22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 22:46–51

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں چلے زمین میں ، پس ان کے دل ہوتے جن کے ساتھ وہ سمجھتے یا کان ہوتے جن کے ساتھ وہ سنتے۔ بیشک نہیں اندھی ہوتیں آنکھیں بلکہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور جلدی کرتے ہیں یہ لوگ آپ سے عذاب۔ اور اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا اور بیشک ایک دن تیرے پروردگار کے ہاں ہزار سال کی طرح ہے جس کو تم شمار کرتے ہو

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور بہت سی بستیوں کو میں نے مہلت دی اور وہ ظلم کرنے والے تھے پھر پکڑا میں نے اس کو۔ اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے (اے پیغمبر ! ) اے لوگو ! بیشک میں تمہارے لئے ڈر سنانے والا ہوں کھول کر

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیے ، ان کے لئے بخشش اور باعزت روزی ہے

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو کوشش کرتے ہیں ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی ، یہی لوگ ہیں دوزخ والے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی اجازت مرحمت فرمائی اور ساتھ مظلوم اہل ایمان کی مدد کا وعدہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں کو اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ، اگر اللہ انہیں زمین میں اقتدار عنایت فرمائے گا تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰۃ ادا کریں گے ، نیکی کا حکم کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔ یہ ان کا منشور ہوگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مکذبین کو تنبیہ فرمائی اور حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کو تسلی دی کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر قوم نے اپنے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ پھر اللہ نے مہلت دے کر انہیں مبتلائے عذاب کیا۔ بہت سی بستیوں کے باشندے ظالم تھے جنہیں اللہ نے ہلاک کیا اور تمام بستیاں ویران ہوگئیں ، وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی تھیں ، کنوئیں معطل اور ان کے محلات ویران ہوگئے ، فرمایا اگر اہل مکہ بھی تکذیب کرتے ہیں تو ان کا حال بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ نشانات عبرت : اب آج کی آیات میں منکرین اور مکذبین کو مزید تنبیہ کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے افلم یسیروا فی الارض کیا انہوں نے زمین میں چل کر نہیں دیکھا۔ انسان مختلف مقامات کی سیر کرے تو بہت سی پرانی تہذیبوں کے کھنڈرات ملتے ہیں ، انسان کو غوروفکر کا موقع ملتا ہے۔ بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں جو کہ انسان کے لئے باعث عبرت ہوتی ہیں۔ دوسری جگہ اللہ نے مشرکین مکہ کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ تجارت کے سلسلے میں مکہ اور شام کے درمیان شاہراہ پر سے گزرتے ہیں۔ اس شاہراہ پر بڑی بڑی قوموں کے کھنڈرات موجود ہیں۔ کیا یہ لوگ انہیں دیکھ کر عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ فرمایا کیا یہ زمین میں سیر نہیں کرتے فتکون لھم قلوب یعقلون بھا ، تاکہ ان کے دل ہوتے جن کے ذریعے وہ غور وفکر کرتے اور بات کو سمجھتے اواذن یسمعون بھا یا ان کے کان ہوتے جن کے ذریعے وہ سن سکتے ۔ جب پرانی تہذیبوں کے آثار دیکھیں تو ان کے کان کھل جائیں کہ کبھی یہ لوگ بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ آباد تھے۔ یہ لوگ بھی اپنے انبیاء کی تکذیب کرتے تھے اور اکٹر دکھاتے تھے مگر کچھ لیں کہ ان کا کیا حشر ہوا۔ دل کا اندھا پن : حقیقت یہ ہے فانھا لا تعمی الابصار کہ ان کی آنکھیں تو اندھی نہیں ہوتیں ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور بلکہ سینوں میں رکھے ہوئے دل اندھے ہوتے ہیں۔ دل کا اندھا پن بڑا خطرناک ہے۔ کسی فردواحد کا اندھا ہوجانا تو کسی حد تک زیادہ نقصان دہ ہیں ہوتا مگر جہاں پوری قوم ہی اندھی ہوجائے تو پھر ان کی تباہی لازمی ہوجاتی ہے سورة الاعراف میں نوح (علیہ السلام) کی پوری قوم کے متعلق فرمایا قوما عمین (آیت 64) کہ وہ سب کے سب دل کے اندھے ہوچکے تھے۔ وہ نشانات قدرت کو دیکھنے اور اپنے نبی کی تعلیم میں غوروفکر کرنے سے عاری ہوچکے تھے۔ یہی نہیں بلکہ ان کے کانوں میں بھی ڈاٹ لگ چکے تھے اور وہ کوئی صحیح بات سننے کے لئے تیار نہ تھے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ چند گنتی کے اہل ایمان کے سوا جو کشتی میں سوار ہوگئے ، باقی ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کے ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نے آپ کے سامنے عرض کیا ، حضور ﷺ ! اللہ کا فرمان ہے ومن کان…………اعمی (بنی اسرائیل 72) جو شخص اس دنیا میں اندھا ہوگا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی ہوگا۔ تو کیا میں آخرت میں نابینا اٹھایا جائوں گا ؟ اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی فانھا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ، مطلب یہ کہ آخرت میں اندھے وہ ہوں گے دنیا میں جن کے دلوں کی آنکھیں اندھی تھیں اور وہ کفر ، شرک ، الحاد اور نفاق کی تاریکیوں میں بھٹکتے رہے۔ دنیا میں انہیں نیکی کا راستہ نظر نہیں آتا تھا اور نہ وہ ایمان اور توحید کو دیکھ سکے۔ دنیا میں اگرچہ وہ بینا تھے۔ مگر دل کے اندھے تھے۔ ایمان اور نیکی والے لوگ اگر دنیا میں نابینا بھی رہے ہوں تو آخرت میں وہ بینا ہوں گے۔ کان ، آنکھ اور دل : اللہ تعالیٰ نے کان ، آنکھ اور دل جیسی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ان السمع…………مسئولا (بنی اسرائیل 36) یعنی کان ، آنکھ اور دل کے متعلق باز پرس ہوگی ، پوچھا جائیگا کہ میں نے دنیا میں تمہیں یہ نعمتیں عطا کی تھیں ، تم نے انہیں کس کام پر لگایا۔ اور پھر ان کا شکریہ ادا کیا ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کانوں کی نعمت اس لئے عطا کی ہے کہ ان سے اچھی باتیں سنی جائیں ، ارشادات خداوندی ، فرامین نبوی اور اللہ کے نیک بندوں کی باتیں سنی جائیں ، نہ کہ کھیل تماشے اور گانے بجانے سنے جائیں۔ اسی طرح آنکھوں سے شعائر اللہ کی زیارت کی جائے ، قرآن پاک کی تلاوت ہو ، کتب دینیہ کا مطالعہ ہو ، بزرگان دین کی زیارت ہو۔ اور قلب ایسی چیز ہے جس میں ہر نیکی کی بات سماجانی چاہیے۔ دل کو برا ظرف نہیں بنانا چاہیے۔ دل و دماغ کے ساتھ مشاہدات قدرت میں غوروفکر کرے تو اس طرح ان نعمتوں کا شکریہ ادا ہوگا۔ اگر ان حواس سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھایا نہ اچھی بات سنی اور نہ اچھی چیز دیکھی بلکہ اللہ کی وحدانیت میں غور وفکر ہی نہیں کیا ، تو پھر ظاہر ہے کہ ان نعمتوں کے متعلق سخت باز پرس ہوگی۔ قرآن پاک میں غور وفکر کے معاملہ کو اکثر دل کی طرف منسوب کیا گیا ہے حقیقت یہ ہے کہ سوچنے کی قوت دماغ میں ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ دل کی شراکت بھی ہوتی ہے۔ اسی لئے عقل کا اطلاق دل پر کیا جاتا ہے۔ بعض قدیم فلسفی کہتے ہیں کہ سوچنے کی قوت دل میں ہوتی ہے۔ امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے۔ تاہم امام ابوحنیفہ (رح) اور اطباء کہتے ہیں کہ اللہ نے سوچنے کی وقت دماغ میں رکھی ہے۔ البتہ عمل کی طاقت دل میں ہے۔ ان دونوں کے اشتراک سے اللہ نے انسان میں قوت نظری اور قوت عملی رکھ دی ہے قوت نظری دماغ کی شراکت کے ساتھ حاصل ہوتی ہے۔ جب کہ قوت عملی دل کی شراکت سے میسر آتی ہے۔ تاہم اچھے عزائم یا برے ارادے دل میں ہی ہوتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ جس طرح انسان کی ظاہری آنکھیں ہیں ، اسی طرح اس کے دل کی آنکھیں بھی ہیں۔ جب انسان گمراہ ہوتے ہیں تو وہ دل کے اندھے ہوجاتے ہیں اور صحیح راستے کو ترک کردیتے ہیں۔ گویا وہ دل کے اندھے اور بہرے ہوجاتے ہیں اللہ نے فرمایا ہے اگر یہ دل کے اندھے اور بہرے نہ ہوں تو نشانات قدرت اور اقوام عالم کے حالات میں غوروفکر کریں مگر یہ لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ جس کا نتیجہ خرابی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ عذاب میں جلدی : ارشاد ہوتا ہے ویستعجلونک بالعذاب لوگ آپ سے جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرتے ہیں ، کافر ، مشرک اور نافرمان پوچھتے تھے۔ متی ھذا الوعد (الملک 25) قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا ، محاسبے کی منزل کب آئے گی ؟ اور کہتے تھے کہ جو عذاب لانے کا وعدہ کررکھا ہے اس کو جلدی پورا کردو۔ اس کی جواب میں اللہ نے فرمایا ولن یخلف اللہ وعدہ ، اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا ہرگز خلاف نہیں کرے گا۔ نافرمانوں کو سزا مل کر رہیگی مگر اس کا وقت اللہ کے علم میں ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ کسی قوم کس وقت سزا میں مبتلا کرنا ہے۔ ساتھ یہ بھی فرمادیا کہ تم اپنے حساب سے دن ، مہینے اور سال شمار کرکے عذاب کا جلدی مطالبہ کر رہے ہو مگر اللہ کے ہاں تقویم مختلف ہے۔ وان یوما عندربک کالف سنۃ مما تعدون تیرے پروردگار کے ہاں کا ایک دن تمہارے یہاں کے ہزار سال کے برابر ہے۔ سورة المعارج میں فرمایا فی یوم………سنۃ (آیت 4) اللہ کے ہاں ایک دن تمہارے پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں مہلت دے رہا ہے لہٰذا عذاب طلب کرنے میں جلدی نہ کرو ، وہ اپنے وقت پر آجائے گا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دن کی طوالت ماہ وسال کے اعتبار سے نہیں بلکہ جزا وسزا کی شدت کے اعتبار سے ہوگی جب کوئی شخص تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے تھوڑا سا عرصہ بھی بہت طویل محسوس ہوتا ہے ۔ جن لوگوں پر قیامت کا دن بھاری ہوگا ، انہیں یہ ایک دن ہزاروں سال کے برابر محسوس ہوگا۔ اور اہل ایمان کے متعلق فرمایا کہ ان کے لئے یہ وقت اتنا مختصر ہوگا جتنے وقت میں چار رکعت نماز ادا کرلی جاتی ہے۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ ہم دنیا میں بھی دیکھتے ہیں کہ مختلف خطوں میں اوقات میں بڑا تفاوت پایا جاتا ہے۔ مثلاً خط استوا سے قریبی خطوں میں دن اور رات چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے ڈنمارک کے عقبی خطوں میں دن رات دو ماہ کا ہوتا ہے جب کہ قطبین پر چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے۔ اسی طرح ممکن ہے کہ قیامت کا دن بھی بعض اعتبار سے ایک ہزار سال کے برابر اور بعض لحاظ سے پچاس ہزار لال کے برابر ہو۔ اور یہ طوالت تکلیف کی شدت کے اعتبار سے بھی ہوسکتی ہے ، اسی لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے کام تو ایسے ہیں کہ قیامت کا ایک دن تمہارے ہاں کے ہزار سال کے برابر ہو۔ حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ غریب مہاجرین دولت مند اہل ایمان سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ صاحب ثروت تو اپنے حساب کتاب میں پھنسے رہیں گے مگر غربا جلدی اپنے مقام پر پہنچ جائیں گے۔ بستیوں کی ہلاکت : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وکاین من قریۃ املیت لھا بہت سی بستیاں ایسی ہیں کہ میں نے ان کو مہلت دی وھی ظالمہ اور وہاں کے باشندے ظالم لوگ تھے۔ ثم اخذ تھا پھر میں نے پکڑا اس کو عذاب میں مبتلا کردیا۔ وہ میری گرفت سے بھاگ کر نہیں جاسکتے والی المصیر ، اور بالآخر سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ میں ان سے باز پرس کرلوں گا کہ یہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے۔ پھر اللہ نے اپنے نبی (علیہ السلام) سے فرمایا قل آپ کہہ دیجئے۔ یایھا الناس اے لوگو ! تمہاری فرمائشیں پوری کرنا میرا کام نہیں ہے۔ تم عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو مگر یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے ، وہ جب چاہے گا ، اپنا وعدہ پورا کردے گا۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے انما انا لکم نذیر مبین میں تو تمہارے لئے کھول کر ڈر سنانے والا ہو۔ میرا کام تمہیں آگاہ کرنا ہے ، عذاب لانا نہیں ، باز پرس کرنا اور ہر نیک وبد کی جزاوسزا کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ، وہ ہر ایک کے مناسب حال فیصلہ کردیگا۔ مغفرت اور باعزت روزی : فرمایا ، یادرکھو ! فالذین امنو وعملوالصلحت پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے اعمال انجام دیے لھم مغفرۃ ورزق کریم ان کے لئے مغفرت اور باعزت روزی ہے۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے دو چیزوں کا وعدہ فرمایا ہے۔ ایک مغفرت اور دوسری باعزت روزی ، یہاں پر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ مغفرت یا گناہوں کی معافی تو گنہگاروں کے لئے ہوتی ہے۔ مگر اس آیت کریمہ میں اللہ نے ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے والوں کو بخشش کا مژدہ سنایا ہے۔ تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر اعمال صالحہ سے مراد اخلاص ہے یعنی جنہوں نے ایمان میں اخلاص پیدا کیا۔ سورة الانعام میں ہے الذین…………بظلم (آیت 83) جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں کفر ، شرک ، یا نفاق کی ملاوٹ نہیں کی بلکہ خالص توحید کو قبول کیا اور تقویٰ اختیار کیا ، تو اگرچہ اعمال میں کوتاہی بھی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے معاف فرمادے گا ۔ پھر عمل صالحہ کے ساتھ یہ شرط بھی ہے کہ وہ شریعت مطہرہ کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق انجام دیا گیا ہو۔ فاتبعون کا یہی مطلب ہے کہ ہر نیک کام حضور ﷺ کے مقررہ طریقے پر کیا جائے۔ اگر ایسا نہیں کریگا تو عمل برباد جائیگا کیونکہ کسی عمل کے متعلق پورے وثوق کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ضروری ہی مقبول ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ اس میں کوئی کوتاہی رہ گئی ہو یا کسی شرط کو پورا نہ کیا ہو ، اس لئے ہر عمل کی موجودگی میں بھی بخشش ومغفرت کی ضرورت ہے۔ جس کا اللہ نے یہاں وعدہ فرمایا ہے۔ باعزت روزی بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ دنیا میں بسا اوقات روزی غلط طریقے سے حاصل کی جاتی ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو جھوٹ ، فریب ، چوری ، ڈاکہ ، رشوت اور سمگلنگ کے ذریعے روزی حاصل کرتے ہیں۔ ایسی روزی باعزت روزی ہرگز نہیں ہوسکتی بلکہ یہ تو ذلت کی روزی ہوگی۔ اس کے برخلاف جنتیوں کو جو روزی ملے گی۔ وہ حلال ، طیب اور بغیر کسی مشقت کے نصیب ہوگی۔ دنیا میں بسا اوقات انسان ایک دوسرے کے دست نگر ہوتے ہیں مگر جنت میں اللہ تعالیٰ بغیر کسی کے احسان کے اپنی رحمت سے رزق عطا فرمائے گا ، اسی کو باعزت روزی کہا گیا ہے۔ آج کل کے محاورہ میں الخبزبالکرامۃ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے یعنی ہر شخص کو باعزت روزی میسر آنی چاہیے ، مگر یہ صرف نعرہ ہی ہے جب تک دنیا میں ظلم وتعدی کا دور دورہ ہے کسی کو باعزت روٹی نصیب نہیں ہوسکتی۔ یہاں کا نظام معیشت ہی غلط ہے جس کی وجہ سے اکثر ایک دوسرے کی حق تلفی ہوتی ہے۔ بعض اوقات روزی کی خاطر بڑی ذلت برداشت کرنی پڑتی ہے۔ تو ایسے حالات میں باعزت روزی کہاں سے میسر آئیگی ؟ یہ دنیا تو آزمائش کا مقام ہے۔ نہ حکمران طبقہ نظام معیشت کی اصلاح میں مخلص ہے اور نہ دولت مند گروہ کو محتاجوں کا خیال ہے اس لئے اس دنیا میں روزی تو ملتی ہے مگر اکثر تذلیل کے ساتھ اللہ نے فرمایا کہ وہ اپنے نیک بندوں کو جنت میں باعزت روزی عطا فرمائے گا اور یہ بہت بڑا انعام ہوگا۔ آیات الٰہی سے عناد : آگے ارشاد ہے والذین سعوا فی ایتنا معجزین وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے یا کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یعنی جو دین اللہ کی طرف سے اس کے نبی لے کر آئے ہیں ، جو شریعت انہوں نے پیش کی ہے ، وہ تو انہیں پسند نہیں۔ وہ تو اپنی خواہشات اور رسم و رواج کا نظام جاری کرنا چاہتے ہیں ، آج کل مسلمان قوم کا اکثر وبیشتر یہی حال ہے ، زبان سے تو اقرار کرتے ہیں کہ اللہ کا مقرر کردہ نظام ہی برحق ہے۔ مگر عمل میں اس کے خلاف چلتے ہیں۔ وہاں ذاتی مفادات اور مصلحت آڑے آجاتی ہے اور اللہ کا پسندیدہ دین دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے۔ یہ تو اللہ کی آیات اور اس کے دین کو مغلوب کرنے والی بات ہے ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا الئک اصحب الجحیم ، کہ یہ لوگ دوزخ والے ہیں۔ یہ عذاب الٰہی سے بچ نہیں سکیں گے دنیا میں بھی ان کو امن و سکون نصیب نہیں ہوگا بلکہ ہمیشہ ظلم وتعدی کا شکار رہیں گے۔ موجودہ زمانے میں یہودیت ، عیسائیت ، اشتراکیت یا کوئی بھی مغربی ازم ہو سب آیات الٰہی کو زیر کرنے والے نظام ہیں۔ ان باطل نظاموں کے حامی مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ شریک کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ مسلمانوں کو تو بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اور خلاف قرآن و شریعت کیسی غلط نظام کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ مگر افسوس ہے خود مسلمانوں کی حالت پر جو غیر اقوام سے بھی برائی میں دو قدم آگے ہیں۔ یہ خود مسلمان کہلانے کے باوجودایسی قبیح حرکات کرتے ہیں جن کی وجہ سے لوگ اسلام سے مزید متنفر ہوتے ہیں۔ ہندو بھی اسلام اور مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے۔ وہ بھی ان کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ آج کل ہندوستان میں قرآنی قوانین کے خلاف تحریک چل رہی ہے۔ کبھی طلاق کے مسئلہ کو اچھا لاجاتا ہے اور کبھی تعداد ازواج کو۔ عیسائی اور یہودی تو روز اول سے ہی چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دلوں سے ان کے نبی اور قرآن کی محبت نکال دی جائے۔ اشتراکی لوگ اسلامی نظام کو رجعت پسندانہ نظام کہتے ہیں حالانکہ رجعت پسندانہ نظام تو خود کفر ، شرک اور اشتراکیت کا نظام ہے۔ سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام دونوں مخلوق کے بنائے ہوئے ہیں۔ جب کہ خدا تعالیٰ کی کتاب قرآن میں اس کا عطا کردہ نظام موجود ہے جس کی کوئی شق خلافت فطرت نہیں۔ بہرحال فرمایا کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو عاجز کرنے کی کوشش کی ، وہ لامحالہ دوزخ کا شکار ہوں گے۔ آیات الٰہی تو انشاء اللہ قائم رہیں گی ، مگر یہی لوگ جہنم کے کندہ ناتراش بنیں گے۔
Ayahs 22:52–54

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے اس سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی مگر یہ جب اس نے پڑھا ، ڈال دیا شیطان نے اس کے پڑھے ہوئے ہیں۔ پس مٹاتا ہے اللہ تعالیٰ اس چیز کو جو شیطان ڈالتا ہے۔ پھر مضبوط کرتا ہے اللہ تعالیٰ اپنی آیتوں کو۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

تاکہ کردے اس چیز کو جو شیطان ڈالتا ہے فتنہ (آزمائش ) ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں بیماری ہے (نفاق) اور جن کے دل سخت ہیں (مشرک) ۔ اور بیشک ظلم کرنے والے البتہ مخالفت میں دور پڑے ہوئے ہیں

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے کہ بیشک یہ برحق ہے تیرے رب کی طرف سے۔ پس اس پر ایمان لائیں۔ پھر عاجزی کریں گے اس کے سامنے ان کے دل ، اور بیشک اللہ تعالیٰ راہ دکھانے والا ہے ان لوگوں کو جو ایمان لائے سیدھے راستے کی طرف

ربط آیات : گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو اس کی آیتوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور فرمایا کہ یہ لوگ جہنمی ہیں۔ اب آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تسلی کے طور پر فرمایا ہے کہ آپ مخالفین کی مخالفت سے گھرائیں نہیں کیونکہ کافروں اور مشرکوں کا ابتداء سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے پروگرام کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہے اور اللہ کے نبیوں کو ہمیشہ مخالفت کرتے رہے ہیں۔ مگر نہ تو وہ سابقہ ادوار میں کامیاب ہوئے اور نہ اب ہوں گے بلکہ ذلیل وخوارہوں گے۔ ان کے مقابلے میں فتح و کامرانی اہل حق کو ہی نصیب ہوگی۔ نبی اور رسول میں فرق : ارشاد ہوتا ہے وما ارلنا من قبلک من رسول والا نبی اور نہیں بھیجا ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی الا اذا تمنی القی الشیطن فی امنیتہ ، مگر یہ کہ جب بھی اس نے پڑھا تو شیطان نے اس کی پڑھی ہوئی چیز میں رخنہ ڈال دیا۔ اس آیت کریمہ میں نبی اور رسول کے دو الفاظ بیک وقت استعمال ہوئے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ان کے درمیان فرق کو واضع کردیا جائے۔ ایک لحاظ سے نبی عام ہے اور رسول خاص ہے۔ نبی اور رسول دونوں پر وحی نازل ہوتی ہے مگر رسول اس لحاظ سے خاص ہے کہ اس کو مستقل کتاب یا شریعت عطا کی جاتی ہے۔ البتہ نبی صاحب وحی ہونے کے ساتھ سابقہ کتاب یا شریعت پر عمل پیرا ہوتا ہے اور اس کی تبلیغ کرتا ہے۔ پھر ایک لحاظ سے رسول عام ہے اور نبی خاص۔ رسول انسانوں اور فرشتوں دونوں انواع میں سے ہوتے ہیں۔ اس لئے یہ عام ہے اور نبی صرف انسانوں میں سے ہوتے ہیں۔ اس لئے نبی خاص ہے۔ تمنی کے مختلف معانی : لفظ ” تمنیٰ “ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک معنی تو عام فہم ہے اور اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے یعنی کسی چیز کی محبت کے ساتھ آرزو کرنا ان معانی میں جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ جب بھی کسی رسول یا نبی نے کسی چیز کی محبت کے ساتھ خواہش ظاہر کی تو شیطان نے وسوسہ اندازی کرکے اس خواہش میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ نبی کی آرزو اور تمنا تو یہی ہوسکتی ہے کہ لوگ ایمان قبول کریں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرکے نجات حاصل کرلیں۔ اس طرح وہ کفر ، شرک اور گمراہی سے بچ جائیں گے۔ بعض مفسرین کرام تمنی سے مراد تلاوت لیتے ہیں کہ عربی زبان میں یہ معنی بھی مستعمل ہے۔ اس طرح جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ جب بھی اللہ کے رسول یا نبی نے لوگوں کے سامنے اللہ کا کلام یا اس کے احکام تلاوت کیے تو شیطان نے اس تلاوت شدہ کلام میں رخنہ ڈال دیا۔ تمنی کا یہ معنی عربی ادب میں بھی ملتا ہے جیسے حضرت حسان بن ثابت ؓ کے اشعار سے ثابت ہے۔ تمنی کتب اللہ اول لیلۃ تمنی دائود الزبور علی رسل تمنی کتب اللہ اول لیلۃ واخرھا لاق حمام المقادر آپ حضرت عثمان ؓ کی مدح میں کہتے ہیں کہ آپ رات کے پہلے حصے میں اللہ کی کتاب تلاوت کرتے تھے جیسا کہ حضرت دائود علیہالسلام زبور ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے۔ آپ کا انداز تلاوت نہایت اعلیٰ اور پرسوز ہوتا تھا حتی کہ آپ کے ساتھ پرندے اور درخت بھی تلاوت میں شامل ہوجاتے۔ حضرت حسان ؓ پھر کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ رات کے اول حصہ میں کتاب اللہ کی تلاوت فرماتے تھے اور رات کے دوسرے حصے میں تقدیروں کی موت سے جا ملے یعنی شہید کردیے گئے۔ حمام موت کو کہتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) تمنی کا معنی حدیث کرتے ہیں یعنی جب بھی اللہ کے نبی نے اللہ کے کلام یا اس کا کوئی حکم بیان کیا تو رسول یا نبی کی بیان کردہ چیزیں شیطان نے وسوسہ ڈال کر اس میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔ اور پھر شیطان کی طرف سے ڈالا گیا وسوسہ بعض لوگوں کے لئے آزمائش کا ذریعہ بن گیا۔ منافق اور مشرک لوگ تو اس فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مگر مومنوں کے گروہ کو اللہ تعالیٰ اس فتنہ سے بچا لیتا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ فینسخ اللہ ما یلقی الشیطن پھر اللہ تعالیٰ مٹا دیتا ہے۔ اس چیز کو جو شیطان رخنہ ڈالتا ہے ثم یحکم اللہ ایتہ پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیتوں کو مضبوط بناتا ہے واللہ علیم حکیم اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ شیطان کی رخنہ اندازی : فرمایا جب اللہ کا نبی لوگوں کے سامنے کوئی چیز پڑھ لیتا ہے ۔ تو شیطان اس میں وسوسہ ڈال کر رخنہ اندازی کرتا ہے اس کی مثال ایسے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے انما………المیتۃ (البقرہ 173) اللہ تعالیٰ نے مردار کو حرام قرار دیا ہے۔ اس آیت کے متعلق شیطان نے لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ جس جانور کو اللہ نے موت دی وہ تو حرام ہوگیا اور جسے خودذبح کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا ، وہ ان کے لئے حلال ہوگیا۔ چناچہ اللہ نے اس بات کو اس طرح واضح فرمایا ولاتاکلوا………………علیہ (الانعام 122) جس چیز پر بوقت ذبح اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اس کو مت کھائو کیونکہ اس میں روحانی خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ لہٰذا یہ تمہارے لئے حلال نہیں۔ ظاہر ہے کہ جو جانور اپنی موت مرگیا ہے اس کو نہ تو ذبح کیا اور نہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ، لہٰذا وہ کھانے کے قابل نہیں رہا۔ وسوسہ اندازی کی دوسری مثال یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا انکم وما……………جہنم (الانبیاء 98) تم اور تمہارے وہ معبود جن کی تم عبادت کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ اس پر شیطان نے یہ وسوسہ ڈالا کہ غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کے جہنم میں جانے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے جب کہ معبودوں میں تو مسیح (علیہ السلام) اور فرشتے بھی شامل ہیں جن کی لوگ پوجا کرتے تھے۔ تو پھر یہ پاک ہستیاں دوزخ میں کیسے جاسکتی ہیں ؟ اللہ نے اس کے جواب میں اپنی برگزیدہ ہستیوں کے متعلق فرمایا اولئک……مبعدون (الانبیاء 101) وہ جہنم سے دور رہیں گے۔ اتنے دور کہ لا یسمعون حسیسھا (الانبیائ 102) وہ تو دوزخ کی آہٹ بھی نہیں سن پائیں گے۔ ان ہستیوں کو تو اللہ تعالیٰ مقامات عالیہ پر سرفراز فرمائے گا ، البتہ جہنم میں وہ لوگ جائیں گے جو خود اپنی پرستش کراتے رہے اور لوگوں کو غلط راستے پر ڈالتے رہے یا وہ شجر ، حجر اور بت جہنم میں جائیں گے جن کی مشرکین پوجا کرتے رہے اس طرح عابد اور معبود دونوں جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ شیطان کی وسوسہ اندازی کی تیسری ماثل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا انما المسیح………………منہ (النسائ 171) یعنی مسیح (علیہ السلام) کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جسے مریم ؓ کی طرف ڈالا گیا اور اس کی طرف سے روح ہیں۔ نصاریٰ کہنے لگے کہ جب خود الل تعالیٰ نے آپ کو روح اللہ کہا تو پھر وہ اللہ کے بیٹے ٹھہرے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کی شخصیت کی وضاحت فرمادی ان ھوالا………………اسراء یل (الزخرف 59) وہ تو اللہ کے بندے تھے اور اللہ نے ان پر اپنا انعام کیا اور انکو اپنی نشانی بنایا۔ وہ خدا کے بیٹے تو نہیں ہیں۔ اللہ نے صاف تردید فرمادی۔ منافق اور مشرک کے لئے آزمائش : فرمایا شیطان کی وسوسہ اندازی سے یہ مراد ہے لیجعل ما یلقی الشیطن فتنۃ کہ شیطان جو وسوسہ ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو آزمائش بنادے للذین فی قلوبھم مرض ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں بیماری ہے والقاسیۃ قلوبھم اور ان لوگوں کے لئے بھی جن کے دل سخت ہوچکے ہیں۔ یہاں پر دو قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دل کے مریضوں سے مرادمنافق قسم کے لوگ ہیں۔ اور سخت دل والے مشرک ہیں جو اپنے شرک میں پختہ ہوچکے ہیں۔ جب بھی اللہ کے رسول کے کلام الٰہی پڑھنے پر شیطان وسوسہ اندازی کرتا ہے تو یہ وسوسہ اندازی ان دو گروہوں کے لئے فتنہ یعنی آزمائش کا ذریعہ بن جاتی ہے ایسے لوگ شیطان کی رخنہ اندازی سے متاثر ہو کر گمراہ ہوجاتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا۔ وان الظلمین لفی شقاق لبعید کہ اس قسم کے ظالم لوگ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور صراط مستقیم سے محروم ہیں۔ اہل ایمان کے لئے ذریعہ ایمان : فرمایا ادھر آیات الٰہی سے مقصود یہ ہے ولیعلم الذین اوتوا العلم انہ الحق من ربک اور تاکہ اہل علم جان لیں کہ یہ تیرے رب کی طرف سے برحق ہے۔ اللہ کا ہر حکم مبنی برحق ہے۔ فیئومنوا بہ ، لہٰذا وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ یہ کلام علم والوں کے لئے فتنہ کا موجب نہیں بنتا۔ چونکہ وہ کلام الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں۔ فتخبت لہ قلوبھم لہٰذا ان کے دلوں میں اخبات یعنی عاجزی پیدا ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع و خضوع کرتے ہیں۔ یہ چار خصلتیں ایسی ہیں جن کی تمام انبیاء اور امتیں پابند ہیں اور وہ ہیں طہارت (پاکیزگی) اخبات (عاجزی) سماحت (خسیس چیزوں سے پرہیز) اور عدالت۔ یہ چاروں چیزیں مدارسعادت ہیں اور ان پر پابندی اختیار کرنے والا آدمی سعادت مند ہوگا اور ان کے خلاف کرنے والا شقی یعنی بدبخت ہوگا۔ بہرحال یہ نبی آخر الزمان اور آپ کی امت کے لئے تسلی کا مضمون ہے کہ جو لوگ آیات الٰہی کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں۔ اسلام کے پروگرام کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ آپ ان سے گھبرائیں نہیں کیونکہ یہ ایک قدیم شیوہ ہے اور ہر نبی کو ان حالات سے گزرنا پڑا ہے۔ پہلی قومیں بھی اپنے اپنے نبیوں کی اسی طرح تکذیب کرتی رہی ہیں۔ اللہ نے سورة الانعام میں فرمایا ہے وکذلک………… …والجن (آیت 113) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جنوں میں سے دشمن بنائے ہیں شیاطین انسانوں میں بھی ہوتے ہیں اور جنوں میں بھی۔ جب اللہ کا نبی کچھ بیان کرتا ہے تو وہ اس میں رخنہ اندازی کرتے ہیں تاکہ نبی کی بات آگے نہ چل سکے۔ اللہ نے فرمایا ، اس قسم کی رخنہ اندازی کوئی نئی بات نہیں ہے ، لہٰذا آپ ایسی رکاوٹوں سے بےنیاز ہو کر اپنا کام کرتے جائیں۔ لفظ تمنیٰ کی غلط تفسیر : بعض مفسرین نے تمنیٰ کا یہ معنی لیا ہے کہ اللہ کا نبی جب کوئی چیز پڑھتا ہے تو شیطان آپ کی آواز میں آواز ملا کر لوگوں کے سامنے ایسی باتیں پیش کرتا جو اللہ اور اس کے رسول کے منشا کے خلاف ہوتی ہیں ، اور پھر اللہ تعالیٰ شیطان کی باتوں کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو مضبوط رکھتا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ جب حضور ﷺ نے سورة النجم کی یہ آیات تلاوت فرمائیں افرء یتم………………الاخرہ (آیات 19- 20) کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا ہے ، اور تیسرے بت منات کو بھی۔ کہتے ہیں کہ جب آپ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں تو شیطان نے آپ کی آواز میں اپنی آواز ملا کر کہا۔ تلک الغراینق العلیٰ وان شفا عتھن لترتجیٰ یہ بت بڑی بڑی ہستیاں ہیں اور ان کی شفاعت کی امید رکھی جاتی ہے ایسی بات مشرکین کے لئے فتنہ کا باعث بن گئی اور انہوں نے لات ، عزیٰ اور منات کو اپنا سفارت کنندہ بنالیا۔ پھر سورة کے آخر میں حضور ﷺ نے سجدہ کی آیت تلاوت فرمائی تو سجدہ بھی کیا۔ اور آپ کے ساتھ مجلس میں موجود سب لوگوں سے سجدہ کیا۔ یہ تفسیر صحیح نہیں ہے کہ شیطان نبی کی آواز میں کوئی غلط بات چلادے۔ یہ تو عظمت وحی کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی وحی کو ہمیشہ ملاوٹ سے محفوظ رکھتا ہے۔ محدثین نے اس بےاصل روایت کا انکار کیا ہے۔ تاہم صحیح تفاسیر میں نے عرض کردی ہیں۔ پہلی تفسیر یہ ہے ، کہ جب اللہ کا نبی کوئی تمنا یا آرزو کرتا ہے تو شیطان اس میں رخنہ اندازی کرتا ہے اور دوسری تفسیر یہ کہ جب رسول خدا کسی آیت یا حکم کی تلاوت کرتا ہے تو شیطان لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر رخنہ اندازی کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس وسوسے کو مٹا دیتا ہے ، ایمان والے صحیح سلامت رہتے ہیں اور کفار ومنافقین فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ دوسری آیات نازل فرما کر مومنوں کا وسوسہ دور کردیتا ہے۔ سورۃ النجم کے آخر میں سجدہ کرنے سے متعلق امام شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس مجلس میں موجود مسلمانوں نے تو اس لئے سجدہ کیا تھا کہ ان کے ہادی و راہنما نے سجدہ کیا تھا۔ لیکن کافروں اور مشرکوں نے اس لئے سجدہ کیا تھا کہ یہ سورت تلاوت کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی قہری تجلیات نازل ہورہی تھیں جن کی وجہ سے کافر لوگ سجدہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ البتہ ایک بوڑھے کافر نے سجدہ کرنے کی بجائے تھوڑی سی مٹی لے کر اپنی پیشانی پر مل لی اور کہنے لگا کہ میرے لئے اتنا ہی کافی ہے (بخاری شریف) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس بوڑھے آدمی کو بدر کی لڑائی میں کفر کی حالت میں مردہ پڑا پایا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے وان اللہ لھا د الذین امنوا الی صراط مستقیم بیشک اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور وہ صراط مستقیم کو پالیتے ہیں ۔ برخلاف اس کے مشرک اور منافق شیطان کی وسوسہ اندازی کا شکار ہو کر فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 22:55–64

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور ہمیشہ رہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا شک میں اس (قرآن) کی طرف سے ، یہاں تک کہ آجائے ان کے پاس قیامت اچانک ، یا آجائے ان کے پاس عذاب سخت دن کا

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

بادشاہی اس دن اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہوگی وہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان۔ پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے اعمال کیے ، وہ نعمتوں کے باغوں میں ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کوس یہی لوگ ہیں جن کے لئے ذلت ناک عذاب ہوگا

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اللہ کے راستے میں ، پھر وہ مارے گئے یا مرگئے تو ضرور اللہ ان کو روزی دے گا اچھی روزی۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

ضرور داخل کریگا ان کو ایسی جگہ میں جس کو وہ پسند کریں گے۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے اور بردبار ہے

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ بات (تو تم نے سن لی) جس شخص نے گرفت کی ایسی کہ جیسی اس کو تکلیف دی گئی تھی ، پھر اس پر سرکشی کی گئی تو ضرور اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا اور بخشش کرنے والا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ بات (اس لئے کہ) بیشک اللہ تعالیٰ داخل کرتا ہے رات کو ہر دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ بات (اس لئے کہ) بیشک اللہ تعالیٰ ہی وہ حق ہے اور وہ جس کو پکارتے ہیں لوگ اس کے سوا ، وہ باطل ہے۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ بلند ہے اور بڑائی والا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان کی طرف سے پانی۔ پس ہوگئی زمین سرسبز۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت لطیف اور خبر رکھنے والا ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اسی کے لئے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ وہ غنی اور تعریفوں والا ہے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ جب بھی اللہ کے نبی اللہ کا کلام یا احکام پڑھتے ہیں تو شیطان اس میں رخنہ اندازی کرتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات اور غلط خیالات ڈالتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل ہوتی ہے تو وہ شیطان کی وسوسہ اندازی کو زائل کردیتا ہے ، اور حق بات کو ثابت رکھتا ہے۔ اس سے ایمان والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی پیدا ہوتی ہے اور منافق اور مشرک فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ کفار کا شک وتردد : اب اس آی ت میں کفار کے شک وتردد کا ذکر ہے کہ قرآن پاک کے متعلق ان کے شبہات ہمیشہ قائم رہیں گے حتیٰ کہ ان کا خاتمہ ہوجائے ارشاد ہوتا ہے ولا یزال الذین کفروا فی مریۃ منہ اور کافر لوگ ہمیشہ شک وتردد میں پڑے رہیں گے اس قرآن کی طرف سے۔ ان کے ذہن ہمیشہ پراگندہ رہتے ہیں اور وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے حتی تاتیھم الساعۃ بغتۃ یہاں تک کہ اچانک قیامت واقع ہوجائے اویاتیھم عذاب یوم عقیم یا ان پر سخت دن کا عذاب نازل ہوجائے۔ عقیم بانجھ کو کہتے ہیں ، یعنی وہ جس میں خیر نہ ہو۔ قرآن میں ریح عقیم بھی آتا ہے یعنی سخت مضر اور غیر مفید ہوا۔ بانجھ عورت بھی غیر مفید ہوتی ہے کیونکہ اس سے اولاد نہیں ہوتی اور وہ منحوس سمجھی جاتی ہے۔ تو قیامت کا دن کافروں کے لئے منحوس دن ہوگا جس دن ان کا محاسبہ اعمال ہوگا اور پھر انہیں سزا ملیگی۔ خدا تعالیٰ کی بادشاہی : اسی قیامت کے دن کے متعلق فرمایا الملک یومئذ للہ آج کے دن بادشاہی خدا تعالیٰ کے لئے ہوگی۔ دنیا میں تو مجازی طور پر اقتدار بعض انسانوں میں ہوتا ہے اگرچہ حقیقی بادشاہی اللہ ہی کی ہوتی ہے مگر قیامت کو یہ مجاز بھی ختم ہوجائے گا۔ اور ظاہری باطنی ہر طرح کی حکومت اور اقتدار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوگا۔ یحکم بینھم ، پھر اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ فالذین امنوا وعملوا الصلحت پس وہ لوگ جو دنیا میں ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال انجام دیے فی جنت النعیم وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کے مقام جنت میں داخل کریگا۔ جہاں انہیں ہر طرح کا آرام و راحت حاصل ہوگی۔ برخلاف اس کے والذین کفروا وکذبوا بایتنا جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا توحید ، احکام الٰہی ، کتب سماویہ ، ملائکہ ، رسل اور قیامت کی تکذیب کی فاولئک لھم عذاب مھین یہی لوگ ہیں جن کے لئے ذلت ناک عذاب ہوگا۔ اس کے لئے عزت کا وہاں کوئی موقع نہیں ہوگا۔ مہاجرین کی حوصلہ افزائی : اب اللہ تعالیٰ نے اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ والذین ھاجروا فی سبیل اللہ اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے اپنا وطن ، خویش و اقارب ، دوست احباب ، زمین ، مکان اور تجارت کو چھوڑا ، اور اللہ کی رضا کے طلبگار ہوئے ثم قتلوا پھر یا تو راہ حق میں کفار کے ہاتھوں شہید کردیے گئے اوماتوا یا طبعی موت مرگئے لیرزقنھم اللہ رزقا حسنا اللہ تعالیٰ ان کو باعزت روزی عطا فرمائے گا وان اللہ لھو خیرالرزقین ، بیشک اللہ تعالیٰ بہترین روزی دینے والا ہے اور اس میں ان اہل ایمان کی طرف اشارہ ہے جو مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت کرگئے۔ وہ اپنی ہر چیز مکہ میں چھوڑ چھاڑ کر چلے گئے اور ان کی اکثریت بالکل تہی دست ہوگئی تھی۔ سورة الحشر میں بھی اللہ تعالیٰ نے فقرا مہاجرین کی تعریف کی ہے۔ للفقرآء …………………الصدقون (آیت 8) مال فے کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ اس میں ان غریب مہاجرین کا بھی حصہ ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے بےدخل کردیے گئے اور جو اللہ کا فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں۔ اللہ کے دین اور اسکے رسول کی مدد پر کمر بستہ ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں۔ چنانچہ مہاجرین کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بلند مرتبہ عطا فرمایا۔ وہ خالی ہاتھ آئے تھے مگر اللہ نے ان کو تجارت اور دیگر ذرائع سے کثیر مال و دولت عطا فرمایا اور اس طرح ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ ان کے متعلق یہ خوشخبری بھی سنائی لیدخلنھم مدخلا یرضونہ اللہ تعالیٰ یقینا انہیں ایسے مقامات میں داخل کریگا۔ جس کو وہ پسند کریں گے ، اور یہ خدا تعالیٰ کی رحمت کا مقام جنت ہے ، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے وان اللہ لعلیم حلیم اور بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور بردبار ہے ، وہ نافرمانوں کی نافرمانی اور سرکشوں کی شرارت پر جلد گرفت نہیں کرتا بلکہ بسا اوقات مہلت دیتا ہے اور یہی اس کی بردباری اور تحمل کی نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت : آگے ارشاد ہوتا ہے ذلک یہ بات تو ہوچکی اور تم نے سن لی۔ دوسری بات یہ ہے ومن عاقب بمثل ماعوقب بہ اور جس شخص نے بدلہ لیا اسی کی مانند جیسا کہ اس کو اذیت پہنچائی گئی تھی ثم بغی علیہ پھر اس پر سرکشی کی گئی لینصرنہ اللہ تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد فرمائے گا اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے اہل ایمان کو تیرہ سال تک تخت تکلیفیں دیں حتیٰ کہ انہیں ہجرت پر مجبور کردیا۔ پھر اللہ نے اس سے بدر کے معرکے میں انتقام لیا۔ گویا جس طرح کافروں اور مشرکوں نے مسلمانوں کو مکہ میں تنگ کیا ، اس کا بدلہ مسلمانوں نے جنگ بدر میں لے لیا۔ اس کے بعد اگر کافروں نے پھر مسلمانوں پر سرکشی کی جیسا کہ احد اور خندق کے مواقعات پر کی تو اللہ نے فرمایا کہ وہ مظلوم مسلمانوں کو ضرور مدد کرے گا۔ چناچہ ان دونوں مواقع پر کافروں نے مسلمانوں کو نیست ونابود کرنے کی کوشش کی مگر اللہ کی نصرت آڑے آئی اور دونوں مواقع پر کافر اور مشرک ناکام لوٹ گئے۔ جنگ خندق کے موقع پر مسلمانوں نے مدینے کے تین اطراف میں خندق کھود کر اور چوتھی طرف سے ذاتی طور پر دفاع کرکے کافروں کو شہر میں داخل ہونے سے روکے رکھا۔ پھر اللہ نے تندوتیز ہوا بھیج کر دشمن کے لشکر کو درہم برہم کردیا اور فرشتوں نے انہیں دھکیل دھکیل کر واپس جانے پر مجبور کردیا ، یہی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی۔ فرمایا ان اللہ لعفوغفور ، بیشک اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا اور بہت بخشش کرنے والا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر یہ سرکش لوگ اس تمام تر زیادتی کے باوجود آئندہ کے لئے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہیوں کو معاف فرمادیگا کیونکہ وہ بہت بخشش کرنے والا ہے۔ توحید الٰہی کی دلیل : فرمایا ذلک یہ اس وجہ سے بان اللہ یولج الیل فی النھار کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں داخل کرتا ہے ویولج النھار فی الیل اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہے کہ کائنات کے تمام تصرفات اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور دن اور رات کا نظام اس نے کمال حکمت کے ساتھ بنارکھا ہے وان اللہ سمیع بصیر ہر بات کو سننا اور ہر چیز کو دیکھنا اسی کا کام ہے۔ کوئی چیز اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں۔ جب تصرفات اس کے ہاتھ میں ہیں تو وہ مظلموں کی مدد کرنے پر بھی قادر ہے اور وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ فرمایا ذلک یہ اس لئے بان اللہ ھوالحق کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہی برحق ہے۔ حق کا معنی قائم ، ثابت اور صحیح ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا نشان ہے وان ما یدعون من دونہ ھوالباطل اور جس کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ وہ باطل ہے ۔ غیر اللہ کی عبادت بلاشبہ بےحقیقت اور غلط ہے۔ حق بات یہ ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی ذات قائم دائم اور برحق ہے۔ فرمایا یاد رکھو وان اللہ ھو العلی الکبیر بیشک اللہ تعالیٰ ہی بلند مرتبت اور بڑائی والا ہے۔ تمام کبریائی اسی کو سزاوار ہے۔ تمام چیزوں کا مافوق الاسباب کنٹرول اسی کے ہاتھ میں ہے ، لہٰذا عبادت بھی اسی کی ہونی چاہیے۔ مردہ دلوں کی زندگی : ارشاد ہوتا ہے الم تران اللہ انزل من السماء ماء کیا تم نے اس پر حقیقت پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی طرف سے پانی نازل فرمایا فتصبح الارض مخضرۃ اور اس کے ذریعے زمین کو سرسبز وشادب بنادیا۔ بارش برسا کر مردہ زمین کو نئی زندگی بخشنا ، اس میں پھل ، پھول ، درخت اور اناج پیدا کرنا اسی مالک الملک کا کام ہے جس طرح وہ بارش کے ذریعے زمین کو تروتازگی بخشتا ہے۔ اسی طرح وہ وحی الٰہی کے ذریعے کفر وشرک کی وجہ سے مردہ دلوں کو نئی زندگی بخشتا ہے فرمایا۔ ان اللہ لطیف خبیر بیشک اللہ تعالیٰ بہت باریک بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ لہ مافی السموت وما فی الارض اسی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ ہر چیز اسی کی پیدا کردہ اور اسی کے تصرف میں ہے۔ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ وان اللہ لھو الغنی الحمید بیشک اللہ تعالیٰ وہی بےنیاز اور تعریفوں والا ہے۔ وہ غنی ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ برخلاف اس کے ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔ وہ تعریفوں والا ہے کہ کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے ، وہ پھر بھی سب تعریفوں کا مستحق ہے۔ ساری حمدوثنا کا سزاوار وہی ہے۔ وہ غنی ہے اور باقی سب محتاج ہیں۔
Ayahs 22:65–69

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے کام میں لگا دیا ہے تمہارے لئے ان چیزوں کو جو زمین میں ہیں اور کشتیاں چلتی ہیں دریا میں اس (اللہ تعالیٰ ) کے حکم سے اور وہ روکتا ہے آسمان کو زمین پر گرنے سے مگر اس کے حکم سے۔ بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہ وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے ، پھر وہ تم پر موت طاری کرتا ہے ، پھر تم کو زندہ کرے گا۔ بیشک انسان البتہ ناشکرگزار ہے

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہر امت کے لئے مقرر کیا گیا ہے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ کہ وہ اس عبادت کو کرنے والے ہیں۔ پس نہ جھگڑا کریں آپ سے یہ لوگ اس معاملہ میں۔ اور آپ دعوت دیں اپنے پروردگار کی طرف۔ بیشک آپ البتہ سیدھی راہ پر ہیں

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر یہ جھگڑا کریں آپ کے ساتھ۔ پس آپ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ان کاموں کو جو تم کرتے ہو

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے گا تمہارے درمیان قیامت کے دن ان باتوں میں جن میں تم اختلاف کرتے تھے

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ کی قدرت کی بعض نشانیوں کا ذکر کیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف رغبت دلائی گئی تھی۔ اللہ کے سوا کسی دوسری ذات کی عبادت کو باطل قرار دے کر اس سے منع کیا گیا تھا ، پھر رات اور دن کے اختلاف ، آسمان کی طرف سے پانی کے نزول اور زمین کے سرسبز و شاداب ہونے کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ نشانات قدرت اس لئے بیان فرمائے ہیں تاکہ انسان ان میں غوروفکر کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکیں اور اس پر ایمان لے آئیں۔ تسخیر اشیائے ارضی : اسی ضمن میں اللہ نے اپنی قدرت کی کچھ مزید نشانیوں کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ الم ترا اے مخاطب ! کیا تم نے مشاہدہ نہیں کیا۔ اس مشاہدہ سے مراد رویت بصری نہیں بلکہ قلبی اور علمی رویت مراد ہے یعنی کیا تمہارے دل میں یہ بات پیدا نہیں ہوئی یا تمہارے علم میں یہ بات نہیں آئی ؟ اگر ابھی تک تمہیں اس بات کی سمجھ نہیں آئی تو اب آجانی چاہیے کہ ان اللہ سخرلکم مافی الارض بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مسخر کردیا ہے۔ یعنی تمہارے کام میں لگا دیا ہے جو کچھ زمین میں ہے۔ زمین کی تمام اشیاء تمہاری خدمت پر مامور ہیں اور تم ان سے مستفید ہو رہے ہو۔ سورة البقرہ میں بھی اللہ کا فرمان خلق لکم…………جمیعا (آیت 29) اللہ نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے فائدے کے لئے پیدا کی ہیں۔ ان اشیاء میں سے انسان کسی چیز سے براہ راست فائدہ اٹھاتے ہیں اور کسی چیز سے بالواسطہ طور پر ، حتیٰ کہ زمین کے زہریلے کیڑے مکوڑے اور سانپ بچھو بھی انسان کے لئے کسی نہ کسی طور پر مفید ہیں۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض چیزوں سے انسان بایں صورت مستفید ہوتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر عبرت حاصل ہوتی ہے۔ زمین میں موجود مٹی ، پہاڑ ، پتھر ، صحرا ، پانی ، درخت ، سبزہ ، پھول ، پھل ، اناج ، دریا ، سمندر ، چشمے بیشمار چیزیں ہیں جو انسان کی خدمت پر مامور ہیں۔ اسی طرح جانور بھی اللہ نے انسان کے فائدے کے لئے پیدا فرمائے ہیں لو گ ان سے طرح طرح کے فائدے حاصل کرتے ہیں۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے ، کہ کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے کس طرح ان چیزوں کو تمہارے بس میں کردیا ہے ؟ حقیقت میں تمام اشیاء کا مالک اور خالق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اس نے ان کو انسان کے لئے مسخر کرکے ان سے مسفید ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ کشتی رانی کے فوائد : فرمایا والفلک تجری فی البحر بامرہ ، اسی طرح اللہ کے حکم سے سمندر میں چلنے والی کشتیوں کو بھی تمہارے تابع کردیا ہے ۔ کشتی رانی بھی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو کشتی سازی کا علم عطا فرمایا اور پھر انہیں پانی میں چلانے کا طریقہ سکھلایا۔ جب اس کی مشیت ہوتی ہے تو ہوا کشتی کی منزل کے موافق چلتی ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے تو ہوا مخالف سمت میں چلنے لگتی ہے سمندر میں طوفان برپا ہوجاتا ہے اور بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز سامان سمیت ڈوب جاتے ہیں۔ پہلے زمانے میں بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں۔ جو نقل وحمل کا کام دیتی تھیں۔ اب ان کی جگہ بڑے بڑے سٹیمروں اور جہازوں نے لے لی ہے جو بھاپ اور تیل سے چلتے ہیں اور لاکھوں ٹن سامان ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچاتے ہیں۔ بہرحال کشتی ہو یا جہاز ، وہ جس ایندھن کے ساتھ بھی چلتا ہے ، اللہ کا حکم اس میں شامل ہوتا ہے۔ پھر جب اللہ کی مشیت اس کے برخلاف ہوتی ہے تو جدید دور کے تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود بڑے بڑے جہاز حادثے کا شکار ہو کر غرق ہوجاتے ہیں۔ غرضیکہ کشتی رانی کسی بھی قسم کی ہو ، اس کا انحصار اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے یہ اسی کے کے حکم سے چلتی ہیں۔ آسمانی نظام قدرت : آگے اللہ تعالیٰ نے آسمانی نظام قدرت کی طرف توجہ دلائی ہے ارشاد ہوتا ہے ۔ ویمسک السماء ان تقع علی الارض الا بازنہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو آسمان کو زمین پر گرنے سے روکتا ہے۔ اس نے آسمان کو بغیر ستونوں کے کھڑا کیا ہے اور پھر ایسا انتظام بھی کردیا ہے کہ یہ نیچے نہ گرنے پائے مگر اس کے حکم سے ۔ الاباذنہ میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ آسمان کو اللہ نے ایک خاص مدت تک کے لئے تھام رکھا ہے۔ پھر جب قیامت کا وقت آجائیگا ، تو اللہ تعالیٰ آسمان و زمین سے اپنی حفاظت اٹھالے گا۔ آسمان زمین پر گر پڑے گا۔ اور زمین کی ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ اور صدر ایوب کے زمانے کا واقعہ ہے ، آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا کہ امریکہ کے کسی علاقے میں ایک شہاب ثاقب گرپڑا تھا جس میں چار پانچ سو آدمی ہلاک ہوگئے تھے اور بہت سی عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں۔ یہ تو شہاب کے ایک ٹکڑے کا کارنامہ ہے اندازہ لگائیے جب آسمان و زمین کا پورا نظام درہم برہم ہوجائے گا تو اس وقت کیسی قیامت برپا ہوگی۔ موجودہ آسمان ٹوٹ پھوٹ جائیگا اور موجودہ آسمان و زمین کی جگہ دوسرا نظام لایا جائے گا۔ فرمایا ان اللہ بالناس لرء وف رحیم ، اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ بڑی شفقت والا اور نہایت مہربان ہے۔ یہ اس کی شفقت اور مہربانی کا نتیجہ ہے کہ اس نے کائنات کے پورے نظام کو انسانوں کے فائدے کے لئے اپنے اپنے کام پر لگا رکھا ہے اور یہ تمام چیزیں انسانوں کی خدمت کررہی ہیں۔ انعامات الٰہی کا شکریہ : ارشاد ہوتا ہے۔ وھوالذی احیاکم اور خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے ثم یمیتکم پھر وہ تم پر موت طاری کرتا ہے۔ گویا موت وحیات کا سررشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ایک وقت آئے گا ثم یحییکم کہ وہ تمہیں دوبارہ زندہ کریگا۔ اس کے بعد تمہیں اللہ کے روبرو پیش ہو کر زندگی بھر کا حساب کتاب دینا ہوگا۔ اور پھر اس دن انسان کی ابدی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ان الانسان لکفور ، بیشک انسان البتہ ناشکر گزار ہے اللہ نے انسان کی زندگی عطا کی اور پھر اس کے ساتھ ہدایت کا سامان بھی مہیا فرمایا۔ کفر اور شرک سے بھرے ہوئے مردہ دل لوگوں کو ہدایت عطا کی اور پھر اس کے ساتھ ہدایت کا سامان بھی مہیا فرمایا۔ کفر اور شرک سے بھرے ہوئے مردہ دل لوگوں کو ہدایت عطا کی اور انہیں حقیقی زندگی سے روشناس کرایا۔ بعض اوقات اللہ انسان کی اپنی بدعقیدگی اور بدعملی کی وجہ سے اسے ایمان کی دولت سے محروم کردیتا ہے ، ایسا شخص کفر ، شرک اور نفاق کی دلدل میں پھنس جاتا ہے اور ہمیشہ کے لئے ناکام ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ان بیشمار انعامات کے پیش نظر انسان کا فرض تھا کہ وہ اس کی توحید کو مانتا ، شرک سے پرہیز کرتا ، اس کی عبادت کرتا اور اس کے حکم کی تعمیل کرتا مگر اکثر انسان ناشکرگزار واقع ہوئے ہیں جو ہر وقت اللہ کی نعمتوں کو استعمال تو کرتے ہیں مگر اس کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے کفران نعمت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ اللہ نے کفروشرک کی قباحت اور برائی کا ذکر کیا ہے اور بعض دلائل قدرت بیان فرمائے جن کو دیکھ کر انسان اللہ کی توحید کو سمجھ سکتا ہے۔ عبادت کا طریقہ : آگے فرمایا لکل امۃ جعلنا منسکا ھم ناسکوہ ہم نے ہر امت کے لئے عبادت کا طور طریقہ مقرر کیا ہے کہ وہ اس عبادت کو کرنے والے ہوتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی عبادت کا حکم کرتا ہے ۔ تو پھر اپنے نبی کے ذریعے اس کا طریقہ بھی بتلاتا ہے ۔ منسک کا اطلاق مطلق عبادت پر بھی ہوتا ہے اور یہ لفظ اس کی راہ میں جانور قربان کرنے پر بھی بولا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص حج یا عمرے کی ادائیگی کے دوران کسی جنایت کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی تلافی کے طور پر جانور ذبح کرتا ہے جسے عروف عام میں دم کہا جاتا ہے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے نسک کہا ہے۔ سورة البقرہ میں جہاں حج اور عمرے میں سر مونڈانے کا حکم دیا ، وہاں فرمایا کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو یا سر میں کسی تکلیف کی وجہ سے یہ رکن پورا نہ کرسکے ففدیۃ ………………اونسک (آیت 196) تو اس کا فدیہ ادا کرے روزوں کی صورت میں ، صدقہ کی صورت میں یا قربانی کی صورت میں۔ اسی سورت حج میں بھی پہگے گزر چکا ہے ولکل امۃ………………الانعام (آیت 34) ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے کہ وہ اللہ کے عطا کردہ مویشیوں پر اس کا نام لے کر ذبح کریں۔ الغرض ! منسک نفس قربانی کو بھی کہتے ہیں اور جائے قربانی یعنی قربان گاہ کو بھی اس طریقے سے منسک کا معنی نفس عبادت بھی ہوتا ہے اور عبادت کا طور طریقہ بھی۔ تو فرمایا ہم نے ہر امت کے عبادت گزاروں کے لئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کردیا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ عیدالاضحی کے دن ہمارا سب سے پہلا کام نماز ہوتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے بسا اوقات ایسا بھی کیا کہ عید کی نماز ادا کی اور متصلاً جانور بھی ذبح کیا۔ اس مقام پر آپ نے نماز کے لئے بھی نسک کا لفظ استعمال کیا ہے کہ عید کے دن ہماری پہلی عبادت نماز ہوتی ہے۔ قرآن پاک میں قربانی کے لئے بھی نسک کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جیسے قل ان………… …العلمین (الانعام 163) اللہ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ آپ یوں کہیں کہ میری نماز ، میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ فرمایا ہم نے ہر امت کے لئے عبادت اور قربانی کا ایک طریقہ مقرر فرمایا ہے فلا ینازعنک فی الامر لہٰذا کفار ومشرکین کو اس معاملہ میں آپ سے کوئی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔ آپ تو خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے قربانی کرتے ہیں۔ جب کہ وہ بتوں کی عظمت کے لئے جانور ان کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ ان کا فرض تھا کہ وہ قربانی کا وہی طریقہ اختیار کرتے جو اللہ نے ہر امت کے لئے مقرر کیا ہے ، نہ کہ مشرکانہ طریقہ اختیار کرتے اور پھر جب ایک چیز اللہ کی طرف سے طے ہوچکی ہے تو انہیں اس معاملہ میں آپ کے ساتھ جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے (ہمعات ص 89 وجحۃ اللہ البالغہ ص 53 ج 1 (فیاض) ہیں کہ دین کی چار بنیادی چیزیں ہر نبی کے دور میں یکساں رہی ہیں اور یہ ہیں طہارت ، اخبات ، سماحت اور عدالت۔ اسی بنیاد پر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہر نبی کی امت کے لئے دین ایک ہی رہا ہے اور ہر امت کے لئے قربانی کا طریقہ اور دیگر عبادات بھی مقرر ہیں۔ جب تمام امتوں کے لئے اللہ نے ایک طریقہ رائج کیا ہے۔ تو پھر یہ کافر اور مشرک لوگ اس کے خلافت کیوں کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ جھگڑا کیسے کرتے ہیں ؟ ان کو تو چاہیے کہ آپ کا بتایا ہوا طریقہ اختیار کرلیں اور اہل ایمان سے جھگڑا نہ کریں۔ دعوت توحید : آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کو حکم دیا وادع الی ربک آپ سب لوگوں کو اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیں لوگوں کو اس کی توحید اور عبادت کی طرف بلائیں۔ انک لعلی ھدی مستقیم بیشک آپ سیدھی ہدایت پر ہیں۔ اور اس ہدایت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ کی کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ نہ کسی کو اللہ کی ذات میں شریک بنایا جائے۔ نہ صفات میں اور نہ عبادت میں آپ اسی بات کی لوگوں کو دعوت دیں وانجادلوک اور اگر یہ آپ سے جھگڑا کریں فقل اللہ اعلم بما تعملون تو آپ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔ وہ علیم کل ہے ، بھلا تمہاری بدکرداریاں اس سے کیسے چھپ سکتی ہیں ؟ محاسبے کی منزل آنے والی ہے۔ تمہیں اپنی ہر کار گزاری کا حساب دینا ہوگا۔ آج تم حق کو ٹھکراتے ہو مگر قیامت کے دن سخت عذاب میں مبتلا ہوگے ۔ فرمایا اللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کریگا فیما کنتم فیہ تختلفون ان معاملات میں جن میں تم بلاوجہ جھگڑا کرتے ہو۔ اس دن اللہ تعالیٰ نیکی اور بدی کو واضح کردیگا اور پھر ہر ایک کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دیگا۔