23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 23:93–100

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے (اے پیغمبر ! ) اے میرے پروردگار ! اگر تو دکھا دے مجھے وہ چیز جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

اے میرے رب ! پس نہ کرنا مجھے ان لوگوں میں جو ظلم کرنے والے ہیں

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور بیشک ہم قادر ہیں اس پر کہ دکھادیں آپ کو جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

آپ برائی کا دفاع کریں اس خصلت کے ساتھ جو بہتر ہے ، ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ بیان کرتے ہیں

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے ، اے میرے پروردگار میں پناہ چاہتا ہوں تیری ذات کے ساتھ شیطانوں کی چھیڑ چھاڑ سے

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور میں پناہ چاہتا ہوں تیرے ساتھ اے میرے پروردگار ! اس بات سے کہ یہ (شیاطین) میرے پاس حاضر ہوں

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس پہنچتی ہے موت تو کہتا ہے ، اے میرے پروردگار ! مجھ کو واپس لوٹا دے

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

شاید کہ میں عمل کروں اچھا اس چیز میں جو میں نے چھوڑ دی ہے۔ خبردار ! یہ ایک بات ہے جس کو یہ شخص کہنے والا ہے۔ اور ان کے آگے برزخ (پردہ) ہے اس دن تک جس دن یہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور من کروں کا رد فرمایا اور دلائل توحید بیان فرمائے ۔ فرمایا کہ ارض وسما اور ان کے درمیان موجود ہرچیز اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت اور تصرف میں ہے۔ وہ کسی لاچار کو پناہ دے سکتا ہے ، مگر اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ فرمایا اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ یہ جھوٹے لوگ ہیں۔ پھر اللہ نے یہ فرمایا کہ اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کا کوئی حقیقی بیٹا ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی معبود ہے۔ اگر کوئی ہوتا تو ہر الٰہ اپنی اپنی پیدا کردہ چیز لے کر الگ ہوجاتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھائی کرکے غالب آنے کی کوشش کرتا۔ ایسی صورت میں نظام کائنات درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے اور شرک سے بالکل منزہ ہے۔ نیز جو لوگ دلائل توحید دیکھنے کے باوجود انکار کرتے ہیں ، وہ بلا شبہ سزا کے مستحق ہیں۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ منکرین کو جلدی سزا کیوں نہیں ملتی تو اللہ نے مختلف مقامات پر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ سزا کا ایک وقت معین ہے وہ اپنے قانون امہال کے مطابق جب چاہے گا سزا میں مبتلا کردے گا۔ بعض اوقات وہ شدید ترین مجرموں کو بھی فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا رہتا ہے اور پھر اچانک پکڑ لیتا ہے۔ یہ لوگ وقوع قیامت پر یقین ہی نہیں رکھتے تھے ، بلکہ کہتے تھے۔ ان ھی الا حیاتنا الدنیا (المومنین 37) یہ ہماری دنیا کی زندگی ہی ہے جس میں ہم مرتے اور جیتے ہیں۔ اس کے بعد کوئی دوسری دنیا نہیں ہے۔ جس میں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور حساب کتاب ہوگا۔ کہتے تھے کہ عالم برزخ عالم آخرت ، جنت دوزخ وغیرہ اساطیر الاولین یعنی پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو ہمارے سامنے دہرائی جارہی ہیں ، وگرنہ اس میں حقیقت کچھ نہیں اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگ سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔ پیغمبرکی دعا : بعض اوقات منکرین کی حد سے زیادہ سرکشی دیکھ کر پیغمبر اسلام (علیہ السلام) کو بھی خیال آتا تھا کہ یہ بدبخت گرفت میں کیوں نہیں آتے۔ ایسے حالات میں اللہ نے اپنے نبی کی اس طرح راہنمائی فرمائی۔ قل رب اما ترینی مایوعدون ، اے پیغمبر ! آپ اس طرح دعا کریں کہ اے میرے پروردگار ! اگر تو مجھے وہ چیز دکھا دے جس کا تو نے ان سے وعدہ کررکھا ہے۔ یعنی اگر میری زندگی میں ہی ان پر عذاب آجائے رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین ، اے میرے پروردگار ! نہ ٹھہرانا مجھے ان لوگوں میں جو ظالم ہیں ۔ یعنی جب تیرا عذاب آئے تو مجھے ان سے الگ کرلینا۔ حدیث شریف میں یہ دعا بھی سکھائی گئی ہے اے مولیٰ کریم ! اذا اردت بقرم فتنۃ فتوفنی الیک غیر مفتون ، جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنہ یا آزمائش کا ارادہ کرے تو مجھے ایسی حالت میں اپنی طرف اٹھالے کہ میں فتنے میں مبتلا نہ ہوں ، یہاں بھی اللہ نے اپنے نبی کو یہی دعا سکھلائی ہے کہ عذاب کے وقت آپ ان ظالموں سے علیحدگی کی درخواست کریں۔ بعض اوقات جب کوئی مصیبت آتی ہے تو پھر کسی خاص وعام کو نہیں چھوڑتی۔ منکرین اور اہل ایمان سب سب اس میں گرفتار ہوجاتے ہیں ۔ اس کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس دنیا میں تو بعض کو ناکردہ گناہ کی سزا بھی ملتی ہے۔ ثم یبعثون علی نیتھم ، مگر جب قیامت کو دوبارہ اٹھیں گے تو اپنی اپنی نیت اور عقیدے کے مطابق بعث ہوگی۔ اس دن اطاعت گزارلوگ اس سزا سے محفوظ ہوں گے۔ جس میں منکرین مبتلا ہوں گے فرمایا وانا علی ان نریک ما نعدھم لقدرون ، اور بیشک ہم اس بات پر قادر ہیں کہ آپ کو وہ چیزدکھادیں جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وعدہ تو نافرمانوں سے سزا کا ہی ہے اللہ نے فرمایا کہ ہم یہ سزا آپ کو آپ کی زندگی میں بھی دکھا سکتے ہیں۔ چناچہ بعض چیزیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی زندگی میں ہی دکھادیں۔ آپ کی حیات مبارکہ میں کفار ومشرکین کو ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں پے درپے شکست ہوئی حتیٰ کہ آپ کی زندگی میں ہی پورا جزیرۃ العرب مشرکوں سے پاک ہوگیا۔ سردارن مشرکین مارے گئے اور باقیوں نے اسلام قبول کرلیا۔ پھر آپ کے بعد خلفائے راشدین ؓ کے زمانے میں کفار ومشرکین مکمل طور پر مغلوب ہوگئے حتیٰ کہ دنیا بھر میں ایمان والوں کی طرف بری نظر اٹھا کر دیکھنے والا کوئی نہ رہا۔ برائی کا دفاع اچھائی کے ساتھ : ارشادہوتا ہے کہ مشرک لوگ آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے ہیں۔ آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر پریشان کرتے ہیں ، مگر ان کی برائی کا جواب برائی سے دینے کی بجائے ادفع بالتی ھی احسن والسیئۃ ، اس برائی کا دفاع نیکی اور اچھائی کے ساتھ کریں۔ مشرکین کی بداخلاقی کے مقابلے میں آپ نرمی اور خوش اخلاقی سے کام لیں کیونکہ اللہ نے بد اخلاقی کی اجازت کبھی نہیں دی۔ البتہ آپ تبلیغ دین کا کام کرتے رہیں اور اس میں کمی نہ آنے دیں۔ فرمایا ، آپ فکر نہ کریں نحن اعلم بما یصفون ، ہم ان کی کرتوتوں کو خوب جانتے ہیں۔ یہ لوگ جس قدر کینہ وبغض رکھتے ہیں ، طعن وملامت کرتے ہیں ، گالیاں دیتے ہیں اور اذیتیں پہنچاتے ہیں ، وہ سب ہمارے علم میں ہیں۔ ہم خود ان سے نپٹ لیں گے ، مگر آپ ان کی ہر برائی کا جواب نیکی کے ساتھ دیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ بھی نرم پڑجائیں گے ، آپ کا کام آسان ہوجائے گا اور پھر کامیابی بھی آپ ہی کے حصے میں آئے گی۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ جس چیز میں سختی داخل ہوجاتی ہے۔ وہ اس کو بگاڑ دیتی ہے ، اور جس چیز میں نرمی پائی جاتی ہے وہ اس کو زینت بخشتی ہے۔ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ہر کام کا اپنا اپنا مقام ہوتا ہے۔ تعلیم وتربیت کے معاملہ میں تو بلا شبہ نرم روئی ہی بہترین ہتھیار ہے مگر جہاں نفاذ حدود کا تعلق ہو ، وہاں کسی قسم کی نرمی روا نہیں بلکہ مجرم کو پوری پوری سزا دی جائے گی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ زانی مرد اور زانی عورت کو سو سو درے لگائو۔ ولا تاخذکم………………دین اللہ (النور 6) اور نفاذ دین کے معاملہ میں تمہیں ان پر کوئی ترس نہیں آنا چاہیے۔ یاد رہے کہ سو کوڑے مارنے کی سزا غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لئے ہے جبکہ شادی شدہ مردوزن کی صورت میں ان کی سزا سنگساری ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں بعض اوقات بعض نو مسلم صحابہ ؓ کی زبان سے بےادبی کی باتیں بھی نکل جاتی تھیں مگر حضور ﷺ نے ہمیشہ شفقت اور محبت کا اظہار کیا اور کسی کو سختی سے جواب نہیں دیا۔ حضرت معاویہ بن حکم سلمی ؓ سے بعض ایسی باتیں سرزد ہوگئیں تھیں مگر ان کو پیار سے ساری بات سمجھادی۔ آخر ان کو کہنا پڑا فو اللہ مارایت معلما قبلہ خدا کی قسم میں نے ایسا معلم پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ انہوں نے نہ مجھے ڈانٹا اور نہ برا بھلا کہا بلکہ میری ہر درشتگی کا جواب نہایت عمدہ طریقے سے دیا۔ اسی لئے فرمایا کہ آپ برائی کا دفاع اچھائی کے ساتھ کریں۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اے ابوذر ؓ ! اگر تم سے کوئی بداخلاقی یا برائی کی بات ہوجائے تو اس کو نیکی کے ساتھ مٹائو ، ہر برائی کے پیچھے نیکی لگادو۔ اگر ایسا کرو گے تو برائیاں خود بخود مٹتی چلی جائینگی۔ اور اگر برائی کا جواب برائی سے دو گے تو برائی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ تعوذ من الشیاطین : تبلیغ دین کے سلسلہ میں بعض اوقات بحث مباحثہ بھی ہوجاتا ہے اور پھر شیطان وسوسہ اندازی کرکے غصہ دلانے کی کوشش بھی کرتا ہے ، یہ شیطان کی چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ چونکہحضور ﷺ کو ایسے معاملات سے اکثر واسطہ پڑتا رہتا تھا ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے شیطان کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے آپ کو یہ دعا سکھلائی فرمایا ، وقل رب اعوذبک من ھمزت الشیاطین اے پیغمبر ! آپ اس طرح دعا کریں ، اے میرے پروردگار ! میں تیری ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں شیطانوں کی چھیڑ چھاڑ سے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے کہ شیطان سے ہر موقع پر استعاذہ کرنا چاہیے چناچہ آپ نے یہ استعاذہ بھی سکھلایا ہے اعوذ باللہ من الشیطن الرحیم من ھمزہ ونفخہ ونفثہ میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں شیطان مردود کی چھیڑ چھاڑ ، اس کے تکبر اور اس کے سحر سے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص بیت الخلا میں جاتا ہے تو شیطان اس کے اعضائے مستورہ سے کھیلتے رہتے ہیں ، اسی لئے آپ (بخاری ص 936 ج 2 (فیاض) نے فرمایا کہ بیت الخلا جاتے وقت اس طرح استعاذہ کرنا چاہیے اللھم انی اعوذ بک من الخبث والخبائث اے اللہ ! میں نر اور مادہ شیاطین سے تیری ذات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں۔ فرمایا ایک تو شیاطین کی چھیڑ چھاڑ سے پناہ مانگیں اور یہ بھی کہیں واعوذ بک رب ان یحضرون اے اللہ ! میں اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیاطین میرے پاس حاضر ہوں۔ نہ وہ میرے پاس آئیں گے اور نہ وسوسہ اندازی کریں گے ، لہٰذا میں شیطان کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ دنیا میں واپسی کی تمنا : فرمایا آپ دعوت دین کا کام کرتے رہیں ۔ اگر یہ لوگ نہیں مانیں گے تو پھر مرنے کے بعد انہیں سخت حسرت ہوگی۔ حتی اذا جاء احدھم الموت ، حتی کہ جب ان میں سے کسی کو موت آگئی تو ہر کافر ، مشرک اور نافرمان کہے گا۔ قال رب ارجعون اے پروردگار مجھے دنیا میں واپس لوٹا دے نافرمانوں کی یہ تمنا عالم برزخ میں بھی ہوگی اور اس خواہش کا اظہار وہ آخرت میں بھی کریں گے۔ سورة المنافقون میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے خرچ کرو پیشتر اس کے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ کہنے لگے کہ اے پروردگار ! تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی۔ فاصدق……………الصلحین (المنافقون 1) تاکہ میں صدقہ و خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا ، مگر ادھر سے جواب آئے گا۔ ولن …… …… اجلھا (آیت 11) مگر جب موت کا وقت آجاتا ہے۔ تو پھر خدا تعالیٰ کسی کو مہلت نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ کا عام قانون بھی یہی ہے فاذاجاء ………………(الاعراف 34) جب مقررہ وقت آجاتا ہے تو نہ ایک گھڑی دیر سکتے ہیں اور نہ جلدی۔ فرمایا جب ان لوگوں کو موت آجاتی ہے تو پھر یہ تمنا کرتے ہیں کہ مولیٰ کریم ! ہمیں واپس لوٹا دے لعلی اعمل صالحا فیما ترکت تاکہ میں کچھ نیک کام کرلوں اس چیز میں جو میں نے پیچھے چھوڑی ہے۔ پیچھے چھوڑی جانے والی چیزوں میں ایک تو ایمان ہے جس کو اس نے دنیا میں ہی چھوڑ دیا اور اس کو اختیار کرکے ساتھ نہ لایا اور دوسری چیز مال ہے جو وہ دنیا میں چھوڑ آیا ہے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرسکا۔ اب تمنا کرتا ہے کہ مولیٰ کریم۔ مجھے دنیا میں واپس بھیج تو میں تیری وحدانیت اور وقوع قیامت پر ایمان بھی لے آئوں گا ، اور تیرے دیے ہوئے مال میں سے تیرے راستے میں خرچ بھی کروں گا۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کلا خبردار ، یہ زجرا اور تنبیہ ہے ، تماری یہ خواہش ہرگز قبول نہیں ہوگی۔ انھا کلمۃ ھو قائلھا ، یہ ایک بات ہے جس کو وہ کہنے والا ہے۔ یہ اس کی تمنا ہی تمنا ہے ، محض آرزو ہے جو کبھی پوری نہیں ہوگی سورة انبیاء میں واضح کیا جاچکا ہے انھم لا یرجعون (آیت 95) کہ وہ دنیا میں واپس نہیں آسکیں گے جو ایک دفعہ چلا گیا ، اس کی واپسی ناممکن ہوگئی۔ برزخ کی زندگی : ارشاد ہوتا ہے ومن ورائھم برزخ ، اور ان کے آگے ایک پردہ ہے الی یوم یبعثون اس دن تک جب وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ مطلب یہ کہ اب انہیں قیامت تک اسی برزخی زندگی میں رہنا ہوگا۔ وراء کا لفظ اضداد میں سے ہے اور یہ آگے اور پیچھے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ جب اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو پھر پیچھے آنے کی خواہش تو پوری نہیں ہوگی ، البتہ ان کے آگے برزخ یا پردہ ہے۔ دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک۔ جب صوراسرافیل پھونکا جائیگا تو پھر سب دوبارہ جی اٹھیں گے ، اس وقت ان کے آگے پردہ ہے۔ عالم برزخ دنیا اور آخرت کا درمیانی جہان ہے۔ ان تینوں جہانوں کے احکام مختلف ہیں۔ مفسر قرآن حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ برزخ کا جہاں بقیۃ الدنیا یعنی اس دنیا کا باقی ماندہ حصہ ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) بھی برزخ کے متعلق فرماتے ہیں من بقاء ھذا العالم کہ یہ اس جہان کے بقایا میں سے ہے۔ وہاں کے مشاہدات صاف نظر نہیں آتے بلکہ ایسے نظر آتے ہیں جیسے کوئی جالی کے پیچھے سے دھندلی سی چیز نظر آئے ، پھر جب حشر برپا ہوگا ، اور عالم برزخ ختم ہوجائیگا تو پھر ہر چیز صاف نظر آنے لگے گی عالم برزخ میں بھی سزا اور جزا ملتی ہے۔ مگر وہ مکمل نہیں ہوتی بلکہ اصل سزا اور جزا کا کچھ نمونہ ہوتا ہے۔ امام ابن کثیر (رح) نے حدیث نقل کی ہے کہ عالم برزخ میں بعض ظالموں پر دو سانپ مسلط کردیے جاتے ہیں۔ ایک سر کی طرف سے کاٹتا ہے اور دوسرا پائوں کی طرف سے ، اور یہ عمل صوراسرافیل تک ہوتا رہے گا۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ بعض مجرموں پر ننانوے سانپ مسلط کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے ننانوے ناموں میں سے کسی ایک کو بھی یاد نہیں کیا ہوگا۔ شاہ صاحب (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ عالم برزخ میں انسان بالکل انفرادی زندگی گزارے گا۔ چونکہ انفرادی زندگی کے احکام مختلف ہوتے ہیں اس لئے برزخی زندگی میں بھی اسے عقیدے سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہی مفید ہوں گی۔ اگر دنیا میں اس کا عقیدہ اور فکر پاک تھی تو برزخ میں راحت حاصل ہوگی اور اگر اس میں خرابی تھی تو پھر سزا بھی ملے گی۔ حشر کے بعد جب سب لوگ دوبارہ جی اٹھیں گے ، تو پھر اجتماعی زندگی شروع ہوجائے گی۔ اس وقت کے احکام بھی مختلف ہوں گے۔ اس دن ہر قسم کے مجرموں کو ان کے جرائم کی نوعیت کے اعتبار سے علیحدہ علیحدہ قطاروں میں کھڑا کیا جائے گا۔ اس دن قطعی فیصلے ہوں گے اور ہر شخص کو اس کے عقیدے اور عمل کی بناء پر جزا یا سزا ملے گی۔
Ayahs 23:101–114

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جس وقت پھونک ماری جائیگی صور میں تو ان کے درمیان نسب (قرابتیں) نہیں ہوں گی اس دن ، اور نہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

پس جس شخص کے اعمال بھاری ہوں گے ، پس یہی لوگ ہیں فلاں پانے والے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کیا عمال ہلکے ہوں گے ، پس یہی لوگ ہیں جنہوں نے گھاٹے میں ڈالا اپنی جانوں کو اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

جھلس دے گی ان کے چہروں کو آگ ، اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا) کیا میری آیات تم کو پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ، پس تم ان کی تکذیب کرتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے ، اے ہمارے پروردگار ! ہم پر غالب آئی ہماری بدبختی ، اور تھے ہم لوگ گمراہ

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم کو نکال دے اس سے ، پھر اگر ہم لوٹ کر ایسی بات کریں گے تو ہم گنہگار ہوں گے

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

(اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا ، ذلیل ہوجائو اسی (دوزخ) میں ، اور نہ مجھ سے بات کرو

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

بیشک میرے بندوں میں سے ایک گروہ ایسا تھا جو کہتے تھے ، اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے ہیں پس بخش دے ہمیں ، اور رحم فرما ہم پر ، اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

پس ان کو بنا لیا تم نے ٹھٹا کیا ہوا ، یہاں تک کہ انہوں نے تم سے بھلا دیا میری یاد کو۔ اور تھے تم لوگ ان سے ہنسی اڑاتے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

بیشک میں نے ان کو بدلہ دیا ہے آج کے دن اس کا جو انہوں نے صبر کیا۔ بیشک وہ فائزالمرام ہونے والے ہیں

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

فرمائے گا (اللہ تعالیٰ ) کہ کتنی مدت تم ٹھہرے زمین میں گنتی کے سال

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

تو کہیں گے کہ ہم ٹھہرے ایک دن یا دن کا بعض حصہ۔ پس تو پوچھ گنتی والوں سے

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

فرمائے گا (اللہ تعالیٰ ) تم نہیں ٹھہرے مگر بہت تھوڑا عرصہ ، اگر تم کو کچھ سمجھ ہو

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی تردید فرمائی جو شرک میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ وقوع قیامت کا انکار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وقوع قیامت کے بعد اگر کوئی جزاء سزا کا تصور ہے تو پھر وہ سزا کیوں نہیں دی جاتی ؟ اللہ نے جواب میں فرمایا کہ اکثر بیشتر مجرموں کو دنیا میں مہلت ملتی رہتی ہے اور سزا اپنے مقررہ وقت پر ہی آتی ہے۔ پھر اللہ نے ایسے منکرین کا ذکر کیا کہ جب ان پر اس دنیا کا دور ختم ہوجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور اگلے جہان کے حالات منکشف ہونے لگتے ہیں تو پھر وہ اللہ کے سامنے تمنا کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے ، اب کہ وہ برے کاموں کی بجائے نیک کام انجام دیں گے ، شرک کی بجائے توحید کو اختیار کریں گے اور گمراہی کی بجائے ہدیات کے راستے پر چل نکلیں گے اللہ نے فرمایا ان کی یہ خواہش ہرگز پوری نہیں ہوگی ، بلکہ یہ لوگ قیامت کے دن تک دنیا اور آخرت کے درمیان عالم برزخ میں رہیں گے اور وہاں بھی انہیں سزا کا احساس ہوتا رہے گا۔ صوراسرافیل : اب اللہ نے وقوع قیامت کا حال بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ فاذانفخ فی الصور پس جب صور میں پھونکا جائے گا۔ یعنی برزخی زندگی ختم ہو کر آخرت کا دور شروع ہوگا۔ فلا انساب بینھم یومئذ اس دن مجرموں کے درمیان کوئی نسب اور قرابت داری نہیں ہوگی یعنی ایک دوسرے کا خاندانی لحاظ بھی نہیں ہوگا ، ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی۔ ولا یتسائلون اور نہ ہی وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ مطلب یہ کہ ایک دوسرے کا حال پوچھنے کی ہوش بھی نہیں ہوگی۔ صور پھونکنے کا ذکر قرآن پاک میں مختلف مقامات پر آیا ہے نفخہ صور دودفعہ واقع ہوگا۔ جب پہلی مرتبہ صور میں پھونکا جائے گا تو کائنات کی ہر چیز درہم برہم ہوجائے گی۔ پھر جب دوسری مرتبہ صور میں پھونکا جائے گا۔ تو ساری مخلوق دوبارہ زندہ ہوجائے گی اور پھر ان کا حساب کتاب اور جزاوسزاکا فیصلہ ہوگا۔ ان (مسلم 406 ج 2 بخاری ص 735 ج 2) دو نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ حدیث (ترمذی 466) میں آتا ہے کہ ایک شخص نے دریافت کیا ، حضور ! صور کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ ایک قرن یعنی سینگ جیی چیز ہے جس کا منہ ایک طرف سے تنگ اور دوسری طرف سے کشادہ ہے۔ تنگ حصہ فرشتے کے منہ میں ہے اور وہ اللہ کے حکم کے انتظار میں ہے کہ کب حکم ہوا اور وہ اس میں پھونک مار دے ، ترمذی شریف اور بعض دوسری کتابوں میں یہ حدیث (ترمذی ص 467 (فیاض) بھی آتی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، میں کیسے خوش رہ سکتا ہوں یا کیسے بےفکر ہوسکتا ہوں۔ جب کہ صور پھونکنے والا فرشتہ بالکل تیارکھڑا ہے ، منہ میں صور تھامے ہوئے ہے ، اس نے اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور اللہ کے حکم کا منتظر ہے ، یہ سن کر صحابہ کرام ؓ پریشان ہوگئے تو حضور ﷺ نے فرمایا قولواحسبنا اللہ ونعم الوکیل علی اللہ توکلنا خدا تعالیٰ کی طرف دھیان رکھو اور اس طرح کہو ، ہمارے لئے اللہ ہی کافی جو بہترین کارساز ہے اور ہم اسی پر بھروسہ کرتے ہیں مشکلوں کو آسان کرنے والی وہی ذات ہے۔ شیخ ابن عربی (رح) نے ایک کشفی روایت بیان کی جس کو محدثین بھی بیان کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نیحضور ﷺ سے دریافت کیا کہ صور کیا (عرف شذی ص 469 طبع رحمییہ دیوبند (فیاض) ہے تو آپ نے فرمایا تو آپ نے فرمایا کہ صور اتنا بڑا ہے کہ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینیں اس کے دھانے میں پڑی ہوئی ہیں۔ جب اس میں پھونک ماری جائے گی تو آسمانی کروں سمیت زمین وآسمان کی ہر چیز تہہ وبالا ہوجائے گی۔ زمین پر پہلے آہستہ آہستہ جھٹکے محسوس ہوں گے اور پھر تیز ہوتے جائیں گے حتیٰ کہ سب کچھ تہس نہس ہوجائے گا ، سمندر بھاپ بن کر اڑ جائیں گے ، پہاڑ ذرات کی شکل میں منتشر ہوجائیں گے ، حتیٰ کہ اللہ کے فرشتے بھی سخت گھبراہٹ کے عالم میں ہوں گے۔ اسے الطامۃ الکبریٰ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ خاندانی تعلقات کا انقطاع : فرمایا جب صور پھونکا جائے گا۔ فلا انساب بینھم یومئذ تو اس دن نسبی تعلقات اور خاندانی رشتے ختم ہوجائیں گے۔ لوگ آج جس حسب نسب پر غرور کرتے ہیں اس دن کچھ مفید ثابت نہیں ہوں گے۔ کوئی رشتہ دارکسی رشتے دار کے کام نہیں آئے گا۔ تمام تعلقات منقطع ہوجائیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ نسبی تعلقات فی الواقع باقی نہیں رہیں گے بلکہ وہ تو موجود ہوں گے مگر وہ کسی کام نہیں آسکیں گے۔ ولا یتساء لون اور ایک دوسرے سے سوال بھی نہیں کریں گے ، کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہوگا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ متذکرہ کیفیت کفار ومشرکین کے متعلق بیان کی گئی ہے ، وگرنہ اہل ایمان کی حالت مختلف ہوگی۔ واقبل……………یتساء لون (الطور 25) وہ تو ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں گے اور سوال و جواب بھی ہوں گے۔ اس آیت اور آیت زیردرس میں کچھ تعارض معلوم ہوتا ہے۔ ایک آیت میں ہے کہ ایک دوسرے سے کوئی سوال جواب نہیں ہوگا۔ جب کہ دوسری آیت میں ہے کہ ایسا ہوسکے گا۔ اس ضمن میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حشر کا دن ذوالوان ہے اور اس میں مختلف کیفیتیں پیش آئیں گی۔ یہ بڑا طویل دن ہوگا جو اس دنیا کی تقویم کے لحاظ سے پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ بعض مواقع ایسے آئیں گے کہ کوئی ایک دوسرے کو نہیں پہچانے گا اور نہ کلام کرسکے گا ، اور بعض مواقع پر جان پہچان بھی ہوگی ، پھر جب جنت میں پہنچ جائیں گے تو مومن کافر سب ایک دوسرے کہ پہچانیں گے ، جہاں تک آپس میں دوستی کا تعلق ہے ، فرمایا الاخلائ……………… …المتقین (الزخرف 67) اس دنیا میں دوستی کا دم بھرنے والے قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے البتہ ان متقین کی دوستی قائم رہے گی ، جنہوں نے دنیا میں اللہ کی رضا کی خاطر دوستی کی تھی۔ حضور ﷺ کا فرمان (تفسیر ابن کثیر ص 256 ج 3 (فیاض) ہے کہ قیامت والے دن تمام سلسلہ نسب ختم ہوجائے گا ، مگر میرے نسب کا سلسلہ قائم رہے گا۔ جو لوگ ایمان دار ہوں گے اور ان کا حضور ﷺ سے نسبی تعلق بھی ہوگا۔ ان کا سبب مفید ثابت ہوگا۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت علی ؓ کی صاحبزادی ام کلثوم سے نکاح کیا تھا اور ان کے بطن سے آپ کا ایک بچہ بھی پیدا ہوا تھا مگر ماں بیٹا ایک ہی دن فوت ہوگئے تھے۔ اس نکاح کے لئے آپ نے چالیس ہزار درہم حق مہر ادا کیا تھا۔ تو حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ بخدا مجھے اس پیرانہ سالی میں نکاح کی کوئی رغبت نہیں۔ میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ میں نے حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سنا ہے کہ قیامت کہ ہر قسم کا نسب ختم ہوجائے گا۔ الا نسبی وصھری سوائے میرے نسب اور سسرال کے کہ یہ سلسلہ قائم رہے گا۔ فرمایا میں نے حضور ﷺ کے ساتھ یہ سلسلہ نسب قائم رکھنے کے لئے نکاح کیا۔ بھاری اور ہلکے اعمال : میدان حشر میں جب جزائے عمل کی باری آئے گی تو سب کے اعمال تولے جائیں گے فمن ثقلت موازینہ پھر جن کے اعمال بھاری نکلیں گے ، فاولئک ھم الفلحون پس یہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے ومن خفت موازینہ اور جن کے اعمال ہلکے ہوں گے۔ فاولئک الذین خسرو انفسھم یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو گھاٹے میں ڈالا ہے فی جھنم خلدون یہ جہنم میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور وہاں ان کا حال یہ ہوگا تلفح وجوھھم النار ، آگ ان کے چہروں کو جھلس دیگی۔ وھم فیھا کالحون اور وہ اس دوزخ میں نہایت ہی بدشکل ہوجائیں گے ، حدیث شریف (ترمذی ص 371 (فیاض) میں آتا ہے کہ دوزخ کی آگ جب ان کے قریب آئے گی تو آدمی کا اوپر والا ہونٹ نصف پیشانی تک چلا جئاے گا اور نیچے والا ہونٹ ناف تک لٹک جائے گا۔ دانت کھل جائیں گے ، اور اس طرح وہ بدشکل بن جائے گا۔ مجرموں کا اعتراف گناہ : اللہ تعالیٰ ان مجرموں سے فرمائے گا الم تکن ایتی تتلی علیکم کیا میری آیتیں تمہیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں فکنتم بھا تکذبون پس تم ان کو جھٹلاتے تھے ، تمہیں ایمان کی باتیں سمجھائی جاتی تھیں ، احکام پڑھ کر سنائے جاتے تھے ، دلائل قدرت کا مشاہدہ کرایا جاتا تھا ، مگر تم مانتے ہی نہ تھے اور کہتے تھے کہ خدا نے کوئی کلام نازل نہیں کیا۔ تم رسالت کا انکار کرتے رہے ، وقوع قیامت کا انکار کیا اور اس طرح آیات الٰہی کو جھٹلاتے رہے ، اب دیکھو تمہارا کیا حشر ہورہا ہے ۔ اس وقت وہ لوگ اعتراف گناہ کریں گے قالوا ربنا غلبت علینا شقوتنا کہیں گے ، اے ہمارے پروردگار ! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی ہم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے وکنا قوما ضالین اور ہم یقینا گمراہ لوگ تھے۔ پھر درخواست پیش کریں گے ربنا اخرجنا منھا ، اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ایک دفعہ یہاں سے نکال دے۔ فان عدنا فانا ظلمون ، اگر ہم پلٹ کرنا فرمانی کریں گے تو یقینا ہم سخت گناہ گارہوں گے ، مطلب یہ کہ اب ہم ایمان لائیں گے ، شرک سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور نیک کام انجام دیں گے۔ ادھر سے جواب آئے گا قال اخسئوا فیھا ولا تکلمون ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اسی دوزخ میں ذلیل ہوجائو ، اور میرے ساتھ بات بھی نہ کرو ۔ امام زہری (رح) اور بعض دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ دوزخیوں کی چیخ و پکار اور اللہ کی طرف سے جواب آنے کے درمیان ایک ہزار سال کا وقفہ ہوگا۔ ہزار سال تک چیخنے چلانے کے بعد انہیں یہ جواب ملے گا۔ صاحب ایمان گروہ : یہ تو نافرمانوں کا حال تھا۔ آگے فرمایا انہ کان فریق من عبادی ، میرے بندوں میں ایک گروہ ایسا بھی تھا یقولون ربنا امنا ، جو کہتے تھے اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں۔ تیری توحید اور قیامت کو تسلیم کرلیا ہے فاغفرلنا ، لہٰذا ہماری غلطیاں معاف کردے۔ وارحمنا ، اور ہم پر رحم فرما۔ وانت خیرالرحمین ، کہ تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے ، فرمایا ، میرا یہ گروہ میرا اطاعت گزار تھا اور اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافی طلب کرتا رہتا تھا مگر تم نے اس گروہ کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ فاتخذ تموھم سخریا ، تم نے انہیں ٹھٹا و تمسخر کانشانہ بنایا۔ وہ مادی لحاظ سے کمزور تھے مگر صاحب ایمان تھے۔ تم کو مذاب کرتے رہتے تھے حتی انسوکم ذکری ، یہاں تک کہ انہوں نے تم کو میرے ذکر سے غافل کردیا۔ تم میرا ذکر کرنا ہی بھول گئے۔ صاحب ایمان لوگوں نے ذکر سے کیسے غافل کردیا ، مفسرین اس کی یہ توجیہہ بیان کرتے ہیں کہ منکرین اہل ایمان کو ٹھٹا تمسخر کرنے میں اس قدر منہمک ہوچکے تھے کہ انہیں اللہ کی یاد کے لئے وقت ہی نہیں ملتا ، وکنتم منھم تضحکون اور تم ان کی ہنسی اڑاتے تھے۔ اس مضمون کو سورة المطففین میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ واذا………مزون (آیت 30) جب وہ اہل ایمان کے قریب سے گزرتے تھے تو آنکھوں سے اشارے کرتے تھے۔ ایک دوسرے کو آنکھوں کے اسارے سے کہتے کہ دیکھو یہ جنت کے وارث اور حوروں کے خاوند جا رہے ہیں جن کے پاس نہ پہننے کو کپڑا ، نہ کھانے کو روٹی ، نہ رہنے کو مکان اور نہ سفر کے لئے سواری ہے۔ بہرحال اللہ فرمائے گا کہ تم وہ لوگ ہو جو میرے صاحب ایمان بندوں کو ٹھٹا اور تمسخر کیا کرتے تھے۔ ان کے صبر کی جزا : پھر اللہ فرمائے گا انی جزیتھم الیوم بما صبروا ، بیشک آج کے دن میں ان کو بدلہ دیا ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے تمہاری ایذاء رسانیوں پر صبر کیا۔ اور اس کا پھل یہ ہے انھم ھم الائزون ، بیشک یہی لوگ فائز المرام ہونے والے ہیں۔ صبر بہت بڑا اصول ہے جس کا نتیجہ آگے چل کر ظاہر ہوگا۔ ملت ابراہیمیہ کے بڑے بڑے اصولوں میں سے صبر بھی ایک اہم اصول ہے۔ صاحب ایمان لوگوں نے صبر کیا ، تکالیف کو برداشت کیا تو اللہ نے انہیں کامیابی کا مژدہ سنایا۔ اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا حال بھی بیان فرمایا کہ وہ دنیا میں کچھ کرتے رہے ، پھر برزخ میں ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا اور حشر میں ان کی کیا حالت ہوگی۔ اسی طرح اہل ایمان کے اچھے انجام کو بھی بیان فرمادیا۔ زندگی کا قلیل عرصہ : اس دن اللہ تعالیٰ مجرموں سے بھی پوچھے گا۔ قل کم لبثتم فی الارض عدد سنین تم زمین میں کتنے سال تک ٹھہرے۔ دنیا میں رہ کر تو عذاب کے جلدی لانے کا مطالبہ کرتے تھے اور کہتے تھے متی… …………صدقین (الملک 25) یہ وعدہ کب پورا ہوگا ۔ قیامت کب آئیگی۔ اور جزائے عمل کی منزل کب شروع ہوگی ؟ اب ذرا بتلاء کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ رہے جو اس طرح کے مطالبات پیش کرتے تھے۔ ان کا جواب ہوگا۔ قالوا لبثنا یوما او بعض یوم ، کہ ہم دنیا میں ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے۔ اس دنیا کی پج اس ، ستر یا سو سالہ زندگی انہیں ایک دن کے برابر محسوس ہوگی۔ اس میں برزخ کا عرصہ بھی شامل کرلیں تو بھی وہی تصور ہوگا کیونکہ آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں دنیا اور برزخ کی زندگی بالکل قلیل معلوم ہوگی۔ فرمایا فاسئل العادین ، اگر تمہیں اپنی دنیوی زندگی کا شمار یاد نہیں تو شمار کنندہ فرشتوں سے پوچھ لو۔ وہ تو تمہارا ایک ایک لمحہ شمار کرتے رہے ہیں۔ اور تمہارے ہر نیک اور بد افعال کا ریکارڈ مرتب کرتے رہے ہیں ان سے پوچھ لو۔ وہ تمہیں ٹھیک ٹھیک بتادینگے کہ تم دنیا میں کتنا عرصہ رہے۔ ارشاد ہوگا ، حقیقت یہ ہے قل ان لبثتم الا قلیلا تم نے دنیوی اور برزخی زندگی میں بہت تھوڑا عرصہ گزارا ہے لو انکم کنتم تعلمون ، اگر تمہیں کچھ سمجھ بوجھ ہے۔ دنیا کی اتنی قلیل زندگی کو تم نے لہو ولعب ، کفر وشرک اور نافرمانی میں ضائع کریدا فما ربحت تجارتھم (البقرہ 16) اس تجارت نے تمہیں کچھ نفع نہ دیا۔ تمہیں اس عرصہ میں ایمان اور اچھے اخلاف کو نہ خریدا۔ اور زندگی کی اس قلیل پونجی کو ضائع کردیا۔ اس زندگی کی مثال برف کی ڈلی کی ہے ۔ جس پر اوپر بھادوں کی تپش ہو۔ جس طرح یہ برف جلدی پگھل جائیگی اسی طرح تمہاری زندگی بھی جلدی ختم ہونے والی ہے ، لہٰذا اس کا صحیح استعمال کرکے آخرت میں اپنا مقام پیدا کرلو ، ورنہ آگے خالی ہاتھ جانا پڑے گا۔
Ayahs 23:115–118

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم گمان کرتے ہو کہ بیشک ہم نے پیدا کیا ہے تم کو فضول۔ اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جائو گے

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

پس بلند ہے اللہ تعالیٰ جو سچا بادشاہ ہے۔ نہیں ہے کوئی معبود اس کے سوا ، وہ عزت والے عرش کا مالک ہے

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص پکارتا ہے اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہ کو ، نہیں ہے اس کے لئے کوئی دلیل۔ پس بیشک اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے ، بیشک نہیں فلاح پائیں گے کفر کرنیوالے

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیجئے ، اے پروردگار ! بخش دے اور رحم فرما ، اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی ضد ، ہٹ دھرمی اور ان کے انجام کا ذکر فرمایا۔ اس سورة کی ابتداء بھی توحید اور معاد کے مضمون سے ہوئی تھی۔ اور اب اختتام بھی اسی پر ہورہا ہے۔ درمیان میں اللہ نے انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ اور کفار ومشرکین کی بدسلوکی کا ذکر فرمایا ، اور توحید کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ قیامت اور محاسبہ کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا۔ اب آخر میں پھر قیامت اور جزائے عمل کا خصوصی ذکر فرمایا ہے۔ انسان مکلف ہے : ارشاد ہوتا ہے افحسبتم انما خلقنکم عبثا ، کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے ؟ عبث کا معنی باطل ، مہمل ، بےکار ، بےسودبافضول ہے۔ سورة القیمۃ میں ہے ایحسب………… …سدی (آیت 36) کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ نہیں بلکہ یہ خیال ہی باطل ہے کہ انسان سے باز پرس نہ ہو۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ انسان کو بالکل کھلا چھوڑ دیا جائے ، وہ نہ کی حلال حرام کا پابند ہو ، نہ امرونہی کا اور نہ نیکی بدی کا ، جب وہ کسی چیز کا پابند نہیں ہوگا ، تو پھر اس سے باز پرس بھی نہیں ہوگی۔ ایسا نہیں ہے ، بلکہ ہر انسان قانون خداوندی کا پابند ہے اور پھر اس کا محاسبہ بھی ہوگا کہ اس نے قانون قدرت کی کس حد تک پابندی کی ہے۔ یہ صرف انسان کی بات نہیں بلکہ جہاں اللہ نے زمین وآسمان کی تخلیف کا ذکر کیا وہاں فرمایا ربنا…… …باطلا (آل عمران 191) اے ہمارے پروردگار تو نے یہ سب کچھ بیکار محض نہیں پیدا کردیا۔ گویا پوری کائنات کی تخلیق بھی مبنی برحکمت الٰہی ہے۔ فرمایا کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں بےکار پیدا کیا وانکم الینا لا ترجعون ، اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جائو گے ؟ ظاہر ہے کہ اگر انسان کی تخلیق بےمقصد ہے تو پھر اس کے محاسبے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ اسے اللہ کے پاس لوٹائے جانے کی ضرورت ہے یہ باطل خیال ہے۔ ہر چیز کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے منشا اور حکمت کے مطابق عمل میں آئی ہے۔ اللہ نے انسان کو ایک پروگرام دے کر دنیا میں بھیجا ہے۔ اس سے اس کی کارکردگی کی بازپرس ضروری ہے اور اس کے لئے اس کا واپس لوٹایا جانا بھی ضروری ہے۔ الغرض ! اللہ نے انسان کو مکلف یعنی قانون کا پابند بنایا ہے لہٰذا وہ سب کو اپنے پاس اکٹھا کریگا ، پھر حساب کتاب کی منزل آئیگی اور جزا وسزا کا فیصلہ ہوگا۔ ملکیت اور بہمیت کی کشمکش : امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی حکمت (حجۃ اللہ البالغہ ص 19 (فیاض) کے مطابق بیان کرتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں ملکیت اور بہیمیت دو قوتوں رکھی ہیں۔ ملکیت سے فرشتوں جیسی پاکیزہ خصلتیں مثلاً اللہ کے سامنے عجزونیاز مندی ، عدل و انصاف ، عبادت و ریاضت ، خود غرضی اور کمینی باتوں سے اجتناب وغیرہ شامل ہیں جب کہ بہیمیت میں کھاناپینا ، اولاد پیدا کرنا ، خواہشات کی تکمیل ، جسم کا بنائو سنگھار ، آرام و راحت وغیرہ خصائل شامل ہیں۔ گویا انسان ملکیت اور بہیمیت کی کشمکش کا نام ہے ، انسانی فطرت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس میں صفت ملکیت غالب اور بہیمیت مغلوب ہو ، اور پھر اس کا نتیجہ بھی ظاہر ہو۔ شاہ صاحب (رح) مثال کے ذریعے سمجھاتے ہیں کہ گائے بھینس ، بھیڑ ، بکری وغیرہ جب تک گھاس یا چارہ کھاتے ہیں ان کا بہیمی مزاد درست رہتا ہے۔ وہ کام بھی کرتے ہیں اور دودھ بھی دیتے ہیں ، اگر یہی جانور گھاس کی بجائے گوشت کھانے لگیں تو یہ ان کی فطرت کے خلاف ہوگا اور ان کا مزاج بگڑ جائے گا۔ اسی طرح درندوں کی فطری خوراک گوشت ہے۔ جب تک گوشت کھاتے رہیں گے ان کا مزاج درست رہیگا۔ اگر شیر ، چیتا ، بھیڑیا وغیرہ گوشت کی بجائے گھاس چرنے لگیں تو ان کا مزاج بگڑ جائیگا۔ انسان کے مزاد کی مثال بھی ایسی ہی ہے جب تک وہ طہارت ، سماحت ، عبادت ، ریاضت اور فکر کی پاکیزگی جیسے کام کرتارہتا ہے تو اس کا ملکی مزاج بالکل ٹھیک رہتا ہے۔ اور جونہی وہ نجاست ، تکبر ، خود غرضی ، ظلم وجور وغیرہ کو اختیار کرتا ہے تو اس کا مزاج خراب ہوجاتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ بھی غلط ہی نکلتا ہے۔ الغرض ! اللہ نے انسان کو ملکیت اور بہیمیت کا مزاج بخشا ہے۔ اللہ نے اس میں مکلف بننے کی صلاحیت رکھ دی ہے۔ اور یہی اس کا کمال ہے۔ گویا اللہ نے انسان کو فطری طور پر مکلف بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک جیسی امانت کو ارض وسما اور پہاڑوں نے تو اٹھانے سے انکار کردیا مگر وحملھا الانسان (الاحزاب 72) انسان نے اس کو اٹھایا۔ جب انسان مکلف ٹھہرا تو پھر اس پر جزائے عمل بھی آئے گا ، وہ پیدا ہوا ہے تو موت سے بھی ہمکنار ہوگا ، اس کے ذمے قانون کی پابندی بھی لازم آئیگی۔ اگر وہ اس میں ناکام رہے گا تو خطیرۃ القدس جیسے پاک مقام کا ممبر نہیں بن سکے گا ، گویا اس کی ترقی کا راز اس کے معلف ہونے میں ہے ، لہٰذا یہ خیال باطل ہے کہ اللہ نے اس فضول پیدا کیا ہے اور یہ کہ وہ اس کی طرف نہیں لوٹائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ : فرمایا فتعلی اللہ الملک الحق ، پس بلندو برتر ہے اللہ کی ذات جو سچا بادشاہ ہے۔ ایسی بلند ہستی بھلا فضول کام کیسے کرسکتی ہے ، وہ حکیم ہے اور اس کا ہر فعل مبنی برحکمت ہے۔ تو اللہ نے انسان کو بیکار پیدا نہیں کیا۔ بلکہ اسے مکلف بنا کر اس کے لئے ترقی کا دروازہ کھول دیا ہے تاکہ وہ قانون کی پابندی اختیار کرکے اپنے لئے اعلیٰ مقام حاصل کرسکے۔ فرمایا لا الہ الا ھو نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی اللہ۔ اس کے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں ، کوئی نافع ضار ، قدار مطلق ، علیم کل ، ہمہ دان ، ہمہ بین اور ہمہ تو ان نہیں ہے۔ کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جس کی قولی ، فعلی ، مالی ، جسمانی اور روحانی عبادت کی جائے ، عبادت انتہائی درجے کی تعظیم کا نام ہے۔ جو اس اعتقاد کے ساتھ کی جاتی ہے کہ معبود میرے حالات کو جانتا ہے میری بگڑی بناسکتا ہے ، خالق اور مالک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ اس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ رب العرش الکریم ہے یعنی عزت والے عرش کا مالک ہے۔ گزشتہ آیات میں عرش عظیم کے الفاظ بھی گزر چکے ہیں اور اب عرش کریم سے یاد کیا گیا ہے ، عرش کا تصور دو صورتوں میں سامنے آتا ہے۔ ایک یہ ہے کہ عرش الٰہی بہت بڑا ہے اور ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اس کے مقابلہ میں ایک کٹرے کی حیثیت رکھتی ہیں جو کسی بہت بڑے میدان میں پڑاہو۔ گویا عرش عظیم تمام کائنات پر محیط ہے۔ عرش کا دوسرا تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی سلطنت کا مالک ہے ، ایسی سلطنت جو ساری کائنات اور اس سے بھی پرے تک محیط ہے۔ جس مالک الملک کی سلطنت اتنی وسیع ہے وہ اپنے وفاداروں کو اعلیٰ بدلہ اور غداروں کو سخت سزا بھی دے گا۔ ان سب کو جزائے عمل کی منزل سے گزرنا پڑے گا۔ توحید باری تعالیٰ : آگے اللہ نے پھر توحید کے مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس سورة مبارکہ کا اہم مضمون ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ومن یدع مع اللہ الھا اخر اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو پکارتا ہے یعنی اس سے اپنی حاجات طلب کرتا ہے ، لا برھان لہ بہ اس کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ کسی مشرک اور کافر کے پاس کفر وشرک کی صحت پر کوئی دلیل نہیں سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں بل نتبع ما الفنا علیہ اباء نا (البقرہ 170) ہم نے اپنے آبائو اجداد کو اسی طریقے پر پایا ہے۔ یہ جاہلانہ دلیل ہے جسے اندھی تقلید کہا جاتا ہے جب آبائواجداد بےعقل اور غیر ہدایت یافتہ ہوں تو پھر ان کی راہ پر چلنا بجائے خود بےعقلی کی دلیل ہے اس کے برخلاف اللہ کی وحدانیت کی کروڑوں دلیلیں موجود ہیں۔ اس سورة میں بھی اللہ نے سمع وبصر ، زندگی اور موت ، زمین پھیلائو۔ وغیرہ جیسی عقلی دلیلیں پیش کی ہیں۔ عقلی دلیل کا مطلب یہی ہے کہ مشاہدات قدرت میں غور وفکر کرو گے تو اللہ کی وحدانیت خود بخودسمجھ میں آئے گی۔ پتہ چلے گا کہ ہر شے کا خالق ، مالک اور متصرف اللہ ہی ہے۔ جہاں تک نقلی دلائل کا تعلق ہے اللہ کے ہر نبی نے یہی کہا ہے یقوم…………… …غیرہ (المومنون 23) اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمام انبیاء اور تمام صلحاء نے یہی تعلیم دی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا اور حاجت روا نہیں ہے ، کوئی موت وحیات کا مالک نہیں۔ اس کے علاوہ نہ کوئی شفا دے سکتا ہے اور نہ کوئی ترقی وتنزل کرسکتا ہے۔ فرشتوں کے حالات میں بھی یہی چیز ملیگی کہ اللہ کے سوا معبود نہیں۔ مگر مشرک کے پاس سوائے اندھی تقلید کے کوئی دلیل نہیں ہے۔ محاسبہ اعمال : فرمایا فانماحسابہ عند ربہ ایسے کافر ومشرک کا حساب اس کے اللہ کے پاس ہے۔ جب وہ اللہ کی عدالت میں پیش ہوگا تو پھر پتہ چلے گا اس نے دنیا میں جاہلانہ دلیل کی بنا پر شرک کا راستہ اختیار کیا ، جب وہ حساب کتاب کے لئے پیش ہوگا تو ضرور گرفت میں آئے گا۔ فرمایا انہ لا یفلح الکفرون ، بیشک کفر کرنے والے فلاں نہیں پائیں گے ، جس نے توحید ، رسالت ، معاد ، کتب سماویہ ، رسل اور ملائکہ کا انکار کیا وہ کافر بن گیا اور وہ ہمیشہ نامرادر ہے گا۔ اس حصہ آیت کو سورة ہذا کی ابتدائی آیت کے ساتھ ملا کر پڑھیں وہاں تھا قد افلح المومنون تحقیق ایمان والے فلاح پاگئے اور پھر آگے ان کی صفات بیان کی گئی ہیں اور یہاں ارشاد ہے انہ لا یفلح الکفرون اللہ تعالیٰ کافروں کو فلاح سے ہمکنار نہیں کرے گا۔ کافروں کو فلاح نصیب نہیں ہوگی۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی دھوم دھام اور شور وشر سے گزار لیں۔ مگر انہیں برزخ اور آخرت کی فلاح ہرگز نصیب نہیں ہوگی۔ اس طرح اس سورة کی ابتداء اور انتہا آپس میں مربوط ہوگئی ہے۔ فرمایا وقل رب اغفر اے پیغمبر ﷺ ! آپ اس طرح دعا کریں کہ اے میرے پروردگار ! ہمیں بخش دے ، ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف فرمادے وارحم اور ہم پر رحم فرما ، اپنی رحمت نازل فرما ، ہمیں کسی ابتلایا بدعقیدگی میں مبتلا نہ کر ، کفر وشرک سے نجات دے اور ہماری حالت پر رحم فرما کیونکہ وانت خیرالرحمین تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ تجھ سے بڑھ کر کوئی مہربان نہیں۔ آخری آیات کے فضائل : یہ آخری آیات بہت بڑی فضیلت کی حامل ہیں ، اس لئے مفسرین کرام اور بزرگان دین فرماتے ہیں کہ ان آیات کو ہر روز کم از کم دو دفعہ پڑھ لینا چاہیے۔ صاحب روح المعانی ، حکیم ترمذی نے اپنی کتاب نوادرا الاصول میں اور صاحب حلیۃ الاولیاء نے اپنی کتاب میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سورة ہذا کی یہ آخری چار آیات (افحسبتم…الخ) پڑھ کر ایک جنون زدہ آدمی کو پھونک ماری تو اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دیدی۔ جب یہ واقعہ حضور ﷺ کے گوش گزار کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا۔ لوان موقنا یعنی اگر کوئی کامل الایقان والیقین آدمی ان آیات کو پڑھ کر پہاڑ پر پھونک دے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائے گا۔ بہرحال یہ بڑی فضیلت والی آیات ہیں۔ جنہیں بطور وردصبح شام پڑھا جاسکتا ہے۔