Ayah 49:1اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول سے پہلے تم کسی قول یا فعل میں سبقت مت کیا کرو اس وقت تک کہ رسول اکرم ہی تمہیں کسی چیز کا حکم دیں یا روکیں اور نہ کسی قتل میں اور یوم النحر میں قربانی کے جانور ذبح کرنے میں یا یہ کہ نہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کیا کرو اور نہ رسول اللہ کی یا یہ کہ نہ کتاب اللہ کی مخالفت کیا کرو اور نہ سنت رسول کی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ کہ کہیں تم کوئی قول و فعل بغیر حکم الہی اور حکم رسول کے کرو اور ڈرتے رہو اس بات سے کہ کہیں تم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی مخالفت کرو اللہ تعالیٰ تمہارے سب اقوال کو سننے والا اور جاننے والا ہے۔
یہ آیت اصحاب رسول اکرم میں سے تین لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے اللہ اور رسول کی جانب سے پہلے بنی سلیم کے دو افراد کو جن سے رسول اکمر کی صلح ہوئی تھی مار ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز سے منع کردیا کہ بغیر اللہ اور رسول کی اجازت کے کچھ مت کرو اللہ تعالیٰ ان دونوں کی باتوں کو سننے والا ہے اور ان کے احوال سے واقف ہے اور ان کی باتیں یہ تھیں کہ اگر ایسا ہوگا تو ایسا ہوگا۔
شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا (الخ)
امام بکاری نے ابن جریج عن ابن ابی ملیکہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا ہے کہ بنی تمیم کے کچھ سوار رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت ابوبکر نے عرض کی کہ ان پر قعقاع بن معبد کو امیر بنا دیجیے، حضرت عمر نے کہا کہ بلکہ اقرع بن حابس کو امیر بنا دیجیے، ابوبکر صدیق نے کہا کہ تم میری مخالفت کرنا چاہتے ہو، عمر بولے میں نے تمہاری مخالفت کا ارادہ نہیں کیا، غرض کہ دونوں میں تیز کلامی ہوئی حتی کہ دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں اس بارے میں آیت نمبر 1 تا 5 نازل ہوئیں۔
اور ابن منذر نے حسن سے روایت کیا ہے کہ یوم النحر کو کچھ لوگوں نے رسول اکرم سے پہلے قربانیاں ذبح کرلیں، چناچہ ان کو دوبارہ قربانیاں ذبح کرنے کا حکم دیا اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ابن ابی الدنیا نے کتاب الاضاحی میں ان الفاظ کے ساتھ روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کرلی تھی اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
اور امام طبرانی نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ کچھ لوگ مہینہ پہلے شروع کرلیتے تھے اور رسول اکرم سے پہلے روزہ رکھنا شروع کردیتے تھے اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
اور ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا گیا کہ کچھ لوگوں نے کہا کاش ہم پر یہ حکم نازل ہوتا اس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Ayah 49:2اگلی آیت ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس وقت وفد بنی تمیم آیا تو رسو اکرم کے سامنے اونچی آواز میں بات کر رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے منع کردیا کہ اے ایمان والو یعنی اے ثابت تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور نہ آپ سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسا آپس میں ایک دوسرے کا نام لے کر کھل کر بولا کرتے ہو۔
بلکہ تعطیم و توقیر اور احترام کے ساتھ آپ کہہ کر مخاطب کیا کرو یا نبی اللہ یا رسول اللہ وغیرہ الفاظ سے مخاطب کرو، یوں نہ ہو کہ کبھی ترک ادب و احترام نبی اکرم کی وجہ سے تمہارے نیک اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں ان کے برباد ہونے کی خبر بھی نہ ہو۔
شان نزول : لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ (الخ)
نیز قتادہ ہی سے روایت کیا ہے کہ کچھ لوگ آپ سے زور سے گفتگو کرتے تھے اور آپ کے سامنے آوازیں بلند کرتے تھے ان کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
Ayah 49:3بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اکرم کے سامنے نیچی رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے تقوی اور توحید کے لیے خالص کردیا ہے ان کے دنیوی گناہوں کے لیے مغفرت اور آخرت میں اجر عظیم ہے، یہ آیت بھی حضرت ثابت بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی تعریف فرمائی ہے، کیونکہ انہوں نے ممانعت کے بعد آواز بالکل آہستہ کردی تھی۔
شان نزول : اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ (الخ)
نیز محمد بن ثابت بن قیس سے روایت ہے کہ جس وقت یہ آیت لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ نازل ہوئی تو حضرت ثابت بن قیس رستہ میں بیٹھ کر رونے لگے، حضرت عاصم بن عدی کا ان کے پاس سے گزر ہوا وہ بولے کیوں روتے ہو، حضرت ثابت نے جواب دیا مجھے یہ آیت مبارکہ رلاتی ہے کیونکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی ہو اس لیے کہ میں بہت بولنے ولا اور بلند آواز آدمی ہوں۔ حضرت عاصم نے اس چیز کی رسول اکرم کو اطلاع دی آپ نے ان کو بلایا اور فرمایا کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ خوبیوں والی زندگی بسر کرو اور شہید ہو اور پھر جنت میں داخل ہو، حضرت ثابت کہنے لگے میں اس پر راضی ہوں اور میں کبھی بھی اپنی آواز رسول اکرم کی آواز کے سامنے بلند نہیں کروں گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 49:4جو لوگ ازواج مطہرات کے حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں وہ حکم الہی اور توحید الہی اور رسول اکرم کے احترام کو نہیں سمجھتے۔
شان نزول : اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ (الخ)
امام طبرانی نے اور ابو یعلی نے سند حسن کے ساتھ زید بن ارقم سے روایت کیا کہ عربوں میں سے کچھ لوگ رسول اکرم کے حجروں پر آئے اور آکر یا محمد یا محمد کہہ کر پکارنے لگے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
اور عبدالرزاق نے بواسطہ معمر قتادہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے محمد میری تعریف شاندار ہے اور میری مذمت بری ہے، آپ نے فرمایا یہ شان اللہ تعالیٰ کی ہے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، یہ روایت مرسل ہے اور اس کے ترمذی میں بغیر ذکر نزول آیت براء بن عازب وغیرہ کی روایت سے بہت سے مرفوع شواہد موجود ہیں۔ اور ابن جریر نے حسن سے اسی طرح روایت کی ہے۔
اور امام احمد نے سند صحیح کے ساتھ اقرع بن حابس سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حجروں کے باہر سے رسول اکرم کو پکارا آپ نے کچھ جواب نہیں دیا تب بولے اے محمد میری مدح قابل ستائش ہے اور میری مذمت بہت بری ہے تب آپ نے فرمایا یہ شان صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔
اور ابن جریر نے اقرع سے روایت کیا ہے کہ وہ رسول اکرم کی خدمت میں آئے اور بولے اے محمد ہماری طرف آیے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 49:5قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ بنی عنبر کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی واقعہ یہ پیش آیا کہ رسول اکرم نے ان کی طرف ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور ان پر عیینہ بن حصن کو امیر بنایا، چناچہ جب یہ لشکر ان کے پاس پہنچا تو یہ سب اپنے اہل و عیال اور اموال چھوڑ کر بھاگ گئے۔ چناچہ ان کی اولاد قید کر کے رسول اکرم کی خدمت میں لائی گئی تو یہ لوگ اس غرض سے مدینہ منورہ آئے کہ فدیہ دے کر اپنی اولاد کو چھڑالیں۔ چناچہ دوپہر آرام کے وقت جبکہ آپ آرام فرما رہے تھے آپ کو حجرے کے باہر سے پکارا کہ محمد ہمارے پاس آؤ، اللہ تعالیٰ نے ان کی اس حرکت کی مذمت فرمائی اور فرمایا اگر یہ لوگ کچھ انتظار کرتے یہاں تک کہ آپ نماز کے لیے خود باہر آجاتے تو آپ خود ان کے بچوں اور عورتوں کو آزاد کردیتے، چناچہ حضور نے ان سے آدھے لوگوں کا فدیہ لیا اور ان کو آزاد کردیا اور اگر یہ لوگ اب بھی توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے اسی وجہ سے اس نے فورا سزا نہیں دی۔
Ayah 49:6یہ آیت بھی ایک واقعہ کے تحت نازل ہوئی ہے وہ یہ کہ رسول اکرم نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنی مصطلق سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا، یہ راستہ ہی سے واپس آگئے اور اپنے خیال کے مطابق کہ دیا کہ وہ لوگ تو میرے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں یہ سن کر رسول اکرم اور صحابہ کرام نے ان لوگوں سے لڑائی کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا اور یہ حکم دیا کہ اے ایمان والو اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے جیسا کہ ولید بن مصطلق کی خبر لایا ہے تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو کہ صحیح ہے یا غلط، کہیں کسی قوم کو اپنی نادانی سے کوئی نقصان نہ پہنچا دو پھر اس لیے پچھتانا پڑے۔
شان نزول : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ (الخ)
امام احمد نے سند جید کے ساتھ ابن ضرور خزاعی سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی میں نے اسلام قبول کرلیا اور اسلام میں داخل ہوگیا اور آپ نے مجھے زکوٰۃ کا حکم دیا میں نے اس کو بھی قبول کرلیا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنی قوم کی طرف جاتا ہوں اور اسے اسلام اور زکوٰۃ ادا کرنے کی دعوت دیتا ہوں، تو جو میری بات قبول کرلے گا اس کی زکوٰۃ میں جمع کرلوں گا تو آپ فلاں وقت میرے پاس قاصد بھیج دیں تاکہ میں نے جو زکوٰۃ کا مال جمع کیا ہو آپ کے پاس لے آئے۔ چناچہ جب حارث نے زکوٰۃ کا مال جمع کرلیا اور وہ وقت مقررہ بھی آگیا تو قاصد ان کے پاس نہ پہنچا تو حارث یہ سمجھے کہ کچھ ناراضگی پیش آگئی تو انہوں نے اپنی کے سرداروں کو جمع کرکے ان سے کہا کہ رسول اکرم نے ایک وقت طے کیا تھا تاکہ اس وقت آپ قاصد بھیجیں کہ زکوٰۃ میرے پاس جمع ہوئی ہے وہ لے جائے، اور رسول اکرم کا یہاں کوئی خلیفہ بھی نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ رسول اکرم نے ناراضگی کی وجہ سے اپنے قاصد کو نہیں بھیجا، لہذا تم تیار ہوجاؤ تاکہ خود رسول اکرم کی خدمت میں پہنچیں۔
اور دوسری طرف رسول اکرم نے ولید بن عقبہ کو ان کے پاس زکوٰۃ کا مال لینے کے لیے بھیجا اور چناچہ جب ولید روانہ ہوئے تو ان سے ڈرے اور واپس آکر اپنے خیال کے مطابق کہہ دیا کہ حارث نے زکوٰۃ کا مال نہیں دیا اور میرے قتل کا ارادہ کیا۔
یہ سن کر رسول اکرم نے حارث کی طرف ایک جماعت روانہ کی جب حارث نے وہ جماعت آتی دیکھی تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور بولے کہ تم لوگ کہاں بھیجے گئے ہو انہوں نے کہا کہ آپ کی طرف آئے ہیں، حارث بولے کیوں ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اکرم نے تمہاری طرف ولید بن عقبہ کو بھیجا ان کا خیال ہے کہ تم نے انہیں زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اور قتل کرنا چاہا، حارث بولے ہرگز نہیں قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے نہ میں نے ان کو دیکھا اور نہ وہ میرے پاس آئے ہیں۔
چناچہ جب حارث رسول اکرم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ تم نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اور میرے قاصد کو قتل کرنا چاہا، حارث بولے ہرگز نہیں قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو مبعوث کیا ہے تب یہ آیت نازل ہوئی، یعنی اے ایمان والو اگر کوئی شریر آدمی (الخ) اس سند کے رجال ثقہ ہیں۔
اور امام طبرانی نے اسی طرح جریر بن عبداللہ اور علقمہ بن ناجیہ اور ام سلمہ سے اور ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس اور دوسرے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے۔
Ayah 49:7اور اے گروہ مومنین جان لو کہ تم میں رسول اکرم موجود ہیں اور بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ اس میں تمہاری رائے پر عمل کرلیا کریں تو تمہیں بڑا نقصان پہنچے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان کامل کی محبت دی ہے اور اس کو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت اور نفاق اور تمام گناہوں سے تمہیں نفرت دے دی۔
Ayah 49:8ایسے ہی صفات والے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعام سے سیدھے راستے پر ہیں۔
اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی بزرگی کو جاننے والا اور حکمت والا ہے کہ اس نے ایمان کامل تمہیں عطا کیا اور کفر و فسوق اور عصیان سے تمہارے دلوں میں نفرت پیدا کردی۔
Ayah 49:9اور اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں کتاب اللہ کے ذریعے صلح کردو۔ عبداللہ بن ابی بن سلول منافق اور اس کے ساتھی اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ اور ان کی جماعت ان دونوں گروہوں کی تیز کلامی پر کچھ لڑائی ہوگئی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات سے منع کردیا اور صلح کا حکم دیا کہ پھر بھی اگر ابن سلول منافق کا گروہ دوسرے پر یعنی حضرت عبداللہ بن رواحہ کی جماعت پر زیادتی کرے اور حکم الہی کے مطابق صلح پر آمادہ نہ ہو تو اس گروہ سے لڑو جو کہ طلم و زیادتی کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے فیصلہ پر آمادہ ہوجائے۔
شان نزول : وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (الخ)
بخاری و مسلم نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم اپنے گدھے پر سوار ہو کر عبداللہ بن ابی منافق کے پاس سے گزرے۔ وہ بدبخت کہنے لگا کہ اپنے گدھے کو مجھ سے دور کرو کیونکہ آپ کے گدھے کی بدبو نے مجھے پریشان کردیا یہ سن کر ایک انصاری بولے اللہ کی قسم تجھ سے زیادہ آپ کا گدھا پاکیزہ اور خوشبو والا ہے، تو عبداللہ منافق کی حمایت میں اس کی قوم میں سے ایک شخص غصہ ہوا غرض یہ کہ ان میں سے ہر ایک جماعت میں سے ان کے ساتھی غصہ ہوئے اور دونوں جماعتوں میں کھجوروں کی شاخوں، جوتوں اور ہاتھوں سے ایک دوسرے کی خوب پٹائی ہوئی، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
اور سعید بن منصور اور ابن جریر نے ابی مالک سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے دو اشخاص میں باہم گالم گلوچ ہوئی اور دونوں میں سے ہر ایک کی قوم اس کی حمایت میں غصہ ہوئی، چناچہ دونوں جماعتوں میں ہاتھوں اور جوتوں کے ساتھ خوب لڑائی ہوئی تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی سے روایت کیا ہے کہ عمران نامی ایک شخص انصار میں سے تھا اس کے نکاح میں ایک عورت ام زید نامی تھی اس نے اپنے گھر والوں سے ملنا چاہا تو اس کے خاوند نے اس کو جانے سے منع کیا اور اپنے مکان کے بالاخانے میں بند کردیا اس عورت نے اپنے گھر والوں کے پاس قاصد بھیج دیا اس کی قوم نے آکر اسے اتار لیا اور لے جانا چاہا اس شخص نے بھی باہر نکل کر گھر والوں کو بلایا تو اس کے چچا زاد بھائی چلے آئے اور انہوں نے چاہا کہ عورت اور اس کے گھر والوں کے درمیان رکاوٹ کردیں، غرض یہ کہ انہوں نے اس کی قوم کو ہٹانا چاہا اور آپس میں مار پٹائی ہوئی تو ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ چناچہ رسول اکرم نے ان کے پاس ایک قاصد بھیجا اس نے جاکر ان کے درمیان صلح کرائی اور وہ سب حکم خداوندی کی طرف لوٹ آئے۔
اور ابن جریر نے حسن سے روایت کیا ہے کہ دو قبیلوں میں باہم لڑائی تھی، انہیں فصیل کی طرف بلایا جاتا تھا وہ اس کی بات ماننے سے انکار کرتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
اور نیز قتادہ سے روایت کیا ہے کہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ یہ آیت دو انصاری افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے دونوں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا تھا، چناچہ ان میں سے ایک نے دوسرے سے اپنے خانداد کی کثرت کی وجہ سے کہا کہ میں تجھ سے زبردستی لے لوں گا اور دوسرے نے اسے اس بات کی دعوت دی کہ اس معاملہ میں رسول اکرم سے فیصلہ کرالیں مگر اس نے اس چیز کو نہیں مانا غرضیکہ جھگڑا چلتا رہا، یہاں تک کہ دونوں میں جوتوں اور ہاتھوں کے ساتھ مار پٹائی ہوئی، البتہ تلواروں سے کسی قسم کی لڑائی نہیں ہوئی۔
Ayah 49:10مسلمان تو سب اشتراک فی الدین کی وجہ سے بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں کے درمیان کتاب اللہ کے ذریعہ سے اصلاح کرا دیا کرو اور اصلاح کے وقت اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے اور عذاب نہ ہو۔
Ayah 49:11اے ایمان والو نہ تو مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہیے، یہ آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے ایک انصاری شخص کی ماں کا تذکرہ کر کے ان کو عار دلائی تھی جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ان کو عار دلایا کرتے تھے، اس چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا اسی طرح اگلی آیت کا حصہ ازواج مطہرات میں سے دو بیویوں کے بارے میں نازل ہوا ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کا مذاق اڑایا تھا اس چیز سے بھی اللہ تعالیٰ نے روک دیا اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہیے کیا عجب ہے کہ جن پر ہنستے ہیں وہ ان سے ہنسنے والوں سے اللہ کے نزدیک بہتر اور افضل ہوں، اور نہ اپنے مسلمان بھائیوں کی عیب جوئی کرو اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب اور گالی گلوچ کے ساتھ پکارو۔
کیونکہ ایمان لانے کے بعد مسلمان پر گناہ کا نام لگتا ہی برا ہے جب ایک شخص اسلام لے آیا اور کفر کو چھوڑ دیا پھر اسے یہودی نصرانی مجوسی کہہ کر پکارنا ہی برا اور گناہ کی بات ہے۔
شان نزول : وَلَا تَنَابَزُوْا بالْاَلْقَابِ (الخ)
سنن اربعہ نے ابی جبیر بن ضحاک سے روایت نقل کی ہے کہ ہم میں سے ایک شخص کے دو نام تھے اور تیسرا بھی تھا، جب ایک نام لے کر اسے پکارا جاتا تو اسے ناگوار گزرتا تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔ امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔
اور امام حاکم نے انہیں سے روایت نقل کی ہے کہ جاہلیت میں لوگوں کے لقب تھے، چناچہ رسول اکرم نے ایک شخص کو اس کے لقب کے ساتھ پکارا آپ سے کہا گیا یا رسول اللہ یہ لقب اسے برا معلوم ہوتا ہے۔ اس پر حق تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ اور امام احمد نے انہی سے ان الفاظ میں روایت نقل کی ہے کہ ہمارے یعنی بنی سلمہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ رسول اکرم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہ تھا کہ جس کے دو یا تین نام نہ ہوں۔ چناچہ جب آپ ان میں سے کسی کو اس کے ان ناموں میں سے کسی نام کے ساتھ پکارتے تھے تو وہ لوگ کہتے یا رسول اللہ وہ اس نام سے غصہ ہوتا ہے تب یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 49:12اور اے ایمان والو بہت سے گمانوں سے بچا کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔
یہ آیت دو صحابیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے اپنے ساتھی حضرت سلمان فارسی کی غیبت کی تھی اور حضرت اسامہ خادم رسول اکرم کے ساتھ بدگمانی کی تھی اور ان کا سراغ لگایا تھا کہ ان کے پاس کچھ چیز موجود ہے، جس کے بارے میں رسول اکرم نے ان کو دینے کا حکم دیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بدگمانی غیبت اور سراغ لگانے سے منع کردیا، یعنی اپنے بھائی کے آنے جانے کے بارے میں جو تم گمان کرتے ہو جیسا کہ اس مقام پر حضرت اسامہ کے بارے میں گمان کیا یہ گمان مت کرو۔
اور نہ کسی عیب کا کھوج لگاؤ اور نہ اس چیز کی تحقیق کرو جس کی حق تعالیٰ نے پردہ پوشی فرما دی ہے اور کوئی کسی کی غیبت نہ کیا کرے جیسا کہ اس مقام پر حضرت سلمان فارسی کی غیبت کی ہے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اس کو تم ضرور ناگوار اور حرام سمجھتے ہو، پس غیبت بھی اسی کے مشابہ ہے اسے بھی اسی طرح سمجھنا چاہیے۔ اور اس بات سے اللہ سے ڈرتے رہو کہ کہیں کسی کی غیبت نہ کر بیٹھو۔
شان نزول : وَلَا يَغْتَبْ (الخ)
ابن منذر نے ابن جریح سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں لوگوں کا خیال ہے کہ یہ آیت حضرت سلمان فارسی کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے کھانا کھایا پھر سو گئے اور خراٹے لینے لگے تو ایک شخص نے ان کے کھانا کھانے اور ان کے سونے کا تذکرہ کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ کوئی کسی کی غیبت نہ کیا کرے۔
Ayah 49:13اگلی آیت حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے ایک شخص سے کہا تھا کہ تو فلاں کا لڑکا ہے اور کہا گیا ہے کہ حضرت بلال قریش کے ایک گروہ سہل بن عمرو حارث بن ہشام اور ابو سفیان بن حرب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، فتح مکہ کے سال ان لوگوں نے جب حضرت بلال کی اذان سنی تو یہ بولے کہ حق تعالیٰ اور اس کے رسول کو اس کے علاوہ کوئی موذن نہیں ملا، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے لوگو ہم نے تم سب کو ایک مرد و عورت یعنی آدم و حوا سے پیدا کیا ہے، پھر تمہیں مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا یا یہ کہ پھر تمہیں غلام اور آزاد بنایا صرف اس لیے تاکہ تم ایک دوسرے کو شناخت کرسکو کہ جس وقت تم سے پوچھا جائے کہ تم کون ہو تو جواب میں کہہ سکو کہ قریش سے ہوں یا کندہ وغیرہ سے۔
قیامت کے دن تو تم سب میں اللہ کے نزدیک بڑا شریف وہ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہو اور وہ حضرت بلال ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہارے حسب و نسب کو اچھی طرح جاننے والا اور وہ وہی تمہارے اعمال اور اللہ کے نزدیک عزت والا ہونے سے پورا خبردار ہے۔
شان نزول : يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ (الخ)
ابن ابی حاتم نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے کہ فتح مکہ کے دن حضرت بلال خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھے اور اذان دی تو اس پر بعض لوگ کہنے لگے کیا یہ سیاہ غلام بیت اللہ کی چھت پر اذان دیتا ہے تو اس پر ان میں سے بعض نے کہا یہ اپنے علاوہ دوسرے سے اللہ تعالیٰ کو ناراض کردے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے۔
اور ابن عساکر نے کہا ہے کہ میں نے ابن بشکوال کی تحریر میں پایا ہے کہ ابوبکر بن داؤد نے اپنی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابی ہند کے بارے میں نازل ہوئی ہے، رسول اکرم نے بنی بیاضہ کو حکم دیا کہ اپنے میں سے کسی عورت کی ان سے شادی کردیں اس پر وہ لوگ بولے یا رسول اللہ ہم اپنی لڑکیوں کی اپنے غلاموں سے شادی کریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 49:14اگلی آیت بنی اسد کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو لوگ سخت فاقہ میں مبتلا ہوگئے تھے تو مع اپنے اہل و عیال سب کے سب اسلام لے آئے اور رسول اکرم کی خدمت میں آئے تاکہ آپ سے کچھ مال و متاع حاصل کرلیں، چناچہ ان لوگوں نے آکر مدینہ منورہ میں گرانی پھیلا دی اور اس کے رستوں کو گندگی سے بھر دیا، حقیقت میں یہ لوگ منافق تھے مگر ظاہرا کہتے تھے یا رسول اللہ ہمیں کہلایئے اور ہمارا احترام کیجیے، ہم مخلص ہیں اور اپنے ایمان میں سچے ہیں۔ مگر یہ منافق تھے اپنے قول میں جھوٹے تھے، حق تعالیٰ نے انہیں کے مقابلہ کو روایت کردیا کہ کچھ گنوار یعنی بنی اسد والے آپ کے پاس آکر بلا تصدیق لب محض زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے۔
آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم ایمان تو نہیں لائے ہاں یوں کہو کہ ہم مطیع ہوگئے تاکہ قید اور قتل سے محفوظ رہیں۔ باقی ابھی تک تصدیق ایمان اور حلاوت ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔
لیکن اب دل سے تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا کہا مان لو اور کفر و نفاق سے توبہ کرلو جیسا کہ زبان سے اس چیز کا اظہار کرتے ہو، تو پھر اللہ تعالیٰ تمہاری نیکیوں کے ثواب میں سے ذرا بھی کمی نہ کرے گا تائب اور توبہ پر مرنے والے کو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے اور اس پر رحمت فرمانے والا ہے۔
Ayah 49:15حقیقی مومن تو وہ ہیں جو سچائی اور خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر اپنے ایمان میں کبھی شک نہیں کیا اور اپنے جان و مال سے اطاعت خداوندی میں محنت اٹھائی سو یہی لوگ اپنے ایمان و اطاعت میں پورے سچے ہیں۔
Ayah 49:16آپ بنی اسد سے یہ بھی فرما دیجیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو اپنے دین قبول کرنے کی خبر دیتے ہو کہ تم اس میں سچے ہو یا جھوٹے، حالانکہ اللہ تعالیٰ تم کو تمام آسمانوں اور زمین والوں کے دلوں کی خبر ہے اور اس کے علاوہ اور بھی ان کی تمام پوشیدہ چیزوں سے واقف ہے۔
Ayah 49:17یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں جس کا اظہار بایں الفاظ کرتے ہیں کہ ہمیں کھانے کو دیجیے اور ہمارا احترام کیجیئے کہ ہم اسلام لے آئے۔
آپ ان سے فرما دیجیے کہ مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں تصدیق ایمان کی طرف بلایا بشرطیکہ تم اپنے اس دعوے ایمان میں سچے ہو۔
شان نزول : يَمُنُّوْنَ عَلَيْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا (الخ)
امام طبرانی نے سند حسن کے ساتھ عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت کیا ہے کہ عرب کے کچھ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہم نے اسلام قبول کیا اور ہم نے آپ سے قتال نہیں کیا بنی فلاں نے آپ سے قتال کیا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں۔
اور بزار نے سعید بن جبیر کے طریق سے حضرت ابن عباس سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور ابن ابی حاتم نے حسن سے اسی طرح روایت نقل کی ہے باقی یہ کہ یہ چیز فتح مکہ کے وقت پیش آئی۔
اور ابن سعد نے محمد بن کعب قرظی سے روایت کیا ہے کہ 9 ہجری میں بنی اسد کے دس آدمی رسول اکرم کی خدمت میں آئے اور ان میں طلحہ بن خویلا بھی تھے اور آپ اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد میں تشریف فرما تھے ان لوگوں نے آکر سلام کیا ان کے متکل نے کہا یا رسول اللہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے اور آپ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور ہم خود یا رسول اللہ آپ کی خدمت میں آگئے اور آپ نے ہماری طرف کوئی وفد نہیں بھیجا اور ہم اور جو لوگ ہمارے پیچھے ہیں سب فرمانبردار ہیں۔ اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
اور سعید بن منصور نے اپنی سنن میں سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ دیہاتیوں یعنی بنی اسد میں سے ایک جماعت رسول اکرم کی خدمت میں آئی اور آکر کہنے لگی کہ ہم خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور ہم نے آپ سے قتال نہیں کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 49:18مگر تم جھوٹے ہو سچے نہیں اور اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی سب پوشیدہ چیز کو جانتا ہے۔
اور اے جماعت منافقین تمہارے نفاق سے بھی اور اگر تم توبہ نہ کرو تو تمہاری سزا سے بھی واقف ہے۔