48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsبیان القرآن

Ayah 48:1

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

(ف 8) بیشک ہم نے آپ کو ایک کھلی فتح دی۔ (ف 9)

ف 8۔ آپ حدیبیہ سے مدینہ کو واپس تشریف لاتے تھے کہ راہ میں یہ سورت نازل ہوئی، کل یا اکثر علی اختلاف القولین اور سب واقعات (جن کی طرف اس سورة میں اشارہ ہے) ذیقعدہ 6 ھ میں واقع ہوئے۔ 9۔ یعنی صلح حدیبیہ سے یہ فائدہ ہوا کہ وہ سبب بن گئی ایک فتح مطلوب یعنی فتح مکہ کی، پس گویا یہ صلح ہی فتح تھیا ور فتح مکہ کو فتح مبین اس لئے کہا گیا کہ غایت فتح کی غلبہ ہوتا ہے اسلام کا لوگوں کے اسلام سے یا استسلام سے، اور یہی اس کا اثر مطلوب ہے اور فتح مکہ سے اسلام کو اس لئے نہایت غلبہ ہوا کہ تمام قبائل عرب اس بات کے منتظر تھے کہ اگر آپ اپنی قوم پر غالب آگئے تو ہم بھی اطاعت کرلیں گے۔ چناچہ جب مکہ فتح ہوا تو چاروں طرف سے قبائل امڈ پڑے اور خود یا بالواسطہ وفد کے حاضر ہو کر اسلام لانا شروع کیا۔ پس چونکہ آثار غلبہ اسلام کے اس فتح پر زیادہ نمایاں ہوئے اس لئے اس کو فتح مبین فرمایا گیا۔
Ayah 48:2

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف فرمائے اور آپ پر اپنے احسانات کی تکمیل کردے اور آپ کو سیدھے رستہ پر لے چلے۔ (ف 1)

ف 1۔ اور پہلے سے بھی صراط مستقیم پر چلنا یقینی ہے لیکن اس میں کفار مزاحم و مصادم ہوتے۔
Ayahs 48:3–5

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور اللہ آپ کو ایساغلبہ دے جس میں عزت ہی عزت ہے۔ (ف 2)

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہ خدا ایسا ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں تحمل پیدا کیا ہے تاکہ ان کے پہلے ایمان کے ساتھ ان کا ایمان اور زیادہ ہو اور آسمان و زمین کا سب لشکر اللہ ہی کا ہے اور اللہ تعالیٰ (مصلحتوں کا) بڑا جاننے والا ہے حکمت والا ہے۔

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ایسی بہشت میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی جن میں ہمیشہ کو رہینگے اور تاکہ انکے گناہ دور کردے اور یہ اللہ کے نزدیک بڑی کامیابی ہے۔

ف 2۔ یعنی جس کے بعد پھر آپ کو کبھی دبنا ہی نہ پڑے۔
Ayah 48:6

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور تاکہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے جو کہ اللہ کے ساتھ برے برے گمان رکھتے ہیں ان پر برا وقت پڑنے والا ہے (ف 3) اور (آخرت میں) اللہ تعالیٰ ان پر غضبناک ہوگا ان کو رحمت سے دور کردیگا اور انکے لئے اس نے دوزخ تیار کر رکھی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔

ف 3۔ چناچہ مشرکین چند ہی روز بعد مقتول و ماخوذ ہوئے اور منافقین کی تمام عمر حسرت اور پریشانی میں کٹی کہ اسلام بڑہتا تھا اور وہ گھٹتے جاتے تھے۔
Ayahs 48:7–8

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور آسمان و زمین کا سب لشکر اللہ ہی کا ہے اور اللہ تعالیٰ زبردست حکمت والا ہے۔ (ف 4)

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا کرکے بھیجا ہے۔

ف 4۔ یعنی پوری قدرت والا ہے اگر چاہتا کسی لشکر سے ان سب کی ایک دم سے صفائی کردیتا کہ یہ اس کے مستحق ہیں، لیکن چونکہ وہ حکمت والا ہے اس لئے بمصلحت عقوبت میں توقف فرماتا ہے۔
Ayah 48:9

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ تم لوگ اللہ پر اور اسکے رسول (علیہ السلام) پر ایمان لاؤ اور اسکی مدد کرو اور اسکی تعظیم کرو۔ (ف 5) اور صبح و شام اسکی تسبیح میں لگے رہو۔

ف 5۔ عقیدة بھی کہ اللہ تعالیٰ کو موصوف بالکمالات منزہ عن النقائص سمجھو اور عملا بھی کہ اطاعت کرو۔
Ayah 48:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

جو لوگ آپ سے بیعت کررہے ہیں تو وہ (واقع میں) اللہ سے بیعت کررہے ہیں خدا کا ہاتھ انکے ہاتھوں پر ہے (ف 6) پھر (بعد بیعت کے) جو شخص عہد توڑے گا سو اس کے عہد توڑنے کا وبال اسی پر پڑے گا اور جو شخص اس بات کو پورا کریگا جس پر (بیعت میں) خدا سے عہد کیا ہے تو عنقریب خدا اس کو بڑا اجر دیگا۔

ف 6۔ ید اللہ فوق ایدیھم سے یہ نہ سمجھا جائے کہ بیعت کے وقت ہاتھ میں ہاتھ لینا ضرور ہے، یا یہ کہ شیخ بیعت لینے والے کا ہاتھ اوپر ہی ہونا ضرور ہے مطلق بیعت بمعنی ضمان طاعت سے۔ اور ید اللہ میں حقیقی معنی متشابہات میں سے ہیں۔ اس میں زیادہ تفتیش نہ کرنی چاہئے۔
Ayahs 48:11–13

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

جو دیہاتی پیچھے رہ گئے وہ عنقریب آپ سے کہینگے کہ ہم کو ہمارے مال اور عیال نے فرصت نہ لینے دی سو ہمارے لئے (اس کوتاہی کی) معافی کی دعا کردیجئے یہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں آپ کہہ دیجئے کہ سو وہ کون ہے جو خدا کے سامنے تمہارے لئے کسی چیز کا (کچھ بھی) اختیار رکھتا ہو اگر اللہ تعالیٰ تم کو کوئی نقصان یا کوئی نفع پہنچانا چاہے (ف 1) بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال پر مطلع ہے۔

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسول (علیہ السلام) اور (ہمراہی) مومنین اپنے گھر والوں میں کبھی لوٹ کر نہ آوینگے اور یہ بات تمہارے دلوں میں اچھی بھی معلوم ہوئی تھی اور تم نے برے برے گمان کئے اور تم برباد ہونے والے لوگ ہوگئے۔

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ پر اور اسکے رسول (علیہ السلام) پر ایمان نہ لاوے گا سو ہم نے کافروں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔

ف 1۔ ظاہر ہے کہ کوئی ایسا نہیں پس ثابت ہوا کہ واقع میں کوئی عذر دافع قضا و قدر نہیں، مگر جہاں شریعت نے مصلحت سمجھا بہت سے مواقع پر عذر واقعی کو رخصت کا مدار قرار بھی دے یا۔
Ayah 48:14

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور تمام آسمان و زمین کی سلطنت اللہ کی ہے وہ جس کو چاہے بخشدے اور جس کو چاہے سزا دے (ف 2) اور اللہ تعالیٰ بڑا غفور رحیم ہے۔ (ف 3)

ف 2۔ چناچہ مومن کے لئے مغفرت اور کافر کے لئے عذاب چاہا اور اسی طرح ٹھہرایا۔ 3۔ یعنی کافر گو مستحق سزا ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ ایسا غفور و رحیم ہے کہ وہ اگر ایمان لے آئے تو اس کو بھی بخش دیتا ہے۔
Ayahs 48:15–17

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ عنقریب جب تم (خیبر کی) غنیمتیں لینے چلوگے کہینگے کہ ہم کو بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے ساتھ چلیں وہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ خدا کے حکم کو بدل ڈالیں (ف 4) آپ کہہ دیجئے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے خدا تعالیٰ نے پہلے سے یوں فرمادیا ہے (ف 5)․ تو وہ لوگ کہیں گے بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو بلکہ خودیہ لوگ بہت کم بات سمجھتے ہیں۔

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

آپ ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ عنقریب تم لوگ ایسے لوگوں (سے لڑنے) کی طرف بلائے جاؤگے جو سخت لڑنے والے ہوں گے کہ یا تو ان سے لڑتے رہو یا وہ مطیع (اسلام) ہوجائیں سو اگر تم اطاعت کروگے تو تم کو اللہ تعالیٰ نیک عوض (یعنی جنت) دے گا اور اگر تم (اس وقت بھی) روگردانی کروگے جیسا اس کے قبل روگردانی کرچکے ہو تو وہ دردناک عذاب کی سزا دے گا۔

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ بیمار پر کوئی گناہ ہے اور جو شخص اللہ و رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانے گا اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور جو شخص (حکم سے) روگردانی کرے گا اس کو دردناک عذاب کی سزا دے گا۔

ف 4۔ یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے حکم کو جو کہ اس واقعہ کے متعلق ہوا ہے کہ بجز اہل حدیبیہ کے خیبر اور کوئی نہ جائے، بالخصوص متخلفین بدل ڈالیں، یعنی مسلمانوں سے اس کی درخواست کرنا گویا یہ درخواست ہے کہ مسلمان خدا کے حکم کے خلاف کریں جو ان کے لئے شرعا ممتنع ہے اور باین معنی تبدیل کا فاعل مسلمان ہوں گے، لیکن چونکہ وہ لوگ بوجہ اس درخواست کے اس تبدیل کا سبب ہیں۔ لہذا ان کی طرف اس کی نسبت کی گئی، اور تبدیلی بالمعنی المذکور کے وقوع سے افعال وصفات الہیہ میں کوئی نقص نہیں آتا کیونکہ وہ حکم تشریعی تھا لیکن مومنین کا آثم ہونا لازم آتا ہے۔ حاصل مطلب یہ ہوا کہ وہ اس کی درخواست کرتے ہیں کہ تم گناہ کے مرتکب ہو۔ 5۔ پہلے سے اس لئے کہا کہ حدیبیہ سے واپسی پر یہ حکم ہوگیا تھا۔
Ayahs 48:18–19

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ عَلَیْهِمْ وَ اَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاۙ Open ayah 48:18 in the Quran reader

بالتحقیق اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے خوش ہوا جبکہ یہ لوگ آپ سے درخت (سمرہ) کے نیچے بیعت کررہے تھے اور انکے دلوں میں جو کچھ تھا اللہ کو وہ بھی معلوم تھا پس اللہ تعالیٰ نے ان میں اطمیان پیدا کردیا (ف 6) اور ان کو ایک لگے ہاتھ فتح دیدی۔ (ف 1)

وَّ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً یَّاْخُذُوْنَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:19 in the Quran reader

اور (اس فتح میں) بہت سی غنیمتیں بھی (دیں) جنکو یہ لوگ لے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑا حکمت والا ہے۔

ف 6۔ جس سے ان کو خدا کا حکم ماننے میں ذرا پس و پیش نہیں ہوا۔ 1۔ مراد اس سے فتح خیبر ہے۔
Ayah 48:20

وَعَدَكُمُ اللّٰهُ مَغَانِمَ كَثِیْرَةً تَاْخُذُوْنَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هٰذِهٖ وَ كَفَّ اَیْدِیَ النَّاسِ عَنْكُمْ١ۚ وَ لِتَكُوْنَ اٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ وَ یَهْدِیَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:20 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے تم سے (اور بھی) بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کو تم لوگے سو سردست تم کو یہ دے دی ہے اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دئے (ف 2) اور تاکہ یہ (واقعہ) اہل ایمان کے لئے ایک نمونہ ہوجائے اور تاکہ تم کو ایک سیدھی سڑک پر ڈال دے۔ (ف 3)

ف 2۔ یعنی سب کے دل میں رعب پیدا کردیا کہ ان کو زیادہ دراز دستی کی ہمت نہ ہوئی، اور اس سے تمہارا نفع دنیوی بھی مقصود تھا تاکہ آرام ہو۔ 3۔ مراد اس سے سڑک سے توکل و وثوق باللہ ہے یعنی ہمیشہ کے لئے اس کو سوچ کر اللہ پر اعتماد سے کام لیا کرو۔
Ayahs 48:21–24

وَّ اُخْرٰى لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰهُ بِهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا Open ayah 48:21 in the Quran reader

اور ایک فتح اور بھی ہے جو تمہارے قابو میں نہیں آئی (ف 4) خدا تعالیٰ اس کو احاطہ میں لئے ہوئے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ لَوْ قٰتَلَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوَلَّوُا الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 48:22 in the Quran reader

اور اگر تم سے یہ کافر لڑتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگتے پھر نہ انکو کوئی یار ملتا اور نہ مدد گا ر۔

سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ١ۖۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 48:23 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے (کفار کے لئے) یہی دستور کر رکھا ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور آپ خدا کے دستور میں ردو بدل نہ پاوینگے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا Open ayah 48:24 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے کہ اس نے ان کے ہاتھ تم سے (یعنی تمہارے قتل سے) اور تمہارے ہاتھ ان (کے قتل) سے عین مکہ ( کے قریب) میں روک دئے بعد اسکے کہ تم کو ان پر قابو دیدیا تھا اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا تھا۔ (ف 5)

ف 4۔ مراد اس سے فتح مکہ ہے۔
Ayah 48:25

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ١ؕ وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَطَئُوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:25 in the Quran reader

وہ یہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور نیز قربانی کے جانور کو جو رُ کا ہوا رہ گیا اسکے موقع میں پہنچنے سے روکا . اور اگر (مکہ میں اس وقت) بہت سے مسلمان مرد اور بہت سی مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جنکی تمکو خبر بھی نہ تھی یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر انکی وجہ سے تم کو بھی بیخبری میں ضرر پہنچتا تو سب قصہ طے کردیا جاتا․ لیکن ایسا اس لئے نہیں کیا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے (ف 6) اگر یہ ٹل گئے ہوتے تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو دردناک سزا دیتے۔

ف 6۔ چناچہ ان مسلمانوں کی جان بچی اور تمہارا دین بچا۔
Ayah 48:26

اِذْ جَعَلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِیَّةَ حَمِیَّةَ الْجَاهِلِیَّةِ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَ اَهْلَهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 48:26 in the Quran reader

جبکہ ان کافروں نے اپنے دلوں میں عار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت کی (ف 7) سو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (علیہ السلام) اور مومنین کو اپنی طرف سے تحمل عطا کیا (ف 8) اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تقوی کی ملت پر جمائے رکھا (ف 9) اور وہ اس کے زیادہ مستحق ہیں اور وہ اس کے اہل ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

ف 7۔ اس عار سے وہ ضد مراد ہے جو بسم اللہ اور لفظ رسول اللہ لکھنے میں انہوں نے مسلمانوں سے کی تھی۔ اس لئے اس کو جاہلیت سے مقید فرمایا ورنہ مطلق حمیت و عار مذموم نہیں۔ 8۔ جس سے اپنے کو صبط کر کے لکھنے پر اصرار نہیں کیا، یہاں تک کہ صلح ہوئی، اور کفار قتال سے بچ گئے۔ 9۔ تقوی کی بات سے کلمہ طیبہ اقرار توحید و رسالت مراد ہے، اس کی بدولت کفر و شرک سے بچاوہوجاتا ہے اور نیز وہ مقتضی ہے وجوب تقوی و اطاعت کو، اور اس پر جمائے رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ مقتضا اعتقاد توحید و رسالت کا اطاعت ہے اللہ و رسول کی، اور مسلمانوں کا یہ ضبط صرف اس وجہ سے تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ضبط کا حکم فرمایا تھا، پس یہ اطاعت کلمہ تقوی پر جمنا ہے۔
Ayah 48:27

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰهُ رَسُوْلَهُ الرُّءْیَا بِالْحَقِّ١ۚ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَ١ۙ مُحَلِّقِیْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِیْنَ١ۙ لَا تَخَافُوْنَ١ؕ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِیْبًا Open ayah 48:27 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (علیہ السلام) کو سچا خواب دکھلایا جو مطابق واقع کے ہے کہ تم لوگ مسجد حرام (یعنی مکہ) میں انشاء اللہ ضرور جاؤگے امن وامان کے ساتھ کہ تم میں کوئی سر منڈاتا ہوگا اور کوئی بال کتراتا ہوگا تم کو کسی طرح کا اندیشہ نہ ہوگا سو اللہ تعالیٰ کو وہ باتیں معلوم ہیں جو تم کو معلوم نہیں پھر اس سے پہلے لگتے ہاتھ ایک فتح دیدی۔ (ف 1)

ف 1۔ مراد فتح خیبر ہے۔
Ayahs 48:28–29

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 48:28 in the Quran reader

وہ اللہ ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول (علیہ السلام) کو ہدایت دی اور سچا دین (یعنی اسلام) دے کر (دنیا) میں بھیجا ہے تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے (ف 2) اور اللہ کافی گواہ ہے۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١٘ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ١ۛۖۚ وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ١ۛ۫ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْئَهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ١ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:29 in the Quran reader

محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے ہیں کبھی سجدہ کررہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں انکے آثار بوجہ تاثیر سجدہ کے انکے چہروں پر نمایاں ہیں یہ ان کے اوصاف تو ریت میں ہیں اور انجیل میں ان کا یہ وصف ہے کہ جیسے کھیتی اس نے اپنی سوئی نکالی پھر اس نے اسکو قوی کیا پھر وہ اور موٹی ہوئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی تاکہ ان سے کافروں کو جلادے اللہ تعالیٰ نے ان صاحبوں سے جو کہ ایمان لائے ہیں اور نیک کام کررہے ہیں مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔

ف 2۔ باعتبار حجت و دلیل کے تو ہمیشہ اور باعتبار شوکت و سلطنت اہل اسلام کے بشرط صلاح اہل دین کے اور چونکہ یہ شرط صحابہ میں پائی جاتی تھی اس لئے یہ آیت اثبات رسالت کے ساتھ بشارت بھی ہوگئی، صحابہ کے لئے فتوحات عامہ کی، چناچہ ایسا ہی واقع ہوا۔