Ayahs 38:41–44ربط آیات :
حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے تذکرے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے ان پر سخت ترین آزمائشیں آئیں مگر ان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوسی نہیں ہوئی اور مسلسل اٹھارہ سال تک مہلک بیماری کے سامنے صبر کا پہاڑ بن کر کھڑے رہے اور بالآخرامتحان میں کامیاب ہوئے اس واقعہ سے بھی حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو تسلی دلانا مقصود ہے کہ آپ بھی آنے والی تکلیفوں اور دکھوں پر صبر کریں ، قوت برداشت پیدا کریں باانتہاکامیابی آپ ہی کے حصے میں آئیگی ۔
(ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا ایوب “۔ آپ ہمارے بندے ایوب (علیہ السلام) کا تذکرہ کریں آپ کا کچھ ذکر سورة الانبیاء میں بھی گزر چکا ہے آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملتا ہے ، ایوب ، ابن عوس ، ابن عیس ابن اسحاق ابن ابراہیم (علیہ السلام) بعض فرماتے ہیں کہ آپ کی والدہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بیٹی یا پوتی تھیں ، اور بعض دوسرے اقوال کے مطابق آپ کی والدہ لوط (علیہ السلام) کی بیٹی تھیں ایوب (علیہ السلام) کا ذکر بائیبل میں بھی ہے اور آپ کے نام پہ ” صحینہ ایوب بھی ملتا ہے آپ اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان نبی تھے اور دنیاوی اعتبار سے بھی اللہ نے خیر کثیر عطا فرمایا تھا روایات میں آتا ہے کہ آپ زمین کا ایک بہت بڑا خطہ کاشت کرواتے تھے جس میں پانچ سو ہل اور ایک ہزار بیل استعمال ہوتے تھے ، آپ کے پاس سات ہزار سے زیادہ بھیڑ بکریاں تین ہزار سے زیادہ اونٹ ایک ہزار سے زیادہ بار برداری کے لیے گدھے ، خچر ، وغیرہ ہے اور پانچ سو سے زیادہ خدام تھے آپ عوض کی سرزمین میں سب سے زیادہ مالدار شخصیت تھے اللہ نے ساتھ بیٹے بھی عطا کیے تھے ۔
ایوب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ان انعامات پر ہمیشہ اس کا شکر ادا کرتے رہتے تھے ایک موقعہ پر شیطان نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا کہ پروردگار تیرا بندہ ایوب (علیہ السلام) تیرا شکریہ اس لیے ادا کرتا ہے اور تیری عبادت و ریاضت میں اس لیے مشغول رہتا ہے کہ تو نے اسے وافر مال و دولت عطا کر رکھا ہے اگر تیرے یہ انعامات اس پر نہ ہوں تو اس کی حالت مختلف ہو شیطان کی اس بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) پر آزمائشیں ڈال دیں تاکہ شیطان دیکھ لے کہ مال کے چھن جانے اور سخت جسمانی بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود میرا بندہ مجھ سے دور نہیں ہوتا اور اس کی زبان ہر حالت میں میری حمد وثنا اور شکر سے تر رہتی ہے ۔
چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی آزمائش آئی کہ کسی آفت کی وجہ سے کھیت جل گئے ، فصلیں تباہ ہوگئیں ، مال مویشی ہلاک ہوگئے اور یہی نہیں بلکہ مکان کی چھت گری اور ساری اولاد بیک وقت موت کی آغوش میں چلی گئی ان حالات میں نوکر چاکر سب بھاگ گئے اور آپ کے پاس صرف اپنی بیوی رہ گئی جس نے پوری آزمائش کے دوران آپ کا ساتھ نہ چھوڑا ، وہ نہایت ہی پارسا اور وفادار خاتون تھیں ، جنہوں نے ہر حالت میں خاوند کی خدمت کا پورا پورا حق ادا کیا ،
بائیبل کی روایت کے مطابق آپ کو ایسی شدید جلدی بیماری لاحق ہوئی کہ سر کی چوٹی سے لے کر پاؤں کے تلووں تک جسم میں آبلے پڑگئے ، آپ کی وفاشعار بیوی بیماری کی اس حالت میں پوری پوری خدمت کرتی رہی مال تو پہلے ہی ضائع ہوچکا تھا گزر اوقات کے لیے اس بیچاری کو خود محنت مزدوری کرنا پڑتی اور اس طرح وہ اپنے اور خاوند کے لیے خوراک کا بندوبست کرتی جوں جوں ایوب (علیہ السلام) کی تکلیف بڑھتی گئی ، توں توں آپ کے قلب وروح میں خدا کی ذات پر یقین محکم ہوتا چلا گیا ، اور زبان پر اللہ تعالیٰ کے شکر کے کلمات میں اضافہ ہوتا چلا گیا اس موقعہ پر آپ کے یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ جب میں ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا تو کچھ پاس نہیں تھا اور جب قبر میں جاؤں گا تو وہاں بھی خالی ہاتھ ہوں گا اور اگر اللہ تعالیٰ نے مال و دولت خود ہی دے کر واپس لے لیا ہے تو یہ اس کی طرف سے آزمائش ہے اور اسی کا نام بابرکت ہے ، غرضیکہ مال واولاد کے چھن جانے اور سخت جسمانی اذیت کے باوجود انہیں نے کبھی شکوہ نہ کیا بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کرتے رہے ۔
(شیطان کا حملہ)
مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ اس حالت میں اٹھارہ سال گزر گئے مگر شیطان اپنے دعوئے کو سچا ثابت نہ کرسکا ، آخر اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو شرک میں ملوث کرکے ان کے اعمال کی بربادی کا انتظام کردیا جائے ، ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کہیں محنت مزدوری کرکے واپس آرہی تھی کہ راستے میں شیطان اسے ایک نیک سیرت حکیم کی صورت میں ملا اور بیمار خاوند کے علاج کی پیش کش کی مفسرین فرماتے ہیں کہ اس کے بدلہ میں صرف یہ معاوضہ طلب کیا کہ جب ایوب (علیہ السلام) تندرست ہوجائیں تو صرف یہ کہہ دینا کہ اس کو فلاں شخص نے شفا دی ہے اور بعض مفسرین نے اس مطالبہ کا ذکر کیا کہ حارث (شیطان) کے نام کا کچھ نذرانہ دے دینا ۔
واپس آکر بیوی نے اس واقعہ کا ذکر حضرت ایوب (علیہ السلام) سے کیا آپ سمجھ گئے کہ یہ شیطان کی کاروائی ہے جو ہمیں شرک میں ملوث کرنا چاہتا ہے چناچہ آپ نے اپنی بیوی کو سخت ڈانٹ پلائی کہ تم شیطان کے جھانسے میں آگئی ، اور ایسی بات کا ذکر مجھے سے کردیا تمہیں تو اس کی بات کو سننا بھ نہیں چاہئے ، تھا الغرض ! بیوی کے ساتھ اس ناراضگی کی بنا پر آپ نے قسم کھائی کہ میں تندرست ہوگیا تو تمہیں سو لاٹھیاں ماروں گا ، اس ذہنی پریشانی کے عالم میں ایوب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم کیا (آیت) ” اذ نادی ربہ “۔ جب کہ انہوں نے پکارا اپنے پروردگار کو اور عرض کیا (آیت) ” انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب “۔ بیشک پہنچائی ہے مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذاء یعنی شیطان کی اس حرکت سے مجھے سخت دکھ ہوا ہے پہلے تو جسمانی تکلیف میں مبتلا تھے اب شیطان نے شرک پر آمادہ کرکے ذہنی اذیت میں بھی مبتلا کردیا ۔
(دریائے رحمت میں جوش)
جب ایوب (علیہ السلام) نے نہایت عجزوانکساری کے ساتھ اپنی اس دوسری اذیت کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ کے دریائے رحمت میں جوش آگیا ، ایوب (علیہ السلام) آزمائش پورے اتر چکے تھے اب اللہ تعالیٰ ان کی تمام تکالیف اور پریشانیوں کو دور کر کے انہیں اصلی حالت پر لانا چاہتا تھا چناچہ اس نے ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا (آیت) ” ارکض برجلک “ ۔ اپنے پاؤں سے زمین پر ٹھوکر مارو ، عرض کیا مولا کریم ! اس کا کیا فائدہ ہوگا ؟ فرمایا میری قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا نظارہ تو دیکھو جو نبی نے آپ نے زمین پر پاؤں مارا وہاں پر ٹھنڈے پانی کا چشمہ ابل پڑا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ھذا مغتسل بارد وشراب “۔ یہ نہانے کے لیے اور پینے کے لیے ٹھنڈے پانی کا چشمہ ہے مطلب یہ ہے کہ اس پانی سے غسل بھی کرو اور اسے پی بھی لو آپ نے ایسا ہی کیا تو آپ کے جسم کی اندرونی اور بیرونی بیماریاں فورا دور ہوگئیں اور پہلے کی طرح آپ بالکل تندرست اور جوان بن گئے ۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے پاؤں کی یہ ٹھوکر کوئی غیر معمولی ٹھوکر تھی ورنہ عام حالات میں کوئی ہزار دفعہ بھی زمین پر پاؤں مارے تو چشمہ جاری نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کبھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوتا ہے اور کبھی قبض (سکڑنا) پاؤں سے ٹھوکر مارنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ۔۔۔۔۔ تھا ، اللہ تعالیٰ نی اپنی قدرت سے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا چشمہ کھول دیا اسی طرح جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو کسی چیز کو قبض کرلیتا ہے اور پھر وہ چیز کچھ اثر نہیں کرسکتی جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ نے تبدیلی (حالت) کے ذریعے آگ کے اثر کو روک دیا ، فتح خیبر کا واقعہ بھی اللہ تعالیٰ کے بسط کی ایک مثال سے اس قلعے کا دروازہ اتنا وزنی تھا جس کو ایک بڑی جماعت بھی نہیں اکھاڑ سکتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت علی ؓ کی پشت میں اتنی کشادگی پیدا کی کہ انہوں نے تن تنہا دروازے کے نیچے اپنی پشت دیکر دروازے کو اکھاڑ پھینکا ایسی ہی بسط آب زم زم کے اجزاء کے وقت بھی ہوئی تھی ، جب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ایڑی رگڑنے یا فرشتے کے پر مارنے سے وہاں زم زم کا چشمہ پھوٹ پڑا تھا ۔
بہرحال غسل کرنے اور پانی پینے سے ایوب (علیہ السلام) بالکل تندرست و توانا ہوگئے اتنے میں بیوی بھی کھانا وغیرہ لے کر آگئی ایوب (علیہ السلام) کو اپنے بستر پر نہ پایا تو پریشان ہوگئی آپ وہیں تندرست حالت میں موجود تھے ، آپ ہی سے پوچھنے لگی کہ یہاں اس بستر پر اللہ تعالیٰ کے نبی صاحب فرش تھے ان کے متعلق کچھ علم ہو تو بتائیں انہوں نے کہا کہ وہ تو میں ہی ہوں ، پھر غور سے دیکھا تو پہچان لیا ، بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ایوب (علیہ السلام) کو تندرستی واپس لوٹا دی بلکہ آسمان سے سونے کی ٹڈیاں بھی برسائی ، ایوب (علیہ السلام) نے ان کو کپڑے میں سمیٹنا شروع کردیا ، ادھر سے آواز آئی ایوب ! کیا تم قناعت نہیں کرتے ! عرض کیا پروردگار ! میں تیری رحمت کا ہر وقت محتاج ہوں لہذا ان سنہری ٹڈیوں کو جمع کر رہا ہوں ۔
(اہل ومال کی بحالی)
پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کا ضائع شدہ اہل ومال بھی بحال فرما دیا (آیت) ” ووھبنا لہ اھلہ “ اور ہم نے بخش دے آپ کو آپ کے اہل ، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے فوت شدہ بیٹوں کو زندہ کردیا ، جب کہ دوسرے اصحاب فرماتے ہیں ، (آیت) ” ومثلھم معھم “۔ کے مصداق آپ نے انہیں ڈبل کردیا ، یعنی پہلے ساتھ بیٹے تھے اب چودہ ہوگئے تو جملے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو آپ کے اہل بھی بحال کردیے اور ان جیسے مزید بھی فرمایا (آیت) ” رحمۃ منہ “۔ یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تھی (آیت) ” وذکری لاولی الالبائ “۔ اور اہل خرد کے لیے نصیحت اور یاد دہانی بھی ، اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی آزمائش ، جان ومال اور صحت کا نقصان ” رجوع الی اللہ پر استقامت صبروبرداشت یہ سب کچھ عقل و شعور رکھنے والے لوگوں کے لیے باعث نصیحت اور عبرت ہے ۔
صاحب کشاف زمخشری (رح) اور محمد ابن ابی بکر عبدالقادر رازی (رح) لکھتے ہیں کہ اس موقعہ پر حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ مناجات بھی پیش کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی ہر کھوئی چیز بحال کردی اور مزید انعامات سے بھی نوازا۔
الھی قدعلمت انہ لم یخالف لسانی قلبی ولم یتبع قلبی بصری ولم یلھنی ماملکت یمینی ولم اکل الا ومعی یتیما ولم ابت شبعا ولا کا سب الا ومعی جائعا اور عریانا “۔
اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے کہ میری زبان کبھی میرے دل کے خلاف نہیں ہوئی (زبان اور دل ایک جیسے ہوتے ہیں جو بات دل میں ہوتی ہے وہی زبان پر آتی ہے) اور میرا دل کبھی نگاہ پر نہیں گیا (یعنی انسان کی نگاہ تو ہر اچھی بری چیز پر پڑتی ہے مگر میں نے دل کو اس کے پیچھے نہیں لگایا یعنی دل کی حفاظت کی ہے جو چیز میری ملکیت میں تھی اس نے کبھی مجھے (تیری یاد سے) غافل نہیں بنایا اور میں نے یتیم کے بغیر کبھی کھانا نہیں کھایا اور میں نے کبھی پیٹ بھر کر نہ کھایا ہے اور نہ کپڑا پہنا ہے ، جب کہ میرے قریب کوئی بھوکا یا ننگا ہو (مطلب یہ ہے کہ بھوکے کو کھلا کر کھایا ہے اور ننگے کو پہنا کر پہنا ہے)
(بیوی کو سو کوڑوں کی سزا)
اب جب کہ آپ کو تندرستی حاصل ہوگئی تو آپ کو اپنی وہ قسم بھی پوری کرنا تھی جس میں ایوب (علیہ السلام) نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو سو کوڑے ماروں گا آپ دیکھ رہے تھے کہ بیوی بڑی وفا شعار ہے اور اس نے اٹھارہ سال تک ان کی خدمت کی ہے مگر اپنی قسم بھی پوری کرنا چاہتے تھے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی آپ کی راہنمائی فرمائی اور کہا (آیت) ” وخذ بیدک ضغثا “ اپنے ہاتھ میں تنکوں یا شاخوں کا ایک گھٹا لیں (آیت) ” فاضرب بہ “ اور یہ ایک دفعہ بیوی کو مار دیں (آیت) ” ولا تحنث “ اور قسم میں جھوٹے نہ ہوں یعنی اس طرح آپ اپنی قسم پوری کرلیں چونکہ قسم سو کوڑے مارنے کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو تنکوں کا ایک جھاڑو وغیرہ دے کر ایک ہی دفعہ مار دیں گے تو یہ سو ضربات شمار ہو کر تمہاری قسم پوری ہوجائے گی ، اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے ایوب (علیہ السلام) کو قسم پوری کرنے کا حیلہ بتلا دیا ۔
اس آیت سے کئی مسائل متضرع ہوتے ہیں مثلا یہ کہ مذکورہ حیلہ سازی صرف ایوب (علیہ السلام) کے لیے تھی یا دوسرے لوگ بھی اس قسم کا حیلہ کرسکتے ہیں ، امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حیلہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے لیے خاص تھا اور دوسرے لوگوں کے لیے روا نہیں البتہ امام شافعی (رح) اور امام ابوحنیفہ (رح) اور بعض دیر ائمہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کی تدبیر ہماری امت میں روا ہے تاہم کوئی ایسا حیلہ کرنا جائز نہیں ہوگا جس سے کوئی شرعی حکم باطل ہوتا ہو ، مثلا بعض لوگ اس قسم کی تدبیر کرتے ہیں کہ جب کسی مال پر ایک سال پورا ہونے کو آیا تو وہ مال اپنی بیوی کے نام ہبہ کردیا تاکہ اس پر زکوۃ نہ ادا کرنی پڑے ، پھر جب بیوی کی ملکیت میں سال ہونے کو آیا تو اس نے خاوند کو ہبہ کردیا یہ تو زکوۃ کی ادائیگی سے فرار ہے اور قطعا جائز نہیں ، اس طرح بعض سرمایہ داروں کے پاس قابل زکوۃ رقم موجود ہوتی ہے مگر وہ اس پر سال پورا ہونے سے پہلے اس سے کوئی کارخانہ یا کوئی دوسری جائیداد خرید لیتے ہیں تاکہ مال پر زکوۃ نہ ادا کرنی پڑے ، اس قسم کے حیلہ کی بھی شریعت اجازت نہیں دیتی ۔
البتہ گناہ اور کسی حرام چیز ہے بچنے کے لیے حیلہ سازی جائز ہے مثلا ردی کھجوروں کا اعلی کھجوروں کے ساتھ مقدار میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ سود شمار ہوتا ہے حضور ﷺ نے اس سود سے بچنے کے لیے یہ حیلہ خود صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو سکھایا کہ اس قسم کے تبادلہ کا جائز طریقہ یہ ہے کہ پہلے ردی یا اعلی کھجوروں کو فروخت کر دو اور پھر اس سے حاصل ہونے والی قیمت کے عوض متبادل مال خرید لو ۔
یہاں پر یہ مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بیوی کو مارنا جائز ہے ؟ جیسا کہ ایوب (علیہ السلام) نے اپنی قسم پوری کی مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہاں جائز ہے بشرطیکہ سزا تادیبا یعنی ادب سکھانے کے لیے ہو ، اس کا حکم سورة النساء میں بھی موجود ہے کہ عورتوں کی طرف سے سرکشی کی صورت میں پہلے ان کو زبانی سمجھاؤ پھر بستروں سے الگ کر دو ، اور اگر پھر بھی باز نہ آئیں ، (آیت) ” واضربوھن ‘۔ (آیت 34) تو ان کو زدوکوب کرو ، مگر ایسا نہیں کہ ہڈی پسلی ہی توڑ دو بلکہ محض ادب سکھانے کے لیے جیسا کہ بعض اوقات کسی کوتاہی پر بچوں کو بھی سزاد دی جاتی ہے ۔
امام ابوحنفیہ (رح) کے استاد حضرت عطا ابن ابی رباح (رح) مکہ میں رہائش پذیر تھے ان سے کسی نے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی قسم اٹھالے کہ وہ اپنی بیوی کو اس وقت تک کپڑا نہیں پہنائے گا ، جب تک کہ وہ عرفات میں وقوف نہ کرے تو اس کے لیے کیا حکم ہے فرمایا ، اس کو سواری پر بٹھا کر عرفات میں لے جاؤ اور کپڑے پہنا دو تمہاری قسم پوری ہوجائے گی ، وہ شخص کہنے لگا کہ اس وقوف سے مراد یوم عرفہ کا وقوف ہے فرمایا ضروری نہیں تم بھی حضرت ایوب (علیہ السلام) والا حیلہ کرو جنہوں نے الگ الگ سو کوڑے مارنے کی بجائے سو تنکوں کا گٹھا ایک ہی دفعہ مار کر قسم پوری کرلی تھی ،
فقہائے کرام اس مقام پر یہ وضاحت بھی کرتے ہیں کہ ایوب (علیہ السلام) کی حیلہ سازی خاص وجوہ کی بناء پر تھی آپ کی بیوی سوکوڑوں کی ہرگز سزاوار نہیں تھی کیونکہ وہ تو ایک صالحہ اور خاوند کی خدمت گار خاتون تھی مگر شیطان کی بات سننے کی ذرا سی کوتاہی پر ایوب (علیہ السلام) نے سو لاٹھیاں مارنے کی قسم اٹھالی مطلب یہ ہے کہ یہ حیلہ اس لیے کیا تھا کہ ایسی صابرہ وشاکرہ عورت کو زیادہ اذیت نہ پہنچائی جائے تاہم امام ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ ایسی حیلہ میں بھی شرط یہ ہے کہ گٹھے کے سارے تنکے یا چھڑیاں طولا یا عرضا جسم کے ساتھ لگنی چاہئیں اور مضروب کو کچھ نہ کچھ تکلیف بھی پہنچنی چاہئے ورنہ قسم پوری نہ ہوگی ۔
(صبر ایوب علیہ السلام)
بہرحال حضرت ایوب (علیہ السلام) کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انا وجدنہ صابرا “۔ ہم نے ایوب (علیہ السلام) کو صبر کرنے والا پایا ، انہوں نے طویل عرصہ تک تکلیف اٹھائی ، مگر حرف شکایت زبان پر نہ لائے ان کی روح میں ہمیشہ یقین دل میں صبر اور زبان پر شکر ہی رہا فرمایا (آیت) ” نعم العبد “۔ وہ بہت ہی خوب بندہ تھا (آیت) ” انہ اواب “۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والا تھا اللہ تعالیٰ نے یہی صفات پہلے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کی بیان فرمائیں سب کا تنگی اور آسائش میں خدا ہی کی طرف رجوع رہا ۔
Ayahs 38:45–47(بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ)
گذشتہ درس میں حضرت ایوب (علیہ السلام) ان کے صبر اور پھر ان کے انعامات کا ذکر ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں بعض دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا ابرھیم واسحق ویعقوب “۔ اور آپ ذکر کریں ہمارے بندوں ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کا اسحاق (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اور یعقوب (علیہ السلام) آپ نے پوتے ہیں ، یہ سارے ہی اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں گذشتہ آیات میں مذکورہ انبیاء کی طرح اس انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے کہ اس پر بھی مصائب وآلام آئے مگر انہوں نے صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھا لہذا اے پیغمبر ﷺ آخر الزمان ﷺ ، آپ بھی صبر و استقامت کو اختیار کیے رکھیں کفار ومشرکین کے طعنہ زنی سے مشتعل نہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اسی چیز پر کامیابی کا دارومدار ہے ۔
اس آیت میں مذکورہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ابتلا تو ضرب المثل بن چکی ہے جسے ساری دنیا کے لوگ جانتے ہیں کہ اہل بابل نے آپ پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے آپ کو ملک بدر کرنے کی دہمکیاں دیں کیسی کیسی بدسلوکی کی حتی کہ بالکل ختم کردینے کا منصوبہ بنایا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام تدبیروں کو ناکام بنایا ، پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو ہجرت کا حکم ہوا اور آپ نے اپنا وطن چھوڑ دیا اور شام و فلسطین میں آباد ہوگئے پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیوی بچے کو بےیارومدد گار صحرا میں چھوڑ دیا پھر اسی بچے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا ، تو آپ اس آزمائش میں بھی پورے اترے فرمایا آپ ان کا تذکرہ کریں اور ان کے ساتھ ان کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) اور پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا بھی ، اللہ تعالیٰ کے ان نبیوں نے اپنے اپنے زمانے میں اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور اس راستے میں آنے والی ہر تکلیف کو برداشت کیا ۔
(ہاتھوں اور آنکھوں والے انبیاء کرام علیہ السلام)
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تعریف یہ فرمائی ہے (آیت) ” اولی الایدی والا بصار “۔ کہ دو ہاتھوں اور آنکھوں والے لوگ تھے ہاتھ اور آنکھیں تو ہر شخص کے جسم کے آلات ضروریہ ہیں انسان ہاتھ کام کرنے بہت بڑا ذریعہ ہیں جب کہ آنکھوں کے ذریعہ انسان اشیاء کو دیکھنا ہے اس بصارت کو رپورٹ دماغ میں پہنچتی ہے ، دماغ اس مشاہدے کو سمجھتا ہے اور اس طرح انسان کو علم حاصل ہوتا ہے گویا آنکھیں حصول علم کا بہت بڑا ذریعہ ہیں سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسئولا “۔ (آیت 36) کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کان ، آنکھ اور دل جیسے اعضائے رئیسہ عطا فرمائے اور ان کی کارکردگی کے متعلق قیامت والے دن باز پرس ہوگی ،
امام رازی (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر دو قسم کی قوتیں رکھی ہیں یعنی قوت علمی اور قوت علمی یا نظری قوت عملی کا مظہر ہاتھ ہیں ، کیونکہ تمام کام ہاتھوں سے انجام دے جاتے ہیں اور قوت علمی یا نظر ہی آنکھوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے انسان آنکھوں کے ذریعے دیکھ کر غور وفکر کرتا ہے ، عقل کو بروئے کار لاتا ہے اور پھر کسی نتیجے پر پہنچتا ہے تو یہاں پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے متعلق فرمایا کہ وہ ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان برگزیدہ بندوں میں قوت عملی اور قوت علمی یافکری کمال درجے کی تھی ، عام انسانوں کی نسبت اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و شعور اور فہم و فراست بھی زیادہ عطا فرمایا تھا ، اور عملی لحاظ سے بھی وہ بلند ترین مقام پر فائز تھے ۔
علامہ زمخشری (رح) کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم اس طرح سمجھ لیں کہ جو لوگ ہاتھوں اور آنکھوں کی قوی کو صحیح طور پر تسلیم کرتے ہیں جائز امور کو انجام دیتے ہیں اور منہیات سے بچتے ہیں ، وہی اصل میں ہاتھوں اور آنکھوں والے ہیں جو ان اعضاء کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے وہ گویا ان اعضاء سے ہی محروم ہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے متعلق فرمایا ہے (آیت) ” ان شر الدوآب عند اللہ الصم البکم الذین لا یعقلون “۔ (الانفال ، 32) بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدتر بہرے اور گونگے وہ لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے اگر یہ لوگ عقل و شعور کو بروئے کا لاتے تو کفر وشرک جیسی مہلک بیماری میں مبتلا نہ ہوتے ، کفر وشرک تو عقل کے بھی خلاف ہیں اور فطرت سلیمہ کے بھی خلاف ہیں ، فرمایا (آیت) ” یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا ، وھم عن الاخرۃ ھم غفلون “۔ (الروم ، 7) یہ لوگ دنیا کی ظاہری زندگی کو تو خوب جانتے ہیں اس کے ہر اچھے برے عمل سے واقف ہیں مگر آخرت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ، بلکہ بالکل غافل ہیں وجہ وہی ہے کہ یہ اپنی قوت عملی اور قوت علمی یا فکری سے صحیح طور پر مستفید نہیں ہوتے ، اس کے برخلاف مذکورہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے متعلق فرمایا کہ وہ ان قوی کو بالکل صحیح صحیح طریقے سے استعمال کرتے تھے گویا وہ صحیح معنوں میں ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے وہ کمال درجے کی قوت عملی اور قوت نظری کے مالک تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی اس صلاحیت کی تعریف فرمائی ہے ۔
(عصمت انبیاء کرام علیہ السلام)
اگلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے متعلق دو دلائل بیان فرمائے ہیں ، عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ ان سے گناہ نہیں سرزد ہونے دیا جاتا ، فرشتے تو سارے ہی معصوم ہیں ، البتہ انسانوں میں سے یہ شرف صرف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو حاصل ہے معتزلہ قسم کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبیوں سے بڑے گناہ تو سرزد نہیں ہوتے البتہ چھوٹے چھوٹے گناہ ہوجاتے ہیں مگر اس ضمن میں تمام مفسرین ، محدثین ، محققین اور اہل حق کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی تمام صغائر ، کبائر سے پاک ہوتے ہیں ، دراصل گناہ وہ ہوتا ہے جو قصد اور ارادے کے ساتھ کیا جائے مگر نبی کے متعلق ایسی بات سوچی بھی نہیں جاسکتی ، البتہ معمولی درجے کی لغزش ہوسکتی ہے جو خطائے اجتہادی کے درجے میں آتی ہے لیکن نبیوں کو اس پر بھی سخت گرفت ہوجاتی ہے بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی ایسی لغزشوں پر انہوں نے لیے ظلم اور گناہ کے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں اور پھر اپنے لیے استغفار بھی کرتے ہیں وہ حقیقی گناہ نہیں ہوتے بلکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام معمولی کوتاہیوں کو بھی بہت بڑا سمجھتے ہوئے ان لغزشوں کی معافی طلب کرتے نظر آتے ہیں یہ چیز ان کے مقام رفیع کی دلیل ہے ۔
مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر ’ بیان القرآن “ میں رقم طراز ہیں کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے نہ تو حقیقی گناہ سرزد ہوتا ہے اور نہ ان کو حقیقی سزا ملتی ہے بظاہر تو یہ گناہ نظر آتا ہے مگر یہ بلا ارادہ وقصد معمولی لغزش ہوتی ہے جہاں تک سزا کا تعلق ہے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی یہ ابتلائیں بھی جسمانی حد تک محدود ہوتی ہیں جب کہ حقیقی سزا تو وہ ہے جو مجرموں کو آخرت میں ملے گی ۔
(عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر پہلی دلیل)
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے متعلق پہلی دلیل یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” انا اخلصنھم بخالصۃ “ ہم نے ان کو ممتاز کیا ہے ایک خاص خصلت کے ساتھ اور وہ خصلت ہے (آیت) ” ذکری الدار “۔ آخرت کے گھر کی یاد ، یہ نبیوں کی خصوصیت ہے کہ ان کے پیش نظر ہمیشہ آخرت کا گھر ہوتا ہے اور وہ اس کو کسی طرح بھی فراموش نہیں کرتے ، عام آدمی کی پوری زندگی تو بسا اوقات آخرت کی یاد سے خالی گزر جاتی ہے اور وہ اسے زندگی بھر فراموش کیے رہتے ہیں مگر اللہ کے نبیوں کا دل ایک لمحہ بھر کے لیے بھی آخرت کے گھر کی یاد سے خالی نہیں ہوتا اور انہیں ہمیشہ اسی گھر کی فکر رہتی ہے یہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہر گناہ سے محفوظ اور معصوم ہوتے ہیں ۔
سورة الانبیاء میں اللہ تعالیٰ نے کئی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کرکے فرمایا ہے (آیت) ” یدعوننا رغبا ورھبا ، وکانوا لنا خشعین “۔ (آیت : 90) یہ لوگ ہمیں امید اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کا اظہار کیا کرتے تھے خود حضور خاتم النبیین ﷺ کے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بیان ہے (1) (ابوداؤد ص 4 ، ج 1) ” کان رسول اللہ یذکر اللہ فی کل احیانہ “۔ کہ حضور ﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی یاد کیا کرتے تھے اور اس سے کسی وقت بھی غافل نہیں ہوتے تھے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو بندے اس کی طرف اس قدر رغبت رکھے والے ہوں اور اس سے اس قدر ڈرنے والے ہوں ان سے گناہ کیسے سرزد ہو سکتا ہے ان کی آخرت کے گھر کے یاد ہی ان کی عصمت کی دلیل ہے ۔
(دوسری دلیل)
اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کی عصمت کی دوسری دلیل یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” وانھم عندنا لمن المصطفین الاخیار “۔ اور وہ ہمارے نزدیک منتخب اور اچھے لوگوں میں سے ہیں ، یہ منتخب کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جس ذات میں مطلوبہ استعداد اور صلاحیت پاتا ہے اس کو نبوت و رسالت کے لیے خود منتخب فرماتا ہے گویا نبوت کوئی کسبی چیز نہیں ہے کہ کوئی شخص ڈگریاں پاس کرکے ، کوئی کورس پاس کر کے یا عبادت و ریاضت کرکے منصب نبوت پر فائز ہوجائے ، بلکہ یہ تو خالصتا اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی ہستی کو نبوت و رسالت کے لیے منتخب نہیں کرے گا جس سے قصد و ارادہ کے ساتھ گناہ کا احتمال ہو سکتا ہو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ہے (آیت) ” انی اصطفیتک علی الناس برسلتی وبکلامی “۔ (الاعراف ، 144) میں نے تم کو منصب رسالت کے ساتھ منتخب فرمایا اور پھر تمہیں شرف تکلم بھی بخشا ہے پس جو میں نے عطا کیا ہے اس کو پکڑ لو اور میرا شکر بجا لاؤ ، اس سے بھی معلوم ہوا کہ رسالت ونبوت اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے اور یہ ایسی بہترین شخصیت کا ہوتا ہے جس سے گناہ سرزد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، یہ عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دوسری دلیل ہوگئی ۔
(مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کی تشریح)
بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے سلسلہ کے لوگوں میں ایک ممتاز شخصیت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کمال درجے کا علم وعقل و شعور عطا فرمایا تھا مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) مفکر اور حکیمانہ فکر کے مالک ہو کر باریک حقیقتیں صرف اہل ایمان کو سمجھا سکتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے مولانا نانوتوی (رح) کو وہ صلاحیت بخشی تھی کہ اپنے تو اپنے وہ ہندو اور عیسائی جیسے اغیار کو بھی اسلام کے غامض حقائق سمجھا سکتے تھے ، شاہجہان پور کے تاریخی جلسہ میں جہاں ہندؤوں اور عیسائیوں نے اپنے اپنے مذہب کی صداقت بیان کی وہاں مولانا نے اسلام کی حقانیت پر مدلل تقریر کی جسے تمام لوگوں نے اعلی ترین تقریر تسلیم کیا ۔
حضرت مولانا نانوتوی (رح) (آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “۔ (النسائ : 59) والی آیت سے عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو ثابت کیا ہے ، فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت تو ہر حالت میں بغیر کسی قید اور شرط کے ہر مسلمان پر مطلقا فرض ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خالق ، مالک اور معبود برحق ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت بحیثیت مالک فرض ہے ، اسی طرح اس آیت کی رو سے رسول کی اطاعت بحیثیت رسالت فرض ہے ، اگر نبی سے گناہ کا امکان ہوتا تو اس کی اطاعت اس طرح مطلقا فرض نہ ہوتی ، اللہ تعالیٰ کا نبی غلطی سے مبرا ہوتا ہے لہذا اسکی اطاعت ہر حالت میں لازم ہے گویا یہ بھی عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دلیل ہے ۔
حضور ﷺ بعض اوقات خوشگوار مزاح بھی فرماتے تھے ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے عرض کیا ، حضور ﷺ آپ اللہ تعالیٰ کے نبی ہو کر مزاح کرتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! مگر میری زبان سے اس وقت بھی حق ہی نکلتا ہے ، عام قاضی اور جج کے متعلق تو حضور ﷺ کا فرمان ہے ” لا تحکم بین الناس وانت غضبان “ کے غصے کی حالت میں کوئی فیصلہ نہ کیا جائے مگر اپنے متعلق فرمایا کہ میرا فیصلہ ہر حالت میں ناطق ہوتا ہے آپ نے حضرت زبیر ؓ اور ایک انصاری ؓ کے تنازعہ میں غصے کی حالت میں فیصلہ کیا تھا مگر اس میں بھی غلطی کا کوئی امکان نہیں تھا گویا یہ بھی عصمت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دلیل ہے ۔
(مولانا مودودی (رح) کی غلطی)
اس مسئلہ میں مولانا مودودی (رح) صاحب نے غلطی کی ہے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے اپنی حفاظت کو اٹھا کر ان سے ایک دو غلطیاں بھی سرزد کردیتا ہے تاکہ لوگوں کو علم ہوجائے کہ آپ معبود نہیں بلکہ انسان اور بشر ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بشریت رسالت کے بہت سے لوازمات خود قرآن میں بیان کردیے ہیں مثلا یہ کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نکاح کرتے ان کی بیویاں ہوتی ہیں اور پھر اولاد بھی ہوتی ہے وہ کھانا کھاتے ہیں اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں ، وہ بیماری بھی ہوتے اور شہید بھی ہوتے ہیں ان سب چیزوں سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نبی انسان ہوتا ہے ان حقائق کی موجودگی میں نبی کو بشریت ثابت کرنے کے لیے اس سے غلطیاں سرزد کرانا قرین قیاس معلوم نہیں ہوتا ، دوسری بات یہ ہے کہ اگر نبی سے عصمت کو اٹھا لیا جائے خواہ تھوڑی دیر کے لیے ہی تو پھر تو نبی پر سے اعتماد ہی اٹھ جائے گا ، کہ نہ جانے فلاں بات اللہ تعالیٰ کے نبی نے کس حالت میں فرمائی ہے اور کیا یہ حقیقت ہے کیا غلطی ، لہذا نبی کے لیے عصمت کا ہونا ضروری ہے ۔
Ayahs 38:48–64ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، اور یعقوب (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کا ذکر فرمایا اور ان کی تعریف میں ان کی قوت عملی اور قوت نظری کو بیان فرمایا ، انہوں نے ہر تکلیف پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہی ادا کیا ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی عصمت کا تذکرہ فرمایا کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی عظیم خصلت سے نواز تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو از خود منتخب فرمایا تھا اور وہ اس کے برگزید ہ بندے تھے ۔
(اسماعیل الیسع اور ذوالکفل علیہم السلام)
آج کے درس کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین مزید انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر اسمعیل والیسع وذالکفل “۔ اور آپ تذکرہ کریں اسماعیل ، الیسع اور ذالکفل (علیہم السلام) کا (آیت) ” وکل من الاخیار “۔ یہ سب کے سب خوبی والے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی نبوت و رسالت کے لیے منتخب فرمایا ، ان میں سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے واقعات تو مشہور ہیں کہ آپ اپنے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں بڑھاپے میں تولد ہوئے پھر آپ کا باپ آپ کو اور آپ کی والدہ حضرت ہاجرہ ؓ کو مکہ کی بےآب وگیاہ سرزمین میں چھوڑ گیا ، پھر جب آپ بھاگنے دوڑنے کی عمر کی پہنچے تو باپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کی گردن پر چھری چلا دی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا ۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے جس دوسرے نبی کا ذکر ہوا ہے وہ حضرت الیسع (علیہ السلام) ہیں جو حضرت الیاس (علیہ السلام) کے بعد ان کے جانشین بنے ان پر بھی بہت سی مصیبتیں آئیں جنہیں انہیں نے صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا ، گذشتہ سورة میں الیاس (علیہ السلام) کے بارے میں یہ تذکرہ ہوچکا ہے کہ دشمنوں کی ایذا رسانیوں کی وجہ سے آپ چھ ماہ تک روپوش بھی رہے بہرحال آپ کے جانشین الیسع (علیہ السلام) ہوئے جن کا ذکر بائیبل میں بھی موجود ہے ۔
تیسرے نبی ذالکفل (علیہ السلام) ہیں بعض انہیں حضرت ایوب (علیہ السلام) کا بیٹا بتاتے ہیں تاہم یہ بھی انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے آپ کا لقب ذالکفل اس لیے مشہور ہوگیا تھا کہ آپ نے کسی شخص کی ضمانت دی تھی جس کی بنا پر آپ کو چودہ سال یا اس سے زیادہ عرصہ جیل میں گزارنا پڑا اللہ تعالیٰ کے اس نبی نے بھی مخالفین کے ہاتھوں تکلیفیں برداشت کیں بعض مفسرین ذالکلف کی وجہ تسمیہ یہ بتاتے ہیں کہ آپ کے دور کے جبار اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو قتل کردیتے تھے مگر آپ نے تقریبا ایک سو انبیاء کو پناہ دی اور ان کی کفالت کی ، اس لیے آپ کا لقب ذالکفل پڑگیا ، یہ سارے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نیک اور برگزیدہ انسان تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر و استقامت کا تذکرہ کرکے ان کے اسوہ حسنہ کو اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے ۔
(قرآن بطور نصیحت)
آگے ارشاد (آیت) ” ھذا ذکر “ یہ قرآن پاک ذکر ہے ، ذکر کے دو معانی آتے ہیں اور یہاں پر دونوں درست ہیں ، ذکر کا ایک معنی تو نصیحت ہے اور قرآن پاک بلاشبہ سرتا پا نصیحت ہی نصیحت ہے اور اہل عقل وخرد لوگ اس سے نصیحت حاصل کرتے ہیں آیت 29 میں بھی گذر چکا ہے کہ ہم نے یہ کتاب اس لیے اتاری ہے کہ لوگ اس میں غور وفکر کریں (آیت) ” ولیتذکر اولوالالباب “۔ اور تاکہ عقلمند لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں ۔
ذکر کا دوسرا معنی شرف ہے یعنی یہ قرآن پاک بنی نوع انسان کے لیے بالعموم اور عربوں کے بالخصوص باعث عزت وشرف ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کا قانون ہے جو اس نے اپنے بندوں کے ہاتھ میں دیا ہے ، اس سے بڑا شرف کیا ہو سکتا ہے بشرطیکہ انسان میں اس غور وفکر کریں اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوجائیں ، مگر افسوس کا مقام ہے کہ اکثر لوگ نہ تو اس کو پڑھتے ہیں نہ اس میں غور وفکر کرتے ہیں نہ اس پر خود عمل کرتے ہیں اور اسے دوسروں تک پہنچاتے ہیں اور اس طرح اس کے فیوض وبرکات سے محروم رہتے ہیں ۔
(متقین کے لیے انعامات)
اپنے بعض برگزیدہ بندوں کا ذکر کرنے کے بعد آگے مطلقا نیک لوگوں کو ملنے والے انعامات کا تذکرہ فرمایا ہے اور پھر ساتھ ساتھ برے لوگوں کا انجام بھی بیان کیا ہے ، اچھے لوگوں میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سرفہرست ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وان للمتقین لحسن ماب “۔ بیشک متقیوں کے لیے بہت اچھا ٹھکانا ہے متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کفر ، شرک اور معاصی سے بچتے ہیں اور حدود شرعیہ کا احترام کرتے ہیں امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) تقوی کا معنی ہی کرتے (1) (الطاف القدس مترجم ص 93) ہیں ” محافظت برحدود شرع یعنی شریعت الہیہ کی حدود کی حفاظت کرنا انسانی زندگی کا کوئی مرحلہ ہو ، عبادت و ریاضت ہو یا سیاست ومعیشت ، تجارت ہو یا روابط باہمی ہر سطح پر شریعت کی حدود کی حفاظت کرنے والا متقی کہلائے گا ۔
(جنت عدن)
فرمایا ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ” جنت عدن “ قابل رہائش باغات ہیں بعض باغات محض پیداوار کے لیے ہوتے ہیں اور ان میں کسی کی ذاتی رہائش نہیں ہوتی ، البتہ جنت عدن اس باغ کر کہا جاتا ہے جس میں مالک خود بھی رہائش پذیر ہو ، ظاہر ہے کہ ایسے باغ میں پودوں اور درختوں کے علاوہ رہائش کی تمام سہولتیں بھی ہوں گی جن میں بہترین مکان اور اس سے متعلقہ تمام لوازمات کو شامل کیا جاسکتا ہے ، ایسے باغات کے متعلق فرمایا ” مفتحۃ لھم الابواب “۔ متقیوں کے لیے ان باغات کے دروازے کھلے ہوں گے اور وہ ان میں بلاکسی رکاوٹ کے آجا سکیں گے ، بعض فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے جنتیوں کو اپنے ٹھکانے پر پہنچے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی اس دنیا میں تو بعض اوقات گھر پہنچنے میں کوئی دقت بھی پیش آسکتی ہے یا آدمی راستہ بھی بھول سکتا ہے مگر وہاں ایسی بات نہیں ہوگی بلکہ ہر جنتی بغیر کسی راہنمائی اور دقت کے اپنے ٹھکانے پر پہنچ سکے گا ۔
(بہترین خوردونوش)
فرمایا ان باغات میں متقی لوگ (آیت) ” متکئین فیھا “۔ تکیہ لگا کر بیٹھیں گے (آیت) ” یدعون فیھا بفاکھۃ کثیرۃ وشراب “۔ وہاں پر طلب کریں گے ، بہت سے پھل اور مشروبات ، سورة الطور میں ہے کہ جنتی جس قسم کا پھل اور گوشت چاہیں گے ان کے سامنے موجود ہوگا (آیت) ” وامددنھم بفاکھۃ ولحم ممایشتھون “۔ (آیت ، 22) مشروبات میں سے شراب طہور کا ذکر قرآن پاک میں کئی جگہ موجود ہے ، مثلا سورة الدھر میں ہے (آیت) ” وسقھم ربھم شرابا طھورا “۔ (آیت 21) اللہ تعالیٰ جتنی لوگوں کو پاک شراب پلائے گا جو کہ نہایت ہی خوشگوار اور خوش ذائقہ ہوگی اور اس میں دنیا کی شراب جیسی گندگی اور نشہ آوری نہیں ہوگی ، گذشتہ سورة الصفت میں بھی گذر چکا ہے کہ جنتی ایک دوسرے کے بالمقابل تختوں پر بیٹھے ہوں گے اور ان میں لطیف شراب کے جام چل رہے ہوں گے جو کہ سفید رنگ میں پر لذت شراب ہوگی (آیت) ” لاغولہ فیھا “۔ (آیت 47) اس میں کوئی سرگردانی نہیں ہوگی بلکہ سرور ہی سرور ہوگا ۔
(باحیا ہم عمر عورتیں)
فرمایا خوردونوش کی اشیاء کے علاوہ (آیت) ” وعندھم قصرت الطرف اتراب “۔ ان کے پاس نیچی نگاہیں رکھنے والی ہم عمر عورتیں ہوں گی ، انسانی زندگی کی تکمیل میں مرد کے لیے عورت کا بھی حصہ ہے عورت کے بغیر زندگی سونی سونی اور نامکمل رہتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے مرد وزن کے باہمی تعلق کو اس طرح بیان فرمایا ہے (آیت) ” ھن لباس لکم وانتم لباس لھن “۔ (البقرہ ، 187) عورتیں مردوں کا لباس ہیں اور مرد عورتوں کا لباس ہیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ جنت میں عورتیں بھی عطا کرے گا جن کو (آیت) ” ازواج مطھرۃ “۔ (بقرہ ، 25) یعنی پاک عورتوں سے تعبیر کیا گیا ہے ان کے اجساء اور اخلاق مکمل طور پر پاک ہوں گے اور نیچی نگاہیں رکھنے والی اس لحاظ سے کہ وہ اپنے خاوندوں کے علاوہ کسی دوسری طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی ، اس دنیا میں تو عورتیں غیر مردوں کے ساتھ گپیں مارتی ہیں کلبوں اور سینما گھروں میں جاتی ہیں پروگرام چلاتی ہیں اور گانے گا کر غیر مردوں کا دل بہلاتی ہیں مگر وہاں ایسی بات نہیں ہوگی ، جنتی حوروں کے اپنے خاوند اس قدر حسین و جمیل ہوں گے کہ ان کی نگاہ کسی طرح اٹھے گی نہیں اور یہی چیز ہر مرد اور عورت کے حق میں عفت و پاکدامنی کی علامت ہے ۔
مرد وزن کا ہم عمر ہونا بھی ایک نعمت ہے عمر کے تفاوت کی وجہ سے کئی ایک پیچیدگیاں اور پریشانیاں لاحق ہوجاتی ہیں مگر جنت میں ایسا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا ، کیونکہ جنتی مرد اور جنتی عورتیں ہم عمر ہوں گے ۔
(باافراد روزی)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ھذا ماتوعدون لیوم الحسبا “۔ یہ وہ چیز ہے جس کا حساب کے دن (قیامت) کے لیے تم سے وعدہ کیا گیا تھا فرمایا (آیت) ” ان ھذا لرزقنا “۔ یہ ہماری طرف سے روزی ہے (آیت) ” مالہ من نفاد “۔ بیشک یہ کم نہیں ہوگی ، دنیا میں تو اکثر چیزوں کی کمی واقع ہوجاتی ہے فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں ، قحط سالی پیدا ہوجاتی ہے کارخانوں کی پیداوار بند ہوجاتی ہے اور لوگوں کو مشکلات پیش آتی ہیں مگر جنت میں کسی چیز کی کوئی کمی واقع نہیں ہوگی ، جنت میں ہر چیز باافراط میسر ہوگی ۔
(سرکشوں کا بدترین ٹھکانا)
فرمایا ” ھذا “ یہ بات تو ہوگئی ، تم نے جنتیوں کے انعامات کا تذکرہ سن لیا اب ذرا نافرمانوں کا انجام بھی ملاحظہ کرلیں ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وان لطغین لشرماب “۔ اور بیشک سرکشوں کے لیے برا ٹھکانا ہوگا ، جن لوگوں کی فکر اعمال اور اخلاق خراب ہوں گے اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت اور دین کی حدود کو توڑا ہوگا ، کفر ، شرک اور ظلم وتعدی پر اصرار کرتے ہونگے بدعات کو رواج دیتے ہوں گے ، غرور وتکبر میں مبتلا ہوں گے اور لوگوں کی حق تلفی کے مرتکب رہے ہوں گے ان کا ٹھکانا بہت برا ہوگا اور وہ کون سا ہے ؟ (آیت) ” جھنم “ وہ ٹھکانا جہنم ہے ” یصلونھا “ جس میں داخل ہوں گے (آیت) ” فبئس المھاد “۔ پس یہ آرام کرنے کے اعتبار سے بہت ہی بری جگہ ہوگی یعنی وہاں کوئی آرام میسر نہیں آئے گا۔
(بدترین خوردونوش)
فرمایا ” ھذا “ یہی عذاب ہے (آیت) ” فلیذوقوہ حمیم وغساق “۔ پس چکھیں اس کو کھولتا ہوا پانی اور بدبودار پیپ ہے ” حمیم “ کھولتے ہوئے گرم پانی کو کہتے ہیں جو درزخیوں کو پینے کے لیے دیا جائے گا سورة محمد میں آتا ہے (آیت) ” وسقوا ماء حمیما فقطع امعآء ھم “۔ (آیت ، 15) جب وہ اتنا گرم پانی پائیں گے تو ان کے پیٹ کی آنتیں کٹ کر نیچے گر پڑیں گی ، اس پانی کا ایک ہی گھونٹ جسم کے پورے اندرونی نظام کو درہم برہم کرنے کے لیے کافی ہوگا ، یہاں پر دوسری چیز غساق کا ذکر ہے غساق زخموں سے بہنے والی پیپ کو کہا جاتا ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر غساق کا ایک ڈول دینا میں پھینک دیا جائے تو تمام انسانوں اور جانوروں کی زندگی اس کی بو کی وجہ سے تلخ ہوجائے ، امام ابن جریر (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ حمیم اور غساق دو چیزیں ہیں حمیم سے مراد سخت ترین گرم پانی اور غساق کا مطلب انتہائی ٹھنڈا یخ بستہ پانی ہے جس کا دوسرا نام زمہریر بھی ہے جس طرح سخت گرم پانی ناقابل استعمال ہوتا ہے اسی طرح سخت منجمند پانی بھی مفید نہیں ہوتا ، غرضیکہ مفسرین نے غساق کے یہ دونوں معنی بیان کیے ہیں یعنی پیپ اور انتہائی ٹھنڈا پانی ان دو چیزوں کے علاوہ فرمایا (آیت) ” وانحرمن شکلہ ازواج “۔ اور سزا کے طور پر اس قسم کی طرح طرح کی مزید چیزیں بھی ہوں گی جو جہنمیوں کے لیے وبال جان بن جائیں گی اور وہ درد ناک اذیت میں مبتلا ہوں گے ۔
(دوزخیوں کی جماعت)
اب آگے اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کی دو جماعتوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک جماعت تابعین کی ہوگی اور دوسری متبوعین کی دنیا میں باطل طریقے پر پیچھے لگنے والے اور پیچھے لگانے والے سب جہنم میں داخل ہوں گے اور پھر وہ ایک دوسرے پر الزام تراشی بھی کریں گے جس کی وجہ سے ان کو جہنم کا منہ دیکھنا پڑے گا ارشاد ہوا ہے (آیت) ” ھذا افوج مقتحم معکم “۔ یہ ایک فوج گروہ یا جماعت ہے جو تمہارے ساتھ گھستی چلی آرہی ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس جماعت سے جہنمیوں کے دو طبقات مراد ہیں جو یا تو دنیا میں باطل طور پر لوگوں سے اپنی اتباع کراتے رہے یا وہ ایسے لوگوں کی اتباع کرتے رہے ان سب کو جہنم میں داخل کرنے سے پہلے جہنم کے کنارے پر کھڑا کیا جائے گا اور پھر یہ آپس میں ایک دوسرے کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنائیں گے گویا اس فوج سے مراد تابع اور متبوعین کا گروہ ہے جو جہنم کے کنارے پر جمع ہوگا ، پھر آواز آئے گی (آیت) ” لامرحبابھم “۔ ان کو خوش آمدید نہ کہو یعنی ان کی آؤبھگت نہ کرو کیونکر (آیت) ” انھم صالو النار “۔ یہ تو جہنم میں داخل ہونے والے ہیں یہ بڑے بڑے ائمۃ الکفر کہیں گے جو دنیا میں اپنی بات منواتے رہے اور کمزور لوگوں کو اپنے پیچھے لگنے پر مجبور کرتے رہے ، پھر کمزور اور تابع لوگ جواب دیں گے (آیت) ” قالوا بل انتم لا مرحبا بکم “۔ بلکہ تمہیں خوش آمدید نہ ہو (آیت) ” انتم قدمتموہ لنا “۔ یہ تمہیں لوگ ہو جنہوں نے ہمارے لیے اس چیز کو آگے بھیجا ہے تم نے ہی یہ مصیبت ہمارے لیے کھڑی کی ہے ہم تمہارے پیچھے لگ کر گمراہ ہونے اور پھر جہنم کے دروازے تک پہنچ گئے ہیں (آیت) ” فبئس القرار “۔ یہ تو قرار کرنے کی بہت ہی بری جگہ ہے پھر وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے (آیت) ” قالوا ربنا من قدم لنا ھذا “۔ پروردگار ! جس نے ہمارے لیے یہ مصیبت آگے بھیجی ہے یعنی جو لوگ ہمارے لیے عذاب کا باعث بنے ہیں (آیت) ” فزدہ عذابا ضعفافی النار “۔ ایسے شخص کو دوزخ میں دگنی سزا دے ، انہوں نے اپنے ساتھ ہمارا بیڑا بھی غرق کردیا ، قرآن میں دوسری جگہ موجود ہے کہ متبوعین کہیں گے کہ تم نے خود ہی گمراہی کا راستہ اختیار کیا تھا ، تم اپنے مقصد و ارادہ کے ساتھ اس راستہ پر چلتے رہے ، ہم نے تمہیں مجبور تو نہیں کیا تھا کہ ضرور ہی ہمارے پیچھے چلو ، اب ہم پر کیسے الزام دھرتے ہو ، دوزخیوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی بجائے خود ان کے لیے ایک ذہنی عذاب ہوگا ۔
(اہل ایمان کی تلاش)
اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل دوزخ کی ایک اور حیرانگی کا ذکر کیا ہے جہنمی لوگ جہنم میں پہنچ کر اپنے گردوپیش کا جائز ہ لیں گے ، اور پھر (آیت) ” وقالوا ما لنا لانری رجالا کنا نعدھم من الاشرار “۔ کہیں گے کہ ہم یہاں ان مردوں کو نہیں دیکھ رہے ہیں جنہیں ہم شریر خیال کرتے تھے (آیت) ” اتخذنھم سخریا “۔ دنیا میں ہم ان سے ٹھٹا کیا کرتے تھے ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے یہ اہل ایمان کی بات ہو رہی ہے دوزخ والے ان کو یاد کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تو یہاں پہنچ گئے ہیں مگر وہ کہاں ہیں جنہیں ہم طرح طرح کی اذتییں پہنچایا کرتے تھے ، پھر خود ہی کہیں گے کیا وہ لوگ یہاں آئے ہی نہیں (آیت) ” ام زاغت عنھم الابصار “ یا ہماری آنکھیں چوک رہی ہیں اور ان کا تلاش کرنے سے عاجز ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایمان والے تو اللہ کی رحمت کے مقام میں ہوں گے ، وہاں دوزخ میں کہاں نظر آئیں گے ۔ ؟
فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” ان ذلک لحق تخاصم اھل النار “ اہل دوزخ کا آپس میں اس قسم کا جھگڑا تنازعہ اور ایک دوسرے پر الزام تراشی بالکل ایسی ہی ہوگی یہ آپس میں جھگڑا کریں گے اور پھر دوسروں کے متعلق بھی گفتگو کریں گے کہ وہ کہاں ہیں ؟ یہ صورت حال ان کی پریشانی میں مزید اضافہ کا باعث بنے گی ۔