Ayahs 23:31–41ربط آیت :
گزشتہ دروس میں پہلے توحید باری تعالیٰ کے عقلی دلائل پیش کیے گئے اور پھر نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے بھی لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی اور فرمایا یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ، اے میری قوم کے لوگو ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کافروں نے نوح (علیہ السلام) پر یہ اعتراض کیا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے ، بھلا ہم اس کو اللہ کا رسول کیسے تسلیم کرلیں انہوں نے آپ کی بات سننے کی بجائے آپ کو ہر طرح سے تنگ کیا۔ نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک تبلیغی جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ سے نجات کی درخواست کی تو اللہ نے کشتی بنانے اور اس میں ہر جاندار کا جوڑا جوڑا نیز اپنے اطاعت گزار گھر والوں کو سوار کرنے کا حکم دیا۔ آپ نے ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ نے ایسا طوفان بھیجا کہ ساری قوم غرق ہوگئی جن میں نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور بیٹا بھی شامل تھا ، اور صرف وہی چند لوگ بچے جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔
قوم عاد یا ثمود کا تذکرہ :
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے قوم عاد یا قوم ثمود کا ذکر کیا ہے قوم عاد کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو اللہ نے مبعوث فرمایا اور قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو مامور کیا گیا۔ ان دونوں اقوام کا مفصل تذکرہ سورة اعراف ، سورة ہود ، سورة الشعرآء وغیرہ میں موجود ہے تاہم ان آیات میں نہ تو کسی قوم کو نامزد کیا گیا ہے اور نہ ان کی طرف مبعوث ہونے والے نبی کا اسم گرامی ذکر کیا ہے۔ نفس مضمون وہی ہے جو گزشتہ درس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق بیان ہوچکا ہے البتہ اس درس کی آخری آیت میں لفظ الصحیۃ سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ قوم ثمود کا ذکر ہے جن کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا۔ اور جب یہ قوم حد سے بڑھ گئی تو اللہ نے نیچے سے زلزلہ اور اوپر سے ایک خوفناک چیخ بھیج کر سب کو ختم کردیا۔ تاہم اس سے مطلق عذاب بھی مراد لیا جاسکتا ہے ، جیسے سورة یٰس میں ہے ان کانت…………خامدون (آیت 29)
ارشاد ہوتا ہے ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین ، یعنی قوم نوح (علیہ السلام) کی ہلاکت کے بعد ہم نے اور بھی قومیں اٹھائیں۔ قرن کا اطلاق ایک صدی پر ہوتا ہے ، تاہم اس سے چالیس سال ، اسی سال اور ایک سو بیس سال کا عرصہ بھی مراد لیا جاتا ہے۔ یہ لفظ ایک عمر یا سنگت کے دور پر بھی بولا جاتا ہے۔ تو پھر ہم نے اور قوموں کو اٹھایا فارسلنا فیھم رسولا منھم اور ان کی طرف انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔ اس سے مراد حضرت ہود (علیہ السلام) یا صالح (علیہ السلام) ہیں جو کہ اپنی اپنی قوم کے ہی فرد تھے ، اور دونوں نے ایک ہی پیغام پہنچایا جو کہ توحید کا پیغام تھا۔ مگر ان کی قوموں نے ان کو دعوت قبول کرنے کی بجائے ان کے ساتھ سخت بدسلوکی کی ہے اور ان کو تکلیفیں پہنچائیں۔ قوم نوح کے بعد قوم عاد یعنی حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کو عروج نصیب ہوا ، اور پھر اس کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود برسراقتدار آئی۔ اگرچہ دونوں قوموں کے زمانے مختلف ہیں مگر دونوں قومیں ایک جیسے حالات سے گزریں اور انہوں نے اپنے نبیوں کے ساتھ بھی تقریباً ایک جیسا سلوک کیا۔ یہ دونوں متمدن قومیں تھیں جو جسمانی اور مالی لحاظ سے بڑی مضبوط تھیں ، اسی لئے انہوں نے اللہ کے نبیوں کی تکذیب کی۔
دعوت توحید اور قوم کا جواب :
فرمایا ، ہم نے اس قوم کی طرف جو نبی بھیجا اس نے قوم سے کہا ان اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ ، لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے افلا تتقون کیا تم ڈرتے نہیں ؟ خدا کی وحدانیت کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو کیا تمہیں خدا تعالیٰ کی گرفت کا خوف نہیں ہے۔
اس کے جواب میں وقال الملا من قومہ الذین کفروا اور کہا آپ کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا وکذبوا بلقاء الاخرۃ اور آخرت کی ملاقات کو بھی جھٹلایا۔ مطلب یہ کہ قوم ہود یا قوم ثمود کے ان سربر اور دہ لوگوں نے نبی کی دعوت کا جواب دیا جنہوں نے ایک تو کفر کا ارتکاب کیا یعنی توحید خداوندی کو نہ مانا اور دوسرے قیامت اور جزائے عمل کا انکار کیا۔ یہ ایسے لوگ تھے واترفنھم فی الحیوۃ الدنیا جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ حال بنایا تھا۔ یہ بڑے خوشحال لوگ تھے جنہیں دنیا کی تمام آسائشیں حاصل تھیں ۔ کہنے لگے ماھذا الا بشر مثلکم نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا ایک ا انسان۔ صاحب ثروت لوگوں نے عام لوگوں کو نبی سے بدظن کرنے کے لئے یہ پٹی پڑھائی کہ یہ کیسے نبی ہوسکتا ہے ، یہ تو تمہارے جیسا عام انسان ہے۔ یا کل مما تاکلون منہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ شخص بھی وہی کچھ کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو ویشرب مما تشربون اور وہ چیز پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔ اگر یہ اللہ کا رسول ہوتا تو اس کا کھانا پینا ، بیٹھنا اٹھنا ، سونا جاگنا اور دیگر معمولات تم سے مختلف ہوتے بھلا ایک انسان کے دعویٰ نبوت کو ہم کیسے تسلیم کرلیں۔ کہنے لگے اس کی بات ہرگز نہ ماننا۔ ولئن اطعتم بشرا مثلکم اگر تم نے اپنے جیسے انسان ہی کی اطاعت اختیار کرلی انکم اذا لخسرون تو ضرور نقصان اٹھانے والے بن جائو گے۔ غرضیکہ قوم کے لوگوں نے اس نبی کی اطاعت کا انکار کردیا جو کمال اخلاق ، کمال دیانت اور کمال امانت کا مالک ہوتا ہے۔ اس کا کردار اس قدر شفاف ہوتا ہے کہ کوئی اس کی طرف انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ اور اس نبی کی تعلیم ہمیشہ یہ ہوتی ہے فاتقوا اللہ واطیعون (الشعرا 126) لوگو ! اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اس طرح نبی کی اطاعت فرض ہوتی ہے مگر ان لوگوں نے کہا کہ اگر اس کی اطاعت کرو گے تو خسارے میں پڑجائو گے۔
اتراف کے نقصانات :
ان آیات میں آمدہ الفاظ ملا اور اترفنھم قابل غور ہیں ملا سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق کے مخالفین اکثر بڑے لوگ ہی ہوتے ہیں جو یا تو قوم یا قبیلے کے سردا ہوتے ہیں یا پھر حکومت میں صاحب اقتدار ہوتے ہیں۔ گمراہی کا دوسرا سبب اتراف یعنی آسودہ حالی ہے۔ مالدار لوگ بھی اپنے عیش و عشرت میں ہی لگے رہتے ہیں اور انہیں زندگی میں کسی قسم کا انقلاب منظور نہیں ہوتا کیونکہ انقلاب کے ذریعے ان کے آرام و آسائش میں فرق آنے کا خطرہ ہوتا ہے امام شاہ ولی اللہ (رح) اس کو رفاہیت بالغہ میں مبتلا تھے اور یہی چیز مہلک ہے غلط نظام کی یہی قباحت ہے کہ حکومتیں اپنی عیاشی کے لئے زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگاتی ہیں اور مالدار لوگ اپنے مال کے بل بوتے پر سامان تعیش حاصل کرتے ہیں۔ پھر متوسط طبقہ امراء کی اقتداء میں ہر جائز اور ناجائز طریقے سے وہی سہولتیں حاصل کرتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ادنی طبقہ ظلم کی چکی میں پستا رہتا ہے۔ ان سے جانوروں کی طرح کا تو لیا جاتا ہے مگر معاوضہ پورا نہیں دیا جاتا۔ ان بیچاروں کو اتنی بھی فرصت نہیں ملتی کہ آخرت کے بارے میں بھی کچھ غوروفکر کسرکیں۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ جس طرح رفاہیت بالغہ غلط ہے اسی طرح تقشف بھی غلط ہے۔ منشائے خدا کے خلاف جوگیانہ یا راہبانہ زندگی بسر کرنا اتراف کا الٹ ہے۔ نہ تو بہت زیادہ عیش و آرام کی زندگی ہونی چاہیے اور نہ بالکل تارک دنیا ہی ہوجائے ۔ بلکہ درمیانہ راستہ ہی بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے قیصروکسریٰ کا اترافی نظام نبی آخرالزمان (علیہ السلام) کے ذریعے ختم کردیا مترف لوگ اپنی روش کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور حق کی مخالفت میں پیش پیش رہتے ہیں۔ حضور ﷺ نے حضرت معاذ ب جبل ؓ کو یمن کا حاکم مقرر کرکے رخصت کرتے وقت جو نصائح فرمائی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی ایاک والتنعم فان عباد اللہ لیسوا بالمتنعمین عیش و عشرت سے بچو کیونکہ اللہ کے بندے عیش و عشرت میں نہیں پڑتے۔ شاہ ولی اللہ (رح) یہ بھی فرماتے ہیں ، کہ جس شہر کی آبادی دس ہزار نفوس تک بڑھ جائے وہاں اختیار کیے جانے والے پیشوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے اور ضروری ہے کہ حکومت ان میں توازن پیدا کرے۔ اچھے پیشوں کو اختیار کرنے کے لئے سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اور برے پیشوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اگر اس طرف سے غفلت برتی گئی تو لوگوں میں اتراف پیدا ہوجائے گا۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ ادنیا میں ترقی کا معیار عیش و عشرت ہی رہ گیا ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لئے بڑے بڑے منصوبے بنائے جاتے ہیں اور پھر مشورے بھی ان ممالک سے لئے جاتے ہیں جو نام نہاد ترقی یافتہ ہیں اور جنہوں نے اتراف کو ترقی کا معیار بنارکھا ہے ۔ یعلمون……………………غفلون (روم 7) وہ دنیا کی ظاہری ٹیپ ٹاپ کو تو خوب جانتے ہیں ، ان کے نفع نقصان سے بھی بخوبی واقف ہیں مگر آخرت سے یکسر غافل ہیں۔ ان کا جغرافیہ اسی مادی حیات پر ختم ہوجاتا ہے جو کہ اتراف کا لازمی نتیجہ ہے۔
مشرق کے ترقی پذیر ممالک میں عام لوگ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ انہیں معیاری خوراک ، پانی اور رہائش تک میسر نہیں غرباء کو پلاٹ دینے کا وعدہ محض پراپیگنڈا ہے۔ سرمایہ دار اور صاحبان اقتدار تو کاروں اور کوٹھیوں کی زندگی بسر کرتے ہیں جب کہ ایک عام آدمی کم از کم ضروری تعلیم بھی حاصل نہیں کرپاتا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہمارے ملک کو صرف تیس فیصد آبادی تعلیم یافتہ ہے جب کہ ستر فیصد بالکل جاہل ہیں۔ کیا ان کے حقوق کی ادائیگی حکومت وقت کا فرض نہیں ؟ پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے والا انہی کے رنگ میں رنگا جاتا ہے اور جو تھوڑا بہت دین لے کرجاتا ہے ، وہ بھی وہیں چھوڑ آتا ہے فنی تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیجنے کی بجائے باہر سے ماہرین تعلیم منگوائے جاسکتے ہیں تاکہ ہماری نوجوان نسل کا ماحول تو تبدیل نہ ہو بہرحال یہ سب اتراف کے ذرائع اور معاشرے کی خرابی کے ذمہ دار ہیں۔
بعث بعدالموت کا انکار :
بات انکار رسالت کی چل رہی تھی کہ قوم عاد یا ثمود نے اپنے نبی کی نبوت کا اس لئے انکار کردیا کہ یہ ہمارے جیسا انسان ہے اور ہماری طرح کھاتا پیتا ہے اور دوسری بات یہ کہ ایعدکم انکم اذا متم وکنتم ترابا وغطاما انکم مخرجون ، جو شخص یہ وعدہ بھی کرتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائو گے تو پھر تمہیں دوبارہ زندہ کرکے نکالا جائیگا۔ قوم کے سردار کہنے لگے کہ دیکھو ایسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ سورة الم سجدہ میں منکرین بعث کا بیان یوں نقل کیا گیا ہے۔ ء اذا ضللنا…………جدید (آیت 10) کیا جب ہم مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے۔ سورة النزعت میں ہےء اذا……………نخرۃ (آیت 11) کیا جب ہم بھربھری ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر بھی جی اٹھیں گے ؟ غرضیکہ انہوں نے حیات بعدالممات کا انکار کیا اور کہنے لگے ھیھات ھیھات لما توعدون ، جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے یعنی مرکر دوبارہ جی اٹھو گے ، یہ بات بالکل بعید ہے ، ایسا ہرگز ممکن نہیں ۔ ساتھ یہ بھی کہا ان ھی الا حیاتنا الدنیا ، ہماری تو صرف اسی زندگی ہے ، ہم اس سے پرے کسی زندگی کو نہیں مانتے نموت ونحیا ، ہم اسی دنیا میں مرتے ہیں اور اسی میں جیتے ہیں وما نحن بمبعوثین اور دوبارہ بالکل نہیں اٹھائے جائیں گے۔ یہ سب اس شخص کی خود ساختہ باتیں ہیں۔ نہ کوئی برزخ ہے ، نہ آخرت ، نہ حشر ونشر ہے اور نہ کوئی دوزخ جنت۔ اسی دنیا میں انسان پیدا ہوتے ہیں اور پھر طبعی عمر پوری کرکے ختم ہوجاتے ہیں۔ آگے کچھ نہیں ہے۔
نبی پر الزام تراشی :
توحید خداوندی اور معاد کے نکرین اور اتراف کرنے والے لوگ نبی کی نبوت کا تو پہلے ہی انکار کرچکے تھے کہ ایک انسان نبی کیسے ہوسکتا ہے اب اس پر الزام تراشی بھی شروع کردی۔ کہتے انھو الا رجل ن افتریٰ علی اللہ کذبا یہ ایک ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر افتراء باندھا ہے جھوٹ کہتا ہے کہ خدا نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے اور کہ خدا تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے گا ، یہ بالکل جھوٹ ہے (نعوذ باللہ) جو خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے وما نحن لہ بمومنین ، ہم اس شخص کی بات پر یقین کرنے والے نہیں ہیں۔
دوسرے مقام پر اللہ نے بشریت رسول کے منکرین کو مدلل جواب دیا ہے۔ کہ جو شخص سے کوئی دوسرا شخص فائدہ اٹھاتا ہے ان دونوں کے درمیان مناسبت ہونا ضروری ہے ورنہ وہ ایک دوسرے سے مستفید نہیں ہوسکیں گے۔ انسانوں کو وحی الٰہی کا علم اور اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین نبی سے سیکھنے سے معلوم ہوتے ہیں اگر نبی انسان نہیں ہوگا تو دوسرے انسان اس سے فائدہ کیسے اٹھاسکیں گے۔ ایسی صورت میں تو غیر جنس کا اسوہ حسنہ بھی اختیار نہیں کیا جاسکے گا تو پھر کامیابی کیسے حاصل ہوگی ؟ منکرین کا مطالبہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی فرشتے کو نبی بنا کر بھیجتا۔ ظاہر ہے کہ اگر اللہ کسی فرشتے کو بھیجتا تو انسانی شکل میں ہی بھیجتا کیونکہ عام انسانوں میں یہ تاب ہی نہیں کہ وہ فرشتے کو اصل شکل میں دیکھ سکیں ۔ اور جب وہ انسان کی صورت میں آتا تو مسئلہ پھر وہی پیدا ہوجاتا۔ کہ یہ تو انسان ہے ، ہم اس کا اتباع کیوں کریں ، لہٰذا انسانوں کی راہنمائی کے لئے نبی کا انسان ہونا ہی ضروری ہے جس میں تمام لوازمات بشری پائے جائیں تاکہ لوگ اس کا نمونہ اختیار کرسکیں۔
نبی کی دعا اور عذاب الٰہی :
جب نبی اور امت کے درمیان خلیج اس حد تک وسیع ہوگئی کہ اس کا پاٹنا ناممکن نظر آنے لگا تو نبی نے دعا کی قال رب انصرنی بما کذبون ، اے میرے پروردگار ! میری مدد فرما اس وجہ سے کہ ان لوگوں نے مجھے جھٹلادیا ہے۔ یہ مجھے تکلیفیں پہنچا رہے ہیں۔ نہ خود مانتے ہیں اور نہ دوسروں کو قریب آنے دیتے ہیں۔ اللہ نے ارشاد فرمایا قال عما قلیل لیصبحن ندمین ، صبر کرو ، تھوڑے عرصہ کے بعد یہ خود ہی پشیمان ہوجائیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آئے گی اور ان کے حواس درست ہوجائیں گے اور پھر ایسا ہی ہوا فلخذتھم الصیحۃ بالحق ، پس پکڑا ان کو ایک چیخ نے حق کے ساتھ۔ جب خدا نے گرفت کی تو پھر نیچے سے زلزلہ آیا۔ اور اوپر سے ایک خوفناک چیخ سنائی دی جس سے مکذبین کے جگر پھٹ گئے فجعلنھم غثاء پھر ہم نے ان کو پیس کر کوڑا کچرا بناڈالا جس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ بڑے مغرور تھے ، مال و دولت کی فراوانی تھی ، اسراف وتبذیمہ کا شکار تھے اپنے زعم میں بڑے باعزت اور نامور تھے مگر اللہ نے انہیں کوڑا کچرا بنا کر رکھ دیا۔ فرمایا فبعدا للقوم الظلمین پس تباہی اور برباد ہے ظلم قوم کے لئے۔ کفر شرک دنیا میں سب سے بڑا ظلم ہے۔ اللہ نے فرمایا والکفرون………الظلمون (البقرہ 254) کافر ہی ظالم ہیں۔ نیز فرمایا ان الشرک لظلم عظیم (لقمان 13) شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ گویا خدا کی وحدانیت سے انکار شدید ترین ظلم ہے۔ بہرحال اللہ نے ان آیات میں نبی کا نام لیے بغیر اس کی قوم کا سلوک بیان کردیا ہے ، پروگرام اس نبی کا بھی وہی تھا جو دوسرے نبیوں کا تھا کہ لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اس مضمون کو نبی آخرالزمان (علیہ السلام) نے بھی پیش کیا۔ آگے اسی سلسلہ میں مزید انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر آرہا ہے۔
Ayahs 23:42–50ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے درس توحید کا ذکر کیا ، اور یہ بھی کہ قوم نے آپ کے ساتھ بدسلوکی کی جس کے نتیجے میں ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی۔ اس کے بعد اللہ نے ایک دوسرے رسول کا ذکر کیا ، اس نے بھی لوگوں کو وہی درس دیا جو پہلے انبیاء دیتے آئے تھے یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، مگر اس قوم نے بھی رسول اور توحید کا انکار کیا اور اپنے کفر وشرک پر ہی اڑی رہی۔
اس قسم کے منکرین اور مکذبین اکثر آسودہ حال لوگ تھے جنہیں انپے وقت میں زندگی کی تمام سہولتیں حاصل تھیں۔ ایسے لوگوں نے ہمیشہ اللہ کے نبیوں کی توہین کی اور کہا کہ تم تو ہمارے جیسے انسان ہو ، ہم تمہاری پیروی کیوں کریں ؟ اس پر اللہ کے نبیوں نے خدا کی بارگاہ میں درخواست پیش کی اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی ۔ اللہ نے ظالم لوگوں پر اتنا سخت عذاب نازل فرمایا کہ انہیں صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔
قوموں کا عروج وزوال :
اب آج کے درس میں بھی بعض قوموں کے غرور وتکبر اور ان کی تباہی کا حال بیان کیا گیا ہے۔ پھر موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ ؓ کا مختصر تذکرہ ہے ۔ ارشاد ہوتا ہوے ثم انشانا من بعدھم قرونا اخرین ، پھر ان کے بعد ہم نے بعض دیگر قوموں کو اٹھایا یعنی دنیا میں عروج دیا۔ پھر ان قوموں نے بھی اللہ کے نبیوں کی تکذیب کی اور توحید الٰہی سے انکار کیا ، تو وہ بھی عذاب الٰہی میں مبتلا ہو کر نیست ونابود ہوگئیں ، اللہ نے فرمایا کہ ہر نافرمان قوم کی سزا کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ ماتسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون ، کوئی قوم یا امت اپنے مقررہ وقت سے نہ تو سبقت کرتی ہے اور نہ پیچھے ہوتی ہے بلکہ عین وقت مقررہ پر تباہ وبرباد ہوجاتی ہے۔
فرمایا ثم ارسلنا رسلنا تترا ، پھر ہم نے بھیجے اپنے رسول لگاتار ، پے درپے ۔ کلما جاء امۃ رسولھا کذبوہ ، جب بھی کسی قوم کے پاس اس کا رسول آیا ، انہوں نے اسے جھٹلادیا۔ تاریخ انسانی بتاتی ہے کہ ہر نبی کا اتباع بہت تھوڑے لوگوں نے کیا اور ان کی غالب اکثریت نے رسولوں کی مخالفت ہی کی۔ فرمایا فاتبعنا بعضھم بعضا پھر ہم نے ان کے بعض کو بعض کے پیچھے لگایا ، یعنی پہلے لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہلاک کرکے ان کی جگہ دوسروں کو کھڑا کیا۔ پھر انہوں نے بھی نافرمانی کی تو ان کو بھی اس طور پر نیست ونابود کیا وجعلنھم احادیث کہ انہیں قصہ کہانی یا افسانہ بنا کر رکھ دیا۔ ان کافرد واحد بھی دنیا میں زندہ نہ رہا اور قوم کا نام ونشان محض قصے کہانیوں میں محدود ہوکررہ گیا۔ لوگ تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ کسی زمانے میں فلاں قوم فلاں جگہ پر آباد تھی۔ آمدہ نسلوں نے ان کی بستیوں کے کھنڈرات میں سے ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ان کے آثار نکالے اور انہیں عجائب گھروں کی زینت بنادیا۔ فرمایا فبعدا لقوم لا یمومنون پس ہلاکت اور تباہی ہے ، خدا کی رحمت سے دوری ہے ایسی قوم کے لئے جس کے افراد ایمان نہیں لاتے۔
موسیٰ اور ہارون کی بعثت :
اللہ نے فرمایا کہ جب سابقہ ادوار گزر گئے ، نافرمانوں کو سزا مل چکی تو پھر آخر میں ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ھرون ، پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون (علیہما السلام) کو بھیجا بایتنا وسلطن مبین اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور یدبیضا جیسے واضح معجزات عطا فرمائے جن کا قوم کوئی جواب نہ دے سکی بلکہ آپ کا مقابلہ کرنے والے چوٹی کے جادو گر مغلوب ہوگئے اور وہ آپ پر ایمان لے آئے۔ الی فرعون وملائہ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دونوں بھائی تھے اللہ نے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور ان کی درخواست پر ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا کی۔ اللہ نے ان دونوں کو فرعون اور اس کے حواریوں کی طرف بھیجا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ابتدائی طور پر فرعون کی قبطی قوم کی طرف تھی اور آپ کو بنی اسرائیل کی آزادی اور ان کی اصلاح کے کام پر بھی مامور کیا گیا اس طرح آپ قبطی اور بنی اسرائیل دونوں کی طرف رسول تھے۔ اللہ نے فرمایا اذھب …………طغی (آیت 17) فرعون کی طرف جائو کہ وہ سرکش ہوچکا ہے اور اس نے انا ربکم الاعلی (النزعت 24) کا نعرہ لگایا ہے۔ اس نے خدائی کا دعویٰ کردیا ہے ۔ جاکر اس کو خدا کا پیغام سنائو اور توحید کی دعوت دو ۔ اللہ کے حکم کے مطابق جب اللہ کے دونوں نبی فرعون اور اس کی قوم کے پاس پہنچے ، انہیں توحید خالص کی دعوت دی۔
فاستکبروا تو انہوں نے تکبر کیا۔ اللہ کے نبیوں کو حقیر جانا اور ان کی دعوت کا مذاق اڑایا۔ اللہ نے فرمایا وکانوا قوما عالین یہ بڑے مغرور لوگ تھے ، اپنے آپ کو دوسروں سے بلندو برتر سمھتے تھے۔ فقالوا انومن لبشرین مثلنا کہنے لگے کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں پر ایمان لائیں۔ ہماری طرح یہ بھی کھاتے پیتے چلتے پھرتے اور دیگر لوازمات رکھتے ہیں۔ ان کو ہم پر کون سی برتری حاصل ہے بلکہ وقومھما لنا عبدون ان کی تو ساری قوم ہماری غلام ہے ہم ان بنی اسرائیل سے حسب منشا خدمت لیتے ہیں۔ بھلا ہم اپنے غلاموں کا کیسے اتباع کرسکتے ہیں ؟ فکذبوھما ، پس قوم نے اللہ کے دونوں نبیوں کی تکذیب کی ، ان کی بات ماننے سے انکار کردیا فکانوا من المھلکین ، اور ہوگئے وہ ہلاک ہونے والوں میں۔ تمام بڑے بڑے سرداروں ، ان کے باڈی گارڈوں اور دوسرے لوگ کو سمندر میں غرق کردیا گیا اور اللہ نے ان کو ذلت ناک سزا سے دوچارہ کیا۔
نبیوں کی بشریت لوگوں کے لئے ہمیشہ قابل اعتراض رہی ہے۔ کہتے تھے کہ یہ ہمارے جیسے انسان ہو کر ہمیں کیا سبق پڑھا سکتے ہیں ، انہیں ہم پر کون سی برتری حاصل ہے ؟ یہ بھی ہماری طرح پیدا ہوتے ، فوت ہوتے زندگی میں کاروبار کرتے ، چلتے پھرتے اور سودا سلف خریدتے ہیں ، ہم کس بنا پر انہیں نبی تسلیم کرلیں ؟ لوگوں کی بیوقوفی کی وجہ سے یہ چیز ایمان کے راستے میں ہمیشہ رکاوٹ بنی رہی ہے ، مگر ان لوگوں کو سمجھ ہوتی تو وہ بعثت انبیاء کو غنیمت سمجھ کر قبول کرتے ، ان کی بات کو سنتے ، سمجھتے اور پھر اس پر عمل پیرا ہوجاتے کیونکہ ان کی سلامتی کا یہی ایک واحد راستہ تھا۔ اللہ نے تو نبی بھیج کر ان پر خاص مہربانی فرمائی تاکہ وہ راہ حق کو پاکر ہمیشہ کی کامیابی حاصل کرلیں ، مگر اللہ کے اس فضل کو لوگوں نے از خود عیب بنالیا ، اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا بلکہ مخالفت کرکے جہنم رسید ہوگئے۔
تورات کا نزول :
پھر فرمایا وقلد اتینا موسیٰ الکتب ، اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا فرمائی۔ یہ بنی اسرائیل کے لئے خصوصی اور دوسرے لوگوں کے لئے عمومی سامان ہدایت تھا تاکہ لوگ اس پر عمل پیرا ہو کر منزل مقصود تک پہنچ جائیں اور انہیں فلاح حاصل ہوجائے۔ یہ اس دور کی عظیم الشان کتاب بھی جس کے لئے خود بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ سے قانون کی کوئی کتاب نازل کرنے کی درخواست کرو جس پر ہم آزادانہ ماحول میں عمل درآمد کرسکیں۔ اور اس کتاب کا مقصد یہ تھا لعلھم یھتدون تاکہ لوگ اس کے ذریعے ہدایت حاصل کرسکیں۔ اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ بنی اسرائیل نے اس کتاب پر کسی حد تک عمل درآمد بھی کیا مگر بعد میں انہوں نے اس میں تحریف کرکے اس کی اصل شکل و صورت کو مسخ کردیا۔ اس کی تفصیلات قرآن پاک میں مختلف مقامات پر موجود ہیں۔
حضرت مسیح (علیہ السلام) کا تذکرہ :
سلسلہ بنی اسرائیل کے آخری رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے لہذا اب آخر میں اللہ نے ان کا ذکر کیا ہے وجعلنا ابن مریم و امہ ایۃ ہم نے ابن مریم یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ یعنی حضرت مریم ؓ کو قدرت کی ایک اشانی بنا دیا۔ قرآن پاک میں مسیح (علیہ السلام) کو ابن مریم ؓ کے نام سے ہی موسوم کیا گیا اور مومن لوگ بھی آپ کو اسی نام سے یاد کرتے تھے یعیسی ابن مریم یعنی اے مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) مگر بعد میں عیسائیوں نے مشرکانہ عقیدہ اختیار کرلیا اور مسیح (علیہ السلام) کو کبھی خدا کہا ، کبھی خدا کا بیٹا اور کبھی تینوں میں تیسرا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس عقیدہ کی بار بار نفی کی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ آپ ایک پاکباز خاتون کے فرزند تھے۔ یہ دونوں قدرت کی نشانیاں بایں وجہ تھے کہ آپ کی پیدائش غیر معمولی طریقے سے مرد کی قربت کے بغیر ہوئی۔ اور حمل کا معمول کے مطابق نو ماہ عرصہ بھی نہیں گزرا ، جونہی فرشتے نے حضرت مریم ؓ کے گریبان یا آستین میں پھونک ماری ، آپ کو حمل ٹھہر گیا اور پھر چند گھنٹوں کے اندر اندر درد زہ شروع ہو کر عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوگئی۔ سورة المائدہ میں ہے وامہ ……………الطعام (آیت 75) آپ کی والدہ صدیقہ تھیں جو نبوت کے بعد سب سے بڑا درجہ ہے۔ کسی شخص کی نسبت اس کی ماں کی طرف کرنے کا مطلب واضح ہے کہ وہ ایک عورت کے بیٹے تھے نہ کہ خدا تعالیٰ کے۔ پھر آپ کی بشریت کا یہ بھی ثبوت ہے کہ دونوں ماں بیٹا کھانا کھاتے تھے۔ اگر خدا یا خدا کے بیٹے ہوتے تو لوازمات بشریہ سے پاک ہوتے۔ جب کھانا کھاتے تھے تو آپ کو بول وبراز کی حاجت بھی ہوتی تھی۔ یہ سب انسانی لوازمات ہیں جنہیں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا بڑی زیادتی کی بات ہے۔ بہرحال اللہ نے مختلف طریقوں سے یہ بات سمجھادی ہے کہ مسیح (علیہ السلام) انسان تھے اور ان میں الوہیت والی کوئی بات نہ تھی۔ اس میں عیسائیوں کے باطل عقیدے کا رد بھی ہوگیا۔
مقام ربوہ یارملہ :
پھر انہی ماں بیٹا کے متعلق فرمایا واوینھما الی ربوۃ ہم نے دونوں کو ایک اونچی جگہ پر ٹھکانا دیا۔ اور یہ ایسی جگہ تھی ذات قرار جو برابر تھی وبعین اور ستھرے پانی والی تھی۔ اس سے مراد مقام بیت اللحم ہے جہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی تھی۔ یہ اونچی مگر ہموار جگہ ہے۔ اور اس کے نیچے پانی کا چشمہ بھی تھا ۔ جب حضرت مریم ؓ بچے کی ناگہانی پیدائش پر پریشاں ہوگئیں تو اللہ نے فرشتے کے ذریعے تسلی دی اور کہا الا تحزنی………………عینا (مریم 24 تا 26) اس کھجور کے درخت کے نیچے چلی جائو۔ اس کے تنے کو ہلائو تو تازہ کھجوریں گریں گی ، نیچے پانی کا چشمہ ہے۔ ان کو کھائو پیو۔ اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ بہرحال بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ربوہ سے مراد آپ کی جائے پیدائش ہے۔
بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ ولادت مسیح کے زمانے میں ہیرو دوس نامی حاکم وقت کو نجومیوں نے بتایا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جو بڑا ہو کر تیری سلطنت چھین لگے گا۔ لہٰذا اس نے ایسے بچے کی تلاش کے لئے نگرانی شروع کردی۔ چناچہ بچے کی جان کے خوف سے حضرت مریم ؓ مسیح (علیہ السلام) کو ہمراہ لے کر شام سے مصر چلی گئیں۔ وہاں انہوں نے ایک اونچی بسی میں قیام کیا جس کے نیچے شفاف پانی کا چشمہ بھی جاری تھا۔ وہاں کے کسی زمیندار نے انکو دس بارہ سال تک بیٹی بنا کررکھا۔ اس دوران ظالم بادشاہ مر گیا اور مسیح علیہ اسلام بھی بچپن سے نکل کر جوانی میں پائوں رکھنے لگے ، تو آپ کی والدہ آپ کو لے کر واپس شام آگئیں۔ اس بستی کا نام بعض مفسرین نے رملہ بتایا ہے۔ امام ابن کثیر (رح) نے ایک حدیث بھی نقل کی ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے فرمایا کہ تیری موت ربوہ کے مقام پر واقع ہوگی۔ صحابہ فرماتے ہیں کہ اس شخص کو رملہ کے مقام پر موت آئی جو کہ مصر کے علاقے میں ایک اونچی جگہ ہے اور جس کی آب وہوا خوشگوار ہے اسلام کے ابتدائی دور میں یہ جگہ مسلمانوں کی چھائونی ہوا کرتی تھی ، اس کے قریب ایک نہر بھی بہتی ہے۔ اس واقعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ رملہ وہی مقام ہے جس کو قرآن پاک اور حدیث میں ربوہ کا نام دیا گیا ہے۔ بہرحال وہ بیت اللحم تھا یارملہ کی بستی تھی جس کے متعلق اللہ نے یہاں فرمایا ہے کہ ہم نے دونوں کو ٹھکانا دیا جب کہ دشمن ان کو ہلاک کرنا چاہتا تھا۔
قادیانیوں کا دجل :
تقسیر برصغیر کے بعدقادیانی ٹولہ جب قادبان سے پاکستان منتقل ہوا تو انہوں نے ضلح سرگودھا میں ایک جگہ کا انتخاب کرکے اپنا ہیڈ کو ارٹر وہاں منتقل کیا۔ ایک نئی بستی آباد کی اور اس کا نام ربوہ رکھا۔ اس نام سے وہ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ دیکھو ! ہم سچے ہیں ، ہماری بستی کا نام تو قرآن پاک میں موجود ہے۔ دراصل مرزائیوں کا سارا فلسفہ ممات مسیح پر چلتا ہے ۔ سب سے پہلے وہ مسیح (علیہ السلام) کی وفات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کیلئے وہ قرآن پاک بعض آیات کی صریحاً غلط تاویل کرتے ہیں۔ حدیث کے مطابق جب مسیح (علیہ السلام) کے قرب قیامت میں نزول کی بات کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ مسیح تو فوت ہوچکے ہیں ، اب جن کی آمد کی پیشین گوئی کی گئی ہے وہ مسیح (علیہ السلام) نہیں بلکہ تمثیل مسیح ہیں اور وہ مرزا غلام احمد کی شکل میں دوبارہ دنیا میں آچکے ہیں۔ چونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے ، اس لئے کبھی یہ مرزا قادیانی کو مثیل مسیح کبھی مہدی اور کبھی مکمل نبی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد نبوت کے سارے دعویدار کذاب ہیں۔ حضور ﷺ (ترمذی 323 (فیاض) کی پیشین گوئی بھی ہے کہ قیامت تک تیس بڑے بڑے دجال پیدا ہوں گے ۔ مگر یاد رکھو انا خاتم النبین لانبی بعدی میں سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والا ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ چناچہ اب تک جن دعویدارن نبوت کا تاریخ میں ذکر ملتا ہے ، ان میں مسیلمہ کذاب ، اسود عنسی ، بابک خرمی ، اسحاق اخرس خراسانی وغیرہ کے ناموں کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کا نام بھی شامل ہے۔ بہرحال یہ قادیانی گروہ ربوہ کے نام سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس کا سدباب حکومتی سطح پر ہونا چاہیے اور اس قسم کا دھوکا دینے والا نام بدل دینا چاہیے۔
Ayahs 23:51–56ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کا ذکر کیا اور بتایا کہ انہوں نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور توحید کی دعوت دی۔ پھر انبیاء کے تذکرے میں موقوں کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے فرعون کی سرکشی ، نافرمانی اور تکبر کا حال بیان کیا اور آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کا ذکر کیا۔ یہ دونوں ماں بیٹا اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اکثرقوموں نے محض اس لئے انبیاء کی تکذیب کی کہ وہ انسان تھے ، کہتے تھے ہم اپنے جیسے انسان کا اتباع کیسے کریں اور اسی بنیاد پر انہوں نے رسالت کا انکار کیا۔ پھر اللہ نے وقوع قیامت اور بعث بعدالموت کا ذکر کیا اور اسے برحق فرمایا۔ اللہ نے اس بارے میں بہت سے دلائل دیے جن سے اللہ کی توحید اور وقوع قیامت پر ایمان لانے کی ترغیب ملتی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس بارے میں شبہ کرنے والے لوگ غلط کار اور نادان ہیں۔
اکل حلال اور اعمال صالحہ :
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ملت کا ایک عام اصول بیان کیا ہے جو تمام انبیاء کی تعلیم میں مشترک ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الرسل کلوا من الطیبت واعلمو صالحا اے رسولو ! پاک چیز کھائو اور نیک اعمال انجام دو ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب تمام انبیاء سے کب ہوا ، اس کے متعلق مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ خطاب معراج کے موقع پر کیا گیا جب تمام انبیاء نے بیت المقدس میں حضور ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ بعض دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ یہ خطاب اس وقت کا ہے جب اللہ نے تمام انبیاء سے میثاق لیا جس کا ذکر سورة آل عمران میں ہے واذاخذ…………النبین (آیت 81) بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ خطاب سارے انبیاء کو اکٹھا نہیں کیا گیا تھا بلکہ ہر نبی کو اللہ نے اس کے زمانہ نبوت کے دوران میں حلال چیزیں کھانے اور نیک اعمال انجام دینے کا حکم دیا تھا ، تاہم اس کو اکٹھا ذکر کردیا گیا ہے۔ بہرحال ان دو باتوں کا حکم ملت کا ایک عام اصول ہے۔
دین ، ملت اور شریعت :
حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس کام کا حکم اللہ نے نبیوں کو دیا ہے۔ وہ حکم تمام مومنوں کے لئے بھی قابل عمل ہے کہ حلال چیزیں کھائو اور نیک کام کرو۔ گذشتہ دروس میں انبیاء کی یہ تعلیم اپنی اپنی قوم کے لئے گزر چکی ہے ان اعبدو…………غیر (آیت 32) لوگو ! اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ یہ دین کا اصول ہے جو ہر نبی نے اپنی امت تک پہنچایا۔ دین کے بڑے بڑے اصولوں میں توحید رسالت ، قیامت ، کتب سماویہ ، ملائکہ اور تقدیر پر ایمان لانا ہے جب کہ اکل حلال اور عمل صالح کا تعلق ملت سے ہے تمام انبیاء کا دین اور ملت ایک ہی ہے۔ سورة الانبیاء میں بھی وحت ملت انبیاء کا ذکر ہوچکا ہے ان ھذہ…………واحدۃ (آیت 92) اور یہاں بھی اگلی آیت میں یہی الفاظ آرہے ہیں۔ ملت میں کلی اصول ہوتے ہیں۔ چناچہ اخلاق کی پاکیزگی ، اکل حلال اور عمل صالح سارے نبیوں کے مشترک اصول ہیں۔ دراصل یہ تین چیزیں ملتی جلتی ہیں ایک دین دوسری ملت اور تیسری شریعت۔ دین میں بنیادی اصول ہوتے ہیں جو کہ تمام انبیاء کی تعلیم میں مشترک ہوتے ہیں۔ اور ملت میں کلی اصول ہوتے ہیں اور یہ بھی تمام انبیاء کی ملل کے لئے مشترک ہوتے ہیں۔ تیسری چیز شریعت ہے۔ جو ہر نبی کی الگ ہوتی ہے۔ اس میں جزیات ہوتی ہیں۔ بعض شرائع میں کوئی چیز حلال ہوتی ہے تو بعض میں حرام ہوتی ہے۔ اور ایک شریعت کے بعض احکام دوسری شریعت کے لئے منسوخ ہوجاتے ہیں۔ شریعت کو منہاج کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لکل……………ونھا جا (المائدہ 48) ہم نے ہر امت کے لئے علیحدہ علیحدہ منہاج یا شریعت مقرر کردی ہے اور پھر آخر میں اللہ نیحضور ﷺ سے خطاب کرکے فرمایا ثم جعلنک……………فاتبعھا (الجاثیۃ 18) ہم نے آپ کے لئے بھی ایک خاص شریعت مقرر کی ہے اس کا اتباع کریں ، اور لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ بہرحال اکل حلال اور عمل صالح ملت کے اصولوں میں سے ہیں ، اور یہ سارے نبیوں کے مشترک اصول ہیں اللہ نے سب انبیاء کو یہی حکم دیا ہے۔
امام حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے کسی چیز کے سیاہ وسفید رنگ کی بناء پر یہ حکم نہیں دیا بلکہ حلال چیز کو معیاری قرار دے کر اس کو کھانے کا حکم دیا ہے۔ حضرت نعمان بن توقل ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو مانوں ، رسالت کی گواہی دوں ، نماز ادا کرو ، زکوٰۃ دوں ، حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں ، تو کیا مجھے نجات حاصل ہوجائے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں۔ حلت و حرمت کے امتیاز کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا اور حلال و حرام کی تعریف یہ ہے۔ الحلال ما احل اللہ والحرام ماحرم اللہ حلال وہ چیز ہے جس کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حرام وہ ہے جس کو اللہ نے حرام کہا ہے۔
لفظ ” طیب “ کی تشریح :
طیب اس چیز کو کہا جاتا ہے جو حلال بھی ہو اور پاکیزہ بھی۔ بعض مقامات پر حللا طیبا (البقرہ 168) دونوں الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کھانا عام طور پر حلال بھی ہوتا ہے اور پاکیزہ بھی ، اور اگر اس میں بدبو پیدا ہوجائے تو طیب نہیں رتا بلکہ مکروہ تحریمی کے حکم میں آجاتا ہے۔ طیب ہونے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ اس کے ساتھ کسی کا حق متعلق نہ ہو۔ مثلاً اگر ایک مسروقہ بکری کو شرعی طریقہ سے ذبح کرکے اس کا گوشت پکایا جائے تو اس کا گوشت پاک تو ہے مگر طیب نہیں ہے۔ یا اگر کوئی طیب گوشت کو چور ی کرکے پکالے تو پھر بھی وہ طیب نہیں ہوگا۔ حرام چیز کے استعمال سے حرام خون پیدا ہوگا اور ایسی چیز کھانے سے عبادت بھی مقبول نہیں ہوگی۔ اسی طرح حرام لباس پہننے سے بھی عبادت نامقبول ہوگی۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اپنی کتاب حجۃ الل البالغہ میں فلسفہ اکل وشرب بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں ، یادرکھو ! انسان کی سعادت چار خصلتوں پر موقوف ہے اور وہ خصلتیں (1) طہارت (2) اخبات (3) سماحت اور (4) عدالت ہیں۔ اگر ان کی متضاد وخصلتیں پائی جائیں گی یعنی (1) نجاست (2) تکبر (3) خاست (4) ظلم تو وہ شخص شقی یا بدبخت ہوگا۔ سعادت مند شخص وہ ہوگا جس میں پہلی چار خصلتیں پائی جائیں گی۔ فرماتے ہیں کہ انسان کے جسم اور اخلاق پر خوراک سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر خوراک پاک ہوگی تو اخلاق بھی پاک ہوں گے۔ اور اگر خوراک ناپاک ہوگی تو انسان کے اخلاق بھی ناپاک ہوں گے۔ اسی لئے اللہ نے اپنے رسولوں اور ان کی معرفت تمام لوگوں کو حکم دیا کہ پاک چیزیں کھائو جو حلال بھی ہوں اور صاف ستھری بھی۔
باطنی نجاست :
نجاست ظاہری بھی ہوتی ہے اور باطنی بھی۔ اگر کھانے یا مشروب میں کوئی نجاست پڑجائے تو ظاہر ہے کہ وہ ناپاک ہو کر کھانے پینے کے قابل نہیں رہیگا ۔ یہ تو ظاہری نجاست ہے۔ اور باطنی نجاست یہ ہے کہ کوئی چیز غبر اللہ کی نیاز کے طور پر دی جائے۔ وہ بظاہر تو صاف ستھری ہوگی۔ مگر اس میں روحانی نجاست پائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کو قطعی حرام قرار دیا ہے انما حرم………………………لغیر اللہ (البقرہ 173) ان میں سے مراد میں ظاہری نجاست ہے۔ خون کے استعمال سے درندگی کی خصلت پیدا ہوتی ہے۔ اور خنزیر کے گوشت اور نذر لغیر اللہ میں روحانی نجاست پائی جاتی ہے جس سے دل اور رورح پلید ہوجاتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان (طحاوی ص 8 ج 1 (فیاض) ہے انجاس الناس علی انفسھم یعنی لوگوں کو نجاست ان کے نفسوں میں پڑی ہوئی ہے۔ شرک سے روح ناپاک ہوجاتی ہے۔ اسی لئے فرمایا فاجتنبو………الاوثان (الحج 30) بت پرستی کی گندگی سے بچو۔ یہ ۔۔۔ باطنہ کی گندگی ہے۔ جس شخص کا دل و دماغ اور روح ناپاک ہو وہ اللہ کی بارگاہ میں پہنچنے کے اہل نہیں رہتا۔ خدا کی بارگاہ میں تو اس کی رسائی ہوگی الامن…………سلیم (الشعرآء 89) جو قلب سلیم لے کر جائیگا ، ایسادل جس میں کفر ، شرک اور نفاق جیسی کوئی گندی چیز نہ ہو۔
اکل حلال اور صدق مقال :
اللہ نے سارے نبیوں اور اہل ایمان کو طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا ہے کلوا…………رزقنکم (طہ 81) جو روزی ہم نے تمہیں دی ہے اس میں سے طیب چیزیں کھائو یعنی جو حلال بھی ہوں اور صاف ستھری بھی ۔ حضور ﷺ کا (تفسیر ابن کثیر ص 247 ج 3 (فیاض) فرمان بھی ہے ان اللہ طیب لا یقبل الا طیبا اللہ تعالیٰ خود پاک ہے اور وہ صرف پاک چیز کو ہی قبول کرتا ہے۔ حرام مال سے صدقہ و خیرات قبول نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص مرنے کے بعد پیچھے حرام مال چھوڑ گیا ہے تو وہ اس کے لئے جہنم کا توشہ ہوگا۔ علامہ اقبال مرحوم نے بھی کہا ہے ؎
سر دین اکل حلال وصدق مقال
خلو وجلوت تماشائے جمال
دین کا راز ان دو چیزوں میں ہے یعنی اکل حلال اور صدق مقال۔ حلال چیز کھانا اور سچی بات کرنا۔ فرماتے ہیں کہ جلوت وخلوت میں اللہ ہی کی صفت ظاہر ہونی چاہیے۔ الغرض حلال بہت بڑی چیز ہے ۔ ” کشف الغمہ “ میں امام حسن بصری (رح) سے منقول ہے ، کاش مجھے خالص حلال روزی نصیب ہو تو میں اسے ہسپتالوں میں بیماروں میں تقسیم کروں۔ کیونکہ حلال خوراک میں اللہ نے شفا رکھی ہے بہرحال جہاں اللہ نے پاک اشیا کھانے اور نیک عمل کرنے کا حکم دیا ، وہاں یہ بھی فرمایا انی بما تعملون علیم بیشک میں تمہارے اعمال سے بخوبی واقف ہوں۔
فرقہ بندی :
ارشاد ہوتا ہے وان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ بیشک تمہارا دین اور ملت ایک ہی ہے وانا ربکم فاتقون اور میں تمہارا پروردگار ہو ، پس مجھ ہی سے اور میری نافرمانی سے بچتے رہو۔ اللہ نے سارے نبیوں کو ان کے اپنے اپنے دور میں یہی حکم دیا ، مگر بعد میں آنے والے لوگوں کی حایت یہ ہوئی فتقطعوا امرھم بینھم زبرا ، انہوں نے اپنے معاملات کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ دین کے بنیادی عقائد کو ترک کردیا۔ اس میں اپنی خواہشات کے مطابق محرمات اور مشکوکات کو داخل کردیا اور اس طرح بہت سے گمراہ فرقے بن گئے۔ سورة الانعام میں اللہ نے فرمایا ہے ان الذین………… ……شیء (آیت 160) جن لوگوں نے دین میں گروہ بندی کردی اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ فرقہ بندی یہی ہے کہ دین کے اساسی اصولوں کو ترک کردیاجائے یا ان کو غلط معنے پہنادیے جائیں اور یا پھر غلط عقیدے وضع کرلیے جائیں۔ اچھے اعمال کو چھوڑ کر غلط رسومات کو اختیار کرلینا بھی فرقہ بندی میں شامل ہے ۔ یہ ایک مہلک چیز ہے جس کی انتہا جہنم ہے۔ فرمایا اس تمام تر فرقہ بندی کے باوجو کل حزب بما لدیھم فرحون ہر گروہ اپنی اپنی بات پر خوش ہے کہ وہ ٹھیک راستے پر جا رہے ہیں۔ یادرکھو ! گمراہ فرقے وہ ہیں جن میں اساس دین کا بگاڑ ہے اس سے فروعات مراد نہیں ہیں کیونکہ فروعات میں توسع ہوتی ہے اگر اس میں اختلاف بھی ہوگا تو بنیاد بہرحال ایک ہی ہوگی۔ چناچہ مشہور مذاہب اربعہ یا محدیثین میں جو اختلاف ہوتا ہے وہ فرقہ بندی میں داخل نہیں۔ یہ سب لوگ ہدایت پر ہیں۔ یہودونصاری کی طرح عقیدے ، رسومات اور اعمال میں گڑ بڑ ہو تو یہ فرقہ بندی ہے جو کہ گمراہی ہے۔
فرمایا فذرھم فی غمرتھم حتی حین ، ان فرقہ پرست گمراہ لوگوں کو ایک مقررہ وقت تک ان کی غفلتوں میں چھوڑ دیں۔ یہ لوگ دنیا میں اپنا وقت گزار لیں۔ ایحسبون………………وبنین کیا یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کی مال واولاد کی صورت میں جو مدد کر رہے ہیں۔ نسارع لھم فی الخیرت تو کیا ہم ان کے لئے بھلائیوں میں سبقت کر رہے ہیں ؟ جب نافرمانی کے باوجود اللہ کسی کو مال واولاد میں برکت دیتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اللہ مجھ سے راضی ہے جبھی تو انعام واکرام ہو رہے ہیں۔ فرمایا ، یہ اس کی خام خیالی ہے سنستدر……………یعلمون (القلم 44) یہ تو استدراج ہے۔ ہم انہیں ایسے طریقے سے پکڑیں گے کہ انہیں خبر بھی نہ ہوگی واملی……… …متین (القلم 45) میں ان کو مہلت دیتا ہوں اور میری تدبیر بڑی قوی ہے اگر اس زندگی میں بچ بھی گیا تو آئندہ زندگی میں ضرور گرفت ہوگی۔ فرمایا ، یہ لوگ توحید کی بجائے شرک ، اعمال صالحہ کی بجائے اعمال فاسدہ اور عقائد حقہ کی بجائے عقائد باطلہ اختیار کرکے اور حلال و حرام کی تمیز سے صرف نظر کرکے سمجھ رہے ہیں کہ وہ ٹھیک راستے پر جا رہے ہیں۔ نہیں بلا لا یشعرون ، بلکہ ان کو تو شعورہی نہیں ہے۔ خدا مہلت دے رہا ہے اور یہ اپنی کارکردگی پر خوش ہو رہے ہیں۔ عنقریب پکڑے جائیں گے۔