49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو ، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔

سورت کا آغاز ہی نہایت ہی محبوب آواز سے ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا (49 : 1) ” اے ایمان والو “ یہ اللہ کی طرف سے پکار ہے ، ان لوگوں کو جو اللہ پر ایمان بالغیب لانے والے ہیں اور یہ پکار کر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا فرماتا ہے ، کیونکہ اللہ سے مومنین کا تعلق ، تعلق ایمان ہے۔ اہل ایمان کے اندر یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں اور اس چھوٹے سے سیارے پر یہ لوگ اللہ کے بندے ، اللہ کے کارکن اور اس کی فوج ہیں اور ان کو اللہ نے یہاں کسی مقصد کے لئے بھیجا ہے اور اسی لیے اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا کردی ہے اور ایمان کو ان کے لئے محبوب بنا دیا ہے اور اس فوج میں اللہ نے ان کو بھرتی کر کے ان پر احسان کیا ہے ۔ لہٰذا ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ اس موقف پر کھڑے رہیں جہاں اللہ نے ان کے کھڑے کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ کے سامنے وہ یوں کھڑے ہوں جس طرح عدالت میں ایک شخص فیصلے کے انتظار میں کھڑا ہوتا ہے یا ایک ماتحت فوجی اپنے افسر سے ہدایات کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ وہی کرتا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور اس کام کے لئے تیار ہوتا ہے جس کا اسے حکم دیا جاتا ہے۔ پوری طرح سر تسلیم خم کرتے ہوئے۔ یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ ان اللہ سمیع علیم (49 : 1) ” اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو ، اور اللہ سے ڈرو ، اور وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے “۔ اے ایمان والو ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی مرضی کی تجاویز نہ پیش کرو ، نہ اپنے نفوس کے بارے میں نہ اپنے ماحول کی زندگی کے بارے میں اور اللہ اور رسول ﷺ کا فیصلہ کرنے سے قبل کسی معاملہ پر اپنا فیصلہ خود صادر نہ کرو ، اور کسی معاملے میں اللہ اور رسول ﷺ کا فیصلہ ہو تو اس میں اپنے فیصلے صادر نہ کرو۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اپنی ان خواہشات اور تجاویز کا اظہار کرتے تھے کہ کیا ہی اچھا ہو کہ فلاں فلاں معاملے میں احکام آجائیں۔ اگر اس طرح ہوجائے تو بہت بہتر ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی ان تجاویز کو ناپسند فرمایا۔ عوفی کہتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے باتیں کرنے سے روک دیا گیا۔ مجاہد کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے خواہ مخواہ فتویٰ نہ مانگا کرو ، خود اللہ جو چاہے نازل فرمادے۔ ضحاک کہتے ہیں ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ اور اصول دین اور قوانین شریعت کو چھوڑ کر اپنے فیصلے نہ کرو ، اور علی بن طلحہ نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف نہ کہو۔ یہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں فکری اور نظریاتی آداب ہیں۔ اللہ سے ہدایات اخذ کرنے اور نافذ کرنے کے یہ آداب ہیں کہ جو حکم آئے اس کی تعمیل کرو اور باقی کے بارے میں خاموش رہو۔ یہی اصول دین اور شریعت کا بہترین رویہ ہے ۔ یہ خدا خوفی اور اس کی اس حقیقت پر مبنی ہے کہ اللہ تو سب کچھ دیکھ رہا ہے اور یہ سب باتیں اس مختصر سی آیت میں بتا دی گئی ہیں۔ یوں مسلمانوں کا اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تعلق تھا۔ کوئی شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی تجویز نہ دیتا تھا۔ کوئی رسول اللہ ﷺ کے سامنے کسی رائے کا اظہار نہ کرتا تھا۔ جب تک آپ ﷺ رائے طلب نہ فرمائے۔ کوئی بھی کسی معاملے یا حکم میں فیصلہ کا اس وقت تک نہ کرتا تھا جب تک وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے اقوال کی طرف رجوع نہ لیتا ۔ امام احمد ، ابو داؤد ، اور ترمذی نیز ابن ماجہ نے نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ جب حضرت معاذ ابن جبل کو یمن کا گورنر بنا کر بھیج رہے تھے تو ان سے پوچھا کہ تم فیصلہ کس طرح کرو گے انہوں نے عرض کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ تو فرمایا کہ اگر اللہ کی کتاب میں حکم نہ ہو تو عرض کیا کہ سنت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ، آپ ﷺ نے فرمایا اگر سنت میں بھی کوئی ہدایت نہ پاؤ تو انہوں نے کہا کہ اپنے رائے کے مطابق اجتہادی فیصلہ کروں گا۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے ان کے سینے پر ضرب لگائی اور فرمایا خدا کا شکر ہے کہ اللہ نے رسول خدا کے نمائندے کو وہ توفیق دی جو رسول اللہ ﷺ کی خواش تھی۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ حضور ﷺ ان سے پوچھ رہے تھے کہ آج کون سا دن ہے جس میں تم ہو۔ اور وہ جگہ کون سی جہاں تم ہو ۔ وہ سب جانتے تھے لیکن وہ سب جانتے تھے لیکن وہ سب جواب دیتے ہیں کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ جانتے ہیں اور یہ وہ اس لیے کہتے تھے کہ کہیں ان کا قول اللہ اور رسول ﷺ سے پیش قدمی نہ ہوجائے۔ ابوبکرہ نقیع ابن الحارث ؓ کی حدیث میں آتا ہے کہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر حضور اکرم ﷺ نے پوچھا یہ کو مہینہ ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور رسول اللہ زیادہ جانتے ہیں۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے اور ہم نے یہ خیال کیا شاید مہینے کا نام بدل گیا ہے اور حضور ﷺ کوئی دوسرا نام لیں گے تو حضور ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ہم نے کہا ہاں ، رسول خدا ﷺ یہ ذوالحجہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور رسول خدا ﷺ زیادہ جانتے ہیں تو حضور ﷺ خاموش ہوگئے اور ہمارا خیال ہوا کہ شاید حضور بلد حرام کا نام بدل گے۔ آپ نے فرمایا کیا یہ بلد حرام نہیں ہے ؟ تو ہم نے کہا کہ ہاں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کون سا دن ہے ؟ تو ہم نے کہا اللہ اور رسول اللہ ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہوگئے اور ہم نے کہا کہ شاید حضور ﷺ اس کا نام بدل دیں گے آپ نے فرمایا کیا یہ یوم الخر نہیں ہے ؟ ہم نے کہا ہاں۔۔۔ یہ تھی صورت حال جناب بنوی ﷺ میں صحابہ کرام ؓ کے ادب اور احترام کی۔ نہایت احتیاط ، تقویٰ ، خشیت ۔ یہ آیات نازل ہونے کے بعد ان کے اندر یہ ادب اور احترام پیدا ہوا تھا ۔ کیونکہ ان آیات میں کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ سمیع وعلیم ہے۔ دوسرا ادب و احترام یہ تھا کہ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو میں آداب نبوت کو ملحوظ رکھو۔ نہایت احترام سے اور دلی احترام سے بات کرو۔ تمہاری حرکات اور تمہاری آواز سے احترام ظاہر ہو۔ آپ کی شخصیت اور آپ کی مجلس اور گفتگو نہایت ہی ممتاز ہو۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی پسندیدہ انداز میں ان کو ڈراتا ہے۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

” اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی ﷺ کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وانتم لا تشعرون (49 : 2) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی آوازنبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی سے اونچی آواز سے بات کرو ، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ” ایمان لانے والوں سے خطاب کر کے اس بات کا اظہار کردیا کہ تمہارا وقار ایمان سے ہے اور ایمان تمہیں حضرت محمد ﷺ نے سکھایا ہے۔ نبی کی بارگاہ میں ذرا بھی بےاحتیاطی سے اعمال غارت ہوجائیں گے اور تمہارے اعمال اسی طرح اسی طرح بےاثر ہوجائیں جس طرح ہٹا کٹا جانور زہریلی گھاس سے آنافانا ختم ہوجاتا ہے تمہیں پتہ بھی ہوگا اور اعمال ضائع ہوچکے ہوں گے ۔ صحابہ کرام ؓ کے دلوں کے اندر اس محبوب اور پیاری آواز نے وہ اثر کرلیا تھا جس کی مثال نہیں ملتی۔ امام بخاری روایت کرتے ہیں : بشر ابن صفوان سے ، انہوں نے نافع ابن عمر سے انہوں نے ، ابن ابو ملیکہ سے وہ کہتے ہیں کہ قریب تھا کہ صحابہ میں سے دو برتر مقام کے لوگ ابوبکر اور عمر ہلاک ہوجائیں ۔ انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے باہم تکرار کی جب بنو تمیم کا وفد آیا تھا ۔ یہ نویں ہجری کی بات ہے ایک نے کہا کہ اقرع ابن حابس کو امیر بنائیں یہ اشجع کے موالی میں سے تھا ، دوسرے صاحب نے ایک دوسرے شخص کے بارے میں کہا ، مجھے نام یاد نہیں ہے (دوسری روایت میں ، قعقاع ابن معبد آیا ہے) حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا ، تم تو میرے خلاف ہی کرتے ہو ۔ حضرت عمر ؓ نے کہا میرا ارادہ آپ کی مخالفت کا نہ تھا۔ اس معاملے میں ان کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ یایھا الذین امنوا لاترفعوا ۔۔۔۔۔۔۔ وانتم لا تشعرون (49 : 2) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی سے اونچی آواز سے بات کرو ، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ” ۔ ابن الزبیر ؓ کہتے کہ اس کے بعد حضرت عمر ؓ سے اس قدر آہستہ بات کرتے کہ آپ کو پوری طرح نہ سناتے اور حضور ﷺ ان سے دوبارہ پوچھتے۔ اور حضرت ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے رسول خدا میں آپ سے صرف کانا پھوسی میں بات کروں گا ۔ امام احمد روایت کرتے ہیں سلیمان ابن مغیرہ سے انہوں نے ثا بت سے انہوں نے حضرت انس ابن مالک سے وہ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی۔ یایھا الذین امنوا لاترفعوا ۔۔۔۔۔۔۔ وانتم لا تشعرون (49 : 2) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی سے اونچی آواز سے بات کرو ، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ” ۔ تو ثابت ابن قیس بن الشماس نہایت اونچی آواز والے تھے وہ کہنے لگے “ میں ہی تھا جو رسول اللہ ﷺ پر اپنی آواز بلند کرتا تھا۔ میں ہی جہنمی ہوں اور میرے ہی اعمال گئے ” وہ گھر میں نہایت ہی مغموم ہو کر بیٹھ گئے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے محسوس کیا یہ شخص نہیں آرہے ہیں۔ بعض لوگ ان کے پاس ہوگئے کہ آپ کی غیر حاضری کو رسول اللہ ﷺ نے محسوس کیا ہے۔ آپ کو کیا ہوگیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی آواز سے تو میری آواز بلند ہوتی ہے اور میں ہی اونچی آواز سے باتیں کیا کرتا تھا۔ میرے تو اعمال ہی ضائع ہوگئے۔ لازماً میں جہنمی ہوں یہ لوگ حضور ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ کو اطلاع دی کہ وہ تو یہ کہتے ہیں۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا نہیں “ وہ تو اہل جنت میں سے ہیں ”۔ حضرت انس فرماتے ہیں وہ ہم میں پھرتے اور ہم یہ سمجھتے کہ یہ جا رہا ہے جنتی ! غرض “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ” کے محبت آمیز انداز گفتگو کے ساتھ مومنین کو جو کال دی گئی اس سے وہ کانپ اٹھے اور آئندہ کے لئے جناب رسالت میں نہایت خاموشی سے سہم کر بیٹھتے کہ کہیں ان کے اعمال ضائع نہ ہوجائیں۔ اور ان کو اس کا شعور ہی نہ ہو کیونکہ شعوری طور پر تو وہ بہت محتاط تھے لیکن ان کو زیادہ ڈر اس بات کا تھا کہ غیر شعوری حالت میں ان کا نقصان نہ ہوجائے اس لیے وہ بہت ڈر گئے تھے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی خدا خوفی اور رسول اللہ ﷺ کے ہاں ان کے ان آداب کا اظہار نہایت ہی عجیب پیرائے میں کیا ہے۔
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

جو لوگ رسول ﷺ خدا کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے جانچ لیا ہے ، ان کے لئے مغفرت ہے اور اجر عظیم ۔

ان الذین یغضون اصواتھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واجر عظیم (49 : 3) “ جو لوگ رسول خدا کے ہاں بات کرتے ہوئے اپنی آواز کو پست رکھتے ہیں وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے جانچ لیا ہے ۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے ”۔ تقویٰ اور خدا خوفی اللہ کی ایک عظیم بخشش ہے۔ اللہ ہی اس اعزاز اور نعمت کے لئے دلوں کا انتخاب کرتا ہے ۔ اس امتحان اور اختیار اور خلوص اور طہارت قلبی کے بعد پھر ان دلوں کو تقویٰ دیا جاتا ہے ، لہٰذا یہ نعمت انہی دلوں کو دی جاتی ہے جو اس کے لئے تیار ہوں اور یہ ثابت ہوجائے کہ یہ دل تقویٰ کے مستحق ہیں اور جو لوگ اپنی آوازیں رسول اللہ ﷺ کے ہاں نیچی رکھتے ہیں ایسے لوگوں کو تقویٰ کے لئے منتخب کیا گیا اور اس انعام کے ساتھ یعنی تقویٰ عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو مغفرت بھی دی جاتی ہے۔ انتہائی ڈراوے کے بعد یہ ایک گہری ترغیب ہے ۔ اس طرح اللہ اپنے مختار بندوں کے دلوں کو تربیت فرماتا ہے اور ان کو اس عظیم کام کے لئے تیار کرتا ہے اور اسی انداز تربیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے آغاز میں جماعت صحابہ کو تیار فرمایا تھا۔ یہ لوگ ہدایت پر تھے اور روشنی کے حامل تھے ۔ امیر المومنین عمر ابن الخطاب ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے مسجد نبوی ﷺ میں دو آدمیوں کی آواز سنی ، ان کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ وہ آئے اور انہوں نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کہاں ہو ؟ اس کے بعد ان سے کہا تم کہاں سے آئے ہو ، انہوں نے کہا ہم اہل طائف سے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے فرمایا اگر تم اہل مدینہ سے ہوتے تو میں تمہاری خوب خبر لیتا۔ علمائے امت نے اس بات کو سمجھا اور فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی قبر مبارک کے پاس بلند آواز سے بات کرنا منع ہے جبکہ آپ کی زندگی میں مسجد نبوی میں اونچی آواز سے بات کرنا ممنوع تھی۔ ہر حال میں ممنوع تھا بوجہ احترام ۔ اس کے بعد ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا جو 9 ہجری کو پیش آیا۔ فتح مکہ کے بعد ہر طرف سے وفود آ رہے تھے۔ بنی تمیم کا ایک وفد نبی ﷺ سے ملنے آیا۔ یہ لوگ خالص خشک دیہاتی تھے ۔ انہوں نے نبی ﷺ کے حجرات کے سامنے جن میں ازواج مطہرات بھی تھیں ، کھڑے ہو کر پکارا ، محمد ؐ، ذرا باہر آئیے۔ نبی ﷺ نے ان کے اس طریقے کو ناپسند فرمایا کیونکہ یہ طریقہ نہایت اجڈ اور پریشان کن تھا۔
Ayahs 49:4–5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لئے بہتر تھا ، اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔

ان الذین ینادونک ۔۔۔۔۔۔۔ لا یعقلون (49 : 4) ولو انھم ۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم (49 : 5) “ اے نبی ؐ جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔ اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لئے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان میں سے اکثر عقلمند نہیں ہیں ۔ اور ان کی اس حرکت کو ان کے لئے مکروہ کردیا کیونکہ وہ اسلامی آداب کے خلاف تھی اور نبی ﷺ کی ذات اور آپ کے مقام کے ساتھ جس قدر احترام کا تعلق ہونا چاہئے تھا ، یہ اس کے خلاف تھا ۔ آپ مسلمانوں کے قائد اور مربی تھے اور خدا کے نبی تھے۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ ان کے لئے مناسب تھا کہ صبر کرتے اور انتظار کرتے تا آنکہ حضور ﷺ اپنے معمول کے مطابق باہر نکل آتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو توبہ و استغفار کرنے اور اللہ کی طرف رجوع کی ترغیب دی ۔ مسلمانوں نے ان آداب کو خوب سمجھا۔ انہوں نے رسول اللہ کی شخصیت سے آگے بڑھ کر ہر استاد اور ہر عالم دین کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا۔ ایسی شخصیات کو انہوں نے گھروں کے اندر پریشان نہ کیا۔ اور ان کے نکلنے کا انتظار کیا۔ کبھی اساتذہ کے گھروں کے اندر گھسنے کی کوشش نہ کی۔ ایک اور مشہور راوی اور عالم ابو عبید کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے کسی عالم کا دروازہ کبھی نہیں کھٹکھٹایا ۔ ہمیشہ انتظار کیا کہ وہ نکل آئیں۔
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے لوگوں ، جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پشیمان ہو۔

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ فعلتم ندمین (49 : 6) “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پشیمان ہو ”۔ اہل ایمان کو پہلی پکار یہ تھی کہ تم نے رہنمائی کہاں سے لینی ہے اور تمہاری قیادت کہاں ہے ۔ دوسری پکار۔ یایھا الذین امنوا کے ساتھ یہ تھی کہ اس قیادت کے حقوق اور ملنے کے آداب یہ ہیں۔ یہ دونوں باتیں تو اس سورت کی بیشتر ہدایات اور آداب اور قوانین کی بنیاد تھیں۔ کیونکہ مسلمانوں کو یہ بتانا بھی ضروری تھا کہ ہدایت و ارشاد کا سر چشمہ کہاں ہے۔ اور یہ بھی بتانا ضروری تھا کہ مرشد اور قائد کا احترام اور مقام کیا ہے تا کہ قائد کا بھی احترام ہو اور جو ہدایات وہ دیتا ہے ان کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے۔ یہ تیسری پکار اور ہدایت اس لیے ہے کہ اس جدید سوسائٹی میں خبروں کے سلسلے میں پالیسی کیا ہوگی اور خبر سن کر ایک عام آدمی کا رد عمل کیا ہونا چاہئے ؟ تو یہ کہا گیا کہ یہ خبر بھی قائد کے پاس جانی چاہئے اور ہر خبر کی تفتیش اور تحقیق ہونی چاہئے۔ یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ فعلتم ندمین (49 : 6) “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پشیمان ہو ”۔ یہاں فاسق کی تخصیص اس لیے کی گئی ہے کہ فاسق پر بدگمانی کی جاسکتی ہے اور یہ تخصیص اس لیے کردی گئی کہ لوگ اسلامی جماعت میں قابل اعتماد لوگوں کے تصرفات و اقداما ات پر بھی شک نہ کریں۔ اور معلومات کے سلسلے میں اعتبار کے بجائے شک ایک اصول نہ بن جائے کیونکہ ایک اسلامی جماعت میں اصول تو یہی ہوگا کہ اس کے ارکان کی خبروں پر اعتبار کیا جائے گا اور ان پر عمل ہوگا۔ رہا وہ شخص جو فاسق ہے تو اس کی خبروں کی تصدیق ضروری ہوگی کیونکہ اس پر شبہ کیا جاسکتا ہے یوں ایک اسلامی جماعت میں خبروں کے اعتبار اور عدم اعتبار لینے یا نہ لینے کے بارے میں ایک معتدل قاعدہ بن جائے گا۔ کسی فاسق کی خبر پر فوراً عمل نہ ہوگا۔ یہ نہ ہو کہ کسی پر کوئی زیادتی ہوجائے ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ جلد بازی کی وجہ سے ہوجائے گی۔ اور بعد میں اسلامی سوسائٹی کو نادم ہونا پڑے۔ ایسا کام کرلیا جائے جس سے اللہ ناراض ہو ، کیونکہ یہ ایک ایسے فعل کا مصدر ہوجائے گا جو حق اور عدل کے پیمانوں پر پورا نہ اترتا ہو۔ ابن کثیر نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت ولید ابن عقیل ابن ابو معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ ان کو رسول اللہ ﷺ نے بنی المصطلق کے پاس زکوٰۃ کی وصول کے لئے بھیجا ۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ مجاہد اور قتادہ نے یوں کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولید ابن عقبہ کو بنی المصطلق کی طرف بھیجا کہ ان کو صدقہ دیں۔ انہوں نے اسے قبول کیا۔ وہ واپس آئے اور کہا کہ بنی المصلطق جمع ہو رہے ہیں کہ آپ ﷺ سے جنگ کریں اور بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ اسلام سے بھی مرتد ہوگئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے خالد ابن ولید ؓ کو بھیجا اور حکم دیا کہ معاملے کی تحقیق کریں اور جلد بازی نہ کریں۔ وہ گئے اور ان کی آبادی کے قریب رات کو پہنچے ۔ انہوں نے اپنے جاسوس بھیجے جب وہ واپس آئے تو انہوں نے اطلاع دے دی کہ یہ لوگ تو پختہ مسلمان ہیں اور انہوں نے اذان دی اور نماز پڑھی۔ صبح کے وقت ان کے پاس حضرت خالد بن ولید ؓ آئے تو انہوں نے وہ بات دیکھی جس پر انہیں تعجب ہوا۔ حضرت خالد واپس ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ قتادہ کہتے ہیں حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں “ تحقیق اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے ”۔ نیز دوسرے سلف صالحین نے بھی یہ لکھا ہے ، مثلاً ابن ابو لیلیٰ ، یزید ابن روحان ، ضحاک ، مقاتل ابن حیان وغیرہ نے کہ یہ آیت ولید ان عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ، واللہ اعلم ! (اختتام اقتباس از ابن کثیر) لیکن آیت کا مفہوم عام ہے۔ اصول یہ ہے کہ فاسق آدمی کی بات کی تحقیق و تفتیش کی جائے گی۔ رہے صالح لوگ تو ان کی باتوں پر عمل ہوگا کیونکہ ایک مومن جماعت کے اندر یہ اصول ہے کہ ہر شخص کی بات پر اعتبار ہوگا ماسوائے فاسق کے۔ اور صالح آدمی کی بات پر اعتبار ہی تفتیش و تحقیق کا ذریعہ ہے ۔ رہی یہ بات کہ ہر معاملے میں شک کیا جائے اور ہر خبر کو چھوٹا تصور کیا جائے الا یہ کہ وہ ثابت ہوجائے تو یہ اسلامی سوسائٹی کا اصول نہیں ہے ورنہ کسی بھی سوسائٹی میں کوئی اجتماعی کام چل ہی نہ سکے گا ۔ رہے صالح لوگ تو ان کی باتوں پر عمل ہوگا کیونکہ ایک مومن جماعت کے اندر یہ اصول ہے کہ ہر شخص کی بات پر اعتبار ہوگا ماسوائے فاسق کے۔ اور صالح آدمی کی بات پر اعتبار ہی تفتیش و تحقیق کا ذریعہ ہے۔ رہی یہ بات کہ ہر معاملے میں شک کیا جائے اور ہر خبر کو چھوٹا تصور کیا جائے الا یہ کہ وہ ثابت ہوجائے تو یہ اسلامی سوسائٹی کا اصول نہیں ہے ورنہ کسی بھی سوسائٹی میں کوئی اجتماعی کام چل ہی نہ سکے گا۔ اسلام زندگی کو معمول کے مطابق چلنے دیتا ہے۔ وہ احتیاطی تدابیر بیشک اختیار کرتا ہے مگر اس لیے کہ زندگی کا معمول چلتا رہے۔ اس لیے نہیں کہ زندگی معطل ہو کر رہ جائے۔ یہ ہے نمونہ اسلامی اصول کا کہ خبروں کے اخذ ورد میں اس کا اصول کیا ہے ۔ یہ ممکن ہے کہ ولید ابن عقبہ نے ابتداء میں جو اطلاعات فراہم کیں ، ان کے نتیجے میں بعض لوگوں نے بنی المصلطق کو سخت سزا دینے کی تجویز کی ہوگی ۔ یہ اس لیے کہ اس وقت دین اسلام کے لئے بےحد جوش اور جذبہ جاتا ہے اور اس لیے بھی کہ زکوٰۃ کا انکار کردینا بہت بڑا جرم تھا۔ چناچہ اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تمہارے اندر رسول اللہ ﷺ ابھی موجود ہیں اور رسول اللہ کی موجودگی کو ذرا سمجھنے کی کوشش کرو کیونکہ آپ ﷺ کا تو خدا سے رابطہ قائم ہے ۔
Ayahs 49:7–8

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے ۔ اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کرے تو تم ۔۔۔۔ ۔ مشکلات میں مبتلا ہوجاؤ۔ مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے لیے دل پسند بنا دیا اور کفر و فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کردیا۔

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل و احسان سے راست رو ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

واعلموا ان فیکم رسول اللہ (49 : 7) “ خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے ”۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضور ﷺ اس وقت موجود تھے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ ایک عظیم حقیقت ہے ۔ کیا کوئی یہ بات تصور کرسکتا ہے کہ آسمان کا زمین کے ساتھ دائمی رابطہ ہوجائے اور یہ رابطہ ہر وقت بحال رہے اور لوگوں کو نظر آئے۔ اور ہم یہ کہیں کہ ارادۂ الٰہی اہل زمین کے لئے متوجہ ہے ۔ لوگوں کو ان کے حالات بتائے جارہے ہیں۔ ان کی خفیہ باتیں ان کو بتائی جارہی ہیں۔ ان کی ظاہری باتوں سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے اور ان کی غلطیوں کو فوراً درست کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنے دل کی بات چھپاتا ہو لیکن آسمان سے اطلاع آجاتی ہے کہ یہ سوچا جارہا ہے۔ اللہ رسول اللہ ﷺ کو فوراً بتا دیتا ہے اور ہدایت کردیتا ہے کہ یہ ہدایات میرے بندوں کو دے دو ، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی بات ہے ۔ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے اور یہ ایک عظیم حقیقت ہے۔ بعض اوقات ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ کو اپنے درمیان چلتا پھرتا پاکر ، بعض لوگ اس طرف متوجہ نہ ہوں ۔ اس لیے ان کو متوجہ کیا جا رہا ہے ۔ واعلموا ان فیکم رسول اللہ (49 : 7) “ خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان رسول اللہ موجود ہیں ”۔ اس کو جانو ، اور اس کی قدر کرو ، یہ تو ایک عظیم معاملہ ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی موجودگی کو جانو ، اس کے تقاضے یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے کوئی فیصلہ آنے سے پہلے ہی فیصلے نہ کرتے پھرو۔ کیونکہ رسول اللہ کے فیصلے وحی والہام پر مبنی ہیں۔ اور اللہ کی ہدایات پر رسول اللہ ﷺ جو فیصلے فرماتے ہیں انہی میں خیروبرکت ہے۔ اور اگر رسول اللہ ﷺ تمہاری ہی باتوں کے پیچھے چلیں تو تم اپنی نادانی سے اپنے آپ کو مشکلات میں مبتلا کردوگے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے اللہ کے الہام پر مبنی ہیں۔ اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ بندوں کی بہتری اس میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی تو بڑی رحمت ہے۔ آپ ﷺ کی تدبیر اللہ کی تدبیر ہے اور آپ ﷺ کا کہا ، اللہ کا کہا ہے۔ اس کے بعد ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم کو ایمان کی جو نعمت دی گئی ہے ، اس کی قدر کرو ، یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنایا ، تمہارے دلوں میں ایمان کو خوبصورت بنا دیا ، تم نے اسے قیمتی جانا ، تمہارے دل اس سے لگ گئے ، اور کفر کو تمہارے دلوں کے لئے مکروہ بنا دیا۔ فسق و معصیت کو تم ناپسند کرنے لگے۔ یہ اللہ کی بڑی ہی رحمت اور کرم تھا۔ ولکن اللہ حبب الیکم ۔۔۔۔۔ ھم الرشدون (49 : 7) فضلاً من اللہ ۔۔۔۔ علیم حکیم (49 : 8) “ مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے لیے دل پسند بنا دیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کردیا ۔ ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل و احسان سے راست رد ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے ”۔ اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کے دلوں کو ایمان کے لئے کھول دینا ، ان کے دلوں کو ایمان کے ساتھ متحرک کردینا ، ان کے دلوں کے لئے ایمان کو حسین بنا دینا کہ وہ اس کی طرف لپکیں ، اور ایمان کے کمالات و جمالات دیکھ سکیں ، یہ دراصل ان بندوں پر بہت ہی بڑا فضل و کرم ہے اور بہت ہی بڑی نعمت ہے ۔ اس کے مقابلے میں ہر نعمت ہیچ ہے۔ یہاں تک کہ انسان کی زندگی اور اس کا وجود بھی ہیچ ہے۔ انسان کا وجود اور اس کی پوری زندگی بھی ایمان کے مقابلے میں کم قیمت اور ادنیٰ ہے۔ عنقریب یہ آیت آنے والی ہے۔ بل اللہ یمن علیکم ان ھدکم للایمان (49 : 17) “ بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ تمہیں اس نے ایمان کی طرف ہدایت کی ”۔ مفصل بات وہاں آئے گی ، انشاء اللہ ! جو بات یہاں فکر و نظر کے لئے دامن کش ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو یاد دلایا رہا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے اس بھلائی کا ارادہ کیا۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے دلوں سے یہ شر نکالا ۔ یعنی کفر ، فسق اور معصیت کا شر۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے تمہیں راہ راست پر لگایا ہے۔ اور یہ سب کام اللہ نے اپنے علم و حکمت کی بنا پر کیا اور یہ اطمینان دلایا کہ اس کے نتیجے میں تمہارے لیے خیر اور برکت ہوگی۔ اس لیے تم جلد بازی نہ کرو ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے تجاویز نہ رکھو اور حکم سے پہلے جوش و خروش نہ دکھاؤ کیونکہ اللہ ہی تمہارے لیے بہتر فیصلے کرتا ہے۔ اور ابھی تک تو رسول تمہارے اندر موجود ہیں۔ لہٰذا اپنے معاملات ان کی موجودگی میں اپنے ہاتھ میں نہ لو۔ یہی مقصد ہے اس تبصرے سے جو اس حکم پر کیا گیا کہ تم اپنے لیے مشکلات پیدا کرلو گے۔ انسان بہت ہی جلد بازی کرتا ہے۔ اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے اقدامات سے آگے کیا ہے۔ انسان اپنے نفس اور دوسروں کی بھلائی کے لئے تجاویز مرتب کرتا رہتا ہے لیکن اس کا علم اس قدر محدود ہے کہ وہ یہ نہیں جانتا کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔ ویدع الانسان بالشر دعاء ہ بالخیر وکاین الانسان عجولا “ اور انسان شر کی دعا اس طرح کرتا ہے جس طرح کہ خیر کہ دعا کی جاتی ہے اور انسان بہت بڑا جلد باز ہے ”۔ اگر انسان اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور اسلام میں پورا پورا داخل ہوجائے ، اللہ کی پسند کو اپنی پسند بنا لے اور اس بات پر مطمئن ہوجائے کہ اس کے لئے اللہ جس چیز کو پسند کرتا ہے وہ اس کی اپنی پسند سے افضل ہے۔ وہ اس کے لئے زیادہ مفید اور خیر و برکت لانے و الی ہے ، تو انسان راحت اور سکون محسوس کرے۔ اور اس زمین پر اس کی یہ مختصر زندگی نہایت ہی اطمینان اور خوشی سے گزرے لیکن یہ اللہ کا ایک عظیم احسان ہوتا ہے ۔ اور وہ جس پر چاہتا ہے یہ احسان کرتا ہے۔
Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔

وان طائفتین من المؤمنین ۔۔۔۔۔ یحب المقسطین (9) انما المؤمنون اخوۃ ۔۔۔۔۔ لعلکم ترحمون (10) (49 : 9 تا 10) “ اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑجائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں ، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو ، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ”۔ یہ ایک عملی قانون ہے اور یہ خود اسلامی معاشرے کو جھگڑوں ، خصوصیات اور خانہ جنگی سے بچانے کے لئے بنایا گیا ہے۔ یہ نہ ہو کہ لوگ ذاتی مفادات اور محض جذبات کے تحت لڑائیاں شروع کردیں۔ اور یہ قانون اس مناسبت سے بنایا گیا ہے کہ اس سے قبل ایک فاسق کی خبر کے نتیجے میں خود ومومنین میں سے ایک گروہ کے خلاف جنگ کے مواقع پیدا کیے گئے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ تنازعات سے قبل بھی تفتیش کی جائے کہ غلط خبروں پر تنازعہ نہ شروع ہو اور اگر ہوجائے تو پھر یہ قانون ہے۔ بعض روایات میں اس آیت کے نزول کا سبب بھی متعین حادثہ بتایا جاتا ہے یا یہ کہ بغیر کسی مخصوص واقعہ کے اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات کے لئے قانون بنا دیا ہو۔ بہرحال اسلامی سوسائٹی کو بچانے کے لئے یہ نہایت ہی مضبوط قانون ہے۔ اس کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی اور اسلامی حکومت انتشار اور فرقہ بندی اور خانہ جنگی سے محفوظ رہتی ہے اور اجتماع تصادم کے وقت عدل و انصاف کے قیام کی راہ تجویز کی گئی ہے کہ اصلاح اور انصاف کے ذریعہ اس قسم کے مسائل کو حل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اور اس میں بھی خدا خوفی ، اللہ کی رحمت کی طلب کو اصل مقصد بنایا گیا ہے۔ ہر آیت کسی مخصوص واقعہ کے سبب نازل ہوئی ہے۔ یا محض فرضی حالت کے لئے یہ قانون بنایا گیا ہو ، بہرحال دونوں فریقوں کے برسر پیکار ہونے کے باوجود دونوں کو مومن کہا گیا ہے اور اس میں احتمال کے باوجود یہ کہا گیا ہے کہ ان میں سے ایک دورے پر دست درازی کرنے والا ہو۔ بلکہ اس احتمال کے باوجود کہ بعض اوقات دونوں دست درازی کرنے والے ہوں۔ اس صورت میں جو لوگ غیر جانبدار ہوں ان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ دونوں کے درمیان اصلاح کریں۔ اگر اصلاح کے بعد بھی زیادتی کرنے والا گروہ باز نہ آئے اور حق بات یا حق کے فیصلے کے آگے نہ جھکے یا دونوں کی زیادتی کا تعین ہونے کے باوجود دونوں حکم تسلیم نہ کریں یا صلح کو رد کریں تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ باغی اور نافرمان گروہ کے خلاف یا دونوں کے خلاف لڑیں اور ان کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھیں جب تک کہ دونوں اللہ کے حکم سے سامنے سر تسلیم خم نہیں کردیتے۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اہل ایمان کے درمیان کسی صورت میں بھی جھگڑا نہ ہو۔ اور جن باتوں میں ان کا اختلاف ہو اور جن کی وجہ سے جنگ شروع ہوئی ہو ان میں وہ اللہ کے احکام کے سامنے جھکیں۔ اگر باغی اللہ کے حکم کو قبول کریں ، اور مومنین دونوں کے درمیان مصالحت کرا لیں اور یہ عدل اور انصاف پر مبنی ہو اور اللہ کی اطاعت کی طلب ، رضا کے حصول کے لئے ہو تو : ان اللہ یحب المقسطین (49 : 9) “ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ” ۔ اور اس قانون کے بعد یہ نصیحت و تبصرہ کہ سب مومن بھائی ہیں کہ اہل ایمان کے درمیان اخوت اور رابطہ قائم ہونا چاہئے ۔ یہ اسلامی اخوت ہی ہے جس نے تمہیں ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھا کیا ہے اور صدیوں کی لڑائیوں کے بعد تمہیں باہم الفت بخشی ہے۔ اس لیے اللہ سے ڈرو۔ اس وجہ سے تم رحمت خداوندی کے سزاوار ہو سکتے ہو۔
Ayah 49:10

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں ، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو ، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا

انما المؤمنون اخوۃ ۔۔۔۔۔۔ لعلکم ترحمون (49 : 10) “ مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو ، اور اللہ سے ڈرو امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ”۔ اس اخوت کا تقاضا یہ ہے کہ جماعت مسلمہ کے درمیان محبت ، سلامتی ، تعاون اور اتحاد اصل الاصول ہو اور خلاف و اختلاف اور جنگ وجدال شاذو نادر ہی ہوں اور اس اصول کے قیام کے لئے دوسرے مسلمانوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر زیادتی کرنے والے مومنین کے خلاف لڑیں یہاں تک کہ وہ انصاف کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ یہ اسلامی سوسائٹی کا اصل الاصول ہے۔ یہ ایک نہایت ہی اہم اقدام ہے اور فیصلہ کن انداز میں ہے۔ اس اصول کا تقاضا یہ ہے کہ جب مسلمان باغیوں کے خلاف جنگ کریں گے تو کسی زخمی کو قتل نہ کریں گے ، کسی قیدی کو قتل نہ کریں گے۔ اور معرکہ ترک کئے جانے اور اسلحہ پھینک دینے کے بعد کسی کو سزا نہ دی جائے گی۔ اور باغیوں کے اموال غنیمت میں نہ لئے جائیں گے۔ کیونکہ باغی فریق کے خلاف جنگ کا مقصد یہ ہے کہ انہیں انصاف کے اصولوں پر کئے جانے والے فیصلوں کا پابند کرنا اور اخوت اسلامی کا قیام بحال کرنا ہے۔ اسلامی دستور کا اصل الاصول تو یہ ہے کہ تمام اسلامی علاقوں میں ایک ہی امامت یا خلاف ہو ، اور اگر کسی ایک امام کی بیعت ہوجائے تو دوسرے کو قتل کرنا لازمی ہے۔ اور دوسرے امام اور اس کے ساتھیوں کو باغی تصور کیا جانا چاہئے۔ اور تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ پہلے امام کی طرف سے لڑیں گے۔ اس اصول پر حضرت علی ؓ نے واقعہ جمل میں اور واقعہ صفین میں باغیوں کے ساتھ جنگ کی اور آپ کے ساتھ صحابہ میں سے جلیل القدر صحابیوں نے حصہ لیا۔ بعض صحابہ کرام ؓ نے اس معرکہ میں شرکت نہ کی۔ مثلاً سعد ، محمد ابن سلمہ ، اسامہ ابن زید اور ابن عمر ؓ یا تو اس لئے کہ ان کے ذہنوں میں حق واضح نہ تھا۔ یعنی اس واقعہ میں خود ان کا اپنا ذہن صاف نہ تھا کہ حق کدھر ہے ۔ اس لیے انہوں نے اسے فتنہ سمجھا یا اس لیے جس طرح امام جصاص فرماتے ہیں “ یا اس لیے کہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ امام کے ساتھ جو فوج ہے ، وہ کافی ہے۔ اس کو ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے انہوں نے جائز سمجھا کہ وہ بیٹھ جائیں ”۔ پہلا احتمال زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ، اور اس پر ان کے وہ اقوال بھی دلالت کرتے ہیں ، جو ان سے مروی ہیں ، جیسا کہ بعد میں حضرت ابن عمر ؓ کی ایک روایت بتاتی ہے کہ وہ سخت نادم تھے کہ انہوں نے امام کے ساتھ مل کر جنگ نہ کی۔ اس اصول کے اپنی جگہ ہوتے ہوئے بھی ہر قسم کے حالات میں اس قرآنی قاعدے پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ایسے استثنائی حالات جن میں عالم اسلام کے مختلف دور دراز علاقوں میں مختلف امامتیں قائم ہوں۔ ایسے حالات استثنائی ہوتے ہیں اور اسلام کے قانون ضرورت کے تحت متعدد امامتیں تصور ہوتی ہیں تو مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر ایک امام کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑیں اگر یہ باغی امام کے خلاف بغاوت کریں یا اگر کوئی ایک گروہ دوسرے گروہ کے ساتھ ایک حکومت کے اندر لڑے اور حکومت کو دونوں تسلیم کرتے ہوں۔ اسی طرح مسلمانوں کا یہ بھی فرض ہے کہ اگر باغیوں نے اپنی امامت قائم کرلی ہو جبکہ متعدد امامتیں برائے ضرورت موجود ہوں تو وہ امام کے ساتھ مل کر ان کے خلاف لڑیں۔ اور اس باغی گروہ کے خلاف سب اکٹھے ہوجائیں۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کے سامنے جھک جائے۔ اس طرح یہ آیت ہر قسم کے حالات میں اپنا فیصلہ دیتی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ یہ نظام جو یہاں تجویز کیا گیا ہے تحکیم اور ثالثی کا نظام ہے بھی بنائے ہیں ان سب میں کئی قسم کے عیب اور غلطیاں ہیں۔ اسلام نے جو نظام تجویز کیا ہے ، وہ پاکیزہ ، منصفانہ اور نہایت اصولی ہے کیونکہ اس نظام کے تحت فیصلے اللہ کے قانون کے مطابق کئے جاتے ہیں۔ اس میں کسی کی غرض یا کوئی ذاتی خواہش کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نہ اس میں کوئی نقص اور قصور ہے۔ لیکن بدبخت انسانیت اب بھی ٹھوکریں کھاتی ، گرتی پڑتی غلط راہوں پر جارہی ہے حالانکہ اس کے سامنے شاہراہ موجود ہے۔
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے لوگوں ، جو ایمان لائے ہو ، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دور سے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔ جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں

قرآن کریم اسلامی نظام حیات کے ذریعہ جو فاضلانہ سوسائٹی قائم کرنا چاہتا ہے اس کے اندر بہت ہی بلند معیار کے آداب و اخلاق ہوتے ہیں۔ اس میں ہر فرد کو عزت نفس حاصل ہوتی ہے اور کوئی فرد کسی فرد کی ہتک عزت نہیں کرسکتا ۔ فرد کی یہ عزت سوسائٹی کی عزت کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ ایک فرد کی ہتک عزت پوری انسانی سوسائٹی کی ہتک عزت ہے۔ اس لئے کہ انسانی جماعت نفس واحد ہے اور اس کی عزت ایک ہی عزت ہے۔ ایک انسان کی تذلیل پوری انسانیت کی تذلیل ہے۔ اس آیت میں قرآن کریم ، انہی میٹھے بولوں سے ، مسلمانوں کو پکارتا ہے۔ “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ”۔ پھر ان کو اس بات سے منع کرتا ہے کہ کوئی گروہ دوسرے گروہ سے مزاح کرے۔ نہ مرد دوسرے مردوں سے مزاح کریں۔ ہو سکتا ہے جن سے مزاح کیا جاتا ہے وہ دوسروں سے اچھے ہوں۔ نہ عورتیں اور دوسری عورتوں سے مزاح کریں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جن سے مزاح کیا جا رہا ہے ، اللہ کے پیمانوں میں وہ مزاح کرنے والیوں سے بہتر ہوں۔ اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ دنیا کی ظاہری قدریں اور بھلائیاں اور برتریاں جو بعض مرد یا بعض عورتیں اپنے اندر رکھتے ہیں۔ یہ دراصل حقیقی برتریاں نہیں ہیں جن کے ساتھ اللہ کے ہاں لوگوں کو تولا جاتا ہے۔ اللہ کے ہاں کچھ اور قدریں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ مزاح کرنے والوں کی نظروں سے وہ اوجھل ہوں ، صرف اللہ انہیں جانتا ہو اور ان کے ساتھ اللہ ان بندوں کا وزن مقرر کرتا ہو۔ بعض اوقات امراء فقراء سے مزاح کرتے ہیں ، ایک قوی ضعیف سے ، ایک مضبوط نوجوان ایک ضعیف سے ، ایک ذہین ایک غبی سے ، ایک صاحب اولاد بےاولاد سے ، ایک مضبوط یتیم سے ، ایک خوبصورت عورت بدصورت سے ، ایک جوان عورت بوڑھی سے ، ایک معتدل عورت بگڑی ہوئی شکل والی سے ، ایک خوبصورت عورت بد صورت سے ، ایک جوان عورت بوڑھی سے ، ایک معتدل اور عورت بگڑی ہوئی شکل والی سے ، ایک امیر عورت غریب سے ، لیکن یہ چیزیں تو اس عارضی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ اللہ کے ترازو میں یہ چیزیں بالکل بےوزن ہیں۔ لیکن قرآن کریم صرف ان ہدایات و اشارات پر ہی اکتفاء نہیں کرتا۔ بلکہ ایمانی اخوت کے جذبہ کو بھی ابھارتا ہے کہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں وہ ایک ہی جسم و جان ہیں ، ان میں سے کوئی دوسرے پر طعن کرتا ہے تو وہ خود اپنے اوپر طعن کرتا ہے۔ ولا تلمزوا انفسکم (49 : 11) “ اور اپنے ہی نفوس پر طعن نہ کرو ”۔ لمزعیب جوئی کو کہتے ہیں لیکن لمز کے تلفظ میں ایک ترنم اور ایک رنگ ہے۔ یہ معنوی عیب جوئی نہیں بلکہ جسمانی ما رہے اور آنکھوں سے بھی اشارہ ہے۔ لوگوں کو ایسے ناموں سے پکارنا جن کو وہ پسند نہیں کرتے اور ان ناموں کے ساتھ پکارے جانے کو مزاح سمجھتے ہیں۔ اس سے بھی اسلام منع کرتا ہے۔ مومن کا مومن پر یہ حق ہے کہ وہ اسے اس نام سے نہ پکارے جسے وہ پسند نہ کرے یا اسے ہتک سمجھے۔ مومنین کے آداب میں یہ شامل ہے کہ وہ دوسرے مومنین کو ایسے ناموں سے نہ پکاریں ۔ نبی ﷺ نے جاہلیت کے زمانے کے کئی نام اور لقب بدل دئیے تھے۔ حضور ﷺ نے اپنے تیز احساس سے اور اپنے مہربان دل سے محسوس کیا کہ یہ لوگ ان ناموں کو پسند نہیں کرتے ، جن کے معنی خراب تھے یا جن سے مذمت نکلتی تھی۔ اس آیت نے پہلے تو یہ اشارہ کیا کہ اللہ کے ترازو میں حقیقی وزن کن باتوں کا ہے۔ اس کے بعد اسلامی اخوت کے شعور کو اجاگر کیا بلکہ اسلامی وحدت کے شعور کو جوش دلایا۔ اس کے بعد اب ایمانی شعور کو ابھارا گیا اور مومنین کو ڈرایا گیا کہ تم سے کہیں ایمان شعور گم نہ ہوجائے۔ مزاح ، طعن وتشنیع اور برے ناموں سے ایک دوسرے کو پکارنے سے تم فاسق نہ بن جاؤ۔ بئس الاسم الفسوق بعد الایمان (49 : 11) “ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے ”۔ ان آداب کو ملحوظ نہ رکھنا ایک قسم کا ارتداد ہے اور یہ ظلم ہے اور ظلم شرک ایک ہی چیزہوتے ہیں۔ ومن لم یتب فاولئک ھم الظلمون (49 : 11) “ اور جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں ”۔ یہ ہیں اسلام کے فاضلانہ معاشرے کے آداب و اخلاق اور اس کے خدو خال۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسس نہ کرو۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا ؟ دیکھو ، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ بڑا توبہ کرنے والا اور رحیم ہے۔

یایھا الذین امنوا اجتنبوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان اللہ تواب رحیم (49 : 12) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسس نہ کرو۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا ؟ دیکھو ، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ بڑا توبہ کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ یہ آیت اس فاضلانہ معاشرہ کی حفاظت کے لئے ایک دوسری باڑ ہے۔ جس میں ایک فرد کی آزادی اور اس کی عزت محفوظ ہوتی ہے ، اسی طرح ان کو یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے شعور اور اپنے ضمیر کا اظہار کس طرح کریں گے۔ اور دوسروں کے بارے ان کی سوچ آئندہ کیا ہوگی۔ یہ نہایت ہی موثر انداز میں بیان ہوا ہے۔ اس کا آغاز بھی اس پیاری آواز سے ہوتا ہے “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ”۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ دوسروں کے بارے میں بہت زیادہ گمان اور برے گمان کرنے سے باز رہو۔ کسی کے بارے میں اپنے فیصلے شکوک و شبہات پر نہ کرو ۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے۔ ان بعض الظن اثم (49 : 12) “ کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ” ۔ زیادہ زور بعض الظن پر ہے۔ یعنی بعض گمان گناہ ہوتے ہیں یعنی بد گمانی گناہ ہے۔ کیونکہ کوئی یہ معلوم تو نہیں کرسکتا کہ میرا کون سا ظن صحیح اور کون سا غلط ہے لہٰذا کسی پر کوئی بد گمانی نہیں کرنا چاہئے۔ لہٰذا مسلمانوں کو ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان ہی رکھنا چاہئے اور ہر قسم کے شکوک و شبہات سے دلوں کو صاف رکھنا چاہئے ۔ اور جس سوسائٹی میں ایک دوسرے کے خلاف شکوک و شبہات نہ ہوں اس میں لوگوں کے دل ایک دوسرے سے صاف ہوتے ہیں۔ کوئی کسی پر شک ، نہیں کرتا۔ ہر شخص دوسرے سے مطمئن ہوتا ہے اور ایسے معاشرے میں زندگی کس قدر خوشی سے گزرتی ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اسلام کے روشن معاشرے میں یہ اصول صرف انفرادی تعامل ہی میں مروج نہیں ہے ، بلکہ یہ اجتماعی معاملات میں بھی ایک اہم اصول ہے۔ اور اس سے لوگوں کے حقوق کی حفاظت ہوتی ہے۔ اسلام کے پاکیزہ معاشرے میں کسی کو محض شک اور شب ہے کی بنیاد پر نہیں پکڑا جاتا ، نہ شبہات کی بنیاد پر مقدمے قائم کئے جاتے ہیں۔ شک کی بنا پر لوگوں کو جیلوں میں نہیں ٹھونسا جاتا۔ بلکہ شک کی بنیاد پر کسی کو دائرہ تفتیش میں لانا بھی جرم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “ اگر تم نے بدگمانی شروع کردی تو پھر کوئی تفتیش نہیں ہے ”۔ (طبرانی) یعنی اگر کوئی تفتیش بھی کرتا ہے تو لوگوں کو بےگناہ سمجھ کر تفتیش شروع کرو ، ان کی آزادی بحال ہو ، ان کے حقوق محفوظ ہوں۔ ان کا اعتبار و وقار بحال ہو۔ کسی کو اس وقت پکڑا جائے جب اچھی طرح معلوم ہو کہ اس نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔ محض تفتیش اور شک کے لئے کسی کو ہراساں نہیں کیا جاسکتا۔ سبحان اللہ ، کیا مقام بلند ہے جہاں تک یہ آیت انسانی آزادیوں ، انسانی حقوق ، انسانی اعتماد و اعتبار ، اور انسانی وقار کو پہنچاتی ہے۔ اس مقام تک آج کے نام نہاد مہذب اور جمہوری معاشرے بھی نہیں پہنچ سکتے جہاں تک اسلام نے عملاً ایک سوسائٹی کے ضمیر کو پہنچایا ، پھر یہ معیار عملاً ایک سوسائٹی میں قائم کیا اور آج سے چودہ سو سال قبل۔ اسی اصول کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے شک کے دائرے کو اور محدود کیا جاتا ہے۔ ولا تجسسوا (49 : 12) “ تجسس نہ کرو ”۔ بسا اوقات تجسس بدگمانی ہی کے نتیجے میں ہوتا ہے اور بعض اوقات لوگوں کے راز معلوم کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اور لوگوں کی کمزوریاں معلوم کرنے کے لئے۔ قرآن کریم اس گھٹیا حرکت کو اخلاقی نقطہ نظر سے لیتا ہے۔ اور لوگوں کے دلوں کو اس قسم کے برے خیالات سے پاک کرتا ہے کہ کوئی کسی کے خفیہ حالات معلوم کرے اور اس کی کمزوریوں کے ٹوہ میں لگا رہے کیونکہ اخلاقی تطمیر میں اس کے مقاصدیہی ہیں کہ لوگوں کی پوشیدہ کمزوریوں کو نہ اچھالا جائے۔ لیکن یہ اصول محض اخلاقی ضابطے سے بھی آگے جاتا ہے۔ اس کا تعلق اجتماعی پاکیزگی اور قانونی اور انتظامی معاملات سے بھی ہے۔ اسلام میں لوگوں کی بعض آزادیاں ، بعض عزتیں اور بعض شرافتیں ایسی ہیں کہ ان پر کسی صورت میں دست درازی جائز نہیں ہے۔ اسلام کے فا ضلانہ معاشرے میں لوگوں کی جان ، ان کی چار دیواری ، ان کے راز ، ان کی خفیہ کمزوریاں محفوظ ہوتے ہیں۔ کسی وجہ سے بھی کوئی کسی کی جان ، کسی کے گھر ، کسی کے رازوں اور کسی کی کمزوریوں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ یہاں تک کہ اسلام میں ادارۂ تحقیق و تفتیش جرائم کو بھی یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ تجسس کرے۔ اسلام لوگوں کے ساتھ ان کے ظاہری حالات کے مطابق برتاؤ کرتا ہے اور کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کے گھر کے اندر گھس کر اندرونی حالت معلوم کرے۔ اسلام ظاہری جرائم اور خلاف ورزیوں ہی پر پکڑتا ہے۔ کسی کو ظن یا توقع پر نہیں پکڑا جاتا کہ ان لوگوں نے جرم کیا ہے یا کرنے والے ہیں۔ اسلام میں پکڑ دھکڑ ، ارتکاب جرم کے بعد ہے۔ اس طرح گرفتاری کے لئے دوسرے تحفظات ہیں جو ہر جرم کے لئے علیحدہ ہیں۔ امام ابو داؤد نے روایت کی ہے ، ابوبکر ابن شیبہ سے انہوں نے ابو معاویہ سے انہوں نے اعمش سے انہوں نے زید ابن وہب سے ، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود آئے۔ ان سے کہا گیا یہ فلاں ہے اور اس کی داڑھی سے شراب کے قطرے گر رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہمیں تو تجسس سے منع کیا گیا ہے۔ ہاں اگر کوئی چیز ہم پر ظاہر ہوگئی کہ اس کا ارتکاب کیا گیا ہے تو ہم پکڑتے ہیں۔ اور مجاہد نے کہا کہ تجسس نہ کرو ، لوگون کو ان کے ظاہری افعال پر پکڑو۔ جو بات اللہ نے چھپا دی ہے اسے چھپا رہنے دو ۔ امام احمد نے دجین کاتب عقبہ سے روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عقبہ سے کہا کہ ہمارے بعض پڑوسی شراب پیتے ہیں۔ میں ان کے خلاف پولیس کو بلانے والا ہوں کہ ان کو پکڑ لیں تو حضرت عقبہ نے کہا کہ ایسا نہ کرو ، بلکہ ان کو نصیحت کرو اور دھمکی دو ۔ کہتے ہیں انہوں نے ایسا کیا ، وہ باز نہ آئے تو دجین پھر ان کے پاس آئے کہ میں نے تو انہیں روکا وہ نہ روکے۔ اب تو میں ان کے لئے پولیس بلانے ہی والا ہوں۔ اس کو عقبہ نے کہا ، تم ہلاک ہوجاؤ ! ایسا نہ کرو ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے “ جس نے ایک مومن کی پردہ پوشی کی اس نے گویا ایک زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کو قبر سے نکال لیا ”۔ (ابو داؤد سجستانی ) سفیان ثوری نے راشد ابن سعد سے ، انہوں نے حضرت معاویہ ابن ابو سفیان سے ، روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی ﷺ کو یہ کہتے سنا “ تم اگر لوگوں کی خفیہ باتوں کی ٹوہ میں لگو گے تو ان کو برباد کر دو گے یا قریب ہے کہ ان کو برباد کر دو ”۔ اس پر حضرت ابو الدرداء نے کہا یہ ایک بات ہے جو حضرت معاویہ ؓ نے حضور ﷺ سے سنی ، اللہ اسے اس کے ذریعہ نفع دے۔ (ابو داؤد) اس طرح قرآن کریم کی یہ آیت اسلام کے سیاسی نظام کی ایک دستوری دفعہ بن گئی اور محض اخلاقی اور روحانی اصلاح پر مشتمل ایک وعظ ہی نہ رہی بلکہ یہ لوگوں کے بنیادی حقوق اور ان کی شخصی آزادیوں کے لئے ایک تحفظ بن گئی اور اسلامی قانون اور دستور میں ان کے حقوق کا ایسا تحفظ کیا گیا کہ دور اور قریب سے اور کسی بھی بہانے سے ان پر دست درازی ممکن ہی نہ رہی۔ یہ دور رس حقوق کہاں ؟ یہ بلند افق کہاں ؟ اور وہ حقوق کہاں جن پر آج کی مغربی جمہوری حکومتیں بغلیں بجاتی ہیں ۔ وہ کہاں ؟ اور وہ بھی چودہ سو سال کے بعد۔ اس کے بعد ایک عجیب انداز گفتگو میں اور نہایت ہی انسانی اور اخلاقی اسلوب میں قرآن کریم غیبت اور بدگوئی کی ممانعت کرتا ہے۔ ولا یغتب بعضکم ۔۔۔۔۔ فکرھتموہ (49 : 12) “ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا ؟ دیکھو ، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو ” ۔ ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ اس کے بعد ایک ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے کہ اس سے نہایت سنگدل آدمی بھی متاثر ہوجاتا ہے۔ ایک بھائی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کا کھا رہا ہے۔ یہ منظر دکھا کر کہا جاتا ہے۔ اگر تم نے اس منظر کو ناپسند کیا ہے تو پھر تم نے غیبت کو بھی ناپسند کیا۔ اس آیت میں جو جو چیزیں ممنوع قرار دی گئیں ان پر ایک جامع تبصرہ ۔ یعنی بدگمانی ، تجسس اور غیبت کہ خدا سے ڈرو اور اشارہ اس طرف کہ اگر کسی نے اپنی غلطی کی ہے تو معافی مانگو اور طلب مغفرت کرو۔ واتقو اللہ ان اللہ تواب رحیم (49 : 12) “ اللہ سے ڈرو ، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ یہ آیت جماعت مسلمہ کی زندگی میں خون کی طرح دوڑتی ہے اور اس سوسائٹی میں تمام بنیادی حقوق کی محافظ بن جاتی ہے۔ اور انسانی خیالات و تصورات کے لئے ایک انداز فکر بن جاتی ہے۔ اور اسلامی اخلاق کے لئے طرز عمل بن جاتی ہے اور قرآن ہی کے انداز میں حضور اکرم ﷺ بدظنی ، تجسس اور غیبت کے تصور اور تخیل ہی سے لوگوں کو ڈراتے ہیں۔ امام ابوداؤد نے روایت کی ہے قعبی سے انہوں نے عبد العزیز ابن محمد سے انہوں نے عبد سے ، انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے ، وہ کہتے ہیں ، کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ غیبت کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : “ تم اپنے بھائی کا تذکرہ اس طرح کرو کہ وہ اسے ناپسند کرے ” تو کہا گیا کہ اگر میں ایسی بات کروں جو اس میں فی الواقعہ ہو ، تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر اس میں وہ بات ہے جو تم کرتے ہو تو تم نے غیبت کی اور اگر اس میں وہ بات نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا (ترمذی ، احمد) امام ابو داؤد نے روایت کی ، مسدد سے ، انہوں نے یحییٰ سے ، انہوں نے سفیان سے ، انہوں نے علی ابن اقمر سے ، انہوں نے ابو حذیفہ سے ، اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے ، وہ کہتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ سے کہا ، آپ کے لئے صفیہ کی یہ یہ باتیں کافی ہیں (مسدود نے کہا ان کا مقصد ان کی کوتاہیوں سے تھا) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : “ تم نے ایسی بات کی ہے اگر تم اسے سمندر میں ملاؤ تو اس کا رنگ بدل جائے ”۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا “ اور میں نے ان کے سامنے ایک انسانی کی باتیں کیں تو آپ ﷺ نے فرمایا “ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں کسی انسان کی حکایت کروں اور مجھے یہ ، یہ ملے ”۔ امام اوداؤد نے حضرت انس ابن مالک سے روایت کی ہے ، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “ جب مجھے معراج کا سفر کرایا گیا تو میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا ، ان کے ناخن تانبے کے ہیں جن سے وہ اپنے منہ اور سینے نوچ رہے ہیں۔ میں نے کہا : “ یہ کون لوگ ہیں جبرائیل (علیہ السلام) ! فرمایا ، یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ہیں اور ان کی بےعزتی کرتے ہیں ”۔ جب ماعز اور غامدیہ نے زنا کا اعتراف کرلیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے رجم کے احکام دے دئیے ، کیونکہ انہوں نے اقرار کیا ، پھر اقرار پر اصرار کیا اور کہا کہ ہمیں پاک کردیں۔ حضور ﷺ نے ایک شخص کو سنا جو دوسرے سے کہہ رہا تھا۔ کیا تو نے ان دونوں کو نہیں دیکھا کہ ان دونوں کے گناہ کو اللہ نے چھپایا لیکن ان کے نفوس نے ان کو تب چھوڑا کہ کتوں کی طرح پتھروں سے ہلاک کر دئیے گئے۔ اس کے بعد حضور ﷺ آگے گئے۔ راستے میں ایک گدھے کی لاش پڑی ہوئی تھی آپ نے فرمایا کہ “ فلاں فلاں کہاں ہیں ؟ ” ان دونوں سے کہا اترو ، اور اس مردار گوشت کو کھاؤ ”۔ تو انہوں نے کہا ، رسول خدا اللہ آپ کو معاف کرے کیا مردار گدھے کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ یہ تم نے جو اپنے بھائی کا گوشت کھایا ، ابھی ، یہ تو اس سے مشکل کام تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہ شخص تو اس وقت جنت کی نہروں میں ڈبکیاں لے رہا ہے ”۔ (ابن کثیر) اس قسم کی مسلسل تربیت کے ذریعے ہی اسلامی سوسائٹی کی تطہیر کی جاتی رہی اور وہ پاک ہو کر ایک بلند مقام تک پہنچی ۔ یہ ایک انسانی خواب تھا جو اسلامی تاریخ ہی میں حقیقت بنا۔ ٭٭٭ اہل ایمان کو اس میٹھی آواز سے بار بار پکارنے کے بعد ، اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، ان کو انسانیت کے روشن افق پر ، انسان کے نفسیاتی آداب کے زاویہ سے ، اجتماعی آداب کے حوالے سے بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے انسانی عزت ، آبرو ، آزادی کی ضمانتوں اور گاڑنٹی کے حوالے سے نہایت ہی بلندیوں تک پہنچا کر ، ان کی حساسیت کو نہایت تیز کر کے اور خدا خوفی اور خشیت الٰہی کے ہتھیاروں سے لیس کرنے کے بعد اب روئے سخن پوری انسانیت کی طرف ہے۔ پوری انسانیت ، مختلف رنگوں ، مختلف نسلوں ، مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں کے لوگوں کی طرف دیکھو تمہاری اصل تو ایک ہے ، تمہاری اصل قدریں بھی ایک ہیں۔ اور انہی قدروں کی بدولت صحابہ کرام ؓ کی یہ جماعت ان بلندیوں تک پہنچی۔