22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 22:1–4

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

اے لوگو ! ڈرو اپنے پروردگار سے بیشک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس دن تم دیکھو گے اس کو بھول جائے گی ہر دودھ پلانے والی جس کو وہ دودھ پلاتی ہے ، اور ڈال دے گی ہر حمل والی اپنا حمل ، اور تو دیکھے گا لوگوں کو نشے کی حالت میں حالانکہ وہ نشے کی حالت میں نہیں ہوں گے۔ لیکن اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم کے ، اور پیروی کرتے ہیں وہ شیطان سرکش کی

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

اس پر لکھ دیا گیا ہے کہ بیشک جو شخص اس سے دوستی کرے گا ، پس شیطان اس کو بہکاتا ہے اور اس کو لے جاتا ہے دوزخ کے عذاب کی طرف

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة الحج ہے۔ چونکہ اس میں حج اور قربانی کا ذکر ہے۔ اس لئے سورة کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی یا مدنی زندگی میں۔ مکی زندگی میں صبر کرنے ، جماعت کو مضبوط بنانے ، نماز قائم کرنے اور اخلاقی اور اعتقادی تعلیم پر زور دیا گیا تھا ، اور حج کی فرضیت اور جہاد کی مشروعیت مدنی دور میں ہوئی ، اسی لئے بعض مفسرین اس سورة کو مدنی سورة کہتے ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سورة کی زیادہ ترآیات مکی زندگی میں نازل ہوئیں اور چھ آیات یا کم وبیش مدنی دور میں نازل ہوئیں۔ اس لحاظ سے اس سورة کو مکی اور مدنی دور کا مرکب بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم بعض اسے مکی اور بعض مدنی سورة کہتے ہیں۔ اس سورة مبارکہ کی اٹھتر آیات اور دس رکوع ہیں۔ یہ سورة 1291 الفاظ اور 5235 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تربنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معا د اور وحی الٰہی کا بیان ہے۔ سابقہ سورة الانبیاء میں شرک کی تردید اجمالی طور پر کی گئی تھی۔ جب کہ یہاں پر اس کا ذکر تفصیل کے ساتھ آئے گا۔ گذشتہ سورة میں گزرچکا ہے کہ ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف اسی بات کی وحی کی گئی ، انہ لا…………فاعبدون (الانبیائ 25) کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، لہٰذا صرف میری ہی عبادت کرو۔ اب اس سورة میں شرک کی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ عقیدے میں بھی ہوتا ہے اور عمل میں بھی اکثر لوگ غیر اللہ کے تقرب اور اپنی مرادوں کے حصول کے لئے منتیں مانتے ہیں اور نذر ونیاز پیش کرتے ہیں ، یہی عمل شرک ہے۔ اس سورة میں اعتقادی شرک کا رد بھی کیا گیا ہے اور توحید کو واضح کیا گیا ہے اس کے علاوہ قیامت اور جزائے عمل کا بیان ہے۔ خانہ کعبہ کی تعمیر اور حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے ذریعے حج کا اعلان بھی اسی سورة میں مذکور ہے۔ قربانی ، اس کی مشروعیت اس کا فلسفہ اور بعض احکام بھی ہیں۔ اللہ نے جہاد کی مشروعیت اور اس کی حکمت بھی بیان فرمائی ہے۔ نماز کا تذکرہ اور نیکی کے بعض دوسرے امور کا بیان ہے ۔ کفر ، شرک ، معاصی اور بداعمالی کے انجام سے تخویف بھی دلائی گئی ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط : گزشتہ سورة کے آخری رکوع میں وقوع قیامت کا ذکر تھا یوم نطوی السماء جس دن ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے ، قیامت واقع ہوجائے گی تو اس دن بڑی گھبراہٹ ہوگی۔ سوائے اللہ کے مقربین کے کہ وہ اس گھبراہٹ سے مامون رہیں گے۔ اب اس سورة مبارکہ کی ابتداء بھی قیامت کی ہولناکی سے کی گئی ہے ان زلزلۃ الساعۃ ، شیء عظیم یعنی قیامت کا زلزلہ بڑی عظیم چیز ہوگی جس دن تمام کائنات درہم برہم ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرایا ہے بہرحال یہ تمام بنیادی عقائد اور بعض ضروری احکام اللہ نے اس سورة میں بیان کیے ہیں۔ قیامت کا زلزلہ : سابقہ سورة کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ میری طرف اس بات کی وحی کی گئی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ پس کیا تم فرمانبرداری کرنیوالے ہو اور اگر یہ لوگ اس بات سے روگردانی کریں ، تو آپ کہہ دیں کہ میں نے تو تم کو برابر سرابر خبردار کردیا ہے۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ جزاء عمل کا وقت قریب ہے یا بعید ، اس کا علم تو اللہ کے پاس ہی ہے۔ اب اسی تسلسل میں یہاں ارشاد ہوتا ہے یایھا الناس اتقوا ربکم اے لوگو ! اپنے پروردگار کی گرفت سے ڈر جائو ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم ، بیشک قیامت کا زلزلہ ایک بہت بڑی چیز ہے۔ جس دن قیامت برپا ہوگی ، اس دن کے کچھ حالات اللہ نے یہاں بیان فرمائے ہیں یوم ترونھا تذھل کل مرضعۃ عما ارصنعت جس دن تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی ماں اپنے شیر خوار بچے کو بھول جائے گی۔ دنیا میں یہ عام مشاہدہ ہے کہ ہر ماں کو اپنے بچے خاص طور پر چھاتی سے الگ کردودھ پینے والے بچے سے حد درجہ محبت ہوتی ہے۔ وہ خود تکلیف برداشت کرلیتی ہے۔ مگر بچے پر آنچ نہیں آنے دیتی ۔ مگر فرمایا کہ جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن اس قدر دہشت ہوگی کہ ماں بھی اپنے بچے کو فراموش کردے گی اور اسے صرف اپنی پڑی ہوگی۔ وتضع کل ذات حمل حملھا اور اس دن حاملہ عورت اپنے حمل کو گرادیگی۔ قیامت کے ہولناکی اس قدر شدید ہوگی کہ ڈر کے مارے ہر حاملہ عورت کا حمل ساقط ہوجائے گا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قیامت کا بگل بجنے سے قبل بعض عورتیں اپنے اپنے بچے کو دودھ پلارہی ہونگی اور بعض حاملہ ہوں گی۔ تو جونہی قیامت کا زلزلہ شروع ہوگا۔ تو بالفعل ایسے واقعات پیش آئیں گے کہ عورتیں دودھ پیتے بچوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور بعض کے حمل گر جائیں گے۔ قیامت کے زلزلے کے جھٹکے ابتداء میں خفیف ہوں گے اور پھر تیز ہوجائیں گے ، جس سے پوری کائنات تہ وبالا ہوجائیگی۔ اسی کو طامتہ الکبری بھی کہا گیا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ مذکورہ زلزلے سے وہ وقت مراد ہے جب جزائے عمل کی منزل آئیگی۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت آدم (علیہ السلام) سے فرمائے گا کہ اے آدم (علیہ السلام) ! اٹھو ! اور جہنم والوں کو الگ کردو۔ آپ عرض کریں گے کہ مولا کریم ! کتنے لوگ جہنمی ہیں ؟ ارشاد ہوگا کہ ہر ایک ہزار میں سے 999 جہنمی ہیں۔ اس وقت شدید دہشت ہوگی جس سے دودھ پلانے والی مائیں بچوں کو فراموش کردیں گی اور حاملہ عورتیں کے حمل گر جائیں گے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سارا واقعہ تو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے بعد پیش آئیگا اور اس وقت بچے کو دودھ پلانے یا حمل ہونے کا کیا احتمال ہوسکتا ہے ؟ بعض مفسرین اس کی توجیہہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ جس حالت میں کوئی شخص فوت ہوا ہوگا ، قیامت کے دن اسی حالت میں اٹھے گا۔ تو موت کے وقت دودھ پلانے والی یا حاملہ عورتیں اسی حالت میں اٹھیں گی اور ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ پیش آئے گا۔ یا اس سے مجازی معنے بھی لئے جاسکتے ہیں کہ ان الفاظ سے دہشت کی شدت کا اظہار مقصود ہے کہ ایسی ہولناکی ہوگی کہ بالفرض اگر کوئی دودھ پلانے والی ہو تو وہ بچے کو بھول جائے گی اور اگر کوئی حاملہ ہو تو اس کا حمل ساقط ہوجائیگا۔ لوگوں کی بدمستی : فرمایا اس دن عام لوگوں کی یہ حالت ہوگی ، وتری الناس سکری اور تم لوگوں کو بدمستی یعنی نشے کی حالت میں دیکھو گے جیسے کسی شخص نے شراب پی رکھی ہو اور وہ حواس کھو بیٹھے فرمایا وما ھم بشکری درحقیقت وہ نشے میں نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کوئی نشہ آور چیز استعمال نہیں کی ہوگی ولکن عذاب اللہ شدید ، بلکہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوگا اور اس کی دہشت اور خوف کی وجہ سے لوگوں کی حالت ایسی ہوگی گویا وہ نشے کی حالت میں ہیں۔ یہاں پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ گزشتہ سورة میں تو یہ بیان ہوچکا ہے لا یحزنھم الفزع الاکبر (الانبیاء 1- 3) اللہ کے نیک بندوں کو گھبراہٹ نہیں ہوگی ، مگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام لوگوں کو سخت گھبراہٹ ہوگی۔ تو مفسرین کرام اس کی توجیہہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندوں پر گھبراہٹ کا اثر زیادہ دیر تک نہیں رہے گا بلکہ وہ جلدی ہی اس سے مامون ہوجائیں گے۔ سورة الزمر میں ہے ونفخ………………شآء اللہ (آیت 68) جب صور میں پھونکا جائے گا تو آسمان و زمین کی ساری مخلوق مدہوش ہوجائیگی سوائے اس کے کہ جسے الل محفوظ رکھے گا۔ یعنی مشیت الٰہی کے مطابق بعض لوگ اس گھبراہٹ سے مامون رہیں گے۔ تاہم تھوڑے وقت کے لئے سب متاثر ہوں گے۔ شیطان کا اتباع : اگلی آیت میں اللہ نے بعض سرکشوں کی حالت بیان کی ہے و من الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ، بعض لوگ ایسے ہیں جو بلا علم اللہ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں یعنی اس کی ذات وصفات انبیائ ، شریعت ، جزائے عمل وغیرہ کے متعلق بحث کرتے ہیں جس کی بنیاد محض رسم و رواج اور بیہودہ ذہنیت ہوتی ہے۔ ویتبع کل شیطن مرید ایسے سرکش لوگ دراصل شیطان مردود کا اتباع کرتے ہیں وہ اہل علم کی بات تو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، لہٰذا شیطان کی طرف سے دعوت ضلالت کو فوراً قبول کرلیتے ہیں اور پھر اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ فرمایا کتب علیہ اللہ نے شیطان کے متعلق یہ بات لکھ دی ہے انہ من تولاہ بیشک جو اس کے ساتھ دوستی کرے ، یعنی اس کی بات مانے گا۔ اس کے کہنے پر کفر ، شرک ، نفاق ، بدعات اور معاصی میں مبتلا ہوگا فانہ یضلہ ، تو شیطان ایسے شخص کو یقینا گمراہ کردیگا صراط مستقیم سے بہکا دے گا۔ سورة الزخرف میں موجود ہے ومن ………… …قرین (آیت 36) جو خدا تعالیٰ کے ذکر سے اعراض کرتا ہے اس پر شیطان مسلط کردیا جاتا ہے اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ پھر وہ اسے گمراہ کرتا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ موت واقع ہوجاتی ہے۔ فرمایا شیطان نہ صرف اس کو بہکائے گا بلکہ ویھدیہ الی عذاب السعیر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔ سورة فاطر میں ہے انما یدعوا حزبہ لیکونو من اصحب السعیر (آیت 6) وہ اپے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ سب کو ساتھ لے کر جہنم میں پہنچ جائے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے گروہ میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوں۔ اس کے لئے وہ عقیدہ توحید میں شک پیدا کرتا ہے۔ لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتا ہے اور اس طرح انہیں اپنے دام میں پھنسا کر جہنمی بنادیتا ہے۔
Ayahs 22:5–7

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

اے لوگو ! اگر تمہیں کوئی شک ہے مرکر جی اٹھنے میں تو بیشک ہم نے پیدا کیا ہے تم کو مٹی سے ، پھر قطرہ آب سے ، پھر جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پھر گوشت کے ٹکڑے سے جو نقش والا یا بغیر نعیش کے ہوتا ہے ، تاکہ ہم بیان کریں تمہارے لئے۔ اور ہم ٹھہراتے ہیں رحموں کے اندر جو چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک۔ پھر ہم نکالتے ہیں تم کو بچپن کی حالت میں۔ پھر تاکہ تم پہنچ جائو اپنی جوانی اور طاقت کی حالت کو۔ اور بعض تم میں سے وہ ہیں جن کو وفات دی جاتی ہے ، اور بعض تم میں سے وہ ہیں جن کو لوٹایا جاتا ہیرذیل عمر تک ، تاکہ نہ جانے وہ علم کے بعد کچھ بھی اور تم دیکھتے ہو زمین کو دبی ہوئی۔ پھر جب ہم اتارتے ہیں اس پر پانی تو وہ حرکت کرتی ہے اور ابھرتی ہے اور اگاتی ہے ہر قسم کی بارونق چیزیں

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہی حق ہے اور وہ مردوں کو زندہ کردیگا۔ اور یہ کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اٹھائے گا ان کو جو قبروں میں ہیں

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے زلزلہ قیامت کا ذکر کرکے لوگوں کو انذار کیا ، اور فرمایا کہ قیامت کا زلزلہ اتنی عظیم چیز ہے کہ لوگ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھیں گے اور ایسا محسوس ہوگا کہ وہ نشے کی حالت میں ہیں۔ حقیقت میں یہ نشہ نہیں ہوگا۔ بلکہ قیامت کی ہولناکی اور اللہ کے شدید عذاب کے پیش نظر لوگوں کی یہ حالت ہوجائیگی۔ لوگوں پر اس قدر دہشت طاری ہوگی کہ ہر ماں اپنے شیر خوار بچے کو بھول جائیگی اور حاملہ عورتیں اپنے حمل گرادیں گی۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے بارے میں دو دلیلیں بیان فرمائی ہیں جن میں سے ایک کا تعلق خود تخلیق انسانی کے ساتھ ہے اور دوسری کا زمین سے اگلنے والی نباتا سے۔ خوف و دہشت : خوف و دہشت کے واقعات اکثر اس دنیا میں بھی پیش آتے رہتے ہیں۔ کوئی وبا پھیل جائے یا آگ لگ جائے ، کسی درندے سے سامنا ہوجائے یا قتل و غارت کا بازار گرم ہوجائے تو انسان لامحالہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ مولانا ابواکلام (رح) نے ترجمان القرآن میں لکھا ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں جب جرمنی پر شدید بمباری ہوئی تو لاتعداد لوگ ہلاک ہوئے اور جو بچ گئے وہ دماغی توازن کھو بیٹھے۔ اس قدر خوف طاری تھا کہ اپنے آپ کو ہوش نہیں رہی تھی۔ دوسری جنگ عظیم میں جب جرمنی نے بحر ہند کے اطراف میں شدید بمباری کی تو اس میں بھی بہت سے لوگ ہلاک ہوئے۔ مالی بار کے علاقے کا ایک پروفیسر تھا جس کے اہل خانہ تو سب ہلاک ہوگئے اور اس کی یہ حالت ہوگئی کہ ہوش و حواس بالکل ہی ضائع ہوگئے۔ نماز پڑھتا تھا تو نماز کے دوران ہی اپنی غمزدگی کی داستان دہراتا رہتا تھا۔ گزشتہ سال بھوپال میں کسی فیکٹری میں گیس کا سلنڈر پھٹ گیا۔ جس کی وجہ سے تین ہزار آدمی ہلاک ہوگئے اور ہزاروں کی تعداد میں گیس سے جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ ان میں سے بعض لوگ دیوانہ وار ادھر ادھر دوڑتے تھے اور پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ وہ کدھر جا رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ ان پر اس قدر دہشت طاری تھی۔ بہرحال اللہ نے گزشتہ آیات میں قیامت کی ہولناکی اور اس کی دہشت کا ذکر کیا ہے کہ اس وقت لوگوں کی کیا حالت ہوگی۔ رحم مادر میں تخلیق انسانی : آج کے درس میں وقوع قیامت پر بیان کردہ ، دو دلائل میں سے پہلی دلیل خود تخلیق انسانی سے متعلق ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الناس ان کنتم فی ریب من البعث اے لوگو ! اگر تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے میں کوئی تردد ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ جب ہمارا جسم ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل جائیگا۔ جب ہڈیاں بوسیدہ ہو کر چورا چورا ہوجائیں گی تو پھر دوبارہ کیسے اٹھ کھڑے ہوں گے ؟ فرمایا اگر تمہیں یقین نہیں آتا تو خود اپنی پیدائش پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور بقائے نسل کے لئے کیسا عجیب و غریب نظام قائم کررکھا ہے ، بھلا دیکھو تو سہی فانا خلقنکم من تراب ہم نے تمہیں مٹی جیسی حقیر چیز سے پیدا کیا۔ تمہارے جدامجد کی تخلیق براہ راست مٹی سے ہوئی۔ اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تمام روئے زمین کی تھوڑی تھوڑی مٹی لاکر اس کا مجسمہ بنائو۔ جب مجسمہ تیار ہوگیا تو اللہ نے اس میں روح ڈالی تو وہ جیتا جاگتا انسان بن گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے سلسلہ تناسل جاری کیا اور نسل در نسل ساری مخلوق انسانی پیدا ہوئی۔ فرمایا آدم (علیہ السلام) کو تو مٹی سے پیدا کیا اور پھر ثم من نطفۃ تمہاری تخلیق قطرہ آب سے ہوئی۔ بیوی خاوند کے ملاپ سے مرد کا نطفہ عورت کے بیضہ انثیٰ کے ساتھ ملا تو عورت کو حمل ٹھہر گیا۔ جب چالیس دن گزر گئے ثم من علقۃ تو وہ قطرہ آب جمے ہوئے خون کے لوتھڑے میں تبدیل ہوگیا۔ پھر مزید چالیس روز کے بعد ثم من مضغۃ خون کا لوتھڑا گوشت کا ایک ٹکڑا بن گیا۔ اور وہ بھی ایسا کہ مخلقۃ وغیر مخلقۃ کہ بعض پر انسانی شکل و صورت کا نقش بن جاتا ہے اور بعض پر نہیں بنتا۔ مطلب یہ کہ گوشت کے جس ٹکڑے پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسانی نقش کنندہ ہوجاتا ہے تو وہ مدت حمل پوری کرکے بچے کی صورت میں باہر آجاتا ہے اور جس پر نقش نہیں بن پاتا وہ حمل کی مدت سے پہلے ہی ضائع ہوجاتا ہے مخلقہ اور غیر مخلقہ سے تام اور ناقص بھی مراد لیا جاسکتا ہے اور اس طرح مطلب یہ ہوگا کہ بعض بچے تو مکمل اعضاء جوارح اور شکل و صورت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور بعض کے اعضاء وجوارح نامکمل رہ جاتے ہیں اور وہ معذور حالت میں پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی ہاتھ ، پائوں یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ معمول سے کمزور ہوتا ہے با بعض اعضا معمول کے تعداد سے کم وبیش ہتے ہیں۔ بعض اوقات دو بچے جڑواں صورت میں بھی پیدا ہوتے ہیں۔ غرضیکہ مشیت ایزدی کے مطابق بچہ مکمل یا ناقص پیدا ہوتا ہے۔ اس ساری تقریر یے یہ باور کرانا مقصود ہے کہ دیکھو حیات مٹی سے کتنی بعید ہے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار ہے کہ اس نے مٹی کو حیات بخش دی۔ جو مٹی جیسی ناچیز شے کی زندگی دے سکتے ہے کیا وہ مرنے کے بعداسی انسان کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ یقینا وہ اس پر قادر ہے اور یہی حیات بعدالمحات کی دلیل ہے فرمایا لبنین لکم یہ ساری بات اس لئے کی ہے تاکہ تمہیں کھول کر بتادیا جائے کہ تمہاری پیدائش کن کن مراحل سے گزری اور جس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں عدم سے وجود میں لائے اسی طرح تم انجام کو بھی پہنچو گے اور اس کے لئے اللہ نے قیامت کا دن مقرر کررکھا ہے۔ رحم مادر میں تخلیق انسانی کی مختلف ادوار کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا ونقرفی الارحام مانشاء الی اجل مسمی پھر ہم رحموں میں جو چاہتے ہیں ایک مقررہ مدت تک ٹھہراتے ہیں مطلب یہ کہ حمل کی مدت عام طور پر نو ماہ ہوتی ہے مگر اللہ کی مشیت کے مطابق کم وبیش بھی ہوسکتی ہے۔ کم از کم چھ ماہ کی مدت میں بھی بچہ پیدا ہوسکتا ہے اور یہ مدت دوماہ چار سال تک بھی دراز ہوسکتی ہے اس قسم کے واقعات دنیا میں پیش آتے رہتے ہیں۔ بچپن جوانی اور بڑھاپا : اللہ نے فرمایا کہ رحم مادر کی مدت پوری کر چکنے کے بعد ثم نخرجکم طفلا پھر ہم تمہیں بچپن کی حالت میں نکالتے ہیں۔ دنیا میں آکر بچہ شیرخواری کی مدت گزارتا ہے ، پھر مزیدبڑا ہوجاتا ہے اور کھیلنے کودنے لگتا ہے اور پھر ثم لتبلغوا اشدکم تاکہ تم طاقت یعنی جوانی کی عمر کو پہنچ جائو۔ فرمایا اس دوران میں ومنکم من یتوفی تم میں سے بعض فوت ہوجاتے ہیں اور وہ جوانی کی عمر کو نہیں پہنچ پاتے ومنکم من یردالی ارذل العمر اور تم میں سے بعض کو نکمی عمر یعنی انتہائی بڑھاپے کی عمر تک لوٹایا جاتا ہے لکیلا یعلم من بعد علم شیئا تاکہ علم ہونے کے بعد بھی وہ کچھ نہ جانے۔ بڑھاپے میں بھی انسان کی بچپن والی حالت ہوجاتی ہے۔ جسمانی عضاء کمزور ہوجاتے ہیں حتیٰ کہ حافظہ بھی جواب دے جاتا ہے اور جو باتیں اسے اچھی طرح معلوم تھیں ان کو بھی فراموش کردیتا ہے۔ اسی لئے اس عمر سے پناہ مانگی ہے۔ اللھم انی اعوذبک من ارذل العمر اے اللہ ! میں رذیل عمر سے تیری پناہ پکڑتا ہوں۔ انسان اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے سے معذور ہوجاتا ہے۔ معدہ کمزور ہو کر غذا سے کماحقہ ، فائدہ نہیں اٹھاسکتا جو انسان کی مزید کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق سے لے کر انتہائی عمر تک یاد کرا کے یہ باور کرایا ہے کہ جو مالک الملک انسان کو ان تغیرات سے گزارتا ہے ، وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے ۔ زمین کی پیدوار : اب اللہ نے بعث بعدالموت پر دوسری دلیل یہ قائم کی ہے۔ وتری الارض ھامدۃ اور تو دیکھتا ہے زمین کو دبی ہوئی ، بجھی ہوئی یعنی بنجر جس میں کوئی روئیدگی نہیں ہوتی۔ فاذا انزلنا علیھا الماء اھتزت پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں ، باران رحمت ہوتی ہے تو وہ حرکت کرتی ہے وربت اور ابھرتی ہے یعنی اس میں نشونما کی قوت آجاتی ہے وانبتت من کل زوج بھیج اور وہ ہر قسم کی بارونق چیز اگاتی ہے۔ جب زمین کو پانی مل جاتا ہے۔ تو وہ نرم ہو کر قابل کاشت بن جاتی ہے۔ کسان اس میں ہل چلاتا ہے اس میں بیج ڈالتا ہے تو پھر وہ غلہ ، سبزیاں ، چارہ اور دیگر نباتات پیدا کرتی ہے ۔ اس میں درخت اور پھل پیدا ہوتے ہیں۔ طرح طرح کے پھول نکلتے ہیں جو انسانوں اور حیوانوں کے کام آتے ہیں۔ فرمایا یہ سب کچھ روز مرہ تمہارے مشاہدہ میں آتا ہے کہ جو زمین بالکل مردہ ہوجاتی ہے اور کوئی چیز پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتی وہ موسم کے مطابق پانی ملنے پر پھر تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر قسم کی بارونق اشیاء اگانے لگتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ انسانوں کو ان کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کردے گا اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی۔ بعث بعدالموت : فرمایا ذلک بان اللہ ھوالحق ، یہ اس لئے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے ، وہی انسان ، حیوان اور نباتات کو پیدا کرتا ہے ، وانہ یحی الموتی اور وہی مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ وانہ علی کل شیء قدیر ، اور وہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس طرح وہ قطرہ آب سے انسان جیسی مخلوق پیدا کرتا ہے اور اپنی مقررہ عمر پوری کرنے کے بعد اس کو موت سے ہم کنار کردیتا ہے ، اسی طرح وہ مردوں کو دوبارہ بھی زندہ کردے گا۔ اس کے لئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اور پھر دوبارہ زندگی کے بعد تم اپنے انجام کو بھی پالو گے۔ اور اس کی صورت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے وان الساعۃ اتیۃ لا ریب فیھا یعنی قیامت بلا شبہ برپا ہونے والی ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری اس زندگی کا حساب لینا چاہتا ہے جس طرح تم اس دنیا میں کسی شخص کو کاروبار پر بٹھاتے ہو ، کسی کو ملازم رکھتے ہو یا کسی کو کوئی کام سپرد کرتے ہو ، تو تم حق بجانب ہو کہ اس شخص کی کارکردگی کا جائزہ لو اور پھر دیکھو کہ اس نے تمہاری تفویض کردہ ڈیوٹی کو کس حد تک انجام دیا ہے۔ تمہارے حکم کے مطابق کتنا کام کیا ہے اور اس میں کوتاہی کس حد تک کی ہے۔ پھر تم اس بات کے بھی مجاز ہوتے ہو کہ متعلقہ شخص کو اس کی حسن کارکردگی پر انعام دو اور بدکرداری پر سزا دو ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی زندگی کی دولت دے کر اس دنیا میں بھیجا تھا اور اس کے ذمہ بعض فرائض عاید کیے تھے اور بعض امور سے منع کیا تھا ، تو اب اس کا حق بنتا ہے کہ وہ ہر انسان سے اس کی کارکردگی کا حساب لے اور پھر اس کے مطابق اس کے لئے جزا یا سزا کا فیصلہ کرے۔ اسی لئے فرمایا ہے کہ بلا شبہ قیامت آنے والی ہے۔ وان اللہ یبعث من فی القبور اور بلا شبہ اللہ قبروں میں مدفون سب لوگوں کو ضرور دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ ان سے زندگی بھر کا حساب کتاب لے سکے۔
Ayahs 22:8–17

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور بعض لوگ وہ ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم ، بغیر ہدایت اور بغیر روشن کتاب کے

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

وہ موڑنے والے ہوتے ہیں اپنے پہلو کو تاکہ وہ گمراہ کریں اللہ کے راستے سے۔ ایسے شخص کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور چکھائیں گے ہم اس کو قیامت کے دن جلانے والا عذاب

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

(اور اس سے کہا جائے گا) یہ وہ چیز ہے جو آگے بھیجی ہے تیرے ہاتھوں نے اور بیشک اللہ تعالیٰ نہیں ہے ظلم کرنے والا بندوں پر

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور بعض لوگ وہ ہیں عبادت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ایک کنارے پر۔ پس اگر پہنچے اس کو بہتری تو مطمئن ہوجاتا ہے اس کے ساتھ۔ اور اگر پہنچے اس کو کوئی آزمائش تو پلٹ جاتا ہے اپنے چہرے پر۔ نقصان اٹھایا اس نے دنیا میں اور آخرت میں۔ یہ ہے کھلا نقصان

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

پکارتا ہے وہ اللہ کے سوا ان کو جو اس کو نقصان نہیں پہنچاتے ، اور نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ یہی ہے گمراہی میں دور جا پڑنے کی بات

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

پکارتے ہیں وہ اس کو کہ جس کا نقصان اس کے فائدے سے زیادہ قریب ہے۔ البتہ بہت ہی برادوست ہے اور بہت ہی برا ساتھی

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام انجام دیے بہشتوں میں کی جاری ہیں ان کے نیچے نہریں۔ بیشک اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے جو چاہے

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو شخص گمان کرتا ہے کہ اللہ اس کی مدد نہیں کرے گا دنیا اور آخرت میں ، پس چاہیے کہ وہ دراز کرے رسی آسمان کی طرف ، پھر وہ کاٹ دے اور پھر دیکھے کہ کیا لے جاتی ہے اس کی تدبیر اس کے جی کے غصہ کو

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور سای طرح اتارا ہے ہم نے اس کو کھلی نشانیاں۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ راہ دکھاتا ہے جس کو چاہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

تحقیق وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے ، اور صابی ، اور نصاریٰ اور مجوسی ، اور وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا۔ بیشک اللہ تعالیٰ فیصلہ کریگا ۔ ان کے درمیان قیامت کے دن ، بیشک اللہ تعالیٰ ہرچیز پر حاضر ہے

ربط آیات : ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے زلزلے اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا۔ اس وقت انسانوں پر ایک قسم کی مدہوشی طاری ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوع قیامت کے بارے میں دو دلائل بیان فرمائے۔ ایک دلیل خود انسان کی تخلیق سے تعلق رکھتی ہے جب کہ دوسری دلیل زمین کی روئیدگی کے متعلق ہے یہ دونوں دلیلیں قیامت کی آمد کا پتہ دیتی ہیں اور اس بات میں شک وشبہ کی کو گی گنجائش نہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو یقینا دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی۔ جھگڑالو لوگ : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کا رد فرمایا۔ ارشاد ہوتا ہے ومن الناس من یجادل فی اللہ بغیر علم ولا ھدی ولا کتب منیر اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں یعنی ان کی توحید کے متعلق مگر نہ تو ان کے پاس کوئی علم (نقلی یا عقلی دلیل) ہے ، نہ ہدایت کی بات اور نہ روشن کتاب وہ تو محض اپنے رسم و رواج اور جہالت کی بنیاد پر جھگڑا کرتے ہیں۔ ثانی عطفہ ، اپنے پہلو کو موڑتے ہیں یعنی غرور وتکبر کرتے ہیں لیضل عن سبیل اللہ ، تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی اللہ کے راستے سے گمراہ کردیں۔ پہلے خود گمراہ ہوئے اور پھر دوسروں کو کیا۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا لہ فی الدنیا خزی کہ اس کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اس دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوگا ونذیقہ یوم القیمۃ عذاب الحریق ، اور قیامت والے دن ہم اسے جلا ڈالنے والا عذاب چکھائیں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا ذلک بما قدمت یدک یہ وہ چیز ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجی ہے دنیا میں تو نے یہی کمایا تھا کہ خود بھی گمراہ ہوا اور دوسروں کو بھی بہکایا ، اس کا بدلہ یہی ہے کہ اب عذاب کا مزاچکھو۔ اللہ تعالیٰ نے بلاوجہ تمہیں سزا میں مبتلا نہیں کیا کیونکہ وان اللہ لیس بظلام للعبید بیشک اللہ تعالیٰ تو بندوں پر کبھی بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ تو تمہارے ہی اعمال کا خمیازہ ہے۔ مفاد پرست منافق : آگے اللہ نے منافق قسم کے لوگوں کا حال بیان فرمایا ہے ، ومن الناس من یعبداللہ علی حرف ، اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو ایک کنارے پر اللہ کی عبادت کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان میں دلجمعی اور یکسوئی تو ہے نہیں ، اطمینان قلب مفقود ہے۔ تردد اور تذبذب کی حالت میں بادل نخواستہ کچھ عبادت کرلیتے ہیں جیسے کوئی شخص کسی چیز کے کنارے پر کھڑا ہو اور ہر آن اس کے گرنے کا احتمال ہو اسی طرح منافق قسم کے لوگ بھی اللہ کی عبادت تو کرتے ہیں مگر نہ جانے کس وقت چھوڑ بیٹھیں۔ کسی ایسے ہی شخص کی مثال دی ہے فان اصابہ خیرن اطمان بہ ، کہ اگر اسے کسی وقت بھلائی پہنچ جائے تو مطمئن ہوجاتا ہے ، کہتا ہے ٹھیک راستے پر جارہا ہوں۔ وان اصابتہ فتنۃ ن انقلب علی وجھہ ، اور اگر اسے کوئی آزمائش آجائے ، کوئی جانی مالی نقصان ہوجائے یا کوئی دوسری پریشانی لاحق ہوجائے ، کوئی جانی مالی نقصان ہوجائے یا کوئی دوسری پریشانی لاحق ہوجائے تو شکستہ دل ہو کر اپنے چہرے کے بل پلٹ جاتا ہے۔ یعنی ایمان سے پھرجاتا ہے۔ اطراف مدینہ میں اس قسم کے لوگ موجود تھے جو ایمان لے آتے۔ پھر دیکھتے اگر خیروبرکت حاصل ہوتی ، دنیاوی مفاد مل جاتا تو کہتے اسلام بالکل سچا دین ہے ، اور اگر کوئی تکلیف پہنچ جاتی کوئی نقصان ہوجاتا تو دین چھوڑ کر مرتد ہوجاتے۔ مفسرین کرام نے ایک یہودی کا واقعہ بیان کیا ہے۔ کہ پہلے تو وہ ایمان لے آیا۔ پھر اسے کوئی پریشانی لاحق ہوگئی تو حضور ﷺ سے کہنے لگا کہ مجھ سے اسلام کی بیعت واپس لے لو۔ آپ نے فرمایا کہ بیعت تو واپس نہیں ہوسکتی۔ اس قسم کے لوگ موجود تھے جو کسی مفاد کی کی خاطر اسلام میں داخل ہوتے ۔ اس دوران تذبذب کا شکار رہتے۔ جب مطلوبہ مفاد حاصل نہ ہوتا تو مرتد ہوجاتے۔ ایسے نادان قسم کے لوگوں کی اللہ نے سخت مذمت بیان فرمائی ہے۔ جو محض دنیا کی خاطر اسلام قبول کرتے ہیں۔ اللہ کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی قطعاً ان کے پیش نظر نہیں ہوتی۔ جدید روشنی کے لوگ بھی اسلام میں دنیوی مفاد کی باتیں تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ کا فیصلہ ہے۔ خسرو الدنیا والاخرۃ ، کہ وہ دنیا میں بھی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ کیونکہ دنیا کا مفاد تو ایک محدود مدت کے لئے ہے ، وہ بہرحال ختم ہوجائے گا ، یہ لوگ آخرت میں بھی نقصان اٹھانے والے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ ایمان کی سلامتی کی بجائے برے عقیدے لے کر اس دنیا سے گئے ہیں فرمایا ذلک ھوالخسران المبین ، یہی تو کھلا نقصان ہے جس میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ غیر اللہ کے لئے بےفائدہ پکار : فرمایا ، اللہ کو چھوڑ کر ایسے لوگ کیا کرتے ہیں ؟ یدعوا من دون اللہ مالا یضرہ ومالا ینفعہ اللہ کے سوا وہ ایسی ہستیوں کو پکارتا ہے جو نہ تو اسے نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں۔ ہر انسان کسی نہ کسی ذات کو اپنا معبود ماننے پر مجبور ہے۔ مگر وہ اللہ قادر مطلق ، علیم کل اور مختار کل کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کو الٰہ بناتا ہے جن کے قبضہ میں نہ نفع ہے اور نہ نقصان ، مٹی ، پتھر اور لکڑی کے بت تو ویسے ہی بےجان چیزیں ہیں ، بھلا وہ کسی کا کیا سنوار سکتے ہیں یا بگاڑ سکتے ہیں۔ اور جو جاندار چیزیں بھی ہیں ان میں بھی الوہیت والی کوئی صفت نہیں پائی جاتی ، لہٰذا ان میں سے کوئی بھی الٰہ بننے کے قابل نہیں ہے۔ ذلک ھوالضلل البعید یہ تو دور کی گمراہی میں پڑنے والی بات ہے۔ فرمایا یدعوا لمن ضرہ اقرب من نفعہ یہ لوگ ایسی ذات کو پکارتے ہیں کہ جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے۔ نفع کی بات تو محض اس کا ظن ہے کہ فلاں ہستی میری حاجت روائی یا مشکل کشائی کرسکتی ہے۔ یا کم از کم ہماری مراد خدا تعالیٰ سے پوری کر اسکتے ہیں یہ ایک موہوم نظریہ ہے ۔ غیر اللہ کی پرستش قطعی طور پر مضر ہے جس کا نقصان پرستش کرنے والے ہی کو ہوگا لبئس المولیٰ ولبئس العشیر ، یہ بہت ہی برا آقا یا دوست ہے اور بہت ہی برا ساتھی ہے ۔ جس شخص نے اللہ کے سوا کسی بت ، نبی ، ولی یا فرشتے کو اپنا آقا ، دوست یا معبود بنایا تو وہ قیامت کے دن ایسی الوہیت سے انکار کردیں گے اور پرستش کرنے والوں کے دشمن بن جائیں گے۔ اسی لئے فرمایا کہ جن کو یہ لوگ اپنا معبودسمجھتے ہیں۔ وہ قیامت کے دن ان کے برے ساتھی ثابت ہوں گے جو ان کی مدد کرنے کی بجائے ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ فرمایا ان اللہ یدخل الذین امنوا وعملو الصلحت جنت تجری من تحتھا الانھر ، بیشک اللہ تعالیٰ داخل کرے گا۔ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیے ایسے باغات میں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے ایمان اور اعمال کی بدولت اپنی رحمت سے اپنی رحمت کے اعلیٰ مقام تک پہنچائیگا۔ ان اللہ یفعل مایرید ، بیشک اللہ تعالیٰ کر گزرتا ہے جس کام کا وہ ارادہ کرتا ہے۔ نیک لوگوں کے بارے میں اللہ کا ارادہ یہی ہوگا کہ وہ انہیں جنت میں پہنچائے اور اعزاز واکرام سے نوازے۔ اور جو لوگ کفر اور شرک کرنے والے ہیں یا منافق ہیں اور تذبذب کا شکار ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ یقینا ان کو سزا کے مقام پر پہنچائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے بدگمانی : ارشاد ہوتا ہے من یظن ان لن ینصرہ اللہ فی الدنیا والاخرۃ ، جو شخص گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت میں مدد نہیں کریگا۔ فلیمدد بسبب الی السمائ ، اسے چاہیے کہ کوئی رسی دراز کرے آسمان کی طرف ثم لیقطع ، پھر اس کو کاٹ دے فلنظر ھل یذھبن کیدہ مایغیظ پھر دیکھ لے کیا اس کی تدبیر اس کے غصے کو دور کرتی ہے ؟ مفسرین کرام اس کی تفسیر دو طریقے سے بیان کرتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ ینصرہ میں ہ کی ضمیر ہر اس انفرادی شخص کی طرف لوٹتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوچکا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مایوسی کفر ہے ۔ جیسا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے فرمایا تھا ولا تایئسوا………………الکفرون (یوسف 87) اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا کیونکہ اللہ کی رحمت سے تو صرف کافر ہی ناامید ہوسکتے ہیں۔ ایک ایماندار تو آخر وقت تک اللہ کی رحمت کا امیدوار رہتا ہے۔ ، البتہ وہ اس کی سزا سے خائف ضرور ہوتے ہیں مگر ناامید نہیں ہوتے کیونکہ یہ کفر والی بات ہے۔ اور جو آدمی مایوس ہوگیا اس کے جی میں جو آئے کرے۔ عام طور پر خود کشی کی وارداتیں ایسی ہی ناامیدی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ تو مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص اللہ کی مدد سے مایوس ہوگیا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ آسمان تک رسی دراز کرکے اس کے ساتھ لٹک جائے اور پھر اسے کاٹ دے اور دیکھ لے کہ اس کا غصہ کس حد تک فرو ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ ینصرہ میں ہ کی ضمیر نبی (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہے اس طرح معنی یہ بنتا ہے۔ کہ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مدد نہیں کرے گا اسے چاہیے کہ زمین سے لے کر آسمان تک ایک رسی دراز کرلے اور پھر اس کے ذریعے اوپر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی مدد کو منقطع کردے اور پھر دیکھ لے کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہوتا ہے یا نہیں ؟ اس کا غصہ تو جبھی فرو ہوسکتا ہے جب وہ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ پر نازل ہونے والی مدد کو کاٹ دے۔ مگر ایسا کرنے سے اسے یقینا مایوسی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے انبیاء کی مدد کرتا ہے اس کا اعلان ہے انا لننصر…………الاشھاد (المومن 51) بیشک ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کی دنیا میں بھی مدد کرتے ہیں اور آخرت میں بھی مدد کریں گے جس دن گواہ کھڑے ہوں گے ۔ غرضیکہ جو شخص اللہ کی مدد سے مایوس ہوچکا ہے وہ جو چاہے تدبیر اختیار کرکے دیکھ لے۔ وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ فرمایا وکذلک انزلنہ ایت بینت ، اور اسی طرح ہم نے اس کتاب کو واضح آیات کی صورت میں نازل کیا ہے۔ اس میں شک وتردد والی کوئی بات نہیں ہے۔ اب جس کا جی چاہے ان آیات سے فائدہ اٹھالے اور جو چاہے ان سے محروم رہے وان اللہ یھدی من یرید ، بیشک اللہ تعالیٰ اسی کو ہدایت دیتا ہے جس کو چاہے۔ اللہ کے علم اور حکمت میں کسی شخص کی جس قدر استعداد ، صلاحیت اور نیک نیتی ہوتی ہے ، اسی کے مطابق وہ اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ مذاہب عالم پر ایک نظر : اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مذہب عالم کے نام لے کر فرمایا ہے کہ وہ ان کے درمیان قیامت والے دن فیصلہ کردے گا کہ ان میں سے کون سا سچا دین ہے اور کون سا جھوٹا۔ ارشاد ہوتا ہے ان الذین امنوا ، بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے۔ انہوں نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیا اس کے رسولوں ، کتابوں ، ملائکہ ، معاد اور خیر وشر کی تقدیر پر ایمان لائے ایک گروہ تو یہ ہے جو کہ اہل ایمان کا گروہ ہے۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے والذین ھادوا جو یہودی بن گئے۔ کہنے کو تو یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور کتاب تورات کے پیروکار ہیں مگر انہوں نے تورات میں تحریف کرلی۔ بہت سی اچھی باتیں اس میں سے نکال لیں اور من مرضی کی غلط ملط باتیں ملادیں اور اس طرح انہوں نے اصل دین کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ اللہ نے تیسرے مذہب کے متعلق فرمایا والصابئین اور جو صابی ہوئے۔ بعض تو نصاریٰ کو بھی صابیوں کا ہی ایک گروہ مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ یحییٰ (علیہ السلام) کو ماننے والے لوگ ہیں۔ البتہ بعض لوگ صابی ان کو مانتے ہیں جو ستاروں میں کرشمہ کے قائل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے صابی دور تھا۔ بعض اسے نوح (علیہ السلام) سے بھی پہلے کا دور تسلیم کرتے ہیں اور اس دور میں حضرت شیث (علیہ السلام) اور ادریس (علیہ السلام) کو شامل کرتے ہیں ، تاہم یہ امر مسلم ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے پہلے صابی دور تھا۔ ان میں سے کچھ ستارہ پرست بن گئے۔ کوئی انسانوں کی پوجا کرنے لگے اور طرح طرح کی شرکیہ باتوں میں ملوث ہوگئے چناچہ پرانی تہذیبوں میں سے بابل ، آشوریوں اور کلدانیوں کی تہذیبوں کا تعلق صابیوں ہی سے تھا۔ قدیم مصر کی تہذیب اور چین کی پرانی تہذیب کا تعلق بھی صابی دور سے ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک صابی دور رہا ، پھر حنیفیت کا دور شروع ہوگیا۔ اس دور میں یہودی ، نصرانی اور عرب کے مشرکین شامل ہیں۔ حضور ﷺ سے ساڑھے چار سو سال پہلے تک عرب کے لوگ دین حنیف پر ہی تھے۔ پھر قصی ابن کلاب کے زمانے سے شرک کا آغاز ہوا۔ تو اس پورے دور میں سے یہودونصاریٰ اور عربوں نے اپنے اپنے دین کو بگاڑ لیا اور اب حضور ﷺ کی بعثت کے بعد صرف اہل ایمان ہی دین حنیف پر قائم ہیں۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) نویں دسویں صدی ہجری کے حافظ الحدیث ہیں جنہوں نے پانچ سو سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں۔ آپ اپنی کتاب ” حسن المحاضرۃ فی احوال المصر والقاھرۃ “ میں رقمطراز ہیں کہ اپنے وقت میں صابی مذہب ہی اصل دین تھا اور اس میں توحید طہارت ، صلوٰۃ اور صوم چاروں اصول پائے جاتے تھے مگر بعد میں انہوں نے خود اپنے دین کو بگاڑ لیا اور شرک میں مبتلا ہوگئے۔ والنصریٰ فرمایا چوتھا مذہب نصاریٰ کا ہے جو اپنے آپ کو مسیح (علیہ السلام) کا پیروکار سمجھتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے ثثلیت کا عقیدہ اپنا لیا اور بعض نے مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہہ دیا اور اس طرح شرک میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا والمجوس پانچواں مذہب مجوسیوں کا ہے یہ لوگ آگ میں کرشمہ مانتے ہیں اور اسے ہمیشہ جلائے رکھتے ہیں ، بجھنے نہیں دیتے۔ یہ لوگ ثنویت کے قائل ہیں۔ دو خدا مانتے ہیں۔ ایک اہرمن اور دوسرا یزدان۔ نور اور ظلمت اور خیر اور شر کا الگ الگ خدا مانتے ہیں۔ یہ آگ کے پجاری بھی مشرک ہیں۔ اور چھٹا دین والذین اشرکوا کا ہے یعنی وہ لوگ جنہوں نے شرک کا ارتکاب کیا۔ عرب کے سارے لوگ مشرک تھے جو بتوں کی پوجا کرتے تھے حتیٰ کہ انہوں نے خانہ کعبہ کے اردگرد بھی بت رکھے ہوئے تھے۔ ہنود بھی مورتیوں کے پجاری ہیں۔ کافرستان کے لوگ اب تک مشرک ہیں۔ اب اس کا کچھ حصہ نورستان کے نام سے پاکستان میں بھی شامل ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ شرک سے تائب ہوئے ہیں۔ یہاں پر دو قسم کے کافر تھے یعنی سرخ کافر اور سیاہ کافر۔ سیاہ کافر تو اب تک کفر میں مبتلا ہیں ، البتہ سرخ کافرامیر عبدالرحمان مرحول کے زمانے میں مسلمان ہوگئے تھے ، یہ حصہ افغانستان میں شامل تھا۔ ان کی رسومات بھی عجیب و غریب ہیں۔ اسی طرح بدھ والے بھی بڑی عجیب عجیب رسمیں ادا کرتے ہیں۔ چین کے قدیم مشرکین دہریت میں چلے گئے۔ چینی ، جاپانی ، ویٹ نامی ، جزائر شرق الہند کے باشندے سب صابی تھے مگر بعد میں شرک میں مبتلا ہوگئے۔ علامہ زمخشری (رح) فرماتے (کشاف ص 147 ج 3 (فیاض) ہیں کہ ساری دنیا میں کل پانچ مذاہب ہیں ، جن میں سے چار مذہب شیطانی ہیں اور ایک مذہب رحمانی ہے۔ رحمانی مذہب تو اہل ایمان کا ہے جو حضور خاتم النبیین ﷺ کے پیروکار ہیں۔ اور باقی (1) صابی ونصاریٰ (2) یہودی (3) مجوسی (4) مشرک شیطانی مذاہب ہیں۔ قرآن پاک نے صابی اور نصاریٰ کو علیحدہ علیحدہ شمار کیا ہے۔ اس طرح کل چھ مذاہب میں سے ایک رحمانی اور پانچ شیطانی بنتے ہیں۔ ان کے علاوہ دنیا میں بعض دوسرے مذہبی راہنما بھی ہوئے ہیں جن کے متعلق وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کیسے لوگ تھے ابراہیم (علیہ السلام) کے دور کے قریبی زمانہ میں ایران میں زرتشت ہوا ہے۔ خدا جانے وہ کیسا آدمی تھا ، نبی تھا یا نہیں ، تاریخی واقعات پر یقین نہیں کیا جاسکتا اور یقین کے ساتھ اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح برصغیر میں بھی بعض مشہور ہستیاں گزری ہیں۔ مہاتما بدھ ، رام چند ر جی ، کرشن جی مہاراج وغیرہ کے متعلق ہندوئوں کی کتابوں میں جو کچھ موجود ہے ، وہ تو شرکیہ باتیں ہیں جو کسی نبی کے شایان شان نہیں ہوسکتیں۔ ان کے متعلق بھی حقیقت معلوم نہیں ہوسکی۔ ہو سکتا ہے کہ یہودیوں کی طرح ان کے پیروکاروں نے بھی اپنے اپنے مذاہب میں نئی نئی باتیں شامل کرکے مذہب کو بگاڑ دیا ہو۔ یہودیوں نے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف بھی نہایت ہی بیہودہ باتیں منسوب کردی ہیں۔ بہرحال یہ سب بگڑے ہوئے مذاہب ہیں۔ اللہ کا آخری فیصلہ : فرمایا یہ سب ایسے مذاہب ہیں کہ ان اللہ یفصل بینھم یوم القیمۃ ان کے درمیان اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن فیصلہ کریگا۔ یہ قطعی اور آخری فیصلہ ہوگا۔ اس دن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ ہر مذہب کے پیروکاروں کو پتہ چل جائے گا کہ وہ دنیا میں کس طریقے پر چلتے رہے۔ ان اللہ علی کل شیء شھید ، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگہبان ہے وہ ہر شے کو دیکھ رہا ہے۔ دنیا میں اس وقت مذکورہ چھ مذاہب پائے جاتے ہیں جن کی باقیات اس وقت بھی مختلف ممالک میں موجود ہیں۔ البت ہکامیابی صرف ایمان والوں کے حصے میں ہے۔ دنیا کے جس خطہ میں بھی ہوں ، اللہ تعالیٰ انہیں آخرت کی کامیابی عطا کریں گے ۔ جب قیامت والے دن فیصلے ہوں گے تو پھر ہر ایک کو پتہ چلے گا کہ وہ کس کس غلطی میں مبتلا تھے اور پھر انہیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 22:18–22

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ کرتا ہے جو بھی آسمانوں میں اور جو بھی ہے زمین میں ، اور سورج ، چاند ، ستارے ، پہاڑ ، درخت ، جانور اور بہت سے لوگوں میں سے۔ اور بہت سے ایسے ہیں کہ ثابت ہے ان پر عذاب۔ اور جس کو اللہ تعالیٰ ذلیل کردے ، پس نہیں ہے اس کو کوئی عزت دینے والا بیشک اللہ تعالیٰ کرتا ہے جو چاہے

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو دعویدار ہیں جنہوں نے جھگڑا کیا اپنے رب کے بارے میں۔ پس وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، ان کے واسطے کاٹے جائیں گے کپڑے دوزخ کی آگ سے ، اور بہایا جائے گا ان کے سروں کے اوپر کھولتا ہوا پانی

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

پگھلایا جائے گا اس کے ساتھ جو وہ ان کے پیٹوں میں ہے ، اور ان کے کھالیں (بھی جلائی جائیں گی

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان کے لئے ہتھوڑے ہوں گے لوہے کے

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب وہ ارادہ کریں گے کہ وہ نکالیں اس (دوزخ) سے غم کی وجہ سے تو لوٹا دیے جائینگے اس کے اندر اب جلانے والے عذاب کا مزا چکھو

ربط آیات : گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں پائے جانے والے مختلف مذاہب مثلاً یہودی ، صابی ، نصاریٰ ، مجوسی ، مشرک اور اہل ایمان کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ان میں سے صرف اہل ایمان ہی کامیاب ہوں گے جب کہ باقی سارے گروہ گمراہ ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے درمیان آخری اور قطعی فیصلہ کریگا۔ تمام گمراہ فرقوں کو اس دن اپنی غلطی کا احساس ہوگا جب کہ ان کے عقیدے اور عمل کا صلہ ان کے سامنے آئے گا۔ اس دن سب کو پتہ چل جائے گا کہ دنیا میں اہل ایمان ہی حق پر تھے جو اللہ کی وحدانیت کو مانتے تھے ، اسی کی عبادت کرتے تھے۔ اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ خدا تعالیٰ کے لئے سجدہ ریزی : اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے علاوہ زمین وآسمان کی بعض دوسری چیزوں کا ذکر کیا ہے جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں اور اس کے حکم کی پابند ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے الم تر کیا تم نے نہیں دیکھا یعنی کیا یہ بات آپ کے علم میں نہیں آئی۔ اگر نہیں آئی تو اب آجانی چاہیے ان اللہ یسجد لہ من فی السموت ومن فی الارض کہ بیشک آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے۔ آسمان میں اللہ کے فرشتے ہیں یا جو بھی مخلوق ہے۔ وہ اللہ ہی کو سجدہ کرتی ہے۔ اسی طرح زمین اور زمین وآسمان کے درمیان موجود تمام چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے۔ منجملہ ان اشیاء کے والشمس والقمر والنجوم والجبال والشجر والدواب وکثیر من الناس سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے لوگ سب کے سب اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ انسانوں کا سجدہ تو ظاہر ہے کہ وہ اپنے اختیار اور شعور کے ساتھ طہارت کی حالت میں اللہ کے سامنے سرنیاز خم کرتے ہیں مگر باقی چیزوں کے سجدہ سے کیا مراد ہے جب کہ ان میں سے ہر چیز اپنی اپنی حالت پر قائم رہتی ہے اور انہیں کبھی اپنی پیشانی زمین پر رکھتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ اس ضمن میں مفسرین کرام میں دو قسم کے خیالات پائے جاتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ مذکورہ اشیاء کا سجدہ انسانوں کے سجدہ کے مطابق نہیں ہوتا جو اختیار اور شعور کے ساتھ کیا جاتا ہے بلکہ ان کے لئے سجدہ تسخیری ہوتا ہے ، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جس مقصد کے لئے تسخیر کررکھا ہے یا جس کام پر لگا دیا ہے ، وہ اس کام میں بلا چون وچرا مسلسل لگے ہوئے ہیں اور یہی ان کا سجدہ ہے ۔ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اگرچہ ان اشیاء کا سجدہ انسانوں جیسا شعوری سجدہ نہیں ہوتا مگر اپنے اپنے درجے کے مطابق وہ بھی اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں مگر ان کے شعور کا مرتبہ ہمارے فہم وادراک سے بالاتر ہے ان کے سجدے کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا اور پہچانتا ہے۔ ایسی ہی چیزوں کی تسبیح وتحمید کے متعلق سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وان من……………تسبیحھم (آیت 44) تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کرتی ہیں مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ کس انداز میں اس کی حمد کے ترانے گاتی ہیں۔ اسی طرح ہر چیز کا سجدہ کرنا بھی اس کی حالت اور اس کی شان کے مطابق ہوتا ہے جو کہ صرف تسخیری ہی نہیں بلکہ کسی حد تک شعوری بھی ہوتا ہے ، مگر ہم اس کی کیفیت کو نہیں جانتے۔ سورج کی سجدہ ریزی : بعض بزرگان دین جن میں شیخ ابن عربی (رح) ، مولانا شاہ ولی اللہ (رح) اور مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) شامل ہیں ، سورج کی سجدہ ریزی کے متعلق بحث کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ان چیزوں میں بھی روح اور ایک حد تک شعور ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ انسان کی طرح مکلف نہیں مگر شعور سے خالی نہیں ہیں ، اور اسی شعور ساتھ سجدہ ریز ہوتی ہیں۔ سورج کے سجدہ کا ذکر تو حدیث شریف میں بھی آتا ہے ۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوذر غفاری ؓ سے خطاب کرکے فرمایا کہ تم رہے ہو کہ سورج اب کہاں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو قریب الغروب ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہر روز یہی کیفیت ہوتی ہے کہ سورج عرش الٰہی کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے ، پھر وہ اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے تاکہ اپنی منزل کو جاری رکھ سکے۔ اللہ کی طرف سے اجازت طلب کرتا ہے تاکہ اپنی منزل کو جاری رکھ سکے۔ اللہ کی طرف سے اجازت ملتی ہے تو وہ اپنی منزل کی طرف پھر سے رواں دواں ہوجاتا ہے۔ پھر ایک دن ایسا آئیگا کہ خدا تعالیٰ سخت ناراضگی کی حالت میں ہوگا۔ جب سورج سجدہ کرنے کے بعد اجازت طلب کرے گا تو حکم ہوگا کہ اپنی چال کو پلٹ دو یعنی اپنی حرکت کو معکوس کردو اور مغرب کی بجائے مشرق کی طرف چل دو ۔ یہ بڑا دہشت ناک دن ہوگا۔ سورج نصف النہار تک واپس آئے گا اور یہ دیکھ کر ساری دنیا دہشت زدہ ہوجائیگی ، یہ قیامت کی نشانی ہوگی۔ بہرحال سورج سجدہ کرتا ہے اس میں روح بھی تسلیم کی جاتی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ میں نے سورج کی روح سے رابطہ قائم کرکے اس سے گفت و شنید کی اور اس نے جواب بھی دیا (مشاہدہ دوم فیوض الحرمین مترجم ص 105) دیگر اشیاء کا سجدہ : اسی طرح چاند ، پہاڑوں اور درختوں میں بھی کسی حد تک شعور پایا جاتا ہے مگر ہم اس کی کیفیت کو نہیں جانتے۔ بعض اوقات خدا تعالیٰ معجزانہ طور پر اس کو ظاہر بھی کردیتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ابتدائے نبوت کے قریبی دنوں میں میں ایک پتھر کے قریب سے گزرتا تھا وہ مجھے سلام کرتا تھا ، میں اس پتھر کو اب بھی جانتا ہوں۔ حضور ﷺ ایک غزوہ سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ جبل احد کے قریب سے گزرے تو (بخاری ص 585 ج 2 ومسلم ص 446 ج 1 (فیاض) فرمایا احد جبل یحبنا ونحبہ احد ایک پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ بعض درختوں کے شعور کا پتہ بھی چلتا ہے ، حضور ﷺ کھجور کے خشک تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے جب آپ کے لئے منبر تیار ہوگیا تو آپ نے اس تنے کو چھوڑ دیا ، اس پر اس تنے میں سے بےاختیار رونے کی آواز سنی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی بےجان چیزوں میں بھی کچھ نہ کچھ شعور ہوتا ہے۔ جانور اور انسان تو ویسے ہی ذی روح ہیں اور باشعور ہیں اگرچہ جانوروں کا شعور ناقص ہے۔ تو بہرحال فرمایا کہ کائنات کی تمام چیزیں کسی نہ کسی طریقے سے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں وکثیر حق علیہ العذاب ، اور بہت سے انسان ایسے بھی ہیں جن پر عذاب ٹھہر چکا ہے۔ ایسے لوگ کفر ، شرک اور معاصی میں مبتلا رہے۔ اللہ کے سامنے کبھی عاجزی کے اظہار اور سجدہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی تو ایسے لوگ عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ غرضیکہ انسانوں میں آگے دو گروہ ہوگئے۔ ایک گروہ نے اپنے اللہ کی عبادت کرکے اس کی تسبیح وتحمید بیان کرکے اور سجدہ کرکے اسے راضی کرلیا اور دوسرے گروہ نے اسی سجدہ سے انکار کرکے جہنم کا عذاب خرید لیا۔ سجدہ تلاوت : قرآن پاک میں کل چودہ مقامات ہیں جن کو پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہوجاتا ہے ۔ اس سورة میارک میں ایک مقام پر ہے اور دوسرا سورة کے آخری رکوع میں ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) سجدہ تلاوت کو واجب کہتے ہیں جب کہ دوسرے آئمہ کرام اسے سنت موکدہ کہتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) دونوں کل چودہ سجدوں کے قائل ہیں۔ تاہم امام اعظم (رح) اس سورة میں آمدہ دوسرے سجدہ کو سجدہ تلاوت تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ اسے سجدہ نماز پر محمول کرتے ہیں۔ امام شافعی (رح) یہ دونوں سجدے تسلیم کرتے ہیں مگر آپ سورة صٓ والا سجدہ سجدہ تلاوت کے طور پر نہیں مانتے۔ یہ سجدہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے ذکر والی آیت میں آتا ہے اور خود حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت پر سجدہ ادا کیا تھا۔ امام مالک (رح) کے نزدیک چودہ کی بجائے صرف گیارہ سجدے ہیں۔ وہ ساتویں منزل میں آنے والے سورة النجم ، سورة الانشقاق اور سورة العلق کے سجدوں کو سجدہائے تلاوت تسلیم نہیں کرتے ۔ حالانکہ حضور ﷺ نے ان آیات کی تلاوت پر بھی سجدے کیے تھے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایک مجلس میں سجدہ تلاوت کی آیت خواہ کتنی دفعہ بھی پڑھی جائے۔ صرف ایک سجدہ واجب ہوتا ہے ہاں اگر مجلس بدل جائے اور متعلقہ آیات تلاوت کی جائے یا سنی جائے تو دوبارہ سجدہ کرنا ضروری ہوجاتا ہے اگر ایسی آیت پڑھتے یا سنتے وقت کوئی سجدہ کرنے کی حالت میں ہے تو فوراً سجدہ کرلے اور اگر طہارت نہیں ہے یا کوئی اور عذر ہے تو اس سجدے کو موخر بھی کیا جاسکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ مقامات سجدہ ایسے مقامات ہیں جہاں یا تو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے یا سجدہ کرنے والوں کی مدح کی گئی ہے اور یا پھر سجدہ کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایسی آیت کو پڑھنے یا سننے پر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ سجدہ ادا کرے اور عذاب الٰہی سے بچ جائے۔ آیت زیر درس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہت سے لوگ سجدہ کرتے ہیں ، وہ اللہ کی گرفت سے بچ جاتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو سجدہ نہ کرکے عذاب الٰہی کے مستحق بن جاتے ہیں۔ عزت اور ذلت کی کنجی : فرمایا ومن یھن اللہ فمالہ من مکرم ، جسے اللہ تعالیٰ ذلیل کردے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں۔ اور خدا تعالیٰ ذلیل اسی شخص کو کرتا ہے جو ذلت کے واقعی قابل ہوتا ہے۔ وہ تو رحیم وکریم بھی ہے مگر جو خود کو ذلت امیز امور کی طرف لے جائے تو اللہ فرماتا ہے نولہ…………جھنم (النساء 115) جدھر کوئی جانا چاہتا ہے وہ م ادھر ہی پھیر دیتے ہیں یعنی غلط راستے پر جانے کی توفیق سلب نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ برائی کو پسند نہیں کرتا اور پھر ایسے شخص کو جہنم رسید کردیتا ہے فرمایا ان اللہ یفعل ما یشاء اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے اس کے ارادے اور مشیت میں کوئی چیز حائل نہیں ہوسکتی جب کسی کو ذلیل کرنا چاہتا ہے تو پھر کوئی ذات اس کو ذلت سے نہیں نکال سکتی۔ اگر تائب ہوجائے ، اللہ اس کی توفیق دے دے تو پھر وہ خود ہی ذلت سے نکال بھی لیتا ہے۔ دوگروہوں کے درمیان فیصلہ : آگے ارشاد ہے ھذن خصمن اختصموا فی ربھم یہ دو دعویدار ہیں جنہیں جھگڑا کیا ہے اپنے پروردگار کی توحید کے بارے میں۔ ایک گروہ توحید کو مانتا ہے اور دوسرا انکار کرتا ہے۔ ان دونوں کا جزاء عمل اللہ نے بیان فرمایا ہے۔ بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا انا اول من یجثو بین یدی الرحمن یعنی میں پہلا شخص ہوں گا جو قیامت والے دن خدائے رحمن کے سامنے گھٹنے ٹیک کر عرض کروں گا۔ جنگ بدر کے موقع پر ایک طرف حضرت علی ؓ ، حضرت حمزہ ؓ اور حضرت عبیدہ ابن حارث ؓ مسلمان تھے اور دوسری طرف عتبہ ، شیبہ اور ولید کافر تھے۔ یہ سارے کے سارے ایک ہی برادری اور قبیلے سے تعلق رکھتے تھے مگر کفر واسلام کی وجہ سے آنے سامنے آکھڑے ہوئے تھے ان میں سے تینوں کافرمارے گئے اور ایک مومن حضرت عبیدہ ابن حارث ؓ زخمی ہو کر شہید ہوئے۔ تو اس واقعہ کے تناظر میں حضرت علی ؓ کہتے ہیں میں خدا تعالیٰ کے سامنے عرض کروں گا کہ مولا کریم ! ہمارے درمیان فیصلہ فرما کہ یہ کافر ہمارے مقابلے میں کیوں آئے تھے۔ جب کہ ہم تیری توحید کو مانتے ہیں ، تیری عبادت کرتے ہیں اور تیرے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔ تو فرمایا ایسے لوگوں کے متعلق اس دن فیصلہ ہوگا۔ ایک گروہ وہ ہے جو اللہ کی توحید پر کاربند ہے اور دوسرا وہ ہے جو کفر اور شرک پر اڑا ہوا ہے۔ کفار کے لئے سزا : تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہوگا فالذین کفروا قطعت لھم ثیاب من نار ، جن لوگوں نے کفر کیا ان کیلئے دوزخ کی آگ کے کپڑے تیار کیے جائیں گے۔ یہ کپڑے ایسے خام مال سے تیار شدہ ہوں گے جو فوراً آگ پکڑ لے ، گویا انہیں آگ کے کپڑے پہنائے جائیں گے۔ حضور ﷺ نے نوحہ کرنے والے مرد وزن کے متعلق بھی فرمایا کہ قیامت والے دن ان کے لباس گندھک کے ہوں گے جو ذرا سے اشارے سے بھی فوراً آگ پکڑلیں گے۔ ایسے ہی کافروں کے لباس بھی ہوں گے۔ اس کے علاوہ یصب من فوق رء وسھم الحمیم ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی بہایا جائے گا۔ اور اگر وہ اس کا ایک گھونٹ پی لیں گے ۔ یصھر بہ مافی بطونھم تو جو کچھ ان کے پیٹ میں ہے اسے پگھلا کر باہر پھینک دے گا۔ والجلود اور ان کی کھالوں کو بھی جلا ڈالے گا۔ سورة النساء میں ہے کلما…………غیرھا (آیت 56) جی ایک کھال جل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری پہنا دی جائے گی اور اس طرح کافروں کی کھالیں ہمیشہ جلتی رہیں گی۔ فرمایا ولھم مقامع من حدید ، اور ان کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے ان کے ساتھ انہیں مارا جائیگا۔ بعض احادیث میں آتا ہے کہ اس ہتھوڑے کی ضرب اتنی شدید ہوگی کہ ساری کائنات مل کر بھی ایک ضرب برداشت نہ کرسکے ، فرمایا کلما ارادوا ان یخجرا منھا من غم جب بھی کفار ومشرکین اس دوزخ سے غم وپریشان کی وجہ سے نکلنے کی کوشش کریں گے اعیدوا فیھا تو وہ اس میں واپس لوٹا دیے جائیں گے۔ ہتھوڑے مار مار کر انہیں دوزخ میں دھکیل دیا جائیگا۔ اور وہاں سے نکلنے کی صورت نہیں ہوگی۔ دوسری جگہ ہے وماھم بخرجین من النار (البقرہ 167) ایسے لوگ دوزخ سے نکلنے والے نہیں ہوں گے۔ انہیں ہمیشہ کے لئے وہیں رہنا ہوگا۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا۔ وذوقوا عذاب الحریق اب جلانے والے عذاب کا مزا چکھو۔ تم دنیا میں اکڑ دکھاتے تھے ، کفر اور شرک پر اڑے رہے ، توحید کو مٹانے کی کوشش کی اور کفر کے پروگرام کو غالب کرنا چاہا تمہارے عقیدے اور عمل کا یہی بدلہ ہے۔ اس سے نپٹو۔