38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 38:65–70

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے (اے پیغمبر ﷺ بیشک میں ڈر سنانے والا ہوں اور نہیں ہے کوئی الہ اللہ تعالیٰ کے سوا جو اکیلا ہے اور زبردست ہے ۔

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ کمال قوت کا مالک اور بخشش کرنے والا ہے ۔

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ یہ ایک بڑی خبر ہے ۔

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

تم اس سے اعراض کرنے والے ہو ۔

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

نہیں تھا مجھے علم ملاء اعلی کا جب کہ وہ آپس میں تکرار کر رہے تھے ۔

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

نہیں وحی کی جاتی میری طرف مگر یہ کہ بیشک میں ڈرسنانے والا ہوں کھول کر ۔

ربط آیات : اس سورة کی ابتداء میں میں نے عرض کیا تھا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے تمام عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کو واضح کیا ہے چناچہ یہ چاروں مضامین اس سورة مبارکہ میں بیان ہوچکے ہیں درمیان میں اللہ تعالیٰ نے صبر و استقامت کے سلسلہ میں کئی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمایا اور ان کی شکر گزاری اور صبر کا حال بیان کیا ، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے بعض انعامات کا تذکرہ فرمایا اور سرکش اور نافرمان لوگوں کا انجام بھی ذکر کیا ، اہل دوزخ کی جہنم میں تکالیف اور پھر آپس میں گفتگو کا ذکر بھی آگیا ہے ، آخر سورة میں پھر خلاصہ مضامین آرہا ہے چناچہ آج کے درس میں بطور خاص توحید و رسالت کا بیان ہے اور پھر اگلے درس میں ابلیس کی نافرمانی کا ذکر ہوگا ، اور سورة کے اختتام پر پھر توحید و رسالت ہی کا بیان ہوگا ۔ (پیغمبر بحیثیت منذر) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قل انما انا منذر “۔ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں میرا فریضہ ہے کہ لوگوں کو کفر شرک ، اور ۔۔۔۔ کے انجام سے خبردار کر دوں ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نبی نذیر اور بشیر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے تمام نبی ایمان ، توحید اور اطاعت کرنے والوں کو آخرت میں عیش و آرام سے بھر پور لازوال زندگی کی بشارت سناتے ہیں تاہم ان کے پیغام میں انذار کا پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے کیونکہ دنیا میں عام طور پر کفر ، شرک اور معاصی کا دور دورہ رہا ہے فرمایا آپ کہہ دیجئے کہ میں تو انذار کرنے والا ہوں ، اس میں ضمنا یہ بات بھی آجاتی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا نبی ہوں اور نبیوں والا کام ہی کرتا ہوں کوئی فرشتہ یا الہ نہیں ہوں میں تمہیں برائی کے انجام سے خبردار کررہا ہوں ۔ (توحید باری تعالی) فرمایا کہ تمہیں انذار کرنے کے ساتھ ساتھ توحید کی دعوت بھی دیتا ہوں ۔ (آیت) ” وما من الہ الا اللہ الواحد القھار “۔ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ تعالیٰ جو اکیلا ہے اور غالب ہے ، اس کے علاوہ نہ کوئی خالق ہے نہ مالک ہے نہ مدبر ہے ، نہ کوئی علیم کل ہے اور نہ قادر مطلق ہے ، یہ تمام صفات صرف ذات باری تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں ، لہذا وہ اکیلا ہی معبود ہے ہر چیز پر غالب ہے ہر عیب نقص اور کمزوری سے پاک ہے (آیت) ” فتعلی اللہ عما یشرکون “۔ (الاعراف ، 19) یہ مشرک لوگ جن چیزوں کو اس کا شریک بناتے ہیں وہ ان تمام چیزوں سے بلندو برتر ہے ، اللہ تعالیٰ کی یہ بادشاہی صرف اس دنیا تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ تو آخرت کے جہاں کا بھی بلاشرکت غیرے مالک ومختار ہے ، اس کا اعلان ہے (آیت) ” وان لنا للاخرۃ والاولی ‘۔ (13) یہ دنیا بھی ہماری ہے اور آخرت بھی ہماری ہے ہر دو جہانوں میں ہماری ہی حکومت ہے ، ہمارے سوا دونوں جہانوں میں کسی غیرکا حکم نہیں چلتا ۔ سورة کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے رسول نے مشرکین کو خدائے وحدہ لاشریک کی طرف دعوت دی تو وہ متعجب ہو کر کہنے لگے (آیت) ” اجعل الالھۃ الھا واحدا ، ان ھذا لشیء عجاب “۔ (آیت ، 50) کیا اس شخص نے سارے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا لیا ہے یہ تو بڑی عجیب بات ہے ، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں (آیت) ” وھو القاھر فوق عبادہ “۔ (الانعام ، 61) اور وہ اپنے تمام بندوں پر تسلط رکھتا ہے سب چیزیں اسی کے اختیار میں ہیں ۔ فرمایا خدائے واحد کی ایک صفت یہ بھی ہے (آیت) ” رب السموت والارض وما بینھما “۔ وہ آسمانوں ، زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کا پروردگار ہے عالم بالا ہو یا عالم زیریں درمیانی فضا ہو یا فضائی کرے سورج ، چاند ، ستارے وغیرہ سب کا رب وہی ہے وہ ” العزیز “ کمال قدرت کا مالک اور ہر چیز پر غالب ، اور ” الغفار “ و بخشش کرنے والا ہے وہ بڑا مہربان ہے ، اپنے بندوں پر فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ سنبھل جانے اور توبہ کرلینے کا موقع دیتا ہے ، اگر انسان اس کی طرف رجوع کرلے اور تائب ہوجائے تو وہ نہ صرف غلطیوں کو معاف کردیتا ہے بلکہ گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے بلند درجہ بھی عطا کرتا ہے ۔ (قیامت بطور بڑی خبر) اگلی دو آیات میں وقوع قیامت کا ذکر ہے ، ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر ﷺ قل آپ کہہ دیجئے (آیت) ” ھو نبؤ عظیم “ کہ یہ ایک بڑی خبر ہے اس سے مراد قیامت کی خبر ہے جیسے سورة النبا کی آغاز میں فرمایا (آیت) ” عم یتسآء لون ، عن النبا العظیم “۔ یہ لوگ کس چیز کے بارے میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے ؟ کیا بڑی خبر کے بارے میں یعنی قیامت کے متعلق جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں ؟ علامہ زمخشری (رح) فرماتے ہیں کہ ھو کا اشارہ نہ صرف وقوع قیامت کے متعلق ہے بلکہ توحید و رسالت کی طرف بھی ہے توحید کا مسئلہ بھی عظیم خبر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سارے نبیوں نے لوگوں تک پہنچایا ، دوسری طرف نبی کی نبوت و رسالت بھی بہت بڑی خبر ہے ، خدا کی توحید کو لوگوں تک پہنچانے اور دین اور شریعت کے احکام کی تبلیغ نبوت و رسالت کے ذریعے ہی ہوتی رہی ہے اسی طرح نزول قرآن پاک بھی ایک عظیم خبر ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو وحی کے ذریعے نازل فرمایا اللہ تعالیٰ کے نبی نے نہ تو کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا ، نہ کسی سے علم حاصل کیا ، نہ کوئی کتابیں پڑھیں مگر اس کے باوجود آپ نے امت کو تمام علوم سے آگاہ کیا یہ سب کچھ وحی الہی کے ذریعے ممکن ہوا اور یہی اس کتاب کی صداقت کی دلیل ہے بہرحال فرمایا کہ قیامت ، توحید ، رسالت یا قرآن حکیم ایک بہت بڑی خبر ہے (آیت) ” انتم عنہ معرضون “۔ مگر تم اس سے اعراض کرنے والے ہو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت بیان فرمائی ہے جو وقوع قیامت کے منکر ہیں یا اس کی توحید اور رسالت کو تسلیم نہیں کرتے یا قرآن پاک کو وحی الہی ہونے کا یقین نہیں کرتے ۔ (ملاء اعلی) اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی جماعت ملاء اعلی کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے ، (آیت) ” ماکان لی من علم بالملاء الاعلی اذ یختصمون “۔ مجھے ملاء اعلی کے متعلق کچھ علم نہیں تھا جب کہ وہ تکرار کر رہے تھے ، ملاء اعلی قرآن وسنت کی اصطلاح ہے جس کا لغوی معنی بلند جماعت ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن پاک اور صحیح احادیث میں ملاء اعلی کا ذکر موجود ہے جس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے ، پھر فرماتے ہیں (1) (حجۃ اللہ البالغہ ص 23 ج 1) کہ یاد رکھو ! اس کائنات یعنی ارض وسما ، چاند ، سورج ، سیارے اور ستارے ، ان سب سے اربوں کھربوں سال پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی جماعت ملاء اعلی کو پیدا فرمایا ، اللہ تعالیٰ ازل سے جانتا تھا کہ نوع انسانی کی مصلحت فرشتوں پر موقوف ہے ، لہذا اس نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے فرشتوں کو اس قدر پہلے پیدا کیا کہ جس کا ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ، اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کے ذمے بعض کام لگا رکھے ہیں (آیت) ” لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یؤمرون “۔ (التحریم : 60) فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے بلکہ وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے ۔ فرشتوں کے فرائض میں سے ایک فریضہ یہ بھی ہے کہ وہ ان لوگوں کے حق میں دعائیں کرتے ہیں جنہوں نے اپنے نفس کو مہذب بنایا ہے اور وہ لوگوں کی اصلاح کو کوشش کرتے ہیں ، اس کے برخلاف جو لوگ غیر مہذب ناشائستہ اور عقیدہ ، عمل اور اخلاق کے لحاظ سے بدتر ہوتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں تو ملاء اعلی کے یہ فرشتے ان کے حق میں لعنت بھیجتے رہتے ہیں جن لوگوں کے لیے فرشتے دعائیں کرتے ہیں ان پر دعاؤں کی برکات نازل ہوتی ہیں اور دعاؤں کا اثر انسانوں پر ظاہر ہوتا ہے ایسے لوگوں کو ترقی نصیب ہوتی ہے اور ان کے لیے جزائے عمل میں مزید بہتری پیدا ہوتا ہے ، پھر جن کے حق میں فرشتے بددعائیں کرتے ہیں ان کی ذات میں حسرت وافسوس اور ندامت پیدا ہوتی ہے ، اور ان کے جزائے عمل میں خرابی آتی ہے ، باعتبار جماعت ان فرشتوں کو ملاء اعلی کہا جاتا ہے ، باعتبار مجلس ان کا نام اعلی اور باعتبار رفاقت ان کا نام رفیق اعلی ہے حضور ﷺ نے وفات کے وقت یہی دعا کی تھی ” اللھم الرفیق الاعلی “۔ اے اللہ ! مجھے رفیق اعلی میں پہنچا دے ۔ (ملاء اعلی کے تین درجات) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں (1) (حجۃ اللہ البالغہ ص 16 ج 1) کہ ملاء اعلی کے فرشتوں میں تین درجہ پائے جاتے ہیں پہلے درجے کی جماعت کا مادہ تخلیق بہت ہی بسیط اور لطیف ہے ان کے مادہ تخلیق کی مثال کوہ طور پر نظر آنے والی آگ کی سی ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپس اپنے وطن آرہے تو انہوں نے طور پر آگ دیکھی قریب گئے تو دیکھا کہ وہ آگ ایک درخت سے پھوٹ رہی تھی مگر اس کو جلاتی نہیں تھی مگر درخت کی سرسبزی میں مزید اضافہ ہو رہا تھا مسلم شریف کی روایت کے مطابق وہ حجاب ناری تھا یا حجاب نوری تھا مطلب یہ کہ ملا اعلی کے پہلے درجے کے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے ان میں نہایت لطیف روحیں پیدا کی ہیں اور ان کو بہت بڑی طاقت عطا فرمائی ہے ان کی توجہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی تجلی اعظم کی طرف لگی رہتی ہے ۔ ملاء اعلی کی دوسرے درجے کی جماعت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عالم ۔۔۔۔۔ کے لطیف عناصر سے پیدا کیا ہے اور یہ بھی بڑے لطیف فرشتے ہیں یہ جماعت بھی پہلی جماعت کے ساتھ ملی ہوئی ہے شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ملاء اعلی کی تیسری جماعت افاضل الآدمیین کی ہے انسانوں میں افضل ترین لوگ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور کاملین بھی اپنا مادہ دور ختم کرنے کے بعد ملاء اعلی میں شامل ہوجاتے ہیں ملاء اعلی کے ملائکہ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان کسی نہ کسی طرح سفارت کا کام دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اسی کے ذریعے کائنات تک فیض پہنچاتا ہے مخلوق پہ نازل ہونے والی راحت ہو یا تکلیف ، خوشحالی ہو یا بدحالی باران رحمت ہو یا خشک سالی سب انہی فرشتوں کے واسطہ سے نافذ العمل ہوتی ہیں جس مقام میں یہ جماعت رہتی ہے اس کو حظیرۃ القدس کہا جاتا ہے اسی مقام پر اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر کے فیصلے نازل ہوتے ہیں اور پھر آگے کائنات میں جاری ہوتے ہیں انسانوں میں سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام یا دیگر کاملین کی روحیں جب اس مادی جسم کو چھوڑتی ہیں تو وہ بھی اس رفیق اعلی میں پہنچ جاتی ہیں ۔ (ملاء سافل) ملاء اعلی کے بالمقابل ملاء سافل ہوتے ہیں ، ان کا مقام حظیرۃ القدس سے نیچے ہوتا ہے ، ان فرشتوں کے آگے بیت سے طبقات ہیں ان میں سے بعض قبر اور برزخ میں متعین ہیں کوئی زمین پر اور کوئی فضا میں ، بعض سمندروں میں اور بعض انسانی اجسام کے اندر متعین ہیں بعض فرشتے انسان کی حفاظت پر مامور ہیں بعض انسانوں کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں اور بعض کو اللہ تعالیٰ نے دیگر امور پر مقرر کر رکھا ہے ، جب ان تمام فرشتوں کی روشنی بیک وقت چمکتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جس طرح بہت سے بلب بیک وقت روشن کردیے گئے ہوں اور پھر یہ روشنی جس مقام تک پھیلتی ہے اس کو علیین کہا جاتا ہے ۔ (تشریح بزبان رسول) فرمایا مجھے تو علم نہیں تھا کہ فرشتے کس بات میں تکرار کر رے تھے اس تکرار کے متعلق مفسرین کرام دو تفسریں پیش کرتے ہیں پہلی تفسیر تو یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے متعلق فرشتوں میں بات چیت ہوئی ، جس کا ذکر آگلی آیات میں آرہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو تخلیق کیا تو فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا سب فرشتے سربسجود ہوگئے مگر ابلیس نے اس بناء پر انکار کردیا کہ وہ آدم سے افضل ہے لہذا اور اس کو سجدہ نہیں کرسکتا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے راندہ درگاہ ٹھہرایا اور قیامت تک کے لیے اس پر لعنت مسلط کردی گئی ایک تو یہ تکرار ہے ۔ دوسری تشریح خود حضور ﷺ کی زبان مبارک سے ہے مسند احمد اور ترمذی شریف میں یہ روایت موجود ہے جو کہ محدثین کے نزدیک صحیح ہے حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضور ﷺ فجر کی نماز کے لیے کافی دیر سے تشریف لائے یہاں تک کہ ہمیں خطر لاحق ہوگیا کہ کہیں سورج نہ نکل آئے آپ جلد سے تشریف لائے اقامت کہی گئی اور آپ نے وقت کی تنگی کی وجہ سے ہلکی نماز پڑھائی سلام پھیرنے کے بعد آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہو ، پھر آپ نے اس طرح ارشاد فرمایا ، ” انی قمت من الیل فصلیت ما قدرلی فنعست فی صلوتی فرایت ربی فی احسن صورۃ فقال یا محمد ھل تدری فی ما یختصم الملاء الاعلی فقلت لا ادری ثلاث مرات فرایتہ فوضع کفہ بین کیفی حق وجدت بردھا فی نحری فعلمت مافی السموت وما فی الارض ، قال یا محمد ھل تدری فی ما یختصم الملا الاعلی قلت نعم فی الکفارات نقل الاقدام الی الجماعت المکث فی المسجد بعد الصلوۃ واسباغ ولوضوء فی لمکارہ قال وما الدرجات قلت اطعام الطعام ولین الکلام والصلوۃ والناس نیام ثم قال سل فقلت اللھم انی اسئلک فعل الخیرت وترک المنکرت وحب المساکین وان تغفرلی وترحمنی واذا اردت بقوم فتنۃ فتوفنی غیر مفتور واسئلک حبک وحب من تحیک وحب عمل یقربنی الی حبک “۔ میں رات کو بیدار ہوا اور نماز پڑھی جتنی مقدار میں تھی مجھ پر دوران نماز ہی اونگھ طاری ہوگئی اور میں بوجھل ہوگیا ، میں نے اسی حالت میں اپنے پروردگار کو بہت ہی عمدہ صورت میں دیکھا تو اس نے فرمایا اے محمد (ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ جانتے ہیں کہ ملاء اعلی کس چیز میں تکرار کر رہے ہیں میں نے عرض کیا پروردگار میں تو نہیں جانتا ، اللہ نے یہ سوال تین دفعہ کیا اور میں نے تینوں مرتبہ وہی جواب دیا پھر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا دست قدرت میرے کندھے کے درمیان رکھا ، یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی اور پھر ہر چیز مجھے روشن نظر آنے لگی اور میں نے پہچان لیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد (ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بتلاؤ کہ ملاء اعلی کس بات میں تکرار کر رہے ہیں تو میں نے عرض کیا کہ وہ گناہوں کے کفاروں کے بارے میں تکرار کر رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کفارات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا جماعت میں شریک ہونے کے لیے پاؤں سے چل کر جانا (جب کہ ہر ہر قدم کا اٹھنا غلطیوں کا کفارہ بنتا ہے اور درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے ) نیز فرمایا مساجد میں نماز کے بعد بیٹھنا ، تکلیف برداشت کرکے کامل وضو بنانا (یعنی گرمی سردی کی پرواہ کیے بغیر اچھی طرح وضو کرنا) پھر مجھ سے اللہ تعالیٰ نے پوچھا درجے کیا ہیں ؟ تو میں نے عرض کیا ، محتاجوں کو کھانا کھلانا ، نرمی سے بات کرنا اور راتوں کو نماز پڑھنا جب کہ لوگ سو رہے ہوں پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا مانگ کیا مانگتے ہو تو میں نے عرض کیا مولا کریم ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے ، منکرات کے ترک کرنے کی اور مساکین کے ساتھ محبت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں اور یہ کہ تو مجھے میری کوتاہیاں معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرمانے اور جب کسی قوم کے بارے میں آزمائش کا ارادہ کرے تو مجھے اس سے پہلے اٹھا لے اور پروردگار میں سوال کرتا ہوں تیری محبت کا اور اس کی محبت کا جو تجھ سے محبت کرے اور اس عمل کی محبت کا جو مجھے تیرے قریب کردے ، پھر حضور ﷺ نے فرمایا یہ بات برحق ہے لہذا اس کو سیکھو اور سکھلاؤ بعض کہتے ہیں کہ سارا واقعہ حضور ﷺ کو بیداری کی حالت میں پیش آیا مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ آپ نے خواب میں دیکھا ۔ اس آیت کریمہ میں (آیت) ” یختصمون “ کا لفظ آیا ہے جس کا معنی تکرار یا جھگڑا کرنا ہوتا ہے مگر شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اس مقام پر فرشتوں کے جھگڑے کی بات نہیں ہے بلکہ اس سے مراد عام بات چیت یا بحث مباحثہ ہے جو وہ آپس میں کرتے ہیں ۔ (تجلی اعظم کے اثرات) اس حدیث پاک سے حضور ﷺ کے لیے علم غیب ثابت نہیں ہوتا کیونکہ علم غیب تو جب ہوگا جب ہر چیز کا ہر وقت علم ہو ، اور یہ خاصئہ خداوندی ہے حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے تجلی فرمائی تو ہر چیز روشن ہوگئی اور جب وہ تجلی دور ہوگئی تو پھر کچھ نظر نہ آیا یہ تو وہی بات ہے ۔ گہے برطارم اعلی نشینم گہے برپائے پشت خود نہ بینم : ہماری حالت تو یہ ہے کہ جب ہم اونچے محل پر ہوتے ہیں تو ہر چیز نظر آتی ہے اور کبھی یہ حالت ہوتی ہے کہ اپنے پاؤں پر رکھی ہوئی چیز بھی نظر نہیں آتی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اڑھائی سو میل سے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آگئی مگر جب وہ ایک میل کے فاصلے پر کنوئیں میں پڑے ہوئے تھے تو کچھ پتہ نہ چلا مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک موقعہ پر حضور ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین سے فرمایا ” سلونی ما دمت فی مقامی ھذا “ یعنی جب تک میں ا س مقام پر کھڑا ہوں جو چاہے سوال کرلو ، میں جواب دوں گا ، اس وقت تجلیات کا نزول ہو رہا تھا جس سے ہر چیز روشن نظر آرہی تھی ، چناچہ دو آدمیوں نے سوال کیا جن کے حضور ﷺ نے جواب دیے پھر حضرت عمر ؓ نے آگے بڑھ کر کہا ” رضیت باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد رسولا ونبیا “ میں راضی ہوں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور حضرت محمد ﷺ کے نبی اور رسول ہونے پر ، حضرت عمر ؓ نے یہ کہہ کر اس سلسلہ کلام کو ختم کرا دیا تاکہ کوئی شخص الٹا سیدھا سوال نہ کر دے اور پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہی نہ نازل ہوجائے اس وقت حضور ﷺ جوش کی حالت میں تھے اور آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا ، پھر مذکورہ الفاظ سن کر آپ خاموش ہوگئے ، ۔ (رسالت کی حقانیت) یہاں تک جتنی باتیں بیان ہوئی ہے یہ سب اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے حضور ﷺ کو بتلائیں اسی بات کو حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا (آیت) ” ان یوحی الی الا انما انا نذیر مبین “۔ میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں کھول کر ڈر سنانے والا ہوں ، میں نے نہ تو کتابیں پڑھیں اور نہ کسی سے کچھ سیکھا ، بلکہ میں تو تمہیں وہی باتیں بتلاتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعے سکھلائیں اور یہی میری نبوت کی حقانیت کی دلیل ہے مشرکوں کے عقیدے کے برخلاف نہ تو میں خدا ہوں اور نہ حاجت روا اور مشکل کشا میں تو برائی اور عقائد فاسدہ کے انجام سے کھول کر ڈر سنانے والا ہوں میں لوگوں کو خبردار کرتا ہوں کہ اگر برائی کو اختیار کرو گے تو اس کا نتیجہ بھی برائی کی صورت میں ہی نکلے گا ۔
Ayahs 38:71–85

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

جب فرمایا تیرے پروردگار نے فرشتوں سے بیشک میں پیدا کرنے والا ہوں انسان مٹی سے ۔

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

جب میں اس کو برابر کر دوں اور پھونک ڈالوں اس کے اندر اپنی طرف سے روح پس گر پڑو تم اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے ۔

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

پس سجدہ کیا فرشتوں نے سب کے سب نے ۔

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

مگر ابلیس نے تکبر کیا اور تھا وہ کفر کرنے والے میں ۔

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

فرمایا (اللہ تعالیٰنے اے ابلیس ! ) کس چیز نے روکا تجھے سجدہ کرنے سے اس کے سامنے جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا کیا تو نے تکبر کیا ہے یا تو بڑے درجے والوں میں ہے ۔

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

اس نے کہا میں بہتر ہوں اس سے ، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے ۔

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

فرمایا (اللہ تعالیٰنے) نکل جاؤ یہاں سے بیشک تم مردود ہو ۔

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور بیشک تجھ پر میری لعنت ہے انصاف کے دن تک ۔

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 38:79 in the Quran reader

کہا اس (ابلیس) نے اے میرے پروردگار ! پس مہلت دے مجھے اس دن تک جس دن یہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 38:80 in the Quran reader

فرمایا (اللہ تعالیٰ نے) بیشک تو مہلت دیے ہوؤں میں سے ہے ۔

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 38:81 in the Quran reader

ایک معلوم وقت کے دن تک ۔

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 38:82 in the Quran reader

کہا اس نے پس تیری عزت کی قسم ہے میں ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا ۔

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 38:83 in the Quran reader

ہاں ! مگر جو تیرے مخلص بندے ہوں گے ان میں سے ۔

قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ Open ayah 38:84 in the Quran reader

فرمایا پس ٹھیک بات ہے اور ٹھیک بات ہی میں کہتا ہوں ۔ ۔

لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 38:85 in the Quran reader

اور میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو تجھ سے اور ان میں سے کہ جنہوں نے پیروی کی تیری ان میں سے سب کے سب سے ۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا اور پھر اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کا ذکر بھی کیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد اور قہار ہے اور جو ارض وسما اور ان کے درمیان کی چیزوں کا پروردگار ہے پھر اللہ تعالیٰ نے توحید رسالت اور نزول قرآن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو ، مجھے تو ملاء اعلی کی تکرار کا علم نہیں تھا میری طرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمائی ہے ، ملاء اعلی کے متعلق حضور ﷺ نے خود بھی تشریح فرمائی ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اگلی آیات میں آمد و تخلیق آدم کا واقعہ بھی ملاء اعلی کے بحث مباحثہ کا موضوع تھا ۔ (تخلیق آدم علیہ السلام) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اذ قال ربک للمئکۃ “۔ اس واقعہ کو دھیان میں لاؤ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا (آیت) ” انی خالق بشر من طین “۔ کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں اور ساتھ یہ حکم بھی دای (آیت) ” فاذا سویتہ “ پھر جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک بنادوں یعنی انسانی ڈھانچے کے گوشت پوست ہڈیوں جوڑوں اور تمام اعضاء کو اپنے اپنے مقام پر درست طور پر رکھ دوں اور اس کی ظاہری اور باطنی قوی کو مکمل کر دوں (آیت) ” ونفخت فیہ من روحی “۔ اور اس میں اپنی جانب سے روح بھی پھونک دوں ، انسان مادہ اور روح دونوں چیزوں سے مرکب ہے انسانی ڈھانچہ تو مادی عناصر سے تیار ہوتا ہے مگر اس کی روح عالم بالا کی طرف سے آتی ہے جب انسانی تخلیق کے ابتدائی چار ماہ گزر جاتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس میں روح ڈال دی جاتی ہے یہ روح اس نسمہ میں ڈالی جاتی ہے جو انسانی جسم کے ساتھ ہی پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے اور پھر اس روح کی وجہ سے انسان میں صفات کمال پیدا ہوتی ہیں ۔ (فرشتوں کا سجدہ ابلیس کا انکار) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا جب میں آدم (علیہ السلام) کا ڈھانچہ تیار کرکے اس میں اپنی جانب سے روح پھونک دوں (آیت) ” فقعوالہ سجدین “۔ تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا ، اس سے آدم (علیہ السلام) کا شرف وفضیلت ظاہر کرنا مراد تھا چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین کی تھوڑی تھوڑی مٹی لے ڈھانچہ مکمل کیا اور پھر اس میں روح ڈالی (آیت) ” فسجدالملئکۃ کلھم اجمعون “۔ تو سب کے سب فرشتے سجدہ ریز ہوگئے ، (آیت) ” الا ابلیس “ سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ نہ کیا (آیت) ” استکبر “ اس نے تکبر کیا (آیت) ” وکان من الکفرین “ اور وہ کفر کرنے والوں میں تھا ۔ یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سجدے کا حکم تو فرشتوں کو دیا تھا مگر ابلیس کا انکار درمیان میں کیسے آگیا تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اعلی درجے کی مخلوق کے لیے حکم ادنی درجہ کی مخلوق پر خود بخود عائد ہوتا ہے چانچہ جب فرشتوں کو سجدے کا حکم ہوا تو ان سے ادنی مخلوق جنات پر یہ حکم بطریق اولی عائد ہوگیا مطلب یہ کہ فرشتوں کے ساتھ جنات کو بھی سجدے کا حکم دیا گیا تھا اس بات کی صراحت سورة الاعراف میں آمدہ مضمون سے بھی ہوتی ہے جب ابلیس نے سجدہ سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مخاطب کر کے فرمایا (آیت) ” مامنعک الا تسجداذ امرتک “۔ (آیت 12) جب میں نے تجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا تو پھر کس چیز نے تمہیں اس سے روکا ؟ معلوم ہوا کہ فرشتوں کے ساتھ ساتھ جنوں کو بھی سجدے کا حکم ہوا اور ابلیس جنات میں سے تھا جیسے فرمایا (آیت) ” کان من الجن ففسق عن امر ربہ “۔ (الکہف : 50) یہ جنات میں سے تھا پس اس نے اپنے پروردگار کے حکم کی نافرمانی کی ۔ آیت زیر درس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام طبقات کے فرشتے سجدہ ریز ہوئے تھے تاہم امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم صرف ملاء سافل کے لیے تھا اور ملاء اعلی کے فرشتے اس حکم میں شامل نہیں تھے ، اور جنات ملاء سافل میں ہی رلے ملے تھے ، لہذا فرشتوں اور جنات سب کو سجدے کا حکم ہوا تھا ممکن ہے کہ صرف ملاء سافل کو حکم ہوا ہو یا سارے کے سارے فرشتے شامل تھے ، بہرحال ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا کیونکہ وہ متکبر تھا اور کافروں میں سے تھا ۔ (ابلیس سے باز پرس) ابلیس کے انکار پر اللہ تعالیٰ نے اس سے اس طرح باز پرس کی ” قال “ فرمایا (آیت) ” یابلیس مامنعک ان تسجد لما خلقت بیدی “۔ اے ابلیس ! تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا تھا اس کے سامنے جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا تھا (آیت) ” استکبرت “ کیا تو نے تکبر کیا تھا ؟ (آیت) ” ام کنت من العالین “ یا تو نے اپنے آپ کو اونچے درجے والا سمجھا ، ” قال “ ابلیس نے جواب دیا (آیت) ” انا خیر منہ “ کہ میں تو اس سے بہتر ہوں ، پھر بھلا میں آدم (علیہ السلام) کے سامنے کیوں سجدہ ریز ہوتا اور بہتری کی وجہ یہ بیان کی (آیت) ” خلقتنی من نار وخلقتہ من طین “۔ پروردگار ! میری تخلیق تو تو نے آگ سے کی جب کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا آگ لطیف اور بلند چیز ہے جب کہ مٹی ایک کثیف چیز ہے تو پھر بھلا میں اعلی ہر کر آدنی کے سامنے کیوں سجدہ کروں ، گویا اس نے تکبر کی وجہ سے آدم (علیہ السلام) کو حقیر جانا جس کی وجہ سے فرشتوں کے ساتھ انجام پانے والی اس کی لاکھوں سال کی تسبیح اور دیگر عبادات رائیگاں چلی گئیں ۔ (اللہ تعالیٰ کے ساتھ) ان آیات میں بیان کردہ دو چیزیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اگر بعینہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بھی انسانوں کے ہاتھوں جیسے تصور کئے جائیں تو یہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے جسم ثابت ہوگا اور یہ کفر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جسم ، جہت اور مادیت سے وراء الوراء ہے انسان اللہ تعالیٰ کی ذات کو عقل سے نہیں سمجھ سکتا کیونکہ اس کی ذات بےمثل اور بےمثال ہے اس کا اپنا ارشاد ہے (آیت) ” لیس کمثلہ شیئ “۔ (الشوری۔ 11) اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے ہم ہر وقت اس کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں اور سبحان اللہ کہتے ہیں تو اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب ، نقص اور مادیت سے پاک اور منزہ ہے لہذا ہمیں یہی اعتقاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ تو ہیں مگر مخلوق کے ہاتھوں کی طرح نہیں بلکہ جس اس کی شان کے لائق ہیں ہم اسے خیال میں لانے سے قاصر ہیں ، بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ، وہاں بائیں کا بھی کوئی تصور نہیں ہے کیونکہ بایاں ہاتھ کمزوری اور عیب کی علامت ہے کہ ہم اس سے استنجا پاک کرتے ہیں اور نجاست کو دور کرتے ہیں ، لہذا اگر بائیں کی نسبت خدا کی طرف کی جائیگی تو اس سے عیب ثابت ہوگا جو کہ خدا کی شان کے لائق نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کے علاوہ بعض دیگر اعضاء مثلا چہرہ ، پنڈلی روا آزار اور قدم کا ذکر بھی آتا ہے بعض روایات میں قدم کو دوزخ میں ڈالنے اور پنڈلی کو کھولنے کا ذکر بھی ملتا ہے تو اس سلسلہ ۔۔۔۔۔ مسلک یہ ہے یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں یہودی کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں وہ نعوذ باللہ بخیل ہوگیا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” بل یدہ مبسوطتن ، ینفق کیف یشآئ “۔ (المائدہ 64) بلکہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں مگر وہ اپنی مرضی سے خرچ کرتا ہے جسے چاہے دیتا ہے اور جسے چاہے روک لیتا ہے ، یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھوں کا ذکر ہے اور آیت زیر درس میں بھی فرمایا کہ میں نے آدم (علیہ السلام) کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تخلیق کیا تو دیگر اعضاء کی طرح اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بھی اس کی صفات میں داخل ہیں اور یہ ویسے ہی ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ دونوں ہاتھوں کے مجازی معنی مراد ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور قوت کے ہاتھ ، انسان کی تخلیق میں مادیت اور لطافت دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے مادی جہان کے تمام عناصر کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور عالم بالا سے آنے والی روح کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے تو اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ بایں معنی مراد ہیں کہ مادیت اور لطافت دونوں اشیاء اسی کی پیدا کردہ ہیں ۔ (آگ اور مٹی کا تقابل) ان آیات میں پیش آمدہ دوسری قابل غور چیز آگ اور مٹی کا تقابل ہے ابلیس نے اپنی برتری بایں وجہ جتلائی کہ آگ چمکدار ، تیز اور طیش والی ہے جب کہ مٹی میں عجزوانکساری پائی جاتی ہے اور یہ پاؤں کے نیچے پامال ہوتی ہے بشار ابن برد ایک مجوسی شاعر گزرا ہے کہتے ہیں کہ یہ بعد میں مسلمان ہوگیا تھا مگر حقیقت میں وہ آتش پرست ہی تھا ظاہر ہے کہ آگ کی پوجا کرنے والے اور اس کو معبود ماننے والے اسی کو اعلی وارفع بتلائیں گے چناچہ اس نے ابلیس کی ہمہ نوائی میں مزاحیہ انداز میں کچھ اشعار کہے تھے ۔ ابلیس افضل من ابیکم ادم فتبینوا یا معشر الاشرار النار عنصرہ وادم طینۃ والطین لا یسموسموا لنار الارض مظلمۃ والنار مشرقۃ والنار معبودۃ مذکانت النار : اے گروہ اشرار ! ابلیس تمہارے جد امجد آدم (علیہ السلام) سے افضل ہے کیونکہ ابلیس کا مادہ تخلیق آگ ہے اور آدم (علیہ السلام) کا مٹی ہے اور مٹی آگ کی بلندی کو نہیں پہنچ سکتی ، آگ چمکدار ہے جب کہ مٹی تاریک ہے اور آگ جب سے پیدا ہوئی ہے اس کی پوجا ہو رہی ہے اس کے بچاری مجوسی آگ کو چوبیس گھنٹے آتش کدہ میں جلائے رکھتے ہیں ۔ غرضیکہ ابلیس نے اپنے آپ کو ناری ہونے کی بناء پر برتر ظاہر کیا جبکہ حضرت مجدد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو شرف مٹی اور خاک کو بخشا ہے وہ تو فرشتوں میں بھی نہیں پایا جاتا ہے فرشتوں پر اللہ تعالیٰ کی صفاتی تجلیات پڑتی ہیں جب کہ انسان اس کی واحد مخلوق ہے جس پر اس کی ذاتی تجلیات کا نزول ہوتا ہے ابلیس کو دھوکہ ہوا جو آگ کی ظاہری چمک دمک پر مفتون ہوگیا اور آدم (علیہ السلام) پر اپنی برتری جتلائی ، حقیقت یہ ہے کہ آگ میں طیش ، گرمی اور اچھلنے کا مادہ تو ہے مگر اس میں سکون کی دولت نہیں ہے ، وقار ، تواضع اور انکساری نہیں ہے اور یہی وہ چیزیں ہیں جو مٹی کو آگ پر فوقیت دلاتی ہیں ۔ (ابلیس پر لعنت) جب ابلیس نے سجدہ ریز ہونے سے انکار کردیا اور غرور وتکبر کی بنا پر اپنی برتری کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” قال فاخرج منھا “َ یہ ان سے نکل جاؤ ابلیس فرشتوں کے ساتھ ہی رہتا تھا اور جنت میں بھی اس کی آمد ورفت تھی مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہاں سے دفع ہوجاؤ ، (آیت) ” فانک رجیم “۔ تم مردود ہو (آیت) ” وان علیک لعنتی الی یوم الدین “۔ تم پر انصاف کے دن یعنی قیامت تک میری لعنت اور پھٹکار ہی پڑتی رہے گی ، رجیم کا معنی پھینکا ہوا یا مارا ہوا تم میری رحمت سے دور ہوچکے ہو لہذا تم پر قیامت تک لعنت ہی برستی رہے گی (آیت) ” قل رب فانظرنی الی یوم یبعثون “۔ کہ ابلیس کہنے لگا ، پروردگار ! مجھے مہلت دے دے اس دن تک جب یہ لوگ دو بار اٹھائے جائیں گے مجھے اختیار دے دے کہ میں اس دن تک تیرے بندوں کو گمراہ کرتا رہوں تا کہ ثابت کرسکوں کہ آدم کو مجھ پر فضیلت نہیں ہے (آیت) ” قال فانک من المنظرین “۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا پس بیشک تو مہلت دے ہوؤں میں سے ہے تجھے اجازت ہے کہ انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے پورا پورا زور لگالے مگر یہ مہلت (آیت) ” الی یوم الوقت المعلوم “۔ ایک معلوم وقت کے دن تک ہے اس سے مراد پہلے صور پھونکے جانے کا دن ہے جب ہر چیز فنا ہوجائے گی اور بعض اس کے بعد دوسرے صور پھونکے جانے پر ہوگا ۔ ابلیس فنا کے بعد والا وقت بھی چاہتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے وہ نہیں دیا کیونکہ اس کے بعد تو ابلیس کو عملی طور پر سزا ملنی شروع ہو جائیگی ، سورة مریم میں ہے (آیت) ” فوربک لنحشرنھم والشیطین ثم لنحضرنھم حول جھنم جثیا “۔ (آیت : 68) تیرے پروردگار کی قسم ہم ان کو اور شیاطین کو اکٹھا کریں گے پھر انہیں جہنم کے گرد حاضر کریں گے اور وہ گھٹنوں کے بل گرنے والے ہوں گے ، اس وقت شیطان کے بچاری اس کی ملامت کریں گے کہ تیرے اغوا کی وجہ سے ہمیں جہنم کا مزا چکھنا پڑا ، مگر وہ صاف انکار کر دے گا کہ میں نے تم سے کوئی بات جبرا تو نہیں منوائی تھی میں نے تو صرف وسوسہ اندازی کی تھی اور تم نے نیک لوگوں کی بات پر یقین نہ کیا اور میری بات کو سچا تسلیم کرلیا (آیت) ” ولا تلومونی ولوموا انفسھم “۔ (ابراہیم 22) آج مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو کیونکہ تم نے خود ہی غلط راستہ اختیار کیا ۔ محدثین اور مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے ابلیس جیسے ملعون کی دعا بھی قبول کرلی اور اسے قیامت تک کے لیے مہلت دیدی اس کا مطلب یہ ہوا کہ دعا کی قبولیت نیکی کی علامت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ چاہے تو بدترین شخص کی دعا بھی قبول کرلے ، مسند احمد شریف کی روایت میں آتا ہے کہ آخر زمانہ کے سخت نافرمان اور ناہنجار لوگوں کی دعا بھی اللہ تعالیٰ قبول کرے گا ۔ (شیطان کا اغوا) جب شیطان کو حسب خواہش مہلت مل گئی تو اس نے اپنی بدبختی کا کھل کر اظہار کردیا (آیت) ” قال فبعزتک لاغوینھم اجمعین “۔ کہنے لگا ، تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کروں گا میں ان کے دائیں بائیں ، آگے پیچھے سے ، دنیا کے راستے سے ، دین کے راستے سے ، خواہشات کے راستے ، آخرت کے راستے سے ، غرضیکہ ہر راستے سے آکر انکو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا ، چناچہ حضور ﷺ کا فرمان مبارک بھی ہے کہ جب کوئی آدمی جہاد کے لیے نکلتا ہے ، نماز کے لیے جاتا ہے یا صدقہ خیرات کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اس کے دل میں وسوسہ اندازی کرکے اسے ہر نیک کام سے روکنے کی کوشش کرتا ہے ، تو ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر کہا کہ میں ضرور ان کو گمراہ کروں گا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے ، اس کا علاج بھی پیدا فرمایا ہے چناچہ جب شیطان نے قسم اٹھا کر انسانوں کو گمراہ کرنے کا وعدہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا کہ مجھے میری عزت بڑائی عظمت اور جبروت کی قسم ہے کہ میرے بندے جب تک مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے میں انہیں معاف کرتا رہوں گے گویا اللہ تعالیٰ نے گمراہی جیسی مہلک بیماری کا علاج بھی پیدا کردیا ، لہذا انسانوں کو چاہئے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے رہیں ۔ (مخلصین کا استثنی) شیطان نے اغوا کی قسم تو اٹھالی کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا مگر ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کو مستثنی بھی کردیا ، (آیت) ” الا عبادک منھم المخلصین “۔ ان میں سے تیرے مخلص بندوں پر میرا داؤ نہیں چلے گا ، لہذا وہ میرے اغواء سے بچ جائیں گے ، حقیقت بھی یہی ہے کہ ابلیس کا داؤد پیچ عام لوگوں پر ہی چلتا ہے جب کہ اس کے منتخب اور برگزیدہ بندے محفوظ رہتے ہیں (آیت) ” قال فالحق “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیری بات تو ٹھیک ہے کہ میرے مخلص بندے تیرے اغوا میں نہیں آئیں گے (آیت) ” والحق اقول “۔ اور میں بھی حق بات ہی کہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جو انسان تیری پیروی کریں گے (آیت) ” لاملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین “۔ میں تجھے اور تیرے تمام پیروکاروں کو جہنم میں ڈال کر جہنم کو بھر دوں گا ، میرطرف سے بھی یہ اعلان ہے ، اب یہ انسانوں کا کام ہے کہ وہ ابلیس کے اغوا کا شکار ہو کر جہنم کا ایندھن بنتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی توحید اور ایمان کو تسلیم کرکے اس کے مخلص بندوں میں شامل ہوتے ہیں ۔
Ayahs 38:86–88

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ Open ayah 38:86 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے (اے پیغمبر ﷺ میں نہیں مانگتا تم سے اس (پیغام رسانی) پر کوئی بدلہ اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں ۔

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 38:87 in the Quran reader

نہیں ہے یہ (قرآن حکیم) مگر نصیحت تمام جہان والوں کے لیے ۔

وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ Open ayah 38:88 in the Quran reader

اور البتہ تم ضرور جان لوگے اس کی خبر کو ایک وقت کے بعد ۔

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دین کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت وقوع قیامت اور قرآن کی حقانیت بیان کے ہیں ، رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بطور نمونہ پیش کرکے ان کے صبر و استقلال کا ذکر کیا ہے ، علاوہ ازیں مشرکین کا رد ، سابقہ اقوم کی نافرمانیاں اور تکذیب رسل کا ذکر ہے اور پھر نافرمان قوموں کی سزا کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور دیگر نیک بندوں کے انعامات کا ذکر بھی فرمایا ہے ، خاص طور پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی نبوت و رسالت ، اقتدار وخلافت اور کتاب و شریعت جیسی عظیم نعمتوں کا ذکر کیا ہے ، یہ سب چیزیں بطور نمونہ اور عبرت بیان کی گئی ہیں ، اس کے علاوہ ملاء اعلی کا ذکر ، فرشتوں کو سجدے کا حکم ابلیس کا انکار بھی اس سورة مبارکہ میں بیان ہوا ہے ، توحید و رسالت کا بار بار ذکر آیا ہے خاص طور پر حضور ﷺ کی زبان مبارک سے یہ اعلان کروایا کہ میں تو محض منذر (ڈرسنانے والا) ہوں معبود برحق تو صرف ذات خداوندی ہے آخر میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کے اغور اور اس اور اس کی جماعت کا حشر بھی بیان فرمایا ہے ۔ (بےلوث تبلیغ) سورة کی آخری آیات زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کا تذکرہ فرمایا ہے ، پہلی چیز انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی بےلوث تبلیغ سے متعلق ہے ارشاد ہوتا ہے ” قل “ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے (آیت) ” ما اسئلکم علیہ من اجر “۔ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا ، مطلب یہ کہ میں جو خدا کا کلام تم کو پڑھ کر سناتا ہوں اور جو احکام دین و شریعت تم تک پہنچاتا ہوں ، اس کے لیے میں تم سے کوئی اجرت تو نہیں مانگتا بلکہ یہ خدمت تو میں بغیر کسی ذاتی غرض کے انجام دے رہا ہوں ، اب یہ تمہارا فرض ہے کہ تم اس بات پر غور کرو کہ تمہیں میری بات سننے میں کیا تامل ہوسکتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے سارے نبیوں نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا (آیت) ” یقوم لقد ابلغتکم رسلت ربی ونصحت لکم “۔ (الاعراف 93) اے میری قوم کے لوگو ! میں تو اپنے پروردگار کے پیغامات تم تک پہنچاتا ہوں اور تم سے خیر خواہی کا برتاؤ کرتا ہوں ، انہوں نے یہ بھی کہا (آیت) ” یقوم لا اسئلکم علیہ اجرا ان اجری الا علی الذی فطرنی “۔ (ہود ، 51) اے میری قوم کے لوگو ! میں ا س پیغام رسانی پر تم سے کوئی مزدوری طلب نہیں کرتا میرا بدلہ تو اسی کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے میں تو صرف یہی کہتا ہوں کہ میری بات سنو کہ اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر اپنے ایمان کو درست کر لوگے ، اعمال واخلاق کو صحیح بنالو گے تو تمہیں ہمیشہ کی کامیابی حاصل ہوجائے گی اور اگر کفر وشرک میں پھنسے رہو گے ، اپنی فکر کو درست نہیں کروگے تو اس انجام نہایت ہی برا ہوگا ، اب یہ تمہارا فرض ہے کہ تم دوست اور دشمن میں تمیز پیدا کرو ، اچھائی اور برائی کو پرکھو اور شیطان کے بہکاوے میں نہ آؤ بلکہ صحیح راستہ اختیار کرو ۔ (تکلف سے پرہیز) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے یہ بات کہلوائی ہے (آیت) ” وما انا من المتکلفین “۔ میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں تکلف کا معنی تصنع اور بناوٹ ہوتا ہے اور عدم تکلف بہت بڑا اصول ہے جس کا اظہار نبی کی زبان مبارک نے کردیا ہے مطلب یہ کہ تکلف کا دین کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے میں جھوٹ موٹ یا بناوٹ سے کوئی بات نہیں کرتا بلکہ میری ہر بات سراسر حقیقت ہوتی ہے تکلف نہ تو اللہ تعالیٰ کے نبی کی بات میں ہوتا ہے اور نہ اس کے عمل میں ۔ یہ اصول تمام بنی نوع انسان کے لیے قابل عمل ہے کہ انسانی زندگی میں کہیں بھی تکلف نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ اچھی چیز نہیں ہے ، بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ انہوں نے کہ لوگو ! ” من علم شیئا فلیقل ومن لم یعلم فلیقل اللہ اعلم “۔ جو شخص کسی چیز کے متعلق جانتا ہے ، وہ کہہ دے اور جو کوئی نہیں جانتا اسے چاہئے کہ یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، ایسے موقعہ پر اپنی طرف سے کوئی فتوی جاری نہیں کرنا چاہئے ایک دوسری روات میں آتا ہے کہ جس چیز کو جانتے ہو اس کو بتا دو ، اور جس کو نہیں جانتے اس کو جاننے والے کی طرف سونپ دو یہ تو قرآن پاک کا فیصلہ بھی ہے (آیت) ” فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “۔ (النحل ، 43) اگر تم خود نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو ، خود تکلف نہ کرو کہ یہ علم کی بات ہے ، اور بغیر علم کے محض تکلف سے جواب دے دینا جہالت کی بات ہے ۔ ایک شخص سات ماہ کی مسافت طے کر کے امام مالک (رح) کے پاس بعض مسائل دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوا ، آپ نے بعض مسائل کا جواب دے دیا اور بعض کے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ، وہ شخص کہنے لگے حضرت ! مجھے لوگوں نے اتنی دور سے مسائل دریافت کرنے کے لیے بھیجا ہے میں ان لوگوں کو کیا جواب دوں گا ؟ آپ نے فرمایا کہ ان سے کہہ دینا کہ مالک (رح) نے اپنی جہالت کا اقرار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ میں ان باتوں کو نہیں جانتا گویا آپ نے بلاتکلف ٹھیک ٹھیک بات کہہ دی اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے کہلوائی کہ میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنیوالوں میں سے ہوں ۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ تکلف ، تصنع اور بناوٹ بری چیز ہے البتہ ” البذاذۃ من الایمان “ یعنی سادگی ایمان کا جزو ہے گویا سادگی تکلف کے مقابلہ میں آتی ہے ، حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن العاص ؓ جلیل القدر صحابی ہوئے ہیں باپ اور بیٹا دونوں صحابی رسول ہیں ، عبداللہ ؓ پہلے مسلمان ہوا اور عمرو ابن العاص ؓ بعد میں ، یہ وہی عمروابن العاص ؓ ہیں جنہوں نے مصر فتح کیا تو کسی نے حضور ﷺ کی خدمت میں حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ کا ذکر کیا کہ وہ ساری رات قیام کرتا ہے اور صبح کو روزہ بھی رکھتا ہے ، آپ یہ بات سمجھانے کے لیے حضرت عبداللہ ؓ کے ہاں تشریف لے گئے کہ عبادت اس قدر کرو جتنی برداشت کرسکو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ زیادہ عبادت کرتے کرتے بالکل ہی چھوڑ بیٹھو ، بہرحال جب آپ عبداللہ ؓ کے ہاں پہنچے تو انہوں نے آپ کے بیٹھنے کے لیے گدا بچھانے کی کوشش کی مگر آپ گدا بچانے سے قبل ہی زمین پر بیٹھ گئے اب ایک طرف حضور ﷺ تشریف فرما تھے اور دوسری طرف عبداللہ ؓ تھے اور ان دونوں کے درمیان گدا بچھا ہوا تھا یہ بھی حضور ﷺ کی بےتکلفی کی علامت ہے کہ آپ نے گدے پر بیٹھنا بھی پسند نہ کیا اور لوگوں کو تعلیم دے دی کہ کسی بھی کام میں تکلف اچھا نہیں ہوتا ۔ حضرت انس ؓ نے ایک موقعہ پر اپنے شاگردوں تو ایک پیالہ دکھایا اور فرمایا کہ اس پیالے میں میں نے حضور ﷺ کو ہر قسم کے مشروبات دودھ ، پانی ، شربت ، شہد وغیرہ پلائے ہیں اور آپ نے کبھی تکلف نہیں فرمایا کہ پانی مٹی کے برتن میں پینا چاہئے اور دودھ شیشے کے گلاس میں ڈالنا چاہئے یا شربت کسی اور برتن میں پیش کرنا چاہئے بلکہ بلاتکلف ہر قسم کا مشروب ایک ہی برتن میں نوش فرماتے رہے ہیں ۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضور کہیں تشریف لے گئے واپسی پر ایک صحابی سہل بن سعد ؓ کے پاس ٹھہرے ، اتفاق سے اسی دن اس کی شادی ہوئی تھی آپ نے پیاس محسوس کی اور پانی طلب کیا تو آپ کو شہد سے میٹھا کیا ہوا پانی پیش کیا گیا ، حدیث کے الفاظ ہیں کہ یہ شربت پیش کرنے والی صحابی کی نئی دلہن تھی یہ بھی بےتکلفی کی ایک مثال ہے ، بہرحال تکلف کسی مقام پر بھی اچھا نہیں ۔ ولیس التکلف الا دونھا کلف “۔ یعنی تکلف کے پیچھے تکالیف ہی آتی ہیں جب کہ سادگی میں ہمیشہ آسانی ہوتی ہے ۔ امام بیہقی (رح) نے حدیث بیان کی ہے جس میں تکلف کرنے والوں کی نشانیاں بیان کی ہیں ۔ (1) تکلف کرنے والا آدمی ہمیشہ اوپر والے کو نیچے کرانے کی کوشش کرتا ہے یعنی خود اس سے اوپر آنا چاہتا ہے ۔ (2) تکلف کرنے والے ایسی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کو نہیں پاسکتا ۔ اور (3) ایسی بات کہتا ہے جس کو جانتا نہیں۔ ابن عدی کی کتاب سے روایت ہے کہ ایک موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو نہ بتلاؤں کہ جنت والے کون لوگ ہیں لوگوں نے عرض کیا ، حضور ضرور ارشاد فرمائیں ، فرمایا ” ھم الرحمآء وبینھم ۔ جو آپس میں مہربانی سے پیش آتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ نے یہی صفت حضور ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کی قرآن میں بیان کی ہے (آیت) ” اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم “۔ (الفتح ، 29) کہ وہ کافروں پر بڑے سخت ہیں ، مگر آپس میں بڑے رحمدل اور شفیق ہیں پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو اہل دوزخ کی علامت نہ بتاؤں عرض کیا حضور (ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بتلائیں ، فرمایا دوزخ والے خدا کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں اور تکلف سے کام لیتے ہیں ۔ تکلف ہر چیز میں پایا جاتا ہے جیسے مکان ، لباس ، سواری ، خوراک وغیرہ رسومات فاسدہ کو اختیار کرنے میں بڑا تکلف کیا جاتا ہے اور ایس وجہ سے تعیش کے کام انجام دیے جاتے ہیں اور سادگی جیسی جزو ایمان کو ترک کردیا جاتا ہے اس تکلیف کی وجہ سے ہی اکثر لوگ پریشان ہوتے ہیں اور پورا معاشرہ خرابی میں مبتلا ہوتا ہے ، تکلف میں فضول خرچی ہوتی ہے جب کہ سادگی کفایت شعاری کی علامت ہے ، حضرت علی ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنے اعمال سے عہد لیا تھا کہ تم خود ایسی واضع اختیار کرو کہ بڑے آدمی کو اسے اختیار کرنے میں عار نہ ہو اور چھوٹے آدمی کو تکلیف نہ ہو ، مگر افسوس کا مقام ہے کہ اب ہمارے ہاں کسی چیز کا کوئی معیار باقی نہیں رہا ، لوگ خواہ مخواہ تکلف میں پڑ کر تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں ہمارے سامنے بےتکلیفی کا کوئی نمونہ ہی نہیں جسے اختیار کرکے تکلیف سے بچا جاسکے ، رسومات میں اس لیے تکلف کیا جاتا ہے کیونکہ لوگوں کے سر پر یہ بھوت سوار ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہماری خفت ہوگی اور ہم ذلیل ہوجائیں گے ، اب بٹھا کر کھانا نہیں کھلایا جاتا کہ لوگ کہیں گے یہ دقیانوسی آدمی ہے اسے نئے معاشرہ کے آداب کا بھی لحاظ نہیں ، لباس میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کشش کی جاتی ہے ، مکانات کی تعمیر میں پڑوسی سے بلند ہونے کا خبط سوار ہوتا ہے اور پھر مکان کی تزئین و آرائش میں اسراف کی تمام حدیں پھلانگ لی جاتی ہیں ، سواری کے لیے ہر نئے ماڈل کی کار کا انتظار ہوتا ہے ، غرضیکہ یہ سب تکلفات ہیں جنہیں امراء تو اپنی دولت کے بل بوتے پر انجام دیتے ہیں جب کہ کم ترحیثیت کے لوگ بڑوں کی دیکھا دیکھی اسی روش پر چلنے کی کوشش میں مقروض ہوجاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو تکلف کرنے والا نہیں ہوں ، تمہیں سیدھی سادھی بات بتاتا ہوں جان لوگے تو فائدہ میں رہوگے ورنہ مصیبت کا شکار ہو گے ۔ (قرآن بطور نصیحت) تیسری بات اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کے بارے میں فرمائی ہے کہ یہ کوئی تکلف اور بناوٹ کی بات نہیں ہے بلکہ (آیت) ” ان ھو الا ذکر للعلمین “۔ یہ تو تمام جہانوں کے لیے سراسر نصیحت ہے ، اس سورة مبارکہ میں قرآن پاک کو تین دفعہ نصیحت سے تعبیر کیا گیا ہے سورة کی پہلی آیت میں (آیت) ” والقرآن ذی الذکر “۔ کے الفاظ آئے تھے ، پھر آٹھویں آیت میں آیا ہے (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ اور تیسری مرتبہ یہاں آیت 87) میں ذکر کا لفظ قرآن پاک کے لیے استعمال ہوا ہے کہ قرآن پاک تمام جہان والوں کے لیے بطور نصیحت ہے ، اس میں انسانوں کے علاوہ جن بھی آجاتے ہیں تاہم عام طور پر جہان والوں سے اقوام عالم مراد لیا جاتا ہے ، مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ عالمین سے اقوام عالم مراد ہیں کیونکہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے ساری بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے ویسے تو اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق جن ، انسان ، چرند پرند کیڑے مکوڑوں کا خالق ہے مگر جہاں قانون کی پابندی کی بات ہوتی ہے وہاں اقوام عالم مراد ہویت ہیں جو کہ اس ازلی ابدی قانون کی مکلف ہیں ، قرآن حکیم نے صرف اہل ایمان کے لیے باعث نصیحت ہے بلکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے لیے ہے اب یہ اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ اسے باقی لوگوں تک بھی پہنچائیں ۔ (قرآنی پروگرام کی حقانیت) یہاں پر چوتھی بات اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی ہے (آیت) ” ولتعلمن نباہ بعد حین “۔ تم اس قرآنی پروگرام کی خبر یا نتیجے کو ضرور جان لو گے ایک وقت کے بعد جب تمام ادیان عالم کو آزمالو گے ، ہر قسم کے نظام کا تجربہ کر لوگے تو پھر آخر میں قرآنی پروگرام کی حقانیت کو ہی تسلیم کرنا پڑے گا کہ سب سے اعلی ، ارفع اور قابل عمل پروگرام یہی ہے ، دنیا کا کوئی مذہب ، کوئی کتاب کوئی فلسفہ ، اور کوئی سائنس قرآن جیسا پروگرام پیش نہیں کرسکتی ، مشرکین ختم ہوگئے ، یہود ونصاری دب گئے اور بالآخر اللہ تعالیٰ نے قرآن کے پروگرام کو ہی غالب بنایا اور اہل ایمان نے اس پر عمل کر کے دکھا دیا یہ پروگرام عرصہ تک کامیابی کے ساتھ چلتا رہا ، پھر مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے مغلوب ہونا شروع ہوگیا ، آج اس کے ماننے والے نالائق ہیں تکلف میں پڑ کر ان میں طرح طرح کی کمزوریاں پیدا ہوچکی ہیں ، آج اگرچہ بحیثیت مجموعی قرآنی پروگرام مغلوب ہے مگر ہر معاملے میں صحیح پروگرام یہی ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، تو فرمایا تم ایک وقت کے بعد قرآن کی حقانیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہ جاؤ گے ۔ امام ابن عربی (رح) فرماتے ہیں کہ جاننے سے مراد اگر جزائے عمل ہے تو پھر قیامت صغری اور قیامت کبری کے وقت اس پروگرام کی صداقت کا پتہ چلے گا ، جب کوئی آدمی فوت ہوجاتا ہے تو اس وقت سمجھے گا کہ قرآنی پروگرام ہی درست تھا اور پھر جب قیامت کبری برپا ہوگی اور جزائے عمل کاموقعہ آئے گا ، تو اس وقت انسانوں کو اس پروگرام کی اہمیت اور حقانیت کا اندازہ ہوگا ، مگر اس وقت اس پر عمل پیرا ہونے کا وقت گزر چکا ہوگا ، اسلام کے پہلے ساڑھے چھ سوسالہ دور میں اس قرآن پر کسی نہ کسی طرح عمل ہوتا رہا ، اس کے بعد مسلمانوں کی اجتماعیت ختم ہوگئی ، خلافتوں کا سلسلہ ہی ختم ہوگیا ، اور پھر انگریزوں نے مسلمانوں کو ویسے ہی تتربتر کردیا ، یہ قرآن کو ماننے والوں کی کوتاہی کا نتیجہ ہے ، وگرنہ قرآن کا پروگرام آج بھی اسی طرح سچا اور قابل عمل ہے جس طرح قرون اولی میں تھا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگ اس کی حقانیت کو ضرور جان لیں گے مگر ایک وقت کے بعد ۔ سورۃ الزمر مکی ہے یہ پچھتر آیتیں ہیں اور اس کے آٹھ رکوع ہیں ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم : جو نہایت بخشش کرنے والا اور بڑا مہربان ہے ۔