Ayah 49:16 یعنی جس معاملہ میں اللہ و رسول کی طرف سے حکم ملنے کی توقع ہو، اس کا فیصلہ پہلے ہی آگے بڑھ کر اپنی رائے سے نہ کر بیٹھو بلکہ حکم الٰہی کا انتظار کرو۔ جس وقت پیغمبر (علیہ السلام) کچھ ارشاد فرمائیں، خاموشی سے کان لگا کر سنو۔ ان کے بولنے سے پہلے خود بولنے کی جرأت نہ کرو۔ جو حکم ادھر سے ملے اس پر بےچون و چرا اور بلا پس و پیش عامل بن جاؤ۔ اپنی اغراض اور اہواء و آراء کو ان کے احکام پر مقدم نہ رکھو۔ بلکہ اپنی خواہشات و جذبات کو احکام سماوی کے تابع بناؤ۔ (تنبیہ) اس سورت میں مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے آداب و حقوق اور اپنے بھائی مسلمانوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم رکھنے کے طریقے سکھلائے ہیں اور یہ کہ مسلمانوں کا جماعتی نظام کن اصول پر کار بند ہونے سے مضبوط و مستحکم رہ سکتا ہے اور اگر کبھی اس میں خرابی اور اختلال پیدا ہو تو اس کا علاج کیا ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ بیشتر نزاعات و مناقشات خودرائی اور غرضوں کو کسی ایک بلند معیار کے تابع کردیں۔ ظاہر ہے کہ اللہ و رسول ﷺ کے ارشادات سے بلند کوئی معیار نہیں ہوسکتا۔ ایسا کرنے میں خواہ وقتی اور عارضی طور پر کتنی ہی تکلیف اٹھانا پڑے لیکن اس کا آخری انجام یقینی طور پر دارین کی سرخروئی اور کامیابی ہے۔
7 یعنی اللہ و رسول کی سچی فرمانبرداری اور تعظیم اسی وقت میسر ہوسکتی ہے جب خدا کا خوف دل میں ہو۔ اگر دل میں ڈر نہیں، تو بظاہر دعوائے اسلام کو نباہنے کے لیے اللہ و رسول کا نام بار بار زبان پر لائے گا اور بظاہر ان کے احکام کو آگے رکھے گا لیکن فی الحقیقت ان کو اپنی اندرونی خواہشات و اغراض کی تحصیل کے لیے ایک حیلہ اور آلہ کار بنائے گا۔ سو یاد رہے کہ جو زبان پر ہے اللہ اسے سنتا اور جو دل میں ہے اسے جانتا ہے، پھر اس کے سامنے یہ فریب کیسے چلے گا چاہیے کہ آدمی اس سے ڈر کر کام کرے۔
Ayah 49:28 یعنی حضور ﷺ کی مجلس میں شور نہ کرو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بےتکلف چہک کر یا تڑخ کر بات کرتے ہو، حضور ﷺ کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلاف ادب ہے۔ آپ سے خطاب کرو تو نرم آواز سے تعظیم و احترام کے لہجہ میں ادب و شائستگی کے ساتھ۔ دیکھو ایک مہذب بیٹا اپنے باپ سے، لائق شاگرد استاد سے، مخلص مرید پیرو مرشد سے، اور ایک سپاہی اپنے افسر سے کسی طرح بات کرتا ہے پیغمبر کا مرتبہ تو ان سب سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آپ ﷺ سے گفتگو کرتے وقت پوری احتیاط رکھنی چاہیے۔ مبادا بےادبی ہوجائے اور آپ کو تکدر پیش آئے تو حضور ﷺ کی ناخوشی کے بعد مسلمان کا ٹھکانا کہاں ہے۔ ایسی صورت میں تمام اعمال ضائع ہونے اور ساری محنت اکارت جانے کا اندیشہ ہے (تنبیہ) حضور ﷺ کی وفات کے بعد حضور ﷺ کی احادیث سننے اور پڑھنے کے وقت بھی یہ ہی ادب چاہیے اور جو قبر شریف کے پاس حاضر ہو وہاں بھی ان آداب کو ملحوظ رکھے۔ نیز آپ ﷺ کے خلفاء علمائے ربانیین اور اولوالامر کے ساتھ درجہ بدرجہ اسی ادب سے پیش آنا چاہیے تاکہ جماعتی نظام قائم رہے۔ فرق مراتب نہ کرنے سے بہت مفاسد اور فتنوں کا دروازہ کھلتا ہے۔
Ayah 49:39 یعنی جو لوگ نبی ﷺ کی مجلس میں تواضع اور ادب و تعظیم سے بولتے اور نبی کی آواز کے سامنے اپنی آوازوں کو پست کرتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے ادب کی تخم ریزی کے لیے پرکھ لیا اور مانجھ کر خالص تقویٰ و طہارت کے واسطے تیار کردیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ چار چیزیں اعظم شعائر اللہ سے ہیں۔ قرآن، پیغمبر، کعبہ، نماز۔ ان کی تعظیم وہ ہی کرے گا جس کا دل تقویٰ سے مالا مال ہو۔ (ذٰلِكَ ۤ وَمَنْ يُّعَظِّمْ شَعَاۗىِٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَي الْقُلُوْبِ ) 22 ۔ الحج :32) یہاں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جب حضور ﷺ کی آواز سے زیادہ آواز بلند کرنا خلاف ادب ہے تو آپ ﷺ کے احکام و ارشادات سننے کے بعد ان کے خلاف آواز اٹھانا کس درجہ کا گناہ ہوگا۔
10 یعنی اس اخلاص و حق شناسی کی برکت سے پچھلی کو تاہیاں معاف ہوں گی اور بڑا بھاری ثواب ملے گا۔
Ayahs 49:4–51 بنی تمیم ملنے کو آئے، حضور ﷺ حجرہ مبارک میں تشریف رکھتے تھے، وہ لوگ باہر سے آوازیں دینے لگے کہ " یا محمد اخرج الینا " (اے محمد ﷺ باہر آئیے) یہ بےعقلی اور بےتہذیبی کی بات تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے مرتبہ کو نہیں سمجھتے تھے۔ کیا معلوم ہے اس وقت آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ یا کسی اور اہم کام میں مشغول ہوں۔ آپ ﷺ کی ذات منبع البرکات تو مسلمانوں کے تمام دینی و دنیاوی امور کا مرکز و ملجاء تھی۔ کسی معمولی ذمہ دار آدمی کے لیے بھی کام کرنا سخت مشکل ہوجائے اگر اس کا کوئی نظام الاوقات نہ ہو۔ اور آخر پیغمبر کا ادب و احترام بھی کوئی چیز ہے چاہیے تھا کہ کسی کی زبانی اندر اطلاع کراتے اور آپ ﷺ کے باہر تشریف لانے تک صبر کرتے۔ جب آپ ﷺ باہر تشریف لا کر ان کی طرف متوجہ ہوتے اس وقت خطاب کرنا چاہیے تھا۔ ایسا کیا جاتا تو ان کے حق میں بہتر اور قابل ستائش ہوتا۔ تاہم بےعقلی اور نادانستگی سے جو بات اتفاقاً سرزد ہوجائے اللہ اس کو اپنی مہربانی سے بخشنے والا ہے۔ چاہیے کہ اپنی تقصیر پر نادم ہو کر آئندہ ایسا رویہ اختیار نہ کریں۔ حضور ﷺ کی تعظیم و محبت ہی وہ نقطہ ہے جس پر قوم مسلم کی تمام پراگندہ قوتیں اور منتشر جذبات جمع ہوتے ہیں اور یہ ہی وہ ایمانی رشتہ ہے جس پر اسلامی اخوت کا نظام قائم ہے۔
Ayah 49:62 اکثر نزاعات و مناقشات کی ابتداء جھوٹی خبروں سے ہوتی ہے۔ اس لیے اول اختلاف و تفریق کے اسی چشمہ کو بند کرنے کی تعلیم دی یعنی کسی خبر کو یوں ہی بےتحقیق قبول نہ کرو۔ فرض کیجیے ایک بےراہرو اور تکلیف دہ آدمی نے اپنے کسی خیال اور جذبہ سے بےقابو ہو کر کسی قوم کی شکایت کی۔ تم محض اس کے بیان پر اعتماد کر کے اس قوم پر چڑھ دوڑے، بعدہ ' ظاہر ہوا کہ اس شخص نے غلط کہا تھا، تو خیال کرو اس وقت کس قدر پچھتانا پڑے گا۔ اور اپنی جلد بازی پر کیا کچھ ندامت ہوگی اور اس کا نتیجہ جماعت اسلام کے حق میں کیسا خراب ہوگا۔
Ayah 49:73 یعنی اگر رسول اللہ ﷺ تمہاری کسی خبر یا رائے پر عمل نہ کریں تو برا نہ مانو۔ حق لوگوں کی خواہشوں یا رایوں کے تابع نہیں ہوسکتا۔ ایسا ہو تو زمین و آسمان کا سارا کارخانہ ہی درہم برہم ہوجائے کما قال تعالیٰ (وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَهْوَاۗءَهُمْ لَــفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ) 23 ۔ المؤمنون :71) الغرض خبروں کی تحقیق کیا کرو اور حق کو اپنی خواہش اور رائے کے تابع نہ بناؤ بلکہ اپنی خواہشات کو حق کے تابع رکھو۔ اس طرح تمام جھگڑوں کی جڑ کٹ جائے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی تمہارا مشورہ قبول نہ ہو تو برا نہ مانو، رسول عمل کرتا ہے اللہ کے حکم پر، اسی میں تمہارا بھلا ہے، اگر تمہاری بات نہ مانا کرے تو ہر کوئی اپنے بھلے کی کہے، پھر کس کس کی بات پر چلے۔ "
Ayah 49:84 یعنی اگر تم یہ چاہتے ہو کہ پیغمبر (علیہ السلام) تمہاری ہر بات مانا کریں تو بڑی مشکل ہوئی لیکن اللہ کا شکر کرو کہ اس نے اپنے فضل و احسان سے مومنین قانتین کے دلوں میں ایمان کو محبوب بنادیا۔ اور کفر و معصیت کی نفرت ڈال دی جس سے وہ ایسی بیہودگی کے پاس بھی نہیں جاسکتے۔ جس مجمع میں اللہ کا رسول جلوہ افروز ہو وہاں کسی کی رائے و خواہش کی پیروی کہاں ہوسکتی ہے۔ آج گو حضور ﷺ ہمارے درمیان میں نہیں مگر حضور ﷺ کی تعلیم اور آپ کے وارثو نائب یقینا موجود ہیں اور رہیں گے۔
5 یعنی وہ سب کی استعداد کو جانتا ہے اور ہر ایک کو اپنی حکمت سے وہ احوال و مقامات مرحمت فرماتا ہے جو اس کی استعداد کے مناسب ہوں۔
Ayah 49:96 یعنی ان تمام پیش بندیوں کے باوجود اگر اتفاق سے مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو پوری کوشش کرو کہ اختلاف رفع ہوجائے۔ اس میں اگر کامیابی نہ ہو اور کوئی فریق دوسرے پر چڑھا چلا جائے اور ظلم و زیادتی ہی پر کمر باندھ لے تو یکسو ہو کر نہ بیٹھ رہو، بلکہ جس کی زیادتی ہو سب مسلمان مل کر اس سے لڑائی کریں۔ یہاں تک کہ وہ فریق مجبور ہو کر اپنی زیادتیوں سے باز آئے اور خدا کے حکم کی طرف رجوع ہو کر صلح کے لیے اپنے کو پیش کر دے۔ اس وقت چاہیے کہ مسلمان دونوں فریق کے درمیان مساوات و انصاف کے ساتھ صلح اور میل ملاپ کرا دیں۔ کسی ایک کی طرف داری میں جادہ حق سے ادھر ادھر نہ جھکیں۔ (تنبیہ) آیت کا نزول صحیحین کی روایت کے موافق " انصار " کے دو گروہ اوس و خزرج کے ایک وقتی ہنگامے کے متعلق ہوا ہے۔ حضور ﷺ نے ان کے درمیان اسی آیت کے ماتحت صلح کر ادی۔ جو لوگ خلفیہ کے مقابلہ میں بغاوت کریں وہ بھی عموم آیت میں داخل ہیں۔ چناچہ قدیم سے علمائے سلف بغاوت کے مسئلہ میں اسی سے استدلال کرتے آئے ہیں۔ لیکن جیسا کہ شان نزول سے ظاہر ہوتا ہے یہ حکم مسلمانوں کے تمام جماعتی مناقشات و مشاجرات کو شامل ہے۔ باقی باغیوں کے متعلق احکام شرعیہ کی تفصیل فقہ میں دیکھنی چاہیے۔
Ayah 49:101 یعنی صلح اور جنگ کی ہر ایک حالت میں یہ ملحوظ رہے کہ دو بھائیوں کی لڑائی دو بھائیوں کی مصالحت ہے۔ دشمنوں اور کافروں کی طرح برتاؤ نہ کیا جائے۔ جب دو بھائی آپس میں ٹکرا جائیں تو یوں ہی ان کے حال پر نہ چھوڑ دو ، بلکہ اصلاح ذات البین کی پوری کوشش کرو۔ اور ایسی کوشش کرتے وقت خدا سے ڈرتے رہو کہ کسی کی بیجا طرفداری یا انتقامی جذبہ سے کام لینے کی نوبت نہ آئے۔
Ayah 49:112 اول مسلمانوں میں نزاع و اختلاف کو روکنے کی تدابیر بتلائی تھیں۔ پھر بتلایا کہ اگر اتفاقاً اختلاف رونما ہوجائے تو پر زور اور موثر طریقہ سے اس کو مٹایا جائے لیکن جب تک نزاع کا خاتمہ نہ ہو کوشش ہونی چاہیے کہ کم ازکم جذبات منافرت و مخالفت زیادہ تیز اور مشتعل نہ ہونے پائیں۔ عموماً دیکھا جاتا ہے کہ جہاں دو شخصوں یا دو جماعتوں میں اختلاف رونما ہوا۔ بس ایک دوسرے کا تمسخر اور استہزاء کرنے لگتا ہے۔ ذرا سی بات ہاتھ لگ گئی اور ہنسی مذاق اڑانا شروع کردیا۔ حالانکہ اسے معلوم نہیں کہ شاید جس کا مذاق اڑا رہا ہے۔ وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہتر ہو بلکہ بسا اوقات یہ خود بھی اختلاف سے پہلے اس کو بہتر سمجھتا ہوتا ہے۔ مگر ضدو نفسانیت میں دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آتا ہے اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ اس طریقہ سے نفرت و عداوت کی خلیج روز بروز وسیع ہوتی رہتی ہے۔ اور قلوب میں اس قدر بعد ہوجاتا ہے کہ صلح و ائتلاف کی کوئی امید باقی نہیں رہتی آیہ ہذا میں خداوند قدوس نے اسی قسم کی باتوں سے منع فرمایا ہے۔ یعنی ایک جماعت دوسری جماعت کے ساتھ نہ مسخراپن کرے نہ ایک دوسرے پر آوازیں کسی جائیں نہ کھوج لگا کر عیب نکالے جائیں اور نہ برے ناموں اور برے القاب سے فریق مقابل کو یاد کیا جائے، کیونکہ ان باتوں سے دشمنی اور نفرت میں ترقی ہوتی ہے اور فتنہ و فساد کی آگ زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔ سبحان اللہ ! کیسی بیش بہا ہدایات ہیں۔ آج اگر مسلمان سمجھیں تو ان کے سب سے بڑے مرض کا مکمل علاج اسی ایک سورة حجرات میں موجود ہے۔
3 یعنی کسی کا برا نام ڈالنے سے آدمی خود گنہگار ہوتا ہے۔ اسے تو واقع میں عیب لگایا نہ لگا لیکن اس کا نام بدتہذیب، فاسق، گنہگار اور مردم آزار پڑگیا۔ خیال کرو۔ " مومن " کے بہترین لقب کے بعد یہ نام کیا اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب ایک شخص ایمان لا چکا اور مسلمان ہوگیا اس کو مسلمانی سے پہلے کی باتوں پر طعن دینا یا اس وقت کے بدترین القاب سے یاد کرنا مثلاً یہودی یا نصرانی وغیرہ کہہ کر پکارنا نہایت مذموم حرکت ہے۔ اسی طرح جو شخص کسی عیب میں مبتلا ہو اور وہ اس کا اختیاری نہ ہو، یا ایک گناہ سے فرض کیجیے توبہ کرچکا ہے، چڑانے کے لیے اس کا ذکر کرنا بھی جائز نہیں۔
4 یعنی جو پہلے ہوچکا اب توبہ کرلو۔ اگر یہ احکام و ہدایات سننے کے بعد بھی ان جرائم سے توبہ نہ کی تو اللہ کے نزدیک اصلی ظالم یہ ہی ہوں گے۔
Ayah 49:125 اختلاف و تفریق باہمی کے بڑھانے میں ان امور کو خصوصیت سے دخل ہے ایک فریق دوسرے فریق سے ایسا بدگمان ہوجاتا ہے کہ حسن ظن کو کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ مخالف کی کوئی بات ہو اس کا محل اپنے خلاف نکال لیتا ہے۔ اس کی بات میں ہزار احتمال بھلائی کے ہوں اور صرف ایک پہلو برائی کا نکلتا ہو، ہمیشہ اس کی طبیعت برے پہلو کی طرف چلے گی اور اسی برے اور کمزور پہلو کو قطعی اور یقینی قرار دے کر فریق مقابل پر تہمتیں اور الزام لگانا شروع کر دے گا۔ پھر نہ صرف یہ ہی کہ ایک بات حسب اتفاق پہنچ گئی، بدگمانی، سے اس کو غلط معنی پہنا دیے گئے، نہیں، اس جستجو میں رہتا ہے کہ دوسری طرف کے اندرونی بھید معلوم ہوں جس پر ہم خوب حاشیے چڑھائیں اور اس کی غیبت سے اپنی مجلس گرم کریں۔ ان تمام خرافات سے قرآن کریم منع کرتا ہے۔ اگر مسلمان اس پر عمل کریں تو جو اختلافات بدقسمتی سے پیش آجاتے ہیں وہ اپنی حد سے آگے نہ بڑھیں اور ان کا ضرر بہت محدود ہوجائے۔ بلکہ چند روز میں نفسانی اختلافات کا نام و نشان باقی نہ رہے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " الزام لگانا اور بھید ٹٹولنا اور پیٹھ پیچھے برا کہنا کسی جگہ بہتر نہیں۔ مگر جہاں اس میں کچھ دین کا فائدہ ہو اور نفسانیت کی غرض نہ ہو۔ " وہاں اجازت ہے جیسے رجال حدیث کی نسبت ائمہ جرح و تعدیل کا معمول رہا ہے کیونکہ اس کے بدون دین کا محفوظ رکھنا محال تھا۔
6 یعنی مسلمان بھائی کی غیبت کرنا ایسا گندہ اور گھناؤنا کام ہے جیسے کوئی اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت نوچ نوچ کر کھائے۔ کیا اس کو کوئی انسان پسند کرے گا ؟ بس سمجھ لو غیبت اس سے بھی زیادہ شنیع حرکت ہے۔
7 یعنی ان نصیحتوں پر کار بند وہ ہی ہوگا جس کے دل میں خدا کا ڈر ہو یہ نہیں تو کچھ نہیں۔ چاہیے کہ ایمان و اسلام کا دعویٰ رکھنے والے واقعی طور پر خداوند قہار کے غضب سے ڈریں اور ایسی ناشائستہ حرکتوں کے قریب نہ جائیں۔ اگر پہلے کچھ غلطیاں اور کمزوریاں سرزد ہوئی ہیں، اللہ کے سامنے صدق دل سے توبہ کریں وہ اپنی مہربانی سے معاف فرما دے گا۔
Ayah 49:138 اکثر غیبت، طعن وتشنیع اور عیب جوئی کا منشاء کبر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے کو بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، اس کو بتلاتے ہیں کہ اصل میں انسان کا بڑا چھوٹا یا معزز و حقیر ہونا ذات پات اور خاندان و نسب سے تعلق نہیں رکھتا۔ ، بلکہ جو شخص جس قدر نیک خصلت، مودب اور پرہیزگار ہو اسی قدر اللہ کے ہاں معزز و مکرم ہے۔ نسب کی حقیقت تو یہ ہے کہ سارے آدمی ایک مرد اور ایک عورت یعنی آدم (علیہ السلام) و حوا کی اولاد ہیں شیخ، سید، مغل، پٹھان اور صدیقی، فاروقی، عثمانی، انصاری سب کا سلسلہ آدم و حوا پر منتہی ہوتا ہے یہ ذاتیں اور خاندان اللہ تعالیٰ نے محض تعارف اور شناخت کے لیے مقرر کیے ہیں۔ بلاشبہ جس کو حق تعالیٰ کسی شریف اور بزرگ و معزز گھرانے میں پیدا کر دے وہ ایک موہوب شرف ہے، جیسے کسی کو خوبصورت بنادیا جائے، لیکن یہ چیز ناز اور فخر کرنے کے لائق نہیں کہ اسی کو معیار کمال اور فضیلت کا ٹھہرا لیا جائے اور دوسروں کو حقیر سمجھا جائے۔ ہاں شکر کرنا چاہیے کہ اس نے بلا اختیار و کسب ہم کو یہ نعمت مرحمت فرمائی۔ شکر میں یہ بھی داخل ہے کہ غرور و تفاخر سے باز رہے اور اس نعمت کو کمینہ اخلاق اور بری خصلتوں سے خراب نہ ہونے دے۔ بہرحال مجدو شرف اور فضیلت و عزت کا اصلی معیار نسب نہیں تقویٰ و طہارت ہے اور متقی آدمی دوسروں کو حقیر کب سمجھے گا ؟
9 یعنی تقویٰ اور ادب اصل میں دل سے ہے اللہ ہی کو خبر ہے کہ جو شخص ظاہر میں متقی اور مودب نظر آتا ہے وہ واقع میں کیسا ہے اور آئندہ کیسا رہے گا۔ انما العبرۃ للخواتیم۔
Ayah 49:141 یہاں یہ بتلاتے کہ ایمان و یقین جب پوری طرح دل میں راسخ ہوجائے اور جڑ پکڑ لے اس وقت غیبت اور عیب جوئی وغیرہ کی خصلتیں آدمی سے دور ہوجاتی ہیں۔ جو شخص دوسروں کے عیب ڈھونڈنے اور آزار پہنچانے میں مبتلا ہو، سمجھ لو کہ ابھی تک ایمان اس کے دل میں پوری طرح پیوست نہیں ہوا۔ ایک حدیث میں ہے۔ " یَامَعْشَرَ مَنْ اٰمَنَ بِلِسَانِہٖ وَلَمْ یُفْضِ الْاِیْمَانُ اِلٰی قَلْبِہٖ لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِیْنَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِہِمْ " الخ (ابن کثیر، 8/24) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ایک کہتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں یعنی دین مسلمان ہم نے قبول کیا۔ اس کا مضائقہ نہیں۔ اور ایک کہتا ہے کہ ہم کو پورا یقین ہے۔ جو یقین پورا ہے تو اس کے آثار کہاں ؟ جس کو واقعی پورا یقین حاصل ہو وہ تو ایسے دعوے کرنے سے ڈرتا اور شرماتا ہے۔ " (تنبیہ) اس آیت سے ایمان و اسلام کا فرق ظاہر ہوتا ہے اور یہ ہی بات حدیث جبرائیل وغیرہ سے ثابت ہوئی ہے۔ ہم نے شرح صحیح مسلم میں اس موضوع پر کافی بحث کی ہے۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں۔
2 یعنی اب بھی اگر فرمانبرداری کا راستہ اختیار کرو گے تو پچھلی کمزوریوں کی وجہ سے تمہارے کسی عمل کے ثواب میں کمی نہ کرے گا۔
Ayah 49:153 یعنی سچے مومن کی شان یہ ہوتی ہے کہ اللہ و رسول پر پختہ اعتقاد رکھتا ہو۔ اور ان کی راہ میں ہر طرح جان و مال سے حاضر رہے۔
Ayah 49:164 یعنی اگر واقعی سچا دین اور پورا یقین تم کو حاصل ہے تو کہے سے کیا ہوگا جس سے معاملہ ہے وہ آپ خبردار ہے۔
Ayah 49:175 بعض گنوار آکر کہتے تھے کہ دیکھئے ہم تو بدون لڑے بھڑے مسلمان ہوگئے۔ گویا احسان جتلاتے تھے۔ اس کا جواب آگے دیتے ہیں۔
6 یعنی اگر واقعی تم دعوائے اسلام و ایمان میں سچے ہو تو یہ تمہارا احسان نہیں۔ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ایمان کی طرف آنے کا راستہ دیا اور دولت اسلام سے سرفراز کیا اگر سچی بات کہو تو واقعہ اس طرح ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " نیکی اپنے ہاتھ سے ہو، اپنی تعریف نہیں۔ رب کی تعریف ہے جس نے وہ نیکی کروائی۔ " گویا خاتمہ سورت پر متنبہ کردیا کہ اگر تم کو قرآنی آیات اور اسلامی تعلیمات پر کاربند ہونے کی توفیق ہو تو احسان نہ جتلاؤ بلکہ اللہ کے احسان و انعام کا شکر ادا کرو جس نے ایسی توفیق ارزانی فرمائی۔
Ayah 49:183 یعنی دلوں کے بھید اور ظاہر کا عمل سب کو خدا جانتا ہے۔ اس کے سامنے باتیں نہ بناؤ