41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 41:19–25

وَ یَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَآءُ اللّٰهِ اِلَى النَّارِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 41:19 in the Quran reader

جس دن اکٹھے کیے جائیں گے اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف ، پس وہ روکے جائیں گے

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:20 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ اس کے قریب پہنچیں گے تو گواہی دیں گے ان پر ان کے کان ، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں اس چیز کی جو کچھ وہ کرتے تھے

وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 41:21 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے اپنی کھالوں سے کہ تم کیوں گواہی دیتی ہو ہمارے خلاف ، وہ کہیں گی کہ ہم کو بلوایا ہے اس اللہ نے جس نے ہر چیز کو بلوایا ہے ، اور اسی نے تمہیں پیدا کیا پہلی مرتبہ ، اور اس کی طرف تم لوٹائے جائو گے

وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:22 in the Quran reader

اور نہیں تھے تم پردہ کرتے اس بات سے کہ گواہی دیں گے تم پر تمہارے کان اور نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہاری کھالیں ، لیکن تم نے گمان کیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نہیں جانتا بہت سی وہ باتیں جو تم کرتے ہو

وَ ذٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِیْ ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ اَرْدٰىكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 41:23 in the Quran reader

اور یہ وہی ہے تمہارا گمان جو تم نے اپنے پروردگار کے بارے میں کیا ، اسی نے تمہیں ہلاک کیا ، پس ہوگئے تم نقصان اٹھانے والوں میں

فَاِنْ یَّصْبِرُوْا فَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّسْتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَبِیْنَ Open ayah 41:24 in the Quran reader

پس اگر وہ صبر کریں تو دوزخ ہی ان کا ٹھکانہ ہے اور اگر وہ منانا چاہیں گے ، پس نہیں ہوں گے وہ کہ انہیں منانے کا موقع دیا جائے

وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 41:25 in the Quran reader

اور لگا دیے ہم نے ان کے ساتھ ساتھی ، پس انہوں نے مزین کیا ان کے لیے جو کچھ ان کے سامنے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے ، اور ثابت ہوگئی ہے ان پر بات ان امتوں میں جو پہلے گزر چکی ہیں ان سے جنوں اور انسانوں میں سے بیشک یہ لوگ نقصان اٹھانے والے تھے

ربط آیات گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا ۔ اللہ نے قوم عاد اور ثمود کی سر کشی اور انکار نبوت اور پھر ان کے ساتھ دنیا میں ہونے والے سلوک کا ذکر کیا۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ نے کسی کو نبی بنانا تھا تو کسی فرشتے کو اپنا پیغام دے کر بھیج دیتا تو ہم ایمان لے آتے ، ہم کسی انسان کو نبی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ اللہ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو ہر ممکنہ طریقے سے اللہ کا پیغام پہنچایا اور لوگوں کو سمجھایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو مگر ان قوموں نے توحید و رسالت دونوں کا انکار کیا ۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان پر تند ہوا بھیج دی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہی اور جس سے وہ ہلاک ہوگئے حتیٰ کہ ان نافرمان اقوام کا فرد واحد بھی زندہ نہ بچا البتہ اللہ نے ان لوگوں کو بچا لیا جو اللہ کے نبیوں پر ایمان لا کر توحید کو اختیار کرچکے تھے۔ دشمنان خدا کا اجتماع اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کا سلسلہ ذکر فرمایا ہے وقوع قیامت اور جزائے عمل اسلام کے دیگر عقائد توحید ، رسالت اور قرآن کی حقانیت کی طرح ایک اہم عقیدہ ہے۔ اللہ نے قیامت والے دن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے ویوم یحشر اعداء اللہ الی النار جس دن اللہ کے دشمن یعنی کافر ، مشرک ، منکرین توحید ، منکرین رسالت اور منکرین معاد دوزخ پر اکٹھے کیے جائیں گے۔ فھم یوزعون تو وہ وہاں پر روک دیے جائیں گے۔ وزع کا معنی تقسیم کرنا ، دوگنا یا ہانکنا ہوتا ہے۔ یہاں پر روکنا زیادہ موزوں ہے ۔ ان مجرموں کو تھوڑی دیر کے بعد روک لیا جائیگاتا کہ سب اگلے پچھلے جمع ہوجائیں اور تا کہ ہر ایک کے جرم کی نوعیت کے اعتبار سے سب کی الگ الگ قطار بندی کردی جائے ۔ حتی اذا ما جاء و ھا یہاں تک کہ جب وہ دوزخ کے قریب پہنچ جائیں تو پھر محاسبہ اعمال کی منزل آجائے گی اور ان کے برے عقائد و اعمال کا کچا چٹھا ان کے سامنے کھول دیا جائے گا ۔ اعضائے انسانی کی گواہی پھر جب وہ اپنے گناہوں کا انکار کریں گے شھید علیھم سمعھم وابصارھم و جنودھم تو ان کے خلاف ان کے ان آنکھیں اور کھولیں گواہی دیں گی ۔ بما کانوا یعلمون ان اعمال کے متعلق جو چھ ماہ کرتے رہے ، نافرمان لوگ حیرت زدہ ہوجائیں گے کہ خواہ اپنی بےاعضا وجوارح ان کے خلاف گواہی دے رہے ہیں ۔ وقالوا یجلودھم تو وہ اپنی کھالوں کو مخاطب کرنے کہیں گے کہ ہم نے تمہی کو سزا سے بچانے کے لیے بد اعمالیوں کا انکار کیا تھا لم شھد تم علینا پھر تم نے ہی ہمارے خلاف کیوں کردی ہو وہ جواب دیں گی قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شی کہ گواہی کے لیے ہمیں اسی ذات خداوندی نے بلوایا ہے جس نے ہر چیز کی قوت گویائی عطا کی ہے ہم اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے بول کر گواہی دے رہے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک موقع پر حضور ﷺ مسکرائے اور پھر خود ہی صحابہ ؓ سے فرمایا کہ تم دریافت کیوں نہیں کرتے کہ میں کس بات پر مسکرا رہا ہوں ۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا حضور ﷺ ! آپ ہی ارشاد فرمائیں اس پر آپ نے واضح کیا کہ قیامت والے دن آدم کا بیٹا اپنے اعمال بد کا انکار کرے گا اور انسانوں فرشتوں شجر و مجراد زمین و آسمان کی گواہی اپنے خلاف تسلیم نہیں کرے گا ۔ اور عرض کرتے۔ پروردگار ! یہ تو میرے دشمن ہیں کیا تو نے ظلم سے پناہ نہیں دی اور تیرا وعدہ ہے کہ میں کسی پر ظلم نہیں کرونگا تو اپنی ذات کے سوا کسی کو گواہ نہیں مانتا ۔۔ یہ میرا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیا جائے اور مجھ پر زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ۔ بیشک میرا وعدہ بر حق ہے اور میں کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔ اگر تو اپنی ذات کے سوا کوئی گواہ تسلیم نہیں کرتا ، تو پھر میں تیرے اعمال و عقائد کے متعلق خود تیرے اعضاء و جو ارع کو گواہی کے لیے پیش کرتا ہوں ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ ان کی زبان بند کر دے گا اور انسان کے ہاتھ ، پائوں ، کان ، آنکھیں اور کھال وغیرہ بولنے لگیں گے جیسا کہ سورة یٰسین میں اللہ کا فرمان ہے اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمَُنَـآ اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (آیت : 65) اس دن ہم مجرموں کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ اور پائوں بول کر ہمیں ان کے کرتوتوں سے آگاہ کردیں گے۔ اب انسانوں کے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہے گا اور ان مجرموں کو جہنم رسید کردیا جائے گا ۔ … کی حق گوئی امام ابن کثیر نے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے جانے والے اصحاب رسول جب وہاں سے واپس آئے تو حضور ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ کیا تم نے ہجرت حبشہ کے دوران کوئی عجب و غریب واقعہ بھی دیکھا ہے ؟ اس پر چند نوجوانوں نے عرض کیا کہ ایک دفعہ ہم کسی مقام پر بیٹھے تھے کہ ہم نے دیکھا کہ ایک بڑھیا راہبہ اپنے سر پر پانی کا مٹکا اٹھائے جا رہے ہیں ۔ اتنے میں ایک بد قماش قسم کا نوجوان آیا جس نے بڑھیا کی گردن پر ہاتھ رکھ کر اس کو اس زور سے دھکا دیا کہ وہ بیچاری گھنٹوں کے بل گر پڑی اور اس کا مٹکا بھی ٹوٹ گیا۔ اس بڑھیا راہبہ نے کہا اے غدار عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب اللہ تعالیٰ اپنی عدالت کی کرسی پر رونق افروز ہوگا ۔ اس وقت تمام مجرموں کو حاضر کیا جائیگا ۔ ان کی زبان بند ہوگی اور ان کے اعضاء جو روح ان کے خلاف گواہی دے رہے ہوں گے ۔ اے غدار ! تمہیں اس وقت پتہ چلے گا کہ میرے اور تمہارے درمیان کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ آج تو میں اپنی کمزوری کی وجہ سے تجھ سے اس زیادتی کا بدلہ نہیں ہے معنی مگر وہ منزل عنقریب آنے والی ہے جب ہر حقدار کو اس کا حق دلایا جائے گا ۔ حضور ﷺ نے اس نوجوان سے یہ بات سن کر فرمایا صدقت اس بڑھیا نے سچ کہا ۔ آپ نے یہ الفاظ بارہا دہرائے چونکہ اس راہب کو پہلی کتابوں کا علم تھا اس لیے اس نے انہی کی تعلیم کے مصائق نوجوان کو اس کے برے انجام سے خبردار کیا ۔ پھر حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کیف یقدس اللہ قوما ً لا یوخذ یضعیفھم اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو پاک نہیں کرتا جو اپنے کمزوروں کو ان کا حق نہ دلا سکے۔ ایسی قوم ظلم و زیادتی اور گندگی میں مبتلا رہتی ہے حتیٰ کہ جب اسے کی منزل آئے گی تو اللہ تعالیٰ خود ان مسرفین سے انتقام لے لے گا۔ اعضاء وجوارح کا جواب بہر حال اعضاء وجوارح کی گواہی پیش ہونے پر مجرم لوگ اس پر حیرت کا اظہار کریں گے تو انسان کے ہاتھ ، پائوں اور دیگر اعضاء خود انسان کے خلاف گواہی دیں گے اور کہیں گے کہ ہم کو اس رب العزت نے قوت گویائی بخشی ہے ۔ جس نے تمام چیزوں کو یہ چیز عطا کی ہے وھو خلقکم اول مرۃ اور وہی ذات ہے جس نے تمہیں پہلی دفعہ پیدا کیا ۔ والیہ ترجعون اور اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے بعد پھر اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔ انسان کے اعضاء یہ بھی کہیں گے۔ وما کنتم تسترون تم اس بات سے پردہ نہیں کرتے تھے یعنی یہ چیز تمہارے تصور میں بھی نہیں تھی ۔ ان یشھد علیکم سمعکم ولا ابصارکم ولا جلودکم کہ تمہارے خلاف تمہارے کان ، نہ تمہاری آنکھیں اور نہ تمہاری کھالیں گواہی دیں گی ۔ تو تم گناہ کے کاموں سے چھپنے کی کوشش نہیں کرتے تھے ۔ اگر تمہیں علم ہوتا کہ خود تمہارے اعضاء وجوارح تمہارے خلاف بطور گواہ کھڑے ہوجائیں گے تو پھر کفر ، شرک اور معاصی کا ارتکاب نہ کرتے۔ اللہ کے متعلق بد گمانی فرمایا حقیقت یہ ہے ولکن ظننتم ان اللہ لا یعلم کثیرا مما تعلمون کہ تم نے گمان کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے بہت سے کاموں کا علم نہیں ہے۔ تم گناہ سے کام لوگوں کی نظروں سے تو پوشیدہ طور پر کرتے تھے مگر خدا تعالیٰ سے ذرا شرم نہیں کھاتے تھے ، حالانکہ اس سے تو کوئی چیز مخفی نہیں مگر تم سمجھ رہے تھے کہ یہ برائیاں خدا تعالیٰ سے بھی پوشیدہ رکھ رہے ہو اور ان کی کوئی نہیں دیکھتا اور نہ کوئی جانتا ہے ۔ وذلکم ظنکم الذی ظنتم بربکم یہی وہ تمہارا گمان ہے جو تم نے رب تعالیٰ کے متعلق کر رکھا تھا ۔ اودلکم اسی گمان نے تمہیں تباہی میں ڈالا اور پھر نتیجہ یہ ہوا فاصبحتم من الخسرین کہ تم نقصان اٹھانے والوں میں ہوگئے اللہ تعالیٰ کے متعلق تمہاری اس بد گمانی نے تمہیں ہمیشہ کے لیے ناکام بنا دیا حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے کہ لوگو ! تم میں سے کوئی نہ مرے مگر ایسی حالت میں کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق حسن ظن یعنی اچھا گمان رکھنے والا ہو۔ وھو بکل شی علیم ( البقرہ : 29) وہ ذرے ذرے کا علم رکھنے والا اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں انہ بکل شی محیط ( حم السجدۃ : 54) وہ ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ فرمایا فان یصبروا ا فالنار متوی لھم اگر یہ صبر کریں گے یعنی اپنے رب کے متعلق بد گمانی پر قائم رہیں گے اور یہی سمجھتے رہیں گے کہ ان کے حالات سے کوئی واقف نہیں ہے تو پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہی ہو سکتا ہے۔ سورة الطور میں ہے فَاصْبِرُوْٓا اَوْلَا تَصْبِرُُوْاج سََوَآئٌ عَلَیْکُمْط اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (آیت : 16) اب صبر کرو نہ کرو تمہارے لیے برابر اور تمہیں اپنے جرائم کی پاداش میں لازماً جہنم میں جانا ہوگا ۔ دنیا میں واپسی کی خواہش فرمایا وان یتستعبوا اگر یہ مجرم لوگ عتبہ یعنی ناراضگی دور کرنے کا موقع طلب کریں گے کہ کسی طرح اللہ کو منا کر راضی کرلیں یا دوسرے الفاظ میں اپنے سابقہ جرائم سے توبہ کرلیں گے۔ فما ھم من المعتبین تو انہیں ایسا کرنے کا موقع بھی نہیں دیا جائے گا ۔ ان کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ کو راضی ہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے عمل کی زدگی کو دنیا میں ہی ضائع کردیا جب کہ وہ توبہ کرنے کی پوزیشن میں تھے مگر اب دنیا کی زندگی ختم ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، لہٰذا اب سابقہ اعمال کی تلافی ممکن نہیں ہوگی ۔ فرمایا ، ان کا دنیا میں تو یہ حال تھا۔ وقیضنا لھم قرنہء لہ ہم نے ان کے ساتھ ایسے ساتھی لگا دیئے تھے فزینوا لھم ما بی ایدیھم وما خلفھم پس انہوں نے ان کے اگلے اور پچھلے اعمال مزی کر کے دکھائے۔ اس کی وضاحت سورة الانعام میں موجود ہے وزین لھم الشیطن ما کانوا یعلمون ( آیت : 43) شیطان ان کے برے کاموں کو مزین اور خوشنما کر کے دکھاتا ہے اور پھر اس کا فلسفہ بھی سمجھتا ہے کہ یہ کام کرنے سے بڑا فائدہ ہوگا ۔ عزت ملے گی اور تم آخرت میں کامیاب ہو جائو گے ۔ شرکیہ ، کفریہ ، بدعتیہ اور لہو لہب کے تمام امور شیطان خوشنما کر کے دکھاتا ہے اور انسان عمر بھر انجام دیتا رہتا ہے مگر جب آخرت کی منزل آئے گی تو ایسے اعمال وبال جان بن جائیں گے۔ اس وقت پتہ چلے گا کہ جن کاموں کو ہم نیکی کا کام سمجھتے ہیں وہ تو شرک اور بدعت کے کام تھے اور شیطان نے ہمیں خواہ مخواہ مروا دیا ۔ تو یہاں بھی فرمایا کہ ہم نے دنیا میں ان کے ایسے ساتھی بنا دیے تھے جو ان کو ان کے برے اعمال مزین کر کے دکھاتے تھے اور وہ مادی زدگی انہی پر انجام دیتے رہے اور اس طرح نفع ی بجائے نقصان میں پڑگئے ۔ اور شیاطین میں انسان اور جن دونوں قسم کی مخلوق ہوتی ہے بعض انسانوں میں سے شیاطین کے ایجنٹ ہوتے ہیں جو لوگوں کو ان کے برے اعمال خوشنما کر کے دکھاتے ہیں اور اس طرح انہیں غلط راستے پر چلائے رکھتے ہیں ۔ فرمایا اس کا نتیجہ یہ نکلا وحق علیھم القول فی امم قدخلت من قبلھم من الجن والانس پس ثابت ہوگئی ان پر بات ان امتوں میں جو ان سے چلی گزری ہیں جنوں میں سے اور اسانو میں سے جنوں اور انسانوں کی سابقہ اقوام نے بھی نبی اور توحید کے خلاف راستہ اختیار کیا اور اسی کو اپنی معراج سمجھا ۔ تو جس طرح سابقہ اقوام پر یہ بات ثابت ہوئی اسی طرح نزول قرآن کے زمانے کے لوگوں پر بھی ثابت ہوگئی ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا انھم کانوا خسرین کہ یہ لوگ نقصان اٹھانے والے بن گئے انہیں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا ، انہوں نے توحید ، رسالت اور وقوع قیامت کا انکار کیا ، پیغمبروں کی بات کو نہ مانا ، کتاب الٰہی کو وحی الٰہی تسلیم نہ کیا اور پھر ہمیشہ کے لیے خسارے میں پڑگئے ، یعنی جہنم رسید ہوگئے۔
Ayahs 41:26–32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ Open ayah 41:26 in the Quran reader

اور کہاجن لوگوں نے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا کہ نہ سنو اس قرآن کو اور شور و شر کرو اس میں تا کہ تم غالب ہو جائو

فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 41:27 in the Quran reader

پس ہم ضرور چکھائیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا سخت عذاب ، اور ہم بدلہ دیں گے ان کو اس برے کام کا جو وہ کرتے تھے

ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 41:28 in the Quran reader

یہ ہے سزا اللہ کے دشمنوں کی دوزخ کی آگ ، ان کے لیے اس میں ہمیشہ رہنے کا گھر ہوگا ، اور یہ بدلہ ہوگا اس کا جو ہماری آیتوں کے ساتھ وہ انکار کرتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِیَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 41:29 in the Quran reader

اور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ اے ہمارے پروردگار ! دکھا ہمیں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا جنوں اور انسانوں میں سے تا کہ ہم انکو پامال کریں اپنے پائوں کے نیچے ، تا کہ وہ ہوجائیں پست لوگوں میں

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 41:30 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار ، اللہ ہے پھر وہ اس پر مستقیم رہے۔ اترتے ہیں ان پر فرشتے (اور کہتے ہیں ، کہ مت خوف کھائو اور نہ غمگین ہو ، اور خوشخبری سنو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ Open ayah 41:31 in the Quran reader

ہم تمہارے ساتھی میں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی ، اور تمہارے لیے اس میں ہوگا ، جو تمہارے جی چاہیں گے ، اور تمہارے لیے وہ بھی ہوگا جو تم طلب کرو گے

نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ۠ Open ayah 41:32 in the Quran reader

یہ مہمانی ہوگی پروردگار کی طرف سے جو بہت بخشش کرنے والا اور نہایت مہربان ہے

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ نے جزائے عمل کے سلسلے میں فرمایا کہ اللہ کے دشمنوں کافروں اور مشرکوں کا دوزخ کے قریب اجتماع ہوگا ۔ پھر ان کو ان کے جرائم کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔ جب محاسبہ اعمال کی منزل آئیگی تو خود انہی کے اعضاء و جو ارع کو ان پر بطور گواہ پیش کیا جائے گا ۔ وہ حیرت زدہ ہو کر پوچھیں گے کہ تم ہمارے خلاف کیوں گواہی دے رہے ہو تو وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اس مالک الملک نے قوت گویائی عطاکی ہے جس نے ہر چیز کو بلوایا ہے ۔ اب آج کی آیات میں بھی انہی لوگوں کا حال بیان ہورہا ہے ۔ اس درس میں قرآن کریم کی تلاوت پر کفار کے ردعمل کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی بیان ہو رہا ہے۔ تلاوت قرآن پر شور و غل ارشاد ہوتا ہے وقال الذین کفروا لا تسمعوا لھذا القرن کا فر لوگ کہنے لگے کہ اس قرآن پر کان نہ دھر و یعنی اس کو سننے کی کوشش نہ کرو بلکہ والفوا فیہ اس کی تلاوت کے دوران شور و غل برپا کرو لعلکم تغلبون تا کہ تم غالب آ جائو گزشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ کافر لوگ قرآن پاک کو وحی الٰہی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے اور نہ وہی نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کو اللہ کافر سادہ نبی مانتے تھے ، ان کا خیال تھا لو شاء ربنا لا نزل ملئکۃ ( حم السجدۃ : 14 ) اگر اللہ چاہتا تو کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتاتو ہم اس کو بات مان بھی لیتے ، وگرنہ ہم اپنی ہی برادری کے ایک شخص کو کیسے رسول مان لیں جس میں ہم سے برتری والی کو فی خصوصیت بھی نہیں ہے۔ اسی بناء پر وہ کہتے تھے کہ جس چیز کو یہ قرآن بنا کر پیش کر رہا ہے یہ اس کا من گھڑت ہے ، لہٰذا نہ تو خود اس کو سنو اور اگر کوئی دوسرا آدمی سننا چاہے تو وہ درمیان میں شور و غل برپا کر دو تا کہ نہ کسی کے پلے کچھ پڑے اور نہ وہ اس سے متاثر ہو کہنے لگے یہی ایک صورت ہے کہ تم اسلام کے راستے میں بند باندھ کرسکو گے ورنہ یہ ہم سب کو بہا کرلے جائے گا ۔ دوسری جگہ موجود ہے کہ قرآن سننے والوں پر یہ لوگ حملہ آور بھی ہوجاتے تھے تا کہ وہ اس قرآن کو نہ سن سکیں ، یہ تھی کفار کی تدبیر جس کے ذریعے و ہ قرآن کے مشن کو نا کام بنانا چاہتے تھے ، حالانکہ یہ نہایت ہی حماقت کی بات تھی کیونکہ کلام الٰہی کو اس بیہودہ طریقے سے روکنا ممکن نہ تھا قرآن کا مقابلہ تو دلیل کے ساتھ ہی کیا جاسکتا تھا جو ان کے پاس نہیں تھی ۔ قرآن کے مشن کا مقابلہ اس سے بہتر پروگرام اور بہتر تعلیم پیش کر کے کیا جاسکتا تھا ، مگر کافروں کے پاس نہ کوئی ایسا نظام تھا اور نہ تعلیم ، لہٰذا انہوں نے ہی کام کیا جو آلہ جہلا کرتے ہیں ۔ اور پر اتر آئے اور قرآن کو سننے والوں پر حملہ آور ہونے لگے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے کے کافروں نے بھی یہی حربہ استعمال کیا تھا۔ جب وہ آپ کی کسی دلیل کا جواب دلیل کے ساتھ نہ دے سکتے تو کہنے لگے حرقوہ وانصرو والمتکم ( الانبیائ : 68) اس شخص کو زندہ جلا دو کہ تم اپنے معبودوں کی اسی طریقے سے مد د کرسکتے ہو وگرنہ دلائل کے اعتبار سے یہ شخص تمہیں نا کام بنائے بغیر نہیں چھوڑے گا ۔ قرآن کی خاموشی سے سماعت آداب قرآن کے سلسلے میں خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔ واذا قری القران فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون (الاعراف : 104) جب قرآن پاک کی تلاوت ہورہی ہو تو اس کو سنو اور خاموش رہو تا کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحمت نازل فرمائے ۔ خاموشی کے ساتھ قرآن کی سماعت کی جائے شور و غل پیدا کرنا سخت بیہودہ بات ہے ۔ ہمارے جدید معاشرے میں یہ قباحت پیدا ہوگئی ہے کہ ریڈیو یا ٹیلیویژن پر قرآن کی تلاوت ہو رہی ہوتی ہے یا اس کا ترجمہ اور تشریح بیان کی جا رہتی ہوتی ہے ۔ تو لوگ ادھر ادھر کی باتوں میں مصروف ہوتے ہیں اور قرآن پاک کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے ۔ یہ چیز نہ صرف آداب قرآن کے خلاف ہے ، بلکہ والغو فیہ کی زد میں بھی آتی ہے ، مگر ہم لوگ اس کی کچھ پرواہ نہیں کرتے جب قرآن بیان ہو رہا ہے تو اس وقت یا تو اس کو غور سے سننا چاہئے ورنہ ریڈیو یا ٹیلیویژن کو بند کردینا چاہئے تا کہ قرآن کریم کی بےحرمتی تو نہ ہو ۔ مکہ کے کافر بھی یہی شور و غل کرتے تھے کہ قرآن کی آواز کسی کے کانوں میں نہ پڑجائے۔ شور کرنیوالوں کی سزا فرمایا جو لوگ قرآنی پروگرام میں شور و غل کے ذریعے دخل اندازی کی کوشش کریں گے فلنذ یقن الذین کفروا عذابا ً شدید ہم ایسے لوگوں کو سخت سزا کا مزہ چکھائیں گے۔ ولنجز بینھم سوا الذین کانوا یعلمون اور ہم ان کو ان کے برے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیں گے ، ان کو چاہیے تو یہ تھا کہ قرآن کو غور سے سنتے ، اس کو نصیحت پر عمل کر کے ایمان اور توحید کو اختیار کرتے مگر انہوں نے نہ تو خود اس کو سنا اور نہ دوسروں کو سننے دیا ، لہٰذا ان کی بد اعمالی کا بدلہ بھی برا ہی ہو سکتا ہے۔ فرمایا ذلک جزء اعدء اللہ النار اللہ کے دشمنوں کے لیے دوزخ کی آگ ہی بدلہ ہے۔ جو ان کو مل کر رہے گا لھم فیھا دارالخلد ان کے لیے جہنم میں ہمیشہ کا گھر ہوگا ، یعنی وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی میں جلتے رہیں گے اور یہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی جزاء بما کانوا باتینایجدون یہ بدلہ ہے اس جرم کا کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے ، وہ خد ا تعالیٰ کی توحید نبی کی نبوت ، اس کے معجزات اور خدا کی قدرت کے دلائل ، جنت دوزخ ، حشر نشر اور وقوع قیامت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کو دائمی عذاب میں مبتلا کر دیگا ۔ مبتوعین کے خلاف درخواست پھر جب یہ کافر لوگ عذاب الٰہی کے مستوجب بن جائیں گے تو رب العزت کی بارگاہ میں درخواست پیش کریں گے وقال الذین کفروا اور کہیں کے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا یعنی توحید رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت و صداقت کا انکار کیا ۔ ربنا ارنا الذین ضلنا من الجن والانس اے ہمارے پروردگار ! ہمیں وہ لوگ دکھا دے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا اور جو جنوں اور انسانوں دونوں انواع میں سے ہے۔ دنیا میں …سبز باغ دکھاتے رہے اور ہمیں سفارش کے ذریعے آخرت کی کامیابی کی نوید سناتے رہے ۔ آج یہ میں نظر نہیں آ رہے ہیں ، ذرا ان کو ہمیں دکھا تو دے کہ ہم ان سے کچھ سوال و جواب ہی کرلیں ۔ اے اللہ ! اگر آج یہ لوگ ہمارے سامنے آجائیں ۔ نجعلھما تحت اقدامنا تو ہم انہیں پائوں کے نیچے روند ڈالیں گے لیکونا من الاسفلین تا کہ یہ پست اور ذلیل لوگوں میں سے ہوجائیں ۔ اس وقت تابعین اپنے متبوعین سے سخت بیزار ہوں گے اور چاہیں گے کہ انہیں ان کی غلط کارکردگی کی فوری سزا ملے ۔ سور ۃ ص میں بھی گزر چکا ہے ان ذلک لحق تخاصہ اھل النار ( آیت 64) یہ بالکل سچی بات ہے کہ اہل دوزخ ضرور آپس میں جھگڑا کریں گے اور ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے ، مگر اللہ فرمائے گا کہ تم تابع اور متبوع دونوں جہنم میں جائو کیونکہ تم خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ، لہٰذا تم کو دنگی سزا دی جائے گی ۔ بہر حال فرمایا کہ متبوعین کے خلاف خود ان کے تابعین استغاثہ پیش کریں گے۔ صاحب استقامت لوگ فرمایا کفار و مشرکین کے بر خلاف ان الذین قالوا ربنا اللہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے ثم استقاموا پھر اس پر مستقیم رہے یعنی پختہ رہے۔ استقامت کی تشریح میں امام زمحشری (رح) اور دوسرے مفسرین اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا قول کہ استقامت قول اور فعل دونوں سے ہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ اللہ کی توحید پر مستقیم الحال رہے اور کسی دوسرے الٰہ کی طرف توجہ بھی نہ کرے۔ اللہ کی توحید میں شک و شبہ یا شرک کا شائبہ تک نہ ہو ۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ آدمی سیدھے راستے یعنی ایمان و توحید اور سنت کے راستے پر قائم رہے اور لومڑی کی طرح ادھر ادھر پھیلنے کی کوشش نہ کرے۔ حضرت عثمان غنی ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننا اور عمل میں اخلاص پیدا کرنا کہ اس میں شریک یا ریا کاری کی ملاوت نہ ہو اور محض اللہ کی خوشنودی مدنظر ہو ۔ یہی استقامت ہے ، اسی طرح حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ اللہ کی توحید کو ماننا ، ایمان کو صحیح طریقے سے اختیار کرنا اور فرائض کو ادا کرنا استقامت میں داخل ہے۔ حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ مجھے کوئی جامع مانع نصیحت فرمائیں آپ نے فرمایا ۔ قل امنت باللہ ثم استقیم اقرار کرو کہ میں اللہ کی وحدانیت کو مانتا ہوں ، اور پھر اس پر مستقیم ہو یعنی ڈٹ جائو اور تمام فرائض حسب استقامت ادا کرو۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کو حاصل ہونے والے کمالات دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ پہلی قسم یہ ہے کہ انسان کو یقین علم حاصل ہو ، اور یہ صرف وحی الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔ باقی تمام علوم یا تو تجرباتی ہوں گے یاظنی ، علمی لحاظ سے کامل انسان وہی ہوگا جس کو یقینی علم حاصل ہوگا ۔ انسانی کمالات کا دوسرا ذریعہ عمل صالح ہے ، جو شخص اچھے اعمال انجام دے گا وہ کامل آدمی سمجھا جائے گا ۔ الغرض ! کامل آدمی وہ ہے جو علم یقینی کے ساتھ ساتھ عمل صالح بھی انجام دیتا ہو۔ علوم معارف میں سب سے اعلی درجے کا علم معرفت الٰہی ہے انبیاء علہیم السلام لوگوں کو دلائل کے ذریعے اللہ کی پہچان کراتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اس کی صفات اور نیکی کو پہچاننا اور پھر اس پر عمل کرنا ہی معرفت ہے جس شخص کو اللہ کی پہچان نصیب ہوگئی ، وہ بلا شبہ مستقیم ہے۔ اس لیے شیخ عبد القادر جیلانی (رح) فرماتے ہیں اطلبوالاستقامۃ یعنی استقامت کو تلاش کرو ، کسی کو پرکھنا ہو تو اس کی کرامتیں نہ ڈھونڈتے پھر و بلکہ یہ دیکھو کہ اس کے ایمان اور نیکی کا کیا مرتبہ ہے کیا یہ شخص مستقیم کے درجے میں ہے یا ڈنواں ڈول پھر رہا ہے ۔ یاد رکھو استقامت کرامت ہے بلند تر چیز ہے۔ فرشتوں کی طرف سے بشارت فرمایا : جنہوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر وہ اس پر مستقیم رہے تتنزل علیھم المئلکۃ ان پر فرشتے اترتے ہیں جو ان کو کہتے ہیں الا تخافوا ولا تخرفوا کہ خوف نہ کھائو اور غمگین نہ ہو وابشر وا بالجنۃ التی کنتم توعدون اور اس جنت کی بشارت حاصل کرلو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ اللہ کے مستقیم بندوں پر فرشتوں کے نزول سے متعلق مفسرین کی مختلف آراء ہیں ۔ امام بغوی اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جب کسی مستقیم کی موت کا وقت قریب آجاتا ہے تو اللہ کی رحمت کے فرشتے اترتے ہیں ایسے شخص سے پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور فرشتے اس کو جنت کی بشارت دیتے ہیں بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اس بشارت کا تعلق قبر سے ہے یعنی ایسے شخص کو اللہ کے فرشتے قبر میں تسلی دیتے ہیں اور اسے اچھے انجام کی بشارت سناتے ہیں اور پھر جب مستقیم آدمی حشر کے دن قبروں سے باہر نکلیں گے تو اس وقت بھی فرشتے ان کو خوشخبری دیں گے اور کہیں گے کہ گھبرائو نہیں ، تمہیں اس جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ حدیث کی کتاب مجمع الزوائد کے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ جان کنی کے لیے ملک الموت کے ساتھ مزید اٹھارہ فرشتے ہوتے ہیں جو مستقیم آدمی کو جنت کی بشارت سناتے ہیں جب کہ غیب کا پردہ اٹھ جاتا ہے ۔ مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ نیکی ، ایمان ، توحید تقویٰ اور طہارت والے لوگوں کو دنیا میں بھی فرشتے القائے خیر کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ فرشتے ایسے لوگوں کی طبیعتوں میں نیکی ڈالتے رہتے ہیں اور یہ بھی ایک قسم کی بشارت ہی ہوتی ہے ۔ اسی لیے آپ نے فرمایا کہ جب تمہارے دل میں نیکی کا خیال آئے تو الحمد للہ کہو یعنی اللہ کی تعریف بیان کرو اور سمجھ لو کہ اللہ کے فرشتوں نے تمہیں نیکی کی تلقین کی ہے اور اگر دل میں کوئی برا خیال پیدا ہو تو سمجھ لو کہ یہ شیطان کا اثر ہے۔ چناچہ ایسے موقع پر لا حول ولا قوۃ الا باللہ یا اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھنا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ شیطانوں کے شر سے اپنی پناہ میں رکھے۔ اللہ کی طرف سے میزبانی فرمایا ، اللہ کے فرشتے مستقیم لوگوں کو جنت کی بشارت سناتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں نحن اولیوکم فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ ہم دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھی ہیں۔ دنیا میں موت کے وقت جنت کی خوشخبری دیتے اور آخرت میں قبروں سے اٹھتے وقت بھی تسلی دیتے ہیں اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ فکر نہ کرو ولکم فیھا ما تشقی انفسکم جس جنت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اس میں ہر وہ شے ہوگی جو تمہارے جی چاہیں گے ، یعنی تمہاری ہر اچھی خواہش پوری کی جائے گی ۔ ظاہر ہے کہ جنت میں بری خواہش تو پیدا ہی نہیں ہوگی ، لہٰذا ہر خواہش اچھی خواہش ہوگی جس کو پورا کیا جائے گا ۔ ولکم فیھا ما تدعون اور تمہیں وہاں ہر وہ چیز میسر ہوگی جس کو تم طلب کرو گے۔ اللہ کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں ، وہ تمہارا ہر مطالبہ پور ا کرے گا اور تمہیں من مانی مراد ملے گی ۔ فرمایا یہ تمام نعمتیں نزلا ً من غفور رحیم بہت بخشش کرنے والے اور نہایت مہربان اللہ کی طرف سے مہمان نوازی ہوگی اللہ کی میزبانی بہت ، بڑی عزت کا مقام ہے جسے نصیب ہوجائے ۔ انسان ذرا سا غور کرے تو جان لے گا کہ اللہ کا کتنا بڑا احسان ہوگا کہ ایک کمزور انسان عظیم پروردگار کا مہمان بنے گا ۔ دنیا میں بھی مہمان کی عزت و تکریم کی جاتی ہے ۔ جیسے حضور ﷺ کا فرمان ہے اکرم الضیف کہ اپنے مہمان کی عزت کرو ، تو جو آدمی اللہ کے مہمان ہوں گے اللہ ان کو کتنی عزت کریگا اور یہ کس قدر شرف کی بات ہوگی۔
Ayahs 41:33–36

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 41:33 in the Quran reader

اور اس سے بہتر بات کس کی ہوگی جو بلاتا ہے اللہ کی طرف اور نیک عمل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بیشک میں فرمانبرداروں میں سے ہوں

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ Open ayah 41:34 in the Quran reader

اور نہیں برابر نیکی اور برائی ، آپ ہٹائیں اس خصلت کے ساتھ جو بہتر ہے ۔ پس آپ دیکھیں گے کہ آپ کے اور جس کے درمیان عداوت ہے ، وہ گویا کہ دوست اور قرابتدار بن جائے گا

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا١ۚ وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ Open ayah 41:35 in the Quran reader

اور نہیں دی جاتی یہ خصلت مگر ان لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا اور نہیں دی جاتی یہ خصلت مگر اس کو جو بڑا خوش قسمت ہو

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر چھیڑ چھاڑ ہو آپ کے لیے شیطان کی طرف سے تو آپ پناہ مانگیں اللہ کے ساتھ وہی ہے سننے والا اور جاننے والا

ربط آیات گزشتہ رادع کے آغاز میں اللہ نے کفار کا شکوہ بیان کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کریم کو مت سنو بلکہ جب اس کی تلاوت ہو رہی ہو ۔ تو شور و غل مچائو۔ تو شور و غل مچائو تا کہ دوسرے بھی اس کو نہ سن سکیں ۔ قرآن پاک کے پروگرام کو اسی طرح ہی ناکام بنایا جاسکتا ہے کہ اس کے پیغام کو لوگوں تک پہنچنے سے روک دیا جائے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ ہم ایسے لوگوں کو سخت سزا دیں گے ۔ پھر اللہ نے دوزخ میں تابعین اور متبوعین کا ذکر کیا کہ تابعین اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ ہمیں ہمارے متبوعین دکھائے جائیں تا کہ ہم انہیں اپنے پائوں کے نیچے روند ڈالیں کیونکہ انہوں نے ہی ہمیں دنیا میں گمراہ کیا ، پھر اللہ نے استقامت والی بات بیان کی کہ جنہوں نے اللہ کو اپنا رب تسلیم کرلیا اور پھر اس پر مستقیم رہے انہیں اللہ کے فرشتے جنت کی خوشخبری سناتے ہیں جہاں انہیں من مانی نعمتیں میسر ہونگی۔ بہترین بات دعوت اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے دعوت الیٰ اللہ کی اہمیت بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے ومن احسن قولا ً ممن دعا الی اللہ اور اس سے بہتر بات کسی شخص کی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔ وعمل صالحا ً اور خود نیک عمل کرتا ہے۔ وقال اننی من المسلمین اور زبان سے اقرار کرتا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں ۔ اس مقام پر اللہ نے اس شخص کی بات کو بہترین بات قرار دیا ہے جس میں یہ تین خصلتیں پائی جائیں ۔ یعنی وہ عورت الیٰ اللہ دیتا ہو ، خود اچھے اعمال انجام دیتا ہو اور اللہ کا مطیع اور فرمانبردر ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ دعوت الیٰ اللہ کا سب سے بڑا ذریعہ قرآن کریم ہے ۔ جو شخص قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے۔ اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچاتا ہے ، وہ یقینا اللہ کی طرف بلاتا ہے جو اس قرآن کو سننے کی بجائے شور و غل پیدا کرتا ہے تا کہ اس کی آواز دوسروں تک نہ پہنچ سکے اس سے بد بخت انسان بھی کوئی نہیں چاہیے تو یہ تھا کہ قرآن حکیم سے بہتر کوئی کلام پیش کیا جاتا اور اس سے بہتر پروگرام اور بہتر تعلیم پیش کی جاتی ۔ مگر اس کی بجائے اس کی آواز کو ہی دبانے کی کوشش کی جائے تو یہ کس قدر غلط بات ہے۔ مفسر قرآن ابو مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ دعوت الیٰ اللہ سے مراد دعوت الی التوحید و الطاعت ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت کی طرف بلایا جائے اللہ کا قرآن اور اس کا حامل پیغمبر خدا ﷺ یہی دعوت پیش کرتے ہیں ، لہٰذا ان سے اچھی بات کس کی ہو سکتی ہے ؟ مطلب یہ کہ جس طرح دعوت الیٰ اللہ بہترین بات ہے ، اسی طرح داعی الیٰ اللہ یعنی خدا کی طرف بلانے والا بھی بہترین آدمی ہے۔ امام ابوبکر جصاص (رح) اس مقام پر یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ اس شخص سے کس کی بات بہتر ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلاتا ہے ، نیک عمل کرتا ہے اور اپنے آپ کو فرمانبردار بناتا ہے ، اس بات کی دلیل ہے کہ دعوت الی اللہ فرض ہے جب کسی علاقے میں اللہ کی توحید ایمان اور اطاعت کی طرف دعوت دینے والا کوئی نہ ہو تو وہاں پر یہ دعوت دینا فرض ہوجاتا ہے ۔ اور جہاں دوسرے لوگ اس کام کے لیے موجود ہوں وہیں یہ دعوت فرض کفار کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ ایک عام کلیہ ہے کہ فرض نفل کی نسبت افضل ہوتا ہے ، اگر دعوت الیٰ اللہ کو فرض نہ سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نفل فرض سے افضل ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت ، نیکی اور اطاعت کی طرف دعوت دینا فرض ہے۔ مؤذن کا مرتبہ حضرت سعد ؓ اور ام المومنین حضر ت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ اذان میں حی علی الصلوٰۃ کا کلمہ بہترین بات ہے اور یہی دعوت الیٰ اللہ ہے۔ وہ لوگوں کو خدا کی عبادت ، اطاعت اور وحدانیت کی طرف بلاتا ہے اور پھر جب اذان کہہ کر نماز ادا کرتا ہے تو گویا عمل صالح انجام دیتا ہے حدیث میں آتا ہے۔ کہ قیامت والے دن مؤذن مجاہد کے حصے کی طرح ہوگا ۔ گویا اذان کہنا اپنی جان و مال راہ خدا پیش کرنے کے برابر ہے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ مؤذن کا اذان کے بعد نما ز کے لیے انتظار کرنا مجاہد کے خون میں لت پت ہونے کے برابر ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کا بیان ہے کہ اگر میں مؤذن ہوتا تو نفلی حج اور جہاد کی پرواہ نہ کرتا ۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ اگر میں مؤذن ہوتا ، تو قیام الیل اور صوم النہار یعنی نفلی نماز روزے کی پرواہ نہ کرتا ، کیونکہ اذان کہنا بہت بڑا عمل ہے۔ خود حضور ﷺ نے اذان دینے والوں کے لیے تین دفعہ یہ دعا فرمائی اللھم اغفر للموذنین اے اللہ ! اذان دینے والوں کو معاف فرما آپ نے یہ دعا بھی کی اللھم ارشد الائمۃ اے اللہ ! نماز کی امامت کرانے والوں کے لیے رشد و ہدایت مقدر فرما ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک ایسا دور بھی آئے گا ۔ جب لوگ اذان کو کمزوروں پر چھوڑ دیں گے یعنی بڑے آدمی اذان دینا گوارا نہیں کریں گے ، حالانکہ مواذنین کے گوشت کو اللہ نے دوزخ کی آگ پر حرام قرار دیا ہے بشرطیکہ اذان کہنے میں خلوص نیت ہو ، محض معاوضہ لینا مقصود نہ ہو ، اس روایت کو امام ابن کثیر (رح) نے مفسرین ابی حاتم کے توسط سے نقل کیا ہے۔ برائی کا دفاع نیکی ہے آگے اللہ نے تسلی بھی دی ہے ۔ ولا تستوی الحسنۃ ولا السیئۃ یاد رکھو ! بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی لہٰذا ادفع بالتی ھی احسن بری چیز کو اچھائی کے ساتھ دور کرو۔ برائی کا دفاع نیکی سے کرنا سلف سے بھی ثابت ہے کسی شخص نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو برا بھلا کہا تو آپ نے اس کے جواب میں کہا کہ اگر تو سچا ہے تو پھر میں گناہ گار ہوں اور اللہ مجھے معاف فرمائے اور اگر تو اس معاملہ میں جھوٹا ہے اور تم نے غلط کام کیا ہے تو پھر اللہ تجھے معاف فرمائے۔ ایک بزرگ کے متعلق منقول ہے کہ جب کوئی شخص ان کو خبر دیتا کہ فلاں شخص آپ کی غیبت کرتا ہے یا آپ کو گالیاں دیتا ہے تو آپ اس کے حق میں دعائے خیر کرتے اور اس کی تعریف کرتے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ آئندہ اس شخص سے برائی کی بجائے نیکی خبر آتی ۔ یہی بات اللہ نے قربانی ہے کہ برائی کا دفا نیکی کے ساتھ کرو ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کہ اگر تمہارے اور اس شخص کے درمیان کوئی عداوت ہوگی کا نہ ولی حمیم تو وہ دوست اور قرابتدار جیسا بن جائیگا اور آمحدہ برائی کا سلوک نہیں کرے گا ۔ الغرض ! برائی کا دفاع ہمیشہ نیکی ، شائستگی اور اخلاق کے ساتھ کرنا چاہئے۔ تمہارے اسی سلوک کی وجہ سے تمہارے دشمن دوستوں میں بد ل جائیں گے اور اگر اینٹ کا جواب پتھر سے دو گے تو آئندہ کے لیے نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا بلکہ اس سے برائی اور عداوت میں مزید اضافہ ہوگا ۔ برائی کا جواب بھلائی سے دینا بہت بڑ ی خصلت ہے جو ہر شخص میں پیدا نہیں ہو سکتی اور اکثر اوقات انسان کو غصہ آجاتا ہے فرمایا وما یلقھا الا الذین صبروا یہ اچھی خصلت تو انہی لوگوں میں پیدا ہوتی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں ۔ کسی کی برائی کے جواب میں فوراً طیش میں نہیں آجاتے بلکہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہیں ما یلقھا الا زوحظ عظیم اور یہ خصلت نہیں دی جاتی مگر ایسے شخص کو جو بڑ ا ہی خوش قسمت ہو ۔ برائی کا جواب نیکی کے ساتھ دینا بڑ ی اقبال مندی کی علامت ہے اور یہ عالی ظرف صابر و شاکر اور خوش بخت لوگوں ہی کے حصے میں آتی ہے۔ استعاذہ کی ضرورت جب کسی شخص کے ساتھ کوئی برائی کی جائے تو فطری امر ہے کہ اس کو غصہ آئیگا یا پھر شیطان کی طرف سے وسوسہ پیدا ہوگا ۔ غصے کی حالت میں انسان برائی کا جواب برائی سے دیتا ہے اور شیطان کی وسوسہ اندازی سے برائی کی طرف راغب ہوتا ہے۔ ان صورتوں کا علاج بھی اللہ نے تجویز فرما دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے واما ینزغنک من الشیطن نزع جب شیطان کی طرف سے چھیڑ چھاڑ ہو اور انسان برائی اور زیادتی کی طرف مائل ہونے لگے تو ایسی حالت میں فرمایا فاستعذ باللہ اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرو ، صحیح مسلم اور مستدرک حاکم میں یہ روایت موجود ہے کہ دو شخص حضور ﷺ کی مجلس کے دوران آپس میں الجھ پڑے۔ ایک شخص کو شدید غصہ آیا ۔ آپ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اس کلمے کو پانی زبان سے ادا کر دے تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے اور وہ کلمہ ہے اعوذ باللہ من الشطین الرجیم وہ شخص کہنے لگا ، کیا تم لوگ مجھے مجنوں خیال کرتے ہو ؟ بہر حال شیطان کی وجہ سے غصہ آئے تو اس کا علاج حضور ﷺ نے اور خود قرآن نے یہ بیان کیا ہے کہ ایسے وقت میں اللہ کی پناہ طلب کی جائے۔ کیونکہ شیطان کا وسوسہ اللہ کے ذکر سے ہی دور ہو سکتا ہے۔ اذاذکر اللہ حنث الشیطن جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اسکا اثر انسان کے قلب پر ہوتا ہے اور شیطان بھاگ جاتا ہے جب کفار و مشرکین قرآن کی آواز کو ٹھکرا رہے ہوں ، توحید کی آواز کو دبانے کی کوشش میں ہوں تو ایک مومن کو غصہ آجاتا ایک فطری امر ہے تو اس کا علاج یہی بتاتا ہے کہ ایسے مواقع پر اللہ کی پناہ مانگو انہ ھو السمیع العلیم بیشک وہ سب کچھ سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ وہی شیطان کی چھیڑ چھاڑ کا علاج کرے گا ، جو شخص اپنے آپ کو کمزور سمجھ کر خدا تعالیٰ کی پناہ میں آجانا ہے ، اللہ تعالیٰ ضرور اس کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے اور وہ شیطین کے شر سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
Ayahs 41:37–40

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے رات اور دن سورج اور چاند ہیں نہ سجدہ کرو سورج کے سامنے اور نہ چاند کے ، بلکہ سجدہ کرو اللہ کے سامنے جس نے ان کو پیدا کیا ہے ، اگر تم خالص اسی کی عبادت کرتے ہو

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ تکبر کریں تو وہ جو تیرے پروردگار کے پاس ہیں ، وہ تسبیح بیان کرتے ہیں اس کی رات اور دن ، اور وہ تنگدل نہیں ہوتے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ تم دیکھتے ہو زمین کو دبی ہوئی ، پس جب ہم اتارے ہیں اس پر پانی تو وہ تازہ ہوجاتی ہے اور ابھر آتی ہے بیشک وہ ذات جس نے اس کو زندہ کیا ہے ، وہی البتہ زندہ کرنے والا ہے مردوں کو ، بیشک وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو ٹیڑھا چلتے ہیں ہماری آیتوں میں ، وہ ہم پر مخفی نہیں ، بھلا وہ شخص جس کو ڈا ال جائیگا دوزخ میں وہ بہتر ہے یا وہ جو آئیگا امن کے ساتھ قیامت کے دن عمل کرو جو کچھ تم چاہتے ہو بیشک جو کام تم کرتے ہو ، وہ اس کو دیکھنے والا ہے

ربط آیات گزشتہ درس میں دعوت الیٰ اللہ کا ذکر تھا۔ قرآن پاک کے انکار کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ اس شخص سے بہتر کون ہو سکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے خود نیک کام کرتا ہے اور زبان سے خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کا اقرار بھی کرتا ہے ، پھر اللہ نے نیکی اور بدی کا تقابل ذکر کیا اور برائی کو نیکی کے ساتھ دور کرنے کا اصول بتلایا ، ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ خصلت عظمہ عدیل اور خوش بخت انسانوں کو ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ پھر اللہ نے شیطان کی چھیڑ چھاڑ اور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غصے یا وسوے کا علاج یہ بتایا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ پناہ پکڑو ، وہیں تمہیں ان شرور سے محفوظ رکھے گا ۔ اب آیا ت زیر درس میں اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت اور معاد میں سے توحید کے بعض دلائل بیان کیے جا رہے ہیں اور ساتھ وقوع قیامت اور جزائے عمل کا بیان بھی ہے ۔ اس سے اگلی آیات میں پھر قرآن کی حقانیت اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا ذکر آ رہا ہے۔ نشانی……… اب اللہ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے کچھ عقلی دلائل بیا ن فرماتے ہیں جن پر غور کرنے سے اس کی وحدانیت سمجھ میں آ کستی ہے۔ اس قسم کے دلائل اللہ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ بیان فرمائے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ ومن ایتہ الیل والنھار اور اس کی نشانیوں میں سے میں رات دن والشمس والقمر سورج اور چاند میں اللہ نے ان چار چیزوں کو اپنی قدرت کی نشانیوں کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ سورج کا تعلق دن کی مکمل روشنی اور چاند کا تعلق رات کی ذمیمی نورانیت سے ہے ۔ دراصل سورج اور چاند ہی رات اور دن کے تغیر و تبدل کا ذریعہ ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے وسخر الشمس والقمر ( الزمر : 5) اس نے سورج اور چاند کو مسخر کردیا ہے یعنی انسانوں اور دیگر جانداروں کی خدمت پر مامور کردیا ہے یہ دونوں سیارے اللہ کے حکم کے مطابق اپنی اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں اور بعد انکے واسطہ سے پیدا ہونے والی اور دن گرمی اور سردی روشنی اور تاریکی سے ساری مخلوق بالخصوص انسان مستفید ہو رہی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت سے سورج اور چاند کو جانداروں کی مصلحت کے لیے کام پر لگا دیا ہے۔ دن کے وقت انسان اور دیگر جاندار اپنے کام کاج میں مصروف رہتے ہیں ۔ پھر جب وہ تھک ہار جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ رات کو لے آتا ہے جس میں سکون حاصل کر کے اگلے دن کے مشاغل کے لیے پھر سے تازہ دم ہوجاتے ہیں۔ بہر حال یہ چاند سورج دن اور رات اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ۔ غیر اللہ کی سجادہ کی ممانعت اللہ نے تو ان چیزوں کو اپنی قدرت کی نشانیوں کے طور پر پیدا فرمایا ہے مگر بعض بد نصیب دنیا میں ایسے بھی ہیں جو ان چیزوں کے خالق خدا تعالیٰ کی بجائے انہی چیزوں کی پوجا کرنے لگتے ہیں ۔ اللہ نے اس بات سے سختی سے منع فرمایا لا تسجدوا للشمس ولا للقمر نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بعض ستارہ پرست لوگ سورج اور چاند کے سامنے سجدہ ریزہ ہوتے ہیں اور اس گروہ میں آگے دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ بعض لوگ تو وہ ہیں جو راہ راست ان چیزوں میں اختیار مانتے ہیں اور سمھتے ہیں کہ یہ ہماری مرادیں براہ راست پوری کرسکتے ہیں ۔ یہ لوگ چاند اور سورج میں اسی طرح روح کو مانتے ہیں جس طرح انسانوں اور دیگر جانداروں میں پائی جاتی ہیں ۔ اور دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو ان سورج اور چاند کو براہ راست تو متصرف نہیں مانتے بلکہ ان کو واسطہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو سجدہ کرنا گویا یا اللہ کے سامنے سجدہ کرنا ہے ۔ بہر حال دونوں اعتقادات شرکیہ اور باطل میں ، اللہ تعالیٰ نے ان اعتقادات کی تردید یعنی سورج اور چاند کے سامنے سجدہ کی ممانعت کر کے فرمایا واسجدوا للہ الذی خلقھن بلکہ سجدہ اس ذات کے سامنے کرو جس نے سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے۔ سجدہ کے لائق خالق ہو سکتا ہوے نہ کہ مخلوق سجدہ صرف اللہ وحدہٗ لا شریک کے لیے رواہ ہے ۔ حضور علی الصلوٰۃ والسلام کا فرمان مبارک بھی ہے کہ اگر مخلوق کا سجدہ مخلوق کے لیے روا ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ خاوند کے سامنے سجدہ کرے۔ مگر یہ بھی جائز نہیں ، فرمایا سجدہ صرف ذات واحد کے سامنے کرو ان کنتم ایاد تعبدون اگر تم اس کی توحید کو مان کر خاص اسی ایک اللہ کی عبادت کرنے والے ہو۔ سجدہ دو قسم سے ہے یعنی سجدہ عبادت اور سجدہ تعظیم ، سجدہ عبادت ابتدائے تخلیق سے لے کر قیامت تک کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ کسی مخلوق کے سامنے ۔۔۔۔۔ کسی بھی حالت یا کسی بھی زمان و مکان میں جائز نہیں ۔ البتہ سجدہ و تعظیم پہلی امتوں میں روا تھا۔ مگر ہماری امت میں یہ بھی حرام قرار دیا گیا ہے اس قسم کا سجدہ فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے کیا تھا اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپ کے سامنے کیا تھا۔ اس سجدہ میں سجدہ عبادت والی انتہائی تعظیم مراد نہیں ہوتی بلکہ محض ادب بجا لانا مقصود ہوتا ہے۔ بہر حال امت میں یہ بھی حرام ہے خواہ کسی بادشاہ کے سامنے کیا جائے۔ کسی نبی ، ولی ، پیر ، مرشد ، زندہ ، مردہ ، صاحب قبر ، سورج ، چاند ، ملائکہ کی تعظیم کے لیے ہو ۔ سب حرام ہے ، البتہ اس اگر میں سب کا اتفاق ہے کہ ایسا سجدہ شرک کی حد میں نہیں آتا ، چناچہ اگر کوئی شخص کسی قبر پر سجدہ کرتا ہے تو اس سے دریافت کرنا پڑے گا کہ اس سے اس کی کیا مراد ہے اگر وہ انتہائی تعظیم یعنی عبادت والا سجدہ کر رہا ہے ۔ تو وہ شخص یقینا کفر کا مرتکب ہوا ہے اور مشرک بن جائے اور اگر اسے تعظیمی یا ملاقات کا سجدہ کیا ہے ، تو وہ حرام کا مرتکب سمجھا جائے گا اس پر کفر اور شرک کا فتویٰ نہیں لگے گا ۔ بہر حال یہ اس شخص کی نیت اور ارادے پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کا سجدہ کرتا ہے۔ الغرض ! سجدہ تعظیم بعض صورتوں میں کفر اور بعض صورتوں میں حرام ہوتا ہے بعض ایسی صورتیں بھی سامنے ہیں کہ وہاں تعظیم مراد نہیں لی جاسکتی ، مثلاً اگر کوئی شخص کسی بت کے سامنے سجدہ کرتا ہے جیسا کہ کافر اور مشرک کرتے ہیں تو ایسی صورت میں کسی کا یہ عذر قابل قبول نہیں ہوگا کہ اس نے تعظیمی سجدہ کیا ہے ۔ کیونکہ پتھر یا مٹی یا لکڑی کی کیا تعظیم ہو سکتی ہے۔۔۔۔ ایسے شخص پر کفر کا فتویٰ لگے گا ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص قرآن کریم کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے تو اس پر کفرکا قطعی حکم لگے گا ۔ جو شخص نبی کا قاتل ہے ، اس کی بھی کوئی تاویل قابل قبول نہیں اور وہ بھی کافر ہوجاتا ہے ، البتہ بعض مواقع پر تاویل ہو سکتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص والدین ، مرشد و مرشدیا باداشت وقت کی تعظیم کرتا ہے جو کہ عبادت کے درجہ میں نہیں آتی ، تو اس قسم کا تعظیمی سجدہ کفر تو نہیں ہوگا مگر فعل حرام ضرور تصور ہوگا اور ایسا کرنے والا شخص سخت گناہ گار ہوگا ۔ جس طرح تعظیمی سجدہ کی ممانعت ہے۔ اسی طرح تعظیمی رکوع کرنا بھی منع ہے حضور ﷺ نے ملاقات کے وقت انحنا یعنی جھکنے سے بھی منع فرمایا ہے بلکہ فرمایا کہ سیدھے رہو کیونکہ کسی کے سامنے انحنا بھی مکرو ہ ہے۔ فرشتوں کی تسبیح فان استدبروا اگر یہ لوگ غرور وتکبر کا مظاہرہ کریں اور اپنے خالق ومالک حقیقی کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی بجائے دوسروں کے سامنے سجدہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور تسبیح وتحمید سے گریز کریں تو اس سے اللہ تعالیٰ کے جلال و و عظمت میں سر مو فرق نہیں پڑتا کیونکہ فالذین عند ربک یسبحون لہ بالیل والنھار وہ مخلوق جو تیرے رب کے پاس ہے وہ تو شب و روز اسکی تسبیح میں مصروف رہتی ہ۔ اس سے مراد اللہ کی مقرب مخلوق ملائکہ ہیں جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتے رہتے ہیں وھم لیسئمون اور وہ ایسا کرنے سے تنگ دل نہیں ہوتے یعنی تھکتے بھی نہیں ۔ وہ ہر وقت عجز و انکساری کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں ۔ اسی لیے فرمایا کہ اگر بعض انسان خدا کی عبادت مانا بھی کریں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ اس مقام پر سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے ، البتہ امہ کرام میں قدرے اختلاف یہ ہے کہ امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ سجدہ گزشتہ آیت کے اختتام ایاہ تعبدون پر لازم آتا ہے جب کہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس آیت کے اختتام لا یسمرن پر عبدو کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ بعث بعد الموت کی مثال آگے اللہ نے مرنے کے بعد بھی اٹھنے کو ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے ارشاد ہوتا ہے ومن ایتہ انک تری الارض خاشعۃ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم زمین کو پست ، خشک اور دبی ہوئی دیکھتے ہو ، پانی کی عدم موجودگی میں زمین میں خاک اڑ رہی ہوتی ہے اور اس میں ہر ولی کا نام و نشان تک نہیں ہوتا فاذا انزلنا علیھا الماء پھر جب ہم اس پر بارش کی صورت میں پانی نازل کرتے ہیں اھتزت وربت تو پھر ہیی شک زمین تر و تازہ ہوجاتی ہے اور ابھرنے لگتی ہے ۔ اس میں ایک قسم کا جوش پیدا ہوتا ہے اور اس میں نشونما کی قوت ابھر آتی ہے ۔ اب یہ زمین اس قابل ہوجاتی ہے کہ اس میں کوئی چیز کاشت کی جائے وہ اللہ کی قدرت سے بار آور ہوگی پھر اس کا فلسفہ سمجھایا ان الذین احیاھا لمحی الموتی کہ جس ذات خداوندی نے اس مردہ زمین کو زندہ کردیا ہے۔ وہ قیامت والے دن مردوں کو بھی زندہ کر دے گا ۔ فرمایا انہ علی کل شی قدیر بیشک وہ ذات ہر چیز پر قدرت رکھتی ہے جس مالک الملک نے انسان کو پہلی دفعہ پید فرما دیا وہ اسے دوبارہ زندہ کرنے پر کیوں قادر نہیں ؟ اللہ نے سورة الانبیاء میں اس مضمون کو اس طرح بیان 1 ؎ فرمایا ہے کما بدانا اول خلق نعیدہ جس طرح ہم نے مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کیا ، اسی طرح اس کو دوبارہ بھی لوٹا دیں گے ۔ اس میں نشانات قدرت و توحید اور وقوع قیامت کی دلیل بھی آگئی ۔ آگے الحاد اور اس کا انجام بیان کیا گیا ہے ان الذین یلحدون فی ایتنا بیشک وہ لوگ ہماری آیتوں میں ٹیڑھا پن اختیار کرتے ہیں ۔ لا یخفون علینا و ہ ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں یعنی ایسے بد بختوں کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے عقیدہ اور عمل کے مطابق ہی سلوک کریں گے۔ لحدکا معنی ٹیڑھا پن ہوتا ہے۔ حامی کو لحد اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ قبر کے ایک کنارے پر ترچھی ہوتی ہے۔ الحاد کو اختیار کرنے والے ملحد اس لیے کہلاتا ہے کہ وہ الفاظ کر اپنی جگہ قائم رکھتے ہوئے اس کے معانی و مطالب کو ٹیڑھا کر کے یکسر بدل دیتا ہے اس فعل بد کی بہت سی مثالیں ہمارے اس زمانے میں بھی ملتی ہے۔ مثلاً لفظ اللہ خداوند تعالیٰ کا ذاتی نام ہے اور اس کے بہت سے صفاتی نام بھی ہیں ۔ مثلاً رحمان ، رحیم ، قدوس ، عزیز ، جبار ، قہار ، وہاب ، رزاق وغیرہ ۔ اللہ نے سورة بنی اسرائیل میں فرمایا قُلِ ادْعُوا اللہ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَط اَیًّامَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی (آیت : 110) تم اسے اللہ کا ذاتی نام لے کر پکارو یا صفاتی نام رحمان وغیرہ کے ذریعے پکارو اس کے تمام نام بھلے ہیں ۔ حضور ﷺ کا ارشادمبارک ہے ان اللہ تسعۃ وتسعین اسما مائۃ الا واحد ا من احصاھا دخل الجنۃ ( بخاری ، مسلم ) اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں ۔ جس نے ان کو محفوظ کیا اور ان کی نگہداشت کی وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ مگر منکر قرآن پرویز لفظ اللہ کو خدا کا ذاتی نام تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ کہتا ہے کہ اللہ سے مراد قانون ہے ، گویا لفظ کو تو اپنی جگہ پر تسلیم کیا مگر اس کا معنی بدل دیا ہے اور یہی الحاد ہے۔ مرزائیوں نے بھی کئی معاملات میں الحاد کا ارتکاب کیا ہے مثلاً سورة الفتح میں محمد رسو ل اللہ ( آیت ، 29) اس کا صاف معنی یہ 1 ؎۔ الانبیاء پ 17 آیت 4 ، 1 ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں مگر مرزا قادیانی اس کا معنی یہ بیان کرتا ہے کہ اللہ نے قرآن میں میرا نام محمد بھی ہے اور رسول بھی ، سر سید کے نزدیک جنت کسی خاص مقام کا نام نہیں بلکہ اس کا معنی مسرت و شادمانی ہے ، جو شخص اچھے اعمال انجام دیتا ہے ، اس کو خوشی حاصل ہوگی ، اسی طرح وہ دوزخ سے حسرت اور افسوس مراد لیتا ہے یعنی برے اعمال انجام دینے والے آدمی کو حسرت اور سخت افسوس ہوگا ۔ اسی طرح علامہ مشرقی نے لکھا ہے کہ شیطان سے مراد کوئی خاص شخصیت نہیں بلکہ اس کا معنی غصہ ہے اور جبرائیل کوئی فرشتہ نہیں بلکہ ایک پاکیزہ قوت کا نام ہے۔ فریضہ حج ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے مگر ملحد لوگ اسے مخصوص ایام میں مخصوص اعمال انجام دینے کی بجائے اس کا ترجمہ عالمی کانفرنس کرتے ہیں۔ یہ بھی پرویز ی کا الحاد ہے کہ اطیعو اللہ سے مراد اللہ کی اطاعت نہیں بلکہ سنٹر ل گورنمنٹ کی اطاعت مراد ہے ، اس نے حورعین کا معنی پاکیزہ فکر کیا ہے حالانکہ اس سے مراد وہ خوبصورت عورتیں ہیں جو اہل جنت کو میسر ہوں گی ۔ اسی طرح اصلاحی صاحب نے رحم کا انکار کیا ہے کہ یہ کوئی سزا نہیں ہے ۔ واقعہ معراج کو وہ خواب کا واقعہ بتاتا ہے کیونکہ انبیاء کے خواب سچے ہوتے ہیں ۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ جس ابلس نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر اپنی فوقیت کا دعویٰ کیا تھا وہ تو ختم ہوچکا ہے اب شیطان کی زندگی کا مطلب یہ ہے کہ اس کی جنس باقی ہے یہ الحاد کی چند مثالیں ہیں اور یہ بھی کی ایک بد ترین قسم ہے۔ دراصل قرآن و سنت کی منجملہ اصطلاحات ایمان ، کفر ، شرک ، نفاق ، ارتداد وغیرہ کی طرح الحاد بھی ایک اصطلاح ہے جس کے تحت ایک مکمل مفہوم پایا جاتا ہے۔ مثلاً ایمان سے مراد اللہ کی ذات ، صفات ، انبیاء ، کتب ، ملائکہ تقدیر اور بعثت بعد الموت کو صدق دل سے تسلیم کرنے کا نام ہے ، اسی طرح کفر مذکورہ چیزوں کے انکار کو کہا جاتا ہے۔ شرک یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ذات کو تو تسلیم کرتا ہے ، مگر اس کی ذات ، صفات ، تصرف اور تدبیر میں دوسروں کو بھی شریک مانتا ہے۔ اسی طرح نفاق کا مرتکب منافق اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس کے ظاہر اور باطن میں تضاد ہو ۔ وہ بظاہر تو اسلام کا اقرار کرتا ہے اور کسی حد تک اس کے ارکان پر عمل بھی کرتا ہے مگر دل سے اللہ کی توحید اور اس کے نبی اور دین کو سچا نہیں سمجھتا ۔ اسی طرح مرتد و ہ شخص ہوتا ہے جو دین اسلام پر ایمان لا کر پھر اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے دین کو اختیار کرے۔ یعنی یہودی ، عیسائی ، ہندو ، سکھ ، مجوسی یا دہریہ بن جائے ۔ اسی طرح الحاد بھی قرآن و سنت کی ایک اصطلاح ہے اور ا س سے مراد ہے کہ کوئی شخص قرآن و سنت کے الفاظ کو تو تسلیم کرتا ہے مگر اس کا مطلب اور مفہوم ایسا بیان کرتا ہے جو نہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہے ، نہ اس کے رسول کی اور نہ سلف صالحین کی ، ایسے ہی محدود کے متعلق اللہ نے اس مقام پر فرمایا کہ جو لوگ ہماری آیتوں میں الحاد کے مرتکب ہوتے ہیں ، وہ ہم سے مخفی نہیں ہیں ۔ آگے ان کے انجام کے متعلق فرمایا افمن یلقی فی النار خیر بھلا وہ شخص بہتر ہی جو دوزخ میں ڈالا جائے گا امر من یاتی امنا یوم القیمۃ وہ بہتر ہے جو قیامت والے دن امن کی حالت میں آئے گا ، ظاہر ہے کہ موخر الذکر ہی بہرت ہے ، اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ آیا ایمان قبول کر کے مامون حالت میں اللہ کی رحمت کے مقام جنت تک پہنچنا چاہتے ہیں یا الحاد کو اختیار کر کے ہمیشہ کی ذلت اور سزا کے مستحق بننا چاہتے ہیں ۔ پھر اللہ نے دھمکی کے انداز میں فرمایا اعملوا ما شئتم تم جو تمہارا جی چاہے کرتے ہو ان بما تعملون بصیر بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے۔ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں وہ تمہارے اخلاص ، ایمان کفر ، شرک ، الحاد ہر چیز سے واقف ہے تم جب منشا کام کرتے رہو اور وہ تمہارے راستے میں اس وقت رکاوٹ نہیں ڈالے گا ، البتہ قیامت والے دن تمہارے عقائد اعمال کے مطابق ہی بدلہ دے گا ۔