31. Surah Luqman
لقمانLuqman · 34 ayahsمعالم العرفان
اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ١ۚ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 31:34 in the Quran reader
بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے قیامت کا علم ، اور اتارتا ہے وہ بارش ، اور جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہے ، اور نہیں جانتا کوئی نفس کہ وہ کل کیا کمائے گا ، اور نہیں جانتا کوئی نفس کہ کس سرزمین میں وہ مریگا ۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہی (سب کچھ ) جاننے والا اور (ہر چیز کی ) خبر رکھنے والا ہے
ربطہ آیات :
سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا ، پھرت و حید اور شرک کا مسئلہ بیان ہوا اور ضمناً رسالت کا ذکر بھی ہوگیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کمال اور بعض مشاہدات ِ قدرت کا ذکر کر کے انہیں اپنی توحید پر بطور دلیل پیش کیا ۔ اس کے علاوہ وقوع قیامت ، محاسبہ اعمال اور جزائے عمل کا ذکر بھی ہے ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت مختصہ عالم الغیب ہونے کو خاص طور پر بیان کیا ہے ۔
مفتاح الغیب :
اس ضمن میں ان پانچ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کا علم صرف خدا تعالیٰ کو ہے اور کوئی دوسری ذات ان چیزوں کا تفصیلی اور واضح علم نہیں رکھتی ۔ سورة الانعام میں ان چیزوں کو مفاتح الغیب بھی کہا گیا ہے وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو (آیت : 95 ) غیب کی چابیاں ، اہل لغت کہتے 1 ؎ ہیں کا معنی ٰ خزانہ ہوتا ہے اگر کسرہ ( پ ) کے ساتھ تو اس کا معنی ٰ چابی ہے ۔ بہر حال مطلب یہی ہے کہ ہر قسم کے غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور کوئی دوسری ہستی اس کو نہیں جانتی ۔
شانِ نزول :
یہاں پر اشکا ل پیدا ہوتا ہے کہ غیب کی لا تعداد چیزیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰکے سوا کوئی نہیں جانتا مگر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف پانچ چیزوں کا ذکر ہی کیوں کیا ہے ؟ امام بیضادی 2 ؎ ، امام الغوی (رح) 3 ؎ اور بعض دوسرے مفسرین 4 ؎ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا شان ِ نزول یہ ہے کہ ایک شخص حارث بن عمر ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان پانچ ہی چیزوں کا سوال کیا تھا جن کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے دے دیا ۔ اس شخص کے پانچ سوال یہی تھے کہ (1) قیامت کب آئے گی (2) بارش کب ہوگی (3) بیوی حاملہ ہے ، وہ کیا جنے گی (4) میں کل کیا کام انجام دوں گا اور (5) میری موت کہاں واقح ہوگی ، مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں ہیں کہ یہ پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کو عام طور پر لوگ پیشگی جاننا چاہتے ہیں ، لہٰذا ان اشیاء کا ذکر بطور خاص کردیا گیا ہے۔
وقوع قیامت کا علم :
ارشاد ہوتا ہے ان اللہ عندہ علم الساعۃ بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے قیامت کا علم ، عربی زبان میں ساعت کا لفظ مختلف معافی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس کا معنی گھڑی بھر بھی ہوتا ہے اور آجکل یہ لفظ گھڑی (WATCH) کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس کا ایک معنی
1 ؎ مصباح الصفات ص 616 2 ؎ بیضادی ص 232 ج 2
3 ؎ معالم التنزل یل ص 651 4 ؎ روح المعافی ص 901 ج 12 و تفسیر المراغی ص 001 ج 02 (فیاض)
قیامت بھی ہے اور اس مقام پر یہ لفظ انہی معنیوں میں استعمال ہوا ہے ۔ اور مطلب یہ ہے کہ وقوع قیامت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ۔ وقوع قیامت کے وقت کے متعلق سورة الاعراف میں ہے ۔ لا یحبلیھا لو قتھا الا ھو (ایت ۔ 781) اللہ تعالیٰ ہی قیامت کو اس کے وقت پر ظاہر کرے گا ۔ سورة الزخرف میں فرمایا ہے ھل ینظرون الا ساعۃ ان تاتیھم بغتۃ وھم لا یشعرون (آیت ۔ 66 ) کیا یہ اس بات کے منتظر ہیں کہ قیامت اچانک آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو ؟ وقوع قیامت کی کچھ نشانیاں اور مابعد کے بعض واقعات تو اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو بتلا دیئے ہیں مگر اس کے وقوع کا عین وقت اللہ نے نہ کسی فرشتے کو بتایا ہے ، نہ پیغمبر کو اور نہ کسی جن کو ۔ یہ علم صرف اس کی اپنی ذات تک ہی محدود ہے کہ قیامت کب واقع ہوگی ۔
نزول بارش کا علم :
فرمایا وینزل الغیث اور وہ بارش نازل کرتا ہے ۔ جہاں تک بارش کا تعلق ہے تو اس کی پیشین گوئی کسی حد تک کی جاسکتی ہے آج کل محکمہ موسمیات والے بیرومیٹر (BAROMETER) کے ذریعے ہوا کا رُخ اور دبائو معلوم کرتے ہیں اور پھر اس سے بارش کے نزول کا علاقہ اور وقت متعین کرتے ہیں ، ان کی یہ پیشین گوئی بعض اوقات صحیح بھی ہوتی ہے اور بعض مواقع پر غلط ثابت ہوتی ہے کیونکہ بارش کے نزول کا علم بھی صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔ مزید برآں یہ پیشین گوئی بارہ گھنٹے ، چوبیس گھنٹے یا اس سے زیادہ عرصہ کے لئے ہوتی ہے کوئی بھی ماہر بارش کے نزول کا عین وقت نہیں بتا سکتا اور نہ ہی وہ حصہ ارضی متعین کرسکتا ہے جن پر بارش متوقع ہے ، نہیں بتا سکتا اور نہ ہی وہ حصہ ارضی متعین کرسکتا ہے جس پر بارش متوقع ہے ، یہ بھی کوئی نہیں بتا سکتا کہ فی الواقع کہتے انچ یا کتنی مقدار میں بارش ہوگی اور پھر یہ بھی کہ یہ مقامی طور پر مفید ثابت ہوگی یا سیلاب کی صورت میں نقصان کا موجب ہوگی ۔ یہ تمام تفصیلات نزول بارش کا حصہ ہیں اور ان سب کا صحیح صحیح علم اللہ کی ذات کے سوا کسی کو نہیں ۔
حمل کا علم :
حمل بھی ایک پوشیدہ چیز ہے جسکی نوعیت کے متعلق فرمایا ویعلم مافی الا رحام وہی اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ حملوں میں کیا ہے ، اس سے عام فہم مراد تو یہی ہے کہ اللہ کے سوا یہ بھی کوئی ن ہیں جانتا کہ اس حمل میں بچہ ہوگا یا بچی ۔ البتہ جدید سائنس دو ر میں بعض آیات کی مدد سے یکساں کی بعض علامات سے کسی حد تک اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بچہ متو قع ہے یا بچی ، مگر اس کی پوری تفصیلات کوئی ماہرین ترین ڈاکٹر بھی نہیں بتا سکتا ۔ مثال کے طور پر ہونے والا بچہ کتنی عمر پائیگا ۔ کونسا ہنر سیکھے گا ، زندگی آسودہ ، ہوگیا یا تنگ دستی میں مبتلا رہیگا سعید ہوگا یا شقی اور حتمی طور پر جتنی ہوگا ، یا دوزخی یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ۔ اس لئے فرمایا کہ وہی جانتا ہے کہ مائوں کے حملوں میں یکا ہے ۔
آمدہ کل کا علم :
اللہ نے چوتھی بات یہ فرمائی وما تدری نفس ماذاتکیب غذا کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا یعنی کیا کام کرے گا ۔ عام طور پر انسان اپنی روز مرہ زندگی کو مشقیں معمولات کے مطابق بسر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دکانداری کاشت کاری ، صنعت وجعرفت معلازمت کا مزدوری وغیرہ کا پیشہ اختیار کرتا ہے ، آج کے ترقی یافتہ دور میں ہر آدمی کے روزانہ ، ہفتہ وار ، ماہانہ اور سالانہ معمولات ہوتے ہیں ۔ اور کوئی شخص آسانی سے کہہ سکتا ہے کہ آج تو اس نے اپنا کام ختم کرلیا ، کل پھر فلاں وقت پر کام شروع کر دیگا ۔ لہٰذا اس دور میں کل کی مصروفیت کا تعین بالکل معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے ۔ مگر ہم روزہ مرہ یہ بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ انسان کو کہتے ہی واقعات معمولی کے خلاف بھی پیش آجاتے ہیں ۔ کسی شخص کو یقین ہوتا ہے کہ وہ کل اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوجائے گا ۔ مگر راستے میں اسے کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے اور وہ اپنے کام پر نہیں پہنچ پاتا ۔ لہٰذا یقین کے ساتھ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا وہ کل ضرور فلاں کام کرے گا ۔ اس بات کا بھی علم بھی خدا تعالیٰ کے پاس ہی ہے ۔
جائے موت کا علم :
اللہ نے پانچویں بات یہ فرمائی وما تدری نفس بای ارض تموت کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس موت کس سرزمین میں واقع ہوگی مطلب یہ کہ اس چیز کا علم بھی اللہ تعالیٰ کی ذات تک محدود ہے ۔ روز مرہ مشاہدہ میں آتا رہتا ہے کہ انسان کسی کام کاج کے لئے نکلتا ہے تو اس کی موت گھر ، شہر اور علاقے سے دور دراز جگہ پر واقع ہوجاتی ہے ، حالانکہ ایسا ہونا اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا ۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو بس ، ریل یا ہوائی جہاز کے حادثہ میں جاں بحق ہوجاتے ہیں اور کتنے ہی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی لاش تک نہیں ملتی سمندروں میں ڈوب جانے والوں یا لق ودق صحرا میں جان دینے اولوں کے متعلق کون جانتا ہے کہ وہ کس مقام پر موت کی آغوش میں چلے گئے ۔ پاکستان کی قومی کمپنی کا ہوائی جہاز گلگت سے راولپنڈی آتے ہوئے ایسا غائب ہوا کہ آج تک اس جگہ کا بھی تعین نہیں ہوسکا ۔ جہاں وہ گر کر تباہ ہوا ۔ لاش تو کجا اتنے بڑے جہاز کا ڈھانچہ تک نہیں ملا ۔ اس جہاز کے مسافر اور عملہ نہ خود جانتے تھے کہ ان کی موت کہاں واقع ہوگی اور نہ ہی پسماندگان کو آج تک ان کی جائے موت کا علم ہوسکا ہے ۔
مفسر ابو سعود (رح) 1 ؎ فرماتے ہیں کہ ایک موقعہ پر ملک الموت حضرت سلمان (علیہ السلام) کے پاس آئے ۔ ان کے پاس ایک شخص بیٹھا تھا جس کی طرفملک الموت نے گھور کر بغور دیکھا ۔ وہ شخص ڈر گیا اور سلیمان (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ مجھے یہاں سے دور کہیں ہندوستان کے کسی خطے میں بھجوادو ۔ جنات اور ہوا تو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع تھے ۔ آپ نے حکم کیا تو وہ شخص دور دراز علاقے میں پہنچ گیا ۔ پھر آپ نے ملک الموت سے پوچھا کہ آپ اس شخص کو گھور گھور کر کیوں دیکھ رہے تھے ۔
1 ؎ ابو سعود ص 4 91 ج 4 و مدارک ص 682 ج 3 ومظہری ص 082 ج 7 (فیاض )
تو اس نے بتایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم یہ تھا کہ اس شخص کی جان ہندوستان کے فلاں جنگل میں فلاں وقت پر قبض کرنی ہے ۔ وقت بالکل قریب تھا مگر میں اس شخص کو آپ کے پاس بیٹھا دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ اتنے تھوڑے وقت میں یہ شخص مقررہ مقام پر کیسے پہنچ سکے گا ۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی بر حق ہے ۔ اور اس کی جان وہیں قبض ہونی ہے ۔ اس طرح گویا وہ شخص خود اپنی خواہش پر اپنی جائے موت پر پہنچ گیا اور ملک الموت نے اس کی روح اسی مقام پر قبض کرلی۔
مشہور 1 ؎ ہے کہ بغداد کے کسی خلیف خراب میں فرشتے کو دریائے وجلہ سے نکلتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا کہ بتائو میری عمرکتنی باقی ہے ۔ اس کے جواب میں فرشتے نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا جب کہ ہاتھ کی پانچویں انکگلیاں کھلی ہوئی تھ میں ۔ صبح ہوئی تو خلیفہ نے حکماء کو جمع کرلیا اور خواب کی تعبیر پوچھی ۔ ہر ایک نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق جواب دیا ۔ کسی نے کہا کہ اے خلیفہ ! تیری عمر پانچ دن باقی رہے گئی ہے ۔ کسی نے پانچ 05 اور کسی نے پانچ سال بتایا مگر خلفیہ کو تسلی نہ ہوئی ۔ کسی نے مشورہ دیا کہ اس کے متعلق امام ابوحنیفہ (رح) سے دریافت کیا جائے جب آپ کے سامنے خواب کی رونیداد بیان کی گئی تو امام صاحب نے فرمایا ہاتھ کے اشارے کا مطلب یہ ہے کہ اے خلیفہ ! آپ کا سوال ان پانچ چیزوں میں سے ایک کے متعلق ہے جن کا علم اللہ نے مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت کی ۔
بہر حال اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم محیط اور مخلوق کی بےبسی کا ذکر فرمایا کہ اپنی وحدانیت پر دلیل قائم کی ہے ۔ اس بات میں کچھ شک نہیں ہے کہ ان اللہ علیم خبیر اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا اور ہر واقعہ کو خبر رکھنے والا ہے ۔ اس کے احاطہ علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔
1 ؎ تفسیر نفی ص 6 92 ج 3 ومظہری ص 082 ج 7 (فیاض )
اکو ان اور احکام کا علم :
شیخ الا سلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اس آیت کی تشریح میں لکھے 1 ؎ ہیں کہ یاد رکھنا چاہئے کہ غیب کی چیزوں کا تعلق یا تو احکام سے ہوتا ہے یا اکوان سے احکام سے مراد شرعی احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء (علیہم السلام) کو بتلاتا ہے کہ فلاں چیز حلال ہے یا حرام ، فلاں کام جائز ہے یا ناجائز ۔ یہ احکام از قسم غیب سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا کلی علم اپنے پیغمبروں کو عطا فرمادیا ۔ ہم دین کے کسی مسئلہ یا حکم کے متعلق نہیں کہہ سکتے کہ اس کا علم اللہ کے نبی کو نہیں دیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو شرعی احکام کا تفصیلی علم دے دیا ہے یا وہ اصول بتلا دیئے ہیں جن کی رو سے کو یء حکم نکالا جاسکتا ہے ۔ سور الجن میں بھی ہے علم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احد (a) الا من ارتضی من رسول (a) اللہ تعالیٰ کی ذات عالم الغیب ہے ، وہ کسی پر اپنا غیب ظاہر نہیں کرتا ، البتہ اپنے رسولوں میں سے جسے پسند کرتا ہے اسے بذریعہ وحی بتلا دیتا ہے ۔
جہاں تک اکوان یعنی اس کا ئنات میں واقع ہونے والے امور کا تعلق ہے تو یہ چیز یا تو مکان سے متعلق ہوتی ہیں یا ماضی ، احال یا مستقل سے ، ان کی جزیات کا بیشمار علم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو بھی دیا ہے اور بعض دوسرے لوگوں کو بھی ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) کو بعض اکوانی چیزوں کا علم دے دیا جو اپنے جلیل القدر پیغمبر اور صاحب تورات رسول موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی نہیں دیا ۔ البتہ شرعی احکام کا علم اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مکمل طور پر دیا جو حضرت خضر (علیہ السلام) کو نہیں دیا ۔ بہر حال اس آیت میں مذکورہ پانچوں چیزوں کا تعلق اکوان یعنی زمان ومکان سے ہے ، لہٰذا ان کا علم اللہ نے کسی کو نہیں دیا ۔
علم غیب پر اصولی بحث :
اہل بدعت اور شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر ، ولی اور امام بھی غیب جانتے ہیں ۔ اس ضمن میں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ حقیت میں غیب وہ
1 ؎ تفسیر عثمانی ص 835 (فیاض )
ہوتا ہے جو بغیر کسی ذریعہ کے خود بخود معلوم ہو ۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو جو بات بتلاتا ہے اس میں دق کا ذریعہ شامل ہوتا ہے ، اسی طرح اولیاء اللہ کو بھی بعض اوقات کشف یا خواب کے ذریعے کچھ بتلا دیا جاتا ہے ظاہر ہے کہ یہ علم بھی بغیر واسطہ کے تو نہیں ہوتا۔ اسی طرح جس بات کو عقل یا غور وفکر کے ذریعے معلوم کیا جائے وہ بھی غیب نہ رہا ۔ غیب وہی ہوگا جو بغیر کسی واسطے یا آئے یا حواس کے حاصل ہو اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے ۔ قل لا یعلم من فی السموات والارض الغیب الا اللہ (النہل ۔ 5 6 ) اے پیغمبر ﷺ ! آپ کہہ دیں کہ ارض وسما میں اللہ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا ۔ واللہ بکل شئی علیم (الحجرات 061 ) اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو جاننے والا ہے ۔ الا انہ بکل شئی محیط (061) اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو جاننے والا ہے لا انہ بکل شئی محیط (حم سجدۃ ) 045 ) ہر چیز کا احاطہ بھی خدا تعالیٰ ہی کرتا ہے ۔ غرضیکہ علم غیب حاصہ خداوندی ہے ۔ اس کا علم ذاتی ہے جب کہ باقی تمام مخلوق کو جو بھی علم دیا جاتا ہے وہ عطائی ہوتا ہے اور غیب کی تعریف میں نہیں آتا ۔ علیم وخبیر صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔