Ayahs 22:70–72ربط آیات :
گزشتہ آیات میں قربانی کا ذکر اور کفروشرک کا رد تھا۔ اللہ نے توحید کے کچھ دلائل بیان فرمائے اور قربانی کے متعلق فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔ اور اگر یہ لوگ اس معاملہ میں کوئی جھگڑا کریں تو اللہ نے اپنے نبی کو فرمایا کہ آپ انہیں توحید کی طرف دعوت دیں ، نیز بتادیں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری کار گزاریوں کو جانتا ہے ، اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کے متعلق وہ قیامت کو فیصلہ کردے گا۔
متعلقات قربانی :
گزشتہ آیات میں قربانی کا خصوصی ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ معلوم دنوں میں لوگ حلال مویشیوں کو اللہ کے نام لے کر ذبح کریں۔ اس قربانی کو اپنی جان کا بدل سمجھیں اور اس طرح جذبہ قربانی کو زندہ رکھیں۔
امام ابوبکر حبصاص (رح) فرماتے ہیں کہ ائمہ اہل سنت کے نزدیک قربانی واجب ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) ، امام محمد (رح) ، امام ابو یوسف (رح) اور امام زفر (رح) بھی اسی کے قائل ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے استاذ الاستاذ امام ابراہیم نخعی (رح) فرماتے ہیں کہ قربانی صاحب نصاب مقیم آدمی پر واجب ہے ، مسافر کے لئے ضروری نہیں۔ حاجی بھی چونکہ مسافر ہوتا ہے اس لئے اس پر بھی ہر سال گھر پر کی جانے والی قربانی واجب نہیں ہوتی۔ تاہم امام مالک (رح) کے نزدیک ہر صاحب حیثیت پر قربانی ضروری ہے خواہ مقیم ہو یا مسافر۔ البتہ شافعی (رح) کے نزدیک عیدالاضحی کی قربانی سنت موکدہ ہے۔
قربانی تین ایام یعنی دس ، گیارہ اور بارہ ذی الحج کو کی جاسکتی ہے صحیحین (بخاری ص 835 ج 2 و مسلم ص 158 ج 2 وابودائود ص 388 وموطا امام مالک ص 187 (فیاض) کی روایت میں آتا ہے کہ ایک سال حضور ﷺ نے تین دن سے زیادہ گوشت رکھنے کی ممانعت فرمادی۔ وجہ یہ تھی کہ اس سال بہت سے غریب لوگ باہر سے مدینہ منورہ آگئے تھے اور اگر مدینہ کے لوگ قربانی کا گوشت زیادہ دنوں تک کے لئے محفوظ کرلیتے تو ان غرباء کو کچھ نہیں مل سکتا تھا۔ لہٰذا آپ نے فرمایا کہ اپنے لئے تین دن سے زیادہ گوشت نہ رکھو۔ جو تین دن کی ضروریات سے زیادہ ہو ، اسے غریبوں میں تقسیم کردو۔ پھر اگلے سال آنحضرت (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ سابقہ حکم منسوخ ہے اب گوشت خشک کرکے جتنے دن تک چاہو رکھ سکتے ہو اس روایت میں چونکہ تین دن کا ذکر ہے اس لیے جمہور ائمہ کرام تین دن کی قربانی کے ہی قائل ہیں۔
امام شافعی (رح) قربانی کو ایام تشریق کے ساتھ منسلک کرتے ہیں جو کہ چار دن ہیں یعنی دسویں تا تیرھویں ذی الحج۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ چار دن والی روایت میں راوی کو بیان کرنے میں غلطی ہوئی ہے۔ اس نے بیان کیا ہے ایام منی کلھا منحر یعنی منیٰ میں ٹھہرنے کے سارے دن (ایام تشریق) قربانی کے دن ہیں حالانکہ حضور ﷺ نے قیام عرفہ کے متعلق فرمایا تھا العرفات کلہا موقف یعنی سارا میدان عرفات موقف ہے ، نو تاریخ جہاں کسی کا جی چاہے ٹھہر جائے۔ البتہ اس میں وادی عرنہ شامل نہیں جو مسجد نمرہ کے عقب میں نشیبی جگہ ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ نے فرمایا کہ مزدلفہ میں ہر جگہ ٹھہر سکتے ہو سوائے وادی محسر کے کہ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں پر عذاب نازل فرمایا تھا جس کا ذکر سورة الفیل میں موجود ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مکہ کی گلیاں اور بازار اور سارے میدان منیٰ میں جہاں چاہو قربانی کرلو۔ مگر آج کل انتظامی امور کے تحت حکومت وقت نے منیٰ میں قربانی کے لئے بعض قربان گاہیں مقرر کردی ہیں اور حاجی لوگ ان مقررہ قربان گاہوں میں ہی قربانی کرتے ہیں ہر خیمے میں قربانی کرنے سے صفائی کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ بہرحال حضور ﷺ نے ایام تشریق کو کہیں بھی قربانی کے دن نہیں فرمایا ، لہٰذا صحیح بات یہی ہے کہ قربانی صرف تین دن ہوتی ہے۔ حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بھی فرماتے ہیں کہ قربانی دس تاریخ اور دو دن بعد ہے لہٰذا قربانی کے کل ایام تین ہی ہیں۔
اللہ کا علم محیط :
اس اسی سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے الم تعلم اے مخاطب ! کیا تو نہیں جانتا ؟ اگر یہ بات تجھے معلوم نہیں تو جان لینا چاہیے اور اس پر قطعی یقین رکھنا چاہیے کہ ان اللہ یعلم مافی السماء والارض بیشک اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے۔ اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔ قرآن پاک میں ہے واللہ بکل شیء علیم۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ وہ نہ صرف ذاتی طور پر ہر چیز کا علم رکھتا ہے بلکہ ان ذلک فی کتب کائنات کی ہر چیز لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ لوح محفوظ کے اندراج کو تقدیر کتابی کہتے ہیں اور تمام اہل سنت والجماعت کا اس پر ایمان ہے خلقہ فقدرہ (عبس 19) اللہ نے انسان کو پیدا کیا ، پھر اس کی تقدیر بنائی ۔ صحیح حدیث میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں قدر مقادیر الخلق قبل خلق السموت والارض خمسین الف سنۃ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوق کی تقدیر بنائی۔
تقدیر کی تین قسمیں :
محدثین کرام تقدیر کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ پہلے نمبر پر تقدیر ارادی ہے۔ یعنی کائنات میں جو کام بھی واقع ہوتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے سے ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر بھی کوئی چیز واقع ہوسکتی ہے تو اس کا عقیدہ مشرکانہ سمجھا جائے گا۔ تقدیر کی دوسری قسم علمی تقدیر ہے یعنی کائنات کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ ہر چیزکو جانتا تھا ، کہ فلاں چیز فلاں وقت پر ظاہر ہوگی۔ اور فلاں واقعہ اس طرح پیش آئیگا۔ اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ کا فرمان ہے الا یعلم من……………الخبیر (الملک 14) کیا وہی نہیں جانے گا جس نے خود ہر چیز کو پیدا کیا ؟ حالانکہ وہ باریک بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ وہ تو ازل سے ہر چیز کو جانتا ہے۔ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کسی واقع ہوچکی یا آئندہ پیش آنے والی چیز کو نہیں جانتا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ سابقہ موجودہ اور آئندہ پیش آنے والی ہر چیز کو اللہ نے کتاب یعنی لوح محفوظ میں بھی لکھوا دیا ہے۔ اس مقام پر بھی یہی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر چیز لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ فرمایا ان ذلک علی اللہ یسیر ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے۔ یہ اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔ وہ تو قادر مطلق اور علیم کل ہے ، اس کے لئے کون سی بات مشکل ہے ؟
غیر اللہ کی بلادلیل عبادت :
آگے اللہ نے مشرکوں کا رد فرمایا ہے ویعبدون من دون اللہ مالم ینزل بہ سلطنا یہ لوگ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے متعلق اللہ نے کوئی سند اور دلیل نہیں فرمائی۔ غیر اللہ کی عبادت پر نہ کوئی عقلی دلیل پیش کی جاسکتی ہے ، نہ نقلی اور نہ مشاہداتی۔ اسی لئے قرآن میں بار بار بیان کیا گیا ہے کہ کفر اور شرک کرنے والے کے پاس لابرھان لہ بہ (المومنون 117) قطعاً کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ وہ تو صرف آبائواجداد یا خاندان اور برادری کے رسم و رواج کو ہی دلیل کے طور پر پیش کرسکتا ہے۔ جس کے متعلق اللہ نے فرمایا اولوکان…………یھتدون (البقرہ 170) اگرچہ ان کے آبائو اجداد بےعلم اور غیر ہدایت یافتہ ہی کیوں نہ ہوں ، مگر یہ بلا سوچے سمجھے اسی ڈگر پر چلے جا رہے ہیں۔ ہاں اگر آباو اجداد صحیح راستے پر ہوں تو پھر ان کا اتباع کرنا فخر کی بات ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی تو یہی کہا تھا۔ واتبعت……………ویعقوب (یوسف 38) میں تو اپنے باپ دادا ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت پر چلتا ہوں اور انہی کا اتباع کرتا ہوں۔ آبائو اجداد کے اختیار کردہ غلط راستے پر چلنا اندھی تقلید کہلاتا ہے۔
فرمایا مشرک لوگ اللہ کے سوا ایسی چیز کی پرستش کرتے ہیں جس کے متعلق نہ تو ان کے پاس کوئی دلیل ہے وما لیس لھم بہ علم اور نہ ہی ان کے پاس اس چیز کا کوئی علم ہے۔ یہ تو پوجا کی جانے والی چیز کی حقیقت سے ہی نابلد ہیں۔ یہ لوگ بعض بےجان چیزوں سے حاجت روائی کرتے ہیں جو کہ ویسے ہی بےجان ہیں۔ یا ان کو اپنا سفارشی تسلیم کرکے ان کی عبادت کرتے ہیں جیسا کہ اللہ نے ان کا یہ بیان نقل فرمایا۔ وما نعبدھم……………زلفی (الزمر 3) ہم تو ان کی اس لئے عبادت کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیتے ہیں یعنی ہماری سفارش کرتے ہیں۔ بعض معبودوں کے متعلق یہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ نے ان پر الوہیت کی چادر ڈال دی ہے۔ یہ اللہ کے محبوب ہیں اور اس سے ہر بات منوا لیتے ہیں۔ یہ محض جاہلانہ باتیں ہیں جن کے پیچھے اندھی تقلید کارفرما ہے۔
فرمایا ، یہ کتنے ظالم لوگ ہیں جو قادر مطلق ، مختارمطلق اور علیم کل ہستی کو چھوڑ کر بےاختیار چیزوں کی پرستش کرتے ہیں۔ کبھی کسی قبر سے مانگنے لگتے ہیں کبھی شجر وحجر کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور کبھی شمس وقمر سے حاجت براری کرتے ہیں۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان ، ملائکہ اور جن اور کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ سے حاجتیں طلب کرتے ہیں یسئلہ…………ولارض (الرحمن 29) آسمان و زمین کی ہر چیز اسی مالک الملک کی سوالی ہے۔ بھلا جو خود سوالی ہوں وہ دوسروں کی کون سی حاجت پوری کریں گے ؟ وما للظلمین من نصیر اس قسم کے ظالموں اور مشرکوں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ خدائے وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر مخلوق میں کرشمہ مانا جائے اور ان کے سامنے اپنی حاجات پیش کی جائیں۔ یہ ظالم لوگ ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔
توحید سے چڑ :
اللہ نے کفار ومشرکین کی ایک بڑی حرکت یہ بھی بیان فرمائی۔ و اذا تتلی علیھم ایتنا بینت جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں تعرف فی وجوہ الذین کفروا المنکر تو تم کافروں کے چہروں پر ناگواری کے اثرات محسوس کرو گے۔ آیات الٰہی کی تلاوت کافروں کے لئے سخت پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ سورة الزمر میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔ واذاذکر……… ………یستبشرون (الزمر 45) جب ان کے سامنے صرف اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ، تو ان کے دل بگڑ جاتے ہیں ، اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جائے تو وہ بڑے خوش ہوتے ہیں۔ آپ روز مرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ مشرک لوگ توحید کے مسئلہ کو خشک مضمون سمجھ کر ناک بھوں چڑھاتے ہیں مگر جب جھوٹی کرامتیں ، جھوٹے قصے اور بےبنیاد باتیں بیان کی جائیں تو خوب جھومتے ہیں۔ تو فرمایا کہ توحید کی ذکر سے وہ ناگواری محسوس کرتے ہیں حالانکہ ایمان والوں کو اللہ وحدہ لاشریک کی صفت سن کر خوشی ہونی چاہیے۔ دین کی تو جڑ اور بنیاد ہی توحید ہے مگر یہ لوگ توحید کے بیان پر سیخ پا ہوجاتے ہیں فرمایا یکادون یسطون بالذین یتلون علیھم ایتنا ، قریب ہے کہ یہ لوگ حملہ آور ہوجائیں ان پر جو ہماری آیتیں پڑھتے ہیں۔ مشرکین کی ساری تاریخ پڑھ لیں۔ ہر نبی کے دور میں انہوں نے اپنے نبی پر حملہ کیا۔ اس کی تکذیب کی ، جادوگر کہا اور طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کیا سلوک کیا اور پیغمبر آخرالزمان کو کونسی تکلیف تھی جو نہ پہنچائی گئی ہو ، محض اس لئے کہ وہ کہتے تھے ان یقولوا ربنا اللہ کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے ، ہم اس کے سوا کسی کو خالق ، مالک اور لائق عبادت نہیں مانتے۔ سارے انبیاء اسی جرم کی پاداش میں ماریں کھاتے رہے۔ حتیٰ کہ بعض کو قتل بھی کردیا گیا۔ بہرحال اسی طرح اہل بدعت اور غالی رافضی اور شرک نواز لوگ بھی اہل توحید کی بات سننا گوارا نہیں کرتے بلکہ بسا اوقات ان پر حملہ کردیتے ہیں۔ اس قسم کی مثالیں آپ کو ہر جگہ ملیں گے۔ نواب آف بہاولپور کی مسجد میں مولانا رحمت اللہ (رح) جیسے متدین اور نیک سیرت عالم دین کو بم مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اس کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے خطبہ جمعہ کے دوران قرآن پاک کی روشنی میں مسئلہ بشریت رسول بیان کیا ، مگر اہل بدعت اسے برداشت نہ کرسکے۔ اسی مسئلہ پر اکاڑہ میں دو طالب علموں کو شہید کردیا گیا خود حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ پر حملہ ہوا۔ آپ کو اتنا پیٹا گیا کہ سر کے بال اکھڑگئے۔ آج بھی لوگ قرآن سے بدکتے ہیں۔ دراصل مشرکوں کو توحید سے چڑ ہے۔ سورة البینہ میں ہے وما امروا…………لہ الدین (آیت 5) تمام کائنات کے لوگوں کو اللہ نے یہی حکم دیا ہے کہ وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کریں ، اسی کی غلامی اختیار کریں کیونکہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ جب یہ بات کی جاتی ہے تو وہ مرنے مارنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ یہاں اسی بات کو بیان کیا گیا ہے۔
دوزخ کی آگ :
ارشاد ہوتا ہے ، اے پیغمبر قل افانبئکم بشر من ذلکم آپ کہہ دیجئے ، کیا میں بتلائوں تم کو اس سے بھی بری بات۔ یعنی قرآن پاک کی آیات اور توحید الٰہی کا بیان سن کر چیں بچیں ہونے سے بھی زیادہ بری چیز النار دوزخ کی آگ ہے وعدھا اللہ الذین کفروا جس کا اللہ تعالیٰ نے کافروں کی ساتھ وعدہ کررکھا ہے کہ وہ ان کو ضرور اس آگ میں ڈالے گا۔ آج تو ان کو آیات الٰہی پسند نہیں آتیں مگر قیامت کا دن آنے والا ہے۔ جب ان کا ٹھکانہ دوزخ کی آگ ہوگا۔ وبئس المصیر اور یہ لوٹ کر جانے کی بہت ہی بری جگہ ہے جو خدا تعالیٰ کے غضب اور قہر کا مقام ہے۔
Ayahs 22:73–76ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ نے مشرکین کا ر د فرمایا تھا ویعبدون من دون اللہ مالم ینزل بہ سلطنا یہ لوگ ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ پھر کفر اور شرک کرنے والوں کی قباحت بیان کہ کہ وہ حق بات یعنی آیات الٰہی کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ تاہم جب کبھی وہ یہ آیات سن لیتے ہیں تو ان کے چہرے بگڑ جاتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ تم کو جو ناگواری آیات الٰہی کے سننے سے ہوتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ بری بات یہ ہے کہ تم دوزخ کی آگ کا شکار ہونے والے ہو۔
مشرکوں کے لئے مکھی کی مثال :
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے کفر وشرک کا رد فرمایا ہے۔ اس سورة کی اہم ترین باتوں میں سے ایک بات شرک کی تردید بھی ہے۔ اس کے علاوہ ایمان کا مسئلہ ہے ، رسالت کا بیان اور قیامت کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کی بات کی ہے ، حج کے بعض مسائل اور بعض دوسرے ذیلی احکام بیان کیے ہیں۔ چناچہ شرک کی تردید میں یہ مثال پیش کی گئی ہے یایھا الناس ضرب مثال ، اے لوگو ! ایک مثال کا اطلاق تمثیل اور واقعہ پر بھی ہوتا ہے ، اور یہ لفظ عجیب و غریب چیز کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو فرمایا ، اے لوگو ! ایک مثال بیان کی گئی فاستمعوالہ پس اسے غور سے سنو۔ اس مثال سے مشرکوں کی بےسمجھی اور شرک کی قباحت ظاہر ہوتی ہے۔ اس مثال کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے اور مشرکوں کی سی قبیح حرکات سے باز رہنا چاہیے۔
ارشاد ہوتا ہے ان الذین تدعون من دون اللہ بیشک وہ جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو ، ان کی حالت تو یہ ہے لن یخلقوا ذبابا ولواجتمعوالہ وہ ہرگز نہیں پیدا کرسکتے ایک مکھی بھی اگرچہ وہ سب کے سب اس کام کے لئے اکٹھے ہوجائیں۔ مکھی ایک حقیرسا جانور ہے جو گندگی پر بیٹھا ہے اور جسے کوئی دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ فرمایا اگر سارے معبودان باطلہ مل کر بھی کوشش کریں تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ فرمایا مکھی کو تخلیق کرنا تو بڑی بات ہے کہ اس کا ڈھانچہ بنانا پڑے گا۔ اس کے جسم کا سارا نظام قائم کرنا پڑے گا اور پھر اس میں جان بھی ڈالنا ہوگی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وان یسلبھم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ اگر مکھی ان سب سے کوئی چیز اچک کرلے جائے تو وہ اس سے چھڑانے پر بھی قادر نہیں ہے ۔ ضعف الطالب والمطلوب دیکھو طلب کرنے والے اور طلب کی گئی چیز کتنے کمزور واقع ہوئے ہیں۔ سورة عنکبوت میں مکڑی کے جالے کو کمزور تر چیز فرمایا گیا ہے۔ اور ساتھ یہ بھی کہ مثل الذین……………العنکبوت (آیت 41) اللہ کے علاوہ دوسری کو کارساز بنانے والے مشرکوں کی مثال مکڑی کی ہے اور مکڑی کا گھر سب سے کمزور ہوتا ہے۔ گویا اللہ نے شرکیہ عقیدے کی کمزوری کو مکڑی کا گھرسب سے کمزور ہوتا ہے۔ گویا اللہ نے شرکیہ عقیدے کی کمزور ی کو مکڑی کے جالے کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو سب سے کمزور چیز ہے۔ فرمایا جب یہ سارے معبود اتنے کمزور ہیں کہ مکھی سے کوئی چیز واپس لینے پر بھی قادر نہیں تو ان الوہیت کے مرتبہ پر بٹھانا کس قدر حماقت کی بات ہے۔
مشرک لوگ بسا اوقات اپنے معبودان باطلہ کے سامنے مٹھائی ، شہد ، دودھ یا دہی وغیر ہ رکھتے ہیں تاکہ ان کی رضا حاصل کرسکیں۔ ہنود بھی مختلف چڑھاوے بتوں پر چڑھاتے ہیں ، مگر اللہ نے فرمایا کہ مکھی کو تخلیق کرنا تو کجا وہ تو مکھی سے اپنی چینی ہوئی چیز بھی واپس نہیں لے سکتے ، وہ تمہاری حاجت روائی اور مشکل کشائی کیا کریں گے ؟
اس آیت میں طالب اور مطلوب دونوں کو کمزور فرمایا گیا ہے۔ طالب سے مراد عبادت گزا ر اور مطلوب سے معبود باطل مراد لیا جاسکتا ہے ، اور اللہ نے دونوں کے متعلق فرمایا کہ انہیں کچھ اختیار حاصل نہیں۔ وہ تمہاری پریشانیوں کو کیسے دور کرسکتے ہیں اور تمہارے بیماروں کو کیسے شفا دے سکتے ہیں۔ طالب سے مراد معبود باطل اور مطلوب سے مراد مکھی بھی ہوسکتا ہے۔ اس طرح معنی یہی ہوگا کہ جو ہستی ایک مکھی پر قدرت نہیں رکھتی ، وہ تمہاری ترقی وتنزل کی کیسے ذمہ دار ہوسکتی ہے ؟ اس قسم کے شرکیہ عقائد محض خام خیال ہیں اور ان کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ بہرحال مٹی اور پتھر کی بےجان مورتیاں ہوں یا کوئی جاندار ہستیاں ہوں ، کسی کو کچھ اختیار نہیں ہے کہ وہ مافوق الاسباب کسی کی مدد کرسکیں۔
تصویر کشی : حدیث شریف میں تصویر کشی اور بت سازی کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ تصویریں اور مجسمے بنانے والوں سے فرمائے گا کہ ذرا ان میں جان تو ڈال کر دکھائو۔ تم نے شبیہ تو بنالی۔ میری تخلیق کی نقل تو اتارلی۔ اب ذرا اسے مکمل بھی کرو۔ کوئی بڑی چیز نہیں بناسکتے تو ایک چیونٹی ہی بناڈالو جو کا ایک دانہ ہی پیدا کرکے دیکھو پھر جب وہ ایسا نہیں کرسکیں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں سخت ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اسی لئے حضور ﷺ نے فرمایا لعن اللہ المصورین اللہ نے تصویریں بنانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ انسان کی تخلیق کے متعلق اللہ نے سورة آل عمران میں فرمایا ھوالذی……………یشاء (آیت 6) اللہ تعالیٰ تو وہ ہے جو ماں کے رحم میں تمہاری شکل و صورت بناتا ہے۔ جیسی چاہتا ہے۔ مصور حقیقی تو وہ ہے۔ جو لوگ اللہ کی اس صفت میں مشابہت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، وہ کر تو نہیں سکیں گے مگر سخت عذاب میں ضرور پھنس جائیں گے۔
اللہ کی عظمت کی پہچان :
فرمایا ماقدرو اللہ حق قدرہ ان لوگوں نے اللہ کی وہ عظمت نہیں کی جو اس کی عظمت کا حق تھا۔ انہوں نے بےاختیار اور عاجز چیزوں کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا۔ قدر کا معنی پہچاننا بھی ہوتا ہے اس لحاظ سے جملے کا مطلب ہوگا ماعرفو اللہ حق معرفتہ انہوں نے اللہ کو اس طرح نہیں پہچانا جس طرح اس کو پہچاننے کا حق تھا۔ اللہ تعالیٰ عظمت اور بزرگی والا ہے ، وہ تمام اختیارات کا مالک ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے ، مگر یہ ایسی ہستیوں کو معبود بناتے ہیں جن میں کوئی بھی ایسی صفت نہیں پائی جاتی ، لہٰذا الوہیت کا منصب بھی صرف اللہ کے پاس ہے۔ حدیث شریف میں بھی معرفت الٰہی کا اشارہ ملتا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو فرمایا یمن اہل کتاب کا مسکن ہے۔ انہیں سب سے پہلے توحید و رسالت کی دعوت دینا فاذا اعرفوا اللہ ، جب وہ اللہ کو پہچان لیں تو پھر انہیں پانچ نمازوں روزے ، زکوٰۃ اور حج کی تعلیم دینا گویا خدا تعالیٰ کی پہچان اولین چیز ہے اور دین کی پوری عمارت اسی بنیاد پر قائم ہوتی ہے ویسے پہچاننے کو تو یہود ، نصاریٰ مجوسی ہندو وغیرہ سب کسی نہ کسی طرح خدا تعالیٰ کی ہستی کے قائل ہیں اور وہ اس کو پہچانتے ہیں مگر وہ صحیح طریقے سے نہیں پہچانتے جیسا کہ اس کہ پہچاننے کا حق ہے۔ یہ لوگ حجاب سوء معرفت میں مبتلا ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث (رح) فرماتے ہیں کہ ان میں سے کچھ لوگ شرک میں مبتلا ہے اور کچھ عقیدہ تشبیہ میں پھنسے ہوئے ہیں شرک یہ ہے کہ مخلوق میں خالق کی صفت مانی جائے اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ فلاں بھی مافوق الاسباب مدد کرسکتا ہے یا عالم الغیب ہے اور تشبیہ یہ ہے کہ مخلوق کی صفت خالق میں تسلیم کی جائے جیسے قالوا………والدا (الکہف 4) انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے حالانکہ اولاد رکھنا مخلوق کی صفت ہے۔ یہاں بھی پہچان غلط ہوگئی ۔ اللہ تعالیٰ تو ایسی چیزوں سے پاک اور منزہ ہے۔ خدا تعالیٰ کو اس تنزیہہ کے ساتھ پہچاننا چاہیے۔ اور اس کی طرف وہی صفات منسوب کرنی چاہئیں جو اس کے لائق ہیں اگر غلط صفت کے ساتھ اللہ کو موصوف کیا گیا تو پہچان غلط ہوگئی۔ جو جہنم میں لے جانے کا باعث ہوگی۔
حجاب سوء معرفت کا ذکر تو ہوچکا ہے ، دوسری قسم کا حجاب حجاب طبع ہے۔ اکثر لوگ مادیت کے اس حجاب میں مبتلا ہو کر خدا تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔ وہ سب کچھ اسی دنیا کو سمجھتے ہیں ، لہٰذا آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا اور وہ دائمی زندگی میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ تیسری قسم حجاب رسم ہے ۔ بعض لوگ عمر بھر رسم و رواج کے چکر میں پڑے رہتے ہیں۔ موت وحیات کی رسومات ہوں یا شادی بیاہ کی ، خاندانی رسم ہو یا ملکی رواج ، ہمیشہ اسی کی تکمیل میں لگے رہتے ہیں اور مالک حقیقی اور اس کے احکام کی طرف توجہ کا موقع ہی نہیں ملتا۔ بہرحال جو شخص ان تین اقسام کے حجابات سے نکل جائے گا اللہ تعالیٰ کی صحیح پہچان اسی کو حاصل ہوگی اور وہی کامیاب ہوگا۔ فرمایا ان اللہ لقوی عزیز بیشک اللہ تعالیٰ زبردست طاقت والا اور ہرچیز پر غالب ہے ، اس کے ارادے اور مشیت کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں آتی ، وہ کمال قدرت کا ماکل ہے ، علیم کل اور مختار مطلق ہے ، تمام چیزوں پر مافوق الاسباب تسلط اسی کو حاصل ہے۔
رسولوں کا انتخاب :
آگے فرمایا اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس اللہ ہی ہے جو فرشتوں میں سے رسولوں کا انتخاب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی تمام بنی اور رسول اللہ کے منتخب بندے ہوتے ہیں اور اللہ کے ہاں سب سے مقرب ہوتے ہیں۔ رسولوں کا انتخاب محض اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہوتا ہے ، کوئی فرشتہ یا انسان اپنی محنت اور کاوش کے بل بوتے پر رسول بننے کا حق نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی استعداد اور صلاحیت کو جانتا ہے اور وہ اسی کے مطابق نبی یا رسول کا انتخاب کرتا ہے فرشتے اگرچہ مجموعی طور پر سارے کے سارے نیک بندے ہیں اور بڑے درجات والے ہیں مگر ان میں سے بلند ترین مراتب والے وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پیغام رسانی کے لئے منتخب کرتا ہے اس کے باوجود وہ بااختیار نہیں ہیں بلکہ سارے کا سارا اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ان اللہ سمیع بصیر بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
فرمایا یعلم مابین ایدیھم وما خلفھم ، اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے۔ یعنی وہ فرشتوں کے اگلے پچھلے تمام حالات سے واقف ہے ، اور وہی سب پر کنٹرول رکھتا ہے والی اللہ ترجع الامور اور تمام معاملات خدا تعالیٰ کی طرف ہی لوٹائے جاتے ہیں۔ فرشتوں کے متعلق گزشتہ سورة انبیاء میں بھی گزر چکا ہے ومن ……………عبادتہ (آیت 19) کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے۔ وہ اللہ کے نیک اور عاجز بندے ہیں۔ جو خود عاجز اور عابد ہیں ، وہ معبود کیسے بن سکتے ہیں ؟ جو ان کو معبود تسلیم کرے گا۔ وہ جہنمی ہوگا۔ غرضیکہ بےجان اصنام ہوں یا مقربین الٰہی انبیاء اور ملائکہ ہوں ، ان میں سے کوئی بھی الٰہ بننے کا اہل نہیں ہے اور نہ وہ کسی غائبانہ حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتا ہے۔ ہر ایک کا اپنا اپنا مقام اور مرتبہ ہے مگر الوہیت کے درجے تک کوئی نہیں پہنچتا۔ سورة سبا میں موجود ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو جمع کریگا ، تو فرشتوں سے کہے گا ، کیا یہ لوگ تمہاری پرستش کیا کرتے تھے۔ فرشتے جواب دینگے سبحنک …… …دونھم (آیت 41) مولا کریم ! تیری ذات پاک ہے ، تو ہی ہمارا کارساز ہے۔ غرضیکہ فرشتے اپنی الوہیت کا انکار کریں گے۔ اور کہیں گے کہ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ ہمیں اپنا کارساز بنالیں اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں شرک کی تردید فرمائی ہے اور یہ بات ایک مکھی کی مثال کے ذریعے سمجھائی ہے۔
Ayahs 22:77–78ربط آیات :
گزشتہ آیات میں مشرکین کی برائی اور قباحت کا ذکر تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو صحیح طریقے پر نہیں پہچانا وہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جنہیں کچھ اختیار حاصل نہیں۔ اس ضمن میں اللہ نے معبودان باطلہ کی بےبسی کو مکھی کی مثال دے کر بیان فرمایا کہ وہ تو مکھی جیسی حقیر چیز کو پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں ، بلکہ اگر مکھی کوئی چیز چھین لے جائے تو اسے واپس لینے کی طاقت بھی نہیں رکھتے چہ جائیکہ وہ دوسروں کی حاجت براری کریں۔ اللہ کی ساری مخلوق خواہ وہ جاندار ہو یا بےجان اللہ کے سامنے عاجز ہے ، لہٰذا ان میں الوہیت کا پایا جانا بعید از قیاس ہے۔ مشرکین کی طرف سے ان کی پرستش نہایت ہی بےوقوفی کی بات ہے۔
عبادت صرف اللہ کی :
غیر اللہ کی پرستش کی مذمت بیان کرنے کے بعد اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی عبادت کرنے کی تلقین کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوارکعوا واسجدوا واعبدو ربکم اے ایمان والو ! رکوع کرو ، سجدہ کرو ، اور عبادت کرو اپنے پروردگار کی۔ رکوع و سجود سے مرادنماز ہے کیونکہ یہ دنوں نماز کے اہم ارکان شمار ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے کے بعد سجدہ صرف اللہ کو روا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ کا فرمان ہے لا تسجدوا…………خلقھن (حم السجدۃ 37) شمس وقمر کو سجدہ نہ کرو بلکہ اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا فرمایا ہے۔ سجدہ انتہائی درجے کی تعظیم کا نام ہے اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہی روا ہے۔ رکوع اس سے ادنی درجے کی تعظیم ہے مگر یہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے ، اسی لئے کسی کے ساتھ ملاقات کے وقت جھک کر رکوع کی شکل نہیں اختیار کرنی چاہیے کہ یہ مکروہ ہے۔ حضور ﷺ نے انحنا سے بھی منع فرمایا ہے ۔ بہرحال فرمایا کہ رکوع و سجود اور ہر قسم کی عبادت اللہ ہی کو کرو۔
سجدہ تلاوت :
یہ آیت امام شافعی (رح) کے نزدیک سجدہ تلاوت والی آیت ہے۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس آیت میں مذکور ہو سجدہ سے مراد نماز کا سجدہ ہے۔ لہٰذا اس کو پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت لازم نہیں آتا۔ ان دو فقائے کرام میں اس معمولی سے اختلاف کے باوجود دنوں ائمہ قرآن پاک کے کل چودہ مقامات میں سجدہ تلاوت کے قابل ہیں امام شافعی (رح) آیت زیر درس والے سجدہ کو سجدہ تلاوت مانتے ہیں۔ مگر سورة صٓ والے سجدہ کے قائل نہیں۔ امام ابوحنیفہ سورة صٓ کے سجدہ کے قائل ہیں مگر اس سورة کے سجدہ تلاوت کو تسلیم نہیں کرتے۔ امام مالک (رح) ساتویں منزل میں سورة نجم ، سورة انشقاق اور سورة علق کے تین سجدے تسلیم نہیں کریت لہٰذا ان کے نزدیک پورے قرآن میں سجدہ ہائے تلاوت صرف گیارہ ہیں۔ غالباً ان تک وہ احادیث نہیں پہنچ سکیں جن میں ساتویں منزل کے سجدوں کا ذکر ہے اور جن کے مطابق خود حضور ﷺ نے ان مقامات پر سجدہ ادا فرمایا (بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ امام مالک (رح) کے نزدیک گیارہ سجدات موکدہ ہیں اور تین غیر موکدہ۔
نیکی کے کام :
نماز اور عبادت کے حکم کے بعد فرمایا وافعلو الخیر بھلائی کے کام کرو لعلکم تفلحون ، تاکہ تمہیں فلاں نصیب ہو۔ شرک اور کفر سے اپنے آپ کو بچائو۔ خدا تعالیٰ کے سامنے تعظیم بجا لائو اور اپنی پیشانی کو اسی کے سامنے رکھو۔ شرک اور کفر میں انسان کی ہلاکت ہے جب کہ بھائی کے کاموں میں فلاح ہے۔ بنیادی طور پر نیکی کے کاموں میں عبادات اربعہ یعنی نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج ہیں۔ اس کے علاوہ صلہ رحمی ، مکارم اخلاق ، مخلوق خدا کے ساتھ ہمدردی ، غریب پروری ، حق و انصاف کی شہادت وغیرہ سب نیکی کے کام ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کی عبادت کرو اور دیگر نیکی کے کام بھی انجام دو ۔
جہاد فی سبیل اللہ :
اگلی آیت میں اللہ نے جہاد کا بھی حکم فرمایا وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ اللہ کی رضا کی خاطر جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ جہادصرف قتال کا نام نہیں بلکہ اس سے مراد ہے استعمال الوسع والطاقۃ فی مقابلۃ العدوظاھرا و باطنا یعنی اپنی وسعت اور طاقت کے مطابق ظاہری اور باطنی طور پر دشمن کا مقابلہ کرنا ” جہاد “ کہلاتا ہے۔ اسی لئے کبھی جہاد کا معنی اصلاح نفس بھی ہوتا ہے ۔ ترمذی شریف (ترمذی ص 252) کی روایت میں ہے والمجاھد من جاھد نفسہ یعنی مجاہدوہ ہے جس نے اپنے نفس کے ساتھ جہاد کیا۔
میدان جنگ میں دشمن کے خلاف صف آرا ہو کر لڑائی کرنا بھی جہاد ہے ارشاد ربانی ہے وجاھدوا…………سبیل اللہ (التوبہ 41) اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوروں سے جہاد کرو۔ ابودائودشریف اور مسنداحمد کی روایت میں ہے جاھدوالکفار والمشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم کافروں اور مشرکوں کے ساتھ اپنے مالوں ، جانوں اور زبانوں سے جہاد کرو۔ غیر مسلموں کے سامنے زبان کے ذریعے کلمہ حق ادا کرنا اور ان کو تبلیغ کرنا بھی جہاد میں داخل ہے۔ حضور ﷺ (ترمذی ص 316 (فیاض) کا ارشاد مبارک ہے افضل الجھاد کلمۃ حق عند سلطن جائر یعنی ظالم حاکم کے روبرو کلمہ حق کہناافضل جہاد ہے ۔ کج رو گمراہوں کے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیء تحریر وتقریر کا استعمال بھی جہاد میں شامل ہے۔ مسئلہ دین کی وضاحت کے لئے کتاب رسالہ یا مضمون لکھنا قلمی جہاد ہے۔ بشرطیکہ نیت صحیح ہو۔ اور محض معاوضہ لینا مقصودنہ ہو۔ پیسے لے کر اخبار میں صحیح غلط ہر قسم کا کالم لکھ دیا تو یہ جہاد نہیں ہوگا۔ علمائے حق نے حدیث کی کتابیں جمع کی ہیں۔ قرآن پاک اور حدیث کی شرح بیان کی ہے اور دیگر دینی کتب تحریر کی ہیں ، یہ سب جہاد میں داخل ہے۔ گمراہ فرقوں کے پول کو زبانی یا تحریری طور پر کھولنا بھی جہاد ہے۔ غرضیکہ اسلام کی دعوت دینا ، اس کی تعلیم کا بندوبست کرنا اور لوگوں کی روحانی تربیت کرنا بھی جہاد ہی کی ایک قسم ہے بعض نوجوان جان تو دے سکتے ہیں مگر مالی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ وہ جان کی بازی لگا کر عملی جہاد میں شریک ہوسکتے ہیں۔ بعض صاحب ثروت لوگ جسمانی طور پر جہاد بالسیف کے قابل نہیں ہوتے۔ وہ مالی جہاد کرسکتے ہیں اور کن کو اللہ نے زبان وقلم کی وسعت عطا فرمائی ہے وہ استعداد کے ذریعہ جہاد بنا سکتے ہیں۔
امام ابوبکر حبصاص (رح) اپنی تفسیر ” احکام القرآن “ میں فرماتے ہیں کہ کوئی بھی اہل ایمان جہاد سے مستثنیٰ نہیں۔ ہاں معذور لوگ اندھے ، لنگڑے ، مالی اور جسمانی طور پر کمزور مسلمان اس صورت میں مستثنیٰ ہیں اذا………ورسولہ (التوبۃ 91) جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے حق میں خیرخواہ ہوں۔ اگر وہ خیر خواہ بھی نہیں ہیں اور مجاہدین کے پیچھے ان کی برائی اور ندامت بیان کر رہے ہیں ، یا غلط پروپیگنڈہ کرتے ہیں تو وہ مجرم ہوں گے ، غرضیکہ ہر آدمی کو حسب استطاعت جہاد میں حصہ لینے کا حکم ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ کے لئے جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔
جہاد کے معاملہ میں غفلت :
کتنے افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کے وسائل جہاد میں صرف ہونے کی بجائے برائی کے کاموں میں صرف ہو رہے ہیں۔ اخبارات بلا شبہ قلمی جہاد کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں مگر ان میں اکثر صوبہ واریت کی بات کی جاتی ہے اقتدار کی خاطر انتشار پھیلانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ غلط سیاست کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ دشمنان اسلام کے نظام کی تعریف و توصیف کا اہتمام ہوتا ہے اسلام کی بات برائے نام ہوتی ہے اس کے برخلاف یہودونصاریٰ کی طرف سے ذہنوں میں ڈالی گئی بات کی تشہیر ہوتی ہے۔ اسی لئے بغیر سوچے سمجھے اخبارات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ جان بوجھ کر واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا گمراہی کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ یہی حال دیگر ذرائع ابلاغ کا بھی ہے ۔ مسلمانوں کے وسائل کس کام میں صرف ہو رہے ہیں ؟ آرٹ گیلریوں کی تعمیر و ترقی کے لئے لاکھوں روپے صرف ہو رہے ہیں۔ ؟ مگر آج تک کسی حکومت کہ یہ توفیق نہیں ہوتی کہ حدیث کی کوئی کتاب ہی شائع کردے۔ سونے کے تاروں سے قرآن کریم کی کتابت پر بہت بڑی رقم خرچ ہوئی ہے مگر اس کا فائدہ ؟ نمودونمائش کے سوا اس میں کیا رکھا ہے ؟ اتنی رقم کاغذ پر قرآن حکیم کی اشاعت پر صرف ہوتی اور قرآن کی تعلیم کا بندوبست ہوتا ، اس کی تعلیمات پر عمل درآمد کو ممکن بنایا جاتا تو کوئی فائدہ بھی ہوتا۔
بعض مزاروں پر سونے کے دروازے لگائے ہیں ، ان پر بڑے بڑے گنبد تعمیر ہوئے ہیں ، مینار بنائے گئے ہیں۔ یہ تو مشرکین کا شیوہ ہے اور اللہ نے ان کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ بڑی بڑی عمارات تو کھڑی کردی ہیں بھلا یہ تو بتائو کہ تعمیر انسانیت کے لئے کتنا کام ہے ؟ غربت اور جہالت کو دور کرنے کرنے کے لئے کتنی مساعی کی ہیں ؟ آج بھی ستر فیصد لوگ جاہل ہیں۔ ان کی جہالت کو کون دور کرے گا ، یہی تو جہاد ہے کہ لوگوں تک علم کی روشنی پہنچائی جائے اور انہیں ضروریات دین سے روشناس کرایا جائے۔ انسان کی عقلی اور دینی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ، وہ اسے اپنا فرض سمجھ کر پورا کریں۔
امت محمدیہ کی خصوصیت :
آگے اللہ تعالیٰ نے اس آخری امت کی خصوصیت بیان فرمائی ہے۔ ھواجتبکم اللہ تعالیٰ نے تمہیں برگزیدہ بنایا ہے تمہیں افضل الانبیاء کی امت میں شامل کیا ، قرآن جیسی عظیم المرتبت کتاب عطا کی ، اسلام کی دولت سے نوازا مگر تم نے نہ قرآن کی قدر کی ، نہ اسلام اور نہ ایمان کی۔ تمہارے نزدیک مال و دولت ، رسم و رواج ، جہالت ، بےایمانی اور برائی کی قدر ہے۔ کاش کہ تم اللہ کی نعمتوں کی قدر کرکے اس کے شکر گزار بندے بن جاتے۔ فرمایا اس کا ایک اور بڑا انعام یہ ہے وما جعل علیکم فی الدین من حرج اس نے دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں ڈالی۔ تمہیں کوئی مشکل میں پڑنے والا حکم نہیں دیا۔ اس کے برخلاف آپ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں پڑھتے ہیں کہ اللہ نے انہیں کتنے سخت احکام دیے۔ انہیں کل مال کا چوتھا حصہ زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا۔ جب کہ اس آخری امت کے لئے چالیسواں حصہ مقرر ہے مگر لوگ پھر بھی اس کی ادائیگی حیلوں بہانوں سے ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل کی توبہ ہی بعض اوقات قبول نہیں ہوتی تھی۔ جب تک وہ ایک دوسرے کو قتل نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے بچھڑے کے کثیر پجاریوں کی توبہ اسی صورت میں قبول کی کہ ان کے رشتہ داروں ہی نے ان کو قتل کیا۔ ان کے ہاں اگر قیمتی سے قیمتی کپڑے پر بھی پیشاب کی چھینٹ پڑجاتی تو وہ دھونے سے پاک نہیں ہوتا تھا بلکہ اس حصہ کو کاٹنا پڑتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر ایسی تنگی نہیں ڈالی۔ یہاں تو نجاست غلیظہ بھی کپڑے کو لگ جائے تو تین دفعہ دھونے سے پاک ہوجاتا ہے۔ اس امت کے لئے توبہ کی قبولیت بھی آسان ہے ، اگر کوئی شخص سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ اللہ نے بعض احکام میں بھی اس امت کو رخصت عطا کی ہے سفر میں ہے تو روزہ افطار کرسکتا ہے۔ تکلیف ہے تو نماز بیٹھ کر اور لیٹ کر بھی پڑھ سکتا ہے۔ وضو نہیں کرسکتا تو تیمم کرلے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ساری سہولتیں دی ہیں کیونکہ الدین یسر ہمارا دین آسان ہے ، اس میں تنگی والی کوئی بات نہیں ہے۔
ملت ابراہیمی پر ثابت قدمی :
ارشاد ہوتا ہے ملۃ ابیکم ابرھیم اپنے جدامجد ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کو لازم پکڑو۔ اللہ نے تم پر آسانی رکھی ہے جو ملت ابراہیمیہ کا خاصہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے نبی آخرالزمان کے تو بالفصل جدامجد ہیں۔ جب ہمارے نبی کے باپ ہیں ، تو ہمارے بھی باپ ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ابیکم کہہ کر خطاب فرمایا ہے آپ اسرائیلیوں کے بھی بالفعل باپ ہیں کیونکہ بنی اسرائیل حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ اسی طرح عرب کے لوگ بھی آپ کی براہ راست اولاد ہیں کیونکہ وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ابیکم کے لفظ۔ سے ساری نسل انسانی کو خطاب فرمایا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان (ابن کثیر ص 186 ج 1 (فیاض) ہے نحن معشر الانبیاء علات یعنی ہم نبیوں کا گروہ سارے علاقی بھائی ہیں ، جن کا باپ ایک اور مائیں مختلف ہیں مطلب یہ کہ سب انبیاء کا دین تو واحد ہے مگر شرائع مختلف ہیں اس لحاظ سے بھی ابیکم کا خطاب مناسب حال ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ھوسمکم المسلمین اے لوگو ! اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے ھو سے ابراہیم (علیہ السلام) بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ انہوں نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تھی ربنا ……………لک (البقرہ 128) اے ہمارے پروردگار ! ہم دونوں باپ بیٹا کو اپنا فرمانبردار بنادے ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک اور ہماری اولاد میں امت مسلمہ برپا کر اور ان میں اپنا عظیم الشان رسول مبعوث فرما۔ امت مسلمہ اسی وقت کا رکھا ہوا نام ہے جس کا ظہور ہزاروں سال بعد ہوا۔ فرمایا اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا من قبل اس سے پہلے بھی وفی ھذا اور اس قرآن میں بھی تمہارا یہی نام ہے مسلمان کا معنی فرمانبردار اور اطاعت گزار ہے ، لہٰذا تم اسم باسمیٰ بن جائو۔
فرمایا اللہ نے تم پر یہ انعامات کیے ہیں لیکون الرسول شھید علیکم تاکہ اللہ کا رسول تم پر گواہ بن جائے وتکونوا شھداء علی الناس ، اور تم لوگوں پر گواہ ہوجائو۔ شہادت کا ایک معنی تو گواہی ہے اور یہ گواہی قیامت والے دن ہوگی کہ حضور ﷺ اپنی امت کی صفائی کی شہادت دیں گے ، اور پھر اس امت کے لوگ پہلی امتوں اور ان کے نبیوں کے حق میں گواہی دیں گے ۔ شاہ عبدالقادر (رح) اس کا معنی یوں کرتے ہیں ” تاکہ رسول تمہارے سامنے حق وصداقت کو ظاہر کرنے والا بن جائے اور تم حق وصداقت کی گواہی دینے اور اس کو ظاہر کرنے والے بن جائو۔ دوسرے لفظوں میں اللہ کا رسول تمہارا معلم بن جائے اور تم باقی لوگوں کے معلم بن جائو اور ان تک دین پہنچائو۔ چناچہ حضور ﷺ کے اولین مخاطبین قریش انصار نے اللہ کا دین آگے چلایا اور باقی دنیا کو اسلام کی تعلیم سے روشناس کرایا۔
خلاصہ سورة :
بات قیامت کے زلزلے سے شروع کی ، پھر توحید ، رسالت ، حج ، جہاد ، قربانی کے مسائل بیان کیے جو کہ دین کی اہم ترین باتیں ہیں ۔ اب آخر میں سورة کا خلاصہ بیان کیا جارہا ہے۔ فاقیموالصلوٰۃ واتوالزکوٰۃ نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو۔ یہ دو عبادات ملت اسلامیہ کی رکنیت کی علامت ہیں۔ ایک کے ذریعے اللہ سے تعلق درست ہوتا ہے۔ اور دوسری کے ذریعے مخلوق کے ساتھ بھلائی ہوتی ہے آگے فرمایا واعتصموا باللہ اور الہ کو مضبوطی سے پکڑ لو یعنی اپنی حاجات میں اسی پر اعتماد رکھو۔ تنگی ، بیماری ، تندرستی ، راحت ہر حالت میں خدا کی ذات پر توکل رکھو ، تمہاری مشکلات کو حل کرنے والی وہی ذات ہے۔ ھومولکم وہی تمہارا کار ساز فنعم المولیٰ ونعم النصیر پس بہتر مولیٰ ہے اور بہترین مددگار ہے۔ اسی پر بھروسہ رکھو اور اسی کی اطاعت کرتے رہو۔