49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے ایمان والوتم اللہ اور اس کے رسول سے پہلے سبقت مت کرو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سننے والا جاننے والا ہے

1:۔ البخاری وابن المنذر (رح) نے وابن المردویہ (رح) نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ تم بنوتمیم میں سے کچھ گھوڑسوار نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ قعقاع بن معبد کو امیر بنادیجئے۔ اور عمر ؓ نے عرض کیا اقرع بن حابس کو امیر بنادیجئے ابوبکر ؓ نے کہا کہ تم نے مجھ سے اختلاف کرنے کا ارادہ کیا ہے عمر ؓ نے کہا میں نے آپ کے خلاف کرنے کا ارادہ نہیں کیا میری رائے ہے دونوں حضرات جھگڑنے لگے یہاں تک کہ دونوں کی آوازیں بلند ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” نازل فرمائی ” یایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “ (اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی اجازت سے پہلے تم سبقت مت کیا کرو) یہاں کہ آیت ختم ہوگئی۔ قرآن وسنت کے خلاف کہنا سخت گناہ ہے : 2:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) نے الحلیہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “ یعنی کتاب وسنت کے خلاف کچھ نہ کہو۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ کچھ لوگ کہتے تھے اگر اس کے بارے میں اس طرح اور اس طرح نازل ہوتا تو اس کی واضح اس طرح اور اس طرح ہوتی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ناپسند فرمایا اور اس کے بارے میں مذکورہ حکم فرمایا۔ 4:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے کلام سے پہلے کلام کرنے سے منع کیا گیا۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ قربانی کے دن کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے پہلے جانروں کو ذبح کردیا تو ان کو ذبیحہ کے لوٹانے کا حکم دیا گیا۔ (یعنی دوبارہ ذبح کریں) تو یہ (آیت ) ” نازل ہوئی ” یایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “ 6:۔ ابن ابی الدنیا نے الرضاحی میں سے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عید کی نماز سے پہلے جانور کو ذبح کردیا تو اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “ سے مراد ہے کہ اپنے نبی کریم ﷺ پر روزہ رکھنے سے پہلے تم روزہ نہ رکھو۔ 8:۔ ابن النجار نے اپنی تاریخ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا لوگوں نے رمضان آنے سے پہلے ایک دو دن اپنے نبی کریم ﷺ پر روزہ رکھنے سے پہلے تم روزہ رکھنا شروع کردیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” نازل فرمائی ” یایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “۔ 9:۔ الطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ کچھ لوگ لینے کا آغاز اس کے آنے سے پہلے کرتے تھے اور نبی کریم ﷺ سے پہلے روزہ رکھ لیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” نازل فرمائی ” یایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “ 10:۔ سعید بن منصور (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھا (آیت ) ” لاتقدموا “ 11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ “ سے مراد ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کے پاس کسی چیز کا فیصلہ نہ کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی زبان پر فیصلہ فرما دیں حافظ نے کہا یہ تفسیر (آیت ) ” تقدموا “ کی قرأت پر تاء اور دال کی فتح کے ساتھ۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے ایمان والو اپنی آوازوں کو نبی کی آواز پر بلندنہ کرو اور نہ نبی سے اس طرح اونچی آواز سے بات کرو جیسے تم بعض بعض سے اونچی آواز بات کرتے ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال حبط ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو

1:۔ البخاری وابن المنذر والطبرانی نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ قریب تھا کہ دو خیر (والے آدمی) ابوبکر ؓ اور عمر ؓ ہلاک ہوجاتے کہ دونوں کی آواز اس وقت بلند ہوگئیں نبی کریم ﷺ کے پاس بنوتمیم کے سوار آپ ﷺ کے پاس آئے ان میں سے ایک نے اقرع بن حابس کی طرف اشارہ کیا اور دوسرے نے دوسرے آدمی کی طرف اشارہ کیا ابوبکر ؓ نے عمر ؓ سے فرمایا تو نے نہیں ارادہ کیا مگر میرے خلاف کرنے کا عمر ؓ نے فرمایا میں نے آپ کے خلاف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں کیا اس بارے میں دونوں کی آوازیں بلند ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ’ نازل فرمائی یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی “ (اے ایمان والوں اپنی آوازوں کو نبی کریم ﷺ سے اونچا نہ کرو) ابن الزبیر ؓ نے فرمایا اس آیت کے بعد حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ سے اتنی آہستہ بات کرتے تھے کہ ان سے پوچھنا پڑھتا تھا۔ 2:۔ الترمذی نے ابن ابی ملکیہ (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ مجھے عبداللہ بن زبیر ؓ ایسا ہی بیان فرمایا۔ 3:۔ ابن جریر (رح) طبرانی (رح) نے ابن ابی ملکیہ کے طریق سے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ اقرع بن حابس نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کو اس کی قوم پر عامل بنا دیجئے عمر ؓ عنہنے کہا یارسول اللہ ﷺ اس کو عامل نہ بنائیے دونوں نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں آپس میں تکرار کرنے لگے یہاں تک کہ دونوں کی آوازیں بلند ہوگئی ابوبکر ؓ نے کہا تو نے (محض) میرے خلاف کرنے کا ارادہ کیا ہے عمر ؓ نے کہا میں نے آپ کے خلاف کرنے کا ارادہ نہیں کیا تو یہ (آیت ) ’ نازل فرمائی یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی “ اس کے بعد حضرت عمر ؓ جب نبی کریم ﷺ کے پاس بات کرتے تھے تو ان کی بات نہیں سنی جاتی تھی یہاں تک کہ ان سے پوچھنے پڑھتا تھا۔ نبی کریم ﷺ کے سامنے اونچی آواز سے بات کرنے کی ممانعت : 4:۔ البزار وابن عدی والحاکم مردویہ (رح) نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ’ ’ یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی “ نازل ہوئی میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم میں آپ سے کوئی بات نہیں کروں گا مگر سرگوشی کرنے والے کی طرح۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) والحاکم (وصححہ) والبیہقی نے شعب الایمان میں ابی سلمہ کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ’ ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ “ (جو لوگ اپنی آوازوں کو پست کرتے رسول اللہ ﷺ کے پاس) نازل ہوئی تو ابوبکر ؓ نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب کو اتارایا رسول اللہ ﷺ میں آپ سے بات نہیں کروں گا مگر سرگوشی کرنے والے بھائی کی طرح یہاں تک کہ میں اللہ سے ملاقات کروں گا۔ 6:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ کرام ؓ اونچی آواز سے ایک دوسرے سے بات کرتے تھے اور اپنی آوازوں کو بلند کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ’ نازل فرمائی ” لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی “ 7:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) (آیت ) ” ولاتجھرولہ بالقول “ کے بارے میں روایت کیا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو بلند آواز سے نہ پکارو لیکن نرم لہجہ میں یہ کہو یا رسول اللہ ﷺ ۔ 8:۔ احمد (رح) والبخاری (رح) ومسلم (رح) وابویعلی (رح) والبغوی فی معجم الصحابہ وابن المنذر (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ’ ’ یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی “ (سے لیکر) وانتم لا تشکرون “ تک نازل ہوئی۔ اور ثابت بن قیس بن شع اس ؓ کی آواز بہت بلند تھی انہوں نے کہا کہ میں وہ ہوں جو اپنی آواز کو رسول اللہ ﷺ کی آواز پر بلند کیا کرتا تھا۔ میرے عمل ضائع ہوگئے اور میں دوزخ والوں میں سے ہوں اور غمگین ہو کر اپنی گھر میں بیٹھ گئے رسول اللہ ﷺ نے ان کو گم پایا تو قوم کے بعض افراد اس کی طرف گئے اور انہوں نے اس سے کہا یا رسول اللہ ﷺ نے تم کو گم پایا ہے تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا میں اپنی آواز کو رسول اللہ ﷺ کی آواز سے بلند کرتا ہوں اور میں آپ سے زور سے بات کرتا ہوں میرے عمل ضائع ہوگئے اور میں دوزخ والوں میں سے ہوں۔ وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ان سے اس بات کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ جنت والوں میں سے ہے جب یمامہ کا دن تھا وہ شہید کردیئے گئے ؛۔ 9:۔ ابن جریر (رح) والطبرانی والحاکم (وصححہ) وابن مردویہ نے محمد بن ثابت بن قیس بن شماس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ’ ’ یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول “ نازل ہوئی تو ثابت ؓ راستے میں بیٹھ کر رونے لگے عاصم بن عدی بن عجلان ؓ ان کے پاس سے گزرے اور کہا ثابت کس چیز نے آپ کو رلایا ؟ عرض کیا یہ آیت مجھے ڈراتی ہے کہ وہ میرے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے اور میں اونچی آواز والا ہوں۔ عاصم بن عدن ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور اس کو میرے پاس بلا کرلے آؤ وہ آئے تو آپ نے پوچھا اے ثابت کیوں رو رہے ہو ؟ عرض کیا میں اونچی آواز والا ہوں اور میں ڈرتا ہوں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو قابل تعریف زندگی گزارے اور شہید ہو کر مرے گا اور جنت میں داخل ہوجائے گا۔ عرض کیا میں راضی ہوں اور میں کبھی بھی اپنی آواز کو رسول اللہ کی آواز سے بلند نہیں کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” ان الذین یغضون اصواتھم عند رسول اللہ “ الآیہ (جو اپنی آوازوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس پست کرتے ہیں ) قصدا بےادبی نہ کرے : 10:۔ ابن حبان والطبرانی و ابونعیم (رح) نے المعرفہ میں اسماعیل بن محمد ثابت بن قیس بن شماس انصاری ؓ سے روایت کیا کہ ثابت بن قیاس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں خوف کرتا ہوں کہ میں ہلاک ہوجاؤں گا آپ ﷺ نے فرمایا کیوں فرض کیا اللہ تعالیٰ آدمی سے منع فرماتے ہیں کہ ایسے کام کے سبب اس کی تعریف کی جائے جو اس نے نہیں کی۔ اور میں (اپنے دل میں) پاتا ہوں کہ میں تعریف کو پسند کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ خود پسندی اور تکبر سے منع فرماتے ہیں اور میں اپنے آپ کو انتہائی حسن جمال والا پاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ اس آوازوں کو آپ کی آواز پر بلند ہونے سے روکتے ہیں اور میں بلند آواز ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ثابت کیا تو اس پر راضی اور خوش نہیں ہے کہ تو قابل تعریف زندگی گزارے اور شہید ہو کر مرے اور جنت میں داخل ہو حافظ ابن حجر نے اطراف میں فرمایا اسی طرح ابن حیان نے اس روایت کو بیان کیا ہے اور اس میں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے اس بات پر کہ اسماعیل نے یہ روایت ثابت سے خود سنی اور روایت منقطع ہے اور مالک نے اس کو موطا میں ابن شہاب سے اور انہوں نے اسماعیل سے اور انہوں نے ثابت سے روایت بیان کی اور انہوں نے آگے مذکورہ حدیث ذکر کی انہوں نے موطاء کے راویوں میں سے کسی اور کا ذکر نہیں کیا مگر اکیلے سعید بن عفیر کے اور مالک نے کہا کہ ثابت شہید کئے گئے یمامہ کے دن، ابن حجر نے فرمایا کہ اسماعیل نے اس کو (یعنی ثابت) کو نہیں پایا اور یہ حدیث یقینی طور پر منقطع ہے انتھی۔ 11:۔ ابن جریر (رح) نے شمرہ بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ ثا بت بن قیس بن شماس ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ غمگین تھے آپ نے فرمایا اے ثابت کیا ہوا جو میں تجھے اس طرح (غم کی کیفیت) میں دیکھ رہا ہوں ؟ عرض کیا وہ آیت جو آپ نے رات کو پڑھی تو میں ڈررہا ہوں کہ میرے عمل ضائع ہوگئے اور وہ یہ ہے (آیت ) ’ ’ یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی “ اور ان کے کان میں بہرا پن تھا اور کہا میں ڈررہا ہوں کہ میں وہ ہوں کیونکہ میں نے اپنی آواز کو بلند کیا اور آپ کے ساتھ بات بھی بلند آواز سے کی اور میں ہی وہ ہوں کہ میرے عمل ضائع ہوگئے اور مجھے اس کا خیال بھی نہ ہوا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم زمین پر انتہائی مسرت اور خوشی کے ساتھ چلو بلاشبہ تم جنت والوں میں سے ہو۔ 12:۔ البغوی وابن قانع فی معجم الصحابۃ ومحمد بن ثابت بن قیس بن شماس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت ) ’ ’ یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی “ نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی تو میں گھر میں بیٹھ گیا۔ جب یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ تو قابل تعریف اور خوش حال زندگی گزارے گا اور تو شہید ہو کر مرے گا چناچہ یمامہ کی جنگ میں شہید کردیئے گئے۔ آیت سن کر سم اس بن قیس کا رونا : 13:۔ البغوی وابن المنذر (رح) والطبرانی والحاکم وابن مردویہ والخطیب فی المتفق والمفترق عطاخراسانی (رح) سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ آیا اور میں انصار میں سے ایک آدمی سے ملا میں نے کہا کہ مجھے ثابت بن قیس بن شماس کی حدیث بیان کرو تو اس آدمی نے کہا میرے ساتھ اٹھو تو میں اس کے ساتھ چلا یہاں تک کہ میں ایک عورت کے پاس پہنچا اس آدمی نے کہا یہ ثابت بن قیس بن شماس کی بیٹی ہے جو آپ جی چاہے ان سے پوچھ لیجئے میں نے اس سے کہا مجھے حدیث بیان کیجئے تو اس نے کہا میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا وہ فرماتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر یہ (آیت ) ’ ’ یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی “ نازل فرمائی تو انہوں نے اپنے گھر میں داخل ہو کر اپنے دروازے کو بند کردیا اور رونا شروع کردیا رسول اللہ ﷺ نے ان کو گم پایا اور فرمایا ثابت کا کیا حال ہے ؟ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم نہیں جانتے اس کا کیا حال ہے سوائے اس کے کہ اس کے گھر کا دروازہ بند ہے اور وہ اس میں رو رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بلوابھیجا اور اس سے پوچھا کہ تیرا کیا حال سنا اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ یہ آیت نازل فرمائی اور میں اونچی آواز والا ہوں اور میں ڈرتا ہوں کہ میرے اعمال ضائع ہوگئے۔ آپ نے فرمایا تو ان میں سے نہیں بلکہ تو خیر کے ساتھ زندہ رہے گا اور خیر کے ساتھ مرے گا اس کی بیٹی نے کہا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی پر یہ (آیت) ” ان اللہ لایحب کل مختال فخورا “ (لقمان آیت 18) نازل فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہیں پسند فرماتے کل شیخی بگارنے والے اور اترانے والے کو تو انہوں کو انہوں پھر اپنا دروازہ بند کردیا اور اس میں رونا شروع کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو گم پایا اور فرمایا ثابت کا کیا حال ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم ہم نہیں جانتے کہ اس کا کیا حال ہے سوائے اس کے اس نے دروازہ بند کر رکھا ہے اور رو رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بلا بھیجا اور ان سے پوچھا تجھے کیا ہوا ؟ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ (آیت) ” ان اللہ لا یحب کل مختال فخورا “ نازل فرمائی اللہ کی قسم ! بلاشبہ میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور میں اس بات کو محبوب رکھتا ہوں کہ میں اپنی قوم کا سردار بن جاؤ۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو ان میں سے نہیں ہے بلکہ تو قابل تعریف باعزت زندگی گزارے گا اور شہید ہو کر مرے گا پھر اللہ تعالیٰ تجھ کو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل فرمائیں گے ان کی بہن نے کہا جب یمامہ کا دن تھا خالد بن ولید ؓ کے ساتھ مسیلمہ کذاب کی طرف نکلے جب رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے ان کا سنا ہوا تو یہ بالکل ظاہر تھے اس وقت ثابت ؓ نے ابو خداد ؓ کے آزاد کردہ غلام سالم سے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر کافروں سے اس طرح نہیں لڑتے تھے پھر ہر ایک مؤمن میں سے اپنی ذات کے لئے ایک گھڑا کھودا اور ان پر قوم نے حملہ کردیا جنگ شروع ہوگئی یہ دونوں ثابت قدم رہے یہاں تک کہ دونوں شہید ہوگئے اور ثابت اس دن ایک زرہ پہنے ہوئے تھے جو بہت قیمتی تھی مسلمانوں میں سے ایک آدمی اس کے پاس سے گزرا تو اس نے زرہ اتارلی اس درمیان ایک آدمی مسلمانوں میں سے سو رہا تھا اچانک ثابت بن قیس اسے خواب میں آئے اور اس سے کہا کہ میں تجھ کو خاص طور پر ایک وصیت کرتا ہوں اس پر عمل کرنا ایسا نہ ہو کہ اس کو خواب کو ضائع کردے جب مجھے گزشتہ کل شہید کیا گیا تو ایک آدمی میرے پاس سے گزرا مسلمانوں میں سے ایک زرہ اٹھالی اور اس کا خیمہ لشکر کے آخر میں ہے اور اس کے خیمے کے پاس ایک گھوڑا لشکر پاس ایک گھوڑا بندھا ہوا ہے جو آگے پیچھے اچھل کود کررہا ہے۔ اور اس نے زرہ پر پتھر کی ہانڈی الٹی کر رکھی ہے اور ہانڈی کے اوپر اس نے کجاوہ رکھ دیا ہے تو خالد بن ولید ؓ کے پاس جا اور اس کو حکم کر کہ وہ میری زرہ کی طرف کسی کو بھیجے اور اس سے رہ لے لیں جب تو رسول ﷺ کے خلیفہ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس جائے تو ان کو یہ خبر دینا کہ مجھ پر فلاں فلاں کا اتنا قرضہ ہے اور میرا اتنا قرض فلاں فلاں کے ذمہ اور میرا فلاں فلاں غلام آزاد ہے اور یہ نہ سمجھنا کہ یہ خواب ہے اور تم اس کو ضائع کردے چناچہ ایک وہ آدمی خالد بن ولید ؓ کے پاس آیا اور ان کو خبر دی انہوں نے زرہ کے لئے آدمی بھیجا تو اس نے دیکھا کہ خیمہ لشکر کے آخر میں ہے اور اس کے پاس ایک گھوڑا لمبی رسی سے بندھا ہوا ہے اور چر رہا ہے اس نے خیمہ میں دیکھا تو اس میں کوئی نہیں تھا وہ لوگ خیمے میں داخل ہوگئے اور کجاوے کو اٹھایا تو اچانک اس کے نیچے ایک ہانڈی تھی پھر انہوں نے ہانڈی کو اٹھایا تو وہ زرہ اس کے نیچے پڑی ہوئی تھی اسے اٹھا کر وہ خالد بن ولید کے پاس لے آئے جب یہ لوگ مدینہ منورہ پہنچے تو اس آدمی نے ابوبکر ؓ کو اس خواب کے بارے میں بیان کیا کہ تو انہوں نے موت کے بعد ان کی وصیت کو جائز قرار دیا۔ اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی نہ جانتا تھا کسی کو موت کے بعد اس کی وصیت کو جائز قرار دیا گیا سوائے ثابت بن قیس بن شماس ؓ کے۔ 14:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے (آیت ) ’ ’ یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی۔ 15:۔ الترمذی ابن حبان ابن مردویہ (رح) صفوان بن عسال ؓ سے روایت کیا کہ دیہاتیوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اپنی اونچی آواز کے ساتھ پکارنے لگا یا محمد، یا محمد ہم نے کہا تیری ہلاکت ہو اپنی آواز کو پست کر کیونکہ تجھے اس سے منع کیا گیا اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم میں اس طرح ان کو بلاتا رہوں گا یہاں تک میں ان کو اپنی بات سنالوں گا نبی کریم ﷺ نے فرمایا انے دو تو اس نے کہا آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو ایک قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان سے مل نہیں سکتا ؟ آپ نے فرمایا آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس کی محبت ہوگی۔
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازوں کو پست کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقوی کے لئے خاص کردیا ہے۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور بڑا اجر ہے

16:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا جب یہ (آیت ) ” اولئک الذین لمتحن اللہ قلوبھم للتقوی “ (یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقوی کے لئے خاص کردیا) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان میں سے ثابت قیس بن شماس بھی ہیں۔ 17:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” امتحن “ سے مراد ہے خالص یعنی خالص کرنا۔ 18:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو خالص کردیا ان چیزوں میں جس کو وہ پسند فرماتے تھے۔ 19:۔ احمد (رح) نے الزھد میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کسی آدمی نے حضرت عمر ؓ کی طرف لکھا اے امیر المؤمنین ایک آدمی کسی گناہ کی خواہش نہیں رکھتا نہ اس پر عمل کرتا ہے یہ افضل ہے یا وہ آدمی جو گناہ کی خواہش رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا ؟ حضرت عمر ؓ نے لکھا وہ بلاشبہ لوگ افضل ہیں جو گناہ کی خواہش رکھتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے (آیت ) ” اولئک الذین لمتحن اللہ قلوبھم للتقوی، لھم مغفرۃ واجرعظیم “ (یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقوی کے لئے خالص کردیا ان لوگوں کیلئے مغفرت اور بڑا اجر ہے ) ۔ 20:۔ الحکیم ترمذی (رح) نے محکول (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن آدم کا نفس جوان رہتا ہے اگر اس کا بدن بوڑھا بھی ہوجائے سوائے ان لوگوں کے جن کے دلوں نے اللہ کے تقوی کیلئے خالص کردیا اور وہ بہت تھوڑے ہیں۔ 21:۔ ابن المبارک نے الزھد میں ابوررجاء ؓ سے روایت کیا کہ تم میں سے ہر ایک کا نفس برابر جوان رہتا ہے کسی چیز کی محبت سے اگرچہ اس کے سینے کی ہڈیاں بوڑھی بھی ہوجائیں سوائے ان لوگوں کے جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقوی کے لئے خالص کردیا ہوں اور وہ تھوڑے ہیں۔
Ayahs 49:4–5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

بیشک جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے ہیں

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ ان کی طرف نکل آتے تو ان کے لئے بہتر تھا اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے

1:۔ احمد وابن جریر (رح) ابوالقاسم البغوی ابن مردویہ (رح) الطبرانی بسند صحیح من طریق ابی سلمۃ بن عبد الرحمن اقرع بن جابس ؓ سے روایت کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آواز دے، اے محمد ہماری طرف باہر تشریف لایئے آپ نے کوئی جواب نہیں دیا اس نے پھر کہا اے محمد ﷺ میرا تعریف کرنا زینت ہے اور میرا مذمت کرنا عیب ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کے اختیار میں ہے اس پر یہ (آیت) نازل ہوئی ” ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت “ (جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں) ابن منیع نے کہا میں نہیں جانتا کہ اقرع کی یہ روایت اس سند کے بغیر بھی بیان کی گی ہے۔ 2:۔ الترمذی (وحسنہ) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے براء بن عازب ؓ سے (آیت) ” ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت، اکثرھم لایعقلون “ (جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے) کے بارے میں روایت کیا کہ ایک آدمی آیا اور کہا اے محمد ﷺ میری تعریف زینت ہے میرا مذمت عیب ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کی جانب سے ہے۔ 3:۔ ابن راھویہ ومسدد وابو یعلی والطبرانی وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے حسن سند کے ساتھ زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ کچھ لوگ عرب میں جمع ہوئے اور انہوں نے کہا اس آدمی کے پاس چلو اگر وہ نبی ہے تو پھر ہم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سعادت مند ہوں گے اور اگر یہ بادشاہ ہے تو ہم اس کے زیرسایہ زندگی گزاریں گے۔ میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ کو بتایا جو انہوں نے کہا وہ سب آپ کی طرف آئے اور آپ کو آواز لگانی شروع کی۔ اے محمد ﷺ تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتری ” ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت، اکثرھم لایعقلون “ رسول اللہ ﷺ نے میرا کان پکڑا اور فرمانے لگے اے زید اللہ تعالیٰ نے تیری بات کی تصدیق کردی دو دفعہ فرمایا۔ 4:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے محمد ﷺ میری تعریف اس کے لئے باعث زینت ہے اور میری مذمت اس کے لئے موجب عیب ہے۔ آپ نے فرمایا وہ اللہ کی جانب سے ہے تو یہ (آیت) نازل ہوئی ” ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت، اکثرھم لایعقلون “ 5:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ سعید بن جبیر ؓ کی جانب سے خبردی گئی کہ بنی تمیم میں سے ایک آدمی اور بنو اسد بن خزیمہ میں سے ایک آدمی نے گالی گلوچ کیا اسدی نے کہا (آیت) ” ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت “ سے بنی تمیم کے دیہاتی مراد ہیں تو سعید نے فرمایا اگر تمیمی فقیہ ہوتا تو کہتا بیشک اس کا پہلا حصہ بنوتمیم کے بارے میں ہے۔ اور اس کا آخری حصہ بنو اسد کے بارے میں ہے۔ 6:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حبیب بن ابی عمر و (رح) سے روایت کیا کہ میری اور ابنواسد میں سے ایک آدمی کے درمیان گفتگو ہوئی اسدی نے کہا (آیت) ” ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت، بنوتمیم کے بارے میں ” اکثرھم لایعقلون “ (اکثر ان کے نہیں جانتے) یہ بات میں نے سعید بن جبیر ؓ کو بیان کی تو فرمایا کیا تو بنواسد سے یہ نہیں کہے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” یمنون علیک ان اسلموا “ (وہ لوگ آپ پر احسان لگاتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے) کیونکہ عرب اسلام نہیں لائے یہاں تک کہ ان سے قتال کیا گیا اور ہم بغیر قتال کے اسلام لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان کے بارے میں نازل فرمائی۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ کے طریق سے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ بن اسد میں سے ایک آدمی نے بنوتمیم کے ایک آدمی سے کچھ کہا اور یہ آیت پڑھی (آیت) ” ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت “ یعنی ان کے اکثر بنوتمیم میں سے ہیں (آیت ) ” لا یعقلون “ (ہو عقل نہیں رکھتے) جب تمیمی کھڑا ہوا اور چلا گیا تو سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا بلاشبہ تمیمی اگر جانتا ہوتا اس بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسد کے بارے میں نازل فرمایا تو یقیناً بات کرتا ہم نے کہا ان کے بارے میں کیا نازل ہوا فرمایا وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا بیشک ہم اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہوئے اسلام لائے بیشک یہ ہمارا حق ہے (یعنی ہمارے ذمہ واجب ہے) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (آیت ) ” یمنون علیک ان اسلموا “ (کہ وہ احسان جتلاتے ہیں آپ پر کہ ہم اسلام لے آئے) 8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت “ سے بنو تمیم کے دیہاتی مراد ہیں۔ 9:۔ ابن منذر وابن مردویہ (رح) نے یعلی بن الاشق کے طریق سے سعد بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت، اکثرھم لایعقلون “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ بداخلاق لوگ تھے بنوتمیم میں سے اگر یہ لوگ دوسرے لوگوں سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہونے کا دجال کو قتل کرنے کے لئے تو میں اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے بددعا کرتا کہ وہ ان کو ہلاک کردے۔ رسول اللہ ﷺ کی تعریف زینت ہے : 10:۔ ابن اسحاق وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنوتمیم کا وفد اور وہ ستر یا اسی آدمی تھے ان میں سے زیرقان بن بدر، عطارد بن معید، قیس بن عاصم، قیس بن حارث اور عمروبن اھتم مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے حجرہ مبارک کے پاس آگئے اور حجروں کے باہر سے ہی اونچی آواز دینے لگے یا محمد ﷺ ہماری طرف باہرآئیے، اے محمد ﷺ ہماری طرف باہر آئیے اے محمد ﷺ رسول اللہ ﷺ ان کی طرف باہر تشریف لائے۔ تو انہوں نے کہا اے محمد ﷺ اگر ہم کسی کی تعریف کردیں اس کے لئے باعث زینت ہے، اور اگر ہم کسی کی مذمت کردیں تو اس کے لئے موجب عیب ہے ہم عرب کے سب سے زیادہ عزت والے لوگ ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے جھوٹ کہا بلکہ اللہ کی تعریف زینت کا باعث ہے اور اللہ کی مذمت تحقیر کا باعث ہے اور تم سے اشرف واعلیٰ یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں (پھر) انہوں نے کہا ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے فخر کا اظہار کریں پس طویل وقت تک یہ سلسلہ جاری رہا اور اس کے آخر میں یہ ہوا تمیمی کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا اللہ کی قسم بلاشبہ اسی آدمی کے لئے سب کچھ بنایا گیا ہے اس کا خطیب کھڑا ہوا اور وہ ہمارے خطیب سے زیادہ اعلی خطابت کرنے والا تھا اور اس کا شاعر ہمارے شاعر کی نسبت زیادہ اپنے فن کا ماہر تھا راوی کا بیان ہے کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ان الذین ینادونک من ورآء الحجرت “ بنوتمیم میں سے ” اکثرھم لایعقلون “ فرمایا یہ پہلی قرأت میں تھا (آیت ) ” ولو انہم صبروا حتی تخرج الیہم لکان خیرا لھم واللہ غفور رحیم “ (اور اگر یہ لوگ صبر اور انتظار کرتے کہ آپ خود ہی باہر انکے پاس تشریف لے آتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا اور اللہ غفور رحیم ہے۔ 11:۔ ابن سعد والبخاری فی الادب وابن ابی الدنیا والبیہقی (رح) فی شعب الایمان حسن ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی ازواج کے گھروں میں داخل ہوتا تھا عثمان بن عفان ؓ کی خدمت کے زمانے میں تو اپنے ہاتھ سے ان کی چھتوں کی چھو لیتا تھا (یعنی چھت اتنی نیچی تھی کہ میرا ہاتھ ان کی چھتوں کو پہنچ گیا) 12:۔ البخاری فی الادب وابن ابی الدنیا والبیہقی (رح) نے داؤد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حجرات کو دیکھا جو کھجور کی ٹہنیوں سے بنائی ہوئی تھی جو باہر سے بالوں سے بنے ہوئے کمبل سے ڈھکے ہوئے تھے اور میرا یہ گمان لگایا کہ کمرے کا عرض بال الحجرہ سے باب البیت تک چھ یا سات زراع کے قریب ہوگا اور ان کے سے کمرے کی لمبائی دس ذراع تھی اور میرا گمان ہے کہ گھر کی چھت سات آٹھ ذراع کے درمیان ہوگی۔ 13:۔ ابن سعد نے عطاخراسانی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی ازواج کے حجروں کو اس حال میں پایا کہ وہ کھجوروں کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے اور ان کے دروازوں پر سیاہ بالوں سے بنے ہوئے کمبل تھے ولید بن عبد الملک کا خط آیا وہ پڑنے لگا اور اس نے حکم دیا کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کے حجروں کو رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں داخل کردیا جائے۔۔ سے اس دی میں نے لوگوں کو بہت روتے ہوئے دیکھا سعید بن المسیب (رح) کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ کی قسم مجھے یہ بات پسند ہے کہ ان (حجروں) کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے کہ کچھ لوگ اہل مددینہ میں سے پیدا ہوں گے اور ساری دنیا سے یہاں تک آئیں گے تو وہ لوگ دیکھتے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں کسی چیز پر اکتفی فرمایا اور یہ چیزیں لوگوں کو مال کثرت اور تفاخر میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے سے روکیں اور انکو دور رکھیں اور ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے اس دن فرمایا کاش کہ ان کو (اس حال میں) چھوڑ دیا جاتا انکو نہ گرایا جاتا یہاں تک کہ لوگ رک جاتے بلند وبالا عمارتوں کے بنانے سے اور وہ دیکھ لیتے کہ کونسی چیز کو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کیلئے پسند فرمایا حالانکہ دنیا کے خزانوں کی چابیاں آپ کے ہاتھ میں تھیں۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کرلو ایسا نہ ہو کہ تم نادانی کی وجہ سے کسی قوم کو ضرر پہنچا دو پھر اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے

کسی خبر پر بلاتحقیق عمل کرنا جائز نہیں : 1:۔ احمد وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن منذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے جید سند کے ساتھ حارث بن ضرار خزاعی ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی میں نے اسے قبول کرلیا اور میں نے اس کا اقرار بھی کرلیا اور آپ نے زکوٰۃ کی طرف بلایا میں نے اس کا بھی اقرار کرلیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی قوم کی طرف جاتا ہوں اور ان کو اسلام قبول کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے پر دعوت دوں گا جنہوں نے میری دعوت کو قبول کرلیا تو میں زکوٰۃ کو جمع کرلوں گا پھر یا رسول اللہ ﷺ آپ میرے پاس ایک قاصد بھیج دیجئے اس طرح اور اس طرح اس کی وضاحت کی جائے تاکہ وہ لے آئے گا آپ کے پاس جو کچھ ہے زکوٰۃ جمع کی ہوگی پس جب حارث نے زکوٰۃ جمع کرلی ان لوگوں میں سے جنہوں نے ان کی دعوت قبول کرلی تھی (اور وہ تفصیلات جن کو رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف بھیجنے کا ارادہ فرمایا تھا ان تک پہنچا چکے تو قاصد رک گیا اور وہاں نہ آسکا حارث نے گمان کیا کہ اس سے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ناراضگی ہوتی ہے تو اس نے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے لئے وقت مقرر فرمایا تھا کہ میرے لئے وہ اپنا قاصد بھیجیں گے تاکہ وہ لے جائے جو میرے پاس زکوٰۃ کا مال ہے اور رسول اللہ ﷺ کی جانب سے وعدہ خلافی ممکن نہیں اس لئے میرا خیال یہ ہے کہ آپ ﷺ کا قاصد نہ آیا آپ کی ناراضگی کی وجہ سے ہے لہذا ہم خود رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ ؓ کو حارث کی طرف بھیجا تاکہ جو زکوٰۃ مال اس کے پاس جمع ہوا وہ اکٹھا کرکے لے آئے اور کہا کہ حارث نے مجھے زکوٰۃ حوالہ کرنے سے انکار کردیا ہے اور اس نے میرے قتل کا ارادہ کیا رسول اللہ ﷺ نے حارث کی طرف ایک دستہ بھیجا حارث اپنے ساتھیوں کو لیکر حاضر خدمت ہوا ابھی رسول اللہ کا بھیجا ہوا دستہ مدینہ منورہ سے نکلا ہوا تھا۔ اور یہ کہ حارث کی ان سے ملاقات ہوگئی انہوں نے کہا یہ حارث ہے۔ جب حارث نے ان سے ملاقات کی تو ان سے پوچھا تم کس کی طرف بھیجے گئے ہو انہوں نے کہا تیری طرف حارث نے پوچھا کس لئے ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تیری طرف ولید بن عقبہ کو بھیجا تھا اور اس نے گمان کیا کہ تو نے اسے زکوٰۃ حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے اور تو نے اس کے قتل کا بھی ارادہ کیا حارث نے کہا نہیں (میں نے ایسا ارادہ نہیں کیا) اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے اس کو نہ دیکھا اور نہ وہ میرے پاس آیا جب حارث رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا تو نے زکوٰۃ سے انکار کیا اور میرے قاصد کو تو نے قتل کا ارادہ کیا ہے حارث نے کہا نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ نہ میں نے اس کو دیکھا اور نہ اس نے مجھے دیکھا میں نہیں آیا مگر رسول اللہ ﷺ کا کوئی قاصد میرے پاس نہیں آیا تو مجھے یہ خوف ہوا کہ ایسا اللہ کے رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی کی وجہ سے ہوتا ہے اس پر یہ (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنبا فتبینوا “ سے ” علیم حکیم “ تک (اے ایمان والوں ! اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبرلائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو) 2:۔ الطبرانی وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے علقمہ بن ناجیہ (رح) سے روایت کیا کہ ہماری طرف رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط موسیٰ ہماری طرف کو بھیجا تاکہ وہ ہمارے مالوں کا صدقہ وصول کرے وہ چل پڑے یہاں تک کہ جب وہ ہم سے قریب پہنچے تو وہ واپس لوٹ گئے اور یہ واقعہ مریسیع کا بعد کا ہے۔ وہ واپس لوٹ گئے۔ تو میں بھی ان کے پیچھے پیچھے رہا وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میں ایک قوم کے پاس ان کی جاہلیت کی حالت میں آیا کہ انہوں نے لباس پکڑلئے اور صدقہ کو روک لیا تو اس بات کو رسول اللہ ﷺ نے رد نہیں فرمایا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنبا “۔ پس ولید کے مطابق کے لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس اپنے صدقات لیکر حاضر خدمت ہوئے۔ 3:۔ الطبرانی فی الادب جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ ؓ کو بنووکیعہ کی طرف بھیجا اور جاہلیت کے زمانہ میں انکے درمیان دشمنی تھی جب وہ بنووکیعہ پہنچے انہوں نے ان کے استقبال کیا تاکہ جو کچھ ان کے دل میں ہے اسے غور سے دیکھیں پس ان کو خطرہ لگا تو وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف واپس لوٹ آئے اور کہا کہ بنووکیعہ نے میرے قتل کا ارادہ کیا اور صدقہ میرے حوالہ کرنے سے انکار کردیا۔ جب وکیعہ کو یہ بات پہنچی تو ولید نے کہا تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا یارسول اللہ ﷺ کو ولید نے جھوٹ بولا۔ راوی کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ولید کے بارے میں یہ نازل فرمایا (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق “ قبیلہ بنی مصطلق سے زکوٰۃ کی وصولی : 4:۔ ابن راھویہ وابن جریر (رح) والطبرانی وابن مردویہ (رح) نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ولید بن عقبہ ؓ کو قبیلہ بنومصطلق کی طرف بھیجا تاکہ ان کے مالوں سے زکوٰۃ وصول کریں جب اس قوم نے یہ خبر سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعظیم کرتے ہوئے اسے پرتپاک انداز سے ملے شیطان نے (ولید بن عقبہ کے دل میں) یہ بات پیدا کردی کہ وہ لوگ اس کے قتل کا ارادہ کررہے ہیں تو وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف واپس لوٹ آئے اور کہا کہ بنومصطلق والوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا بنومصطلق والوں کو جب ان کے واپس لوٹنے کی خبر پہنچی تو وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی سے آپ نے ہماری طرف ایک آدمی بھیجا زکوٰۃ کا مال لینے کیلئے ہم کو اس بات سے خوشی ہوئی اور ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں پھر وہ راستے سے ہی واپس لوٹ آیا ہم کو ڈر ہوا کہ یہ بات ناراضگی کا باعث نہ بن جائے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق “ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) فی سنتہ وابن عساکر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنوالمصطلق کی طرف بھیجا تاکہ ان سے صدقات لے آئے جب ان (قبیلہ والوں) کو خبر پہنچی تو وہ خوش ہوئے اور وہ استقبال کے لئے باہر نکل آئے جب یہ بات ولید کو پہنچی کہ وہ ملاقات کے لئے ہر قبیلے سے باہر آئے ہیں تو وہ راستے ہی سے واپس لوٹ گئے اور جا کر کہا یا رسول اللہ ﷺ کہ بنوالمصطلق والوں نے مجھے زکوٰۃ کا مال دینے سے انکار کردیا ہے یہ خبر سن کر رسول اللہ ﷺ سخت غصہ ہوئے اس درمیان کہ آپ اپنے دل میں یہ سوچ رہے تھے کہ ان پر حملہ کردیں اچانک وہ لوگ وفد کی صورت میں آگئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کا قاصد آدھے راستے سے لوٹ گیا ہے اور ہم کو خوف ہوا کہ آپ کے فرمان کے رد ہونے کی وجہ سے آپ کی طرف ہم پر کوئی غصہ نہ آجائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق “۔ 6:۔ آدم وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والبیہقی (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط ؓ کو قبیلہ بنومصطلق کی طرف بھیجا تاکہ ان سے صدقات وصول کرے تو انہوں نے انتہائی امن و سکون کے ساتھ اس سے ملاقات کا پروگرام بنایا لیکن ولید راستے ہی سے رسول اللہ ﷺ کی طرف واپس لوٹ آئے اور کہا کہ بنو مصطلق آپ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے جمع ہوچکے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت ) ” ان جآء کم فاسق بنبا فتبینوا “ (اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو۔ 7:۔ ابن مردویہ (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو بنو وکیعہ کی طرف بھیجا۔ زمانہ جاہلیت میں انکے درمیان دشمنی تھی بنووکیعہ کو خبر ملی تو انہوں نے ان کے اسقبال کا پروگرام بنایا تاکہ جو کچھ اس کے دل میں ہے اس میں غور وفکر کرسکیں لیکن ولید قوم سے ڈر گئے اور رسول اللہ ﷺ کی طرف واپس لوٹ گئے اور جاکر کہا کہ بنووکیعہ نے میرے قتل کا ارادہ کیا اور مجھے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا جب یہ بات بنووکیعہ کو پہنچی جو ولید نے ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو کہی تو وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ! ولید نے جھوٹ بولا ہے البتہ ہمارے اور اس کے درمیان دشمنی تھی تو ہم کو بھی خوف ہوا کہ وہ ہم سے انتقام لے گا جو ہمارے درمیان عداوت ہے تو اللہ تعالیٰ نے ولید کے بارے میں یہ نازل فرمایا (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنبا فتبینوا “ حملہ سے پہلے تحقیق حال لازم ہے : 8:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے نبی کہ بنوفلاں عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ ہے اور آپ کے دل میں ان کے خلاف کچھ جذبات تھے اور ان کا اسلام قبول کرنا ابھی نیا نیا تھا انہوں نے چھوڑ دیا تھا نماز کو اور مرتد ہوگئے تھے اور اللہ کے ساتھ کفر کا ارتکاب کیا ہے۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جلدی نہیں فرمائی اور خالد بن ولید ؓ کو بلایا انکو ان کی طرف بھیجا پھر فرمایا نماز کے وقت دیر تک ان کو دیکھتے رہو اگر قوم نے واقعی نماز ترک کردی ہے تو ان کے ساتھ جو کاروائی چاہو کرو مگر پھر بھی ان پر جلدی نہ کرنا۔ راوی نے کہا کہ وہ سورج کے غروب کے وقت ان کے قریب پہنچے اور ایسی جگہ جاکر چھپے جہاں نماز کی آواز سنائی دیتی تھی وہ دیر تک ان کو دیکھتے رہے اچانک ایک دن مؤذن کھڑا ہو اجب سورج غروب ہوا اس نے آؔ ذان دی پھر نماز کے لئے اقامت کہی اور انہوں نے مغرب کی نماز پڑھی۔ خالد بن ولید ؓ نے فرمایا ہم نے ان کو نہیں دیکھا مگر وہ نماز پڑھ رہے ہیں شاید کہ انہوں نے اس نماز کے علاوہ کوئی نماز کے علاوہ کوئی نماز چھوڑی ہو پھر وہ چھپ گئے یہاں تک کہ جب رات ہوئی اور سرخی غائب ہوگئی تو ان کے مؤذن نے اذان دی اور انہوں نے نماز پڑھی خالد نے فرمایا شاید کہ انہوں نے کوئی دوسری نماز چھوڑی ہو۔ پھر چھپے رہے یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی تو وہ جاگ پڑھے یہاں تک کہ گھوڑا ان کے گھوڑوں کے ساتھ ہوگیا۔ اچانک ایک قوم کوئی چیز قرآن میں سے سیکھ رہے تھے اور وہ رات کو اس کے ذریعہ تہجد پڑھ رہے تھے اور اس قرآن کو بھی پڑھ رہے تھے پھر وہ ان کے پاس صبح کے وقت آئے تو مؤذن نے اذان دی جب فجر طلوع ہوئی پھر اقامت کہی پھر وہ کھڑے ہوئے تو سب نے نماز پڑھی جب وہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے اور ان پر دن خوب ہوچکا تھا تب آپ نے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے گھروں میں داخل ہونے کا ارادہ کیا جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو انہوں نے کہا وہ کون ہے ؟ تو ان لوگوں نے کہا یہ خالد بن ولید ؓ میں آپ انتہائی سخت مزاج آدمی تھے انہوں نے آپ سے پوچھا اے خالد ! تیرا کیا کام ہے ؟ فرمایا اللہ کی قسم میرا کام یہ ہے کہ کوئی آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور ان سے کہا گیا تم نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اور تم نے نماز چھوڑی تو انہوں نے رونا شروع کردیا۔ اور کہا ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کبھی بھی کفر پر کفر کریں راوی نے کہا کہ خالد بن ولید ؓ نے گھوڑا کو واپس پھیرا اور لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) اتاری ” یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما “ (اے ایمان والو ! اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کہیں کسی قوم کو انجانے میں ضرر نہ پہنچا دو ) 9:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو قبیلہ بنو مصطلق کے پاس بھیجا کہ ان سے صدقات وصول کریں تو وہ ان کے پاس نہ پہنچے اور لوٹ آئے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ان لوگوں نے نافرمانی کی (صدقہ دینے سے انکار کردیا) تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف جنگ کی تیاری کا ارادہ فرمایا اچانک ایک آدمی بنومصطلق کی جانب سے آیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ سے آکر کہا ہم نے سنا کہ آپ نے ہماری طرف قاصد بھیجا ہے کہ ہم اس سے خوش ہوئے اور ہم نے اس کے ذریعہ خوشخبری حاصل کی۔ لیکن آپ کا قاصد ہم تک نہیں پہنچا اور اس نے جھوٹ بولا تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا اور اس کا نام فاسق رکھا (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنبا “ (الایہ) 10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” یایھا الذین امنوا ان جآء کم فاسق بنبا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے ابن ابی معیط الولید بن عقبہ مراد ہے جس کو اللہ کے نبی ﷺ بنو مصطلق کی طرف صدقات کے وصول کرنے کے لئے بھیجا جب انہوں نے ان کو دیکھا تو وہ اس کی طرف آئے اور وہ ان سے ڈر گئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس لوٹ کر ان سے عرض کیا کہ وہ لوگ اسلام سے مرتد ہوگئے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید ؓ کو ان کے پاس بھیجا اور ان کو حکم فرمایا کہ ٹھہر جانا جلدی نہ کرنا پس وہ چلے گئے یہاں تک کہ ان کے پاس رات کے وقت پہنچے اور اپنے جاسوس بھیجے جب آپ ان کے پاس آئے تو آپ کو ساری خبر دی کہ وہ اسلام کو مضبوطی کے ساتھ تھامے ہوئے ہیں اور ان کی آواز کو سنا اور ان کی نمازوں کو دیکھا جب صبح ہوئی تو خالد بن ولید ؓ ان کے پاس آئے اور ان میں ایسی چیزوں کو جن سے آپ خوش ہوئے پھر نبی کریم ﷺ کے پاس لوٹ گئے اور ان کو صحیح صورت حال سے آگاہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن نازل فرمایا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کرتے تھے کام میں غور وفکر کرنے کے لئے تاخیر اور انتظار کرنا اللہ کی طرف سے ہے اور جلدی کرنا شیطان کی طرف ہے۔ 11:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان جآء کم فاسق بنبا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب کوئی تیرے پاس آجائے اور تجھ سے بیان کرے کہ فلاں مرد یا فلاں عورت برے کاموں میں سے یہ یہ کام کررہے ہیں تو اس کی تصدیق نہ کر
Ayahs 49:7–8

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور تم جان لو کہ بیشک تمہارے اندر اللہ کے رسول موجود ہیں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ ان میں تمہاری بات مان لیں تو تم مشقت میں پڑجاؤ اور لیکن اللہ نے ایمان کو تمہارے لئے محبوب بنادیا اور اسے تمہارے قلوب میں مزین کردیا اور کفر اور فسوق اور نافرمانی کو تمہارے نزدیک مکروہ بنادیا ہے یہ لوگ ہدایت والے ہیں

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کی وجہ سے اور اللہ جاننے والا ہے حکمت والا ہے

اماقولہ تعالیٰ : (آیت ) ” واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم “ 12:۔ عبد بن حمید والترمذی (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے ابو نصرہ (رح) سے روایت کیا کہ ابوسعید خدری ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم “ (اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں اگر وہ اس میں تمہارا کہا جانا کریں تو تم کو بڑی مضرت پہنچ جائے) فرمایا یہ تمہارے نبی ہیں کہ ان کی طرف وحی کی جاتی ہے اور تم تمام امتوں میں افضل ہوتی ہو اور اگر وہ انکی بات مان لیں بہت کاموں میں تو وہ مشقت میں پڑجائیں تو آج تمہارے لئے کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ 13:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے رحلت فرماگئے تو ہم نے بذات خود انکار کیا تو ہم اپنے نفسوں کا کیسے انکار نہیں کریں گے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم “ 14:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم “ سے مراد اللہ کے نبی ﷺ کے صحابہ ہیں اگر اللہ کے نبی بہت کاموں میں ان کا کہنا مان لیں تو وہ مشقت میں پڑجائیں اور اللہ کی قسم تم دونوں لحاظ سے کمزور ہو اور تمہاری عقلیں ناقص ہیں اور آدمی نے اپنی رائے میں شرک کیا ہے اور اس نے اللہ کی کتاب سے نصیحت قبول کی ہے کیونکہ اللہ کی کتاب مضبوط سہارا ہے اس شخص کیلئے جس نے اس کو مضبوطی سے پکڑا اور پھر اس پر انتہا کی اور بلاشبہ اللہ کی کتاب کے علاوہ سب تباہی کا سامان ہے۔ 15:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم “ سے مراد ہے تم میں بعض بعض کو مشقت میں ڈال دے گا۔ اماقولہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولکن اللہ حبب الیکم الایمان “ غزوہ احد کے موقع پر حمد وثناء کے کلمات : 16:۔ احمد والبخاری فی الادب والنسائی والحاکم (وصححہ) نے رفاعہ بن رافع الزرقی رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ جب احد کا دن تھا اور مشرکین شکت کھاگئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا سیدھے ہوجاؤ یہاں تک کہ میں اپنے رب کی ثناء بیان کروں تو آن ہوں نے آپ کے پیچھے صف باندھیں تو آپ نے یہ دعا فرمائی۔ اللہم لک الحمد کلۃ لما اللہم لا قابض لما اللہم لا قابض لما بسطت ولا باسط لما قبضب ولا ھادی لما اضللت ولا مضل لا ھدیت ولا معطی لما منعت ولا مانع لما اعطیت ولا مقرب لما بعدت ولا مباعد لما قربت اللہم ابسط علینا من برکاتک ورحمتک وفضلک اللہم انی اسئلک النعیم المقیم الذی لا نحول ولا یزول اللہم انی اسئلک النعیم یوم العیلۃ والامن یوم الخوف اللہم انی عایذبک من شرما اعطیتنا وشر ما منعتنا اللہم حبب الینا الایمان وزینۃ فی قلوبنا وکرہ الینا الکفر والفسوق والعصیان واجعلنا من الراشدین اللہم توقنا مسلمین واحییتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولا مفتونین اللہم قاتل الکفرۃ الذین یکذبون رسلک ویصدون عن سبیل واجعل علیہم رجزک وعذابک اللہم قاتل الکفرۃ الذین اوتو الکتاب یا الہ الحق۔ ترجمہ : اے اللہ ساری تعریفیں آپ کیلئے ہیں اے اللہ کوئی قبض کرنے والا نہیں جس کو آپ بھلا دیں اور کوئی پھیلانے والا نہیں جس کو آپ روک دین اور کوئی ہدایت دینے والا نہیں جس کو آپ گمراہ کردیں اور کوئی گمراہ کرنے والا نہیں جس کو آپ ہدایت دیں اور کوئی دینے والا نہیں جس سے آپ روک دیں اور کوئی روکنے والا نہیں جس کو آپ عطا فرمائیں اور کوئی قریب لانے والا نہیں جس کو آپ دور کردیں اور کوئی دور ہونے والا نہیں جس کو آپ قریب کردیں اے اللہ ہم پر پھیلا دیں اپنی برکتوں اپنی رحمتوں اور اپنے فضل کو اے اللہ میں آپ سے قائم رہنے والی ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو نہ تبدیل ہو اور نہ زائل ہوجائے۔ اے اللہ میں آپ سے فقروفاقہ کے دن نعمتوں کا سوال کرتا ہوں اور خوف کے دن امن کا اے اللہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں اس شر سے جو آپ نے ہم کو دی اور اس شر سے جو آپ نے ہم سے روک دیا اے اللہ ہماری طرف ایمان کو محبوب بنادے اور ہمارے دلوں میں اس کو مزین کردے اور ہماری اور ہماری طرف کفر کو اور فسق کو اور گناہ کو ناپسندیدی بنادے اور ہم کو ہدایت والے لوگوں میں سے بنا دیجئے اے اللہ ہم کو مسلمان بنا کر موت دے اور ہم کو مسلمان بنا کر زندگی دے اور ہم کو نیک موت دے اور ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے کہ نہ رسوائیوں اور نہ ان میں سے ہوں جو فتنہ میں متبلا ہوئے اے اللہ کافروں کے قتل کرنے والے جنہوں نے تیرے رسولوں کو جھٹلایا اور تیرے راستے سے روکتے ہیں اور ان پر اپنا عذاب ڈال دے اے اللہ کافروں کو قتل کرنے والے جن کو آپ نے کتاب دی اے سچے معبود۔