22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 22:23–25

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کیے بہشتوں میں جن کے سامنے نہریں بہتی ہیں اور پہنائے جائیں گے ان (بہشتوں) میں ان کو سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار ، اور لباس ان کا ریشم کا ہوگا

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور ہدایت دی گئی ہے ان لوگوں کو پاکیزہ بات کی طرف ، اور ہدایت دی گئی ہے ان کو اچھے پسندیدہ راستے کی طرف

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور روکتے ہیں وہ اللہ کے راستے سے اور مسجد حرام سے جس کو بنایا ہے ہم نے سب لوگوں کے لئے برابر ، وہاں رہنے والا ہو یا باہر سے آنے والا۔ اور جو کوئی ارادہ کریگا اس کے اندر کجروی کے ساتھ ظلم کا تو ہم چکھائیں گے ان کو درد ناک عذاب

ربط آیات : گزشتہ آیات میں دو قسم کے دعویداروں کا ذکر تھا۔ ایک قسم اہل ایمان اور اہل توحید کی ہے جب کہ دوسری قسم اہل کفر اور اہل شرک کی۔ قیامت کے دن ان دونوں گروہوں کا مقدمہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوگا اور پھر وہاں فیصلہ ہوگا۔ اللہ نے فرمایا کہ کافروں کے سروں پرکھولتا ہوا پانی ڈالا جائیگا جو ان کے پیٹوں میں موجود ہر چیز کو کاٹ کر باہر پھینک دے گا۔ ان کی کھالوں کو جلایا جائے گا اور ان پر لوہے کے ہتھوڑے برسائے جائیں گے اور اس طرح وہ جلاڈالنے والے عذاب میں مبتلا ہوں گے ان پر یہ عذاب ہمیشہ مسلط رہے گا۔ اور اس سے باہر نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔ اہل ایمان کے لئے انعامات : قرآن کا یہ اسلوب بیان ہے کہ جہاں کفار کا ذکر ہوتا ہے ساتھ اہل ایمان کی بات بھی کی جاتی ہے اور پھر دونوں گروہوں کی سزا اور جزاء کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔ گزشتہ آیت میں کفار کی سزا کا ذکر ہوگیا تھا ۔ اب اس آیت میں اہل ایمان کے انعامات کا بین ہورہا ہے ارشاد ہوتا ہے ان اللہ یدخل الذین امنوا ، اللہ تعالیٰ داخل کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے۔ جنہوں نے اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھا۔ ان کے نبیوں کی نبوت و رسالت پر ایمان لائے ، آسمانی کتب اور ملائکہ کو برحق جانا اور اس کے ساتھ ساتھ وعملوا الصلحت انہوں نے اچھے اعمال بھی انجام دیے۔ اچھے اعمال میں بنیادی طور پر عبادات اربعہ یعنی نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج ہیں۔ یہ چاروں عبادات ہر عاقل بالغ اہل ایمان پر فرض ہیں اور اعمال صالحہ میں داخل ہیں۔ اس کے علاوہ تمام مالی ، بدنی یا مرکب عبادات ، حسن اخلاق ، خدمت خلق اور اللہ کی رضا کی تمام باتیں نیکیوں میں داخل ہیں تو فرمایا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال انجام دیے۔ اللہ تعالیٰ ان کو داخل کردے گا۔ جنت تجری من تحتھا الانھر ایسے باغات میں جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی۔ اہل ایمان وہاں رہائش پذیر ہوں گے اور ان کی زیب وزینت کے لئے یحلون فیھا من اساور من ذھب وہاں پر ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ، حدیث شریف (مسلم ص 127 ج 1 (فیاض) آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جنتیوں کو ان کے اعضائے وضو پر زیور پہنائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اس دن ان سے اپنی خوشنودی کا اظہار فرمائے گا۔ نیز ولولوا ان کو موتیوں کے ہار بھی پہنائے جائیں گے ۔ و لباسھم فیھا حریر اور جنت میں ان کا لباس ریشم کا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اہل بہشت پر یہ انعامات فرمائے گا۔ ان کو کوئی دیکھ اور پریشانی نہیں ہوگی ، وہاں پر انہیں ہر طرح کی آسودگی حاصل ہوگی۔ دنیا میں سونا اور ریشم مردوں کے لئے حرام ہے ، لہٰذا جو اہل ایمان اس دنیا میں ان چیزوں سے محروم رہے ، تو یہ چیزیں انہیں بہشت میں نصیب ہوں گی۔ اور جو شخص دنیا میں ریشم کا لباس پہنے گا وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔ یہاں پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں تو اللہ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ اہل جنت کا لباس ریشمی ہوگا۔ مگر حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں ریشم پہن لیا وہ جنت میں اس سے محروم ہوجائیں گے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے کسی وقت دنیا میں ریشم پہن لیا ، اگر وہ جنت میں بھی چلے گئے تو وہاں انہیں ریشمی لباس نہیں ملے گا ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ریشم پہننے والے جنتی کچھ عرصہ کے لئے جنت میں اس سے محروم رہیں گے۔ لیکن بالآخر ان کو بھی یہ لباس مل جائے گا۔ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اگرچہ ایسے لوگ جنت میں ریشمی لباس سے محروم رہیں گے مگر انہیں اس ضمن میں کسی قسم کی تکلیف یا کوفت یارنج نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ انہیں ریشم کی بجائے ایسا لباس پہنائیں گے۔ جس سے وہ مطمئن ہوجائیں گے۔ پاک راستے کی طرف راہنمائی : انہی خوش قسمت لوگوں کے متعلق فرمایا وھدوا الی الطیب من القول ، کہ ان کو پاکیزہ بات کی طرف ہدایت دی گئی ہے۔ اور وہ پاکیزہ بات کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ دوسری سورة میں اس کو قول ثابت یعنی پختہ بات بھی کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور برزخ میں بھی کہ جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ صحیح صحیح جواب دیتے ہیں۔ غرضیکہ قول ثابت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا کلمہ ہی ہے۔ بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ پاک قول سے مراد قرآن پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی قرآن کریم کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام پاک کی تلاوت کرتے ہیں جس سے انہیں ہدایت اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ تو یہ معنی بھی درست ہے۔ فرمایا وھدوا الی صراط الحمید ، اور ان کو اچھے اور پسندیدہ اور تعریفوں والے راستے کی طرف ہدایت دی گئی ہے۔ یہ راستہ ایمان اور اسلام کا راستہ ہے ، توحید ، اللہ کی شریعت اور اس کے دین کا راستہ ہے جو انہیں دکھایا گیا ہے اور جس پر وہ گامزن ہیں۔ خدا کی مرضیات تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے اسی راستے پر چل کر اہل ایمان جنت میں پہنچیں گے اور پھر حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق اللہ کی تسبیح وتحمید ان کی زبانوں پر اس طرح جاری ہو جائیگی جس طرح کوئی انسان بےاختیار و ارادہ سانس لیتا ہے۔ اسی چیز کو پاکیزہ قول فرمایا ہے جو تعریفوں والے پسندیدہ راستے پر چل کر حاصل ہوگا۔ حرم شریف کی حرمت : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار خصوصاً حرم پاک میں ظلم و زیادتی کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ پھر اللہ کے گھر کی تعمیر کا ذکر آئے گا اور حج اور قربانی کا بیان ہوگا۔ تمہید کے طور پر اس آیت میں حرم پاک کی بےحرمتی کرنیوالوں کی مذمت ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ان الذین کفروا ، بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ویصدون عن سبیل اللہ ، اور جو روکتے ہیں اللہ کے راستے سے۔ میدان بدر میں کفار کے آنے کا یہی مقصد تھا کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روک کر کفر کے راستے پر ڈال دیا جائے اور اسلام کی بجائے کفر کا پروگرام غالب بنایا جائے۔ اللہ کے راستے سے روکنے کا یہی مطلب ہے۔ نیز والمسجد الحرام ، وہ مسجد حرام سے بھی روکتے ہیں۔ اس کی واضح مثال 6 ھ کا واقعہ حدیبیہ ہے۔ حضور ﷺ چودہ سو صحابہ ؓ کے ہمراہ عمرہ کی غرض س مدینہ سے مکہ آرہے تھے قربانی کے جانور ساتھ تھے۔ چند ایک کے سو ا سب لوگوں نے احرام باندھ رکھے تھے مگر کفار نے حدود حرم یعنی حدیبیہ کے مقام پر روک دیا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کو بڑی پریشانی لاحق ہوئی کہ اتنا دور دراز کا سفر اختیار کرنے کے باوجود وہ اللہ کے گھر کی زیارت سے محروم ہو رہے تھے۔ مصالحت کی بات چیت ہوئی جس میں طے پایا کہ اس سال مسلمان بغیر عمرہ ادا کیے واپس چلے جائیں گے۔ البتہ آئندہ سال اس کی اجازت ہوگی مگر وہ تین دن سے زیادہ مکہ میں قیام نہیں کرسکیں گے۔ چناچہ اہل ایمان نے قربانی کے جانور حدیبیہ میں ہی ذبح کردیے اور مدینے لوٹ گئے۔ اس مقام پر مسجد حرام سے مراد صرف وہ مسجد مراد نہیں جو خانہ کعبہ کے گرد ہے بلکہ پورا حرم مراد ہے جس کی حد حدیبیہ کے مقام سے شروع ہوتی ہے۔ حدیبیہ کا کچھ حصہ حرم میں داخل ہے اور کچھ باہر ہے ، اسی لئے کفار نے اسی مقام پر مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ یہ جگہ مکہ مکرمہ سے نو ، دس میل کے فاصلے پر ہے ۔ مدینہ کی طرف سے حدود صرف تین ، ساڑھے تین میل پر ہے۔ بعض اطراف سے دس میل بھی ہے۔ یہ سارا خطہ حرم کہلاتا ہے۔ اور یہاں پر یہی مراد ہے کہ کافر لوگ حرم سے روکتے ہیں۔ حرم کے بعض مسائل بھی ہیں جو کہ اس کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں۔ مثلا حدود حرم میں شکار کرنا درخت کاٹنا ، خود روگھاس کاٹنا وغیرہ حرام ہے اللہ تعالیٰ نے حرم پاکی کی حرمت کا قانون الگ رکھا ہے۔ کوئی سا ممنوع فعل کرنے سے تاوان عائد ہوتا ہے۔ حرم شریف کے یکساں حقوق : فرمایا ، یہ بدبخت لوگ اس حرم پاک سے روکتے ہیں الذی جعلنہ للناس سواء جسے ہم نے تمام لوگوں کے لئے برابر قرار دیا ہے یعنی اس سرزمین پر تمام اہل ایمان کے یکساں حقوق ہیں اور اس لحاظ سے اس خطہ کو وقف کی حیثیت حاصل ہے۔ پھر بھلا مشرکوں کو مسجد حرام سے روکنے کا کیا حق پہنچتا ہے۔ اللہ نے فرمایا وماکانوا اولیاء ہ (الانفال 34) یہ تو مسجد حرام کے متولی نہیں ہوسکتے ۔ اس کے متولی تو متقی اہل ایمان ہی ہوسکتے ہیں۔ بہرحال حرم پاک کا خط تمام اہل ایمان کے لئے یکساں ہے۔ خواہ وہ دنیا کے کسی بھی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں ن العاکف فیہ والباد وہ حدود حرم کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آنے والے ہوں ، سب کے حقوق برابر ہیں اور کوئی کسی کو اس میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتا۔ حدود حرم میں مقامات عبادت اور رہائش مکانات کے حقوق ملکیت کے متعلق فقہائے کرام میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس مسئلہ میں تو کسی کو اختلاف نہیں ہے کہ حدود وحرم میں جتنے بھی عبادت کے مقام ہیں۔ مثلاً مسجد حرام ، صفا مروہ ، منی ، مزدلفہ اور میدان عرفات جہاں ارکان حج ادا کیے جاتے ہیں۔ وہ مقامات تو کسی کی ملکیت نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے وقف ہیں اور جہاں کوئی چاہے داخل ہو کر عبادت کرسکتا ہے کوئی کسی کو نہیں روک سکتا۔ البتہ شر مکہ اور اطراف کے رہائشی مکانات کے متعلق کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ حدود حرم میں رہائشی علاقوں کی زمین تو ویسی ہی وقف ہے جیسی دوسری زمین ، البتہ اس پر تعمیر کی گئی عمارت کسی کی انفرادی ملکیت ہوسکتی ہے اور اس طرح مالک مکان اس کا کرایہ بھی وصول کرسکتا ہے۔ بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی زمین پر عمارت تعمیر کرتا ہے اسے عمارت کے علاوہ زمین کے حقوق ملکیت حاصل ہوجاتے ہیں۔ اس کے ثبوت میں وہ حضرت عمر ؓ کا عمل پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے صفوان بن امیہ کا مکان چار ہزار درہم میں خرید کر اسے قید خانہ میں تبدیل کردیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا کرنے سے کلی حقوق ملکیت حاصل ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک امام ابوحنیفہ (رح) کا موقف ہے تو اس کے متعلق امام ابوبکر حصاص (رح) لکھتے ہیں (احکام القرآن للبحصاص ص 229 ج 3 (فیاض) کہ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی ملکیتی زمین پر مکان تعمیر کرلے ظاہر ہے کہ عمارت تو تعمیر کنندہ کی ہوگی ، مگر زمین کا حق ملکیت اسے حاصل نہیں ہوگا۔ جب تک وہ زمین کی قیمت ادا نہ کرے یا مالک اراضی کو راضی نہ کرے حرم کا پور ا خطہ چونکہ وقف ہے اس لئے اس کی زمین کسی کی انفرادی ملکیت میں نہیں آسکتی ۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ خواہ کوئی مقامی آدمی ہو یا بیرونی ہم نے خطہ حرم کو سب کے لئے برابر بنایا ہے۔ حرم میں الحاد کی ڈبل سزا : اللہ نے دوسرا مسئلہ یہ بیان فرمایا ہے ومن یرد فیہ بالحاد بظلم جو کوئی اس خط مقدس میں ظلم وشرارت کے ساتھ کجروی اختیار کرے گا ، یعنی شرک ، کفر ، بدعت ، قتل و غارت اور معاصی کا ارتکاب کریگا۔ نذقہ من عذاب الیم ہم اسے درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ بعض اوقات خطے اور زمانے کے لحاظ سیاعمال کی جزا اور سزا میں فرق پڑجاتا ہے۔ مثلاً مسجد حرام میں ایک نماز ادا کرنے کا اجر دوسری جگہ کی ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ اسی طرح مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ پھر بعض زمانوں میں گناہ کا ارتکاب کرنے سے اس کی سزا بڑھ جاتی ہے۔ جیسے حرمت والے چار مہینے۔ تو اسی طرح ان پاک مقامات پر گناہ کی سزا بھی ڈبل ہوجاتی ہے کیونکہ اس نے اس پاک خطے کی حرمت کو برقرار نہیں رکھا۔ اسی طرح بعض افراد کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ سورة احزاب میں اللہ کا فرمان ہے ینساء النبی لستن کا حد من النساء (آیت 32) اے نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں۔ اللہ نے تمہیں شرف بھی بڑا عطا فرمایا ہے۔ اور اگر تم کوئی برا کام کروگی۔ یضعف………ضعفین (آیت 30) تو تمہاری سزا بھی دگنی ہوگی بہرحال فرمایا کہ جو شخص حرم پاک میں کجروی اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب چکھائیں گے۔
Ayahs 22:26–29

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور (اس بات کو دھیان میں لائو) جب کہ ہم نے واضح کی ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ شریف کی جگہ (اور ان سے کہا) کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا اور میرے گھر کو پاک صاف رکھو طواف کرنے والوں کے لئے ، کھڑا ہونے والوں کے لئے اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور اعلان کرو لوگوں میں حج کا ، آئیں گے وہ تمہاری طرف پیدل اور دبلی پتلی اونٹنیوں پر جو چلی آئیں گی ہر دور دراز راستے سے

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ وہ حاضر ہوجائیں اپنے فائدوں کی جگہ پر ، اور یاد کریں وہ اللہ کے نام کو معلوم دنوں میں اس چیز پر جو اللہ نے ان کو روزی دی ہے مویشیوں میں سے پس کھائی اس میں سے اور کھلائو مصیبت زدہ محتاج کو

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر چاہیے کہ وہ دور کریں اپنے میل کچیل اور پورا کریں اپنی نذروں کو اور طواف کریں اللہ کے پرانے گھر کا

ربط آیات : گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام اور پورے خطہ حرم شریف کے محترم ہونے کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے یہ وعید بھی فرمائی کہ جو شخص اس مقدس سرزمین میں ظلم و زیادتی ، معصیت یا الحاد اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو سخت سزا دے گا۔ کیونکہ اس نے حرم پاک جیسے پاک خطے کا تقدس برقرار نہیں رکھا۔ تعمیر بیت اللہ شریف : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر ، حج اور قربانی کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ذرا س واقعہ کو دھیان میں لائو واذ بوانا لابراھیم مکان البیت جب کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیت اللہ شریف کی جگہ کو واضح کردیا۔ آپ کے زمانہ تک بیت اللہ شریف کی سابقہ عمارت سیلاب کی نذر ہوچکی تھی اور اس وقت تک اس کے نشان تک بھی مٹ چکے تھے۔ البتہ اس جگہ کا تقدس باقی تھا اور لوگ وہاں آکر دعائیں مانگا کرتے تھے۔ ترمذی شریف میں قوم عاد کا ذکر موجود ہے کہ یہ قوم وادی داہنا اور یمن کے اطراف میں ربع خانی میں آباد تھی۔ ایک موقع پر ان کے علاقے میں متواتر تین سال تک بارش اور قحط پڑگیا۔ انہوں نے اپنے رواج کے مطابق ایک وفد تیار کیا جو مکہ کے اطراف کے پہاڑوں میں جاکر دعا کرے تاکہ اللہ تعالیٰ باران رحمت نازل فرمائے۔ تو ان لوگوں نے بھی وہاں آکر دعائیں کیں۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ اکثر انبیاء بھی اس مقام پر آکر طواف کیا کرتے تھیاگرچہ بیت اللہ کی عمارت موجود نہیں تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا دور آیا تو اللہ نے خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر کا ارادہ فرمایا۔ اصل مقام کو واضح کرنے کے لئے اللہ نے ایک بادل بھیجا جس نے بیت اللہ شریف کی اصل جگہ پر سایہ کردیا۔ پھر اللہ نے ہوا کو بھیجا جس نے اس جگہ کو صاف کردیا۔ اب ابراہیم (علیہ السلام) کو اصل بنیادیں نظر آگئیں جن پر آدم (علیہ السلام) اور آپ سے پہلے فرشتوں نے یہ عمارت بنائی تھی۔ اب ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) نے مل کر اسی مقام پر بیت اللہ شریف کی عمارت ازسرنو کھڑی کی۔ یہاں پر اسی بات کا ذکر ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے خانہ کعبہ کی جگہ کو واضح کردیا اور پھر انہوں نے اس کی تعمیر کی۔ شرک کی ممانعت : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں تعمیر کعبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم فرمایا پہلا حکم یہ دیا ان لا تشرک بی شیئا میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا۔ یہ زمین پر محترم ترین خطہ اور قبلہ ہے۔ یہ گھر اللہ تعالیٰ کی خاص عبادت کے لئے ہے ، اس میں شرک کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہیے۔ اس گھر کی بنیاد اللہ کی توحید پر رکھی گئی ہے لہٰذا اس کو شرک کی آلودگی سے پاک رکھو۔ یہاں پر اللہ کی خاص رحمت کا نزول ہوتا ہے اور عبادت کرنے والوں کی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں۔ گزشتہ آیت میں گزر چکا ہے کہ اس مقام پر کسی قسم کا الحاد اور معصیت کی بات بھی نہ ہو۔ چہ جائیکہ شرک جیسے ظلم عظیم کا ارتکاب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو اس گھر کی طہارت و پاکیزگی کا حکم دیا تھا مگر مشرکین مکہ نے اس گھر کے اندر اور درو دیواروں پر تین سو ساٹھ بت سجارکھے تھے۔ اس نجاست کو اللہ نے اپنے آخری نبی کی وساطت سے پاک کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے تو اپنے زمانے میں بیت اللہ کو شرک سے پاک رکھا مگر بعد میں آنے والوں نے اس کے تقدس کو پامال کردیا۔ بیت اللہ کی طہارت : اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ حکم بھی دیا وطھر بیتی لطائفین ، میرے گھر یعنی بیت اللہ شریف کے طواف کرنے والوں کے لئے پاک وصاف رکھو۔ شرک کی باطنی نجاست کا تو پہلے ذکر ہوچکا ہے اب فرمایا کہ حرم پاک ظاہری نجاست سے بھی پاک ہونا چاہیے تاکہ یہاں آکر طواف کرنے والوں کو کوئی دقت محسوس نہ ہو۔ طواف بھی نماز کی طرح ایک عبادت ہے ۔ جس طرح نماز کے لئے جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح طواف کے لئے بیت اللہ شریف اور اس کے اردگرد مطاف کا پاک ہونا بھی ضروری ہے۔ نماز اور طواف میں اس قدر فرق ہے کہ نماز میں انسان بات چیت نہیں کرسکتا جب کہ طواف کے دوران بوقت ضرورت کلام کرسکتا ہے۔ فرمایا بیت اللہ کی طہارت طواف کرنے والوں کے لئے بھی ضروری ہے والقائمین اور قیام کرنے والوں کے لئے بھی یہ پاکیزگی ضروری ہے قیام سے مراد نماز کے لئے قیام بھی ہوسکتا ہے ، اعتکاف بھی مراد ہوسکتا ہے اور بیرونی علاقوں کے رہنے والوں کا ٹھہرنا بھی مراد ہوسکتا ہے چونکہ بیت اللہ شریف اور حرم پاک کے دروازے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ہر وقت کھلے ہیں۔ لہٰذا ان کے قیام کے لئے اس کی طہارت بھی ضروری ہے پھر فرمایا والرکع السجود رکوع و سجود کرنے والوں یعنی نماز پڑھنے والوں کے لئے بھی حرم پاک کی طہارت ضروری ہے۔ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ میرے گھر کی ظاہری اور باطنی طہارت کا اہتمام ہونا چاہیے۔ حج کا اعلان : اللہ نے اپنے خلیل (علیہ السلام) کو دوسرا حکم یہ دیا واذن فی الناس بالحج اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو کہ لوگو ! اللہ کا گھر تعمیر ہوچکا ہے ، آئو اس کا حج کرو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ مولاکریم ! یہاں کوئی آبادی تو موجود نہیں۔ اس بےآباد جنگل میں تیرے گھر کے قریب ہم باپ بیٹا کے سوا کون ہے جو اس اعلان حج کو سن کر حج کرنے کے لئے آئے گا تو اللہ نے فرمایا کہ تیرا کا صرف اعلان کرنا ہے یا یھا الناس فقد فرض علیکم الحج ، لوگو ! تم پر اللہ نے حج کو فرض قرار دیا ہے۔ تم اعلان کردو ، اس اعلان کو لوگوں کے کانوں تک پہنچانا میرا کام ہے۔ چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جبل ابوقبیس پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا تو اللہ نے یہ آواز روئے زمین کے تمام انسانوں تک ، مائوں کے رحموں میں موجود بچوں تک اور پھر آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ساری نسل انسانی تک پہنچائی۔ چناچہ جس جس نے یہ آواز سنی وہ لبیک کہتا ہوا ضرور اس مقام تک پہنچے گا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہر انسان نے اس آواز کو سنا خواہ بوقت اعلان وہ پیدا ہوچکا تھا یا بعد میں پیدا ہونے والا تھا ، مگر ان کو اس کا ادراک نہیں ہے۔ اس مادی دنیا میں آکر ہم بہت سی چیزوں کا ادرک کھو بیٹھے ہیں۔ مثلاً سورة اعراف میں گزر چکا ہے کہ اللہ نے تمام نوح انسان سے عہد الست لیا تھا الست بربکم کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو تما ارواح انسانی نے اس کا مثبت جواب دیا تھا کہ مولا کریم ! کیوں نہیں ؟ تو ہی ہمارا پروردگار ہے۔ اب یہ عہد کسی کو بھی یاد نہیں۔ یہ تو ارواح کی بات ہے ، اس دنیا میں آنے کے بعد بھی انسان کو پیش آنے والے بعض واقعات کا ادراک نہیں رہتا۔ مثلاً کوئی آدمی بڑا ہو کر اپنے بچپن کی اس بات کو ذہن میں نہیں لاسکتا کہ اس نے پہلا حرف ا ، ب ، ت یا کوئی پہلا لفظ کس سے سیکھا تھا۔ آخر اس نے بولنا سیکھا ، مگر کس استاد سے ، ماں سے ، باپ سے یا کسی بہن بھائی سے۔ دنیا میں بڑے بڑے پروفیسر ، دانشور ، حکیم اور سائنسدان پیدا ہوئے ہیں مگر اس بات کا جواب کوئی نہیں دے سکتا۔ اس طرح اعلان حج سنا تو ہر ایک نے تھا مگر اب اس کا ادراک نہیں رہا اور کوئی شخص یاد نہیں کرپاتا کہ واقعی اس نے کسی وقت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے یہ اعلان سنا تھا۔ حاجیوں کی آمد کی نوید : اللہ نے فرمایا ، اے ابراہیم ! تم حج کا اعلان کردو ، اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔ یاتوک رجلا لوگ تیرے پاس حج کے لئے پاپیادہ بھی آئیں گے بڑے ذوق وشوق کے ساتھ لبیک لبیک کی رٹ لگاتے ہوئے پیدل بھی پہنچیں گے وعلی کل ضامر اور دبلی پتلی اونٹنیوں پر سوار ہو کر بھی آئیں گے۔ پرانے زمانے میں تو اونٹ ، گھوڑا خچر وغیرہ کی سواریاں ہی تھیں جن کا ذکر کیا گیا ہے مگر اب تو بھاپ اور تیل سے چلنے والی تیز ترین رفتار سواریاں از قسم موٹریں ، ہوائی جہاز اور بحری جہاز موجود ہیں اور آمدہ زمانے میں ایٹمی طاقت سے چلنے والی سواریاں بھی خارج ازامکان نہیں ، اور ہوسکتا ہے کہ اللہ ان کے علاوہ بھی کوئی سواری ایجاد کردے جو اس وقت ہمارے ذہن میں نہیں کیونکہ یخلق مایشاء وہ جو چاہے پیدا کرے ، وہ قادر مطلق ہے۔ بہرحال فرمایا یاتین من کل فج عمیق لوگ تمہارے پاس دور دراز راستوں سے چل کر حج کے لئے آئیں گے۔ تم ذرا اعلان تو کردو۔ اب دیکھ لیں دنیا کے کونے کونے سے لوگ ہوائی جہازوں کے ذریعے اس اعلان پر لبیک کہتے ہوئے اللہ کے گھر کے طواف کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ حج کے اجتماعی فوائد : فرمایا ، ابراہیم ! لوگ تیرے پاس آئیں گے لیشھدوا منافع لھم تاکہ وہ اپنے فوائد کی جگہ پر حاضر ہوجائیں۔ سفر حج میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے دینی اور دنیاوی دونوں قسم کے فوائد رکھے ہیں۔ چونکہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے اس لئے اس کی ادائیگی میں اجروثواب ، ایمان ، اخلاص ، بخشش ، مغفرت اور اللہ کی خوشنودی جیسے روحانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں دنیاوی طور پر بھی یہ عظیم اجتماع بہت سے فوائد کا حامل ہوتا ہے اس اجتماع میں دنیا بھر کے مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ اپنے مسائل زیر بحث لاتے ہیں ، مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور اس طرح ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ اس دور میں مسلمان سیاسی طور پر کمزور ہیں اور دنیا میں ان کو اجتماعیت حاصل نہیں وگرنہ اس اجتماع سے بہت زیادہ مادی فوائد حاصل ہوسکتے تھے۔ اس وقت دنیا میں امریکہ اور روس جیسی سپر طاقتوں کا کنٹرول ہے اور پورا عالم اسلام مغلوب ہے ، اس لیے وہ اپنی مرضی سے دنیا میں کوئی انقلاب برپا نہیں کرسکتے اب اتنا بھی غنیمت ہے کہ فریضہ حج ادا ہورہا ہے۔ عالم اسلام کے حکمران فاسق فاجر اور بےعمل ہیں۔ ان کے پاس باتیں ہی باتیں ہیں ، عملی طور پر کچھ نہیں۔ بعض ملوکیت کا شکار ہیں تو بعض ڈکٹیٹر بنے ہوئے ہیں۔ اسلام ، ایمان اور جذبہ خدمت خلق مفقود ہے ، ذاتی مفاد اور عیش و آرام پیش نظر ہے ، اس لئے مسلمان بحیثیت مجموعی حج کے مادی فوائد حاصل نہیں کر رہے ہیں۔ تاہم اللہ نے سفر حج کو بڑا بابرکت بنایا ہے اس میں روحانی اور مادی فوائد رکھے ہیں۔ حج اور قربانی : فرمایا حاجیوں کی آد کا ایک مقصد یہ بھی ہے ویذکر واسم اللہ فی ایام معلومات علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام کہ وہ اللہ کے عطا کردہ مویشیوں پر معلوم دنوں میں اللہ کا نام ذکر کریں ، یعنی وہاں پہنچ کر اللہ کے نام کی قربانی کریں۔ بکری ، اونٹ اور گائے چار قسم کے جانور ہیں جو انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں اور جنہیں اللہ نے ہدی یعنی قربانی کے لئے مخصوص فرمایا ہے۔ یہ جانور عمرہ ، حج قرآن یا حج تمتع کے وقت قربانی کیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات دوران حج یا عمرہ کسی جنایت کے ارتکاب پر بطور دم بھی قربانی کرنا پڑتی ہے ۔ اس چیز کے متعلق فرمایا کہ وہ مخصوص دنوں میں اللہ کے نام پر جانوروں کی قربانی پیش کریں۔ ایام قربانی کے متعلق فقہائے کرام میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں قربانی کا ذکر ہے اور ایام معلومات کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کے برخلاف سورة البقرہ میں ہے واذکروا اللہ فی ایام معدودت (آیت 203) گنے ہوئے دنوں میں اللہ کا ذکر کرو اور اس سے مراد منیٰ کے ایام تشریق ہیں جو دسویں سے تیرہویں ذوالحج تک چار دن بنتے ہیں۔ برخلاف اس کے ایام معلومات یعنی قربانی کے دن صرف تین ہیں یعنی دس ، گیارہ اور بارہ ذوالحج۔ صحیحین کی حدیث میں موجود ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ رکھے ، پھر اگلے سال یہ حکم منسوخ کردیا کہ گوشت جب تک چاہو رکھ سکتے ہو مگر قربانی تین دن ہی ہے۔ حضرت علی ؓ سے بھی مروی ہے کہ قربانی یوم النحرادر دو دن بعد تک ہے یعنی دسویں تابارہویں۔ البتہ ایام تشریق چار دن یعنی تیرہویں تاریخ تک ہیں۔ تاہم کوئی شخص چاہے تو بارہ تاریخ کو بھی رمی جمار کے بعد منیٰ سے واپس آسکتا ہے۔ قربانی کے تین ایام پر تینوں آئمہ کرام متفق ہیں ، البتہ امام شافعی (رح) چوتھے دن بھی قربانی کو جائز دیتے ہیں۔ حالانکہ کسی صحیح حدیث میں چوتھے دن کی قربانی کا ذکر نہیں ہے۔ صرف دارقطنی کی ایک ضعیف روافت کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جب کہ صحاح ستہ میں تین دن کی قربانی کا ہی ذکر ہے۔ ابن قدامہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قربانی کے دن تو تین ہوں اور قربانی کا گوشت چوتھے دن تک بھی اتنا ہی ہو۔ حضور ﷺ نے پہلے حکم میں صرف تین تک گوشت رکھنے کا حکم دیا تھا۔ لہٰذا ایام قربانی تین ہی ہیں۔ فرمایا کے عطا کردہ جانوروں کو اس کے نام پر قربان کرو فکلوا منھا پس اس میں سے خود بھی کھائو ۔ واطعموا البائس الفقیر اور ہر غریب اور محتاج کو بھی کھلائو۔ قربانی کا گوشت گھر میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور غریبوں محتاجوں کو بھی دیا جاسکتا ہے جب کہ نذر کا گوشت اور دم کے طور پر دی گئی قربانی کا گوشت قربانی دینے والا خود نہیں کھا سکتا۔ غسل ، نذر اور طواف زیارت : دسویں ذوالحج کو قربانی کرنے کے بعد حاجی احرام کھول دیتے ہیں ، اور نہادھو کر عام کپڑے پہن لیتے ہیں۔ اسی بات کے متعلق فرمایا کہ قربانی کرنے کے بعد حجامت بنوائو ثم لیقضوا تقثھم پھر چاہیے کہ وہ اپنی میل کچیل دور کریں۔ ایام احرام میں حاجی صابن استعمال نہیں کرسکتا۔ بالوں میں تیل اور کنگھی نہیں کرسکتا۔ ناخن نہیں کٹوا سکتا ، میل کچیل جم جاتا ہے اس لئے فرمایا کہ اب تم حلال ہوچکے ہو۔ نہادھو کرمیل کچیل صاف کرو۔ بالوں میں تیل لگا سکتے ہو ، کنگھی کرسکتے ہو۔ نئے کپڑے پہن سکتے ہو۔ اس کے علاوہ ولیوفواتذور ھم چاہیے کہ اپنی نذریں پوری کریں۔ بعض لوگ منت مان لیتے ہیں کہ ارکان حج کی تکمیل پرنوافل ادا کرینگے ، یاروزے رکھیں گے یا کوئی اور نیکی کا کام کرینگے۔ فرمایا اگر کوئی صحیح منت مان رکھی ہے تو اس کو پورا کرو ولیطوفوا بالبیت العتین اور چاہیے کہ وہ پرانے گھر کا طواف کریں۔ پرانے گھر سے مراد بیت اللہ شریف اور طواف سے مراد طواف زیارت ہے جو دس تاریخ کو کیا جاتا ہے ۔ اگر کوئی مجبوری ہے تو گیارہویں اور بارہویں تاریخ تک موخر بھی کیا جاسکتا ہے اگر بارہویں تاریخ تک بھی طواف زیارت نہ کرسکا تو مردوں پر تاوان آئے گا ، دم دینا پڑے گا۔ البتہ عورت اگر مجبور ہے تو پاک ہونے کے بعد طواف کرلے ، حج کے تین ارکان ہیں۔ وقوف عرفہ ، احرام اور طواف زیارت ان کے بغیر حج ادا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص نویں ذوالحج کو دوپہر کے بعد غروب آفتاب تک ایک لمحہ کے لئے بھی میدان عرفات میں ٹھہر گیا تو اس کا حج ادا ہوگیا کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے الحج عرفۃ وقوف عرفات اور طواف زیارت حج کے اہم ارکان ہیں ، اس لئے فرمایا کہ قربانی کرنے کے بعدنہادھو کر بیت اللہ شریف کا طواف کریں۔
Ayahs 22:30–33

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

یہ بات (تو ہوچکی) اور جو شخص تعظیم کرے گا اللہ کی حرمتوں کی ، پس وہ اس کے لئے بہتر ہے اس کے پروردگار کے پاس۔ اور حلال کیے گئے ہیں تمہارے لیے مویشی مگر وہ جو تم کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں پس بچو بت پرستی کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

سیدھے ہو اللہ کے لئے ، نہ شرک کرنے والے ہو اس کے ساتھ ۔ اور جس شخص نے شرک کیا اللہ کے ساتھ پس گویا کہ وہ گر پڑا آسمان سے ، پھر اچک لیا اس کو پرندوں نے یا پھینک دیا اس کو ہوا نے کسی دور مکان میں

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ بات (بھی تم نے سن لی) اور جو شخص اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا ، پس بیشک یہ دلوں کے تقویٰ کی بات ہے

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

تمہارے لئے ان (مویشیوں) میں فوائد ہیں ایک مقررہ مدت تک پھر ان کا پہنچنا اللہ کے اس پرانے گھر تک ہے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی تعمیر وتجدید کا ذکر فرمایا تھا۔ بیت اللہ شریف کی عمارت طوفان میں مٹ چکی تھی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں سے اس کی دوبارہ تعمیرکروائی اس کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) سے اعلان حج کروایا اور اس بات کی ذمہ داری خود اٹھائی کہ اس اعلان کو قیامت تک آنے والی نسلوں تک پہنچائے گا۔ اللہ نے یہ پیشن گوئی بھی فرمائی کہ اس اعلان کے جواب میں لو گ دور دراز علاقوں سے پیادہ اور سوار حج کے لئے آئیں گے اور اس سفر سے دینی اور دنیاوی فوائد حاصل کریں گے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مویشیوں کو اللہ کا نام لے کر اس کی راہ میں قربان کرو اور قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھائو اور محتاجوں کو بھی کھلائو۔ اللہ نے فرمایا کہ قربانی کرنے کے بعد اپنی میل کچیل دور کرو ، اپنی نذریں پوری کرو اور بیت اللہ شریف کے طواف زیارت کے لئے آئو۔ حرمات اور شعائر اللہ کی تعظیم : آگے اللہ نے شعائر اللہ کی تعظیم اور قربانی کے کچھ مسائل بیان فرمائے ہیں ارشاد ہوتا ہے ذلک یہ بات تو تم نے سن لی یعنی بیت اللہ کی تعمیرنو ، حج کی فرضیت اور قربانی کی بات تو تمہارے علم میں آگئی۔ اب یہ ایک اصولی بات ہے ومن یعظم حرمت اللہ فھو خیرلہ عند ربہ ، اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تعظیم کی تو یہ چیز اس کے حق میں بہتر ہے اسکے پروردگار کے ہاں یعنی اللہ کی حرمات کی تعظیم اعلیٰ درجے کی نیکی میں داخل ہے۔ اس کے برخلاف غیر اللہ کی حرمتوں کا ادب وآداب شرک میں داخل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محترم (قابل احترام) اشیاء میں بیت اللہ شریف ، صفا ومروہ ہنیٰ ، مزدلفہ ، عرفان اور تمام مساجد شامل ہیں جن چیزوں کو اللہ نے محترم قرار دیا ہے ان کی تعظیم حقیقت میں اللہ کی تعظیم ہے۔ لہٰذا تمام حرمات کا ادب کرنا چاہیے۔ ان چیزوں کی بےادبی اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے۔ اگلی آیت میں شعائر اللہ کی تعظیم کا ذکر بھی آرہا ہے اور شعائر سے بھی اللہ کی محترم چیزیں ہی مراد ہیں۔ شعائر اللہ کی تعظیم ہمارے دین کا اہم جز ہے۔ ملت ابراہیمی میں اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کو ماننا ، خدا تعالیٰ کا ذکر کرنا ، صبر کرنا بھی اجزائے دین میں داخل ہیں ، اللہ کی یہ نشانیاں خدا تعالیٰ کی عظمت ، جلال اور جمال کی علامت ہوتی ہیں لہٰذا ان کا احترام کرنا ازحد ضروری ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ ادان ، اقامت ، نماز اور قربانی شعائر اللہ کا حصہ ہیں اور ان کا تمسخر اڑانا بےادبی اور بےدینی کی بات ہے۔ اعظم شعائر اللہ میں نماز ، خانہ کعبہ ، قرآن پاک اور پیغمبر ﷺ کی ذات مبارکہ بھی شامل ہے۔ چناچہ اللہ کی توحید کو ماننے والے اہل ایمان ان سب چیزوں کا ادب واحترام کرتے ہیں۔ اللہ نے تعظیم شعائر اللہ کو نیکی میں شمار کیا ہے اور اس کے خلاف کرنے والوں کو وعید سنائی ہے۔ حلال اور حرام جانور : آیت کے اگلے حصے میں اللہ نے مویشیوں کی حالت و حرمت کا قانون بیان فرمایا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے واحلت لکم الانعام الا ما یتلی علیکم اللہ تعالیٰ نے تم پر مویشی حلال کیے ہیں ماسوائے ان کے جو تمہیں اللہ کی کتاب سے پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ حلال جانوروں کی تفصیل سورة الانعام میں گزر چکی ہے کہ یہ چار قسم کے مویشی ہیں جن کے نر اور مادہ دونوں حلال ہیں اور یہی جانور قربانی کے لئے پیش کیے جاتے ہیں ان میں اونٹ ، بھیڑ بکری اور گائے شامل ہیں۔ ان جانوروں پر اللہ کا نام لے کر ان کے حلق پر چھری چلاسکتے ہو۔ اور جو مویشی تم پر ، حرام ہیں ان کی تفصیل بھی اللہ نے مختلف سورتوں میں بیان کردی ہے۔ سورة المائدہ میں ہے۔ حرمت علیکم… ……………………بالازلام (آیت 30) اللہ نے تم پر حرام کیا ہے مرا ہوا جانور ، اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی غیر کا نام پکارا جائے۔ اور جو جانور گلا گھٹ کر مرجائے۔ اور جو چوٹ لگ کر مرجائے اور گرکر مرجائے اور جو سینگ لگ کر مرجائے اور جس کو درندے پھاڑ کھائیں مگر جسے تم مرنے سے پہلے ذبح کرلو ، اور وہ جانور جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ کہ تیرپانسوں سے قسمت معلوم کرو۔ تھان پر ذبح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی قبر ، تکیہ ، درخت یا پتھر کی تعظیم کے لئے اس کے پاس ذبح کیا جائے یا کسی بھی ایسی چیز کی تعظیم کے لئے جانور ذبح کیا جائے جس سے اللہ کی تعظیم مرادنہ ہو۔ یہ تمام چیزیں حرام ہیں اور مردار کے حکم میں داخل ہیں۔ بت پرستی کی نجاست : آگے فرمایا فاجتنبوا الرجس من الاوثان پس بت پرستی کی گندگی سے بچو۔ اوثان وثن کی جمع ہے جو ان گھڑے بت کے لئے بولا جاتا ہے۔ کوئی درخت ہو یا پتھر ہو جو کسی شکل پر نہ بنایا گیا ہو۔ اور صنم وہ ہوتا ہے جو کسی انسان یا جانور وغیرہ کی شکل کا بت ہو۔ مشرکین عرب دونوں قسم کے بتوں کے پجاری تھے۔ ہندو بھی کسی درخت یا پتھر وغیرہ پر چونا لگا کر اور اوپر دہی وغیرہ ڈال کر اس کی پوجا شروع کردیتے ہیں۔ اسی طرح صلیب کے پجاری صلیب کی ایسی حد درجہ تعظیم کرتے ہیں جیسی اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہیے۔ یہ سب شرکیہ افعال ہیں۔ ویسے مطلقاً بت پرستی دنیا میں عام ہے۔ کوئی زندہ کی پرستش کرتا ہے اور کوئی مردہ کی ۔ کوئی قبروں کی پوجا کرتے ہیں اور کوئی اولیاء اللہ اور ملائکہ کی۔ ان کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ کر ان سے فریاد رسی کی جاتی ہے حالانکہ ایک مومن کا عقیدہ یہ ہے۔ ندا (کریما سعدی ص 2 (فیاض) ریم غیراز تو فریاد رس توئی عاصباں راخطا بخش وبس مولا کریم ! تیرے علاوہ کوئی فریاد سننے والا نہیں ہے۔ کوئی بھی مافوق الاسباب غائبانہ مدد نہیں کرسکتا اور نہ کوئی کسی کی مشکل حل کرسکتا ہے نہ کوئی کسی کی ظاہری باطنی حاجت پوری کرسکتا ہے اور نہ کسی بیمار کو شفا دے سکتا ہے۔ اللہ کے سوا نہ کسی کو کلی علم ہے اور نہ اختیار۔ ساری مخلوق عابد ہے اور معبود صرف اللہ کی ذات ہے۔ وہ صاحب کمال اور صاحب جمال ہے فریاد رس وہی ہے۔ برخلاف اس کے بت پرستی ، گندگی اور نجاست ہے اور اسی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ سورة المدثر میں بھی ہے والرجز فاھجر (آیت 5) اپنے آپ سے نجاست اور گندگی کو دور رکھو۔ یہاں بھی فرمایا کہ غیر اللہ کے تقرب کے لئے جانور ذبح کرنا شرک اور گندگی ہے ، اس سے بچ جائو۔ قربانی صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے کرو۔ جھوٹی گواہی : اللہ نے فرمایا ایک تو بت پرستی کی نجاست سے بچوں اور دوسرے واجتنبوا قول الزور اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ جھوٹی بات سے کوئی بھی جھوٹی بات ہوسکتی ہے اور اس میں جھوٹی گواہی کو خوصی حیثیت حاصل ہے کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے عرلت شھادۃ الزور بالا شراک باللہ یعنی جھوٹی گواہی دینا اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے اور اسے اکبر الکبائر میں شمار کیا گیا ہے۔ جھوٹا وعدہ بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ حنیف نہ کہ مشرک : ارشاد فرمایا حنفاء للہ اللہ کے لئے حنیف بن جائو یعنی ہر طرف سے ہٹ کر صرف ایک اللہ کی طرف لگ جائو۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانتا ہے ، قبلہ کی طرف رخ کے نماز ادا کرتا ہے ، ختنہ کرتا ہے ، بیت اللہ کا حج کرتا ہے اور شرک نہیں کرتا ، وہ حنیف ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) اولین حنیف اور تمام حنفاء کے امام تھے۔ حنیفیت کا دور آپ ہی کے زمانے سے شروع ہوا۔ حنیفیت میں توحید کا ماننا مقدم ہے ، اسی بات کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں اور قوم کو چھوڑا۔ آپ ہمیشہ شرک سے بچنے کی تلقین کرتے تھے۔ فرمایا اللہ کے لئے حنیف ہوجائو اس حال میں کہ غیر مشرکین بہ اس کے ساتھ کسی طرح بھی شرک کرنے والے نہ ہو۔ شرک قطعاً پسندیدہ نہیں ، اس کا اظہار نہ قول سے ہونا چاہیے ، نہ فعل سے ، نہ عمل سے اور نہ عقیدے سے۔ اگر کوئی شخص ایسا عمل کرتا ہے جس سے غیر اللہ کی انتہائی تعظیم ہوتی ہے تو وہ شخص مشرک بن جائے گا۔ غیر اللہ کی مدد ونیاز اور چڑھاوا فعل شرک ہے۔ شرک عبادت میں بھی ہوتا ہے اور عادت میں بھی جب تک انسان سچے دل سے توبہ نہ کرلے اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرتا۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ فلاں آدمی ہر چیز کو جانتا ہے ، جو چاہے کرسکتا اور بگڑی بنا سکتا ہے تو ایسا عقید رکھنے والا شخص مشرک ہوجائے گا۔ واللہ علی کل شیء شھید ہر چیز پر حاضر وناظر اور ہر چیز کو جاننے والا تو فقط خدائے ذوالجلال ہے واللہ علی کل شیء حفیظ ، ہر چیز پر نگہبان بھی وہی ہے ، لہٰذا مخلوق میں سے کوئی بھی اس صفت سے متصف نہیں۔ غیر اللہ کے متعلق ایسا عقیدہ رکھنا شرک فی العقیدہ میں شمار ہوگا۔ شرک کی قباحت : آگے الل تعالیٰ نے شرک کی قباحت دو مثالوں کے ذریعے بیان فرمائی ہے۔ فرمایا ومن یشرک باللہ اور جس شخص نے شرک باللہ کا ارتکاب کیا فکانما خرمن السمآء وہ ایسا ہے جیسا کہ آسمان سے گر پڑا فتخطفہ الطیر پھر اسے پرندوں نے اچک لیا۔ پرندوں میں مردار خور چیلیں یا گدھیں وغیرہ ہوتی ہیں جو مردہ جانور کو نوچ کر کھا جاتی ہیں۔ تو شرک کی ایک مثال تو یہ ہے گویا کہ اس کے مردہ جسم کو چیلیں نوچ نوچ کر کھاجائیں اور دوسری مثال یہ کہ اوتھوی بہ الریح فی مکان سحین ، یا کوئی ایسی تندوتیز ہوا چلے جو اسے اڑا کر دور کسی گڑھے میں جا پھینکے اور اس کا نام ونشان باقی نہ رہے۔ دونوں مثالیں مشرک آدمی کو نابود کرنے کے متعلق ہیں۔ گویا مشرک آدمی کو اللہ تعالیٰ اتنی سخت سزا دے گا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ غیر اللہ کی پرستش کرنا ، اس کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا ، اللہ کی تعظیم کی بجائے مخلوق کی تعظیم کرنا گویا آسمان کی بلندی سے گرنے کے مترادف ہے۔ ایسا شخص توحید جیسی بلندی سے گرکر ذلت کے گڑھے میں جاگرتا ہے۔ مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ مشرک دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جو شرک میں پوری طرح پختہ نہیں ہوتا بلکہ مذبذب ہوتا ہے اس کی مثال پرندوں کے نوچنے والی ہے۔ اور جو مشرک اپنے شرک میں پختہ ہوتا ہے۔ اس کی مثال دوسری ہے کہ ہوا اسے اڑا کر کہیں گڑھے میں جا پھینکے۔ بیت اللہ کی بنیاد تو اللہ نے توحید پر قائم کی ہے۔ اس کے برخلاف جو شرک کا راستہ اختیار کرتا ہے اس کا انجام اور شرک کی قباحت بھی بیان فرمادی۔ دلوں کا تقویٰ : پھر قربانی ہی کے تسلسل میں فریاد ذلک یہ بات تو تم نے سن لی یعنی جانوروں کی حلت و حرمت کا علم تو تمہیں ہوگیا۔ اب ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کریگا تو یہ دلوں کے تقویٰ کی بات ہے۔ دوسرے لفظوں میں جس شخص کے دل میں تقویٰ ہوگا وہی شعائر اللہ کی تعظیم کریگا۔ اذان ، اقامت ، نماز ، روزہ ، حج ، مسجد ، اولیاء اللہ ، نبی ، خانہ کعبہ اور دیگر تمام مقامات مقدسہ کی تعظیم تقوی سے تعلق رکھتی ہے۔ جس کے دل میں تقویٰ نہیں ، وہ تعظیم بھی نہیں کریگا۔ بزرگان دین فرماتے ہیں کہ دل اللہ کی زمین میں ظروف کی مانند ہیں۔ تو اچھا برتن وہی ہوتا ہے جو صاف شفاف اور نجاست سے پاک ہو۔ اسی طرح انسان کا دل بھی کفر ، شرک ، نفاق اور بدعات کی نجاست سے پاک ہونا چاہیے یہی دل کا تقویٰ ہے اور جس کے ذریعے شعائر اللہ کی تعظیم آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) پر وحی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کی تلقین کریں کہ لوگ اپنے دلوں کو صاف رکھیں۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے عرض کیا پروردگار ! دلوں کو کیسے پاک صاف رکھا جاسکتا ہے تو اللہ نے فرمایا کہ دل میں میری عظمت اور محبت پیدا کرو۔ جس دل میں محبت خداوندی کی آگ روشن ہوگی ، وہ آگ تمام ردی خواہشات ، کفر ، شرک ، بدعقیدگی اور نفاق کو جلا کر راکھ کردے گی اور دل پاک صاف ہوجائے گا۔ اس کے برخلاف جس دل میں شرکیہ عقائد و اعمال ہوں گے وہ صاف نہ ہوسکے گا۔ اسی لئے فرمایا کہ شعائر اللہ کی تعظیم دلوں کے تقویٰ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ہدی کے جانور : ارشاد ہوتا ہے لکم فیھا منافع الی اجل مسمی ، تمہارے لئے قربانی کے جانوروں میں ایک مقررہ مدت تک فائدے ہیں حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو بڑی تکلیف اٹھا کر پیدال چل رہا تھا حالانکہ اس کے ساتھ جانور بھی تھے آپ نے پوچھا کہ تم اس پر سوار کیوں نہیں ہوجاتے تو اس نے عرض کیا ، حضور ! یہ ہدی کے جانور ہیں جنہیں حرم شریف میں جاکر ذبح کرنا ہے۔ قربانی کے جانور ہونے کی وجہ سے میں نے ان پر سواری نہیں کی۔ آپ نے فرمایا کہ مجبوری کی حالت میں تو تمہیں کسی ایک پر سوار ہونے کی اجازت ہے ہاں اگر اس کے علاوہ تمہارے پاس کوئی دوسری سواری ہوتی جو قربانی کے لئے مخصوص نہ ہوتی تو پھر تم ان ہدی کے جانوروں پر سواری نہیں کرسکتے تھے۔ ایسی صورت میں قربانی کے جانوروں کا دودھ بھی استعمال نہیں کیا جاسکتا اور نہ ان سے کوئی دوسری خدمت لی جاسکتی ہے۔ وہ شخص پھر بھی سوار ہونے سے ہچکچایا تو حضور ﷺ نے فرمایا ویلک ارکبھا افسوس ہے تمہارے اس پر سوار ہوجائو۔ جب خدا تعالیٰ نے اجازت دی ہے تو تم اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے۔ اسی لئے اللہ نے یہاں فرمایا ہے کہ ان قربانی کے جانوروں میں ایک خاص مدت تک تمہارے لئے فائدے کی بات ہے بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ایسے جانوروں سے فائدہ اٹھانے کی اس وقت تک اجازت ہوتی ہے جب تک انہیں قربانی کے لئے نامزد نہ کردیا گیا ہو۔ جب نامزد کردیا تو پھر ان کا دودھ ، کھال ، بال وغیرہ سب صدقہ ہیں اگر ان میں سے کوئی چیز استعمال کرے گا۔ تو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی کیونکہ اب یہ تمام اشیاء اللہ کی نیاز بن چکی ہیں ۔ جو غریبوں اور محتاجوں کا حق ہے۔ بیت العتیق : فرمایا ثم محلھا الی البیت العتیق۔ پھر ان کے پہنچنے کی جگہ اللہ کا پرانا گھر ہے جہاں جاکر ان کو قربان کیا جائیگا۔ عتیق کے دو معنی آئے ہیں۔ عام فہم معنی تو پرانا گھر ہے کہ اللہ کی عبادت کے لئے بنایا جانے والا یہ اولین گھر ہے ، جیسے فرمایا ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبرکا وھدی للعلمین (آل عمران 96) سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لئے عبادت کی غرض سے بنایا گیا وہ مکہ مکرمہ میں ہے اور جہان بھر کے لئے باعث ہدایت ہے۔ زمین کی تخلیق کا مرکز بھی یہی ہے۔ اسی مقام سے زمین کا پھیلائو ہوا۔ اس لحاظ سے بھی یہ پرانا گھر ہے۔ عتیق کا دوسرا معنی آزاد کرنے کا ہے اور یہ معنی بھی درست ہے کہ بیت اللہ شریف ہر جبار کے تسلط سے آزاد ہے جس نے بھی اس کی طرف بری نظر سے دیکھا ، اللہ نے اس کو ذلیل و خوار کیا۔ جب ابرہہ نے بیت اللہ شریف کو گرانے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے تین میل دور ہی وادی محسر میں اس کے لشکر کو تباہ کردیا۔ قیامت (بخاری ص 216 ج 1 وص 217 ج 1 (فیاض) کی نشانیوں میں البتہ آتا ہے کہ قرب قیامت میں حبشہ کا ایک ظالم شخص کعبۃ اللہ کو گرادیگا۔ اس سے پہلے کئی لشکر آتے رہے مگر اللہ نے ان کو زمین میں دھنسا دیا۔ اور بیت اللہ شریف کی آزادی پر حرف نہیں آنے دیا۔ مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں کہ بیت اللہ محض اینٹوں اور پتھروں کی عمارت کا نام نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ پتھر اکھاڑ کر دوسری جگہ گھر بنادیا جاتا تو وہ بھی بیت اللہ ہوتا۔ مگر یہ بات نہیں ہے۔ بیت اللہ دراصل اس مقام کا نام ہے جس مقام پر یہ گھر تعمیر ہوا ہے۔ اگرچہ یہ مادی گھر ہے مگر اللہ نے اسے اپنی ذاتی تجلیات کا مہبط بنایا ہے اور یہ درجہ کسی دوسرے مقام کو حاصل نہیں ہے۔ اللہ نے اسے ہماری عبادت کے لئے جہت بنایا ہے ۔ قربانی کے جانور حدود حرم میں منیٰ یا دوسری جگہوں پر قربان کیے جاتے ہیں۔ اپنے اپنے ملکوں میں قربانی کرتے وقت بھی جانوروں کے رخ قبلہ کی طرف پھیردینے چاہئیں۔ یہ اس قدیم گھر کی تعظیم کے احکام میں سے ہے۔