Ayah 31:12ربط آیات :
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی صداقت وحقانیت اور توبہ کے عقلی ونقلی دلائل پیش کئے ، اب اس رکوع میں حضرت لقمان کی کچھ نصیحتیں بیان کی گئی ہیں جن میں سے اہم ترین نصیحت اللہ تعالیٰ کی توحید کو ماننا اور شرک سے نفرت کرنا ہے ، شرک اور کفر کی قباحت اس کے بعد کی آیات میں بھی آرہی ہے توحید کا اثبات اور شرک کی تردید ی گزشتہ اور آمدہ آیات میں ذریعہ ربط ہے ۔
حضرت لقمان کی شخصیت :
نزول قرآن کے زمانہ میں اگر چہ لقمان (رح) کی حکیمانہ باتیں اسرائیلیوں اور عربوں میں زبان زرد عام تھیں مگر آپکی شخصیت کے بارے میں مفسرین کرام میں بہت سا اختلاف پایا جاتا ہے ، حضرت لقمان کس زمانے میں اور کس مقام پر ہوئے ہیں ، نیز آپ غلامہ تھے یا آزاد ، مفسرین کی مختلف رائیں ہیں ، بعض کہتے ہیں 1 ؎ کہ آپ سوڈان کے شمالی علاقہ نوبہ کے کسی سیاہ فامہ حبشی آدمی کے غلام تھے ، جب کہ دوسرے ہمزیت کہتے ہیں 2 ؎ کہ
1 ؎ قرطبی ص 95 ج 41 دور منشور ص 062 ج 5 وطبری ص 76 ج 12 (فیاض )
آپ یمن کے رہنے والے آزاد آدمی تھے ، بعض کا خیال ہے کہ حضرت لقمان (رح) عادثانیہ میں سے تھے ، جب قوم عاد ہلاک ہوگئی تو حضرت ہو دعلیہ السلام پر ایمان لانے والے لوگوں سے چلنے والی نس عادثانیہ کہلائی ، آپ انہی لوگوں میں سے تھے ، بعض 1 ؎ کہتے ہیں کہ یہ حمیر قبیلے کے بادشاہوں میں سے ہوئے ہیں انہی بادشاہوں میں تبع نامی مشہور بادشاہ بھی گزرا ہے
2 ؎ بعض کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت لقمان (رح) شداد کے بھائی تھے ، شداد تو بڑا جابر اور مستبد شخص تھا ، تاہم اس کی ہلاکت کے بعد اقتدار لقمان (رح) کی طرف منتقل ہوگیا ذوالقرنین کی طرح آپ نہایت ہی صالح آدمی اور عادل بادشاہ تھے ۔
حضرت لقمان (رح) کے زمانے کے متعلق بھی قدرے اختلاف پایا جاتا ہے ، اگر آپ کو عادثانیہ سے تسلیم کیا جائے تو آپ کا زمانہ مسیح (علیہ السلام) سے تین ہزار سال قبل کا ہے ، اور آپ کو بنی اسرائیل کا فرد تصور کیا جائے تو آپ کا زمانہ حضرت دائود (علیہ السلام) کا زمانہ ہے ، اس دور میں حضرت 3 ؎ دائود (علیہ السلام) اور حضرت لقمان (رح) کی رفاقت کا ذکر بھی ملتا ہے بلکہ بعض کہتے ہیں کہ آپ اس زمانے میں قاضی تھے ، بہر حال یہ زمانہ بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) سے کم وبیش ایک ہزار سال قبل کا ہے ، حضرت لقمان (رح) بنی اسرائیل اور عربوں میں یکساں طور پر مشہور تھے ، بلکہ بنی اسرائیل کے پاس آپ کا ایک صحیفہ بھی تھا جس میں مندرج امثال لقمان (رح) کے نام سے مشہور ہیں ، اس صحیفہ کا نقول یورپ کے بعض کتاب خانوں میں اب بھی ملتی ہیں ۔
جمہور مفسرین فرماتے 4 ؎ ہیں کہ حضرت لقمان مومن ، نیک آدمی اور اللہ کے ولی تھے ، محمد بن اسحاق (رح) ، امام شافعی (رح) اور بعض دوسرے حضرات 4 ؎ آپ کو نبی بھی تسلیم کرتے ہیں مگر یہ بات درست نہیں بلکہ اکثروبیشتر مفسرین آپ کو صالح آدمی ہی مانتے ہیں ، البتہ آپ بہت بڑے حکیم ، دانشور اور معاملہ فہم آدمی تھے اور اسی بناء پر آپ مہذب دنیا میں مشہور تھے ۔
1 ؎ حقانی ص 84 ج 6 2 ؎ حقانی ص 84 ج 6 3 ؎ روح المعافی ص 28 ج 12 ومظہری ص 562 ج 5
3 ؎ روح المعافی ص 38 ج 12 و تفسیر الثعالبی ص 702 ج 3 4 ؎ معالم التنزیل ص 451 ج 3 (فیاض)
حکمت کا مفہوم :
ارشاد ہوتا ہے والقد اتینا لقمن الحکتہ اور البتہ تحقیق ہم نے حضرت لقمان (رح) کو حکمت عطا فرمائی ، حکمت کا لفظ قرآن وحدیث دونوں جگہ مذکور ہے سورة بقرہ ، سورة صف اور بعض دیگر سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضور بنی کریم (علیہ السلام) کے فرائض منصبی میں سے ایک یہ فرض بھی بیان کیا ہے ویعلھم الکتب والحکمۃ یعنی آپ لوگوں کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں ، اسی طرح سورة بقرہ میں ہے یو تی الحکمۃ من یشاء ومن یوت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیر ا (آیت ۔ 962 ) اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ۔ حکمت عطا کرتا ہے ، اور جسے حکمت عطا کی گئی اسے خیر کثیر سے نوازا گیا ، اسی طرح ترمذی شریف کی روایت 1 ؎ میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کلمۃ الحکمۃ ضالۃ المومن فحیث وجد ھا فھو احق بھا یعنی حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے ، جہاں بھی اسے پاتا ہے حاصل کرلیتا ہے ۔
ابن دریدار بعض 2 ؎ دیگر حضرات حکمت کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ ہر وہ بات جو تمہارے لئے نصیحت کا باعث ہو ، برائی اور قباحت سے روکے اور بندگی پر آمدہ کرے ، وہ حکمت ہے ، بعض مفسرین جن میں صاحب تفسیر مظہری 3 ؎ بھی شامل ہیں ، فرماتے ہیں کہ حکمت کا مفہوم یہ ہے کہ معرفۃ افضل الا شیاء بافضل العلوم یعنی افضل چیز کو افضل علم کے ساتھ جاننا حکمت کہلاتا ہے ظاہر ہے کہ افضل ترین چیز تو ذات خداوند اور اس کی صفات ہیں ، اور افضل علم علم حضوری ہے جو انسان کے قلب میں موجود ہو ، تو گویا علم حضوری کے ساتھ ذات وصفات خداوندی کو پہچاننا حکمت ہے ۔
1 ؎ ترمذی 2 ؎
3 ؎ مظہری ص 662 ج 7 (فیاض)
بہقی شریف 1 ؎ میں حضور ﷺ کا ارشاد موجود ہے راس الحکمۃ مخافۃ اللہ یعنی حکمت کی جڑ اور بنیاد اللہ تعالیٰ کا خوف ہے ، بہر حال عام فہم الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ دانائی ، عقل ، فہم فراست اور فرزانگی کا نام حکمت ہے ، حکم اور حکمت میں یہ فرق ہے کہ حکمت ہمیشہ درست بات کی طرف منسوب کی جاتی ہے جب کہ حکم میں غلطی کا امکان بھی ہوتا ہے جیسے مالکم کیفی تحکمون تمہیں کیا ہوگیا ہے کیسے غلط غلط فیصلے کرتے ہو ، تاہم حکمت ہر شخص کو نصیب نہیں ہوتی بلکہ جس پر اللہ مہر بانی کرے ، اس کو عطا فرماتا ہے ۔
حکمت کی ایک عام تعریف 2 اس طرح بھی کی جاتی ہے من اتقن العلم والعمل بقدر طاقتہ یعنی حکیم وہ شخص ہے جس نے اپنے علم اور عمل دونوں کو پختہ کرلیا ، دانشور وہی آدمی ہوگا جس کے علم کے ساتھ عمل بھی ہو ، وگرنہ بےعمل آدمی حکیم نہیں ہوسکتا ، بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت یعنی فہم و فراست ، دانائی اور عقلمندی حضرت لقمان (رح) کو وافر مقدار میں عطا فرمائی تھی ، جن کا ذکر تمام مفسرین ، مؤرخین اور دانشور کرتے ہیں ، ان کی عجیب و غریب مثالیں اور حکمت کی باتیں ان کے صحیفہ میں بھی موجود ہیں ۔
حضرت لقمان (رح) کی حکیمانہ باتیں :
اما م بیضادی 3 ؎ اور بعض دوسرے مفسرین 4 ؎ نے بھی اس کو نقل کیا ہے ، کہ ایک موقع پر حضرت دائود (علیہ السلام) نے حضرت لقمان (رح) سے کہا کہ بکری ذبح کر کے اس کے گوشت کا بہترین حصہ میرے پاس لائو آپ نے تعمیل حکم کی ، بکری ذبح کی اور اسکا دل اور زبان حضرت دائود (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کردیا ، کچھ وقفہ کے بعد حضرت دائود (علیہ السلام) نے پھر حکم دیا کہ بکری ذبح کرو اور اس کے گوشت کا بدترین حصہ میرے پاس لائو ، حضرت لقمان نے بکری ذبح کی اور دوسری دفعہ بھی دل اور زبان کا گوشت ہی پیش کیا ۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم نے
1 ؎ بہیقی 2 میبذی 3 ؎ وروح المعافی ص 38 ج 12 3 ؎ بیضاری ص 822 ج 2 4 ؎ مظہری ص 762 ج 7 ومعالم التنزل ص 551 ج 3 (فیاض )
بہترین اور بدترین چیزوں میں دل اور زبان کو ہی کیسے تسلیم کیا ، کہنے لگے ، صرف اگر انسان کا دل اور زبان درست ہے تو اس سے پاکیزہ چیز انسانی جسم میں اور کوئی نہیں ۔ اور اگر یہ دونوں خراب ہوجائیں تو پھر ان سے بڑی چیز بھی کوئی نہیں ۔ ظاہر ہے کہ اگر قلب میں نور یہ ایمان ہے ، تو حید اور نیکی کی باتیں اور زبان سے بھی اچھی باتیں ادا ہو رہی ہیں تو پھر ان دونوں سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور اگر دل میں کفر ، شرک کینہ ، بغض ، عنا اور نفاق ہے ، اور زبان سے فحش کلامی ہوتی ہے تو ان سے بڑھ کر بڑی چیز بھی کوئی نہیں ، غرضیکہ لقمان (رح) نے یہ نہایت ہی حکیمانہ بات کی ۔
مشہور 1 ؎ ہے کہ حضرت لقمان کسی لمبے سفر پر گئے ، جب کچھ عرصہ بعد واپس لوٹے تو راستے میں اپنا خادم مل گیا ۔ پوچھا میرا والد کا کیا حال ہے ؟ خادم نے کہا کہ تو فوت ہوچکے ہیں ، لقمان (رح) نے فرمایا ملکت امری اب میں اپنے معاملہ کا خود مالک بن گیا ہوں ، والد کی موجودگی میں ہر چیز کے وہی ذمہ دار تھے مگر اب یہ ذمہ داری مجھ پر آپڑی ہے۔ پھر آپ نے بیوی کا حال پوچھا تو خادم نے بتایا کہ وہ بھی فوت ہوچکی ہے کہنے لگے افسوس ! اب مجھے بستر تبدیل کرنا پڑیگا ۔ اس کے بعد بہن کے متعلق پوچھا تو وہی جواب ملا کہ وہ بھی فوت ہوگئی ہے ۔ حضرت لقمان (رح) نے کہا کہ سترت عورتی اب میری پردہ پوشی ہوگئی ، بہن کی وجہ سے بہت سی ذمہ داریاں تھیں ، اس کی وجہ سے میرا پردہ رہ گیا ، پھر آپ نے بھائی کا حال پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ بھی فوت ہوگئے ہیں ۔ حضرت لقمان (رح) کہنے لگے ، انقطع ظھری ، اب میری پشت ٹوٹ گئی ہے ۔ بھائی بھائی کا سارا ہوتا ہے ۔ ہر موقع پر المروباخیہ آدمی اپنے بھائی کے ساتھ ہوتا ہے۔ مشہور مقولہ ہے ۔
ہر کہ برادر ندارد
قوت بازو ندارد
1 ؎ درمنشور ص 561 ج 5 (فیاض)
جس کا بھائی نہیں ، اس میں قوت بازو نہیں ، جس طرح ماں کے بغیر شفقت اور باپ کے بغیر سرپرستی نہیں ہوتی ، اسی طرح بھائی کے بغیر قوت بازو نہیں ہوتی ۔
مولانا رومی (رح) نے یہ حکایت اپنی مثنوی 1 ؎ میں بیان کی ہے کہ حضرت لقمان (رح) غلام تھے آ پکے آقا نے بعض دوسرے غلاموں کے ہمراہ آپ کو اپنے باغ کی حفاظت پر مامور کیا ۔ اس دور ان باقی غلام تو باغ سے پھل توڑ توڑ کر کھاتے رہے مگر حضرت لقمان (رح) نے بالکل کچھ نہ کھایا کیونکہ وہ اسے امانت میں خیانت سمجھتے تھے ۔ ایک موقع پر آقا باغ میں آیا تو اسے پھل کا کچھ گرا بڑا حصہ ملا ۔ دریافت کرنے پر باقی غلاموں نے کہا کہ یہ پھل لقمان (رح) نے توڑ کر کھایا ہے ۔ جب آپ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے کہا ، اے آقا ! آپ ہم سب خادموں کو گرم پانی پلا کر دوڑنے کا حکم دیں تو آپ کا مسئلہ حل ہوجائے گا ، چناچہ ایسا ہی کیا گیا ،۔ سب نے قے کی جس سے کھاتے ہوئے پھل کی نشاندہی گئی ۔ صرف لقمان (رح) کی قے ایسی تھی جس میں سے پانی کے سوا کچھ برآمد نہ ہوا ، اور مالک کو پتہ چل گیا کہ سارے غلاموں میں سے صرف آپ ہی امانتدار ہیں ۔
مشہور ہے کہ لقمان نے کہا کہ میں نے بہت سے نبیوں کی زیارت کی ہے بنی اسرائیل کے دور میں انبیاء کثرت سے آتے تھے اور خود لقمان (رح) کی عمر بھی ایک ہزار سال تھی لہٰذا ان کی بہت سے انبیاء سے ملاقات بعید از قیاس نہیں ، فرماتے ہیں کہ ان انبیاء کے اقوال میں سے میں نے آٹھ باتوں کو خوب یاد کیا ہے ، اور وہ یہ ہیں ۔
(1) گر تم نماز کی حالت میں ہو تو دل کی حفاظت کرو ۔
(2) اگر کھانے پر بیٹھے ہو تو حلق کی حفاظت کرو اور ضرورت سے زیادہ نہ کھائو ۔
(3) اگر کسی غیر کے گھر میں جانا ہو تو آنکھوں کی حفاظت کرو ۔
(4) اگر لوگوں کے درمیان بیٹھے ہو تو زبان کی حفاظت کرو ۔
(5) ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد رکھو ۔
1 ؎ مثنوی ص (فیاض)
(6) ہر وقت موت کو یاد رکھو
(7) کسی اپنے یا غیر کے ساتھ احسان کرو تو بھول جائو ۔
(8) جو تیرے ساتھ برائی کا سلوک کرے ، اس کو بھی بھول جائو اور کسی کے سامنے تذکرہ نہ کرو ۔
کسی نے حضرت لقمان (رح) سے پوچھا حضرت ! آپ اس مرتبہ تک کیسے پہنچے کہ اللہ نے آپ کو بڑی فہم و فراست عطا کی ہے ، فرمایا
(1) اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے ۔
(2) امانت کی ادائیگی کی وجہ سے
(3) سچ بولنے سے
(4) لایعنی باتوں کے ترک سے
پھر کسی نے پوچھا ، لقمان (رح) ! تم فلاں خاندان کے غلام تھے ، تم میں فہم و فراست ، عقلمندی ، دانشوری اور فرزانگی کیسے آئی ؟ اس کو امام ابن اکثیر (رح) 1 ؎ نے بھی اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ حضرت لقمان (رح) نے فرمایا کہ مجھے یہ چیزیں اس وجہ سے حاصل ہوئی ہیں کہ میں نے :
(1) نگاہ کو ہمیشہ نیچا رکھا ہے ۔
(2) زبان کو فضول باتوں سے روکا ہے ۔
(3) خوراک کی صحیح بنایا ہے ۔
(4) اپنے ناموس کی حفاظت کی ہے ۔
(5) سچ بولا ہے ۔
(6) عہد کو پورا کیا ہے ۔
(7) مہمان کی عزت کی ہے۔
1 ؎ ابن کثیر ص 444 ج 3 (فیاض)
(8) پڑوسی کی حفاظت کی ہے ۔
(9) لا یعنی چیزوں کو ترک کیا ہے ۔
حضرت لقمان (رح) کا یہ قول بھی مشہور ہے ضرب الوالد کا السماد یعنی والد کا بچے کو تنبیہ کے لئے مارنا بچے کے لئے بمنزلہ کھاد کے ہے بچے کو سرزنش کرنا بری بات نہیں بلکہ اس کے حق میں اچھی ہوتی ہے ۔ 1 ؎ سعدی (رح) صاحب کا قول بھی ہے ” مہر پدر سے ضرب ِ استاد بہتر ہے ‘ ‘ ۔
استاد کی ماروالدین کی شفقت سے زیادہ اچھی ہوتی ہے ۔ آپ کا یہ قول 1 ؎ بھی ہے ایاک والدین فانہ نول النھار وھم الیل یعنی قرض سے بچوں کیونکہ یہ دن کی ذلت اور رات کی فکر مندی ہے ۔
ایک دفعہ 2 ؎ حضرت دائود (علیہ السلام) نے حضرت لقمان (رح) سے پوچھا کیف اصحبت یعنی آپ کا کیا حال ہے تو کہنے لگی اصحبت فی ید غیر ی میں اپنے آپ کو غیر کے ہاتھوں میں پاتا ہوں ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ غیر ہاتھ سے مراد دوست قدرت اور عدل ہے ، حفیظ جالندھری (رح) نے بھی کہا ہے ۔
؎ دیکھو اور گیانی دنیا سے فانی
آگ لگی ہے حسن میں
دل ہے پرانے بس میں
اسی طرح اگر کوئی امام مالک (رح) سے پوچھتا کیف اصحبت یعنی آپ کا یہ حال ہے ، تو جواب دیتے عمن ینقص وذونوب تزید یعنی عمر گھٹ رہی ہے ۔ اور گناہ بڑھ ہے ہیں ۔
حضرت لقمان (رح) سے بھی منقول 3 ؎ ہے کہ میں نے بہت سی کڑوی چیزوں کو چکھا ہے ۔ مگر فقر سے زیادہ کڑوی چیز کوئی نہیں پائی ۔ خود حضور ﷺ نے بھی
1 ؎ ورمنشور ص 561 ج 2 2 ؎ البحر المحیط ص 681 ج 7 و تفسیر حسینی ص 142 ج 2 3 ؎ درمنشور ص 561 ج 5 (فیاض)
فقہ سے پناہ مانگی ہے اللھم الی اعوذ بک من الفقر المدقع نے اللہ ! میں تیری ذات کے ساتھ مٹی میں ملا دینے والے فقر سے پناہ مانگتا ہوں۔
آپ کا یہ قول بھی ہے کہ دنیا میں اترے ہو تو اس کی طرف پشت اور آخرت کی طرف رخ کرلو جس دنیا کو تم فریب سمجھ رہے ہو وہ بہت بعید ہے اور جس آخرت کی طرف جا رہے ہو وہ حقیقت میں بہت قریب سے آپ سے یہ بھی مقول ہے کہ کھانا کھانے کے لئے پرہیز گاروں کو تلاش کرو اور مشورے کے لئے علماء کو تلاش کرو ۔ ترمذی 1 ؎ شریف میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی موجود ہے ، کہ محبت اور دعوت کا کھانا متقی آدمی کو کھلائو کیونکہ وہ کھانا کھا کر خدا کا شکر ادا کریگا عبادت کرے گا اور اس کا تمہیں بھی فائدہ ہوگا ۔ بر خلاف اس کے اگر فاسق فاجر کو کھلائو گے تو وہ نا شکری کرے گا ، گناہ کا مرتکب ہوگا اور اس میں تمہارا بھی حصہ ہوگا لقمان (رح) فرماتے ہیں کہ جنازے میں شریک ہو کہ اس سے آخرت یا د آئیگی ۔ نیز شادی میں جانے سے گریز کرو کہ اس سے دنیا یا د آتی ہے ، آپ نے یہ بھی فرمایا 2 ؎ لوگو ! اپنی زبان سے اللھم اغفرلی کہا کرو یعنی خدا تعالیٰ سے اپنی غلطیوں کی معافی طلب کیا کرو ۔ حدیث میں آنا ہے کہ خود حضور ﷺ ایک ایک مجلس میں ستر ستر مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے ۔
بیٹے کو نصیحتیں :
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو بہت سی نصیحتیں کیں جن میں سے بعض کا ذکر اگلی آیات میں آرہا ہے ۔ ان کے علاوہ بھی مفسرین اور مورخین بہت سے پندونصل 1 ؎ کا ذکر کرتے ہیں ۔ مثلاً آپ نے اپنے بیٹے سے کہا 3 ؎ یا بنی ان الدنیا بحو عمیق ھلک فیھا خلق کثیر اے بیٹے دنیا ایک گہرا سمندر ہے جس میں بہت سی مخلوق ہلاک ہوچکی ہے ، یاد رکھو ! اس سمندر کو بحاظت
1 ؎ ترمذی ص 2 ؎ درمنشور ص 561 ج 5 3 ؎ درمنشور ص 461 ج 5 (فیاض)
پار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا تمہارے لئے بمنزلہ کشتی کے ہے ، خدا کی ذات پر بھروسہ تمہارا بادبان ہے اور اس سفر میں تمہارا توشہ تقویٰ ہے ، پھر اگر تم اس سمندر کو عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے ، تو سمجھ لینا کہ اللہ کی رحمت سے بچ گئے اور اگر ہلاک ہو جائو تو اسے اپنے گناہوں کی شامت سمجھنا ۔
حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے سے یہ بھی فرمایا 1 ؎ کہ علماء اور حکماء کی مجلس میں ضرور بیٹھا کرو کیونکہ علم و حکمت کے ذریعے اللہ تعالیٰ مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے ۔ آپ کا یہ قول بھی مشہور 2 ؎ ہے کہ اے بیٹے ! میں نے بڑے بڑے پتھروں اور وزنی لوہے کو اٹھایا ہے فلم احمل شیئا اثقل من جارسوء مگر میں نے بڑے پڑوسی سے بوجھل کسی چیز کو نہیں اٹھایا ۔
شکر کا اصول :
ارشاد خداوندی ہے کہ ہم نے حضرت لقمان (رح) کو حکمت عطا کی ان اشکر اللہ کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فہم و فراست اور عقل و دانش جیسی بلندچیز عطا کی ہے ، اس انعام پر اس کا شکر ادا کرو اور یاد رکھو ۔ ومن یشکر فا نما یشکر لنفسہ جو کوئی شکر ادا کرتا ہے ، تو وہ اپنی ہی بھلائی کے لئے کرتا ہے ، خدا کی ذات وصفات میں شکر کرنے سے کچھ اضافہ نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لئن شکر تم لا زید نکم ولئن کفرتم ان عدایھا لشدید (ابراہیم 07) ۔ اگر انعام پاکر میرا شکر ادا کرو گے تو میں مزید نعمتیں عطا کروں گا اور اگر تم نے ناشکری کا اظہار کیا تو پھر یادرکھو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے ، مطلب یہ کہ شکر گزاری میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے ۔ دنیا میں اس کے انعام واکرام میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس کا اخلاق درست ہوتا ہے اور آخرت میں درجات بلند ہوتے ہیں ۔
1 ؎ درمنشور ص 461 ج 5 2 ؎ درمنشور ص 461 ج 5 (فیاض)
فرمایا ومن کفر فان اللہ غنی حمید اور جس شخص نے نا شکری کی ، تو اللہ تعالیٰ بےنیاز اور تعریفوں والا ہے ، کسی کی ناشکری سے خدا تعالیٰ کا تو کچھ نہیں بگڑے گا ، البتہ وہ خود ہی معقوب ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے ، اسے کسی کے شکر یا نا شکی کی کچھ پرواہ نہیں ، وہ ہر حالت میں تعریفوں والا ہے ۔ کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے ، وہ کمال صفات کا مالک ہے اور اس کی ذات ہر عیب اور نقص سے پاک ہے ۔
Ayahs 31:13–15ربط آیات :
گزشتہ آیات میں حضرت لقمان (رح) کی حکمت کا ذکر ہوا ، اور اس ضمن میں ان کا اجمالی تعارف بھی عرض کہہ دیا تھا ، حضرت لقمان اللہ کے نیک بندے اور دانشور تھے ۔ اللہ نے ان کو حکمت سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا آج کی آیات میں لقمان کی وہ حکیمانہ باتیں کی گئی ہیں جو انہوں نے اپنے بیٹے کو بطور نصیحت کی تھیں ، ان نصائح میں اولین نصیحت یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو اور یہی ان کے حکیم ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ انہوں نے شرک جیسے ظلم عظیم سے بیٹے کو منع فرمادیا ۔
شرک کی ممانعت :
ارشاد ہوتا ہے اس بات کو یاد کرو (واذا لقمن لا یتہ جب کہ کہا لقمان (رح) نے اپنے بیٹے سے وھو یعظہ اس حال میں کہ آپ اس کو نصیحت کر رہے تھے ۔ شاہ ولی اللہ محدث 1 ؎ دہلوی (رح) وعظ کا مطلب یہ بتلاتے ہیں قھو المدارک الظلمانیۃ بانوار المعارف القدسانیۃ یعنی ذہنی تاریخی و معرفت کے نور سے دور کرنا ، یہ مقصد ترغیب اور ترتیب کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے ۔ کبھی اچھی چیزوں کی طرف رغبت دلائی جاتی ہے ۔
1 ؎ الخیر الکثیر ص 67 (فیاض )
اور کبھی برے عقائد و اعمال کے انجام سے ڈرایا جاتا ہے ۔ بہرحال حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے کو اس طرح نصیحت فرمائی یبنی لا تشرک باللہ اے میرے بیٹے ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرنا ، مفسرین 1 ؎ کرام اس نصیحت کی بنیاد دو چیزوں کو قرار دیتے ہیں ، پہلی بات یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ان کا بیٹا واقعی شرک میں مبتلا ہو اور آپ اس سے ہٹانا چاہتے ہوں ، دوسری صورت میں یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بیٹا فی الوقت شرک میں ملوث نہ ہو مگر اس کی قباحت کے پیش نظر باپ اپنے بیٹے کے ساتھ نہایت ہی خیر خواہی کا برتائو کرتے ہوئے اسے آئندہ کے لئے بھی اس کے قریب جانے سے منع کررہا ہو ، ظاہر ہے کہ باپ کو اپنے بیٹے سے بےپناہ محبت ہوتی ہے اور اس محبت کا تقاضا ہے کہ اسے ہراس چیز سے دو رکھنے کی کوشش کرے جو اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہو۔ بہر حال آپ نے دوسرے لفظوں میں یہ نصیحت کی کہ بیٹا ! تو حید پر قائم رہنا ، ایسا نہ ہو کہ تمہارا پائوں پھسل کر شرک کی دلدل میں پھنس جائے اور یادرکھو ان الشرک لظلم عظیم بیشک شرک بہت بڑی بےانصافی کی چیز ہے ۔
ظلم کا لغوی معنی 3 ؎ ہے وضع الشئی فی غیر محلہ یعنی کسی چیز کو بےمحل رکھ دینا ۔ اس میں بڑے سے بڑے گناہ سے لیکر چھوٹے چھوٹے گناہوں اور لغزشوں تک آجاتے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ کفر ، شرک اور دیگر کبائر بھی ظلم کی تعریف میں آتے ہیں ۔ قتل اور زنا جیسے برے افعال بھی اسی میں آتے ہیں ، معمولی لغزشوں میں مثلاً یہ ہے ہ کوئی شخص جوتا پہن کر مسجد میں چلا جائے یا مسجد میں داخل ہوتے وقت بایاں پائوں پہلے اندررکھ دے تو بظاہر یہ معمولی خطائیں ہیں مگر ظلم کی تعریف میں یہ بھی آتی ہیں ، بہر حال جس طرح شرک جیسے کبیرہ گناہ کو ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس طرح کفر کے متعلق بھی
1 ؎ البحر المحیط ص 681 ج 7 2 ؎ تفسیر المراغی ص 18 ج 1 2 وصفوۃ التفا سیر ص 194 ج 2 (فیاض)
فرمایا ہے والکفرون ھم الظلمون (البقرہ ، 4 5 2 ) کا و ظالم لوگ ہیں ، غرضیکہ لقمان نے اپنے بیٹے کو شرک سے منع فرمایا کہ یہ بہت بڑا ظلم ہے ۔
شرک کی تعریف :
کفر اور شرک میں فرق ہے ، کفر یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کی توحید ، رسالت اس کے فرشتوں ، کتابوں یا قیامت کا سرے سے انکار ہی کر دے اور نفاق یہ ہے کہ انسان بظاہر تو اقرار کرتا ہو مگر دل میں انکار ہو ۔ اور شرک یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ذدات کا انکار تو نہیں کرتا مگر اس کی ذات ، صفات یا عبادت میں کسی غیر کو شریک بنالیتا ہے ۔ مثلاً مجوسی دو خدائوں کو مانتے ہیں ایک یزدان ہے اور دوسرا ابرمن ، ایک خیر کا خدا ہے اور دوسرا شر کا ۔ ایک خدا نور اور نیکی کو پیدا کرنے والا ہے ، اور دوسرا تاریخی اور برائی کو ، ہندوئوں میں سنا تن دھرمی فرقے کا عقیدہ ہے کہ خدا تین ہیں ایک پیدا کرنے والا ، دوسرا قائم رکھنے والا تیسرا فنا کرنے والا ، یہ بھی عیسائیوں کی طرح تثیث کے قائل ہیں ۔ پھر باپ بیٹا اور روح القدس تینوں کو الہ مانتے ہیں ، مجوسیوں کے دو خدائوں کی تردید اللہ نے سورة انعام کی ابتدائی آیت میں کردی ہے کہ سب تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا وجعل الظلمت والنور (آیت 02 ) اور جس نے تاریخی اور روشنی دونوں چیزوں کو پیدا کیا ۔ گویا ظلمت اور نور کا خالق ایک ہی خدا ہے ، دو علیحدہ علیحدہ نہیں ہیں ، وہی القیوم ہے جو ہر چیز کو تھا متا ہے ، اور وہی المعیت ہے جو ہر چیز کو فنا کرتا ہے لہٰذا یہود اور نصاریٰ کا تلیث والا عقیدہ بھی باطل ہے ۔ یہ اللہ کی ذات میں شراکت کی نفی ہوگئی۔
دوسری قسم کا شرک یہ ہے کہ کوئی شخص مخلوق میں سے کسی کو خدا تعالیٰ کی صفات محتصہ میں شریک ٹھہرانے مثلاً اللہ تعالیٰ کی صفت مختصہ ہے واللہ بکل شئی علیہ (الحجرات ۔ 61) ر چیز کو جاننے والا صرف خدا تعالیٰ ہے ۔ الا انہ بکل شئی محیط (حیم سجدہ 4 5 ) اور ہر چیز کا لفاطہ کرنے والا بھی وہی ہے ۔ اب اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ کے علاوہ مخلوق میں سے بھی کوئی بنی ، ولی ، فرشتہ یا جن ہر چیز کو جانتا ہے ، یا اس نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے تو ایسے شخص نے اللہ کی صفت میں غیر کو شریک کیا اور اس طرح شرک کا مرتکب بن گیا ، اسی طرح صفت خلق بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے جیسے فرمایا اللہ خالق کل شئی (الزمر۔ 3 6 1 ) ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہے ۔ اب اگر کوئی شخص مخلوق میں سے کسی کے متعلق عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ بھی پیدا کرسکتا ہے تو ایسا شخص مشرک ہوجائے گا ۔ کیونکہ اس نے صفت خلق میں اللہ کا شریک ٹھہرایا ۔ انتہائی درجے کی تعظیم قولی ، فعلی یا جسمانی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے کیونکہ معبود برحق اور انفع نقصان کا مالک صرف وہی ہے ۔ اب اگر اسی نظریہ کے ساتھ کسی غیر کی تعظیم کی جائے کہ وہ بھی نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے تو یہ بھی شرک ہے ، نذرونیاز صرف مالک اور خالق حقیقی کے لئے مخصوص ہے ۔ اگر غیر اللہ کے سامناے پیش کی تو شرک کا ارتکاب کیا ۔ غیر کا تقرب حاصل کرنے کے لئے جو نذرونیاز دی جاتی ہے )
تدبیر بھی اللہ کی صفت خاصہ ہے یہ بر الامرمن السماء الی الارض ٗ (الم سجدہ ۔ 5 ) آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر اللہ تعالیٰ کرتا ہے ۔ مدبر کا لفظ سورة النزعت میں فرشتوں کے لئے بھی استعمال ہوا ، جیسے فرمایا فالمدبرات امرا (آیت ۔ 5) ۔
یعنی وہ امور ِ دنیا کی تدبیر کرتے ہیں ، مگر وہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں ۔ اللہ نے دنیا کی جس ڈیوٹی پر لگا دیا ہے ، وہ اس کو انجام دیتے ہیں اور ازخود کوئی کام نہیں کرتے ، لہٰذا ان کی تدبیر بھی اللہ ہی کی تابیر کے تابع ہے ، غرضیکہ اللہ کے سوا کسی چیز کی تدبیر بھی کوئی نہیں کرسکتا ۔ اگر کوئی ایسا اعتقاد رکھے گا ۔ تو وہ مشرکوں کی صف میں کھڑا ہوجائے گا ۔
شرک کی بہت سی قسمیں ہیں اور اکثر وبیشتر لوگ کسی نہ کسی قسم میں ملوث ہوجاتے ہیں ، آ ج کل کے تعویذ گنڈے بھی اسی قبیل سے ہیں ۔ ایسے تعویزوں میں بسا اوقات غیر اللہ سے مد د طلب کی جاتی ہے کہیں یا جبرائیل اور میکائیل لکھا جاتا ہے تو کہیں خواجہ خطر کو پکارا جاتا ہے ، کہیں جنات سے مدد طلب کی جاتی ہے اور کہیں شیطان کا نام لکھ دیا جاتا ہے ، یہ شرکیہ باتیں ہیں ، بعض اوقات اگر مکان بنانا ہے تو اس کی بنیادوں میں جانور ذبح کیا جاتا ہے تاکہ جنات خوش ہوجائیں اور کوئی نقصان نہ پہنچائیں ۔ کلمہ گو مسلمان یا علی یا غوث یا پیر مدد وغیرہ تو گاڑیوں پر لکھ دیتے ہیں ۔ تاکہ (رح) گاڑی کو کوئی نقصان نہ پہنچے ۔ پھر عیسائیوں کی طرح صلیب لٹکانا ، یا ہندوئوں کی طرح زنا پٹنا ، ماتھے پر تلک لگانا ، عادت میں شرک ہوتا ہے ۔ غرضیکہ ہر وہ صفت جو اللہ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اگر اس میں غیروں کو شریک کرلیا تو شرک ہوگیا اور شر ک کے متعلق یہاں فرمایا کہ وہ ظلم عظیم ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مخلوق میں سے مافوق الا سباب کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا ، ساری مخلوق عاجز ہے افمن یخلق لمن لا یخلق (النمل ۔ 71 ) کیا پیدا کرنیوالا یعنی خالق اور پیدا کرنے والا یعنی مخلوق برابر ہو سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں ، ایسا خیال کرنا بڑی ہی بےانصافی کی بات ہے اور حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے کو یہی بات سمجھائی ۔
والدین کے حقوق :
ہاں تک تو حضرت لقمان (رح) کا کلام نقل کیا گیا ہے جو آپ نے اپنے بیٹے سے کیا اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے عام انسانوں کو خطاب کیا ہے ووصینا الانسان بوالہ یہ ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں تاکید حکم دیا ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں 1 ؎ ہ حضرت لقمان (رح) کے معا بد اللہ تعالیٰ کے خطاب کی دو وجوہات ہیں ، ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس سے یہ بات سمجھانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے …توحید کے بعد دنیا میں مخلوق کے حقوق کے ضمن میں والدین کا حق سب پر خالق ہے سورة بنی اسرائیل میں بھی گزر چکا ہے وقصی ربک الا تعبدو الا ابا ہ وبالوالدین احسانا (آیت ۔ 3 2) تیرے پروردگار کا فیصلہ ہے ، کہ
1 ؎ البحر المحیط ص 781 ج 7 (فیاض )
صرف اسی کی عبادت کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو دیکھ لیں ، یہاں بھی توحید باری تعالیٰ اور والدین کے حقوق کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے ، تو فرماتے ہیں کہ والدین سے نیک سلوک کا حکم حضرت لقمان (رح) بھی اپنے بیٹے کو دے سکتے تھے ، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ ایسا کہہ نے میں ذاتی غرض سامنے آتی تھی ، لہٰذا والدین سے حسن سلوک کا حکم خود اللہ تعالیٰ نے دیا ۔
شاہ عبد القادر 1 ؎ دہلوی (رح) نے اس مقام پر بڑا قیمتی نوٹ لکھا ہے کہ حضرت لقمان (رح) نے بیٹے کو باپ کا حق نہ بتلایا تھا کہ اپنی غرض معلوم ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کی نصیحت کے بعد اور دوسری نصیحتوں سے پہلے ماں باپ کا حق فرمادیا کہ اللہ کے حق کے بعد والدین کا حق ہے ، باپ نے بیٹے کو اللہ کا حق بتایا تو اللہ نے اس کو باپ کا حق بتلادیا ۔ باقی پیغمبر ، مرشد یا ہادی کا حق بھی اللہ کے ذیل میں سمجھو کہ وہ بھی اسی کے نائب ہوتے ہیں ۔ “
بہر حال باقی انسانوں میں سے ماں باپ کا حق سب پر مقدمہ ہے ۔ اس کے بعد دوسرے انسانوں کے حقوق آتے ہیں ، اسی لئے 2 ؎ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ میں کس کے ساتھ نیکی کروں ، تو آپ نے تین دفعہ ماں کا نام لیا اور چوتھی دفعہ باپ کا ذکر کیا۔ اس کے بعد باقی رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ۔ چناچہ جیسا کہ آیت کے اگلے حصے میں اشارہ ملتا ہے ماں کے حق کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔
ماں کا خصوصی حق :
فرمایا ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا تاکیدی حکم دیا اور خاص طور پر ماں کے ساتھ کیونکہ حملتہ امہ وھنا علی وھن اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرکے اس کو اٹھایا یعنی دوران حمل ماں نے سخت تکلف برداشت کی ، اور جب بچہ پیدا ہوگیا وفصلہ فی عامین اور اس کا
1 ؎ موضح القرآن ص 3 64 2 ؎ روح المعافی ص 68 ج 1 2 (فیاض )
دودھ چھڑانا دو سال میں ہوتا ہے ، یعنی ماں نے دو سال تک بچے کی اپنے دو دھ پر پرورش کی جو کہ اس کا بہت بڑا احسان ہے ، اسی لئے تاکید ہی حکم دیا ان اشکر لی کہ میرا شکر یہ ادا کرو ۔ کہ میں تمہارا حقیقی خالق ہوں ۔ ولوالہ یک اور اپنے والدین بھی شکر یہ ادا کرو کہ وہ تمہارے اس دنیا میں آنے کا ظاہری سبب بنے اور انہوں نے بچپن میں تمہاری پرورش کی ۔ الی المصین اور تمہیں میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ، میں تم سے پوچھ لوں گا کہ تم نے میری حکم کے مطابق عمل کیا ہے یا نہیں ، اللہ تعالیٰ کے اس تاکیدی حکم اور والدین سے حسن سلوک کا یہ تقاضا ہے کہ ان کی قولا اور فعلا خدمت کی جائے اگر وہ محتاج ہیں تو ان کی مالی خدمت کی جائے اور اگر غنی ہیں تو جسمانی طور پر خدمت کی جائے اور انہیں کسی بھی صورت میں تکلیف نہ پہنچائی جائے خاص طور پر جب وہ بوڑھے ہوجائیں تو اللہ کا فرمان ہے فلا تقل لھما اف ولا تنھر ھما وقل لھما قولا کریما (بنی اسرائیل ۔ 3 2 ) کہ انہیں اف تک نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو ، بلکہ ان کے ساتھ حسن کلام سے پیش آئو ۔ والدین و ذہنی جسمانی کسی طرح بھی تکلیف پہنچانا حرام ہے ۔
رضاعت کا مسئلہ :
اس آیت کریمہ میں رضاعت کا مسئلہ بھی بیان ہوا ہے کہ بچے کی دودھ چھڑانے کی مدت دو سال ہے ، امام ابو حنیف اس کو اڑھائی سال بیان کرتے ہیں تاہم جمبو کے نزدیک دو سال ہی ہے …………آیا ہے ولوالنت یرضعن اولادھن ……الرضاعۃ (آیت 0332) اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلاتیں اگر بچے کا والد رضاعت کی مدت پوری کرنا چاہے (سورۃ الا…) میں ہے وحملہ وفصلہ ثلثون شھرا (آیت 05 1 ) حمل اور دودھ چھڑانے کی کل مدت تیس ماہ ہے ۔ اس سے فقہاء کرام یہ مسئلہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ اگر کوئی بچہ دو سال کی عمر کے بعد کسی غیر ماں کا دودھ پئے گا تو وہ اس کا رضاعی بیٹا نہیں بنے گا ۔ کیونکہ دو سال کے بعد اس کی رضاعط ختم ہوچکی ہے ۔
پہلی آیت میں حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے کو شرک کی قباحت بیان کر کے اس سے منع کیا تھا ، پھر درمیان میں اللہ نے والدین سے متعلق حسن سلوک اور ان کی اطاعت گزاری اور خدمت گزاری کا حکم دیا ، مگر شرک کے متعلق فرمیا ا وان جاھدک علی ان تشرک بی مالیس لک بہ علم اگر تیرے والدین تجھے مجبور کریں کہ تم میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک بنائو جس کا تمہیں علم نہیں فلا تطعھما تو ان کی بات نہ مانو ۔
اس مقام پر اللہ نے صرف شرک کے معاملہ میں والدین کی اطاعت سے منع فرمایا ہے مگر صاحب تفسیر مظہر ی 1 ؎ اور بعض دوسرے مفسرین کرام 2 ؎ فرماتے ہیں کہ اگر والدین شریعت کے کسی بھی حکم کے خلاف مجبور کریں تو ان کی بات نہیں مانی جائیگی۔
مثلاً والدین مجبور کریں کہ کسی فرض ، سنت مؤکدہ یا واجب کو ترک کر دو توا ولاد کے لئے حکم ہے کہ وہ والدین کی بات نہ مانیں ، وہاں اگر کسی مباح عمل سے منع کریں ، مثلاً نفل پڑھنے کی بجائے اپنے پاس رہنے کا حکم دیں تو ایسی صورت میں نفل ترک کے لئے جاسکتے ہیں ۔ اور اگر وہ کہیں نماز با جماعت کے لئے مسجد میں نہ جائو یا غیر اللہ کی نذر ونیاز دو تو ان کا یہ حکم ماننے کی اجازت نہیں ہے ۔
والدین سے حسن سلوک :
فرمایا والدین کے غلط حکم کا انکار کر دو ، البتہ وصا حبھما فی الدنیا معروفا دنیا میں ان کے ساتھ دستور کے مطابق رفاقت اختیار کرو ۔ اگر والدین کا فر بھی ہوں تو پھر بھی دنیاو ی معاملات ، لین دین اور خدمت گذاری کے سلسلے میں ان سے اچھا سلوک کرو ۔ ہمارے بزرگوں میں سے حضرت مولانا عبد اللہ سندھی (رح) اس حکم کی زندہ مثال ہیں ۔ آپ کی والدہ آخر ی دم تک ہندومت پر قائم رہی ۔ اگر چہ آپ بڑی عمر کے ہوچکے تھے مگر والدہ آپ کرپٹ بھی لیتی تھی مگر آپ اُب تک نہیں کرتے تھے ۔ ایک دفعہ ماں نے ایک گائے کی فرمائش کی تاکہ وہ اپنے مذہب کے مطابق اسے دان (خیرات ) کرسکتے ۔ مولانا نے گائے خرید کردی اور ماں کو راضی
1 ؎ مظہری ص 962 ج 7 2 ؎ قرطبی ص 46 ج 41 (فیاض )
کیا ۔ اور غیر مذہب میں ہونے کے باوجود اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا ، پھر جب آپ ہجرت کر کے افغانستان چلے گئے تو ماں یہیں رہ گئیں ، یہ اسلام اور قرآن کی برکت تھی کہ مولانا نے غیر مسلم ماں کا بھی پوراپورا حق ادا کیا ۔
جب 1 ؎ حضرت سعد ؓ اسلام لائے تو ان کی والدہ سخت ناراض ہوگئی حتیٰ کہ اس نے قسم اٹھالی کہ جب تک سعد ؓ اسلام کو نہیں چھوڑے گا ، کھانا نہیں کھائوں گی ۔ آپ نے ماں کو زبردستی کھانا کھلانے کی کوشش بھی کی مگر پختہ ارادہ تھا کہ اگر وہ بھوک سے مر بھی جاتی ہے تو اسلام کو ترک نہیں کروں گا ۔ بالآخر ماں مجبور ہوگئی اور اس نے حضرت سعد ؓ کو دین سے بگانے کی کوشش ترک کردی ۔
خدائی راستے کا اتباع :
آگے اللہ نے فرمایا واتبع سبیل من اما ب الی اور اس کے راستے کی اتباع کرو جو میری طرف رجوع رکھتا ہے ، نافرمانوں ، کافروں ، مشرکوں اور بد عتیوں کا اتباع نہ کرو ، بلکہ ان لوگوں کے نقش قدم پر چلو جن کا عقیدہ اخلاق اور عمل مسیح ہے اور جن میں اطاعت اور نیکی کا عنصر پایا جاتا ہے ۔ اس آیت سے علمائے کرام اللہ کرام کی تقلید بھی ثابت کرتے ہیں ۔ امام ابوحنیفہ (رح) امام شافعی (رح) ………کا فتوی ماننا ہی تقلید کہلاتا ہے کیونکہ یہ نیکی اور اطاعت والے لوگ تھے ۔ بعض لوگ اس تقلید کو ہمراہ قرار دے کر اپنی طرف بلاتے ہیں مگر ان لوگوں میں تقویٰ اور سوجھ بوجھ کہاں جو امہ کرام میں پائی جاتی تھی ۔ امہ اربعہ ہ اتباع دنیا بھر میں کیا جاتا ہے ۔ یہ ہر لحاظ سے میعاری لوگ تھے ۔ صحابہ کرام ؓ کے بعد یہی لوگ کمال پر فائز ہوتے ہیں ۔ امام شافعی (رح) کی تقلید اس لئے کی جاتی ہے کہ آپ نہایت ہی ذہین اور سمجھدار تھے اور اسی طرح دوسرے علماء کرام بھی تھے ۔ ان کا اتباع اسی نقطہ نظر کے تحت کیا جاتا ہے کہ اصحاب امت کے دیگر لوگوں نے نیکی اور تقویٰ میں بڑھے ہوئے تھے اور اللہ نے انہیں غیر فہم و فراست سے نواز تھا ۔
1 ؎ درمنشور ص 561 ج 5 و تفسیر المراغی ص 3 8 ج 1 2 والبحر المحیط ص 781 ج 7 (فیاض )
فرمایا میری طرف رجوع رکھنے والے کا اتباع کرو ثم الی مرجعکم پھر تم سب نے میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے فا نبئکم بما کنتم تعملون پھر میں تمہیں بتادوں گا جو کچھ تم دنیا میں کام کرتے رہے ۔ قیامت والے دن تمہاری ساری کارگزاری تمہارے سامنے آجائے گی۔
Ayahs 31:16–19ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان کی بعض نصیحتوں کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کیں ، ان میں سب سے پہلے آپ نے شرک کی قباحت بیان کر کے اس سے منع فرمایا ، پھر اللہ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا تاہم اگر والدین کفر ، شرک یا کسی دیگر خلاف شرع کا م کا حکم دیں تو ان کی حکم عدولی کی اجازت دی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ دنیا میں ابن کے ساتھ دستور کے مطابق اچھا سلوک کرتے رہو ۔ اللہ نے ان لوگوں کی پیروی کا حکم دیا جو اس کی طرف رجوع رکھتے ہیں اور واضح کردیا کہ بالآخر تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ اور وہ تمہارے سارے اعمال تمہارے سارمنے رکھ دے گا ۔
اعمال کی پیشی :
گزشتہ درست میں پہلے حضرت لقمان (رح) کی نصیحت تھی ، پھر اللہ تعالیٰ نے والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا ۔ اب آج کے درس میں حضرت لقمان کی طرف سے بیٹے کے حق میں باقی نصیحتوں کا تذکررہ ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے یبنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خر دل اے میرے بیٹے ! اگر کوئی چیز (از قسم نیکی یا بدی ) ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ہو ، کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کی مثال دینی ہو تو ذرہ یارائی کے دانے کے ساتھ دی جاتی ہے کیونکہ یہ دونوں لکل چھوٹی چیزیں ہیں ۔ تو فرمایا کہ اگر کوئی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ہو فتکن فی صخرۃ اور وہ بھی کسی پتھر کے اندر اوفی السموات اوفی الارض یا وہ آسمان کے کسی کنارے پر زمین کے کسی گوشے میں ہو یات بھا اللہ اللہ تعالیٰ اسے لے آئے گا ، مطلب یہ ہے کہ قیامت کو جب محاسبہ ٔ اعمال کی منزل آئے گی تو اللہ تعالیٰ ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل کو جہاں کہیں بھی ہوگا اسے حاضر کر دے گا ، اور ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل نہیں کیوں کہ ان اللہ لطیف خبیر بیشک اللہ تعالیٰ بہت باریک بین اور ہر چیز باخبر ہے ۔
مسند احمد کی روایت 1 ؎ میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کسی انسان کا عمل اگر کسی مضبوط چٹان کے قلب میں ہوگا تو اللہ تعالیٰ اسے حاضر کر دیگا اور پھر جزائے عمل کے وقت اس کا شمار کیا جائے گا ، اس امر کی تصدیق بعض دوسری آیات قرآنی سے بھی ہوتی ہے سورة الزالزال میں ہے فمن یعمل مثقال ذرۃ خیر ا یرہ (a) ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ (a) اگر کسی شخص کی ذرہ برابر بھی نیکی یا بدی ہوگی تو محاسبہ اعمال کے وقت سامنے آجائے گی ۔ سورة الکہف میں بھی موجود ہے ووجدو ما عملو حاضر والا یظلم ربک احمد (آیت ، 094 ) ہر شخص اپنا عمال اپنے سامنے حاضر پائے گا ، ان کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک بدلہ دیا جائے گا ، اور کسی سے کوئی زیادتی نہیں ہوگی ، بہر حال حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے کو خبر دار کردیا کہ تمہارا ہر عمل اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہے اور وہ اس کے مطابق بدل دیگا ۔
اگر انسان کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ اس کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور مخلوق کی کوئی نیکی یا بدی اس مخفی نہیں ہے تو پھر انسان بہت سی نیکیاں اکٹھی کرنے کی کوشش کرے گا اور بہت سی برائیوں سے بچ جائیگا قرآن میں موجود ہے ۔ یوم تبلی الرائر ۔ (الطارق 09) اس دن تمام راز کھول دیئے جائیں گے اور کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہیگی ۔ اس وقت گنہگاروں کو بڑی ندامت اور پشیمانی ہوگی ، لہٰذا اس دنیا میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہئے ۔
نماز کی تاکید :
اس کے بعد حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو یہ نصیحت بھی کی یبنی اقم الصلوٰۃ سے بیٹے نماز کو قائم رکھو ۔ نماز ایک ایسی اعلیٰ ترین عبادت ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضور خاتم النبین ﷺ تک ہر شریعت میں لازم رہی ہے ۔ اور یہ اس قدر اہمیت کی حامل ہے کہ حشر 2 ؎ والے
1 ؎ مسند احمد ۔ 2 ؎ سنن روای ص 453 ج 1 وسنن نسائی ص 18 ج 1 (فیاض )
دن سب سے پہلے اسی کے متعلق سوال ہوگا ، کہ دنیا میں نماز قائم کی تھی یا نہیں فارسی شاعر 1 ؎ نے بھی کہا ہے ؎
روز محشر کہ جان گذار بود
اولیں پر سش نماز بود
نماز تقرب الی اللہ کا قوی ترین ذریعہ ہے ، یہ ایسی جامع العبادات ہے جس میں روح ، دماغ زبان اور دیگر اعضاء جو راح اللہ کی تعظیم میں مشغول ہوجاتے ہیں ، گویا ظاہر اور باطنی ہر دو ذرائع سے عبادت کا ذریعہ نماز ہے ، نماز میں جو مناجات اور دعائیں کی جاتی ہیں ان میں تمام نیک لوگ شامل ہوتے ہیں ، حضور ﷺ کا ارشاد 2 ؎ مبارک ہے کہ جب کوئی نمازی نماز میں اسلام علینا وعلی عبادللہ الصحلین پڑھتا ہے تو اس کا اثر ارض وسما میں ہر نیک بندے تک پہنچتا ہے ، نماز میں تمار اہل ایمان ، فرشتوں اور نیک جنات کا حق ہوتا ہے ۔ جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ تمام بندوں کا حق ضائع کرتا ہے ۔
نماز انفرادی عبادت بھی ہے اور اجتماعی بھی ۔ یہ انفرادی عبادت اس لئے ہے کہ اس ذریعے ہر نماز کی ذاتی اصلاح ہوتی ہے ۔ اور اجتماعی فریضہ اس لحاظ سے ہے کہ نماز کا قیام ہر اسلامی حکومت کے فرائض میں شامل ہے ۔ شا ہ والی اللہ (رح) اپنی کتاب ازالۃ الخفاء میں لکھتے ہیں 3 ؎ کہ ہر مسلمان خلیفہ پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ مساجد تعمیر کرے ، ان میں امام مقرر کرے اور نماز باجماعت اور جمعہ کا اہتمام کرے ، دینی تعلیم کا بندوبست کرے اور حصول انصاف کے لئے شرعی عدالتیں قائم کرے ۔ حدود کو قائم کرنا ، دین کی تبلیغ کا انتظام کرنا ، ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنا وغیرہ بھی فرائض خلافت میں شامل ہیں ۔ آج کل تو نظر یہ بد چکا ہے اور امور سلطنت اور امور دین کو الگ الگ چیز سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ سب ایک ہی چیز کے مختلف شعبے ہیں ، جس طرح دیگر امور سلطنت انجام دینا حکومت وقت کا فریض ہے اسی طرح نماز کا قیام بھی حکومت کے فرائض میں داخل ہے ۔
1 ؎ ناحق ص 2 2 ؎ 3 ؎ ازالۃ الخفا ص (فیاض ) ۔
موطا امام مالک 1 ؎ میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے تمام گورنروں کو سرکلر جاری کیا تھا ان من اھم امور کم عندی الصلوٰۃ بیشک میرے نزدیک تمہارے اہم ترین کا موں میں سے ایک کام نماز کو قائم ہے۔ تمہاری یہ ذمہ داری ہے کہ اس بات کا خیال رکھو کہ تمہاری عملداری میں کوئی مردو زن ہے نماز نہ ہو ، قرآن پاک میں نماز کی بڑی تاکید آئی ہے ۔ بتیس 2 3 مرتبہ نماز اور زکوٰۃ کا اکٹھا حکم دیا گیا ہے ۔ اقیمو الصلوٰۃ واتو الزکوۃ اسکے علاوہ تقریباً ایک سو نو 901 مرتبہ مراحت کے ساتھ نماز کا ذکر آیا ہے ۔
امر بامعروف اور نہی عن المنکر :
نماز کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے کو نصیحت بھی کی وامر بالمعروف وانہ عن المنکر بیٹے ! نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو ۔ قرآن پاک میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بار بار حکم دیا گیا ہے اور اس کے اولین مخاطبین تکام وقت ہیں ۔ ان کا فرض ہے کہ وہ برائی کو یزدر طاقت ختم کریں اور نیکی کو رائج کریں ۔ اس کے بعد عام مسلمین کو بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے گھر ، برادری خاندان یا اپنے خلقہ اثر میں نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں ۔ جو شخص کوئی برائی دیکھتا ہے اس کے لئے لازم ہے کہ اگر وہ طاقت رکھتا ہے تو اسے ہاتھ سے روکے اور نیکی کو رائج کرے ، اگر برائی کو طاقت سے نہیں روک سکتا تو زبان سے روکنے کی کوشش کرے ، اگر ایسا بھی نہیں کر پاتا تو پھر تیسرا درجہ یہ ہے کہ کم ازکم اس کو دل سے ہی برا جانے ، حضور علیہ لاسلام نے فرمایا 2 ؎ کہ اس کے بعد انسان کے دل میں رانی کے دائے کے برابر بھی ایمان نہیں رہتا ۔ امام غزالی (رح) فرماتے ہیں کہ زبان کے ذریعے امر بالمعروف اور نہی عن عن المنکر کا فریضہ ادا کرنا علماء کا کام ہے کہ وہ اپنی تحریروں اور تفریروں کے ذریعے
1 ؎ موطا امام مالک ص 5 2 ؎ (فیاض )
یہ کام سر انجام دیں ، اور عوام الناس کا فرض یہ ہے کہ وہ دل سے ہی نیکی کو اچھا اور برائی کو برا سمجھیں ۔
علمائے حق نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ہمیشہ ادا کیا ہے ۔ اور ا س سلسلہ میں بڑی بڑی تکالیف برداشت کی ہیں ۔ دنیا میں ایسے حکمران بھی گزرے ہیں کہ اگر کسی عالم نے یہ فریضہ ادا کیا تو حکم دیا کہ اسکے دانت اکھاڑ کر اس کے سر میں ٹھونک دو ، کتنے ہی اللہ ولاے گزرے ہیں جنہیں اس راستے میں جام شہادت نوش کرنا پڑا ۔ منکرات ہماری سوسائٹی کا جز و بن چکے ہیں جس میں برائی کو برائی سمجھا ہی نہیں جاتا ۔ آج فلم انڈسٹری کے خلاف آواز بلند کرو ، کون سنے گا ؟ عر یانی ، فحاشی ، عیاشی قمار بازی وغیرہ اپنے عروج پر ہیں مگر ان کی روکنے کی ہمت کس میں ہے ؟ یہ تو حکومت کا فرض ہے کہ وہ ان قبیح چیزوں کا قلع قمع کرے مگر وہاں بھی مصلحتیں آڑے آرہی ہیں ۔ بہر حال حضرت لقمان (رح) نے اپنے بیٹے کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی نصیحت بھی کی ۔
انہوں نے بیٹے سے یہ بھی کہا واصبر علی ما اصابکم بیٹا ! ہر پیش آمدۃ تکلیف پر صبر کرنا ، راہ حق میں لوگ تمہیں طعنے دیں گے ۔ ماریں پیٹیں گے ذہنی تکالیف دیں گے مگر تم صبر کا دامن نہ چھوڑنا ، دیکھو ! خود حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ نے دین کی راہ میں کس قدر تکالیف برداشت کیں مگر زبان پر حروف شکایت نہ آیا ۔ یہ بڑی کٹھن منزل ہے جس پر ثابت قدم رہنا اور حوصلہ نہ ہارنا ۔ لذ ذالک من عزمر الامور یہ سب پختہ باتوں میں سے ہیں عزم الامور کا معنی یہ ہے کہ دین میں یہ موکدہ چیزیں ہیں جن پر ستخی سے کار بند ہونا ضروری ہے ۔ اقامت صلوٰۃ ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور مصائب میں صبر کرنا تاکید احکام می (رح) ں شامل ہیں ، اس کا دوسرا معنی بھی ہو سکتا ہے کہ بیشک یہ چیزیں حوصلے کی باتوں میں سے ہیں۔ امر آدمی ان امور پر حاوی نہیں ہو سکتا ۔ ان کاموں میں وہی پورا اترتے ہیں جن کو اللہ توفیق دیتا ہے ۔
تعبیر کی ممانعت :
اس کے بعد بیٹے سے فرمایا والا تعبیر خدک للناس اور لوگوں کے سامنے اپنے گالوں کو مت پھلائو ، منہ پھلا پھلا کر باتیں کرنا غرور اور تکبر کی علامت سمجھا جاتا ہے جس سے منع کیا ہے ۔ دراصل صعر اونٹوں کی ایک بیماری کا مانہ ہے ۔ جس کے دوران اونٹ اپنی گردن کو اوپر کی طرف اٹھاتا ہے ۔ اس لفظ کو وبنیادی طور پر تکبر کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ مغرور آدمی عام طور پر اپنی گردن اونچی کر کے چلتا ہے ۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جس شخص نے اپنی گردن اونچی کی خدا اس کو ذلیل کرے گا راہ جس نے تواضع اختیار کی خدا اس کی عزت بخشے گا ،۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھا ۔ دوسرے کو حقیر سمجھنا اور حق بات کو ٹھکرادینا تکبر کی علامت ہیں ۔ ایک صحابی 1 ؎ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں غسل کرکے صاف ستھرے کپڑے پہنتا ہوں اور کبھی کبھی وہ لباس بھلے اچھا لگتا ہے ۔ دوسرے شخص نے کہا میں اچھی سواری استعمال کرتا ہوں ۔ اچھا لباس پہنتا ہوں ۔ تو کیا یہ چیزیں تکبر میں داخل ہیں ؟ فرمایا نہیں ، بلکہ یہ تو جمال ہے اور اللہ تعالیٰ کو پسند 2 ؎ ہے ۔ ان اللہ جمیل یحب الجمال وسکن الکبیر بطور الحق وغط الناس اللہ تعالیٰ خود خوبصورت ہے ۔ اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے ۔ البتہ تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر جانے ۔
چال میں میانہ روی :
فرمایا تکبر انہ طریقے سے اپنے گالوں نہ پھیلائو ولا تمش فی الارض مرحا اور زمین پر اتراتے ہوئے نہ چلو ، یہ بھی تکبر کی نشانی ہے اور یاد رکھو ان اللہ لایحب کل مختال فخور بیشک اللہ تعالیٰ ، فررڈ اور بڑائی اختیار کرنے والے آدمی کو پسند نہیں کرتا بلکہ اسے تو عاجزی اور انکساری پسند ہے۔
چنانچہ حضرت لقمان نے بیٹے کو یہ نصیحت بھی کی واقصہ فی مشیک اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو ۔ مغرور آدمی زمین پر اکڑاکر چلتا ہے اور پائوں اور دیگر
1 ؎ ابن کثیر ص 64 4 ج 3 2 ؎ (فیاض )
سے مارتا ہے مگر تم ایسا نہ کرنا کیونکہ یہ سخت ناپسندیدہ چیزا ہے ۔ خود 1 ؎ حضور ﷺ کی چال اگر چہ تیزہوتی تھی مگر آپ آگے کی طرف جھکے ہوئے نظر آتے تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کسی ڈھلوان سے اترر ہے ہیں ۔ آپ قدم کو گھسیٹ کر نہیں بلکہ اٹھا کر رکھتے تھے یہ آپ کی تواضح کی علامت تھی۔ طبیعت کے خلاف نہ بہت چیز چال چلتا اچھا ہے اور نہ بہت سست بلکہ میانہ روی ہی بہتر ہے ، خدا تعالیٰ کی عاجزی پسند ہے نہ کہ اکڑ ۔ ، سلک السلوک والے بزرگ لکھتے ہیں 2 ؎ حضرت علی ؓ رستہ پر چلتے ہوئے قدرے جھک کر جارہ تھے ، کسی نے دریافت کیا ، اے علی ؓ کیا تمہاری پشت پر کوئی بوجھ رکھا ہے جو اس قدر جھکے جا رہے ہو ؟ فرمایا ، میں جھک کر کیوں نہ چلوں کہ میری پشت پر اتنا بڑا بوجھ ہے جس کو اٹھانے سے زمین ، آسمان اور پہاڑوں نے بھی انکار کردیا ۔ مگر حملھا الا انسان (الاحزاب ۔ 2 7 ) اس بوجھ کو انسان نے اٹھالیا ، یہ انسانھ کے مکلف ہونے کا بوجھ تھا جو اس نے اٹھا لیا ۔ توحضر ت علی ؓ نے فرمایا کہ شریعت کے منشاء اور حضور ﷺ کی سنت کے مطابق جھک کر چلتا ہوں ۔
آواز کی پستی :
حضرت لقمان (رح) نے بیٹے کو چال میں میانہ روی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا واعضض من صوتک اسی آواز کو پست رکھا کرو ۔ آواز کو بلاضرورت بلند کرنا سخت ناپسندیدہ فعل ہے ۔ اللہ نے بطور تشبیہ فرمایا فرمایا ان انکو الاصوات لصوت الحمیر بیشک آوازوں میں سے قبیح ترین آواز گندھے کی ہے ، جو آدمیوں کے لئے سخت مکروہ ہوتی ہے ، حدیث 3 میں آتا ہے کہ جب مرغ فرشتے کو دیکھتا ہے تو آواز نکالتا ہے ، لہٰذا جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ کا فضل مانگو ، اور جب گدھا شیطان کو دیکھتا ہے تو سخت ناگوار آواز نکالتا ہے ، لہٰذا اسے وقت میں شیطان اور اس کے وساوس سے خدا کی ذات کے ساتھ پناہ پکڑا کرو ۔ غرضیکہ انسان کو بلاوجہ
1 ؎ روح المعافی ص 1 9 ج 1 2 2 ؎ سلک السلوک ص 3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 644 ج 3 و تفسیر ثعا لبی ص 902 ج 3 (فیاض )
آواز بلند کرنے سے احتراز کرنا چاہئے ۔
یہ تمام دینی اور اخلاقی نصیحتیں ہیں جو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو کیں مگر تمام بنی نوح انسان کے لئے یکساں طور پر کار آمد ہیں ، حضرت لقمان (رح) بڑے حکیم یعنی دانشور آدمی تھے اور دانا آدمی وہی ہوتا ہے جو توحید پر کار بند ہو ۔ اور شرک سے متنفر ہو ۔ ماں باپ کا خدمت گزار اور اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جانتا ہو دانا آدمی وہ ہے جو نماز پڑھتا ہو ، امر بالمعروف اور بنی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتا ہے ۔ مصائب پر صبر اور تکبر سے پرہیز کرتا ہے ، ایسا شخص زمین پر اترا کر نہیں چلتا اور اپنی آواز کو بھی پست رکھتا ہے یہ سب حکیمانہ باتیں ہیں جو سب کے لئے ضروری ہیں ، ان نصائح پر عملدرآمد کامیابی کی ضمانت ہے ۔