Ayahs 38:26–29ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے کفار کی طعن وتشنیع اور غلط بیانی پر حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو صبر کی تلقین کی ، پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا کہ وہ بھی ابتدا آپ کی طرح نادار ہی تھے کوئی جدی پشتی بادشاہ نہیں تھے نہ ان کے پاس مال و دولت تھا مگر اللہ نے انکو بےانتہا قوت عملی عطا فرمائی تھی ، انہوں نے سخت محنت اٹھائی اور جہاد میں کامیابی حاصل کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت اور خلافت دونوں چیزیں عطا فرمائیں ۔ فرمایا آپ مطمئن رہیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی وسیع سلطنت عطا کرے گا ،
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش کا تذکرہ کیا کچھ لوگ دیوار پھاند کر ان کے عبادت خانے میں داخل ہوگئے ، جس کی وجہ سے وہ گھبرا گئے اور عبادت خانے کا نظام درہم برہم ہوگیا ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو سجدہ ریز ہوگئے اور اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ کوتاہی معاف فرما دی اور بلند مرتبہ عطا فرمایا ، وہ اللہ کے ہاں اچھے ٹھکانے کے مکین ہیں ۔
(خلافت ارضی)
اب آج کی ابتدائی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی خلافت ارضی کا ذکر فرما کر ان کو اس کے اصولوں اور فرائض سے آگاہ کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یداؤد انا جعلنک خلیفۃ فی الارض “۔ اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے آپ کو زمین میں نیابت یا خلافت بخشی ہے بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ نے خلافت ارضی حضرت آدم (علیہ السلام) کے سپرد کی تھی جیسا فرمایا (آیت) ” واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ “۔ (البقرہ ، 30) جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں جو زمین پر میرا نظام جاری کرے ، توخلیفہ کا معنی نائب ہوتا ہے جو کسی دوسری اعلی ذات کی طرف سے کسی کام کو انجام دے اور پھر آدم (علیہ السلام) کی وساطت سے اللہ تعالیٰ نے خلافت کا یہ بار نسل انسانی میں منتقل کردیا ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے عام لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا بھلا کون پہنچتا ہے مضطرب کی پکار کو جب وہ اس کو پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو رفع کردیتا ہے (آیت) ” ویجعلکم خلفآء الارض (النمل : 62) اور تمہیں زمین میں نائب بناتا ہے ، ظاہر ہے کہ نسل اور خاندان کے اعتبار سے ہم اپنے آباؤ و اجداد کے نائب ہیں ، جب وہ نہیں رہے تو ان کی نیابت ہم انجام دے رہے ہیں ، اور جب ہم نہیں ہوں گے تو ہمارے جانشین آئندہ آنے والے لوگ ہوں گے اور کہیں خلافت ونیابت الہی سے مراد اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کو زمین میں نافذ کرنا ہے آدم (علیہ السلام) کی خلافت سے اللہ تعالیٰ کی یہی مراد ہے اور پھر نفاذ احکام الہی کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے نسلا بعد نسل آنے والے لوگوں پر ڈال دی ، اور فرمایا کہ ہم نے تمہیں زمین پر خلافت عطا کی ،
سورة نور میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ اور آپ کی امت سے وعدہ فرمایا تھا (آیت) ” لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم “۔ (آیت ، 55) میں انہیں زمین میں ایسی ہی خلافت بخشوں گا جیسی پہلے لوگوں کو عطا کی گئی پھر اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو مخاطب کرے ، وعدہ فرما کر ان کو بتلا دیا کہ خلافت ارضی کے حصول کے لیے بعض شرائط بھی پوری کرتا ہوں ، چناچہ ان شرائط میں ایک شرط ہجرت بھی تھی یعنی خلافت کا حقدار وہ ہوگا جو اپنا گھر بار اور وطن اللہ تعالیٰ کے دین پر قربان کر دیگا یہ شرط چاروں خلفائے راشدین میں پائی جاتی تھی ، لہذا خلافت کے اس وعدے کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کے ابتدائی دور میں پورا فرما دیا اور خلفائے راشدین کو بےمثال خلافت عطا فرمائی موسیٰ (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کے صاحب کتاب اور صاحب شریعت رسول تھے اور ساتھ ساتھ آپ خلیفہ فی الارض بھی تھے اسی طرح بعض دوسرے انبیاء اور لوگوں کو بھی نیابت عطا ہوئی جن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) اور آپ کے فرزند حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی شامل ہیں ۔
(فرائض خلافت (1) عادل)
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زمین میں خلافت عطا فرمائی تو اس کے ساتھ کچھ فرائض اور ذمہ داریاں بھی سپرد کیں ، چناچہ پہلی ذمہ داری یہ ڈالی (آیت) ” فاحکم بین الناس بالحق “۔ آپ لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے اسے اے پیغمبر ﷺ ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب نازل کی ہے (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس “۔ (النسائ : 105) تاکہ آپ لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کریں پھر اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کو عام لوگوں کے لیے بھی ضروری قرار دیا لوگو ! (آیت) ” اعدلوا ھو اقرب للتقوی “۔ (المآئدۃ ، 8) انصاف کرو کہ یہ چیز تقوی کے قریب تر ہے ، یہ تو محض ترغیب تھی آگے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “۔ (النحل ، 9) اللہ تعالیٰ عدل و انصاف اور نیکی کا حکم دیتا ہے حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے ” مامن عبد یستمر عیہ اللہ رعیۃ یموت یوم یموت وھو غاش لرعیتہ الا حرم اللہ علیہ الجنۃ “َ جس بندے کو اللہ تعالیٰ رعیت کا راعی ، حاکم ، امیر یا خلیفہ بنا دے اور پھر وہ رعیت کے حکم میں خیرخواہی نہ کرے ، تو فرمایا ایسا شخص جہنم کا سزاوار ہوگا ، اللہ تعالیٰ رعیت کے لوگوں کو تو ایمان اور سلامتی کے ساتھ جنت میں پہنچا دے گا مگر ظالم اور غیر عادل حکمرانوں کو جہنم میں داخل کیے بغیر نہیں چھوڑے گا ، خلافت ایک امانت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے سپرد کی ہے اور یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برآ ہونا ضروری ہے ۔
(2) خواہش کا عدم اتباع)
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) سے فرمایا کہ خلافت کی پہلی ذمہ داری تو یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان عدل کرو اور دوسری یہ (آیت) ” ولا تتبع الھوی “۔ اور آپ خواہش کی پیروی نہ کریں اگر ایسا کیا (آیت) ” فیضلک عن سبیل اللہ “ تو یہ چیز آپ کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے بہکا دی گی گمراہی کے اسباب میں سے خواہش کی پیروی بھی ایک سبب ہے اور یہ بہت بری خصلت ہے کہ حق و انصاف پر مبنی فیصلہ کرنے کی بجائے کوئی شخص اپنی مرضی چلائے اتباع ہوی اس مہلک بیماری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” افرء یت من اتخذ الہہ ھوہ “۔ (الجاثیہ ۔ 23) کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے خواہش کو ہی معبود بنا لیا ہے اس کی ڈور خواہش کے ہاتھ میں ہے وہ جدھر چاہتی ہے آدمی کو لے جاتی ہے اور انسان عدل و انصاف کو یکسر فراموش کردیتا ہے ، حدیث شریف سے یہ مفہوم بھی اخذ ہوتا ہے کہ جس چیزوں کی دنیا میں پوجا کی جاتی ہے ان میں سب سے خطرناک چیز انسان کی خواہش ہوتی ہے گویا حق کے راستے میں ایک رکاوٹ تو خواہش ہے اور دوسری رشوت ہے ، یہ بھی مہلک بیماری ہے جس کو لگ جائے جہنم میں پہنچائے بغیر نہیں چھوڑتی ، فرمایا تیسری چیز جہالت ہے کہ انسان حقیقت حال معلوم کیے بغیر لاعلمی میں ہی کوئی فیصلہ کر دے ان تینوں قسم کے لوگوں کو حضور ﷺ نے جہنم کی وعید سنائی ہے ۔
(خلیفہ ولید کے سامنے حق گوئی)
مروان کے چاروں بیٹے اور آگے ان کی اولاد خاندان بنو امیہ کے خلیفہ گزرے ہیں کسی نے ولید ابن عبدالملک خلیفہ وقت پر نکتہ چینی کی ، ظاہر ہے کہ وہ بھی کوئی بڑا آدمی ہوگا ، وگرنہ معمولی آدمی تو خلیفہ کے متعلق ایسی بات نہیں کرسکتا اس شخص کی تنقید سن کر خلیفہ نے کہا کیا خلفاء کے متعلق بھی ایسی بات کی جاسکتی ہے ؟ میں چھتیس لاکھ مربع میل جیسی وسیع سلطنت کا خلیفہ ہوں اور تم مجھ سے ایسی بات کرتے ہو ، وہ شخص صاحب علم تھا کہنے لگا امیر المؤمنین ! یہ بتائیں کہ آپ کی حیثیت زیادہ ہے یا حضرت داؤد (علیہ السلام) کی جو منصب خلافت پر متمکن ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ کے صاحب کتاب اور صاحب شریعت نبی اور رسول بھی تھے ، ان کو اللہ نے یہی حکم دیا تھا ۔ (آیت) ” فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی “ یعنی لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا اور خواہشات کی پیروی نہ کرنا داؤد (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ کے معصوم نبی تھے پھر بھی آپ کو یہ حکم دیا گیا تھا ، تو آپ اپنے آپ کو کیا حیثیت دیتے ہیں جب کہ آپ صرف خلیفہ ہیں اور آپ کو نہ نبوت عطا کی گئی ہے نہ کتاب اور نہ شریعت ، مزید برآں داؤد (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے براہ راست خلافت عطا فرمائی تھی (آیت) ” یدؤد انا جعلنک خلیفۃ فی الارض “۔ اے داؤد (علیہ السلام) ہم نے آپ کو زمین میں خلافت عطا کی ہے جب کہ آپ تو نسلی طور پر خلیفہ ہیں بات درست تھی لہذا ولید کوئی جواب نہ دے سکا ۔
(حکام کے لیے وعید)
آگے اللہ تعالیٰ نے خلفاء حکام ، قاضیوں اور ججوں کو وعید بھی سنائی ہے (آیت) ” ان الذین یضلون عن سبیل اللہ “۔ جو شخص لوگ خواہش کا اتباع کرکے اللہ کے راستے سے بہک جاتے ہیں اور عدل و انصاف کا دامن چھوڑ بیٹھتے ہیں (آیت) ” لھم عذاب شدید “۔ ان کے لیے سخت عذاب ہوگا ، اس کی وجہ یہ ہے (آیت) ” بما نسوا یوم الحساب “۔ کہ انہوں نے حساب کے دن یعنی محاسبہ اعمال کو بھلا دیا ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعید کسی خاص خلیفہ ، خاص قوم یا خاص زمانے کے لیے نہیں بلکہ یہ وعید ہر زمان ومکان کے خلفاء ، حاکموں ، ججوں ، قاضیوں اور صاحب اقتدار لوگوں پر یکساں طور پر لوگو ہے جو بھی اللہ تعالیٰ کی وعید کی زد میں آئے گا ، عذاب شدید کا مستوجب ہوگا ، جج ایک بااختیار حاکم ہوتا ہے جو دائرہ قانون میں رہتے ہوئے اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرنے کا مجاز ہوتا ہے ، لہذا اگر وہ حق و انصاف سے انحراف کرکے رشوت ، سفارش ، خواہش یا اقرباپروری کو فیصلے کی بنیاد بنائے گا تو ظاہر ہے کہ وہ ظالموں کی فہرست میں شمار ہوگا ، اور ابدی سزا کا مستحق بنے گا ، آج ہم اپنے معاشرے پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ حق و انصاف کا دورہ دورہ ہے یا ظلم وجور کا ، ہر حکومت سستا انصاف مہیا کرنے کا دعوی کرتی ہے مگر یہ آج تک کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ الا ما شاء اللہ ، آج کے زمانے میں تو انصاف خریدنا پڑتا ہے ، جس کے پاس پونجی ہے اس کے حق میں فیصلہ ہوجائے گا اور دوسرا فریق منہ دیکھتا رہ جائے گا ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وعید سے ڈر جانا چاہئے اور عدل و انصاف کو قائم کرنا چاہئے ۔
(وقوع قیامت اور انصاف)
اس دنیا میں تو حصول انصاف جوئے شیر لانے سے کم نہیں ایک تو حکام ، قاضی اور ججوں کی غفلت ، پھر ان میں خواہش ، رشوت اور سفارش کی لعنت ، مقدمات کی پیچیدگی اور وکلاء کی طرف سے حقائق پوشی اور عدالتوں کو گمراہ کرنے کی کوشش ، ایسے انصاف کہاں سے آئے گا ؟ کم از کم اس دنیا میں تو انصاف کا حصول ممکن نظر نہیں آتا ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو ٹھیک ٹھیک انصاف مہیا کرنے کے لیے یوم الدین یعنی انصاف کا ایک دن مقرر کیا ہے اس دن تمام فیصلے قطعی اور مبنی برحق و انصاف ہوں گے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی ، اور ہر حقدار کو پورا پورا حق دیا جائے گا آج تو مجرم بچ جاتے ہیں اور بےگناہ پھنس جاتے ہیں مگر وہاں ایسا نہیں ہوگا یہ قیامت کا دن ہوگا جب اللہ تعالیٰ کی عدالت لگے گی جہاں ہر شخص کو فردا فردا پیش ہو کر اپنا حساب چکانا ہوگا ، اور جہاں کسی کی طرف سے کوئی وکیل بھی پیش نہیں ہوگا ، صحیح فیصلے اس وقت ہی ہوں گے چناچہ وقوع قیامت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس دنیا میں کی گئی ظلم و زیادتی اور حق تلفی کی تلافی ہو سکے اور ٹھیک ٹھیک فیصلے ہو سکیں آج اگر دنیا میں حق و انصاف کا دور دورہ شروع ہوجائے تو یہ زمین بھی امن وامان کا گہوارہ بن جائے ، اور سارا شروفساد مٹ جائے ۔
(مقصد تخلیق انسانی)
آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے بعض حقائق تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما خلقنا السمآء والارض وما بینھما باطلا “۔ ہم نے آسمان و زمین اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو محض بیکار پیدا نہیں کیا تم سمجھتے ہو کہ نظام کائنات خود بخود بغیر کسی خرابی کے چل رہا ہے فرمایا ایسی بات نہیں ہے بلکہ یہ پورا نظام اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا شاہکار ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو فضول پیدا نہیں کیا بلکہ اس کا کچھ مقصد ہے ، فرمایا اگر کوئی سمجھتا ہے کہ کائنات کا پورا نظام فضول ہے اس کی کوئی افادیت نہیں اور نہ اس کا کوئی خاص نتیجہ برآمد ہونے والا ہے بلکہ انسان دنیا میں ایک حادثے کے طور پر آتا ہے زندگی پوری کرتا ہے اور چلا جاتا ہے نہ آنے کا کوئی مقصد اور نہ جانے کا کوئی مطلب فرمایا (آیت) ” ذلک ظن الذین کفروا “۔ یہ تو کفر کرنے والوں کا گمان ہے ایسا خیال تو وہی کرے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کی قدرت کا ہی منکر ہے وگرنہ کوئی صاحب ایمان اور صاحب عقل شعور آدمی ایسی بات نہیں کرسکتا ، زمین اور آسمان کے درمیان پیدا ہونے والی مخلوقات میں اشرف المخلوقات خود انسان کا وجود ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ایحسب الانسان ان یترک سدی “۔ (القیمۃ ، 36) کیا انسان خیال کرتا ہے کہ اسے یونہی بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ ہم نے تو اسے بیکار محض پیدا نہیں کیا بلکہ اسے اپنی حکمت اور مصلحت کے تحت خاصل مقصد کے لیے پیدا کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون “۔ (الذریت ۔ 56) ہم نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عادت کے لیے پیدا کیا ہے تخلیق حیات کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان ہے ، یہ سلسلہ دنیا کا آغاز ہے اور ظاہر ہے کہ جس چیز کا آغاز ہے اس کا انجام بھی ضرور ہوگا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو قطعی جزایا سزا ملنے والی ہے ، اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن مقرر کیا ہے ، لہذا اس سارے نظام کو باطل تصور کرنا کافروں کا شیوہ ہی ہو سکتا ہے فرمایا (آیت) ” فویل للذین کفروا من النار “۔ پس تباہی اور بربادی ہے آگے سے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ، انہیں جہنم کی آگ کا مزہ چکھنا ہوگا ۔
(نیک وبد میں امتیاز)
آگے اللہ تعالیٰ نے تفہیم کے انداز میں فرمایا ہے (آیت) ” ام نجعل الذین امنوا وعملوا الصلحت کا لمفسدین فی الارض “۔ کیا ہم اہل ایمان اور اعمال صالحہ انجام دینے والوں کو فساد فی الارض کرنے والوں کے برابر کردیں گے ؟ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانے والے اور اچھے کام کرنے والے ہیں اور دوسری طرف کافر ، مشرک اور بدعتی ہیں ، ظلم و زیادتی اور قتل وغارتگری کرنے والے لوگ ہیں ، لوگوں کے حقوق کے غاصب ہیں ، دین اور شریعت کے مخالف ہیں ان لوگوں کے اخلاق ، عمل اور اعتقاد میں فساد بھرا ہوا ہے تو یہ مومنوں اور اعمال صالحہ انجام دینے والوں کی طرف کیسے ہو سکتے ہیں ؟ فرمایا ہر ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ہے ، نیز فرمایا (آیت) ” ام نجعل المتقین کا لفجار “۔ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے متقی اور پرہیز گار بندوں کو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں فاجروں اور فاسقوں کے برابر لے آئیں گے ؟ یہ تو بےانصافی اور اندھیر نگری کی بات ہوگی ، اس کو عقل سلیم بھی تسلیم نہیں کرتی ، چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ ایسا کرے جو احکم الحاکمین اور سب سے زیادہ انصاف کرنے والا ہے ۔
نیکی اور بدی میں امتیاز کو سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان کتاب نازل فرمائی ہے جس کے متعلق ارشاد ہے (آیت) ” کتب انزلنہ الیک “ اے پیغمبر ﷺ ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب نازل فرمائی ہے ، ” مبرک “ جو کہ بڑی ہی بابرکت ہے مگر یہ برکات اس شخص کے لیے ہیں جو اس کو اللہ تعالیٰ کی سچی کتاب تسلیم کرتا ہے اور اس سے استفادہ کرنا چاہتا ہے جو لوگ اس کتاب کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے پروگرام کے راستے میں روڑے اٹکاتے ہیں ان کے لیے یہ کتاب بابرکت نہیں ہوسکتی بلکہ (آیت) ” ولا یزید الظلمین الا خسارا “۔ (بنی اسرائیل 82) ایسے لوگوں کے لیے تو یہ کتاب مزید نقصان کو باعث ہوسکتی ہے ۔ البتہ (آیت) ” ماھو شفاء ورحمۃ للمؤمنین “۔ (بنی اسرائیل ، 82) اہل ایمان کے لیے یہ شفا اور رحمت ہے بہرحال فرمایا حق و باطل ، نیک ، بد ، اہل ایمان اور فاسق وفاجر میں امتیاز کرنے کے لیے اس کتاب کو کلیدی حیثیت حاصل ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے ۔
(تدبر فی القرآن)
اور اس کتاب کی غایت یہ ہے (آیت) ” لیدبروا ایتہ “۔ تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور وفکر کریں ظاہر ہے کہ نیک وبد میں امتیاز بھی ۔۔۔۔۔۔ ہوگا جب کلام الہی میں غور خوض کیا جائے گا ، اور غور کا ادنی درجہ یہ ہے کہ آدمی اس کتاب کو سنے پھر دوسرا درجہ اس کے سمجھنے کا ، تیسرا اس کے اصولوں کو جاننے کا ، چوتھا اس پر عمل کرنے کا اور پانچواں درجہ اس کو آگے پہنچانے کا ہے گویا تدبر میں الفاظ بھی شامل ہیں ، معانی بھی اور اصول بھی ، اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اس زمانے میں کوئی بھی شخص اللہ کی کتاب میں غور وفکر کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کسی نے بہت زیادہ کیا تو تھوڑی بہت خالی تلاوت کرلی اور بس ، وگرنہ اس کتاب حکیم کے معانی ومطالب کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا تو بہت دور کی بات ہے ، مگر جب ہم ماحول پر نگاہ ڈالتے ہیں تو اس زمانے میں محض تلاوت کرلینا بھی بس غنیمت ہے کچھ عرصہ پہلے تک مرد وزن صبح کی نماز ادا کرتے ، اس کے بعد ہر گھر سے تلاوت قرآن پاک کی آوازیں آیا کرتی تھیں مگر آج وہ آوازیں ختم ہو کر ریڈیو اور ٹیلیویژن کی آوازیں رہ گئیں ہیں جو ہر گھر سے صبح وشام سنائی دیتی ہیں ، تاہم اس کتاب کا اصل مقصد خالی تلاوت نہیں بلکہ اس کو سمجھنا اور غور و تدبر کرنا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے کتاب کی دوسری غرض یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” ولیذکر اولوالالباب “۔ تاکہ عقل مند لوگ نصیحت حاصل کریں ، ظاہر ہے کہ نصیحت تو جبھی حاصل ہوگی جب لوگ اس کو سمجھنے کی کوشش کریں گے ، اگر اس کو سمجھنے کی کوشش ہی نہ کی گئی اور محض چوم چاٹ کر اور غلاف میں لپیٹ کر رکھ دیا گیا تو نصیحت کیسے آئیگی ؟ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا قرآن کریم کے ساتھ غداری کرنے کے مترادف ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عظیم المرتبت کتاب کی ظاہری تعظیم بھی ضروری ہے اور حضور ﷺ نے اس کی بھی تاکید فرمائی ہے مگر یہ مقصود ومنتہا تو نہیں ہے اس کی غایت تو اس کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا اور پھر دوسروں تک پہنچانا ہے تاکہ سارے صاحب عقل لوگ اس سے مستفید ہو سکیں ۔
نیکی اور بدی میں اس امتیاز کی وضاحت کے بعد اگلی آیات کا ربط پھر سابقہ مضمون کے ساتھ ہوگا ، داؤد (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد آگے اللہ تعالیٰ نے آپ کے جلیل القدر فرزند اور اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان نبی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعض واقعات بیان فرمائے ہیں ان کو بھی زندگی میں پریشانی لاحق ہوئی تو انہوں نے بھی صبر کیا حضور خاتم النبیین ﷺ کو بھی فرمایا جا رہا ہے کہ آپ بھی سابقہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ، مصائب و تکالیف پر صبر کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔
Ayahs 38:30–33ربط آیات :
مشرکین کا رد کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر آخر الزمان اور آپ کے رفقاء کو کفار کی ایذاء رسانیوں کے مقابلے میں صبر کی تلقین فرمائی اور اس ضمن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کیا کہ انہوں نے بھی آزمائش کے وقت صبر و برداشت سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بیشمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت و رسالت کے ساتھ خلافت و حکومت بھی عطا فرمائی اور آپ کے درجات کو بلند فرمایا اس میں اشارہ تھا کہ آپ بھی پیش آمدہ تکالیف کو برداشت کریں ، ایک وقت آنے والا ہے جب آپ کے مخالفین ناکام ہوجائیں گے اور کامیابی آپ ہی کے قدم چومے گی ، پھر درمیان میں اللہ تعالیٰ نے نصیحت کی کچھ باتیں بتائیں ، پھر نیک وبد میں امتیاز کا ذکر ہوا اور ساتھ ساتھ اس امتیاز کو واضح کرنے والی عظیم کتاب قرآن حکیم کا بھی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بابرکت کتاب اس لیے نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور وفکر کریں ، اور صاحب عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں ۔
(سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ)
اب آج کی آیات کا ربط پھر سابقہ مضمون اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول حضرت داؤد (علیہ السلام) کے تذکرے کے ساتھ ہو رہا ہے آپ پر ہونے والے انعامات ہی کے ضمن میں ایک اور بڑے انعام کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلیمان (علیہ السلام) جیسا عظیم فرزند عطا کر کے فرمایا ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وھبنا لداؤد سلیمن “۔ اور ہم نے بخشا داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان (علیہ السلام) جیسا جلیل القدر فرزند ، نبی اور رسول (آیت) ” نعم العبد “ آپ اللہ تعالیٰ کے بہت ہی خوب بندے تھے (آیت) ” انہ اواب “۔ بیشک آپ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے ، رجوع الی اللہ والی صفت باپ اور بیٹا دونوں میں پائی جاتی تھی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دونوں کو نبوت و رسالت کے ساتھ ساتھ خلافت بھی عطا فرمائی بلکہ سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت تو بےمثال تھی اور باپ کی سلطنت سے بھی ممتاز تھی آگے ذکر آرہا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے خود اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ مولا کریم ! مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو ایسی بےمثال ہو کہ نہ پہلے کسی کو میسر آئی ہو اور نہ میرے بعد کسی کو حاصل ہو ، اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور آپ کو بےمثال حکومت عطا فرمائی ، اتنی وسیع و عریض سلطنت کے امور کی دیکھ بھال آپ نہایت حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیتے تھے ، اور پھر امور سلطنت کی تمام تر مصروفیات کے باوجود آپ اللہ تعالیٰ کی طرف بھی رجوع رکھتے تھے اور اس کی عبادت و ریاضت میں بھی کمی نہیں آنے دیتے تھے ۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کے کل انیس (19) بیٹے تھے جن میں سلیمان (علیہ السلام) سب سے چھوٹے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے بیشمار خوبیوں سے نوازا تھا اور کمال درجے کی صلاحیت اور استعداد عطا فرمائی تھی ، آپ کے فضائل سابقہ سورتوں انعام ، نمل ، انبیاء ، اور سبا وغیرہ میں بیان ہوچکے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے جنوں اور پرندوں اور ہوا کو بھی آپکے تابع کردیا تھا ، قوت فیصلہ اس قدر وافر عطا فرمائی تھی کہ باپ کی موجودگی اور کم سنی کی عمر میں بھی بڑے بڑے فیصلے کر جاتے تھے ۔
داؤد (علیہ السلام) کی وفات کے وفات کے بعد آپ صرف تیرہ سال کی عمر میں باپ کے جانشین بنے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وورث سلیمن داؤد “۔ (النمل ، 16) اور انتظام حکومت اپنے ہاتھ میں لیا اور آپ نے چالیس سال تک بیمثال حکومت کی اور منصب رسالت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے ۔
(سلیمان (علیہ السلام) کی ابتلائ)
اب اگلی آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کی ایک آزمائش کا ذکر کیا گیا ہے جو آپ پر ایک معمولی سی کوتاہی کی بناء پر آئی ، اس سورة مبارکہ میں آپ کی دو آزمائشوں کا ذکر آرہا ہے ، ان میں سے یہ پہلی آزمائش ہے جس کو یہاں اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ، ارشاد خداوندی ہے (آیت) ” اذعرض علیہ بالعشی الصفنت الجیاد “۔ جب کہ پیش کیے گئے آپ پر پچھلے پہر نہایت عمدہ ، اصیل اور تیز رفتارگھوڑے صفن ایسے گھوڑے کو کہتے ہیں جو عام طور پر تین پاؤں پر کھڑا ہوتا ہے یعنی تین پاؤں پر تو پورا وزن ڈالتا ہے جب کہ چوتھے پاؤں کا صرف اگلا پنجہ زمین پر رکھتا ہے ، نسلی اعتبار سے یہ عمدہ گھوڑے کی علامت ہے ، جو کارکردگی کے لحاظ سے دوسرے گھوڑوں پر فوقیت رکھتا ہے ، سلیمان (علیہ السلام) کیا اصطبل میں اس قسم کے ہزاروں گھوڑے تھے جو جہاد میں استعمال ہوتے تھے اور سلیمان کو ان سے بڑی محبت تھی اور ان کی دیکھ بھال خود کیا کرتے تھے ۔
فرمایا اس قسم کے گھوڑے آپ کی خدمت میں سہ پہر کے وقت پیش کیے گئے آپ ان کے معائنہ میں مصروف تھے ، ہر ایک کو فردا فردا دیکھ رہے تھے کہ کسی گھوڑے میں کوئی نقص تو نہیں واقع ہوگیا ، اسی کام میں وقت زیادہ لگ گیا اور جیسا کہ آگے آرہا ہے سورج غروب ہوگیا ، اسی دوران یعنی غروب آفتاب سے پہلے آپ کی نماز یا دیگر عبادت کا وقت بھی تھا آپ گھوڑوں کے معائنہ میں اس قدر محو رہے کہ آپ کی نماز کا وقت ہی جاتا رہا اور یہی وجہ تھی کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔
(گھوڑوں سے محبت)
جونہی آپ معائنہ سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ سورج غروب ہوچکا ہے اس وقت آپ کو تشویش لاحق ہوئی کیونکہ نماز کا وقت گزر چکا تھا اس وقت آپ نے نہایت مغموم ہو کر کہا (آیت) ” فقال انی احببت حب الخیر عن ذکر ربی “۔ افسوس کہ میں نے اپنے پروردگار کے ذکر سے مال کی محبت کو پسند کیا ہے آپ کو دکھ ہوا کہ ان گھوڑوں کی دیکھ بھال میں مصروفیت کی وجہ سے ان کی نماز ضانع ہوگئی حالانکہ گھوڑوں پر ذکر الہی کو ترجیح دینی چاہئے تھی (آیت) ” حتی تورت بالحجاب “۔ یہاں تک کہ سورج حجاب میں چلا گیا یعنی غروب ہوگیا اور عبادت کا وقت جاتا رہا ۔
(پہلی تفسیر)
مفسرین کرام اس آیت کی تفسیر دو طریقوں سے کرتے ہیں اور وہ دونوں تفسیریں درست ہیں ، پہلی تفسیر یہ ہے کہ (آیت) ” عن ذکر ربی “ میں عن بطور علت ہے اور اس طرح معنی یہ بنتا ہے کہ سلیمانعلیہ السلام نے کہا میں نے ان گھوڑوں سے محبت کی ہے رب تعالیٰ کے ذکر کی وجہ سے ، مطلب یہ کہ آپ کو ذکر الہی کے فوت ہوجانے پر ملال نہیں ہوا ، بلکہ گھوڑوں کی دیکھ بھال اور ان سے محبت کو ذکرہی کا حصہ قرار دیا ، ظاہر ہے کہ مذکورہ گھوڑے جہاد میں کام آتے تھے اور ان کی دیکھ بھال اور تربیت بھی جہاد ہی کا حصہ سمجھا جائے گا اس کی مثال یہ ہے کہ نماز فرض ہے تو اس کی ادائیگی کی تیاری کے لیے انجام دیے گئے جملہ امور وضوء وغیرہ بھی اسی کے تحت آئیں گے اب ایک طرح جہاد جیسا اہم فریضہ ہے جس میں مال وجان کی بازی لگانا پڑتی ہے اور دوسری طرف زبانی ذکر ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی جاتی ہے ، اگر بنظرغائر دیکھا جائے تو جہاد بھی اعلائے کلمۃ الحق کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اور یہ بھی یاد الہی کا ہی ایک حصہ ہے ، لہذا جہاد کی تیاری میں ذکر الہی کا فوت ہوجانا کوئی خاص حرج والی بات نہیں ہے ، چناچہ سلیمان (علیہ السلام) نے خادموں کو حکم دیا (آیت) ” ردوھا علی “۔ ان کو میری طرف واپس پلٹاؤ ، ظاہر ہے کہ گھوڑوں کی تربیت کی جارہی ہوگئی اور اس مقصد کے لیے انہیں دوڑایا جا رہا ہوگا ، تو آپ نے فرمایا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ پس جب ان کو آپ کے پاس لایا گیا ، (آیت) ” فطفق مسحا بالسوق والاعناق ‘۔ تو سلیمان (علیہ السلام) ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے مسح کے کئی معنی آتے ہیں جن میں ہاتھ پھیر کر جھاڑ پونچھ کرنا بھی ہے اور ایسا محبت اور عزت واکرام کی بناء پر کیا جاتا ہے چونکہ سلیمان (علیہ السلام) کو جہاد میں کام آنے والے عمدہ قسم کے گھوڑوں سے محبت تھی لہذا آپ نے انکی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا ۔
(دوسری تفسیر)
ان آیات کی ایک تو یہ تفسیر ہے اور دوسری تفسیر جو عام طور پر اختیار کی جاتی ہے ، وہ یہ ہے کہ جب گھوڑوں کی دیکھ بھال میں سلیمان (علیہ السلام) کی عبادت کافریضہ رہ گیا تو آپ کو اس پر سخت رنج ہوا ، اور کہنے لگے ، میں نے مال کی محبت کو ذکر الہی پر ترجیح دی ہے “۔ یہ مفسرین ” احببت “ کا معنی ” میں نے ترجیح دی ہے “ کرتے ہیں اور اس طرح انہوں نے اپنی اس کوتاہی پر اپنے آپ کو گویا ملامت کی کہ ان سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ گھوڑوں کی دیکھ بھال میں لگے رہے اور نماز فوت ہوگئی یہ حضرات ” عن ذکر “ کو ” علی ذکر “ پر محمول کرتے ہیں اور اس طرح مطلب واضح ہوجاتا ہے کہ میں نے مال کی محبت کو ذکر الہی سے نہیں بلکہ ذکر الہی پر ترجیح دی ، اس کی مثال قرآن پاک کی دوسری آیت میں بھی ملتی (آیت) ” ومن یبخل وانما یبخل عن نفسہ “۔ (محمد ، 38) جو شخص بخل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفس پر بخل کرتا ہے یہاں بھی عن کا معنی علی کے طور پر آیا ہے ، اسی طرح بعض مفسرین نے ” احببت “ معنی ” قعدت “ کیا ہے یعنی میں مال کو محبت میں ذکر الہی سے بیٹھ گیا ، اور اس کی طرف توجہ نہ دی ، مسح کا معنی دھونا بھی آتا ہے اور نشان لگانا بھی حضور ﷺ بعض جانوروں کو نشان لگا کر جہاد کے لیے وقف کردیتے تھے البتہ آپ کا حکم تھا کہ ایسے جانوروں کو چہرے کی بجائے جسم کے کسی دوسرے حصہ پر داغا جائے ۔
مسح کا معنی قطع بھی آتا ہے ، کاٹ دینا یا ذبح کردینا چناچہ امام سیوسی (رح) نے در منثور میں طبرانی اور مجمع الزوائد کے حوالے سے ابی ابن کعب ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” مسحا بالسوق والاعناق “ سے مراد ” قطعا بالسوق والاعناق بالسیف “ ہے یعنی سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں کو تلوار سے کاٹنا شروع کردیا اور ان میں سے ایک معتدبہ تعداد کی قربانی کردی کیونکہ ان میں مشغولیت کی وجہ سے آپ کی فرض عبادت ضائع ہوگئی تھی یہ درجہ دوئم کی مرفوع حدیث ہے اور قابل اعتماد ہے اس طرح گویا سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی کوتاہی پر اپنے آپ کو سزا دینے کے لیے یا اپنی اصلاح کے لیے اپنے آپ کو گھوڑوں سے محروم کردیا ، اس سے معلوم ہوا کہ ایسا کرنا بھی جائز ہے اور اس کی مثال خود حضور ﷺ کی ذات مبارکہ سے ملتی ہے ، ابوجہم ؓ صحابی نے شام کی بنی ہوئی خوبصورت نقش ونگار والی چادر یا کمبل حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا آپ نے قبول فرمایا اور اوڑھ کر نماز ادا کی دوران نماز آپکی توجہ کمبل کے نقش ونگار کی طرف مبذول ہوگئی ، نماز سے فارغ ہو کر آپ نے فرمایا کہ کمبل ابو جہم ؓ کو واپس کر دو اور اس کی بجائے مجھے سادہ کمبل لا دو تاکہ صحابی کی دل شکنی نہ ہو ، چناچہ ایسا ہی کیا گیا ۔
حضرت ابو طلحہ انصاری ؓ کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے جو موطا میں مذکور ہے آپ اپنے باغ میں نماز ادا کر رہے تھے باغ بڑا گھنا تھا اتنے ایک چھوٹا سا پرندہ درختوں کے گھنوں پتوں میں داخل ہوا اور پھر وہی پھنس کر رہ گیا اس کے پھڑپھڑانے کی وجہ سے ابو طلحہ ؓ کی توجہ اس طرف چلی گئی ، آپ کو بڑا رنج ہوا کہ نماز میں خلل واقع ہوا ہے چناچہ آئندہ کسی ایسے وقوعہ سے بچنے کے لیے سارا باغ ہی اللہ کے راستے میں وقف کردیا اور خود اس سے دست بردار ہوگئے ، اسی طرح کعب ابن مالک ؓ کا واقعہ بھی آتا ہے آپ غزوہ تبوک میں شامل نہ ہو سکے کیونکہ آپ کو اپنے کھجوروں کے باغ کی دیکھ بھال کرنا تھی اس کوتاہی پر آپ پر سخت ابتلاء آئی ، چالیس دن تک آپ کا سخت بائیکاٹ رہا ، اور مدینہ کا کوئی شخص آپ سے کلام تک کرنے کے لیے تیار نہ تھا بالآخر پچاس روز بعد اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ کی آیات نازل فرما کر آپ کی توبہ قبول فرمائی پھر آپ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اپنی تمام املاک اور باغ وغیرہ کی وجہ سے مجھ پر ابتلاء آئی میں اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کرتا ہوں تاکہ آئندہ ایسی کوئی کوتاہی نہ ہونے پائے غرضیکہ اسی اصول کے تحت سلیمان (علیہ السلام) نے بھی اپنے عمدہ گھوڑوں کی ایک بڑی تعداد کو قربان کردیا ۔
(خلاصہ)
بہرحال ان آیات کی دو طرح کی تفسیر میں نے آپ کے گوش گزار کردی ہے ، پہلی تفسیر یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے جہاد کے گھوڑوں کی تربیت اور دیکھ بھال کر ذکر الہی کے منافی نہ سمجھا بلکہ نماز کے فوت ہوجانے پر گھوڑوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرا اور ان کی جھاڑ پونچھ کر کے ان کا گردوغبار دور کردیا ، اور دوسری تفسیر یہ کہ سلیمان (علیہ السلام) کو نماز یا ذکر کی فوتیدگی کا سخت رنج ہوا اور انہوں نے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کے کفارے کے طور پر بہت سے گھوڑے ذبح کر ڈالے اور اس طرح سزا کے طور پر اپنے آپ کو اتنے عمدہ گھوڑوں سے محروم کرلیا ۔
(بعض متفرع مسائل)
اس واقعہ میں ایک مسئلہ گھوڑے کی قربانی کا آیا ہے اس دور میں گھوڑے کی قربانی جائز تھی ، یہ جانور حلال تو ہماری شریعت میں بھی ہے جیسا کہ بخاری شریف میں روایت موجود ہے ، البتہ اس کی قربانی نہیں کی جاتی ، بلکہ اس مقصد کے لیے اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری نر و مادہ کو استعمال کیا جاتا ہے جن کا ذکر سورة الانعام میں موجود ہے ۔
مفسرین کرام اس واقعہ سے یہ مسئلہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ حاکم کو امور سلطنت کی دیکھ بھال بذاتہ خود کرنی چاہئے جیسا کہ سلیمان (علیہ السلام) کی سیرت سے واضح ہوتا ہے ، اس سے یہ مسئلہ بھی متفرع ہوتا ہے کہ کسی ایک عبادت کے وقت میں کوئی دوسری عبادت کرنا درست نہیں وگرنہ بدنظمی پیدا ہونے کا احتمال ہے اس اصول کے تحت سلیمان (علیہ السلام) کو نماز کے وقت نماز ہی ادا کرنی چاہئے تھی اور گھوڑوں کی دیکھ بھال کسی دوسرے وقت پر ملتوی کردینی چاہئے تھی اسی لیے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہوجائے تو نماز جمعہ کی تیاری کے علاوہ کوئی دوسرا کام کرنا جائز نہیں حتی کہ اس دوران میں نفل پڑھنا یا قرآن کی تلاوت کرنا بھی درست نہیں ہاں مسجد میں پہنچ کر نوافل ادا کرسکتا ہے یا تلاوت قرآن پاک کرسکتا ہے ۔
Ayahs 38:34–40ربط آیات :
پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش ، پریشانی اور ان کے رجوع الی اللہ کا ذکر کیا پھر آپ کے فرزند اور اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر صاحب شریعت رسول اور خلیفۃ اللہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا ، ان پر ہونے والا انعامات کا ذکر ہوا گھوڑوں کی دیکھ بھال میں نماز فوت ہوجانے کی وجہ سے ان پر آنے والی ابتلاء اور پھر ان کی طرف سے ان قیمتی گھوڑوں کی قربانی کا حال بیان ہوا اب آج کے درس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دوسری آزمائش کا ذکر ہورہا ہے ۔
(دوسری آزمائش)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد فتنا سلیمن “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا ، فتنہ کا معنی آزمائش ، ابتلاء یا جانچنا ہوتا ہے اور آزمائش یہ تھی (آیت) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “۔ کہ ہم نے ان کی کرسی یا تخت پر ایک دھڑ کو لا کر ڈالدیا (آیت) ” ثم اناب “ اور پھر آپ نے اللہ تعالیٰکی طرف رجوع کیا مفسرین کرام نے اس آیت کریمہ کی تفسیر دو طریقے سے کی ہے ۔
(پہلی تفسیر)
پہلی تفسیر جو عام طور پر مفسرین کرتے ہیں وہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے اور صحیح نہیں ہے ، کہتے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ایک انگوٹھی تھی جس پر اسم اعظم کندہ تھا اور آپ اس کی برکت سے نظام سلطنت نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتے تھے ، ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ نے غسل خانے میں جانے سے پہلے انگوٹھی اپنی کسی خادمہ کو دے دی کہ فارغ ہو کرلے لوں گا ، اس اثناء میں صخر نامی ایک جن نے کبھی حیلے سے وہ انگوٹھی خادمہ سے حاصل کرلی ، روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ وہ جن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل میں آیا اور انگوٹھی طلب کی تو خادمہ نے اسے اپنا آقا سمجھ کر انگوٹھی اس کے حوالے کردی پھر کیا تھا وہ جن تخت سلیمانی پر بیٹھ گیا اور پوری انگوٹھی اس کے حوالے کردی پھر کیا تھا وہ جن تخت سلیمانی پر بیٹھ گیا اور پوری سلطنت پر قابض ہوگیا یہ حضرات ٹکڑا آیت (آیت) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “۔ کا یہی مطلب لیتے ہیں کہ جن تخت پر قابض ہوگیا ، جب سلیمان (علیہ السلام) فارغ ہوئے اور خادمہ سے انگوٹھی طلب کی تو اس نے آپ کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا کیونکہ سارا معاملہ ہی تبدیل ہوچکا تھا ، پھر سلیمان (علیہ السلام) کو خطرہ پیدا ہوا کہ جن سلطنت پر تو قابض ہو ہی چکا ہے ، کہیں وہ ان کو قتل ہی نہ کرا دے ، لہذا آپ چھ ماہ تک کہیں روپوش رہے ، رعایا کو علم ہی نہیں تھا کہ سلیمان (علیہ السلام) روپوش ہوچکے ہیں اور جن نقلی سلیمان بن کر ان پر حکومت کر رہا ہے پھر ایسا اتفاق ہوا کہ وہ انگوٹھی جن کے ہاتھ سے کسی طرح سمندر میں گر گئی جسے مچھلی نے نگل لیا وہ مچھلی شکار ہوئی اور بکتی بکاتی سلیمان (علیہ السلام) تک پہنچ گئی ، جب انہوں نے مچھلی کا پیٹ چاک کیا تو اس میں سے آپ کی انگوٹھی برآمد ہوگئی جسے آپ نے فورا پہن لیا اور آپ کا کاروبار سلطنت پھر بحال ہوگیا تو بعض مفسرین نے اس واقعہ کو سلیمان (علیہ السلام) کی ابتلاء سے تعبیر کیا تھا ۔
تاہم امام رازی (رح) مفسر قرآن فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس واقعہ کو بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ مگر یہ بالکل من گھڑت ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں فرماتے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ کوئی جن سلیمان (علیہ السلام) کی شکل میں آکر اس قسم کی دھاندلی کرتا کیونکہ آپ اللہ کے جلیل القدر نبی اور رسول تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلافت ارضی بھی عطا فرمائی ، جن کے لیے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ آپ کی شکل اختیار کرتا ۔
اس واقعہ سے متعلق بعض حضرات اس بات کا ذکر بھی کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھر میں کوئی مشرکہ عورت تھی آپ نے اس کے بارے میں کچھ تغافل کیا اور آپ کو پتہ ہی نہ چلا اس وجہ سے انگوٹھی آپ سے گم ہوگئی اور یہ آزمائش آئی یہ قصہ بھی بالکل غلط ہے کیونکہ اللہ کے نبی کے بارے میں کیا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
(دوسری تفسیر)
بخاری ، مسلم اور دیگر کتب احادیث میں آنے والی احادیث کے مضامین کو مربوط کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے ایک موقعہ پر اپنے فوجیوں میں کچھ سستی کا احساس پایا تو آپ سخت دل برداشتہ ہوئے اور انہیں نے قسم اٹھائی کہ میں رات کو اپنی سو یا کم وبیش ہر ایک بیوی کے پاس جاؤں گا وہ حاملہ ہوں گی اور ان سے پیدا ہونے والا ہر بچہ مجاہد بن کر فوج میں خدمات انجام دے گا ، مگر اس قسم کے ساتھ آپ انشاء اللہ کہنا بھول گئے حالانکہ یہ چیز آپ کے ذہن میں تھی اور فرشتے نے بھی آپ کو یاد دلایا تھا مگر یہ ابتلا آنی تھی ، لہذا سے نسیان ہوگیا اور انشاء اللہ نہ کہہ سکے ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام بیویوں میں سے صرف ایک بیوی حاملہ ہوئی اور اس کے ہاں بھی ایک ادھورا یعنی اپاہج سا بچہ پیدا ہوا جسے لا کر آپ کے تخت پر ڈال دیا گیا تاکہ آپ جان سکیں کہ آپ کی قسم کا یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے ، اس پر سلیمان (علیہ السلام) کو اپنی لغزش کا احساس ہوا ، انہوں نے پروردگار کی طرف رجوع کیا اور اس کوتاہی پر معافی مانگی ۔
صحیح حدیث میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی موجود ہے کہ اگر سلیمان (علیہ السلام) قسم اٹھاتے وقت انشاء اللہ کہہ دیتے تو انہیں مقصد حاصل ہوجاتا مگر نہ کہنے کی وجہ سے آپ پر ابتلاء آئی اور ایک ادھورا بچہ آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا ، پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور معافی طلب کی یہ ایک ایسی معمولی سی لغزش تھی جو عام لوگوں کے لیے گناہ نہیں ہوتا مگر اللہ کے نبی کے لیے اتنی کوتاہی بھی قابل مواخذہ بن جاتی ہے ، اس آیت کریمہ کی یہ تفسیر صحیح احادیث میں ملتی ہے اور یہی زیادہ قرین قیاس ہے ۔
(مودودی صاحب کی غلطی)
مذکورہ بالا حدیث کو تسلیم نہ کرکے مولانا مودودی مرحوم نے شدید غلطی کی ہے کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مضمون اس لحاظ سے خلاف عقل ہے کہ کوئی شخص ایک رات میں اتنی تعداد میں بیویوں کے پاس کیے جاسکتا ہے پھر انہوں نے رات کے اوقات کو تقسیم کرکے ہر بیوی کے حصے میں آنے والے منٹوں کا حساب لگا کر بتایا کہ کسی شخص کے لیے ایسا ممکن ہی نہیں ، یہی آپ کی غلطی ہے اگرچہ یہ ایک عام آدمی کے لیے ممکن نہیں مگر نبی کے لیے معجزے کے طور پر تو ہر چیز ممکن ہے عقل کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جاسکتا ، بلاشبہ سارے معجزے خلاف عقل ہوتے ہیں کیا تمام معجزات کو عقل کے ترازو میں تولا جائے گا ؟ اس سے پہلے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے واقعہ میں مودودی صاحب نے ایسی ہی غلطی کی ہے آیت 26 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے درمیان فیصلہ کرنا (آیت) ” ولا تتبع الھوی اور خواہش کی پیروی کرنا ورنہ آپ سیدھے راستے سے بہک جائیں گے ہواں بھی مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش میں خواہش نفسانی کا ضرور کچھ نہ کچھ دخل تھا ، حالانکہ اس کا یہ مطلب نہیں ، اللہ کے فرمان کا مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح پہلے کبھی خواہش کی پیروی نہیں کی اس طرح آئندہ بھی نہ کرنا اس کی مثال تو وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا ہے (آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک (الزمر ، 65) اگر آپ نے بھی شرک کیا تو آپ کے سارے عمل ضائع ہوجائیں گے تو کیا وہاں پر شرک کو کوئی دخل تھا ، العیاذ باللہ ، اس جملے کا مطلب بھی یہی ہے کہ آپ نے نہ تو پہلے کبھی شرک کیا ہے اور نہ آئندہ کرنا ، بہرحال اللہ کے معصوم نبی کی شان میں خواہش نفسانی کی بات کرنا ہرگز درست نہیں بہرحال حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہہ دیتے تو سب بیویاں حاملہ ہو کر بچے جنم دیتیں ، مگر اس لغزش کی وجہ سے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا گیا ۔
(بےمثال سلطنت کے لیے دعا)
اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے معافی اور بےمثال سلطنت کی دعا کی ، (آیت) ” قال رب اغفرلی “۔ کہنے لگے پروردگار ! مجھے معاف کر دے ، میری کوتاہی کو درگزر فرما ، پہلے (آیت) ” ثم اناب “۔ کے الفاظ تو آہی چکے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور پھر بخشش ومعافی کی درخواست پیش کی اور ساتھ یہ بھی عرض کی (آیت) ” وھب لی ملئکا لاینبغی لاحد من بعدی “۔ مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو (آیت) ” انک انت الوھاب “ تو بہت بخشش کرنے والا ہے ۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے بےمثال سلطنت کی درخواست نامناسب نہیں ہے کیونکہ آپ کا مقصد محض حصول اقتداء تعیش ، آرام طلبی یا مالی منفعت حاصل کرنا نہیں تھا ، اتنی عظیم الشان اور بیمثال سلطنت کے وارث ہونے کے باوجود آپ بیت المال سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے تھے بلکہ اپنے اور اہل و عیال کے اخراجات ہاتھ سے ٹوکریاں بنا کر پورے کرتے تھے ایسی حکومت کے حصول سے آپ کا مقصد اللہ کے دین اور شریعت کا نفاذ عدل و انصاف کا قیام ، اللہ کی مخلوق کے ساتھ خیر خواہی ان کے حقوق کی ادائیگی اور ظلم وتعدی کی بیخ کنی تھی ۔
(ہوا کی تسخیر)
اللہ نے اپنے ہر نبی کو اختیار دیا تھا کہ وہ کوئی سی ایک دعا مانگ لیں جو قبول کی جائے گی سلیمان (علیہ السلام) نے مذکورہ دعا کی جو اللہ تعالیٰ نے منظور فرمائی اور آپ کو بےمثال سلطنت عطا فرمائی پھر آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض انعامات کا ذکر کیا ہے جو اس بےمثال حکومت کا حصہ تھے فرمایا (آیت) ” فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخآئ “۔ ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسکر کردیا ، جو آپ کے حکم سے نرم نرم چلتی تھی اور اس ہوا کے ذریعے (آیت) ” حیث اصاب “ آپ جہاں بھی جانا چاہتے ، بحفاظت سرعت کے ساتھ باسانی پہنچ جاتے تھے آپ یمن اور شام وغیرہ کا سفر ہوا کے دوش پر کرتے تھے جہاں جانا مقصود ہوتا تھا آپ تخت پر بمع لشکر اور سامان بیٹھ جاتے اور ہوا یہ تخت اٹھا کر آپ کو مطلوبہ مقام تک نہایت تیزی کے ساتھ پہنچا دیتی سورة سبا میں ہے (آیت) ” غدوھا شھرو ورواحھا شھر “۔ (آیت : 12) آپ صبح کے وقت ایک ماہ کا سفر طے کرلیتے تھے اور شام کے وقت میں بھی اتنی مسافت آسانی سے طے کر جاتے تھے یہ بھی معجزہ تھا جو عقل کے خلاف تھا مگر اللہ نے ہوا سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردی تھی ، پہلے گزر چکا ہے کہ آپ نے اپنے تیز رفتار گھوڑے کو پہلی لغزش کے ازالے کے طور پر قربان کردیئے لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کا نعم البدل ہوا کی صورت میں دیا جس کی وجہ سے آپ گھوڑوں کی نسبت بہتر زیادہ تیز رفتار سے نقل و حرکت کرسکتے تھے ۔
(مولانا اصلاحی کی غلطی)
اس مقام پر ہمارے زمانے کے ایک دوسرے مفسر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی نے شدید غلطی کی ہے وہ اس ہوا کو سمندری ہوا پر محمول کرتے ہیں جس کے ذریعے سلیمان (علیہ السلام) کی بادبانی کشتیوں کا بیڑا بڑی آسانی اور تیز رفتاری سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتا تھا نہیں بلکہ ا س مراد خشکی پر چلنے والی ہوا ہے جو معجزے کے طور پر آپ کے تخت کو اٹھائے پھرتی تھی اسی طرح اصلاحی صاحب نے واقعہ معراج کو خواب کا واقعہ قرار دیا ہے حالانکہ بہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے پینتالیس 45 صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے حضور ﷺ کی زبان مبارک سے نقل کیا ہے ، ایسے لوگوں کی بنیادی غلطی یہی ہے کہ معجزے کو تسلیم نہیں کرتے وگرنہ اللہ تعالیٰ کے لیے کون سا کام مشکل ہے ، اگر معراج خواب میں ہی ہوا تھا تو پھر جھگڑا کس بات کا تھا کہ مشرک لوگ اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے خواب میں تو بڑے بڑے عجیب و غریب مناظر دیکھنے میں آتے ہیں مگر کبھی کسی نے ایسے مشاہدے پر شک نہیں کیا اور نہ کبھی مناظرہ بازی کی نوبت آئی ہے بہرحال یہ بھی غلط تفسیر کا ایک نمونہ ہے ۔
(جنات کی تسخیر)
سلیمان (علیہ السلام) پر کیے گئے احسانات میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک یہ احسان بھی ذکر کیا (آیت) ” والشیطین “۔ اور ہم نے شیطانوں یعنی جنات کو بھی آپ کے لیے مسخر کردیا (آیت) ” کل بنآئ “۔ جن میں سے ہر ایک عمارتیں بنانے والا تھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جنات کے ذریعے بڑی بڑی عمارات تعمیر کروائیں جنات بڑے بڑے بھاری پتھر دور دراز سے اٹھا کر لاتے ان کو تراشتے اور اوپر کی منزلوں تک پہنچاتے آپ ان سے شیشے کی قطع برید اور دھاتوں کی ڈھلائی کا کام بھی لیتے تھے جس سے عمارات کے جملہ لوازمات تیار ہوتے تھے اس کے علاوہ فرمایا (آیت) ” وغواص “۔ ان میں غوطہ خور شیاطین بھی تھے جو سمندر کی گہرائیوں سے قیمتی موتی اور ضروریات کی دوسری چیزیں نکال لاتے تھے فرمایا (آیت) ” واخرین مقرنین فی الاصفاد “ ، جنات میں بعض ایسے بھی تھے جو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے سلیمان (علیہ السلام) شرارتی جنوں کو سزا کے طور پر قید بھی کردیتے تھے ، ان میں سے بعض آج تک جکڑے ہوئے سمندروں اور دور دراز جزیروں میں موجود ہیں جو قرب قیامت میں جا کر آزاد ہوں گے بہرحال انسانوں اور پرندوں کے ساتھ ساتھ جنات بھی سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر میں شامل ہوتے تھے اور آپ کے ہر حکم کی تعمیل کرتے تھے ۔
(باز پرس سے استثنی)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے (آیت) ” ھذا عطآؤنا “۔ یہ سب کچھ ہماری طرف سے تمہیں عطا ہوا ہے اب آپ کو اختیار ہے (آیت) ” فامنن “۔ کہ جس پر چاہیں تقسیم کرکے احسان کریں (آیت) ” اوامسک “۔ یا جس سے چاہیں روک لیں یعنی کچھ نہ دیں اور اس ضمن میں آپ جو بھی کاروائی کریں گے وہ (آیت) ” بغیر حساب “ بغیر حساب کتاب کے ہوگی یعنی اس تقسیم کی صحت یا عدم صحت پر آپ سے قیامت کو کوئی باز پرس نہیں ہوگی ، آپ کو اس سے مستثنی قرار دے دیا گیا ہے ظاہر ہے کہ انسان جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو اسے آخرت کے محاسبے کا خوف دامن گیر ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دل جمعی کے لیے آپ کو ہر قسم کے محاسبے سے بری کردیا ، دلجمعی بہت بڑی چیز ہے اسی لیے بزرگان دین اور صوفیاء کرام اس کے درپے ہوتے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ دل میں کوئی شک وتردد نہ رہے بلکہ شیشے کی مانند صاف ہوجائے ۔
(اللہ کے ہاں مرتبہ)
دنیا کی عظیم الشان اور بےمثال حکومت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) پر کیے جانے والے ایک اور انعام کا ذکر بھی کیا ، فرمایا (آیت) ” وان لہ عندنا لزلفی “۔ آپ کے لیے ہمارے ہاں بہت بڑا مرتبہ ہے ہمارے انعامات دنیا تک ہی محدود نہیں بلکہ آخرت میں بھی آپ کا بہت بڑا مرتبہ ہے ، ہمارے انعامات دنیا تک ہی محدود نہیں بلکہ بلکہ آخرت میں بھی آپ کا بہت بڑا حصہ ہے (آیت) ” وحسن ماب “۔ اور آگے بہت اچھا ٹھکانا بھی ہے اسی لیے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹی کی بات سن کر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کا شکر ادا کیا تھا اور ساتھ یہ دعا بھی کی تھی (آیت) ” وادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین “۔ (النمل ، 19) مولا کریم ! اپنی مہربانی سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما لے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت بلند مرتبہ عطا فرمایا اور اچھا ٹھکانا بھی جو آگے چل کر حاصل ہوگا ۔