41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 41:41–46

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

تحقیق وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا نصیحت کے ساتھ جب کہ ان کے پاس آگئی ، اور بیشک وہ البتہ ایک کتاب ہے محفوظ

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

نہیں آسکتا اس کے پاس باطل نہ آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے ، یہ اتاری ہوئی ہے حکمتوں اور تعریفوں والے پروردگار کی طرف سے

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

نہیں کیا جاتا آپ کے لیے مگر وہی کچھ جو کہا گیا رسولوں کے لئے آپ سے پہلے ، بیشک آپ کا پروردگار البتہ بخشش کرنے والا ، اور درد ناک عذاب دینے والا ہے

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم بناتے اس قرآن کو عجمی زبان میں تو یہ لوگ کہتے کہ کیوں نہیں تفصیل سے بیان کی گئیں اس کی آیتیں ، کیا عجمی زبان اور عربی لوگ ؟ آپ کہہ دیجئے ، یہ ان لوگوں کے لیے ، جو ایمان لائے ہیں ، ہدایت اور شفا ہے اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لائے ، ان کے کانوں میں بوجھ ہیں اور یہ قرآن ان کے لیے اندھا پن ہے یہی لوگ ہیں کہ ان کو پکارا جاتا ہے دور جگر سے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور البتہ اختلاف کیا گیا اس میں ، اور اگر پہلے سے ایک طے شدہ بات نہ ہوتی تیرے پروردگار کی طرف سے تو البتہ فیصلہ کردیا جاتا ان کے درمیان ، اور بیشک وہ البتہ شک میں ہیں اس کی طرف سے جو تردد میں ڈالنے والا ہے

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جس نے عمل کیا اچھا پس اپنے نفس کے لیے ، اور جس نے برائی کی پس اسی کے نفس پر پڑے گا اس کا وبال اور نہیں ہے تیرا پروردگار ، ذرہ بھی بھی ظلم کرنے والا بندوں پر

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے بعض عقلی دلائل پیش کیے اور واضح کیا کہ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس پروردگار عالم کے سامنے ریزہ ہو جائو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ فرمایا اگر مشرک لوگ اپنے غرور وتکبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے تو اس کو مقرب مخلوق ملائکہ موجود ہیں جو صبح و شام اس کی تسبیح تحمید بیان کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے بعث بعد الموت کا مسئلہ ایک مثال کے ذریعے سمجھایا کہ جس طرح خشک زمین پر اللہ تعالیٰ بارش برسا کر اس کو ہرا بھرا کردیتا ہے ۔ یعنی مردہ زمین کو زندگی بخشا ہے ۔ اسی طرح قیامت والے دن وہ مردوں کو بھی زندہ کر کے اپنے سامنے کھڑا کرلے گا ، پھر حساب کتاب اور جزائے عمل کی منزل آئے گی اور ہر ایک کو اپنے کیے کا پھل چکھنا ہوگا ۔ پھر اللہ نے دین میں الحاد اختیار کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی اور انہیں ان کے برے انجام سے ڈرایا ۔ کتاب الٰہی کی حفاظت اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت میں سے آج کے درس میں کتاب الٰہی اور رسالت کا ذکر ہو رہا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ان الذین کفروا بالذکر لما جاء ھم بیشک وہ لوگ جنہوں نے نصیحت کا انکار کیا جب کہ وہ ان کے پاس آگئی ۔ کفر کا لغوی معنی کسی چیز کو چھپا دینا اور اصطلاحی معنی اللہ کی ذات ، اس کی صفات ، اس کی کتب ، اس کے رسولوں اور قیامت کا انکار ہے اسی طرح ذکر کا لغوی معنی نصیحت ہے۔ قرآن پاک بھی چونکہ ایک نصیحت ہی ہے لہٰذایہاں پر ذکر سے مراد کتاب الٰہی ہے۔ فرمایا جو لوگ کتاب الٰہی کا انکار کرتے ہیں جبکہ وہ ان کے پاس آگئی وانہ لکتب عزیز حالانکہ یہ ایک محفوظ کتاب ہے عزیز کا لفظی معنی غلبے والا ہوتا ہے جب کہ اس مقام پر محفوظ مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون (الحجر : 9) اس ذکر یعنی قرآن کو ہم نے ہی نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔ بہر حال اللہ نے فرمایا کہ یہ ایک محفوظ کتاب ہے اور یہی وجہ ہے کہ لا یاتیہ الباطل کہ اس میں باطل دخل اندازی نہیں کرسکتا یعنی اس میں کوئی تغیر و تبدل یا کمی بیشی نہیں ہو سکتی ۔ جب اس کتاب کو جبریل لے کر نازل ہوتے تھے ، تو راستے میں پہرے بٹھا دیے جاتے تھے تا کہ جنات اور شیاطین کوئی دخل اندازی نہ کرسکیں ۔ ان میں سے جو بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرتا اس پر شہاب پھینکے جاتے ۔ پھر یہ قرآن حکیم رب العالمین نے روح الامین کے ذریعے علی قلبک ( الشعرا : 194) حضور علیہ السلا م کے قلب مبارکہ پر نازل فرمایا اور ذمہ لیا سنقرئک فلا تنی ( الاعلیٰ : 6) کہ ہم آپ کو پڑھائیں گے اور آپ بھول نہیں سکیں گے ، نیز فرمایا ان علینا جمعہ و قرنہ ( القیمۃ : 17) اس کا جمع کرنا اور پڑ ھانا ہمارے ذمے ہے ، ہاں اگر ہم خود کسی آیت کو منسوخ کردیں یا بھلا دیں تو یہ الگ بات ہے نات بخیر منھا او مثلھا ( البقرہ : 106) ایسی صورت میں ہم سے بہتر یا کم از کم اس جیسی دوسری آیت لے آئیں گے ۔ پھر نزول کے بعد اس کی تفہیم اور آگے تبلیغ کی ذمہ داری بھی اللہ نے اٹھا رکھی ہے۔ غرضیکہ یہ ایک مکمل طور پر محفوظ کتاب ہے جس میں باطل دخیل نہیں ہو سکتا من لین یدیہ ولا من خلفہ نہ اس کے آگے کی طرف سے اور نہ پیچھے کی طرف سے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں آگے پیچھے سے عدم مداخلت کا مطلب یہ ہے کہ اس میں مطلقا ً کسی قسم کی مداخلت نہیں ہو سکتی ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہا جائے کہ رات اور دن میں فلاں کام ممکن نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مذکورہ کام کسی بھی وقت نہیں کیا جاسکتا یا مثلاً سورة الملک میں سات آسمانوں کی تخلیق کا ذکر کر کے فرمایا کہ آپ خدائے رحمان کی تخلیق میں کوئی تفاوت نہیں پائیں گے ثم ارجع البصر کرنین ( آیت : 4) اگرچہ آپ اپنی نگاہ کو دو دفعہ اٹھا کر دیکھ لیں ، تو یہاں بھی کر تین کا مطلب صرف دو دفعہ نہیں بلکہ بار بار مراد ہے۔ ہزار دفعہ بھی آسمان کی طرف دیکھیں گے تو اس میں کوئی نقص نہیں پائیں گے بہر حال آگے اور پیچھے سے حفاظت کا مطلب مکمل حفاظت ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس کے آگے سے مراد یہ ہے کہ قرآن حکیم کے نزول سے پہلے جتنی کتابیں اور صحیفے ہوئے ہیں ان کے حوالے سے اس کتاب میں کوئی غلط بات ثابت ہیں کی جاسکتی بلکہ یہ تو خود سابقہ کتب کی تصدیق کرتی ہے اور اس کے پیچھے سے یہ مراد ہے کہ اب اس کے بعد نہ کوئی کتاب آئیگی ، نہ کوئی شریعت اور نہ احکام جو اس کتاب کے کسی حکم یا آیت کو منسوخ کر دے ۔ یہ اللہ کا آخری پیغام ہے ، اس کے بعد کوئی نیا حکم اور نئی کتاب نہیں آئے گی ا ، اور نہ اس میں کسی قسم کی ترمیم و تنسیخ ہو سکے گی ۔ اسی لیے تو اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر اس کتاب پر ایمان نہیں لائو گے۔ فبای حدیث بعدہ یومنون ( المرسلات : 50) تو پھر اس کے بعد کس چیز پر ایمان لائو گے ، اس کے بعد تو کوئی کتاب نہیں آئیگی ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ آگے سے عدم مداخلت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن حکیم میں سابقہ اقوام کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ کوئی شخص ان کو باطل ثابت نہیں کرسکتا اور پیچھے سے یہ مراد ہے کہ اس کتاب میں جو آئندہ کے لیے پیشین گوئیاں کی گئی ہیں ان میں بھی کوئی باطل یا خلاف واقعہ بات ثابت نہیں ہو سکے گی ۔ فرمایا تنزیل من حکیم حمید یہ کتاب حکمتوں والے اور تعریفوں والے پروردگار کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت اور اس کتاب کی حفاظت کا انتظام ہے کہ جب بھی کسی نے اس کتاب میں مداخلت کی کوشش کی ، اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں دوسرے لوگوں کو کھڑا کردیا ۔ جنہوں نے متعلقہ خرابی کی نشاندہی کر کے اس ناپاک جسارت کو ناکام بنا دیا ، چناچہ اب نہ تو اس کے الفاظ کو بدلا جاسکتا ہے اور نہ ان معانی اور مطالب کو تبدیل کیا جاسکتا ہے جو حضور ﷺ ، صحابہ کرام ؓ اور صحاب خیر القرون سے ثابت ہیں اس سلسلہ میں جس نے بھی کوئی مذموم کوشش کی اس نے منہ کی کھائی ، اللہ نے حفاظت کتاب کا یہ ذمہ قیامت تک کے لیے اٹھا رکھا ہے ، وہ مالک الملک بلا شبہ تعریفوں اور ستائشوں کے لاحق ہے جس نے اپنی کمال حکمت سے یہ سارا انتظام فرما دیا ہے۔ طعنہ زنی پر صبر کی تلقین آگے تسلی کا مضمون آ رہا ہے ما یقال لک الا ما قد قیل للرسل من قبلک نہیں کہا گیا آپ سے مگر وہی کچھ جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا ۔ سابقہ اقوام نے بھی اپنے اپنے رسولوں کو شاعر ، کاہن ، کذاب اور مفتری وغیرہ کہا اور آپ کی قوم بھی آپ سے یہی کچھ کہتی ہے۔ یہ منکرین کا پرانا طریقہ یہ لہٰذا آپ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ اس معاملہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں جو خود ان سے نپٹ لے گا ۔ ان ربک لذو مغفرۃ بیشک آپ کا پروردگار بخشش کرنے والا ہے۔ وذوعقاب الیم اور درد ناک سزا دینے والا بھی ہے ، جو لوگ اس سے معاصی کی معافی طلب کرلیتے ہیں اور آئندہ کے لیے صحیح راستہ اختیار کرلیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی سابقہ کوتاہیوں کو معافی کردیتا ہے اور جو لوگ ضد ، عناد اور تعصب پر اڑے رہتے ہیں ان کو سزا بھی دے گا ۔ بہر حال جیسی پریشانیاں اور تکلیفیں پہلے انبیاء کو آئیں وہی آپ کو بھی آ رہی ہیں ، آپ ان پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور نتیجہ اللہ کی طرف سونپ دیں ۔ قرآن اور عربی زبان اس سورة کے آغاز میں بیان ہوچکا ہے کہ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اور یہ قران عربتا لقوم یعلمون ( آیت : 3) قرآن پاک سمجھ دار لوگوں کے لیے عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ ( ابراہیم : 4) ہم نے ہر رسول اس کی قوم کی زبان میں بھیجا ہے تا کہ وہ احکام الٰہی کو وضاحت کے ساتھ بیان کرسکے ، اگر نبی کی زبان قوم کی زبان سے مختلف ہوتی تو تبلیغ دین میں دقت پیش آتی ۔ اس طرح اللہ نے جو کتاب بھیجی ہے وہ اس زبان میں نازل کی ہے جو اس نبی اور قوم کی زبان ہے ۔ اس اصول کے تحت اللہ نے اپنا آخری کلام اپنے آخری رسول حضرت محمد ﷺ پر آپ کی اور آپکی قوم کی زبان عربی زبان میں نازل فرمایا ۔ نزول قرآن کے زمانہ میں عربی زبان دنیا بھر میں فصیح وبلیغ اور ترقی یافتہ زبان مانی جاتی تھی ، لہٰذا قرآن بھی اسی زبان میں نازل فرمایا اور پھر ساتھ اتمام حجت کے طور پر فرمایا ولو جعلنا قرانا اعجبا اور اگر اس قرآن کو ہم عجمی یعنی غیر عربی زبان میں نازل فرماتے لقالوا لو لا فصلت ایتہ تو یہ لوگ اعتراض کرتے کہ اس کی آیات کی تفصیل کیوں نہیں بیان کی گئی ۔ مطلب یہ کہ اگر قرآن ہماری اپنی عربی زبان میں ہوتا تو ہم اس کی تفصیلات کو آسانی سے جان سکتے ۔ ان کا یہ اعتراض بجا ہوتاء اعجمی و عربی اور قرآن تو عجمی زبان میں ہے جب کہ ہم عربی لوگ میں تو فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کر کے مفروضہ اعتراض کا دروازہ بند کردیا ہے۔ اب ان پر بحث تمام ہوچکی ہے اور یہ لوگ اس کتاب کی عدم تفہیم کا اعتراض پیش نہیں کرسکتے۔ قرآن کی شر انگیزی ارشاد ہوتا ہے قل ھو للذین امنوا ھدی وشفا ً اے پیغمبر آپ ان سے کہہ دیں کہ یہ قرآن حکیم اہل ایمان کے لیے سراسر ہدایت اور شفاء ہے جو لوگ اس کلام کو سمجھتے ہیں اور اس کی حقانیت پر یقین رکھتے ہیں ان کے لیے یہ راہ ہدایت کو واضح کرتا ہے اور ان کی تمام روحانی اور اخلاقی بیماریوں کے لیے نسخہ شفا بن جاتا ہے قرآن پاک شرک ، کفر ، الحاد ، نفاق ، بد اخلاقی ، حسد ، کینہ اور بغض جیسی اخلاقی اور روحانی بیماریوں کو دور کرتا ہے۔ والذین لا یومنون اس کے بر خلاف جو لوگ ا س پر یقین نہیں رکھتے فی اذا فھم و قر ان کے کانوں میں یہی قرآن بوجھ بن جاتا ہے جسکی وجہ سے اس کی باتیں ی ان کے کانوں میں داخل ہی نہیں ہوتیں ۔ ظاہر ہے کہ جو شخص کسی حقیقت کو سنے گا نہیں وہ سمجھے گا ، کیسے اور اس پر عمل کیسے کریگا ؟ ایسے لوگوں کے کانوں کو اللہ نے قرآنی تعلیمات کے لیے بند کردیا ہے وھو علیھم عمی اور یہی قرآن ایسے لوگوں کے لیے اندھا پن ہے ۔ انہیں اس کی کوئی اچھی بات نظر نہیں آتی لہٰذا وہ اس کو تسلیم کرنے اور اس پر عملدرآمد سے قاصر رہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی مثال اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے اولئک ینادون من مکان بعید گویا کہ وہ کسی دور کے مقام سے پکارے جا رہے ہوں ۔ ان کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی شخص انہیں آواز تو دے رہا ہے مگر اسکی بات سمجھ میں نہیں آ رہی وہ کیا کہہ رہا ہے ، اس مضمون کو سورة البقرہ میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ کافروں کی مثال اس شخص کی ہے کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآئً وَّنِدَآئً (آیت : 171) جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ ظاہر ہے کہ جو شخص کسی جانور کو آواز دے رہا ہے وہ تو اس کی زبان ہی نہیں سمجھتا ۔ اسے کیا پتہ کہ کوئی کیا کہہ رہا ہے اسی طرح قرآن کو تسلیم نہ کرنے والوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ کوئی انہیں دور سے پکار رہا ہے مگر ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا ۔ کتاب الٰہی میں اختلاف کا فیصلہ اللہ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ قرآن پاک کے ساتھ ضد ، عناد اور تعصب کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ اس قسم کے عنادی ہمیشہ سے ایسا ہی کرتے ہیں ولقد اتینا موسیٰ الکتب قرآن سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات جیسی عظیم الشان کتاب عطا فرمائی فاختلف فیہ مگر اس میں اختلاف کیا گیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن لوگوں نے اس کتاب کو تسلیم نہ کیا ، وہ تباہ و برباد ہوئے بالکل اسی طرح جو لوگ اللہ کی آخری کتاب قرآن پر ایمان نہیں لاتے ، وہ بھی ناکام رہیں گے ۔ فرمایا ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم کر ایک بات تیرے پروردگار کی طرف سے پہلے سے طے شدہ نہ ہوتی تو ان کا فوراً فیصلہ کردیا جاتا ۔ اور اللہ کے نزدیک طے شدہ بات یہ ہے ان ربک ھو یفصل یدنھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون ( السجدہ : 25) جن چیزوں میں یہ لوگ اختلاف کرتے ہیں ان کا فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کر دے گا ۔ یعنی اس دنیا میں کسی معاملے کا فیصلہ قطع نہیں ہوتا بلکہ یہ آخرت میں ہوگا فرمایا ولھم لفی شک منہ مریب اور بیشک یہ لوگ قرآن پاک کی طرف سے تردد میں ڈالنے والے شک میں مبتلا ہیں ، یہ اس کو کلام الٰہی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ، لہٰذ ا اس پر عمل پیرا ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر میرا یہ طے شدہ اصول نہ ہوتا کہ سب کا حتمی فیصلہ قیامت کے دن ہوگا ، تو ا ن بد بختوں کا فیصلہ اسی دنیا میں کر کے ان کو سزا میں مبتلا کردیا جاتا ۔ فرمایا من عمل صالحا ً فلنفسہ جس نے کوئی اچھا عمل کیا تو اس نے اپنی جان کے لیے کیا یعنی اس کا فائدہ خود اس کو ہوگا ۔ ومن اساء فعلیھا اور جس نے کسی برائی کا ارتکاب کیا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا ۔ مطلب یہ کہ نہ کسی ایک کی نیکی دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ کسی کی برائی دوسرے کے سر پر تھوپنی جائے گی ۔ ہر شخص کو اس کے اعتقاد و عمل کے مطابق ہی بدلہ دیا جائے گا ۔ وما ربک بظام للعبید اور تیرا پروردگار ہرگز بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے ۔ وہ ہر معاملے کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرے گا ، اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی ۔
Ayahs 41:47–54

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے قیامت کا علم اور نہیں کوئی پھل نکلتا اپنے غلاف سے ، اور نہیں کوئی عورت اٹھاتی اپنے پیٹ میں اور نہیں وہ جنتی مگر اس کے علم سے ، اور جس دن وہ پکارے گا ان کو ( اور کہے گا) کہاں ہیں میرے شریک ، تو یہ لوگ کہیں گے کہ ہم نے آپ کو بتلا دیا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کا اقرار نہیں کرتا

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور گم ہوجائیں گے ان سے وہ جن کو وہ بلاتے تھے اس سے پہلے ، اور وہ یقین کریں گے کہ نہیں ہے ان کے لیے خلاصی کی کوئی جگہ

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

نہیں تھکتا انسان بھلائی کی دعا مانگنے سے ، اور اگر پہنچے اس کو کوئی برائی تو وہ مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور اگر ہم چکھائیں اس کو مہربانی اپنی طرف سے تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی تھی ، تو کہتا ہے کہ یہ میرے لیے ہے ، اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت برپا ہونے والی ہے ، اور اگر میں لوٹا دیا گیا اپنے رب کے پاس تو بیشک میرے لیے اس کے پاس بھلائی ہوئی گی ۔ پس ہم بتلا دیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ، جو کچھ وہ عمل کرتے تھے اور ہم چکھائیں گے ان کو سخت عذاب

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتا ہے اور پہلو تہی کرتا ہے اور جب پہنچتی ہے اس کو کوئی تکلیف تو لمبی چوڑی دعا کرنے والا ہوتا ہے

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے ، بھلا بتلائو اگر یہ اللہ کی جانب سے ہو ، پھر تم نے کفر کیا اس کے ساتھ ، کون گمراہ ہے اس سے زیادہ جو مخالفت میں دور جا پڑا ہے

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

عنقریب ہم دکھائیں گے ان کو اپنی نشانیاں اطراف میں اور ان کی جانوں میں بھی یہاں تک کہ واضح ہوجائے گی ان کے لیے بات کہ وہی حق ہے ۔ کیا کافی نہیں ہے یہ بات کہ تیرا رب ہرچیز پر گواہ ہے

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

آگاہ رہو ، بیشک یہ لوگ شک میں ہیں اپنے رب کی ملاقات سے آگاہ رہو بیشک وہ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے

ربط آیات پہلے شرک کا رد کیا ، کتاب اللہ کی حقانیت اور صداقت بیان کی کہ یہ ایک محفوظ کتاب ہے جو کہ منزل من اللہ ہے ۔ اس میں ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور ایمان نہ لانے والوں کے لیے اندھا پن ، اس کی مثال ہے جیسے کوئی دور سے کسی کو آوازدے اور وہ اس کی بات کچھ نہ سمجھ سکے۔ فرمایا آپ سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی ، مگر لوگوں نے اس میں بھی اختلاف کیا ۔ اسی طرح یہ لوگ قرآن کریم کے بارے میں بھی اختلاف کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ با ت طے نہ ہوتی کہ ہر شخص کے عقیدے و عمل کا قطعی فیصلہ قیامت کے دن ہونا ہے تو پھر ان نا ہنجاروں کا ابھی فیصلہ کردیا جاتا اور ان کو اپنی غلط کمائی کا یہیں بدلہ مل جاتا ، اللہ تعالیٰ کسی شخص کے ساتھ زیادتی نہیں کرتا ۔ علم محیط کا مالک اکثر لوگ حضور ﷺ سے وقوع قیامت کے متعلق دریافت کرتے تھے جس کے جواب میں فرمایا الیہ یرد علم الساعۃ قیامت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ اللہ نے وقوع قیامت کی تاریخ اور وقت کا علم کسی نبی ولی ، فرشتے یا جن کو نہیں دیا ، البتہ قیامت سے پہلے ظہور پذیر ہونے والی بہت سی نشانیوں کا ذکر اللہ نے اپنے انبیاء کے ساتھ ضرور کیا ہے۔ آگے دلائل توحید اور قدرت الٰہی بیان کرتے ہوئے فرمایا وما تخرج من تمرت من اکمامھا اور کوئی پھل اپنے غلافوں یا ڈوڈیوں سے نہیں نکلتا ، وما تحمل من انثی اور نہ کوئی عورت پیٹ میں اٹھاتی ہے۔ ولا تضع اور نہ وجبتی ہے الا بعلمہ مگر اللہ تعالیٰ کے علم کے ساتھ مطلب یہ کہ درختوں میں پھلوں کا آنا اور عورت کا حمل اور وضع حمل سب اللہ کے علم میں ہوتا ہے وہ بیج بونے سے لے کر پھلوں کی برداشت تک اور حمل قرار پانے سے بچنے کی پیدائش تک کے تمام مراحل کو صرف وہی جانتا ہے کیونکہ علم محیط کا مالک وہی ہے اگرچہ بچے کی پیدائش سے پہلے بعض سائنسی تجربات کی بناء پر بعض پیش گوئیاں بھی کی جاسکتی ہیں مگر ٹھیک ٹھیک اور پورا پورا علم صرف اللہ کے پاس ہے مثلاً جدید سائنسی تحقیقات کے باوجود یہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ بچے کی پیدائش کا عین وقت کیا ہوگا بچہ نیک ہوگا یا بد خوش بخت ہوگا یا بد بخت ، کتنی عمر پائے گا اور کیا اعمال انجام دے گا ، وغیرہ وغیرہ یہ سب علوم اللہ کے پاس ہیں ، علم محیط اس کے سوا کسی کے پاس نہیں ۔ معبوذن باطلہ کی گمشدگی دنیا میں تو لوگ مختلف چیزوں کو معبود مان لیتے ہیں ، کوئی شجر و حجر کو معبود مانتا ہے تو کوئی چاند سورج میں کرشمہ تسلیم کرتا ہے۔ کوئی زندوں سے حاجت برادری کرتا ہے تو کوئی مردوں کو قبروں کا طواف کرتا ہے ، مگر اللہ نے فرمایا ویوم ینادیم این شرکاء ی قیامت والے دن وہ لوگوں کو پکار کر کہے گا کہ کہاں ہیں میرے شریک جن کو تم دنیا میں پرستش کرتے تھے اور انہیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے ، ان کو بلائو تا کہ آج وہ تمہاری مدد کریں ، مگر لوگ مجبورہوجائیں گے قالوا اذنک کہیں گے پروردگار ! ہم نے آپ کو بتلا دیا ہے کہ ما منا من شھید ہم سے کوئی بھی اقرار نہیں کرتا کہ آج تیرے سوا ہمیں کوئی بچا سکتا ہے یا ہماری مدد کرسکتا ہے ، دنیا میں تو ہر مشکل کا حل انہی معبودان باطلہ کے ساتھ وابستہ کرتے تھے مگر قیامت کو صاف کہہ دیں گے کہ آج بادشاہی صرف اللہ کی ہے ، کسی دوسرے کو دم مارنے کی مجال نہیں ۔ وضل عنھم ما کانوا یدعون من قبل اور وہ سب معبودان باطلہ کم ہوجائیں گے جن کو یہ اپنی مشکلات میں پکارا کرتے تھے ۔ اس وقت کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں پہنچے گا اور یہ لوگ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے گرفتار بلا ہوں گے ۔ وظنوا ما لھم من محیص اور ان کو یقین آجائے گا کہ آج عذاب الٰہی سے خلاصی کی کوئی صورت نہیں نکل سکتی۔ انسان کی بےصبری اور نا شکری فرمایا دنیا میں انسان کا یہ حال ہے لا یسئم الانسان من دعاء الخیر کہ وہ اپنے لیے بھلائی کی دعا کرتے ہوئے تھکتا نہیں اور ہر وقت اپنے لیے بہتری مانگتا رہتا ہے ۔ وان مسسہ الشر پھر اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے ۔ فیوس قنوط تو مایوس ہو کرنا امید ہوجاتا ہے ۔ کہتا ہے کہ اللہ نے میرے مقدر میں مصائب ہی لکھ رکھے ہیں اور وہ اپنے مالک حقیقی کا گلہ شکوہ کرنے لگتا ہے۔ فرمایا اس کے برخلاف و لئن اذقنہ رحمۃ منا من بعد ضرا منہ اگر ہم اس کو اپنی مہربانی کا مزاچکھائیں اس تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچتی تھی لیقولن ھذا لی تو کہتا ہے کہ میرے لیے یہی مناسب حال ہے یعنی مجھے یہ نعمت میرے علم ، ہنر اور استعداد کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ اچھائی برائی ہے وہ اسی دنیا تک محود ہے وما اظن الساعۃ قائمۃ اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت برپا ہونے والی ہے۔ کوئی قیامت نہیں نہ کوئی حساب کتاب ہے اور نہ جزائے عمل واقع ہوگی ۔ اور اسی طرح وہ گویا قیامت کا ہی انکار کردیتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر بفرض محال قیامت واقع بھی ہوگئی ولئن رجعت الی ربی اور میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹا دیا گیا ان لی عند ہ للحسنی تو ہاں بھی میرے لیے بہتری ہی ہوگی ، جس طرح اس دنیا میں عیش و آرام کی زندگی بسر کررہا ہوں ۔ اسی طرح آخرت میں بھی مجھے ہر طرح کی سہولت حاصل ہوگی ۔ یہ انسان کی نا شکری اور بےصبری کا حال بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا فلننبئن الذین کفروا بما عملوا پس ہم کافروں کو ان کے کردہ اعمال کے متعلق آگاہ کردیں گے اور بتلا دیں گے کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے۔ ولنذیقنھم من عذاب غلیظ اور ہم انہیں سخت عذاب کا مزہ ضرور چکھائیں گے۔ حضرت حسن ؓ سے منقول ہے کہ انسان عجیب قسم کی مخلوق ہے۔ جب یہ دنیا میں خوشحالی کی زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے تو بڑی ڈینگیں مارتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے آخرت میں بھی اسی طرح کی آسودگی اور عیش و عشرت حاصل ہوگی ، مگر صحیح صورتحال اس وقت سامنے آئے گی ۔ جب قیامت برپا ہوگی اور منکر آدمی بصد افسوس کہے گا یلیتنی کنت ترابا ( النبائ : 40) کاش کہ میں انسان کی بجائے مٹی ہوتا تا کہ محاسبہ اعمال سے بچ جاتا ہے۔ انسان کی دوزخی فرمایا انسان کی عمومی فطرت یہ ہے واذا انعمنام علی الانسان کہ جب ہم اس پر انعام کرتے ہیں اعرض ونا بجانبہ تو اعراض اور پہلو تہی کرتا ہے یعنی نعمت ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس نعمت کی ناقدری کرتا ہے ۔ اس کے بر خلاواذامسہ الشر جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ فذو د عاء عریض تو پھر لمبی لمبی دعائیں مانگنے لگتا ہے ۔ انسانی فطرت کے یہ دوزخ اللہ نے بیان کیے ہیں کہ جب وہ خوشحال اور آسودہ حال ہوتا ہے تو اپنے مالک کی طرف سے منہ پھیر لیتا ہے اور اس کو بھول سے بھی کبھی یاد نہیں کرتا اور جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے تو مشکل کشائی کے لیے لمبے ہاتھ کر کے دعائیں مانگتا ہے۔ اس بات کو اللہ نے سورة بنی اسرائیل میں اس طرح ذکر کیا ہے وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِیَّاہُ ج فَلَمَّا نَجّٰکُمْ اِلٰی الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ط وَکَانَ الْاِنْسَانُ کَفُوْرًا (آیت : 67) جب تمہیں سمندر میں کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اللہ کے سواجن کو تم پکارتے ہو وہ گم ہوجاتے ہیں ، اور جب وہ خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو ، بیشک انسان بڑا ہی ناشکرگزار ہے۔ اس آیت کریمہ میں تکلیف کے وقت لمبی دعا کو مذمت کے انداز میں بیان کیا گیا ہے حالانکہ دعا عبادت کا مغز ہے اور یہ انسان سے مطلوب ہے۔ انسان تکلیف کے وقت جتنی بھی عجز و انکساری کے ساتھ دعائیں کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ راضی ہوگا مگر اس مقام پر دعا کی اس لیے حوصلہ شکنی کی گئی ہے کہ اس کے ساتھ اعراض اور پہلو تہی کی آمیزش ہے ، اللہ نے فرمایا کہ خوشحالی آتی ہے تو انسان اپنے خالق ومالک کی کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا اور جب تکلیف آتی ہے تو گڑ گڑا کر دعائیں کرنے لگتا ہے اگر آسودگی کے وقت بھی انسان اپنے رب تعالیٰ ک ساتھ تعلق کو قائم رکھے تو پھر وہ جب بھی دعا کرے گا ، اللہ تعالیٰ راضی ہوگا ، دعا بہر حال ایک اچھی چیز ہے۔ آگے پھر اللہ نے قرآن کی حقانیت کو دوسرے طریقے سے سمجھایا ہے قل ارء یتم ان کان من عند اللہ ثم کفرتم بہ اے پیغمبر ! آپ ان کفار سے کہہ دیں کہ اگر یہ قرآن واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم اس کا انکار کر دو من اضل ممن ھو فی شقاق بعید تو اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو مخالفت میں دور جا پڑا ، مطلب یہ ہے کہ اے منکرین توحید و قرآن ذرا اس بات پر غور کرو کہ اگر اللہ کے ہاں جا کر یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ قرآن واقعی منجانب اللہ ہے تو تمہاری گمراہی کا کیا بنے گا ۔ اس موقع پر تمہاری اس گمراہی کا کوئی ازالہ نہیں ہو سکے گا ، تو تم عذاب میں مبتلا ہو جائو گے ، لہٰذا اس بات میں اچھی طرح غور و فکر کرلو۔ آفاقی اور اندرونی نشانیاں ارشاد ہوتا ہے سیریھم ایتنا فی الافاق و فی انفسم ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی یعنی بیرونی دنیا میں اندرونی طور پر ان کی اپنی جانوں میں بھی۔ حتی یتبین لھم انہ الحق یہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائے گا کہ جو کچھ اللہ نے نازل فرمایا ہے یہی برحق ہے۔ بیرونی دنیا میں اللہ کی قدرت کی بیشمار نشانیاں ہیں جنہیں لوگ ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں۔ سورج ، چاند ، ستارے ، زمین ، ہوائیں ، پہاڑ ، اشجار ، نباتات ، حیوانات وغیرہ سب نشانات قدرت ہیں ۔ کبھی خوشحالی آجاتی ہے۔ کبھی قحط سالی ، کبھی طوفان ، زلزلہ یا سیلاب آجاتا ہے۔ یہ سب خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ کے دلائل ہیں ، اگر انسان ذرا بھی غور کرے تو سمجھ سکتا ہے کہ آخر اس کارخانہ کائنات کو ایک مقررہ نظام کے تحت کون چلا رہا ہے ۔ اسی سے اللہ کی وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے اور وقوع قیامت سے متعلق شبہ بھی دور ہو سکتا ہے۔ جہاں تک انسان کی اندرونی نشانیوں کا تعلق ہے تو سب سے پہلے اسے اپنی تخلیق پر غور کرنا چاہئے کہ کس طرح اللہ نے ایک حقیرہ قطرہ آب سے اس کو پیدا فرمایا اس میں روح اور نفس ناطقہ جیسی اور چیزیں رکھیں ، عقل ، حواس ظاہر ہ اور باطنہ سے انسانی جسم کو مزین کیا ، اس کے جواز اور ہر ہر عضو کو نہایت عمدگی اور خوبصورتی کے ساتھ جسم کا حصہ بنای ۔ دنیا کی کوئی مصنوعی مشینری اتنی پائیدار نہیں ہو سکتی ۔ جتنی پائیدار مشینری اللہ نے انسانی جسم کی بنائی ہے۔ دنیا کی ہر مشین کو تیل اور گریس دنیا پڑتی ہے۔ بعض پر زی کمزور ہوجاتے ہیں ، گھس جاتے ہیں تو ان کو بدلنا پڑتا ہے مگر اللہ کی تیار کردہ انسانی مشینری کو نہ تیل دینا پڑتا ہے اور نہ اس کے پرزہ جات تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ سوائے وقتی بیماری کے اللہ نے ہر انسانی مشین کی جتنی عمر مقرر کردی ہے وہ اتنا عرصہ کام کرتی رہی ہے اور پھر جب مقررہ وقت پورا ہوجاتا ہے تو یہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔ نشانات قدرت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ نزول قرآن کے زمانے میں اہل ایمان کی حالت بہت کمزور تھی ، پھر تھوڑے ہی عرصے میں اللہ نے ان کو غلبہ عطا فرمایا اور پورے عرب پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگئی پ ، ھر خلفائے راشدین ؓ کے زمانے میں یعنی صرف پچاس سال کے قلیل عرصہ میں اللہ نے نصف دنیا کو مسلمانوں کے زیر نگیں کردیا ۔ یہاں تک کہ بیرونی دنیا میں کسی قوم کو مسلمانوں کے ساتھ ٹکر لینے کی ہمت باقی نہ رہی تھی ۔ یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن کے متعلق فرمایا کہ یہ نشانیاں ہم عنقریب ان دشمنان اسلام کو دکھا دیں گے جس سے ا ن پر حق واضح ہوجائے گا ۔ فرمایا اولم یکف بریک انہ علی کل شی شھید کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا پروردگار ہر چیز پر نگران ہے ۔ یعنی وہ ہر شے سے حاضر ناظر اور گواہر ہے ، کوئی چیز اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ، لہٰذا مشرک اور کافر لوگ اس کے عتاب سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ جزائے عمل میں تردد پھر ارشاد ہوا الا انھم فی مریہ من لقاء ربھم آگاہ ہو کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات سے متعق شک میں پڑے ہوئے ہیں ان کو ابھی تک یہ شبہ ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندگی ملنی ہے یا نہیں اور پھر حساب کتاب اور جزائے عمل کی منزل بھی آنے والی ہے یا نہیں ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ مولوی ہمیں بلا وجہ قیامت کی ہولناکیوں اور آخرت کے دائمی عذاب سے ڈرا رہے ہیں وگرنہ حقیقت میں ایسی کوئی چیز پیش آنے والی نہیں ہے۔ جب انسان مر کر مٹی میں منتشر ہوجائے گی تو پھر اس کے ذران کو کون جمع کریگا اور پھر کون اس کو زندہ کریگا ، یہ سب قصے کہانیاں ہیں ۔ ایک موقع پر حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) منبر پر وعظ فرما رہے تھے ۔ آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی الا انھم ۔۔۔۔ الایۃ اور فرمایا کہ اس آیت کے مصداق دو قسم کے لوگ ہیں ۔ جو شخص سرے سے آیت پر یقین ہی نہیں رکھتا وہ تو نافرمان ہے اور جو اس پر ایمان رکھتے ہوئے قیامت کے لیے تیاری نہیں کرتا ، وہ بیوقوف ہے ، لہٰذا جان لینا چاہئے کہ قیامت بلا شبہ ضرو آنے والی ہے اور پھر حساب کتاب اور جزائے عمل کی منزل بھی لازما ً آئے گی اور مجرم اس کی گرفت سے بچ کر نہیں جاسکیں گے ، کیونکہ الا انہ بکل شی محیط اللہ تعالیٰ ہرچیز کو گھیرنے والا ہے ، ہر چیز اس کے علم اور قبضہ قدرت میں ہے لہٰذا وہ جب چاہے گا نافرمانوں کو پکڑے گا۔