50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsبیان القرآن

Ayah 50:1

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق (علیہ السلام) ․ قسم ہے قرآن مجید کی۔

Ayah 50:2

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس ان ہی (کی جنس) میں سے (کہ بشر ہیں) ایک ڈرانے والا (پیغمبر) آگیا سو کافر لوگ کہنے لگے کہ یہ (ایک) عجیب بات ہے۔

Ayah 50:3

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے تو کیا دوبارہ زندہ ہونگے یہ دوبارہ زندہ ہونا (امکان سے) بہت ہی بعید بات ہے۔

Ayah 50:4

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

ہم انکے ان اجزا کو جانتے ہیں جنکو مٹی (کھاتی اور) کم کرتی ہے اور ہمارے پاس (وہ) کتاب (یعنی لوح) محفوظ (موجود) ہے۔

Ayahs 50:5–7

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

بلکہ سچی بات کو جبکہ وہ انکو پہنچتی ہے جھٹلاتے ہیں غرض یہ کہ وہ ایک متزلزل حالت میں ہیں۔ (ف 2)

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر کی طرف آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسکو کیسا (اونچا اور بڑا) بنایا اور (ستاروں سے) اس کو آراستہ کیا اور اسمیں کوئی رخنہ تک نہیں۔

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑوں کو جمایا اور اسمیں ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگائیں۔

ف 2۔ اس لئے کہ کبھی تعجب ہے کبھی تکذیب ہے۔
Ayahs 50:8–10

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

جو ذریعہ ہے بینائی اور دانائی کا (ف 3) ہر رجوع ہونے والے بندے کے لئے۔ (ف 4)

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان سے برکت (یعنی نفع) والا پانی برسایا پھر اس سے بہت سے باغ اگائے اور کھیتی کا غلہ۔

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور لمبی لمبی کھجور کے درخت جن کے گپھے خوب گوندھے ہوئے ہوتے ہیں۔

ف 3۔ یعنی ہماری قدرت کی معرفت کا ذریعہ ہے۔ 4۔ یعنی ایسے شخص کے لئے جو اس غرض سے مصنوعات میں فکر کرنے کی طرف متوجہ ہو کہ وہ عین توجہ الی الصانع ہے۔
Ayahs 50:11–13

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

بندوں کے رزق دینے کے لئے اور ہم نے اس (بارش) کے ذریعہ سے مردہ زمین کو زندہ کیا (پس) اسی طرح زمین سے نکلنا ہوگا۔ (ف 5)

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

اس سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) اور اصحاب الرس اور ثمود۔

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد (علیہ السلام) اور فرعون اور قوم لوط (علیہ السلام) ۔

ف 5۔ یعنی جب ان امور پر ہماری قدرت ثابت ہوگئی تو احیاء موتی پر کیوں نہ ہوگی، پس مقدر و ممکن اور فاعل علم وقدرت سے متصف ثابت ہوا، پھر تعجب یا تکذیب کیا معنی ؟
Ayahs 50:14–15

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور اصحاب ایکہ اور قوم تبع تکذیب کرچکے ہیں (یعنی) سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا سو میری وعید (ان) پر محقق ہوگئی۔ (ف 1)

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے میں تھک گئے بلکہ یہ لوگ از سر نو پیدا کرنے کی طرف سے (محض بےدلیل) شبہ میں ہیں۔

ف 1۔ یعنی ان سب پر عذاب نازل ہوا، اسی طرح ان مکذبین پر عذاب آئے گا، خواہ دنیا میں بھی یا صرف آخرت میں۔
Ayahs 50:16–18

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اسکے جی میں جو خیالات آتے ہیں ہم ان کو جانتے ہیں اور ہم انسان کے اس قدر قریب ہیں کہ اسکی رگ گردن سے بھی زیادہ۔ (ف 2)

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب دو اخذ کرنے والے فرشتے اخذ کرتے رہتے ہیں جو کہ دائیں اور بائیں طرف بیٹھے رہتے ہیں۔

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالنے پاتا مگر اسکے پاس ہی ایک تاک لگانے والا تیار ہے۔

ف 2۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم باعتبار علم کے اس کی روح اور نفس سے بھی نزدیک تر ہیں، یعنی جیسا علم انسان کو اپنے احوال کا ہے ہم کو اس کا علم خود اس سے بھی زیادہ ہے۔
Ayahs 50:19–29

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور موت کی سختی (قریب) آپہنچی (ف 3) یہ (موت) وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور (قیامت کے دن دوبارہ) صور پھونکا جائے گا یہی دن ہوگا وعید کا۔

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور ہر شخص اس طرح (میدان قیامت میں) آوے گا کہ اس کے ساتھ ایک اسکو اپنے ہمراہ لاوے گا۔ اور ایک (اس کے اعمال کا) گواہ ہوگا۔

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

تو اس دن سے بیخبر تھا سو اب ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ (غفلت کا) ہٹادیا سو آج (تو) تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور (اسکے بعد) فرشتہ جو اسکے ساتھ رہتا تھا عرض کرے گا کہ یہ وہ (روزنامچہ) ہے جو میرے پاس تیار ہے۔

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

ایسے شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کفر کرنے والا ہو اور (حق سے) ضد رکھتا ہو۔

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

اور نیک کام سے روکتا ہو اور حد (عبودیت) سے باہر ہوجانے والا ہو۔ اور دین میں شبہ پیدا کرنے والا ہو۔

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے خدا کے ساتھ دوسرا معبود تجویز کیا ہو سو ایسے شخص کو سخت عذاب میں ڈال دو ۔

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

وہ شیطان جو اسکے ساتھ رہتا تھا کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے تو اسکو (جبراً ) گمراہ نہیں کیا تھا لیکن یہ خود دور و دراز کی گمراہی میں تھا۔

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

ارشاد ہوگا کہ میرے سامنے جھگڑے کی باتیں مت کرو (کہ بےسود ہیں) اور میں تو پہلے ہی تمہارے پاس وعید بھیج چکا تھا۔

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

میرے ہاں (وہ) بات (وعید مذکور کی) نہیں بدلی جاوے گی اور میں (اس تجویز میں) بندوں پر ظلم کرنیوالا نہیں ہوں۔

ف 3۔ یعنی ہر شخص کی موت قریب ہے۔
Ayah 50:30

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

جس دن کہ ہم دوزخ سے کہیں گے تو بھر بھی گئی اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ یہ پوچھنا شاید تہویل کفار کے لئے ہو کہ جواب سن کر ان کے دل میں دوزخ کا خوف اور ڈر پیدا ہوجائے کہ ہم کیسے غضب کے ٹھکانے پہنچے ہیں۔
Ayahs 50:31–35

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور جنت متقیوں کے قریب لائی جاوے گی کہ کچھ دور نہ رہے گی۔ (ف 1)

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کہ وہ ہر ایسے شخص کے لئے ہے جو رجوع ہونیوالا پابندی کرنیوالا ہو۔

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو شخص خدا سے بےدیکھے ڈرتا ہو اور رجوع ہونے والا دل لے کر آوے گا۔

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ ․یہ دن ہمیشہ رہنے کا۔

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان کو بہشت میں سب کچھ ملے گا جو جو چاہیں گے اور ہمارے پاس اور بھی زیادہ (نعمت) ہے۔

ف 1۔ ازلاف جنت کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں، یا تو اس کی جگہ سے منتقل کر کے میدان قیامت میں لے آویں، اور اللہ کو سب قدرت ہے، تو اس صورت میں ادخلوھا فرمانا بایں معنی نہیں کہ ابھی چلے جاو بلکہ بشارت اور وعدہ ہے کہ تم بعد حساب و کتاب وغیرہ کے اس میں جانا، اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بعد فراغ حساب وغیرہ کے ان لوگوں کو جنت کے قریب پہنچا کر باہر ہی سے کہا جائے گا کہ فھذا ما تو عدون پھر اور قریب کر کے کہا جائے گا ادخلوھا۔
Ayahs 50:36–39

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور ہم ان (اہل مکہ) سے پہلے بہت سی امتوں کو ھلاک کرچکے ہیں جو قوت میں ان سے (کہیں) زیادہ تھے اور تمام شہروں کو چھانتے پھرتے تھے (ف 2) (لیکن جب ہمارا عذاب نازل ہوا تو ان کو) کہیں بھاگنے کی جگہ بھی نہ ملی۔ (ف 3)

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

اس میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جسکے پاس (فہیم) دل ہو یا وہ (کم از کم دل سے) متوجہ ہو کر ( بات کی طرف) کان سے لگا دیتا ہو۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہیں اس سب کو چھ دن میں پیدا کیا اور ہم کو تکان نے چھوا تک نہیں۔

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

تو ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہئیے (اس میں نماز بھی داخل ہے) آفتاب نکلنے سے پہلے (مثلاصبح کی نماز) اور چھپنے سے پہلے (مثلا ظہرو عصر) ۔

ف 2۔ یعنی قوت کے ساتھ اسباب معیشت میں بھی بڑی ترقی دی تھی۔ 3۔ یعنی کسی طرح بچ نہ سکے۔
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور رات میں بھی اسکی تسبیح کیا کیجئے (اس میں مغرب اور عشاء آگئی) اور (فرض) نمازوں کے بعد بھی۔ (ف 4)

ف 4۔ حاصل یہ ہوا کہ ذکر اللہ میں اور اس کی فکر میں لگے رہیے، تاکہ ان کے اقوال کفریہ کی طرف توجہ نہ ہو۔