48. Surah Al-Fath

الفتحThe Victory · 29 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 48:1–4

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ Open ayah 48:1 in the Quran reader

(اے محمد) ﷺ ہم نے تم کو فتح دی فتح بھی صریح و صاف

لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ یَهْدِیَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاۙ Open ayah 48:2 in the Quran reader

تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دے اور تم کو سیدھے راستے چلائے

وَّ یَنْصُرَكَ اللّٰهُ نَصْرًا عَزِیْزًا Open ayah 48:3 in the Quran reader

اور خدا تمہاری زبردست مدد کرے

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ السَّكِیْنَةَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْۤا اِیْمَانًا مَّعَ اِیْمَانِهِمْ١ؕ وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 48:4 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسلی نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے اور آسمانوں اور زمین کے لشکر (سب) خدا ہی کے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بیشک ہم نے آپ کو (اے نبی) ایک کھی فتح عطاء کی (یعنی) آپ کے جہاد کے ذریعہ ہم نے بزور شمشیر مستقبل میں مکہ وغیرہ کی فتح کا فیصلہ کردیا، تاکہ آپ کے جہاد کے صلہ میں آپ کی اگلی پچھلی کوتاہیوں کو معاف ریں، تاکہ تیری امت کو جہاد میں رغبت ہو اور مذکورہ آیت مئو ول ہے انبیاء (علیہم السلام) کے گناہوں سے دلیل عقلی قطعی سے معصوم ہونے کی وجہ سے اور لام علت غائیہ کے لئے ہے لہذا اس کا مدخول مسبب ہے نہ کہ سبب اور (تاکہ) فتح مذکور کے ذریعہ اپنی نعمتوں کی آپ پر تکمیل کرے اور اس کے ذریعہ سیدھا راستہ دکھائے (یعنی) آپ کو اس پر ثابت قدم رکھے اور وہ (سیدھا راستہ) دین اسلام ہے اور تاکہ وہ اس فتح کے ذریعہ آپ کو ایک زبردست نصرت بخشے باعزت نصرت، جس میں ذلت نہ ہ، وہی ہے وہ ذات جس نے مومنین کے دل میں سکینت بخشی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ دین کے احکام پر ایمان کا اور اضافہ ہو جب جب بھی ان میں سے کوئی حکم نازل ہو اس پر ایمان لائیں، اور ان ہی احکام میں سے جہاد ہے اور زمین و آسمان کے سب لشکر اللہ ہی کے ہیں، سو اگر وہ تمہارے بغیر اپنے دین کی نصرت کا ارادہ کرتا تو ایسا کرسکتا تھا اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں دانا اور اپنی صنعت کے بارے میں با حکمت ہے یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے (اس نے جہاد کا حکم اس لئے دیا ہے) تاکہ وہ لیدخل امر بالجھاد محذوف کے متعلق ہے، مومنین اور مومنات کو ایسی جنت میں داخل کرے کہ جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور تاکہ ان کے گناہوں کو ان سے دور کرے، اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے اور تاکہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مرد اور مشرک عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے ساتھ برے برے گمان رکھتے ہیں (السوء) تینوں جگہوں پر سین کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، ان کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ اور مومنین کی مدد نہ کرے گا، ذلت اور عذاب کے ساتھ برائی کے چکر میں وہ خود ہی آگئے اور واللہ ان پر غضبناک ہوگا اور ان کو (رحمت) سے دور کرے گا، اور ان کے لئے اس نے دوزخ تیار کر رکھی ہے اور (وہ) برا ٹھکانہ ہے اور آسمانوں اور زمین کا سب لشکر اللہ ہی کا ہے اللہ تعالیٰ اپنے ملک میں زبردست اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے یقینا ہم نے آپ کو قیامت کے دن اپنی امت کے لئے گواہی دینے والا اور ان کو دنیا میں جنت کی خوشخبری سنانے والا (بنا کر بھیجا) اور دنیا میں آگ سے برے اعمال کی وجہ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا، تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو (لتومنوا) میں یاء اور تاء دونوں ہیں یہاں بھی اور اس کے بعد تینوں جگہوں پر بھی اور اس کی مدد کرو اور تا فوقانیہ کی صورت میں دوزائوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور اس کی تعظیم کرو مذکورہ دونوں صیغوں اللہ اور اس کے رسول کی جانب راجع ہے اور اس کی یعنی اللہ کی صبح و شام پاکی بیان کرو بلاشبہ جو لوگ آپ سے حدیبیہ میں بیعت رضوان کر رہے ہیں یقینا وہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں اور یہ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ کے مانند ہے، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہے، وہ ہاتھ جس پر مومنین نے آپ ﷺ سے بیعت کی یعنی اللہ تعالیٰ ان کی بیعت کی اس کارروائی سے باخبر ہے، سو وہ ان کو اس پر جزاء دے گا، تو جو شخص عہد شکنی کیر گا یعنی بیعت توڑے گا تو اس کی عہدشکنی کا وبال اسی پر پڑے گا، یعنی اس کی عہد شکنی اس کی طرف لوٹے گی اور جو شخص اس کو پورا کرے گا جس کا اس نے اللہ سے عہد کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اجر عظیم عطاء کرے گا (فسنوتیہ) میں یاء اور نون دونوں ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد۔ قولہ :۔ انا فتحنا لک فتحا مبینا، فتحنا کی تفسیر قضینا سے کرنے کا مقصد ایک شبہ کو دفع کرنا ہے۔ شبہ : فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور فتح مکہ بالا تفاق 8 ھ میں ہوا ہے اور یہ سورت حدیبیہ سے واپسی کے وقت ضحنان جو مکہ سے 25 کلو میٹر کے مسافت پر ہے یا بقول بعض کراع الغمیم کے مقام پر 6 ھ میں نازل ہئوی تو اب شبہ یہ ہے کہ 8 ھ میں ہونے والے واقعہ کو 6 ھ میں انا فتحنا ماضی کے صیغہ سے کیوں تعبیر فرمایا ؟ دفع : مفسرین نے اس شبہ کے تین جواب دیئے ہیں : ایک تو وہی ہے جس کی طرف علامہ محلی نے فتحنا کی تفسیر قضینا سے کر کے اشارہ کیا ہے، اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ فتح سے مراد قضا فی الازل ہے ای حکمنا فی الازل اور قضا فی الازل یقینا صلح حدیبیہ سے مقدم ہے یعنی 8 ھ میں فتح مکہ کا فیصلہ ازل میں ہوچکا تھا، اس صورت میں ماضی سے تعبیر حقیقتہ ہوگی۔ دوسرا جواب :۔ یہ ہے کہ، فتح کے یقینی الوقوع ہونے کی وجہ سے مضای سے تعبیر کردیا گیا، اس لئے کہ جس کا وقوع یقینی ہوتا ہے اس کو ماضی سے تعبیر کردیتے ہیں، اس صورت میں تعبیر بالماضی مجازاً ہوگی، اور یہ ونفخ فی الصور کی نظیر ہوگی۔ تیسرا جواب :۔ یہ ہے کہ درحقیقت فتح صلح حدیبیہ ہی ہے، اس لئے کہ صلح حدیبیہ ہی فتح مکہ اور دیگر فتوحات کا سبب بنی تھی اور آنحضرت ﷺ نے بھی صلح حدیبیہ کو فتح مبین قرار دیا ہے، جب کراع الغمیم کے مقام پر یہ سورت نازل ہوئی تو آپ نے صحابہ کو پڑھ کر سنائی، تو حضرت عمر ؓ نے اس وقت بھی سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول کیا یہ فتح مبین ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ فتح مبین ہے، اس صورت میں بھی تعبیر بالماضی حقیقتہ ہوگی۔ قولہ :۔ عنوۃ زبردستی لینا بزور شمشیر حاصل کرنا، یہ امام اعظم اور امام مالک کا مذہب ہے امام شافعی کا مذاب یہ ہے کہ مکہ صلح سے فتح ہوا۔ قولہ :۔ بینا، مبینا کی تفسیر بینا سے کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مبین ابان سے بمعنی لازم ہے نہ کہ متعدی۔ قولہ : فی المستقبل، فتح سے متعلق ہے، بعض نسخوں میں (فی) کے بغیر ہے جیسا کہ پیش نظر نسخہ میں ہے تو اس صورت میں المستقبل، بفتح کی صفت ہوگی۔ قولہ :۔ بجھادک اس کا تعلق، فتح مکہ سے ہے، اس کلمہ کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : فتح مکہ باری تعالیٰ کا فعل ہے، اس لئے کہ انا فتحنا میں فتح جو کہ باری تعالیٰ کا فعل ہے یہ علت ہے آپ ﷺ کی مغفرت کی اور یہ درست نہیں ہے اس لئے کہ ایک کا فعل دوسرے کے لئے علت نہیں بن سکتا، لہٰذا فتح مکہ پر آپ کی مغفرت کا مرتب ہونا بھی درست نہیں ہے، اسی سوال کے جواب کے لئے مفسر علام نے بجھادک کا اضافہ فرمایا۔ جواب : جو اب کا ماحصل یہ ہے کہ بجھادک کا تعلق فتح کمہ کے ساتھ ہے، مطلب یہ کہ فتح تو باری تعالیٰ ہی نے عطا فرمائی مگر اس کا ظاہری سبب اور ذریعہ آپ ﷺ کا جہاد بنا، اس طریقہ سے خود آپ کا فعل آپ کی مغفرت کی علت ہوئی نہ کہ فعل باری تعالیٰ اور یہ درست ہے، لہٰذا اب کوئی اعتراض باقی نہیں رہا۔ قولہ :۔ ھو موول یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال :۔ سوال یہ ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے تو پھر آپ ﷺ کے گناہوں کو معاف کرنے کا کیا مطب ہے ؟ جواب : (1) پہلی بات یہ ہے کہ اس آیت میں تاویل ہے اول یہ کہ خطاب اگرچہ آپ کو ہے مگر مراد امت ہے، تاکہ امت کو جہاد میں رغبت ہو (2) دوسرے یہ کہ ذنوب سے مراد حسنات الابرار سیئات المقربین کے قاعدہ سے خلاف اولی ہیں، اور خلاف اولیٰ کا نبی سے صدور ہوسکتا ہے یہ عصمت انبیاء کے منافی نہیں (3) یا مغفرت سے مراد ستر و حجاب ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ کے اور آپ سے صدور ذنب کے درمیان ستر و حجاب حائل کر دے تاکہ آپ سے گناہ کا صدور ہی نہ ہو۔ قولہ :۔ لترغب امتک یہ جہاد پر مغفرت کے مرتب ہونے کی علت ہے، یعنی جہاد پر مغفرت مرتب ہونے کی وجہ سے تیری امت جہاد کی طرف راغب ہوگی۔ قولہ :۔ والسلام للعلۃ الغائیۃ لیغفر، میں لام علت غائیہ کا ہے نہ کہ باعثہ کا، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی فعل معلل بالا اغراض نہیں ہوسکتا یعنی کوئی شئی اس کو کسی فعل پر باعث (برانگیختہ، آمادہ) نہیں کرسکتی ہے، البتہ لام مذکور علت غائبیہ کے لئے ہوسکتا ہے، یعنی نتیجہ فعل کے لئے، جب بولتے ہیں، اشتدیت القلم لاکتب میں نے قلم خریدا لکھنے کے لئے، کتابت، اشتراء کی غایت ہے، لہٰذا لام کا مدخول یعنی مغفرت مسبب ہے نہ کہ سبب، سبب فتح ہے اور مسبب مغفرت ہے نہ کہ مغعفرت سبب ہو اور فتح مکہ مسبب، یعنی بذریعہ جہاد فتح مکہ مغفرت کا سبب ہے نہ کہ مغفرت فتح مکہ کا سبب قولہ :۔ ویتم اس کا عطف یغفر پر ہے اور لام کے تحت میں ہے۔ قولہ :۔ ویتم اس کا عطف یغفر پر ہے اور لام کے تحت میں ہے۔ قولہ :۔ یثبتک اس اضافہ کا مقصد ایک اعتراض کا جواب ہے، اعتراض یہ ہے کہ آپ ﷺ تو شروع ہی سے ہدایت یافتہ تھے پھر آپ کے بارے میں ویھدیک صراطا مستقیما فرمانے کا کیا مطلب ہے ؟ جواب :۔ جواب کا ماحصل یہ ہے کہ ہدایت سے مراد ہدایت پر دوام و استقرار ہے۔ قولہ : ذاعز یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : سوال یہ ہے کہ عزیز، منصور کی صفت ہے نہ کہ نصر ٌ کی اور یہاں نصر کی صفت واقع ہو رہی ہے۔ جواب :۔ جواب حاصل یہ ہے کہ عزیز فعیل کے وزن پر ہے اور فعیل کا زن نسبت بیان کرنے کے لئے بھی آتا ہے جیسے فسقتہ میں نے اس کی فسق کی طرف نسبت کی یا اس کو فاسق کہا، اسی طرح یہاں بھی عزیز بمعنی ذوعز ہے اور ذوعز منصور ہی ہوتا ہے۔ قولہ :۔ فی المواضع الثلثۃ یعنی دو یہ اور تیسرا موقع وظننتم ظن السواء (تنبیہ) یہ شارح علیہ الرحمتہ سے سبقت قلم ہے، اس لئے کہ اول اور تیسرے مقام میں بالاتفاق صرف فتحہ ہے، لہٰذا فسقتہ میں نے اس کی فسق کی طرف نسبت کی یا اس کو فاسق کہا، اسی طرح بھی عزیز بمعنی ذوعز ہے اور ذوعز منصور ہی ہوتا ہے۔ قولہ :۔ فی المواضع الثلثۃ یعنی دو یہ اور تیسرا موقع وظننتم ظن السواء (تنبیہ) یہ شارح علیہ الرحمتہ سے سبقت قلم ہے، اس لئے کہ اول اور تیسرے مقام میں بالاتفاق صرف فتحہ ہے، لہٰذا صحیح یہ تھا کہ یوں فرماتے فی الموضع الثانی قولہ :۔ والتاء فیہ یعنی لتومنوا باللہ میں یاء اور تاء دونوں قرائتیں ہیں، مگر تاء کی صورت میں یہ اعتراض ہوگا کہ لتومنوا باللہ، انا ارسلنک کا تتمہ ہے اور انا ارسلنک میں خطاب آپ ﷺ کو ہے اور لتومنوا میں خطاب امت کو ہے کلام واحد میں انتشار مرجع لازم آتا ہے، جبکہ آخر کلام اول کلام کا تتمہ ہی ہے۔ جواب :۔ لتومنوا میں اگرچہ بظاہر خطبا امت کو معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں خطاب آپ کو ہے اس لئے کہ آپ اصل امت ہیں لہٰذا اب کلام واحد میں تعدد مرجع لازم نہیں آتا۔ قولہ :۔ ھونحومن یطع الرسول فقد اطاع اللہ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک شبہ کا جواب ہے، شبہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی بیعت کو اللہ کی بیعت قرار دیا گیا ہے، اس سے اللہ کے لئے جوارح یعنی اعضاء کا شبہ ہوتا ہے اس لئے کہ آپ ﷺ نے لوگوں سے اپنے ہاتھ پر بیعت لی تھی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے بھی ہاتھ پر بیعت لی ہوگی، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اس بیعت سے عقد میثاق مراد ہے اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے من یطع الرسول فقد اطاع اللہ یعنی جس طرح اطاعت رسول اللہ کی اطاعت ہے اسی طرح رسول اللہ سے بیعت، اللہ سے بیعت ہے۔ تفسیر و تشریح سورت کا نام : سورت کا نام پہلی آیت انا فتحنا لک فتحا مبینا سے ماخوذ ہے۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ اجمالا : جمہور صحابہ وتابعین اور ائمہ تفسیر کے نزدیک سورة فتح 6 ھ میں اس وقت نازل ہوئی جبکہ آپ بقصد عمرہ صحابہ کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ مکہ کے لئے روانہ ہوئے اور حرم مکہ کے قریب مقام حدیبیہ تک پہنچ کر قیام فرمایا، مگر قریش مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا، پھر اس بات پر صلح کرنے کے لئے آمادہ ہوئے کہ اس سال تو آپ ﷺ واپس چلے جائیں، اگلے سال اس عمرہ کی قضا کریں، بہت سے صحابہ کرام بالخصوص حضرت عمر ؓ اس طرح کی صلح سے کبیدہ خاطر تھے، مگر آنحضرت نے باشارات ربانی اس صلح کو انجام کار مسلمانوں کے لئے ذریعہ کامیابی سمجھ کر قبول فرما لیا، جس کی تفصیل آئندہ پیش کی جائے گی جب آنحضرت ﷺ نے اپنا احرام عمرہ کھول دیا اور حدیبیہ سے واپس روانہ ہوئے تو راستہ میں یہ سورت نازل ہوئی، جس میں بتلا دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا خاب سچا ہے ضرور واقع ہوگا مگر اس کا یہ وقت نہیں اور اس صلح کو فتح مبین سے تعبیر فرمایا اس لئے کہ یہ صلح ہی درحقیقت فتح مکہ کا سبب بنی، چناچہ بہت سے صحابہ اور خود آپ ﷺ صلح حدیبیہ ہی کو فتح مبین قرار دیتے تھے یہ سورت چونکہ واقعہ حدیبیہ میں نازل ہوئی ہے اور اس واقعہ کے بہت سے اجزاء کا خود اس سورت میں تذکرہ بھی ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ پہلے ذکر کردیا جائے، ابن کثیر اور مظہری میں اس کی بڑی تفصیل ہے۔ واقعہ حدیبیہ کی تفصیل اور تاریخی پس منظر : جن واقعات کے سلسلہ میں یہ سورت نازل ہوئی ان کی ابتداء کی عبدین حمید و ابن جریر و بیہقی کی روایت کے مطابق تفصیل اس طرح ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے ہیں اور عمرہ کے احرام سے فارغ ہو کر حلق کرایا اور بعض لوگوں نے قصر کرایا اور یہ کہ آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کی چابی آپ کے ہاتھ آئی، اس جزء کا ذکر بھی آگے اسی سورت میں آرہا ہے، انبیاء کا خواب چونکہ وحی ہوتا ہے جس کی رو سے اس خواب کا واقع ہونا ضروری تھا، مگر خواب میں اس واقعہ کے لئے کوئی سال یا مہینہ متعین نہیں کیا گیا تھا مگر درحقیقت یہ خواب فتح مکہ کی صورت میں واقع ہونے والا تھا۔ بظاہر اس واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کے بالکل اسباب نہیں تھے اور نہ اس پر عمل کرنے کی بظاہر کوئی صورت نظر آتی تھی، ادھر کفار قریش نے چھ سال سے مسلمانوں کے لئے بیت اللہ کا راستہ بند کر رکھا تھا، رسول اللہ ﷺ نے بلا تامل اپنا خواب صحابہ کرام کو سنایاتو وہ سب کے سب مکہ مکرمہ جانے اور بیت اللہ کا طواف کرنے وغیرہ کے ایسے مشتاق تھے کہ ان حضرات نے فوراً ہی تیاری شروع کردی، جب صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد تیار ہوگئی تو آپ ﷺ نے بھی ارادہ فرما لیا۔ (روح المعانی ملخصاً ) ذوالقعدہ بروز پیر 6 ھ کی ابتدائی تاریخوں میں یہ مبارک قافلہ مدینہ سے روانہ ہوا، ذوالحلیفہ جس کو اب بئر علی کہتے ہیں پہنچ کر سب نے عمرہ کا احرام باندھا، قربانی کے لئے 170 اونٹ ساتھ لئے، بخاری، ابودائود نسائی وغیرہ کی روایت کے مطابق روانگی سے پہلے آپ ﷺ نے غسل فرمایا، نیا لباس زیب تن فرمایا اور اپنی ناقہ قصویٰ پر سوار ہوئے، ام المومنین حضرت ام سلمہ کو ساتھ لیا آپ کے ہمراہ مہاجرین و انصار اور دیہات سے آنے والوں کا ایک بڑا مجمع تھا جن کی تعداد اکثر روایات میں چودہ سو بیان کی گئی ہے۔ (مظھری ملخصاً ) اہل مکہ کی مقابلہ کے لئے تیاری : دوسری جانب اہل مکہ کو رسول اللہ ﷺ کے ایک بڑی جماعت صحابہ کے ساتھ مکہ کے لئے روانہ ہونے کی خبر ملی، تو جمع ہو کر باہم مشرہ کیا کہ محمد ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لئے آرہے ہیں، اگر ہم نے ان کو مکہ میں آنے دیا تو پورے عرب میں یہ شہرت ہوجائے گی کہ وہ ہم پر غلبہ پاکر مکہ مکرمہ پہنچ گئے، حالانکہ ہمارے اور ان کے درمیان کئی جنگیں ہوچکی ہیں، آخر کار بڑی شش و پنج کے بعد ان کی جاہلانہ حمیت ہی ان پر غالب آ کر رہی اور انہوں نے اپنی ناک کی خاطر یہ فیصلہ کرلیا کہ کسی قیمت پر بھی اس قافلہ کو اپنے شوہر میں داخل نہیں ہونے دینا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مخبر کی حیثیت سے بنی کعب کے ایک شخص کو آگے بھیج رکھا تھا کہ وہ قریش کے ارادوں اور ان کی نقل و حرکت سے آپ کو بروقت اطلاع کرتا رہے، جب آپ ﷺ عسفان پہنچے تو اس نے آ کر آپ کو اطلاع دی کہ قریش کے لوگ پوری تیاری کے ساتھ ذی طویٰ کے مقام پر پہنچ گئے ہیں اور خالد بن ولید کو انہوں نے دو سو سواروں کے ساتھ کراع الغمیم کی طرف بھیج دیا ہے، تاکہ وہ آپ کا راستہ روکیں، قریش کا مقصد آپ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا تھا تاکہ جنگ ہوجائے اور لڑائی شروع کرنے کا الزام آپ کے سر آجائے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ اطلاع پاتے ہی فوراً راستہ بدل دیا اور ایک نہایت ہی دشوار گذار راستہ سے سخت مشقت اٹھا کر حدیبیہ کے مقام پر پہنچ گئے جو عین حرم کی رسحد پر واقع ہے، خزاعہ کا سردار بدیل بن ورقاء اپنے قبیلہ کے چند آدمیوں کے ساتھ آپ کے پاس آیا اور آپ سے معلوم کیا کہ آپ کس غرض سے تشریف لائے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے صرف بیت اللہ کی زیارت اور اس کا طواف کرنے کیلئے آئے ہیں، یہی بات ان لوگوں نے جا کر قریش کے سرداروں کو بتادی اور ان کو مشورہ دیا کہ وہ ان زائرین حرم کا راستہ نہ روکیں، مگر وہ اپنی ضد پر اڑے رہے۔ خبر رسانی کا سادہ مگر عجیب طریقہ : ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے حالات سے باخبر رہنے کا یہ انتظام کیا کہ مقام بلدح سے لیکر اس مقام تک جہاں آنحضرت ﷺ پہنچ چکے تھے، پہاڑوں کی چوٹیوں پر کچھ آدمی بٹھادیئے تاکہ آپ کے پورے حالات دیکھ کر آپ کے متصل پہاڑ والا با آواز بلند دوسرے پہاڑ والے تک اور وہ تیسرے تک اور وہ چوتھے تک پہنچا دے اس طرح چند منٹوں میں بلدح والوں کو آپ کے حالات کا علم ہوجاتا تھا۔ قریش نے سفارت کاری کے لئے اول آپ ﷺ کے پاس احابیش کے سردار حلیس بن علقمہ کو بھیجا تاکہ وہ آپ کو واپس جانے پر آمادہ کرے، حلیس نے جب آ کر اپنی آکھوں سے دیکھ لیا کہ سارا قافلہ احرام بند ہے اور ہدی کے اونٹ ساتھ ہیں تو سمجھ گیا کہ ان کا مقصد بیت اللہ کا طواف و زیارت کرنا ہے، جنگ کرنا ان کا مقصد نہیں ہے، یہ حالات دیکھ کر آپ سے گفتگو کئے بغیر واپس چلا گیا اور اس نے جا کر قریش کے سرداروں سے صاف صاف کہہ دیا کہ یہ لوگ بیت اللہ کی زیارت اور طواف کے لئے آئے ہیں، اگر تم ان کو روکو گے تو میں اس کام میں تمہارا ساتھ ہرگز نہ دوں گا، ہم تمہارے حلیف ضرور ہیں مگر اس لئے نہیں کہ تم بیت اللہ کی حرمت کو پامال کرو اور ہم اس میں تمہاری حمایت کریں۔ عروہ بن مسعود سفارت کار کی حیثیت سے آپ ﷺ کی خدمت میں : اس کے بعد قریش کی طرف سے عروہ بن مسعود ثقفی آیا اس نے بڑی اونچ نیچ نشیب و فراز سمجھا کر رسول اللہ ﷺ کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ آپ مکہ میں داخل ہونے کے ارادے سے باز آجائیں مگر آپ نے اس کو بھی وہی جواب دیا جو بنی خزاعہ کے سردار کو دیا تھا کہ ہم لڑائی کے ارادہ سے نہیں آئے ہیں بلکہ بیت اللہ کی زیارت اور طواف کے ارادہ سے آئے ہیں، عروہ نے واپس جا کر قریش سے کہا کہ میں قیصرو کسریٰ اور نجاشی کے درباروں میں بھی گیا ہوں مگر خدا کی قسم میں نے اصحاب محمد کی فدائیت کا جیسا منظر دیکھا ہے، ایسا منظر کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کے یہاں بھی نہیں دیکھا، ان کا حال تو یہ ہے کہ محمد ﷺ جب وضو کرتے ہیں تو ان کے اصحاب پانی کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے اور اسے اپنے جسم اور کپڑوں پر مل لیتے ہیں، اب تم سوچ لو تمہارا مقابلہ کس سے ہے ؟ اس دوران سفارت کاری کا عمل جاری تھا ایلیچوں کی آمد و رفت ہو رہی تھی اور گفت و شنید کا سلسلہ جاری تھا، قریش کے لوگ بار بار یہ کوشش کر رہے تھے کہ چپکے سے حضور کے کیمپ پر چھاپے مار کر آپ اشتعال دالئیں، اور کسی نہ کسی طرح ان سے ایسا اقدام کرا لیں جس سے لڑائی کا بہانہ ہاتھ آجائے، مگر ہر مرتبہ آپ کی تدبیروں اور صحابہ کے صبر وضبط نے ان کی تدبیروں کو ناکام کردیا، ایک دفعہ ان کے چالیس پچاس آدمی رات کے وقت مسلمانوں کے خیموں پر پتھر اور تیر برسانے لگے، صحابہ نے ان سب کو گرفتار کر کے آپ کی خدمت میں پیش کردیا ایک روز مقام تنعیم کی طرف سے 80 آدمیوں نے عین نماز فجر کے وقت آ کر اچانک چھاپہ مار دیا، یہ لوگ بھی گرفتار کرلئے گئے، مگر آپ ﷺ نے انہیں بھی رہا کردیا۔ حضرت عثمان ؓ کی سفارتی مہم پر روانگی اور آپ ﷺ کا قریش کے نام پیغام : بدیل بن ورقاء اور عروہ بن مسعود ثقفی یکے بعد دیرگے آپ ﷺ سے گفتوگ کر کے واپس چلے گئے اور قریش سے پوری صورت حال بیان کی اور بتایا کہ یہ لوگ لڑائی کے ارداہ سے نہیں بلکہ زیارت بیتا للہ کے ارادہ سے آئے ہیں لہٰذا ان کا راستہ رونا مناسب نہیں ہے مگر قریش پر جنگ کا جنون سوار تھا ان کی ایک نہ سنی اور آمادہ جنگ و پیکار ہوئے۔ امام بیہقی نے عروہ سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ میں پہنچ کر قایم فرمایا تو قریش گھبرا گئے تو آنحضرت ﷺ نے ارادہ کیا کہ ان کے پاس اپنا کوئی آمی بھیج کر بتلا دیں کہ ہم جنگ کرنے نہیں عمرہ کرنے آئے ہیں ہمارا راستہ نہ روک، اس کام کے لئے اول حضرت عمر ؓ کو بلایا، حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ قریش میرے سخت دشمن ہیں کیونکہ ان کو میری عداوت اور شدت معلوم ہے اور میرے قبیلہ کا کوئی آدمی مکہ میں ایسا نہیں جو میری حمایت کرے اس لئے میں آپ کے سامنے ایک شخص کا نام پیش کرتا ہوں جو مکہ مکرمہ میں اپنے قبیلہ وغیرہ کی وجہ سے خاص قوت و عزت رکھتا ہے یعنی عثمان بن عفان، آپ نے حضرت عثمان کو اس کام کے لئے مامور فرما کر بھیج دیا اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جو ضعفاء مسلمین مکہ سے ہجرت نہیں کرسکے اور مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں ان کے پاس جا کر تسلی دیں کہ پریشان نہ ہوں انشاء اللہ مکہ مکرمہ فتح ہو کر تمہاری مشکلات ختم ہونے کا وقت قریب آگیا ہے، حضرت عثمان غنی ؓ پہلے ان لوگوں کے پاس گئے جو مقام بلدح میں آنحضرت ﷺ کا راستہ روکنے کے لئے جمع ہوئے تھے، ان سے آپ ﷺ کی وہی بات سنا دی جو آپ نے بدیل اور عروہ بن مسعود وغیرہ کے سامنے کہی تھی ان لوگوں نے جواب دیا ہم نے پیغام سن لیا اپنے بزرگوں سے جا کر کہہ دو کہ یہ بات ہرگز نہ ہوگی، ان لوگوں کا جواب سن کر آپ مکہ مکرمہ کے اندر جانے لگے تو ابان بن سعید (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) سے ملاقات ہوئی، انہوں نے حضرت عثمان کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور اپنی پناہ میں لیکر ان سے کہا کہ مکہ میں اپنا پیغام لیکر جہاں چاہیں جاسکتے ہیں، پھر اپنے گھوڑے پر حضرت عثمان کو سوار کر کے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، کیونکہ ان کا قبیلہ بنو سعد مکہ مکرمہ میں بہت قوی اور عزت دار تھا، حضرت عثمان ؓ مکہ کے ایک ایک سردار کے پاس تشریف لے گئے اور آپ ﷺ کا پیغام سنایا اس کے بعد حضرت عثمان ضعفاء مسلمین سے ملے ان کو بھی آپ ﷺ کا پیغام پہنچایا وہ بہت خوش ہوئے جب حضرت عثمان پیغامات پہنچانے سے فارغ ہوگئے تو اہل مکہ نے ان سے کہا اگر آپ چاہیں تو طواف کرسکتے ہیں حضرت عثمان غنی نے فرمایا کہ میں اس وقت تک طواف نہیں کروں گا جب تک رسول اللہ ﷺ طواف نہ کریں۔ قریش کے ستر آدمیوں کی گرفتاری اور آپ کی خدمت میں پیشی : اسی درمیان قریش نے اپنے پچاس آدمی اس کام پر لگائے کہ وہ آنحضرت ﷺ کے قریب پہنچ کر موقع کا انتظار کریں اور موقع ملنے پر (معاذ اللہ) آپ ﷺ کا قصہ تمام کردیں، یہ لوگ اسی تاک میں تھے کہ آنحضرت ﷺ کی حفاظت و نگرانی پر مامور حضرت محمد بن مسلمہ ؓ نے ان سب کو گرفتار کرلیا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا، حضرت عثمان غنی ؓ کے ساتھ تقریباً دس مسلمان اور مکہ میں پہنچ گئے تھے، قریش نے جب اپنے پچاس آدمیوں کی گرفتاری کا حال سنات و حضرت عثمان سمیت ان سب مسلمانوں کو روک لیا اور قریش کی ایک جماعت مسلمانوں کے لشکر کی طرف روانہ ہوئی اور مسلمانوں پر تیر اور پتھر پھینکنے شروع کردیئے، جس سے ایک صحابی ابن زنیم شہید ہوگئے اور مسلمانوں نے قریشیوں کے دس سواروں کو گرفتار کرلیا، ادھر رسول اللہ ﷺ کو کسی نے یہ خبر پہنچا دی کہ حضرت عثمان شہید کردیئے گئے، ان کے واپس نہ آنے سے مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ یہ خبر سچی ہے، اب مزید تحمل کا کوئی موقع نہیں تھا، کیونکہ جب نوبت سفیر کے قتل تک پہنچ گئیت و اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ مسلمان جنگ کے لئے تیار ہوجائیں۔ بیعت رضوان کا واقعہ : حضرت عثمان کے قتل کی خبر سن کر آپ ﷺ نے تمام مسلمانوں کو جمع کیا اور ان سے اس بات پر بیعت لی، بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ بیعت موت پر تھی یعنی مرجائیں گے مگر قدم پیچھے نہ ہٹائیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بیعت عدم فرار اور کمال ثبات وقرار پر تھی، باوجودیکہ حالات بڑے نازک تھے، ظاہری حالات مسلمانوں کے موافق نہیں تھے، مسلمانوں کی تعداد صرف چودہ سو تھی اور سامان جنگ بھی سوائے تلوار کے پاس نہیں تھا اپنے مرکز سے ڈھائی سو میل دور عین مکہ کی سرحد پر ٹھہرے ہوئے تھے جہاں دشمن پوری طاقت کے ساتھ ان پر حملہ آور ہوسکتا تھا اور گرد و پیش سے اپنے حامی قبیلوں کو لا کر انہیں گھیرے میں لے سکتا تھا اس کے باوجود تمام صحابہ نے سوائے جدبن قیس کے کہ وہ اونٹ کے پیچھے چھپ کر بیٹھا رہا اور اس دولت خدا داد سے محروم رہا بیعت کی (خلاصتہ التفاسیر) سب سے پہلے ابوسنان اسدی نے ہاتھ بڑھایا، اس کے بعد یکے بعد دیگرے جملہ حاضرین نے بیعت کی، یہی وہ بیعت ہے جو ” بیعت رضوان “ کے نام سے تاریخ اسلام میں مشہور ہے، حضرت عثمان ؓ چونکہ موجود نہیں تھے اور وہ آپ ﷺ کے کام میں تھے اس لئے آپ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر رکھ کر ان کی طرف سے بیعت کی اور اپنے دست مبارک کو حضرت عثمان ؓ تعالیٰ کا ہاتھ قرار دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت عثمان کے قتل کی خبر غلط تھی، حضرت عثمان خود بھی واپس آگئے فائدہ :۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ عالم الغیب نہیں تھے ورنہ غلط خبر پر یقین نہ کرتے اور قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو کی قیادت میں ایک وفد بھی صلح کی بات چیت کرنے کے لئے حضور کی خدمت میں حاضر ہوا، اب قریش اپنی اس ضد سے ہٹ گئے کہ آپ کو مکہ میں سرے سے داخل ہی نہ ہونے دیں گے، البتہ اپنی ناک بچانے کے لئے ان کو صرف یہ اصرار تھا کہ آپ اس سال واپس چلے جائیں، آئندہ سال آپ عمرہ کے لئے آسکتے ہیں۔ قریش کے وفد کی سربراہی سہیل بن عمرو کر رہے تھے آپ نے ان کو دیکھتے ہی فرمایا، اب معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم نے صلح کا ارادہ کرلیا ہے کہ سہیل کو پھر بھیجا ہے، آپ ﷺ چہار زانو بیٹھ گئے اور صحابہ میں سے عبادبن بشر اور سلمہ ؓ ہتھیاروں سے مسلح آنحضرت کے پاس حفاظت کے لئے کھڑے ہوگئے صلح کے مسئلہ پر فریقین میں طویل گفتگو ہوئی گفتگو کے دوران کبھی آوازیں بلند بھی ہوجاتی تھیں ایک مرتبہ سہیل کی آواز بلند ہوگئی تو عباد بن بشر نے سہیل کو ڈانٹا کہ حضو رکے سامنے آواز بلند نہ کر، طویل ردوکد اور بحث و مباحثہ کے بعد آپ صلح پر راضی ہوگئے، سہیل نے کہا لایئے ہم صلح نامہل کھ لیں، رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بلایا اور فرمایا لکھو، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، سہیل نے یہیں سے بحث شروع کردی کہ لفظ رحمٰن اور رحیم ہمارے محاورات میں نہیں ہے آپ یہاں وہی لفظ لھیں جو پہلے لکھا کرتے تھے، یعنی باسمک اللھم آپ نے اس کو مان لیا اور حضرت علی سے فرمایا ایسا ہی لکھ دو اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا لکھو، یہ وہ عہد نامہ ہے۔ جس کا فیصلہ محمد رسول اللہ نے کیا ہے سہیل نے اس پر بھی اعتراض کیا اور بضد ہوئے اور کہا اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مانتے تو آپ کو ہرگز بیت اللہ سے نہ روکتے (صلح نامہ میں کوئی ایسا لفظ نہ ہونا چاہیے جو کسی فریق کے عقیدہ کے خلاف ہو) آپ صرف محمد بن عبداللہ لکھوائیں، آپ ﷺ نے اس کو بھی منظور فرما کر حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ جو لکھا ہے اس کو مٹا کر محمد بن عبد اللہ لکھ دو ، حضرت علی نے باوجود سراپا اطاعت ہونے کے عرض کیا، میں یہ کام تو نہیں کرسکتا، کہ آپ کے نام کو مٹا دوں، حاضرین میں سے حضرت اسید بن حضیر اور سعد بن عبادہ نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ لیا کہ اس کو نہ مٹائیں اور بجز محمد رسول اللہ کے اور کچھ نہ لکھیں اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو ہمارے اور ان کے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی اسی دوران چاروں طرف سے آوازیں بلند ہونے لگیں، تو رسول اللہ ﷺ نے صلح نامہ کا کاغذ خود اپنے دست مبارک میں لے لیا اور باوجود اس کے کہ آپ امی تھے پہلے کبھی لکھا نہیں ت ھا مگر اس وقت خود اپنے قلم سے آپ نے یہ لکھا دیا، ھذا ماقاضی علیہ محمد بن عبداللہ وسہیل بن عمرو صلحا علی وضع الحرب عن الناس عشر سنین یامن فیہ الناس ویکف بعضھم عن بعض یعنی یہ وہ فیصلہ ہے جو محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو نے دس سال کے لئے باہم جنگ نہ کرنے کا کیا ہے جس میں سب لوگ مامون رہیں ایک دوسرے پر چڑھائی اور جنگ سے پرہیز کریں۔ (عارف ملخصاً ) گفت و شنید اور بحث مباحثہ کے بعد جو صلح نامہ لکھا گیا اس کی دفعات مندرجہ ذیل تھیں : (1) دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بند رہے گی، اور ایک دوسرے کے خلاف خفیہ یا علانیہ کوئی کارروائی نہ کی جائے گی۔ 2۔ اس دوران قریش کا جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد ﷺ کے پاس جائے گا، اسے آپس واپس کردیں گے اور آپ کے ساتھیوں سے جو شخص قریش کے پاس چلا جائے گا، وہ اسے واپس نہ کریں گے۔ (3) قبائل عرب میں سے جو قبیلہ بھی فریقین میں سے کسی ایک کا حلیف بن کر اس معاہدے میں شامل ہونا چاہے گا اسے اس کا اختیار ہوگا۔ (4) محمد ﷺ اس سال واپس جائیں گے اور آئندہ سال وہ عمرہ کے لئے آ کر تین دن مکہ میں ٹھہر سکتے ہیں بشرطیکہ پر تلوں میں صرف ایک ایک تلوار لے کر آئیں اور کوئی سامان حرب ساتھ نہ لائیں، ان تین دنوں میں اہل مکہ ان کے لئے شہر خالی کردیں گے (تاکہ کسی تصادم کی نوبت نہ آئے) مگر جاتے وقت وہ یہاں کے کسی شخص کو ساتھ لیجانے کے مجاز نہ ہوں گے۔ شرائط صلح سے عام صحابہ کرام ؓ کی ناراضی اور رنج : جس وقت معاہدے کی شرائط طے ہو رہی تھیں تو مسلمانوں کے خیمے میں سخت اضطراب تھا کوئی شخص بھی ان مصلحتوں کو نہیں سمجھ رہا تھا جنہیں نگاہ میں رکھ کر نبی ﷺ شرائط قبول فرما رہے تھے، کسی کی نظراتنی دور رس نہ تھی کہ اس صلح کے نتیجے میں جو خیر عظیم رونما ہونے والی تھی اسے دیکھ سکے، کفار قریش اسے اپنی کامیابی سمجھ رہے تھے اور مسلمان اس پر بےتاب تھے کہ ہم آخر دب کر ذلیل شرائط کیں قبول کریں ؟ حضرت عمر جیسے بالغ نظر مد بر تک کا یہ حال تھا کہ ان سے نہ رہا گیا اور رسول ﷺ سے عرض کیا، یا رسول اللہ کیا آپ اللہ کے نبی برحق نہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں پھر حضرت عمر نے عرض کیا، کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، اس پر پھر حضرت عمر نے فرمایا پھر ہم اس ذلت کو کیوں قبول کریں کہ بغیر عمرہ کئے واپس چلے جائیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ہرگز اس کے حکم کے خلاف نہ کروں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے ضائع نہ فرمائے گا وہ میرا مددگار ہے، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ بیت اللہ کے پاس جائیں گے اور طواف کریں گے ؟ آپ نے فرمایا بیشک یہ کہا تھا مگر کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ کام اسی سال ہوگا، تو حضرت عمر نے فرمایا، آپ نے یہ تو نہیں فرمایا تھا تو پھر آپ نے فرمایا یہ واقعہ جیسا میں نے کہا تھا ہو کر رہے گا، آپ بیت اللہ کے پاس جائیں گے اور طواف کریں گے۔ حضرت عمر خاموش ہوگئے مگر غم و غصہ کم نہیں ہوا، حضرت عمر ؓ آپ ﷺ کے پاس سے اٹھ کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس گئے اور اسی گفتگو کا اعادہ کیا جو حضور کے سامنے کی تھی، حضرت ابوبکر نے فرمایا محد ﷺ خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں، وہ اللہ کے حکم کے خلاف کوئی کام نہ کیں گے اور اللہ ان کا مددگار ہے، اس لئے تم مرتے دم تک آپ کی رکاب تھامے رہو، خدا کی قسم وہ حق پر ہیں، غرض حضرت عمر فاروق کو ان شرائط صلح سے سخت رنج و غم پہنچا، خود انہوں نے فرمایا کہ واللہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا مجھے کبھی شک پیش نہیں آیا بجز اس واقعہ کے۔ (رواہ بخاری، معارف) حضرت ابوعبیدہ نے سمجھایا اور فرمایا شیطان کے شر سے پناہ مانگو، فاروق اعظم نے کہا میں شیطان کے شر سے پناہ مانگتا ہوں، حضرت عمر فرماتے ہیں کہ جب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو میں برابر صدقہ خیرات کرتا اور روزے رکھتا اور غلام آزاد کرتا رہا کہ میری یہ خطاء معاف ہوجائے۔ ایک حادثہ اور پابندی معاہدہ کی بےنظیر مثال : جس واقعہ نے جلتی پر تیل کا کام کیا وہ یہ تھا کہ عین اسی وقت کہ جب صلح کا معاہدہ لکھا جا رہا تھا اور صحابہ کرام اس معاہدے کی شرئاط سے برہم اور رنجیدہ تھے کہ اچانک سہیل بن عمرو (جو کہ قریش کی جانب سے معاہدہ کے فریق تھے) کے فرزند ابوجندل جو مسلمان ہوچکے تھے اور کفار مکہ نے ان کو قیدکر رکھا تھا کسی نہ کسی طرح بھاگ کر پابز نجیر آپ ﷺ کے کیمپ میں پہنچ گئے، ان کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے ابوجندل نے آپ سے پناہ کی درخواست کی کچھ مسلمان آگے بڑھے اور ابوجندل کو اپنی پناہ میں لے لیا، سہیل چلا اٹھا کہ یہ عہد نامہ کی خلاف ورزی ہے اگر اس کو واپس نہ کیا تو میں صلح کی کسی شرط کو نہ مانوں گا، مسلمانوں نے کہا ابھی صلح نامہ مکمل نہیں ہوا ابھی دستخط نہیں ہوئے، لہٰذا یہ واقعہ صلح نامہ کے تحت نہیں آتا، سہیل نے کہا صلح نامہ کی تحریر خواہ مکمل نہ ہوئی مگر شرائط تو ہمارے اور تمہارے درمیان طے ہوچکی ہیں، اس لئے اس لڑکے کو میرے حوالہ کیا جائے، رسول اللہ ﷺ نے اس کی حجت کو تسلیم فرمایا اور ابوجندل کفار کے حوالہ کردیئے گئے، ابوجندل کو آواز دیکر فرمایا کہ اے ابوجندل تم چند روز اور صبر کرو، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اور ضعفاء مسلمین کے لئے جو مکہ میں محبوس ہیں جلد رہائی اور فراخی کا سامان کرنے والا ہے، مسلمانوں کے دلوں پر ابوجندل کے اس واقعہ نے نمک پاش کی مگر معاہدہ مکمل ہو چکات ھا، اس صلح نامہ پر مسلمان کی طرف سے ابوبکر و عمرو عبدالرحمٰن بن عوف اور عبداللہ بن سہیل بن عمرو، سعد بن ابی وقاص، محمود بن مسلمہ اور علی بن ابی طالب ؓ وغیرہ نے دستطخ کئے، اسی طرح مشرکین کی طرف سے سہیل کے ساتھ چند دوسرے لوگوں نے دستخط کئے۔ احرام کھولنا اور قربانی کے جانور ذبح کرنا : صلح نامہ سے فراغت کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب لوگ اپنی قربانی کے جانور جو ساتھ ہیں ان کی قربانی کردیں اور سر کے بال منڈوا کر احرام کھولدیں، صحابہ کرام کی غم کی وجہ سے یہ حالت ہوگئی تھی کہ آپ کے فرمانے کے باوجود کوئی اس کام کے لئے تیار نہ ہوا، اور غم و شکستگی کی وجہ سے کسی نے حرکت نہ کی، حضور کے پورے دور رسالت میں اس ایک موقع کے سوا کبھی یہ صورت پیش نہیں آئی کہ آپ صحابہ کو حکم دیں اور صحابہ اس کام کے لئے دوڑ نہ پڑیں، آنحضرت کو بھی اس صورتحال سے صدمہ ہوا، آپ نے اپنے خیمہ میں جاکر ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ سے اس کا اظہار فرمایا، انہوں نے عرض کیا آپ خاموشی کے ساتھ تشریف لے جا کر خود اپنا اونٹ ذبح فرما دیں، صحابہ کرام سے اس پر کچھ نہ کہیں ان کو اس وقت سخت صدمہ اور رنج شرائط صلح اور بغیر عمرہ کے واپسی کی وجہ سے ہے، آپ سب کے سامنے حجام کو بلا کر خود اپنا حلق کر کے احرام کھولدیں، آپ نے مشورہ کے مطابق ایسا ہی کیا صحابہ کرام نے جب دیکھا تو سب کھڑ ہوگئے، آپس میں ایک دوسرے کا حلق کرنے لگے اور جانوروں کی قربانی کرنے لگے، آپ نے سب کے لئے دعا فرمائی۔ معجزے کا ظہور : رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر انیس یا بیس دن قیام فرمایا تھا، اب یہاں سے واپسی شروع ہوئی جب آپ صحابہ کے مجمع کے ساتھ پہلے مرالظہر ان پھر عسافن پہنچے، یہاں پہنچ کر مسلمانوں کا زادارہ تقریباً ختم ہوگیا، رسول اللہ ﷺ نے ایک دستر خان بچھایا اور سب کو حکم دیا کہ جس کے پاس جو کچھ ہے لاکر جمع کر دے، اس طرح جو کچھ باقی ماندہ کھانے کا سامانت ھا سب اس دستر خوان پر جمع ہوگیا، چودہ سو حضرات کا مجمع تھا، آپ نے دعاء، فرمائی سب نے شکم سیر ہو کر کھایا اور اپنے اپنے برتنوں میں بھی بھر لیا، اس کے بعد بھی اتنا ہی کھانا باقی تھا۔ صحابہ کے ایمان اور اطاعت رسول کا ایک اور امتحان اور صحابہ کی بےنظیر قوت ایمانی : اس کے بعد جب یہ قافلہ حدیبیہ کی صلح کو اپنی شکست اور ذلت سمجھتا ہوا مدینہ کی طرف واپس جا رہا تھا، تو ضجنان کے مقام پر اور بقول بعض کرام الغمیم کے مقام پر سورة فتح نازل ہوئی، جس نے مسلمانوں کو بتایا کہ یہ صلح جس کو وہ شکست سمجھ رہے ہیں دراصل یہ فتح عظیم ہے، اس کے نازل ہونے کے بعد حضور نے مسلمانوں کو جمع فرمایا، اور فرمایا آج مجھ پر وہ چیز نازل ہوئی ہے جو میرے لئے دنیا ومافیہا سے زیادہ قیمتی ہے، پھر آپ نے یہ سورت تلاوت فرمائی، اور خاص طور سے حضرت عمر ؓ کو بلا کر اسے سنایا کیونکہ وہ سب سے زیادہ رنجیدہ تھے، صحابہ کرام کے قلوب تو اس طرح کی شرائط صلح کی وجہ سے پہلے زخم خوردہ اور غم زدہ تھے، اس سورت نے بتایا کہ یہ فتح مبین حاصل ہوئی ہے، حضرت عمر ؓ پھر سوال کر بیٹھے کہ یا رسول اللہ کیا یہ فتح ہے ؟ آپ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ فتح مبین ہے، صحابہ کرام نے اس پر سرتسلیم خم کیا اور ان سب چیزوں کو ” فتح مبین “ یقین کیا۔ وفاء عہد کا دوسرا بےنظیر واقعہ ابو جندل کے واقعہ کے بعد ابوصیر کا واقعہ پیش آیا، واقعہ یہ ہوا کہ ابو بصیر مسلمان ہو کر مدینہ آگئے ان کے پیچھے دو قریشی بھی ان کو واپس لینے کے لئے مدینہ منورہ آئے، آپ ﷺ نے ابوبصیر کو معاہدے کے مطابق ان کے حوالہ کردیا، ابوبصیر نے بہت آہ و فریاد کی مگر آپ نے فرمایا اے ابوبصیر ہمارے دین میں غدر و بےوفائی نہیں، اللہ تیرے اور تیرے ساتھیوں کے لئے کوئی صورت نکالنے والا ہے، مجبوراً ابو بصیر قریشیوں کے ساتھ چلے گئے، راستہ میں ابوبصیر نے ان میں سے ایک سے کہا تیریت لوار چھی نہیں معلوم ہوتی، دوسرے نے تلوار نکالی اور کہا میری تلوار نہایت عمدہ ہے میں اس کا تجربہ کرچکا ہوں، ابوبصیر نے کہا میں بھی ذرا دیکھوں تلوار ان کو دیدی، قریشی بیخبر غفلت میں تھے، دفعتاً آن واحد میں ابوبصیر نے چابکدستی سے ایک ہی وار میں سرتن سے جدا کردیا، دوسرا بھاگ کھڑا ہوا، یہ اس کے پیچھے لپکے مگر وہ بھاگ کر مدینہ میں داخل ہوگیا اور آپ ﷺ سے فریاد کی، اتنے میں ابوبصیر بھی آگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے حسب معاہدہ مجھے ان کے حوالہ کردیا، اب اللہ نے مجھے چھڑا لیا ہے، آپ نے فرمایا اے ابوبصیر تو لڑائی کی آگ بھڑکانے والا ہے، کاش اس کے ساتھ دوسرا بھی ہوتا، ابو بصیر سمجھ گئے اور مقام سیف البحر میں آ کر قیام کیا، جو لوگ مکہ میں تھے اور اپنا اسلام چھپائے ہوئے یا مشرکین مکہ کے مظالم برداشت کر رہے تھے مثلاً ابوجندل وغیرہ جب انہوں نے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ کاش ابوبصیر کے ساتھ دوسرا ہوتا تو وہ لوگ بھی ایک ایک کر کے سف البحر پہنچ کر ابو بصیر کے گروہ میں شامل ہوگئے حتی کہ ان کی تعداد ستر تک پہنچ گئی، ادھر مشرکین مکہ کا جو قافلہ اس راستہ سے گذرتا اس سے مزاحمت کرتے آسانی سے مشرکین کا قافلہ نہیں گذر سکتا تھا، مشرکین مکہ اس سے تنگ آگئے، جب نہایت عاجز ہوگئے تو آپ ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم اس شرط سے دست بردار ہوتے ہیں، اب آذئندہ جو بھی مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئے آپ اس کو پناہ دیجیے اور خدا کے واسطے ابوبصیر کے گروہ کو ہماری مزاحمت سے منع کیجیے، مومنین نے اللہ کی مدد دیکھی اور بہت خوش ہوئے، ابوبصیر کا گروہ بھی مدینہ آگیا اور آئندہ کے لئے راہ کھل گئی، اس واقعہ کا اکثر حصہ بخاری سے ہے اور کچھ دیگر کتب سے ہے۔ (خلاصہ التفاسیر)
Ayahs 48:5–10

لِّیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ فَوْزًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 48:5 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے انکے گناہوں کو دور کر دے اور یہ خدا کے نزدیک بڑی کامیابی ہے

وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا Open ayah 48:6 in the Quran reader

اور (اس لئے کہ) منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو جو خدا کے حق میں برے برے خیال رکھتے ہیں عذاب دے انہی پر برے حادثے واقع ہوں اور خدا ان پر غصے ہوا اور ان پر لعنت کی اور ان کے لئے دوزخ تیار کی اور وہ بری جگہ ہے

وَ لِلّٰهِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 48:7 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا ہی کے ہیں اور خدا غالب (اور) حکمت والا ہے

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 48:8 in the Quran reader

اور ہم نے (اے محمد) ﷺ تم کو حق ظاہر کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور خوف دلانے والا (بنا کر) بھیجا ہے

لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 48:9 in the Quran reader

تاکہ (مسلمانو ! ) تم لوگ خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اسکو بزرگ سمجھو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو

اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ١ؕ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ١ۚ فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 48:10 in the Quran reader

جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے پھر جو عہد کو توڑے تو عہد توڑنے کا نقصان اسی کو ہے اور جو اس بات کو جس کا اس نے خدا سے عہد کیا ہے پورا کرے تو وہ اسے عنقریب اجر عظیم دے گا

لیدخل المئومذین والمومنات (الآیۃ) مروی ہے کہ جب مسلمانوں نے سورة فتح کا ابتدائی حصہ لیغفرلک اللہ سنا تو صحابہ کرام نے آپ ﷺ کو مغفرت پر مبارکباد دی اور عرض کیا ہمارے لئے کیا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ الظانین باللہ ظن السوء علیھم دائرۃ السوء یعنی اللہ کو اس کے حکموں کے بارے میں متہم کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ مغلوب یا مقتول ہوجائیں گے اور دین اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا (ابن کثیر) اور جس گردش یا ہلاکت کے مسلمانوں کے لئے منتظر ہیں وہ تو ان ہی کا مقدر بننے والی ہے۔ فائدہ : ان الذین یبایعونک (الآیہ) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں اور اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے، بیعت بالفتح عہد کرنا، بیعت کے عنان اور طریقے آپ سے مختلف منقول ہیں، کبھی آپ نے کسی خاص امر پر بیعت لی، جیسا کہ جریر سے عہد لیا، والنصح لکم مسلم ہر مسلمان کی خیر خواہی کرو، اور بعض عورتوں سے نوحہ نہ کرنے پر عہد لیا اور کبھی ترک سوال پر اور کبھی اطاعت وانقیاد پر، اور کبھی جہاد و قتال پر۔ سوال : یہ وعدہ انعام اصحاب بیعت رضوان کے ساتھ خاص ہے یا عام ہے۔ جواب :۔ جن کے حق میں آیت نازل ہوئی ہے وہ اول اور بالذات مصداق ہیں اور دوسرے جو اسے اختیار کریں مصداق ثانی اور بالتبع ہیں، اصحاب بیعت رضوان یقینا اس دولت کو پا گئے مگر دوسروں کے بارے میں یقین و تعیین نہیں، اس لئے کہ اعتبار عموم سبب کا ہے نہ کہ خصوص مورد کا۔ شبہ : اگلی آیت میں اذیبایعونک تحت الشجرۃ اس میں لفظ تحت الشجرۃ کی قید ہے، لہٰذا عموم باقی نہ رہا۔ جواب : تحت الشجرۃ کی قید کو رضا و قبول میں مطلقا دخل نہیں ہے، صرف ایک واقعہ کا بیان ہے، اگر اس درخت کی کوئی فضیلت ہوتی تو تمام بیعتیں اسی درخت کے نیچے ہوا کرتیں اور حضرت عمر اس کو نہ کٹواتے۔ فائدہ :۔ خلفاء اسلام اور اولیاء کرام کی بیعت کا اسی بیعت پر قیاس ہے مگر بیعت خلافت تو مسنون و متوارث ہے اور صوفیہ کی بیعت متضمن ہے بیعت خلافت کو (خلاصۃ التفاسیر) تفصیل کے لئے خلاصتہ کی طرف رجوع کریں۔ مسئلہ :۔ بیعت سنت ہے نہ کہ واجب، نہ بدعت، ایسا ہی فرمایا ہے شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے قول الجمیل میں۔ مسئلہ :۔ بیعت ایک عہد ہے جو زبان اور کتابت سے تام ہوجاتی ہے مگر مصافحہ مسنون ہے۔ مسئلہ :۔ عورتوں سے بیعت بذریعہ مصافحہ جائز نہیں ہے، حضرت عائشہ کی روایت بخاری میں موجود ہے فرماتی ہیں کہ آپ نے عورتوں سے زبانی بیعت لی، کبھی آپ نے عورت کا ہاتھ نہیں چھوا۔ مسئلہ : مریدہ اگر صغیرہ ہو یا محارم میں سے ہو تب بھی ترک مصافحہ اولیٰ ہے۔ مسئلہ :۔ عورتوں سے بیعت کرنا منقول نہیں مگر بچند وجوہ جائز ہے (تفصیل کے لئے خلاصتہ التفاسیر کی طرف رجوع کریں۔ )
Ayahs 48:11–17

سَیَقُوْلُ لَكَ الْمُخَلَّفُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ شَغَلَتْنَاۤ اَمْوَالُنَا وَ اَهْلُوْنَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَلْسِنَتِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا١ؕ بَلْ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 48:11 in the Quran reader

جو اعراب پیچھے رہ گئے وہ تم سے کہیں گے کہ ہم کو ہمارے مال اور اہل و عیال نے روک رکھا آپ ہمارے لئے (خدا سے) بخشش مانگیں یہ لوگ اپنی زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے کہہ دو کہ اگر خدا تم (لوگوں) کو نقصان پہنچانا چاہے یا تمہیں فائدہ پہنچانے کا ارادہ فرمائے تو کون ہے جو اس کے سامنے تمہارے لیے کسی بات کا کچھ اختیار رکھے ؟ (کوئی نہیں) بلکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے واقف ہے

بَلْ ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّنْقَلِبَ الرَّسُوْلُ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ اِلٰۤى اَهْلِیْهِمْ اَبَدًا وَّ زُیِّنَ ذٰلِكَ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ ظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ١ۖۚ وَ كُنْتُمْ قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 48:12 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ تم لوگ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ پیغمبر اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر آنے ہی کے نہیں اور یہی بات تمہارے دلوں کو اچھی معلوم ہوئی اور (اسی وجہ سے) تم نے برے برے خیال کئے اور (آخر کار) تم ہلاکت میں پڑگئے

وَ مَنْ لَّمْ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ فَاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَعِیْرًا Open ayah 48:13 in the Quran reader

اور جو شخص خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 48:14 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

سَیَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ لِتَاْخُذُوْهَا ذَرُوْنَا نَتَّبِعْكُمْ١ۚ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّبَدِّلُوْا كَلٰمَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّنْ تَتَّبِعُوْنَا كَذٰلِكُمْ قَالَ اللّٰهُ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ بَلْ تَحْسُدُوْنَنَا١ؕ بَلْ كَانُوْا لَا یَفْقَهُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 48:15 in the Quran reader

جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجئے کہ آپ کے ساتھ چلیں یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے اسی طرح خدا نے پہلے تو فرما دیا ہے پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم

قُلْ لِّلْمُخَلَّفِیْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ یُسْلِمُوْنَ١ۚ فَاِنْ تُطِیْعُوْا یُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَنًا١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ قَبْلُ یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 48:16 in the Quran reader

جو اعراب پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم جلد ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے اگر تم حکم مانو گے تو خدا تم کو اچھا بدلا دے گا اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ یُعَذِّبْهُ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 48:17 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے) پیچھے رہ جائے اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے اور جو شخص خدا اور اسکے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں اور جو روگردانی کرے گا اسے بڑے دکھ کی سزا دے گا

ترجمہ :۔ اطراف مدینہ کے جو دیہاتی (سفر حدیبیہ میں شرکت سے) پیچھے رہ گئے تھے یعنی وہ دیہاتی جن کو اللہ نے آپ کی معیت سے پیچھے کردیا (یعنی محروم کردیا) تھا، جبکہ حدیبیہ کے سال آپ نے ان سے اپنی معیت میں مکہ کی طرف نکلنے کے لئے قریش کے تعارض کے اندیشہ کے پیش نظر چلنے کے لئے فرمایا تھا وہ عنقریب کہیں گے کہ ہمارے مال و عیال نے آپ کے ساتھ نکلنے سے مشغول رکھا، تو آپ ہمارے لئے آپ کے ساتھ نہ نکلنے پر اللہ تعالیٰ سے معافی کی دعاء فرما دیجیے، اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا : یہ جو معافی طلب کرنے کے لئے اب جو کہہ رہے ہیں اور اس سے پہلے جو عذر بیان کیا یہ بات محض زبان پر ہے دل میں نہیں ہے لہٰذا وہ اپنے عذر بیان کرنے میں جھوٹے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا بھی کون اختیار رکھتا ہے ؟ استفہام بمعنی نفی ہے یعنی کوئی اختیار نہیں رکھتا، اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے (ضر) ضاد کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ یا تمہیں نفع پہنچانے کا ارادہ کرے، بلکہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے یعنی وہ اس صفت سے ہمیشہ متصف ہے بلکہ تم تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ رسول اور مومنین اپنے اہل ویعال میں کبھی لوٹ کر نہ آویں گے (بل) دونوں جگہ پر ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف انتقال کے لئے ہے اور یہ بات تمہارے دلوں کو اچھی بھی معلوم ہوتی تھی کہ ان لوگوں کا قتل کے ذریعہ صفایا کردیا جائے کہ ان کو لوٹنا نصیب ہی نہ ہو اور تم نے یہ اور اسی جیسے اور (بہت سے) برے گمان کر رکھے تھے اور تم لوگ ہو ہی ہلاک ہونے والے لوگ بورابئر کی جمع ہے یعنی اس بدگمانی کی وجہ سے عند اللہ ہلاک ہونے والا اور جو شخص الہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے گا تو ہم نے ان کافروں کے لئے دوزخ کی سخت آگ تیار رکھی ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہ کا مالک اللہ ہی ہے وہ جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے جب تم مال غنیمت اور وہ خیبر کا مال غنیمت ہے لینے جائو گے تو یہی پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ عنقریب کہیں گے کہ ہم کو بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیدیجیے تاکہ ہم بھی مال غنیمت میں سے کچھ حاصل کریں وہ چاہتے ہیں کہ اس طریقہ سے اللہ کے حکم کو بدل ڈالیں اور ایک قرأت میں کلم اللہ ہے، لام کے کسرہ کے ساتھ یعنی خصوص طور پر اہل حدیبیہ کے لئے خیبر کے مال غنیمت کے وعدوں کو (بدل ڈالیں) آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حدیبیہ سے لوٹنے سے پہلے ہی فرما چکا ہے کہ تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے تو عنقریب (اس کے جواب میں) کہیں گے (یہ بات نہیں) بلکہ تم ہمارے او پر اس بات سے حسد کرتے ہو کہ تمہارے ساتھ ہم کو بھی مال غنیمت مل جائے اسی لئے تم یہ بات کہہ رہو ہو (یہ بات نہیں ہے) اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے دین کی بات بہت کم لوگ سمجھتے ہیں، آپ ان پیچھے چھوڑے ہوئے اعرابیوں سے کہہ دو کہ آزمائش کے طور پر عنقریب تم کو ایک سخت جنگجو قوم (سے مقابلہ) کے لئے بلایا جائے گا کہا گیا ہے کہ وہ یمامہ کے باشندے بنو حنیفہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ فارس اور روم ہیں، حال یہ کہ تم ان سے لڑو گے یہ حال مقدرہ ہے اور حالت قتال ہی حقیقت میں مدعو الیہا ہے یا وہ مسلمان ہوجائیں تو پھر تم ان سے قتال نہ کرو گے، پس اگر تم ان سے قتال کرنے میں اطاعت کرو گے تو اللہ تم کو بہت بہتر اجر عطا فرمائے گا اور اگر تم روگردانی کرو گے جیسا کہ پہلے روگردانی کرچکے ہو تو وہ تم کو درد ناک سزا دے گا، نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ مریض پر کوئی گناہ ہے، ترک جہاد میں اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو اس کو اللہ ایسی جنت میں داخل کرے گا جس میں نہریں بہتی ہوں گی (یدخلہ) میں یاء اور نون دونوں قراءتیں ہیں اور جو روگردانی کرے گا وہ اس کو درد ناک عذاب دے گا (یعذبہ) یاء اور نون کے ساتھ ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ :۔ حول المدینۃ یہ الاعرب کی صفت ہے، المقیمین حول المدینۃ حال بھی ہوسکتا ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی کائنین حول المدینۃ قولہ :۔ اذا رجعت یہ سیقولون کا ظرف ہے، ای سیقولون اذا رجعت من الحدیبیۃ قولہ :۔ بل فی الموضعین للانتقال الخ بل دونوں جگہ ایک مضمون سے دوسرے مضمون کی طرف انتقال کے لئے ہے، بل اول سے پہلے مخلفون کے اعتزاز میں تکذیب کا بیان ہے اور بل کے بعد ان کے عذر بارد اور تخلف پر وعید کا بیان ہے، دوسرے بل کے بعد اس سبب کا بیان ہے جس نے ان کو تخلف اور عذر بارد پر آمادہ کیا اور یہ ترقی فی الرد کے طور پر ہے۔ قولہ :۔ لن تتبعونا یہ جملہ نہی کے معنی میں ہے ای لاتتبعا معنا قولہ :۔ کذلک قال اللہ، ای حکم اللہ یعنی اللہ تع الیٰ نے حدیبیہ سے لوٹنے سے پہلے حکم فرما دیا کہ غزوہ خیبر میں وہی لوگ شریک ہوں گے جو سفر حدیبیہ میں شریک ہوئے ہیں اور وہی خیبر کے مال غنیمت کے مستحق ہوں گے۔ قولہ :۔ فسیقولون بل تحسدوننا یعنی ہم کو خیبر کے مال غنیمت میں شریک نہ کرنے کا حکم، حکم خداوندی نہیں ہے بلکہ یہ ہم پر تمہارے حسد کا نتیجہ ہے۔ تفسیر و تشریع سیقول لک المخلفون من الاعراب اعراب سے وہ قبیلے مراد ہیں جو مدینہ کے اطراف میں آباد تھے مثلاً غفار، مزینہ، جہینہ اور اسلم، جب آنحضرت ﷺ نے خواب دیکھنے کے بعد (جس کی تفصیل گذر چکی ہے) عام منادی کرا دی تو مذکورہ نیز مسلمان عمرہ کے لئے پورے طور پر ہتھیار بند ہو کر بھی نہیں جاسکتے، اگر خدانخواستہ کافر آمادہ پیکار ہوگئے تو مسلمان ان کا مقابلہ کیسے کریں گے ؟ اس وقت مکہ جانے کا مطلب ہے خود کو ہلاکت میں ڈالنا، چناچہ یہ لوگ عمرہ کے لئے نہیں نکلے اسی کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تجھ سے اے محمد مشغولیتوں کا عذر پیش کر کے مغفرت کی التجا کریں گے۔ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ اس سے مراد خیبر کے غنائم کا اہل حدیبیہ کے لئے مخصوص ہنا ہے، اس کے بعد فرمایا کذلکم قال اللہ من قبل اس سے بھی مقصد خیبر کے اموال غنائم کے اہل حدیبیہ کے ساتھ تخصیص کی تائید ہے، مگر سوال یہ ہے کہ قرآن کریم میں تو کہیں اس تخصیص کا ذکر نہیں ہے پھر اس تخصیص کے وعدہ کو کلام اللہ اور قال اللہ کو کہنا کیسے صحیح ہے ؟ جواب : علماء تفسیر نے فرمایا ہے کہ اس تخصیص کا ذکر اگرچہ وحی متلو (قرآن) میں نہیں ہے البتہ وحی غیر متلو (حدیث) کے ذریعہ سفر حدیبیہ میں فرمایا تھا اسی کو اس جگہ کلام اللہ اور قال اللہ کو سے تعبیر کردیا گیا ہے۔ قل لن تتبعونا ساتھ چلنے کی ممانعت جو کہ سابقہ جملہ سے بالکل واضح ہے یہ ممانعت صرف غزوہ خیبر کے ساتھ خاص ہے، دیگر غزوات میں شرکت کی ممانعت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ قبیلہ جہینہ اور مزینہ بعد میں آپ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے ہیں، صلح حدیبیہ کے واقعہ کی تفصیل مع مباحث سورت کے شروع میں گذر چکی ہے۔