31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 31:20–24

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا ، تم نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے مسخر کیا ہے تمہارے لئے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور پوری کی ہیں اس نے تم پر اپنی ظاری اور باطنی نعمتیں ، اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کے بارے میں بغیر ہدایت اور روشن کتاب کے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم پیروی کریں گے اس چیز کی جس پر پایا ہم نے اپنے ابائو اجداد کو اگر چہ شیطان ان کو بلاتا ہے دوزخ کے عذاب کی طرف

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص نیکی کرنے والا ہو ، پس بیشک اس نے پکڑ لیا ہے مضبوط کڑا ۔ اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے انجام سب کاموں کا

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جس شخص نے کفر کیا ، پس نہ غم میں ڈالے تجھکو اُ س کا کفر ۔ ہماری طرف ہی ان کا لوٹ کر آنا ہے ، پس ہم ان کو بتلا دیں گے جو کچھ وہ عمل کرتے تھے ، بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے سینوں کے رازوں کو

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم فائدہ پہنچائیں گے ان کو تھوڑی مدت تک ، پھر ہم ان کو مجبور کریں گے سخت عذاب کی طرف

ربط آیات : گزشتہ رکوع میں حضرت لقمان (رح) کی کچھ نصیحتیں بیان ہوئیں جن میں سے اولین نصیحت توحید باری تعالیٰ پر استقامت کے متعلق تھی ، شرک کو ظلحہ عظیمہ قرار دیا گیا ، اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ، پھر والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا اور ساتھ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ وہ شرک پر آمادہ کریں تو ان کی بات نہ مانو ایسی صورت میں والدین کی نسبت اللہ کا حق مقدم ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے ، اس کے بعد محاسبہ ٔ اعمال اور اللہ تعالیٰ کی صفت علم ووسعت کا ذکر ہوا ۔ پھر نماز کی تاکید ہوئی اور ساتھ ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے سے یہ بھی کہا مصائب پر صبر کرنا ، غرور وتکبر سے بچنا اور زمین پر اتراتے ہوئے نہ چلنا ۔ اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرنا ، اور آواز کو بھی پست رکھنا ، یہ سب اخلاقی تعلیمات اور بیش قیمت نصیحتیں جو لقمان نے اپنے بیٹے کو کیں ۔ تسخیرارض وسما : جیسا کہ میں نے عرض کیا حضرت لقمان (رح) کی نصاح میں سرفرست توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کے متعلق نصیحت تھی ، اب اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کئے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے ، الم ترواے مخاطبین ! کیا تم نے نہیں دیکھا ؟ رویت دو قسم کی ہوتی ہے ، ایک بصری اور دوسری قلبی ، اس مقام پر رویت قلبی مراد ہے کہ کیا تم نے غور نہیں کیا ، یعنی اس چیز کو اپنے دل میں جگہ نہیں دی کہ ان اللہ سخر لکم مافی السموات ومافی الارض اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مسخر کردیا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ۔ تسخیر کا معنی کسی چیز کو تابع کردینا ہوتا ہے اور اس کی دو صورتیں ہیں یا کوئی چیز براہ راست کسی شخص کے قبضہ میں دے دی جاتی ہے کہ جس طرح چاہے اسے استعمال کرے یا اس سے کام لے ، جب جانور یا زمین یا کسی آدمی کے تصرف میں ہوتی ہے تو وہ زمین میں کاشتکاری کرتا ہے اور اس سے پھل اور اناج حاصل کرتا ہے یا اس پر تعمیر کرتا ہے ۔ ، اسی طرح جانوروں کو باربرداری یا کاشتکاری کے لئے استعمال کرتا ہے ، ان کا دودھ اور اون حاصل کرتا ہے اور بعض کو ذبح کر کے ان کا گوشت بھی استعمال کرتا ہے ، تسخیر کی دوسری صورت یہ ہے کہ کسی چیز کو براہ رکاست کسی فردواحد کے سپردتو نہیں کیا جاتا بلکہ اسے خاص ضابطے کے مطابق کام میں لگا دیا جاتا ہے جس سے انسان اور جانور مستفید ہوتے ہیں ۔ سورج ، چاند ستارے وغیرہ اسی قبیل سے ہیں جو اپنے اپنے مصر وکام میں لگے ہوئے ہیں اور لوگ ان سے گرمی ، روشنی ، ٹھنڈک اور تقویم وغیرہ فائدہ اٹھاتے ہیں ، تو گویا اسی چیزوں سے لوگوں کا مستفید ہونا ہی ان کے لئے تسخیر ہے ، اسی طرح انسان فضائوں ، ہوائوں اور یدگر جانداروں کی خدمت کے لئے کیا ہے ، سورة بقرہ میں ہے خلق لکم مافی الارض جمیعا (آیت ۔ 92 ) اللہ کی ذات وہ ہے جس نے زمین کی ہر چیز تمہارے فائدے کے لئے پیدا کی ہے ، تو جب تک قدرت کا یہ نظام شمسی قائم ہے لوگ اس سے استفادہ حاصل کرتے رہتے ہیں ، لہٰذا انسانوں کو بھی فرض ہے کہ وہ لوگ چیزوں کے خالق خداوند کریم کا شکر ادا کریں ، اس کی وحدانیت کو تسلیم کرلیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں ۔ فرمایا ایک تو تمہارے لئے آسمان و زمین کی چیزوں کو مسخر کردیا اور دوسرا حسان یہ کیا واسبع علیکم نعمعہ ظاہر ھرۃ وباطنۃ کہ اس نے تم پر تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں مکمل کردیں ، ظاہری نعمتوں سے وہ نعمتیں مراد ہیں ۔ جن کا ادراک انسان حواس سے کرتا ہے خ جیسے دیکھنا سننا ٹنولنا ، سونگھنا اور چکھنا وغیرہ ، یہ اللہ کے بہت بڑی انعام ہیں جن کی عام طور پر قدر نہیں کی جاتی ۔ ان حواص کی قدر اس وقت معلوم ہوتی ہے ۔ جب ان میں سے کوئی چیز سلب کرلی جائے ، غرضیکہ انسان کو اس دنیا میں میسر تمام مادی چیزیں اس کے لئے ظاہری نعمت ہیں ۔ اس میں مال و دولت ، مکان دکان ، کارخانہ زمین ، باغ ، زن و فرزند ، طرح طرح کے کھانے ، رنگ برنگا لباس اور استعمال کی تمام چیزیں شامل ہیں ۔ اُدھر باطنی نعمتیں وہ ہیں جن کا ادراک باطنی قویٰ یعنی دل و دماغ کے ذریعے غور وفکر سے کیا جاتا ہے ، ان میں ایمان ، ہدایت وحی الٰہی اور علم جیسی بیش قیمت نعمتیں ہیں جن کے بغیر انسان جانوروں سے بھی بدترین جاتا ہے ۔ اللہ نے ایسی ایسی کمال ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کی ہیں کہ انان کسی ایک نعمت کا بھی شکر یہ ادا نہیں کرسکتا مگر یہ اسکی بد قسمتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا ناشکر گزار بنتا ہے اور اس کی ذات ، صفات اور شان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کتا اور نہ ہی اس کی توحید کو مانتا ہے ، بہرحال اللہ نے واضح کردیا کہ میں نے تو انسان کو عطا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، اب انسان ان چیزوں سے کس حد تک فائدہ اٹھاتا ہے ، یہ اس کی اپنی مرضی پر موقوف ہے۔ دلائل توحید : ظاہری اور باطنی انعامات کا مقصد تو یہ تھا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل ہوجائے مگر صورت حال یہ ہے ومن الناس اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں من یجادل فی اللہ بغیر علم ولا ھدی ولا کتب منیر جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بغیر علم ، بغیر ہدایت اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں ، اللہ نے اس مقام پر ان تین چیزوں کا ذکر فرمایا ہے کہ لوگ توحید خداوند کا انکار کر کے شرک میں مبتلا ہوتے ہیں مگر ، علم ہدایت اور روشن کتاب میں سے اپنے حق میں کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے ۔ پہلی چیز علم ہے جس سے عقلی دلیل مراد ہے کہ کافر اور مشرک شرک کے حق میں کوئی عقل دلیل پیش کریں جس کی بنا پر وہ دوسروں کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ پچھلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات اور شرک کی تردیں میں بہت سے دلائل پیش کئے ہیں ، ان میں ارض وسماء کی تخلیق ، پہاڑوں کو گاڑھ دنیا ، آسمان کو بغیر ستون کے کھڑا کرنا ، جانوروں کو زمین ھ میں بکھیر دینا ، بارش اتار کر اس سے بارونق اور عمدہ قسم کے پھل ، پھول اور اناج پیدا کرنا شامل ہے ۔ یہ سب عقلی دلائل ہیں جن میں غور وفکر کر کے انسان توحید الٰہی کو سمجھ سکتا ہے مگر اس کے بر خلاف شرک کے حق میں کوئی بھی عقلی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی ۔ دوسری چیز کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ بغیر ہدایت کے اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں ، ہدایت سے مراد نقلی دلیل ہے جو انبیاء کی وساطت سے وحی الٰہی سے حاصل ہوتی ہے یا حکمائے رباتیین اور نیکی والے لوگوں صاحب فہم و فراست اور عقلمندی لوگوں سے حاصل ہوتی ہے ، انسا انیت کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ اللہ کے برگزیدہ نبیوں نے ہمیشہ توحید کی طرف دعوت دی اور شرک کی تردید کی ، لقمان (رح) جیسے دانش اور عقلمند لوگ بھی توحید ہی کا سبق پڑھاتے رہے ہیں ۔ ایسے لوگ ہر زمانے میں موجود رہے ہیں جو توحید کی دعوت دیتے رہے ہیں مگر آپ کو کوئی بھی دانشور ، عقلمند حکیم اور صاحب علم آدمی نہیں ملے گا جو شرک کی دعوت دیتا ہے ، تو معلوم ہوا کہ شرک کے حق میں نقلی دلیل بھی کوئی نہیں ہے ۔ تیسری چیز روشن کتاب ہے جس کے ذریعے کسی چیز کے حق میں یا اس کے خلاف دلیل پکڑی جاسکتی ہے اللہ تعالیٰ نے چار مستقل کتابیں اور بہت سے صیحفے اپنے انبیاء پر نازل فرمائے ہیں ، ان سب میں توحید کی دعوت سکو ٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اور جگہ جگہ شرک کی قباحت بیان کر کے اس سے منع کیا گیا ہے ، اس آخری کتاب قرآن پاک ہی کو لے لیں جس کا کوئی ورق ، کوئی سورة اور کوئی پارہ ایسا نہیں جس میں درس توحید نہ دیا گیا ہو اور شرک کی ترجیں کی گئی ہو یہی حال دوسری کتاب کا دیا اور صحائف کا ہے مگر پھر بھی لوگ شرک کی طرف مائل ہوجاتے ہیں حالانکہ ان کے پاس مذکورہ تین دلائل میں سے کوئی دلیل بھی نہیں ہے ، اس کے برخلاف خدا تعالیٰ کی توحید پر لاکھوں اور کروڑوں عقلی اور نقلی دلائل موجود ہیں کہ وہ وحدہ لاشریک ہے ۔ آبائو اجداد کی آندھی تقلید : اللہ نے ایسے ہی ہٹ دھرم لوگوں کے متعلق فرمایا واذ اقیل لھم تبعو ما انزل اللہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کو اتباع کرو جو اللہ نے نازل کی ہے یعنی اللہ نے کتاب ، دین ، ہدایت ، شریعت اور عام احکام نازل فرماتے ہیں ، ان پر عمل کرو قالو ابل تبع ما تو جدنا علیہ ابائو نا تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس چیز ک اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادکو پایا ، وحی الٰہی کو چھوڑ کر محض آبائو و اجداد کے طریقے پر چلنا ہی اندھی تقلید کہلاتی ہے ، ایسے لوگ نہ کسی نبی کو مانتے ہیں اور نہ کسی کتاب کو اور نہ کسی نیک شخص کے اتباع کی ضرورت محسوس کرتے ہیں بلکہ اپنے باپ دادا کے طریقے کو ہی اول وآخر سمجھ لیتے ہیں ، اور اس کے خلاف کوئی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ آبائو اجداد کی تقلید اس صورت میں تو جائز ہے کہ وہ اللہ کے نبی یا نیک صالح اور اللہ والے لوگ ہوں ، جیسے یوسف (علیہ السلام) نے قید خانے کے دور ان کہا تھا واتبعت ملۃ اباء ی ابراھیم واسحق ویعقوب ماکان لنا ان تشرک باللہ من شئی (یوسف ، 83 ) ۔ میں تو اپنے باپ دادا ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا اتباع کرتا ہوں اور ہمارے لئے یہ کسی طرح بھی مناسب نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں وہ تو اللہ کے نبی اور ہادی برحق تھے ۔ ایسے لوگوں کے نقش ِ قدم پر چلنا تو باعث فخر ہے ، یہ تو عین سعادت ہے ، لیکن اگر آبائو اجداد شرکیہ ، کفر یہ اور معصیت والے استے پر ہوں تو ان کا اتباع اندھی تقلید ہوگا ۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ ہم اپنے آبائو و اجداد کا اتباع کریں گے ۔ ولو کان الشیطن یدعوھم الی عذاب السحیر اگر چہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو ، تو کیا پھر بھی انہی کے نقش قدم پر چلو گے ؟ یہ تو بڑی بد بختی کی بات ہے ، سوۃ فاطر میں فرمایا کہ بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے اور اسے دشمن ہی سمجھو انما یدعوا حزبہ لیکو نو امن اصحب السعیر (آیت ۔ 6) وہ تو اپنے گروہ کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمع کر کے جہنم کے عذاب کی طرف لے جانا چاہتا ہے ۔ لہٰذا بغیر سوچے سمجھے آبائو اجداد کی تقلید نہ کسی عقلی دلیل سے ثابت ہے ، نہ نقلی دلیل سے اور نہ کسی کتاب سے سورة بقرہ میں فرمایا کیا تم پھر بھی آبائو اجداد کی تقلید کرو گے او لو کان ابائو ھم لا یعقلون شیئا ولا یھتدون (آیت : 071 ) ۔ اگر چہ تمہارے باپ دادا کچھ عقل نہ رکھتے ہوں اور نہ ہی وہ ہدایت کے راستے پر ہوں کافر ، مشرک اور باطل پرست لوگ ہمیشہ اپنے آبائو اجداد کی رسوم پر ہی چلتے رہتے ہیں ۔ مشرکین مکہ بھی کہتے تھے کہ قصی ابن کلاب جیسے بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں ، ہم ان کا طریقہ کیوں چھوڑیں ، یہ لوگ ہمارے سردار بڑی حیثیت کے مالک تھے ۔ ہم سب انہی کے متبع ہیں کیا وہ کوئی بیوقوف تھے تم بڑے مولوی آگئے ہو ہمیں ہمارے طریقے سے روکنے والے آج بھی مشرک اور بد عتی لوگ اپنے بڑوں کو بطور سند پیش کرتے ہیں کہ یہ کلام فلاں بزرگ کا ایجاد کردہ ہے ، کیا وہ کوئی کم عقل تھا ، اور پ ھر اس کے ماننے والے ہزاروں لاکھوں ہیں ، بھلا وہ کیسے غلط ہو سکتے ہیں ؟ یہی باطل دلیل ہے ، کوئی ملکی یا علاقائی رسم وردن ، یا برداری اور خاندان کا طریقہ اسناد نہیں بن سکتا ۔ لہٰذا شرک کے ارتکاب میں یہ کوئی دلیل نہیں ہے ۔ ایمان کا مضبوط کرنا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔ یادرکھو ! ومن یسلم وجھہ الی اللہ جس نے اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے تابع کردیا ۔ چہرے کا ذکر کے ذات مرد لی ہے کیونکہ چہرہ انسان کا معزز ترین عضو ہے ۔ حواس ظاہرہ اور باطنہ اسی سر اور چہرے میں ہیں ، چناچہ خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی کے اظہار کے لئے اسی حصہ جسم کو زمین پر رکھ کر سجدہ کیا جاتا ۔ اس میں موجود دماغ ہے ، جو قوائے باطنہ کا مرکز ہے اور انسان کی شکل و صورت بھی اسی حصہ ممتاز ہوتی ہے ۔ تو فرمایا جس نے اپنے چہرے یا ذات کو خدا کے تابع کردیا ۔ وھو مخس اور وہ شخص ہو بھی نیکی کرنے والا ، تو سمجھ لو فقد استمسک بالعروۃ الوثقی کہ اس نے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا ۔ یہ کڑا چھوٹ تو سکتا ہے مگر ٹوٹ نہیں سکتا ۔ حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں (رح) ں نے خواب دیکھا کہ وہ کسی اونچے ستون پر چڑھے ہیں اور کڑے کو ہاتھ میں تھام لیا ہے ۔ جب انہوں نے یہ واقعہ حضور ﷺ کو خدمت میں عرض کیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تم نے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا ہے ، تم اہل جنت میں سے ہو ، اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے ۔ ویو من باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی لا انفصا مر لھا (البقرہ۔ 652) جو شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اس نے گویا مضبوط کڑے کو پکڑ لیا جو ٹوٹے گا نہیں تو فرمایا کہ جس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تابع کردیا ، اور اس کام میں ابنیاء ہمیشہ پیش پیش ہوتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی آتا ہے ۔ اذقال لہ ربہ اسلم قال اسلمت لرب العلمین (البقرہ ۔ 131) جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) سے اطاعت کا مطالبہ کیا تو انہوں نے عرض کیا ، مولانا کریم ! میں ہمہ تن مطیع اور فرمانبردار ہوں ۔ تو جس کام کا حکم دے ۔ میں بسر وچشم تعمیل کے لئے تیار ہوں ، جب کوئی شخص اس حال میں اطاعت گزار بن جائے گا تو یقینا کا میاب ہوگا ۔ والی اللہ عاقبۃ الا مور اور سب کاموں کا انجام اللہ تعالیٰ ہی طرف ہے قیامت والے دن جب اللہ تعالیٰ نے حضور جناب کتاب کی منزل آئیگی ۔ تو ہر چھوٹا بڑا اور نیک وبد عمل حاضر کردیا جائیگا اور پھر انہی کے مطابق خدا تعالیٰ کی عدالت میں فیصلے ہوں گے ۔ کفر کا انجام : فرمایا ومن کفر اور جس شخص نے کفر کیا یعنی توحید کا انکار کیا ، رسالت اور کتب سماویہ کا انکار کیا اور روز جزا کو جھٹلا دیا ، تو اے نبی (علیہ السلام) فلا یحزنک کفرہ ایسے شخص کا کفر کرنا آپ کو زیادہ غم میں نہ ڈالے کیونکہ الینا مرجعھم ان سب کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ فننبھم بما عملو ا پس ہم ان کو بتلا دیں گے جو کچھ وہ کام کرتے تھے ، ان کی ساری کا رگزاری سے ہم واقف ہیں کیونکہ ان اللہ علیم بذات الصدور بیشک اللہ تعالیٰ سینوں کے راز بھی جانتا ہے ۔ جو خدا تعالیٰ پر آنے سے پہلے دل کی بات کو بھی جانتا ہے ۔ وہ لوگوں کے انجام دیے ہوئے کاموں سے کیسے غافل ہوگا ؟ وہ تمام مخفی چیزوں کو بھی جانتا ہے ، لہٰذا ہر شخص کے عقیدے اور عمل کے مطابق ہی جزا اور سزا کا فیصلہ کریگا ۔ مفسر قرآن مولانا شاہ اشراف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں 1 ؎ کہ دوسروں کو ہدایت پر لانے کے لئے ایک خاص حد تک کوشش کرنا ضرور ی ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی ایمان نہیں لاتا تو اس کے پیچھے زیادہ نہیں پڑنا چاہئے بلکہ اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہئے ۔ وہ خود ایسے شخص سے نپٹ لے گا ۔ یہاں یہ بات فرمانی ہے کہ جو لوگ سمجھانے کے باوجود حق کی طرف ہمیں نہیں آتے ، آپ ان کے بارے میں زیادہ فکر مند نہ ہوں کیونکہ نعتعھم قیلا ہم انہیں تھوڑا عرصہ کے لئے فائدہ پہنچائیں گے ۔ اس دنیا کی زندگی کے دس بیس ، بچ اس سو سال تک دنیا کی رنگینیوں سے مستفید ہولیں ، مال و دولت سے دل بہلا لیں ثم نصطرھم الی عذاب غلیظ ہم انہیں شدید عذاب کی طرف کشاں کشاں لے آئیں گے ، وہ ایسا سخت عذاب ہوگا ، جو ناقابل برداشت ہوگا ، مگر برداشت کرنا پڑے گا ۔ جس قسم کا جرم کیا ہوگا ، اسی مناسب سے سخت سے سخت عذاب میں قبلہ کیا جائے گا ، یہ دنیا کا مفاد تو بہر حال ختم ہونے والا ہے جو کہ بالکل ہی قلیل ہے ، مگر آخرت میں کفر کرنے والے کو شدید عذاب کا لقمہ بننا ہوگا ۔ 1 ؎ بیان القرآن ۔ (فیاض)
Ayahs 31:25–30

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر آپ ان لوگوں سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو تو البتہ ضرور کہیں گے یہ لوگ کہ اللہ نے ، آپ کہ دیجئے سب تعریف اللہ کے لئے ہے ، بلکہ اکثر ان میں سے علم نہیں رکھتے

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہی غنی اور تعریفوں والا ہے

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اور اگر ہوجائیں جو زمین میں درخت ہیں قلمیں ، اور سمندر انس کی سیاہی (ین جائیں) ۔ اس کے بعد سات مزید سمندر اس کی مدد کریں ، تو نہیں ختم ہوں گے ، اللہ تعالیٰ کے کلمات ، بیشک اللہ تعالیٰ کمالِ قدرت کا مالک اور حکمتوں ولا ہے

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

نہیں ہے تمہارا پیدا کرنا اور نہ تمہارا دوبارہ اٹھانا مگر ایک نفس کی طرح بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا ہے اور دیکھتا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

رات کو دن میں ، اور داخل کرتا ہے ، دن کو رات میں اور اس نے مسخر کیا ہے سورج اور چاند کو ، ہر ایک چلتا ہے ایک مقررہ وقت تک ، اور بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کام کرتے ہو اس کی خبر رکھنے والا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہی برحق ہے اور جس کو یہ لوگ پکارتے ہیں اس کے سوا ، دو باطل ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ ہی سب سے بلند اور بڑئی والا ہے

اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کی توحید اور ب عث بعد الموت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے ، چناچہ سورة کے آغاز میں قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت اور ا اس کے واحی الٰہیہونے کا بیان تھا۔ پھر حضرت لقمان (رح) کی بعض نصیحتوں کا ذکر ہوا جن میں سرفہرست شرک کی تردید ہے ، اس کے بعد توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے ، نیز یہ بھی کہ مشرکوں کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہے ، نہ کسی نبی یا بزرگ کا قول اور نہ کوئی روشن کتاب ہے جس سے وہ کفر یہ اور شرکیہ عقائد کو ثابت کرسکیں ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ذکر ہوا ،۔ اور یہ بھی کہ شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے ۔ اکثر لوگ اپنے ابائو اجداد کرلیتا ہے ، اور نیکی کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ گویا دین کے مضبوط کڑے کو پکڑ لیتا ہے اور نیکی کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ گویا دین کے مضبوط کڑے کو پکڑ لیتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ لوگوں کا کفرو رشرک میں مبتلا ہونا آپ کو زیادہ غم میں نہ ڈالے ۔ سب نے ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے ، ان کے تمام عقائد و اعمال اس کے علم میں ہیں ۔ فرمایا ہم تھوڑی مدت کے لئے ان کو دنیا میں فائدہ اٹھانے کی مہلت دیں گے ، اور پھر گھسیٹ کر دوزخ کے سخت عذاب کی طرف لے جائیں گے ۔ دلائل ِ توحید : اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے عقیدہ توحید کے اثبات اور شرک کی تردیں میں کچھ دلائل ذکر کئے ہیں ، اور اپنی بعض صفات کمال کو بیان کیا ہے ارشاد ہوتا ہے ۔ ولین سا لتھم من خلق السموات والارض اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے لیقولن اللہ تو یقینا کہیں گے کہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے ، یہ دلیل قرآن پاک میں بکثرت بیان کی گئی ہے کہ آپ کسی بھی مشرک سے ارض وسماء کی تخلیق کے متعلق سوال کر کے دیکھ لیں وہ اسے اللہ کی طرف منسوب کیے بغیر نہیں رہ سکے گا ۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت خلق سے اپنی الوہیت کو ثابت کیا ہے کہ معبود بھی وہی ہو سکتا ہے جو خالق ہے ۔ اور خالق نہیں ورہ معبود نہیں ہو سکتا ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں 1 ؎ کہ صرف دہریوں کی ایک قلیل سی تعداد ایسی ہے جو اللہ تعالیٰ کو خالق تسلیم نہیں کرتے بلکہ صرف مادیت پر تعین رکھتے ہیں ۔ ورگرنہ ہر مذہب وملت کے پیروکار خواہ وہ سچے ہیں یا جھوٹے اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کا انکار نہیں کرتے بلکہ یہود ، نصاری ہنود محوسی ، صابی وغیرہ سب اللہ ہی کو خالق تسلیم کرتے ہیں ، فرمایا اگر ایسی بات قل الحمد اللہ تو آپ کہہ دیں سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ۔ بل اکثر ھم لا یعلمون مگر ان میں سے اکثر لوگ بےعلم اور بےسمجھ ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں مگر اس کے باوجود اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہیں ۔ توحید کے چار درجے : امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ توحید کے چار درجے ہیں جن میں سے دو پر تو تمام مذاہب والے متفق ہیں اور باقی درجات میں اختلاف کر کے کافر اور مشرک بن جاتے ہیں ، توحید کا پہلا درجہ یہ ہے جن میں سے دو پر تو تمام مذاہب والے متفق ہیں اور باقی درجات میں اختلاف کر کے کافر اور مشرک بن جاتے ہیں ۔ تو حید کا پہلا درجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ واجب الوجود ہے یعنی وہ ایسی ذات ہے جس کا وجود خود بخو د ہے نہ کہ کسی کا عطا کردہ ۔ فرماتے ہیں واجب الوجود مستجمع الجمیع الصفات الکمال مبر من النقص والزوال وہ ایسی خود بخود ذات ہے ، جو جملہ صفات ِ کمال کی حامل اور ہر نقص اور زوال سے پاک ہے ، فارسی والے واجب الوجود کا ترجمہ خدا کرتے ہیں ، یعنی ایسی ہستی جو خود بخود ہے تو حید کے اس درجے پر تمام اہل مذاہب متفق ہیں ۔ سونے دہریوں کی ایک قلیل تعداد کے جو مادہ پرست ہیں ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ توحید کا دوسرا درجہ اللہ تعالیٰ کی صفت خلق ہے یعنی ہر چیز کا پیدا کرنے والا بھی خدا تعالیٰ ہی ہے اس درجے کو بھی ہر مسلک و مذہب 1 ؎ حجۃ اللہ البالغہ ص 96 ج 1 2 ؎ حجۃ اللہ البالغہ ص 95 ج 1 (فیاض) کے لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰٓ کے سوا خالق بھی کوئی نہیں ۔ غرضیکہ ان درجات میں سب کا اتفاق ہے ۔ توحید کا تیسرا درجہ اللہ کی صفات تدبیر ہے یعنی کائنات کی تدبیر بھی اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے ۔ اس درجہ میں اکثر لوگ اختلاف کر کے شرک کے مرتکب ہوجاتے ہیں مثلاً ستاروں کا علم جاننے والے نجومی ستاروں کو موثر مان کر ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں اور پھر ان کی عبادت بھی کرنے لگتے ہیں ۔ عیسائی لوگ مسیح (علیہ السلام) کو خدا کی صفات تدبیر میں شریک کرتے ہیں ۔ یہودی عزیر (علیہ السلام) کو اور بعض دوسرے لوگ کسی ولی ، بزرگ ، جن یا فرشتے کو اس صفت میں شریک کر کے مشرک بنتے ہیں ۔ البتہ اہل ایمان کا پختہ عقیدہ یہ ہے کہ جس طرح خدا کے سوا واجب الوجود اور خالق کوئی نہیں ۔ اسی طرح اس کے سوا مدبر بھی کوئی نہیں ۔ وہ ہر چیز کی تدبیر خود بلاواسطہ کرتا ہے اور اس نے یہ اختیار کسی دوسرے ہستی کو نہیں دیا ، غرضیکہ بہت سے لوگ تدبیروں میں آکر شرک کرنے لگتے ہیں ، اللہ نے اس کا ذکر قرآن میں بکثرت کیا ہے ۔ تو حید کا چوتھا درجہ عبادت کا ہے ۔ ایک مومن کا عقیدہ تو یہی ہوتا ہے کہ عبادت کے لائق صرف وہی ذات ہے جو واجب الوجود ، خالق اور مدبر ہے ۔ مگر بہت سے لوگ کسی نبی ، ولی ، بزرگ ، فرشتے یا جن کو بھی عبادت میں شریک کرتے ہیں ۔ اور بعض لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کی عبادت براہ راست درجہ قبولیت کو نہیں پہنچتی ۔ جب تک درمیان میں مقربین الٰہی کی عبادت نہ کریں ۔ ان کا یہ عقیدہ خود قرآن نے بیان کیا ہے ما نعبدھم الا یقر بونا الی اللہ زلفی (الزمر۔ 3) کہ ہم ان کی عبادت تقرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں ۔ یہ اللہ کے مقبول بندے ہیں ، ہماری عبادت ان کی عبادت کے ساتھ مل کر درجہ قبولیت کو پہنچتی ہے ، یا یہ کہ ان ہستیوں کو ہم اللہ کے ہاں سفارشی بناتے ہیں۔ اللہ نے اس عقیدے کی بھی قرآن میں جگہ جگہ تردید فرمائی ہے حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کی عبادت اللہ تعالیٰ براہ راست قبول کرتا ہے ، بشرطیکہ وہ صحیح طریقے پر کی گئی ہو ۔ درمیان میں کسی واسطہ کی ضرورت نہیں ہے عبادت کی قبولیت کے لئے واسطہ تلاش کرنا شرک ہے جو کہ ناقابل جرم ہے ، بہر حال اس چوتھے درجے میں قولی ، فعلی ، بدنی ، مالی اور نذر ونیاز کی صورت میں مختلف طریقوں سے غیر اللہ کی عبادت ہوتی ہے ۔ بعض اوقات نام لکھنے میں شرک کیا جاتا ہے یا پکار نے میں شرک ہوتا ہے یا قربانی میں یا تعویز گنڈے میں شرک پایا جاتا ہے ، بعض لوگ کھیت کی پیداوار میں غیر اللہ کی نذر مان کر شرک کے مرتکب ہوتے ہیں ، بعض جانوروں کے معاملہ میں اور بعض جنات اور ملائکہک سے استمداد کر کے مشرک بن جاتے ہیں ، شرک کی یہ تمام قسمیں سورة الانعام میں بیان کردی گئی ہے ۔ اللہ کی صفات کمال : ارشاد ہوتا ہے ۔ دیکھو ! اللہ مافی السموات والارض اللہ ہی کے لئے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ۔ ہر چیز اس کی پیدا کردہ ہے بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز اور تعریفوں والا ہے ، کوئی شخص اس کی تعریف کرے یا نہ کرے وہ بہر حال تمام تعریفوں کا مالک ہے ، اس کا کمال با لذات ہے ، نہ کہ کسی دوسرے سے حاصل کردہ ، وہ تمام عزتوں اور خوبیوں کا مالک ہے ، وہ بےنیاز ہے کہ وہ کسی کی پرواہ نہیں رکھتا ۔ جو کوئی اس کی ساتھ دوسروں کو شریک بنائے گا وہ خود نقصان اٹھائے گا ۔ آگے اللہ تعالیٰ کی صفت ِ کمال کا ذکر ہے ولو ان مافی الارض من شجرۃ اقلام اور اگر زمین کے تمام درخت قلمیں بن جائیں والبحر یمدہ اور سمندر اس کی سیاہی میں تبدیل ہوجائے ۔ من بعدہ سبعۃ البحر اس کے بعد مزید سات سمندر اس کی مدد کے لئے آجائیں ۔ اور انسان ، جن ، فرشتے ، غرضیکہ ساری صاحب شعور مخلوق ان قلموں اور سیاہی کے ساتھ لکھنا شروع کر دے ، تو تمام قلمیں ٹوٹ جائیں گے ، سیاہی ختم ہو جائیگی مگر مانفدت کلمات اللہ اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے ، سائنس دان کہتے ہیں ، کہ دنیا میں صرپودوں کی دس لاکھ سے زیادہ قسمیں ہیں اور درختوں کا تو شمار ہی نہیں ہے ، ذرا انداز لگائیں کہ تمام پودے اور رختوں کی قلمیں بنا لی جائیں اور تمام سندروں کے پانیوں کو سیاہی میں تبدل کردیا جائے اور خدا تعالیٰ کے کلمات لکھنا شروع کردیں تو یہ تمام چیزیں ختم ہو سکتی ہیں مگر بھی اللہ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے ، گویا اللہ تعالیٰ اتنے کمالات اور وسعت کا مالک ہے ۔ مفسرین 1 ؎ کرام (رح) کلمات الٰہیہ کی تفسیر دو طرح سے کرتے ہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی معلومات اس قدروسیع ہیں جو ختم نہیں ہو سکتیں ، اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کے کلمات اور اس کی خوبیوں کو لکھنے لگیں تو سات سمندروں کی سیاہی لکھتے لکھتے ختم ہوجائے گی ، مگر اللہ کی صفات ختم نہیں ہوں گے ، خود حضور علیہ لصلوٰۃ والسلام دعا کہا کرتے 2 تھے اللھم لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک اے اللہ ! میں تو تیری تعریف کو شمار نہیں کرسکتا یعنی کما حقہ تیری تعریف کر ہی نہیں سکتا ، تو ایسا ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ کی معلومات کی وسعت یا اس کی خوبیوں کا کون انداز لگاسکتا ہے ۔ ان اللہ عزیز حکیم بیشک اللہ تعالیٰ کمال ِ قدرت کا مالک اور حکمت کا مال ہے ۔ بعث بعد الموت : توحید اور صفت ِ کمال کے مسئلہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے بعث بعد الموت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ہے ارشاد ہوتا ہے ، دیکھو امام خلقکم والا بعثکم الا کنفس والحدۃ نہیں ہے تمہاری اولین تخلیق 1 ؎ روح المعافی ص 001 ج 1 2 و مدارک ص 4 82 ج 3 وصفوۃ التفا سیر ص 694 ج 2 2 ؎ (فیاض ) اور نہ تمہارا دوبارہ جی اٹھنا مگر ایک نفس کی طرح ، جس طرح اللہ تعالیٰ کسی ایک ذات کو آسانی کے ساتھ پیدا کرتا ہے ، پھر اس پر موت طاری کرتا ہے اور قیامت کو اے دوبارہ زندہ کر دے گا ، اسی طرح پوری مخلوق کے ساتھ بھی یہی مسلوک کرنا اس کے لئے کچھ مشکل نہیں ، اس کے لئے کوئی ایک فرد یا پوری جماعت یا قوم اور ساری کی ساری مخلوق یکساں ہے ۔ اسے پیدا کرنے ، موت دینے اور دوبارہ اٹھانے کے لئے کوئی مشقت برداشت نہیں کرنا پڑتی ۔ ان اللہ سمیع بصیر بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ سنتا اور سب کچھ دیکھتا ہے ۔ فرمایا اس قسم کے کمالات قدرت تم ہر روز مشاہدہ کرتے ہو الم تران اللہ یولج الیل فی النھمار وبولج النھار فی الیل کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے یعنی رات اور دن یکے بعد دیگرے آتے رہتے ہیں ۔ اس نے انسانوں کو مصلحت کے لئے شب روز کا نظام قائم کر رکھا ہے وسخر الشمس والقمر اور سورج اور چاند کو مسخر کررکھا ہے ۔ یعنی انہیں مسلسل ایک کام پر لگادیا ہے کل تجری الی اجل خمسمی ان میں سے ہر ایک ایک مقررہ وقت تک چل رہا ہے ۔ یعنی جب تک اللہ تاعلیٰ کو منظور ہے یہ نظام شمسی کام کرتا رہے گا اور اس سے شب وروز اور موسموں کے تغیرات وتبدل پیدا ہوتے رہیں گے ۔ پھر جب یہ مقررہ مدت پوری ہو جائیگی تو سارا نظام درہم برہم ہو کر نئے نظام کی آمد کا پیش خیمہ بنے گا ، مطلب یہ ہے کہ جس طرح لیل ونہار اور دشمن وقمر کا نظام چل رہا ہے اور پھر ا یک دن ختم ہوجائے گا اور نیا نظام قائم ہوگا ، اسی طرح انسان کو زندگی کا نظام بھی چل رہا ہے ۔ پھر ا یک وقت آئیگا کہ مجموعی طور پر سب پر موت طاری ہوجائیگی اور اس کے بعد سب کو دوبارہ زندہ کردیا جائے گا ۔ پھر حساب کتاب کے لئے نیا جہان قائم ہوگا اور جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے ۔ یادرکھو ! وان اللہ بما تعملون خبیر بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور وہ انہی کے مطابق تمہیں بدل دے گا ۔ فرمایا ذالک بان اللہ ھو الحق یہ سب کچھ اس لئے ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہی برحق ہے ۔ اس کی ہر بات مبنی بر حقیقت ہے اور اس کا ہر وعدہ سچا ہے وہ وحدہ لا شریک ہے ، وان ما ید عون من دونہ الباطل اور اس کے علاوہ جس کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ باطل ہے ۔ ہر ماسوی اللہ فانی ہے کوئی چیز قائم ودائم رہنے والی نہیں ۔ یہ لوگ جس نبی ، ولی ، بزرگ ، فجر ، حجر ، فرشتے یا جن کو حاجت روایا مشکل کشا سمجھتے ہیں ، سب فانی ہیں وان اللہ ھو العلی الکبیر اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بلند اور بڑائیوں کی مالک ہے ، لہٰذا عبادت بھی صرف اسی کی کرنی چاہئے کیونکہ اس کے علاوہ ہر چیز باطل ہے ۔
Ayahs 31:31–33

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بیشک کشتیاں چلتی ہیں سمندروں میں اللہ کے فضل سے تاکہ وہ دکھانے تمہیں اپنی قدرت کی نشانیوں میں سے ، بیشک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ہر صبر کرنے والے اور شکر ادا کرنے والے کے لئے

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب ڈھانپتی ہے ان کو موج سائبان کی طرح تو پکارتے ہیں اللہ تعالیٰ کو خالص اسی کے اطاعت گزار بن کر ۔ پھر جب وہ انکو نجات دیتا ہے خشکی کی طرف ، پس بعض ان میں سے درمیانی چال پر ہوتے ہیں اور نہیں انکار کرتا ہماری آیتوں کے ساتھ مگر ہر وہ شخص جو عہد شکن اور ناشکر گزار ہوتا ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ١٘ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْئًا١ؕ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 31:33 in the Quran reader

اے لوگو ! ڈور اپنے پروردگار سے اور ڈرو بیٹے کے لئے اور نہ کوئی بیٹا کفایت کرنے والا ہوگا اپنے باپ کے لئے کچھ بھی ۔ بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ بر حق ہے ، پس نہ دھوکے میں ڈالے تمہیں دنیا کی زندگی اور نہ دھوکے میں ڈالے تم کو اللہ کے ساتھ بڑا دھوکے باز

رابطہ آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان کئے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے پہلے تخلیق کا مسئلہ سمجھایا اور اس کو الوہیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ۔ جب خالق اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ، واجب الوجود اور مدبر بھی وہی ہے تو پھر عبادت بھی اسی کی ہونی چاہئے ، پھر اس میں دوسروں کو کیوں شریک بناتے ہو ۔ ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رات ، دن ، سورج اور چاند کے تغیرات کا سلسلہ بیان فرمایا کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے دست ِ قدرت میں ہیں ، خدا تعالیٰ کا علم اور قدرت لامحدود ہیں اس کی مثال اس طرح بیان کی گئی کہ اگر روئے زمین کے تمام درخت اور پودے قلمیں بن جائیں اور ہفت اقلیم کے سمندروں کے پانی سیاہی میں تبدیل ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق ان قلموں اور سیاہی کے ساتھ اس کی معلومات یا حمد وثنا کے کلمات لکھنے لگیں تو فرمایا کہ قلمیں گھس گھس کر ٹوٹ جائیں گے ، سیاہی کے تمام سمندر ختم ہوجائیں گے ، مگر اللہ تعالیٰ کی صفات ختم نہیں ہوں گی ، اس چیز کو سعدی صاحب (رح) نے بھی بیان کیا ہے ؎ دفتر تمام گشت وبہ پایاں رسید وعمر ماہم چناں در اوّل ِوصف ِ تو ماندہ ایم لکھتے لکھتے تمام دفتر ختم ہوجائیں گے ، مخلوق کی عمر بھی جواب دے جائیگی ، لیکن اللہ تعالیٰ کے کسی ایک وصف کا حق بھی ادا نہیں ہو سکے گا ، بہر حال فرمایا کہ اللہ کی ذات وصفات میں دوسروں کو شریک بنانا یا غیر اللہ کی عبادت کرنا باطل ہے ، ہر چیز فانی ہے ، حق اور ثابت صرف خدا کی ذات ہے اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے لحاظ سے بھی بلندو برتر ہے اور صفات کے اعتبار سے بھی کبیر اور عظیم ہے ، لہٰذا عبادت بھی صرف اسی کی ہونی چاہئے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنانا چاہئے ۔ کشتی رانی بطور نشانی : آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض صفات کمال کا ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کے روز مرہ مشاہدے میں آنے والے بعض حقائق کا ذکر کر کے انہیں توحید کے دلائل کے طور پر پیش کیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ الم تر ان الفلک تجری فی البحر بنعمت اللہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ بیشک سمندر میں کشتیاں محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے چلتی ہیں ۔ جغرافیہ والے کہتے ہیں کہ پورے کرہ ارض پر صرف ایک چوتھائی خشکی ہے جب کہ اس کے اردگرچودہ کروڑ مربع میل پر پانی ہی پانی ہے ، قدیم زمانے سے بحری راستوں کو ذریعہ سفر بنایا جاتا رہا ہے ۔ بڑے بڑے دریائوں میں بھی ایک مقام سے دوسرے مقام تک کا سفر کشتی کے ذریعہ ہوتا ہے ۔ اور آج بھی بعض دریائوں میں بڑے بڑے۔۔۔۔۔۔ چلتے ہیں جب کہ بین الاقوامی نقل وحمل کے لئے تو سمندر کو ہی ذریعہ سفر بنایا جاتارہا ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے زمانے میں یہ سفر بادبانی کشتیوں کے ذریعے ہوتا تھا جب کہ موجود زمانے میں لاکھوں ٹن وزنی جہاد ایجاد ہوچکے ہیں جو لمبے سفر ، تیزرفتاری اور زیادہ سے زیادہ بوجھ اٹھان کے لئے زیادہ کار آمد ثابت ہو رہے ہیں ، تیل سے چلنے والے بڑے بڑے جہا از اور ٹینکر لاکھوں ٹن سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں ، کئی کئی منزلہ مسافر براوار جہاز بھی ہیں مگر سمندروں کی وسعت کے پیش نظر ان کی حیثیت ایک تنکے سے زیادہ نہیں ، جب ہوائیں چلتی ہیں ، سمندروں میں طوفان برپا ہوتے ہیں تو بڑے بڑے جہاز بھی سمندری لہروں پر تنکوں کی طرح تھپڑے کھاتے کہتے ہیں اور بعض اوقات تمام تر انتظامات کے باوجود طوفانی لہروں کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور غرض ہوجاتے ہیں ۔ ابھی قریب زمانے میں ہندوستان کا جہاز ” وارا “ سمندر میں غرض ہوا تھا ، اس پر بارہ سو مسافر سوار تھے ، باہر طوفان تھا اور ادھر جہاز کے انجن میں دھماکہ ہوا ، پھر کیا تھا ، جہاز ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ڈوب گیا اور صرف دو اڑھائی سو آدمی بچائے جاسکے باقی سب لقمہ اجل بن گئے ۔ ابھی چند سال کی بات ہے کہ فیصل آباد سے ایک صاحب اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے گوجرانوالہ آئے اور کوئی مسئلہ دریافت کرنے کے لئے یہاں مسجد میں بھی پہنچ گئے ۔ انہوں نے خود اپنا واقعہ بیان کیا کہ وہ اٹلی کے ایک مال بردار جہاز پر ملازم تھے۔ اسی ہزار ٹن وزنی یہ جہاز پچھتر ہزارٹن لوہا لے کر اٹلی سے امریکہ جارہا تھا ۔ آٹھ دس عملے کے آدمی تھے جن میں دو مسلمان اور بقایا انگریز تھے ۔ جہاز شدید طوفان میں پھنس کر ڈوبنے لگا ۔ اس وقت اللہ کی رحمت کے سوا تمام وسائل ناکام ہوچکے تھے ۔ جب بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو انگریزوں میں سے بعض نے شراب پی کر سمندر میں چھلانگ لگا دی ، کہتے ہیں کہ ہم دو مسلمانوں نے اللہ پر بھروسہ کر کے ایک چھوٹی کشتی کو سمندر میں اتارنے میں کامیاب ہوگئے ۔ ہم سمندری لہروں کے تھپیڑے کھاتے رہے ۔ بھلا اتنے بڑے جہاز کے مقابلے میں چھوٹی سی کشتی کی کیا حیثیت تھی مگر ہم اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوئے تھے ۔ اتنے عرصہ میں باہر کی دنیا میں اس حادثے کی خبر پہنچ چکی تھی ، کسی ملک کے ہیلی کاپٹر نے ہمیں سمندر سے زندہ نکال لیا اور لے جاکر ہسپتال میں داخل کر ادیا ہفتہ عشرہ کے بعد ہمارے ہوش و حواس قائم ہوئے تو وطن آنے کی اجازت ملی مطلب یہ کہ سمندروں میں کشتیوں اور جہازوں کا چلنا محض اللہ کے فضل وکرم کا مرہون منت ہے ، وگرنہ وسیع و عریض سمندروں کی سطح پر ان کشتیوں اور جہازوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ، تو فرمایا کہ سمندروں میں چلنے والی کشتیاں اللہ کے فضل سے ہی رواں دواں ہوتی ہیں ۔ اور ان سے مقصود ہے ۔ لیربکم من ایتہ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائے کہ دیکھا اس نے تمہاری زیست کے کیا کیا سامان پیدا کر سکھے ہیں ، اگر نقل وحمل کی یہ سلسلہ نہ ہو تو مختلف خطوں کے لوگ سخت وقت محسوس کریں اور مختلف علاقوں کی پیداوار سے کما حصہ استفادہ نہ کرسکیں ۔ صبر وشکر کی منزل : فرمایا ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر اور شکر کرنے والے شخص کے لئے ، جو شخص مصائب ومشکلات میں صبر کا دامن تھامے رکھتا ہے اور نعمت ملنے پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے ۔ اس کی زمین زرخیز ہے اور اسکے لئے مشاہدات قدرت واضح نشانیاں ہیں ۔ صبر اور شکر بہت بڑے اصول ہیں ۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایمان کے دوحصے ہیں ، ایک صبر اور دوسرا شکر ، کوئی انسان دوحالتوں سے خالی نہیں ، یا تو اس پر تکلیف اور پریشانی کا دور ہوتا ہے اور یا آسودگی اور خوشحالی کا ۔ جب کسی مومن کو و پریشانی لاحق ہوتی ہے تو صبر کرتا ہے اور جب خوشحالی آتی ہے ۔ تو شکر ادا کرتا ہے ، صحیح معنوں میں مومن کہلانے کے حقدار یہی لوگ ہوتے ہیں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ مومن آدمی کی حالت بہت خوب ہے کہ جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور جب راحت ملتی ہے تو شکر کرتا ہے اس کے لئے دونوں حالتیں بہتر ہوتی ہیں ، تاہم عام لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ دنیا میں آکر کمایا کھایا اور چلتے بتے ، ایسے لوگ کسی خوبی کے مالک نہیں ہوتے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے بھی کہا تھا : ظفر ایس آدمی نہ جانئے گا ، گوہو کیسا ہی صاحب فہم ووزکاء جسے عیش میں یا د خدا نہ رہی ، جیسے طیش میں خوف خدا نہ رہا جس نے آسودگی میں شکر ِخدا ادا نہیں کیا اور غصے میں اس کے خوف سے عادی ہوگیا ، وہ انسان کہلانے کا حقدار ہی نہیں ۔ توحید کی دلیل : آگے اللہ نے ایک مثال کے ذریعے توحید پر عقل دلیل قائم کی ہے مشرکوں کی حالت یہ ہے واذا غشیھم موج کا لظلل جب ان کو سمندر کی موجیں بادلوں کے سائبان کی طرح ڈھاپ لیتی ہیں ، سمندر میں طوفان اٹھ رہا ہو ، کشتی ہچکو لے کھارہی ہو اور اوپر سے بادلوں نے سایہ تان رکھا ہو ، ایسی حالت میں ہر آن ڈوبنے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہو تو فرمایا دعواللہ مخلصین لہ الدین ا س وقت مشرک لوگ نہایت ہی اخلاص کے ساتھ خدا تعالیٰ کو پکارتے ہیں ، جب بچ جانے کے تمام ظاہری اسباب منقطع ہوجاتے ہیں ، کسی مادی امداد کی امید ختم ہوجاتی ہے تو پھر آخر کار ساری نظریں اللہ کی رحمت کی طرف لگ جاتی ہیں کہ اب اس کے سوا اس طوطان سے کوئی نہیں بچا سکتا ، وہی ذات سے جو ڈگمگاتی ہوئی کشتی کو کنارے تک لے جائے ، لہٰذا گڑا گڑا کر اسی سے مدد طلب کرتے ہیں ۔ فرمایا پھر جب اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کی نگاہ ڈالتا ہے فلما نجھم الی البر اور انہیں خشکی کی طرف نجات دیتا یعنی انکی کشتی ساحل تک پہنچ جاتی ہے اور وہ ڈوبنے سے بچ جاتے ہیں فمنھم مقتصد تو ان میں سے بعض میانہ روی پر رہتے ہیں ، یعنی اگر چہ ان میں مکمل خوف تو نہیں ہوتا ، پھر بھی خدا تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کا تصور دل میں ہوتا ہے ظاہر ہے کہ توحید کو ماننے والا میانہ روی پر ہوگا ۔ جب کہ کفر ، شرک کا مرتکب اور ناشکر گزارآدمی اعتدال سے باہرنکلنے والا ہوگا ۔ تو فرمایا کہ طوفان سے زندہ بچ رہنے والے بعض لوگ تو میانہ رو ہوتے ہیں وما یجحد با یتنا الا کل ختار کفور اور ہمارے آیتوں کا ہر وہ شخص انکار کرتا ہے جو عہد شکن اور ناشکر گزرا ہوتا ہے ۔ ختار کا معنی عہد توڑنے والا ہوا ہے ۔ جب طوفان میں پھنس گئے تھے تو اللہ تعالیٰ کی خالص اطاعت کا وعدہ کیا تھا ، مگر جب جان بچ گئی تو پھر وہی شرک ، معاصی اور رسم و رواج ۔ ابو جہل 1 ؎ کے بیٹے حضرت عکرمہ نصفتح مکہ کے موقع پر بھاگ گئے تھے ، جہاز پر سوار ہوگئے ، مگر وہ بھی بھنور میں پھنس گیا ۔ جب جہاز کو بچانے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں تو ملاح کہنے لگے کہ اب خدا تعالیٰ کے سوا ہمیں کوئی نہیں بچا سکتا ۔ لہٰذا اسی کے سامنے گڑا گڑا کر دعائیں کرو ۔ اس پر عکرمہ ؓ کے دماغ پر چوٹ لگی ، دل میں سوچا کہ آج تک تو ہم لات ، جنات اور غریٰ کو پکارتے ہے ، ان سے حاجت روانی اور مشکل کشانی کراتے رہے مگر آج جب حقیقی مشکل میں پھنس گئے تو ہمیں خدائے واحد کی طرف دعوت دی جارہی ہے ، چناچہ دل میں پختہ ارادہ کرلیا کہ اگر جان بچ گئی تو سیدھا حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا ، یہی سق تو وہ دیتے ہیں جو آج ہمیں مشکل کے وقت دیا جارہا ہے جو رب العلمین پانیوں میں بچا سکتا ہے ، وہ خشکی پر کیوں نہیں بچا سکتا ۔ چناچہ حضرت عکرمہ ؓ ایمان لائے اور بہترین مسلمان بنے ۔ سابقہ غلطیوں کی معافی مانگی ، اسلام کی بڑھ چڑھ کر خدمت کی ، پھر حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں ایک جہاد میں شہادت پائی۔ بہر حال کشتیوں کی مثال بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ توحید خداوندی کو تسلیم کریں ۔ اگر کسی کو وحدہ لا شریک مانیں اور تمام حاجات میں اسی کو پکاریں ۔ قیامت کا طوفان : جس طرح دنیا میں طوفان آتے ہیں تو ہر چیز درہم برہم ہوجاتی ہے جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے ۔ البتہ ان حادثات میں لوگ ایک دوسرے کی مدد بھی کرپاتے ہیں ، طوفان ، زلزلہ ، بادو باران میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس میں کسی حد تک کامیابی بھی ہوتی ہے ۔ مگر ایک سب سے بڑا طوفان بھی آنے والا ہے یعنی قیامت برپا ہونے والی 1 ؎ زادا لمسیر ص 823 ج 6 (فیاض) ہے ۔ یہ حادثہ اتنا شدید ہوگا کہ کوئی قریب ترین رشتہ دار اور یا ر دوست بھی ایک دوسرے کے کام نہیں آسکیں گے ، بلکہ ہر شخص کو اپنی پڑی ہوگی اور وہ دوسرے کا پر سان حال نہیں ہوگا ، اللہ نے اسی طامۃ الکربیٰ یعنی بڑے واقعہ کا ذکر فرمایا ہے یا یھا الناس اتقو ربکم اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے ڈر جائو ۔ واخشو یوما اور اس دن کا خوف کھائو لا یجزی والدعن ولدہ جن دن کوئی باپ اپنے بیٹے کے کسی کام نہیں آسکے گا ، اسی طرح ولا مولود ھو جاز عن والدہ شیئا اور نہ ہی کوئی بیٹا اپنے باپ کو کیفایت کرسکے گا ۔ مطلب یہ کہ اگر کہیں بیٹا پھنس گیا تو باپ نہیں چھڑا سکے گا اور باپ پھنس گیا تو بیٹا کسی کام نہ آئے گا ۔ اس وت صرف توحید ، ایمان اور نیکی ہی کام آئے گی ۔ اسی لئے فرمایا کہ اس دن سے ڈر جائو جب کوئی رشتہ دار ، کوئی برادری اور کوئی یار دوست کسی کی مدد نہیں کرسکے گا۔ سورة عبس میں فرمایا اس دن یہ حالت ہوگی یوم یفتر المرء من اخیہ (a) و امہ وابیہ (a) وصاحببۃ وبینہ (a) کہ آدمی اپنے بھائی ، ماں ، باپ ، نیوی اور بیٹے سے دور بھاگے گا اور کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ ایک موقعہ پر خود حضور ﷺ نے اپنے گھر والوں سے خصوصی خطاب فرمایا ۔ آپ نے اپنی پیاری بیٹی فاطمہ ؓ ، پھوپھی صفیہ ﷺ ؓ ، چچا عباس ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آخرت کی فکر کرلو ، میں دنیا کے مال کے ذریعے تو تمہاری مدد کرسکتا ہوں لیکن اگر توحید اور ایمان سے خالی ہوئے تو قیامت والے دن تم کو نہیں بچا سکوں گا ، لہٰذا تم خود اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچا نے کی کوشش کرو ۔ دنیا اور شیطان کا دھوکہ : ارشاد ہوتا ہے ان وعداللہ حق اللہ کا وعدہ بالکل سچا ہے قیامت ضرور برپا ہوگی ۔ حساب کتاب کی منزل آئیگی اور سب کو جزائے عمل سے دو چار ہونا پڑے گا ۔ فلا تغرنکم الحیوۃ الدنیا پس اے لوگو ! تمہیں کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے ، خبر دار رہنا دنیا کے عیش و عشرت مال ومتاع ، کھیل تماشے میں مشغول ہو کر خدا تعالیٰ سے غافل نہ ہوجانا ، یہ دنیا تو بالکل عارضی اور فانی ہے ۔ اس میں مبتلا ہو کر اپنی حقیقی منزل کر فراموش نہ کر بیٹھنا وگرنہ سخت نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ ولا یفتر نکم باللہ الغرور اور نہ ہی کوئی دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں ڈال دے۔ امام ابن 1 ؎ جریر ؓ فرماتے ہیں کہ لفظ غرور رغ کی پیش کے ساتھ امرائض چیز پر بولا جاتا ہے جو انسان کو دھوہ میں مبتلا کر دے ، خواہ وہ دنیا ہو ، کوئی انسان ہو ، جن یا شیطان ہو ، تاہم اس مقام بندہ غرور سے مراد شیطان ہے ۔ ، یعنی خبر دار رہنا کہ شیطان تمہیں بہکا کر دھوکہ میں ڈال دے ، شیطان سب سے بڑا فراڈ ہے وہ تمہیں ورغلا کر توحید خداوندی ، ایمان اور نیکی کے راستے سے ہٹا کر شرک اور کفر اور معصیت کے راستے پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے ، لہٰذا اس سے بچ کر رہنا ۔ تو فرمایا کہ دیکھنا دنیا کی رنگینیاں شیطان کا بہکاوا تمہیں دھوکے میں ڈال کر آخرت کی منزل سے غافل نہ کر دے لہٰذا خدا تعالیٰ سے ڈر و اور قیامت کی فکر کرو ۔ 1 ؎ طبری ص 68 ج 12 (فیاض )