Ayah 49:11ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی نظام کو درست رکھنے کے لیے ضابطے بیا ن کیے جا رہے ہیں ۔ گزشتہ درس میں چھٹا اصول یہ بیان ہوا تھا کہ اگر اہل ایمان کے دو گروہوں کے درمیان کوئی نا چاقی ہوجائے تو انکی آپس میں صلح کرا دیا کرو اور سر کشی کرنے والے کو سارے مل کر مجبور کر دو کہ وہ اللہ کے قانون کی طرف لوٹ آئے یعنی زیادتی کرنے سے باز آجائے۔ فرمایا متنازعہ معاملات کو حق و انصاف کے ساتھ سلجھا دو ۔ کیونکہ سارے مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ اب آج کی آیت میں اللہ نے وہ وجوہات بیان فرمائی ہیں جن کی بناء پر بالعموم جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور پھر اختلافات وسیع ہو کر اشتعال پیدا ہوتا ہے اور نوبت جنگ و جدل تک پہنچ جاتی ہے۔
تمسخر کر نیکی ممانعت
اب ساتواں ضابطہ اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے یایھا الذین امنوا اے ایمان والا الا یسخر قوم من قوم کوئی قوم دوسری سے ٹھٹا تمسخر نہ کرے کیونکہ عسی ان یکونوا خیرا منھم شاید کہ وہ ان سے بہتر ہوں تمسخر اسی صورت میں ہوتا ہے ۔ جب تمسخر کرنے والا دوسرے شخص یا جماعت کو حقیر سمجھتا ہے اور اپنی بڑائی مقصود ہوتی ہے ، گویا ٹھٹا تمسخر سے دوسرے کی تحقیر کا پہلو نکلتا ہے ۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ یہ بڑا شنیع فعل ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جس شخص یا جماعت کو تم تحقیر کا نشانہ بنا رہے ہو وہ اللہ کے نزدیک تم سے بہتر ہوں اور تم اپنی نادانی کی بناء پر اللہ تعالیٰ کی نا راضگی کو دعوت دے رہے ہو ۔ نیز فرمایا ولا نساء من نساء اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے مذاق کریں ۔ عسیٰ ان یکن خبراً منھن شاید کہ تمسخر کا نشانہ بننے والی تمسخر کرنے والیوں سے اللہ کے ہاں بہتر ہوں عورتوں میں یہ قباحت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ اپنی تو خود نمائی کرتی ہیں اور دوسری عورتوں کو حقیر سمجھتی ہیں اور پھر ان کا مذاق اڑاتی ہیں ۔ کبھی شکل و صورت پر طعنہ زنی ہوتی ہے تو کبھی پکڑوں کی تراش خراش پر اعتراض ہوتا ہے ، کبھی چال ڈھال میں عیب جوئی کی جاتی ہے تو کبھی بچوں کی دیکھ بھال پر اعتراض ہوتا ہے ، غرضیکہ عورتوں میں یہ چیز زیادہ پائی جاتی ہے مگر اللہ کا فرمان ہے کسی کو تحقیر کی نظر سے دیکھے سے پہلے اس بات کو ذہن میں رکھ لینا چاہئے کہ کہیں تحقیرکا نشانہ ننے والی تحقیر کرنے والی سے بہتر ہی نہ ہو ۔ اس آیت کریمہ میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کے لیے قوم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ لغوی اعتبار سے قوم کا اطلاق مردوں پر ہی ہوتا ہے لیکن مجازا ً اس کا اطلاق عورتوں پر بھی ہوتا ہے ۔ بعض مواقع پر قوم کا ذکر کر کے مرد و زن دونوں مراد لیے گئے ہیں ۔ تا ہم یہاں پر وضاحت کردی گئی ہے کہ قوم سے مراد صرف مرد ہیں ۔ بہر حال اللہ نے اس مقام پر مرد و زن کی الگ الگ اصناف کا ذکر کر کے اس فعل شینع کی قباحت کو مزید واضح کردیا ہے۔
خوش طبعی کی اباحت
ٹھٹا اور تمسخر تو بلا شبہ مذموم ہے کہ اس سے دوسرے کی تذلیل مقصود ہوتی ہے تا ہم اگر کسی کی خوش طبعی کے لیے کوئی ایسی بات کی جائے تو اس کو مزید کہتے ہیں ۔ اور یہ چیز شریعت میں روا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ صحابہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا تد اعبنا وانت رسول اللہ آپ اللہ کے رسول ہو کر ہم سے دل لگی کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا لا اقول الا حقا ً یعنی میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا ۔ حضور ﷺ اپنے خادم حضر ت انس ؓ کو ذا الاذنین ( دو کانوں والے) کہہ کر مخاطب کرتے تھے ، ایسا آپ ازراہ تفنن کہتے تھے مگر حقیقت بھی یہی ہے کہ ہر شخص کے دو کان ہی ہوتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت انس ؓ کے کان قدرے بڑے ہوں ، اس والے کان والے کہہ کر مخاطب فرماتے تھے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ” بات توجہ سے سنو “ بہر حال آپ اس قسم کا مزاج بھی فرما لیتے تھے۔ اسی طرح ایک شخص نے جہاد کے لیے حضور ﷺ سے سواری طلب کی تو آپ نے فرمایا ۔ میں تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کر ائونگا ۔ وہ شخص پریشان ہوگیا اور عرض کیا ، حضور ! میں اونٹنی کے بچے کو لے کر کیا کروں گا ۔ مجھے سواری کے لیے جانور چاہئے ۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ، بھائی ! بڑا اونٹ بھی تو کسی اونٹنی کا بچہ ہی ہوتا ہے ۔ یہ بھی مزاج تھا اور اس قسم کی اور بھی کئی باتیں نبی (علیہ السلام) سے منقول ہیں ۔ الغرض ! مزاج ایسی چیز ہے جس سے کسی کی تحقیر و تذلیل مقصود نہیں ہوتی بلکہ خوش طبعی اور دل لگی مطلوب ہوتی ہے ۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے لا تمازح اخاک ولا تمار اپنے بھائی سے جھگڑا بھی نہ کرو اور مزاج بھی نہ کرو ۔ محدثین کرام فرماتے ہیں کہ ٹھٹا تمسخر تو حرام ہے اور بعض اسے مکروہ وہ تحریمی بھی کہتے ہیں ، لیکن مزاج جائز ہے بشرطیکہ حدود کے اندر ہو ۔ سورة بقرہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں آتا ہے کہ جب ایک آدم قتل ہوگیا تو آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ ایک گائے ذبح کر کے اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا اس مقتول کو مارو تو یہ زندہ ہو کر قاتل کی نشاندہی کردے گا ۔ اس پر لوگ کہنے لگے اتتخذنا ھزوا ً کیا آپ ہم سے ٹھٹا کرتے ہیں ؟ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا اعوذ باللہ ان اکون من الجھلین ( آیت : 67) پناہ بخدا کہ میں جاہلوں میں سے ہو جائوں ۔ مطلب یہ کہ ٹھٹا کرنا تو جاہلوں کا کام ہے ، میں اللہ کا نبی ہو کر ایسا کام کیسے کرسکتا ہوں ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے لو سخرت باکلب خشیت ان اکون کلبا ً اگر میں کسی کتے کے ساتھ بھی ٹھٹا کروں تو مجھے ڈر ہے کہ خدا مجھے کتا ہی نہ بنا دے ، ٹھٹے مذاق سے نفرت پیدا ہوتی ہے ، پھر تنازعات پیدا ہوتے ہیں اور لڑائی تک نوبت پہنچ جاتی ہے ۔ اسی لیے اللہ نے یہاں فرمایا ہے کہ نہ مرو مردوں کے ساتھ ٹھٹا کریں اور نہ عورتیں عورتوں کے ساتھ۔
عیب جوئی کی ممانعت
آگے اللہ نے آٹھواں ضابطہ یہ بیان فرمایا ہے ولا تلمزوا انفسکم ولا تنا بزوا بالا لقاب اور نہ تو ایک دوسرے پر عیب لگائو اور نہ ہی برے القاب سے یاد کرو۔ لمز کا معنی عیب لگانا ہوتا ہے ۔ جیسے سورة الھمزۃ میں فرمایا ویل لکل ھمزۃ لمزۃ ( آیت : 1) خرابی ہے ہر پس پشت غیبت کرنے والے کے لیے اور سامنے طعنہ دینے والے کے لیے ، طعنہ زنی آنکھوں کے اشاروں سے بھی ہوتی ہے اور ہاتھ ، پائوں ، سر یا دیگر اعضاء کے اشاروں سے بھی جب کہ ہمزہ یعنی غیبت صرف زبان کے ساتھ ہوتی ہے۔ طعنہ زنی کی مثال حدیث میں اس طرح آتی ہے کہ بعض خواتین نے ہاتھ کے اشارے سے ام امومنین حضرت صفیہ ؓ کے بارے میں کہا کہ یہ تو اتنی پست قد ہے۔ جب اس واقعہ کا حضور ﷺ کو پتہ چلا تو آپ سخت ناراض ہوئے ، اور فرمایا کہ تم نے ایسی غلط بات کی ہے کہ اگر یہ تمام سمندروں میں ملا دی جائے تو سارے کے سارے کڑوے ہوجائیں کیونکہ یہ سخت حقارت کی بات ہے ۔ ایک اور موقع پر کسی نے حضرت صفیہ ؓ کو طعن کیا کہ یہ یہودی کی بیٹی ہے۔ حضرت صفیہ ؓ نے اس بات کی شکایت حضور ﷺ سے کی ، تو آپ نے فرمایا ، ایسا کہنے والی بہت برا کرتی ہیں ۔ انہیں کس بات پر فخر ہے ؟ پھر فرمایا ، صفیہ ؓ ! اگر کوئی ایسی بات کرے تو تم کہہ دیا کرو کہ میرا باپ نبی تھا ( یعنی موسیٰ (علیہ السلام) میرا چچا نبی تھا ( یعنی ہارون (علیہ السلام) اور میرا خاوند اللہ کا نبی ہے ۔ پھر تو مجھ پر کس بات میں فخر کرتی ہو ۔ حضرت صفیہ ؓ نے اپنی خوشی خاطر سے اسلام قبول کیا اور پھر آنحضرت ﷺ نے ان کا نکاح کیا ، اللہ نے ان کو ام المومنین ؓ ہونے کا شرف بخشا ، تو ان پر طعن کرنا کس قدر بری بات ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافر ، فاسق یا یہودی وغیرہ کہہ دے تو اسے پکڑ کر عدالت میں لے جائو ۔ جرم ثابت ہونے پر اسلامی عدالت مجرم کو بیس درے مارنے کی سزا دے گی ۔ بہر حال ایسے القاب بھی جائز نہیں جن میں دوسرے شخص کے لیے عیب پایا جائے ، لہٰذا کسی کو برے لقب سے مت یاد کرو ، یہاں بعض تعارفی نام لے کر پکارنا جائز ہے۔ بعض آدمی کسی عیب کی وجہ سے ہی مشہور ہوجاتے ہیں مثلاً لنگڑا حافظ یا گنجا وکیل وغیرہ۔ حدیث میں اعرج ( لنگڑا ) یا اخفش ( چھوٹی آنکھ والا) کے الفاظ بھی آتے ہیں ۔ اسی طرح اعمش ( کمزور نظر والا) کا لفظ بھی آتا ہے۔ یہ تعارفی نامہ مشہور ہوجاتے ہیں اور ایسا نام لینے میں پہچان مقصود ہوتی ہے نہ کہ حقارت اور جہاں تذلیل و حقارت مقصود ہوگی وہاں ایسا نام لینا جائز ہوگا ۔ اللہ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ اسی طرح کسی کی نقالی کر کے تحقیر کرنا بھی ناجائز ہے۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ ہمارا سارا معاشرہ نقالی پر مبنی ہے۔ آج نقلیں اتارنے کو فن کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ فلمی اداکارائوں کی ساری نقالی ( اکٹنگ) فن کہلاتی ہے۔ اسی طرح کارٹون سازی بھی نقالی ہے۔ جس سے تحقیر کا پہلو نکلتا ہے ، مگر انگریزی تہذیب میں اس کو عیب نہیں سمجھا جاتا ۔ کسی بڑے سے بڑے آدمی کا بھی کارٹون شائع کردیا جائے تو کارٹونسٹ کا کچھ نہیں بگڑتا کیونکہ اسے معاشرتی اور قانونی تحفظ حاصل ہے ، مگر اللہ کے قانون میں یہ عیب ہے کیونکہ اس سے تحقیر مقصود ہوتی ہے۔
ایمان کے بعد فسق
ارشاد ہوتا ہ کہ بئس الاسم الفسوق بعد الایمان ایمان کے بعد فسق کا نام بہت ہی برا ہے۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کے کام کرنا تو جاہلیت کے زمانے کی باتیں ہیں ۔ جب ایمان قبول کرلیا ہے تو پھر کسی کے ساتھ ٹھٹا تمسخر کرنا ، برے القابات سے یاد کرنا ، کسی کی عیب جوئی کرنا اور نقالی کرنا تو گویا فاسق بننا ہے ایمان تو بڑی عزت والا نام ہے۔ ایک ایماندار آدمی پر فسق کا اطلاق بہت ہی بری چیز ہے۔ اس سے بچنا چاہئے اور کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جس سے آدمی فاسق بنتا ہو ۔ فرمایا اس قسم کے کام کرنے اور فاسق بننے کے بعد ومن لم یتب جو توبہ نہیں کرے گا ، ایسی حرکات سے باز نہیں آئے گا ۔ فرمایا فاولئک ھم الظلمون یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظالم اور بےانصاف ہیں ۔ یہ ضرور اللہ کی گرفت میں آئیں گے ۔ ہاں اگر ٹھٹا تمسخر اور عیب جوئی کرنے کے بعد توبہ کرلی ۔ آئندہ کے لیے ایسا کام نہ کرنے کا پختہ عہد کیا ، تو ایسا شخص اللہ کی گرفت سے بچ جائے گا ، ورنہ سزا کا مستحق ٹھہرے گا ۔
Ayah 49:12ربط آیات
اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے انفرادی اور اجتماعی نظام کی درستگی کے لیے بعض ایسے قوانین واضع فرمائے ہیں جن پر عملدرآمد سے شہری زندگی امن وامان اور خوشگوار طریقے سے بسر ہو سکتی ہے۔ منجملہ ان ضوابط کے گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کو ٹھٹا اور تمسخر کرنے سے منع فرمایا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ جن مردوں یا عورتوں کو ٹھٹا کیا جارہا ہے۔ وہ اللہ کے نزدیک ٹھٹا کرنے والوں سے بہتر ہوں ۔ اسی طرح اللہ نے ایک دوسرے کی عب جوئی اور برے القاب کے ساتھ پکارنے سے بھی منع فرمایا ، کیونکہ یہ چیزیں نافرمانی کی تعریف میں آتی ہیں جس کی وجہ سے آپس میں نفرت کے جذبات ابھرتے ہیں ، جھگڑتے تنازعے کھڑے ہوتے ہیں اور پھر سوسائٹی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ ایمان لانے کے بعد فسق کا ارتکاب بہت بری بات ہے ، اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔ نیز فرمایا کہ جو لوگ ان باتوں کا ارتکاب کر کے پھر توبہ بھی نہیں کریں گے تو ان کا شمار ظالموں میں ہوگا اور وہ سزا کے مستحق بن جائیں گے۔
بدگمانی کی ممانعت
اب آج کی آیت کریمہ میں اللہ نے تین مزید ضابطے بیان فرمائے ہیں جن پر عملدرآمد سے پورا انفرادی اور اجتماعی نظام درست ہو سکتا ہے ، اور امور سلطنت خوش اسلوبی سے انجام دیے جاسکتے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیراً من الظن اے ایمان والو ! بہت سی بد گمانیوں سے بچتے رہو ، کیونکہ ان بعض الظن اثم بعض بد گمانیاں گناہ میں داخل ہیں ۔ مفسر قرآن امام ابوبکر جصاص (رح) لکھتے ہیں کہ گمان کئی قسم کا ہوتا ہے ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کے متعلق کسی بد گمانی کا شکار ہونا حرام اور ممنوع ہے ، اور اللہ کے متعلق اچھا گمان رکھنا ہر انسان کا فرض ہے ۔ چناچہ حضور ﷺ کا فرمان ہے لا یموتن احدکم الا ھو یحسن الظن باللہ تم میں سے کوئی شخص نہ مرے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہو ۔ حدیث قدسی میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انا عند ظن عبدی میں تو اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتا ہوں ۔ اگر میرا بندہ میرے متعلق اچھا گمان رکھتا ہے تو وہ مجھے ویسا ہی پائے گا اور اگر برا گمان رکھتا ہے تو یہ اسی کے لیے وبال جان ہوگا ۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے ایا کم والظن ان الظلن اکذب الحدیث اپنے آپ کو بد گمانی سے بچائو ، کیونکہ بد ظنی جھوٹی ترین بات ہوتی ہے سوء ظن کسی مسلمان کے خلاف بھی جائز نہیں جس شخص کی ظاہری حالت اچھی ہو اس کے خلاف بلاوجہ بد گمانی رکھنا ممنوع ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو اپنے بھائی کے بارے حسن ظن ہی رکھنا چاہئے ۔ جب واقعہ افک میں بعض لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ پر تہمت لگائی تو ان کے لیے اللہ کی وعید آگئی لَوْلَآ اِذْسَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا (النور : 12) جب تم نے ایسی بات سنی تھی تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے دلوں میں نیک گمان کیوں نہ کیا ۔ بہر حال ہر مسلمان کے بارے میں اچھا گمان رکھنا مستحب ہے۔
مباح گمان
امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ بعض گمان جائز بھی ہیں ۔ مثلاً اگر کسی شخص کو نماز کے دوران رکعات کی تعداد میں شک پڑجاتے تو اسے ظن غالب پر عمل کرنا ہوتا ہے اگر اس کے غالب گمان میں تین رکعات پڑھی ہیں تو اس کے مطابق نماز پوری کرے یا اگر سمجھتا ہے کہ چاروں رکعتیں ہوگئیں ہیں تو اس کے مطابق عمل کرے ، اسی طرح فروعات میں جس مسئلہ میں قرآن ، سنت یا اجماع صحابہ ؓ کے ذریعے صراحت نہ ہو ۔ وہاں پر ائمہ مجتہدین اجتہاد کے ذریعے مسئلہ کا حل پیش کرتے ہیں ۔ اور یہ بھی ایک گمان ہی ہوتا ہے جس پر عمل کیا جاتا ہے۔ بہر حال گمان کی بہت سی قسمیں ہیں ۔ اللہ نے عام بد گمانی کی ممانعت فرمائی ہے کیونکہ جب کسی کے متعلق بد گمانی پیدا ہوتی ہے تو پھر غلط بیانی ، اتہام اور مخالفت کا دور شروع ہوجاتا ہے برائی سامنے آتی ہے ، کمزور یاں ظاہر ہوتی ہیں اور پھر ضائع میں نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ اے ایمان والو ! بد گمانی سے بچتے رہو ، یہ نواں ضابطہ ہوگیا ۔
تجسس کی ممانعت
اب دسواں ضابطہ اللہ نے یہ بیان فرمایا ولا تجسسوا اور تجسس نہ کرو یعنی کسی کے عیب کی ٹوہ نہ لگاتے پھرو کیونکہ کسی کا راز تلاش کرنا اور پھر اسے فاش کردینا بہت بری بات ہے۔ اس سے دلوں میں کینہ ، نفرت اور عداوت پیدا ہوتی ہے جس کا نتیجہ جنگ و جدل کی صورت میں نکلتا ہے۔ اسی لیے سعدی صاحب (رح) نے کہا ہے کہ جو چیز ظاہری طور پر سامنے آئے گی ۔ اسی کا اعتبار کیا جائے گا ۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اندرونی خانہ کسی کا کھوج لگاتا پھرے۔ فارسی کا مقولہ بھی ہے ” اندرون خانہ محتسب راچہ کار “ یعنی کو توال کو اندرون خانہ امور سے کیا سروکار ہو سکتا ہے ؟ اسے تو ظاہری حالات کے مطابق ہی مواخذہ کرنا چاہئے ابو دائود شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص حضر ت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے پاس لایا گیا اور کہا گیا کہ اس کی داڑھی سے شراب کے قطرے گر رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ہمیں کسی کے بھید ٹٹولنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر ہمارے سامنے کوئی چیز ظاہر ہوگئی ۔ تو ہم اس پر پکڑ سکتے ہیں ۔ بہر حال کسی کے عیوب کا کھوج لگانے سے منع کیا گیا ہے۔
غیب کی ممانعت
آگے اللہ نے گیارہواں ضابطہ غیبت سے متعلق بیان فرمایا ہے ۔ غیبت انسانی سوسائٹی میں بالعموم پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولا یغتب بعضکم بضا ً اور تم میں سے بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کی غیبت نہ کریں ۔ حدیث شریف میں غیبت کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے ذکرک اخاک بما یکرہ یعنی تو اپنے بھائی کے متعلق اس کی غیر حاضری میں ایسی بات کرے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ حضور ! اگر وہ عیب یا خامی واقعی اس میں پائی جاتی ہو تو پھر بھی یہ غیب ہوگی ؟ آپ نے فرمایا ، یہی تو غیبت ہے کہ کسی میں کوئی خامی پائی جاتی ہو اور تو اس کا ذکر اس کی غیر حاضری میں کرے ، اور اگر وہ عیب اس میں نہیں پایا جاتا اور تو اس کو بیان کرتا ہے تو پھر تو یہ بہتان ٹھہرا جو غیب سے بھی بڑا گناہ ہے ۔ ابو دائود شریف کی حدیث میں منافقین کی مذمت ان الفاظ میں کی گئی ہے۔
یا معشر من امن بلسانہ ولم یدخل الایمان فی قلبہ لا تغتابوا المسلمین ولا تتبعوا اعوراتھم فانہ من اتبع عوراتھم یتبع اللہ عورتہ ومن یتبع اللہ عورتہ یفضحہ فی بیتہ (ابو دائود )
اے وہ لوگو جو زبان سے ایمان لائے ہو اور ایمان ابھی ان کے دلوں میں نہیں اترا ہے مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو ۔ اور ان کے پوشیدہ عیبوں کے پیچھے نہ پڑا کرو کیونکہ جو ایسا کریگا اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھی اس کے ساتھ ایسا ہی ہوگا ، اور جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا معاملہ ہوگا ، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گھر میں ہی ذلیل کر دے گا ۔
حضور ﷺ نے معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا گزر بعض ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ لوگ ان ناخنوں کے ساتھ اپنے چہروں کو نوچ رہے تھے۔ میں نے حیران ہو کر جبریل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں تو انہوں نے بتایا ھولاء الذین یاکلون لحوم الناس ( ابو دائود) کہ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی میں لوگوں کے گوشت کھایا کرتے تھے یعنی غیبت کیا کرتے تھے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ غیبت اس قدر گھنائونا جرم ہے کہ یہ کسی چھوٹے بچے ، پاگل ، کافر یا ذمی کے خلاف بھی نہیں ہونا چاہئے۔ غیب کلام کے ساتھ بھی ہوتی ہے ، اشارے کے ساتھ بھی اور فعل کے ساتھ بھی ، کوئی شخص زبان سے تو غیبت نہیں کرتا ، مگر کسی لنگڑے کی نقل اتارتا ہے تا کہ اس کی تحقیر ہو تو یہ بھی غیبت میں داخل ہے۔ آنکھوں کے اشاروں سے بھی تحقیر کی جاتی ہے اور یہ بھی غیبت ہے جسے سورة المطففین میں فرمایا واذ امروابھم یتغامزون ( آیت : 3) جب آسودہ حال کفار و مشرکین غریب اہل ایمان کے پاس سے گزرتے تو آنکھوں کے اشاروں سے ان کی تحقیر کرتے کہ دیکھو یہ جنت کے والی جا رہے ہیں ۔ پھٹے پرانے کپڑے ، چہرے پژ مردہ مگر اپنے آپ کو جنت کے حوروں کے خاوند کہتے ہیں ۔ غرضیکہ یہ چیز بھی غیبت میں داخل ہے۔ جہاں تک عیب جوئی کا تعلق ہے۔ تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص چوری ، بد کاری یا شراب نوشی جیسے جرم میں مبتلا تھا ۔ مگر بعد میں تائب ہوگیا تو پھر اس کو عیب دار لقب سے یاد کرنا روا نہیں کہ یہ عیب جوئی میں شمار ہوگا ۔ ہاں ! اگر کوئی شخص معصیت پر اصرار کرتا ہے تو اس کا معاملہ مختلف ہے۔
بعض مباحات
مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ صاحب ہوی ( خواہش پرست) اور بد عات کے مرتکب لوگوں کی برائی کو ظاہر کرنا غیبت نہیں بلکہ یہ ضروریات دین میں شامل ہے ۔ حدیث کے راویوں میں جرح کرنا بھی غیبت نہیں کیونکہ اس سے دین ، سنت اور شریعت کی حفاظت مطلوب ہوتی ہے۔ امام حسن بصری (رح) نے فرمایا کہ بد عتی کی بدعت کو ظاہر کرنا غیبت میں شمار نہیں ہوتا ۔ اگر کوئی فاسق آدمی علی الاعلان فسق کی بات کرتا ہے ، سمجھانے سے سمجھتا بھی نہیں تو اس کی برائی کا اظہار بھی جائز ہے۔ اسی طرح جب کوئی مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے تو دعویدار اپنے مد مقابل کے عیوب و نقائص تحریری یا زبانی طور پر پیش کرسکتا ہے ، کیونکہ ایسی چیزوں کا اظہار حصول انصاف کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔ اور یہ بھی غیبت کے دائرہ میں نہیں آتا ، اگر کوئی شخص دوسرے شخص سے مشورہ طلب کرے تو مشورہ دینے والا حقیقت کے اظہار کے طور پر عیب والی بات کو ظاہر کرسکتا ہے ، چناچہ ایک دفعہ حضرت ابو سفیان ؓ کی بیوی حضرت ہندہ نے حضور ﷺ کے پاس شکایت کی کہ میرا خاوند بڑا کنجوس آدمی ہے ، مجھے خرچہ بھی پورا نہیں دیتا اگر میں اس کے مال میں سے اس کے علم کے بغیر حسب ضرورت نے لوں جس سے میری اور میرے بچوں کی کفالت ہو سکے تو کیا یہ جائز ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں یہ روا ہے ، اور یہ چیز غیبت میں شمار نہیں ہوتی ۔ ایک صحابہ فاطمہ بنت قیس ؓ کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی جس کے بعد عدت بھی گزر گئی ۔ اس عورت نے حضور ﷺ سے مشورہ طلب کیا کہ فلاں فلاں آدمی نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ، ا س سلسلہ میں مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ ان اشخا ص میں سے ایک معاویہ ؓ بھی تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا واما معاویۃ فصعلوک لا مال لہ یعنی معاویہ تو کنگال آدمی ہے اس کے پاس کوئی مال بھی نہیں ہے تمہارے لیے یہ رشتہ موزوں نہیں ہے۔ اسی طرح ابو جہم ؓ نامی شخص نے بھی نکاح کا پیغام بھیجا تھا۔ اس کے متعلق آپ (علیہ السلام) نے فرمایا اما ابو جھم فلا یضع عصاہ عن عا تقہ یا فرمایا ضراب للنساء یعنی ابو جہم تو لٹھ مار ہے۔ اس کی لاٹھی ہر وقت اس کے کندھے پر رہتی ہے جس سے وہ عورتوں کو مارتا ہے ۔ اس سے بھی تمہیں تکلیف پہنچنے کا خدشہ ہے میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ تم اسامہ بن زید ؓ سے نکاح کرلو ۔ اسامہ ؓ اگر چہ رنگ کے سانوے تھے مگر ان میں سے بہت سی خوبیاں بھی پائی جاتی تھیں ۔ تو فاطمہ ؓ نے بادل نخواستہ حضرت اسامہ ؓ کو قبول کرلیا ۔ مگر بعد میں کہا کہ میری حالت قابل رشک تھی ، مجھے اسامہ ؓ کے پاس بڑا سکھ پہنچا ۔ اللہ نے اولاد بھی صالح عطا فرمائی۔ بہر حال مقصد یہ ہے کہ مشورہ دیتے وقت کسی کے عیب کا اظہار یا ظالم کے ظلم سے بچنے کے لیے اس کی خرابی بیان کرنا بھی غیبت میں شمار نہیں ہوتا ۔
مردہ بھائی کا گوشت کھانا
بہر حال اللہ نے عام حالات میں غیبت کرنے سے سخت الفاظ کے ساتھ منع فرمایا ہے کہ دیکھو ایحب احدکم ان یا کل لحم اخیہ میتا فکر ھتموہ کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے ظاہر ہے کہ تم اس سے کراہت ہی کرو گے ۔ مطلب یہ کہ غیبت کرنا مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔ مردار سے تو ویسے ہی انسان کو نفرت ہوتی ہے ۔ چہ جائیکہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) نے اپنی تفسیر میں امام ابن الفرس (رح) کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اضطرار کی حالت میں اگرچہ مردار کا گوشت مباح ہوجاتا ہے مگر انسان کا گوشت ایسی حالت میں بھی نہیں کھانا چاہئے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند نہیں کرتا ، اسی طرح اسے کسی کی غیبت بھی نہیں کرنی چاہئے۔ امام بیہقی (رح) نے غیبت کا کفارہ یہ دعا لکھی ہے۔ اللھم اغفرلنا ولہ اے اللہ ! ہمیں بھی معاف فرما اور جس کی غیبت کی گئی ہے اس کی غلطیوں سے بھی در گزر فرما۔ فرمایا واتقو اللہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ۔ ان اللہ تواب رحیم بیشک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنیوالا اور نہایت مہربان ہے ۔ اگر کوئی شخص غلطی کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جوش میں آجاتی ہے اور اس کی غلطی معاف ہوجاتی ہے اگر کوئی شخص غیبت کا ارتکاب کر بیٹھا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے اور آئندہ کے لیے ایسا نہیں کرنا چاہئے۔
Ayah 49:13ربط آیات
اب تک گیارہ اصول بیان ہوچکے ہیں جو انسانی معاشرہ کی درستگی کے لیے ضروری ہے۔ ان اصولوں پر عمل کرنے سے جھگڑے ، تنازعے اور اختلافات نہیں پیدا ہوتے اور جماعتی اور ملکی نظم و نسق خوش اسلوبی سے قائم رہتا ہے۔ یہ صوابط اس طرح بیان کیے گئے ہیں ۔ (1) اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے آگے نہ بڑھو۔ (2) ہر حالت میں ڈرتے رہو۔ (3) پیغمبر اسلام کی آواز سے اپنی آوازوں کو بلند نہ کرو (4) آوازوں کو پست رکھنا حصول تقویٰ کا ذریعہ ہے (5) ہر فاسق کی خبر کی تحقیق کرلیا کرو (6) مومنوں کے دو گروہوں کے درمیان اگر تنازعہ ہوجائے تو صلح کرا دیا کرو (7) ایک دوسرے سے ہنسی مذاق نہ کیا کرو (8) ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ کرو اور برے القاب سے ایک دوسرے کو نہ پکارو (9) بد گمانی سے بچتے رہو (10) تجسس نہ کرو (11) غیبت نہ کرو ، اب آج کی آیت میں بارہواں اصول یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ قبیلے ، خاندان ، برادری اور رنگ و نسل کی بناء پر ایک دوسرے پر فخر نہ کرو ۔ بلکہ اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ با عزت وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔
نسل انسانی کی تخلیق
ارشاد ہوتا ہے یا یھا الناس اے لوگو ! انا خلقنکم من ذکر و انثی بیشک ہم نے پیدا کیا ہے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے ۔ انسان خواہ کسی رنگ اور نسل کے ہوں ، کسی ملک کے رہنے والے ہوں ، یا کوئی زبان بولتے ہوں ، وہ سارے کے سارے ایک مرد اور ایک عورت یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کی اولاد ہیں ۔ سورة النساء کی ابتدائی آیت میں اللہ کا فرمان ہے کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرجائو الذی خلقکم من نفس واحدۃ جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا یعنی آدم (علیہ السلام) سے ، پہلے آدم (علیہ السلام) سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر اس جوڑے سے ساری نسل انسانی کو تخلیق کیا ۔ یہ نسل آئندہ بھی تا قیام قیامت پھلیتی ہی رہیگی ۔ سورة الملک میں فرمایا ھو الذین ذراکم فی الارض والیہ تحشرون ( آیت : 24) خدا کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ، اور پھر تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جائو گے ۔ اب کوئی سید بنے یا پٹھان ، مغل بنے یا صدیقی فاروقی وغیرہ مگر حقیقت میں یہ سب ایک ہی جوڑے کی اولاد ہیں ۔ اس سے کئی باطل مذاہب کی تردید ہوتی ہے۔ مثلاً ہنود چار ذاتوں کے قائل ہیں جن میں بعض کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور بعض کو حقیر سمجھا جاتا ہے ان کے عقیدے کے مطابق برہمن برہماجی کے منہ سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اس لیے وہ باعزت ہیں اور شودر اس کے پائوں سے پیدا ہوئے ہیں اس لیے حقیر ہیں ۔ اس طرح انہوں نے نسل انسانی کی چار ذاتوں یعنی برہمن ، کھتری ، ویش اور شودر میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ان کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ انسان ایک ایک جوڑے سے ایک ایک کر کے پیدا نہیں ہوئے بلکہ جب سے کائنات پیدا ہوئی ہے ہر سر شتی ( دور ) میں اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو بیک وقت پیدا کرتا ہے اور پھر ان میں سے چار کو منتخب کر کے چار صحیفے دیتا ہے ۔ یہ نظریہ بھی غلط ہے ، اور صحیح بات وہی ہے جو قرآن و حدیث سے ثابت ہوتی ہے۔ اس معاملہ میں ڈارون کی تھیوری بھی غلط ہے ۔ پچھلی صدی کے اس سائنسدان نے یہ ثابت کر نیکی کوشش کی تھی کہ انسان ابتداء میں بندر تھے۔ پھر ترقی کرتے کرتے انسان بن گئے ۔ اس نظریہ کی تردید یورپی سائنس دانوں نے بھی کی ہے۔ اسی ڈارون کے نظریہ کو پرویز نے بھی اختیار کیا ہے ، وہ بھی کہتا ہے کہ اولین انسان ایک نہیں تھا بلکہ سب سے پہلے پوری نوع انسانی پیدا ہوئی تھی۔ یہ شخص کوئی بلند پایہ آدمی نہیں تھا بلکہ محض قلم چلانے کا عادی تھا ، جو ذہن میں آیا لکھ دیا ۔ اس نے قرآن کی تفسیر کے نام پر بھی گمراہی کی بہت سی باتیں چلائی ہیں جو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ۔
شعوب اور قبائل
فرمایا لوگو ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا وجعلنکم شعوبا ً و قبائل اور پھر تمہارے شعوب اور قبائل یعنی چھوٹے اور بڑے قبیلے بنا دیے۔ شعوب شعب کی جمع ہے جس کا معنی بڑا قبیلہ ہے ، اور پھر اس کے نیچے بہت سی شاخیں نکلتی ہیں ۔ شعب کے نیچے قبیلہ آتا ہے ، پھر عمارہ ، پھر فخذ ، پھر بطن ، پھر فیصلہ ، پھر اسرۃ اور پھر عائلہ جس سے مراد ایک خاندان یا فیملی ہوتا ہے۔ فرمایا یہ خاندان اور قبیلے ہم نے اس لیے نہیں بنائے کہ تم اس قبیلے کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کرو ۔ بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ لتعارفوا تا کہ تم آپس میں متعارف رہو ایک دوسرے کو پہچان سکو کہ یہ فلاں قبیلے کا آدمی ہے اور یہ فلاں خاندان کا فرد ہے ، جب لوگ قبیلے کی بناء پر اپنے آپ کو بعض دوسروں پر فوقیت دینے لگتے ہیں ، تو دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں ۔ ان سے طعن تشنیع کرتے ہیں ، عیب جوئی کرتے ہیں اور پھر لڑائیاں جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ ہم نے یہ تقسیم قبائل محض تعارف کے لیے بنائی ہے۔ اس سے غلط مطلب نہیں لینا چاہئے۔ بعض خاندانوں کو اللہ نے ان کے بعض خصائل کی وجہ سے خود شرف بخشا ہے۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اولاد کو منتخب فرمایا ۔ پھر اس میں سے قریش کو اور پھر قریش میں بنو ہاشم کو منتخب کر کے اس میں سے مجھے منتخب فرمایا ۔ اس انتخاب کی وجہ سے وہ خاص خصوصیات ہیں جو دوسرے خاندانوں میں نہیں پائی جاتیں ۔ سیرت نگاہ اور مؤرخین لکھتے ہیں اور یہ چیز احادیث سے بھی ثابت ہے کہ حضور ﷺ سے لیکر حضرت آدم (علیہ السلام) تک پورا خاندانی نسب بالکل پاک صاف ہے اور اس میں بد کاری کی کوئی آلائش نہیں ہے یہی خصوصیت ہے جسکی وجہ سے آپ کے خاندان کو دیگر خاندانوں پر شرف حاصل ہے ، مگر اس شرف کا حاصل یہ ہونا چاہئے کہ اس خاندان کے لوگ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں ، نہ کہ دوسروں کو حقیر سمجھیں ، حقیقت میں تمام شعوب اور قبائل کی جڑ بنیاد تو ایک مرد اور ایک عورت ہی ہیں لہٰذا کسی کو روا نہیں کہ وہ دوسروں کے مقابلے فخر کا اظہار کرے۔ امام جعفر صادق (رح) سے منقول ہے کہ جب کوئی شخص ان کی تعریف کرتا کہ آپ حضور ﷺ کے اہل بیت میں سے ہیں تو آپ نہایت عاجزی کے ساتھ جواب دیتے کہ یہ درست ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس خاندان میں پیدا فرمایا ہے۔ مگر میں کوئی دعویٰ نہیں کرتا کیونکہ اگر قیامت والے دن حضور ﷺ نے پوچھ لیا کہ اللہ نے تمہیں جو شرف بخشا تھا تو نے اسے قائم کیوں نہ رکھا یعنی بنی نوع انسان کی خدمت کیوں نہیں کی تو میرے پاس کیا جواب ہوگا ؟ میں تو بہت شرمسار ہوں ۔ اسی سلسلے میں صحیح احادیث میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے تعلموا من انسابکم ما تصلون بہ ارحاکم اپنے نسب میں سے کم از کم اتنا سیکھ لو جس سے تم صلہ رحمی کرسکو ۔ خاندان سے تعلق تو محض تمہارا تعارف ہے۔ اگر آپ کے دور کے رشتے دار ہیں تو ان کا تم پر اخلاقی حق ہوگا ، اور اگر قریبی رشتہ دار ہیں تو وراثت میں ان کا حق پہچاننا ضروری ہے۔ نیز تکلیف اور پریشانی میں ان کی مالی ، اخلاقی اور جسمانی مدد بھی کرنا لازمی ہے۔ صلہ رحمی ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے خاندان میں محبت پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ مال میں اضافہ فرماتا ہے ۔ یہی چیز انسان کے آثار کو دیر تک قائم رکھتی ہے ۔ نیک نامی اور شہرت بھی صلہ رحمی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
فخر کرنے کی ممانعت
حضرت حذیفہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کلکم بنو آدم وآدم خلقہ من تراب تم سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو اور ان کو اللہ نے مٹی سے پیدا فرمایا لہٰذا لینتھین اقوام یفتخرون باباء ھم جو لوگ اپنے ابائو اجداد پر فخر کرتے ہیں وہ اس حرکت سے باز آجائیں ۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ وہ اپنے ان آبائو اجداد کے ساتھ فخر کرنا ترک کردیں جو جہنم کے کوئلے بنے ہوئے ہیں ، وگرنہ لیکونن اھون علی اللہ من الجعل الذی یدھہ الخراء بانفہ یہ متکبر لوگ اس کالے کپڑے سے بھی ذلیل ہوں گے ۔ جو غلاظت کی گولیاں بنا بنا کر اپنی ناک کے ساتھ لڑ بھکاتا ہے دوسری روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ اہل ایمان کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ لا یفخر بعضکم علی بعض تم میں سے بعض دوسروں پر فخر نہ کریں ، بلکہ ہمیشہ تواضع اور انکساری کو اختیار کرو۔ صحیح روایت میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے ، لہٰذا تمہارا فرض ہے اللہ کی منشاء کے خلاف دل میں بھی کوئی بات نہ لائو ، وہ تو تمہارے عقیدے اخلاص اور نیت کو دیکھتا ہے کہ وہ کیسے ہیں اور تم اعمال کس قسم کے انجام دے رہے ہو ۔ انسان کا شرف نسل اور خاندان کی بناء پر نہیں بلکہ عقیدے اور عمل کی بناء پر ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ حسب سے سوسائٹی کا تفوق ہوتا ہے بعض آدمی سوسائٹی کے اعتبار سے بلند سمجھے جاتے ہیں ۔ حسب مال سے پیدا ہوتا ہے جب کہ شرف اور بزرگی تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر انسان میں تقویٰ موجود ہے تو اسے عزت اور تکریم بھی حاصل ہے۔ جب مکہ فتح ہوا تو حضور ﷺ نے نسلی تفاخر کے خاتمے کے لیے حضرت بلال ؓ کو اذان دینے کا حکم دیا۔ بعض مشرکوں کے لیے یہ بڑا ناگوار گزرا کہ بلا ل ؓ حبشی نسل کا ہو کر خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دے گا ۔ بعض مشرکین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اچھا ہوا میرا باپ مر گیا ہے ورنہ وہ ایسا ذلت ناک منظر نہ دیکھ سکتا ۔ بعض نے کہا ، خاموش رہو ، اللہ تعالیٰ ہماری اس حالت کو ضرور ظاہر کر دے گا ۔ بہر حال جب بلال ؓ نے اذان پڑھی تو حضور ﷺ نے یہی آیت تلاوت فرمائی یایھا الناس اناخلقنکم ۔۔۔۔ الایۃ اس موقع پر حضور ﷺ نے خطبہ بھی ارشاد فرمایا یایھا الناس ان اللہ قد اذھب عنکم عبیۃ الجاھلیۃ وتعظمھا باباء ھا لوگو ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے زمانہ کی نخوت کو دور کردیا ہے اور آبائو اجداد کے نام سے نخوت و غرور کو بھی ختم کردیا ہے۔
رنگ و نسل کا امتیاز
اب دو قسم کے لوگ ہوں گے برتقی نیک اور متقی او فاجر شقی ھین علی اللہ یا فاجر اور بد بخت ہوں گے جو خدا تعالیٰ کے سامنے ذلیل ہوں گے۔ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا الناس بنو ادم تمام انسان آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ۔ وخلق ادم من تراب اور آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے مٹی سے پیدا فرمایا ۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی یا یھا الناس انا خلقنکم ۔۔۔۔ ان اکرمکم عد اللہ اتقکم تم میں سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے اس سلسلے میں ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال (رح) نے بھی کہا ہے۔
بتان رنگ و بود کو چھوڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی نہ افغانی نہ ایرانی
رنگ و نسل کا یہ تفاوت سرخ ، سفید ، زرد اور سیاہ رنگ کے بت ہیں اور اس بت پرستی میں مشرق و مغرب کے سبھی لوگ شامل ہیں ، کوئی جاہلیت کی وجہ سے اور کوئی نخوت جاہلیت کی وجہ سے۔ چناچہ امریکہ میں آج بھی سفید فام لوگ سیاہ رنگ والوں کو ذلیل اور حقیر سمجھتے ہیں ۔ دونوں اقسام کے لوگوں کو ہوٹل الگ الگ ہیں سکول اور کالج علیحدہ ہیں ، ہسپتال مختلف ہیں ۔ گورے لوگ کالے لوگوں کو اپنے اداروں میں داخلے کی اجازت نہیں دیتے۔ افریقہ میں کئی صدیوں سے سفید فام انگریز آباد ہیں وہ اپنی اسمبلیوں میں مقامی کالے لوگوں کو نہیں بیٹھنے دیتے۔ اس ملک کا اصل باشندے سیاہ فام ہیں مگر انگریزوں نے وہاں زبردستی قبضہ کر رکھا ہے ان کی آزادی کے لیے ساری دنیا سے آواز اٹھ رہی ہے مگر قابض قوم ٹس سے مس نہیں ہوتی برطانیہ میں بھی یہ تفاوت کسی حذ تک موجود ہے بعض گلیوں میں اگر کالا آدمی چلا جائے تو قتل کردیا جاتا ہے یا اس کی سخت تذلیل کی جاتی ہے ۔ مگر اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ، یہ تمام تعصبات ، انسانیت اور فطرت کے خلاف ہیں۔ حضرت ملا جامی (رح) نے بھی کہا ہے ؎
بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی
کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست
جب تو عشق کا بندہ یعنی ایماندار بن گیا ہے ، خدا کی وحدانیت اور نبی کی نبوت و رسالت پر ایمان لے آیا ہے تو پھر نسب کو ترک کر دے ، اس میں دلچسپی نہ لے کیونکہ اس راہ میں فلاح ابن فلاں کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ الغرض ! بلا حبشی ؓ ، سلمان فارسی ؓ اور صہیب رومی ؓ نے وہ مقام حاصل کیا کہ اس سے بلند کوئی مقام نہیں ۔ حضرت علی ؓ کا شعر بھی ہے۔
الناس من جھۃ التمثال اکفاء
ابوھم ادم والام حواء
ہم مثل ہونے کی وجہ سے تمام انسان کفو یعنی برابر ہیں کیونکہ سب کا باپ آدم (علیہ السلام) اور ماں حوا ؓ ہیں۔
فان یکن لھم من اصلھم شرف
یفاخرون بہ فا الطین والماء
اگر اصل اور ذات کے اعتبار سے کوئی حسب نسب ہے تو وہ مٹی اور گارا ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اسی چیز سے پیدا فرمایا تھا۔
کفو کا مسئلہ
یہاں پر کفو کا ایک شرعی مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے امام مالک (رح) تو برادریوں کے کفو کے قائل ہی نہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہر مومن دوسرے مومن کا کفو ہے خواہ وہ کسی خاندان سے تعلق رکھتا ہو ۔ البتہ دوسرے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ کفو کا مسئلہ ثابت ہے مگر یہ صرف مسلمانوں کی معاشرت کو درست رکھنے کے لیے ہے کوئی ایک پیشہ اختیار کرنے والے خاندان کا فرد اسی کسب والے خاندان کا مناسب کفو بن سکتا ہے ، کیونکہ ان کے حالات میں مناسبت پائی جاتی ہے ۔ تا ہم یہ بنیادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ بنیادی چیزو ہی ہے جو اللہ نے بیان کردی ہے کہ تم میں سے اللہ کے نزدیک با عزت وہ ہے جو زیادہ متقی ہے ۔ سید ، شیخ ، پٹھا یا مغل کہلانے میں کوئی شرف نہیں ہے۔
ذات پات کی تقسیم
ذات پات کی تقسیم نے مسلمانوں کو بہت ذلیل کیا ہے جس کی وجہ سے ایک ذات والے دوسری ذات والوں کو کمتر سمجھتے ہیں ۔ مسلمانوں میں ذات پات کی تقسیم ہندوئوں کی طرف سے آئی ہے جو کسی طرح بھی مستحسن نہیں اللہ تعالیٰ نے اس خود ساختہ تقسیم کی جڑ بنیاد ہی اکھاڑ کر رکھ دی ہے اور یہ اہم اصول سمجھا دیا ہے کہ چاہئے نہ کہ دوسروں کو ذلیل اور حقیر سمجھنے لگیں ۔ عزت و شرف کا معیار تو دین اور تقویٰ ہے نہ کہ ذات اور برادری ۔ تم میں سے زیادہ شرف والا وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے ۔ ان اللہ علیم خیبر بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے وہ تمہارے عزم اور نیت کو بھی جانتا ہے اور تمہارے نخوت اور تکبر سے بھی واقف ہے اصل چیز تقویٰ اور عبادت ہے جس کی بناء پر انسانوں کو عزت حاصل ہوتی ہے ۔ تقویٰ کو اختیار کرنا چاہئے اور باقی چیزوں کو چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ خود ساختہ ذات پات اور غرور وتکبر کی وجہ سے ہی معاشرے میں خلفشار پیدا ہوتا ہے اور پھر لڑائی جھگڑے تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
Ayahs 49:14–18ربط آیات
اب تک اس سورة مبارکہ میں وہ بارہ بڑے بڑے اصول و ضوابط بیان ہوچکے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی حالات درست رہ سکتے ہیں اور مسلم معاشرہ امن وامان کا گہوارہ بن سکتا ہے اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا شکوہ کیا ہے جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ان میں ایمان پورے طریقے سے راسخ نہیں ہوا ۔ بعض ایسے لوگوں کا بھی شکوہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اسلام لانے کا احسان جتلاتے ہیں ۔ اللہ نے ان کو بھی جواب دیا ہے کہ اسلام لا کر تم نے اللہ کے نبی پر احسان نہیں کیا بلکہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے کہ اس نے ایمان کی طرف تمہاری رہنمائی فرمائی ہے۔
ایمان کا دعویٰ
ارشاد ہوتا ہے قالت الاعراب امنا گنوار دیہاتوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے ہیں ، مگر اللہ نے جوابا ً فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ ان ایمان کے دعومداروں سے کہہ دیں لم تومنوا کہ تم ایمان نہیں لائے۔ ولکن قولوا اسلمنا بلکہ کہو کہ ہم صرمسلمان ہوئے ہیں ۔ ولما ید خل الایمان فی قلوبکم اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں پورے طریقے سے داخل نہیں ہوا ۔ جب کسی کے دل میں ایمان راسخ ہوجاتا ہے تو وہ ایمان لانے کا دعویٰ نہیں کرتاجب ایمان دل میں جڑ پکڑ جائے تو پھر آدمی نہ غیبت کرتا ہے۔ نہ عیب جوئی نہ کسی مسلمان کے بارے میں بد گمانی کرتا ہے نہ نسلی اعتبار سے کسی کو حقیر سمجھتا ہے۔ ایسا آدمی نہ تو کسی کو ٹھٹا تمسخر کرتا ہے اور نہ اپنی برتری کا اظہار کرتا ہے ایماندار آدمی ایک دوسرے کو برے القاب سے بھی یاد نہیں کریت اور نہ وہ جنگ و جدل اور نافرمانی کی باتوں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ فرمایا جب تم میں معاصی کی بہت سی چیزوں موجود ہیں تو پھر تم ایمان کا دعویٰ کیسے کرسکتے ہو ؟ شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ ایک شخص کہتا ہے کہ ہم نے دین مسلمانی کو قبول کیا ہے اس بات کے کہنے میں تو کوئی حرج نہیں ۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ ہمیں پورایقین ہے کہ ہم پورے طور پر ایمان اور یقین کی بات سے متصف ہوچکے ہیں ، تو جب یقین پورا ہے تو اس کے آثا ر کہاں ہیں ؟ وہ بھی تو دکھائی دینے چاہئیں ۔ جب پورا یقین ہو تو آدمی ایسے دعوے سے ڈرتا ہے اور شرماتا ہے ، یعنی ایسا دعویٰ نہیں کرتا ، لہٰذا معلوم ہوا کہ ابھی تک ان کے دلوں میں ایمان پورے طریقے سے راسخ نہیں ہوا ۔ بلکہ انہوں نے جماعت میں داخل ہونے کے لیے صرف کلمہ پڑھا ہے ، اور ظاہری طور پر مسلمان ہوئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے وان تطیعو اللہ ورسولہ اور اگر تم حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے لا یلتکم من اعمالکم شیئا ًتو وہ تمہارے اعمال میں سے کسی چیز کو کم نہیں کرے گا بلکہ تمہارے اعمال صالحہ کا پورا پورا بدلہ دے گا ۔ اور جو کوتاہیاں سر زد ہوچکی ہیں یا کمزوریاں پیدا ہوئی ہیں ، ان کو در گزر فرمائے گا ۔ کیونکہ ان اللہ غفور رحیم بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ اس مقام پر اللہ نے دیہات کے رہنے والوں کو اعراب کے لفظ سے موسوسم کیا ہے۔ یہ لوگ بعض مفاد حاصل کرنے کے لیے ایمان کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ ان کے دلوں میں ایمان پورے طریقے سے راسخ نہیں ہوا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ انہیں مال غنیمت میں دوسروں کی نسبت زیادہ حصہ دیا جائے ، نیز انہیں دیگر مراعات بھی دی جائیں ، مگر اللہ نے ان کی حالت یہ بیان فرمائی ہے۔ اَ لْاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللہ ُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ (التوبۃ : 97) دیہاتی لوگ اکثر کفر اور نفاق میں پختہ ہوتے ہیں ، اور زیادہ لائق ہیں کہ وہ نہ جانیں ان حدود کو جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیے ہیں ۔ شہریوں اور دیہاتیوں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ من سکن البادیۃ جفا جو دیہات میں رہ گیا وہ زیادتی کرنیوالا ہوگا ۔ شہری زندگی زیادہ مہذب ہوتی ہے۔ اچھی سوسائٹی نصیب ہوتی ہے ، اچھے لوگوں سے میل ملاقات کا موقع ملتا ہے ، تعلیم و تہذیب کے مواقع فراہم ہوتے ہیں ، اچھی باتیں سننے اور پڑھنے میں آتی ہیں ۔ جب کہ دیہات میں یہ چیزیں کم ہی میسر آتی ہیں ۔ اسی لیے دیہاتی لوگ اکثر جہالت میں ہی پختہ ہوتے ہیں ۔ ان میں حسد اور چودھراہٹ کا مادہ نمایاں ہوتا ہے ۔ ایک دوسرے کے خلاف اختلافات ، جھگڑا فساد اور گالی گلوچ اکثر رہتا ہے کیونکہ انہیں اچھی سوسائٹی نصیب نہیں ہوتی ۔ اسی کمزوری کی وجہ سے حضور ﷺ کے زمانہ میں بعض دیہاتیوں نے ایمان کا دعویٰ کیا مگر ایمان کی علامات تو ان میں مفقود تھیں اور محض زبانی دعویٰ تو کچھ معنی نہیں رکھتا ۔ بہر حال فرمایا کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی صدق دل سے اطاعت کرو گے تو تمہارے اعمال میں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی۔
سچے ایمانداروں کی علامات
فرمایا انما المومنون الذین امنوا باللہ ورسولہ حقیقت میں ایمان دار وہ ہیں جو دل کی گہرائیوں سے ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر یقین رکھتے ہیں اور ان تمام چیزوں کی صدق دل سے تصدیق کرتے ہیں جن کی تصدیق کرنا ضروری ہے اور جن کے بغیر آدمی صحیح معنوں میں ایماندار نہیں ہو سکتا ۔ سچا اور حقیقی ایماندار آدمی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات ، کتب ملائکہ ، تمام انبیاء ، جزائے عمل اور تقدیر پر صحیح طریقے پر یقین رکھتا ہے۔ فرمایا ایمان لانے کے بعد ثم لم یرتابوا پھر انہوں نے کسی قسم کا شک بھی نہیں کیا بلکہ ایمان میں پختگی حاصل کی ہے جو شخص دین کی کسی بات میں شک کرتا ہے وہ منافق ہوتا ہے یا ایمان سے بالکل ہی خالی ہوجاتا ہے ۔ اگر دل میں ذرا بھی شکی یا تردد آ گیا تو ایمان ضائع ہوگیا ۔ اللہ نے منافقوں کے متعلق فرمایا ہے ۔ فھم فی ریبھم یترددون (التوبہ : 45) وہ شک و تردد میں ہی مبتلا رہتے ہیں ۔ فرمایا اہل ایمان وہ ہیں کہ ایمان لانے کے بعد شک بھی نہیں کیا وجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ اور انہوں نے اللہ کے راستہ میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا ہے۔ صلح و جنگ کے قوانین سوۃ قتال اور سورة الفتح میں گزر چکے ہیں ۔ اور جہاد بھی ایک ایماندار آدمی کا اہم فریضہ ہے۔ سچا ایماندار کبھی جہاد سے پیچھے نہیں رہتا اور منافق آدمی ہمیشہ اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تو فرمایا سچے مومن وہ ہیں جو جہاد میں کود پڑھنے میں کوئی دریغ نہیں کرتے۔ اولئک ھم الصدقون یہ ہی لوگ سچے ہیں ۔ حضور ﷺ کے صحابہ ؓ میں یہ صفات بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں ۔ ان کے دلوں میں یقین راسخ تھا۔ اور وہ ہر موقع پر جانی اور مالی قربانی پیش کرتے تھے ۔ اس کے بر خلاف منافق لوگ ظاہری طورپر اسلام کے بعض اعمال بھی انجام دیتے تھے مگر ان کے دل ایمان سے خالی تھے۔ اسی لیے ایسے لوگوں کے دعویٰ ایمان کو اللہ نے رد فرمایا ہے۔
دیندار ہونے کا احسان
اللہ تعالیٰ نے محض زبانی ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کی تردید فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے اتعملون اللہ بدینکم کیا تم اللہ کو اپنی دینداری جتلاتے ہو کہ ہم نے اسلام قبول کرلیا ؟ فرمایا حقیقت یہ ہے واللہ یعلم مافی السموات وما فی الارض حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ وہ ہر شخص کی نیت اور ارادے کو جانتا ہے اور یہ بھی کہ یہ شخص صحیح معنوں میں ایماندار ہے یا شک و تردد میں مبتلا ہے۔ اس کی غرض فاسد تو نہیں اور یہ کیوں ایمان کا دعویٰ کرتام ہے۔ فرمایا تم کیسی دینداری جتلاتے ہو حالانکہ اللہ تو سب کچھ جانتا ہے اور یہ بھی کہ تمہاری دینداری کس معیار کی ہے اور یاد رکھو ! واللہ بکل شیء علیم اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مکمل علم رکھتا ہے کہ سچا ۔۔ دیندار کون ہے اور پورا یقین کس کو حاصل ہے صحیح ایمان کس کے دل میں ہے ، کون ریا کاری کر رہا ہے اور کون مفاد حاصل کرنے کے لیے ایمان کا دعویدار ہے۔
فرمایا یمنون علیک ان اسلوا یہ لوگ آپ پر احسان جتلاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہوگئے یعنی انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں لا تمنوا علی اسلامکم مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ جتلائو بل اللہ یمن علیکم ان ھدلکم للایمان بلکہ یہ تو اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کے لیے ہدایت دی ہے تمہیں ایمان لانے کی توفیق اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ اس کی توفیق کے بغیر تم ایمان کی دولت حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ لہٰذا اپنا احسان جتلانے کی بجائے تمہیں اللہ تعالیٰ کا احسان مند ہونا چاہئے ۔ جس نے تمہاری دین کی طرف رہنمائی کی ان کنتم صدقین اگر تم ایمان کے دعویٰ میں سچے ہو تو پھر اللہ کا احسان مانو نہ کہ اپنا احسان جتلائو ، جیسا کہ کسی نے کہا ہے ؎
منت منہ کہ خدمت سلطان ہمیں کنی
منت ازو شناس کہ بہ خدمت بداشتت
بادشاہ کی خدمت گزاری کا احسان نہ جتلائو ، بلکہ احسان تو اس کا مانو جس نے تمہیں اس خدمت کا موقع فراہم کیا ہے ، اسی لیے فرمایا کہ احسان اللہ کا مانو جس نے تمہیں ایمان لانے کی توفیق بخشی کیونکہ اس کی توفیق کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔
بعض قبائل کے ناجائز مطالبات
سورۃ کے آخر میں یہ باتیں اللہ نے شکوے کے طور پر کیں ہیں۔ بعض قبائل حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتے تھے کہ ہم تو مسلمانوں سے لڑے بھڑے بغیر اسلام لے آئے ہیں حالانکہ لوگوں نے بڑی بڑی جنگیں لڑیں اور پھر جب بالکل مغلوب ہوگئے تو ایمان قبول کرلیا ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ہم زیادہ مخلص ہیں لہٰذاہ میں مال غنیمت ، بیت المال یا دوسرے حقوق میں فوقیت دی جائے ۔ اللہ نے اس کی بھی تردید فرمائی ہے۔ پہلی بات تو یہی ہے کہ کیا ایسے لوگ اپنے دعویٰ ایمان میں سچے بھی ہیں یا نہیں ؟ یہ تو ان کے آثار سے ہی معلوم کرسکتا ہے کہ وہ ایمان کے تقاضے پورے کر رہے ہیں یا نہیں ۔ اگر خلوص نہیں ہے تو پھر تو وہی منافقوں والا دعویٰ ایمان ہے ۔ جس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ ایک سچا ایماندار جب دل کی گہرائیوں سے ایمان لاتا ہے تو پھر اس میں شک و تردد نہیں کرتا اور نہ ہی وہ مفاد پرستی کا شکار ہوتا ہے۔ وہ تو مال و جان کے ساتھ قربانی پیش کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ اور اسلام لانے کا احسان نہیں جتلاتا ۔ اس کے بر خلاف منافقوں کا حال یہ ہے کہ مالی مفاد حاصل ہوتا رہے تو اہل ایمان کے ساتھ رہتے ہیں ورنہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ ان کا مقصد محض مالی مفاد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ وگرنہ دین سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ فرمایا ان اللہ یعلم غیب السموات والارض بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزیں ۔ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ، اس غیب سے وہ چیزیں مراد ہیں جو مخلوق کے اعتبار سے پوشیدہ ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ تو ہر حال میں عالم الغیب والشھادۃ ہے تو وہ ہر ظاہر اور باطن چیز کو جاننے والا ہے۔ فرمایا واللہ بصیر بما تعلمون جو کچھ تم کرتے ہو۔ وہ سب اللہ کی نگاہ میں ہے۔ وہ تمام اعمال سے خوب واقف ہے بلکہ نیت اور ارادے کو بھی جانتا ہے۔ اسے علم ہے کہ کس کا عقیدہ اور عمل صحیح ہے اور کس کے عقیدے اور عمل میں فساد ہے۔ یہ تمام چیزیں جزائے عمل کے وقت سامنے آجائیں گی اور انہی کے مطابق فیصلے ہوں گے۔