50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 50:23–29

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور کہے گا اس کا ساتھی کہ یہ وہی چیز ہے جو میرے پاس ہے تیار

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

ارشادہو گا) ڈال دو جہنم میں ہر ناشکرگزار ، عنادی کو

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

وہ بہت روکنے والا ہے نیکی سے ، تعدی کرنے والا اور شک میں ڈالنے والا ہے

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے اللہ کے ساتھ دوسرے کو الٰہ بنا رکھا ہے ، پس ڈال دو اس کو سخت عذاب میں

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

کہے گا اس کا ساتھی اے ہمارے پروردگار ! میں نے تو اس کو سرکشی میں نہیں ڈالا لیکن یہ خود ہی گمراہی میں دور پڑا ہوا تھا

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

فرمائے گا ( پروردگار) نہ جھگڑا کرو میرے پاس ، اور تحقیق میں نے پہلے ہی بھیج دی تھی تمہاری طرف عذاب کی وعید

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

نہیں تبدیل کی جاتی بات میرے پاس ، اور نہیں ہوں میں ( ذرہ بھر بھی) زیادتی کرنے والا بندوں پر

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے دلائل ذکر کیے اور اس کا انکار کرنے والوں کا رد کیا ۔ پھر انسان کی تخلیق اور اس کی مخفی باتوں تک جاننے کا ذکر کیا ۔ نیز فرمایا کہ ہم تو انسان کی رگ گردن سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام اعمال کی حفاظت کے لیے ہر شخص کے دائیں بائیں دو فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو انسان کا ہر قول و فعل نوٹ کر رہے ہیں ۔ آگے یقینا جزائے عمل پیش آنے والی ہے اور اس کا زیادہ تر انحصار فرشتوں کی انہی رپورٹوں پر ہوگا ۔ پھر فرمایا جب انسان کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس پر موت کی غشی طاری ہوجاتی ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کو انسان عمر بھر ٹالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے مگر اس سے بچ نہیں سکتا ۔ یہ تو ہر شخص کی انفرادی موت کا ذکر تھا ، پھر جب مجموعی طور پر پورے عالم کی عمر ختم ہوجائے گی تو اللہ نے فرمایا کہ ایک صور پھونکاجائے گا ۔ یہ وہی دن ہوگا جس سے اللہ کے سارے نبی لوگوں کو ڈراتے رہے اور جس کے لیے تیاری کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ اس دن ہر شخص کو اللہ کی عدالت میں حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہوگی ۔ اور جزا یا سزا سے دو چار ہونا ہوگا ، اس دن ہر آدمی کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا جو اسے ہانک کر رب العزت کی بارگاہ کی طرف لے جائے گا اور دوسرا اعمال نامہ بردار ہوگا جو اس کے اعمال کا ریکارڈ پیش کرے گا ۔ گویا فرشتہ آدمی کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی پیش کرے گا فرمایا ، اے غافل انسان ! آج تو غفلت میں پڑا ہوا ہے اور تجھے کچھ نظر نہیں آتا تو محاسبہ اعمال کی منزل پر یقین نہیں لاتا ، مگر جب وہ دن آئے گا تو تمہاری آنکھ کے پردے کھول دیے جائیں گے ۔ تیری بینائی تیز ہوجائے گی اور تو محاسبہ اعمال کی تمام منازل اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے گا ۔ اس دن تجھے اس کی صداقت پر یقین آئے گا مگر تو اپنے لیے کچھ نہیں کرسکے گا ۔ دو ساتھی فرشتے ارشاد ہوتا ہے وقال قرینہ اور کہے گا انسان کا ساتھی فرشتہ جو اس کے اعمال کی حفاظت پر مامور ہے ھذا ما لدی عتید یہی وہ چیز ہے جو میرے پاس تیار رکھی تھی ۔ گویا فرشتہ انسان کا اعمال نامہ پیش کر دے گا ۔ اسی اعمال نامے کے متعلق سورة بنی اسرائیل میں اللہ کا فرمان ہے وَکُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰـہُ طٰٓـئِـرَھٗ فِیْ عُنُقِہٖط وَنُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ کِتٰباً یَّلْقٰـہُ مَنْشُوْرًا (آیت : 13) ہم نے ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے اور قیامت کے دن اسے نکال کر دکھا دیں گے اور وہ اسے کھلا ہوا دیکھے گا ۔ نیز سورة کہف میں انسان کی اس وقت کی کیفیت یہ بیان کی ہے کہ اپنے اعمال نامہ کو دیکھ کر حیران ہو کر رہ جائے گا اور کہے گا ۔ مال ھذا الکتب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا ( آیت : 49) یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی کسی بات کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑی کو مگر اسے لکھ رکھا ہے ، چناچہ اس وقت انسان اپنے کسی قول و فعل کا انکار نہیں کرسکے گا ۔ ہر انسان کے ساتھ ساتھ اللہ نے اس کے دو ساتھی مقرر کر رکھے ہیں ۔ ایک فرشتہ ہے جو انسان کو نیکی کی تلقین کرتا ہے اور دو سرا شیطان ہے جو اس کو برائی کی تلقین کرتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے ان للملک لمۃ بابن آدم بیشک فرشتہ انسان کے لیے نیکی کی تلقین کرتا ہے۔ جب انسان کے دل میں نیکی کا جذبہ پیدا ہو تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اسے اللہ کی جانب سے نیکی کی تلقین کی ہے ۔ اسی طرح انسان کا دوسرا ساتھی شیطان ہے جس کے متعلق سورة الزخرف میں گزر چکا ہے وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیْطٰـنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ (آیت : 36) اور جو کوئی خدا تعالیٰ کی یاد سے آنکھیں بند کرلیتا ہے ، ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں ، جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے چناچہ یہ شیطان ہمیشہ برائی کی طرف دعوت دیتا رہتا ہے ، لہٰذا جس وقت انسان کے دل میں برائی کا خیال پیدا ہو تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ شیطان نے برائی کی طرف مائل کیا ہے۔ شیطان کی یہ تلقین ہمیشہ تکذیب حق اور شر و معصیت کے لیے ہوتی ہے جب کہ فرشتے کی تلقین حق کی تصدیق ہوتی ہے ۔ یاد رہے کہ پچھلی آیت میں جن دو فرشتوں کا ذکر ہوچکا ہے ، وہ ان ساتھیوں کے علاوہ ہیں اور ان کا کام صرف یہ ہے کہ ان میں سے ایک نیکی کے اقوال و افعال نوٹ کرتا رہتا ہے اور دوسرا برائی کی باتیں درج کرتا جاتا ہے۔ بہر حال جب انسان کا اعمال نامہ خدا کی بارگاہ میں پیش ہوگا تو اس میں درج برے اعمال کی وجہ سے حکم ہوگا القیا فی جھنم کل کفار عنید ڈال دو جہنم میں ہر ناشکرگزا ر اور عنادی کو ۔ یہاں پر القیاثنیہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے یعنی دو شخصوں کو حکم ہوگا کہ ان لوگوں کو جہنم میں ڈال دو ۔ ان دو ہستیوں سے مراد وہی دو فرشتے ہیں جن کا ذکر گزشتہ آیت میں ہوچکا ہے کہ ان میں سے ایک انسان کو ہانک کر عدالت میں لے جائے گا اور دوسرا بطور گواہ اس کا اعمال نامہ پیش کرے گا ۔ بعض فرماتے ہیں کہ القیا کا صیغہ دو کے لیے نہیں بلکہ محض تاکید کے لیے آتا ہے کہ ہر ایسے شخص کو جہنم میں ڈال دو جو ناشکرگزار اور عنادی ہے۔ سب سے بڑی ناشکر گزاری تو کفر ، شرک ، بد عقیدگی ، شرکیہ رسومات اور بد عات ہیں جن کو اختیار کرنے سے خدا تعالیٰ کے انعامات کی ناقدری ہوتی ہے انسان کو ہر چیز تو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے۔ مگر یہ انسان ہے جو اسے دوسروں کے ساتھ منسوب کر کے بد عقیدگی کا اظہار کرتا ہے ، اور پھر جب انبیاء اور مبلغین کے سمجھانے کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتا ہے تو یہی اس کی ضد اور عناد ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ ہر ناشکر گزار اور عنادی کو جہنم میں ڈال دو ۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا مناع للخیر معتد مریب کہ یہ نیکی کے کاموں سے روکنے والے ہوتے ہیں ۔ نہ خود کوئی نیکی کا کام کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں ۔ یہ لوگ معتد یعنی حد سے بڑھنے والے ہیں ۔ اللہ نے انہیں مہلت دے رکھی ہے مگر انہوں نے اسی کے خلاف علم بغاوت بلند کر رکھا ہے اس کے علاوہ یہ لوگ مریب یعنی شک میں بھی پڑے ہوئے ہیں ۔ انہیں اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام اور جزائے عمل کی منزل کا یقین نہیں آتا اور یہ عمر بھر اسی شک و تردد میں پڑے رہتے ہیں کہ یہ جنت دوزخ سب فرضی کہانیاں ہیں جب انسان مر کر مٹی میں مل جائے گا تو پھر کون اسے دوبارہ زندہ کر کے حساب کتاب لے گا ۔ فرمایا اسی شک میں مبتلا رہتے ہیں حتیٰ کہ موت آ کر ان کا کام تمام کردیتی ہے اور وہ ہمیشہ کے لیے سزا کے مستحق بن جاتے ہیں ۔ مشرک کی سزا آگے اللہ نے مشرک آدمی کی سزا کا ذکر فرمایا ہے الذی جعل مع اللہ الھا ً اخر جس شخص نے اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی معبود بنا رکھا ہے۔ ان کی عبادت کرتا ہے یا ان کو خدا کی کسی صفت میں شریک کرتا ہے اس کی نذر و نیاز دیتا ہے یا اس کو مافوق الاسباب مدد کے لیے پکارتا ہے ، اس کو مدبر اور متصرف تسلیم کرتا ہے ۔ اس کے معبود کبھی فرشتے ہوتے ہیں اور کبھی جنات ، کبھی زندہ انسان ہوتے ہیں ۔ اور کبھی اہل قبور ، بہر حال جس نے بھی اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بنا رکھا ہے فرمایا فالقیہ فی العذاب الشدید ایسے شخص کو سخت ترین عذاب میں ڈال دو ۔ فرمایا یہ شخص تو کہتا ہے کہ مرنے کے بعد کون زندہ ہوگا مگر ہم نے بتلا دیا تھا کہ ہم مٹی میں ملے ہوئے تمہارے جسم کے ذرے ذرے کو اکٹھا کر کے تمہیں دوبارہ کھڑا کرلیں گے ، ہم تو انسان کی نیت ، ارادے اور مخفی چیزوں کو بھی جانتے ہیں ، ہمیں یہ بھی علم ہے کہ انسانی جسم کا کون سا جزو کس مٹی میں ملا ہوا ہے لہٰذا ہم انہیں جمع کرنے پر بھی قادر ہیں ، چناچہ قیامت والے دن ایسا ہی ہوگا اور پھر ہر ناشکر گزار ، عنادی ، نیکی سے روکنے والے ، زیادتی کرنے والے ، متردو اور مشرک کے لیے جہنم رسیدگی کا حکم ہوجائے گا ، جس میں اسے سخت عذاب سے دو چارہو نا پڑے گا ۔ شیطان کا انکار پہلے عرض کیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ اس کا ایک شیطان ہے جو اس کو برائی کی تلقین کرتا رہتا ہے جب کسی مجرم کا اعمال نامہ پیش ہوگا اور اسے جہنم کا حکم ہوگا تو وہ شخص بارگاہ رب العزت میں عرض کرے گا ، مولا کریم ! میں اپنی گمراہی کا خود ذمہ داری نہیں ہوں بلکہ میرا یہ شیطان مجھے ہمیشہ بہکاتا رہا ، اور مجھے برائی کی تلقین کرتا رہا جس کی وجہ سے میں تیرے راستے سے ہٹ گیا ، لہٰذا آج میری بجائے اس شیطان کو سزا دی جائے جس کی وجہ سے میں اس نتیجے کو پہنچا ہو ۔ مگر قال قرینہ انسان کا شیطان ساتھی عرض کرے گا ربنا ما اطغیتہ میں نے تو اس شخص کو سر کشی میں نہیں ڈالا تھا ولکن کان فی ضلل بعید بلکہ یہ تو خود ہی گمراہی میں دور پڑا ہوا تھا۔ اس قسم کا مضمون سورة ابراہیم میں بھی موجود ہے وقال الشیطن لما قضی الامر۔۔ ( آیت : 22) جب حساب کتاب کا کام مکمل ہوجائے گا۔ تو شیطان کہے گا کہ تمہارے ساتھ خدا کا وعدہ تو سچا تھا ، اور میرا وعدہ تم سے جھوٹا تھا۔ میرا تم پر کوئی زور تو نہیں تھا۔ ہاں ! میں نے تمہیں گمراہی کی طرف بلایا تو تم نے میری بات کو بلا دلیل مان لیا لہٰذا آج مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو ، نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، اور نہ تم میری میں اس بات کا انکار کرتا ہوں کہ پہلے تم مجھے شریک بناتے تھے ۔ بیشک آج ظلم کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ اس کے بعد اللہ کا فیصلہ یہی ہوگا کہ آج گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے سب کے سب مبتلائے عذاب ہوں گے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ایک طرف اللہ کے نبی ابراہیم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) وغیرہم اور سب سے بڑھ کر نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ تھے جو لوگوں کو نیکی کی طرف دعوت دیتے رہے مگر لوگوں کو ان کی باتوں پر تو یقین نہ آیا اور شیطان نے برائی کی بات کی تو اس پر یقین کرلیا ، چناچہ اسی جرم کی پاداش میں گمراہ ہونے والے جہنم رسید ہوں گے۔ دوسری آیات میں آتا ہے کہ جب یہ لوگ اعتراض کریں گے کہ ہمیں تو ان لوگوں نے گمراہ جن کے ہم تابع تھے تو اللہ فرمائے گا کہ میں نے ہدایت کی تمام چیزیں تمہارے سامنے رکھ دی تھیں تمہیں انسان بنایا ، عقل و شعور دیا ۔ فقد جاء کم بشر و نذیرا ( المائدہ : 19) تمہارے پاس بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بھی آئے مگر تم نے شیطان کی بات کو قبول کیا ، لہٰذا تم لازماً سزا کے مستحق ہو۔ خدا تعالیٰ کا اٹل فیصلہ جب انسان اور شیطان خدا تعالیٰ کے سامنے ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں گے۔ قال لا تختصوا لدی تو اللہ فرمائے گا ، اب میرے پاس مت جھگڑا کرو وقد قدمت الیکم بالوعید میں نے تو تمہیں دنیا میں ہی وعید سنا دی تھی ۔ تمہیں ہر نیک و بد سے آگاہ کردیا تھا مگر تم نے اس وقت کچھ پرواہ نہ کی اور کفر ، شرک اور معصیت کے راستے پر چلتے رہے۔ اب تمہیں اپنی کار گزاری کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ فرمایا ، یاد رکھو ! ما یبدل القول لدی میرے ہاں بات تبدیل نہیں ہوتی یعنی میرا فیصلہ اٹل ہوتا ہے کفر اور شرک کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا ، اور جو لوگ سچے دل سے ایمان لائے ، وہ ضرور خدا کی رحمت کے مقام میں پہنچیں گے۔ اللہ نے ایک دوسری بات یہ بھی فرما دی وما انا بظلام للعبید اور نہیں ہوں میں بندوں پر زیادتی کرنیوالا ۔ مطلب یہ ہے کہ میرا ہر فیصلہ حق پر مبنی ہوتا ہے ۔ مجرموں کو سزا دے کر میں نے کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ یہ سب کچھ انہی کا کیا دھرا ہے جو ان کے سامنے آ رہا ہے ، نہ تو کسی کو ، نا کردہ گناہ کی سزا ملے گی ، اور نہ کسی کی نیکی کو ضائع کیا جائے گا بلکہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔ اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی ۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اے اولاد آدم ! یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جنہیں میں نے گن کر محفوظ رکھا ہوا ہے ، یہ سب تمہارے سامنے ہیں ، اگر ان میں کوئی نیکی پائو تو اللہ تعالیٰ کی تعریف کرو ۔ اور اس کا شکر یہ ادا کرو ، اور اگر اس میں کوئی برائی نظر آئے تو اس کے لیے اپنے آپ کو ملامت کرو ، یہ تمہاری اپنی کار گزاری ہے ، جو تم نے اپنی نیت اور ارادے سے انجام دی ۔
Ayahs 50:30–38

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

جس دن ہم دوزخ سے کہیں گے ، کیا تو بھر چکی ہے ، تو وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور قریب کردیا جائے گا جنت کو متقیوں کیلئے وہ ان سے کچھ دور نہیں ہوگی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہ وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ہر ایک رجوع رکھنے اور حفاظت کرنے والے کے لیے

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو ڈرگیا رحمان سے بغیر دیکھے ، اور لایا وہ رجوع کرنے والا دل

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

( حکم ہوگا) داخل ہو جائو اس میں سلامتی کے ساتھ ، یہ ہے دن ہمیشہ رہنے کا

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

انکے لیے ہوگا جو وہ چاہیں گے اس میں ، اور ہمارے پاس اور بھی زیادہ ہے

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور بہت سی ہلاک کیں ہم نے اس سے پہلے جماعتیں جو ان سے زیادہ گرفت والی تھیں ۔ پس وہ کرید کرنے لگے شہروں میں ، کیا ہے کہیں بھاگنے کی جگہ

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

بیشک اس میں البتہ یاددہانی ہے اس شخص کے لیے جس کے اندر دل ہے یا اس نے کان لگائے ہیں اور پورا دل لگا کر سنتا ہے

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن کے وقفے میں ، اور نہیں پہنچی ہمیں کوئی تھکاوٹ

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے قیامت کے منکرین کا رد کیا اور اس کے اثبات میں عقلی اور نفلی دلائل پیش کیے۔ پھر مختلف اقوام کا اجمالی حال اور انکو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ پھر انسان کے حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو بیان فرمایا ۔ انسانوں کے اعمال کی حفاظت اور ان کی بارگاہ الٰہی میں پیشی کا حال ذکر کیا ۔ مجرموں کے جہنم میں داخلے اور ان کی آپس میں الزا م تراشیوں کا ذکر کیا ۔ اللہ فرمائے گا میرے پاس مت جھگڑا کرو ۔ میں نے تمہیں دنیا میں ہر نیک و بد سے آگاہ کردیا تھا اور یہ بھی بتا دیا تھا کہ تمہیں اپنے عقیدے اور عمل کا بھگتان کرنا ہوگا ۔ ہل من مزید جب دوزخی اپنے اپنے ٹھکانے میں پہنچ جائیں گے تو وہاں کے حالات کو اللہ نے اس طرح بیان فرمایا ہے یوم نقول لجھنم ھل امتلات جس دن ہم جہنم سے کہیں گے ، کیا تو بھر گئی ہے ؟ و تقول ھل من مزید تو وہ کہے گی ، کچھ مزید بھی چاہئے۔ وسیع و عریض دوزخ کا پیٹ نہیں بھرا ہوگا ۔ اور وہ جوش مارتی ہوئی مطالبہ کریگی کہ اس میں کچھ مزید لوگ ڈالے جائیں ۔ بخاری ، مسند احمد اور ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ جہنم برابر یہ مطالبہ دہراتی رہے گی کیونکہ اس میں ابھی بہت سی جگہ خالی ہوگی ۔ پھر اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھیں گے تو جہنم پکار اٹھے گی ۔ قط قط بس بس ، اب میں پر ہوگئی ۔ یہ حدیث اگرچہ صحیح ہے لیکن اس عمل کو متشابہات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے قدم رکھنے کو انسان کے قدم رکھنے پر محمول نہیں کرنا چاہئے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو جسم اور جہت سے پاک ہے اور اس کا اپنا ارشاد ہے لیس کمثلہ شی (الشوریٰ : 11) اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے جس کے ساتھ اس کی مثال بیان کی جاسکے ، لہٰذا ہمیں یہی اعتقادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم دوزخ میں ڈالیں گے مگر اس کی کیفیت ہمارے ادراک سے باہر ہے ، جیسا بھی اس کی شان کے لائق ہوگا وہ اپنا قدم رکھیں گے ۔ اسی طرح اللہ کی پنڈلی ، چہرے اور عرش پر مستوی ہونے کا ذکر بھی آتا ہے مگر ہم اس کی کیفیت کو نہیں جان سکتے۔ ہمیں ان اشیاء پر ایمان ہی لانا چاہئے۔ کہ یہ بالکل درست ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی حکمت اور فلسفے کے مطابق اس کو اس طرح سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کوئی خاص قسم کی تجلی جہنم پر ڈالے گا ۔ جسے قدم رکھنے سے تعبیر کیا گیا ہے جہنم پر ہوجائے گی اور وہ مزید مطالبہ نہیں کرے گی ۔ یہ تو جہنم کا حا ل بیان کیا گیا ہے ، البتہ جنت کے بارے میں مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ جب تمام جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو کچھ جگہ پھر بھی خالی ہوگی ۔ پھر کچھ عرصہ تک توقف ہوگا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ جنت کو پر کرنے کے لیے کسی اور مخلوق کو پیدا کر کے اس میں داخل کر دے گا ۔ جنت کی قربت اس کے بعد جنت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے وازلفت الجنۃ للمتقین غیر بعید اور جنت کو متقیوں کے قریب کردیا جائے گا اور وہ ان سے کچھ دور نہیں ہوگی ۔ جنت کی قریب کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ پہلی صورت کی مثال سورة ابراہیم میں موجود ہے یوم تبدل الارض غیر الارض حساب کتاب کی منزل کے لیے یہ زمین تبدیل کردی جائے گی اور اس کی جگہ دوسری زمین قائم کی جائے گی ۔ پھر اگر کسی شخص کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی کے لیے موجودہ زمین کے کسی حصے کی ضرورت پڑے گی تو اس کو بھی حاضر کردیا جائے گا۔ اس طرح یہ زمین بھی قابل انتقال بن جائے گی ۔ اسی طرح جن متقیوں کے لیے جنت کا فیصلہ ہوگا ، جنت کو ان کے قریب کردیا جائے گا ۔ یا دوسری صورت میں یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جنتیوں کو جنت کے قریب لے جایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا ۔ ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ یہ و ہ وعدہ ہے جو ہر رجوع رکھنے والے اور حفاظت کرنے والے کے لیے کیا جاتا تھا۔ اداب کا معنی خدا تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والا یعنی نیکی کرنے والا ہے اور نیکی کے متعلق اللہ کا ارشاد ہے ان اللہ یامر بالعدل والاحسان ( النحل : 90) بیشک اللہ تعالیٰ عدل اور نیکی کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اور پھر حکم دینے کے بعد اسے یونہی نہیں چھوڑ دیتا بلکہ اس کا وعدہ ہے واللہ یحب المحسنین (آل عمران : 134) اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اسی طرح حفیظ سے مراد خدا تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرنے والا ہے۔ اللہ نے سورة توبہ میں ایمان والوں کی ایک صفت یہ بھی بیان کی ہے والحفظون لحدود اللہ ( آیت : 112) کہ اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں ، یعنی تمام فرائض و واجبات کو ادا کرتے ہیں ، پاکیزہ اخلاق اور صحیح عقیدہ رکھتے ہیں ۔ کفر ، شرک اور معصیت سے بچتے ہیں ۔ عدل و انصاف کی منزل کو طے کرتے ہیں ، شیخ عبد القادر جیلانی (رح) نے تقویٰ یعنی حدود اللہ کی حفاظت کی تعریف غنیۃ الطالبین میں یہی بیان کی ہے کہ متی وہی شخص ہوگا جو عدل و انصاف پر قائم ہوگا ۔ غرضیکہ جنت ہر رجوع کرنے والے اور حفاظت کرنے والے شخص کے قریب کردی جائے گی ۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ جنت اس شخص کے بھی قریب کردی جائے گی ۔ من خشی الرحمن بالغیب جو بغیر دیکھے اللہ تعالیٰ سے ڈر گیا ۔ اس نے کتاب الٰہی کو پڑھا ، اللہ کے احکام پر غور و فکر کیا ۔ اپنی فطرت سلیمہ اور عقل کو بروئے کار لایا ، خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو سچا سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوگیا ، تو وہ گویا بن دیکھے خدائے رحمان کے عذاب سے ڈر گیا اور اس نے نیکی کا راستہ اختیار کرلیا ۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی تعریف ہی یہ بیان کی ہے ویومنون بالغیب کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں ۔ انہوں نے نہ خدا کو دیکھا ہے ، نہ نزول وحی کا مشاہدہ کیا ہے انہوں نے جنت اور دوزخ کو بھی نہیں دیکھا اور نہ ہی انہیں فرشتے نظر آئے ہیں وہ ان تمام چیزوں پر اللہ کی کتاب پڑھ کر ، نبی کے بتلانے پر اور اہل حق کی تبلیغ کی وجہ سے ایمان لائے ہیں اور یہی بن دیکھے ایمان ہے اور ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا کہ جنت ان کے قریب کردی جائے گی ، نیز فرمایا کہ جنت اس شخص کے بھی قریب کردی جائیگی وجاء یقلب منیب جو اللہ کی طرف رجوع رکھنے والادل لے کر حاضر ہوا ۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والا وہی شخص ہوگا جو بغیر دیکھے اس پر ایمان لے آیا اور پھر اس کے احکام کی خلاف ورزی سے ڈرتا رہا اور نیکی کی طرف راغب رہا ۔ جنت میں داخلہ بہر حال جنت مذکورہ لوگوں کے قریب کردی جائیگی تو ان کو حکم ہوگا ۔ ادخلوھا بسم اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جائو ۔ یہاں تمہیں ہر قسم کی سلامتی اور امن نصیب ہوگا ۔ ذلک یوم الخلود یہ ہمیشگی کا دن ہے اب تم اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو گے اور یہاں سے نکالے نہیں جائو گے۔ شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ اس دن ملنے والی نعمتیں دائمی ہوں گی اس سے پہلے تو کسی بات پر ٹھہرائو نہیں تھا یعنی انسان کو ملنے والی مراعات میں کمی بیشی ہوتی رہتی تھی مگر جنت میں پہنچ جانے کے بعد وہاں کی نعمتوں مثلاً صحت ، شباب اور ہر قسم کی دیگر نعمتوں میں کبھی کمی نہیں آئے گی۔ فرمایا لھم ما یشاء ون فیھا اس جنت میں وہ جو چاہیں گے انہیں حاصل ہوگا۔ وہاں ان کی من مانی مرادیں پوری ہوں گی ۔ ولدینا مزید اور ہمارے پاس ان کے لیے مزید بھی ہے ، یعنی ان کی اپنی خواہشات کے علاوہ خود اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے بھی ان کو عطا فرمائے گا ۔ مزید سے ایک تو یہ مراد ہو سکتی ہے کہ وہاں ہر چیز باافراط ہوگی اور اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی ۔ اور بعض اس کو سورة یونس کی آیت 26 کے تناظر میں دیکھتے ہیں جہاں فرمایا للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ کہ جن لوگوں نے دنیا میں رہ کر نیکی کے کام انجام دیے انہیں ان کی نیکی کا پورا پورا بدلہ ملنے کے علاوہ کچھ مزید ملے گا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ فرمائے گا اے جنتیو ! میں نے تمہیں تمام نعمتیں عطا کردی ہیں ، کیا کچھ مزید بھی دوں ؟ جنتی حیران ہو کر عرض کریں گے ، پروردگار ! تو نے ہمیں تمام نعمتوں سے نوازا ہے۔ اب مزید کیا ہو سکتا ہے ؟ اس وقت اللہ تعالیٰ حجاب اٹھا کر اپنی تجلیات سے دیدار نصیب فرمائیں گے ، یہی زیادتی ہوگی جو تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہوگی ، جو سرور اہل جنت کو دیدار الٰہی سے حاصل ہوگا ۔ وہ کسی دوسری نعمت میں نہیں ہوگا بہر حال خدا تعالیٰ کا یہ دیدار عام ایمان والوں کو ہفتہ میں ایک دن نصیب ہوگا اور مقربین الٰہی صبح شام اس نعمت سے مستفید ہوں گے۔ منکرین کے لیے تنبیہ آگے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے منکرین کو تنبیہ فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وکم اھلکنا قبلھم من قرن ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کیا ھم اشد منھم بطشا ً جو ان مکہ والوں سے زیادہ گرفت والے تھے پہلی قومیں مالی اور جسمانی ہر دو لحاظ سے عربوں پر فوقیت رکھتی تھیں ۔ سورة سبا میں اللہ نے فرمایا وما بلغوا معشار ماتینھم ( آیت : 45) ان مکہ والوں کو تو ہم نے ان کا عشر عشیر بھی عطا نہیں کیا ۔ جب وہ ہماری گرفت سے نہ بچ سکے تو ان کی کیا حیثیت ہے جو یہ اتنا غرور وتکبر کر رہے ہیں ۔ ان اقوام سے عاد ، ثمو د ، فرعونی ، کلدانی اور آشوری وغیرہ مراد ہیں جن کو اللہ نے بہت کچھ دیا ۔ مگر وہ نافرمانی کی پاداش میں صفحہ ہستی سے نابو د کردیئے گئے ۔ فرمایا ان کی حالت یہ تھی فنقبوا فی البلاد کہ وہ شہروں کو کریدنے لگے تھے یعنی مختلف شہروں میں وہ خوب عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ نقب سے مراد سفر کرنا ہے یعنی وہ دنیاوی مفاد کے لیے دور و نزدیک سفر کرتے تھے ۔ آج کل تو سفر کی تیز ترین سواریاں میسر ہیں اور لوگ خوب سفر کرتے ہیں مگر اس زمانے میں بھی وسائل کے مطابق یہ لوگ بڑے بڑے تجارتی اور سیاحتی سفر کرتے تھے مگر جب ہماری گرفت آئی تو فرمایا ھل من محیص کیا تھی ان کے لیے کوئی جائے پناہ مطلب یہ کہ جب ان پر مصیبت آئی تو پھر کوئی ان کو بچانے والا نہیں تھا اور وہ سب ہلاک ہوگئے۔ غور و فکر کا مقام اس سورة مبارکہ میں بیان کردہ تمام باتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب بیشک اس میں یاددہانی یعنی غور و فکر کا مقام ہے اس شخص کے لیے جس کے سینے میں دل ہے۔ قلب کا اطلاق عقل پر بھی ہوتا ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ قلب اور عقل مشترک چیزیں ہیں ۔ اور اس میں دماغ بھی شامل ہوتا ہے۔ اللہ نے سوچ اور غور و فکر کا مادہ دماغ میں رکھا ہے اور عمل کا مادہ قلب کے ساتھ وابستہ ہے اور اس طرح یہ دونوں آپس میں ملے جلے ہیں نہ تو عقل یا دماغ بغیر قلب کے چل سکتا ہے اور نہ قلب بغیر عقل کے کام کرسکتا ہے تمام جذبات محبت و نفرت اور عقیدہ و عزم کا تعلق قلب کے ساتھ ہے کیونکہ یہ مرکز اخلاق ہے۔ اگر قلب بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے اور اگر قلب درست ہو تو سارا جسم درست رہتا ہے ۔ بہر حال فرمایا کہ یہ نصیحت ہے مگر اس شخص کے لیے جو دل و دماغ کو بروئے کار لا کر صحیح سوچتا ہے۔ فرمایا کہ قرآن پاک یا اس شخص کے لیے نصیحت ہے او القی السمع وھو شھید جو کان لگا کر اور دل کو حاضر کر کے بات کو سنتا ہے۔ بات کو سمجھنے کے لیے پہلے ………دو ہی طریقے ہیں ، یا تو انسان دوسرے کی بات کو غور سے سنے یا پھر عقل کو بروئے کار لاکر بات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور جب کوئی چیز اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے تو پھر اس کے مطابق عمل بھی کرے۔ جو شخص نہ تو دل و جان سے بات پر غور و فکر کرتا ہے اور نہ کسی بات کو کان لگا کر سنتا ہے ، اس کے لیے وبال جان کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ تھکاوٹ سے پاک ہے۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق کا ذکر کر کے اپنی قدرت کا اظہار فرمایا ولقد خلقنا السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام اور البتہ تحقیق ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن کے وقفے میں پیدا کیا ۔ اس تخلیق کا ذکر قرآن پاک میں بہت سی جگہوں پر آیا ہے ، مگر اللہ نے یہاں پر جن چھ دنوں کا ذکر فرمایا ہے اس سے چوبیس گھنٹے کا یہ دن مراد نہیں جو نظام شمسی کا پیدا کردہ ہے ، بلکہ اللہ کے دن کی مقدار کے متعلق سورة الم السجدۃ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے ہر کام کی تدبیر کرتا ہے ، پھر وہ اس کی طرف صعود کرے گا ۔ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون ایک روز جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار برس ہوگی ۔ اسی طرح سورة المعارج میں ارشاد فرمایا کہ کافروں پر مطلوبہ عذاب آنے والا ہے جس کی طرف فرشتے اور جبرئیل امین عروج کریں گے فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ ( آیت : 4) ایک دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے ۔ حدیث شریف میں بھی آتا ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا ۔ چھ دن سے کتنا عرصہ مراد ہوگا ۔ جس میں اللہ نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزوں کو پیدا فرمایا ۔ وہ تو تمام کائنات کو آنا ً فانا ً پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ لیکن کسی مصلحت کی خاطر اس نے چھ دن کے وقفہ میں کائنات کو تخلیق کیا ۔ بہر حال فرمایا کہ ہم نے انہیں چھ دن میں پیدا فرمایا وما مسنا من لغوب مگر ہمیں ایسا کرنے کی وجہ سے کوئی تھکاوت محسوس نہیں ہوئی ، کوئی کام کر کے تھک جانا تو مخلوق کا خاصہ ہے ۔ انسان ہو یا جانور کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد آرام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ جب آدمی سو جاتا ہے تو اس کے قوی پھر سے بحال ہو کر دوبارہ کام کاج کے قابل ہوجاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو ان چیزوں سے پاک ہے۔ اس کا واضح فرمان ہے لا تاخذہ سنۃ ولا نوم ( البقرہ : 255) اسے تو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ ہی نیند ، لہٰذا اس کے تھک جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس ضمن میں بائیبل کی روایت ناقابل قبول ہے کہ اللہ نے آسمان اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر ساتویں دن آرام کیا ۔ خدا تعالیٰ کے بارے میں یہ غلط تصور ہے۔ خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے ، وہ قوت کا سر چشمہ ہے ، لہٰذا اسے تھکاوٹ ہونے یا اس کو آرام کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہاں کوئی تھکاوٹ ، کوئی نیند اور کوئی اونگھ نہیں ، وہ ضعف اور عجز سے پاک ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ کا یہی فرمان بر حق ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کی چیزوں کو چھ دن کے وقفہ میں پیدا کرنے کے بعد اسے تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی۔
Ayahs 50:39–45

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

پس آپ صبر کریں ( اے پیغمبر ! ) ان باتوں پر جو یہ لوگ کہتے ہیں ، اور آپ تسبیح بیان کریں اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ سورج کے طلوع سے پہلے اور غروب سے پہلے

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور کچھ رات کے وقت ، آپ اس کی تسبیح بیان کریں اور سجدوں کے پیچھے بھی

وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 50:41 in the Quran reader

اور کان لگا کر سنیں جس دن پکارے گا پکارنے والا قریب سے

یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ Open ayah 50:42 in the Quran reader

جس دن سنیں گے یہ لوگ چیخ کو صحیح طریقے پر ، یہ ہوگا دن نکلنے کا

اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ Open ayah 50:43 in the Quran reader

بیشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں ، اور ہم ہی موت طاری کرتے ہیں ، اور ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ Open ayah 50:44 in the Quran reader

جس دن شق ہوجائے گی زمین ان سے وہ دوڑتے ہوئے اس سے باہر آئیں گے ، یہ اکٹھا کرنا ہم پر آسان ہے

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ Open ayah 50:45 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہیں ان باتوں کو جو یہ لوگ کہتے ہیں ، اور نہیں آپ ان پر کوئی جبار ، پس آپ نصیحت کریں قرآن کے ساتھ اس شخص کو جو خوف کھاتا ہے میری وعید سے

ربط آیات اللہ نے اس سورة مبارکہ میں وقوع قیامت کے بعض دلائل بیان کیے اور اس کے منکرین کا رد کیا ۔ پھر قیامت کی مختلف کیفیات اور مجرموں کا انجام ذکر کیا ۔ بعض سابقہ اقوام کی نافرمانی اور ان کی ہلاکت کا تذکر ہ کیا ۔ پھر ارض و سماء کی تخلیق اور خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ اور اس کی بےنیازی کا بیان ہوا ۔ اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ذکر کیا ہے۔ کفار و مشرکین اہل ایمان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے تھے اور ان کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے ۔ مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی تکالیف پہنچاتے تھے اس کے علاوہ یہود و نصاریٰ اور منافقین کی ریشہ دوانیاں بھی اپنے عروج پر تھیں تو اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو صبر و استقامت کی تلقین فرمائی اور تسبیح و تمحید بیان کرنے کا حکم دیا ۔ ساتھ ساتھ بعث بعد الموت کا بھی کچھ حال بیان فرمایا ہے۔ صبر کی تلقین ارشاد ہوتا ہے فاصبرعلی ما یقولون پس آپ صبر کریں ان باتوں پر جو یہ لوگ کہتے ہیں ۔ ان لوگوں کی طرف سے توحید و رسالت ، وقوع قیامت اور بعثت بعد الموت کے انکار سے آپ دل برداشتہ نہ ہوں اور صبر و استقامت کا دامن تھامے رکھیں کیونکہ ایک قوت آنے والا ہے جب آپ کی تمام تکالیف دور ہوجائیں گی اور آپ ان پر غالب آجائیں گے۔ مکی زندگی میں نبوت کے پانچ سات سال گزر چکے تھے جب یہ سورة مبارک نازل ہوئی ۔ مشرکین مکہ حضور ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کو ظلم و جور کا نشانہ بنا رہے تھے۔ ان حالات میں اہل ایمان کا دل برداشتہ ہوجانا فطری امر تھا مگر اللہ تعالیٰ نے صبر کی تلقین کی صبر بہت بڑی حقیقت ہے۔ دین ابراہیمی اور ہمارے دین کا بھی یہ ایک اہم اصول ہے۔ دیگر بڑے بڑے اصولوں میں خدا کی وحدانیت پر ایمان ، اللہ کا ذکر اس کا شکر ، شعائر اللہ کی تعظیم اور نماز وغیرہ شامل ہیں ۔ صبر مختلف مواقع پر کیا جاتا ہے مثلاً صبر کے بغیر خدا تعالیٰ کی اطاعت بھی نہیں ہو سکتی ۔ نظم و نسق کے قیام کے لیے صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے جذبات پر قابو پانے کے لیے صبر لازم ہے مشکلات اور مصائب کی آمد پر جزع فزع کے بجائے صبر کرنا ضروری ہے ۔ تمام تکالیف پر صبر کے ذریعے ہی قابو پایا جاسکتا ہے۔ سورة البقرہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہییٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِط اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (آیت : 153) اے ایمان والو ! صبر اور نماز کے ساتھ مدد لو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ نماز اور تسبیح و تحمید صبر کے بعد اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی ہے وسبح بحمد ربک آپ اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کریں تعریف کے ساتھ قبل طلوع الشمس و قبل الغروب طلوع شمس سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے اس سے مراد فجر اور عصر کی نمازیں ہیں جن کو بڑی اہمیت حاصل ہے ابتداء میں یہ دو نمازیں ہی فرض تھیں ۔ بعد میں معراج کے موقع پر پانچ نمازیں فرض ہوگئیں ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ فجر اور عصر کی نمازیں ضرور ادا کیا کرو کیونکہ ان نمازوں کی ادائیگی سے دیدار الٰہی نصیب ہونے کی بڑی امید ہے ۔ ومن الیل فسجد اور رات تہجد کے وقت بھی آپ اس کی تسبیح بیان کریں وادبار السجود اور سجدوں کے پیچھے بھی۔ نماز میں چونکہ تسبیح و تمحید دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں ، اس لیے مفسرین نے ان اوقات سے مختلف نمازیں ہی مراد لی ہیں ۔ تسبیح سے متعلق مفسرین کے دو اقوال ہیں ۔ یا تو اس سے نماز کے بعد کی جانے والی تسبیحات مراد ہیں جیسے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ کا ورد کیا کرو۔ یا پھر اس سے نوافل مراد ہو سکتے ہیں جو فرائض کے بعد عام طور پر ادا کیے جاتے ہیں ۔ بہرحال اللہ نے پریشانی کے حل کیلئے دو چیزیں بتلائی ہیں ، ایک صبر اور دوسری تسبیح و تمحید ، اس سلسلے میں حضور ﷺ کی مسنون دعا بھی ہے اللھم انی اسئلک من الیقین ما تھون بہ علینا مصائب الدنیا اے اللہ میں یقین میں سے اتنا حصہ مانگتا ہوں جس کی وجہ سے تو دنیا کی مصیبتوں کو کم کر دے۔ خدا تعالیٰ کی ذات وصفات پر جس قد ر یقین پختہ ہوگا ۔ اسی قدر اس بندے کا تعلق اللہ کے ساتھ درست ہوگا اور اسے مصائب کم نظر آئیں گے۔ جن لوگوں کا تعلق باللہ درست نہیں ہوتا وہ تکلیف پر جزع و فزع ہی کرتے رہتے ہیں ۔ وقوع قیامت اور حشر ونشر آگے اللہ نے قیامت کا کچھ حال بیان فرمایا ہے واستمع خوب کا ن لگا کر سنیں اور یہ بات دوسروں کو بھی بتلا دیں ۔ یوم یناد المناد من مکان قریب جس دن پکارنے والا پکارے گا قریب جگہ سے ، یہ وقوع قیامت کا ذکر ہو رہا ہے۔ قیامت کا آغاز پہلے صور پھونکنے سے ہوگا جب کہ ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ جیسے اللہ کا فرمان ہے کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ (الرحمن : 26 ، 27) ہر چیز ختم ہوجائے گی اور صرف تیرے پروردگار کی ذات ہی باقی رہیگی جو جلال اور بزرگی والی ہے۔ پہلے صور کے بعد کچھ وقفہ ہوگا اور پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا اس پر تمام لوگ اپنی قبروں سے یا جہاں کہیں بھی ہوں گے وہاں سے باہر نکل آئیں گے ۔ ہر شخص ایک بلانے والے کی آواز کو سنے گا جو اسے قریب سے آتی ہوئی محسوس ہوگی۔ حکم ہوگا ، اکٹھے ہو جائو ، نکل آئو ۔ یہ تمہارے پروردگار کا حکم ہے ، چناچہ سب لوگ زندہ ہو کر اس آواز کی طرف چل پڑیں گے۔ الغرض ! اللہ نے فرمایا یہ وہ دن ہوگا ۔ یوم یسمعون الصیحۃ بالحق جس دن یہ لوگ ایک چیخ کو صحیح طریقے سے سنیں گے۔ ذلک یوم الخروج اور قبروں سے نکلنے کا یہی دن ہوگا ۔ پھر سب لوگ حشر کے میدان میں جمع ہوں گے اور حساب کتاب کی منزل آئے گی ۔ فرمایا ، یاد رکھو ! انا نحن نحی ونمیت بیشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں والینا المصیر اور سب نے ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔ فرمایا اس دن کی بات ہے ۔ یوم تشتق الارض عنھم سراعا ً جس دن زمین پھٹ جائے گی اور جلدی سے یہ دوڑتے ہوئے اس سے باہر آئیں گے ۔ یعنی جب قبریں پھٹ جائیں گی تو لوگ وہاں سے نکل کر دوڑتے ہوئے آنے والی آواز کی طرف چلیں گے۔ سورة المعارج میں فرمایا یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّہُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ (آیت : 43) جس دن یہ لوگ اپنی قبروں سے جلدی سے نکلیں گے جیسے تیر اپنے نشانے کی طرف جاتا ہے ، اسی طرح سب لوگ حشر کے میدان میں جمع ہوجائیں گے۔ اللہ نے فرمایا ذلک حشر علینا یسیر اس طرح انسانوں کا دوبارہ اکٹھا کرلینا ہمارے لیے بالکل آسان ہے پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ نے فرمایا ، ہم جانتے ہیں کہ انسانی جسم کا کون سا حصہ زمین کے کس حصے میں موجود ہے ، ہم وہاں سے ذرے ذرے کو اکٹھا کر کے انسانی صورت میں دوبارہ کھڑا کردیں گے ، اور ایسا کرنا ہمارے لیے کچھ دشوار نہیں اس کے بعد حساب کتاب ہوگا اور پھر جزا یا سزا کے فیصلے ہوں گے۔ قیامت والے دن زمین کے پھٹنے سے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے انا اول من تنشق الارض عنہ کہ اس دن سب سے پہلے میری قبر کی زمین پھٹے گی اور میں اپنی قبر سے نکلوں گا ۔ اور پھر اسی وقت اکسی حلۃ من الجنۃ مجھے جنت کا لباس پہنا دیا جائے گا ۔ جب کہ باق تمام لوگ برہنہ ہونگے پھر جب حشر کے میدان میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے تو سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنچایا جائے گا ۔ تسلی کا مضمون آگے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا نحن اعلم بما یقولون یہ کافر اور مشرک جو باتیں کرتے ہیں ہم انہیں خوب جانتے ہیں ۔ ہم ان کے اقوال و افعال اور ان کے ارادے اور نیک سے بھی واقف ہیں آپ کی ہمیشہ یہی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح یہ لوگ ایمان لے آئیں ، مگر یاد رکھیں وما انت علیھم بجبار آپ ان پر کوئی جبار یا درواغہ تو نہیں ہیں کہ ان کو زبردستی منوا لیں گے ۔ آپ کا کام تو پیغام حق پہنچا دینا ہے۔ جیسے فرمایا فانما علیک البلغ وعلینا الحساب ( الرعد : 40) بیشک احکام کو پہنچا دینا آپ کا کام ہے اور پھر حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔ قیامت کو آپ سے نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لائے بلکہ یہ تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ایمان کو کیوں قبول نہ کیا ۔ اللہ نے یہ فیصلہ کن بات فرما دی ہے۔ لا اکراہ فی الدین ( البقرہ : 256) دین میں جبر نہیں ہے کہ کسی کو زبردستی اسلا م میں داخل کرلیا جائے۔ یہ تو شرح صدر کا معاملہ ہے ، اگر کسی کی سمجھ میں دین کی حقانیت آجاتی ہے تو وہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کرلے گا ، ورنہ کسی پر جبر نہیں ہوگا ۔ سورة یونس میں اللہ نے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مومنین ( آیت : 99) کیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کریں گے ؟ نہیں آپ کا یہ کام نہیں ہے۔ آپ نصیحت کردیں ، اللہ کا پیغام پہنچا دیں ، اگر کوئی قبول کرلیتا ہے تو اس کا اپنا فائدہ ہوگا ، اور اگر نہیں کرتا تو پھر آنا تو میرے پاس ہی ہے میں خود اس سے نپٹ لوں گا ۔ لہٰذا آپ کا فرض یہ ہے فذکربالقران آپ قرآن کے ذریعے لوگوں کو نصیحت کردیں ، خدا کا قرآن پڑھ کر سنا دیں اور فیصلہ ان کی صوابدید پر چھوڑ دیں کیونکہ وہ اپنے نفع نقصان کے خود ذمہ دار ہیں۔ البتہ بات یہ ہے کہ نصیحت وہی شخص پکڑے گا من یخاف وعید جو میری وعید سے خوف کھاتا ہے۔ جو شخص اس بات سے ڈر گیا کہ اللہ تعالیٰ کفر اور شرک کرنیوالوں کو معاف نہیں کرے گا ۔ اس کے لیے آپ کی نصیحت ضرور کارگر ہوگی اور وہ ایمان قبول کرلے گا ۔ اور جس میں یہ خوف ہی نہیں ہوگا ، وہ آپ کی بات سے متاثر نہیں ہوگا ۔ آپ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیں ، بہر حال فرمایا کہ آپ کا فریضہ یہ ہے کہ آپ نصیحت کردیں اور اللہ کے احکام کی یاددہانی کرا دیں ، پھر خوف خدا رکھنے والا شخص ایمان کو قبول کرلے گا انبیاء کے علاوہ جو شخص حضور ﷺ کی نیابت کا فریضہ انجام دے رہا ہے ۔ وعظ و تبلیغ کا کام کر رہا ہے دین کی دعوت پیش کر رہا ہے ، اس کا بھی یہی فرض ہے کہ وہ قرآن کے ذریعے لوگوں کو نصیحت کرتا رہے اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پہنچاتا رہے۔ اس کا فرض ادا ہوجائے گا ، آگے ماننا یا نہ مانا مخاطبین کا کام ہے ، وہ اپنے کردار کے خود ذمہ دار ہیں ، فرمایا آپ دشمنوں کی شرارتوں کے مقابلے میں صبر سے کام لیں ، خدا تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کریں اور نماز او دیگر عبادات میں مصروف رہیں اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہوگا ۔