51. Surah Adh-Dhaariyat

الذارياتThe Winnowing Winds · 60 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 51:38–46

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 51:38 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ( نشانی ہے) جب کہ ہم نے بھیجا ان کو فرعون کی طرف کھلی سند دے کر

فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ Open ayah 51:39 in the Quran reader

پس روگردانی کی ( فرعون نے) اپنی قوت کے ساتھ اور کہنے لگا یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ Open ayah 51:40 in the Quran reader

پس پکڑا ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو ، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں ، اور اس کی حالت قابل ملامت تھی

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ Open ayah 51:41 in the Quran reader

اور قوم عاد میں بھی ( نشانی ہے ) جب کہ ہم نے بھیجی ان کے اوپر ہوا جو خبر سے خالی تھی

مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ Open ayah 51:42 in the Quran reader

نہیں چھوڑتی تھی وہ کسی چیز کو جس پر وہ چلتی تھی مگر کردیتی تھی اس کو چورا چورا

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 51:43 in the Quran reader

اور قوم ثمود میں بھی ( نشانی ہے) جبکہ کہا گیا ان کے لیے کہ فائدہ اٹھا لو ایک وقت تک

فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 51:44 in the Quran reader

پس سر کشی کی انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم کے سامنے پس پکڑا ان کو ایک کڑک نے ، اور وہ دیکھ رہے تھے

فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ Open ayah 51:45 in the Quran reader

پس نہ طاقت رکھی انہوں نے کھڑے ہونے کی اور نہیں تھے وہ بدلہ لینے والے

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 51:46 in the Quran reader

اور ( اسی طرح ہم نے ہلاک کیا) قوم نوح کو اس سے پہلے ، بیشک تھے وہ ایک نافرمان قوم

ربط آیات گزشتہ درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کا حال ذکر ہوا پوری قوم میں ایک گھرانے کے سوا کوئی بھی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والا نہیں تھا۔ یہ واقعہ دراصل جزائے عمل کی حقانیت کے سلسلے میں ہی پیش کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں بعض اقوام کو ان کے برئے انجام سے دو چار کر کے بتلا دیا کہ وہ آخرت میں بحیثیت مجموعی بھی ہر فرد کو اس کی کارکردگی کا بدلہ دینے پر قادر ہے۔ گزشتہ آیات میں فرمانبرداروں کے نمونہ کے طور پر اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور ساتھ ساتھ نافرمان اقوام کے پانچ واقعات بطور تمثیل بیان کیے ہیں ۔ مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کو سزا دیے بغیر نہیں چھوڑتا ۔ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے پوچھا کہ تمہارے آنے کا مقصد کیا ہے ، تو انہوں نے کہا کہ ہم لوط (علیہ السلام) کی مجرم قوم کو سزا دینے کے لیے آئے ہیں ، چناچہ لوط (علیہ السلام) کے ایماندار گھرانے کو بستی سے نکال کر پوری بستی کو الٹ دیا گیا اور اوپر سے پتھروں کی بارش بھی ہوئی جس کی وجہ سے پوری قوم سے ایک فرد بھی زندہ نہ بچا بلکہ سب کے سب ہلاک ہوگئے۔ فرعونیوں کی ہلاکت اب آج کی ابتدائی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے واقعہ کو بھی بطور نشانی پیش کیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے و فی موسیٰ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی نشانی موجود ہے۔ اس میں غور و فکر کرنے سے وقوع قیامت اور جزائے عمل کی بات سمجھ میں آسکتی ہے۔ فرمایا اذا ارسلنہ الی فرعون بسلطن مبین جب کہ بھیجا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف کھلی سند کے ساتھ ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو واضح تعلیم ، واضح معجزات اور دلائل وبراہین عطا فرمائے موسیٰ (علیہ السلام) کی نو واضح نشانیوں میں سے عصا اور ید بیضا خاص اہمیت کی حامل تھیں جب موسیٰ (علیہ السلام) یہ معجزات لے کر فرعون کے پاس گئے فتولی برکنہ تو اس نے اپنی پوری قوت کے ساتھ آپ کی دعوت سے روگردانی کی ، رکن کا معنی پہلو اور طاقت دونوں آتے ہیں اور اس مقام پر دونوں مراد ہو سکتے ہیں ۔ اگر رکن کا معنی پہلو کیا جائے تو مطلب ہوگا کہ فرعون نے آپ کی دعوت سے پہلو تہی کی یعنی اس سے بچنے کی کوشش کی ، اور اگر اس کا معنی قوت لیا جائے تو یہ بھی درست ہے کہ اس نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ دعوت توحید کا انکار کیا ۔ رکن بمعنی طاقت حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی استعمال ہوا ہے۔ قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اَوْ اٰوِیْٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ (ھود : 80) لوط (علیہ السلام) نے ناہنجار قوم سے کہا کاش میرے پاس طاقت ہوتی یا وہ طاقتور ہستی ہوتی جس پر بھروسہ کیا جاسکتا اور ظاہر ہے طاقتور ترین ہستی خدا کی ذات ہی ہو سکتی ہے بہر حال فرعون نے ساز و سامان اپنے امراء اور لشکر کی قوت کے بل بوتے پر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت اور آپ کے پیغام کا انکار کیا ۔ وقال سحر اور کہنے لگا کہ یہ شخص تو جادوگر ہے اور اپنے دعویٰ نبوت میں سچا نہیں ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر ان پر ایمان لانے کی بجائے انہیں جادو کا کرشمہ کہہ کر ٹال دیا ۔ بعض دوسری سورتوں میں موجود ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے خود نشانیاں طلب کی تھیں ۔ سورة الشعراء میں موجود ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی دعوت توحید دی تو وہ کہنے لگا ، اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید میں ڈال دوں گا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا خواہ میں تمہارے پاس کوئی واضح چیز لے آئوں ؟ قال فات بہ ان کنت من الصدقین ( آیت : 31) تو فرعون کہنے لگا ، لے آئو اگر تم سچے ہو ، مگر جب آپ نے واضح نشانیاں پیش کردیں تو کہنے لگا کہ یہ تو جادوگر ہے او مجنون یا یہ دیوانہ ہے جو ہمارے نظم و نسق کو خراب کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے آبائو اجداد کے رسم و رواج اور دین کو بدل کر ہمارے معاشرے میں خرابی پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ اس مقام پر اللہ نے نہایت اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ جب فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے آپ کو ختم ہی کردینا چاہا اور آپ کے سخت دشمن بن گئے فاخذنہ و جنودہ تو ہم نے پکڑ لیا فرعون کو بھی اور اس کے لشکر کو بھی فنبذنھم فی الیم اور ہم نے انہیں دریا میں پھینک دیا اس حالت میں وھو ملیم کہ وہ قابل ملامت تھا۔ اللہ نے قیامت تک کے لیے فرعون پر لعنت مسلط کردی ہے۔ اب ہر شخص اس پر لعنت کرتا ہے ، اور قیامت والے دن بھی فرعون بمع اپنی قوم لعنت ہی کا شکار بنے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون سمیت پورے لشکر کو بحر قلزم میں غرق کردیا اور فرعون کی لاش کو عبرت کے لیے باقی رکھا جو آج بھی لوگوں کے لیے باعث عبرت بنی ہوئی ہے ، جو بھی اس کو دیکھتا ہے ، اس پر لعنت ہی بھیجتا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ قرآن پاک میں چھپالیس مرتبہ سے زیادہ بیان ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ واقعہ بائیبل میں بھی مذکورہ ہے اور تاریخ کے اوراق میں بھی محفوظ ہے۔ اس واقعہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل ہی کے سلسلہ میں کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو خدا کسی نافرمان کو اس دنیا میں سزا دے سکتا ہے وہ آخرت میں بھی جائے عمل پر قادر ہے۔ قوم عاد کا حال اس کے بعد اللہ نے قوم عاد کا حال بیان کیا ہے و فی عاد اور قوم عاد میں بھی نشانی ہے۔ یہ بھی بڑے طاقتور اور جبار لوگ تھے ، اقتدار کے مالک تھے ، ان کے پاس بےشما ر وسائل تھے اور بڑے خوشحال تھے ۔ تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہو دعلیہ السلام تقریباً چار سو سال تک اس قوم کو وعظ و نصیحت کرتے رہے مگر جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی (رح) نے اپنی تاریخ کی کتاب میں لکھا ہے ، ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائے ، پھر جب ان کی نافرمانی حد سے تجاوز کرگئی تو اللہ کا غضب جوش میں آ گیا اذارسلنا علیھم الریع العقیم جب کہ ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی یعنی ایسی ہوا جو خیر و برکت سے خالی تھی ۔ ا س ہوا کے متعلق سورة الحاقہ میں آتا ہے سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ (آیت : 7) خدا تعالیٰ نے اس کو ان لوگوں پر سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل چلایا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا ما تذرمن شی اتت علیہ الا جعلتہ کالرمیم کہ وہ جس چیز پر چلتی تھی اس کو چورا چورا کر کے چھوڑتی تھی ۔ رمیم بوسیدہ ہڈیوں یا خشک گھاس یا لکڑی وغیرہ کو بھی کہا جاتا ہے جو ذرا سا چھیڑنے سے ریزہ ریزہ ہوجائے ، تو یہ ہوا اتنی تند تھی کہ جس چیز کو لگتی تھی اسے تہس نہس کردیتی تھی ۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو اس تند ہوا کے ذریعے ہلاک کیا ، اور فرمایا کہ اس میں بھی جزائے عمل کی نشانی ہے۔ ہوائوں کے اثرات اس سورة کی ابتداء اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کی قسم اٹھا کر کی تھی والذریت ذرواً قسم ہے بکھیرنے والی ہوائوں کی جو گرد و غبار کو اڑاتی ہیں ۔ یہ ہوا ہی ہے جو مختلف حالتوں میں روز مرہ مشاہدے میں آتی ہے۔ جب یہ تیز ہوتی ہے تو آندھی بن جاتی ہے گرم ہو تو لو ۔ اور جب ٹھنڈی ہو تو ہر چیز کو یخ بستہ کرتی چلی جاتی ہے ۔ پھر یہی ہوا ، جب نرمی اور آہستگی سے چلتی ہے تو باد نسیم بن کر انسانوں ، جانوروں اور نباتات کے لیے خوش کن بن جاتی ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے میری مدد مشرقی ہوا صبا کے ساتھ فرمائی ہے ، جنگ احزاب کے موقع پر جب کفار نے مدینہ کا محاصرہ کرلیا تھا اور مدینے کے مسلمان سخت آزمائش میں مبتلا ہوگئے اس وقت اللہ نے مشرق کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چلائی جس سے دشمن کے خیمے اکھڑ گئے اور وہ جم نہ سکے اور بالآخر ان کو محاصرہ چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس موقع پر اہل ایمان کی تقویت کے لیے فرشتے بھی موجود تھے اور ادھر ہوا بھی اپنا کام کر رہی تھی ۔ گویا اللہ نے مشرقی ہوا کے ذریعے حضور ﷺ کی مدد فرمائی ۔ اس کے بر خلاف قوم عاد پر اللہ نے مغرب سے گرم ہوا ( دبور) مسلط کی جس نے ان کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا ۔ وفد عاد کا تذکرہ ترمذی شریف کی روایت میں یہ تفصیل موجود ہے کہ علاقہ سبا کے رہنے والے قبیلہ ربیعہ کے ایک صحابی حارث ابن یزید ؓ مدینہ طیبہ آئے ۔ ان کا اپنا بیان ہے کہ جب میں یہاں پہنچا تو اس وقت مسجد نبوی لوگوں سے بھری ہوئی تھی ، جھنڈے جھول رہے تھے اور حضرت بلال ؓ تلوار لٹکائے حضور ﷺ کے سامنے حاضر تھے میں نے پوچھا کہ سب لوگوں کے جمع ہونے کی کیا وجہ ہے تو لوگوں نے مجھے بتلایا کہ حضور ﷺ حضرت عمر ابن العاص ؓ کی قیادت میں ایک لشکر جہاد پر روانہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سب لوگ جمع ہیں ۔ حضرت حارث ؓ کا بیان ہے کہ پھر میرا ذکر حضور ﷺ کی خدمت میں بایں الفاظ کیا گیا کہ عاد کی سر زمین سے ایک وفد آیا ہے۔ جب میں نے اپنا تعارف اس طریقے سے سنا تو فوراً کہا ۔ اعوذ باللہ ان اکون مثل وافد عاد پناہ بخدا کہ میں وفد عاد کی طرح بن جائوں ۔ حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیوں بھائی اس وفد میں کیا خرابی کی بات تھی جو تجھے ناپسند ہے تو میں نے عرض کیا ، حضور ! یہ ہزاروں سال پرانا واقعہ ہے مگر زبان زد عام ہو نیکی وجہ سے مشہور ہے جس کا ذکر تفسیری روایات میں بھی ملتا ہے ۔ ایک دفعہ قوم عاد پر سخت قحط پڑا ، تین سال تک بارش کا ایک قطرہ نہ گرا جس کی وجہ سے انسان اور جانور ہلاک ہونے لگے ۔ اس زمانے میں خانہ کعبہ کی عمارت تو گر چکی تھی ، صرف ایک ٹیلہ سا باقی تھا مگر پھر بھی وہاں آ کر لوگ دعائیں کیا کرتے تھے کیونکہ یہ خطہ ہمیشہ سے متبرک رہا ہے ۔ قحط سالی سے تنگ قوم عاد نے اپنے ایک سردار کی قیادت میں ایک وفد مکہ بھی جاتا کہ جا کر دعا کریں ، تا کہ اللہ تعالیٰ قحط سالی کو دور فرمائے۔ یہ وفد مکہ کے قریب ایک شخص بکر ابن معاویہ کے پاس مہمان ٹھہرا ۔ میزبان نے بڑی عزت و تکریم سے وفد کو اپنے ہاں ٹھہرایا اور ان کی خوب خاطر مدارت کی ۔ اچھا کھانا کھلاتا رہا ، شراب کے جام چلتے رہے ، گانے بجانے والی لونڈیاں دل بہلاتی رہیں ۔ حتیٰ کہ اسی عیش و آرام میں ایک ماہ گزر گیا اور وفد جس کام یعنی دعا کے لیے آیا تھا وہ مؤخر ہوگیا ۔ پھر وہ وفد وہاں سے نکل کر مکہ کی پہاڑیوں جبال مہرہ پہنچا اور دعا کی پروردگار ! کہ میں کسی بیمار کی شفا یابی کی درخواست لے کر نہیں آیا ، اور نہ ہی میں کسی قیدی کی رہائی کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔ میری درخواست یہ ہے کہ جس طرح تو پہلے ہماری قوم کو سیراب کرتا تھا۔۔۔ اب بھی سیراب فرما یعنی بارش نازل فرما کر قحط سالی دور کرے۔ اور ساتھ یہ بھی کہا کہ جس شخص کے پاس میں مہمان ٹھہراہوں اس کو سیراب فرما۔ قوم عاد کی تباہی اس وقت آسمان پر تین قسم کے بادل نمودار ہوئے یعنی سفید ، سرخ اور سیاہ ، ان بادلوں سے آواز آئی اختر یعنی ان میں سے جو تمہیں پسند ہے اس کو اختیار کرلو ۔ وفد کے سردار نے سیاہ بادل کو پسند کیا کیونکہ عام طور پر کالی گھٹا بارش لاتی ہے۔ وفد اور قوم کے لوگ خوش ہوگئے کہ کالی گھٹا چھائی ہے۔ اب بارش ہوگی اور سارا علاقہ جل تھل ہوجائے گا ۔ سورة الاحقاف میں ہے ۔ قالواھذا عارض ممطرنا ( آیت : 24) کہ وہ کہنے لگے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا مگر اللہ نے فرمایا بل ھو ما استعجلتھم بلکہ یہ تو وہ چیز ہے جس کے لیے تم جلدی کرتے تھے۔ یعنی یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے تم پر ہوا کی صورت میں عذاب آ رہا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ یہ ہوا کوئی بہت زیادہ نہیں تھی ، بلکہ صرف انگوٹھی کے حلقے جتنے حصے سے چھوڑی گئی تھی جو سات رات اور آٹھ دن تک متواتر چلتی رہی ۔ یہ ہوا جس چیز پر چلتی تھی اسے چور ا چورا کر کے رکھ دیتی تھی ۔ پوری قوم میں سے سوائے ایماندار آدمیوں کے کوئی بھی زندہ نہ بچا ۔ اس ہوا نے عادیوں کو زمین سے اٹھا اٹھا کر پٹخ دیا اور پھر ان کی لاش زمین پر اس طرح پڑی تھیں ۔ کانھم اعجاز نخل خاویۃ ( الحاقہ : 7) گویا کہ کھجوروں کے بڑے بڑے تنے ہوں۔ قوم ثمود کی تباہی آگے اللہ نے قوم ثمود کا نمونہ بھی پیش کیا ہے و فی ثمود اور قوم ثمود میں بھی جزائے عمل کی نشانی موجود ہے۔ یہ بڑے متمدن ، صناع اور کاریگر لوگ تھے۔ پہاڑوں کو تراش کر نقش و نگار والی عالیشان عمارتیں بناتے تھے۔ ان کی تعمیر کردہ میدانی علاقوں کی عمارات بھی قابل دید تھیں ۔ اس قوم نے اپنے نبی صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور قیامت اور جزائے عمل کا انکار کیا ۔ بالآخر ان سے کہا گیا اذ قیل لھم تمتعوا حتی حین چند دن کے لیے فائدہ اٹھا لو ۔ فعتوا عن امر ربھم مگر انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سر کشی اختیار کی فاخذتہم الصعفۃ پس ان کو ایک کڑک چیخ نے پکڑ لیا ۔ وھم ینظرون اور وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ پھر ان کی حالت یہ ہوگئی فما استطاعوا من قیام ان میں کھڑے ہونے کی طاقت نہ رہی ۔ سورة الاعراف میں ہے فاصبحوا فی دارھم جثمین ( آیت : 78) وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے تھے۔ وما کانوا منتصرین اور وہ کسی سے بدلہ لینے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھے۔ وہ اللہ کی گرفت میں آ چکے تھے ، بھلا بدلہ کس سے لیتے ؟ قوم عاد کا حال یہ تھا کہ اللہ نے فرمایا واذا بطشتم بطشتم جبار ین ( الشعرائ : 130) جب تم خود کسی کو پکڑتے ہو تو سخت ظالمانہ طریقے سے گرفت کرتے ہو مگر جب یہ قوم ثمود گرفت میں آئی تو نہ کھڑے ہونے کی طاقت باقی رہی اور نہ کسی سے بدلہ لے سکے ، ان کی تمام غلط کاریاں ختم ہو کر رہ گئیں۔ قوم نوح کی غرقابی اس کے بعد اللہ نے پانچواں نمونہ قوم نوح کا بیان فرمایا ہے وقوم نوح من قبل اس سے پہلے یعنی قوم عاد وثمود سے پہلے قوم نوح کا واقعہ بھی قابل غور ہے ۔ اس کو بھی اللہ نے جزائے عمل کے نمونہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی لمبے عرصے تک تبلیغ اور قوم کا انکار قرآن میں متعدد سورتوں میں مذکور ہے بلکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے نام سے ایک مستقل سورة نوح بھی ہے آپ ساڑھے نو سال تک قوم کو اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے مگر نتیجہ کیا نکلا ما امن معہ الا قلیل ( ھود : 40) بہت ہی کم لوگ ایمان لائے یعنی اسی کے قریب افراد جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے۔ باقی ساری قوم انھم کانوا قوما ً فسقین نافرمان ہی رہی ۔ سورة الاعراف میں اسے قوما عمین ( آیت : 64) اندھی قوم کہا گیا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو بھی طوفان میں غرق کردیا ۔ فرمایا جس طرح ہم نے مختلف قوموں کو دنیا میں سزا دی ، اسی طرح پوری نسل انسانی کا بھی محاسبہ ہوگا اور جزائے عمل واقع ہو کر رہے گی ۔
Ayahs 51:47–55

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ Open ayah 51:47 in the Quran reader

اور آسمان کو بنایا ہے ہم نے قوت کے ساتھ اور بیشک ہم سب قدرت رکھنے والے ہیں

وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ Open ayah 51:48 in the Quran reader

اور زمین کو بچھایا ہے ہم نے ، پس کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں ہم

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 51:49 in the Quran reader

اور ہر چیز سے پیدا کیا ہم نے جوڑا تا کہ تم نصیحت حاصل کرو

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:50 in the Quran reader

پس بھاگو اللہ کی طرف ، بیشک میں تمہارے لیے اس کی طرف سے کھول کر ڈر سنانے والا ہوں

وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 51:51 in the Quran reader

اور نہ ٹھہرائو اللہ کے ساتھ اور معبود ، بیشک میں تمہارے لیے اس کی جانب سے کھول کر ڈر سنانے والا ہوں

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ Open ayah 51:52 in the Quran reader

اسی طرح نہیں آیا ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے گزرے ہیں ، کوئی رسول ، مگر کہا انہوں نے کہ یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے

اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 51:53 in the Quran reader

کیا وہ وصیت کر گئے ہیں اس بات کی ؟ بلکہ یہ لوگ ہیں سر کشی کرنے والے

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘ Open ayah 51:54 in the Quran reader

پس آپ منہ پھیر لیں ان کی طرف سے ، پس نہیں آپ پر کوئی ملامت

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 51:55 in the Quran reader

اور آپ نصیحت کریں ، پس بیشک نصیحت فائدہ کرتی ہے ایمان والوں کے لیے

ربط آیات وقوع قیامت اور جزائے عمل کے سلسلہ میں اللہ نے مجرموں کو سزا یابی کے کئی واقعات بیان فرمائے اور یاددلایا کہ اہل ایمان کے لیے یہ نشانیاں ہیں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں نافرمانوں کو سزا دی اس طرح وہ آخرت میں بھی گرفت کرنے پر قادر ہے۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب الیم سے خوف کھاتے ہیں ، وہ ایمان لانے اور نیکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آسمان کی تخلیق مسئلہ جزائے عمل کی وضاحت کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کیا ہے جو اس کی وحدانیت پر دلیل بنتی ہے ارشاد ہوتا ہے والسماء بینھما بایید اور ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ پیدا کیا ۔ اتنے لمبے چوڑے اور وسیع آسمان کی تخلیق اور وہ بھی بغیر ستونوں کے ، قدرت کاملہ کی بہت بڑی دلیل ہے۔ اید کا معنی ہاتھ ہیں جو انسانی قدرت کا مظہر ہوتے ہیں اور اسی سے مراد قوت ہے ، جیسا کہ سورة ص میں اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ۔ واذ کر عبدنا دائود ذالاید (آیت : 17) ہمارے بندے دائود (علیہ السلام) کا تذکرہ کریں ۔ جو کہ ہاتھوں والے یعنی قوت والے تھے ، بہر حال اید سے مراد قوت یا طاقت ہے جس کے ذریعے اللہ نے آسمان کو پیدا فرمایا ۔ اس تذکرے سے مراد یہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ آسمان جیسی وسیع و عریض چیز کو پیدا کرنے پر قادر ہے ، وہ کسی انسان مجرم کو گرفت کرنے پر کیوں قادر نہیں جب کہ انسان کی حیثیت ہی آسمان کے مقابلے میں کیا ہے ؟ مگر اس کا حال یہ ہے کہ یہ غرور وتکبر کی بناء پر اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے ، اور وقوع قیامت اور جزائے عمل کا انکار کردیتا ہے۔ فرمایا آسمان کی تخلیق کوئی بڑی بات نہیں ہے وانا لموسعون ہم ہر چیز پر قدرت رکھنے والے ہیں ، ہم اس سے بھی بڑی چیزیں پیدا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ زمین کا فرش پھر فرمایا والارض فرشنھا دیکھو ! ہم نے زمین کو کس طرح سے بچھا دیا ہے فننعم المھدون پس ہم بہت ہی خوب زمین کو بچھانے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے زمین کی ہیئت اس طرح کی بنائی ہے کہ یہ انسان اور دیگر جانداروں کی تمام ضروریات پوری کرتی ہے تمام جانداروں کی خوراک زمین سے ہی پیدا ہوتی ہے اس کی سطح ایسی نرم ہے کہ اس میں آسانی کے ساتھ کاشتکاری ہو سکتی ہے جس سے پھل پھول اور اناج پیدا ہوتا ہے ۔ اگر یہ زمین زیادہ سخت ہوتی تو کھیتی باڑی نہ ہو سکتی اور اگر زیادتی نرم ہوتی تو اس ٹکنا مشکل ہوجاتا ، غرضیکہ اللہ نے اس کو زمینی مخلوق کی مصلحت کے عین مطابق بنایا ہے۔ اس مقام پر زمین کی جس خاص خوبی کا ذکر کیا گیا ہے وہ فرشنھا سے ظاہر ہے یعنی اس کی سطح ہموار ہے جس کی وجہ سے لوگ اس پر آسانی سے چلتے پھرتے ، کاروبار کرتے ، عمارات تعمیر کرتے اور اسی پر سوتے ہیں ۔ اگر یہ ہموار نہ ہوتی تو اس پر کاروبار حیات کو جاری رکھنا مشکل ہوجاتا ۔ اگرچہ یہ زمین ہمیں بظاہر سطح نظر آتی ہے ۔ مگر جدید سائنسی تحقیق کے مطابق زمین چپٹی نہیں بلکہ گیند کی طرح گول ہے۔ اور شمالی اور جنوبی قطبین کے قریب پچ کی ہوئی ہے ، تا ہم اپنی وسعت کی وجہ سے یہ گول کی بجائے چپٹی محسوس ہوتی ہے۔ آج کل سائنسدان خلائی سفر پر جا رہے ہیں فضا سے لی گئی زمین کی تصویر میں زمین بالکل گیند کی طر ح گول نظر آتی ہے جس طرح ہمیں زمین سے چاند اور سورج گول دکھائی دیتے ہیں ، اسی طرح خلاء سے زمین بھی گول ہی نظر آتی ہے۔ بہر حال فرمایا کہ ہم نے زمین کو بچھا دیا اور ہم اس کو خوب بچھانے والے ہیں ۔ ہر چیز کا جوڑا آگے اللہ نے اپنی ایک اور قدرت کا تذکرہ فرمایا ہے ومن کل شی خلقنا زوجین اور ہم نے ہر چیز سے جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسانوں اور دیگر جاندار مخلوق میں تو ہم ہر جنس کے جوڑے جوڑے کا مشاہدہ کر رہے ہیں تا ہم سائنسدان بتلاتے ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹے کیڑے مکوڑے سے لیکر سمندر کی بڑی سے بڑی مخلوق تک ہر چیز کو اللہ نے جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ، حتیٰ کہ علم نبایات والوں کی تحقیق یہ ہے کہ اللہ نے تمام نباتات کو بھی جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ، نر و مادہ کے جوڑے سے ہی آگے حیوانات یا نباتات کی نسلی چلتی ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ زوجین سے مراد متضاد چیزیں ہیں یعنی ہر وہ چیز زوجین کہلا سکتی ہے جو اپنا مد مقابل رکھتی ہے۔ مثلاً نور و ظلمت یا لیل و نہار آپس میں متضاد ہیں اور جوڑا جوڑا ہیں ۔ اسی طرح خشکی اور تری ، ارض و سما ، میدان اور پہاڑ ، بحرو بر زوجین میں شمار کیے جاسکتے ہیں ۔ صفات میں سعادت اور شقاوت ، کفر اور ایمان بھی زوجین ہیں ۔ گرمی اور سردی ، حلم اور قہر ، بہادری اور بزدلی ، بخل اور سخاوت ، حق اور باطل میٹھا اور کڑوا ، صحت اور بیماری ، غنی اور فقر ، ضحک اور بکا ، فرحت اور غم ہوت اور حیات ، دنیا اور عقبی وغیرہ سب زوجین میں شمار ہوتی ہیں ۔ اگر انسان ان چیزوں میں غور و فکر کریں تو اللہ کی قدرت اور اسکی وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے لعلکم تذکرون تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ دعوت الی التوحید اس سورة میں دین کے بنیادی عقائد قرآن کریم کی حقانیت ، توحید ، رسالت اور وقوع قیامت کا ذکر بھی آ رہا ہے ، چناچہ یہاں پر دعوت الی التوحید کے ضمن میں ارشاد فرمایا ہے ففروا الی اللہ پس اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑو۔ مراد یہ ہے کہ ہر طرف سے کٹ کر صرف اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اسی کی عبادت کرو اور اسی کے ساتھ اپنا تعلق درست کرو ۔ حنفاء للہ غیر مشرکین بہ ( الحج : 31) حنیف بن جائو اور مشرک نہ بنو ، کفر ، شرک اور معصیت کو چھوڑ دو اور ساتھ اپنے پیغمبر کی زبان سے یہ بھی کہلوایا انی لکم منہ نذیر مبنی میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھول کر ڈر سنانے والا ہوں ۔ میں خدا کا رسول ہوں اور مجھے انداز کا حکم دیا گیا ہے ۔ جو لوگ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا انکار کرتے ہیں کفر اور شرک کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، میں ان کو ان کے برے انجام سے آگاہ کر رہا ہوں۔ اللہ کا نبی تاکید ا ًفرماتا ہے ولا تجعلوا مع اللہ الھا اخر اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ ٹھہرائو ، کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا نہ سمجھو کسی کی نذر و نیاز نہ دو ۔ اللہ کے سوا نہ کوئی خالق ہے نہ مالک ، نہ قادر مطلق ہے اور نہ علیم کل وہی متصرف اور مدبر ہے ، وہی قدرت تامہ کا مالک ہے اور مستحق عبادت ہے ، لہٰذا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو اور دوبارہ سن لو انی لکم منہ نذیر مبین بیشک میں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے کھول کر ڈر سنانے کے لیے آیا ہوں ۔ میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے خلاف چلو گے تو انجام بہت برا ہوگا ۔ انکار رسالت اگلی آیت میں اللہ نے منکرین رسالت کا تذکرہ فرمایا ہے کذلک ما اتی الذین من قبلھم من رسول اسی طریقے سے نہیں آیا ان سے پہلے لوگوں کے اس کوئی رسول الا قالوا ساحر او مجنون مگر انہوں نے یہی کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ فرمایا یہ صرف مکہ اور عرب کے مشرکین کی بات نہیں بلکہ جس قوم میں بھی اللہ کا کوئی رسول آیا انہوں نے انکار ہی کیا ۔ انہوں نے اللہ کے نبی کی بات پر کبھی غور ہی نہ کیا اور جب انہوں نے اللہ کا پیغام سنایا تو اسے حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا ۔ فرمایا اتوا صوابہ کیا تمہیں پہلے لوگ وصیت کر گئے تھے کہ ان کی طرح تم بھی اللہ کے رسولوں کا انکار کردینا ، اور کیا تم انہی کی وصیت پر عمل کر رہے ہو ؟ جب قوم نوح کا بوڑھا آدمی قریب المرگ ہوتا تو وہ دوسروں کو وصیت کرجاتا کہ دیکھنا کہیں نوح (علیہ السلام) کی بات کو نہ مان لینا ورنہ وہ تمہیں تمہارے ابائو اجداد کے دین سے پھیر دے گا ۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ بل ھم قوم طاغون کہ وہ سر کش لوگ تھے جو توحید و رسالت کا انکار کرتے تھے ۔ یہ ان کی سر کشی کا نتیجہ تھا کہ اللہ کے نبی کو ساحر اور مجنون کا خطاب دے دیا ۔ العیاذ باللہ ۔ تسلی کا مضمون آگے اللہ نے اپنے پیغمبر کو تسلی دلائی ہے فتول عنھم آپ ایسے منکرین توحید و رسالت سے منہ پھیر لیں ، ان کی طرف زیادہ توجہ نہ دیں فما انت بملوم آپ پر کچھ ملامت نہیں ۔ اگر یہ لوگ فتنہ پردازی کرتے ہیں ، افتراء باندھتے ہیں ، اکڑ دکھاتے ہیں تو آپ اپنا فریضہ ادا کرتے ہوئے سمجھا دیں اور اس کے بعد ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں ۔ آپ اس بات کے ذمہ دار نہیں ہیں کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لائے۔ آپ کا فرض یہ ہے بلغ ما انزل الیک من ربک ( المائدہ : 67) جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے۔ اس کو ان لوگوں تک پہنچا دیں ، اس کے بعد ماننا نہ ماننا ان کی ذمہ داری ہے اور قیامت والے دن انہی سے سوال ہوگا کہ میرے پیغام کے ساتھ تم نے کیا سلوک کیا آپ اپنا فریضہ ادا کردیں اور بس ۔ اور ساتھ یہ بھی فرمایا وذکر آپ ان کو نصیحت کردیں فان الذکری تنفع المومنین بیشک یہ نصیحت ایمانداروں کو ضرور فائد ہ دے گی ۔ البتہ سرکش اور شرارتی لوگ اس نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ جب آپ ان لوگوں کے سامنے اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ کریں گے ، ثواب و عقاب کی بات پیش کریں گے ۔ شیطان کے ورغلانے کی بات کریں گے تو انہیں غور و فکر کا موقع ملے گا ۔ پھر جن کے دل میں ایمان کا جذبہ موجود ہوگا وہ اس سے مستفید ہو کر راہ راست پر آجائیں گے ، اور جو ایمان سے یکسر خالی ہوں گے ۔ ان پر آپ کی نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوگا۔ اسی نصیحت ہی کے ضمن میں ایک عرب شاعر دنیا کی بےثباتی اور انسان کی بےبسی کے متعلق کہتا ہے ؎ کل بن انثی وان طالت سلامتہ لا بد یوما ً علی الۃ الحدباء محمول حوا کا بیٹھا کتنی بھی صحت و سلامتی میں ہو مگر ایک دن اسے ٹیڑھے آلے یعنی جنازے کی چارپائی پر سوار ہونا ہی پڑے گا ۔ یلیت شعری وھم العرء ینصبہ ولیس لہ فی العیش تحذیر کاش کہ مجھے معلوم ہو کہ انسان کو موت کی فکر کس قدر غم میں ڈالتی ہے مگر انسان کو زندگی میں موت سے بچانے والی کوئی چیز نہیں ہے۔ علامہ اقبال (رح) نے بھی کہا ہے۔ آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھنا دم دے نہ جائے ہستی نا پائیدار دیکھان ہماری مثال تو چنگاری جیسی ہے جو ابھی سلگ رہی ہے مگر عنقرب بجھ جائیگی اور ظاہر ہے کہ موت لازماً آنے والی ہے ، جس سے کسی طرح بھی مفر نہیں مقصد یہ ہے کہ دنیا کی ناپائیداری کی اس طرح کی باتیں نصیحت کا درجہ رکھتی ہیں ۔ پھر قیامت کی ہولناکیوں اور جزائے عمل کی منزل کا تذکرہ بھی انسان کے لیے باعث نصیحت ہو سکتا ہے۔ اس قسم کی باتیں ایمان والوں کے لیے یقینا مفید ہوں گے۔ ان تمام چیزوں کا تذکرہ قرآن پاک میں موجود ہے ، لہٰذا ان باتوں کی نصیحت کرتے ہیں۔
Ayahs 51:56–60

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ Open ayah 51:56 in the Quran reader

اور نہیں پیدا کیا میں نے جنوں اور انسانوں کو مگر اس لیے تا کہ وہ میری عبادت کریں

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ Open ayah 51:57 in the Quran reader

میں نہیں چاہتا ان سے روزی ، اور میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے کھلائیں

اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ Open ayah 51:58 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ ہی روزی دینے والا ہے مضبوط طاقت کا مالک

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 51:59 in the Quran reader

بیشک ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ہے ، ڈول بھر چکا ہے جیسا کہ ان کے ساتھیوں کا ، پس یہ جلدی نہ کریں

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ Open ayah 51:60 in the Quran reader

پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ، اس دن جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر منکرین قیامت کا رد ہوا ہے ، اور اب آخر میں اللہ نے اس کی طرف رجوع کرنے اور اپنی توحید کا مسئلہ بیان فرمایا ہے ۔ گزشتہ درس میں منکرین رسالت کا تذکرہ کیا اور اللہ کے نبی کو ساحر اور مجنون کہنے والوں کی مذمت بیان کی ۔ پھر آخر میں اپنے نبی کو تسلی دی اور ساتھ ساتھ لوگوں کو نصیحت کرنے کا حکم دیا ۔ اللہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ آپ اپنا کام کرتے چلے جائیں ، آپ کی نصیحت سے اہل ایمان ہی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ مقصد تخلیق جن و انس آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کی تخلیق کی غرض وغایت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وما خلقت الجن والانس الا لیبعدون میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ بعض مفسرین اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لیے پیدا کیا ہے تا کہ وہ مجھے پہچان لیں ” یا “ میری توحید کو مان لیں ۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ لفظ عبادت تو عام ہے۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے اپنی کون سی عبادت کے لیے جنوں اور انسانوں کی تخلیق فرمائی ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ اس عبادت میں دو چیزیں شامل ہیں یعنی التعظیم لامر اللہ ( اللہ کے حکم کی تعظیم کرنا) والشفقۃ علی خلق اللہ ( اور مخلوق خدا پر شفقت و مہربانی کرنا) مقصد یہ ہے کہ عبادت کی یہ دو قسمیں تو عام جنوں اور انسان کے لیے مشرک ہیں ۔ مگر باقی عبادت ہر دو انواع اپنی اپنی شرائع کے مطابق کرنے کے پابند ہیں۔ چار ضروری خصلتیں حضرت امام شاہ ولی اللہ (رح) محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے سلسلے میں چار خصلتیں تمام سابقہ امتوں اور ہماری امت میں بھی برابر ضروری ہیں فرماتے ہیں کہ پہلی خصلت طہارت ہے۔ انسان کا جسم اور لباس بھی پاک ہو اور اس کی روح اور عقیدہ بھی پاک ہو۔ طہارت کے خلاف ہر چیز نجاست ہے ۔ خواہ وہ ظاہری نجاست ہو یا اعتقاد ، اخلاق اور عمل کی نجاست ہو ۔ انسان کی ہر حالت میں ظاہری باطنی طہارت کا خیال رکھنا چاہئے۔ اور کفر ، شرک ، نفاق اور بد عقیدگی سے بچنا چاہئے کہ طہارت کا یہی تقاضا ہے۔ فرماتے ہیں کہ دوسری ضروری خصلت انبات یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنا ہے۔ انسان کو غرور وتکبر سے بچنا چاہئے ، کیونکہ یہ بہت بری خصلت ہے ۔ اس کی بجائے انسان کو عجز و انکساری کا پتلا ہونا چاہئے۔ تیسری چیز سماحت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی خسیس چیزوں سے بچ جائے اور اچھی باتوں کو اختیار کرلے۔ اسی کا دوسرا نام تقویٰ ہے۔ تمام امم میں چوتھی مشترک چیز عدالت ہے۔ انسان کو اپنے بیگانے ہر ایک کے حق میں انصاف کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ عدل کرو کیونکہ یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے عدل کے بالمقابل ظلم و جور ہوے جو کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ۔ صحت عبادت کے لیے لازمہ عبادت ایک عام چیز ہے جسے دہریوں کے سوا تمام اہل مذاہب ادا کرتے ہیں ۔ یہود ، نصاریٰ ، ہنود ، مشرک ، مجوسی اور بدھ مت والے سارے ہی اپنے اپنے طریقہ پر خدا کی عبادت کرتے ہیں ۔ مگر صحیح عبادت کے لیے خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی صحیح پہچان ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر عبادت کا حق ادا نہیں کرسکتا ۔ صحت عبادت کے لیے خدا تعالیٰ کی تنزیہہ کا اقراء بھی ضروری ہے ، یعنی انسان اس اعتقاد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے کہ وہ عیب اور نقص سے پاک ہے اور تمام خوبیوں کا مالک ہے ، انسان کے قلب و ذہن میں یہ بات بھی راسخ ہونی چاہئے کہ وہ جس ذات کی عبادت کر رہا ہے اسے تمام اسباب پر کنٹرول حاصل ہے۔ وہ نافع اور ضار ہے ، قادر مطلق اور علیم کل ہے۔ بہر حال اس عقیدے کے تحت جو انتہائی درجے کی تعظیم ہوگی وہی صحیح عبادت ہوگی ۔ خواہ وہ قیام کی صورت میں ہو ، رکوع یا سجدہ ہو یا نذر و نیاز کی صورت میں ہو ۔ غرضیکہ عبادت کی مختلف شکلیں ہیں اور یہ اس وقت تک ٹھکانے نہیں لگ سکتی جب تک خدا تعالیٰ کی صحیح پہچان نہ ہو۔ عبادت کا فائدہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا تاکیدا ً حکم دیا ہے ، کیا خدا کی عبادت بجا لانے میں اس کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے ؟ فرمایا ما ارید منھم من رزق میں اپنی عبادت کرو کے اپنے بندوں سے کوئی روزی تو طلب نہیں کرتا ۔ دنیا کا یہ دستور تو ہے کہ آقا اپنے غلام یا نوکروں کی کمائی کھاتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ تو ان چیزوں سے پاک ہے اسی لیے اس نے تاکیدا ً واضح کردیا ہے۔ وما ارید ان یطعمون میں نہیں چاہتا کہ یہ لوگ مجھے کھلائیں ۔ اللہ تعالیٰ تو کھانے پینے سے پاک ہے ، وہ تو خود اپنی مخلوق کو روزی پہنچاتا ہے ۔ اس کو رزق کی کیا پرواہ ہو سکتی ہے ؟ فرمایا ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین بیشک روزی رساں تو وہی ہے ۔ وہ تو خود ساری مخلوق کا رزاق ہے اور مضبوط طاقت کا مالک ہے ، اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس نہ کسی کی عبادت کی ضرورت ہے ، نہ خدمت کی بلکہ عبادت کرنے میں خود بندے کا اپنا ہی فائدہ ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جب تک انسان اور جن صحیح طریقے پر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے رہیں گے ان کا ملکی مزاج درست رہے گا اور وہ ترقی کی منازل طے کرتے چلے جائیں گے ۔ حتیٰ کہ اللہ کا حکم ہوگا فادخلی فی عبدی ( الفجر : 29) میرے بندوں میں یعنی ” خطیرۃ القدس “ میں داخل ہو جائو ۔ مطلب یہ کہ عبادت کرنے میں خود انسان ہی کا فائدہ ہے۔ شاہ صاحب (رح) وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مزاج کی درستگی کا مطلب یہ ہے کہ جو خوراک اللہ نے کسی جاندار کے لیے فطری طور پر مقدر کی ہے ، اسے استعمال کر کے اس کا مزاج درست رہے گا ۔ اور اگر وہ غیر فطری خوراک کھانے لگے تو اس کا مزاج بگڑ جائے گا ۔ اونٹ ، گائے ، بھیڑ ، بکری وغیرہ جب تک گھاس سبزہ وغیرہ کھاتے رہیں گے۔ ان کا مزاج صحیح رہے گا ۔ اور اگر یہ گوشت کھانا شروع کردیں تو مزاج خراب ہوجائے گا ۔ اسی طرح اگر گوشت خور درندے گھاس کھانے لگیں تو ان کا مزاج بگڑ جائے گا ۔ اس کلیہ کے مطابق جب تک جن اور انسان خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے رہیں گے ، ان میں پاکیزہ اخلاق پیدا ہونگے اور وہ ترقی کی منازل طے کرتے چلے جائیں گے۔ بر خلاف اس کے اگر وہ عبادت الٰہی کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے تو تنزل کے گڑھے میں جا گریں گے۔ بہر حال عبادت کرنے کا فائدہ خود انسان کو ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو خطاب کر کے فرماتے ہیں یا ابن ادم تفرع لعبادتی املاء صدرک بالغنی ولاتفعل املا صدرک شغلا ً اے آدم کے بیٹے اپنے آپ کو میری عبادت کے لیے فارغ کر دے تو میں تیرے سینے کو غنی سے بھر دوں گا اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو تمہارے سینے بیہودہ چیزوں سے بھر دوں گا اور تمہارا فقیر بھی دور نہیں ہوگا ۔ رزق کی ذمہ داری امام احمد (رح) نے اپنی مسند میں دو صحابہ صبا ؓ اور سوا ؓ کا ذکر کیا ہے۔ یہ دونوں حضرات جب حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس وقت آپ اپنے ہاتھ سے کسی چیز کو ٹھیک کر رہے تھے مگر وہ درست ہونے میں نہیں آ رہی تھی اور اس کے لیے آپ کافی مشقت برداشت کر رہے تھے۔ حضور ﷺ اس کام سے فارغ ہو کر ہماری طرف متوجہ ہوئے ، ہمارے لیے دعا فرمائی اور ساتھ یہ بھی فرمایا لا تایئسا من رزق اللہ تم دونوں اللہ تعالیٰ کی روی سے کبھی ناامید نہ ہونا کیونکہ رزق کا سلسلہ اللہ نے اپنے تصرف میں رکھا ہے اور اس کو کسی مخلوق کے سپرد نہیں کیا فرمایا ان الانسان تلدامہ احمر انسان کی ماں اسے سرخ لوتھڑے کی شکل میں جنم دیتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو روزی بہم پہنچاتا ہے اور اس کی تمام ضروریات پوری کرتا ہے۔ لہٰذا رزق سے کبھی مایوس نہ ہونا ، خدا کی عبادت کرتے رہنا اور اسی کی ذات پر بھروسہ رکھنا ۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اس زمانے میں حکومتوں نے اپنے آپ کو رزاق کا درجہ دے دیا ہے۔ سرکاری سطح پر ہمیشہ پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ وسائل رزق کی کمی کے پیش نظر آبادی کو بڑھنے سے روکو ۔ خود تو صاحبان اقتدار حکومتی خزانے سے عیش و عشرت کر رہے ہوتے ہیں اور دوسروں کے سامنے وسائل کی کمی کا رونا رو کر انہیں آبادی میں اضافے سے روکتے ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو شرائع الٰہیہ کو بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خد ا تعالیٰ کا منشاء تو یہ ہے کہ جائز ذرائع سے مال حاصل کرو۔ اور صحیح طریقے پر تقسیم کرو ، مگر یہاں تو نہ حصول صحیح ہے اور نہ اخراجات مناسب ہیں ، ہر جگہ افراد وتفریط کا دور دورہ ہے ، بھلا ایسے میں دنیا کی معاشی اور معاشرتی حالت کسے سدھر سکتی ہے ؟ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے اجملوا فی الطلب اچھے طریقے سے کمائو ، جائز پیشہ اختیار کرو اور ناجائز ذرائع سے کوئی چیز حاصل نہ کرو۔ اگر تمہاری آمدنی جائز ہوگی تو تمہارے اخراجات بھی درست ہو گے ۔ اگر کمائی حرام ہے تو پھر مال حرام بود بجائے حرام رفت والا معاملہ ہی ہوگا۔ امام ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ پہلی آسمانی کتابوں میں یہ چیز لکھی ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خطاب کر کے فرمایا ” یا ابن ادم خلقتک لعبادتی فلا تعلب “ اے آدم کے بیٹے ! میں نے تجھے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ لہٰذا محض کھیل کود میں ہی مشغول نہ ہوجانا ، تم اپنے مقصد کو پہچانو ، تمہاری روزی کا کفیل میں ہوں اور کسی نہ کسی طریقے سے تمہیں ضرور روزی پہنچائوں گا ۔ زیادہ سے زیادہ کمانے کے لیے اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالو ۔ فرمایا اگر مجھے تلاش کرو گے تو پالو گے۔ میری عبادت کرو گے تو میری خوشنودی حاصل ہوگی اور اگر میری مخلوق کی خدمت کرو گے تو میری رضا کو پا لو گے ، اگر تم نے مجھے پا لیا تو گویا ہر چیز کو پا لیا ، اور اگر مجھے نہ پا سکے تو تمہارے ہاتھ سے ہر چیز نکل گئی ۔ پھر تم ایسی حالت میں ہو گے کہ تمہاری نزدیک میری ہستی سے زیادہ اچھی ہوگی لیکن تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ عبادت سے اعراض کیوں اللہ نے تو جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے مگر اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے منشاء کے مطابق یہ مخلوق اس کی عبادت کیوں نہیں کرتی ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حکم دو قسم کا ہوتا ہے ۔ ایک حکم تکوینی ہے جس کے سامنے ساری مخلوق مجبور ہے اور اسے تسلیم کرتی ہے۔ چاند ، سورج ، ارض و سما ، شجر ، حجر سب اللہ کے حکم تکوینی کے پابند ہیں اور ہر حالت میں اس کی تعمیل کرتے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی اللہ کی مقرر کردہ ڈیوٹی سے سر مو بھی انحراف نہیں کرتا ، بلکہ ہر کوئی اپنے اپنے کام پر لگا ہوا ہے حکم کی دوسری قسم تشریعی ہے ۔ اس حکم کی تعمیل مخلوق اپنی نیت اور ارادے سے کرتی ہے ، مثلاً ایمان لانا ، عبادت کرنا ، حلت و حرمت کا خیال رکھنا وغیر تشریعی احکام ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے کسی کو مجبور نہیں کیا ۔ اگر حکم کی تعمیل کرے گا تو انعام پائے گا ۔ وگرنہ سزا کا مستحق ٹھہرے گا ۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا جنوں اور انسانوں کے لیے تشریعی حکم ہے ، لہٰذابعض ان میں سے حکم کی تعمیل کرتے ہیں جب کہ اکثر اس سے اعراض ہی کرتے ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں لیعبدون کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمام جنوں اور انسانوں میں عبادت کرنے کی صلاحیت رکھ دی ہے ، اب یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ اس صلاحیت سے فائدہ اٹھا کر نفع کا سودا کرتے ہیں ۔ یا اس صلاحیت کو ضائع کر کے خسارے میں پڑجاتے ہیں ۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ کل مولود یولد علی فطرۃ ہر نومولود اپنی فطرت سلیمہ پر ہی پیدا ہوتا ہے ۔ مگر بعد میں ماحول کے اثرات اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی وہ مجوسیت کا شکار ہوجاتا ہے یا کفر و شرک میں پھنس جاتا ہے تا ہم ہر جن و انس کی فطرت کا یہی تقاضا ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کی عبادت بجا لائیں۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے فان للذین ظلموا بیشک ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ۔ ظاہر ہے کہ ظلم میں سر فہرست ، کفر ، شرک ، انکار قیامت ، معاصی ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا اتلاف ، تعدی اور زیادتی وغیرہ آتے ہیں ، مگر عقیدے کا ظلم ان سب سے بڑھا ہوا ہے ۔ اللہ نے فرمایا ان الشرک لظلم عظیم ( القمان : 13) بیشک سب سے بڑا ظلم اشرا ک باللہ ہے نیز فرمایا والکفرون ھم الظلمون ( البقرہ : 254) کفر کرنے والے ہی ظالم ہیں تو فرمایا جن لوگوں نے ظلم کا ارتکاب کیا ذنوبا ً مثل ذنوب اصحبھم انکے ڈول ان کے ساتھیوں کے ڈولوں کی طرح ہیں ۔ جب کوئی ڈول پانی ڈالا جاتا ہے اور وہ پانی سے بھر جاتا ہے تو پھر اوپر نہیں تیرتا بلکہ ڈوب جاتا ہے ، مطلب یہ کہ ان کی طرح ان کے پرانے ساتھیوں کو بھی پورا پورا موقع دیا گیا مگر وہ کفر ، شرک اور معاصی سے باز نہ آئے جس کی وجہ سے ان کے ڈو ل بھر گئے اور پھر ڈوب گئے۔ اب ان کا بھی یہی حال ہے ، معاصی کی وجہ سے ان کے ڈول بھی ڈوب رہے ہیں ، مگر یہ ٹس سے مس ہونے کے لیے تیار نہیں ، لہٰذا ان کا حشر بھی پہلے لوگوں سے مختلف ہیں ہوگا ۔ ان کو عطا کی گئی مہلت قریب الاختتام ہے ، جس کے بعد یہ ہمیشہ کے لیے ناکام ہوجائیں گے ۔ فرمایا فلا یستعجلون اب یہ جلدی نہ کریں کہ قیامت اور عذاب جلدی آجائے بلکہ یہ وقت عنقریب پورا ہونے والا ہے۔ جب ان کو ان کے کیے کا بدلہ مل جائے گا ۔ کفار کے لیے بربادی سورۃ کی ابتداء اللہ نے ہوائوں کے ذکر سے کی تھی کہ اس نے کس طرح بعض اقوام کو ہوائوں کے ذریعے ہلاک کیا اور ساتھ ساتھ یاد دلایا وان الدین لواقع ( آیت : 6) کہ بدلے کا دن لازما ًواقع ہونے والا ہے۔ اب آخر میں وہی بات دہرائی جا رہی ہے فویل للذین کفروا من یومھم الذین یوعدون پس تباہی ہے کفر کرنیوالوں کے لیے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ ان کو آخرت کے دن سے ڈرایا جاتا تھا کہ اس کے لیے تیاری کرلو ، کفر شرک اور عاصی کو ترک کر کے اللہ کی وحدانیت پر ایمان لے آئو ۔ مگر وہ جزائے عمل کی بات کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم نے آج تک تو کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا بھلا ہم وقوع قیامت اور جزائے عمل کو کیسے تسلیم کرلیں ۔ اللہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے انکار کی وجہ سے وعدے کے اس دن ان کے لیے تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔