49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsبیان القرآن

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

(ف 3) اے ایمان والو اللہ اور رسول (علیہ السلام) (کی اجازت) سے پہلے تم سبقت مت کیا کرو (ف 4) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ (تمہارے سب اقوال کو) سننے والا اور (تمہارے سب افعال کو) جاننے والا ہے۔

ف 3۔ حاصل مجموعہ اجزاء سورت کا بیان حقوق حضرت سید المرسلین ﷺ و حقوق اخوان فی الدین ہے۔ واقعہ ان آیتوں کے نزول کا یہ ہے کہ ایک بار بنی تمیم کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ میں باہم آپ کی مجلس میں اس امر میں گفتگو ہوگئی کہ ان لوگوں پر حاکم کس کو بنایا جائے، حضرت ابوبکر نے قعقاع بن معبد کی نسبت رائے دی، اور حضرت عمر نے اقرع بن حابس کی نسبت رائے دی اور گفتگو بڑھ کر دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ 4۔ یعنی جب تک قرائن قویہ یا تصریح سے اذن گفتگو کا نہ ہو گفتگو مت کیا کرو۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے ایمان والو تم اپنی آوازیں پیغمبر (علیہ السلام) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کھل کر بولا کرتے ہو (ف 5) ۔ کبھی تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

ف 5۔ یعنی نہ بلند آواز سے بولو جبکہ آپ کے سامنے بات کرنا ہو، گو باہم ہی مخاطبت ہو اور نہ برابر کی آواز سے بولو جب کہ خود آپ سے مخاطبت کرو۔
Ayahs 49:3–5

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقوی کے لئے خالص کردیا ہے (ف 1) ان لوگوں کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ (ف 2)

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں ان میں سے اکثروں کو عقل نہیں ہے۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ (ذرا) صبر ( اور انتظار) کرتے یہانتک کہ آپ خود باہر ان کے پاس آجاتے تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا (کیوں کہ ادب کی بات تھی) اور اللہ غفور رحیم ہے۔

ف 1۔ مطلب یہ کہ متقی کامل ہیں۔ 2۔ اگلی آیتوں کا واقعہ یہ ہے کہ وہی بنی تمیم جب آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے آئے تو اس وقت آپ دولت خانہ میں تشریف رکھتے تھے، انہوں نے باہر سے بوجہ قلت تہذیب کے آپ کو نام لے لے کر پکارنا شروع کیا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Ayahs 49:6–10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

اے ایمان والو اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو خوب تحقیق کرلیا کرو کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر نہ پہنچادو پھر اپنے کئے پر پچتانا پڑے۔ (ف 3)

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ ہیں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ اسمیں تمہارا کہنا مانا کریں تو تم کو بڑی مضرت پہنچے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اسکو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور کفر اور فسق اور عصیان سے تم کو نفرت دے دی۔

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے فضل اور انعام سے راہ راست پر ہیں اور اللہ تعالیٰ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو انکے درمیان اصلاح کردو پھر اگر ان میں کا ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع ہوجاوے پھر اگر رجوع ہوجائے تو ان دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ اصلاح کردو اور انصاف کا خیال رکھو بیشک اللہ انصاف والوں کو پسند کرتا ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مسلمان تو سب بھائی ہیں سو اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرادیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔

ف 3۔ اس کے نزول کا واقعہ اس طرح ہوا (اور پھر حکم عام ہے) کہ حضور ﷺ نے ولید بن عقبہ کو قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰة وصول کرنے کے لئے بھیجا، اور ایک روایت میں بنی وکیعہ آیا ہے، ولید میں اور ان میں زمانہ جاہلیت میں کچھ عداوت تھی، ولید کو ہاں جاتے ہوئے کچھ اندیشہ ہوا، ان لوگوں نے سن کر استقبال کیا، ولید کو یہ گمان ہوا کہ یہ لوگ بارداہ قتل آئے ہیں، واپس آکر اپنے خیال کے موافق کہہ دیا کہ وہ تو مخالفت اسلام ہوگئے، آپ ﷺ نے حضرت خالد کو تحقیق حال کے لئے بھیجا اور فرمادیا کہ خوب تحقیق کرنا، اور جلدی مت کرنا، چناچہ انہوں نے وہاں بجز اطاعت اور خیر کے کچھ نہ دیکھا، آکر آپ ﷺ کا اطمینان کردیا، اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ (فائدہ) اس سے ایک حکم شرعی ثابت ہوگیا کہ بدوں تحقیق کے ایسی خبر پر عمل نہ کرنا چاہئے۔
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے ایمان والو نہ مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہئیے (ف 4) کیا عجب ہے کہ (جن پر ہنستے ہیں) وہ ان (ہنسنے والوں) سے (خدا کے نزدیک) بہتر ہوں اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہئیے کیا عجب ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو․ اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا (ہی) برا ہے اور جو (ان حرکتوں سے) باز نہ آوینگے تو وہ ظلم کرنے والے ہیں۔

ف 4۔ تمسخر وہ ہنسی ہے جس سے دوسرے کی تحقیر اور دل آزاری ہو، اور جس سے دوسرے کا دل خوش ہو وہ مزاح کہلاتا ہے اور وہ جائز ہے۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچا کرو کیونکہ بعضے گمان گناہ ہوتے ہیں اور سراغ مت لگایا کرو اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے (ف 1) کیا تم میں سے کوئی یہ بات پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اسکو تو تم ناگوار سمجھتے ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

ف 1۔ غیبت یہ ہے کہ کسی کے پیچھے اس کی ایسی برائی کرنا کہ اس کے سامنے کی جائے تو اس کو رنج ہو، گو وہ سچی بات ہی ہو، ورنہ بہتان ہے، اور پیٹھ پیچھے کی قید سے یہ نہ سمجھا جائے کہ سامنے جائز ہے کیونکہ وہ لمز میں داخل ہے جس کی ممانعت اوپر آئی ہے۔ (فائدہ) محقق یہ ہے کہ غیبت گناہ کبیرہ ہے، البتہ جس سے بہت کم تاذی ہو وہ صغیرہ ہوسکتا ہے۔ (فائدہ) بلا اضطرار غیبت سننا مثل غیبت کرنے کے ممنوع ہے۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف خاندان بنایا ہے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو (ف 2) اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو اللہ خوب جاننے والا پورا خبردار ہے۔

ف 2۔ شعب خاندان کی جڑ کو کہتے ہیں اور قبیلہ اس کی شاخ کو مثلا ایک شعب ہے اور حسنی و حسینی قبائل ہیں، وعلی ھذا۔
Ayahs 49:14–15

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

یہ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے آپ فرمادیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے لیکن یوں کہو کہ ہم مخالفت (چھوڑ کر) مطیع ہوگئے اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا (ف 3) اور اگر تم اللہ اور اسکے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مان لو تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال میں سے ذرا بھی کمی نہ کرے گا بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

پورے مومن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اسکے رسول (علیہ السلام) پر ایمان لائے پھر شک نہیں کیا اور اپنے مال اور جان سے خدا کے رستے میں محنت اٹھائی یہ لوگ ہیں سچے۔

ف 3۔ یہاں اسلام سے مراد اسلام لغوی ہے شرعی نہیں، پس اس آیت سے ایمان و اسلام کے تغایر پر استدلال کرنا غیر صحیح ہے۔
Ayah 49:16

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

آپ فرمادیجئے کہ کیا خدائے تعالیٰ کو اپنے دین کی خبر دیتے ہو (ف 4) حالانکہ اللہ کو تو سب آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کی خبر ہے اور اللہ سب چیزوں کو جانتا ہے۔ (ف 5)

ف 4۔ یعنی اللہ تعالیٰ تو جانتے ہیں کہ تم نے ایمان نہیں قبول کیا باوجود اس کے جو تم دعوے قبول کا کرتے ہو تو لازم آتا ہے کہ خلاف علم خداوندی خدا تعالیٰ کو ایک بات بتاتے ہو۔ 5۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کو جو تمہارے متعلق علم ہے کہ تم ایمان نہیں لائے وہی صحیح ہے۔
Ayahs 49:17–18

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی ہدایت دی بشرطیکہ تم سچے ہو۔ (ف 1)

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کی مخفی باتوں کو جانتا ہے اور تمہارے سب اعمال کو بھی جانتا ہے۔

ف 1۔ یہاں لفظ ایمان فرمانے سے شبہ نہ کیا جائے کہ اس کا ایمان ہونا تسلیم کرلیا گیا، بات یہ ہے کہ یہاں بطور فرض کے گفتگو ہے جس میں ان کی طرف سے حکایت کی گئی ہے جیسا ان کنتم صدقین میں قرینہ ہے، یعنی اگر بالفرض تمہارے دعوے کے موافق اس کو ایمان مان لیا جائے تو بھی خدا ہی کا احسان ہے۔