50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 50:1–5

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق قسم ہے بزرگی والے قرآن کی

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ ان لوگوں نے تعجب کیا ہے کہ آیا ہے ان کے پاس ایک ڈر سنانے والا انہی میں سے ۔ پس کہا کفر کرنے والوں نے کہ یہ عجیب چیز ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہوجائیں گے مٹی ، یہ لوٹ کر آنا تو بہت بعید ہے

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

تحقیق ہم جانتے ہیں جو کم کرتی ہے زمین ان میں سے ، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے حفاظت کرنے والی

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ جھٹلایا ان لوگوں نے حق کو جب کہ ان کے پاس آ گیا ہے ، پس یہ لوگ الجھی ہوئی بات میں مبتلا ہیں

منازل قرآن صحابہ کرام ؓ نے قرآن پاک کو سات منزلوں میں تقسیم کرلیا تھا۔ اس سورة مبارکہ سے ساتویں منزل شروع ہو رہی ہے جو آخر قرآن تک جائے گی ۔ پہلی منزل میں قرآن پاک کی تین لمبی سورتیں سورة البقرہ ، سورة آل عمران اور سورة النساء ہیں ۔ اس کے بعد دوسری منزل میں پانچ سورتیں سورة المائدہ ، سورة الانعام ، سور ۃ الاعراف ، سورة الانفال اور سورة التوبہ آتی ہیں ۔ پھر تیسری منزل میں سات سورتیں یعنی سورة یونس ، سورة ہود ، سورة یوسف ، سورة الرعد ، سورة ابراہیم ، سورة الحجر اور سورة النحل ہیں ۔ چوتھی منزل میں نو سورتیں ہیں جن کے نام سورة بنی اسرائیل ، سورة الکہف ، سورة مریم ، سورة طلحہ ، سورة الانبیاء ، سورة الحج ، سورة المومنون ، سورة النو ر اور سورة الفرقان ہیں ۔ اس کے بعد پانچویں منزل میں گیارہ سورتیں ہیں جن کے نام سورة الشعراء ، سورة النمل ، سورة القصص ، سورة العنکبوت ، سورة الروم ، سورة لقمان ، سورة الم السجدۃ ، سورة الاحزاب ، سورة سبا ، سورة الفاطر اور سورة یٰسین ہیں آ گے چھٹی منزل میں 13 سورتیں ۔ سورة الصافات ، سورة ص ، سورة الزمر ، سورة المومن ، سورة حم السجدۃ ، سورة الشوریٰ ، سورة الزخرف ، سورة الدخان ، سورة الجاثیہ ، سورة الاحقاف ، سورة محمد ، سورة الفتح اور سورة الحجرات آتی ہیں ۔ اور سورة ق سے آگے آخر تک ساتویں منزل ہے ۔ اس کو مفصل کہا جاتا ہے۔ جس میں چھوٹی چھوٹی 65 سورتیں ہیں۔ سورۃ ق کی فضلیت حضور ﷺ اس سورة مبارکہ کو اجتماع والی نمازوں یعنی نماز جمعہ اور عیدین کے موقع پر اکثر تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ بعض اوقات جمعہ کے دن فجر کی نماز میں بھی یہ سورة پڑھ لیتے تھے۔ امام ابن کثیر (رح) لکھتے ہیں کہ بڑے اجتماعات میں یہ سورة تلاوت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں انسان کی پیدائش ، بعث بعد الموت ، حشر و نشر ، جزائے عمل ، ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کا ذکر ہے حضور ﷺ کی ایک صحابہ ام ہشام بنت حارثہ ؓ کا بیان ہے کہ میں حضور ﷺ کے پڑوس میں رہائش پذیر تھی اور ڈیڑھ دو سال تک وہاں رہی ۔ کہتی ہیں کہ ہم اتنے قریبی پڑوسی تھی کہ تنورنا واحد کا ہمارا روٹی پکارنے کا تنور مشترکہ تھا۔ صحابیہ ؓ کا بیان ہے کہ میں نے سورة ق حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سن کر یاد کی ۔ آپ یہ سورة جمعہ کے دن منبر پر بھی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ نام اور کوائف اس سورة کا نام اس کے ابتدائی حرف ق سے مآخوذ ہے ۔ اس سے پہلے تین سورتیں مدنی تھیں جب کہ یہ سورة مبارکہ مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ یہاں سے لے کر سورة الحدید تک تمام سورتیں مکی ہیں اور آگے سورة المجادلہ سے لے کر سورة التحریم تک پھر مدنی سورتیں آ رہی ہیں ۔ اور پھر تیسویں پارے میں زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ اس سورة مبارکہ کی پینتالیس آیات اور تین رکوع ہیں۔ یہ سورة 395 الفا ظ اور 1490 حروف پر مشتمل ہے۔ سورة کا آغاز حروف مقطعہ ق سے ہوتا ہے۔ مفسرین کرام نے تقریب فہم کے لیے اس حرف کے مختلف معانی بیان کیے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ حرف ق کا اشارہ اللہ تعالیٰ کی صفت قادر کی طرف ہو ۔ ظالم اور مظلوم کی جنگ تو دنیا میں چلتی رہتی ہے اور خدا تعالیٰ قادر ہے کہ وہ مظلوم کو ظالم سے اس کا حق دلائے۔ حرف ق سے اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے جن میں یہ حرف استعمال ہوتا ہے مثلاً قدوس ، خالق ، قہار ، قدیر ، قابض ہقیت حق ، قوی ، مقتدر ، منتقم ، مقسط ، رقیب ، رزاق وغیرہ ۔ یاد رہے کہ اس سورة مبارکہ میں پینتالیس سے زیادہ مرتبہ حرف ق استعمال ہوا ہے۔ حرف ق بعض فرماتے ہیں کہ ق قف کا مخفف ہے یعنی اے محمد ! فاستقم کما امرت ومن تاب معک ( ہود : 113) آپ اور آپ کے ساتھ توبہ کرنے والے یعنی ایمان والے صراط مستقیم پر قائم رہیں ۔ جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے ہو سکتا ہے کہ ق سے مراد صراط مستقیم اور قیامت دونوں ہوں کیونکہ صراط مستقیم پر چلنے اور قیامت کا ذکر بھی اس سورة میں موجود ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ق قرآن کے ناموں میں سے کوئی نام ہو۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے پیروکاروں میں سے چوتھی صدی کے بڑے متقی امام ابو اللیث (رح) فقیہ فرماتے ہیں کہ ق سے مراد ہے اللہ قائم بالقسط یعنی خدا تعالیٰ انصاف پر قائم ہے۔ بعض مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ ق کا اشارہ قدرت الٰہی اور قرب الٰہی کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ جیسے آگے آ رہا ہے۔ نحن اقرب الیہ من حبل الورید ( آیت : 16) ہم انسان کی شہ رگ سے بھی قریب ہیں ۔ بعض سے منقول ہے کہ ق سے جبل ق مراد ہے جو ایک پہاڑ ہے۔ شیخ ابن عربی (رح) جیسے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ق سے قلب محمد کی طرف اشارہ ہے آپ کے قلب مبارک کو وہ خصوصیت حاصل ہے جو کسی دوسرے قلب کو حاصل نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ (الشعرائ : 193 ، 194) اس قرآن کو جبریل (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے آپ کے قلب پر نازل کیا تا کہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں ۔ ق سے قلب محمد کی طرف اشارہ اسی طرح ہے جیسے سورة ص میں ص کا اشارہ صورت محمد کی طرف ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کی صورتوں میں سے حضور ﷺ کی صورت مبارکہ کو سب سے حسین و جمیل بنایا ہے اور اس کو کمال درجے کے اعتدال پر رکھا ہے ، چناچہ چوتھی صدی کے عظیم فلسفی ، منطقی اور طبیب شیخ اب سینا (رح) نے لکھا ہے کہ حضور ﷺ کا جسم مبارک اعدل الاجسام یعنی تمام اجسام سے زیادہ معتدل تھا ۔ بہر حال ق سے مراد قلب محمدی بھی ہو سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بہترین شرف بخشا ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ ق کا اشارہ قضاء اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی طرف بھی ہو سکتا ہے اور ص سے مراد صدق اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی صداقت کی طرف بھی ممکن ہے۔ مفسر قرآن امام رازی (رح) ( المتوفی 606 ھ) سلطان محمد غوری (رح) کے زمانہ میں ہوئے ہیں ۔ آپ عظیم المرتبت اور عالم فاضل انسان تھے ، تفسیر کے علاوہ بعض دیگر کتابیں بھی لکھی ہیں ۔ آپ نے صرف ق کا مطلب ایک دوسرے طریقے سے سمجھایا ہے۔ فرماتے ہیں کہ عبادت تین طریقوں سے ہوتی ہے یعنی قلب سے زبان سے اور اعضاء و جو ارع سے ۔ قلب کی عبارت یہ ہے کہ انسان کا عقیدہ صحیح ہو ، اور اس کی نیت اور ارادہ پاک ہو ۔ پھر فرماتے ہیں کہ زبان کی عبادت یہ ہے کہ انسان زبان سے اللہ کی حمد وثناء اور تسبیح و تہلیل بیان کرے ، دیگر پاکیزہ کلمات زبان پر لائے اور قرآن پاک کی تلاوت کرے اور اعضاء و جو ارع کی عبادت قیام ، رکوع ، سجود ، قومہ اور قعدہ سے ہوتی ہے۔ اعضاء کی عبادت کا مفہوم کبھی سمجھ میں آجاتا ہے مگر عام لوگ اس کا مفہوم کم ہی سمجھتے ہیں ۔ مثلاً حج کا احرام ، سعی ، رمی وغیرہ ایسی عبادات ہیں جن کا مطلب آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا۔ اس لیے بعض لوگ رمی کرتے وقت چھوٹی چھوٹی کنکریوں کی بجائے بڑے بڑے پتھر مارنے لگتے ہیں ۔ اسی طرح قلبی عبادت کی بعض چیزیں دلائل سے سمجھی جاسکتی ہیں ۔ مثلا ً اللہ کی وحدانیت اور وقوع قیامت عقلی اور نقلی دلائل سے سمجھی جاسکتی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات اور انبیاء (علیہم السلام) کی صداقت بھی دلائل سے سمجھ میں آجاتی ہے ، مگر بعض چیزیں دلائل سے بھی سمجھ میں نہیں آتیں مثلاً پل صراط سے گزنا جو ایک باریک چیز ہے اور پھر اعمال کا وزن ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے ادراک میں نہیں آتیں ۔ بایں ہمہ ان پر اعتقاد رکھنا ضروری ہے اور یہ چیز قلبی عبادت میں داخل ہے۔ زبانی عبادت میں تلاوت قرآن اور ذکر اذکار کے الفاط سمجھ میں آتے ہیں جو ہم اپنی زبان سے ادا کرتے ہیں ۔ مگر بعض چیزیں ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں جیسے قرآن پاک کے متشابہات اور حروف مقطعات وغیرہ ، لہٰذا ان کی تلاوت ہی عبادت میں شامل ہے ، ان کو سمجھنے کی ضرورت نہیں ۔ اما م جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ اس معاملہ میں انسان کا اعتقاد یہی ہونا چاہئے ۔ اللہ اعلم بمراد ہ بذلک ان حروف سے جو بھی مراد ہے اس کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنے طریقے پر حرف ق کے متعلق فرماتے 1 ؎۔ جلالین ص 4 ہیں کہ اس سے ایسی قباحتوں کی طرف اشارہ ہے جو پتھر کی طرح سخت ہوچکی ہوں ، کیونکہ ق میں قوت اور شدت والا معنی پایا جاتا ہے۔ اور ان قباحتوں کا مقابلہ قوت قدسیہ کے ذریعے ہی ممکن ہے ، چناچہ اسی مقصد کے لیے وعظ و نصیحت کی جاتی ہے اور نشانیاں پیش کی جاتی ہیں ، تا کہ یہ قباحت اور اس کی شدت اور قوت دور ہوجائے اور اس کی بجائے اصلاح پیدا ہوجائے ۔ بہر حال یہ تمام معانی محض تقریب فہم کے لیے ہیں ۔ ان سے حقیقی معنی مراد نہیں کیونکہ اس کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ قرآن کی قسم ارشاد ہوتا ہے والقرآن المجید بڑی بزرگی اور عظمت والے قرآن کی قسم ہے کہ لوگ اس پر ایمان نہیں لائے۔ یہ جواب قسم ہے جسے محذوف مانا جاتا ہے۔ مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور یعنی حضور ﷺ ، صحابہ کرام ؓ اور تابعین (رح) کے ابتدائی زمانہ تک علمی مبادی میں سے کتاب کی شکل میں صرف قرآن پاک تھا اور اس کے علاوہ کوئی چیز کتاب صورت میں موجود نہیں تھی ۔ حضر ت ابوہریرہ ؓ کے شاگرد ہمام ابن منبہ (رح) کے صحیفہ کا پتہ صدی کے نصف تک ہی ملتا ہے کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی وفات 59؁ھ کے قریب ہوئی اور آپ کے شاگرد نے یہ صحیفہ جمع کیا تھا۔ اس کے بعد پہلی صدی کے آخر میں حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) جن کا دور خلافت صرف دو اڑھائی سال ہے ، نے فرمایا کہ قرآن تو موجود ہے لیکن حضور ﷺ کی احادیث کے متعلق تشویش ہے کہ وہ کہیں ضائع نہ ہوجائیں ، لہٰذا انہوں نے اپنے زمانے کے ایک جلیل القدر تابعی امام زہری (رح) کو احادیث کا ذخیرہ جمع کرنے کی ہدایت کی ۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) نے کہا تھا انی خفت دروس العلم وذھاب العلماء مجھے علم اور علماء کے چلے جانے کا خطرہ ہے اگر صحیح عالم رخصت ہوگئے تو علم کی حفاظت کون کرے گا ۔ لہٰذا احادیث کو جمع کرو ۔ چناچہ یہیں سے تدوین حدیث کا کام شروع ہوا ۔ پھر تیسری صدی یعنی امام بخاری (رح) اور امام مسلم (رح) کے زمانے تک احادیث کا ذحیرہ جمع ہوچکا تھا ۔ راویوں کی چھان بین بھی ہوچکی تھی ۔ اور یہ اس لیے ضروری تھا کہ قرآن کی تفہیم کا بنیادی ذریعہ احادیث مبارکہ ہی ہیں۔ بہر حال حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) کی مساعی سے احادیث اور پھر دیگر کتب کی تدوین شروع ہوگئی ، تا ہم ابتداء میں کتابی صورت میں صرف قرآن حکیم ہی تھا۔ تو اللہ نے اس بزرگی والے قرآن کی قسم اٹھا کر کہا کہ اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لائے بلکہ اس کا انکار کر رہے ہیں ۔ رسالت پر تعجب قرآن کے بعد رسالت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا بل عجبوا ان جاء ھم منذر منھم کہ وہ قرآن پر تو ایمان نہ لائے بلکہ اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا آ گیا ہے ، حالانکہ یہ کوئی تعجب والی بات نہیں ہے کیونکہ انسانی سوسائٹی میں نبوت و رسالت کا سلسلہ شروع سے چلا آ رہا ہے اور آپ سے پہلے ایک لاکھ سے زیادہ انبیاء تشریف لا چکے تھے۔ یہ سب انسان تھے اور انسانوں کی رہنمائی کے لیے ان کو اللہ نے معبوث فرمایا تھا ۔ فقال الکفرون ھذا شی عجیب بہر حال حضور ﷺ کے اعلان نبوت پر کافر کہنے لگے کہ یہ بڑی عجیب چیز ہے کہ ہمیں میں سے ایک آدمی نبی بن کر آجائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ابشر ا منا واحد نتبعہ ( القمر : 24) کیا ہم اپنے میں سے ایک آدمی کا اتباع شروع کردیں تو یہ بیوقوفی کی بات ہے۔ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اس حکمت کو نہیں سمجھتے تھے۔ جو انسانی سوسائٹی میں کام کرتی ہے بلکہ اسے اپنے آپ پر قیاس کر کے کہتے تھے کہ یہ تو ہمیں میں سے ایک آدمی ہے ، بھلا اس کا اتباع ہم کیسے کرسکتے ہیں۔ بعث بعد الموت پر اعتراض ایک طرف تو انہوں نے رسالت کا انکار کردیا اور دوسری طرف وقوع قیامت اور جزائے عمل کو بھی جھٹلا دیا کہنے لگےء اذا متنا وکنا ترابا ً کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زندہ ہوجائیں گے ؟ ذلک رجع بعید انسان کا مرنے کے بعد دوبارہ لوٹ آنا تو بالکل بعید از عقل ہے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا قد علمنا ما تنقص الارض منھم تحقیق ہم جانتے ہیں کہ زمین نے ان کے اجسام میں سے کون سی چیز کم کی ہے یعنی مرنے کے بعد ان کے جسم اپنی اصلی حالت پر نہیں رہے وہ گل سڑ کر مٹی میں مل گئے ہیں ، مگر ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہر جسم کا کون کونسا حصہ مٹی کے کس کس ذرے میں گم ہوچکا ہے۔ لہٰذا جب قیامت کو ہم انہیں دوبارہ زندہ کرنا چاہیں گے تو مٹی میں ملے ہوئے تمام ذرات کو اکٹھا کرلیں گے اور پھر ان سے دوبارہ جسم کا ڈھانچہ کھڑا کر کے اسے زندہ کردیں گے ، لہٰذا ان بد بختوں کے زعم کے بر خلاف بعث بعد الموت ہمارے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے انسانی اجسام کی تحلیل کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے اجسام تو بالکل محفوظ رہتے ہیں ، اور زمین ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ اسی طرح بعض شہداء کے اجسام بھی محفوظ رہتے ہیں ۔ تا ہم عام لوگوں کے اجسام گل سڑ کر مٹی میں مل جاتے ہیں اور حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ انسان کے پورے جسم میں سے صرف دمچی کی ہڈی کسی نہ کسی صورت میں محفوظ رہتی ہے۔ مستدرک حاکم کی روایت میں آتا ہے کہ اس دمچی کی ہڈی میں رائی کے دانے کے برابر مادہ حیات قائم رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کو اسی مادے سے انسان کو دوبارہ کھڑا کرے گا ۔ اعمال کی حفاظت کا نظام شاہ عبد القادر (رح) ایک دوسرے طریقے پر بات کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں کہ انسان کی ہر چیز تو ضائع نہیں ہوتی ، مثلاً انسان کی روح محفوظ رہتی ہے اور اسی طرح انسان کے اعمال بھی اس کے نسمے میں محفوظ ہوتے ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعمال اس کے نفس سے نکلتے ہیں ، لہٰذا کوئی آدمی کوئی ایسا کام نہیں کرسکتا ۔ جس کا بیج اس کے نفس میں موجود نہ ہو ۔ پھر جب کوئی شخص وہ عمل بار بار کرتا ہے تو اس کے لیے ایسا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اور جب ان اعمال کے نتائج کا وقت آتا ہے تو یہ اعمال پھیلے ہوئے ہوتے ہیں اور انسان کے نفس کے دامن کو پکڑ لیتے ہیں اور اس طرح ان اعمال کو شمار کرلیا جاتا ہے۔ قیامت کے دن تمام اعمال کھل کر سامنے آجائیں گے اور پھر ان کا حساب کتاب ہوجائے گا ۔ سورة بنی اسرائیل میں موجود ہے وَکُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰـہُ طٰٓـئِـرَھٗ فِیْ عُنُقِہٖط وَنُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ کِتٰباً یَّلْقٰـہُ مَنْشُوْرًا (آیت : 13) ہم نے ہر انسان کے اعمال کو کتابی صورت میں اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے جسے ہم قیامت والے دن نکالیں گے اور ہر انسان اسے کھلا ہوا دیکھ سکے گا ۔ پھر اس سے کہا جائے گا ۔ اقرا کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا ً ( آیت : 14) اپنی کتاب پڑھ لے۔ آج تو خود ہی اپنا محاسب کافی انسان کے اعمال کی حفاظت اس وجہ سے بھی ہوتی رہتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں وقتا ً فوقتا ً اپنے اعمال کو یاد کرتا رہتا ہے اور سوچتا رہتا ہے کہ میں نے فلاں فلاں وقت میں فلاں فلاں مقام پر یہ یہ کام کیا تھا۔ اسی طرح ان اعمال کی حفاظت ہوتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ انسان کے نسمے میں بھی اس کے اعمال محفوظ رہتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے علم محیط میں بھی ہر چیز محفوظ ہے۔ اگر کوئی چیز انسانی نظروں سے غائب بھی ہوجائے تو اللہ کے علم میں تو ہے وہ جب چاہے اسے نکال لے گا اور پھر فرمایا وعندنا کتب حفیظ کہ ہمارے پاس حفاظت کرنے والی ایک کتاب بھی تو ہے ۔ اس سے مراد لوح محفوظ ہے جس میں ہر چیز اللہ کے پاس درج ہے۔ تو فرمایا انہیں کس بات پر تعجب ہے کیا انسان دوبارہ زندہ نہیں ہوگا ۔ اور حساب کتاب کی منزل نہیں آئے گی ؟ فرمایا ، ضرور آئیگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال کا بھگتان کرنا ہوگا ۔ تکذیب حق ارشاد فرمایا حقیقت یہ ہے بل کذبوا بالحق بلکہ ان لوگوں نے حق کو جھٹلایا ہے لما جاء ھم جب کہ وہ ان کے پاس آ گیا فھم فی امر مریج اور یہ لوگ الجھی ہوئی یعنی پریشان بات میں ہی مبتلا ہیں ۔ مریج دراصل اس باغ یا سبزہ زار کو کہتے ہیں جس کے پودے اور درخت آپس میں الجھے ہوئے ہوں اور وہاں پریشانی کی کیفیت طاری ہو ۔ ان لوگوں کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔ یہ اسی بات میں الجھے رہتے ہیں کہ مرنے کے بعد ہمارے اجسام کے منتشر ذرات کیسے جمع ہوں گے اور پھر انسان کیسے جی اٹھے گا ؟ ان لوگوں کی پریشانی کی حالت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ وہ ایمان لانے کی بجائے اللہ کے نبی کو کبھی شاعر کہتے ، کبھی کاہن ، کبھی مجنون اور کبھی کذب ( نعو ذ باللہ) وہ قرآن کو خود ساختہ کلام کہتے اور وقوع قیامت اور حشر نشر کا سرے سے انکار کردیتے۔ اس لیے فرمایا کہ یہ لوگ پریشان کن حالات میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس لفظ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ قیامت اور حشر کا منکر اگر انسانی سوسائٹی میں کوئی تنظیمی کام انجام دے گا تو اسے فیصلہ کن حالت تک نہیں پہنچا سکے گا ۔ کیونکہ کسی فیصلہ پر پہنچنے کے لیے وحدت فکر کی ضرورت ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی سے انسان کے اعمال کو یکسوئی حاصل ہوتی ہے وحدت فکر کے بغیر دنیاوی امور بھی الجھے ہوئے ہی رہیں گے۔ اور کفار و مشرکین کی طرح ایسے لوگ ہمیشہ متزلزل ہی رہیں گے۔
Ayahs 50:6–15

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھا ان لوگوں نے آسمان کی طرف ان کے اوپر کہ کس طرح ہم نے بنایا ہے اس کو ، اور زینت بخشی ہے اس کو اور نہیں ہے اس میں کسی قسم کی کوئی دراڑ

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو پھیلایا ہم نے ، اور رکھ دیئے اس میں بوجھل پہاڑ ، اور اگائی ہم نے اس میں ہر قسم کی با رونق چیز

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

یہ بصیرت اور نصیحت ہے ہر بندے کے لیے جو رجوع رکھتا ہے

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور اتارا ہم نے آسمان کی طرف سے با برکت پانی ، پس اگائے ہم نے اس کے ساتھ باغات اور کھیت جو کاٹے جاتے ہیں

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور کھجوریں لمبی لمبی جن کے خوشے ہیں تہہ بہ تہہ

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

یہ روزی ہے بندوں کے لیے ، اور زندہ کیا ہم نے اس ( پانی) کے ساتھ مردہ زمین کو ، اسی طرح ہوگا دوبارہ نکلنا

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے ، اور کنوئیں والوں نے اور قوم ثمود نے

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور قوم عاد نے اور فرعون نے اور لوط کے بھائیوں نے

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور جنگل میں رہنے والوں نے اور تبع کی قوم نے ، سب نے جھٹلایا اللہ کے رسولوں کو ، پس ثابت ہوگیا میرا عذاب سے ڈرانا

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم تھک گئے ہیں پہلی مخلوق کو بنا کر ؟ نہیں بلکہ یہ لوگ اشتباہ میں پڑے ہوئے ہیں نئی پیدائش کے متعلق

ربط آیات ابتدائے سورة میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ پھر اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت اور وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ، اور فرمایا کہ یہ کون سی تعجب کی بات ہے کہ اللہ نے انہی میں سے ایک شخص کو منذر بنا کر بھیجا ہے اور اس کے ذریعے اپنا پیغام مخلوق تک پہنچایا ہے۔ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ پہلے بھی اللہ تعالیٰ انسانوں ہی سے رسول بنا کر ان کی طرف بھیجتا رہا ۔ اب اللہ کا آخری رسول بھی انہی میں سے تو یہ کوئی عجیب بات تو نہیں ہے۔ اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے ۔ اور ہمارے اجسام ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں رل مل جائیں گے تو ہم دوبارہ کیسے اٹھائیں گے ؟ یہ تو بعید از عقل معلوم ہوتا ہے۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ جسم کا جتناحصہ زمین اپنے اندر جذب کرلیتی ہے ، ہم اس کو جانتے ہیں ، لہٰذا ضرورت کے وقت ہم وہ تمام منتشر شدہ اجزاء جمع کر کے انسان کو دوبارہ کھڑا کردیں گے ۔ فرمایا یہ تمام چیزیں لوح محفوظ میں بھی محفوظ ہیں ، لہٰذا انسان کے اعضاء کو جوڑ کر دوبارہ زندہ کرلینا ہمارے لیے کچھ مشکل نہیں ، یہ لوگ تو محض شک اور تردد میں پڑے ہوئے ہیں۔ دلائل قیامت (11) آسمان کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کی دلیل کے طور پر فرمایا افلم ینظروا الی السماء فوقھم کیف بینھما کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے۔ وزینھا اور ہم نے اس کو کیسی رونق بخشی ہے وما لھا من فروج اور اس میں کوئی داڑیا سورخ نہیں ہے۔ قرآن پاک میں مختلف مقامات پر آسمان کو قدرت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جیسے سورة النباء میں فرمایا وبینا فوقکم سبعا ً شدادا ً (آیت : 12) اور ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنا دیے۔ سورة لقمان میں ارشاد ہوا خلق السموات بغیر عمد ترونھا ( آیت : 10) اس نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جسے تم دیکھتے ہو ۔ جہاں تک آسمان کی رونق کا تعلق ہے تو یہ گرد و غبار اور ابر سے پاک آسمان پر رات کے وقت دیکھی جاسکتی ہے جب کہ سیارے اور ستارے قندیلوں اور فانوسوں کی طرح جگمگ جگمگ کر رہے ہوتے ہیں ۔ انسان کا تعمیر کردہ مکان کتنا بھی مضبوط ہو ، مگر کچھ عرصہ بعد شکست و ریخت کا شکار ہوجاتا ہے مگر قدرت کا قائم کردہ یہ نظام شمسی لاکھوں سال سے چل رہا ہے مگر اس کے آسمان میں ذرہ بھر بھی دراڑ نہیں آئی ۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا نمونہ نہیں ہے ؟ دوسری جگہ فرمایا لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس ( المومن : 57) آسمانوں اور زمین کی پیدائش انسانوں کی پیدائش سے بڑا کام ہے۔ انسان تو ایک چھوٹی سی ہستی ہے ۔ جب کہ اللہ نے زمین و آسمان جیسی بڑی بڑی چیزوں کو بہترین نظام کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر انسان کی دوبارہ پیدائش کیوں دشوار معلوم ہوتی ہے۔ (2) زمین کا پھیلائو آسمان کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا والارض مدرنھا کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو کس طرح پھیلا دیا ہے۔ زمین کو اس قدر ہموار بنا دیا ہے کہ انسان اور جانور اس پر آسانی کے ساتھ چلتے پھرتے ہیں اور کاروبار زندگی انجام دیتے ہیں زمین نہ تو اتنی نرم ہے کہ انسان اور جانور اس میں دھنس جائیں اور نہ اتی سخت ہے کہ اس سے کام ہی نہ لیا جاسکے۔ چناچہ لوگ زمین پر سڑکیں اور عمارات تعمیر کرتے ہیں ، اس کو کھو د کر اس میں کھیتی باڑی کرتے ہیں ۔ جس سے پھل ، پھول اور غلہ حاصل ہوتا ہے جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک بنتا ہے ، زمین کو چاروں طرف سے پانی نے گھیر رکھا ہے ، اس کے باوجود اس میں ٹھہرائو پیدا کردیا ہے جس کی وجہ سے اس پر شب و روز تمام کام انجام دیے جاتے ہیں ۔ بعض لوگ مدد نھا کے لفظ سے یہ مراد لیتے ہیں کہ زمین چپٹی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ زمین ایک گیند کی مانند کردی ہے ایک عام گیند پر قائم ہونا تو دشوار ہے مگر زمین کا قطرہ چوبیس ہزار میل ہے ، اور اتنا بڑا کرہ ہونے کی وجہ سے اس کی گولائی محسوس نہیں ہوتی موجودہ زمانے میں سائنس دان زمین کی حدود سے نکل کر فضاء کا سفر اختیار کر رہے ہیں ۔ جب وہ اوپر جاتے ہیں تو انہیں زمین بھی اسی طرح گول دکھائی دیتی ہے جس طرح ہم زمین سے چاند کو ایک گیند کی شکل کا دیکھتے ہیں ۔ زمین کے پھیلائو کی مثال پرانی ریاضی والے اس طرح دیتے ہیں کہ اس زمین پر واقع بتیس ہزار فٹ بلند پہاڑ کی حیثیت اتنی ہے۔ جتنا ایک گز کے اوپر جو کا ستارہواں رکھ دیا جائے ۔ اس لیے زمین چپٹی دکھائی دیتی ہے حالانکہ یہ گول ہے۔ (3) پہاڑ اور نباتات اللہ نے زمین کا ذکر کر کے فرمایا والقیمنا فیھا رواسی ہم نے اس میں بوجھل پہاڑ رکھ دیے تا کہ زمین کے رہنے والوں میں اضطراب پیدا نہ ہو ۔ اب اضطراب دو قسم سے ہے۔ پہلے اضطراب کی مثال ایک کشتی کی ہے کہ جس پر ایک طرف زیادہ بوجھ ہو تو وہ مضطرب ہو کر ڈولنے لگتی ہے ، لہٰذا اس کا توازن قائم رکھنے کے لیے اس کے دونوں طرف بوجھ کو برابر کردیا جاتا ہے۔ زمین پر پہاڑ رکھنے کا ایک مقصد بھی یہی ہے کہ زمین غیرمتوازن ہو کر ڈولنے نہ پائے ۔ اس بات کا تذکرہ اللہ نے سورة الانبیاء میں بھی فرمایا ہ۔ وجعلنا فی الارض رواسی ان تمید بھم (آیت : 31) ہم نے زمین میں بوجھل پہاڑ رکھ دیئے ہیں ، تا کہ یہ ڈولنے نہ پائے۔ دوسرا اضطراب معنی ہے۔ یعنی اللہ نے جگہ جگہ پہاڑ رکھ دیئے ہیں کہ ان کے بغیر لوگ بہت سی اشیاء سے محروم رہتے جو ان کے اضطراب کا باعث ہوتا ، مثلاً پہاڑوں سے بیش قیمت پتھر ، سونا ، چاندی ، کوئلہ ، لوہا اور دیگر مع دنیات حاصل کی جاتی ہیں ان پر بڑے بڑے درخت ہوتے ہیں جن سے عمارتی لکڑی حاصل ہوتی ہے۔ پہاڑوں پر پیدا ہونے والی جڑی بوٹیوں سے کام لیا جاتا ہے اور یہاں پیدا ہونے والی پھلوں سے لوگ مستفید ہوتے ہیں ۔ فرمایا وانبتنا فیھا من کل زوج بھیج اور ہم نے اس زمین میں ہر قسم کی بارونق چیزیں بھی پیدا کی ہیں ۔ یہ بھی زمین کی ایک اضافی خصوصیت ہے ۔ زمین پر ہر قسم کے درخت پودے ، کھیتاں ، پھل اور اناج پیدا ہوتا ہے۔ جو انسانی اور حیوای زندگی کی بقاء کے لیے ضروری ہے۔ اس زمین پر اربوں کی تعداد میں انسانی آبادی کے علاوہ لاکھوں ، کروڑوں حیوانات اور بیشمار کیڑے مکوڑے بھی ہیں جن کی مختلف قسمیں ، مختلف شکلیں اور مختلف رنگ ہیں ۔ یہ سب چیزیں اللہ نے زمین میں ہی پیدا کی ہیں ، اور یہ سب کچھ تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب بصیرت اور نصیحت ہے ہر اس شخص کے لیے جو خدا تعالیٰ کی طرف رجوع رکھتا ہے۔ آسمان و زمین کی تخلیق انسانوں ، حیوانوں ، نباتات ، جمادات ، سمندروں اور دریائوں کی تخلیق ، نیز پہاڑوں ، میدانوں اور دیگزاروں کی وسعت کو دیکھ کر صاحب عقل انسان میں بصیرت پیدا ہوتی ہے اور وہ انہی نشانیوں سے خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے۔ یہ سب اللہ کی قدرت کے دلائل ہیں ، ان میں غور کرنے والا کوئی شخص وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کا انکار نہیں کرسکتا ، بصیرت اور نصیحت سے یہی مراد ہے۔ (4) بارش کا نزول پھر فرمایا ونزلنا من السماء ما مبرکا اور ہم نے آسمان کی طرف سے با برکت پانی نازل کیا ۔ سورة الفرقان میں ماء طھورا ( آیت : 48) کا لفظ آیا ہے ، یعنی ہم نے آسمان کی طرف سے پاکیزہ پانی اتارا ہے۔ طہور اس چیز کو کہا جاتا ہے جو خود پاک ہو اور دوسری چیزوں کو پاک کرتی ہو۔ گویا پانی کو اللہ تعالیٰ نے آلہ طہارت یعنی پاکیزگی کا ذریعہ بنایا ہے۔ پانی ایک ایسی چیز ہے جس پر ہر چیز کی زندگی کا دارومدار ہوتا ہے۔ سورة الانبیاء میں فرمایا وجعلنا من الماء کل شی حی ( آیت : 30) ہم نے پانی کے ذریعے ہر چیز کو حیات بخشی ، پانی انسانی جسم کا ایک اہم ضرورت ہے جس میں پانی کی کمی سے موت واقع ہوجاتی ہے۔ انسان کے جسم میں گردش کرنے والے خون میں اسی فیصد پانی اور بیس فیصد باقی غذابی مواد ہیں ۔ اور اسی خون کے ذریعے جسم کے مختلف ساختوں کو غذ ا مہیا کی جاتی ہے ، لہٰذا اس سے پانی کی اہمیت کی وضاحت ہوتی ہے۔ اللہ نے بارش کے پانی کو با برکت فرمایا ہے۔ بارش کے موقع پر ایک دفعہ حضور ﷺ نے اپنی آستین سے کپڑا ہٹا کر ہاتھ مبارک آگے کردیا تا کہ بارش کے قطرات اس حصہ جسم پر پڑیں ۔ آپ نے بارش کا پانی اپنے جسم پر مل لیا ۔ دریافت کرنے پر آپ نے فرمایا کہ یہ پانی تازہ تازہ آسمان کی طرف سے نازل ہوا ہے جو کہ بابرکت ہے ۔ جب یہ زمین پر گرتا ہے تو پھر اس میں کئی کثافتیں بھی شامل ہوجاتی ہیں لہٰذا براہ راست نازل ہونے والا پانی بڑا بابرکت اور پاکیزہ ہے۔ پانی ذریعہ کا شت ہے فرمایا ہم نے آسمان کی طرف سے پانی نازل فرمایا جو کہ با برکت ہے فانبتنا بہ جنت وحب الحصید پھر ہم نے اس پانی کے ذریعے باغات اور کاٹی جانے والی فصل اگائی۔ ظاہر ہے کہ پانی کے بغیر نہ تو کوئی چیز کاشت کی جاسکتی ہے اور نہ اس سے پھل یا اناج وغیرہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تو کاشتکاروں میں پانی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جس کے نتیجے میں پھل ، پھول ، اناج اور سبزیاں تر کاریاں پیدا ہوتی ہیں جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک بنتی ہیں ۔ یہاں پر دو چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے پہلی چیز باغات ہیں ، جن پر پھل آتا ہے جو توڑ لیا جاتا ہے اور د رخت قائم رہتے ہیں ۔ ان درختوں پر بار بار پھل آتا ہے۔ جسے برداشت کر کے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ دوسری چیز جب الحصید یعنی وہ کھیتیاں یا فصلیں ہیں جو پک جانے پر مکمل طور پر کاٹ لی جاتی ہیں اور پھر اگلے موسم میں دوبارہ کاشت کی جاتی ہیں ۔ اناج کی فصلوں کے علاوہ سبزی تر کاری اور چارہ وغیرہ بھی اسی مد میں شامل ہیں۔ پھر فرمایا والنخل بسقت ہم نے لمبی لمبی کھجوریں بھی پیدا فرمائیں۔ آم کی طرح کھجوروں کی بھی سینکڑوں اقسام ہیں کھجور کا درخت بالعموم لمبا اور بڑا دیرپا ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے کھجور کے درخت کو ایک مومن کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ جس طرح ایک مومن آدمی کے دل میں ایمان ہوتا ہے اور وہ عبادت و ریاضت میں مداومت اختیار کرتا ہے ، اس طرح کھجور کا درخت بھی ہمیشہ سر سبز رہتا ہے اس کا پھل ایک مومن آدمی کی طرح مفید ہوتا ہے جس سے شربت ، شیرہ بنایا جاتا ہے اور بعض علاقوں میں کھجور کو خوراک کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ ہم نے لمبی لمبی کھجوریں پیدا کیں لھا طلع نضید جن کیخوشے تہہ بہ تہہ ہیں اور یہ تمام چیزیں رزقا للعباد بندوں کے لئے روزی کا ذریعہ ہیں اناج پھل ، کھجوریں ، سبزیاں وغیرہ نہ صرف انسانوں کی خوراک ہیں ، بلکہ جانور بھی انہی چیزوں پر پلتے ہیں ۔ چارہ وغیرہ تو خاص طور پر جانوروں کے لیے اگایا جاتا ہے ، تا ہم اناج کا بھوسہ اور درختوں کے پتے وغیر بھی جانوروں کی خوراک بنتے ہیں ۔ بعث بعد الموت پر دلیل پھر فرمایا واحیینا بہ بلدۃ میتا اور ہم نے پانی کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کیا ۔ جب بارش نہیں ہوتی تو زمین خشک ہو کرنا قابل کاشت بن جاتی ہے اسی لیے اس کو مردہ کہا گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ بارش نازل فرماتا ہے تو اس میں روئیدگی کی طاقت پیدا ہوتی ہے۔ اور جب اس میں بیج بویا جاتا ہے تو یہ پھل پھول لاتی ہے۔ زمین کی زندگی سے یہی مراد ہے۔ فرمایا جس طرح تم مردہ زمین کی زندگی کا روز مرہ مشاہدہ کرتے ہو کذلک الخروج اسی طرح تم مرنے کے بعد زندہ ہو کر قبروں سے دوبارہ نکلو گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کو اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا ۔ جس کے نتیجے میں انسانی اجسام زمین سے اس طرح نکلیں گے جیسے زمین سے پودے نکلتے ہیں ۔ باقی رہی یہ بات کہ اب مردے زندہ ہو کر کیوں نہیں نکلتے ؟ تو بھائی ! اللہ کا یہ قانون ہے کہ اس نے ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے ، جب وہ وقت آجاتا ہے تو وہ کام بھی ہوجاتا ہے۔ وقوع قیامت اور دوبارہ زندگی کا بھی ایک وقت مقرر ہے ۔ جونہی وہ وقت آئے گا ، اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرما دے گا ۔ کیونکہ اس کا فرمان ہے کہ جس طرح ہم نے مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کیا اسی طرح ہم اس کو دوبارہ بھی اٹھائیں گے وعدا علینا انا کنا فعلین ( الانبیاء : 104) یہ ہمارا وعدہ ہے جسے ہم پورا کر کے رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ایسی عقلی دلیل بیان فرمائی ہے جس کو کوئی بھی عقلمند آدمی رد نہیں کرسکتا ۔ سابقہ اقوام کی تکذیب آگے اللہ نے تسلی کے طور پر فرمایا کہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کا انکار مشرکین مکہ ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ سابقہ اقوام بھی اسی ڈگر پر چلتی رہی ہیں۔ چناچہ کذبت قبلھم قوم نوح ان سے پہلے قوم نوح نے بھی اسی طرح تکذیب کی ۔ وہ بھی تعجب کرتے رہے کہ مرنے کے بعد انسان دوبارہ کیسے زندہ ہوجائیں گے ، آج تک تو کسی کو زندہ ہوتے دیکھا نہیں ۔ واصحب الرس اور کنوئیں والوں نے بھی جھٹلایا ۔ قرآن میں سورة الحج اور سورة الفرقان میں بھی اس کنوئیں کا ذکر آیا ہے مگر یہ تصریح موجود ہے کہ یہ کنواں کہاں تھا اور اس کی طرف منسوب لوگ کون تھے ؟ اس کنوئیں کے محل وقوع کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ کنواں ملک انطاکیہ میں تھا۔ بعض اسے یمن میں حضر موت کے قریب بتاتے ہیں ۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں حضرت صالح (علیہ السلام) کے ساتھ بچ رہنے والے قوم ثمود کے لوگ رہتے تھے ۔ اللہ نے وہاں پر کسی نبی کو بھیجا تا کہ انہیں راہ راست کی طرف لایا جاسکے ۔ ان لوگوں نے نہ صرف نبی کو جھٹلایا بلکہ اسے قتل ہی کردیا ۔ جس کی وجہ سے اللہ نے ساری قوم کو ہلاک کردیا ۔ دوسری جگہ فرمایا بئر معطلۃ و قصرمشید ( الحج : 45) کنوئیں معطل پڑے ہیں اور محلات خالی پڑے ہیں جن کے رہنے والے ختم ہوگئے ۔ بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ کنواں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی سر زمین میں واقع تھا۔ بہر حال یہ ایک کنواں تھا جس کے ارد گرد رہنے والوں نے وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کی تکذیب کی ۔ وثمود اور قوم ثمود نے بھی اسی طرح جھٹلایا ، سورة الشعراء میں ہے۔ انما انت من المسحرین ( آیت ، 153) تم پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ ما انس الانشر مثلنا ( آیت : 154) تم تو ہماری طرح کے ایک انسان ہو ۔ انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے اونٹنی کا معجزہ بھی طلب کیا ، مگر اسے پانے کے باوجود اس کا نہ صرف انکار کیا بلکہ اللہ کے حکم کے خلاف اونٹنی کا قتل کردیا اور پھر ساری قوم ہلاک ہوگئی ۔ وعاد اور قوم عاد کا بھی یہی حال تھا ۔ انہوں نے بھی ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی وکانو بایتنا یجحدون ( حم السجدۃ : 15) اللہ کی آیتوں کا انکار کیا کرتے تھے۔ اور اپنے پیغمبر سے کہا ان نقول الا اعترلک بعض الھتنا بسوئ ( ھو د : 54) کہ تمہیں ہمارے معبودوں کی بد دعا لگ گئی ہے۔ و فرعون اور قوم فرعون نے بھی ایسا ہی کیا ۔ انہوں نے نہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون علیہ السلا م کی تکذیب کی بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ مصر کے باشندوں کو وہاں سے نکال دینا چاہتے ہیں اور یہ بھی کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارا دین بدل دینا چاہتا ہے۔ اللہ نے اس کو بھی بمع قوم کے بحیرہ قلزم میں غرق کردیا ۔ واخوان لوط اور لوط (علیہ السلام) کے بھائیوں یعنی ان کی قوم نے بھی ان کو جھٹلایا اور کہنے لگے اخرجوھم من قریتکم انھم انا س یتطھرون ( الاعراف : 83) یہ بڑے پاکباز بنتے پھرتے ہیں ، ان کو اپنی بستیوں سے نکال دو ۔ آخر اللہ نے ان کی پوری بستی الٹ دی اوپر سے پتھروں کی بارش کی اور وہ ساری قوم ہلاک ہوگئی ۔ واصحب الایکۃ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی جو جنگل کے رہنے والے تھ۔ فکذبوہ فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین ( العنکبوت : 37) انہوں نے بھی اپنے پیغمبر کو جھٹلایا ، پھر ایک چیخ آئی اور وہ اپنے گھروں میں گھنٹوں کے بل گر پڑے تھے۔ وقوم تبع اور تبع کی قوم نے بھی تکذیب کی ۔ تبع اپنے حمیر قبیلے کا سردار تھا۔ یہ خود مسلمان تھا مگر اس کی ساری قوم کافر تھی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ تبع نبی تھا مگر اس کی تصریح نہیں ہے فرمایا کل کذب الرسل فحق وعید ان سب اقوام نے اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب کی ، پس میرا ڈر ٹھیک ثابت ہوا اور یہ سب لوگ سزا کے مستحق ٹھہرے یہ مکہ والوں کو عبرت دلائی جا رہی ہے کہ اگر وہ بھی پرانی قوموں کے نقش قدم پرچلتے رہے تو ان کا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا ۔ اللہ نے پھر پہلی بات بعث بعد الموت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا افعیینا بالخلق الاول کیا ہم پہلی مخلوق کو پیدا کر کے تھک گئے تھے ، اور کیا ان کو دوبارہ پیدا کرنے کی ہم میں طاقت نہیں رہی تھی ؟ فرمایا ایسا نہیں ہے بلکہ جس طرح ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کردیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ جب تم خو د اپنی پہلی پیدائش کو تسلیم کرتے ہو تو دوسری تخلیق کا کیسے انکار کرتے ہو ؟ دوسری جگہ فرمایا کہ ہمارے لیے ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں ہے۔ یہ تو نادانی اور جہالت کی بات ہے کہ ہم پہلی بار مخلوق کو پیدا کر کے عاجز آگئے ہیں ۔ فرمایا بل ھم فی لبس من خلق جدید بلکہ یہ لوگ نئی تخلیق کے سلسلے میں دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اگر یہ مذکورہ دلیل پر ذرا بھی غور کرتے تو بات سمجھ میں آجاتی ، حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں یہ اشتباہ میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayahs 50:16–22

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے پیدا کیا انسان کو اور ہم جانتے ہیں ان باتوں کو جو وسوسہ کرتا ہے اس کے اتھ اس کا نفس ، اور ہم یادہ قریب ہیں اس سے اس کی دھڑکتی ہوئی رگ سے

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب کہ لیتے ہیں دو لینے والے دائیں اور بائیں طرف سے جو بیٹھے ہوئے ہیں

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

نہیں بولتا وہ کوئی لفظ مگر اس کے پاس ایک نگران ہوتا ہے تیار

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور آئی بےہوشی موت کی حق کے ساتھ ، یہ وہ چیز ہے جس سے تو بچتا تھا

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور پھونکا جائے گا صور میں ، یہ وعدہ ہے ڈرانے کے دن کا

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور آئے گا ہر نفس کہ اس کے ساتھ ہوگا ایک چلانے والا اور ایک گواہی دینے والا

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

البتہ تحقیق تھا تو غفلت میں اس دن سے ، پس ہم نے کھول دیا ہے تجھ سے تیرے پردے کو ، پس تیری آنکھ آج بہت تیز ہے

ربط آیات پہلے اللہ نے نبوت و رسالت کے منکرین کا شکوہ کیا ، پھر قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس پر عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ پھر عبرت کے طور پر اللہ نے چند سابقہ اقوام کا حال ذکر کیا کہ انہوں نے نبوت و رسالت اور وقوع قیامت کو جھٹلایا تو ان کا انجام بھی بہت برا ہوا ۔ اللہ کا ڈرانا بر حق ثابت ہوا اور یہ لوگ مبتلائے عذاب ہوئے وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کے متعلق فرمایا کہ کیا ہم مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کر کے تھک گئے تھے کہ دوبارہ پیدا کرنا محال ہوجائے گا ؟ اس میں کون سی خلاف عقل اور تعجب انگیز بات ہے ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ دوبارہ زندگی کو کیوں محال سمجھتے ہیں جب کہ ہم جانتے ہیں کہ انسانی جسم کا کونسا حصہ کس زمین نے سمیٹ لیا ہے اور اب اس کے منتشر ذرات کہاں کہاں موجود ہیں ۔ جب ہم چاہیں گے ان ذرات کو اکٹھا کر کے انسان کا ڈھانچہ پھر سے کھڑا کردیں گے۔ وساوس نفسانی بیرونی مشاہدات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے انسان کی تخلیق اور اس کی اندرونی کیفیات کا ذکر فرمایا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ولقد خلقنا الانسان اور البتہ تحقیق ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ونعلم ما نوسوس بہ نفسہ اور ہم ان چیزوں کو بھی جانتے ہیں جن کے ساتھ اس کا نفس وسوسہ کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے ، وہ تو انسان کے دل میں پیدا ہونے والے وسوسہ کو بھی جانتا ہے ۔ وسوسہ ایک معمولی سے خیال کا نام ہے جو انسان کے دل میں غیر اختیاری طور پر پیدا ہوتا ہے۔ عربی زبان میں اس کو ھا جس کہتے ہیں ، گویا ایک ہلکا سا خیال آیا اور چلا گیا ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو خیال آتا ہے وہ فوری طور پر نہیں جاتا بلکہ تھوڑی دیر توقف کے بعد جاتا ہے۔ اس کو خاطرکہتے ہیں ۔ بعض اوقات کوئی قبیح خیال بھی آجاتا ہے جس کو حدیث نفس کہا جاتا ہے اس پر بھی اس وقت تک مؤاخذہ نہیں جب تک زبان سے اس کا تلفظ ادا نہ کیا جائے یا اس پر عمل نہ کیا جائے انسان کے نفس میں بعض چیزیں ایسی بھی آتی ہیں جن سے انسان لطف اندوز ہوتا ہے ، اس کو ہم کہتے ہیں اور یہ بھی ادنیٰ درجے کا ارادہ سمجھا جاتا ہے۔ البتہ انسان کے دل میں جو خیال آ کر پختہ ہوجاتا ہے اس کو عزم یا پختہ ارادہ کہا جاتا ہے۔ یہ ضرور قابل مواخذہ ہے ۔ اس کے علاوہ باقی تمام وساوس قابل مواخذہ نہیں ، فرمایا یہ باریک ترین چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ قربت خداوندی نیز یہ بھی فرمایا ونحن اقرب الیہ من حبل الورید اور ہم تو انسان کی دھڑکتی ہوئی رگ سے بھی اس سے زیادہ قریب ہیں ۔ حبل الورید شاہ رگ کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے جسمانی خون سر کی طرف جاتا ہے اور جس کے کٹنے سے جسم اور روح کا تعلق ختم ہو کر انسان ہلاک ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اس قدر قریب ہے کہ اتنی قریب شہ رگ بھی نہیں جس پر انسان کی موت اور زندگی کا انحصار ہے۔ اس ضمن میں شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ انسان کی شاہ رگ اس کے نفس یا جان سے تو باہر ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم تو شہ رگ کے اندر والی چیز سے بھی زیادہ قریب ہیں ۔ امام بیضاوی (رح) اور امام بغوی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ قربت باعتبار علم ہے کیونکہ وہ انسان کے اندرونی اور بیرونی حالات کو اس حد تک جانتا ہے۔ جس تک انسان خود بھی اپنے حالات سے واقف نہیں ۔ مثلاً انسان اپنے جسم کے جس عضو کو دیکھ سکتا ہے اسے تو جانتا ہے مگر جسم کے جس حصے پر اس کی نظر نہیں پڑتی اس کو نہیں جانتا ۔ مگر اللہ تعالیٰ انسان کے ایک ایک بال سے واقف ہے لہٰذا وہ انسان کی اپنی ذات سے بھی اس کے زیادہ قریب ہے۔ اس کے بر خلاف قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی انسان کے ساتھ قربت محض علمی نہیں بلکہ ذاتی ہے ۔ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا قرب کسی مکان زمان یا کسی خاص کیفیت کے ساتھ مقید نہیں ہے کیونکہ اس کی ذات تو ان چیزوں سے منزہ اور مبرا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قرب وہی ہے جو معلول کو اپنی علت کے ساتھ یا سائے کو اپنی اصلی چیز کے ساتھ ہوتا ہے۔ دیکھئے ! سائے کی ہستی اصل چیز پر موقوف ہے ، اگر اصل نہیں ہے تو سایہ بھی معدوم ہوجائے گا ۔ اسی طرح ہر چیز کی علت تو خدا تعالیٰ کی ذات ہے ۔ تو جو قرب معلول کو پانی علت کے ساتھ ہوتا ہے ، وہی قرب اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے ساتھ ہے اور یہ قرب ذاتی ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی قومیت ہر چیز میں موثر بالذات ہے۔ تا ہم قاضی صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اس قرب کو ظاہری دلیل سے معلوم نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کو فراست کے ساتھ ہی دیکھتا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور قرب بھی ہے جو خدا تعالیٰ کے بندوں کو حاصل ہوتا ہے اس کو بھی ظاہری دلیل کی بجائے فراست ایمانی کے ساتھ ہی محسوس کیا جاسکتا ہے یہ قرب بھی کسی زمان و مکان یا مسافت کا محتاج نہیں ہوتا کہ کسی خاص وقت میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک مسافت طے کرلی جائے تو انسان کسی چیز کے قریب ہوجائے ، بلکہ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرب ذاتی ہے ، خدا تعالیٰ اور بندے کے درمیان غفلت کے ستر ہزار پردے ہیں ۔ اور جتنے پردے ہٹتے جاتے ہیں اتنا ہی قرب حاصل ہوتا جاتا ہے مگر یہ قرب کسی خاص کیفیت کے ساتھ متکیف نہیں ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ خدا کی ذات کو لوگوں کے ساتھ جو قرب حاصل ہے ، اسی کی صورت یہ ہے ” ہست رب الناس رابا جان ناس ، اتصال بےتکیف بےقیاس “۔ گویا یہ قرب کسی کیفیت میں ظاہر نہیں کیا جاسکتا ، اور نہ ہی یہ چیز قیاس میں آسکتی ہے ۔ تا ہم جب یہ قرب قرب حاصل ہوجاتا ہے تو انسان کے اعضاء وجوارح بھی خدا تعالیٰ کی اطاعت اور خوشنودی میں بسر ہونے لگتے ہیں اور پھر ان سے نافرمانی نہیں ہوتی ۔ شاہ ولی اللہ (رح) محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بندے سے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب بایں معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تجلی اعظم کا عکس انسان کے نفس ناطقہ اور روح الٰہی پر پڑتا رہتا ہے ۔ روح کے بہت سے مراتب ہیں اور خدا کی تجلی اعظم کا عکس اس کے انتہائی مرتبہ پر پڑتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ہر فرد کے ساتھ اس کی ذات سے بھی زیادہ قرب حاصل ہے۔ یہ قرب آج محسوس نہیں ہوتا کیونکہ درمیان میں بیشمار پردے حائل ہیں ۔ جب انسان کی یہ مادی حیات ختم ہوگی اور وہ اس مادی خول سے باہر نکلے گا تو درمیان کے سارے پردے ہٹ جائیں گے تو اس وقت اس کو قرب کا احساس ہوگا ۔ اگر اس نے دنیا کی زندگی میں بہیمیت پر قابو پا کر ملکیت کو اختیار کرلیا ہے تو اس کو راحت حاصل ہوگی ، اور اگر اس نے دنیا میں اپنے حالات کو خراب کرلیا ہے اور پستی میں چلا گیا ہے تو پھر اس کو سخت تکلیف ہوگی کیونکہ تجلی اعظم کی کشش تو اوپر کی طرف ہوگی اور یہ شخص نیچے کی طرف جا رہا ہوگا ۔ اسی لیے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کو انسان کے ساتھ اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قرب حاصل ہے۔ ہر قول و فعل کا ریکارڈ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ہر فعل حتیٰ کہ دل میں پیدا ہونے والی وسوسے کو بھی جانتا ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ اس نے انسان کے قول و فعل کی حفاظت کا ایک غیر متزلزل نظام قائم رکھا ہے۔ اسی چیز کے متعلق فرمایا اذیتلقی المتلقین عن الیمین وعن الشمال قعید جب کہ دو لینے والے لے لیتے ہیں جو کہ اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ یعنی انسان کو ہر قول و فعل کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ دو فرشتے ریکارڈ کرلیتے ہیں ۔ ان سے مراد کراما ً کاتبین فرشتے ہیں جو ہر انسان کے ساتھ مقرر ہیں اور جن کے متعلق سورة الانفطار میں ہے۔ کراما ً کاتبین یعلمون ما تفعلون ( آیت : 11 ، 12) یہ کراما ً کاتبین فرشتے ہیں جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں اور تمہارے ہر قول اور فعل کو نوٹ کر رہے ہیں ۔ اسی لیے یہاں فرمایا ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتبد انسان اپنی زبان سے کوئی لفظ نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک نگران تیار ہوتا ہے جو فوراً اس بات کو محفوظ کرلیتا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ انسان سے سر زد ہونے والے بعض اقوال و افعال اتنے باریک ہوتے ہیں کہ فرشتے ان کی نقش گری نہیں کرسکتے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ تم اسی طرح لکھ دو ، اس کی نقش گری ہم خود کرلیں گے ۔ بہر حال اس ان کی زبان سے نکلنے والی ہر اچھی اور بری بات اللہ تعالیٰ کے ریکارڈ میں درج ہوتی رہتی ہے اور اس کی مثال بنتی رہتی ہے۔ اس سے یہ قانون بھی سمجھا یا گیا ہے کہ انسان کو اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہئے کوئی غلط بات زبان سے نہیں نکالنی چاہئے کیونکہ یہ ریکارڈ ہو رہی ہے اور اس کا جواب دینا پڑے گا ۔ ایک صحابی ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا حضور ! کیا زبان کی باتوں پر بھی مواخذہ ہوگا ؟ آپ نے فرمایا ھل یکب فی النار الاحصائد السنتھم یہی تو زبان سے کاٹی ہوئی باتیں ہیں جو دوزخ میں اوندھے منہ گرانے والی ہیں ۔ بعض اوقات انسان زبان سے کوئی کلمہ ادا کرتا ہے مگر سمجھتا ہے کہ اس کا کچھ مواخذہ نہیں ہوگا حالانکہ وہی کلمہ اس شخص کو جہنم کی گہرائی میں پھینک جانے کا سبب بن جاتا ہے۔ بعض اوقات انسان اپنی زبان سے رواروی میں کوئی اچھا کلمہ ادا کرتا ہے جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ اس کو بلند مرتبے پر فائز کردیتا ہے حالانکہ انسان کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا ۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی زبان سے ہمیشہ اچھی بات کرنی چاہئے کیونکہ اس کا ایک ایک لفظ ریکارڈ ہو رہا ہے جو قیامت والے دن اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا ۔ سکرات موت اب محاسبہ اعمال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا وجاءت سکرۃ الموت بالحق موت کی بےہوشی حق کے ساتھ آگئی ۔ جب انسان کی زندگی کے خاتمے کا وقت آتا ہے تو اس پر موت کی بےہوشی طاری ہونے لگتی ہے۔ فرمایا ذلک ما کنت منہ تحید یہ وہی چیز ہے جس سے تو بچنے کی کوشش کیا کرتا تھا ۔ مگر اللہ تعالیٰ کا یہ اٹل فیصلہ ہے۔ کل نفس ذائقۃ الموت ( العنکبوت : 57) ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ موت سے بچنے کی تیری کوئی تدبیر کار گر نہ ہوئی ، تجھے بالآخر اس گھاٹی سے گزرنا پڑا ۔ اور موت کے سکرات طاری ہوگئی ۔ یہ سکرات بڑے تلخ ہوتے ہیں ، اسی لیے حضور ﷺ نے یہ دعا سکھائی ہے اللھم سھل علینا سکرت الموت وغمرات الموت الٰہی ! ہم پر موت کے سکرات اور اس کی تلخیوں کو آسان کر دے۔ بعث بعد الموت اس دنیا میں ہر شخص کے لیے انفرادی موت آتی ہے۔ پھر جب قیامت برپا ہوگی اور پہلا صور پھونکا جائے گا تو اس وقت دنیا میں موجود ہر چیز فنا ہوجائے گی ۔ اس کے بعد پھر بعث بعد الموت اور حساب کتاب کی منزل آئے گی جس کے متعلق فرمایا ونفخ فی الصور اور صور میں پھونکا جائے گا ۔ اس سے دوسرا صور مراد ہے فرمایا ذلک یومالوعید یہ ڈرانے کے دن کا وعدہ ہے ۔ اب حساب کتاب کی منزل شروع ہونے والی ہے ۔ یہ وہی دن ہے جس سے اللہ کے پیغمبر لوگوں کو ڈراتے رہے۔ اس دن کے متعلق فرمایا وجاء ت کل نفس معھا سائق وشھید اور ہر شخص اللہ کی بارگاہ میں اس حالت میں آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ ہوگا ۔ سائق کا معنی ہانکنے والا ہوتا ہے ۔ جدید عربی میں ڈرائیور کو بھی سائق کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی گاڑی کو ہانکتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ایک فرشتہ تو انسان کو ہانک کر عدالت کی طرف لے جائے گا اور دوسرا فرشتہ اس کا اعمال نامہ پیش کریگا ۔ گویا اس کی کارروائی پر گواہ ہوگا ۔ دنیا میں بھی عام طور پر یہی دستور ہے کہ ایک سپاہی مجرم کو پکڑا کر عدالت میں پیش کرتا ہے اور دوسرا شخص اس کے خلاف چالان پیش کرتا ہے اور دوسرا شخص اس کے خلاف چالان پیش کرتا ہے غرضیکہ اللہ کے ہاں پیشی کے لیے بھی ہر شخص کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے۔ پھر ارشاد ہوگا لقد کتن فی غفلہ من ھذا دنیا کی زندگی میں تو آج کی کارروائی سے غفلت میں پڑا ہوا تھا۔ اللہ کے پیغمبر اور ڈرانے والے آتے رہے اور تجھے اس دن کی ہولناکیوں سے خبردار کرتے رہے مگر تو نے اس وقت اس کی کچھ پرواہ نہ کی کیونکہ اس وقت تجھے یہ منزل نظر نہیں آتی تھی ۔ اس کے بر خلاف آج صورت حال یہ ہے فکشفنا عنک غطاء ک کہ ہم نے تجھ سے تیرے پردے کھول دیے ہیں ۔ آج تمہیں وہ تمام چیزیں نظر آ رہی ہیں جن کا تو انکار کیا کرتا تھا۔ فبصرک الیوم حدید آج تیر ی آنکھ بہت تیز ہوگئی ہے آج تجھے فرشتے ، جنت ، دوزخ ، عرش الٰہی وغیرہ سب چیزیں نظر آ رہی ہیں ۔ اب تجھے یقین آیا ہے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور پیغمبروں نے ٹھیک بات کہی تھی ، مگر آج کا پچھتاوا تیرے کسی کام نہیں آئے گا ، اور تجھے ذرے ذرے کا حساب دینا ہوگا ۔