48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 48:1–3

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کر دی

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تا کہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کردے اور تمہیں سیدھا راستہ دکھائے

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور تم کو زبردست نصرت بخشے

اس سورت کا آغاز نبی ﷺ کے اوپر ایک فضل و کرم کے ذکر سے ہوتا ہے۔ کہ آپ ﷺ کو فتح مبین بھی عطا کردیا گیا ہے اور آپ کے اگلے اور پچھلے سب ذنوب معاف کر دئیے گئے۔ آپ ﷺ پر اپنی نعمتیں تمام ہوگئیں ، آپ ﷺ کو مستقل ہدایت نامہ دے دیا گیا اور ایک زبردست نصرت اور فتح بھی دے دی گئی۔ اور یہ ہے صلہ اس گہرے اطمینان اور صبر کا جن کے ساتھ آپ نے ہدایات الٰہیہ پر عمل کیا۔ اور اس بات کا کہ آپ نے اللہ کی جانب سے وحی اور الہامات و ہدایات پر پورا پورا عمل کیا۔ اپنی تمام خواہشات اور ارادوں کو ترک کردیا اور اللہ کی نگرانی پر پورا پورا بھروسہ کیا۔ آپ نے ایک خواب دیکھا ، اس کے مطابق آپ حرکت میں آگئے ۔ آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی اور لوگ چیخے کہ “ قصواء ” نے چلنے سے انکار کردیا۔ اڑ گئی۔ لیکن آپ ﷺ نے اس سے کوئی اور اشارہ لیا۔ “ قصواء اڑ نہیں گئی اور نہ اس کی یہ عادت ہے لیکن اسے اس ذات نے روک لیا ہے جس نے مکہ سے ہاتھی کو روکا تھا ۔ اگر قریش آج کوئی بھی ایسا منصوبہ مجھے دیں جس میں صلہ رحمی کی درخواست ہو تو میں منظور کر دوں گا ”۔ حضرت عمر ابن الخطاب آپ سے نہایت ہی جوش میں پوچھتے ہیں “ کیا ہمیں اپنے دین میں ذلت نہیں دی جارہی ہے ؟” آپ ﷺ جواب دیتے ہیں “ میں اللہ کا بندہ ہوں ، رسول ہوں ، میں اس کے حکم کی مخالفت نہیں کرسکتا اور انشاء اللہ وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا ”۔ یہ تو رہی صلح کی بات لیکن جب اطلاع آتی ہے کہ حضرت عثمان ؓ قتل ہوگئے تو آپ ﷺ فرماتے ہیں “ ہم اس وقت تک ڈٹے رہیں گے جب تک قوم سے انتقام نہ لے لیں ”۔ لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا جاتا ہے۔ یہ بیعت ، بیعت الرضوان قرار پاتی ہے اور اس سے ان لوگوں کو بھلائی نصیب ہوتی ہے اور یہ ان کے لئے رتبہ بلند تھا جنہوں نے اس میں حصہ لیا ۔ یہ سورت دراصل فتح عظیم تھی۔ اور صلح حدیبیہ بھی دراصل فتح عظیم تھی ، کیونکہ اس کے نتیجے میں بیشمار فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔ یہ دعوت اسلامی کے زاویہ بھی فتح تھی۔ امام زہری کہتے ہیں اس سے قبل اسلام کو جو فتوحات ملی تھیں یہ ان سے بڑی فتح تھی۔ اس سے قبل یہ تھا کہ لوگ جہاں بھی ملتے جنگ ہوتی۔ جب صلح ہوگئی اور حالت جنگ ختم ہوگئی اور لوگوں کو ایک دوسرے کی جانب سے امن نصیب ہوگیا ، ملنا جلنا آزاد ہوگیا تو انہوں نے اسلام کے موضوع پر بحث و مکالمہ شروع کردیا۔ اسلام کے بارے میں جس شخص نے معقول گفتگو کی وہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ صلح حدیبیہ اور فتح کے درمیان دو سالوں میں اس قدر لوگ مسلمان ہوگئے کہ ان کی تعداد سابقہ تمام عرصے کے مسلمانوں کے برابر تھی یا زیادہ تھی۔ ابن ہشام کہتے ہیں کہ زہری کی بات پر دلیل یہ ہے کہ جابر بن عبد اللہ کے قول کے مطابق حضور اکرم ﷺ حدیبیہ کی مہم پر چودہ سو افراد لے کر نکلے تھے لیکن ٹھیک دو سال بعد جب مکہ پر حملہ ہوا تو آپ کے ہم رکاب دس ہزار زائد افراد تھے۔ اور اس عرصہ میں خالد ابن ولید اور عمر ابن العاص ؓ مسلمان ہوئے۔ زمین پر یہ فتح یوں تھی کہ مسلمان قریش کے شر سے محفوظ ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کو موقعہ مل گیا کہ جزیرۃ العرب کو یہودیوں کے باقی خطرات سے پاک فرما دیں۔ بنی قینقاع ، بنی النضیر اور بنو قریظہ کو اس سے قبل ختم کردیا گیا تھا۔ یہ خطرہ اب خیبر کے محفوظ قلعوں میں موجود تھا۔ کیونکہ خیبر کے یہ قلعے شام کے راستے میں واقع تھے۔ چناچہ حدیبیہ کے بعد اللہ نے خیبر کا علاقہ بھی مسلمانوں کو دے دیا ۔ اور نبی ﷺ نے خیبر کے علاقے اور غنائم کو صرف ان لوگوں میں تقسیم کیا جو حدیبیہ میں شریک ہوئے تھے ان کے علاوہ کسی کو کچھ نہ دیا۔ یہ مدینہ کے مسلمانوں اور مکہ کے قریش کی طویل جنگ میں مسلمانوں کی فتح تھی۔ استاذ محمد دروزہ اپنی کتاب سیرۃ الرسول میں فرماتے ہیں : “ اس میں شک نہیں کہ یہ صلح جسے قرآن کریم نے فتح قرار دیا اسے ہر مفہوم میں مسلمانوں کی فتح سمجھنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسے سیرۃ النبی کے فیصلہ کن واقعات میں شمار کرنا چاہئے۔ یہ واقعہ اسلام کی تاریخ میں اسلام کی قوت اور استحکام کا سبب بنا۔ ایک بڑا مفید واقعہ تو وہ بہرحال تھا ہی۔ اس صلح کے ذریعہ قریش نے پہلی مرتبہ اسلامی حکومت اور نبی ﷺ کی حیثیت کو تسلیم کیا اور مسلمانوں کو انہوں نے اپنے برابر کی قوت تسلیم کیا بلکہ قریش نے اسلامی حکومت کا دفاع کیا۔ اس سے پہلے دو سالوں میں قریش نے دو مرتبہ مدینہ پر حملہ کیا اور جنگ احزاب تو حدیبیہ سے ایک سال قبل ہوتی تھی جس میں قریش بیشمار احزاب کو لے کر مدینہ پر چڑھ آئے تھے تا کہ مومنین اور اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اور غزوۂ احزاب کے درمیان اہل ایمان کی صفوں میں بےحد اضطراب پیدا ہوگیا تھا اور ایک عام بےچینی سی پیدا ہوگئی تھی کیونکہ مدینہ پر حملہ کرنے والوں کی تعداد بہت ہی زیادہ تھی اور جنگ احزاب کا پورے عالم عرب پر اثر تھا کیونکہ تمام عرب اہل قریش کی پیروی کرتے تھے اور وہ قریش کے سخت موقف سے متاثر ہوتے تھے۔ اگر یہ دیکھا جائے کہ مدینہ کے اردگرد کے دیہاتی اور منافق یہ پیشن گوئیاں کرتے تھے کہ اس جنگ سے مسلمان کسی صورت میں صحیح سالم اپس نہ آسکیں گے اور وہ ہر قسم کا سوئے ظن رکھتے تھے۔ تو اس صورت میں اس فتح کی اہمیت اور ظاہر ہوجاتی ہے اور اس کے اثرت دوررس ثابت ہوتے ہیں ”۔ “ بعد کے واقعات نے یہ ثابت کردیا کہ نبی ﷺ کا جو الہام تھا ، وہ درست تھا اور یہ کہ قرآن کریم نے بھی اس کی تائید کردی۔ اور اس صلح کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت ہی عظیم مادی معنوی اور دعوتی فوائد حاصل ہوئے۔ نیز جنگی اور سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کی پوزیشن بہت ہی مضبوط ہوگئی۔ قبائل کی نظروں میں مسلمان ایک مضبوط قوت بن گئے اور واپس ہوتے ہی مدینہ کے گرد کے جو قبائل پیچھے رہ گئے تھے وہ آکر عذرات پیش کرنے لگے۔ مدینہ کے اندر منافقین کی آواز دبنے لگی اور وہ کمزور ہوگئے۔ اور ہر طرف سے عرب وفود نبی ﷺ کی خدمت میں آنا شروع ہوگئے اور یہودیوں کی قوت کو خیبر اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے ہٹا دیا گیا۔ یہ لوگ شام کے راستے پر پھیلے ہوئے تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے لئے ممکن ہوگیا کہ آپ نجد ، یمن اور بلقا جیسے دور دراز علاقوں میں فوجی مہمات ارسال کریں۔ اور ٹھیک دو سال بعد حضور ﷺ نے مکہ کو دس ہزار کے لشکر کے ساتھ فتح کیا۔ یہ فیصلہ کن فتح تھی کہ جب اللہ کی مدد آئی اور فتح مکمل ہوئی اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگے ”۔ میں یہ کہتا ہوں کہ ان تمام پہلوؤں کے سوا ایک دوسرا پہلو ہے جس کے زاویہ سے یہ فتح عظیم تھی۔ اس سے اسلام کے لئے لوگوں کے دل و دماغ فتح ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں بیعت الرضوان کا واقعہ پیش آیا جس میں مسلمانوں نے موت اور عدم فرار پر بیعت کی اور اللہ نے اعلان کردیا کہ درخت کے نیچے جن لوگوں نے بیعت کی ان سے اللہ راضی ہوگیا ہے۔ اور قرآن میں اس اعلان کا اندارج ہوگیا اور پھر محمد ﷺ کی انقلابی لیڈر شپ اور انقلابی جماعت کے خدو خال اور اوصاف کو اس سورت میں اس فتح کے نتیجے میں قلم بند کردیا گیا۔ محمد رسول اللہ ۔۔۔۔۔ واجرا عظیماً (48 : 29) “ محمد ، اللہ کے رسول ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب میں پاؤ گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں۔ جن سے الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی۔ پھر اس کو تقویت دی پھر وہ گدرائی پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ اس گروہ کے لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ، اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے ”۔ میں کہتا ہوں اسلامی دعوت کی تاریخ میں یہ بہت ہی بڑی فتح ہے جو کسی جماعت کو حاصل ہوئی۔ اس کے آثار کافی دیر تک اسلامی تاریخ میں نکلتے رہے۔ پھر اس کے نتیجے میں سورت فتح نازل ہوئی۔ جس پر حضور اکرم ﷺ بہت ہی خوش تھے۔ حضور ﷺ پر اللہ کی رحمتوں کی بارش یوں ہوئی کہ اگلے پچھلے قصور معاف ہوئے اور آپ ﷺ کے ساتھی مومنین پر یہ فیض ہوا کہ اللہ ان سے راضی ہوا۔ حضور ﷺ کو مکمل ہدایت دی گئی اور عظیم نصرت دی گئی اور پھر جماعت اہل ایمان کو تورات ، انجیل اور قرآن کا سرٹیفکیٹ دیا گیا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا “ گزشتہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی جو اس تمام دولت سے زیادہ قیمتی ہے جس پر کبھی سورج طلوع ہوا ہے ”۔ اور آپ نے رب تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ ان نعمتوں پر آپ ﷺ اور طویل ترین نمازیں پڑھتے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ نماز پڑھنے کے لئے اٹھتے تو آپ کے پاؤں سوج جاتے۔ حضرت عائشہ ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں تو آپ ﷺ کیوں اس قدر تکلیف کرتے ہیں اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : “ اے عائشہ ! کیا میں گزار بندہ نہ بنوں ”۔ یہ افتتاح تو حضور ﷺ کا حصہ تھا۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اس فتح کے ذریعے مسلمانوں پر کس قدر انعامات کئے گئے اور اللہ نے اپنے دست قدرت سے کس طرح ان کے دلوں پر سکینہ اتارا۔ اور آخرت میں ان کے لئے یہ بخشش اور فوز عظیم کے انعامات ہوں گے۔
Ayahs 48:4–5

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تا کہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں۔ زمین اور آسمانوں کے سب لشکر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ علیم و حکیم ہے ۔

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

(اس نے یہ کام اس لیے کیا ہے) تا کہ مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لئے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے بہہ رہی ہوں گی اور ان کی برائیاں ان سے دور کر دے۔۔۔۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے۔

سکینہ کا لفظ ایک معنوی تعبیر اور تصویر اور پرتو پر دلالت کرتا ہے۔ جب کسی قلب پر سکینہ نازل ہو تو وہ مطمین ، خوش ، اور پروقار ہوتا ہے۔ اسے یقین ، بھروسہ اور ثبات حاصل ہوتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں وہ سر تسلیم خم کردیتا ہے۔ اور اللہ کے ہر حکم پر راضی ہوتا ہے۔ اور ایسا شخص پھر نہایت باوقار ہوتا ہے۔ اس واقعہ پر مسلمانوں کے دل کئی وجوہات سے جوش میں آجاتے تھے اور ان پر مختلف قسم کے تاثرات کا دباؤ تھا۔ ایک تو لوگوں نے نبی ﷺ کے خواب کی تعبیر یہ کر رکھی تھی کہ آپ مسجد حرام میں اسی سال داخل ہوں گے۔ پھر یہ کہ قریش نے یہ شرط رکھ دی کہ آپ ﷺ اس سال واپس ہوجائیں اور اگلے سال عمرہ کریں اور حضور ﷺ نے اس شرط کو قبول کرلیا۔ حالانکہ انہوں نے احرام باندھ لیا تھا اور ہدی کے جانوروں کے گلے میں شعار باندھ لیا تھا۔ اور یہ امور ایسے تھے جو بعض جذباتی لوگوں کے لئے ناقابل برداشت تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ ، حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئے اور وہ اس وقت سخت جوش میں تھے کہ آیا ہمیں یہ نہ بتایا گیا تھا کہ ہم بیت اللہ کو جائیں گے اور طواف کریں گے۔ ابوبکر ؓ جن کا دل حضور اکرم ﷺ کے ساتھ دھڑکتا تھا ، نے فرمایا کیا آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ اسی سال تم عمرہ کرو گے ؟ تو انہوں نے کہا اس سال کا تو نہیں کہا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : ” پس تم آؤ گے اور طواف کرو گے “۔ چناچہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ کو چھوڑا اور حضور اکرم ﷺ کے پاس پہنچے اور حضور ﷺ سے کہا : ” کیا آپ نے نہ بتایا تھا کہ ہم بیت اللہ کو جائیں گے اور طواف کریں گے ؟ “ حضور ﷺ نے فرمایا ” درست ، لیکن کیا میں نے یہ کہا تھا کہ تم اسی سال عمرہ کرو گے ؟ “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا ” نہیں “۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” بیشک تم آؤ گے اور طواف کرو گے “۔ یہ باتیں تھیں جو دلوں میں لاوے کی طرح ابل رہی تھیں۔ پھر مومنین قریش کی شرائط پر بھی سخت برہم تھے۔ یہ کہ اگر کوئی مسلمان اپنے ولی کی اجازت سے محمد ﷺ کے پاس آجاتا ہے تو اسے واپس کردیا جائے گا لیکن اگر کوئی مسلمان ، مسلمانوں کی اجازت کے بغیر مکہ چلا جاتا ہے تو اسے واپس نہ کیا جائے گا۔ پھر انہوں نے اپنی جاہلیت کی وجہ سے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا نام کٹوا کر بسمک اللھم کردیا۔ پھر انہوں نے ، آپ کے نام سے رسول اللہ کا لفظ کٹوا دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت علی ؓ نے سہیل کے کہنے کے مطابق (رسول اللہ) کا لفظ کاٹنے سے انکار کردیا۔ رسول اللہ نے نے اسے خود محو کردیا اور کہا ” اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں رسول ہوں “۔ مسلمانوں کی بہادری ، دینی حمیت اور جذبہ جہاد اور مشرکین کے ساتھ لڑنے کا جذبہ تو اس اجتماعی بیعت سے ظاہر ہے جو انہوں نے کی۔ لیکن معاملہ چونکہ اچانک صلح ، امن اور واپسی پر منتج ہوگیا اس لیے مسلمان اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہ کرسکتے تھے۔ اس لیے ان کی طرف سے جذبات کا اظہار ہوا۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے باوجود انہوں نے قربانیاں نہ کیں ، سر نہ منڈوائے ، باوجود اس کے کہ حضور ﷺ نے تین مرتبہ احکام صادر فرمائے۔ حالانکہ وہ حضور ﷺ کے احکام پر مر مٹنے والے تھے۔ عروہ ابن مسعود ثقفی نے قریش کو جو رپورٹ دی اس سے مسلمانوں کی حالت ظاہر تھی اور اب حالت یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نے قربانی ذبح کردی اور سر منڈوا لیا تب جا کر انہوں نے جانور ذبح کئے اور سر منڈوائے۔ غرض ان کو اس واقعہ نے سخت ہلا مارا تھا۔ اب جب کہ وہ اطاعت کی طرف آگئے تو پھر بھی دہشت زدہ تھے۔ یہ لوگ مدینہ سے عمرہ کی نیت سے نکلے تھے۔ جنگ لڑنے کا تو ارادہ ہی نہ تھے۔ نہ نفسیاتی لحاظ سے اور نہ مادی لحاظ سے وہ جنگ کے لئے تیار تھے۔ لیکن جب قریش نے سخت موقف اختیار کیا ، پھر یہ خبر آئی کہ حضرت عثمان ؓ قتل کر دئیے گئے ہیں ۔ پھر قریش نے کچھ لوگ بھیجے جنہوں نے مسلمانوں کے لشکر پر تیر اور پتھر پھینکے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے جنگ پر بیعت چاہی تو وہ تہہ دل سے تیار ہوگئے۔ لیکن اس بیعت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسلمانوں کے اندر جنگی حالت اچانک نہ آئی تھی۔ یہ جنگی حالت بالکل اچانک تھی یہ لوگ جنگ کے لئے نکلے نہ تھے۔ اس وجہ سے بھی مسلمانوں کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا ہوگیا تھا۔ یہ چودہ سو تھے۔ اور قریش اپنے گھروں میں تھے اور ان کے ساتھ اطراف مکہ کے مشرکین بھی معاون و مدد گار تھے۔ جب انسان ان تمام حالات کو پیش نظر رکھ کر اس آیت پر غور کرتا ہے۔ ھو الذی انزل السکینۃ فی قلوب المومنین (48 : 4) ” وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر سکینت نازل کی “ تو انسان لفظ اور مفہوم دونوں کی خوبصورتی اور مٹھاس کو محسوس کرتا ہے اور اس وقت جو صورت حالات تھی وہ بھی پوری طرح ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور اچھی طرح محسوس ہوتی ہے کہ اس کی سکینت کی ٹھنڈک نے کس طرح جلنے والے دلوں کو فوراً سکون بخشا ہوگا اور کس طرح ان کو بحال کردیا ہوگا۔ چونکہ اللہ کو معلوم تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کی حالت کیا ہے ؟ اور کیوں ہے ؟ جو جوش ہے وہ جوش ایمان ہے ، جو محبت اور غیرت ہے وہ حمیت اسلامی اور غیرت ایمانی ہے۔ کسی مفاد یا جاہلیت کے لئے نہیں ہے۔ اس لیے اللہ نے یہ سکینت نازل کی۔ لیزدادوا ایمانا مع ایمانھم (48 : 4) ” تا کہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں “۔ طمانیت وہ درجہ ہے جو ایمان کے جوش و خروش کے بعد آتا ہے۔ اس میں بھر پور اعتماد ہوتا ہے۔ کوئی بےچینی نہیں ہوتی ، ایسی رضا مندی ہوتی ہے جو اعتماد و یقین پر مبنی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بات کو نمایاں کیا جاتا ہے کہ نصرت اور غلبہ نہ تو ناممکن ہے۔ اور نہ ہی مشکل ہے۔ اگر اللہ کی حکمت کا تقاضا ہوتا تو یہ اللہ کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے ، یہی اللہ کی حکمت کا تقاضا ہے۔ اللہ کی افواج لاتعداد ہیں ، ان پر کوئی قوت غالب نہیں آسکتی۔ لیکن اللہ نے غلبے کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ وللہ جنود السموت والارض وکان اللہ علیما حکیما (48 : 4) ” زمین اور آسمانوں کے لشکر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے “۔ یہ اللہ کی حکمت ہے اور اس کا علم ہے جو معاملات کو اپنی مرضی سے چلاتے ہیں۔ اور اس علم اور حکمت ہی کا تقاضا تھا کہ۔ انزل السکینۃ فی قلوب المومنین (48 : 4) لیزدادو ایمانا مع ایمانھم (48 : 4) ” جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل کی تا کہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھا لیں “۔ تا کہ ان کے لئے اللہ نے جو بڑی کامیابی مقدر رکھی ہے ، وہ پوری ہوجائے۔ لیدخل المومنین ۔۔۔۔۔ فوزا عظیما (48 : 5) ” تا کہ مومن مردوں اور عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لئے ایسی جنتوں میں داخل فرنائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور ان کی برائیاں ان سے دور کر دے۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے “۔ اگر اس بات کو اللہ فوز عظیم قرار دیتا ہے تو یہ فی الواقع فوز عظیم ہے۔ اپنی حقیقت میں فوز عظیم ہے۔ یہ ایک عظیم کامیابی ہے ، ان لوگوں کے خیال میں جن کو وہ ملی ہے ، اللہ کی تقدیر کے مطابق اور اللہ کے پیمانوں کے مطابق۔ اس وقت مسلمان بہت خوش تھے ان فتوحات پر جو اللہ نے ان کے لئے لکھ دی تھیں۔ جب انہوں نے اس سورت کا یہ آغاز سنا تو وہ ان فتوحات کی امید کرتے تھے۔ ان کے انتظار میں تھے اور ان کو علم ہوگیا تھا کہ اللہ رسول اللہ ﷺ پر کیا کیا مہربانیاں کرنے والا ہے۔ اور اس میں ان کو جو حصہ ہے اس کے لئے وہ انتظار میں تھے۔ اور آپ سے پوچھتے رہتے تھے اور جب انہوں نے سنا اور جانا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔
Ayahs 48:6–7

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور ان منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو ۔۔۔۔ جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں۔ برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آگئے ، اللہ کا غضب ان پر ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لئے جہنم مہیا کردی جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

زمین اور آسمان کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست اور حکیم ہے

اس کے بعد اللہ کی حکمت کا ایک دوسرا پہلو سامنے آتا ہے ، جو اللہ نے اس واقعہ میں رکھا ہوا تھا یہ کہ منافقین اور منافقات کو سزا دے اور مشرکین اور مشرکات سے ایسے کاموں کا صدور ہو اور وہ سزاؤں کے مستحق ہوجائیں۔ ویعذب المنفقین والمنقت ۔۔۔۔۔۔۔ وساءت مصیرا (6) واللہ جنود ۔۔۔۔۔ عزیز حکیما (48 : 7) ” اور ان منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے متعلق برے گمان رکھتے ہیں۔ برائی کے پھیر میں وہ خود ہی آگئے ، اللہ کا غضب ان پر ہو اور اس نے ان پر لعنت کی اور ان کے لئے جہنم مہیا کردی جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ زمین اور آسمان کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ اس آیت میں اللہ نے مشرکین اور مشرکات ، منافقات اور منافقین کو صفت سوء ظن میں شریک کیا ہے اور اس صفت میں کہ ان کو یقین نہ تھا کہ اللہ مومنین کی امداد کرے گا۔ اس لیے اللہ نے ان کو اس سزا میں بھی شریک رکھا کہ ان پر برائی کا پھیر آگیا اور یہ خود ہی گھیرے گئے۔ اور یہ برائی ان پر پڑنے والی ہے ۔ اور ان سب پر اللہ کا غضب ہے اور سب پر اللہ کی لعنت ہے اور ان سب کا انجام بھی برا ہے اور یہ اس میں شریک ہیں۔ یہ اس لیے کہ نفاق ایک بہت ہی ذلیل حرکت ہے۔ یہ شرک کے برابر ہے بلکہ شرک سے بھی بری ہے اور گری ہوئی حرکت ہے۔ اور مسلمانوں کو اذیت دینے میں ان منافقین اور منافقات کا کردار مشرکین اور مشرکات سے کم نہیں ہے۔ اگرچہ دونوں کی اذیتوں کا دائرہ اور نوعیت مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین و منافقات اور مشرکین و مشرکات کی اہم صفت یہ قرا ردی ہے کہ یہ اللہ کے بارے میں بدگمانیاں کرتے ہیں۔ ایک مومن اپنے رب کے ساتھ حن ظن رکھتا ہے اور ہمیشہ اللہ سے خیر چاہتا ہے۔ اور خیر کی توقع کرتا ہے خواہ اس کے حالات اچھے ہوں یا وہ مشکلات میں ہو۔ وہ اپنے ایمان کو مضبوط کرتا ہے کہ دونوں حالات میں اللہ سے بھلائی چاہتا ہے۔ اس لیے کہ اس کا دل اللہ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ بھلائی کے چشمہ کو کبھی بند نہیں فرماتا۔ جب انسان کا قلب واصل باللہ ہو تو وہ اس حقیقت کو محسوس کرتا ہے اور براہ راست اس کا ذائقہ محسوس کرتا ہے۔ رہے منافق اور مشرک تو ان کو تعلق باللہ کی نعمت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ اس حقیقت کو محسوس نہیں کرتے اور نہ اسے اپنے اندر پاتے ہیں۔ پس وہ اللہ کے ساتھ سوء ظن کرتے ہیں اور صرف ظاہری امور کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں اور اپنے احکام کو ظاہری امور پر مبنی کرتے ہیں۔ جب کوئی ظاہری علامات ان کو نظر آتی ہیں تو وہ توقع کرتے ہیں کہ ان پر بھی مصیبت آگئی اور مسلمانوں پر بھی۔ ان کو اللہ کی تقدیر اور تدبیر پر کوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ حالانکہ اللہ کی تقدیر اور تدبیر بعض اوقات نظروں سے اوجھل ہو کر کام کرتی ہیں۔ اس آیت میں اللہ نے اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی مختلف انواع و اقسام کو جمع کیا ، ان کا حال بیان کیا اور بتایا کہ ان کے لئے کس قدر برا انجام ہے اور آخر میں بتایا کہ ان کا سوء ظن غلط ہے۔ اللہ کی قدرت وسیع اور حکمت دور رس ہے۔ وللہ جنود السموت والارض وکان اللہ عزیز حکیما (48 : 7) ” زمین و آسمان کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست و حکیم ہے “۔ لہٰذا ان دشمنان اسلام کی کوئی بات اللہ کو عاجز نہیں کرسکتی ، ان کی کوئی سرگرمی اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو زمین و آسمان کی قوتوں کا مالک ہے اور عزیز و حکیم ہے۔ اس کے بعدنبی ﷺ کی طرف رخ کیا جاتا ہے کہ آپ کا فرض منصبی کیا ہے۔ اور اس سلسلے میں اہل ایمان کے فرائض کیا ہیں۔ آپ نے ان تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ وہ ایمان لا چکے ، بیعت الرضوان میں براہ راست اللہ سے بیعت بھی کرچکے ۔ یہ عہد انہوں نے براہ راست اللہ سے کیا ہے۔ اس لیے یہ نہایت ہی عظیم مقام ہے جس تک وہ پہنچ گئے ہیں۔ یاد رکھیں کہ اس بیعت اور عقد کی ذمہ داریاں بھی عظیم ہیں۔
Ayahs 48:8–9

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، ہم نے تم کو شہادت دینے والا ، بشارت دینے والا اور خبردار کردینے والا بنا کر بھیجا ہے

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تا کہ اے لوگو ، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کا (یعنی رسول کا) ساتھ دو ، اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو۔

اے نبی ﷺ ، جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ اب جو اس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا ، اور جو اس عہد کو وفا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے ، اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا “۔ رسول اللہ ﷺ ان تمام لوگوں پر گواہ ہیں جن کی طرف آپ کو بھیجا گیا ہے۔ آپ شہادت دیں گے کہ جو پیغام آپ کو دے کر بھیجا گیا تھا آپ نے وہ لوگوں تک پہنچا دیا ہے اور یہ کہ لوگوں کا رد عمل یہ رہا ہے۔ اور ان میں سے بعض مومن ہوئے۔ بعض نے کفر اختیار کیا اور بعض نے منافقت کا رویہ اختیار کیا۔ بعض لوگوں نے اصلاح قبول کی اور بعض بدستور مفسد رہے تو حضور ﷺ نے جس طرح رسالت کا حق ادا کیا اور پیغام پہنچایا اسی طرح حضور ﷺ شہادت بھی دیں گے کیونکہ حضور ﷺ مبشر ہیں ، خوش خبری دینے والے ہیں ، اچھے انجام اور اللہ کی مغفرت کی اور اچھے انجام کی ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے اطاعت کی اور ڈرانے والے ہیں کافروں ، منافقوں اور مفسد نافرمانوں کو کہ ان کا انجام برا ہوگا۔ ان پر اللہ کا غضب ہوگا ، لعنت ہوگی اور سخت سزا ہوگی۔ یہ تو ہے رسول اللہ ﷺ کا فرض منصبی۔ اس کے بعد مومنین سے خطاب ہے کہ رسالت کے حوالے سے تمہارے فرائض کیا ہیں ؟ یہ کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ، اس کے بعد ایمان کے تقاضے پورے کرو ، اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں اللہ اور رسول ﷺ کی مدد کرو ، رسول اللہ ﷺ کا غایت درجہ احترام کرو ، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح و تمجید کرو ، یعنی پورے دن اللہ کی بندگی کرو کیونکہ دن کے دونوں اطراف کا ذکر کر کے اس سے مراد پورا دن لیا گیا ہے۔ یعنی ہر وقت اللہ سے جڑے رہو۔ یہ ہے ایمان کا ثمرہ اور پھل جس کی ہر مومن سے توقع کی جاتی ہے اور رسول کو شاہد ، مبشر اور نذیر اسی لیے بنا کر بھیجا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے آنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ آپ لوگوں کے لو اور اللہ کے درمیان رابطہ قائم کر کے ایسی بیعت اور ایسا معاہدہ کرا دیں کہ آپ ﷺ کے چلے جانے کے بعد بھی یہ رابطہ قائم رہے۔ جب لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کریں تو گویا انہوں نے اللہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

اے نبی ﷺ بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دئیے گئے تھے اب وہ آکر ضرور تم سے کہیں گے کہ ” ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کر رکھا تھا ، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں

ان الذین یبایعونک ۔۔۔۔ فوق ایدیھم (48 : 10) ” اے نبی ﷺ جو تم سے بیعت کر رہے تھے وہ دراصل اللہ سے بیعت کر رہے تھے ، ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا “۔ یہ بات مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ہونے والی بیعت کو بہت ہی نازل اور ذمہ دارانہ بناتی ہے کہ لوگوں کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ ہے اس عقد میں اللہ کا بھی ہاتھ تھا۔ اللہ یہ بیعت لینے والا تھا اور بیعت کرنے والوں کے ہاتھ کے اوپر اللہ کا ہاتھ تھا اور اللہ کی ذات ! کس قدر عظیم ذات ہے اللہ ، اللہ جو صاحب جلال و اکرام ہے ! اس کا ہاتھ ! اس شعور اور تصور سے انسان کے دل سے اس عہد کو توڑنے کا خیال ہی نکل جاتا ہے۔ چاہے رسول اللہ اس دنیا سے اٹھ ہی کیوں نہ جائیں۔ اللہ تو بہرحال حاضر ہے۔ وہی تو اس عہد کا اصلی فریق ہے اور وہی نگران ہے۔ فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ (48 : 10) “ جو شخص اس عہد کو توڑے گا ، اس کی عہد شکنی کا وبال اس کی اپنی ذات پر ہوگا ”۔ اسی کو خسارہ ہوگا۔ اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان جو سودا ہوا ہے۔ اس میں فائے میں رہنے والی پارٹی تو وہ خود ہے۔ اللہ تو دونوں جہانوں سے بےنیاز ہے۔ لہٰذا اگر یہ عہد توڑے گا تو نقصان اسی کو ہوگا۔ یہ اللہ کے غضب اور اللہ کی سزا کا مستحق ہوگا۔ کیونکہ اللہ نقص عہد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ، اللہ تو وفا۔ عہد کرنے والوں اور وفاداروں کو پسند کرتا ہے۔ ومن اوفی ۔۔۔۔۔۔۔ اجرا عظیما (48 : 10) “ اور جو اس عہد کو وفا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا ”۔ علی الاطلاق اجر عظیم ہوگا۔ تفصیلات کے سوا ہی۔ کیونکہ اللہ عظیم ہے جو یہ عہد کر رہا ہے۔ لہٰذا اس کا اجر بھی عظیم ہے۔ یہ اللہ کے حساب سے عظیم ہے۔ انسان تو اس اجر اور اس اجر کے عطا کرنے والے کی عظمت کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ انسان نہ اللہ کی عظمت کا تصور کرسکتا ہے نہ اللہ کے عظیم پیمانوں کا تصور کرسکتا ہے کیونکہ انسان خود بھی چھوٹا ہے اور اس کا تصور بھی چھوٹا ہے۔ جب بات بیعت کی حقیقت پر ہو رہی تھی اور وفاداری اور بےوفائی تک پہنچی تو ان لوگوں کا ذکر شروع ہوا ، جنہوں نے اس موقعہ پر بےوفائی کی۔ یعنی مدینہ کے اردگرد دیہات میں رہنے والے لوگ ۔ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر حدیبیہ میں نکلنے سے اس لیے انکار کیا کہ ان کو اللہ کے ساتھ بدظنی تھی اور اس موقعہ پر جو مومنین جارہے تھے ان کے بارے میں ان کو توقع تھی کہ وہ مصیبت میں گرفتار ہوں گے اور نقصان اٹھائیں گے جو قریش کے پاس ان کے گھروں کو جا رہے تھے۔ اس سے قبل یہ قریش مسلسل دو سال مدینہ میں جا کر مسلمانوں کے ساتھ لڑتے رہے تھے۔ ان کے بارے میں اس سورت میں حضور ﷺ کو پیشگی اطلاع کردی گئی ہے کہ جب آپ اور آپ کے رفقاء صحیح سلامت مدینہ پہنچیں گے تو ان لوگوں کے عذرات کیا ہوں گے۔ ان کا خیال تو یہ تھا کہ مسلمان واپس ہی نہ ہوں گے حالانکہ قریش نے مسلمانوں کے ساتھ دس سالہ صلح کرلی۔ اگرچہ شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں ۔ لیکن دراصل قریش نے اپنے موقف سے پسپائی اختیار کی۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانوں کو اپنے مساوی تسلیم کیا ، صلح کر کے دشمنی سے اپنے آپ کو چھڑایا۔ بہرحال یہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے عدم خروج کے اصل اسباب بھی بتا دیتا ہے اور ان لوگوں کو حضور اکرم ﷺ اور مسلمانوں کے سامنے عریاں کر کے رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس جنگ میں آپ کے ساتھ ، جو نکلے ہیں ، ان کے لئے اچھا مستقبل ہے۔ وہ یہ کہ مستقبل میں ان کو ہی نہایت ہی وافر مقدار میں اموال غنیمت ، فتوحات اور کامیابیاں ملیں گی اور یہ لوگ جو اس مہم سے پیچھے رہ گئے تھے یہ ان سے محروم ہوں گے۔ مستقبل کی آسان مہمات میں یہ اعراب چاہیں گے کہ آپ کے ساتھ جنگ کے لئے نکلیں تا کہ اموال غنیمت میں اپنا حصہ پائیں۔ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ آسان مہمات میں اب ان کی پیشکش کو قبول نہ فرمائیں۔ اور ان آنے والی مہمات میں صرف ان لوگوں کو لے جائیں جو حدیبیہ میں شریک تھے۔ یہاں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر تم سچے طور پر جہاد کرنے والے ہو تو تمہیں سخت طاقتور دشمن کے ساتھ لڑنے کے لئے موقعہ دیا جائے گا ۔ اگر فی الواقع تم جنگ کرنا چاہتے ہو اس وقت پھر نکلنا۔ وہاں اللہ تمہارا جو حصہ ہوگا ، دے گا۔ اگر انہوں نے اس وقت اطاعت کی تو اجر عظیم کے مستحق ہوں گے
Ayah 48:11

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

“ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ ان سے کہنا ” اچھا ، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے۔ اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے ؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے ۔

سیقول لک المخلفون ۔۔۔۔۔ بما تعملون خبیرا (11) بل ظننتم ان لن ۔۔۔۔۔۔ قوما بورا (12) ومن لم یومن باللہ ۔۔۔۔۔ سعیرا (13) وللہ ملک السموت ۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (14) سیقول المخلفون ۔۔۔۔۔۔ الا قلیلا (15) قل للمخلفین من الاعراب ۔۔۔۔۔ عذابا الیما (16) (48 : 11 تا 16) “ اے نبی ﷺ بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دئیے گئے تھے اب وہ آکر ضرور تم سے کہیں گے کہ “ ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کر رکھا تھا ، آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں ”۔ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ ان سے کہنا “ اچھا ، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے۔ اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے ؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے۔ (مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو ) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کئے اور تم سخت بدباطن لوگ ہو۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگی مہیا کر رکھی ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے ، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے ، اور وہ غفور ورحیم ہے۔ جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لئے جانے لگو تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔ ان سے صاف کہہ دینا کہ “ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے ”۔ یہ کہیں گے کہ “ نہیں ، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو ”۔ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں۔ ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ “ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لئے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے ۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا ، اور اگر تم پھر اسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا ”۔ قرآن کریم نے یہاں صرف ان لوگوں کے اقوال نقل کر کے ان کی تردید پر ہی اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ اس بہترین موقعہ پر ان کی گہری نفسیات کو لیا ہے۔ ان کے دلوں کے اندر اٹھنے والے وساوس اور خیالات کو لیا ہے ۔ اور پھر اس کے لئے علاج تجویز کیا ہے۔ ان کے اندر جو اخلاقی بیماریاں تھیں ، یہاں ان کی تشخیص کی گئی تا کہ ان کا مناسب علاج کیا جائے۔ جو حقائق ہیں وہ باقی رہیں اور اسلامی تصور حیات کے اصل الاصول واضح کر کے باقی رکھے جائیں۔ مدینہ کے اردگرد کے جو دیہاتی ، باوجود دعوت کے ، حدیبیہ کے موقعہ پر رہ گئے تھے وہ قبائل غفار ، مزینہ اشجع اور اسلم وغیرہ تھے۔ قرآن کہتا ہے ان کا عذر یہ ہوگا۔ شغلتنا اموالنا واھلونا (48 : 11) “ ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول رکھا ”۔ اور یہ تو کوئی عذر نہیں ہے۔ ہمیشہ ہر کسی کا مال اور اولاد اور اہل و عیال تو ہوتے ہی ہیں ، اگر ایسے عذرات مقبول ہوں تو پھر کوئی شخص بھی نظریاتی کام اور اپنے عقیدے اور دعوت اسلامی کی ذمہ داریوں کے لئے کوئی وقت نہ پائے گا۔ اور دوسری بات وہ یہ کہیں گے۔ فاستغفرلنا (48 : 11) “ آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں ”۔ لیکن پھر اس میں بھی سچ نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے۔ یقولون بالسنتھم ما لیس فی قلوبھم (48 : 11) “ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو دلوں میں نہیں ہوتیں ”۔ اس موقعہ پر ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا ایک نظام قضا و قدر ہے اور اسے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔ جنگ سے پیچھے رہ جانا تقدیر کو نہیں روک سکتا۔ نہ کسی اقدام کو روکا جاسکتا ہے۔ اللہ کی قدرت کے اندر تم لوگ گھرے ہوئے ہو۔ وہ جس طرح چاہتا ہے ، تصرف کرتا ہے اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے۔ وہ علم کے مطابق تصرفات کرتا ہے۔ قل فمن یملک ۔۔۔۔۔ تعملون خبیرا (48 : 11) “ ان سے کہنا “ اچھا ، یہی بات ہے تو کون تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھنا ہے۔ اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے ؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے ”۔ اس سوال ہی میں بتا دیا کہ ایک سچے مومن کا رویہ کیا ہونا چاہئے ، اسے چاہئے کہ وہ اللہ کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ اللہ کے احکام کی فوراً تعمیل کرے اور اس میں لیت و لعل نہ کرے۔ کیونکہ توقف کرنے اور لیت و لعل کرنے سے نہ کوئی نقصان رفع ہو سکتا ہے اور نہ نفع موخر ہو سکتا ہے۔ اور عذرات گھڑنا اس سے مخفی نہیں ہے۔ اللہ جزاء و سزا اپنے علم کے مطابق دیتا ہے۔ اس لیے عذرات گھڑنے سے اس کے ہاں کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ نہایت ہی بروقت ہدایت ہے۔ مناسب فضا میں ہے اور یہی قرآن کا طریقہ ہے کہ وہ نہایت ہی مناسب وقت پر ٹوک دیتا ہے۔
Ayah 48:12

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

(مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کئے اور تم سخت بدباطن لوگ ہو۔

بل ظننتم ان لن ۔۔۔۔۔۔ قوما بورا (48 : 12) “ بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول اور مومنین اپنے گھر والوں میں ہرگز پلٹ کر نہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دل کو بھلا لگا اور تم نے بہت برے گمان کئے اور تم سخت بدباطن لوگ ہو ”۔ یوں اللہ ان لوگوں کو عریاں کر کے چھوڑ دیتا ہے۔ ان کی نیت اور دلوں کا حال ان کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے جو اندازے لگا رکھے تھے وہ بھی ان کو بتا دئیے گئے ۔ اللہ کے بارے میں ان کے دلوں میں جو سوئے ظن تھا وہ بھی بتا دیا۔ ان کا خیال یہ تھا کہ رسول اللہ اپنے ساتھیوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں ۔ لہٰذا مدینہ کو واپس آنے والے نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ ان لوگوں کے منہ میں جا رہے ہیں جنہوں نے ان کے گھر میں آکر ان سے جنگ کی ہے اور انہوں نے مدینہ میں آکر رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کو قتل کیا ہے۔ ان کا اشارہ احد اور احزاب کی طرف تھا۔ ان لوگوں نے اللہ کی قوتوں اور اللہ کی مہربانیوں کا حساب نہ لگایا تھا کہ اللہ اپنے مخلص بندوں پر کیا کیا کرم کرتا ہے۔ نیز انہوں نے معاملات کو سیکولر طریقے سے سوچا تھا اور ان کے دل اسلامی نظریہ حیات سے خالی تھے ، ان کے نزدیک فرض اور ڈیوٹی تو کوئی چیز ہی نہ تھی۔ حالانکہ اسلامی نظریہ کے کچھ تقاضے تھے اور ان کے لئے ہر قربانی ہیچ سمجھی جانی چاہئے تھی۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور آپ کی معیت کو نفع و ضرر ، نفع و نقصان کے حساب و کتاب سے برتر ہونا چاہئے تھا۔ یہ تو وہ فریضہ تھا جسے نتائج کی پرواہ کئے بغیر ان کو ادا کرنے چاہئے تھا۔ بہرحال انہوں نے بدگمانیاں کیں اور بدظنی اور بدگمانی ان کے لئے خوشنما بنا دی گئی۔ ان کو اس بدگمانی کے علاوہ کچھ نظر ہی نہ آتا تھا۔ انہوں نے اس بدظنی کے سوا کسی دوسرے واقعہ یا کسی دوسرے رخ کے بارے میں سوچا ہی نہیں ، اور یہی ان کی جانب سے سوء ظن تھا۔ یہ اس لیے پیدا ہوا تھا کہ ان کے دل برے تھے۔ ان کو یہاں “ قوم بور ” کہا گیا ہے۔ یہ عجیب انداز تعبیر ہے۔ “ بور ” اس زمین کو کہتے ہیں جو بنجر ہو اور اس میں کوئی روئیدگی نہ ہو۔ نہ کوئی درخت اور پھل ہوں ، نہ کوئی سنہری فصل ہو۔ جس دل میں حسن ظن کی سر سبزی نہ ہو ، پھر اللہ کے بارے میں پرامید نہ ہو اور اس کے اندر کوئی حسن ظن نہ ہو ، تو وہ بنجر ہے ، وہ مردہ ہے اور آخر کار اس نے برباد اور تباہ ہونا ہے۔ جماعت مومنہ کے بارے میں آج بھی بعض لوگ اس انداز سے سوچتے ہیں ، اس قسم کے لوگ جس طرح مدینہ کے اردگرد بستے تھے ، جن کے دل خشک تھے اور ان میں زندگی کی روح نہ تھی۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ باطل پرستوں کا پلڑا بھاری ہے اور دنیا کی زیادہ قوتیں اہل شر اور اہل باطن کے ساتھ ہیں۔ نیک لوگ تعداد میں بہت کم ہیں ، یا وسائل کے لحاظ سے غریب ہیں ، یا مرتبہ اور مال و دولت کے اعتبار سے کم ہیں۔ یہ دیہاتی ، بدوی اور اس قسم کے لوگ ہر زمان و مکان میں یہی کچھ سوچتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی سوچ کچھ یوں ہوتی ہے کہ اہل ایمان یا اسلام کے چاہنے والوں کا مقابلہ چونکہ بڑی قوتوں سے ہے اور یہ قوتیں بظاہر بہت ہی پھولی ہوئی ہیں لہٰذا ان مٹھی بھر اسلام والوں کی خیر نہیں ہے۔ لہٰذا مناسب یہی ہے کہ ان سے دور رہا جائے۔ ایسے لوگ ہر وقت یہ توقع رکھتے ہیں کہ آج یا کل ان کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا۔ اور یہ دعوت ہی ختم ہوجائے گی۔ اس لیے وہ بطور احتیاط اس راہ سے جدا دوسرے راستے پر چلتے ہیں۔ لیکن اللہ اس قسم کے لوگوں کے سوء ظن کو ہمیشہ ناکام بنا دیتا ہے اور اللہ اپنے فضل و کرم کے حالات کو تبدیل فرماتا ہے اور اپنی تدابیر سے اپنے بندوں کے لئے راہ ہموار کردیتا ہے۔ اللہ اپنے پیمانوں سے ناپتا ہے ، جو حقیقی پیمانے ہیں۔ اور جو اللہ کے قوی ہاتھ میں ہیں۔ وہ بعض لوگوں کو گراتا ہے اور بعض کو اٹھاتا ہے اور کافرین ، منافقین اور اللہ کے بارے میں سوئے ظن رکھنے والوں کو اس کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ اور اس قسم کے لوگ ہر دور اور ہر زمانے میں ہوتے ہیں۔ اصل ترازو ایمان کا ترازو ہے۔ اللہ تعالیٰ ان بدوی مسلمانوں کو کہتا ہے کہ اس ترازو سے تولو ، اور اس ترازو کے مطابق ہی اعمال کی جزاء تجویز فرماتا ہے ، اللہ کی رحمت اس ترازو کے ساتھ ہے۔ فرصت کے لمحات قلیل ہیں ، اللہ کی رحمت اور مغفرت کو حاصل کرو اور فائدہ اٹھاؤ !
Ayahs 48:13–14

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے ، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے ، اور وہ غفورو رحیم ہے۔

ومن لم یومن ۔۔۔۔ للکفرین سعیرا (48 : 13) وللہ ملک السموت ۔۔۔۔ غفورا رحیما (48 : 14) “ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے ، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے ، اور وہ غفور و رحیم ہے ” ۔ یہ لوگ اپنے اموال اور اہل و اولاد کا عذر پیش کرتے تھے۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ جہنم جو کافروں کے لئے تیار رکھی ہوئی ہے ، اس میں مال و اولاد کیا فائدہ دیں گے ، اگر وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائے۔ غرض ترازو کے دو پلڑے ہیں۔ ایک ایمان کا دوسرا کفر و نفاق اور سوء ظن کا ، ان میں ان کو ایک کو قبول کرلینا چاہئے۔ اللہ جو تمہیں ڈراتا ہے وہ آسمانوں اور زمین کی قوتوں کا مالک ہے۔ وہ عذاب بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی کرسکتا ہے۔ اللہ لوگوں کو جزا یا سزا ان کے اعمال پر دیتا ہے۔ لیکن اس کی مشیت مطلق و آزاد ہے۔ اس پر کوئی قید نہیں ہے۔ یہ بات یہاں اس لیے بتا دی گئی کہ لوگوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اعمال پر جزاء بھی اسی نے طے کی ہے۔ اللہ کی رحمت اور مغفرت سب کے لئے قریب ہے۔ مناسب ہے کہ لوگ اسے طلب کریں۔ قبل اس کے کہ اللہ کے عذاب کا فیصلہ صادر ہوجائے ، اور یہ فیصلہ ظاہر ہے انہی لوگوں کے لئے ہوگا جو اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائیں گے۔ اس کے بعد اللہ ان اموال غنیمت کی طرف اشارہ فرماتا ہے جو مومنین کے لئے مقدر ہوچکے ہیں۔ اور یہ ان لوگوں کی بدگمانیوں کے بالکل متضاد صورت حالات ہوگی اور انداز کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات بہت ہی قریب وقت میں رونما ہونے والے ہیں۔
Ayah 48:15

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لئے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔ ان سے صاف کہہ دینا کہ ” تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے “ ۔ یہ کہیں گے کہ ” نہیں ، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو “۔ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں۔

سیقول المخلفون ۔۔۔۔۔۔ یفقھون الا قلیلا (48 : 15) “ جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لئے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔ ان سے صاف کہہ دینا کہ “ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے ”۔ یہ کہیں گے کہ “ نہیں ، بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کر رہے ہو ”۔ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں ”۔ اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد فتح خیبر ہے۔ ممکن ہے فتح خیبر ہی ہو۔ اگر مراد خیبر نہ بھی ہو لیکن مراد یہی ہے کہ عنقریب مسلمان کسی مہم پر جائیں گے اور یہ لوگ کہیں گے کہ ہمیں بھی جانے دو ۔ مفسرین نے خیبر کا نام اس لئے لیا ہے کہ خیبر کا واقعہ صلح حدیبیہ کے متصلا بعد میں ہوا۔ کیونکہ فتح خیبر محرم 7 ہجری میں ہوا۔ یعنی صلح حدیبیہ کے دو ماہ بعد۔ اور اس میں اموال غنیمت بھی بہت ملے تھے اور خیبر کے قلعے جزیرۃ العرب میں سے خارج کردیا گیا تھا۔ مفسرین نے یہ بات تواتر سے کہی ہے کہ حدیبیہ کی مہم پر جانے والوں کے ساتھ اللہ کا عہد تھا کہ خیبر کے اموال غنیمت میں ان کے ساتھ کوئی شریک نہ ہوگا۔ لیکن اس بارے میں کوئی نص وارد نہیں ہے۔ شاید وہ عملی واقعات سے یہ اصول اخذ کررہے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ان کو اہل حدیبیہ کے لئے مخصوص کردیا تھا۔ اور اس مہم میں آپ نے کسی اور کو ساتھ نہ لیا تھا۔ بہرحال اللہ نے نبی ﷺ سے کہہ دیا کہ آپ ﷺ پیچھے رہنے والے اعراب کی اس پیشکش کو رد کردیں جب وہ آپ ﷺ کے ساتھ قریب کے آسان اموال غنیمت کے لئے جانا چاہیں۔ اور یہ فیصلہ دے دیا کہ ان کا نکلنا اللہ کے حکم کے خلاف ہے اور پیشگی اطلاع دے دی کہ جب آپ ﷺ ان کی پیشکش کو رد کریں گے تو وہ الزام لگائیں گے کہ تم ہمارے ساتھ حسد کرتے ہو۔ بل تحسدوننا “ بلکہ تم حسد کرتے ہو ”۔ تم اس مہم میں اس لیے نہیں لے جاتے کہ تم ہمیں اموال غنیمت نہیں دینا چاہتے۔ ساتھ ہی پھر فوراً یہ کہہ دیا کہ یہ لوگ اللہ کی حکمت کو نہیں جانتے ، یہ کم فہم ہیں ۔ اللہ کی حکمت یہ ہے کہ پیچھے رہنے والوں کو ذرا محرومیت سے دوچار کیا جائے اور مطیع فرمان بندوں کو ذرا انعامات دئیے جائیں تا کہ ان کی اطاعت شعاری کا انعام انہیں ملے۔ کیونکہ انہوں نے ایسے حالات میں اطاعت کی جب سامنے موت ہی موت نظر آرہی تھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے کہتا ہے کہ ان پیچھے رہ جانے والوں سے کہہ دیں کہ تمہارے لئے ایک اور امتحان کا مقام ابھی باقی ہے۔ عنقریب ایک مہم ایک زبردست قوم کے خلاف بھیجی جائے گی اور تمہیں اس میں بلایا جائے گا۔ اور یہ لوگ اسلام کی وجہ سے تمہارے ساتھ لڑیں گے۔ اگر اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تو تمہارے لیے بھی اجر ہوگا۔ اگر اس آخری امتحان میں بھی تم معصیت پر جمے رہے تو پھر تم ہمیشہ کے لئے عذاب الیم کے مستحق ہوجاؤ گے۔
Ayah 48:16

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ ” عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لئے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا ، اور اگر تم پھر اسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو درد ناک سزا دے گا

قل للمخلفین من الاعراب ۔۔۔۔۔۔ یعذبکم عذابا الیما (48 : 16) “ ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ “ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لئے بلایا جائے گا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے ۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا ، اور اگر تم پھر اسی طرح نہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو دردناک سزا دے گا ”۔ اس کی تفسیر میں بھی اختلاف ہے کہ یہ لوگ کون ہیں جن کو اولی باس شدید “ بڑے زور آور ہیں ” کہا گیا ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھے یا خلفاء راشدین کے زمانے میں تھے۔ قریب بات یہ ہے کہ یہ رسول اللہ ہی کے دور میں تھے اور مقصد یہ تھا کہ مدینہ کے ماحول میں جو بدوی عرب تھے ، ان کے ایمان کو آزمایا جائے۔ اہم بات یہ نہیں ہے کہ یہ کون تھے اہم یہ ہے کہ قرآن کا انداز تربیت کیا ہے ؟ قرآن بیمار دلوں کا علاج کس طرح کرتا ہے۔ کس طرح قرآن ہدایات دیتا ہے ، کس طرح عملاً آزماتا ہے۔ یہ بات اس سے معلوم ہوتی ہے کہ پکے مسلمانوں کے سامنے ان بدوی لوگوں کی فکری حالت کو ظاہر کیا جاتا ہے کہ خود ان پر بھی اور مسلمانوں پر ان کی حالت کھل جائے۔ اور پھر ان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ایمان اور عمل میں ٹھوس رویہ اختیار کرو ، اور اعلیٰ قدروں کو اپناؤ۔ چونکہ معاملہ آزمائش کا تھا اس لیے اللہ نے تمام مسلمانوں کے لئے خروج لازمی کردیا۔ اور ان لوگوں کو متعین کر کے بتا دیا کہ حقیقی عذر کیا ہے۔ اگر اس کے مطابق کوئی جہاد سے رہ گیا تو اسے کوئی سزا نہ ہوگی نہ گناہ ہوگا۔
Ayah 48:17

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

ہاں اگر اندھا اور لنگڑا اور مریض جہاد کے لئے نہ آئے تو کوئی حرج نہیں ۔ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا اللہ اسے ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور جو منہ پھیرے گا اسے وہ دردناک عذاب دے گا

اندھا اور لنگڑا تو دائمی اعتبار سے معذور ہیں اور وہ جہاد کے لئے نہیں نکل سکتے اور بیمار وقتی طور پر معذور ہوتا ہے ۔ جب تک کہ وہ تندرست نہیں ہوتا ، وہ معذور رہتا ہے۔ اصل اور لنگڑا تو دائمی اعتبار سے معذور ہیں اور وہ جہاد کے لئے نہیں نکل سکتے اور بیمار وقتی طور پر معذور ہوتا ہے۔ جب تک کہ وہ تندرست نہیں ہوتا ، وہ معذور رہتا ہے۔ اصل بات تو اطاعت اور معصیت کی ہے اور جذبہ اطاعت اور نیت معصیت ایسے امور ہیں جن کا تعلق دل اور نفسیات سے ہے۔ ظاہری اشکال اور ظاہری عذرات سے نہیں ہے۔ جو شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے اس کی جزاء جنت ہے اور جو منہ پھیرے گا اسے یاد رکھنا چاہئے کہ عذاب الیم اس کے انتظار میں ہے۔ ہر کسی کو چاہئے کہ وہ جہاد اور اس کی مشقتوں کو ، جہاد کے اجر کو پیچھے بیٹھے رہنے کو اور اس کی راحتوں کو تولے ، ان کا باہم موازنہ کرے اور اسے ان میں سے جو بات پسند ہو ، اسے اختیار کرے۔
Ayah 48:18

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

اللہ مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں کا حال اس کو معلوم تھا اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی ، ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی

درس نمبر 245 ایک نظر میں یہ پورا سبق مومنین کی باتوں پر مشتمل ہے۔ مومنین کے ساتھ مکالمہ ہے۔ اس مجموعے کے ساتھ مکالمہ جس نے درخت کے نیچے حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ، اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اللہ حاضر تھا اور اس کا گواہ تھا ، اور اس بیعت کی تصدیق و توثیق کرنے والا تھا اور بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ صحابہ کرام ؓ کا وہ گروہ جنہوں نے اپنے کانوں سے سنا کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو یہ فر ما رہا ہے : لقد ؓ ۔۔۔۔۔۔ فتحا قریبا (48 : 18) “ اللہ ان مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے دلوں کا حال اس کو معلوم تھا ، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی ”۔ یہ ان مومنین کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ہے اور ان کے ساتھ مکالمہ ہے۔ اور ان کی خوشخبری ہے کہ اللہ نے ان کے لئے بہت ہی قیمتی غنائم جمع کر رکھے ہیں۔ بہت سی فتوحات ان کو نصیب ہونے والی ہیں اور اس سفر میں بھی ان کا حامی و مدد گار رہا اور آئندہ بھی رہے گا۔ اور اللہ نے اپنی سنت کے مطابق ان کے لئے مسلسل فتوحات رکھی ہوئی ہیں اور اللہ کی سنت کبھی بدلتی نہیں ہے۔ اس میں کفار پر تنقید بھی ہے اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے کیوں اس موقعہ پر صلح کو ترجیح دی اور یہ کہ رسول ﷺ نے جو خواب دیکھا تھا وہ سچا تھا کہ مسلمان مسجد حرام میں داخل ہوں گے۔ اور یہ نہایت ہی پرامن انداز میں داخل ہوں گے اور ان کا دین بہرحال غالب ہو کر رہے گا۔ یہ سبق اور یہ سورت اس ممتاز اور منفرد جماعت صحابہ کے خدو خال پر ختم ہوتی ہے۔ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب انقلابی کام کیا۔ اور تورات اور انجیل کے حوالے سے ان کے اوصاف بیان ہوئے اور آخر میں اعلان ہوا کہ وہ مغفرت اور اجر کریم کے مستحق ہوگئے ہیں۔ میں آج چودہ سو سال بعد اسلامی تاریخ کے افق پر ، ان مقدس لمحات کو دیکھ رہا ہوں جن میں یہ پوری کائنات دیکھ رہی ہے کہ عالم بالا سے نبی کریم ﷺ کی طرف یہ اطلاع آرہی ہے۔ اور مسلمانوں کو یہ باتیں بتائی جارہی ہیں۔ میں کوشش کر رہا ہوں کہ اس کائنات کے ان صفحات کو پڑھ سکوں اور اس کائنات کے ضمیر میں ان لمحات کے اندر جو کچھ پوشیدہ تھا اسے دیکھ سکوں۔ کیونکہ یہ پوری کائنات اس وقت اللہ کے اس قول کے ساتھ ہم قدم تھی کہ یہ متعین لوگ جو اس وقت زمین کے اس متعین ٹکڑے پر موجود ہیں اور درخت کے نیچے بیعت کر رہے ہیں ، یہ زمین کا نمک ہیں۔ میں اپنی چشم بصیرت کے ساتھ ان سعادت مندان زمین کے حالات کو دیکھنا چاہتا ہوں ، جنہوں نے اپنے کانوں کے ساتھ اور ذاتی طور پر اپنی شخصیت کے ساتھ ، یہ بات سنی کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتا ہے کہ “ میں ان سے راضی ہو گیا ”۔ پھر اس مقام کا بھی تعین کردیا جاتا ہے جہاں وہ تھے ، درخت کے نیچے اور اس بیعت کا بھی تعین کردیا جاتا ہے۔ اذ یبایعونک تحت الشجرۃ (48 : 18) “ جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے ”۔ یہ آیات انہوں نے اپنے سچے نبی کی زبان سے خود سنیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو مژدہ سنایا گیا۔ یا اللہ ! ان مقدس ہستیوں نے ان لمحات کو کس طرح گزارا ، اور ان ارشادات کو کس طرح سنا ، جن میں ذات باری بذات خود ہر شخص کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اے فلاں اے فلاں ، تم میں سے راضی ہوں ، تم ہو جس نے درخت کے نیچے بیعت کی۔ تمہارے دل کی بات میں جانتا تھا۔ میں نے تم پر پھر سکینت نازل کی۔ ہم میں سے ایک شخص یہ آیت پڑھتا ہے۔ اللہ ولی الذین امنوا “ اللہ ولی اور دوست ہے ، ان لوگوں کا جو ایمان لائے ” ۔ تو وہ اپنے آپ کو سعادت مند سمجھتا ہے۔ وہ اپنے دل میں امید کرتا ہے کہ میں بھی انشاء اللہ اس آیت کے عمومی مفہوم میں شامل ہوں یا پھر کوئی پڑھتا ہے یا سنتا ہے۔ ان اللہ مع الصابرین “ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ”۔ اس لیے وہ مطمئن ہوجاتا ہے اور اپنے دل میں کہتا ہے۔ انشاء اللہ میں بھی ان صبر کرنے والوں میں سے ہوں ، لیکن وہ لوگ خود سن رہے ہیں اور خدا کے پیغمبر انہیں سنا رہے ہیں ، ایک ایک سن رہا ہے کہ اللہ کی مراد اس سے ہے ، اور وہ اس سے بات کر رہا ہے۔ اس تک پیغام بھیج رہا ہے کہ وہ اس سے راضی ہوگیا ہے۔ اس کے نفس میں جو کچھ تھا ، اسے جانتے ہوئے بھی اس سے راضی ہوگیا۔ یا اللہ کس قدر عظیم اعزاز ہے یہ ! لقد ؓ عن المومنین ۔۔۔۔۔ فتحا قریبا (48 : 18) “ اللہ مومنوں سے راضی ہوگیا ، جب وہ درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے ، ان کے دلوں کا حال اللہ کو معلوم تھا ، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی۔ ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی ”۔ اللہ نے جان لیا کہ ان کے دل میں ، اس کے دین کے لئے جوش و خروش ہے ، اپنی ذات کے لئے نہیں ہے۔ وہ جانتا تھا کہ وہ سچے دل سے بیعت کر رہے تھے۔ اللہ جانتا تھا کہ ان کے دلوں کے اندر جنگ کے سلسلے میں جو خیالات اٹھتے ہیں وہ ان کو پی رہے ہیں اور ضبط کر کے رسول اللہ ﷺ کے احکام کی تعمیل کر رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ایک مطیع فرمان مسلم کی طرح کھڑے ہوں گے۔ فانزل السکینۃ علیھم (48 : 18) “ اللہ نے ان پر سکینت نازل کر دی ”۔ یہ ایک عجیب لفظ اور انداز ہے۔ سکینہ نازل ہو رہا ہے۔ سکون ، ٹھہراؤ، وقار اور ثابت قدمی یہ ان پر نازل ہو رہے تھے۔ اس وقت ایسے حالات میں دور دھوپ ، گرمی ، غیرت اور دوسرے تاثرت کی وجہ سے لوگوں کے اندر بےچینی ہوگی ، جسے ٹھنڈک ، اطمینان اور مسرت سے بدل دیا گیا۔ واثابھم فتحا قریبا (48 : 18) “ اور ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی ”۔ یہ صلح بذات خود فتح تھی ، اس سے کئی دوسری فتوحات کا آغاز ہوا۔ فتح خیبر تو فوراً ہی ہوئی اور مفسرین کی یہ اغلب رائے ہے کہ اس سے مراد فتح خیبر ہے۔
Ayah 48:19

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور بہت سا مال غنیمت انہیں عطا کردیا جسے وہ (عنقریب) حاصل کریں گے۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے

ومغانم کثیرۃ یاخذونھا (48 : 19) “ اور بہت سا مال غنیمت انہیں عطا کردیا جسے وہ عنقریب حاصل کریں گے ” یا تو فتح کے ساتھ یہ اموال ملے اگر مراد فتح خیبر ہو ، یا فتح کے بعد ملنے والے اموال غنیمت ۔ اگر ہم خود اس صلح ہی کو فتح قرار دیں کیونکہ اس مصالحت کی وجہ سے مسلمان کئی دوسری فتوحات کے لئے فارغ ہوگئے۔ وکاین اللہ عزیزا حکیما (48 : 19) “ اور اللہ زبردست اور حکیم ہے ”۔ یہ تمام آیات کا نتیجہ ہے یعنی اللہ کی رضا ، فتح اور بیشمار اموال غنیمت کے وعدے میں اللہ کی قوت ، قدرت اور حکمت و تدبیر کار فرما ہے۔ اور قوت اور حکمت ہی سے اللہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے۔ اس اعلان کے بعد کہ اللہ کی ذات ان بیعت کرنے والوں سے راضی ہوگئی ہے ، اب بات کا رخ خود مومنین کی طرف مڑ جاتا ہے ، اب وہ مخاطب ہیں۔ صلح ، فتح ، ہدایت اور غنیمت ہر بات کی جاتی ہے جو انہیں دی جارہی ہے :