Ayahs 22:34–37ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حرم شریف کا ادب واحترام ذکر کیا۔ پھر خانہ کعبہ کی تعمیر نو کا حکم دیا اور اس کی فضیلت بیان فرمائی۔ اللہ نے لوگوں کے وہاں تک پہنچنے کی پیشن گوئی بھی فرمائی اور شعائر اللہ کی تعظیم کا ذکر بھی کیا۔ پھر شرک کی قباحت کو مثال کے ذریعے سمجھایا۔ چونکہ قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں داخل ہیں اس لئے اللہ نے آج کی آیات میں قربانی کے بعض احکامات بیان فرمائے ہیں اور اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ قربانی صرف آخری امت کے لوگوں کے لئے ہی مقرر نہیں کی گئی بلکہ اللہ نے سابقہ تمام امتوں کے لئے اس کا طریقہ مقرر کیا تھا۔
قربانی کا طریقہ :
ارشاد ہوتا ہے ولکل امۃ جعلنا منسکا ، ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے۔ منسک کا معنی مطلق عبادت بھی ہونا ہے اور قربانی کا طور طریقہ بھی۔ تاہم یہاں پر دوسرا معنی مراد ہے۔ جیسا کہ نفس مضمون سے ظاہر ہے ۔ اگر یہ مصدر ظرف ہو تو اس کا معنی قربان گاہ بھی درست ہے۔ کیونکہ قربانی کے جانور منیٰ میں واقع قربان گاہ میں لے جاکر ذبح کیے جاتے ہیں قربانی کا لفظ تقرب سے ہے اور اس کو یہ نام اسی لئے دیا گیا ہے کہ یہ تقرب الٰہی کا ذریعہ ہے۔ اس سے خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوتی ہے تو فرمایا ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا طریقہ مقرر فرمایا ہے ۔ لید کروا اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام تاکہ وہ اللہ کا نام ذکر کریں اس چیز پر جو اللہ نے انہیں چوپائے مویشیوں کی صورت میں روزی دی ہے۔ چناچہ قربانی انہیں مویشیوں کی ہوتی ہے جن کا ذکر اللہ نے سورة الانعام میں کیا ہے یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری۔ یہ چاروں قسم کے جانور بہمبۃ الانعام کہلاتے ہیں اور یہ ایسے پالتوجانور ہیں جو انسان سے زیادہ قریب اور اس سے مانوس ہوتے ہیں ۔ جنگلی اور شکاری جانوروں کی طرح یہ متوحش نہیں ہوتے ، بلکہ اللہ نے ان کی فطرت میں انسانوں کی خدمت کا جذبہ رکھ دیا ہے چناچہ اللہ نے اپنی نیاز کے طور پر پیش کیے جانے کے لئے یہ چار قسم کے نر اور مادہ مویشی مقرر فرمائے ہیں۔
ملت ابراہیمیہ میں متوارث طریقے کے مطابق جس جانور کے حلق پر چھری رکھ کر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے وہ جانور حلال ہوتا ہے۔ اگر اس طریقے کے خلاف کیا جائے گا تو جانور حلال نہیں ہوگا۔ مثلاً اگر کوئی شخص جانوروں کو قطار میں کھڑا کرکے گولی ماردے یا اوپر سے مشین چلا کر گردن کا ۔۔۔ دے یا تلوار کا یکدم وارکرکے گردن جدا کردے تو یہ طریقہ صحیح نہیں ہے۔ بعض لوگ چھری پر بسم اللہ لکھ کر اسے سے ذبح کرتے ہیں اور زبان سے بسم اللہ اللہ اکبر ادا نہیں کرتے ، یہ بھی غلط طریقہ ہے۔ بعض لوگ بسم اللہ پڑھ کر مشین کا بٹن دیا دیتے ہیں جس سے بہت سے جانور بیک وقت ذبح ہوجاتے ہیں ۔ یہ بھی غلط ہے یہ بسم اللہ تو بٹن دبانے کی ہے۔ ہر جانور کے لئے علیحدہ علیحدہ اللہ کا نام لے کر تو ذبح نہیں کیا گیا۔ ایسا جانور حلال نہیں ہوگا۔ بلکہ مردار کی تعریف میں آئے گا۔ ہر جانور کے حلق پر بسم اللہ پڑھ کر چھری چلانا ضروری ہے ہاں اگر کوئی مجبوری لاحق ہوجائے تو پھر دوسرے طریقے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً جانور کسی ایسی جگہ پھنس گیا ہے جہاں پر حلق پرچھری نہیں چلائی جاسکتی یا متوحش ہوگیا اور قابو میں نہیں آتا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر اگر اس کی ران میں بھی زخم لگادوگے ، تو وہ حلال ہوجائیگا بہرحال عام حالات میں ملت ابراہیمیہ کے طریقے پر ہی ذبح کیا جائے گا تو جانور حلال ہوگا ، ورنہ نہیں۔
غیر اللہ کے لئے قربانی :
ذبح کرتے وقت اللہ کا نام ذکر کرنے سے مراد یہ ہے کہ قربانی صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لئے اس کی نیاز کے طور پر کی جائے اگر کوئی جانور غیر اللہ کی خوشنودی کے لئے ذبح کیا جائے گا تو اس میں حرمت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ مردار ہوجاتا ہے۔ ملت حنیفیہ کے تمام امام اس بات پر متفق ہیں کہ غیر اللہ کے نام پر کی گئی قربانی میں روحانی نجاست پیدا ہوجاتی ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں مردار خون ، خنزیر کے گوشت کی حرمت کا ذکر کیا ہے وہاں وما اھل بہ لغیر اللہ (البقرہ 173) کہہ کر غیر اللہ کے تقرب کے لئے کی جانے والی قربانی کو بھی قطعی حرام قرار دیا ہے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا ہے ولا تاکلوا…………علیہ (الانعام 122) جس جانور پر اللہ کا نام ذکر نہ کیا گیا ہو۔ اس میں سے مت کھائو۔
توحید اور اخبات :
آگے ارشاد ہے فالھکم الہ واحد پس تمہارا معبود برحق ایک ہی معبود ہے فلہ اسلموا پس اسی کی فرمانبرداری کرو۔ اسی ایک خدا کے حکم کو مانو اور اسی کے سامنے جھکو۔ اس کے جلال اور عظمت سے ڈرتے رہو اور اس کے نام کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو۔ وبشرالمخبتین اور عاجزی اختیار کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔ اخبات کا معنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہار نیازمندی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) فرماتے ہیں (ہمعات ص 89 وجحۃ اللہ ص 53 ج 1 (فیاض) کہ انسان کی سعادت اور نیک بختی ان چار چیزوں میں ہے یعنی (1) طہارت (2) اخبات (3) سماحت (بہیمی خواہشات اور حقیر چیزوں سے بچنا) اور (4) عدالت ، اگر طہارت کی بجائے نجاست ہوگی خواہ عقیدہ میں ہو یا عمل میں اخبات یعنی عاجزی کی بجائے غرور ، سماحت یعنی فیاضی کی بجائے خسیس خواہشات اور عدالت کی بجائے ظلم ہوگا تو یہ بدبختی کی علامت ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء اور تمام آسمانی شرائع نے ان چار چیزوں کی تعلیم دی ہے یہاں پر اللہ نے فرمایا کہ عاجزی اختیار کرنے والوں کو خوشخبری سنادو کہ وہ سعادت مند ہوں گے اور اللہ کے ہاں ان کا انجام اچھا ہوگا۔
عاجزی کرنے والوں کی صفات :
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مجنتین یعنی عاجزی کرنے والوں کی بعض صفات بیان کی ہیں۔ ان کی پہلی صفت یہ ہے الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم ، جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ بڑی شان کا مالک ہے لہٰذا اس کے ذکر سے دل میں خشیت پیدا ہوجاتی ہے۔ گویا ان کے دل پر اللہ کے جلال وجبروت کا اثر ہوجاتا ہے اور وہ ڈر جاتے ہیں۔
اخبات اختیار کرنے والوں کی دوسری صفت یہ ہے والصبرین علی ما اصابھم جو بھی مصیبت یا سختی ان کو پہنچتی ہے ، وہ اس پر صیر کرنے والے ہوتے ہیں۔ حق کے راستے میں خواہ انہیں کوئی اندرونی مشکل پیش آئے یا کسی بیرونی آفت میں گرفتار ہوجائیں ، ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آتی ، جزع فزع اور بےصبری کا اظہار نہیں کرتے بلکہ آمدہ پریشانی کو خندق پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔
ان کی تیسری صفت اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے والمقیمی الصلوٰۃ وہ نماز قائم کرنے والے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی عبادات میں سے نماز کو اولیت حاصل ہے۔ لہٰذا مخبتیں کی جماعت نماز پر مداومت اختیار کرتے ہیں اور اس کو ضائع نہیں ہونے دیتے۔
اللہ نے چوتھی صفت کے طور پر فرمایا ومما رزقنھم ینفقون جو کچھ ہم نے ان کو روزی دی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں اس خرچ سے مراد انفاق فی سبیل اللہ ہے یعنی جس موقع ومحل پر اللہ نے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے وہاں خرچ کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ یہ خرچ کبھی فرض ہوتا ہے ، کبھی واجب ، کبھی سنت اور کبھی مستحب۔ ان سب مدات میں خرچ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے لواحقین ، ملازمین ، احباب ، مہمانان ، غربا و مساکین پر خرچ کرتے ہیں۔ عبادات کے ضمن میں حج ، عمرہ ، جہاد اور تبلیغ پر خرچ کرتے ہیں۔ اس میں نیکی کی تمام بنیادی باتیں آگئی ہیں سو ان لوگوں کو خوشخبری سنا دیجئے کہ ان اوصاف کے حاملین عاجزی کرنے والوں کا انجام اچھا ہوگا۔
اونٹ کی قربانی :
قربانی کے جانوروں کے متعلق مزید فرمایا والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ اور قربانی کے اونٹ کہ ان کو ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے ۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے قربانی بھی شعائر اللہ میں سے ہے۔ جب وہ اس مقصد کے لئے نامزد ہوگئی تو اس میں تقدس والی بات پیدا ہوگئی اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ بن گئی۔
بدن موٹے اور جسم جانور پر بولا جاتا ہے چونکہ اونٹ بڑی کلانی کا جانور ہے اس لئے عام طور پر یہ لفظ اونٹ کے لئے بولاجاتا ہے ویسے موٹے آدمی کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور تبدن کا معنی ہوتا ہے کہ فلاں شخص کا بدن موٹا ہوگیا ہے۔ بہرحال بدن سے مراداونٹ ہے۔ امام شافعی (رح) اسے صرف اونٹوں پر محمول کرتے ہیں۔ جب کہ امام ابوحنیفہ (رح) گائے بھینس کو بھی بدن میں شامل کرتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ حضور کا فرمان ہے والجزورعن سبعۃ والبقرۃ عن سبعۃ یعنی ایک اونٹ کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے ہوسکتی ہی اور ایک گائے کی قربانی بھی سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔ البتہ اونٹ میں اس کی بڑائی کی وجہ سے چونکہ فائدہ زیادہ ہے ، اس لئے گائے بھینس پر اس کی فضیلت حاصل ہے ، تاہم گائے بھینس کا بھی یہی حکم ہے۔
فرمایا لکم فیھا خیر اس میں تمہارے لئے بہتری ہے۔ فاذکرواسم اللہ علیھا صواف پس ان قربانی کے اونٹوں پر اللہ کا نام ذکر کرو۔ جب کہ وہ قطار باندھے کھڑے ہوں۔ اس لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اونٹوں کو بٹھا کر ذبح کرنا درست نہیں بلکہ انہیں کھڑے کھڑے ہی نحر کردینا چاہیے۔ اونٹ کا ایک گھٹنا باندھ دیا جائے اور پھر اسے تین پائوں پر کھڑا رکھ کر اس کی گردن میں زخم لگایا جائے۔ اس کو نحر کرنا کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اونٹ کو بٹھا کر نحر کررہا ہے تو آپ نے فرمایا کہ حضور ﷺ کی سنت یہ ہے کہ اونٹ کا ایک گھٹنا باندھ کر اور تین پائوں پر کھڑا کرکے نحر کیا جائے۔ اگرچہ بٹھا کر بھی قربانی درست ہوجاتی ہے۔ مگر یہ خلاف سنت اور خلاف اولیٰ ہے۔
قربانی کا گوشت :
ارشاد ہوتا ہے فاذا وجبت جنوبھا پھر جب وہ نحر شدہ جانور پہلو کے بل گرجائیں فکلوامنھا تو اس کے گوشت میں سے خود کھائو۔ قربانی کا گوشت قربانی کرنے والا بھی کھاسکتا ہے۔ البتہ نذر کی قربانی یا دم کے طور دی گئی قربانی کا گوشت آدمی خود نہیں کھاسکتا۔ تو فرمایا کہ خود بھی کھائو واطعموا القانع والمعتر نیز قناعت کرنے والے اور بےقرار کو بھی کھلائو۔ بعض لوگ تھوڑی چیز پر بھی قناعت کرلیتے ہیں۔ اور بعض بےصبری کا اظہار کرتے ہیں۔ فرمایا سب کو کھلائو۔ قربانی کے گوشت سے کسی کو محروم نہ رکھو۔ اکثر لوگ گلیوں بازاروں میں مانگتے پھرتے ہی۔ ان کو معتر کہا گیا ہے۔
جانوروں کی خدمت گزاری :
فرمایا کذلک سخرنھا لکم اسی طرح ہم نے تمہارے لئے جانوروں کو مسخر کردیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اونٹ اور بیل جیسے جانوروں کو تمہارے بس میں نہ کرتا تو یہ تمہیں نقصان پہنچاتے۔ اللہ نے اپنی حکمت سے ان کو تمہارے تابع کردیا ہے ، یہ تمہارے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ ان پر سواری کرلو ، بوجھ لاد دو یا زراعت میں کام لے لو ، یہ تمہارے خدمت گزار ہیں۔ اور ان کو تسخیر کا مقصد یہ ہے۔ لعلکم تشکرون تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے شکرگزار بندے بن جائو۔
اونٹ کی تو تخلیق ہی اللہ تعالیٰ نے عجیب طریقے پر کی ہے اللہ نے احسان کے طور پر فرمایا افلا … ……خلقت (الغاشیۃ 17) کیا وہ دیکھتے نہیں کہ اونٹوں کو کس عجیب و غریب طریقے سے پیدا کیا گیا ہے۔ یہ بڑا طاقتور جانور ہے مگر اللہ نے اس میں کمال درجے کی انکساری رکھی ہے۔ بڑا خدمت گزار ہے۔ انسان کا ایک چھوٹا سا بچہ بھی مہار پکڑ کر سو اونٹ کی قطار کو جدھر چاہے لے جاسکتا ہے۔ ابتدائے دنیا سے لے کر اونٹوں سے بار برداری کا بڑا کام لیا گیا ہے مگر اب مشینی دور میں اس کی وہ قدرومنزلت نہیں رہی۔ البتہ صحرائی علاقوں میں آج بھی اونٹ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔
سورا ہونے کی دعا :
فرمایا ، اللہ نے تمہارے لئے سواریوں کو مسخر کردیا ہے تاکہ تم شکرگزاربن جائو ۔ اور شکرگزاری کا اولین طریقہ حضور ﷺ نے دعا کی صورت میں بتلایا کہ جب تم کسی سواری پر سوار ہو تو یوں کہا کرو۔ سبحان……………لمقتلبون (الزخرف 14- 13) پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لئے مسخر کردیا ، ورنہ اسے قابو کرنے کی ہم میں کہاں طاقت تھی۔ یہ دعا ہر جاندار سواری اور مشینی سواری پر سوار ہوتے وقت پڑھنی مسنون ہے۔ اونٹ گھوڑا ہو یا کار ، ہوائی جہاز وغیرہ اسے اللہ تعالیٰ نے ہی ہمارے لئے تسخیر کیا ہے مگر جب وہ اپنی نگرانی اٹھالیتا ہے تو پھر کسی سواری سے مستفید ہونا ہمارے بس کی بات نہیں رہتی۔ اب تین ہفتے کی بات ہے کہ ایک جاپانی جہاز طوفان میں گھر گیا جس کی وجہ سے 528 آدمی ہلاک ہوگئے۔ دنیا میں آئے دن حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ ان سواریوں کی تسخیر بھی اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔
قربانی کی روح تقویٰ :
آگے اللہ تعالیٰ نے قربانی کی حکمت بھی بیان فرمائی ہے لن ینال اللہ لحومھا ولا دماء ھا اللہ تعالیٰ کو قربانی کا گوشت یاخون نہیں پہنچتا ولکن ینالہ التقوی منکم بلکہ اسے تو تمہارا صرف تقویٰ پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری نیت اور ارادے کو دیکھتا ہے کہ اس میں کتنا خلوص ہے۔ تم یہ قربانی خالصتاً خدا کی رضا کے لئے کر رہے ہو یا تمہارے دل و دماغ کے کسی کونے میں ریاکاری بھی چھپی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو مادی گوشت اور خون کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تمہارے دلوں کے تقویٰ کو دیکھتا ہے۔
اس میں ان مشرکین کا رد بھی ہوگیا جو معبودان باطلہ کے نام پر قربانی کرکے قربانی کا خون بتوں کے چہروں پر مل دیتے ہیں اور ان کے سامنے گوشت رکھتے ہیں تاکہ ان کا غصہ ٹھنڈا ہو اور لوگ ان کے قر وغضب سے بچ جائیں۔ بعض اوقات مشرک بتوں کے نام پر انسانی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ یہ طریقہ برصغیر کے ہندوئوں میں بھی بہت عرصہ تک رہا ہے۔ اور اب بھی کبھی کبھار کوئی ایسا واقعہ پیش آجاتا ہے۔ کہ کسی شخص نے اپنے بیٹے کو کسی بت کو بھینٹ چڑھا دیا۔ اس کو وہ بلیدان کرنا بھی کہتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ اسے قربانی کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارے دلوں کا تقویٰ اور خلوص پہنچتا ہے۔
فرمایا کذلک سخرھا لکم اسی طرح ہم نے ان کو تمہارے تابع کردیا ہے۔ تم ان جانوروں سے خدمت لے سکتے ہو اور ان کا دودھ بال ، کھال اور گوشت استعمال کرسکتے ہو۔ اور اس سے مقصودیہ ہے لتکبر اللہ علی ماھدکم تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ، توحید کا راستہ دکھایا ، قربانی کا طریقہ سکھلایا اور عبادت کرنے کا طریقہ سمجھایا تاکہ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرکے سعادتمند بن جائو۔ قربانی کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کہنے کا یہی فلسفہ ہے کہ اس نے ہمیں اس راہ نجات کی طرف ہدایت بخشی ہے۔ فرمایا وبشر المحسنین اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔ نیکی میں بنیادی طور عبادات اربعہ یعنی نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج شامل ہیں۔ البتہ قربانی بھی شعائر اللہ اور اعلیٰ درجے کی نیکی ہے۔ فرمایا نیکی کرنے والوں کو نیک انجام کی خوشخبری بھی سنادو کہ وہ الل ہ کے ہاں سرخروہ ہوجائیں گے۔
Ayahs 22:38–40ربط آیات :
گزشتہ آیات میں بیت اللہ شریف کی تعمیر نو ، حج ، قربانی ، شرک کی تردید اور دیگر مسائل کا ذکر ہوا۔ کفار کی طرف سے اللہ کے راستے اور مسجد حرام سے روکنے کا بیان بھی ہوچکا ہے۔ مکہ کے مشرکی کسی مسلمان کو خانہ کعبہ میں جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے حتی کہ 6 ھ میں تقریباً ڈیڑھ ہزار اہل ایمان کو عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا ، حالانکہ حرم پاک میں مقامی اور بیرونی تمام لوگوں کو عبادت کرنے کا یکساں حق حاصل ہے ۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ پہلی آیت بطور تمہید ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دی ہے۔ اس کے بعد دوسری آیت میں جہاد کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور مسلمانوں کی مظلومیت کا ذکر کیا گیا ہے۔
اہل ایمان کی حوصلہ افزائی :
مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ ہمیشہ کفار کے رحم وکرم رپ ہی رہیں گئے بلکہ ان کا اللہ ان کے ساتھ ہے ان اللہ یدافع عن الذین امنوا کافروں کے مقابلے میں بیشک اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا دفاع کریگا۔ ان کے ظلم وستم ہمیشہ نہیں رہیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کفار کے غرور کے بت کو پاش پاش کردے گا ، لہٰذا مسلمانوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پر ایمان رکھنا چاہیے۔ وہ ضرور ان کی مدد کرے گا ، ان کو غلبہ عطا کریگا اور کفار میں اہل ایمان کو روکنے کی قوت باتی نہیں رہے گی فرمایا ان اللہ لا یحب کل خوان کفور بیشک اللہ تعالیٰ کسی خائن اور ناشکر گزار کو پسند نہیں کرتا۔ امانت میں خیانت کرنے والا اور اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرنے والا اس کے نزدیک مبغوض ہوتا ہے۔
کفار کی خیانت :
کفار ومشرکین اس لحاظ سے خائن ہیں کہ اللہ نے ان کو فطرت سلیمہ اور عقل جیسی نعمتیں عطا فرمائی مگر انہوں نے ان کو بروئے کار لاکر ایمان لانے ، ہدایت قبول کرنے ، شعائر اللہ کی تعظیم کرنے اور نبی آخر الزمان کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ فطر سلیمہ اور عقل اللہ کی جانب سے ان کے پاس امانت تھی مگر انہوں نے ان کا صحیح استعمال نہ کرکے اس امانت میں خیانت کی۔
بعض دوسری آیات اور احادیث میں بھی اس بات کے اشارات ملتے ہیں منافقوں کے متعلق بھی اللہ نے فرمایا فما ربحت تجارتھم (البقرہ 17) ان کی تجارت نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ فطرت سلیمہ اور عقل ان کے پاس بیش قیمت پونجی تھی جس کو خرچ کرکے انہوں نے ایمان جیسا مفید سودا خریدنے کی بجائے نفاق جیسی قبیح چیز کو خرید لیا۔ ان کی تجارت میں خسارے کا یہی مطلب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر انان کو عمر بھی بطور پونجی عطا کی ہے ، اسی طرح صحت فطرت سلیمہ اور عقل سلیم بھی پونجی ہے۔ صحیحین (مسلم ص 118 ج 1 (فیاض) کی حدیث میں آتا ہے کل الناس یغدوا فبائع نفسہ فمعتقھا او موبقھا ہر انسان جب رات گزار کر صبح کرتا ہے تو اپنے نفس کو بیچ کر یا تو اسے آزاد کرالیتا ہے یا ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔ جو شخص زندگی کی قدر کرنے والا ہے وہ ایمان ، تقویٰ ، اخلاص اور اعمال صالحہ جیسی اچھی چیزیں خرید کر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے عذاب سے آزاد کرالیتا ہے ، یا پھر کفر ، شرک اور معاصی کا سودا خرید کر اپنی تباہی و بربادی کا سامان پیدا کرلیتا ہے۔ یہاں پر اللہ نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کافر اور مرشک خائن ہیں ، انہوں نے قیمتی پونجی کو ضائع کردیا ہے اور اس کے بدلے میں ابدی خسارے والی چیز خریدلی ہے یہ لوگ خائن بھی ہیں اور ناشکرگزار بھی۔ یہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کے غرور کو خاک میں ملادے گا۔ یہ اہل ایمان کے لئے تسلی کا مضمون ہوگیا۔
دفاع کا خدائی پروگرام :
جب خدا تعالیٰ کسی قوم کی حفاظت کرنا چاہتا ہے تو ظالم قوم سے دفاع کے لئے اسباب بھی پیدا کردیتا ہے۔ بعض سابقہ ظالم اقوام کو اللہ تعالیٰ نے آسمانی آفات نازل کرکے راستے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ دوسری قوموں کو عروج بخشا۔ بعض اوقات وہ مظلوم قوم کو جہاد کی اجازت دے کر ظالم قوم کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔ سورة التوبہ میں گزر چکا ہے کہ اللہ نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ اگر مشرک لوگ عہد شکنی کریں اور دین میں طعن کریں فقاتلوا……الکفر (آیت 12) تو ان اکابرین کفر سے جنگ کرو اور انہیں راستے سے ہٹا دو ۔ مکی زندگی میں تو جہاد کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ وہاں تو حکم تھا۔ کفوا………………الزکوٰۃ (النسائ 77) کہ نمازیں پڑھتے رہو ، زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور کفار کی طرف سے ہاتھوں کو روکے رکھو۔ اس کے ساتھ لڑائی نہ کرو بلکہ اپنی تنظیم کو مضبوط بنائو اور جہاد کی تیاری کرتے رہو۔ سورة المزمل ابتدائی سورتوں میں سے ہے ، وہاں بھی اشارہ کردیا واخرون…………سبیل اللہ (آیت 20) آگے چل کر تمہیں اللہ کی راہ میں جہاد بھی کرنا ہے ، لہٰذا ابھی سے اس کی تیاری شروع کردو ، پھر جب اللہ کا حکم ہوگا تو میدان کارزار میں داخل ہوجانا۔ سورة الطلاق میں مزید وضاحت فرمادی قد جعل…………قدرا (آیت 3) اللہ نے ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر کررکھا ہے جب جماعت بندی ہوتی رہی ، طاقت جمع ہوتی رہی۔ دو دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم ہوا اور لوگ وہاں بھی گئے۔ پھر آخر میں ہجرت مدینہ کا حکم ہوا۔ اللہ نے اس مقام کو دارالاسلام بنایا مسلمانوں نے اپنے قوی کو مجتمع کیا اور اللہ نے جہاد کی اجازت بھی مرحمت فرمادی۔
قرآن پاک میں اس بات کی تصریح کردی گئی ہے کہ اسلامی جہاد ، مال و دولت جمع کرنے یا اقتدار حاصل کرنے کے لئے نہیں ہوتا بلکہ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی زمین سے فتنہ و فساد کو ختم کیا جائے ، راستے کی رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور اللہ کی حدود قائم کی جائیں۔ اگر کوئی شخص یا جماتع اہل ایمان کو اللہ کے راستے سے روکتی ہے تو ایسے شرپسندوں کی سرکوبی ہو اور ایمان لانے والوں کے لئے راستہ بالکل صاف ہو ، جہاد کا یہی مقصد ہے۔
اقدامی اور دفاعی جہاد :
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے دین میں اقدامی اور دفاعی دونوں قسم کے جہاد کا حکم ہے۔ چناچہ سورة آل عمران میں ہے قاتلوا ………اوادفعوا (آیت 167) مدینے کے منافقوں سے کہا گیا کہ آئو اللہ کی راہ میں جنگ کرو۔ اگر باہر نکل کر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو کم از کم اپنا دفاع تو کرو ، تمہارے علاقے ، تمہاری عورتیں ، مرد ، اور بچے حملوں کی زد میں ہیں ، دشمن نہ قرابت داری کا لحاظ کرتا ہے اور نہ کسی عہدہ پیمان کا ، فاتح قومیں ہمیشہ مفتوح لوگوں کی بےعزتی کرتی ہیں۔ ان کے مال واسباب لوٹ کرلے جاتے ہیں۔ عورتوں اور مردوں کو لونڈی اور غلام بنالیتے ہیں ، لہٰذا اس مصیبت سے بچائو کی خاطر کم از کم اپنا دفاع تو کرو دیکھ لیں جب امریکہ جاپان پر غالب آیا تو جاپان عورتوں کو امریکہ لے گیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق جاپانی عورتوں کے ساتھ بےخیائی کے نتیجے میں سوالاکھ حرامی بچے پیدا ہوئے۔ جب ان کی پرورش کی ذمہ داری امریکہ پر آئی تو انہوں نے ان عورتوں کو اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے دی۔ جہاد کی دوسری قسم اقدامی ہے یعنی آگے بڑھ کر کفر کے جمگھٹوں پر حملہ آور ہونا۔ وہاں کے رہنے والے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے ، ایمان اور توحید کا راستہ روکا جارہا ہے۔ لہٰذا اہل ایمان پر فرض ہے کہ وہ دشمن پر کاری ضرب لگائیں تاکہ فتنہ وفسادختم ہو اور اللہ کے راستے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔
جہاد کی اجازت :
اسی مقصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جہاد کی اجازت دی ہے اذن للذین یقتلون جن اہل ایمان کے ساتھ کافر لوگ لڑائی کرتے ہیں۔ اب ان کو بھی جنگ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ہجرت کے بعد مشرکین مکہ نے کئی منصوبے بنائے تاکہ مدینہ کی سرزمین پر مسلمانوں کے پائوں جمنے نہ پائیں۔ ہجرت کے دوسرے ہی سال غزوہ بدر پیش آیا جس میں کافروں کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس شکست کا بدلہ لینے کے لئے وہ اگلے سالمدینے پر حملہ آور ہوئے اور احد کے مقام پر گھمسان کارن پڑا۔ یہ تو پھر بھی مدینے سے تین میل باہر تھا۔ 6 ھ میں کافر لوگ براہ راست مدینہ پر حملہ آور ہوئے اور مسلمانوں کو اپنے دفاع کے لئے مدینہ کے تین اطراف میں ساڑھے تین میل لمبی۔ دس بارہ فٹ چوڑی اور قد آدم گہری خندق کھودنا پڑی۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ بھوکے پیاس اہل ایمان نے یہ کام صرف چھ دنوں میں کیسے مکمل کرلیا۔ یہ اتنا کام تھا کہ آج کے مشینی دور میں بھی اتنی جلدی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا ، مگر اپنے دفاع کی خاطر مسلمانوں نے اتنی بڑی مشقت بھی برداشت کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے قوت جمع ہونے پر مسلمانوں کو جہاد کی اجازت دے دی بانھم ظلموا اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا جاتا تھا ۔ اب اللہ تعالیٰ نے مظلوم کو بھی ہتھیار اٹھانے کی اجازت دے دی تاکہ حق اور باطل میں امتیاز ہوجائے۔
مسلمانوں کے لئے نصرت الٰہی :
فرمایا وان اللہ علی نصرھم لقدیر بیشک اللہ تعالیٰ ان مظلوموں کی مدد کرنے پر پادر ہے۔ چناچہ مسلمانوں پر بڑی بڑی مشکلات آئیں ، شکست بھی ہوئی ، جانی اور مالی نقصان بھی ہوا مگر بالآخر اللہ نے اہل ایمان کو ہی غالب کیا اور کفر وشرک کا غرور خام میں مل گیا۔ حضرت علی ؓ اور امیر معاویہ ؓ کے درمیان معرکہ صفین تک مسلمان آدھی دنیا پر غالب آچکے تھے ، اور باقی آدھی دنیا میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ مسلمانوں کا مقابلہ کرسکتی ۔ جب بھی موقع آیا ۔ اللہ نے کفار کو مغلوب ہی کیا۔
واقعہ صفین کے بعد مسلمانوں کی عالمی تحریک رک گئی۔ البتہ اس کا اثر ساڑھے چھ سو سال تک قائم رہا ، اور پھر ساتویں صدی میں مسلمانوں پر انحطاط کا دور شروع ہوگیا۔ ساتویں صدی میں تاتاری حملہ آور ہوئے اور انہوں نے مسلمان سلطنتوں کو درہم برہم کرکے رکھ دیا۔ ایک کروڑ سے زیادہ مسلمان تہ تیغ ہوئے۔ بچوں اور عورتوں کو ذلیل کیا گیا اور بغداد کے کتب خانے جلا کر علمی خزانہ بھی برباد کردیا گیا۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ مسلمانوں کو اللہ نے جہاد کی اجازت دی کہ وہ مظلوم تھے اور اللہ تعالیٰ ان کی نصرت پر قادر ہے ۔
فرمایا مظلوم وہ تھے الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق جن کو ان کے گھروں سے بلاوجہ نکالا گیا۔ ان کا صرف یہ قصور تھا الا ان یقولوا ربنا اللہ کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو رب تسلیم کرنا تو بڑی سعادت کی بات تھی مگر کافروں کے نزدیک یہی سب سے بڑا عیب تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کرے گا اور اس پر اسے مکمل اختیار حاصل ہے ۔
فلسفہ جہاد :
آگے اللہ تعالیٰ نے جہاد کا فلسفہ بھی بیان فرمایا ہے کہ وہ ظلم وتعدی کرنے والوں کی سرکوبی بعض دوسرے لوگوں سے کراتا رہتا ہے بعض اوقات ایک ظالم کو دوسرے ظالم پر مسلط کردیتا ہے۔ اللہ نے سورة الانعام میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے وکذلک…………یکسبون (آیت 130) اور اسی طرح ہم ان کی کارگزاری کی بنا پر بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کردیتے ہیں۔ اب دیکھ لیں دوسری جنگ عظیم میں جرمنی نے کتنا سر اٹھایا تھا اور کتنا ظلم وستم ڈھایا تھا۔ اس کے چار چار سو ہوائی جہاز یکدم بمباری کرتے تھے۔ شہروں کے شہر تباہ ہوگئے۔ لاکھوں آدمی مارے گئے اور بعض دہشت کے مارے ہوش و حواس کھو بیٹھے ۔ پھر اللہ نے اس پر امریکہ ، برطانیہ اور روس کو مسلط کیا۔ گزشتہ دو سو سال میں برطانیہ کا بھی طوطی بولتا تھا اور وہ برطانیہ عظمیٰ کہلاتا تھا جس کی سلطنت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ اللہ نے اس کی سرکوبی بھی کرادی اور اب وہ ایک جزیہ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں اللہ نے مسلمانوں کے ذریعے ظالموں کی سرکوبی کی۔ قادسیہ ، یرموک ، مصر ، خراساں ، افریقہ غرضیکہ ہر معر کے میں مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا کیونکہ یہ صداقت اور نیکی پر تھے۔ اللہ نے حسب وعدہ ان کی مدد فرمائی۔
عبادت خانوں کی بربادی :
اللہ تعالیٰ نے اسی اصول کو یہاں بیان فرمایا۔ ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض اور اگر اللہ تعالیٰ بعض ظالموں کو بعض کے ذریعے دفع نہ کرتا تو بڑا فساد برپا ہوتا جس کے نتیجے میں لھدمت صوامع تو راہبوں کے کے لئے اور خلوت خانے گرادیے جاتے وبیع اور ظالموں کی دست برد سے نصاری کے گرجے بھی نہ بچتے جن میں اپنے طریقے کے مطابق عبادت کرتے ہیں۔ وصلوٰت اور یہودیوں کے عبادت خانے بھی درہم برہم کردیے جاتے۔ ومسجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیرا اور مسلمانوں کی مسجدیں بھی ویران کردی جاتیں جن میں وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ مفسرابوالعالیہ صلوت سے مجوسیوں کے عبادت خانے مراد لیتے ہیں اور بعض نے اس سے صابیوں کے عبادت خانے مراد لیے ہیں اور اس طرح ان چار گروہوں یعنی یہودیوں ، صابیوں ، نصاریٰ اور مجوسیوں کا نام آجاتا ہے جن کا ذکر اس سورة کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ بعض کو بعض کے ذریعے دفع نہ کرتا تو کوئی عبادت خانہ بھی ان کی دشت برد سے محفوظ نہ رہتا۔ اللہ نے یہ انتظام کررکھا ہے کہ وہ ا کی گروہ کی سرکوبی دوسرے گروہ کے ذریعے کرادیتا ہے۔
عبادت خانوں کی تباہی کے متعلق امام محمد (رح) اپنی تاریخ کی کتابوں السیر الصغیر اور السیر الکبیر میں لکھتے ہیں کہ جب مسلمان حربی کافروں پر حملہ آور ہوتے تو ان کا کچھ لحاظ نہ کرتے۔ ان کے آدمیوں کو قتل کرتے ، ان کو لونڈی غلام بناتے ، عمارتوں کو گراتے حتیٰ کی عبادت خانوں کا لحاظ بھی نہ کرتے۔ کیونکہ دارالحرب میں سب کچھ روا ہے۔ البتہ جن کافروں کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہوجاتا اور جو جزیہ دینا قبول کرکے ذمی بن جاتے ان کی جان ، مال ، عزت ، آبرو اور عبادت خانے سب مامون ہوجاتے اور ان کی رسوم میں بھی تعرض نہ کیا جاتا ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے جو شخص کسی معاہدہ کو قتل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کردیگا۔ حتیٰ کہ اسے جنت کی خوشبو بھی نہیں پہنچے گی۔
جزیہ کا جواز :
اسلام نے مفتوح علاقے میں غیر مسلموں سے جزیہ وصول کرکے انہیں ان کے دین پر قائم رہنے کی اجازت دی ہے اور ان کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے ، اسی لئے وہ ذمی کہلاتے ہیں۔ ان کا مکمل خاتمہ اس لئے نہیں کیا گیا کہ وہ ابھی تک اشتباہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہود ونصاریٰ کی گمراہی پر کوئی شک وشبہ نہیں ہے مگر ان کے خیال کے مطابق کہ شاید وہ صحیح راستے پر ہیں ، اللہ نے ان کو ذمی بنانے کی اجازت دیدی ہے ان کا یہ اشتباہ مسیح (علیہ السلام) کے نزول پر رفع ہوگا۔ جب ہدایت کے تمام پردے اٹھ جائیں گے۔ اس وقت یا تو اسلام قبول کریں گے یا پھر ختم کردیے جائیں گے۔ قرب قیامت میں حق و باطل بالکل واضح ہوجائے گا اس لئے اس وقت گوئی شبہ باقی نہیں رہے گا۔ لہٰذا اس وقت جزیہ کا مسئلہ بھی ختم ہوجائے گا اور ان دونوں راستوں میں سے ایک اختیار کرنا ہوگا۔ وہ اسلام قبول کرلیں گے یا پھر قتل کردیے جائیں گے ، درمیانی راستہ کوئی نہیں ہوگا۔
اللہ کی مدد :
فرمایا ولینصرن اللہ من ینصرہ یادرکھو ! جو شخص اللہ کی مدد کریگا یعنی اس کے دین اور رسول کی مدد کریگا تو خدا تعالیٰ بھی اس کی مدد کریگا۔ بشرطیکہ اس میں خلوت نیت پایا جائے اور طریق کار بھی صحیح ہو۔ دوسری جگہ ہے ان تنصرو اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم (محمد 7) اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم کردے گا۔ اب مسلمانوں پر مصائب آنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کی کماحقہ مدد نہیں کی۔ اس وقت مسلمانوں کی پچاس سے زیادہ ریاستیں دینا میں موجود ہیں مگر کوئی بھی دین کے تقاضے پورے کرنے پر تیار نہیں۔ تمام ملوک ، شیوخ اور ڈکٹیٹر اپنے اپنے ذاتی اقتدار کے بھوکے ہیں۔ مذہب کا نام برائے نام رہ گیا ہے ، ورنہ کام کچھ نہیں ہورہا ہے ذاتی عیش پرستی کا یہ حال ہے کہ افریقہ کی ایک چھوٹی سی ریاست کے سربراہ نے اپنی رہائش گاہ پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ سنہری گنبد ہے ، اور سینکڑوں کمروں کو اعلیٰ ترین فرنیچر سے مزین کیا گیا ہے۔ یہ دولت تو امانت تھی جسے غرباء اور حاجت مندوں کے کام آنا چاہیے تھا۔ اس قدر فضول خرچی کی ضرور باز پرس ہوگی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اللہ کے دن کی مدد کی جاتی مگر اس کی توفیق کہاں ؟ اسی لئے تو سارے مسلمان سپر پاورز کے دست نگر ہیں۔ اللہ نے فرمایا وہ ضرور مدد کرے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا۔ کیونکہ ان اللہ لقوی عزیز بیشک اللہ تعالیٰ بڑی طاقت کا مالک اور غالب ہے۔ وہ ہر کام کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ اہل ایمان کو بھی چاہیے کہ عالم اسباب میں رہتے ہوئے خدا کے دین کی تائید کریں جیسا کہ صحابہ کرام ؓ نے دین کی تائید کی۔ اگر آج کا مسلمان بھی صحابہ کرام ؓ کے نقش قدم پر چل نکلے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ان کی ضرور مدد فرمائے گا۔
Ayahs 22:41–45ربط آیات : گزشتہ سے پیوستہ رکوع میں بیت اللہ شریف کی تعمیرنو کا ذکر ہوا ، اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور یہ کہ بیت اللہ کو زائرین کے لئے پاک صاف رکھا جائے۔ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اعلان حج کا حکم بھی دیا اور پھر حج کے بعض احکامات اور قربانی کے مسائل بیان فرمائے۔ پھر ایمان داروں کے دفاع کی ذمہ داری اٹھائی گئی۔ پھر مظلوم مسلمانوں کو جنت کی اجازت دی گئی اور اللہ نے ان سے نصرت کا وعدہ فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد کا فلسفہ بھی بیان کیا کہ اگر وہ بعض ظالموں کو بعض دوسروں کے ذریعے دفع نہ کرتا تو دنیا میں اس قدر فتنہ و فساد برپا ہوتا کہ کوئی عبادت خانہ بھی ظالموں کی دست برد سے محفوظ نہ رہتا۔ پھر اللہ نے اہل ایمان کو یقین دلایا کہ اس کے دین کی مدد کرنے والوں کی وہ خود مدد کرتا ہے۔ وہ طاقتور غالب اور مدد کرنے پر قادر ہے۔
اسلامی نظام حکومت :
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسلامی نظام حکومت کا ایک خاکہ پیش کیا ہے کہ اگر وہ اہل ایمان کو دنیا میں غلبہ ، اقتدار اور حکومت عطا کرے تو پھر ان کی کارگزاری وہ ہوگی جو اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے الذین ان مکنھم فی الارض وہ لوگ کہ جب ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا کردیں تو وہ اقاموالصلوٰۃ نماز قائم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی عبادات میں سے اہم ترین عبادت نماز ہے جس کی وجہ سے اہل ایمان کو روحانی فوائد کے کے علاوہ بہت سے مادی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ تعلق باللہ تو روحانی فائدہ ہے جو نمازی کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وقت کی پابندی ، احساس ذمہ داری جماعت بندی ، ایک دوسرے سے میل ملاپ اور امداد باہمی جیسی خوبیاں نماز کی بدولت حاصل ہوتی ہیں۔ تو اللہ نے فرمایا کہ اگر ہم اہل ایمان کو زمین پر حکومت دیں گے تو وہ پہلا کام یہ کریں گے کہ نماز کا نظام قائم کریں گے۔ خود بھی نماز پر کاربند ہوں گے اور دوسروں کو بھی اس کا پابند بنائیں گے۔ یہ ایسی عبادت ہے کہ ہر عاقل ، بالغ ، مرد اور عورت پر دن میں پانچ مرتبہ ادا کرنا فرض ہے اور یہ حقوق اللہ میں داخل ہے۔
فرمایا برسراقتدار جماعت کا دوسرا کام یہ ہوگا واتوا الزکوٰۃ کہ وہ زکوٰۃ ادا کریں گے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی حقوق العباد میں شامل ہے اور اس کے ذریعے غریبوں اور محتاجوں کی اعانت کی جاتی ہے۔ اس نظام کی برکات سے کوئی شخص بھوکاننگا نہیں رہ سکتا۔ نظام زکوٰۃ حکومت کے مالیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہے ، لہٰذا کارپرداران حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف خود زکوٰۃ ادا کریں بلکہ دوسروں کو بھی اس کا پابند بنائیں۔ نیز زکوٰۃ کی وصولی اور مصرف ایک باقاعدہ سکیم کے تحت عمل میں لائیں۔ یہ حکومت کے فرائض میں داخل ہوگا۔
اللہ نے فرمایا کہ امرائے حکومت کے کرنے کا تیسرا کام یہ ہوگا وامروا بالمعروف ونھوا عن المنکر کہ وہ نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ ظاہر ہے کہ وہ خود تو اس اصول کی پابندی کریں گے مگر دوسروں سے پابندی کرنا بھی ان کے فرائض منصبی میں داخل ہوگا۔ نیکی میں تمام معروف چیزیں آجاتی ہیں اور برائی میں ہر نقصان دہ چیز شامل ہے۔ برائی خواہ اس کا تعلق اعتقاد سے ہو ، اخلاقی یا اعمال سے ، اس سے روکنا ضروری ہے۔ اگر کوئی حکومت برائی کو روکنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر دنیا سے فتنہ و فساد ختم ہوجائیگا اور پورا خطہ امن کا گہوارہ بن جائے گا۔
تو اللہ تعالیٰ نے نظام حکومت کے متعلق ان چار بنیادی اصولوں یعنی اقامت صلوٰۃ ، ادائے زکوٰۃ ، امبر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر کردیا ہے۔ ان میں انفرادی اور اجتماعی سارا نظام آجاتا ہے۔ ان پر عملدرآمد سے ایک طرف اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل جیسے روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں اور انسان حقوق اللہ میں سرخروہ ہوتا ہے تو دوسری طرف دنیا کی زندگی میں سکون وچین حاصل ہو کر حقوق العباد کے تقاضے بھی پورے ہوجاتے ہیں۔
اسلامی نظام حکومت کا مکمل نقشہ صرف خلافت راشدہ کے دور میں ملتا ہے۔ اس کے بعض زمان ومکان میں اس کا جستہ جستہ اثرنظر آتا ہے وگرنہ مجموعی طور پر مسلمان ملوکیت کا شکار ہوگئے ، جبرو استبداد کا دور دورہ شروع ہوگیا۔ امراء کی عیاشیوں کی وجہ سے ایک طبقہ بالکل نادارا ہوگیا ، نیکی مغلوب اور شرغالب آگیا۔ اور اس طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا زریں اصول فراموش کردیا گیا۔ اب مسلمان بحیثیت مجموعی انحطاط کے دور سے گزر رہے ہیں۔ دنیا میں جس جگہ محکوم ہیں وہاں تو اسلامی نظام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ جہاں جہاں علاقائی طور پر مسلمان غالب بھی ہیں۔ اور ان کی ریاستیں بھی موجود ہیں۔ وہاں بھی اسلامی نظام حکومت کی جھلک مشکل سے ہی نظر آتی ہے۔ بعض ملکوں نے اسلام کے کچھ اصول اپنائے ہیں مگر کچھ تو اپنی نااہلی اور ذاتی مفاد کی وجہ سے اور کچھ غیر مسلم بڑی طاقتوں کے دبائو کی وجہ سے مکمل اسلامی نظام حکومت کہیں بھی نظر نہیں آتا۔
خلافت علی منہاج النبوت :
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے خلافت علیٰ منہاج النبوت کا طرف اشارہ فرمایا ہے کہ عنقریب ایک وقت آنے والا ہے جب کہ خلافت راشدہ کا بوجھ اٹھانے والے آیت میں مذکور تمام شرائط پر پورا اتریں گے۔ اللہ نے یہ خلافت قائم کرنے والوں کی نشاندہی بھی فرمادی ہے ، گزشتہ آیت میں گزر چکا ہے کہ ان صفات کے حاملین وہ لوگ ہوں گے الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق جن کو ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا ان کا قصور صرف یہ تھا ان یقولوا بنا اللہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے۔ یہ وہی پاکیزہ روحیں ہیں جنہیں مشرکین کی زیادتی سے تنگ آکر مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔ اس بات کا اشارہ اللہ نے سورة توبہ میں بھی کردیا والسبقون………………والانصار (آیت 100) یہ اولین سبقت کرنے والے مہاجر لوگ تھے جو مدینے پہنچے تو انصار ان کے معاون بن گئے۔ اللہ نے خلافت راشدہ انہی مہاجرین کے ذریعے قائم کی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، عمر فاروق ؓ ، عثمان غنی ؓ ، اور علی مرتضی ؓ سب مہاجرین ہی تو تھے۔ جب اللہ نے انہیں اقتدار عطا فرمایا تو انہوں نے اس آیت کے تقاضوں کو حرف بحرف پورا کیا۔ خلافت راشدہ میں اقامت صلوٰۃ کا اتنا اعلیٰ انتظام تھا کہ حضرت عمر ؓ (موطا امام ص 5) نے اپنے تمام گورنروں کو سرکلر جاری کیے ان من اھم امورکم عندی الصلوٰۃ (موطا امام ملک) تمہارے تمام امور میں میرے نزدیک نماز کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جس نے نماز کی حفاظت کی وہ باقی دین کی حفاظت بھی کرے گا ، اور جس نے نماز کو ضائع کردیا۔ وہ دین کے باقی امور کو بہت زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا۔ نماز کے لئے ایسا مکمل نظام ہونا چاہیے کہ کوئی فردواحد بھی بےنماز نہ ہو۔ خلافت راشدہ کے پورے دور میں آپ کو یہ نظام روز روشن کی طرح ملے گا۔ اسی طرح خلفائے راشدین نے زکوٰۃ کا ایسا عمدہ نظام قائم کیا کہ زکوٰۃ قوم کے امراء سے وصول کرکے غرباء میں تقسیم کی جاتی تھی تاکہ کوئی آدمی بھوکا پیاسانہ ہو۔ حضور ﷺ (مسلم ص 36 ج 1 (فیاض) کا ارشاد ہے توخذ من اغنیاء کم وترد الی فقراء کم مسلمانوں کے خوشحال لوگوں سے زکوۃ وصول کرو محتاجوں میں تقسیم کردو۔
چنانچہ خلفائے راشدین نے زکوٰۃ کا مثالی نظام قائم کیا۔ حتیٰ کہ ایک زمانے میں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں تھا۔ اس زمانے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام بھی اعلیٰ پیمانے پر کیا گیا اور خلفائے راشدین نے ہر نیکی کے کام کی حوصلہ افزائی کی اور ہر برائی کی جڑ بنیاد کاٹ دی۔ غرضیکہ اس آیت میں مذکورہ چاروں کام خلفائے راشدین نے کماحقہ انجام دیے۔ اسی لئے ان کی خلافت کو ” خلافت علیٰ منہاج النبوۃ “ کہا جاتا ہے۔
تصویر کا دوسرا رخ :
شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں بلا شبہ خلافت راشدہ کی طرف اشارہ ہے مگر آخری حصے میں اس کے برعکس بھی اشارہ ملتا ہے۔ آخر میں ارشاد ہے وللہ عاقبۃ الامور تمام معاملات کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ مطلب یہ کہ یہ ضروری نہیں کہ خلافت راشدہ کا نظام دنیا میں ہمیشہ قائم رہے بلکہ آگے چل کر اس میں تغیرات بھی آسکتے ہیں ابتدائی پچاس سال کے بعد خلافت راشدہ کی کچھ جھلکیاں صدیوں تک نظر آتی رہیں مگر بالآخر نظام میں خرابیاں پیدا ہوگئیں۔ خلوص کی بجائے خود غرضی آگئی اجتماعی فائدے کی بجائے ذاتی فائدے کو ترجیح دی گی۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر برائے نام رہ گیا۔ معروف کے برخلاف منکرات کا غلبہ ہوگیا۔ زکوٰۃ کی روح ختم ہوگئی ، بےنمازوں کی اکثریت ہونے لگی ، حکام خلاف شرع کاموں کے مرتکب ہونے لگے ، ظلم وتعدی کا دور دورہ آگیا ، لوگ کھیل تماشے کی طرف راغب ہوگئے زیب وزینت اور آرام طلبی گھر کرنے لگی اور اس طرح اسلامی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا۔
دنیا بھر میں دیکھ لیں اخبارات اور رسالے منکرات سے لبریز ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ ریڈیو ، ٹیلیویژن وغیرہ کے ذریعے فحاشی پھیلائی جارہی ہے کہیں کہیں نیکی کی آواز بھی نکلتی ہے مگر برائی کے مقابلے میں اس کو وقت ہی کتنا دیا جاتا ہے۔ تھوڑی سی تلاوت ہوگئی ، کچھ ترجمہ کردیا ، چلتے چلتے ایک آدھ حدیث سنادی اور پھر وہی گانے ، ڈرامے اور فلمیں۔ وہی عشق و محبت کی داستانیں اور وہی دین سے بیگانہ کرنے والے پروگرام ۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ۔ سینما گھروں ، تھیٹروں اور کلبوں سے اچھائی کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ یہ تمام ذرائع ابلاغ قوم کے اخلاق کو تباہ کر رہے ہیں۔
اس زمانے کا نظام عدل ہی دیکھ لیں۔ کیا کسی غریب آدمی کو انصاف میسر آسکتا ہے ؟ یہاں تو انصاف خریدنا پڑتا ہے ، جس کے پاس پیسے ہیں۔ پولیس بھی اس کی ہے اور عدالت بھی اس کے گھر کی لونڈی ہے۔ مقدمات کا فیصلہ حقائق کی بجائے رشوت اور سفارش پر ہوتا ہے۔ جس کے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں ، اسے انصاف کہاں سے ملے گا ؟۔
جوا ، شراب نوشی ، بدکاری ، سمگلنگ ، ڈاکے ، چوری ، اغواء غرضیکہ وہ کون سا جرم ہے جو معاشرے میں نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف نماز میں کتنے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ نماز کی پابندی کے لئے حکومت نے کتنی کوشش کی ہے۔ محض تقریروں سے تو کام نہیں چلتا ، اس کے لئے تو عملی اقدام کی ضرورت ہے۔ موطا امام مالک میں آتا ہے کہ ایک دن سلیمان نامی شخص نماز میں شامل نہ ہوا۔ حضرت عمر ؓ ہر ایک کو نگاہ میں رکھتے تھے ، فوراً اس شخص کے گھر پہنچے۔ اس کی والدہ نے بتایا کہ سلیمان رات دیر تک نماز پڑھتا رہا ، صبح آنکھ لگ گئی تو فجر کی نماز میں حاضر نہیں ہوسکا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں تو اس چیز کو پسند کرتا ہوں کہ ساری رات سوتا رہوں اور صبح فجر کی نماز میں حاضر ہوجائوں۔ آپ نے اس شخص کو اس کوتاہی پر ڈانٹ پلائی۔ انہی انتظامات کی وجہ سے سارے لوگ نمازی تھے ، ہر ایک کو فکر تھی مگر یہاں تو کچھ بھی نہیں۔ نہ کوئی نیکی کی طرف راغب کرتا ہے اور نہ برائی سے روکتا ہے نتیجہ ظاہر ہے کہ ہر طرف بد امتی کا دور دورہ ہے۔ ہر قسم کی برائیاں گھروں میں گھسی بیٹھی ہیں مگر کوئی کسی کو کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔
تسلی کا مضمون :
چونکہ مکی زندگی کے آخری دور میں اہل ایمان کے مصائب میں کئی گنااضافہ ہوگیا تھا ، اس لئے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی ہے فرمایا ، فکر ن کریں ان یکذبوک اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں فقد کذبت قبلھم قوم نوح وعاد وثمود ، تو بیشک ان سے پہلے قوم نوح ، قوم عاد اور قوم ثمود نے بھی اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کو جھٹلایا ، قوم عاد نے حضرت ہودعلیہ السلام کی تکذیب کی اور قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا فرمایا وقم ابراھیم ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک کے ہر شخص نے آپ کی تکذیب کی حتیٰ کہ آپ کو آگ میں پھینک دیا۔ اسی طرح وقوم لوط لوط (علیہ السلام) کی قوم نے بھی آپ کی بات کو تسلیم نہ کیا۔ قوم نے آپ کے ساتھ بڑی بدسلوکی کی اور آپ کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں واصحب مدین اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم مدین والوں نے بھی آپ کی تکذیب کی اور آپ کی کوئی بات نہ مانی۔ وکذب موسیٰ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا گیا۔ انہیں جادوگر کہہ کر ان کے ساتھ مقابلہ کیا گیا۔ جب آپ اپنی قوم کے ساتھ مصر سے نکل کھڑے ہوئے تو آپ کا پیچھا کیا گیا مگر اللہ نے ان کو پانی میں غرق کردیا۔
ظالم اقوام کی ہلاکت :
اللہ نے فرمایا مکذبین کی ان تمام تر زیادتیوں کے باوجود فاملیت للکفرین ، میں نے کافروں کو مہلت دی۔ ان کو ایمان لانے کا موقع دیا ۔ پھر جب وہ کسی طرح بھی راہ راست پر نہ آئے ثم اخذتھم تو میں نے ان کو پکڑ لیا۔ اس کو سخت سزادی۔ کسی کو پانی میں ڈبویا ، کسی پر پتھر برسائے ، کسی کو تیز ہوا نے تہس نہس کیا اور کسی کو چیخ نے آلیا۔ بالآخر ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ سورة الانعام میں اللہ نے فرمایا فقطع……………ظلموا (آیت 45) پھر ظلم کرنے والی قوم کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کو صفحہ ہستی سے نابود کردیا۔ فکیف کان نکیر پس کیسے ہوئی میری گرفت اس مقام پر ارشاد ہوا ہے۔ فکاین من قریۃ اھلکنھا اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا وھی ظالمۃ اور وہ ظلم کرنے والے تھے فھی خاویۃ علی عروشھا وہ اپنی چھتوں کے بل گری پڑی ہیں۔ جب اسرائیلیوں نے زمین میں ظلم و زیادتی کا ارتکاب کیا تو اللہ نے ان پر جابر لوگوں کو مسلط کردیا۔ ان کے گھر اور عبادت خانے گرادیے گئے ، ان کے مردوں کو قتل کیا گیا اور عورتوں اور بچوں کو لونڈی اور غلام بنالیا گیا۔ بخت نصراسرائیلیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کرلے گیا ، اور انہوں نے بابل میں سو سال تک ذلت کی زندگی گزاری ان کی بستیاں ویران ہوچکی تھیں گویا کہ وہ الٹا دی گئی ہوں۔ بعض قوموں کو اللہ تعالیٰ نے زلزلے کے ذریعے اور بعض کو طوفان ، بادوباراں کے ذریعے ہلاک کردیا۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کردیا جن کے رہنے والے ظالم تھے۔
پرانے زمانے میں کسی بستی کا کنواں زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ آج تو فراہمی آپ کے جدید نظام رائج ہیں۔ پہلے وقتوں میں کنویں ہی پانی کی بہم رسانی کا واحد ذریعہ ہوتے تھے۔ تو فرمایا کہ بستیوں کو اس طور ہلاک کیا وبئر معطلۃ کہ ان کے کنوئیں بھی ویران پڑے ہیں۔ جب پانی نکالنے والا ہی کوئی نہیں رہا تو ظاہر ہے کہ کنوئیں بھی اجڑ گئے۔ وقصر مشید اور رہائش کے لئے استعمال ہونے والے بڑے بڑے مضبوط محلات بھی اجڑے پڑے ہیں۔ ان میں رہنے والے بڑے بڑے امراء اور رئوسانیست ونابود ہوچکے ہیں اور وہ محلات جنوں کی آما جگاہ معلوم ہوتے ہیں۔ الغرض اللہ نے پرانی قوموں کا انجام بیان کرکے تنبیہ فرمائی کہ اگر تم بھی سابقہ اقوام کی طرح اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرو گے ظلم وستم کا بازار گرم کرو گے تو تمہارا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا چناچہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں بڑے بڑے ائمۃ الکفر مارے گئے ، جو بچ گئے انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ابوجہل نے اپنے ایک اونٹ کی ناک میں سونے کی نکیل ڈال رکھی تھی۔ حضرت عمر ؓ نے اس اونٹ کو قربانی کا جانور بنا کر اللہ کی نیاز کے طور پر بیت اللہ میں بھیج دیا۔ کفار ومنکرین کا حال بان کرکے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی گئی ہے کہ پہلے لوگوں کا بہت برا انجام ہوا۔ اگر مشرکین بھی شرارتوں سے باز نہ آئے تو یہ بھی خدا کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔