49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 49:1–3

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 49:1 in the Quran reader

مومنو ! (کسی بات کے جواب میں) خدا اور اسکے رسول سے پہلے نہ بول اٹھا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا سنتا جانتا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 49:2 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو

اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 49:3 in the Quran reader

جو لوگ پیغمبر خدا کے سامنے دبی آواز سے بولتے ہیں خدا نے ان کے دل تقوے کے لئے آزما لیے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے، اب اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو قدم بمعنی تقدم سے مشتق ہے یعنی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول پر جو اس کا پیغامبر ہے پیش قدمی نہ کرو یعنی ان دونوں کی اجازت کے بغیر اور اللہ سے ڈرت رہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری باتوں کو سننے والا تمہارے کاموں کو جاننے والا ہے، یہ آیت آنحضرت ﷺ کے حضور ابوبکر و عمر ؓ کے اقرع ابن حابس یا قعقاع بن معبد کو امیر بنانے میں نزاع کے بارے میں نازل ہوئی اور (آئندہ آیت) اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی کہ جس نے اپنی آواز کو آپ ﷺ کے حضور بلند کیا، اے ایمان والو ! جب تم گفتگو کیا کرو تو نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کیا کرو جب وہ کلام کیر اور نہ اس کے سامنے اونچی آواز میں باتیں کرو جب تم اس سے سرگوشی کرو جیسا کہ تم آپس میں اونچی آواز سے باتیں کرتے ہو بلکہ اس کی آواز سے پست ہی رکھو، آپ کی جلالت شان کا خیال کرتے ہوئے تمہارے اعمال اکارت ہوجائیں اور تم کو اس کا احساس بھی نہ ہو، مذکورہ بلند اور اونچی آواز کی وجہ سے تمہارے اعمال کے ضائع ہونے کے پیش نظر (آپ ﷺ سے بلند آواز سے کلام نہ کرو) اور (آئندہ آیت) اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنی آواز کو آنحضرت ﷺ کے حضور پست کرتا تھا، جیسا کہ ابوبکر و عمر ؓ وغیرہ، بیشک وہ لول جو رسول اللہ کے حضور میں اپنی آوازوں کو پشت رکھتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ جن کے قلوب کو اللہ نے تقویٰ کے لئے آزما لیا ہے تاکہ ان کا تقویٰ ظاہر ہوجائے ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے (یعنی) جنت اور نازل ہوئی ان لوگوں کے بارے میں جو دوپہر کے وقت آئے اور نبی ﷺ اپنے مکان میں تھے، سو انہوں نے آپ کو پکارنا شروع کردیا بلاشبہ وہ لوگ جو آپ کو حجروں کے باہر سے پکارت یہیں یعنی آپ ﷺ کے بارے میں یہ نہیں جانتے تھے کہ آپ کس حجرے میں ہیں ؟ کرختگی اور شدت کے ساتھ دیہاتیوں کے مانند پکارنا تھا ان میں کے اکثر آپ کے مقام بلند اور آپ کی مناسب تعظیم سے ناواقف تھے اس سلسلہ میں جو انہوں نے کیا اور اگر یہ لوگ صبر کرتے تاآنکہ آپ ﷺ خود ہی ان کی طرف نکلتے تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا انھم ابتداء کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فعل مقدر کا فاعل ہے یعنی ثبت کا اللہ اس شخص کے لئے غفور اور رحیم ہے جس نے ان میں سے توبہ کی اور (آئندہ آیت) ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی اور آنحضرت ﷺ نے ان کو بنی مصطلق کی جانب محضل بنا کر بھیجا تھا، چناچہ انہوں نے اس عداوت کی وجہ سے جو ان کے اور بنی مطلق کے درمیان زمانہ جاہلیت میں تھی ان سے اندیشہ کیا، جس کی وجہ سے وہ واپس چلے آئے اور (آکر) کہہ دیا کہ انہوں نے صدقہ دینے سے انکار کردیا اور انہوں نے میرے قتل کا ارادہ کیا، چناچہ نبی ﷺ نے ان سے جنگ کرنے کا ارادہ فرما لیا، چناچہ اہل بنی مصطلق (آپ ﷺ کی خدمت میں) حاضر ہوئے اور ان کی طرف منسوب کر کے جو بات عقبہ ؓ نے آپ سے کہی اس کا انکار کیا، اے ایمان والو ! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دیا کرے تو اس کے سچ اور جھوٹ کی اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو اور ایک قرأت تثبتوا ہے ثبات سے، (یعنی توقف کرو، جلدی نہ کرو) ایسا نہ ہو کہ کہیں نادانی میں کسی قوم کو تکلیف پہنچا دو (ان تصیبوا) مفعول لہ ہے، یعنی اس اندیشہ کی وجہ سے بجھالۃ (تصیبوا) کے فاعل سے حال ہے اس حال میں کہ تم جاہل ہو پھر غلطی سے قوم کے ساتھ تم نے جو کچھ کر ڈالا اس پر شرمندہ ہوناپ ڑے ان حضرات کے اپنے شہروں کو واپس جانے کے بعد ان کے پاس آپ ﷺ نے خالد ؓ کو روانہ فرمایا، تو انہوں نے ان سے سوائے اطاعت اور خیر کے کچھ نہ دیکھا تو خالد ؓ نے اس امر کی خبر آنحضرت ﷺ کو روانہ فرمایا، تو انہوں نے ان سے سوائے اطاعت اور خیر کے کچھ نہ دیکھا تو خالد ؓ نے اس امر کی خبر آنحضرت ﷺ کو دی اور جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں، لہٰذا کوئی غلط بات نہ کہو اللہ تعالیٰ اس کو حقیقت حال کی خبر دیدیے گا اگر وہ بہت سے معاملات میں جن کی تم خلاف واقعہ خبر دیتے ہو تمہاری بات مان لیا کرے پھر اس پر اس کا مقتضیٰ بھی مرتب ہوجائے تو تم گنہگار ہو گے نہ کہ وہ (آپ ﷺ مرتب کا سبب بنے کی وجہ سے (نہ کہ اس کے ارتکارب کی وجہ سے) لیکن اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اسے تمہارے دلوں میں زینت بخشی (یعنی پسندیدہ بنادیا) کفر کو اور گناہ کو اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں ناپسندیدہ بنادیا (لکن سے) استدراک ہے معنی کی حیثیت سے نہ کہ لفظ کی حیثیت سے اس لئے کہ من حبب الیہ الایمان الخ کی صفت متغایر ہے، ان کی صفت سے جن کا ذکر ماقبل میں ہوا ہے، یہی لوگ اس میں خطاب سے غیبت کی طرف التفات ہے، راہ یافتہ ہیں یعنی اپنے دین پر ثابت قدم رہنے والے ہیں اللہ کے فضل و احسان سے (فضلا) مصدر منصوب ہے اپنے فعل مقدر افضل کی وجہ سے، اور اللہ ان کے حالات سے واقف ہے اور ان پر انعام فرمانے کے بارے میں باحکمت ہے اور اگر مومنین کی دو جماعتیں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو، یہ آیت ایک واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، واقعہ یہ ہے کہ ایک روز آپ ﷺ حمار پر سوار ہوئے اور آپ کا گذر عبد اللہ بن ابی کے پاس سے ہوا تو حمار نے پیشاب کردیا جس کی وجہ سے عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک دبائی، تو ابن رواحہ ؓ بولے، واللہ آپ ﷺ کے حمار کا پیشاب تیرم مشک سے زیادہ خوشبودار ہے سو ان دونوں کی قوموں کے درمیان ہا تھا پائی ہوگئی اور جوتے اور ڈنڈے چلنے لگے (طائفۃ) کی طرف نظر کرتے ہوئے، اقتتلوا کو جمع لائے ہیں، اس لئے کہ ہر طائفہ ایک جماعت ہوتی ہے اور اقتتلتا بھی پڑھا گیا ہے اور بینھما کو لفظ کی رعایت کرتے ہوئے، تثنیہ لایاگ یا ہے، پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو سب اس جماعت سے جو زیادتی کرتی ہے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے پس اگر لوٹ آئے تو انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے (یاد رکھو) سارے مسلمان دینی بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں جب وہ جھگڑا کریں صلح کرا دیا کرو (اخویکم) کو تائے فوقانیہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور اصلاح کرنے میں اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر حم کیا جائے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : لاتقدموا اس میں دو صورتیں ہیں اول یہ کہ یہ متعدی ہے، تعمیم کے قصد سے اس کے مفعول کو حذف کردیا گیا ہے یا نفس فعل کا قصد کرنے کی وجہ سے مفعول کو تکر کردیا گیا ہے، جیسا کہ عرب کہتے ہیں فلان یمنع و یعطی دوسری صورت یہ کہ یہ لازم ہے جیسے وجہ و توجہ وہ متوجہ ہوا اور اسی کی تائید ابن عباس ؓ اور ضحاک اور یعقوب کی قرأت تقدموا کرتی ہے اور واحدی نے کہا ہے کہ قدم یہاں تقدم کے معنی میں ہے یعنی تم آگے نہ بڑھو (فتح القدیر) مفسر علام نے قدم بمعنی تقدم کہہ کر اشارہ کردیا کہ قدم لازم کے معنی میں ہے لہٰذا اس کا مفعول محذوف ماننے کی ضرورت نہیں۔ قولہ : المبلغ عنہ یہ رسولہ کی صفت ہے اور اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے حکم و اجازت کے بغیر نہ قول میں سبقت کرو اور نہ فعل میں بعض حضرات نے کہا ہے کہ تقدموا کا مفعول محذوف ہے ای لاتقدموا امراً قولہ : اذا نا جبتموہ اس جملہ کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : اول جملہ یعنی لاترفعوا اصواتکم اور دوسرا جملہ ولاتجھروا لہ بالقول دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے جبکہ عطف مغایرت کا تقاضہ کرتا ہے تو پھر اس تکرار کا کیا مقصد ہے ؟ جواب :۔ دونوں جملوں کا مفہوم اور مصداق الگ الگ ہے، اول جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ جب آپ ﷺ سے گفتگو ہو رہی ہو یعنی سوال و جواب ہو رہے ہوں تو اس طریقہ سے نہ بولو کہ تمہاری آواز آپ ﷺ کی آواز سے بلند ہوجائے اور دوسرے جملہ کا مطلب یہ کہ جب تم آپ ﷺ سے سوال کر رہے ہو اور آپ ﷺ خاموش سن رہے ہوں تو بھی زور زور سے نہ بولو جس طرح تم آپس میں بولتے ہو، لہٰذا تکرار کا شبہ ختم ہوگیا۔ قولہ : بل دون ذلک کا مطلب ہے کہ ہرحال میں اپنی آواز آپ ﷺ کی آواز سے پست رکھو، خواہ آپ سے گفتگو ہو رہی ہو یا تم بول رے ہو آپ ﷺ خاموش سن رہے ہوں۔ قولہ : اجلالاً یہ لاترفعوا ولاتجھروا کی علت ہے، مطلب یہ ہے کہ ہرحال میں آپ کی جلالت شان کا خیال رہنا چاہیے۔ قولہ : خشیۃ ذلک اس عبارت کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ان تحبط حذف مضاف کے ساتھ مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب المحل ہے، تقدیر عبارت یہ ہے انتھوا عما نھیتم لخشیۃ حبوط اعمالکم فائدہ : لاترفعوا اور لاتجھروا دونوں نے خشیۃ میں تنازع کیا ہے ہر ایک خشیۃ کو اپنا مفعول لہ بنانا چاہتا ہے، بصریین کے مذہب کے مطابق ثانی کو عمل دیا اور اول کے لئے مفعول لہ محذوف مان لیا (گویا کہ یہ باب تنازع فعلان سے ہے) قولہ : اولئک الذین الخ اولئک مبتداء ہے الذین امتحن اللہ موصول صلہ سے مل کر جملہ ہو کر ان کی خبر ہے۔ قولہ : لتظھر منھم اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : امتحان تقویٰ کا سبب نہیں ہوتا ہے حالانکہ امتحن اللہ قلوبھم اللتقویٰ میں متحان کو تقویٰ کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ جواب : اختبار تقویٰ کا سبب نہیں ہے مگر ظہور تقویٰ کا سبب ضرور ہے یہ اطلاق السبب علی المسب کے قبیل سے ہے، اس لئے کہ امتحان دل کے اندر پوشیدہ تقویٰ کو ظاہر کردیتا ہے، اسی شبہ کو رفع کرنے کے لئے لتظھر منھم کا اضافہ کا یہ ہے۔ قولہ : ترۃ تاء کے کسرہ اور راء کی تخفیف کے ساتھ، بمعنی حسد، عداوت، شک قولہ : فتبتوا یہ تثبت سے امر کا جمع مذکر حاضر ہے تم توقف کرو جلدی نہ کرو۔ قولہ : خشیۃ ذلک یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان تصیبوا قوما، فتبینوا کا مفعول لہ ہے، ان تصیبوا سے پہلے مضاف محذوف ہے ای خشیۃ اصابۃ قوم قولہ : عنتم عنت سے ماضی جمع مذکر جمع مذکر حاضر، تم گنہگار ہوگئے تم مشکل میں پڑے گء۔ قولہ : دونہ یعنی دروغ گوئی اور غلط بیانی کی وجہ سے جو کچھ نتیجہ برآمد ہوگا اس کے ذمہ دار غلط بیانی کرنے والے ہوں گے نہ کہ آپ ﷺ اس لئے کہ آپ ﷺ تو تم لوگوں کی گواہی پر فیصلہ کرنے پر مجبور ہیں۔ قولہ : اثم التسب الی المرتب یعنی لوگ مرتب شدہ نتیجہ کا ذریعہ اور سبب بننے کی وجہ سے گنہگار ہو گے نہ کہ ارتکاب فعل کی وجہ سے۔ قولہ : استدراک من حیث المعنی دون اللفظ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : سوال یہ ہے کہ لکن استدراک کے لئے ہے، اور استدراک کے لئے ضروری ہے کہ مابعد ماقبل کا نفیاً و اثباتاً مخالف ہو اور یہاں ایسا نہیں ہے لہٰذا یہ استدراک صحیح نہیں ہے۔ جواب :۔ لکن مابعد ماقبل سے اگرچہ نفیاً و اثباتاً ، لفظاً متغائر نہیں ہے مگر معناء متغائر ہے، لہٰذا استدراک صحیح ہے اور معنوی اختلاف یہ ہے کہ من حبب الیہ الایمان کی صفت ان لوگوں سے مختلف ہے جن کا ذکر سابق میں گذر چکا ہے اس طریقہ سے مستدرک مستدرک منہ سے مختلف ہے، لہٰذا استدراک بھی درست ہے۔ قولہ :۔ مصدر منصوب بفعلہ المقدر یعنی فضلاً اپنے فعل کا مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے (مگر یہ صحیح نہیں ہے) اس میں تسامح ہے اس لئے کہ فضلاً اسم مصدر ہے مصدر اس کا افضالاً ہے، البتہ مفعول لہ درست ہے اور عامل اس میں حبب ہے عامل اور معمول کے درمیان اولئک ھم الراشدون جملہ معترضہ ہے۔ قولہ : اقتتلا جمع نظراً الی المعنی یہ ایک شواب کا جواب ہے۔ شبہ : اقتتلوا جمع کا صیغہ ہے حالانکہ اس کی ضمیر طائفتان تثنیہ کی طرف لوٹ رہی ہے، لہٰذا ضمیر و مرجع کے درمیان مطابقت نہیں ہے۔ دفع : طائفتان کے معنی کی طرف نظر کرتے ہوئے جمع کا صیغہ لایا گیا ہے، اس لئے کہ ہر طائفہ بہت سے افراد پر مشتمل ہوتا ہے، بینھما میں تثنیہ لایا گیا ہے، طائتان کے لفظ کی رعایت کرتے ہوئے۔ تفسیر و تشریح یہ سورت طوال مفعل میں سیپ ہلی سورت ہے، سورة حجرات سے سورة نازعات تک کی سورتیں طوال مفعل کہلاتی ہیں بعض نے سورة ق کو پہلی مفصل سورت قرار دیا ہے (ابن کثیر، فتح القدیر) ان سورتوں کا فجر کی نماز میں پڑھنا مسنون و مستحب ہے اور عبس سے سورة والشمس تک اوساطت مفصل اور سورة ضحی سے والناس تک قصار مفصل ہیں، ظہر و عشاء میں اوساطت اور مغرب میں قصار پڑھنی مسنون و مستحب ہیں۔ (ایسر التفاسیر) شان نزول : یایھا الذین آمنوا لاتقدموا (الٓایۃ) ان آیات کے نزول روایات حدیث میں بقول قرطبی چھ واقعات منقول ہیں اور قاضی ابوبکر بن عربی نے فرمایا کہ سب واقعات صحیح ہیں، کیونکہ وہ سب واقعات ان آیات کے مفہوم میں داخل ہیں، ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے جس کو امام بخاری نے روایت کیا ہے، واقعہ یہ ہے : ایک مرتبہ قبیلہ بنو تمیم کے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ بات زیر غور تھی کہ اس قبیلہ کا حاکم (امیر) کس کو بنایا جائے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے قعقاع بن معبد کے بارے میں رائے دی اور حضرت عمر ؓ نے اقرع بنحابس ؓ کے بارے میں رائے دی، اس معاملہ میں حضرت ابوبکر و عمر ؓ کے مابین آپ کی مجلس میں کچھ تیز گفتگو ہوگئی اور بات بڑھ گئی جس کی وجہ سے دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ زمانہ نزول : یہ بات روایات سے بھی معلوم ہوتی ہے اور سورت کے مضامین بھی اسی کی تائید کرتے ہیں کہ یہ سورت مختلف مواقع پر نازل شدہ احکام و ہدایات کا مجمعہ ہے، جنہیں مضون کی مناسبت سے ایک جگہ جمع کردیا گیا ہے، اس کے علاوہ روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر احکام مدینہ طیبہ کے آخری دور میں نازل ہوئے ہیں مثلاً آیت 4 کے متعلق مفسرین کا بیان ہے کہ یہ بنو تمیم کے وفد کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جس وفد نے آ کر ازواج مطہرات کے حجروں کے باہر سے نبی ﷺ کو پکارنا شروع کردیا تھا اور تمام کتب سیرت میں اس وفد کی آمد کا زمانہ 9 ھ بیان کیا گیا ہے، اسی طرح آیت 6 کے متعلق حدیث کی اکثر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ولید بن عقبر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جنہیں رسول اللہ ﷺ نے بنی مصطلق سے زکوۃ وصول کرنے کے لانے کے لئے بھیجا تھا اور یہ بات معلوم ہی ہے کہ ولید بن عقبہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔ لاتقدموا یعنی آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش قدمی اور سبقت نہ کرو، کس چیز میں پیشقدمی کو منع کیا گیا ہے ؟ اسکا ذکر قرآن میں نہیں ہے، اس میں عموم کی طرف اشارہ ہے، یعنی کسی بھی قول وفعل میں آنحضرت ﷺ سے پیش قدمی نہ کرو بلکہ انتظار کرو کہ رسول اللہ ﷺ کیا جواب دیتے ہیں ؟ البتہ اگر آپ ہی کسی کو جواب کے لئے مامور فرما دیں تو جواب دے سکتا ہے، اسی طرح چلنے میں بھی کوئی آپ سے سبقت نہ کرے، اگر مثلاً کھانے کی مجلس ہے تو آپ سے پہلے کھانا شروع نہ کرے مگر قرائن یا صراحت سے اجازت معلمو ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ علماء دین اور دینی مقتدائوں کے ساتھ بھی یہی ادب ملحوظ رکھنا چاہیے : بعض مشائخ نے فرمایا ہے کہ علماء و مشائخ دین کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ وہ وارث انبیاء ہیں اور دلیل اس کی یہ واقعہ ہے ایک روز حضرت ابولدرداء ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر ؓ کے آگے چل رہے ہیں تو آپ ﷺ نے تنبیہ فرمائی اور فرمایا کہ کیا تم ایسے شخص کے آگے چل رہے ہو جو دنیا و آخرت میں تم سے بہتر ہے اور فرمایا کہ دنیا میں آفتاب کا طلوع و غروب کسی ایسے شخص پر نہیں ہوا کہ جو انبیاء (علیہم السلام) کے بعد ابوبکر سے افضل ہو۔ (روح البیان معارف) لاتقدموا بین یدی اللہ و رسولہ کا یہ مطلب بھی ہے کہ دین کے معاملہ میں اپنے طور پر کوئی فیصلہ نہ کرو بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اپنی طرز سے دین میں اضافہ یا بدعات کی ایجاد اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی بےجا جسارت ہے۔ لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی اس آیت میں آپ ﷺ کی مجلس کا ادب بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ ﷺ کی آواز سے زیادہ آواز بلند سے اس طرح گفتگو کرنا جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بےمحابا کیا کرتے ہیں، ایک قسم کی بےادبی اور گستاخی ہے، چناچہ آیت کے نزول کے بعد صحابہ کرام کا یہ حال ہوگیا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ قسم ہے کہ اب مرتے دم تک آپ سے اس طرح بولوں گا جیسے کوئی کسی سے سرگوشی کرتا ہو۔ (درمنشور، ازبیھقی)
Ayahs 49:4–5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 49:4 in the Quran reader

جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے آواز دیتے ہیں ان میں اکثر بےعقل ہیں

وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:5 in the Quran reader

اور اگر وہ صبر کئے رہتے یہاں تک کہ تم خود نکل کر ان کے پاس آتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

شان نزول : ان الذین ینادونک من وراء الحجرات یہ آیت بنو تمیم کے بعض گنوار قسم کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی، جنہوں نے ایک روز دوپہر کے وقت جو کہ آنحضرت ﷺ کے قیلو لے کا وقت تھا، حجرے سے باہر کھڑے ہو کر عامیانہ انداز سے، یا محمد یا محمد کی آوازیں لگائیں تاکہ آپ باہر تشریف لے آئیں (مسند احمد) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کی اکثریت بےعقل ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ کی جلالت شان اور آپ ﷺ کے ادب و احترام کے تقاضوں کا خیال نہ رکھنا بےعقلی ہے، امام بغوی نے بروایت قتادہ رحمتہ اللہ تعالیٰ ذکر کیا ہے کہ قبیلہ بنو تمیم کے لوگ جو آپ کے خدمت میں حاضر ہوئے تھے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے، یہ لوگ دوپہر کے وقت مدینہ منورہ پہنچے جب آپ کسی حجرے میں آرام فرما رہے تھے یہ اعرابی، آداب معاشریت سے ناقواف تھے، انہوں نے حجروں کے باہر ہی سے پکارنا شروع کردیا (اخرج الینا یا محمد) اس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی جس میں اس طرح پکارنے سے منع کیا گیا ہے۔ حجرات امہات المومنین : ابن سعد نے بروایت عطاء خراسانی لکھا ہے کہ یہ حجرے کھجور کی شاخوں سے بنے ہوئے تھے اور ان کے دروازوں پر موسیاہ اون کے پردے پڑے ہوئے تھے، امام بخاری نے ادب المفرد میں اور بیہقی نے دائود بن قیس سے روایت کیا ہے وہ فرما ہیں کہ میں نے ان حجروں کی زیارت کی ہے میرا گمان یہ ہے کہ حجرے کے دروازے سے مسقف بیت تک چھ یا سات ہاتھ اور کمرہ دس ہاتھ اور چھت کی اونچائی سات یا آٹھ ہاتھ ہوگی، امہات المومنین کے یہ ہجرے ولید بن عبدالمالک کے دور حلو میں ان کے حکم سے مسجد نبوی میں شامل کردیئے گئے، مدینہ منورہ میں اس روز گریہ و بکا طاری تھا۔ (معارف)
Ayah 49:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ Open ayah 49:6 in the Quran reader

مومنو ! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے

شان نزول : یا ایھا الذین امنوا ان جاء کم فسق بنباً (آلایۃ) اس آیت کے نزول کا واقعہ ابن کثیر نے بحوالہ مسند احمد یہ نقل کیا ہے کہ قبیلہ بنی مصطلق کے رئیس حارث بن ضرار جن کی صاحبزادی حضرت میمونہ بنت حارث امہات المومنین میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا، میں نے اسلام قبول کیا اور زکوۃ ادا کرنے کا اقرار کیا اور عرض کیا کہ اب میں اپنی قوم میں جا کر اپنی قوم کو اسلام اور ادائے زکوۃ کی دعوت دوں گا، جو لوگ میرے بات مان لیں گے اور زکوۃ ادا کریں گے میں ان کی زکوۃ جمع کر لوگں، اور آپ فلاں مہینہ کی فلاں تاریخ تک اپنا کوئی قاصد میرے پاس بھیج دیں تاکہ زکوۃ کی جو رقم میرے پاس جمع ہوجائے اس کے سپرد کر دوں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے مقررہ تاریخ پر ولید بن عقبہ بن معیط کو محصل زکوۃ بنا کر بھیج دیا تھا، مگر ولید بن عقبہ کو راستہ میں یہ خیال ہوا کہ اس قبیلہ کے لوگوں سے میری پرانی دشمنی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے قتل کر ڈالیں اس خوف سے وہ راستہ ہی سے واپس آگئے اور آپ ﷺ کو یوں ہی رپورٹ دیدی کہ انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا، اس خوف سے وہ راستہ ہی سے واپس آگئے اور آپ ﷺ کو یوں ہی رپورٹ دیدی کہ انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا ہے، جس پر آپ ﷺ نے ان پر فوج کشی کا ارادہ فرما لیا اور خالد بن ولید ؓ کو مجاہدین کا ایک دستہ دیکر قبیلہ بنی مصطلق کی جانب سے روانہ فرما دیا، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ روانگی کی تیاری فرمائی، بہرحال یہ پتہ لگ گیا کہ یہ بات غلط تھی اور ولید ؓ تے وہاں گئے بھی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (معارف ملخصاً ) عدالت صحابہ ؓ کے متعلق ایک اہم سوال اور اس کا جواب : اس آیت کا ولید بن عقبہ ؓ کے متعلق نازل ہونا صحیح روایات سیثابت ہے اور آیت میں ان کو ” فاسق “ کہا گیا ہے، اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں کوئی فاسق بھی ہوسکتا ہے اور یہ اس مسلمہ اور متفقہ ضابطہ کے خلاف ہے کہ الصحابۃ اللھم عدول یعنی صحابہ کرام سب کے سب ثقفہ ہیں، ان کی شہادت پر کوئی گرفت نہیں کی جاسکتی، علامہ آلوسی نے روح المعانی میں فرمایا کہ اس معاملہ میں حق بات وہ ہے جس کی طرف جمہرو علماء گئے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ معصوم نہیں ان سے گناہ کبیرہ بھی زدہ ہوسکتا ہے جو فسق ہے اور اس گناہ کی وجہ سے اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جس کے وہ مستحق ہیں، یعنی شرعی سزا جاری کی جائیگی اور اگر کذاب ثابت ہو تو ان کی شہادت رد کردی جائے گی لیکن اہل سنت والجماعت کا عقیدہ نصوص قرآن کی بناء پر یہ ہے کہ صحابی سے گناہ تو سزد ہوسکتا ہے مگر کوئی صحابی ایسا نہیں جو گناہ سے توبہ کر کے پاک نہ ہوگیا ہو، قرآن کریم نے علی الاطلاق ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا فیصلہ صادر فرمایا ہے ’ ؓ و رضواعنہ “ اور رضاء الٰہی گناہوں کی معافی نہیں ہوسکتی، جیسا کہ قاضی ابویعلی نے فرمایا کہ رضاء اللہ تعالیٰ کی ایک صفت قدیمہ ہے وہ اپنی رضا کا اعلان صرف اسی کے لئے آتے ہیں جن کے متعلق وہ جانتے ہیں کہ ان کی وفات موجبات رضا پر ہوگی۔ (کذافی الصار مالمسلول لابن تیمیمہ معارف) کسی صحابی کو فاسق کہنا درست نہیں ہے : گو آیت کا شان نزول حضرت ولید بن عقبہ ؓ کا واقعہ ہی سہی مگر لفظ فاسق ان کے لئے استعمال کیا گیا ہو یہ ضروری نہیں، وجہ یہ ہے کہ اس واقعہ سے پہلے تو ولید بن عقبہ سے کوئی ایسا کام ہوا نہ تھا جس کے سبب ان کو فاسق کہا جائے اور اس واقعہ میں بھی جو انہوں نے بنی مصطلق کے لوگوں کی طرف ایک غلط بات منسوب کی وہ بھی اپنے خیال کے مطابق صحیح سمجھ کر کی اگرچہ واقع میں غلط تھی اس لئے آیت مذکورہ کا صاف اور بےغبار مطلب یہ بن سکتا ہے کہ اس آیت نے قاعدہ کلیہ فاسق کی خبر کے نامقوبل ہونے کے متعلق بیان کیا ہے اور واقعہ مذکورہ پر اس آیت کے نزول سے اس کی مزید تاکید اس طرح ہوگئی کہ ولید بن عقبہ اگرچہ فاسق نہ تھے مگر اسکی خبر قرائن قویہ کے اعتبار سے ناقابل قبول معلوم ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے محض ان کی خبر پر کسی اقدام سے گریز کر کے خالد بن ولید کو تحقیقات پر مامور فرمایا تو جب ایک ثقہ اور صالح آدمی کی خبر میں قرائن کی بنائپر شبہ ہوجانے کا معاملہ یہ ہے کہ اس پر قبل از تحقیق عمل نہیں کیا گیا تو فاسق کی خبر کو قبول نہ کرنا اور اس پر عمل نہ کرنا اور زیادہ واضح ہے۔ (معارف) اس آیت کے شان نزول میں ” فاسق “ کس کہ کہا گیا : زیادہ تر روایات سے تو صراحت کے ساتھ یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ مراد ہیں، حضرت ام سلمہ ؓ کی روایت میں یہ پورا قصہ تو اسی طرح بیان ہوا مگر اس میں ولید بن عقبہ کے نام کی صراحت نہیں ہے، بعض حضرات نے مثلاً مولانا ابوالکام نے یہ توجیہ کی ہے کہ آیت میں فاسق ولید بن عقبہ کو نہیں کہا بلکہ اس شخص کو کہا گیا جس نے حضرت ولدی بن عقبہ کو یہ خبر دی کہ بنو مصطلق مرتد اور زکوۃ کے منکر ہوگئے ہیں اور تمہارے قتل کے در پے ہیں حضرت ولید بن عقبہ اسی شخص کی خبر پر اعتماد کر کے واپس چلے گئے اور اسی کے مطابق آپ ﷺ کو رپورٹ دیدی، مگر اس توجیہ کی کوئی بنیاد معلوم نہیں ہوسکی۔
Ayahs 49:7–8

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ؕ لَوْ یُطِیْعُكُمْ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَۙ Open ayah 49:7 in the Quran reader

اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبر ہیں اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑجاؤ لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں

فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ نِعْمَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 49:8 in the Quran reader

(یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

واعلموا ان فیکم رسول اللہ لویطیعکم (آلایۃ) اس سے پہلے آیت میں حضرت ولید بن عقبہ اور بنو مصطلق کا واقعہ مذکور تھا، جس میں ولید بن عقبہ ؓ نے یہ خبر دیدی تھی کہ بنی مصطلق مرتد ہوگئے اور زکوۃ دینے سے بھی انکار کردیا، اس پر صحابہ کرام میں بھی اشعتال پیدا ہوا، ان کی رائے یہ تھی کہ ان لوگوں پر جہاد کے لئے مجاہدین کو بھیج دیا جائے، مگر آنحضرت ﷺ نے ولید بن عقبہ کی خبر کو قرآئن قویہ کی وجہ سے خلاف واقعہ سمجھ کر قبول نہ کیا اور تحقیقات کے لئے حضرت خالد بن ولید کو مامور ﷺ نے ولید بن عقبہ کی خبر کو قرآئن قویہ کی وجہ سے خلاف واقعہ سمجھ کر قبول نہ کیا اور تحقیقات کے لئے حضرت خالد بن ولید کو مامور فرمایا، سابقہ آیت میں قرآن کریم نے اس کو قانون بنادیا کہ جس کی خبر میں قرآئن قویہ سے کوئی شبہ ہوجائے تو قبل تحقیق اس پر عمل کرنا جائز نہیں، اس آیت میں صحابہ کرام کو ایک اور ہدایت دی گئی ہے کہ اگرچہ بنی مصطلق کے متعلق ارتداد کی خبر سن کر تمہارا جوش غیرت ایمانی کے سبب سے تھا مگر تمہاری رائے صحیح نہ تھی اللہ کے کے رسولنے جو صورت اختیار فمائی وہی بہتر تھی۔ (مظہری) اس نازک موقع پر ایک بےبنیاد خبر اعتماد کرلینے کی وجہ سے ایک عظیم غلطی ہوتے ہوتے رہ گئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ اصولی ہدایت دی کہ جب کوئی اہمیت رکھنے والی خبر جس پر کوئی بڑا نتیجہ مرتب ہوتا ہو تمہیں ملے تو اسے قبول کرے پہلے یہ دیکھ لو کہ خبر لانے والا کیسا آدمی ہے اگر وہ کوئی فاسق شخص ہو یعنی اس کا ظاہر حال یہ بتارہا ہے کہ اس کی بات اعتماد کے لائق نہیں ہے تو اس کی خبر پر عمل کرنے سے پہلے تحقیق کرلو کہ امر واقعہ کیا ہے ؟ ایسا نہ ہو کہ غلط فہمی کی وجہ سے کسی کے خلاف کوئی کارروائی ہوجائے اور بعد میں پیشمان ہونا پڑے۔
Ayahs 49:9–10

وَ اِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 49:9 in the Quran reader

اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو اور اگر ایک فریق دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع لائے پس وہ رجوع لائے تو دونوں فریق میں مساوات کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۠ Open ayah 49:10 in the Quran reader

مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم رحمت کی جائے

شان نزول : وان طائفتان من المومنین (آلایۃ) کے سبب نزول میں مفسرین نے متعدد واقعات بیان فرمائے ہیں جن میں خود مسلمانوں کے دو گروہوں میں باہم تصادم ہوا اور کوئی بعید نہیں کہ یہ سب ہی واقعات کا مجموعہ سبب نزول ہوا ہو یا نزول کسی ایک واقعہ میں ہوا ہو اور دوسرے واقعات کو اس کے مطابق پا کر ان کو بھی سبب نزول میں شریک کردیا گیا، اس آیت کے اصل مخاطب تو وہ اولوالامر اور ملکوک ہیں جن کو قتال و جہاد کے وسائل حاصل ہوں۔ (روح المعانی، معارف) اور بالواسطہ تمام مسلمان مخاطب ہیں کہ اولوالامر کی اعانت کریں اور جہاں کوئی امام و امیر بادشاہ نہ ہو، وہاں حکم یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو دونوں کو فرمائش کر کے ترک قتال پر آمادہ کیا جائے اور اگر دونوں نہ مانیں تو دونوں سے الگ رہے نہ کسی کی مخالفت کرے اور نہ موافقت ہے۔ (بیان القرآن) مسائل متعلقہ : مسلمانوں کے دو گروہوں کی باہمی لڑائی کی چند صورتیں ہیں : (1) اول یہ کہ دونوں جماعتیں امام السلمین کے تحت ولایت ہوں (2) دوسرے دونوں جماعتیں امام السلمین کے تحت ولایت نہ ہوں (3) تیسری صورت ایک جماعت امام المسلمین کے تحت ولایت ہو اور دوسری نہ ہو۔ پہلی صورت میں عام مسلمانوں پر لازم ہے کہ فرمائش کر کے ان کو باہمی جنگ سے روکیں، اگر فرمائش سے باز نہ آئیں تو امام المسلمین پر اصلاح کرنا واجب ہے، اگر حکومت اسلامیہ کی مداخلت سے دونوں فریق جنگ سے باز آگئے تو قصاص و دیت کے احکام جاری ہوں گے اور اگر باز نہ آئیں تو دونوں فریق کے ساتھ باغیوں کا سا معاملہ کیا جائے گا اور اگر ایک باز آگیا اور دوسرا ظلم وتعدی پر جما رہا تو دوسرا فریق باغی ہے اس کے ساتھ باغیوں کا سامعاملہ کیا جائے اور جس نے اطاعت قبول کرلی وہ فریق عادل کہلائے گا (اور باغیوں کے احکام کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے) مشاجرات صحابہ اور مسلمانوں کے باہمی تصادم کی مزید تفصیل کے لئے بیان القرآن اور معارف القرآن کی طرف رجوع کریں اطناب کے خوف سے ترک کردیا گیا۔
Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

مومنو ! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کا برا نام (رکھو) ایمان لانے کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں

ترجمعہ :۔ اے ایمان والو ! نہ تو مرد مردوں کا مذاق اڑائیں ہوسکتا ہے کہ وہ عنداللہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا ممکن ہے کہ وہ عورتیں ان عورتوں سے بہتر ہوں، یہ آیت و فد نبی تمیم کے بارے میں نازل ہوئی، جبکہ انہوں نیفقرائے مسلمین کا تمسخر کیا تھا، مثلاً عمار صہیب کا اور سخریہ تحقیر و تذلیل کو کہتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگائو کہ تم عیب جوئی کرو تو تمہاری عیب جئوی کی جائے، یعنی کوئی کسی کی عیب جوئی نہ کرے اور نہ کسی کو برالقب دو ، یعنی آپس میں ایک دوسرے کو ایسے لقب سے نہ پکارو جس کو وہ ناپسند کرے اور ان ہی (برے القاب) میں سے یا فاسق یا کافر ہے، (صفت) ایمان سے متصف ہونے کے بعد فسق مذکورہ کا نام کہ وہ تمسخر اور عیب جوئی اور برے لقب رکھنا ہیں لگنا برا ہے (الفسوق) اسم سے بدل ہے، اس بات کا فائدہ دینے کی وجہ سے کہ (نام بگاڑنا) عادۃ بار بار ہوتا ہے اور گناہ صغیر، پر اصرار کی وجہ سے (صغیرہ کبیر ہوجاتا ہے) اور اس سے توبہ نہ کرنے والے ہی ظالم لوگ ہیں، اور اے ایمان والو ! بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں یعنی گنہگار کرنے والی ہیں اور یہ کثیر ہے، جیسا کہ منین اہل خیر کے ساتھ بدگمانی اور وہ (اہل خیر) کثیر ہیں بخلاف اس بدظنی کے، مومنین فساق میں تو اس بدگمانی میں گناہ نہیں ہے ان گناہوں کے بارے میں جن کو وہ کھلم کھلا کرتے ہیں اور کسی (کے عیب) نہ ٹٹولا کرو اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے (تجسسوا) سے ایک تاء حذف کردی گئی ہے (یعنی) مسلمانوں کے عیوب اور رازوں کی جستجو میں نہ رہا کو اور نہ اس کا کوئی ایسی چیز سے تذکرہ کرے جس کو وہ ناپسند کرے اگرچہ وہ چیز اس کے اندر موجود ہو کہ تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ اس غیبت سے بیخبر بھائی کا گوشت کھائے (میتاً ) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے (یقینا) نہیں پسند کرے گا لہٰذا تم اس بات کو (بھی) ناپسند کرو، اس لئے کہ اس کی زندگی میں اس کی غیبت کرنا اس کے مرنے کے بعد اس کا گوشت کھانے کے مانند ہے اور تمہارے سامنے ثانی پیش کیا گیا تو تم نے اس کو ناپسند کیا تو اول کو بھی ناپسند کرو اور اللہ سے ڈرتے ہو یعنی غیب کے بارے میں اس کی سزا سے، اس طریقہ سے کہ اس سے توبہ کرو، بیشک اللہ بڑا توبہ کا قبول کرنے والا ان پر مہربان ہ، یعنی توبہ کرنے والوں کی توبہ کو قبول کرنے والا ہے، اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا آدم و حواء سے اور ہم نے تم کو قومیں اور قبیلے بنایا شعوب شعب کی جمع ہے شین کے فتحہ کے ساتھ اور وہ (شب) نسب کے طبقات میں سب سے اوپر ہے اور قبیلہ یہ شعب سے نیچے ا ہے اور اس سے نیچے عمائر ہے، پھر بطون ہے اس سے نیچے افخاذ ہے اور ان سب سے آخر میں فیصلہ ہے، اس کی ماثل خزیمہ شعب ہ، کنانہ قبیلہ ہے، قریش عمارہ ہے عین کے کسرہ کے ساتھ اور قصی بطن ہے، ہاشم فخذ ہے، عباس فصیلہ ہے، تاکہ تم ایک دوسرے کو شناخت کرسکو، (تعارفوا) سے ایک تاء حذف کردی گئی تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو نہ کہ عالی نسبی پر فخر کرو اور فخر تو صرف تقویٰ کی وجہ سے ہے اور تم میں سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں خوب جاننے والا اور تمہارے طبقات نسب سے پوری طرح باخبر ہے، بنو اسد کے دیہاتیوں کی ایک جماعت کہتی ہے کہ ہم ایمان لے آئے، یعنی ہم نے اپنے قلوب سے تصدیق کردی آپ ان سے فرمایئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے لیکن یوں کہو ہم اسلام لائے یعنی ظاہری طور پر تابع فرمان ہوگئے لیکن ابھی تک تمہاریقلوب میں ایمان داخل نہیں ہوا، لیکن تم سے اس کی توقع رکھی جاسکتی ہے تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی ایمان وغیرہ میں فرمانبرداری کرنے لگو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے یعنی ان کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا (یالتکم) ہمزہ اور ترک ہمزہ کے ساتھ ہے اور ہمزہ کو الف سے بدل کر یعنی تمہارے اجر کو کم نہ کرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ مومنین کو معاف کرنے والا اور ان پر رحم کرنے والا ہے، مومن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے یعنی اپنے ایمان میں سچے ہوں جیسا کہ بعد میں اس کی صراحت فرمائی پھر انہوں نے ایمان میں شک نہ کیا اور اپنے مال میں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا ان کے جہاد سے ان کے ایمان کی صداقت ظاہر ہوتی ہے (اپنے دعوائے ایمان میں) یہی لوگ سچے ہیں نہ کہ وہ جن کی طرف سے سوائے ظاہری اتباع کے کچھ نہ پایا گیا، آپ ان سے کہہ دیجیے کیا تم اللہ کو اپنی دینداری کی خبر دیتے ہو تعلمون علم کا مضعف ہے بمعنی شعر یعنی کیا تم اس کو آگاہ کرتے ہو اس بات سے جس پر تم اپنے قول آمنا میں ہو او اللہ ہر اس چیز سے جو آسمانوں اور زمین میں ہے واقف ہے یہ لوگ بغیرقتال کے اسلام لانے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں بخلاف دوسروں کے کہ وہ قتال کے بعد اسلام لائے آپ کہہ دیجیے اپنے اسلام لانے کا مجھ پر احسان نہ رکھو (اسلامکم) نزع خافض باء کی وجہ سے منصوب ہے اور دونوں جگہوں پر ان سے پہلے بار مقدر ہے بلکہ (درحقیقت) اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی ہدایت بخشی، بشرطیکہ اپنے قول آمنا میں سچے ہو۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی سب مخفی چیزوں کو جانتا ہے یعنی زمین و آسمان میں جو چیزیں پوشید ہیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال کو بھی جانتا ہے یاء اور تاء کے ساتھ ان میں سے اس پر کوئی شئی مخفی نہیں ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : لایستخر مضارع منفی واحد مذکر غائب (س) سخر ٹھٹھا کرنا، مذاق کرنا۔ قولہ : الاذدراء والاحتقار یہ عطف تفسیری ہے، تحقیر و تذلیل کرنا۔ قولہ : قوم ای رجال، رجال سے اشارہ کردیا کہ قوم اسمع جمع ہے بمعنی رجال چونکہ قوم نساء کے مقابل ہمیں واقع ہے اس لئے اس سے یہاں مرد مراد ہیں اور لغت عرب میں بھی قوم رجال کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ قال الشاعر : وما ادری ولست اخال دری اقوم آل حضن ام نساء شاعر کی مراد ” قوم “ سے ” رجال “ ہیں اور رجالکوقوم اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ قوامون علی النساء ہیں اب رہا مطلقاً مردوں اور عورتوں کو قوم کہنا، جیسا کہ قوم فرعون اور قوم عاد وغیرہ تو وہ بطر تبعیت ہے اصالۃ قوم رجال ہی کو کہا جاتا ہے۔ قولہ : عسی اذیکون جملہ مستانفہ ہے بیان علت کے لئے اور عسی فاعل کی وجہ سے خبر سے مستغنی ہے۔ قولہ : اللمز، لمز اشارہ کر دن بچشم، آنکھ وغیرہ سے اشارہ کرنا۔ قولہ : لاتعیبوا فتعابوا یہ لاتلمزوا انفسکم کی توجیہ ہے یعنی اگر تم دوسروں کا عیب نکالو گے تو لوگ تمہارا عیب نکالیں گے، اس طرح گویا کہ تم خود اپنا خود اپنا عیب نکالو گے، یہ من ضحک ضحک کے قبیل سے ہے، جس طرح آپ ﷺ نے فرمایا لاتسبوا آبائکم، اپنے والدین کو گالی مت دو ، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ اپنے آباء کو کون گالی دے گا آپ نے فرمایا : اگر تم کسی کے آباء کو گالی دو گے تو وہ تمہارے آباء کو گالی دے گا، اس طرح گویا کہ تم اپنے آباء کو گالی دینے والے ہوئے۔ قولہ : امی لایعیب بعضکم بعضاً یہ لائلمزا انفسکم کی دوسری توجیہ ہے، مفسر علام اگر ای کے بجائے او فرماتے تو زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ (صاوی) قولہ : لاتنابزوا یہ تنابز سے نہی جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے تم کسی کی چڑ نہ نکالو، کسی کو برے لقب سے نہ پکارو، کسی کا نام نہ بگاڑو قولہ : ای المذکور من السخریۃ واللمز والتنابز مفسر علام کا مقصد اس عبارت کے اضافہ سے ایک سوال کا جواب دینا ہے۔ سوال : الاسم پر الف لام عہد کا ہے جو جمع پر دلالت کرتا ہے اور مراد اسماء ثلثہ مذکورہ یعنی السخریۃ، اللمز، التنابز ہیں لہٰذا مناسب تھا کہ الاسم مفرد لانے کے بجائے الاسماء جمع لاتے۔ جواب : اسم یہاں ذکر مشہور کے معنی میں ہے جو عرب کے قول طار اسمہ سے مشتق ہے، اسماء ثلثتہ المذکور کے معنی میں ہے لہٰذا الاسم کا مفرد لانا صحیح ہے اور اسم سے مراد ذکر اور شہرت ہے نہ معروف اسم بمقابل حرف و فعل اور نہ بمعنی علم اور یہ سمو سے مشتق ہے جس کے معنی بلند ہونے کے ہیں۔ قولہ : بئس الاسم الفسوق بئس فعل ماضی، الاسم اس کا فاعل الفسوق، الاسم سے بدل ہے، مفسر علام نے اسی ترکیب کو اختیار کیا ہے اس صورت میں مخصوص بالذم محذوف ہوگا، ای ھو زیادہ واضح ترکیب یہ ہے کہ الفسوق کو مخصوص بالذم قرار دیا جائے، مذکورہ جملے کی مشہور ترکیب یہ ہے کہ الفسوق مبتداء ہے اور بئس الاسم خبر مقدم ہے۔ قولہ : لافادۃ انہ فسق لتکررہ عادۃ یعنی سخریہ وغیرہ جو مذکور ہوئے اگرچہ گناہ صغیر ہیں مگر جب صغیرہ پر اصرار ہوا اور اس کا ارتکاب بار بار کیا جائے تو وہ گناہ کبیرہ بن جاتا ہے اور عام طور پر عادۃ ایسا ہی ہوتا ہے کہ انسان ان القاب کو بار بار دہراتا ہے۔ قولہ : لایحس بہ یہ میتا کی صفت ہے یعنی مردہ جو کہ محسوس نہیں کرتا، یعنی اگر اس کو کوئی کھائے تو اس کو احسان نہیں ہوتا، مفسر علام نے لایحس بہ کا اضافہ فرما کر اس بات کی طرف اشارہ فرما دیا کہ میت اور مغتاب لہ (جس کی غیبت کی جائے) درمیان وجہ شبہ عدم علم ہے جس شخص کی پس پشت غیبت کی جاتی ہے اس کو بھی غیبت کا علم نہیں ہوتا اور مردہ کا گوشت کھانے سے بھی مردہ کو علم و احساس نہیں ہوتا گویا کہ عدم علم میں دونوں مشترک ہیں۔ قولہ : مضعف علم یعنی تعلیم اعلام کے معنی میں ہے جو متعدی بدو مفعول ہے دوسرا مفعول دینکم ہے جس کی طرف باء کے ذریعہ متعدی ہے۔ قولہ : ان کنتم صادقین فی ادغائکم الایمان شرط ہے، اس کا جواب محذوف ہے فللہ المنۃ علیکم قولہ : فی المموضعین یعنی ان سے پہلے باء مقدر ہے دو جگہوں میں ان ان اسلموا ہے اور دوسری ان ھداکم ای بان اسلموا وبان ھدا کم تفسیر و تشریح یایھا الذین امنوا لایستخر قوم منقوم (الآیۃ) گزشتہ دو آیتوں میں مسلمانوں کی باہمی لڑائی کے متعلق ضروری ہدایات دینے کے بعد اہل ایمان کو یہ احسا دلایا گیا تھا کہ دین کیمقدس ترین رشتہ کی بناء پر وہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں، اب آگے کی دو آیتوں میں ان بڑی بڑی برائیوں کے سدباب کا حکم دیا جا رہا ہے جو بالعموم ایک معاشرے میں لوگوں کے باہمی تعلقات کو خراب کرتی ہیں، ایک دوسرے کی عزت پر حملہ ایک دوسرے کی دل آزاری، ایک دوسرے سے بدگمانی اور ایک دوسرے کے عیوب کا تجسس، درحقیقت یہی وہ اسباب ہیں جس سے آپس کی عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور پھر دوسرے سے بدگمانی اور ایک دوسرے کے عیوب کا تجسس، درحقیقت یہی وہ اسباب ہیں جس سے آپس کی عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور پھر دوسرے اسباب کے ساتھ مل کر ان سے بڑے بڑے فتنے رونما ہوتے ہیں، اس سلسلہ میں جو احکام آگے کی آیتوں میں دیئے گئے ہیں اور ان کی جو تشریحات احادیث میں ملتی ہیں ان کی بناء پر ایک مفصل قانون ہتک عزت مرتب کیا جاسکتا ہے، ایک شخص دوسرے شخص کا استہزاء اور تمسخر اسی وقت کرتا ہے جب وہ خود کو اس سے بہتر اور اس کو اپنے سے حقیر اور کمتر سمجھتا ہے، حالانکہ اللہ کے نزدیک ایمان اور عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور کون نہیں ؟ اس کا علم صرف اللہ کو ہے اس لئے خود کو بہتر اور دوسرے کو کمتر سمجھنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے اس آیت کے شان نزول میں متعدد واقعات ذکرکئے گئے ہیں۔ شان نزول : لایسخرقوم من قوم (الآیۃ) صاحب معالم نے کہا ہے کہ یہ آیت ثابت بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی، یہ اونچا سنتے تھے اسی لئے آپ ﷺ کے قریب بیھٹتے تھے تاکہ آپ کی بات سن سکیں، ایک روز ان کی فجر کی نماز کی ایک رکعت چھوٹ گئی اس کے بعد جب مجلس میں پہنچے تو صحابہ اپنی اپنی جگہ لے چکے تھے، ثابت بن قیس جب نماز پڑھ کر آئے تو کہنے لگے تفسحوا (جگہ دو ) لوگوں نے ان کو جگہ دیدی تو یہ کودتے پھاندتے قریب پہنچ گئے، صرف ایک شخص اپنی جگہ سے نہ ہٹاپس وہی شخص حضور کے اور ثابت کے درمیان میں تھا، ثابت نہ ٹھونکا لگا کر نام پوچھا، اس نے اپنا نام بتایا اور کہا مجھے جہاں جگہ مل گئی وہاں بیٹھا ہوں، چونکہ اس شخص کو ایام جاہلیت میں کسی عورت کی نسبت عار دلائی جاتی تھی تو ثابت نے کہا تو فلانی کا بیٹا ہے اس نے شرم سے سر جھکا لیا تو مذکورہ آیت نازل ہوئی، ضحاک نے کہا کہ بنی تمیم کے بارے میں نازل ہوئی، یہ لوگ فقراء صحابہ پر ہنستے تھے جیسے کہ عمار ؓ سلمان ؓ ، صہیب ؓ ، بال ؓ ، خباب ؓ وغیرہ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت انس نے فرمایا کہ امہات المومنین کے حق میں نازل ہوئی، ازواج مطہرات میں سے کسی نے حضرت ام سلمہ کوتاہ قامت (ٹھنگی) کہہ دیا تھا، اسی طرح کسی نے حضرت صفیہ کو یہودن کہہ دیا، اس آیت میں اس کی ممانعت آئی کہ تمہیں کیا معلوم کہ نفس الامر میں اور خاتمہ کے اعتبار سے کون بہتر ہے ؟ (خلاصۃ التفاسیر) یہ سب ہی واقعات نزول کا سبب ہوسکتے ہیں، ان میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ پہلا واقعہ : کہتے ہیں کہ یہ اخلاقی بیماری عورتوں میں زیادہ ہوتی ہے، اس لئے عورتوں کا بطور خاص الگ ذکر کر کے انہیں بھی بطور خاص اس سے روک دیا گیا ہے ورنہ عام طور پر مردوں کے بارے میں حکم ذکر کر کے عورتوں کو ان کے تابع کردیا جاتا ہے۔ مردوں اور عروتوں کا الگ الگ ذکر کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مردوں کے لئے عورتوں کے لئے مردوں کا مذاق اڑانا جائز ہے، دراصل جس وجہ سے دونوں کا ذکر الگ الگ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام سرے سے مخلوط سوسائٹی کا قائل نہیں ہے، ایک دوسرے کی تضحیک عموماً بےتکلف مجلسوں میں ہوا کرتی ہے، اسلام میں اس کی گنجائش رکھی ہی نہیں گئی کہ غیر محرم مرد عورتوں کی مجلس میں جمع ہو کر آپس میں ہنسی مذاق کریں، اس لئے اس بات کو ایک مسلم معاشرہ میں قابل تصور نہیں سمجھا گیا ہے۔ ولاتلمزوا انفسکم (الآیۃ) اللمز، العیب، ابن جریر نے کہا ہے کہ لمز ہاتھ، آنکھ زبان اور اشارہ سے ہوتا ہے اور ہمزہ صرف زبانی ہی سے ہوتا ہے۔ (فتح القدیر) لاتذابزوا (تفاعل) یہ نبز سے مشتق ہے، اور نبز حرکت کے ساتھ بمعین لقب (جمع) انباز، القاب لقب کی جمع ہے، اصلی نام کے علاوہ جو نام رکھ لیا جائے اس کو لقب کہتے ہیں یہاں برالقب مراد ہے لاتلمزوا انفسکم ایسا ہی ہے جیسا کہ لاتقتلوا انفسکم یعنی اپنے آپ کو قتل نہ کرو مطلب یہ ہے کہ آپس میں نہ تو عیب جئوی کرو اور نہ قتل کرو اور نہ آپس میں طعنہ زنی کرو، لمز کے مفہوم میں طعن وتشنیع کے علاوہ متعدد دوسرے مفہوم بھی شامل ہیں، مثلاً چوٹیں کسنا، پھبتیاں کسنا، الزام دھرنا، اعتراض جڑنا، عیب چینی کرنا، کھلم کھلا زیرلب یا اشاروں سے کسی کو نشانہ ملامت بنانا یہ سب افعال چونکہ آپس کے تعلقات کو بگاڑتے ہیں اور معاشرہ میں فساد برپا کرتے ہیں اس لئے ان کی بھی ممانعت کردی گئی ہے، تیسری چیز جس سے آیت میں ممانعت کی گئی ہے وہ کسی کو برے لقب سے پکارنا ہے جس سے وہ ناراض ہوتا ہو جیسے کسی کو لنگڑا، لولا، اندھا، گنجا وغیرہ کہہ کر پکارنا۔ حضرت ابوجبیرہ انصاری نے فرمایا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نزل ہوئی ہے کیونکہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ہم میں اکثر آدمی ایسے تھے جن کے دو یا تین نام مشہور تھے اور ان میں سے بعض نام ایسے تھے جو لوگوں نے اس کو عار دلانے اور تحقیر و توہین کے لئے مشہور کردیئے تھے، آپ کو یہ بات معلوم نہیں تھی بعض اوقات وہی ناپسندیدہ نام لیکر آپ اس کو خطاب کرتے تو صحابہ عرض کرتے یا رسول اللہ وہ اس نام سے ناراض ہوتا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (معارف) حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آیت میں تنا بزبالا لقاب سے مراد ہے کہ کسی شخص نے کوئی گناہ یا برا عمل کیا ہو اور پھر اس سے تائب ہوگیا ہو اس کے بعد پھر اس کو اس کے اس برے عمل کے نام سے پکارنا، مثلاً اے چور، اے زانی، اے شرابی وغیرہ کہنا، جس نے ان افعال سے توبہ کرلی ہو، اس کو اس پچھلے عمل سے عار دلانا اور تحقیر کرنا حرام ہے، حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو ایسے گناہ پر عار دلائے کہ جس سے اس نے توبہ کرلی ہے تو اللہ نے اپنے ذمہ لیا کہ اسی کو اسی گناہ میں مبتلا کر کے دنیا و آخرت میں رسوا کرے گا۔ (قرطبی ) بعض القاب کا استثناء : بعض لوگوں کے ایسے نام مشہور ہوجاتے ہیں کہ فی نفسہ وہ برے ہیں، مگر وہ بغیر اس لفظ کے پہچانے ہی نہیں جاتے تو اس کو اس نام سے ذکر کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ ذکر کرنے والے کا مقصد اس کی تحقیر اور تذلل نہ ہو جیسے بعض محدثین کے نام کے ساتھ، اعرج، یا احدب، یا اعمش وغیر مشہور ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا گیا کہ اسانید حدیث میں بعض ناموں کے ساتھ کچھ ایسے القاب آئے ہیں مثلاً حمید الطویل، سلیمان اعمش، مروان اصفر وغیرہ تو کیا ان الفاظ کے ساتھ ذکر کرنا جائز ہے ؟ آپ نیف رمایا کہ جب تمہارا قصد اس کا عیب بیان کرنے کا نہ ہو بلکہ اس کی پہچان پوری کرنے کا ہو تو جائز ہے۔ (قرطبی)
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

یا ایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیراً من الظن (آلایۃ) اس آیت میں تین باتوں کو حرام قرار دیا گیا ہے، اول ظن، دوسرے تجسس، تیسرے غیبت، پہلی چیز یعنی ظن کے معنی گمان غالب کے ہیں، اس کے متعلق قرآن کریم نے اول یہ یہ فرمایا کہ بہت گمانوں سے بچا کرو، پھر اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ ہر گماہ گناہ نہیں ہوتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ ہر گمان گناہ نہیں ہوتا۔ اس حکم کو سمجھنے کے لئے ہمیں تجزیہ کر کے دیکھنا چاہیے کہ گمان کی کتنی قسمیں ہیں اور ہر ایک کی اخلاقی حیثیت کیا ہے۔ گمان کی ایک قسم وہ ہے کہ جو اخلاق کی نگاہ میں نہایت پسندیدہ اور دین کی نظر میں مطلوب، محمود، مثلاً اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کے ساتھ نیک گمان رکھنا، اسی طرح اپنے میل جول رکھنے والوں اور متعلقین سے حسن ظن رکھنا، جب تک کہ بدگمانی کی کوئی معقول وجہ نہ ہو۔ دوسری قسم کا گمان وہ ہے جس سے کام لینے کے سوا عملی زندگی میں کوئی چارہ نہیں ہے، مثلاً عدالت میں اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا کہ جو شہادتیں حاکم عدالت کے سامنے پیش ہوں ان کے مطابق جانچ کردہ غالب گمان کی بناء پر فیصلہ کرے۔ گمان کی تیسری قسم وہ ہے کہ جو اگرچہ بدگمانی ہے مگر گناہ نہیں ہے، مثلاً کسی شخص یا جماعت کی سیرت یا کردار میں اس کے معاملات اور طور و طریقوں میں ایسی صورت میں یہ ضروری نہیں کہ لامحالہ اس سے حسن ظن ہی رکھے لیکن اس بدگمانی کی آخری حد یہ ہے کہ اس کے امکانی شر سے بچنے کے لئے بس احتیاط سے کام لے اس کے خلاف محض گمان کی بناء پر اس کے خلاف کوئی کارروائی کرنا درست نہیں۔ امام ابوبکر جصاص رحمتہ اللہ تعالیٰ نے احکام القرآن میں ایک جامع تفصیل اس طرح لکھی ہے کہ ظن کی چار قسمیں ہیں۔ (1) حرام (2) مامور بہ اور واجب (3) مستحب اور مندوب (4) مباح اور جائز۔ ظن حرام : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بدگمانی رکھے کہ وہ مجھے عذاب ہی دے گا یا مجھے مصیبت ہی میں مبتلا رکھے گا، اس طرح کہ اللہ کی مغفرت اور رحمت سے گویا مایوس ہے، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لایموتن احدکم الا وھو یحسن الظن تم میں سے کسی کو اس کے بغیر موت نہ آنی چاہیے کہ اس کا اللہ کے ساتھ اچھا گمان ہو اور ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے انا عندظن عبدی بی میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان رکھے، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن فرض اور بدگمانی حرام ہے، اسی طرح ایسے نیک مسلمان جو ظاہری حالت میں نیک معلوم ہوتے ہیں ان کے متعلق بلا کسی قوی دلیل کے بدگمانی کرنا حرام ہے، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا ایکم والظن فان الظن اکذب الحدیث یعنی بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی جھوٹی بات ہے۔ ظن واجب : اور جو کام ایسے ہیں کہ ان پر کسی جانب پر عمل کرنا شرعا ضروری ہے اور اس کے متعلق قرآن و سنت میں کوئی دلیل واضح موجود نہیں، وہاں پر ظن غالب پر عمل کرنا واجب ہے، جیسے باہمی منازعات و مقدمات کے فیصلے میں ثقہ گواہوں کی گواہی کے مطابق فیصلہ کرنا کیونکہ حاکم اور قاضی جس کی عدالت میں مقدمہ دائر ہے اس پر اس کا فیصلہ دینا دینا واجب اور ضروری ہے اور اس معاملہ کے متعلق کوئی نص موجود نہیں، نہ قرآن میں اور نہ حدیث میں تو ثقہ آدمیوں کی گواہی پر اس کو عمل کرنا واجب ہے، اگرچہ اس بات کا امکان ہے کہ ثقہ گواہ نے اس وقت جھوٹ بولا ہو، اس لئے اس کا سچا ہونا صرف ظن غالب ہے، اسی طرح جہاں سمت قبلہ معلوم نہ ہو اور وہاں کوئی ایسا آدمی یا علامت موجود نہ ہو کہ جس سے قبلہ کا یقینی علم ہو سکے ایسے موقع پر ایسے ظن غالب پر عمل ضروری ہے، اسی طرح ضائع شدہ مال کا ضمان بھی ظن غالب پر ہوتا ہے یعنی غالب گمان سے اندازہ کر کے اس کی قیمت لگا کر ضمان دلوایا جاتا ہے۔ ظن مباح : یہ ہے کہ مثلاً کسی کو نماز کی رکعتوں میں شک ہوجائے کہ تین پڑھی ہیں یا چار ؟ تو اپنے ظن غالب پر عمل کرنا جائز ہے اور اگر وہ ظن غالب کو چھوڑ کر امر یقینی پر عمل کرے یعنی تین رکعت قرار دیکر چوتھی پڑھ لے، تو یہ جائز ہے۔ ظن مستحب : ظن مستحب و مندوب یہ ہے کہ ہر مسلمان کے ساتھ نیک گمان رکھے کہ اس پر ثواب ملتا ہے۔ (حصاص، معارف) ولاتجسوا الخ اس آیت میں تجسس سے منع کیا گیا ہے، تجسس کسی کے عیب کی تلاش اور سراغ لگانے کو کہتے ہیں اور اس میں دو قراءتیں ہیں، ایک لاتجسوا جیم کے ساتھ اور دوسری لاتحسوا حاء کے ساتھ، دونوں لفظوں کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں، اخفش نے کہا ہے کہ جس چیز کو لوگوں نے آپ سے چھپایا ہوا اس کی تلاش و جستجو کو تجسس کہتے ہیں اور تحسس بالحاء مطلقاً تلاش و جستجو کو کہتے ہیں۔ بیان القرآن میں حضرت تھانوی رحمتہ اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے کہ چھپ کر کسی کی باتیں سننا یا خود کو سوتا ظاہر کر کے کسی کی باتیں سننا بھی تجسس میں داخل ہے، البتہ اگر کسی سے مضرت پہنچنے کا احتمال ہو تو اپنی یا دوسرے کسی مسلمان کی حفاظت کی غرض سے مضرت پہنچانے والے کی خفیہ تدبیروں اور ارادوں کا تجسس کرنا جائز ہے، اس کے علاوہ جائز نہیں، ایک مومن کا یہ کام نہیں کہ دوسروں کے جن حالات پر پردہ پڑا ہوا ہے اس کی کھود کرید کرے اور پردے کے پیچھے جھانک کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ کس میں کیا عیب ہے اور کسی کی کونسی کمزوریاں چھپی ہوئی ہی، لوگوں کے نجی خطوط پڑھنا لوگوں کی خفیہ باتیں کان لگا کر سننا غرضیکہ کسی بھی طریقہ سے ذاتی معاملات کو ٹوٹلنا ایک بڑی بداخلاقی کی بات ہے، جس سے طرح طرح کے فسادات رونما ہوتے ہیں، اسی لئے آنحضرت ﷺ نے اپنے خطبہ میں تجسس کرنے والوں کے متعلق فرمایا : یا معشرمن آمن بلسانہ ولم یدخل الایمان قلبہ لاتتبعوا عورات المسلمین فانہ من اتبع عور اتھم یتبع اللہ عورتہ ومن یتبع عورتہ یفضحہ فی بیتہ اے وہ لوگو ! جو زبان سے ایمان لائے ہو مگر ابھی تمہارے دلوں میں ایمان نہیں اترا ہے، مسلمانوں کے پوشیدہ حالات کی کھوج نہ لگایا کرو کیونکہ جو شخص مسلمانوں کے عیوب ڈھونڈنے کے درپے ہوگا اللہ اس کے عیوب کے در پے ہوجائے گا، اور اللہ جس کے درپے ہوجائے اسے اس کے گھر میں رسوا کر کے چھوڑے گا۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے بیشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے

شان نزول : یا ایھا الناس انا خلقنا کم من ذکر وانثی یہ آیت فتح مکہ کے موقع پر اس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال حبشی ؓ ٰ کو اذان کا حکم دیا تو قریش مکہ جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ان میں سے ایک نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میرے والد پہلے ہی وفات پا گئے ان کو یہ دن دیکھنا نہ پڑا اور حارث بن ہشام نے کہا کہ محمد ﷺ کو اس کالے کوئے کے سوا کوئی آدمی نہیں ملا کہ جو مسجد حرام میں اذان دے، ابوسفیان نے کہا کہ میں کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ اگر میں کچھ کہوں گا تو آسمان کا مالک اس کو خبر کر دے گا، چناچہ جبرائیل امین تشریف لائے اور آنحضرت ﷺ کو اس تمام گفتگو کی اطلاع دی، آپ نے ان لوگوں کو بلا کر پوچھا تم نے کیا کہا تھا ؟ انہوں نے اقرار کرلیا اسی پر یہ آیت نازل ہوئی، جس نے واضح کردیا کہ فخر و عزت کی چیز درحقیقت ایمان وتقویٰ ہے جس سے تم لوگ خالی اور بلال آراستہ ہیں، اس لئے وہ تم سے افضل ہیں۔ (مظہری، معارف)