Ayah 48:20یہ ایک صریح خوشخبری ہے اللہ کی طرف سے ، اس کو مومنین نے سنا ، اس پر انہوں نے خوب یقین کیا اور انہوں نے جان لیا کہ ان کے لئے بہت کچھ تیار کرلیا گیا ہے اور اس کے بعد وہ زندہ رہے اور ان آیات کا مصداق بچشم سر دیکھتے رہے۔ کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ تھا اور اللہ کے وعدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی ۔ یہاں اللہ فرماتا ہے کہ فوری طور پر تو یہ فتح تمہیں عطا کردی ۔ اس سے مراد صلح حدیبیہ ہو سکتی ہے ، جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حدیبیہ ہی فتح اور غنیمت تھی اور جیسا کہ پہلے ہم نے بیان کیا صلح حدیبیہ درحقیقت فتح تھی اور جن حالات میں یہ فتح ہوئی ، انہوں نے بھی اس کو مسلمانوں ہی کی فتح بنایا اور اس سے مراد فتح خیبر بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ مجاہد سے مروی ہے کیونکہ حدیبیہ کے بعد یہ قریب ترین مال غنیمت تھا جو مسلمانوں کو ملا۔ زیادہ راجح بات یہ ہے کہ خود صلح حدیبیہ کو فتح کہا گیا ہے۔
اللہ نے بتایا کہ تم پر اللہ کا یہ بہت ہی بڑا احسان ہے کہ اس نے لوگوں کو روک دیا کہ وہ تم پر ہاتھ ڈالیں۔ ان میں مشرکین مکہ تھی تھے اور دوسرے لوگ بھی تھے جو بروقت اس انتظار میں تھے کہ مسلمان کسی چکر میں پھنس جائیں اور ہم بھی حملہ کردیں۔ اس وقت بہرحال مسلمان قلیل تعداد میں تھے۔ اور دوسرے لوگ بہت زیادہ تھے لیکن انہوں نے اپنی بیعت کو پورا کردیا اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کیا۔ اس لیے اللہ نے ان سے لوگوں کے ہاتھ روکے اور انہیں امن میں رکھا۔
ولتکون ایۃ للمومنین (48 : 20) “ اور تاکہ یہ مومنوں کے لئے ایک نشانی بن جائے ”۔ یہ واقعہ جسے آغاز میں انہوں نے بہت ہی ناپسند کیا تھا اور ان کے دلوں پر وہ بھاری پتھر کی طرح تھا ، اللہ بتاتا ہے کہ یہ ان کے لئے ایک معجزہ ہوگا۔ آنے والے دنوں میں وہ اس کے نتائج دیکھیں گے اور ان لوگوں نے جو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی اور سر تسلیم خم کیا ، ناپسند کرتے ہوئے بھی ، تو اس کی انہیں جزاء ملے گی وہ جان لیں گے کہ یہ تو بہت یہ عظیم واقعہ تھا۔ اور جو جزاء ملے گی وہ بہت ہی بڑی ہوگی اور ان کے دلوں میں سکون ، اطمینان اور یقین انڈیل دیا جائے گا۔
ویھدیکم صراطا مستقیما (48 : 20) “ اور اللہ سیدھے راستے کی طرف تمہیں ہدایت بخشے گا ”۔ تمہاری اطاعت ، تمہاری فرمانبرداری اور تمہارے صدق نیت کی وجہ سے۔ یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جامع انعام کا اعلان کردیا۔ انہیں مال غنیمت بھی ملے گا اور انہیں ہدایت بھی نصیب ہوگی۔ لہٰذا ہر طرف سے ان کے لئے خیر ہی خیر ہوگی۔ اور یہ بھلائی اور خیر اس معاملے میں ہوگی جسے وہ پسند ہی نہ کرتے تھے۔ اور ایک بھاری پتھر سمجھتے تھے۔ یوں ان کو پیشگی اطلاع دی جاتی ہے کہ اللہ نے ان کے لئے جو پسند کیا ہے وہی اصل پسند ہے۔ اس طرح ان کو تربیت دی جاتی ہے کہ ہر حال میں اطاعت اور حکم کی بجا آوری کرو۔
ان انعامات و مفادات کے علاوہ کچھ دوسرے مفادات کا بھی یہاں اعلان کیا جاتا ہے اور یہ مفادات وہ اپنے قوت بازو سے حاصل نہ کرسکے تھے لیکن اللہ نے اپنی قدرت اور تدبیر سے وہ چیزیں انہیں عطا کردیں۔
Ayah 48:21واخری لم تقدروا ۔۔۔۔ کل شیء قدیرا (48 : 21) “ اس کے علاوہ دوسری اور غنیمتوں کا بھی وہ تم سے وعدہ کرتا ہے جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے۔ اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ اس کے “ علاوہ ” کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے ؟ یا فتح خیبر ہے ؟ یا قیصرو کسریٰ کی مملکتوں کی فتوحات ہیں ؟ یا اس سے وہ تمام فتوحات مراد ہیں جو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو نصیب ہوتی رہیں ؟
زیادہ مناسب یہی ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہو کیونکہ یہ صلح حدیبیہ کے بعد ہوا اور اس فتح کے اسباب صلح حدیبیہ ہی نے فراہم کئے۔ یہ صلح صرف دو سال تک جاری رہ سکی۔ اس کے بعد مشرکین مکہ نے اس عہد کو توڑ دیا۔ اس طرح اللہ نے اس فتح کی راہ ہموار کردی اور مکہ مکرمہ بغیر جنگ کے فتح ہوگیا۔ یہ مکہ ہی تھا جو مسلمانوں کے خلاف لشکر کشی کیا کرتا تھا اور مسلمانوں کے گھر کے اندر آکر لڑتا تھا اور حدیبیہ کے وقت بھی اسی نے مسلمانوں کو بغیر عمرہ واپس کردیا۔ اللہ نے اسے گھیر لیا اور بغیر جنگ کے یہ قبضے میں آگیا۔
وکاین اللہ علی کل شیء قدیرا (48 : 21) “ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ یہ بھی دراصل ایک در پردہ خوشخبری تھی ۔ اس وقت اللہ نے اسے ظاہر نہیں کیا تھا اور ان غیبی امور میں سے تھا جو ابھی ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ یہاں اس کی طرف اشارہ کردیا گیا تا کہ لوگ مطمئن اور پر امید ہوں اور خوش ہوں۔
Ayah 48:22یہاں تک اللہ نے ان کو موجودہ غنیمت کے لئے بھی خوشخبری دے دی اور اس کے بعد کی آنے والی غنیمتوں کی خوشخبری بھی دے دی گئی اور مسلمان ان کا انتظار کرنے لگے ، ان خوشخبریوں کے ساتھ ساتھ ایک بڑی خوشخبری یہ بھی دے دی گئی کہ اب انشاء اللہ مسلمان فتح مند اور کامران رہیں گے۔ اس سال جو صلح طے کرائی گئی ، وہ اس لئے نہیں کرائی گئی کہ مسلمان کمزور تھے یا یہ کہ مشرکین بہت قوی تھے لیکن بعض حکمتوں کی وجہ سے یہ صلح طے کرائی گئی اگر اس بار بھی اہل مکہ سے جھڑپ ہوجاتی تو بھی یہ ہزیمت اٹھاتے ، کیونکہ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ جب مسلم اور کافر کا کسی فیصلہ کن مقام پر مقابلہ ہوجائے تو مسلم فتح یاب ہوں۔
ولو قتلکم الذین ۔۔۔۔۔ ولا نصیرا (22) سنۃ اللہ التی ۔۔۔۔ لسنۃ اللہ تبدیلا (23) (48 : 22 تا 23) “ یہ کافر لوگ اگر اس وقت تم سے لڑ گئے ہوتے تو یقیناً پیٹھ پھیر جاتے اور کوئی حامی و مددگار نہ پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔ جو پہلے سے چلی آرہی ہے اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ”۔
یوں مومنین کی فتح اور کفار کی شکست کو اللہ اس سنت کے مربوط فرماتا ہے جو اس کائنات میں جاری ہے جس کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوا کرتا ۔ کس قدر عظیم سکینت ہے یہ ؟ کس قدر عظیم بھروسہ ہے یہ ؟ کس قدر ثابت قدمی ان مومنین کو دی جا رہی تھی کہ وہ اللہ کے کلام میں اس کے نبی کی زبانی اپنی فتح اور کفار کی شکست کی خوشخبریاں سن رہے ہیں۔
اللہ کی سنت تو کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ ہاں اس کی سنت کے مطابق فتح میں دیر ضرور ہو سکتی ہے۔ کیونکہ فتح کے اسباب کا تعلق مومنین کی تیار اور تربیت سے ہوتا ہے اور ان کی تیاری اور اچھی طرح تربیت کا علم اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ یا ان حالات کی آمد پر ہوتا ہے جن میں مومنین کے لئے نصرت اور فتح کے اسباب و حالات فراہم ہوجائیں اور کافروں کی ہزیمت یقینی ہوجائے تا کہ فتح کی اہمیت اور اثر وسیع ہوجائے ، یا دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جن کو اللہ جانتا ہے۔ بہرحال سنت الہٰیہ کے مطابق فتح حق کی ہوتی ہے اور اللہ کی سنت کبھی بدلتی نہیں۔
Ayah 48:23ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا (48 : 23) “ اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ”۔ اب اللہ فرماتا ہے کہ یہی حکمت تھی کہ وادی مکہ میں اللہ نے کافروں کو توفیق نہ دی کہ وہ مسلمانوں پر ہاتھ ڈالیں اور مسلمانوں کو بھی توفیق نہ دی کہ وہ مشرکین مکہ پر اس وقت ہاتھ ڈالیں جب وہ ان کے قابو میں آگئے تھے۔ یہ ان چالیس آدمیوں کی طرف اشارہ ہے۔ چالیس ہوں یا کم و بیش ۔ جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے آئے تھے۔ یہ پکڑے گئے اور رسول اللہ ﷺ نے معاف کردیا۔
Ayah 48:24یہ ایک واقعہ تھا جو ہوچکا تھا اور سامعین اسے خوب جانتے تھے ۔ اللہ اس انداز میں اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ بتائیں کہ جو واقعات بھی ہوئے ان میں اللہ کی تدبیر اور تقدیر کام کر رہی تھی ، اور اس سے قرآن مجید ان کے دلوں میں اس احساس کو گہرا کر رہا تھا کہ اللہ کا ہاتھ ان کے لئے تدبیر کر رہا ہے ، ان کی قیادت اللہ کے رسول کے ذریعہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اور اللہ ان کے میلانات کو بھی کنٹرول کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کے لئے ہوجائیں۔ اپنے نفوس کو اللہ کے سپرد کردیں اور انہیں احکام الٰہی میں کوئی تردد نہ رہے۔ بالکل ادھر ادھر نہ دیکھیں اور پوری طرح اسلام میں داخل ہوجائیں۔ اپنے احساسات ، اپنے جذبات ، اپنا رخ اور اپنی سرگرمیاں اللہ کے حوالے کردیں اور یہ یقین کرلیں کہ تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور یہ کہ خیر وہی ہے جسے اللہ اختیار کرے اور یہ کہ وہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے مطابق چل رہے ہیں۔ چاہے وہ کوئی بات اختیار کریں یا اسے رد کردیں اور اللہ بہرحال مسلمانوں کی بھلائی چاہتا ہے ، تو اب اگر وہ اللہ کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کردیں تو یہ بھلائی بڑی آسانی کے ساتھ حاصل ہوجائے گی۔ اللہ علیم وبصیر ہے۔ ظاہر اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے وہ علم و بصیرت کے ساتھ ان کے لئے راہ تجویز کرتا ہے۔ وہ ان کو ہرگز برباد ہونے نہیں دیتا۔ نہ اللہ کسی ایسی چیز کو ان سے روکتا ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔
وکان اللہ بما تعملون بصیرا (48 : 24) “ اور جو کچھ تم کر رہے ہو ، اللہ اسے دیکھ رہا ہے ”۔
Ayah 48:25اب اللہ مسلمانوں کے مخالف کیمپ پر تبصرہ فرماتا ہے کہ اللہ کے پیمانے کے مطابق ان کے شب و روز کیا ہیں ؟ اور اللہ ان کی کاروائیوں کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے ؟ وہ مومنین کو مسجد حرام سے روک رہے ہیں اور یہ کہ اللہ مسلمانوں کو کس نگاہ سے دیکھ رہا ہے اور ان کے دشمنوں کو کس نگاہ سے !
ھم الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ کفروا منھم عذابا الیما (25) اذ جعل الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔ بکل شیء علیما (26) (48 : 25 تا 26) “ وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور ہدی کے اونٹوں کو ان کی قربانی کی جگہ نہ پہنچے دیا۔ اگر (مکہ میں) ایسے مومن مرد و عورت موجود نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے ، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انہیں پامال کر دو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی۔ روکی وہ اس لیے گئی) تا کہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ وہ مومن الگ ہوگئے ہوتے تو ( اہل مکہ میں ) جو کافر تھے ان کو ہم ضرور سخت سزا دیتے ۔ (یہی وجہ ہے کہ ) جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھالی تو اللہ نے اپنے رسول ﷺ اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی اور مومنوں کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔
اللہ کے پیمانوں کے مطابق وہ بلاشک کافر ہیں ، اس لیے وہ اس مکروہ لقب کے مستحق ہیں۔
ھم الذین کفروا (48 : 25) “ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ”۔ اللہ تعالیٰ یہ لقب ان کو عطا کرتا ہے کہ گویا کافر یہی اہل مکہ ہیں۔ چونکہ یہ صفت کفر میں کانوں تک غرق ہیں ، اس لیے یہ لوگ اللہ کے ہاں مکروہ ترین مخلوق ہیں ، اس لیے کہ اللہ کفر کو نہایت ہی مکروہ سمجھتا ہے۔ پھر دوسرا برا فعل جو یہ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ اہل ایمان کو مسجد حرام سے روک رہے ہیں اور قربانی کے جانوروں کو بھی روک رہے ہیں کہ ان کو اپنے محل ذبح تک لے جایا جائے۔
وصدوکم عن المسجد الحرام والھدی معکوفا ان یبلغ محلہ (48 : 25) “ تم کو مسجد حرام سے روکا اور ہدی کے اونٹوں کو ان کی قربانی کی جگہ نہ پہنچنے دیا ”۔ یہ کام اسلام میں بھی گناہ کبیرہ ہے اور جاہلیت میں بھی گناہ تھا۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) سے ادھر جزیرۃ العرب میں جس قدر ادیان بھی گزرے ان سب میں یہ گناہ کبیرہ افعال تھے۔ ان کے عرف ، ان کے عقیدہ اور مسلمانوں کے دین کے مطابق یہ مکروہ کام تھے۔ اس لیے اللہ نے مسلمانوں کو ان پر حملہ کرے سے اس لیے نہیں روکا کہ ان کے یہ جرائم کہیں چھوٹے تھے ، ہرگز نہیں۔ بلکہ اس کی کوئی اور حکمت تھی۔ اللہ مہربانی فرماتے ہوئے اس حکمت کا انکشاف فرماتا ہے۔
ولو لا رجال ۔۔۔۔۔۔ بغیر علم (48 : 25) “ اگر ( مکہ میں ) ایسے مومن مردو عورت نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم پامال کردو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی ) مکہ میں بعض ضعیف اور کمزور مسلمان رہ گئے تھے جنہوں نے ابھی تک ہجرت نہ کی تھی۔ اور انہوں نے مشرکین کے درمیان رہتے ہوئے اپنے اسلام کو خوف کے مارے چھپا رکھا تھا۔ اگر جنگ شروع ہوجاتی اور مسلمان مکہ پر حملہ آور ہوجاتے اور وہ نہ جانتے کہ کون مسلم ہے اور کون کافر ہے ، ممکن تھا کہ یہ مسلمان ان ضعیف مسلمانوں کو روند کر قتل کردیتے ۔ اور پھر کافر یہ کہتے کہ مسلمانوں کو بھی معاف نہ کیا۔ یوں مسلمانوں کو ان مسلمانوں کی دیت دینا پڑتی جن کو انہوں نے خطا کے طور پر قتل کردیا تھا۔ پھر ایک حکمت یہ بھی تھی کہ آج جو کافر مسلمانوں کو عمرہ کرنے سے اور ہدی کے جانوروں کو جائے ذبح روک رہے ہیں ، انہی میں سے بعض لوگ عظیم مسلمان بننے والے ہیں۔ اور اللہ کی رحمتوں میں داخل ہونے والے ہیں اور اللہ ان سب کو جانتا تھا۔ اگرچہ اس وقت یہ لوگ جدا ہوتے تو اللہ ضرور اجازت دے دیتا لیکن ابھی تک اللہ نے ان کو جدانہ کیا تھا۔ اس لیے اللہ نے اس موقعہ پر کافروں کو اس مار سے بچا لیا۔
لیدخل اللہ فی رحمتہ ۔۔۔۔۔ عذابا الیما (48 : 25) “ جنگ (روکی اس لیے گئی ) تا کہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ وہ مومن الگ ہوگئے ہوتے تو (اہل مکہ سے) جو کافر تھے ان کو ہم ضرورت سخت سزا دیتے ”۔ یوں اللہ اس منفرد جماعت مسلمہ کو اپنی حکمتوں کے بعض پہلو بتاتا ہے ، جو اللہ کی تدبیر ، تقدیر اور ہدایات کی پشت پر ہیں۔
ان لوگوں کی ظاہری حالت جنہوں نے کفر کیا ، اور ان کے ظاہری اعمال بتانے کے بعد اب ان نفوس کی اندرونی حالت کا تذکرہ ۔
Ayah 48:26اذ جعل الذین کفروا ۔۔۔۔۔ الجاھلیۃ (48 : 26) “ یہی وجہ ہے کہ جب ان کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھا لی ”۔ وہ کسی نظریہ یا کسی نظام کے لئے نہیں لڑ رہے تھے بلکہ یہ کبر ، فخر ، سرکشی اور ہٹ دھرمی کے پرجوش حامی تھے۔ اس حمیت ہی کی وجہ سے یہ رسول اللہ ﷺ کا مقابلہ کر رہے تھے۔ آپ کو مسجد حرام کی زیارت سے بھی روک رہے تھے اور قربانی کے جانوروں کو بھی انہوں نے روکے رکھا جن کو آپ اس مقصد کے لئے لائے تھے تا کہ وہ قربانی کی جگہ تک جائیں اور وہاں قربان کئے جائیں اور یہ حرکت کر کے یہ لوگ ہر عقیدے اور ہر رواج کو پامال کر رہے تھے۔ محض اس لیے کہ عرب یہ نہ کہیں کہ حضرت محمد ﷺ زبردستی مکہ میں داخل ہوگئے۔ محض اس جاہلی غرور کی خاطر وہ اس قدر مکروہ فعل کا ارتکاب کر رہے تھے جو خود ان کے ہاں بھی نہایت ہی مکروہ فعل تھے۔ پھر یہ خود بیت اللہ کی حرمت کو پامال کر رہے تھے جو خود ان کے ہاں بھی نہایت ہی مکروہ فعل تھے۔ پھر یہ خود بیت اللہ کی حرمت کو پامال کر رہے تھے اور جس پر ان کی پوری معیشت کا دارومدار تھا۔ نیز ان لوگوں نے اشہر الحرام کا احترام بھی توڑ دیا جو ان کے ہاں بھی محترم تھے اور اسلام میں بھی محترم تھے۔ یہی حمیت تھی جس کی وجہ سے یہ لوگ ان تمام لوگوں کو برا بھلا کہتے رہے جنہوں نے ان کو مشورہ دیا کہ محمد ﷺ کو عمرہ کرنے سے نہ روکو۔ پھر اسی حمیت جاہلیہ کی وجہ سے سہیل ابن عمر نے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحم کی جگہ بسمک اللھم لکھو۔ اور پھر اس نے لفظ رسول اللہ ﷺ کٹوا کر محمد ابن عبد اللہ لکھوایا۔ یہ سب امور اسی سرکش اور پر غرور جاہلیت کے سر چشمے سے نکل رہے تھے۔
اللہ نے ان کے نفوس کے اندر یہ جاہلی حمیت اس لیے رکھ دی تھی کیونکہ اللہ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ بہت ہی کرخت اور سرکش ہیں۔ مسلمانوں کو اللہ نے اس حمیت جاہلیت سے بچایا اور اس کی جگہ سکینہ اور خدا خوفی نے لے لی۔
فانزل اللہ سکینتہ ۔۔۔۔۔ بھا واھلا (48 : 26) “ اور مومنوں پر سکینت نازل کی اور مومنوں کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا کہ وہی اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے ”۔ سکینہ وقار اور ٹھہراؤ کی حالت کو کہا جاتا ہے جس طرح تقویٰ کے معنی محتاط اور متواضع انداز کے ہیں۔ اور یہ دونوں صفات اس مومن میں پائی جاتی ہیں جو اپنے رب سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ اور اس تعلق پر مطمئن ہوتا ہے اور وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اپنی ہر حرکت میں اللہ سے ڈرتا ہے۔ اس لیے وہ تکبر اور سرکشی سے دور رہتا ہے۔ اور جب اللہ حکم دے کہ ذرا رک جاؤ، ٹھنڈے ہوجاؤ تو وہ اطاعت کرتا ہے۔ نہایت رضا مندی اور اطمینان کے ساتھ۔
یہی وجہ ہے کہ مومنین اس بات کے مستحق تھے کہ وہ اہل تقویٰ کی بات کریں۔ اور وہ اس کے مستحق بھی تھے اور یہ مومنین کی ایک نئی تعریف ہے جبکہ اس سے قبل جو کہا گیا کہ ان پر سکینت نازل کی گئی ، یہ بھی ان کے لئے ایک اعزاز تھا۔ کیونکہ سکینت کے اندر وقار اور تقویٰ دونوں شامل ہیں۔ تو یہ اس لیے نازل ہوا کہ وہ اللہ کے پیمانوں کے مطابق اس کے وہ اہل تھے۔ اور اس کی شہادت خود اللہ دیتا ہے۔ مسلمانوں پر اللہ کی طرف سے گواہی کہ وہ اس بات کے مستحق ہیں ایک دوسرا اعزاز ہے اور یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔
وکان اللہ بکل شیء علیما (48 : 26) “ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔
Ayah 48:27یہ بات پہلے گزر گئی ہے کہ بعض مومنین جو مدینہ سے رسول اللہ ﷺ کا خواب سن کر نکلے تھے ان پر اس امر کا بہت برا اثر ہوا تھا کہ وہ اس سال مسجد حرام میں داخل نہ ہو سکے۔ اور انہیں مسجد حرام سے لوٹا دیا گیا۔ یہاں اس خواب کی صداقت کی تصدیق کی جاتی ہے کہ یہ خواب اللہ کی طرف سے تھا اور یہ سچا تھا۔ اور یہ واقع ہونے والا ہے بلکہ اس سے بڑا واقعہ پیش آنے والا ہے۔
رہی یہ بشارت کہ یہ مسجد حرام میں پرامن داخل ہوں گے اور سر منڈوائیں گے اور بال ترشوائیں گے اور بےخوف و خطر عمرہ ادا کریں گے تو یہ ایک سال بعد ہوگیا تھا۔ اور صلح حدیبیہ کے دو سال بعد تو بطریق اکمل ہوگیا تھا جب مکہ ہی فتح ہوگیا اور پورے مکہ میں اللہ کا دین اور اسلامی نظام نافذ ہوگیا۔ لیکن اللہ اہل ایمان کو اسلامی آداب بھی سکھاتا ہے اور یوں فرماتا ہے کہ :
لتدخلن المسجد الحرام انشاء اللہ (48 : 27) “ کہ انشاء اللہ تم مسجد حرام میں داخل ہوگے ”۔ مسجد حرام میں داخل ہونا تو حتمی ہے کیونکہ اللہ نے اطلاع دے دی ہے لیکن مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی مشیت کو اپنے شعور کا حصہ بنا لیں اور اسے بےقید سمجھیں تا کہ یہ بات ان کے دلوں میں بیٹھ جائے کہ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ۔ اور اسے اہل ایمان اپنی سوچ کا حصہ بنا دیں۔ قرآن بھی باربار اس کا ذکر کرتا ہے اور تمام فیصلوں کو اللہ کی مشیت کے تابع قرار دیتا ہے ۔ یہاں تک کہ جہاں اللہ کے وعدے مذکور ہیں وہاں بھی وہ مشیت الٰہیہ کے ساتھ مشروط ہیں۔ حالانکہ اللہ کبھی اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا لیکن اللہ کی مشیت ہر قید سے آزاد ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے دل میں اس حقیقت کو بٹھا لیں تا کہ ان کی فکر کی اساس انشاء اللہ پر ہو۔
اب یہ وعدہ کس طرح حقیقت بنا۔ روایات میں آتا ہے کہ جب سن سات ہجری میں ذوالقعدہ کا مہینہ آیا یعنی صلح حدیبیہ کے بعد تو حضور اکرم ﷺ مکہ کی طرف عمرے کے لئے نکلے ۔ آپ کے ساتھ سب اہل حدیبیہ تھے۔ ذوالحلیفہ سے آپ نے احرام باندھا ۔ ہدی کے جانور ساتھ لیے۔ جس طرح پہلے سال یہاں سے ہی آپ احرام باندھا تھا اور جانور ساتھ لیے تھے اور آپ اور آپ کے صحابہ کرام تلبیہ کرتے ہوئے چل پڑے۔ جب حضور اکرم ﷺ ،۔۔۔۔ ان کے قریب ہوئے تو محمد ابن مسلمہ کو گھوڑوں اور اسلحہ کے ساتھ آگے بھیج دیا۔ جب مشرکین نے انہیں دیکھا تو وہ بہت ہی مرعوب ہوگئے۔ ان کا خیال یہ ہوا کہ شاید رسول اللہ ﷺ ان سے لڑنا چاہتے ہیں۔ اور آپ نے ان کے درمیان ہونے والے عہد کو توڑ دیا جو یہ تھا کہ دس سال تک جنگ نہ ہوگی۔ یہ لوگ گئے اور اہل مکہ کو خبردار کردیا جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور مرالظہران میں اترے۔ تو تمام اسلحہ ، تیر ، نیزے بطن ماجج کی طرف بھیج دئیے اور وہاں سے مکہ کی طرف اس حال میں روانہ ہوئے کہ تلواریں نیام میں تھیں۔ جس طرح ان کے ساتھ طے ہوا تھا۔ جب آپ راستے میں تھے تو قریش نے مکرز ابن حفص کو بھیجا اس نے آکر حضور ﷺ سے کہا کہ ہم نے تو آپ کے بارے میں یہ نہیں سنا کہ آپ نے کبھی عہد توڑا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا ، آپ کا مطلب کیا ہے۔ تو اس نے کہا آپ اسلحہ لے کر آئے ہیں۔ نیزے ، تیر وغیرہ تو آپ نے فرمایا یہ بات نہیں ہے وہ تو ہم نے ماجج کی طرف بھیج دئیے ہیں تو اس نے کہا درست ہے آپ کے بارے میں ہماری معلومات یہی ہیں کہ آپ نیک اور متقی ہیں نیز وفائے عہد کرنے والے ہیں۔
کفار کے رؤساء مکہ سے نکل گئے تا کہ ان کی نظریں رسول اللہ ﷺ پر نہ پڑیں۔ وہ آپ کو دیکھنا بھی گوارا نہ کرسکتے تھے۔ رہے عام اہل مکہ مرد اور عورتیں اور بچے تو وہ راستوں اور کوٹھوں پر بیٹھ گئے اور رسول اللہ ﷺ اور آپ ؐ کے ساتھیوں کو دیکھتے رہے۔ حضور ﷺ مکہ میں داخل ہوئے ، آپ کے رفقاء آپ ﷺ کے آگے آگے تھے ، سب تلبیہ پڑھ رہے تھے ، جس قدر جانور تھے ان کو ذی طوی بھیج دیا گیا۔ حضور ﷺ اپنی ناقہ قصواء پر سوار تھے جس پر آپ ﷺ حدیبیہ کے دن بھی سوار تھے۔ عبد اللہ ابن رواحہ انصار نے زمام تھام رکھی تھی اور ناقہ کو چلا رہے تھے۔
Ayah 48:28یوں آپ ﷺ کا خواب سچا ہوئی۔ اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور اگلے سال فتح مکہ بھی ہوگیا اور اللہ کا دین مکہ پر بھی غالب ہوگیا۔ اور اس کے بعد پورے جزیرہ العرب میں غالب ہوگیا اور اب آخری خوشخبری یوں پوری ہوئی :
ھو الذی ارسل ۔۔۔۔۔ باللہ شھیدا (48 : 28) “ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دین حق کے سا تھ بھیجا ہے تا کہ اس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے ”۔ دین اسلام صرف جزیرۃ العرب ہی میں غالب نہ ہوا بلکہ پوری دنیا میں غالب ہوا۔ اور یہ عمل صرف نصف صدی کے اندر اندر پورا ہوگیا۔ یہ دین کسریٰ کی پوری مملکت پر غالب ہوگیا اور قیصر کی مملکت کے بھی بڑے حصے کو فتح کرلیا۔ ہند اور چین میں بھی غالب ہوگیا ۔ پھر جنوبی ایشیاں اور ملایا میں غالب ہوا اور انڈونیشیا میں غالب ہوا اور یہی دنیا تھی جو اس دور میں آباد تھی۔ یعنی چھٹی صدی اور ساتویں صدی عیسوی میں۔ لیکن اللہ کا دین آج تک تمام ادیان پر غالب ہے۔ اگرچہ دنیا کے ان حصوں میں جہاں مسلمانوں کو سیاسی غلبہ حاصل تھا ، مسلمان پسپا ہوگئے۔ خصوصاً یورپ اور بحر ابیض کے جزائر سے۔ اور مسلمان مشرق و مغرب میں اٹھنے والی نئی قوتوں کے مقابلے میں پسپا ہوگئے۔
لیکن یہ حقیقت ہے کہ دین حق یعنی دین اسلام بحیثیت دین آج بھی تمام ادیان پر غالب ہے۔ یہ دین اپنی ذات ، اپنی ماہیت اور اپنی ذاتی صلاحیتوں اور خوبیوں کی وجہ اپنے ماننے والوں کی مدافعت بغیر تلوار کے کرتا ہے اور بغیر کسی سیاسی قوت کی پشت پناہی کے یہ دن آگے بڑھ رہا ہے ۔ کیونکہ اس دین کی فطرت میں نوامیس فطرت کے ساتھ ہم رنگی ہے اور قوانین فطرت اس کائنات میں اللہ کے ودیعت کردہ حقیقی اصول ہیں۔ پھر اس دین میں عقل ، روح اور جسم سب کی ضروریات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ انسانی تعمیر و ترقی ، سوسائٹی کی ضرورت ، فرد کی ضروریات سب کو مد نظر رکھا گیا ہے ۔ ایک جھونپڑی کے باشندے اور ایک محل اور کوٹھی کے باشندے سب کی ضرورت کو اس دین میں پورا کیا گیا ہے۔
دوسرے مذاہب کے پیرو کار اگر اس دین پر تعصب سے پاک نظروں کے ساتھ غور کریں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ بہت بڑی قوت والا دین ہے۔ اور یہ آج بھی انسانیت کی صحیح رہنمائی کرسکتا ہے اور اس ترقی یافتہ دور میں کسی بھی ترقی سوسائٹی کی ضروریات کو یہ دین نہایت ہی استقامت کے ساتھ پوری کرسکتا ہے۔
وکفی باللہ شھیدا (48 : 28) ” اور اس پر اللہ کی گواہی کافی ہے “۔ غرض بعث نبی کے بعد ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ اللہ کا یہ وعدہ سیاسی لحاظ سے سچا ثابت ہوگیا اور یہ دین تمام دنیا پر غالب ہوگیا اور اپنی ذات کے اعتبار سے یہ اب بھی تمام ادیان پر غالب ہے۔ بلکہ تمام دوسرے ادیان دنیا سے ختم ہوگئے اور یہی ایک دین ہے جو اپنی ذاتی صلاحیت کی وجہ سے قائم و دائم ہے اور اپنی عملیت کے لحاظ سے یہ ہر وقت قابل عمل ہے۔
آج صرف اس دین کے ماننے والے اس حقیقت کے ادراک سے محروم ہیں کہ یہ دین اسلام اپنی ذات کے اعتبار سے غالب ہے۔ جبکہ اس دین کے دشمن اس بات کو جانتے ہیں اور اس سے بہت ڈرتے ہیں اور اپنی سیاسی پالیسی میں دین اسلام کی اس خطرناکی کو پیش نظر رکھتے ہیں۔
Ayah 48:29اب ہم اس سورت کے خاتمہ کی طرف آرہے ہیں۔ اس میں قرآن نے صحابہ کرام کی وہ تصویر کشی کی ہے جو اس وقت عملاً موجود تھی اور یہ جماعت محترمہ جس کے بارے میں پہلے آچکا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور اس جماعت کے ایک ایک فرد تک اللہ کی خوشنودی کی اطلاع کردی گئی ، یہ کون لوگ تھے ؟ تو سنئے !
محمد رسول اللہ والذین ۔۔۔۔۔۔ مغفرۃ واجرا عظیما (48 : 29) ” محمد ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود ، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ ۔۔۔۔۔ ہے جس نے پہلے کونپل نکالی ، پھر اس کو تقویت دی ، پھر وہ گدرائی ، پر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں ، اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے “۔
یہ ایک زبردست تصویر ہے ۔ قرآن کریم نہایت ہی انوکھے انداز میں یہ تصویر کشی کرتا ہے۔ اس جماعت کی نمایاں جھلکیاں یہاں دی گئی ہیں۔ ان کے ظاہری حالات ، ان کے پوشیدہ روحانی حالات ، ان کے باہم تعلقات ، ان کے کفار کے ساتھ تعلقات ،۔
اشداء علی الکفار رحماء بینھم (48 : 29) ” کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں “ ۔ اور اللہ کی بندگی اور پرستش کرتے ہوئے۔
ترھم رکعا سجدا (48 : 29) ” تم دیکھو گے انہیں رکوع و سجود میں “۔ اور ان کی قلبی حالت اور خواہش اور فکر کیسی ہے۔ ان کی دلچسپیاں کیا ہیں۔
یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا (48 : 29) ” اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول ہیں “۔ اور ان کے ظاہری خدو خال اور نشانات کیا ہیں ، چہرے ہرے کیسے ہیں۔
سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود (48 : 29) ” سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں “۔ اور تورات و انجیل میں بھی ان کی یہی صفات بتائی گئی ہیں۔ (1) کزرع اخرج شعلتہ (48 : 29) ” ایک کھیتی کی طرح جس نے پہلے کونپل نکالی “۔ (2) فازرہ (48 : 29) ” پھر اسے تقویت دی “۔ (3) فاستغلظ (48 : 29) ” پھر وہ گدرائی “۔ (4) فاستوی علی سوقہ (48 : 29) ” پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی “۔ (5) یعجب الزراع (48 : 29) ” کاشت کرنے والے کو وہ خوش کرتی ہے “۔ (6) لیغیظ بھم الکفار (48 : 29) ” تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر چلیں “۔
یہاں سب سے پہلے اس صفت محمد کو ثابت اور موکد کیا جاتا ہے جس کا انکار سہیل ابن عمرو نے کیا تھا کہ آپ ﷺ کے نام کے ساتھ رسول اللہ کا لفظ نہ لکھیں یعنی محمد رسول اللہ ﷺ (محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ) اور اس کے بعد صحابہ کرام کی یہ انوکھی اور عجیب تصویر شروع ہوجاتی ہے ، نہایت ہی انوکھے انداز میں۔
مومنین کے حالات تو مختلف ہوتے ہیں لیکن ان جھلکیوں میں جو صفات دی گئی ہیں یہ تمام مومنین کی زندگی میں ہوتی ہیں اور یہ ان کی زندگی کے بنیادی نکات ہیں۔ انہی نکات سے اس تصویر کے خطوط ابھرتے ہیں جو نہایت ہی خوبصورت اور چمک دار ہیں۔ یہاں اللہ نے جو جھلکیاں دی ہیں ، ان میں ان باتوں کو بہت نمایاں کیا گیا ہے جن سے اس جماعت کی عزت افزائی ہو۔ لہٰذا وہ نکات اور وہ خطوط یہاں نمایاں ہیں جن کے ذریعہ عالم بالا میں انہیں اعزاز ملا ہے۔ ان کے معزز اور مکرم ہونے کی پہلی جھلکی اور رنگ یہ ہے کہ یہ لوگ۔
اشداء علی الکفار رحماء بینھم (48 : 29) ” کافروں پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں “۔ یہ کافروں پر بہت ہی سخت ہیں حالانکہ اس وقت کافروں میں ان کے آباء ، بھائی ، قریبی رشتہ دار اور دوست موجود تھے۔ لیکن انہوں نے ایسے تمام رشتوں کو یکدم کاٹ کر رکھ دیا۔ اور وہ آپس میں رحم دل ہیں حالانکہ ان کے درمیان صرف دینی اخوت ہے۔ لہٰذا ان کی شدت بھی اللہ کے لئے ہے اور ان کی نرمی بھی اللہ کے لئے ہے۔ یہ ہے نظریاتی حمیت ، اسلامی حمیت ، دینی غیرت۔ لہٰذا وہ اپنے نفس کے لئے کچھ نہیں چاہتے ۔ اور نہ ان کے نفوس کے لئے اس دین میں کچھ ہے۔ یوں وہ اپنے جذبات اور اپنی محبتوں کو اپنے تعلقات اور طرز عمل کو اپنے نظریات اور عقائد کی اساس پر استوار اور تعمیر کر رہے ہیں۔ وہ نظریاتی دشمنوں پر سخت اور نظریاتی دوستوں کے لئے ریشم کی طرح نرم ہیں۔ وہ انانیت اور خواہشات نفسانیہ سے مجرد ہوگئے ہیں۔ اللہ کے سوا کسی اور کے لئے کسی اور تعلق کے لئے وہ مشتعل ہی نہیں ہوتے۔
اب دوسری جھلکی ، ان کے تکریم اور ان کا شرف ان کی رکوع و سجود میں ہے۔ جب وہ عبادت کرتے ہیں تو رکوع و سجود میں ہوتے ہیں اور تم انہیں ہمیشہ اس حالت میں پاؤ گے ، گویا یہ صفت ان کی دائمی صفت ہے اور عبادت میں رکوع و سجود مکمل حالت ہے ، اور ان کے ذہنوں میں بھی یہی حالت ہے اور ان کے جسم بھی بروقت رکوع و سجود میں ہیں گویا ان کی پوری زندگی اور پورا وقت اسی کام میں گزرتا ہے۔
ان کی جو تیسری جھلکی دکھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی باطنی ، ان کی روحانی اور ان کی نفسیات کی حالت کیا ہے۔
یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا (48 : 29) ” تم ان کو اللہ کے فضل اور خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے “۔ یہ ان کے شعور کی دائمی حالت ہے۔ ان کا دل جن باتوں میں ہر وقت مشغول رہتا ہے ، ان کے اندر ہر وقت جو شوق اٹھتے ہیں وہ یہی ہیں کہ کسی طرح اللہ راضی ہوجائے ، اللہ کی رضا اور اس کے فضل کی طلب کے سوا ان کا اور کوئی مشغلہ اور دلچسپی ہی نہیں ہے۔
اور چوتھی خوبی یہ کہ ان کی عبادات ان کے فیچرز اور ان کے خدوخال میں ظاہری طور پر نظر آتی ہیں۔
سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود (48 : 29) ” ان کے سجود کے اثرات ان کے چہروں میں موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں “۔ یعنی ان کے چہرے میں نور ، روشنی اور چمک نظر آئے گی۔ اور ان کا چہرا صاف و شفاف ہوگا۔ اور یہ ان کی صاف ، زندہ اور روح پرور عبادت کی وجہ سے۔ اس سیماھم سے مراد وہ معروف نشان (محراب) نہیں ہے جو بعض لوگوں کے ماتھے پر پڑجاتا ہے (جب وہ سجدے میں ماتھا رگڑتے ہیں ) من اثر السجود (48 : 29) کے لفظ سے ذہن میں یہ نشانی آجاتی ہے۔ اثر السجود سے مراد اثر العبادہ ہے۔ کیونکہ سجدہ عبادت اور بندگی اور اطاعت کا درجہ کمال ہوتا ہے اور اس میں انسان عاجزی اور اطاعت کی کمال حالت میں ہوتا ہے۔ اس حالت کا اثر انسان کے چہرے پر بھی ظاہر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ عبادت گزاروں کے چہروں پر سے کبرو غرور اور مستی دور ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ شریفانہ تواضع ، صاف و شفاف طرز عمل ، پروقار نور اور تقویٰ کا دھیما پن آجاتا ہے جس سے مومن کا چہرہ نہایت یہ خوبصورت نظر آتا ہے جبکہ اس کے چہرے پر مایوسی بالکل نہیں ہوتی اور وہ خوش اور مطمئن نظر آتا ہے۔
یہ روشن تصویر جو ان جھلکیوں میں نظر آتی ہے یہ کوئی نئی تصویر نہیں ہے۔ یہ ان کے لئے نظام قضا و قدر میں لکھی ہوئی ہے۔ لوح محفوظ میں درج ہے۔ اور اسی وجہ سے اس کا تذکرہ توریت میں بھی آیا ہے اور انسانوں کو ان کے بارے میں خوشخبری دی گئی ہے۔ قبل اس کے وہ اس زمین پر پیدا ہوں۔
ذلک مثلھم فی التورۃ ومثلھم فی الانجیل (48 : 29) ” یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے ”
اللہ نے ان دوسابقہ کتابوں میں حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے رفقاء کی تعریف یوں کی ہے کہ وہ :
کزرع اخرج شطئہ (48 : 29) ” ایک کھیتی کی طرح ہیں جس نے پہلے کونپل نکالی “۔ وہ اس طرح بڑھے جس طرح فصل ابتداء میں کونپلیں نکالتی ہے ، تروتازہ ہوتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ بڑھتی اور قوی ہوتی ہے۔
فازرہ (48 : 29) ” پھر اس کو تقویت دی “۔ یعنی اس کو نپل نے اسے مضبوط کیا۔ یا نال نے اس کو مضبوط کیا۔
فاستغلظ (48 : 29) ” پھر وہ مضبوط سے مضبوط ہوگئی “ یعنی وہ نال اور فصل ۔
فاستوی علی سوقہ (48 : 29) ” پھر وہ تنے پر کھڑی ہوگئی “۔ یعنی وہ فصل اپنی نال ، تنے یا ڈنڈی پر کھڑی ہوگئی ، اب اس میں نہ کمزوری ہے اور نہ جھکاؤ ، مضبوط ہے اور سیدھی ہے۔
یہ تو ہے فصل کی ذاتی صورت حالات۔ لیکن کسان کے نفس پر اس کے کیا اثرات ہیں۔ ماہرین پر اس کے کیا اثرات ہیں جو بڑھنے والے کو بھی جانتے ہیں اور مرجھانے والے کو بھی جانتے ہیں۔ پھلدار کو بھی جانتے اور بےپھل کو بھی۔ تو ایسے لوگوں کے دل میں مسرت دوڑ جاتی ہے۔
یعجب الزراع (48 : 29) ” کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے “۔ اور بعض قراتوں میں الزراع کی جگہ الزارع (بونے والا) آیا ہے ۔ اور مراد ہے رسول اللہ ﷺ سے جو اس بڑھنے والی ، قوی ، تروتازہ اور فرحت بخش فصل کے کسان ہیں۔ پھر کفار کے دلوں پر اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں ؟ وہ غصہ اور جھنجھلاہٹ ۔
لیغیظ بھم الکفار (48 : 29) ” تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں “۔ آخر میں کفار کے غصے کا ذکر کر کے قرآن نے اشارہ کردیا کہ کہیں اس کو لوگوں کی فصل پر ہی چسپاں نہ کرو۔ اس سے مراد اللہ والوں کی فصل ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی فصل ہے اور یہ ان لوگوں کی فصل ہے جو دست قدرت کے آلات ہیں اور کفار کے لئے پریشانی کا باعث ۔
یہ مثال بھی کوئی نئی مثال نہیں ہے کہ کتاب تقدیر کے صفحات میں درج ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا ذکر حضرت محمد ﷺ کے زمین پر آنے اور مبعوث کئے جانے سے بھی پہلے اس کا ذکر تورات اور انجیل میں موجود ہے ۔ اور انجیل میں تو اس کی تصریح موجود ہے کہ محمد اور اس کے ساتھی آئیں گے ۔
یوں اللہ اپنی لازوال کتاب میں اس جماعت کی صفات کو قلم بند فرماتا ہے ۔ یعنی جماعت صحابہ کی۔ یوں اس کائنات کے مرکز میں یہ جماعت قائم ہوتی ہے ۔ پوری کائنات اس کے ساتھ چلتی ہے اور یہ جماعت باری تعالیٰ سے اپنی یہ تعریف سنتی ہے۔ اور پھر آنے والی نسلوں کے لئے ان کی صفت بطور نمونہ ریکارڈ کردی جاتی ہے تا کہ آئندہ کی نسلیں بھی اس معیار کو قائم کرنے کی سعی کریں تا کہ ایمان اپنے اعلیٰ درجات میں قائم ہو۔
جماعت صحابہ کی اس صفت اور تکریم کے بعد پھر اعلان ہوتا ہے کہ ان کے لئے اجر عظیم ہے۔
وعد اللہ الذین ۔۔۔۔ واجرا عظیما (48 : 29) ” اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور اجر کا وعدہ فرمایا ہے “۔ اس جماعت کی صفات کے بعد اب یہ ایک عمومی اعلان ہے اور اس اعلان کے مستفید ہونے والوں میں ظاہر ہے کہ وہ سب سے پہلے داخل ہیں۔ مغفرت اور اجر عظیم۔ یہی ایک اعلان ہی ان کے لئے بڑا اعزاز ہے اور ان کے لئے تو اللہ کی رضا مندی ہی بڑا اجر ہے لیکن اللہ کا فضل و کرم بلا قیود اور بلا حدود ہے اور اللہ کی بخشش بےانتہا و لا محدود ہے۔
میں ایک بار پھر چشم خیال کو کھول کر اس جماعت مکرمہ کو دیکھ رہا ہوں جس کے دل سعید ہیں۔ جو اللہ کے یہ فیوض رحمت اور اعزاز واکرام اور عظیم اجر کے وعدے پار ہے ہیں۔ ان کو سنایا جارہا ہے۔ یہ اعلان کہ اللہ کی کتابوں میں ، اللہ کے پیمانوں میں ، اور اللہ کے ایوانوں میں ان کے لئے یہ ہے ، یہ ہے ۔ حدیبیہ سے یہ واپس ہورہے ہیں اونٹوں کی رفتار کے گردو غبار میں یہ سورت سنتے ہیں ، اب یہ ان کی روح اور ان کی زندگی ہے ۔ ان کے کانوں اور ارواح میں یہ اتر رہی ہے۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور مسکراتے ہیں اور ان کا وجود ہی اللہ کا مجسم فضل و کرم ہے۔۔۔۔ میں چشم تصور سے ان کو دیکھ کر ذرا ان کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں۔ ذرا مجھے بھی ان کے ساتھ چند قدم چلنے دو ، لیکن جو شخص ان کی راہ پر نہیں چلا وہ اس چشن فتح میں کیا شریک ہو سکتا ہے ؟ نہیں وہ دور ہی سے دیکھتا رہے گا۔۔۔۔۔ اللہ ! تو ہی کسی کو یہ اعزاز بخش سکتا ہے کہ وہ دور سے نجات کو نہ دیکھے بلکہ اس جشن میں کود پڑے۔ اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں اس جشن میں کودنے کے لئے بےتاب ہوں !