49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 49:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

مومنو! (کسی بات کے جواب میں) خدا اور اس کے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے

یا ایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ و رسولہ واتقوا اللہ ان اللہ سمیع علیم . اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اجازت سے پہلے تم سبقت مت کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ بیشک اللہ تمہارے اقوال کو سننے والا اور تمہارے اعمال کو جاننے والا ہے۔ لَا تُقَدِّمُوْا : بعض اہل علم نے کہا : لَا تُقَدِّمُوْا فعل متعدی ہے اور مفعول محذوف ہے۔ مفعول اگر ذکر کیا جاتا تو محدود ہوجاتا اور مقصود تھا عموم۔ مفعول یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے پیش دستی نہ کرو۔ نہ قول میں ‘ نہ فعل میں یا مفعول بالکل متروک ہے اور فعل متعدی کو بجائے لازم کے ذکر کیا یعنی تمہاری جانب سے پیش قدمی نہ ہو۔ بَیْنَ یَدَیْ : (دونوں ہاتھوں کے درمیان) بطور استعارہ اس مسافت کو کہتے ہیں جو دو متقابل جہتوں یعنی دائیں بائیں جہتوں کے درمیان قریب ہی ہو۔ آیت میں تقدم زمانی کو تقدّم مکانی سے تشبیہ دی گئی ہے (اور تقدّم مکانی کا لفظ بول کر تقدّم زمانی مراد لیا ہے) یعنی اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے فرمان سے پہلے اپنا فیصلہ نہ کرو ‘ نہ قولی نہ فعلی۔ ضحاک نے کہا : یعنی جہاد اور قوانین دین کے معاملے میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے پہلے فیصلہ نہ کرو۔ ابو عبیدہ نے کہا : عرب کہتے ہیں : لا تقدم بین یدی الامام ...... لا تقدم بین یدی الاب . یعنی حکم دینے ‘ ممانعت کرنے اور جھڑکنے میں حاکم اور باپ سے عجلت نہ کرو۔ بعض اہل علم نے کہا کہ اصل مقصد ہے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے پیش دستی کرنے کی ممانعت۔ اللہ کا ذکر رسول اللہ ﷺ کی عظمت کے اظہار کے لیے کیا گیا ہے اور اس بات کی طرف ایماء کرنا مقصود ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ پر تقدیم گویا اللہ پر تقدیم ہے۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک آپ ﷺ کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ آپ ﷺ کی تعظیم اللہ کی تعظیم اور آپ ﷺ سے بےادبی کرنی اللہ سے بےادبی کرنی ہے۔ اسی مضمون کو آیت : (اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللہ یَدُ اللہ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ ) میں بیان کیا گیا۔ ابن المنذر نے حسن کا بیان نقل کیا ہے کہ قربانی کے دن کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے پہلے قربانی کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ دوبارہ قربانی کریں۔ اس پر آیت نازل ہوئی۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب الاضاحی میں یہ روایت نقل کی ہے۔ اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ نماز سے پہلے انہوں نے قربانی کی تھی ‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت براء بن عازب کا بیان ہے کہ قربانی کے دن رسول اللہ ﷺ نے ہم کو خطاب کیا اور فرمایا : آج سب سے پہلے ہم نماز ادا کریں پھر واپس آکر قربانی کریں۔ جس نے ایسا کیا اس نے ہمارے طریقہ کو پا لیا اور جس نے نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کی تو یہ (قربانی نہیں بلکہ) معمولی گوشت ہے جو گھر والوں کے لیے اس نے پہلے سے تیار کرلیا ہے۔ قربانی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ (متفق علیہ) حضرت جندب بن عبد اللہ ؓ : کی روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ قربانی کے دن رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی پھر خطبہ دیا پھر قربانی کی پھر فرمایا : جس نے نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کی وہ اسکی جگہ اور قربانی کرے۔ (متفق علیہ) احادیث مذکورہ کی روشنی میں امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک اور امام محمد (رح) نے فرمایا کہ امام کی نماز سے پہلے قربانی کرنی جائز نہیں۔ امام شافعی (رح) کا قول اس سے مختلف ہے۔ آپ (رح) نے فرمایا : قربانی کے دن طلوع آفتاب کے بعد جب اتنا وقت گزر جائے کہ امام نماز اور دونوں خطبوں سے فارغ ہو سکے تو قربانی کرنی جائز ہے خواہ امام نے نماز اس وقت تک پڑھی یا نہ پڑھی ہو۔ عطاء نے کہا : طلوع آفتاب کے بعد ہی فوراً قربانی جائز ہوجاتی ہے۔ امام شافعی اور عطاء کے قول کے خلاف احادیث مذکورہ صراحت کر رہی ہیں۔ امام مالک (رح) نے جو فرمایا کہ نماز اور امام کی قربانی سے پہلے قربانی کرنی جائز نہیں۔ مذکورہ بالا دونوں حدیثوں سے اس قول پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ شاید امام مالک (رح) نے اپنے اس قول کا مآخذ آیت : (لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللہ وَ رَسُوْلِہٖ ) کو قرار دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قربانی کرنے سے پہلے قربانی نہ کرو اور امام رسول اللہ ﷺ کا نائب ہے۔ (لہٰذا امام کی قربانی سے پہلے قربانی کرنی جائز نہیں) ۔ ہم کہتے ہیں حدیث آیت کا بیان ہے لہٰذا حدیث سے جو شر ط مستفاد نہیں ‘ وہ نہیں لگائی جاسکتی۔ مسئلہ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : دیہات میں چونکہ عید کی نماز نہیں پڑھی جاتی اس لیے فجرصادق کے طلوع کے بعد قربانی کرنی جائز ہے ‘ باقی تینوں اماموں کا قول اس کے خلاف ہے۔ امام احمد (رح) نے فرمایا : جب تک امام کے نماز پڑھ چکنے کا یقین نہ ہوجائے ‘ دیہات میں قربانی ناجائز ہے۔ امام مالک (رح) کے نزدیک جب تک امام کی قربانی اور نماز ہو چکنے کا یقین نہ ہوجائے ‘ اس وقت تک دیہات میں قربانی نہیں ہوسکتی۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : جب تک طلوع آفتاب کے بعد نماز ادا کرنے اور دونوں خطبوں سے فارغ ہوجانے کے بقدر وقت نہ گزر جائے دیہات میں قربانی جائز نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے قول کی دلیل یہ ہے کہ نماز سے قربانی کو مؤخر کرنے کے حکم کی وجہ یہ ہے کہ اگر نماز سے پہلے قربانی کی جائے گی تو ممکن ہے کہ قربانی میں مشغول ہونے کی وجہ سے نماز سے کچھ غفلت ہوجائے لیکن دیہات میں چونکہ عید کی نماز ہی نہیں ہے ‘ اس لیے قربانی کی تاخیر کی کوئی مصلحت ہی نہیں۔ طبرانی نے الاوسط میں حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کچھ لوگ ماہ رمضان شرو ع ہونے سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے روزے رکھنے سے بھی اوّل روزے رکھ لیا کرتے تھے۔ اس پر اللہ نے آیت : (لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللہ وَ رَسُوْلِہٖ ) نازل فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : رمضان شروع ہونے سے دو ایک روز پہلے روزے رکھنے نہ شروع کردیا کرو۔ ہاں ! وہ شخص رمضان سے دو ‘ ایک روز پہلے روزہ رکھ سکتا ہے جو برابر روزے رکھتا چلا آیا ہو۔ رواہ اصحاب الصحاح والسنن الستۃ۔ اصحاب السنن الاربعہ نے حضرت عمار ؓ : کی روایت سے بیان کیا ہے اور بخاری نے تعلیقاً نقل کیا ہے کہ جس نے شک کے دن روزہ رکھا اس نے ابو القاسم ﷺ کی مخالفت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : چاند دیکھنے پر روزہ کھولو اور چاند دیکھنے پر روزہ رکھنا ترک کر دو اگر (اَبر وغیرہ کی وجہ سے) چاند تم کو دکھائی نہ دے تو تیس دن کی گنتی پوری کرلو۔ (صحیحین) ابو داؤد اور ترمذی کی روایت جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے ‘ اس طرح ہے اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہوجائیں تو تیس کی گنتی پوری کرلو اور مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو۔ ابن جریر نے لکھا ہے کہ قتادہ نے فرمایا : ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ کچھ لوگ کہتے تھے کاش فلاں فلاں معاملہ میں کچھ حکم نازل کردیا جاتا۔ اس پر آیت : (لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللہ وَ رَسُوْلِہٖ ) نازل فرمائی۔ وَاتَّقُوا اللہ : یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے سے ڈرو۔ اللہ اور اس کے رسول کی حق تلفی نہ کرو۔ اِنَّ اللہ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ : اللہ تمہارے اقوال کو سنتا اور تمہاری نیتوں کو جانتا ہے۔
Ayah 49:2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو

یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھعوا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون اے ایمان والو ! تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کھل کر بولا کرتے ہو ‘ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : مزید دعوت بصیرت دینے کے لیے ‘ الفاظ کو زور دار بنانے کے لیے اور حکم کی زیادہ اہمیت ظاہر کرنے کے لیے مکرر صیغۂ نداء استعمال کیا گیا۔ لاَ تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ.... . یعنی اللہ کے نبی سے جب بات کرو تو ان کے سامنے اونچی آوازوں سے بات نہ کرو اور ان کو اس طرح نہ پکارو جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو مثلاً ان کا نام یا کنیت کہہ کا خطاب نہ کرو بلکہ تعظیم و تکریم کرو ‘ ادب کا لحاظ رکھو ‘ نیچی آواز سے خطاب کرو اور رسول اللہ ﷺ یا نبی اللہ کہہ کر کلام کرو۔ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ : اس ڈر سے کہ کہیں تمہارے سارے اعمال برباد نہ ہوجائیں۔ یہ ممانعت کی علت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ ﷺ کی آواز سے اپنی آواز کو اونچا کرنا توہین نبی پر دلالت کرتا ہے اور توہین نبی کفر ہے اور کفر حبط اعمال کا موجب ہے۔ پس نبی ﷺ کی آواز سے اپنی آواز اونچی کرنا اگر اہانت نبی کے ارادہ سے ہو تو کفر ہے اور اگر لاپروائی اور نگہداشت ‘ ادب کے فقدان کے زیر اثر ہو تو برکات صحبت سے محرومی کی موجب ہے۔ صحابیت کے فائدہ سے محرومی ہوجائے تو ایسی صحابیت بیکار ہے۔ بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ سے بہت چپکے سے بات کرتے تھے۔ حضرت ابن زبیر ؓ نے نزول آیت کا جو سبب بیان کیا ہے جس کو بخاری نے نقل کیا ہے ‘ اس میں یہ بھی ہے کہ اس کے بعد حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ سے اتنی پست آواز سے بات کرتے تھے کہ حضور ﷺ سن بھی نہ پاتے تھے اور دوبارہ دریافت فرماتے تھے۔ مسلم نے صحیح میں حضرت انس ؓ : کی روایت سے بیان کیا ہے کہ آیت : (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ....) کے نزول کے بعد حضرت ثابت بن قیس ؓ اپنے گھر میں بیٹھ رہے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری سے رک گئے اور کہنے لگے : میں دوزخی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ ؓ سے دریافت کیا : ابوعمر ثابت ؓ : کا کیا حال ہے ؟ کیا وہ بیمار ہوگئے ؟ حضرت سعد ؓ نے عرض کیا : (یا رسول اللہ ﷺ وہ میرے ہمسائے ہیں مجھے تو ان کے بیمار ہونے کا علم نہیں ‘ کوئی اور وجہ ہوگی۔ حضرت سعد ؓ حضرت ثابت ؓ کے پاس آئے اور رسول اللہ ﷺ کا قول ان سے بیان کیا۔ حضرت ثابت ؓ نے کہا : یہ آیت نازل ہوگئی ہے اور آپ لوگ جانتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے تم سب سے زیادہ اونچی آواز سے کلام کرتا ہوں۔ اسلئے میں دوزخی ہوگیا۔ سعد ؓ نے ثابت ؓ کی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے جا کر عرض کردی۔ فرمایا : (وہ دوزخی نہیں) بلکہ اہل جنت میں سے ہے۔ ابن جریر نے محمد بن ثابت بن قیس بن شماس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ بغوی نے اس کا ذکر کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت ؓ راستہ ہی میں بیٹھ کر رونے لگے۔ حضرت عاصم ؓ بن عدی ادھر سے گزرے اور رونے کا سبب دریافت کیا۔ حضرت ثابت ؓ نے کہا : یہ آیت نازل ہوگئی ہے اور مجھے خوف ہے کہ کہیں میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہو کیونکہ میری آواز اونچی ہے ‘ مجھے اپنے اعمال کے برباد ہوجانے اور دوزخی ہوجانے کا ڈر ہے۔ حضرت عاصم نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر یہ بات عرض کردی اور ادھر ثابت ؓ پر گریہ کا ایسا غلبہ ہوا کہ انہوں نے گھر جا کر اپنی بی بی جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سلول سے کہا : جب میں اپنے گھوڑے کے بندھنے کی جگہ جاؤں تو گھوڑے کا دھنگنا مضبوط طور پر میرے پاؤں میں کس کر کھونٹے سے باندھ دینا۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ حضرت ثابت ؓ نے کہا : اب میں باہر نہیں نکلوں گا۔ یہاں تک کہ مجھے موت آجائے یا رسول اللہ ﷺ مجھ سے راضی ہوجائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عاصم کو حکم دیا ‘ جا کر ثابت کو بلا لاؤ۔ حسب الحکم حضرت عاصم ؓ اوّل اسی جگہ گئے جہاں ثابت ؓ : کو دیکھا تھا۔ جب وہاں نہ ملے تو ان کے گھر گئے جا کر دیکھا کہ ثابت گھوڑے کی کوٹھری میں بند ہیں۔ عاصم نے کہا : رسول اللہ ﷺ تم کو طلب فرما رہے ہیں۔ ثابت ؓ نے کہا : دھنگنا توڑ دو ۔ اس کے بعد دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ثابت تمہارے رونے کی کیا وجہ ہے ؟ حضرت ثابت ؓ نے کہا : حضور ﷺ میری آواز اونچی ہے ‘ مجھے خوف ہے کہ یہ آیت میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ قابل ستائش زندگی گزارو گے اور شہادت کی موت مارے جاؤ گے اور جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ ثابت ؓ نے کہا : میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشخبری پر راضی ہوں۔ میں اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے کبھی اونچی آواز نہیں کروں گا۔ اس پر یہ آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 49:3

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

جو لوگ پیغمبر خدا کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں خدا نے ان کے دل تقویٰ کے لئے آزما لئے ہیں۔ ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے

ان الذین یعضون اصواتھم عند رسول اللہ اولئک الذین امتحن اللہ قلوبھم للتقوی لھم مغفرِۃ واجر عظیم . بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے پست رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے خالص کردیا ہے۔ ان لوگوں کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ یَغُضُّوْنَ : یعنی اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں۔ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہ ِ : رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ ﷺ کی تعظیم کی وجہ سے۔ اِمْتَحَنَ اللہ قُلُوْبَھُمْ للتُّقْوٰی : صاحب قاموس نے لکھا ہے یعنی ان کے دلوں کو تقویٰ کیلئے کشادہ کردیا اور کھول دیا۔ یہ بھی صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ : مَحَنَہ ‘ فُتَحَ اور ضَرَبَسے اور اِمْتَحَنَہ بمعنی اِخْتَبَرَہَ کے (بھی) آتا ہے۔ (اُس نے اسکی جانچ کی) ۔ بیضاوی نے لکھا ہے : اللہ نے ان کے دلوں کا تجربہ کرلیا۔ تقویٰ کے لیے ان کے اندر لچک پیدا کردی۔ تقویٰ کا مشاق بنا دیا۔ (ہر ممتحن اس غرض سے امتحان لیتا ہے کہ امتحان دینے والے کی قابلیت اس کو معلوم ہوجائے لیکن اللہ کو تو لوگوں کے دلوں کے احوال پہلے سے معلوم ہیں۔ اس لیے وہ ممتحن کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس شبہ کو دور کرنے کے لیے حضرت مفسر نے فرمایا) یعنی اللہ نے ممتحن کا جیسا معاملہ ان سے کیا اور ان کے دلوں کو مخلص پایا (یعنی صورت امتحان مراد ہے حقیقی ممتحن ہونا مراد نہیں ہے) یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے جان لیا کہ ان کے دل تقویٰ کے لیے ہی بنے ہیں۔ تقویٰ ہی کے لیے مخصوص ہیں۔ (اس صورت میں امتحان سے مراد ہوگا۔ امتحان کا نتیجہ یعنی علم) امتحان حصول علم کا ذریعہ ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ طرح طرح کے مصائب و شدائد میں ان کے دلوں کو مبتلا کردیا تاکہ تقویٰ کا ظہور ہوجائے۔ مصائب و شدائد پر صابر رہنے سے تقویٰ ظاہر ہوتا ہے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے خالص کرلیا۔ عرب کہتے ہیں : اِمْتَحَنَ الذَّھَبَ : سونے کی جانچ کرلی یعنی پگھلا کر میل صاف کردیا اور صاف کندن بنا دیا۔ وَاَجْرٌ عَظِیْمٌ: اجرٌکی اور مغفرۃٌ کی تنوین اظہار عظمت کے لیے ہے۔ (بڑی مغفرت اور بہت بڑا اجر) رسول اللہ ﷺ کے سامنے باادب رہ کر پست آواز سے بات کرنے کے عوض نیز دوسری طاعات و عبادات کے بدلہ میں ان کے لیے بڑی مغفرت اور عظیم الشان اجر ہے۔ اُوْلٰٓءِکَ : اسم اشارہ مبتداء ہے۔ اس کے بعد اَلَّذِیْنَ معہ صلہ خبر ہے۔ یہ جملہ دلالت کر رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کی وجہ سے پست آواز سے کلام کرنا ‘ اللہ کو بہت ہی پسند ہے اور ایسے لوگ کمال کے انتہائی درجہ پر فائز ہیں۔ ان کے برخلاف رسول اللہ ﷺ کے سامنے اونچی آواز سے کلام کرنا (اور شور و غل مچانا) اللہ کے نزدیک بہت ہی برا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت انس ؓ نے فرمایا : ہم اپنے سامنے جنتی یعنی ثابت ؓ بن قیس کو جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی چلتے پھرتے دیکھتے تھے کہ یہ زندہ جنتی ہیں) اور ان ہی سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : تم قابل ستائش زندگی گزارو گے اور شہادت کی موت مارے جاؤ گے اور جنت میں چلے جاؤ گے۔ جب جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب سے مقابلہ ہوا تو ثابت کو (شروع میں) مسلمانوں میں کچھ شکست کی حالت نظر آئی بلکہ ایک جماعت تو شکست کھا کر بھاگ بھی پڑی۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت ثابت ؓ نے کہا : ان لوگوں پر افسوس ہے۔ پھر حضرت سالم ؓ سے فرمایا : اللہ کے رسول ﷺ کی ہمرکابی میں تو ہم اللہ کے دشمنوں سے اس طرح نہیں لڑتے تھے۔ اس قول کے بعد دونوں حضرات نے توبہ کی۔ پھر اتنا سخت قتال کیا کہ حضرت ثابت شہید ہوگئے۔ اس وقت آپ ؓ زرہ پہنے ہوئے تھے۔ مرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے صحابیوں ؓ میں سے کسی نے آپ کو خواب میں دیکھا۔ خواب میں آپ نے اس صحابی کو بتایا کہ میری زرہ ایک مسلمان اتار کر لشکر کے کنارہ پر ایک جگہ لے گیا۔ وہاں گھوڑا رسّی سے بندھا ہوا ہے اور زرہ پر پتھر کی ایک ہانڈی رکھ دی ہے۔ تم خالد بن ولید ؓ سے جا کر کہہ دو کہ وہ میری زرہ اس شخص سے واپس لے لیں اور رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ حضرت ابوبکر ؓ سے جا کر یہ بات کہہ دو کہ مجھ پر کچھ قرض ہے ‘ وہ ادا کردیا جائے اور میرا فلاں غلام آزاد ہے (یعنی میں آزاد کرتا ہوں) اس صحابی نے حضرت خالد ؓ سے جا کر یہ بات کہہ دی۔ حضرت خالد ؓ نے جا کر دیکھا تو ذرہ اور گھوڑا ویسے ہی پایا جیسا بیان کیا تھا۔ آپ نے ذرہ واپس لے لی۔ حضرت خالد ؓ نے یہ خواب حضرت ابوبکر ؓ سے جا کر بیان کردیا تو آپ نے حضرت ثابت کی وصیت پوری کردی۔ حضرت مالک ؓ بن انس نے فرمایا : اس وصیت کے علاوہ کوئی ایسی (منامی) وصیت معلوم نہیں جس کو پورا کیا گیا ہو۔ طبرانی اور ابو یعلی نے حسن سند کے ساتھ بیان کیا کہ حضرت زید ؓ بن ارقم نے فرمایا : کچھ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے حجروں کی طرف آئے اور پکارنے لگے : یا محمد ﷺ ! (یا محمد ﷺ باہر آؤ) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 49:4

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں

ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثرھم لا یعقلون . جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ ﷺ کو پکارتے ہیں ‘ بلاشبہ ‘ ان میں اکثر کو عقل نہیں۔ حجرت اور حجرت حجرۃ کی جمع ہے۔ بغوی نے لکھا ہے حجرات حجر کی اور حجر حجرۃ کی جمع ہے۔ حجرۃ زمین کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جس کا دیواروں سے گھیراؤ کردیا گیا ہو (چھت ہو یا نہ ہو) یہ لفظ حَجْر سے ماخوذ ہے اور حجر کا معنی ہے روک۔ الحجرات . سے امہات المؤمنین کے حجرے مراد ہیں۔ من ابتدائیہ ہے یعنی حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اندر تھے۔ اگر واقعات متعدد مانے جائیں تو یہ مطلب ہوگا کہ کبھی ایک حجرہ کے باہر سے اور کبھی دوسرے حجرہ کے باہر سے پکارتے ہیں اور اگر واقعہ ایک ہی مانا جائے تو حجروں کے باہر سے پکارنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر حجرہ پر جا کر باہر سے پکارتے ہیں یا کچھ لوگ ایک حجرہ کے باہر سے اور کچھ لوگ دوسرے حجرہ کے باہر سے (اور کچھ تیسرے حجرہ کے باہر سے) پکارتے ہیں۔ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ : اکثر بےسمجھ ہیں کیونکہ وہ لوگ خانہ بدوش ‘ بدوی تھے یا (مفعول محذوف ہے اور) مطلب یہ ہے کہ ان میں سے اکثر آپ ﷺ کی عظمت اور ادب و تہذیب کو نہیں سمجھتے تھے۔ آیت (یعنی لفظ (اَکْثَرَھُمْ ) سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ان میں بعض لوگ دانش مند تھے۔ رسول اللہ ﷺ سے فوراً باہر نکل آنے کی درخواست کو پسند نہیں کرتے تھے۔ بعض کے فعل کی سب کی طرف نسبت مجازی ہے یا نفی سے مراد قلت ہے۔ نفی عمومی کے مقام پر قلت کا اطلاق ہوجاتا ہے۔ ثعلبی نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حجروں کے باہر سے رسول اللہ ﷺ کو عیینہ بن حصین اوراقرع بن حابس نے پکارا تھا۔ یہی دونوں ستّر آدمیوں کو ساتھ لے کر دوپہر کے وقت مدینہ میں پہنچے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کسی بی بی کے حجرہ میں سو رہے تھے۔ انہیں دونوں نے پکار کر کہا تھا : محمد ! باہر آؤ۔ ابن جریر نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ اقرع بن حابس نے کہا تھا : محمد ﷺ ہمارے پاس باہر آؤ۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی تھی۔ عبدالرزاق نے بوساطت معمر ‘ قتادہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : محمد میں جس کی تعریف کر دوں تو اس کے لیے میری تعریف جمال آفریں ہوجاتی ہے اور کسی کو برا کہہ دوں تو میرا برا کہنا اس کے لیے موجب عیب ہوجاتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ایسا تو صرف اللہ ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ روایت اگرچہ مرسل ہے (کسی صحابی کا نام اس روایت میں نہیں ہے) لیکن اس کی شاہد وہ حدیث ہے جو نزول آیت کے متعلق حضرت براء ؓ بن عازب کی روایت سے مرفوعاً آئی ہے۔ ابن جریج نے حسن کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ بغوی نے قتادہ اور جابر کی روایت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ یہ آیت (یعنی یہ آیت اور اس کے بعد کی عبارت) بنی تمیم کے کچھ خانہ بدوش ‘ بدویوں کے متعلق نازل ہوئی۔ جنہوں نے دروازہ پر (پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کو) آوازیں دی تھیں۔ حضرت جابر کی روایت میں ہے کہ دروازہ پر پہنچ کر انہوں نے پکار مچائی : محمد ! باہر نکل کر آؤ۔ ہماری طرف سے (کسی کی) تعریف (اس کے لیے) باعث زینت ہے اور ہماری طرف سے (کسی کی) مذمت موجب عیب ہے۔ آواز سن کر حضور ﷺ یہ کہتے ہوئے باہر تشریف لائے کہ ایسا تو بس اللہ ہے ‘ جس کی طرف سے کسی کی ستائش موجب زینت اور مذمت موجب عیب ہے۔ دیہاتی بولے : ہم اپنے شاعر اور خطیب کو ساتھ لے کر آئے ہیں۔ حضور ﷺ نے ثابت ؓ بن قیس سے فرمایا : اٹھو ! ان کو جواب دو ۔ حضرت ثابت ؓ رسول اللہ ﷺ کے خطیب تھے۔ حسب الحکم آپ نے بنی تمیم کے خطیب کو جواب دیا۔ پھر ان کا شاعر کھڑا ہوا اور اس نے کچھ اشعار پڑھے۔ حضور ﷺ نے حضرت حسان ؓ بن ثابت کو حکم دیا ‘ اٹھو ! ان کو جواب دو ۔ حضرت حسان ؓ نے اٹھ کر جواب دیا۔ یہ بات دیکھ کر اقرع بن حابس (تمیمی) نے کہا : محمد کے پاس تو ہر خیر جمع ہے۔ ہمارا خطیب بولا (تو ان کا خطیب بھی بولا اور ہمارے خطیب پر غالب آیا ‘ پھر ہمارے شاعر نے کچھ اشعار پڑھے تو ان کے شاعر نے جواب دیا) پس (ہمارے شاعر سے) تمہارا شاعر بہتر اور احسن ثابت ہوا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے قریب پہنچا اور بول پڑا : اَشْھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَاَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُہٗ . حضور ﷺ نے فرمایا : اس سے پہلے (تجھ سے) جو جرائم ہوگئے ہیں (وہ سب معاف ہوگئے) ان کا کوئی ضرر تجھے نہیں پہنچے گا (یعنی کوئی مواخذہ نہیں کیا جائے گا) اس کے بعد ان سب کو رسول اللہ ﷺ نے (کچھ نقد اور) لباس عطا فرمایا۔ قافلہ میں ایک (بچہ) کمسنی کی وجہ سے رہ گیا تھا جس کا نام عمرو بن اصم تھا۔ (قافلہ کے مال اور جانوروں کی نگرانی کے لیے یہ لوگ اس کو چھوڑ آئے تھے) حضور ﷺ نے اس کو بھی اتنا ہی (حصہ) دیا ‘ جتنا ان لوگوں میں سے ایک ایک کو دیا تھا۔ بعض لوگوں نے اس لڑکے کو (اپنے مقابلہ میں) حقیر قرار دیا (اور پورا حصہ دینے پر اعتراض کیا) اس پر ان کے آپس میں حضور ﷺ کے سامنے شوروغل ہونے لگا۔ اس وقت آیات : (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا ...... غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) تک نازل ہوئیں۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (قبیلہ) بنی العنبرہ کی طرف ایک جہادی دستہ عیینہ بن حصین فزاری ؓ کے زیر کمانڈ روانہ کیا۔ جب ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ عیینہ کا رخ ہماری طرف ہے تو وہ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ عیینہ نے ان کے اہل و عیال کو قید کرلیا اور لا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔ کچھ وقفہ کے بعد ان کے مرد اپنے بچوں کو زر فدیہ ادا کر کے رہا کرانے کے لیے آگئے ‘ جس وقت وہ آئے تھے دوپہر کا وقت تھا۔ رسول اللہ ﷺ کسی بی بی کے حجرہ میں قیلولہ فرما رہے تھے۔ ان کے بچوں نے جب اپنے باپوں کو دیکھا تو بےتاب ہو کر رونے لگے۔ رسول اللہ ﷺ کی ہر بی بی کا ایک مخصوص حجرہ تھا۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے برآمد ہونے سے پہلے ہی جلدی میں پکارنے لگے : محمد ! باہر آئیے۔ غرض (شور مچا کر) حضور ﷺ کو بیدار کردیا۔ آپ ﷺ باہر تشریف لے آئے۔ ان لوگوں نے کہا : محمد ﷺ ! فدیہ لے کر ہمارے اہل و عیال کو رہا کر دو ۔ اس وقت جبرئیل ( علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہا : اللہ آپ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ اپنے اور ان لوگوں کے درمیان کسی تیسرے شخص کو (بطور پنچ) مقرر کر دو ۔ رسول اللہ ﷺ نے وحی پانے کے بعد فرمایا : سبرہ بن عمرو تمہارا ہم مذہب ہے۔ کیا تم لوگ اس کو میرے اور اپنے درمیان ثالث بنانا پسند کرو گے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں۔ سبرہ نے کہا : جب تک میرا چچا اعور بن بشامہ یہاں موجود نہ ہوگا میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا (یعنی اعور سے فیصلہ کراؤں گا ‘ خود کوئی فیصلہ نہیں کروں گا) لوگ راضی ہوگئے۔ اعور نے فیصلہ دیا کہ ان کے آدھے اہل و عیال کو بغیر معاوضہ کے آزاد کیا جائے اور باقی نصف کو فدیہ لے کر رہا کردیا جائے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں اس پر راضی ہوں۔ چناچہ نصف کو بلا معاوضہ اور نصف کو فدیہ لے کر رہا کردیا اور اللہ نے آیت : (اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَکَ مِنْ وَرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَکْثَرُھُمُ لَا یَعْقِلُوْنَ ) نازل فرما دی۔
Ayah 49:5

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

ولوانھم صبروا حتی تخرج الیھم لکان خیر الیھم وا اللہ غفور رحیم اور اگر یہ لوگ (ذرا) صبر اور انتظار کرتے کہ آپ خود باہر ان کے پاس آجاتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا اور اللہ غفور ‘ رحیم ہے۔ وَلَوْ اَنَّھُمْ صَبَرُوْا : رسول اللہ ﷺ سے ان کے ملنے کی ضرورت اور آپ ﷺ سے اپنا مقصد حاصل کرنے کی حاجت تھی۔ اس لیے عقل کا تقاضا تھا کہ ایسی شخصیت جس کی عظمت مرتبہ اللہ کی طرف سے بےمثال تھی۔ اس کی وہ لوگ تعظیم کرتے اور نفسانی اغراض کے زیر اثر جو کار برآری میں عجلت پسندی کی تھی ‘ اس سے اپنے آپ کو روکے رکھتے اور اس وقت تک اپنے مقصد کو پیش کرنے سے رکے رہتے کہ حضور ﷺ (مقررہ وقت پر قیلولہ کے بعد اٹھ کر) باہر تشریف لے آتے اور خود ہی کلام کا آغاز فرماتے تو یہ فعل ان کے لیے بہتر ہوتا۔ بےادبی نہ ہوتی اور اللہ کے رسول ﷺ : کی تعظیم بھی ہوتی اور پھر اس کا ثواب بھی ملتا اور ان کے عمل کو قابل ستائش قرار دیا جاتا اور کام بھی پورا ہوجاتا۔ مقاتل نے بہتر ہونے کا یہ مطلب بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سب کو بلا معاوضہ رہا کردیتے۔ وَ اللہ ُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ : یعنی اللہ بڑا مہربان ہے۔ اسی لیے اس نے (تم کو سزا نہیں دی بلکہ) صرف نصیحت کردی اور رسول اللہ ﷺ کی تعظیم نہ کرنے والوں اور بےادبی کرنے والوں کو تنبیہ کردی کیونکہ یہ بےادب لوگ جاہل اور بےعقل ہیں۔ محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ بنی تمیم نے زکوٰۃ دینے سے جب انکار کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے ماہ محرم 9 ھ میں ایک فوجی دستہ عیینہ بن حصین کی زیر قیادت ان کی طرف بھیجا۔ محمد بن عمرو کی روایت کے بموجب بنی تمیم کے جو قیدی گرفتار کیے گئے وہ گیارہ عورتیں اور تیس بچے تھے۔ احمد وغیرہ نے عمدہ سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ حارث ؓ بن ضرار خزاعی نے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور ﷺ نے مجھے اسلام کی دعوت دی۔ میں نے اقرار کرلیا اور اسلام میں داخل ہوگیا۔ حضور ﷺ نے مجھے زکوٰۃ ادا کرنے کی دعوت دی۔ میں نے اس کا بھی اقرار کرلیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں اپنی قوم کے پاس واپس جاؤں گا اور ان کو اسلام اور اداء زکوٰۃ کی دعوت دوں گا جو شخص میری دعوت قبول کرے گا میں اس کی زکوٰۃ جمع کرلوں گا۔ آپ ﷺ میرے پاس فلاں فلاں اوقات میں کسی کو بھیج دیں کہ وہ زکوٰۃ کا مال لا کر آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کر دے (یہ کہہ کر حارث ؓ چلے گئے اور) زکوٰۃ جمع کرلی۔ جب مقررہ وقت آگیا اور رسول اللہ ﷺ کا قاصد نہیں پہنچ پایا تو حارث ؓ نے خیال کیا کہ میرے معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کی کچھ ناراضگی ہوگئی ‘ اس لیے انہوں نے سرداران قوم کو طلب کیا اور ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ کے مال پر قبضہ کرنے کے لیے قاصد بھیجنے کا ایک وقت مقرر فرما دیا تھا اور رسول اللہ ﷺ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ قاصد کو روک لینے میں رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی کو کچھ دخل ہے۔ (حضور ﷺ نے ناراضگی کی وجہ سے ہی قاصد کو نہیں بھیجا ہے) اس لیے تم سب چلو۔ ہم رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں (مال لے کر حاضر ہوجائیں) ادھر رسول اللہ ﷺ ولید ؓ بن عقبہ کو حارث ؓ کے پاس بھیج چکے تھے تاکہ زکوٰۃ کا جو مال حارث ؓ نے جمع کیا ہو ‘ اس کو وصول کرلیں۔ ولید ؓ روانہ تو ہوگئے لیکن ڈر کر (راستہ ہی سے) لوٹ آئے اور آکر رسول اللہ ﷺ سے عرض کردیا کہ حارث ؓ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اور مجھے قتل کردینا چاہا (اس لئے میں بھاگ آیا) رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کا ایک دستہ حارث ؓ کے پاس بھیجا۔ حارث ؓ اپنے ساتھیوں کو لے کر سامنے سے آتے ہوئے مل گئے۔ اس دستہ کے استقبال کے لیے وہ پہلے سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ حارث ؓ نے دریافت کیا : تم لوگوں کو کس طرف بھیجا گیا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : تمہارے پاس۔ حارث ؓ نے کہا : کیوں ؟ ان لوگوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے تمہارے پاس ولید ؓ بن عقبہ کو بھیجا تھا۔ انہوں نے جا کر کہا کہ حارث ؓ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اور ولیدکو قتل کردینے کا ارادہ کیا۔ حارث ؓ نے کہا : نہیں قسم ہے اس کی جس نے محمد ﷺ کو نبی بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے تو ولید کو دیکھا بھی نہیں ‘ نہ وہ میرے پاس آیا۔ غرض حارث ؓ جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے حضور ﷺ نے فرمایا : تم نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا اور میرے قاصد کو قتل کردینا چاہا تھا ؟ حارث ؓ نے کہا : قسم ہے اس کی جس نے آپ ﷺ کو نبی برحق بنایا ہے ‘ ایسا تو (بالکل) نہیں ہوا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے

یا یھا الذین امنوا ان جاء کم فاسق بنبا فتبینموا ان تصیبوا قوما بجھالۃ فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین . اے ایمان والو ! اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (کہیں) کسی قوم کو انجانے میں ضرر نہ پہنچا دو ۔ پھر اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔ طبرانی نے بھی ایسی ہی حدیث حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے اور علقمہ بن ناحیہ اور حضرت ام سلمہ ؓ کے حوالہ سے نقل کی ہے۔ ابن جریر نے بھی بوساطت عوفی حضرت ابن عباس کی روایت سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ طبرانی نے حضرت ام سلمہ کی روایت سے نیز بغوی نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے حق میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ولید کو بنی مصطلق کے پاس زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ جاہلیت کے زمانہ میں بنی مصطلق اور ولید کے درمیان عداوت تھی۔ بنی مصطلق کے لوگوں نے جب ولید کے آنے کی خبر سنی تو رسول اللہ ﷺ کے حکم کے احترام میں ولید کے استقبال کے لیے نکل آئے۔ ولید کے دل میں شیطان نے یہ وسوسہ پیدا کردیا کہ وہ لوگ ولید کو قتل کردینا چاہتے ہیں ‘ اس لیے راستہ ہی سے لوٹ آیا اور آکر رسول اللہ ﷺ سے کہہ دیا کہ ان لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اور مجھے قتل کرنے کے درپے ہوگئے۔ یہ بات سن کر رسول اللہ ﷺ کو غصہ آگیا اور ان سے لڑنے کا ارادہ کرلیا۔ بنی مصطلق کو جب ولید کے لوٹ جانے کی اطلاع ملی تو وہ خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! جب ہم نے آپ ﷺ کے قاصد (کے روانہ ہوجانے) کی خبر سنی تو ہم اس کے استقبال و احترام کے لیے اور اللہ کا جو حق ہم نے قبول کیا تھا اس کو ادا کرنے کے واسطے نکل آئے لیکن واپس لوٹ پڑنا ہی اس کو مناسب معلوم ہوا۔ اس سے ہم کو اندیشہ ہوا کہ شاید راستہ سے لوٹ پڑنے کی یہ وجہ ہے کہ حضور ﷺ کی ناراضگی کا کوئی خط راستہ میں اس کو پہنچ گیا ‘ جس میں حضور ﷺ نے ہم سے ناراضگی کا اظہار کیا ہو۔ ہم اللہ کے اور اس کے رسول ﷺ کے غضب سے اللہ کی پناہ کے خواستگار ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو بنی المصطلق کی صداقت کا یقین نہیں آیا اور آپ نے خالد ؓ بن ولید کو کچھ فوج کی معیت میں پوشیدہ طور پر تحقیق کے لیے بھیج دیا اور یہ حکم دے دیا کہ تم جا کر دیکھنا اگر تم کو ان کے مسلمان ہونے کی کوئی علامت معلوم ہو تو ان کے مال کی زکوٰۃ لے لینا ‘ ورنہ ان کے ساتھ وہی معاملہ کرنا جو کافروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ حضرت خالد ؓ نے حکم کی تعمیل کی۔ جب وہاں پہنچے تو مغرب و عشاء کی اذان کی آواز سنی اور (حسب الحکم) ان سے زکوٰۃ وصول کرلی اور سوائے اطاعت اور بھلائی کے ان کی طرف سے کوئی بات بھی نہیں دیکھی۔ پھر واپس آکر رسول اللہ ﷺ کو اصل خبر بتادی۔ اس وقت آیت : (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنْ جَآءَ کُمْ فَاسِقٌ.....) نازل ہوئی۔ فَاسِقٌ : یعنی ولید بن عقبہ۔ نَبَاءٍ : یعنی بنی مصطلق کے مرتد ہوجانے کی اطلاع اور چونکہ حکم عام تھا ‘ کوئی فاسق کوئی خبر لائے۔ اس لیے فاسِقٌ اور نَبَاء ٍ کو بصورت نکرہ ذکر کیا۔ فَتَبَیَّنُوْا : یعنی تحقیق حال کرلو۔ فاسق کی خبر کی تحقیق کرنے کا حکم دیا۔ یہ حکم چاہتا ہے کہ اگر ایک عادل (صالح) شخص کوئی خبر دے تو اس کی اطلاع کو قبول کرلیا جائے کیونکہ قبول خبر سے کوئی مانع نہیں ہے۔ لغت میں فسق کے معنی ہیں : نکلنا۔ عرب کہتے ہیں : فسقت الرطبۃ عن قشرھا کھجور اپنے چھلکے سے نکل آئی۔ اصطلاح شرعی میں کبھی کافر پر اطلاق ہوتا ہے کیونکہ وہ ایمان سے خارج ہوتا ہے۔ قرآنی استعمال میں فاسق بمعنی کافر ہی زیادہ مستعمل ہے ‘ کبھی فاسق کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کہتے ہیں ‘ کبھی فاسق اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو صغیرہ گناہوں پر جما رہے اور توبہ نہ کی ہو۔ آیت میں باجماع اہل تفسیر مرتکب کبیرہ ہی مراد ہے۔ میں کہتا ہوں ولید بن عقبہ صحابی تھے اور اس دروغ گوئی سے پہلے ان کا فسق ظاہر بھی نہیں ہوا تھا اور اس دروغ گوئی کا سبب بھی ان کی بدگمانی اور ان لوگوں کے متعلق غلط خیال بندی تھی جو اسلام سے پہلے ان کے دشمن تھے۔ اس لیے آیت میں فاسق سے مراد شاید ایسا شخص ہو جس کی سچائی اور عدالت ظاہر نہ ہوئی ہو۔ اس تفسیر پر وہ شخص جس کی حالت ظاہر نہ ہو مستور الحال ہو۔ اس میں داخل ہوجائے گا ‘ فاسق سے مراد ایسا شخص ہے جس نے کوئی ایسی خبر دی ہو جس کے غلط ہونے پر قرینہ دلالت کر رہا ہو۔ خواہ مخبر بظاہر صالح ہو۔ بنی مصطلق اپنی خوشی سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان لائے اور اسلام کے احکام قبول کیے تھے۔ ان کا مرتد ہوجانا بہت زیادہ بعید از عقل تھا۔ ولید کا قصداً یا سوء ظن کی بناء پر دروغ بیانی کرنا اتنا بعید از قیاس نہیں تھا۔ اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًا بِجَھَالَۃٍ : کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ بےقصور لوگوں کو حقیقت حال معلوم نہ ہونے کی وجہ سے تم کو دکھ پہنچا دو یعنی ان کو قتل کر دو یا ان سے جنگ کرنے لگو۔ فَتُصْبِحُوْا ..... : پھر (آخر میں) تم اپنے کیے پر پشیمان ہو۔ ندامت کا یہ معنی ہے کہ آدمی سے کوئی بات ایسی صادر ہوجائے جس پر اس کو اندرونی رنج ہو اور اس کو تمنا ہوجائے کہ کاش یہ حرکت مجھ سے صادر نہ ہوتی۔ آیت کی رفتار بتارہی ہے کہ کچھ مسلمانوں نے ولید کو سچا جان کر رسول اللہ ﷺ کو بنی مصطلق پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان کا مشورہ نہیں مانا اور خالد ؓ بن ولید کو تحقیق واقعہ کے لیے بھیجا۔ حق سبحانہ و تعالیٰ نے انہیں لوگوں کو خطاب کر کے تحقیق حال کرنے کا حکم دیا ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا۔ اس لیے حکم دیا کہ آخر میں ندامت اٹھائی نہ پڑے۔ اللہ نے یہ بھی بیان فرما دیا کہ ان کے لیے اپنی خواہشات نفس اور میلانات خاطر کی طرف رسول اللہ ﷺ کو ترغیب دینی جائز نہیں بلکہ ان پر فرمان رسول کی اطاعت واجب ہے۔ خواہ ان کے دلوں کو پسند ہو یا ناگوار۔ اس مضمون پر آئندہ جملہ دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 49:7

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبرﷺ ہیں۔ اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا۔ یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں

واعلموا ان فیکم رسول اللہ لو یطیعکم فی کثیر من الامر لعنتم . اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ ﷺ ہیں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ اس میں تمہارا کہنا مانا کریں تو تم کو بڑی مضرت پہنچ جائے۔ لَعَنِتُّمْ : یعنی تم گناہ اور ہلاکت میں پڑجاتے۔ صحابہ ؓ نے چونکہ ولید بن عقبہ سے بنی مصطلق کے مرتد ہوجانے کی خبر سنی تھی (اور ان کو یقین آگیا تھا) اس لیے بنی مصطلق پر ان کو غصہ تھا اور یہ غصہ صرف اللہ کے دین کی حمایت کے لیے تھا لیکن سابق کلام کی رفتار سے یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ بنی مصطلق پر غصہ کرنے والے صحابی گناہ گار قرار پائے۔ اس خیال اور وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا : ولکن اللہ حبب الیکم الایمان و زینہ فی قلوبکم وکرہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان اولئک ھم الرشدون فضلا من اللہ و نعمہ واللہ علیکم حکیم لیکن اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی ہے اور اس کو تمہارے دلوں میں مرغوب بنا دیا ہے اور کفر اور فسق اور عصیان سے تم کو نفرت دے دی ہے ‘ ایسے لوگ اللہ کے فضل و احسان سے راہ راست پر ہیں اور اللہ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔ بظاہر رفتار کلام سے معلوم ہو رہا ہے کہ فسوق کا درجہ عصیان سے اونچا ہے اور کفر سے نیچا ہے۔ کفر بہت ہی قبیح ہے۔ اس سے کم برا فسق ہے اور فسق سے کم عصیان ہے۔ اس صورت میں فسوق سے مراد ہوگا : جماعت سے نکل جانا اور بدعتی عقیدہ اختیار کرنا لیکن اعتقادی بدعت کے باوجود کفر کی حد تک نہ پہنچ جانا اور عصیان سے مراد ہے عملی گناہ اور اعضاء جسم کی نافرمانی (جبکہ عقیدہ جمہور اہل سنت کے موافق ہو ‘ عقیدہ میں بدعت نہ ہو) اس تشریح کی روشنی میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ تم نے جو تامل اور تحقیق خبر سے کام نہیں لیا۔ یہ قابل ملامت نہیں کیونکہ تم کو کفر سے نفرت اور ایمان سے محبت ہے۔ اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کا پیار اور کفر سے بغض پیدا کردیا ہے۔ اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الرّٰشِدُوْنَ : یہ جملہ معترضہ ہے یعنی ایسے لوگ جن کی حالت تمہاری طرح ہو ‘ ہدایت یافتہ ہیں۔ ایمان کو محبوب خاطر اور کفر کو مبغوض بنانے کی یہ علت ہے۔ اس مطلب پر فضل و نعمت کا تعلق حَبَّبَ اور کَرَّہَ سے ہوگا۔ رَاشِدُوْنَ (اگرچہ ترجمہ میں اس کا تعلق الرّٰشِدُوْنَ سے قرار دیا گیا ہے) کی یہ علّت نہیں ہوگی کیونکہ فضل و انعام تو اللہ کا فعل ہے اور الرّٰشِدُوْنَ اس کے فعل کا نتیجہ ہیں۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ : اِنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللہ کا یہ مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے تم جھوٹ نہ بولو۔ اللہ ان کو صحیح اطلاع دیدے گا پھر جھوٹ کا پردہ فاش ہوجائے گا اور لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ الگ کلام ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر لوگوں کی دی ہوئی جھوٹی خبروں کو مان لیں تو تم لوگ سخت مصیبت میں پڑجاؤ گے۔ یہ تفسیر چاہتی ہے کہ آیت : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا .... کے مخاطب ولید اور ولید جیسے لوگ ہوں گے حالانکہ ان کو مخاطب نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ تحقیق خبر کا حکم کاذب کو نہیں دیا جاسکتا ‘ بلکہ اس خبر کو سننے والا حکم تحقیق کا مخاطب ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ آیت : اِنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے جھوٹ نہ بولو۔ اس سے آگے لَوْ یُطِیْعُکُمْ الگ کلام ہے اور اس میں خطاب ان مسلمانوں کو ہے جنہوں نے بنی مصطلق پر حملہ کرنے کی ترغیب رسول اللہ ﷺ کو دی تھی۔ اسکے بعد وَلٰکِنَّ اللہ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَکے مخاطب دوسرے مسلمان ہیں جو تحقیق واقعہ کے خواستگار تھے۔ اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الرّٰشِدُوْنَ سے یہی (تحقیق کے طالب) مسلمان مراد ہیں۔ یہ تشریح اگرچہ بڑی افادیت کی حامل ہے لیکن بغیر قرینہ کے اور بلا سبب ضمیروں کا انتشار پیدا ہو رہا ہے۔ اس لیے سب سے اچھی بیضاوی کی تشریح ہے۔ وَ اللہ ُ عَلِیْمٌ : اللہ مسلمانوں کے احوال کو خوب جانتا ہے۔ حَکِیْمٌ مسلمانوں پر فضل و انعام (کا مصلحت شناس ہے) بتوفیق اسباب کرتا ہے۔ شیخین نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ (ایک بار) رسول اللہ ﷺ گدھے پر سوار ہو کر عبداللہ بن ابی کی طرف تشریف لے گئے۔ عبداللہ نے کہا : اپنے گدھے کو ادھر ہی رکھو۔ مجھے آپ کے گدھے کی بدبو سے اذیت ہوتی ہے۔ اس پر ایک انصاری نے کہا : خدا کی قسم ! رسول اللہ ﷺ کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے۔ یہ بات سن کر عبداللہ کا ایک طرفدار بھڑک اٹھا۔ دونوں باہم سخت سست بکنے لگے۔ ہر ایک کے ساتھی اپنے آدمی کی طرفداری میں غضب آلود ہوگئے ‘ یہاں تک کہ قمچیاں چل گئیں۔ ہاتھا پائی ہوئی اور جوتوں سے لڑائی ہونے لگی۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 49:8

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

(یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

اللہ کے فضل اور انعام کی وجہ سے۔
Ayah 49:9

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو۔ اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے۔ پس جب وہ رجوع لائے تو وہ دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو۔ کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

وان طائفتان من المومنین اقتلوا فاصلحوا بینھما فان بغت احداھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفی الی امر اللہ . اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان اصلاح کر دو پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے۔ اس حد تک کہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ اِقْتَتَلُوْا : باہم لڑ پڑیں۔ فَاَصْلِحُوْا : اصلاح کا یہ مطلب ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکا جائے اور اس کی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور دونوں گروہوں کو آپس کی عداوت اور بغض چھوڑ دینے کی ہدایت اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلہ کو قبول کرنے کی دعوت دی جائے۔ فَاِنْ بَغَتْ : یعنی ایک گروہ اگر دوسرے گروہ پر زیادتی کرے۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دے اور اس کے پاس ایسی طاقت ہو کہ اس کو ظلم سے روکا نہ جاسکے اور قید کرنا ممکن نہ ہو تو اس سے مقاتلہ کیا جائے۔ حَتّٰی تَفِیْٓ ءَ : یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے بھائی کی مدد کرو۔ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مظلوم کی مدد تو میں کرسکتا ہوں (یہ بات ٹھیک ہے) لیکن اگر بھائی ظالم ہو تو اس کی مدد کس طرح کروں ؟ (یہ تو ظلم کی حمایت ہوجائے گی) حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کو ظلم سے روک دو ۔ (رواہ البخاری و مسلم فی صحیحا) فان فاءت فاصلحوا بینھما بالعدل واقسطوا ان اللہ یحب المقسطین . پس اگر وہ لوٹ آئے ‘ تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ اصلاح کر دو اور انصاف کرو۔ اللہ انصاف والوں کو پسند کرتا ہے۔ فَاِنْ فَآءَ تْ : باغی گروہ اگر اللہ کی طرف لوٹ آئے یعنی لڑائی کے بعد مغلوب ہو کر اللہ کے حکم کو قبول کرلے۔ بِالْعَدْلِتو دونوں گروہوں میں انصاف کے ساتھ صلح کرا دو ۔ بِالْعَدْلکے لفظ سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ گزشتہ بغاوت عدم انصاف پر تم کو آمادہ نہ کرے۔ وَاَقْسِطُوْا : اور تمام امور میں انصاف سے کام لو۔ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ : اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ انصاف کے مطابق منصف کو جزا عطا فرمائے گا۔ قِسْط : (مجرد) کا معنی ہے ظلم کرنا یا ظلم اوراقساط (باب افعال۔ ہمزہ سبب مآخذ کیلئے ہے) کا معنی ہے ظلم کو دور کرنا ‘ انصاف کرنا۔