٰ اذافتحنا علیھم بابا ذا عذاب شدید یہاں کہ کہ جب ہم نے ان پر شدید عذاب کا درازہ کھول دیا۔ اذھم فیہ مبلسون تو اچانک وہ اس میں مبتلا ہو کر مایوس ہوگئے۔
شدید عذاب کا دروازہ یہ ہے کہ اللہ نے اہل ایمان کو مسلسل جہاد کرنے کا حکم دے دیا۔ فرمایا کفار ومشرکین کی سرکوبی کے لئے جاھدوا………………سبیل اللہ (التوبہ 41) اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے ذریعے جہاد میں کود پڑو۔ شروع شروع میں کفار نے اہل ایمان کا بڑا مقابلہ کیا جیسا کہ بدر ، احد اور احزاب کی جنگوں سے ظاہر ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ مغلوب ہونے لگے اور اس طرح اللہ نے ان کو شدید عذاب میں مبتلا کردیا۔ عرب کے کفار ومشرکین تو حضور ﷺ کی زندگی میں ہی ختم ہوگئے۔ ائمۃ الکفر مارے گئے اور باقیوں نے ایمان قبول کرلیا۔ پھر رومیوں اور ایرانیوں اور دوسری قوموں کے مقابلے میں بھی مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا۔ یہی مستقل سزا کا دروازہ تھا۔ پھر جب مسلمانوں میں جذبہ جہاد کمزور پڑگیا ، ان میں آرام طلبی اور عیش و عشرت آگئی ، تو ان کو وہ مقام حاصل نہ رہا۔
اب غیرمسلموں کے دلوں میں اہل ایمان کا کچھ رعب باقی نہیں رہا ، بلکہ اب یہ خود مغلوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ کافروں پر شدید عذاب کا دروازہ آہستہ آہستہ بند ہوتا چلا گیا اور اب دنیاوی لحاظ سے یہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں کہلاتی ہیں۔ اب سائنس اور ٹیکنالوجی ان کے پاس ہے اور مسلمان تہی دست ہوچکے ہیں۔ وجہ یہ ہے انہوں نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ اس میں غوروفکر کرنا ترک کردیا ہے۔ نہ اس کے پروگرام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ ان میں بہت سی کمزوریاں پیدا ہوچکی ہیں اور اب یہ اغیار کے زیر اثر ہیں۔
Ayahs 23:78–83ربط آیات :
اللہ نے نافرمانی کرنے والے لوگوں کا حال بیان کیا اور ان کی سرکشی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اللہ کے عطا کردہ انعامات کی ناقدری کی۔ ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملتی رہی مگر وہ کفر وشرک پر ہی اصرار کرتے رہے۔ اللہ نے ان کو تنبیہ بھی کی ، مگر وہ برائیوں سے باز نہ آئے ، پھر اللہ نے ان پر عذاب کا ایک مستقل دروازہ کھول دیا۔ یعنی مسلمانوں کو کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دے دیا۔ ابتداء میں تو کفر واسلام کا بڑا مقابلہ ہوا لیکن آہستہ آہستہ کفار مغلوب ہوتے چلے گئے اور پھر آخر یہ بڑے بڑے سرداران کفر مارے گئے اور باقیوں نے اسلام قبول کرلیا ، اس طرح کفار مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔
توحید اور معاد کا ذکر :
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور معاد کا اکٹھا ذکر کیا ہے۔ اللہ نے ایسے شواہد بیان فرمائے ہیں جن میں ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل پائی جاتی ہے تو دوسری طرف وقوع قیامت کا ثبوت ملتا ہے۔ توحید کے عقلی اور نقلی دلائل گذشتہ دروس میں بھی بیان ہوچکے ہیں۔ اب یہاں بھی اللہ نے بعض اندرونی اور بیرونی مشاہدات کے ذریعے اپنی توحید پر دلیل قائم کی ہے۔ وقوع قیامت سے متعلق کفار ومشرکین کا انکار تیسرے رکوع میں بھی گزر چکا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ہماری موت وحیات تو اسی دنیا تک محدود ہے ، اسی میں ہم مرتے اور جیتے ہیں۔ اور اس کے بعد کچھ نہیں۔ آج کے درس میں بھی کفار کا اسی قسم کا عندیہ ظاہر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے بعث بعد الموت کا انکار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے نظریہ کا رد فرمایا ہے۔
کان اور آنکھ کی نعمت :
اندرونی دلائل قدرت میں سے اللہ نے انسان کے بعض حواس ظاہرہ کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھوالذی اللہ تعالیٰ کی رحیم وکریم اور قدرت تامہ کی مالک وہ ذات ہے انشالکم السمع والابصار جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں بنائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ انسان کا کان معلومات حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگر کسی کے کان سلب ہوجائیں تو انسان کو بیشتر معلومات حاصل نہیں ہوسکتیں۔ اگرچہ مشاہدہ کے ذریعے بھی کچھ نہ کچھ معلومات حاصل ہوجاتی ہیں مگر علم کا اصل ذریعہ قوت سماعت ہی ہے۔ کانوں کے ذریعے ہی وعظ ونصیحت کی باتیں سنی جاتی ہیں جن پر عمل کیا جاتا ہے اور برائی کی باتیں گانے بجانے بھی انہی کانوں کے ذریعے سنتے ہیں ……جن سے بچنے کا حکم ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کانوں اور آنکھوں کا ذکر بہت سی جگہوں پر کرکے ان کی افادیت کو ظاہر کیا ہے اور ان قویٰ کو دلائل قدرت کے طور پر بیان کیا ہے۔
امام رازی (رح) اور بعض دیگر حضرات نے اس بات میں بحث کی ہے کہ انسان کے لئے کانوں کی اہمیت زیادہ ہے یا آنکھوں کی۔ اگر قوت سماعت موجود ہے ، تو آنکھوں کے بغیر بھی انسان بہت کچھ معلومات حاصل کرسکتا ہے اور اچھائی اور برائی میں تمیز کرسکتا ہے۔ اور اگر قوت سماعت ختم ہوجائے تو انسان کی زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔
آنکھیں بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں جن کے ذریعے مختلف شکلوں اور رنگوں میں امتیاز کیا جاتا ہے۔ آنکھوں کے بغیر پورا جہان گھپ اندھیر ہے۔ اسی لئے اللہ نے جہاں اپنی دیگر نعمتوں کا ذکر کیا ہے ، وہاں آنکھوں کی نعمت کا احسان بھی جتلایا ہے۔ الم ………عینین (البلد 8) کیا ہم نے انسان کو دو آنکھیں نہیں دیں جن کے ذریعے اچھائی اور برائی میں امتیاز کرتے ، ان کے ذریعے اللہ کی کتاب اور دیگر دینی کتب کا مطالعہ کرتے جن سے فکر پاک ہوتی اور اعمال میں اخلاص پیدا ہوتا ۔ اگر پھر بھی کوئی کمی رہ جاتی تو ولسانا وشفتین (البلد 9) تو ہم نے زبان اور دو ہونٹ بھی دیے ہیں۔ ان کو بروئے کار لاکر کسی اہل علم سے دریافت کیا جاسکتا تھا ، مگر اکثر لوگ نہ تو آنکھوں سے صحیح کام لیتے ہیں اور نہ نیک مقصد کے لئے زبان کو بروئے کار لاتے ہیں۔ زبان سے جھوٹ بولنا اور گالیاں دینا تو اس کا غلط مصرف ہے اور خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی ناشکری کے مترادف ہے۔
آنکھوں کے متعلقحضور ﷺ کی حدیث (ترمذی ص 346 (فیاض) ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے من اذا اخذت کریمتیہ اگر بس کسی شخص کو دو عزت والی چیزیں یعنی آنکھیں سلب ۔۔۔ اور وہ اس پر صبر کرے تو میں اسے جنت میں پہنچائے بغیر کسی چیز پر راضی نہ ہوں گا۔ بہرحال کان اور آنکھ اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں جن کا جائز مصرف میں استعمال اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے مترادف ہے۔
دل مرکز اخلاق ہے ،
فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی وہی ذات ہے جس نے کان آنکھیں ولافئدۃ اور دل عطا ، کیے۔ عربی زبان میں فئواد دل کو کہتے ہیں ، اور یہ وہی چیز ہے ۔ جس کو امام بیضاوی (رح) عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ امام شافعی (رح) ادراک کا مادہ دل میں مانتے ہیں جب کہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ادراک کا مادہ دماغ میں ہے مگر یہ دونوں اعضاء آپس میں مربوط ہیں جس طرح دل کے بغیر دماغ کام نہیں کر کستا اسی طرح دماغ بھی دل کے بغیر بےسود ہے۔ یہ درست ہے کہ انسان کی سوچ اور سمجھ کا تعلق عقل سے ہے مگر قول عملیہ اللہ نے دل میں رکھی ہے۔ قلب کی منشا کے خلاف کوئی کام انجام نہیں دیاجاسکتا۔ اس کے علاوہ اللہ نے ہر اچھائی ، برائی ، عقیدے اور اخلاق کا مرکز قلب کو بنایا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جو ہر انسان کے سینے میں رکھی ہوئی ہے۔ یہ صرف گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ مرکز اخلاق ہے۔ خدا کی واحدانیت کا تصور بھی قلب میں ہے اور کفر ، شرک ، نفاق اور بدعقیدگی کا مرکز بھی قلب ہی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جو دل ہے اگر یہ درست ہے تو سارا جسم صحیح ہے اور اگر یہ خراب ہے تو سارا جسم ہی خراب ہے۔ الغرض ! کان ، آنکھ اور دل کی نعمتوں کا ذکر دوسرے مقامات پر آتا ہے۔ مثلاً سورة بنی اسرائیل میں فرمایا ان السمع…………………مسئولا (آیت 3- -) کان ، آنکھ اور دل ہر ایک کے متعلق قیامت کے دن باز پرس ہوگی کہ میں نے تمہیں یہ عظیم نعمتیں عطا کی تھیں ، تم نے ان کو کس طرح استعمال کیا ؟
انسان کی ناشکری :
فرمایا ، میں نے تمہیں یہ بہت بڑی نعمتیں عطا کی تھیں مگر افسوس قلیلا ما تشکرون تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو ، شکر تو یہ تھا کہ ان قویٰ کے ذریعے اچھائی کی باتیں حاصل کرتے ، خدا کی وحدانیت کو اپنے دل میں جگہ دیتے اور برائی سے نفرت کرتے ، مگر تم نے ان نعمتوں کا صحیح استعمال نہیں کیا۔ تم نے کانوں کے ذریعے بیہودہ باتیں ، قصے کہانیاں اور گانے وغیرہ سنے ، تمہیں تو قرآن پاک سننا چاہیے تھا۔ اللہ کے نبی کے فرمان سننے چاہئیں تھے اور نیکی کی دوسری باتوں کو کانوں میں جگہ دینی چاہیے تھی ، مگر تم ن اس کے برخلاف صحیح چیز کو دیکھا نہیں بلکہ غلط نگاہ ڈالی ہے ، صحیح بات کو سننے کی توفیق نہیں ہوئی ۔ قلب کے ساتھ نیکی کی بجائے برائی کا ارادہ کیا ، دل میں ایمان ، توحید اور نیکی کی جگہ دینے کی بجائے کفر ، شرک ، نفاق ، بدعت اور رسومات باطلہ کو جگہ دی ، تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی ناشکری نہیں تو اور کیا ہے ؟ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ تم بہت کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔
شکرگزاری کا طریقہ :
شکرگزاری کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ کی ہر نعمت کو اس کے صحیح مقام پر استعمال کیا جائے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ عمر بھر تو آنکھوں سے کوئی مفید کام نہیں لیا مگر مرتے وقت وصیت کردی کہ مرنے کے بعد میری آنکھیں کسی نابینا کو لگادی جائیں۔ ساری عمر کے اندھے سے حسن سلوک نہیں کیا تو بعد ازمرگ آنکھیں دینے سے تمہیں کیا فائدہ پہنچے گا ؟ کرنے کا کام تو یہ تھا کہ اپنی زندگی میں نابینائوں کی بھلائی کے لئے جدوجہد کرتے مگر ایسا نہیں کیا۔ یہ کام تو ولید بن عبدالملک نے انجام دیا تھا اس نے ہر نابینا آدمی کو ایک خادم مہیا کیا تھا اور اس کی ضروریات بیت المال سے پوری ہوتی تھیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ بعض نابینا حضرات نے بھی بڑے بڑے کام انجام دیے ہیں ہمارے زمانے میں مصر کا وزیر طہ حسین پی ، ایچ ، ڈی مگر نابینا تھا اس نے بہت سی کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں حضور ﷺ اور صحابہ کی سیرت پر کتابیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ابوالعلیٰ معریٰ بھی نابینا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ آخر عمر میں نابینا ہوگئے تھے مگر اسی حالت میں قرآن وحدیث کی تعلیم دیتے تھے ، بعض دیگر نابینائوں نے بھی بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جنہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔
بہرحال مرنے کے بعد کسی کو آنکھیں یا کوئی دوسرا عضو دے دینا کوئی خدمت نہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ نابینائوں کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے میں مدد دی جائے انہیں تعلیم دی جائے۔ آج کل تو بریل سسٹم موجود ہے جس کے ذریعے نابینا بھی پڑھ لکھ جاتے ہیں۔ انہیں ہنر سکھایا جائے اور اس قابل بنایا جائے کہ وہ بھیک مانگنے کی بجائے اپنی روزی خود کماسکیں۔ غرضیکہ اللہ نے کان ، آنکھ اور دل جیسی عظیم نعمتیں عطا کی ہیں۔ انسان کا فرض ہے کہ انہیں صحیح کام پر لگائے اور ان سے صحیح فائدہ اٹھائے۔
نشانات قدرت :
ارشاد ہوتا ہے۔ وھوالذی ذراکم فی الارض اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے۔ والیہ تحشرون اور تم اسی کی طرف اکٹھے کئے جائو گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت سے انسانی آبادی کو دنیا کے مختلف خطوں میں بکھیر دیا ہے۔ ہر خطے کی آب وہوا کا اثر اس کی آبادی پر بھی پڑتا ہے جس کا اثر رنگ ، صحت اور شکل و صورت میں واضح ہوتا ہے۔ گرم اور سرد علاقوں کی اپنی اپنی ضروریات اور اپنے اپنے وسائل ہوتے ہیں۔ اسی طرح میدانی اور پہاڑی خطوں کے لوگوں کے اپنے اپنے اطوار اور اپنے اپنے رسم و رواج اور اپنی اپنی ضروریات ہوتی ہیں۔ ہر خطے کے لوگوں کو اپنے اپنے علاقے اور وطن سے محبت ہوتی ہے اور پورے اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت کا ثمرہ ہے کہ ہر قوم اپنے اپنے مقام پر مطمئن ہے۔ اور پھر یہ ہے کہ کوئی انسان دنیا کے کسی بھی خطے میں زندگی گزارے ، مرنے کے بعد اسے بہرحال اللہ ہی کی طرف جانا ہے۔ وہ اپنی بارگاہ میں ہر رنگ ونسل اور ہر ملک وقوم کے لوگوں کو اکٹھا کرے گا۔
فرمایا وھو الذی یحییٰ ویمیت ، خدا تعالیٰ وہ ہے جو زندہ رکھتا ہے اور موت دیتا ہے۔ جب تک اسے منظور ہوتا ہے انسان سطح ارضی پر زندگی گزارتا ہے اور پھر جب اس کی منشاء ہوتی ہے تو اس زندگی کو واپس لے کر موت سے ہم کنار کردیتا ہے۔ گویا موت وحیات کا پورا نظام اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے۔ یہ اختیار اس نے کسی دوسری ہستی کو تفویض نہیں کیا۔ یہ بھی اس کی قدرت کی ایک دلیل ہے۔
ولہ اختلاف الیل والنھار ، دن رات کا اختلاف یعنی نظام شمسی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ایک مقررہ طریقے کے مطابق رات اور دن کو آگے پیچھے لاتا ہے۔ اس نے دن رات کے ذریعے دنوں کی گنتی کا حساب رکھا ہوا ہے۔ ایک دن رات چوبیس گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے ، ہفتہ سات دن میں ، مہینہ تیس دن میں اور سال بارہ مہینوں میں ، اللہ نے ایسی تقویم مقر ر کررکھی ہے جس میں ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں پڑتا اور تمام لوگ اسی رات اور دن کے حساب سے معمولات زندگی گزارتے ہیں۔
فرمایا یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں ۔ وہ اکیلی ذات ہے جو پوری کائنات کا نظام نہایت احسن طریقے سے چلارہی ہے اور جس میں کبھی کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔ ان تمام شواہد کے باوجود اگر کوئی خدا کی ذات پر ایمان نہیں لاتا تو یہ اس کی اپنی بدبختی ہے۔ فرمایا سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی افلا تعقلون کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ کیا تمہیں اتنا بھی شعور نہیں کہ ان دلائل قدرت پر غور وفکر کرسکو ؟۔
وقوع قیامت کا انکار :
فرمایا ، ان تمام حقائق کی وضاحت کے بعد بھی ان لوگوں کی سمجھ میں بات نہیں آئی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے کی بجائے بل قالوا مثل ماقال الاولون انہوں نے بھی وہی بات کی جو پہلے لوگوں نے کی تھی ۔ پرانے زمانے کے کفار ومشرکین نے بھی دلائل قدرت دیکھنے کے باوجود توحید باری تعالیٰ اور قیامت کا انکار کیا تھا تو ان لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا قالواء اذا متنا وکنا ترابا وعظاما کہنے لگے کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل جائینگے اور ہماری ہڈیاں بھی بوسیدہ ہوجائیں گی۔ سورة النزعت میں ہےء اذا……………نخرۃ (آیت 11) کیا جب ہماری ہڈیاں گل سڑ کر بھربھری ہوجائیں گی۔ ء انا لمبعوثون تو کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ یہ بات ہماری عقل میں نہیں آتی ، کہتے تھے لقد وعدنا نحن وابآئونا ھذا من قبل مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا وعدہ تو اس سے پہلے ہمارے آبائو اجداد سے بھی کیا گیا ، مگر ہم نے تو آج تک کسی کو مرکر دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا ، کہنے لگے کہ اس دعویٰ میں کوئی حقیقت نہیں بلکہ ان ھذ الا اسا طیر اولین بلکہ یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جو ہم شروع سے سنتے آئے ہیں مگر ان کی عملی شکل کبھی نہیں دیکھی۔ کہتے تھے کہ وقوع قیامت ، بعث بعدالموت ، حشرنشر ، جنت دوزخ سب کہانیاں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ، لہٰذا ہم ان باتوں کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ نزول قرآن کے زمانے کے کافر اور بعد والے کافر سب ایسا ہی کہتے آئے ہیں۔
الغرض ! بنیادی بات یہ ہے کہ مذکورہ تمام مشاہدات اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کی دلیل ہیں۔ جب وہ قادر مطلق اور وحدہ لاشریک ہے تو پھر وہ وقوع قیامت پر بھی قادر ہے اور یہ واقع ہو کر رہیگی۔ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے مختلف مقامات پر مختلف عنوانات سے بیان فرمایا ہے۔
Ayahs 23:84–92ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مشن کا ذکر کیا کہ انہوں نے کس طرح خدا کا پیغام تک پہنچایا اور ایمان و توحید کی دعوت دی۔ اللہ نے ساتھ ساتھ توحید کے مختلف دلائل بھی بیان فرمائے۔ چونکہ وہ لوگ قیامت کا بھی انکار کرتے تھے ، اس لئے اللہ نے توحید اور قیامت کے اکٹھے دلائل بھی دیے۔ گزشتہ آیات میں بعض ایسے دلائل کا ذکر تھا جو انسانی مشاہدے میں ہر وقت آتے رہتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر انسان کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کرے ، توحید اور قیامت کا انکار نہ کرے۔ اللہ نے مشرکین کے اس نظریہ کو بھی بیان کیا کہ وہ کہتے تھے کہ جب ہم مرکر مٹی میں رل مل جائیں گے اور ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی ، تو بھلا پھر ہم کیسے دوبارہ جی اٹھیں گے کہتے تھے کہ یہ تو پرانے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جو ہم آبائواجداد سے ستنے چلے آرہے ہیں مگر ہم انہیں تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔
زمین ومافیا کی ملکیت :
اب آج کے درس میں دلائل توحید ہی کے ضمن میں ارشاد ہوتا ہے قل لمن الارض ومن فیھا اے پیغمبر ! آپ ان کفار ومشرکین سے کہہ دیجئے کہ زمین اور اس میں موجود ہر چیز کس کی ملکیت ہے۔ اس زمین پر مخلوق خدا آباد ہے۔ اسی میں پیدا ہوتے ہیں ، کاروبار کرتے ہیں ، چلتے پھرتے ہیں۔ اس پر مکانات بناتے ہیں۔ اس میں کھیتی باڑی کرکے اپنے لئے روزی کا سامان مہیا کرتے ہیں مگر یہ تو بتلائو کہ اتنا بڑا کرہ ارض آخر کس کی ملکیت ہے۔ مطلب یہ کہ اس کو پیدا کس نے کیا ہے اور اس کا پورا کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہے۔ فرمایا بتائو ان کنتم تعلمون اگر تم جانتے ہو تو اس سوال کا جواب دو ۔
پھر اللہ نے خود ہی جواب میں فرمایا سیقولون للہ کہ ان لوگوں کا جواب یہی ہوگا کہ زمین اور مافیہا کی ملکیت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے وہی اس کا خالق اور وہی اس کا متصرف ہے قل فرمایا ، ان لوگوں کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں تو پھر ان سے دریافت کریں افلا تذکرون پھر تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے ؟ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کیوں کرتیہو۔ اور وقوع قیامت پر ایمان لانے سے کیوں ہچکچاتے ہو ؟
آسمانوں اور عرش کی ملکیت :
آگے دلائل توحید کے سلسلے میں دوسرا سوال کیا جارہا ہے۔ قل من رب السموت السبع بھلا بتائو تو ساتوں آسمانوں کا پروردگار کون ہے ورب العرش العظیم اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ اس کے جواب میں بھی کفار ومشرکین یہی کہیں گے ۔ سیقولون للہ کہ یہ چیزیں بھی الہ ہی کی ہیں۔ وہی ان کا خالق ، مالک اور متصرف ہے۔ فرمایا ، اگر یہ بات ہے قل افلا تتقون تو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ جب تم ہر چیز کا مالک خدا تعالیٰ کو مانتے ہو تو پھر اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہوئے تمہیں خوف کیوں نہیں آتا ؟ یہ تو بڑی گستاخی کی بات ہے۔
یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آسمانوں کو تو ہر کافر ، مشرک اور ملحد بھی مانتا تھا اور انہوں نے اقرار کیا کہ ان کا مالک اللہ ہی ہے مگر یہ لوگ عرش الٰہی سے تو واقف نہیں تھے ، پھر انہوں نے کے متعلق کیسے تسلیم کرلیا کہ یہ بھی اللہ ہی کی ملکیت ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں آسمانی کتب کا علم رکھنے والے یہودونصاریٰ تو عرش عظیم سے بھی واقف تھے کیونکہ اس کا ذکر ان کی اپنی کتابوں میں موجود تھا۔ اور ان سے سن کر مشرک بھی مانتے تھے کہ ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش الٰہی بھی ہے۔ اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اس کا مالک بھی اللہ ہی ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ عرش عظیم سے مراد وہ عرش نہیں جس پر خدا تعالیٰ مستوی ہے بلکہ اس مقام پر اس سے مراد سلطنت عظمیٰ (Great Kingdom گریٹ کنگڈم) ہے۔ وہ لوگ چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور علاقائی ملوک و سلاطین کا تصور تو رکھتے تھے۔ مگر پوری کائنات یعنی سب سے بڑی سلطنت کا مالک کون ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کا جواب بھی انہیں یہی دینا پڑتا ہے کہ سب سے بڑی سلطنت کا مالک و متصرف بھی اللہ ہی ہے۔
ہرچیز پر تصرف :
پھر تیسرا سوال یہ اٹھایا قل من بیدہ ملکوت کل شیء اے پیغمبر ! آپ ان سے یہ بھی پوچھیں کہ ہر چیز کا تصرف اور اختیار کس کے ہاتھ میں ہے ؟ ملکوت ، ملک کا مبالغہ ہے تسبیح میں بھی ہم پڑھتے ہیں سبحن ذی الملک والملکوت اور وہ کون ہے وھو یجیر ولا یجارعلیہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ جس کو چاہے اپنی پناہ اور حفاظت میں لے لے ، کوئی دوسری ذات اس معاملہ میں دخل نہیں دے سکتی۔ اور اگر وہ کسی کو سزا دینا چاہے تو کوئی ذات ایسی نہیں جو اسے اپنی پناہ میں لے کر اس کو سزا سے بچالے۔ فرمایا ، اس سوال کا جواب دو ان کنتم تعلمون اگر تم جانتے ہو۔ فرمایا کافر اور مشرک بھی اس کا جواب یہی دیں گے سیقولون للہ یہ تو اللہ ہی کی صفات ہیں۔ وہ جسے چھوڑنا چاہے اسے کوئی پکڑ نہیں سکتا ، اور جسے پکڑنا چاہے اسے کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ فرمایا ، اگر یہ بات ہے قل فانی تسحرون تو اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ تم پر کہاں جادو کیا جارہا ہے ؟ ان حقائق کا علم ہونے کے باوجود تم توحید اور معاد کا انکار کس بنا پر کر رہے ہو ؟
فرمایا حقیقت یہ ہے بل اتینھم بالحق بلکہ ہم ان کے پاس سچی بات لے آئے ہیں یعنی ہمارا پیغمبران کے پاس خدا کی سچی کتاب اور صحیح پروگرام لے کر آیا ہے۔ توحید ومعاد بالکل برحق ہیں مگر ونھم لکذبون جھوٹے یہی ہیں جو باطل خیالات کی پیروی کرکے اللہ کے سچے نبی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اسے ساحر ، کاہن اور شاعر کا لقب دیتے ہیں اور یہ اپنے اس دعویٰ میں سراسر جھوٹے ہیں یہ لوگ محض سنی سنائی باتوں پر غلط عقیدے بنا کر بیٹھ گئے ہیں۔ یہ نہ تو خدا تعالیٰ کی قدرت کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی حکمت کو بلکہ بلاوجہ حق کی مخالفت کر رہے ہیں۔
توحید پر دلیل :
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے زاویہ نگاہ سے توحید پر دلیل قائم کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ما اتخذ اللہ من ولد خدا تعالیٰ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ ہی اس کا کوئی حقیقی بیٹا ہے یہ تو مخلوق کی صفات ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے مبرا ہے ، وہ بےنیاز ہے وہ تو مخلوق سے دراء الوراء ہے۔ لیس کمثلہ شیء (الشوریٰ 11) وہ بےمثل اور مثال ہے۔ یہ تو عیسائیوں کا باطل عقیدہ ہے کہ اللہ نے مسیح (علیہ السلام) کو بیٹا بنا لیا ہے اور وہ سفارش کرکے لوگوں کو اللہ کے قہر سے بچا لیں گے اور لوگوں کی مرادیں پوری کرتے ہیں۔ فرمایا وما کان معہ من الہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہیں ہے جو قادر مطلق ، علیم کل ، ازلی اور ابدی ہو۔ اگر بالفرض ، کوئی دوسرا الٰہ ہوتا۔ اذا لذھب کل الہ بما خلق ، تو ہرالٰہ اپنی اپنی پیدا کردہ چیزوں کو لے کر الگ ہوتا جاتا اور وہ اپنی جدا جدا سلطنتیں قائم کرلیتے۔ اگر بہت سے معبود ہوتے تو ظاہر ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے پر تسلط جمانے کی کوشش کرتا اور اپنی سلطنت کو وسیع تر کرنے کی کوشش کرتا۔ سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے لوکان………… …لفسدتا (آیت 22) اگر ارض وسما میں خدا تعالیٰ کے سوا کوئی اور الٰہ بھی ہوتا تو کائنات کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔ یہ تو عام محاورہ ہے کہ ایک گودڑی میں دس فقیر تو سما سکتے ہیں مگر ایک سلطنت میں دو بادشاہ اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ ان میں سے ہر کوئی دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کریگا اور اس طرح فتنہ و فساد کا بازار گرم ہوجائے گا۔ اور اگر ان دو میں سے ایک بااختیار اور دوسرا کمزور ہے تو پھر بھی الٰہ ایک ہی ہوگا ، کمزور تو الٰہ بننے کا اہل نہیں ہوگا۔ بہرکیف معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبون نہیں۔
آگے ایک اور نکتہ بھی بیان فرمایا ہے کہ اگر اللہ کے علاوہ کوئی دسورا معبود بھی ہوتا ولعلا بعضھم علی بعض تو ایک الٰہ دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتا۔ ایک معبود دوسرے پر چڑھائی کردیتا۔ جیسا کہ دنیا کے عام سلاطین کا دستور ہے۔ فرمایا اس طریقے سے بھی امن مفقود ہوجاتا ہے اور کائنات شروفساد کا میدان بن جاتی فرمایا سبحن اللہ عما یصفون ، اللہ کی ذات پاک ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کا نہ کوئی حقیقی بیٹا ہے اور نہ منہ بولا ، اور نہ ہی خدا نے کسی کو اپنے اختیارات تفویض کردیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہرچیز میں بےمثل اور بےمثال ہے۔ نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے ، نہ صفات میں ، نہ تصرف میں ، نہ تدبیر میں ، نہ خلق میں اور نہ ربوبیت میں۔ وہ وحدہ لاشریک ہے اور مشرکوں کی بیان کردہ کمزوریوں سے پاک ہے۔
خدا کی صفت علیم :
ارشاد ہوتا ہے علم الغیب والشھادۃ وہ غائب اور حاضر سب کو جاننے والا ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات سے تو کوئی چیز غائب نہیں۔ اس کا اپنا فرمان ہے وما یعزب……………فی السماء (یونس 61) تیرے پروردگار کی نگاہوں سے تو ایک ذرہ بھی غائب نہیں۔ تو یہاں پر غائب سے مراد وہ چیزیں ہیں جو مخلوق کی نگاہ سے اوجھل ہیں ، مثلاً جنات ، فرشتے ، سعادت ، شقاوت وغیرہ۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ ہر ظاہر اور باطن چیز کو جانتا ہے۔ وہ علیم کل ہے اور اس کی ذات سے کوئی چیز مخفی نہیں ۔ تو یہاں پر غائب سے مراد وہ چیزیں ہیں جو مخلوق کی نگاہ سے اوجھل ہیں ، مثلاً جنات ، فرشتے ، سعادت ، شقاوت وغیرہ۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ ہر ظاہر اور باطن چیزکو جانتا ہے۔ وہ علیم کل ہے اور اس کی ذات سے کوئی چیز مخفی نہیں وہ عالم محسوسات اور عالم غیر محسوسات سب کو جاننے والا ہے۔
فرمایا فتعلی عما یشرکون پس خدا تعالیٰ کی ذات بلندو برتر ہے ، ان چیزوں سے جن کو یہ خدا کا شریک بناتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی صفات غیر محدود ہیں۔ جب کہ انسان کا علم اور سمجھ محدود ہے اور انسان ہر طرح سے محتاج ہے جب حقیقت یہ ہے تو پھر مخلوق کو خدا کی کسی صفت میں یا اس کی عبادت میں شریک کرنا سب سے بڑا ظلم ہے۔ انسان کو شرک سے ہر حالت میں بچنا چاہیے کہ مشرک کی نجات نہیں۔