51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsمعالم العرفان

Ayah 51:1

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ Open ayah 51:1 in the Quran reader

قسم ہے ہوائوں کی جو بکھیرتی ہیں اڑ ا کر

Ayah 51:2

فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ Open ayah 51:2 in the Quran reader

پس اٹھانے والی بوجھ کو

Ayah 51:3

فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ Open ayah 51:3 in the Quran reader

پس چلنے والی نرمی سے

Ayah 51:4

فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ Open ayah 51:4 in the Quran reader

پھر تقسیم کرنے والی حکم سے

Ayah 51:5

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ Open ayah 51:5 in the Quran reader

بیشک تم سے جو وعدہ کیا جاتا ہے ، البتہ وہ سچا ہے

Ayah 51:6

وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ Open ayah 51:6 in the Quran reader

اور بیشک جزائے عمل البتہ ضرور واقع ہونے والی ہے

Ayahs 51:7–18

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ Open ayah 51:7 in the Quran reader

قسم ہے جالی دار آسمان کی

اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ Open ayah 51:8 in the Quran reader

بیشک تم نے البتہ ایک مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ Open ayah 51:9 in the Quran reader

اس سے باز رکھا جاتا ہے وہ جو پھیر دیا گیا

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ Open ayah 51:10 in the Quran reader

ہلاک کیے گئے اٹکل دوڑانے والے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ Open ayah 51:11 in the Quran reader

وہ جو غفلت میں بھول رہے ہیں

یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 51:12 in the Quran reader

پوچھتے ہیں کب ہوگا انصاف کا دن

یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ Open ayah 51:13 in the Quran reader

جس دن کہ وہ آگ پر گرم کیے جائیں گے

ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 51:14 in the Quran reader

(اور کہا جائیگا) چکھو اپنی شرارت کا مزا ۔ یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں تم جلدی کرتے تھے

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 51:15 in the Quran reader

بیشک متقی لوگ جنتیوں میں ہوں گے اور چشموں میں

اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ Open ayah 51:16 in the Quran reader

لینے والے ہوں گے جو کچھ دے گا ان کو ان کا پروردگار ، اور بیشک تھے وہ اس سے پہلے نیکی کے کام کرنے والے

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ Open ayah 51:17 in the Quran reader

وہ رات کو تھوڑا سوتے تھے

وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 51:18 in the Quran reader

اور سحریوں کے وقت وہ اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے تھے

جالی دار آسمان سورۃ کے ابتداء چار جملوں میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کا ذکر کیا ۔ اور ان سے وقوع قیامت اور جزائے عمل پر دلیل قائم کی۔ اب اسی سلسلے میں آسمان کا ذکر فرمایا ۔ والسماء ذات الحبک قسم ہے جالی دار آسمان کی ۔ حبک کے کئی معنی آتے ہیں ، مثلاً مضبوط کردینا ، گروہ لگانا ، جوڑ دینا اور جالی دار ہونا جس میں تارتا نظر آئیں۔ رات کے وقت چونکہ آسمان بالکل صاف نظر نہیں آتا بلکہ ستاروں کی موجودگی کی وجہ سے جالی دار نظر آتا ہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ستاروں کا جال بچھا ہوا ہے ، لہٰذ اس کا معنی خوبصورت اور ستاروں سے پر رونق آسمان کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جالیوں سے وہ کہکشاں مراد ہیں جو باریک باریک ستاروں کے ملنے سے سڑک سی بنی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور بعض فرماتے ہیں کہ اس مقام پر جالی دار آسمان سے مراد بادل ہیں ۔ سردی کے موسم میں جب بادل چھا جاتے ہیں اور اگر ان میں کچھ سرخی بھی ہو تو وہ جالی دار معلوم ہوتے ہیں ۔ چونکہ سما کا اطلاق چھت اور بادل پر بھی ہوتا ہے ، اس لیے بعض نے یہ مراد لیا ہے۔ بہر حال حبک کا مصداق یہ تینوں چیزیں بن سکتی ہیں یعنی بارونق ستارے ، کہکشاں یاد بادل ، ان ساری چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا پتہ چلتا ہے جس سے اللہ کی وحدانیت سمجھ میں آتی ہے ، بشرطیکہ انسان اس میں غور و فکر کرے ۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جس طرح دن کے بعد اچانک رات آجاتی ہے اور ستاروں سے مزین جالی دار آسمان نظر آنے لگتا ہے۔ اسی طرح قیامت بھی اچانک ہی آجائے گی ۔ جیسا کہ سورة الاعراف میں اللہ کا فرمان ہے لا تاتیکم الا نعتہ ( آیت : 187) کہ یہ تو اچانک ہی وارد ہو جائیگی جبکہ کسی کو اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوگا ۔ وقوع قیامت میں اختلافت آگے اسی ضمن میں فرمایا انکم لفی قول مختلف بیشک تم ایک مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو ۔ اس اختلاف سے مراد بھی قیامت کا اختلاف ہے جس کے وقوع کے متعلق لوگوں میں اختلاف پایا جاتا تھا ۔ اس بات کی وضاحت اللہ نے سورة النبا کے آغاز میں بھی کردی ہے عم یتساء لون عن النباء العظیم الذی ھم فیہ مختلفون یہ لوگ کس چیز کے متعلق پوچھتے ہیں کسی بڑی خبر کے متعلق ، جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ؟ اگلی سورة میں پیغمبر (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت سے متعلق بھی مختلف باتوں کا ذکر آ رہا ہے ۔ حضور ﷺ کو کوئی شاعر کہتا ، کوئی کاہن ، کوئی جادوگر اور کوئی دیوانہ ، لہٰذا یہ اختلاف وقوع قیامت اور جزائے عمل کے متعلق بھی ہو سکتا ہے اور نبوت و رسالت کے متعلق بھی ۔ تو فرمایا کہ تم ایک مختلف بات میں پڑے ہوئے ہو یوفک عنہ من افک جزائے عمل یا رسالت پر ایمان لانے سے وہ شخص باز رکھا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ۔ یعنی جس کی عقل ہی ٹھکانے نہیں ہے ان حقائق سے وہی شخص انکار کرے گا جو بصیرت اور فہم سے خالی ہے ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اسکی حکمت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، وہ کبھی ان چیزوں کا انکار نہیں کرسکتا ۔ پھر فرمایا قتل الخراصون تباہ بربادہونے ، اٹکل چلانے والے ، دین اور اس کے قطعی اصولوں میں اٹکل پچو باتیں کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں تو تصدیق کرنے اور ایمان لانے کا حکم ہے ، جنہوں نے محض گمان اور اٹکل سے بات کی وہ ہمیشہ ہلاک ہوئے۔ اور یہ وہی لوگ ہیں الذین ھم فی غمرۃ ساھون جو غفلت میں بھولے ہوئے ہیں ، دنیا کے مزے اڑا رہے ہیں ، مگر جزائے عمل کے معاملے میں بالکل غفلت کا شکار ہوچکے ہیں ۔ اللہ نے سورة الانبیاء کے آغاز میں فرمایا ہے اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون لوگوں کے حساب کا وقت تو قریب آ چکا ہے ، مگر یہ لوگ غفلت میں مبتلا اس سے منہ پھیر رہے ہیں ۔ ہر شخص کی زندگی تو محدود ہے ، مگر اسے اس کی اگلی زندگی کا کچھ خیال ہی نہیں آ رہا ہے کہ اس کے لیے کیا تیاری کرنا ہے ؟ فرمایا اس معاملہ میں لوگوں کی بےحسی ملاحظہ فرمائیں یسئلون ایان یوم الذین تمسخر کی بناء پر پوچھتے ہیں کہ انصاف کا دن کب آئے گا ! کہتے ہیں کہ قیامت برپا ہوگی ۔ پھر سب لوگ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ حساب کتاب کی منزل پیش آئے گی اور پھر جزائے عمل کے فیصلے ہوں گے۔ بھلا بتلائو تو وہ وقت کب آئے گا ۔ سورة الملک میں اللہ نے منکرین کی یہی بات اس طرح نقل کی ہے یقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین ( آیت : 25) اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو بتلائو وہ وعدہ کب پورا ہوگا ۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ انصاف کا دن وہ ہوگا یوم ھم علی النار یفتنون جس دن یہ لوگ آپ پر تپائے جائیں گے۔ فتنہ کا لغوی معنی آزمائش اور ابتلا ہوتا ہے ، تا ہم یہاں مراد یہ ہے کہ جس طرح سونے کو کٹھالی میں ڈال کر پگھلا یا جاتا ہے اسی طرح ان ناہنجاروں کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا اور پھر ان سے کہا جائے گا ۔ ذوقوا فتنتکم آج اپنی شرارت کا مزا چکھو ۔ تم دنیا میں کہتے تھے کہ جس عذاب کی وعید سناتے ہو وہ آ کیوں نہیں جاتا ۔ تو یہ دیکھ لو ھذا الذی کنتم بہ تستجعلون یہی وہ سزا ہے جس کے متعلق تم جلدی کیا کرتے تھے ۔ اگلی سورة میں آرہا ہے کہ ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ اپنے عقائد کے بدلے میں جہنم میں داخل ہو جائوفَاصْبِرُوْٓا اَوْلَا تَصْبِرُُوْاج سََوَآئٌ عَلَیْکُمْ (الطور : 16) اب صبر کرو بےصبری کا اظہار کرو ، تمہارے لیے برابر ہے ، آج تمہیں تمہاری کارکردگی کا بدلہ مل رہا ہے ، بہر حال اس سارے مضمون سے باور یہ کرانا مقصود ہے کہ وقوع قیامت اور جزائے عمل بر حق ہے اور ایسا ضروری ہو کر رہے گا ، اس معاملہ میں غور و فکر کی آج ضرورت ہے ، وگرنہ جب پانی سر سے گزر گیا تو پھر پچھتانا کچھ کام نہیں آسکے گا ۔ متقین کے لیے انعامات اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ ترہیب کے ساتھ ترغیب کا ذکر بھی اکثر آتا ہے ، چناچہ منکرین کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں اور ان کو ملنے والے بعض انعامات کا ذکر بھی کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ان المتقین فی جنت وعیون بیشک متقی لوگ جنتیوں اور چشموں میں ہوں گے۔ نبی ادی طور پر متقی وہ شخص ہوتا ہے جو کفر ، شرک ، نفاق ، ارتداد اور معصیت سے بچتا ہو ۔ حدود شرع کا خیال رکھتا ہو اور اس کے دل میں خوف خدا جا گزیں ہو۔ ایسے لوگ اللہ کی رحمت کے مقام جنت میں داخل ہوں گے جہاں انہیں ہر قسم کی نعمتیں میسر ہوں گی ، آرام و آسائش کی تمام سہولتیں حاصل ہوں گی ، خوبصورت اور دل خوش کن باغات ہوں گے جن میں پانی کی نہریں اور چشمے بہتے ہوں گے اخذین ما اتھم ربھم وہ ہر چیز اور نعمت کو حاصل کرنے والے ہوں گے جو ان کو ان کا پروردگار عطا کرے گا ۔ وہ لوگ خدا کی عطا کردہ نعمتوں کو خوشی سے قبول کریں گے کیونکہ انھم کانوا قبل ذلک محسنین اس سے پہلے دنیا کی زندگی میں وہ نیکی کے کام انجام دینے والے تھے۔ انہی نیکیوں کا پھل آج ان کو مل رہا ہے اور وہ ان سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ متقین کی صفات آگے اللہ نے ان متقیوں کی بعض صفات کا ذکر بھی کیا ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں کانوا قلیلا ً من الیل ما یھجعون جو رات کے وقت بہت کم ہی سوتے تھے بلکہ رات کا بیشتر حصہ بیدار رہ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزار دیتے تھے۔ وہ نمازیں پڑھتے تھے اور تسبیح و تمحید کے کلمات زبان پر لاتے تھے ساری رات جاگنا تو ویسے ہی مناسب نہیں کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ انسان کے لیے سونا بھی ضروری ہے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ ساری رات عبادت کیا کرتے تھے مگر آپ نے یہ کہہ کر منع فرما دیا کہ تم اس عمل کو نبھا نہیں سکو گے کیونکہ تم پر تمہارے آپ نے یہ کہہ کر منع فرما دیا کہ تم اس عمل کو نبھا نہیں سکو گے کیونکہ تم پر تمہارے جسم کا بھی حق ہے ، بیوی اور مہمان کا حق بھی ہے تمہیں آرام کی بھی ضرورت ہے ، مسلسل عبادت سے جسم کمزور ہوجائے گا ، آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور پھر تم حقوق العباد ادا نہیں کرسکو گے ، لہٰذا عبادت بھی کرو اور ساتھ ساتھ آرام بھی کرو۔ اللہ تعالیٰ نے سورة المزمل میں بھی فرمایا ہے کہ اے پیغمبر (علیہ السلام) قم الیل الا قلیلا ً (آیت : 2) رات کا تھوڑا حصہ قیام کرو ، یعنی نصف رات ایک تہائی یا اس سے بھی کم وقت میں عبادت کیا کرو اور باقی وقت آرام کیا کر ۔ بہر حال یہاں پر اللہ نے نیکی کرنے والوں کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ سوتے کم اور عبادت زیادہ کرتے تھے۔ وبالا سحار ھم یستغفرون اور وہ سحریوں کے وقت اپنے پروردگار سے استغفار کرتے تھے۔ وہ اللہ سے اپنی لغزشوں کی معافی طلب کیا کرتے تھے اور ساتھ یہ بھی کہتے تھے کہ پروردگار ! ہم سے حق عبادت ادا نہیں ہوسکا ۔ پھر وہ لوگ اس عبادت و ریاضت پر مغرور نہیں ہوتے تھے بلکہ نہایں عاجزی کا اظہار کرتے تھے ، ان کے پیش نظر ہمیشہ یہ بات رہتی تھی کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کا حق کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا ۔ سحری کے استغفار کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ یہ دعا کی قبولیت کا خاص وقت ہوتا ہے۔ اس وقت خدا کی خصوصی تجلیات اور رحمت کا نزول ہوتا ہے۔ صحیحین کی روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے ، اور ارشاد فرماتا ہے من یدعونی فاستجیب لہ من یسالنی فاعطیہ من یستغفر نی فاغفرلہ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعاقبول کروں۔ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اس کو عطا کروں ، اور کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اس کو معاف کر دوں ۔ فرمایا یہ آوازیں برابر آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ طلوع فجر ہوجاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے سحریوں کے وقت اپنے پروردگار سے استغفار کرتے ہیں۔
Ayahs 51:19–23

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ Open ayah 51:19 in the Quran reader

اور ان کے مالوں میں حق ہے مانگنے والے اور محروم کے لئے

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ Open ayah 51:20 in the Quran reader

اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لئے

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 51:21 in the Quran reader

ور تمہارے نفسوں میں بھی (نشانیاں ہیں) کیا تم سوچتے نہیں۔

وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ Open ayah 51:22 in the Quran reader

اور آسمان میں ہے تمہاری روزی اور وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ Open ayah 51:23 in the Quran reader

پس قسم ہے آسمانوں اور زمین کے پروردگار کی بیشک یہ بات حق ہے اسی طرح جس طرح تم گفتگو کرتے ہو۔

ربط آیات پہلے منکرین قیامت کا رد اور ان کی سزا کا بیان ہوا ، پھر ان کے بالمقابل متقی اور ایمان دار لوگوں کا حال اللہ نے ذکر کیا کہ وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ۔ پروردگار کی نعمتیں حاصل کر کے نہایت خوش ہوں گے کیونکہ وہ دنیا کی زندگی میں نیکیاں کماتے رہے۔ رات کے وقت اللہ کے حضور مناجات کرتے تھے اور اس کی عبادت اور ذکر میں بہت سا وقت صرف کرتے تھے ۔ مزید برآں وہ سحری کے وقت اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے تھے ، گویا راتوں کا قیام اور سحریوں کا استغفار ان کا معمول تھا۔ انسان کے مالی حقوق اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انہی متقیوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اس دنیا کی زندگی میں اپنے مالی حقوق بھی دیانتداری کے ساتھ ادا کرتے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے وفی اموالھم حق للسائل والمحروم اور ان کے اموال میں مسائل اور محروم کے لیے حق ہے۔ اللہ نے نیکی کمانے والوں کو یہ بھی ایک صفت بیان کی ہے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے مانگنے والوں اور محروم اشخاص کا حق پورے طریقے سے ادا کرتے ہیں ۔ اس حق سے متعلق مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض اسے فرض حق یعنی زکوٰۃ پر محمول کرتے ہیں ، جو کہ ہر صاحب نصاب پر بقدر نصاب فرض ہے زکوٰۃ تو ہر حال میں بلا شبہ فرض ہے اور اس کی فرضیت کا واضح اعلان قرآن میں بار بار ہوا ہے ۔ تا ہم اس مقام پر جس حق کا تذکرہ ہے وہ زکوٰۃ کے علاوہ حق ہے جیسا کہ حضر ت فاطمہ بن قیس ؓ کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ ان فی المال حقا سوی الزکوۃ یعنی مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی حق ہے اسی طرح سورة بقرہ کی آیت 177 میں ہے کہ نیکی کا کام یہ ہے کہ مال کے ساتھ محبت رکھنے کے باوجود اپنے رشتہ داروں ، یتیموں ، محتاجوں اور مسافرکو دیا جائے وَاٰتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِ اس میں مانگنے والوں اور قیدیوں کا بھی حق آ گیا ( جیسا کہ سورة دہر میں ہے مسکینا و یتما ً وسیرا ً ) بہر حال یہ انفاق زکوٰۃ کے علاوہ ہے کیونکہ زکوٰۃ کا حکم تو اگلے حصہ آیت میں ہے اقام الصلوٰۃ واتی الزکوۃ یعنی ایسے لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ بھی ادا کرتے ہیں ۔ امام ابوبکر جصاص (رح) لکھتے ہیں کہ اس امر پر سلف کا اتفاق ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی کچھ واجبات ہیں ۔ مثلاً اگر والدین محتاج ہوں اور اولاد صاحب مال ہے تو اولاد پر والدین کا خرچہ اٹھانا واجب ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ کسی مالدار آدمی کے اقربا اگر محتاج ہیں اور ان کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے تو ان کا خرچہ بھی واجب ہوگا ۔ اپنے عزیز و اقربا کے علاوہ بھی کوئی مسلمان مجبور ہوجاتا ہے تو مالدار آدمی کے ذمے واجب ہے کہ اس کی حاجت براری کرے اسی طرح دوران سفر اگر کوئی مسلمان مال ضائع کر بیٹھا ہے ، سواری گم ہوگئی ہے۔ کوئی حادثہ پیش آ گیا ہے یا راستہ منقطع ہوگیا تو اس کا خرچہ برداشت کرنا بھی دوسرے مسلمان پر لازم آتا ہے۔ حضور ﷺ نے جانوروں کے مالکان سے فرمایا کہ ان کے حقو ق ادا کیا کرو ۔ جانوروں کا ایک حق تو اللہ نے ان کی گردنوں میں رکھا ہوا ہے ۔ یعنی زکوٰۃ ، جب جانور نصاب کو پہنچ جائیں تو ہر سال ان کی زکوٰۃ ادا کرو اور دوسرا حق یہ ہے کہ جب تم اونٹنیوں کو پانی پلانے کے لیے گھاٹ پر لے جائو ۔ تو ان کا دودھ دھو کر محتاجوں کو بھی دو اگر راستے میں کوئی مسافر بغیر سواری کے جا رہا ہے تو اس کو سواری مہیا کرو ۔ اس قسم کے حقوق وہ ہیں جو زکوٰۃ کے علاوہ ہیں ، تو فرمایا جو مسلمان خدا کی وحدانیت اور قیامت پر صحیح یقین رکھتے ہیں وہ مالی حقوق بھی ادا کرتے ہیں ۔ سائل اور محروم یہاں پر اللہ نے دو قسم کے مستحقین کا ذکر فرمایا ہے یعنی سائل اور محروم سائل تو وہ ہے جو محتاج ہے اور از خود دوسروں سے سوال کرتا ہے کہ اس کی مدد کی جائے ، البتہ محروم کی تعریف میں مفسرین کا قدرے اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ محروم وہ شخص ہے جو خود سوال نہیں کرتا حالانکہ اس کے پاس کچھ نہیں مگر عزت نفس کی خاطر کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتا ، عفیف اور پاکدامن ہے اور بعض فرماتے ہیں کہ محروم سے مراد وہ شخص ہے جو پہلے خود بھی مالدار تھا۔ مگر حوادثات زمانہ نے اسے محروم کردیا ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر کسی کو کوئی حادثہ پیش آ گیا ، تاوان پڑگیا ، کوئی اور افتاد پڑگئی تو وہ مستحق ہے اس کی زکوٰۃ فنڈ سے بھی مدد کی جاسکتی ہے۔ ایسا شخص بھی محروم یا مستحق کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک اور مستحق گروہ بھی ہے للفقراء الذین احصرو ا فی سبیل اللہ ( البقرہ : 283) جو اللہ کی راہ میں رکے بیٹھے ہیں اور کسی طرف جانے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ ان میں وہ دینی طالب علم آتے ہیں جو تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے کوئی دیگر کام کاج نہیں کرسکتے ۔ ان کے لباس ، خوراک اور دیگر تعلیمی اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے ، ان کا پورا کرنا بھی صاحب مال حضرات پر واجب ہے ، نیز جہاد میں جانے والے نادار لوگ جو اسلحہ اور زاد راہ کا انتظام نہیں کرسکتے ، ان کی مالی اعانت بھی مالدار لوگوں پر واجب ہے۔ بعض لوگوں کا حق تو اللہ نے زکوٰۃ و صدقات کے فنڈ سے مقرر کردیا ہے اور بعض وارثت میں حصہ دار بن جاتے ہیں ، البتہ کچھ جاندار مخلوق ایسی بھی ہے جن پر خرچ لازم ہے ، مثلاً حضور ﷺ کا ارشاد ہے فی کل ذاکبد ر طبۃ صدقۃ ہر زندہ جگر رکھنے والی چیز پر صدقہ ہوتا ہے ، اس سے مراد جانور ہیں ، ان کی خوراک کا انتظام کرنے والے لوگ صدقہ کا ثواب پاتے ہیں ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک بد کار عورت نے پیاسے کتے کو پانی پلایا تو اللہ نے اس کے بدلے میں اس فاحشہ کو جنت میں داخل فرما دیا ۔ غرضیکہ اس قسم کے جاندار بھی محرومین میں شامل ہیں ۔ اور صاحب حیثیت لوگوں کے مالوں میں ان کا بھی حق ہے بہر حال فرمایا کہ ان کے مالوں میں حق ہے محتاجوں کے لیے جو سوال کرتے ہیں ۔۔۔۔ اور ناداروں کے لیے جو سوال سے بچتے ہیں یا جن کا کوئی حق مقرر نہیں ہے ۔ یہ ان کے لیے ہے ، جو قیامت پر ایمان رکھتے ہیں ، یہ بات اللہ نے ان متقیوں کی صفت کے طور پر بیان فرمائی ہے جو جنت میں جا کر اللہ تعالیٰ کے انعامات حاصل کرنے والے ہیں ، اور وہ اس سے پہلے دنیا میں نیکی کے کام کرتے رہے۔ زمینی نشانات کی قدرت سورۃ کے آغاز میں اللہ نے وقوع قیامت سے متعلق آسمانی نشانات کا ذکر کیا تھا۔ اب اسی سلسلے میں بعض زمینی نشانات کی بات ہو رہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے و فی الارض ایت للمومنین اور زمین میں بھی نشانیاں ہیں یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں پائی جانے والی چیزیں انسان ، حیوان ، چرند ، پرند ، دریا ، سمندر ، پہاڑ ، جنگل ، صحرا اور لا تعداد قسم کے کیڑے مکوڑے ہیں ۔ اس کے علاوہ سمندر ی مخلوق کا شمار ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر انسان ان چیزوں میں غور و فکر کرے تو اللہ کی قدرت تامہ اور وقوع قیامت کا مسئلہ آسانی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ فرمایا وفی انفسکم خود تمہارے اپنے نفسوں کے اندر بھی بہت سی نشانیاں ہیں ۔ انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل پر غور کیا جائے اور پھر اس کی پوری زندگی کا احاطہ ہو ، اس کے جسم کے ایک ایک عضو اور اسکی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ان میں انسان کے لیے قدرت کے بہت سے دلائل مضمر ہیں ۔ فرمایا افلا تبصرون کیا تم اس معاملہ میں غور و فکر نہیں کرتے ؟ غرضیکہ آفاقی نشانیوں کے بعد انسانی نفس کے نشانات کا ذکر بھی ہوگیا ۔ انسان کی روح ، نفس ناطقہ اور اس سے وابستہ تمام اندرونی قوتیں بجائے خود اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں مگر یہ اس شخص کی سمجھ میں آتی ہیں جو ان میں غور و فکر کر کے ان کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ رزق عالم بالا سے پھر آگے فرمایا وفی السماء رزقکم اور تمہاری روزی آسمان میں ہے وما توعدون اور وہ کچھ بھی وہیں ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ظاہری اسباب میں آسمان کی طرف سے بارش ہوتی ہے تو مراد زمین کی نئی زندگی ملتی ہے۔ اس میں قوت روئیدگی پیدا ہوتی ہے لوگ اس سے فائدہ اٹھا کر کاشت کرتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں پھل ، غلہ اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں ، جو انسانوں اور دیگر جانداروں کی خوراک بنتے ہیں ۔ اس کے علاوہ رزق کا تعلق آسمان کے ساتھ ہونے کا یہ مطلب بھی ہے کہ ہر چیز کا حکم تو آسمان یعنی عالم بالا سے ہی ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہو تو بادل اٹھتے ہیں ۔ بارش ہوتی ہے اور پھر روزی کے ذرائع پیدا ہوتے ہیں تو جب تک اوپر سے حکم نہ آئے ، تمام اسباب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔ ہوائیں ، بارشیں ، دریا اور سمندر طوفان بن کر نقصان کا باعث بن جاتے ہیں ۔ لہٰذاروزی کا تعلق بہرحال عالم بالا سے ہے اس کے علاو ہ ہر آنے والی چیز خواہ موت ہو یا حیات ، خوشی ہو یا غمی سب کا فیصلہ اوپر ہی ہوتا ہے ۔ اللہ کا ہر حکم خطیرۃ القدس (رح) میں اترتا ہے ، پھر ملاء اعلیٰ کی جماعت کے سامنے اس کا ذکر ہوتا ہے اور پھر وہاں سے عالم سفلی میں اس پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ جزائے عمل بر حق ہے ارشاد ہوتا ہے فورب السماء والارض پس قسم ہے پروردگار کی جو آسمان و زمین کا پروردگار ہے انہ الحق بیشک جزائے عمل بر حق ہے یعنی انصاف کی بات یقینا واقع ہونے والی ہے۔ ابتداء میں اللہ نے ہوائوں کو دلیل بنا کر وقوع قیامت اور جزائے عمل کے بر حق ہونے سے آگاہ کیا ۔ جب کائنات کی کوئی چیز بھی فضول نہیں ہے تو پھر کائنات کا یہ پورا سلسلہ کیسے بےمقصد ہو سکتا ہے۔ اس کا بھی انجام ہے ، حدیث جبریل (علیہ السلام) میں آتا ہے کہ جبریل (علیہ السلام) نے ایمان ، اسلام اور احسان کے متعلق حضور ﷺ سے سوال کرنے کے بعد پوچھا تھا متی الساعۃ یعنی قیامت کب آئے گی ۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس پوری کائنات کی انتہاء کب ہوگی ۔ جس چیز کا آغاز ہے اس کا انجام بھی ہے اور جو چیز موجود ہے اس نے ختم بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح جو انسان پیدا ہوا ہے ، اسے مرنا بھی ہے اور اس کا نتیجہ بھی ظاہر ہونا ہے اور یہی جزائے عمل کی منزل ہے۔ اسی لیے اللہ نے آسمانوں اور زمین کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ جزائے عمل بر حق ہے۔ ایک عجیب واقعہ صاحب مدارک ، صاحب کشاف اور تفسیر مظہری والے حضرات نے ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ فقہ و حدیث کے امام اسماعیل (رح) مامون الرشید عباسی کے زمانے میں ہوئے ہیں ۔ بڑے عالم فاضل اور نیک سیرت انسان تھے۔ فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ کسی دوسرے شہر جانے کے لیے بصرہ کی جامع مسجد سے نکلا ۔ راستے میں ایک دیہاتی اونٹ سوار سے ملاقات ہوئی ۔ علیک سلیک کے بعد اس نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آ رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ اس جگہ سے جہاں کلام پاک پڑھا جاتا ہے یعنی جامع مسجد سے وہ شخص کہنے لگا کہ قرآن کا کچھ حصہ مجھے بھی سنائو ۔ تو میں نے یہی سورة الذریت سنانی شروع کی ۔ پھر جب میں اس مقام پر پہنچا وفی السماء رزقکم وما توعدون تو وہ شخص کہنے لگا۔ رک جائو ، اس پر ان آیات کا عجیب اثر ہوا ۔ کہنے لگا کہ روزی کا حکم تو اوپر سے آتا ہے ، پھر میں کس تکلیف میں ہوا ہوں ۔ اس نے اپنی سواری کے اونٹ کو وہیں نحر کردیا اور مسافروں کو کھلا دیا ، جو سامان پاس تھا ، وہ بھی تقسیم کردیا ۔ امام اسماعیل (علیہ السلام) کہتے ہیں کہ میں اس شخص کے توکل سے بڑا حیرانہوا ۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ حج کے موقع پر میں طواف کر رہا تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ کوئی کمزور سی آواز والا آدمی شریک دعا ہے۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہی بدو نظر آیا ، وہ کہنے لگا کہ تمہیں کچھ قرآن یاد ہے ؟ میں نے پھر یہ آیت سنائی فورب السماء والارض انہ لحق وہ شخص کہنے لگا کہ عجیب لوگ ہیں جنہوں نے رب جلیل کو قسم اٹھانے پر مجبور کردیا ۔ وہ شخص اس آیت سے اس قدر متاثرہوا کہ اپنے الفاظ کو بار بار دہراتا رہا حتیٰ کہ اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ گفتگو بطور دلیل فرمایا اس پروردگار کی قسم ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے کہ وقوع قیامت اور جزائے عمل بر حق ہے مثل ما انکم تنطقون بالکل اسی طرح جس طرح تم گفتگو کرتے ہو۔ یہ انسان کا خاصہ ہے کہ اللہ نے اسے قوت گویائی بخشی ہے جو انسانوں کے ساتھ لازم ہے اور جس پر کوئی بھی شک و شبہ کا اظہار نہیں کرتا تو فرمایا ۔ جس طرح تمہارا آپ میں بات چیت کرنا بالکل حقیقت ہے ، اسی طرح وقوع قیامت کے متعلق بھی کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ مفسرین کرام نے یہاں ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ انسان بولنے کے علاوہ دیکھتا بھی ہے سنتا بھی ہے ، کھاتا ، پیتا ، چلتا پھرتا اور کاروبار کرتا ہے ، مگر کیا وجہ ہے کہ اللہ نے صرف بولنے کی قیامت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے ؟ فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی دیگر حرکات و سکنات کی نسبت اس کا نطق ( بولنا) اس کے حالات کے قریب ترین ہے۔ نطق قوت فکریہ سے اٹھتا ہے۔ یعنی پہلے انسان کسی چیز میں غور و فکر کرتا ہے ، پھر اس کے نتیجے میں وہ بولتا ہے پرانے فلسفے میں انسان کو حیوان ناطق کہا گیا ہے یعنی بولنے والا جاندار مطلب یہ ہے کہ گفتگو کرنا بہت بڑی حقیقت ہے اور اسی وجہ سے اللہ نے نطق انسانی کو دلیل بنایا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) کی حکمت میں انسان کی تعریف اسی طرح کی گئی ہے ما یتفکرو یصنع بالالات یعنی انسان اس ہستی کو کہتے ہیں جو غور و فکر کرتا ہے اور آلات کے ذریعے کام کرتا ہے ، اگر وہ خاکی ہے تو انسان ہے اگر ناری ہے تو جن ہے بہرحال غور و فکر کے نتیجے میں جو چیز انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ اس کا اظہار نطق کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ ایک شاعر نے بھی اپنے کلام میں نطق کی اہمیت کو اس طرح اجاگر کیا ہے کہ وہ اپنے محبوب کی بستی کے کھنڈرات پر سے گزرتا ہے تو کہتا ہے ؎ ھل بالدیار ان تجیب صمم لوکان حیاناً طقا ً کلم یہ بہرے گونگے کھنڈرات کیا بات کریں گے ، اگر وہ گفتگو کرنے والا زندہ ہوتا تو کلام بھی کرتا ، بہر حال گفتگو کرنا انسان کا خاصہ ہے جس کا ذکر اللہ نے خاص طور پر اس جگہ کیا ہے۔ انسان کے گفتگو کرنے میں وقوع قیامت اور بعث بعد الموت کی دلیل اس طرح بھی بنتی ہے کہ اللہ نے انسان کی قوت گویائی بخشی ہے۔ وہ حروف کو جوڑ کر کلمات بناتا ہے ، پھر جو چیز اس کے ذہن میں آتی ہے اس کو ظاہر کرتا ہے انسان ایک دفعہ گفتگو کر کے عاجز نہیں آجاتا بلکہ اس عمل کو بار بار دہراتا رہتا ہے ۔ اور اس طرح گفتگو کا تعلق متکلم کے ساتھ مستحکم ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کائنات کو اس طرح بنایا کہ ہر انسان کو ایک ایک کر کے پیدا فرمایا ، تو جس طرح کلام متکلم کی طرف راجع ( رجوع کرنے والی) ہوتی ہے ، اسی طرح اللہ کی پیداہ کردہ مخلوق خود اسی کی طرف راجع ہوتی ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کا کیسے انکار کرتے ہو جب کہ تم مردہ تھے ۔ اس نے تمہیں زندگی بخشی ، وہ پھر تمہیں موت دے گا اور پھر زندہ کرے گا ثم الیہ ترجعون ( آیت : 28) پھر تم نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ مقصد یہ کہ یہ سب چیزیں پلٹ کر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف آئیں گی ، تو جس طرح اللہ نے انسان کو پہلی دفعہ پیدا کیا ، وہ اسے لوٹانے پر بھی قادر ہے جس طرح ایک انسان بار بار کلا م کرنے سے عاجز نہیں آتا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے سے بھی عاجز نہیں ہے اور جزائے عمل ضرور واقع ہوگی بہر حال اللہ نے نقط کو وقوع قیامت کی دلیل بنایا ہے کہ یہ چیز انسان کے حالات کے قریب ترین ہے۔
Ayahs 51:24–37

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ Open ayah 51:24 in the Quran reader

کیا پہنچی ہے آپ تک بات ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمان کی

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ Open ayah 51:25 in the Quran reader

جب کہ وہ ان کے پاس آئے اور انہوں نے سلام کیا ، ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا ( اور کہا) یہ لوگ کچھ اوپرے معلوم ہوتے ہیں

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ Open ayah 51:26 in the Quran reader

پھر نظر بچا کر اپنے گھر والوں کے پاس گئے ، پس لائے وہ ایک بچھڑا تلاہوا

فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 51:27 in the Quran reader

پس قریب کیا اس کو ان کی طرف اور کہا تم کھاتے کیوں نہیں ؟

فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 51:28 in the Quran reader

پس محسوس کیا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کچھ خوف ، تو وہ کہنے لگے خوف نہ کھائو ، اور بشارت دی انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک علم والے لڑکے کی

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ Open ayah 51:29 in the Quran reader

پھر متوجہ ہوئی آپ کی بیوی شور کرتی ہوئی ۔ اس نے اپنے ماتھے کو پیٹا اور کہنے لگی بڑھیا ہے بانجھ

قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 51:30 in the Quran reader

تو وہ ( فرشتے) کہے لگے کہ اسی طرح فرمایا ہے تیرے پروردگار نے ، بیشک وہ حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 51:31 in the Quran reader

کہا ( ابراہیم (علیہ السلام) نے) پس کیا کام ہے تمہارا اے بھیجے ہوئے لوگو

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ Open ayah 51:32 in the Quran reader

کہا انہوں نے کہ ہم بھیجے گئے ہیں ایک مجرم قوم کی طرف

لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ Open ayah 51:33 in the Quran reader

تا کہ ہم چھوڑیں ان پر پتھر مٹی کے

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 51:34 in the Quran reader

نشان لگائے ہوئے لیے

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 51:35 in the Quran reader

پس نکالا ہم نے ان کو جو تھے اس بستی میں ایمان والوں میں سے

فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ Open ayah 51:36 in the Quran reader

پس نہ پایا ہم نے ان میں سوائے ایک گھرانے مسلمانوں کے

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ Open ayah 51:37 in the Quran reader

اور چھوڑی اس میں ہم نے نشانی ان لوگوں کے لیے جو درد ناک عذاب سے خوف کھاتے ہیں

ربط آیات اس سورة کا مرکزی مضمون وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی ہے جس کو مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا جارہا ہے۔ اللہ نے چار قسمیں اٹھا کر فرمایا ان الدین لواقع ( آیت : 6) جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے۔ اللہ نے منکرین قیامت کا رد کیا اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ۔ اس کے بالمقابل متقی لوگوں کو ملنے والی نعمتوں کا تذکر ہ کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے دنیا میں نیکی کمانے والوں کو صفات بیان فرمائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی اور مناجات کرتے ہیں ، اور سحری کے وقت اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق ہوتا ہے جس کو وہ ادا کرتے ہیں ۔ پھر اللہ نے وقوع قیامت کے بارے میں فرمایا کہ زمین میں قدرت خداوندی کی بیشمار نشانیاں ہیں جن میں غور کر کے وقوع قیامت کا مسئلہ سمجھ میں آسکتا ہے۔ اس کے علاوہ خود انسان کے اپنے نفس میں بھی بہت سی نشانیاں رکھی ہیں ۔ روزی اور ہر موعود چیز کا حکم آسمان کی طرف سے آتا ہے پھر فرمایا کہ ارض و سما کے پروردگار کی قسم جزائے عمل بر حق ہے اور یہ ضرو واقع ہوگا اور اس کی حقیقت بالکل اسی طرح شک و شبہ سے پاک ہے جس طرح تمہارا گفتگو کرنا امر واقع ہے۔ جزائے عمل کے ادنیٰ نمونے اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بعض سابقہ انبیاء اور ان کی اقوام کے حالات اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر کیا ہے۔ اس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ وقوع قیامت ، جزائے عمل ، توحید و رسالت کا انکار کرنے والوں کے لیے اللہ نے اسی دنیا میں جزائے عمل کا ایک ادنیٰ نمونہ پیش کردیا ہے۔ جو خدا تعالیٰ دنیا میں کسی بھی نافرمان کو سزا دے سکتا ہے وہ آخرت میں بھی ان کی کارکردگی کا بدلہ دینے پر قادر ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فضلیت بیان کی ہے اور ان کے پاس آنے والے مہمان فرشتوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے برگزیدہ بندے کے لیے بیٹے کی خوشخبری لائے جب کہ لوط (علیہ السلام) کی ناہنجار قوم کے لیے تباہی کا سامان لے کر آئے ۔ گزشتہ آیات میں بھی ایسے ہی دو گرہوں کا ذکر ہوچکا ہے ، ایک وہ نافرمان گروہ جنہیں آگ میں تپایا جائے گا ۔ جب کہ متقین کا گروہ جنتوں اور چشموں میں ہوگا جہاں انہیں ہر طرح کی نعمتیں میسر ہوں گی ۔ بہر حال اللہ نے نافرمانوں کی سزا کا ذکر کر کے سمجھا دیا ہے کہ ان چھوٹے چھوٹے نمونوں کو ذہن میں رکھ کر آخرت کی بڑی سزا کو بھی قیاس کرلو ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر خیر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ھل اتک حدیث ضعیف ابراہیم المکرمنین کیا آپ تک ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی بات پہنچی ہے ؟ حضور علیہ الصلوٰۃ کو خطاب کر کے واقعہ کی تفصیلات بتانا مقصود ہے۔ یہاں پر معزز مہمانوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو آپ کے پاس آئے تھے۔ اللہ نے پانی اس پاک مخلوق کو عباد مکرمون کہا ہے کہ یہ اس کے باعزت بندے ہیں ۔ تمام فرشتے خواہ وہ ملاء اعلیٰ کے ہوں یا ملاء سافل کے ، سب عزت والے ہیں ۔ وہ ہر وقت اپنے پروردگار کی عبادت اور ذکر میں مصروف رہتے ہیں ۔ ویفعلون ما یومرون ( النحل : 50) اور اللہ کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں ۔ تفسیری روایات کے مطابق ان فرشتوں کی تعداد تین ، نو یا بارہ تھی جو ابراہیم علیہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے ۔ یہ نو خیز لڑکوں کی انسانی شکل میں تھے جن کے نام جبرائیل میکائیل اور اسرافیل (علیہم السلام) ہیں ، فرمایا کیا آپ تک ابراہیم (علیہ السلام) کے معزز مہمانوں کی بات نہیں پہنچی اذ دخلوا علیہ جب وہ آپ کے پاس آئے فقالواسلما ً تو ابراہیم (علیہ السلام) کو سلام کیا ۔ یہ واقعہ سورة ہود ، سورة الحجر ، سورة العنکبوت اور سورة القمر میں بھی مذکور ہے۔ اس مقام پر ابراہیم (علیہ السلام) کی اعلیٰ اقدار کا ذکر مقصود ہے۔ ساتھ ساتھ آپ پر ہونے والے بعض انعامات کا تذکرہ ہے اور آگے اصل بات جزائے عمل والی ہی آ رہی ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے مہمان نوازی فرمایا : فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سلام کیا قال سلم آپ نے سلام کا جواب دیا یعنی وعلیکم السلام کہا ، اور پھر فوراً ہی خیال آیا قوم منکرون یہ کچھ اوپر سے آدمی معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ لوگ جانی پہچانی شکلوں میں نہیں تھے اس لیے آپ نے دل میں کہا کہ یہ تو کوئی اجنبی اور غیر مانوس شکلیں ہیں ۔ بہر حال اپ نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا ۔ انہیں اچھی جگہ خاطر خدمت سے بٹھایا اور اس کے بعد فراغ الی اھلہ نظر بچا کر اپنے گھر والوں کے پاس گئے یعنی اندرون خانہ حضرت سارہ ؓ کے پاس پہنچے تا کہ مہمانوں کی تواضع کا بندوست کرسکیں اس وقت مہمانوں کے کھانے کے لیے فجاء بعجل سمین مہمانوں کے پاس ایک موٹا تازہ تلا ہوا بچھڑا لے کر آگئے ۔ ظاہر ہے کہ گھر میں وہی بچھڑا موجود ہوگا ۔ جسے آپ نے ذبح کیا اور پھر اس کا گوشت بھون کرلے ائے فقربہ الیھم اور مہمانوں کے سامنے رکھ دیا ، مگر مہمانوں کے ہاتھ کھانے تک نہیں پہنچ رہے تھے تو قال الا تاکلون کہنے لگے ، تم کھاتے کیوں نہیں ؟ اس واقعہ سے یہ تعلیم بھی ملتی ہے کہ علم غیب خاص خداوندی ہے ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے مہمانوں کو انسان سمجھ کر ان کی خاطر مدارت کرنا چاہی ، ان کے لیے کھانا پیش کیا مگر اس وقت آپ نہیں جانتے تھے کہ یہ تو فرشتے ہیں اور یہ انسان کھانا نہیں کھاتے ، اسی وجہ سے آپ کو تشویش ہوئی اور ان سے فرمایا کہ تم کھاتے کیوں نہیں ؟ مہمان نوازی کے آداب یہاں پر اللہ تعالیٰ نے فراغ کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی ابراہیم (علیہ السلام) مہمانوں سے نظر بچا کر گھر گئے تاکہ ان کے لیے کھانے کا بندوست کرسکیں ۔ مفسرین کرام اس سے یہ مسئلہ اخذ کرتے ہیں کہ مہمانوں کو محسوس نہیں ہونے دینا چاہئے کہ میزبان ان کی خدمت مکہ لیے کیا بندوست کر رہا ہے ، کیونکہ بعض مہمان بڑے حساس ہوتے ہیں اور میزبان کے تکلف میں پڑنے سے وہ خود تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔ اسی لیے ابراہیم (علیہ السلام) مہمانوں کو احساس دلائے بغیر جو کچھ گھر میں میسر تھا ان کے سامنے پیش کردیا ۔ مہمان نوازی دین اسلام کا ایک اہم اصول ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) اس کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ خود حضور ﷺ کا فرمان مبارک بھی ہے من کان یومن باللہ والیوم الاخر فلیکرمرضیفہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہئے۔ اس مہمان سے مراد محض جان پہچان والا مہمان مراد نہیں بلکہ اجنبی مہمان کی خاطر مدارت اور عزت افزائی بھی ضروری ہے ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مہمان کہ ایک دن اور رات حسب حیثیت پر تکلف کھانا کھلان چاہئے۔ تین دن تک مہمان نوازی ہوتی ہے اور اس کے بعد یہ خدمت صدقہ میں داخل ہے۔ یہ تو عام مہمائی کا اصول ہے اور اگر اپنا کوئی عزیز ، رشتہ دار یا خاص مہمان ہو تو وہ زیادہ عرصہ بھی ٹھہر سکتے ہیں ۔ ادھر حضور ﷺ نے مہمانوں کو بھی نصیحت کی ہے کہ کسی کے پاس اتنا زیادہ نہ ٹھہرو کہ میزبان حرج محسوس کرنے لگے ۔ اس کی حیثیت کا خیال رکھو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ معاشی لحاظ سے کمزور ہو اور تم اس پر بوجھ بن رہے ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو تشویش اور بشارت بہر حال جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو انہیں تشویش ہوئی کہ کیا بات ہے ؟ اس زمانے میں یہ عام دستور تھا کہ جس کو نقصان پہنچانا مقصود ہوتا تھا اس کا کھانا نہیں کھایا جاتا تھا کہ یہ نمک حرامی میں شمارہوتا تھا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے یہی بات باعث تشویش تھی کہ یہ مہمان کہیں کوئی نقصان تو نہیں پہنچائیں گے ۔ چونکہ آپ کو حقیقت حال کا ابھی علم نہیں تھا۔ اس لیے آپ کی تشویش بجا تھی اور اس لیے آپ نے مہمانوں سے پوچھا کہ تم کھانا کیوں نہیں کھاتے۔ مہمانوں کی طرف سے کوئی جواب نہ پا کر فاوجس منھم خیفۃ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے خوف محسوس کیا ۔ جب فرشتوں نے آپ کو اس حالت میں دیکھا قالوا لا تخف تو کہنے لگے ڈرو مت ۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں دیکھو ، میں جبرائیل ہوں ، یہ میکائیل ہیں اور یہ اسرافیل (علیہم السلام) ہیں ، لہٰذا ہم یہ کھانا نہیں کھاتے اس کے ساتھ ہی فرشتوں نے ایک اور بات بھی کی وبشروہ بغلم علیم انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک علم والے لڑکے کو بشارت بھی سنا دی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں صاحب علم بیٹا عطا کرے گا ۔ اس بیٹے سے مراد حضرت اسحاق (علیہ السلام) جو حضرت سارہ ؓ کے بطن سے تولد ہوئے۔ اس سے چودہ سال قبل حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ولادت حضرت حاجرہ ؓ کے بطن سے ہوچکی تھی ۔ جن کے لیے اللہ کے علم حلیم ( الصافات : 101) یعنی بردبار بچے کے الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ بہر حال ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے بیٹے کی بشارت تو ایک ضمنی بات تھی ۔ اصل کا م جس کے لیے فرشتے آئے وہ او تھا یعنی وہ لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب لے کر آئے تھے۔ یہ عجیب اتفاق تھا کہ ایک طرف تو ایک پوری قوم کی تباہی کا وقت آ چکا تھا اور دوسری طرف ایک بیٹے کی بشارت دی جا رہی ہے ۔ جس کے متعلق بائیبل کا بیان ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو اللہ نے فرمایا تھا ، اے ابراہیم ! یہ لوگ تجھے دنیا سے ختم کرنا چاہتے ہیں مگر میں تیری اولاد کو ریت کے ذروں کی طرح دنیا میں پھیلائوں گا ، چناچہ آج ہم دیکھتے ہیں ۔ دنیا کی اکثر آبادی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے۔ حضرت سارہ ؓ کی حیرانگی جب اللہ کے فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کی خوشخبری دے رہے تھے تو اس وقت اپ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ ؓ کی عمر اسی یا نوے سال کی ہوچکی تھی ۔ جب انہوں نے یہ خوشخبری سنی فاقبلت امراتہ فی صرۃ پھر متوجہ ہوئی آپ کی بیوی شور مچاتی ہوئی یعنی بولتی ہوئی آئی۔ دراصل وہ اس بات سے سخت حیرت زدہ ہوئی تھیں فصکت و جھھا پس انہوں نے اپنا ماتھا پیٹ لیا ، حیرانگی کے عالم میں چہرے پر ہاتھ مارا کہ یہ مہمان کیا بات کر رہے ہیں ؟ وقالت عجوز عقیم حالانکہ میں تو بوڑھی ہوچکی ہوں اور ویسے بھی بانجھ ہوں ، بھلا میں کیسے بچہ جن سکوں گی ؟ سورة ہود میں آپ کے یہ الفاظ بھی آتے ہیں ۔ قَالَتْ یٰـوَیْلَتٰٓی ئَ اَلِدُ وَاَنَا عَجُوْزٌ وَّہٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًاط اِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ عَجِیْبٌ (آیت : 72) کہنے لگی ، ہائے افسوس ! کیا اب میں بچہ جنوں گی حالانکہ میں بوڑھی ہوچکی ہوں اور میرا خاوند بھی بوڑھا ہوگیا ہے۔ بہر حال اس حیرانگی کے اظہار پر قالوا کذلک فرشتے کہنے لگے کہ ایسا ہی ہوگا قال ربک تیرے پروردگار نے یونہی فرمایا ہے۔ اس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں کیونکہ جس پر پروردگار نے یہ فیصلہ کیا ہے انہ ھو الحکیم العلیم بیشک وہ حکمتوں والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ اس فیصلے میں اس کی کمال حکمت کار فرما ہے کہ وہ اس بچے کے ذریعے کیا کام لینا چاہتا ہے۔ اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں لہٰذا وہ ہر چیز میں تصرف اور تدبیر اپنے علم اور ارادے کے مطابق کرتا ہے۔ تفسیری روایات میں آتا ہے پہلے تو فرشتے کھانے کی طرف ہاتھ میں نہیں بڑھا رہے تھے۔ پھر جب انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو خوفزدہ محسوس کر کے اپنی حیثیت کو واضح کردیا تو اسکے بعد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس بھنے ہوئے گوشت کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اللہ تعالیٰ نے اس بچھڑے کو دوبارہ زندگی بخش دی ۔ اور وہ دوڑ کر اپنی ماں کے پاس چلا گیا ۔ اسی دوران حضرت سارہ ؓ نے اوپر چھت کی طرف نظر اٹھائی ، جہاں بوسیدہ اور گلی سڑی لکڑیاں پڑی ہوئی تھیں ، تو انہوں نے دیکھا کہ وہ بوسیدہ لکڑیاں آنا ً فانا ً سر سبز ہوگئی ہیں اور ان میں پتے نکل آئے ہیں اور اس طرح وہ دوبارہ درخت کی صورت میں سامنے آگئیں ۔ ان دو واقعات سے حضرت سارہ ؓ کو یقین ہوگیا کہ جو پروردگار بھنے ہوئے بچھڑے کو دوبارہ زندگی دے سکتا ہے اور جو خشک لکڑیوں کو ہرے بھرے درخت میں تبدیل کرسکتا ہے ، وہ مجھ جیسی بوڑھی اور بانجھ عورت کو اولاد بھی دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فرشتوں نے حضرت سارہ ؓ سے کہا قَالُوْٓا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللہ ِ رَحْمَتُ اللہ ِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ (ھود : 73) کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ، اے اہل بیت ! تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں ۔ قوم لوط کے لیے عذاب جب ابراہیم (علیہ السلام) کو حقیقت حال کا علم ہوگیا اور بشارت والی بات بھی مکمل ہو کر آپ کی تسلی ہوگئی تو فرشتوں سے کہنے لگے قال فما خطبکم ایھا المرسلون اے اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتوں ! تمہارے آنے کی اصل غرض کیا ہے ؟ بشارت والی ضمنی بات تو ہوگئی ، اب آگے تمہارا کیا پروگرام ہے قالو انا ارسلنا الی قوم مجرمین کہنے لگے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔ لنرسل علیھم حجارۃ من طین تا کہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں اس سے مراد کھنگر ہیں ۔ جو مٹی سے بنا کر آگ میں پکا لیے جاتے ہیں اور یہ ایسے پتھر ہیں ۔ مسومۃ عند ربک للمسرفین جن پر تیرے پروردگار کے ہاں نشان لگے ہوئے ہیں اسراف کرنے والوں کے مطلب یہ کہ قوم لوط کے لوگ اپنے جرائم میں حد سے بڑھ گئے ہیں ان کی تباہی کا وقت آ چکا ہے ۔ اب ہر پتھر اس نافرمان پر پڑ کر اسے ہلاک کردے گا ۔ جس کا نام اس پر لکھا ہوا ہے۔ یہ مجرم لوگ مشرق اردن میں علاقہ سدوم کے باشندے تھے ان کے چھ بڑے بڑے شہر تھے جن کی آبادی چار لاکھ نفوس پر مشتمل تھی۔ کچھ دیہات بھی تھے ، بڑا سر سبز علاقہ تھا ، تجارت اور زراعت دونوں عروج پر تھیں ۔ بڑے خوشحال لوگ تھے۔ مگر ہم جنسی جیسی قبیح بیماری میں مبتلا ہوچکے تھے ۔ اس قوم سے پہلے اس بیماری کا کہیں نام و نشان تک نہ تھا ، گویا یہی اس کے موجد تھے ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) تیس چالیس سال تک لوگوں کو تبلیغ کرتے رہے اور ان کو برے انجام سے ڈراتے دھمکاتے رہے مگر انہوں نے کچھ پرواہ نہ کی ، بلکہ کہنے لگے اَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ قَرْیَـتِـکُمْج اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ (الاعراف : 82) کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو ، یہ بڑے پاکباز بنے پھرتے ہیں اور ہمیں ناپاک کہتے ہیں ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے قوم سے یہی کہا تھا قال انی لعملکم من القالین ( الشعراء : 168) میں تو تمہارے اس کام سے سخت بیزار ہوں ۔ تم بڑا ذلیل کام کرتے ہو ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انہیں سنگساری کی سخت ترین تزا دی ، اللہ نے زمین کو بھی تہہ وبالا کردیا ، اور اوپر سے پتھروں کی بارش کی ، جس سے ساری قوم ہلاک ہوگئی ۔ فعل لواطت کی حیثیت کے متعلق ائمہ کرام کا قدرے اختلاف ہے۔ بعض اسے زنا کے برابر قرار دیتے ہیں اور اس پر بھی حد زنا جاری کرنے کا فتویٰ دیتے ہیں ۔ تا ہم امام ابوحنیفہ (رح) اور بعض دیگر ائمہ اسے زنا میں تو شمار نہیں کرتے البتہ اس جرم پر سخت ترین تعزیر لگانے کا حکم دیتے ہیں ۔ جو قید و بند کوڑے یا سزائے موت تک بھی ہو سکتی ہے۔ اہل ایمان کا اخراج فرمایا نافرمان لوگ تو سارے کے سارے تباہ ہوگئے ۔ فاخرجنا من کان فیھا من المومنین البتہ ہم نے اہل ایمان لوگوں کو اسی بستی سے نکال لیا اور اس طرح وہ عذاب الٰہی سے بچ گئے ۔ اللہ نے فرمایا کہ ساری بستی میں فما وجدنافیھا غیر بیت من المسلمین پس نہ پایا ہم نے وہاں کوئی بھی اہل ایمان سوائے ایک مسلمان گھرانے کے ، ظاہر ہے کہ وہ گھرانہ صرف لوط (علیہ السلام) کا تھا جو اللہ کی گرفت سے بچ گئے ۔ آپ کے ساتھ آپ کی بچیاں تھیں۔ بیوی بھی کافرہ تھی اور وہ بھی باقی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوگئی ۔ فرمایا وترکنا فیھا ایۃ للذین یخافون العذاب الالیم اس سارے واقعہ میں ہم نے ایک نشانی چھوڑی ہے مگر ان لوگوں کیلئے جو درد ناک عذاب سے خوف کھاتے ہیں ۔ یہ نشانی وہی کھنگر ہیں جو عرصہ دراز تک موقع پر پڑے رہے۔ وہاں سے گزرنے والے اپنی آنکھوں سے اس تباہ حال بستی کو دیکھتے تھے اور اس سے عبرت حاصل کرتے تھے ، یہ اتنا سخت عذاب تھا کہ نہ صرف ہنستی بستی آبادیاں کھنڈرات کا ڈھیر بن گئیں ، بلکہ سمندر کا پانی بھی زہریلا ہوگیا جسے اب بحر میت کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اب اس سمندر میں کوئی آبی جانور مینڈک مچھلی وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ اللہ نے اسی دنیا میں جزائے عمل کا ایک ادنیٰ سا نمونہ پیش کیا ہے اور پھر قیامت کے بڑے حادثے کا حال بھی بتلایا ہے۔