Ayah 47:1ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے کفر کیا اور دوسروں کو اللہ کے راستہ یعنی ایمان سے روکا اللہ نے ان کے اعمال برباد کردیئے، مثلاً کھانا کھلانا اور صلہ رحمی کرنا، تو ان اعمال کا آخرت میں کچھ اجر نہ پائیں گے، البتہ دنیا میں ان کو اللہ کی مہربانی سے ان اعمال کا صلہ دیا جائے گا، اور وہ لوگ یعنی انصار وغیرہ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے اور جو محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے یعنی قرآن اس پر بھی ایمان لائے اور وہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے تو اللہ نے ان کے گناہ معاف کردیئے اور ان کے حال کی اصلاح کردی تو وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے، یہ یعنی اعمال کو برباد کرنا اور گناہوں کو معاف کرنا اس سبب سے ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا تو انہوں نے باطل شیطان کی اتباع کی اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی جانب سے حق یعنی قرآن کی اتباع کی کذلک یعنی اس بیان کے مانند اللہ تعالیٰ لوگوں کے احوال کو بیان فرماتا ہے چناچہ کافر کے عمل کو برباد کردیتا ہے اور مومن کی خطائوں کو معاف کردیتا ہے، جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو گردنوں پر وار کرو (ضرب) مصدر بلفظ الفعل اپنے فعل کے عوض میں ہے یعنی فاضربوا رقابھم یعنی ان کو قتل کرو اور قتل کو گردن مارنے سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ قتل اکثر گردن مارنے سے (با آسانی) ہوتا ہے جب ان کو اچھی طرح کچل دو یعنی ان کو خوب قتل کردو ان کے بندھن خوب کس دو یعنی قتل کرنا بند کردو اور ان کو قید کرلو (وثاق) وہ شئی جس کے ذریعہ قیدیوں کو باندھا جاتا ہے (رسی وغیرہ) (پھر اختیار ہے) خواہ احسان رکھ کر چھوڑ دو (منا) اپنے فعل کا مصدر لفظ ہے اور اپنے فعل کے عوض میں ہے یعنی بغیر کچھ لئے ان پر احسان کر کے چھوڑ دو یا ان سے فدیہ لے لو یعنی فدیہ میں ان سے مال لے لو یا مسلمان قیدیوں کا تبادلہ کرلو یہاں تک کہ جنگ یعنی جنگ کرنے والے اپنے ہتھیار ڈال دیں تاآنکہ کافر مسلمان ہوجائیں یا معاہدہ میں شریک ہوجائیں اور یہ قتل اور قید کی غایت ہے ذلک مبتداء مقدر کی خبر ہے ای الامر ذلک یعنی ان کے معاملہ میں حکم یہی ہے اور اگر اللہ چاہتا تو (خود) ہی بغیر قتال کے ان سے بدلہ لے لیتا لیکن تم کو قتال کا حکم دیا تاکہ تم میں سے بعض کو ان میں سے بعض کے ذریعہ آزمائے سو تم میں جو شہید کردیا جائے وہ جنت کی طرف چلا جائے اور جو ان میں سے قتل کیا جائے وہ جہنم کی طرف چلا جائے، جو لوگ اللہ کے راستہ میں شہید کر دئے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا اور ایک قرأت میں قاتلوا ہے (یہ) آیت یوم احد میں نازل ہوئی، حال یہ کہ مسلمانوں میں قتل اور زخم عام ہوگئے تھے، عنقریب اللہ تعالیٰ ان کی دنیا و آخرت میں ایسی چیز کی طرف رہنمائی کرے گا جو ان کے لئے نافع ہوگی، اور دنیا و آخرت میں ان کے حال کی اصلاح کرے گا، اور دنیا میں جو کچھ ہے (ہدایۃ و اصلاح حال وغیرہ) اس کے لئے ہے جو شہید نہیں ہوا اور جو مقتول نہیں ہوئے ان کو مقتولین میں تغلیباً شامل کردیا گیا ہے اور ان کو ایسی جنت میں داخل فرمائے گا جس کی ان کو شناخت کرا دے گا چناچہ وہ جنت میں اپنے مکانوں کی طرف اور اپنی ازواج کی طرف اور اپنے خدام کی طرف بغیر معلوم کئے پہنچ جائیں گے اے ایمان والو ! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے یعنی اس کے دین اور اس کے رسول کی (مدد کرو گے) تو وہ تم کو تمہارے دشمن پر غالب کرے گا اور تم کو ثابت قدم رکھے گا یعنی معرکہ میں تم کو قائم رکھے گا اور اہل مکہ میں سے جنہوں نے کفر کیا وہ ہلاک ہوئے (والذین کفروا) مبتدا ہے اور تعسوا اس کی خبر ہے، اس حذف خبر پر فتعسالھم دلالت کرتا ہے تو ان کے لئے اللہ کی طرف سے ہلاکت اور زیاں کاری ہے اور ان کے اعمال ضائع ہوئے اس کا عطف تعسوا پر ہے یہ ہلاکت اور حبط اعمال اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اس کو ناپسند کیا جس کو اللہ نے نازل فرمایا یعنی قرآن کو جو احکام پر مشتمل ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال ضائع کردیئے کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں اور انہوں نے دیکھا نہیں کہ جو لوگ ان سے پہلے گذر چکے ہیں ان کا کیا انجام ہوا ؟ اللہ نے ان کو ہلاک کردیا یعنی خود ان کو اور ان کی اولاد کو اور ان کے اموال کو ہلاک (وبرباد) کردیا اور کافروں کے لئے اسی طرح کی سزائیں ہیں یعنی ان سے پہلے لوگوں جیسی سزائیں ہیں یہ یعنی مومنین کی نصرت اور کافروں پر غضب اس وجہ سے ہے کہ اللہ ایمان والوں مولیٰ (یعنی) ولی اور مددگار ہے اور یہ کہ کافروں کا کوئی کار ساز نہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
اس سوت کا نام سورة قتال ہے ترتیب مصحفی کے اعتبار سے اس کا نمبر 47 ہے اور یہ نام آیت نمبر 20 کے فرقے وذکر فیھ القتال سے ماخوذ ہے، اس کے دو نام اور ہیں، ایک محمد اور دوسرا الذین کفروا۔
قولہ : صدوا لازم اور متعدی دونوں مستعمل ہے یعنی خود رکنا اور دوسروں کو روکنا، اور الذین کفروا سے مراد کفار قریش ہیں۔
قولہ : اضل اعمالھم ای ابطلھا و جعلھا ضایعۃ
قولہ : والذین امنوا وعملوا الصلحت، عملوا الصلحت کا عطف امنوا پر کیا گیا ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عمل صالح حقیقت ایمان کا جز نہیں ہے اس لئے کہ عطف مغایرت کو چاہتا ہے، البتہ عمل صالح کمال ایمان کے لئے شرط کے درجہ میں ہے (کماھو مختار الاشاعرۃ)
قولہ : وامنوا بما نزل علی محمد یہ عطف خاص علی العام کے قبیل سے ہے مقصد اس کا معطوف کی اہمیت اور عظمت کو ظاہر کرنا ہے اور اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ محمد ﷺ کی بعثت پر اور جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لائے بغیر ایمان تام نہیں ہوگا، یعنی اگر کوئی توحید اور لوازمات توحید اور لوازمات دین نیز انبیاء سابقین پر ایمان رکھتا ہو مگر محد ﷺ کی نبوت کا قائل نہ ہو تو اس کا یہ ایمان عنداللہ مقبول نہ ہوگا۔
قولہ : والذین امنوا مبتدا ہے اور کفر عنھم سیاتھم اس کی خبر ہے اور وھو الحق من ربھم مبتدا و خبر کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔
قولہ : ذلک مبتدا ہے اور بان الذین کفروا الخ مبتدا کی خبر ہے۔
قولہ : فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب ظرف یعنی اذا لقیتم کا عامل محذوف ہے اور ضرب الرقاب کا بھی وہی عامل ہے، تقدیر عبارت یہ ہے فاضربو الرقاب وقت ملاقاتکم العدو
قولہ : فضرب الرقاب اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ضرب مصدر اپنے فعل امر اضربوا کا نائب ہے اس لئے کہ اس کی اصل فاضربوا الرقاب ضرباً ہے فعل حذف کیا گیا مصدر کو مفعول کی جانب مضاف کر کے فعل کے قائم مقام کردیا گیا، اس میں اختصار کے ساتھ ساتھ تاکید بھی ہے۔
قولہ : اذا اثخنتموھم جب تم ان کو اچھی طرح قتل کر چکو اثخنتموا اثخان سے ماضی جمع مذکر حاضر، ھم ضمیر جمع مذکر غائب، ای اکترتم فیھم القتل اور مصباح میں اثخن فی الارض، سار الی العدو
قولہ : الوثاق بالفتح وا لکسر، مایوثق بہ رسی وغیرہ، جمع وثق جیسے عناق کی جمع عنق
قولہ : وھذہ غایتہ للقتل والاسر یعنی جب حرب ہتھیار ڈالدے اور دشمن کے دم خم، بالکل ختم ہوجائیں تو قتل و قید موقوف کردو۔
قولہ : والذین قتلوا مبتداء ہے اور فلن یضل اعمالھم مبتداء کی خبر ہے۔
قولہ : لیبلو بعضکم ببعض یہ امر بالقتال کی علت ہے۔
قولہ : وما فی الدنیا لمن لم یقتل و ادرحوا فی قتلوا تغلیبا یہ ایک اعتراض کا جواب ہے، اعتراض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول یصلح بالھم کی تفسیر حالھم فیھما ای فی الدین ولآخرۃ سے کی ہے، ھم سے مراد مقتولین فی الحرب ہیں، ظاہر ہے کہ دنیا میں اصلاح حال سے مراد وہ چیزیں ہیں جو دنیا میں نافع ہوں، مثلاً عمل صالح، اخلاص، ہدایت مگر اس قسم کی اصلاح حال تو ان کے لئے ہوسکتی ہے جو مقتول نہ ہوئے ہوں (تنبیہ) اس بات کا خیال رہے کہ مذکورہ اعتراض قتلوا والی قرأت پر ہوگا اور اگر قاتلوا والی قرأت لی جائے تو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔
جواب :۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہاں قتلوا سے وہ مجاہدین مراد ہیں جو مقتول نہیں ہوئے مگر جہاد میں شریک رہے، اسی کی تائید قاتلوا والی قرأت سے ہوتی ہے قاتلین کو مقتولین میں تغلیبا داخل کردیا گیا ہے اب آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جو مجاہدین زندہ بچ گئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے حال کی اصلاح دنیا میں فرمائے گا اور جو راہ خدا میں شہید ہوگئے ہیں ان کے حال کی اصلاح جنت میں فرمائے گا۔
قولہ : یثبت اقدامکم کی تفسیر یثبتکم سے کر کے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جزء بول کر کل یعنی ذات مراد ہے، ذات کو اقدام سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ثبات اور تزلزل کا اثر اولاً قدموں میں نمایاں ہوتا ہے۔
قولہ : المعترک، معترک سے میدان کا رزار مراد ہے۔
قولہ : ذلک مبتداء اور بان اللہ اس کی خبر ہے۔
تفسیر و تشریع
اس سورت کے تین نام ہیں : (1) سورة محمد ﷺ (2) دوسرا سورة قتال اس لئے کہ اس میں قتال کے احکام مذکور ہیں، (3) تیسرا الذین کفروا یہ نام سورت کے اول کلمے ہی سے ماخوذ ہے، اس سورت کا زمانہ نزول ہجرت کے فوراً بعد ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ کاین من قریۃ مکی ہے اس لئے کہ اس کا نزول اس وقت ہوا کہ جب آپ ﷺ بارادہ ہجرت مکہ سے نکلے اور مکہ کمکرمہ اور بیت اللہ پر نظر ڈال کر آپ نے فرمایا کہ ساری دنیا کے شہروں میں مجھے تو ہی محبوب ہے اگر اہل مکہ مجھے یہاں سے نہ نکالتے تو میں اپنے اختیار سے اے مکہ ! تجھے ہرگز نہ چھوڑتا، مفسرین کی اصطلاح کے مطابق جو آیات سفر ہجرت کے دوران نازل ہوئی ہیں وہ مکی ہی کہلاتی ہیں۔
صدوا عن سبیل اللہ، صد کے معنی دوسروں کو روکنے اور خود رکنے کے ہیں، سبیل اللہ سے اسلام مراد ہے، دوسروں کو راہ خدا سے روکنے کی مختلف صورتیں ہیں، ایک صورت یہ ہے کہ زبردستی کسی کو ایمان لانے سے روک دے، دوسری صورت یہ ہے کہ ایمان لانے والوں پر ایسا ظلم و ستم ڈھایا جائے کہ ان کے لئے ایمان پر قائم رہنا اور دوسروں کو ایسے خوفناک حالات میں ایمان لانا مشکل ہوجائے، تیسری صورت یہ کہ لوگوں کو مختلف طریقوں سے دین اور اہل دین کے خلاف ورغلائے اور ایسے وسوسے ڈالے کہ لوگ اس دین سے بدگمان ہوجائیں، یا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایسا پروپیگنڈا چھیڑ دے کہ اسلام بد نام ہو کر رہ جائے اور لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کی صحیح اور صاف صورت آنے کے بجائے غلط اور گندی صورت ذہن نشین ہوجائے جس کے نتیجہ میں لوگ اسلام کے قریب آنے کے بجائے دور ہونے لگیں اور محبت کے بجائے نفرت کرنے لگیں، موجودہ دور میں یہ صورت زیادہ رائج ہے یہ بھی صداوا عن سبیل اللہ میں شامل ہے۔
اضل اعمالھم اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں جو مکارم اخلاق پائے جاتے تھے مثلاً صلہ رحمی، قیدیوں کو آزاد کرنا، یتیموں اور بیوائوں کی مدد کرنا، بےسہاروں کو سہارا دینا، مہمان نوازی وغیرہ، یا خانہ کعبہ کی پاسبانی اور حجاج کی خدمت کرنا، ان کاموں کا صلہ انہیں آخرت میں نہیں ملے گا، اس لئے کہ آخرت کا اجر وثواب ایمان کے بغیر مرتب نہیں ہوگا، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے خلاف جو سازشیں کیں اللہ نے انہیں ناکام بنادیا بلکہ ان کی سازش کو ان ہی پر پلٹ دیا، تیسرا مطلب یہ ہے کہ راہ حق کو روکنے اور کفر و شرک کو عرب میں زندہ رکھنے کے لئے جو کوشش وہ محمد ﷺ کے مقابل ہمیں کر رہے تھے، اللہ نے ان کو رائیگاں کردیا ان کی ساری تدبیریں محض تیر بےہدف ہو کر رہ گئیں، اب وہ اپنے مقصد کو ہرگز حاصل نہ کرسکیں گے۔
Ayahs 47:2–3وآمنوا بمانزل علی محمد اگرچہ پہلے جملہ میں ایمان اور عمل صالح کا ذکر آچکا ہے، دوبارہ آمنوا بمانزل علی محمد کہنے کی حاجت نہیں رہتی، اس لئے کہ ایمان لانے میں محمد ﷺ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی تعلیمات پر ایمان لانا خود بخود شامل ہے، مگر اس طرز کے اختیار کرنے میں تخصیص بعد التعمیم کے فائدہ کے علاوہ کو جو خاص کی اہمیت اور اس کا مہتم بالشان ہونا ہے جیسا کہ حافظوا علی الصلوات و الصلوۃ الوسطی میں ہے ایک فائدہ اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد کسی شخص کا خدا اور آخرت اور پچھلے رسولوں اور پچھلی کتابوں کو ماننا بھی اس وقت تک نافع نہیں ہے جب تک کہ وہ آپ کو اور آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کو نہ مان لے، یہ تصریح اس لئے ضروری تھی کہ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں آپ کو ان لوگوں سے بھی سابقہ درپیش تھا کہ ایمان کے دوسرے تمام لوازم کو تو وہ مانتے تھے مگر محمد ﷺ کی رسالت کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے تھے، پہلے جملہ کے بعد دوسرے جملہ کو لا کر اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
کفر عنھم سیئاتھم واصلح بالھم اول فقرہ کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جو گناہ ان سے سرزد ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی بدولت وہ سب ان کے حساب سے ساقط کردیئے، اب ان گناہوں پر ان سے کوئی باز پرس نہ ہوگی اور اگر سئیات مابعد الاسلام مراد لی جائیں تو یہ ایک وعدہ ہے عفو معاصی کا، واصلح بالھم بال شان اور حال کے معنی میں آتا ہے اور کبھی قلب، دل کے معنی میں، یہاں دونوں معنی مراد ہوسکتے ہیں، پہلے معنی لئے جائیں تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دنیا و آخرت کے تمام کاموں کو درست کردیا، دنیوی حالات کو درست کرنے سے مالی مشکلات کو دور کرنا نہیں ہے، اس لئے کہ مالی مشکلات تو عام طور پر مسلمانوں کے لئے ہر دور اور ہر زمانہ میں رہی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی، اس لئے کہ یہ مسلمان کا مقصود اصلی نہیں ہے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ مسلمان جس کمزوری اور بےہسی اور مظلومی کی حالت میں اب تک مبتلا تھے اللہ نے ان کو اس سے نکالدیا ہے، اب اس نے ایسے حالات پیدا کردیئے ہیں کہ جن میں وہ ظلم سہنے کے بجائے ظالموں کا مقابلہ کریں گے، محکوم ہو کر رہنے کے بجائے اپنی زندگی کا نظام خود آزادی کے ساتھ چلائیں گے اور مغلوب ہونے کے بجائے غالب ہو کر رہیں گے۔
دوسری صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب کو درست کردیا، مطلب یہ کہ انہیں معاصی سے بچا کر رشد و خیر کی راہ پر لگا دیا، ایک مومن کے لئے اصلاح حال کی یہی سب سے بہتر صورت ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ مال و دولت کے ذریعہ ان کی حالت درست کروں کیونکہ اول تو ہر مومن کو مال ملتا بھی نہیں، علاوہ ازیں محض دنیوی مال اصطلاح احوال کا یقینی ذریعہ بھی نہیں، بلکہ اس سے فساد احوال کا زیادہ امکان ہے اس لئے نبی ﷺ نے کثرت مال کو پسند نہیں فرمایا۔
Ayahs 47:4–11فاذ القیتم الذین کفروا (الآیۃ) ماقبل میں جب دونوں فریقوں کا ذکر کردیا گیا تو اب کافروں اور غیر معاہد اہل کتاب سے جہاد کرنے کا حم دیا جا رہا ہے، اور یہاں ” لقاء “ سے مطلقاً ملاقات مراد نہیں ہے بلکہ حالت جنگ میں مڈ بھیڑ اور مقابلہ مراد ہے، یہاں قتل کرنے کے بجائے گردنیں مارنے کا حکم دیا ہے اس لئے کہ اس تعبیر میں غلظت اور شدت کا زیادہ اظہار ہے۔
مذکورہ آیت سے دو باتیں ثابت ہوئیں، اول یہ کہ جب قتال کے ذریعہ کفار کی شوکت و قوت ٹوٹ جائیت و اب بجائے قتل کرنے کے ان کو قید کرلیا جائے، پھر ان جنگی قیدیوں کے متعلق مسلمانوں کو دو اختیار دیئے گئے، ایک یہ کہ ان پر احسان کیا جائے یعنی بغیر کسی فدیہ اور معاوضہ کے چھوڑ دیا جائے، دوسرے یہ کہ ان سے کوئی فدیہ (معاوضہ) لیکر چھوڑ دیا جائے اور فدیہ کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اگر کچھ مسلمان ان کے ہاتھ لگ گئے ہوں تو ان سے تبادلہ کرلیا جائے، یہ حکم بظاہر اس حکم کے خلاف ہے جو سورة انفال کی آیت میں مذکور ہے جس میں غزوہ بدر کے قیدیوں کو معاوضہ لیکر چھوڑنے کی رائے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب ہوا، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے اس عمل پر اللہ کا عذاب قریب آگیا تھا، اگر یہ عذاب آتا تو اس سے بجز عمر بن خطاب اور سعد بن معاذ کے کوئی نہ بچتا کیوں کہ انہوں نے فدیہ لیکر چھوڑ نے کی رائے سے اختلاف کیا تھا، خلاصہ یہ کہ آیت انفال تے بدر کے قیدیوں کو فدیہ لیکر بھی چھوڑنا ممنوع کردیا تو بلا معاوضہ چھوڑنا بطریق اولی ممنوع ہوگا، سورة محد کی اس آیت نے ان دونوں باتوں کو ائز قرار دیا ہے، اس لئے اکثر صحابہ اور فقہاء نے فرمایا کہ سورة محمد کی اس آیت نے سورة انفال کی آیت کو منسوخ کردیا، تفسیر مظہری میں قاضی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اور حسن اور عطا اور اکثر صحابہ اور جمہور فقہاء کا یہی قول ہے اور ائمہ فقہاء میں سے ثوری، شافعی، احمد اسحاق رحمتہ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی مذہب ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ غزوہ بدر کے بعد مسلمانوں کی تعداد اور قوت بڑھ گئی تو سورة محمد میں احسان اور فدیہ کی اجازت ہوگئی، تفسیر مظہری میں قاضی ثناء اللہ رحمتہ اللہ تعالیٰ نے اس قول کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ یہی قول صحیح اور مختار ہے کیونکہ خود رسول اللہ ﷺ نے اس پر عمل فرمایا اور آپ کے بعد خلفاء راشدین نے اس پر عمل فرمایا اس لئے یہ آیت سورة انفال کی آیت کے لئے ناسخ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سورة انفال کی آیت غزوہ بدر کے موقع پر 2 ھ میں نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے 6 ھ میں صلح حدیبیہ میں جن قیدیوں کو بلا معاوضہ آزاد فرمایا ہے وہ سورة محمد کی اس آیت کے مطابق ہے۔ (معارف)
صحیح مسلم میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اہل مکہ میں سے اسی آدمی اچانک جبل تنعیم سے اتر آئے جو رسول اللہ ﷺ کو بیخبر ی میں قتل کرنا چاہتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کو گرفتار کرلیا پھر بلا معاوضہ آزاد کردیا، اسی پر سورة فتح کی یہ آیت نازل ہوئی وھو الذی کف ایدیھم عنکم و ایدیکم عنھم (الآیۃ) امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ کا مشہور مذہب ان کی ایک روایت کے مطابق یہ ہے کہ جنگی قیدیوں کو بلا معاوضہ یا معاوضہ لیکر آزاد کرنا جائز نہیں ہے، اسی لئے علماء حنفیہ نے سورة محمد کی مذکورہ آیت کو امام صاحب کے نزدیک منسوخ اور سورة انفال کی آیت کو ناسخ قرار دیا ہے، تفسیر مظہری نے یہ واضح کردیا کہ سورة انفا کی آیت پہلے اور سورة محمد کی آیت بعد میں نازل ہوئی ہے، اس لئے سورة محمد کی آیت ناسخ اور سورة انفال کی آیت منسوخ ہے، امام صاحب کا مختار ذہب بھی جمہور صحابہ اور فقہاء کے مطابق آزاد کردینے کے جواز کا نقل کیا گیا ہے، جب کہ اسلام اور مسلمانوں کی اس میں مصلحت ہو، امام صاحب سے دوسری روایت سیرکبیر میں جمہور کے قول کے مطابق جواز کی منقول ہے اور یہی اظہر ہے اور امام طحاوی الآثار میں اسی کو ابوحنفیہ کا مذہب قرار دیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ دونوں آیتوں میں سے کوئی منسوخ نہیں ہے مسلمانوں کے حالات اور ضرورت کے مطابق امام المسلمین کو اختیار ہے کہ ان میں سے جس صورت کو مناسب سمجھے اختیار کرلے، قرطبی نے رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدین کے عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ جنگی قیدیوں کو کبھی قتل کیا گیا اور کبھی غلام بنایا گیا اور کبھی فدیہ لیکر چھوڑا گیا اور کبھی بغیر فدیہ کے آزاد کردیا گیا اور فدیہ لینے میں یہ بھی داخل ہے کہ مسلمان قیدیوں کو ان کے بدلے میں آزاد کرا لیا جائے اور یہ بھی کہ ان سے کچھ مال لیکر چھوڑ دیا جائے، اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ دونوں آیتیں محکم ہیں منسوخ نہیں ہیں، مجموعی طور پر جو صورت حال واضح ہوئی وہ یہ ہے کہ جب کفار کے قیدی مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں تو امام السلمین کو چار چیزوں کا اختیار ہے۔ (1) اگر مناسب اور مصلحت سمجھے تو قتل کر دے۔ (2) اور اگر مسلمانوں کی مصلحت لونڈی اور غلام بنانے میں ہو تو ایسا کرلے (3) اور اگر مصلحت فدیہ لکیر یا مسلمان قیدیوں کا تبادلہ کرنے میں سمجھے تو یہ بھی کرسکتا ہے۔ (4) اور گار بغیر کسی معاوضہ کے احسان کر کے چھوڑنا اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت اور فاد میں ہو تو امام کو یہ بھی اختیار ہے۔ (معارف)
جنگی قیدیوں کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر :
قرآن مجید کی یہ پہلی آیت ہے جس میں قوانین جنگ کے متعلق ابتدائی ہدایات دی گئی ہیں، اس سے جو احکام نکلتے ہیں اور اس کے مطابق رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے جس طرح عمل کیا اور فقہاء نے اس آت اور سنت سے جو استنباطات کئے ہیں ان کا ماحصل یہ ہے۔
1۔ جنگ میں مسلمانوں کی فوج کا اصل ہدف دشمن کی جنگی طاقت کو توڑ دینا ہے، حتی کہ اس میں لڑنے کی سکت نہ رہے اور جنگ ہتھیار ڈالدے، اس ہدف سے توجہ ہٹا کر دشمن کے آدمیوں کو گرفتار کرنے میں لگ جانا چاہیے، غلام بنانے کی طرف اس وقت توجہ کرنی چاہیے، جب دشمن کا اچھی طرح قلع قمع کردیا جائے، مسلمانوں کو یہ ہدایت آغاز ہی میں اس لئے دے دی گئی کہ کہیں وہ فدیہ حاصل کرنے یا غلام فراہم کرنے کے لالچ میں پڑ کر جنگ کے اصل ہدف مقصود کو فراموش نہ کر بیٹھیں۔
2۔ جنگ میں جو لوگ گرفاتر ہوئے ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ تمہیں اختیار ہے خواہ ان احسان کرو یا ان سے فدیہ کا معاملہ کرلو، اس سے عام قانون یہ نکلتا ہے کہ جنگی قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، حضرت عبداللہ بن عمر، حسن بصری، عطاء اور حماد بن ابی سلیمان، قانون یہ نکلتا ہے کہ جنگی قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے، حضرت عبداللہ بن عر، حسن بصری، عطاء اور حماد بن ابی سلیمان، قانون کے اسی عموم کو لیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آدمی کو قتل کرنا حالت جنگ میں درست ہے جب لڑائی ختم ہوگئی اور قیدی ہمارے قبضہ میں آگئے تو ان کو قتل کرنا درست نہیں، ابن جریر اور ابوبکر جصاص کی روایت ہے کہ حجاج بن یوسف نے جنگی قیدیوں میں سے ایک قیدی کو حضرت عبداللہ بن عمر کے حوالہ کیا اور حکم دیا کہ اسے قتل کردیں، انہوں نے انکار کردیا اور مذکورہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ ہمیں قید کی حالت میں کسی کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، امام محمد نے السیر الکبیر میں بھی ایک واقعہ لکھا ہے کہ عبد اللہ بن عامر نے حضرت عبداللہ بن عمر کو ایک جنگی قیدی کے قتل کا حکم دیا تھا اور انہوں نے حکم کی تعمیل سے اسی بناء پر انکار کردیا تھا۔
3۔ مگر چونکہ اس آیت میں قتل کی صاف ممانعت نہیں کی گئی ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کا منشاء یہ سمجھا اور اسی پر عمل بھی فرمایا کہ اگر کوئی خاص وجہ ایسی ہو جس کی بناء پر امیر وقت کسی قیدی یا بعض قیدیوں کو قتل کرنا ضروری سمجھے تو وہ ایسا کرسکتا ہے یہ عام قاعدہ سے ایک استنائی صورت ہے جس کو بضرورت استعمال کیا جائے گا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر کے ستر قیدیوں میں سے صرف عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کو قتل کیا، جنگ خیبر میں جو لوگ گرفتار ہوئے ان میں سے صرف کنانہ بن ابی الحقیق کو قتل کیا گیا، اس لئے کہ اس نے بدعہدی کی تھی، فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے تمام اہل مکہ میں سے صرف چند اشخاص کے متعق حکم دیا کہ ان میں سے جو بھی پکڑا جائے وہ قتل کردیا جائے، ان مستثنیات کے سوا آپ کا عام طریقہ اسیران جنگ کو قتل کرنے کا کبھی نہیں رہا اور یہی عمل خلفاء راشدین کا بھی تھا۔
بنی قریضہ نے چونکہ اپنے آپ کو حرت سعد بن معاذ کے فیصلے پر حوالہ کیا تھا اور ان کے اپنے تسلیم کردہ حکم کا فیصلہ یہ تھا کہ ان کے مردوں کو قتل کردیا جائے، اس لئے آپے نے ان کو قتل کرا دیا، بنی قریظہ کے قیدیوں میں سے آپ ﷺ نے زبیر بن باطا اور عمر بن سعد کی جان بخشی کی، زبیر کو اس لئے چھوڑا کہ اس نے جاہلیت کے زمانہ میں جنگ بعاث کے موقع پر حضرت ثابت بن قیس انصاری کو پناہ دی تھی، اس لئے آپ نے اس کو ثابت بن قیس کے حوالہ کردیا تاکہ اس کے احسان کا بدلہ ادا کریں اور عمر بن سعد کو اس لئے چھوڑا کہ جب بنی قریضہ حضور کے ساتھ بد عہدی کر رہے تھے اس وقت یہ شخص اپنے قبیلے کو غداری سے منع کر رہا تھا۔ (کتاب الاموال لابی عبید ملخصاً )
مشروعیت جہاد کی ایک حکمت :
ولویشاء اللہ لانتصرمنھم ولکن لیبلوا بعضکم ببعض (الآیۃ) اس آیت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اس امت میں کفار سے جہاد و قتال کی مشروعیت درحقیقت ایک رحمت ہے کیونکہ وہ آسمانی عذاب کے قائم مقام ہے کیونکہ کفر و شرک اور اللہ سغ بغاوت کی سزا پچھلی قوموں کو آسمانی اور زمینی عذابوں کے ذریعہ دی گئی ہے، امت محمدیہ ﷺ میں بھی ایسا ہوسکتا تھا مگر رحمتہ اللعالمین کی برکت سے اس امت کو ایسے عام عذابوں سے بچا لیا گیا، اس کے قائم مقام جہاد شرعی کو کردیا گیا جس میں بہ نسبت عذاب عام کے بڑی سہولتیں اور مصلحتیں ہیں، مثلاً آسمان یا زمینی عذاب میں پوری کی پوری قومیں جس میں مرد عورت بچے جانور سب ہی تباہ ہوجاتے ہیں جہاد میں ایسا نہیں ہوتا، نیز جہاد کی مشروعیت کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ جہاد و قتال کے دونوں فریق، مسلمان اور کافر کا امتحان ہوجاتا ہے کہ کون اللہ کے ظلم پر اپنی جان و مال نثار کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے اور کون کفر و سرکشی پر جما رہتا ہے یا اسلام کے روشن دلائل دیکھ کر اسلام قبول کرلیتا ہے۔
حکم : یہ ضروری نہیں کہ قید قتل سے مئوخر ہو جیسا کہ بظاہر کلمہ حتی اور فاء سے متبادر رہے، بلکہ یہ تحریض و تاکید ہے کہ صرف لڑنے والوں کے ہی قتل پر اکتفاء نہ ہو بلکہ مغلوبوں کو خوب کس کر باندھ لو، مطلب یہ کہ نہتے، تہیھار بندوخانہ نشین غرضیکہ میدان میں آنے والے سب پر عذاب الٰہی نازل ہے ایک کو نہ چھوڑو چونکہ بدون قتال و خونریزی دشمن مغلوب نہیں ہوتا۔ (خلاصۃ التفاسیر، تائب)
حکم : شدو ثاق سے صرف کس کر باندھ لینا ہی مراد نہیں ہے بلکہ کمال ہوشیاری مراد ہے، خواہ باندھو یا اسیر کردیا اور کوئی طریقہ اختیار کرو۔
فائدہ : صحیح بہ ہے کہ یہ آیت نہ منسوخ ہے اور نہ مخصوص، صاحب تفسیر مظہری نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے اور صاحب تفسیر احمدی نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے اس لئے کہ یہ آیت خواہ واقعہ بدر سے مقدم ہو یا مئوخر، اگر مقدم ہے تو زر فدیہ لینے پر عتاب کیوں ہوا ؟ اور اگر مئوخر ہے تو نسخ ممکن نہیں اب رہیں دوسری آیات تو وہ عموم قتل کفار پر دال ہیں نہ کہ احسان اور فدیہ سے متعلق، اب جبکہ آیت محکم غیر منسوخ ہوئی تو مطلب یہ ہوا کہ امام مختار ہے (1) چاہے قتل کرے جیسا کہ کلمہ اثخنتموا سے ظاہر ہے (2) یا غلام بنائے جیسا کہ شدوثاق سے مفہوم ہے (3) یا مفت چھوڑ دے جیسا کہ کلمہم ن سے ظاہر ہے اور عالمگیری میں حنفیہ سے مفت چھوڑنے کی روایت موجود ہے (4) اور چاہے مسلمان قیدیوں سے تبادلہ کرے، اختلاف ذکر کرنے کے بعد یہی مذہب محمد والا یوسف اور ابوحنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ کی ظاہر روایت سے سیر کبیر میں منقول ہے (5) معاوضہ مالی لیکر چھوڑ دے، صاحب ہدایہ نے کہا کہ بہ شرط ضرورت جائز ہے، معلوم ہوا کہ من و فداء میں حصر نہیں ہے۔ (خلاصۃ التفاسیر بحوالہ عالمگیری)
مسئلہ :۔ مفت چھوڑنا اس وقت تک جائز ہے کہ وہ اسیر کسی کے حصہ میں نہ آیا ہو۔ (ھدایہ)
مسئلہ : اسیر کے عوض رہا کرنا تب ہے کہ وہ قیدی ایمان نہ لایا ہو۔
فائدہ : کافر جب قید ہو کر ایمان لے آئے تو سوائے استرقاق کے تمام امور سے بری ہے یعنی نہ قتل کیا جاسکتا ہے اور نہ فدیہ میں دیا جاسکتا ہے البتہ غلامی سے رہائی بدون عتق نہ ہوگی۔
حکم : لڑائی موقوف ہوجانے سے یہ مطلب نہیں کہ مقابل مغلوب ہو کر مطیع ہوجائے بلکہ مراد یہ ہے کہ تمام عالم میں کوئی مقابل نہ رہے اور یہ حضرت عیسیٰ اور امام مہدی کے زمانہ میں ہوگا، حدیث میں وارد ہے لانزال طائفۃ من امتی یقاتلون علی الحق ظاہرین علی من ناواھم حتی یقاتل آخر ھم المسیح الدجال (ابودائود) اور فرمایا الجھاد ماض الی یوم القیامۃ (ابن کثیر) (خلاصۃ التفاسیر ملخصاً ، تائب لکھنوی)
Ayahs 47:12–13ترجمہ :۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے انہیں اللہ تعالیٰ یقینا ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور کفر کرنے والے دنیا میں (چند روزہ) زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں اور جانوروں کی طرح کھا (پی) رہے ہیں یعنی ان کے پیش نظر (شہوت بطن و فرج یعنی) پیٹ اور پیٹھ کی شہوت کے علاوہ کچھ نہیں اور وہ آخرت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور جہنم ان کا ٹھکانہ ہے (یعنی) ان کی منزل، مقام اور ٹھکانہ جہنم ہے (اے نبی) ہم نے کتنی ہی بستیوں کو مراد بستی والے ہیں جو طاقت میں تیری اس بستی مکہ سے یعنی مکہ والوں سے زیادہ تھیں جس سے تجھ کو نکالا (اخر جتک) میں لفظ قریۃ کی رعایت کی گئی ہے ہلاک کردیا اول قریۃ کے معنی کی رعایت کی گئی ہے کہ کوئی ان کو ہماری ہلاکت سے بچانے والا نہ ہوا، بھلا کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے پروردگار کی طرف سے حجت وبرہان پر ہوں اور وہ مومن بھی ہوں اس شخص کی طرح ہوجائیں جس کے لئے اس کا برا عمل خوشنما بنادیا گیا ہو تو وہ اس عمل کو اچھا سمجھنے لگا ہو اور بتوں کی بندگی میں اپنی خواہشات کے پیرو بن گیا ہو یعنی ان کے درمیان میں کوئی مماثلث نہیں ہے اور اس جنت کی صفت جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے وہ جنت ہے جو مشترک ہے اس میں داخل ہونے والوں میں (الجنۃ الخ) مبتداء ہے (فیھا انھار) اس کی خبر ہے یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جو بدبو کرنے والا نہیں (اسن) مد اور بغیر مد (دونوں طرح ہے) جیسا کہ ضارب وحذر یعنی وہ پانی متغیر ہونے والا نہیں بخلاف دنیا کے پانی کے کہ وہ کسی عارض کی وجہ سے متغیر ہوجاتا ہے اور دودھ کی نہریں ہیں کہ جن کا مزہ نہیں بدلا بخلاف دنیا کے دودھ کے، اس کے تھنوں سے نکلنے کی وجہ سے اور شراب کی نہریں ہیں جن میں پینے والوں کے لئے بڑی لذت ہے بخلاف دنیا کی شراب کے کہ وہ پینے کے وقت بدمزہ ہے اور صاف شہد کی نہریں ہیں بخلاف دنیوی شہد کے اس شہد کے مکھی کے پیٹ سے نکلنے کی وجہ سے اس میں موم وغیرہ مل جاتا ہے اور ان کے لئے وہاں ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے وہ ان سے راضی ہے ان کے ساتھ ناراض بھی ہوتا ہے کیا یہ اس کے مثل ہے جو ہمیشہ آگ میں رہنے والا ہے ؟ یہ مبتداء محذوف (یعنی) امن ھو فی ھذا النعیم کی خبر ہے یعنی وہ شخص جو ان نعمتوں میں ہوگا وہ اس شخص جیسا ہے کہ جو ہمیشہ آگ میں رہے گا اور جنہیں گرم یعنی نہات شدید گرم پانی پلایا جائے گا، جو ان کی اعضاء کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا یعنی ان کی آتنوں کے، تو وہ (کٹ کر) ان کی دبروں سے نکل جائیں گی اور امعاء معا بلامد کی جمع ہے اور اس کا لف یاء کے عوض میں ہے (تثنیہ) میں ان کے قول معیان کی دلیل سے اور ان کفار میں بعض ایسے ہیں کہ جو جمعہ کے خطبہ میں آپ کی طرف (بظاہر) کان لگاتے ہیں اور وہ منافق ہیں یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے جاتے ہیں تو اہل علم علماء صحابہ سے جن میں ابن مسعود اور ابن عباس شامل ہیں استہزاء پوچھتے ہیں ابھی اس نے کیا کہا ؟ (آنقاً ) مد اور بلامد (دونوں) ہے معنی ساعت (ابھی) ہم اس کی طرف توجہ نہیں دیتے یہی ہیں وہ لوگ جن کے دلوں پر کفر کی وجہ سے اللہ نے مہر لگا دی اور وہ نفاق میں اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اور جو لوگ ہدایت یافتہ ہیں اور وہ مومنین ہیں اللہ نے انہیں ہدایت میں اور بڑھا دیا ہے اور انہیں ان کی پرہیز گاری عطا فرمائی (یعنی) ان کو اس چیز کی توفیق عطا فرمائی جس کے ذریعہ وہ آگ سے محفوظ رہیں گے ان کفار مکہ کو صرف قیامت کا انتظار ہے کہ وہ ان کے پاس اچانک آجائے (تاتیھم) الساعۃ سے بدل الاشتمال ہے یعنی (یقین کرنے کی) اب کوئی صورت باقی نہیں مگر یہ کہ ان پر اچانک قیامت آجائے یقینا اس کی علامات تو آچکی ہیں ان میں ایک آنحضرت ﷺ کی بعثت ہے اور چاند کا پھٹ جانا ہے اور دھواں ہے پھر جب ان کے پاس قیامت آجائے تو ان کو نصیحت کہاں حاصل ہوگی ؟ یعنی نصیحت ان کو کہاں فائدہ دے گی سو اے نبی آپ ﷺ یقین کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں یعنی اے محمد تم اپنے اس علم پر جو کہ قیامت میں نافع ہے دائم رہو اور اپنی خطا کے لئے بخشش مانگا کریں آپ ﷺ کے معصوم ہونے کے باوجود آپ سے بخشش مانگنے کے لئے کہا گیا، تاکہ آپ کی امت اس کی پیروی کرے اور آپ ﷺ کے معصوم ہونے کے باوجود آپ سے بخشش مانگنے کے لئے کہا گیا، تاکہ آپ کی امت اس کی پیرو کرے اور آپ ﷺ نے اس پر عمل فرمایا بھی، آپ ﷺ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے روزانہ سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں اور مومنین و مومنات کے لئے بھی، نبی کو مومنین کے لئے استغفار کا حکم دینے میں امت کا اکرام ہے اور اللہ دن میں تمہارے کام کاج کے لئے آمد و رفت کو اور رات میں تمہارے قیام کی جگہ کو خوب جانتا ہے یعنی وہ تمہارے احوال سے واقف ہے ان میں سے اس پر کوئی شئی مخفی نہیں ہے تو اس سے رتے رہو اور خطاب مومنین وغیرہ سب کے لئے ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : مثوی ظرف مکان ہے، ٹھکانہ، مدت دراز تک ٹھہرنے کا مقام (جمع) مثاوی
قولہ : والنار مثوی لھم مبتداء خبر سے مل کر جملہ مستانفہ ہے۔
قولہ : کاین یہ کاف اور ای سے مرکب ہے کم خبر یہ کے معنی میں ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے محلاً مرفوع ہے۔
قولہ : ھی اشد الخ جملہ ہو کر قریۃ کی صفت ہے۔
قولہ : اخر جتک، اخرجتک کی ضمیر مئونث لانے میں قریہ اولیٰ کی لفظ کی رعایت کی گئی ہے اور اھلکناھم کی ضمیر میں قریہ ثانیہ کے معنی کی رعایت کی گئی، یعنی قریۃ سے اہل قریہ مراد ہونے کی وجہ سے ضمیر کو مذکر لایا گیا ہے۔
قولہ : المشترکۃ تعنی جس جنت کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے وہ تمام مومنین کے درمیان مشترک ہے اس لئے کہ ہر مومن شرک سے متقی ہے، البتہ متقین کاملین کے لئے اعلیٰ درجہ کی جنت ہے۔
قولہ : الجنۃ التی مبتداء ہے اور فیھا انھر اس کی خبر ہے۔
سوال : خبر جملہ ہے اور جب خبر جملہ ہوتی ہے تو عائد ضروری ہوتا ہے مگر یہاں کوئی عائد نہیں ہے۔
جواب :۔ جب خبر عین مبتداء ہوتی ہے تو عائد ضروری نہیں، یہاں ایسا ہی ہے۔
قولہ :۔ اسن (س، ض) اسناً پانی کا متغیر ہونا، بدبودار ہونا۔
قولہ :۔ لذیذۃ اس میں اشارہ ہے کہ مصدر بمعنی اسم فاعل ہے اور اسناد مجازی ہے جیسا کہ زید عدل میں یعنی جنت کی شراب اس قدر لذیذ ہے کہ گویا وہ خود سراپالذت ہی لذت ہے، اس کو سوال و جواب کی شکل میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ من خمر لذۃ میں مصدر کا حمل ذات پر ہو رہا ہے جو درست نہیں ہے، جو اب یہ ہے کہ یہ حمل زید عدل کے قبیل سے مبالغتہ ہے۔
قولہ :۔ لھم فیھا، لھم کائن یا موجود کے متعق ہو کر خبر مقدم ہے فیھا محذوف سے متعلق ہے اور مبتداء محذوف ہے جیسا کہ مفسر علام نے اصناف محذوف مان کر مبتداء محذوف کی طرف اشارہ کردیا ہے۔
قولہ :۔ فھوراض عنھم اس جملہ کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال :۔ اللہ تعالیٰ کے قول ولھم فیھا من کل الثمرات ومغفرۃ من ربھم سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح دخول جنت کے بعد جنتیوں کو میوے ملیں گے اسی طرح مغفرت بھی جنت میں ملے گی حالانکہ مغفرت دخول جنت سے پہلے ہونی چاہیے۔
جواب :۔ مغفرت سے یہاں رضا مراد ہے جو کہ جنت میں حاصل ہوگی۔
قولہ :۔ من ھو خالد فی النار مبتداء محذوف کی خبر ہے، مفسر علام نے مبتداء محذوف کی طرف اپنے قول امن ھو فی ھذا النعیم اشارہ کردیا۔
قولہ :۔ امعاء انتڑیاں امعاء معا کی جمع ہے اس کا الف یاء سے بدلا ہوا ہے نہ کہ وائو سے، اس لئے کہ اس کا واحد معی اور تثنیہ معیان آتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ معا کا الف یاء سے بدلا ہوا ہے۔
قولہ :۔ مضارین، مصارین مصیر کی جمع الجمع ہے یعنی مصیر کی جمع مصران اور مصران کی جمع مصارین ہے، اس کے عنی انتڑیاں، فارسی میں رودہ کہتے ہیں۔
قولہ :۔ لایرجع الیہ اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی یا وہ قابل اتفات نہیں، صحیح نسخہ نرجع جمع متکلم کا صیغہ ہے یعنی ہم اس کی باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتے تم ہی بتادو حضرت نے ابھی کیا فرمایا ؟ (فتح القدیر شو کانی)
قولہ :۔ فانی لھم خبر مقدم ہے اور ذکراھم مبتداء مئوخر ہے اذا جاء تھم الساعۃ جملہ معترضہ ہے اور اذا کا جواب محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے اذا جاء تھم الساعۃ فکیف بتذکرون
قولہ :۔ اولئک مبتداء ہے الذین طبع اللہ علی قلوبھم اس کی خبر
قولہ :۔ والذین اھتدوا مبتداء زادھم اس کی خبر
قولہ :۔ اشرطھا اشراط جمع شرط بفتح الراء بمعین علامت
قول : فاعلم انہ لا الہ الا اللہ یعنی جب مومنین کی سعادت اور کافروں کی شقاوت معلوم ہوگئی تو آپ آدئہ بھی اپنے علم بالوحدانیت وغیرہ پر قائم رہئے۔
قولہ :۔ استغفر لذنبک ای استغفر اللہ ان یقع منک الذنب اور استغفر اللہ لیعصمک وقیل الخطاب لہ والمراد الامۃ مگر اس آخری توجیہ کا، آئندہ جملہ جو کہ ہو وللمئومنین و المثومنات ہے، انکار کرتا ہے۔
تفسیر و تشریح
والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کماتا کل الانعام (الآیۃ) یعنی جس طرح جانور کھاتا ہے اور کچھ نہیں سوچتا کہ یہ رزق کہاں سے آیا ہے ؟ کس کا پیدا کیا ہوا ہے ؟ اور اس رزق کے ساتھ میرے اوپر رازق کے کیا حقوق عائد ہوتے ہیں ؟ اسی طرح یہ لوگ بھی بس کھائے جا رہے ہیں، چرنے چگنے سے مطلب، آگے انہیں کسی چیز کی فکر نہیں ہے، جانور کے کھانے میں اور انسان کے کھانے میں بظاہر کوئی فرق نہیں دونوں کی غرض ایک ہے یعنی تلذذ اور بقائے جسم و قوت، مگر حقیقت یہ نہیں ہے، جانور اس لئے کھاتا ہے کہ لذت اندوز ہو اور حیات و صحت باقی رہے اور انسان کا مقصد اس کھانے سے قوت خدمت، اطمینان قلب، قوت ذکر، کثرت عبادت ہوتی ہے، اگر کسی انسان کا یہ مقصد نہ ہو تو اس کا کھانا پینا جانور کے مانند ہوگا ایسے ہی انسانوں کے بارے میں کہ جن کا مقصد شکم پری اور جنس کا تقاضہ پورا کرنے کے علاوہ کچھ نہ ہو، فرمایا : ان کا کھانا حیوانوں کے مانند ہوتا ہے۔
کھڑے ہو کر کھانے کی ممانعت :
حکم : اس سے ضمناً کھڑے کھڑے کھانے کی ممانعت کا بھی اثبات ہوتا ہے جس کا مغربی تہذیب کی اتباع میں اج کل دعوتوں میں عام رواج ہو چلا ہے، کھڑے ہو کر کھانا پینا جانوروں کی خصلت ہے، حدیث شریف میں کھڑے ہو کر پانی پینے کی تاکیدی ممانعت آئی ہے جس سے کھڑے ہو کر کھانے کی ممانعت بطریق اولیٰ ثابت ہوتی ہے، اس لئے جانوروں کی طرح کھڑے ہو کر کھانے پینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (زاد المعاد) مغربی تہذیب کا مقصد ہی منصوبہ بند طریقے سے اسلامی تہذیب کی مخالفت کرنا ہے، لہٰذا مسلمانوں اور علماء کو بالخصوص ایسی محفلوں، دعوتوں میں شرکت سے احتراز کرنا چاہیے۔
Ayah 47:14شان نزول :
عبد بن حمید اور ابویعلی اور ابن جریر وابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ جب مکہ سے (بارادہ ہجرت) غار کی طرف نکلے تو آپ نے مکہ کی طرف رخ کر کے فرمایا انت احب بلاد اللہ فی ولو لا ان اھلک اخر جونی منک لم اخرج الخ اے مکہ تو اللہ کے شہروں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اگر تیرے فرزند مجھے تجھ سے نہ نکالتے تو میں نہ نکلتا، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ (فتح القدیر، شوکانی)
افمن کان علی بینۃ من ربہ (الآیۃ) بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ پیغمبر اور اس کے متعبین کو جب خدا کی طرف سے ایک صاف اور سیدھا راستہ مل گیا ہے اور پوری بصیرت کے ساتھ وہ اس پر قائم ہوچکے ہیں تو اب وہ ان لوگوں کے ساتھ چل سکیں جو اپنی پرانی جاہلیت کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں جو شیاطن کے دامفریب میں پھنس کر ضلالتوں کو ہدایت اور پانی بدکرداریوں کو خوبی سمجھ رہے ہیں، جو کسی دلیل کی بناء پر نہیں بلکہ اپنی خواہشات کی بناء پر حق و باطل کا فیصلہ کرتے ہیں، نہ دنیا میں ان دونوں فریقوں کی زندگی ایک جیسی ہے اور نہ آخرت میں ان کا انجام یکساں ہوسکتا ہے۔
Ayah 47:15من ماء غیر آسن، آسن اس پانی کو کہتے ہیں جس کا رنگ و مزہ بدل گیا ہو نیز بدبو دار بھی ہوگیا ہو، دنیا میں دریائوں اور نہروں کے پانی عام طور پر گندے ہوتے ہیں ان میں ریت مٹی طرح طرح کی نباتات ملنے کی وجہ سے ان کا رنگ اور مزہ بدل جاتا ہے، اس لئے جنت کی نہروں کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ وہ غیر آسن ہوگا، اسی طرح دنیا کا دودھ چونکہ گائے بھینس بکری وغیرہ کے تھنوں سے نکلتا ہے، جس کی وجہ سے کبھی خراب بھی ہوجاتا ہے جنت کا دودھ چونکہ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا نہیں ہوگا بلکہ اس کی نہریں ہوں گی، اس لئے جس طرح وہ نہایت لذیذ ہوگا اسی طرح خراب ہونے سے بھی محفوظ ہوگا، غرض یہ کہ جنت کی نعمتوں اور دنیا کی نعمتوں میں مشارکت اسمی کے علاوہ اور کوئی مناسبت نہیں ہوگی اور یہ اسمی مشارکت بھی سمجھانے کے لئے ہے ورنہ وہاں کے دودھ کو یہاں کے دودھ سے اور وہاں کے پانی کو یہاں کے پانی سے اور وہاں کے شہد کو یہاں کے شہد سے اور وہاں کے پھلوں کو یہاں کے پھلوں سے نہ کوئی مناسب اور نہ موازنہ
مغفرۃ من ربھم اللہ تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کے بعد مغفرت کا ذکر فرمایا ہے، مغفرت کے ذکر کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اول یہ کہ یہ نعمت جنت کی ساری نعمتوں سے بڑھ کر ہوگی، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو کو تاہیاں جنتیوں سے ہوئی تھیں ان کا ذکر تک جنت میں کبھی سامنے نہیں آئے گا بلکہ اللہ تعالیٰ ان پر ہمیشہ کے لئے پردہ ڈال دے گا تاکہ جنت میں وہ شرمندہ نہ ہوں۔
Ayahs 47:16–17ومنھم من یستمع الیک حتی اذا خرجوا عن عندک (الآیۃ) یہ منافقین کا ذکر ہے، منافقین کا یہ طریقہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر تو ہوتے تھے مگر باہر نکل کر علمائے صحابہ ؓ سے معلوم کرتے تھے کہ آنحضرت نے ابھی کیا فرمایا ؟ اور یہ پوچھنا بطور تمسخر ہوتا تھا، تاکہ معلوم ہو کہ ہم ان کی باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتے، اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کی نیت چونکہ صحیح نہیں ہوتی تھی اس لئے نبی ﷺ کی باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں وہ مجلس سے باہر آ کر صحابہ ؓ سے پوچھتے تھے کہ ابھی آپ ﷺ نے کیا فرمایا ؟ یعنی وہی باتیں جن کو سن کر کفار و منافقین پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی آپ کیا فرما رہے تھے ؟ ہدایت یافتہ لوگوں کے لئے مزید ہدایت کی موجب ہوتی ہیں اور جس مجلس سے وہ بدنصیب لوگ اپنا وقت ضائع کر کے اٹھتے ہیں اسی مجلس سے یہ خوش نصیب لوگ علم و عرفان کا نیا خزانہ حاصل کر کے پلٹتے ہیں۔
Ayah 47:18فھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ جہاں تک حق کے واضح ہونے کا تعلق ہے وہ تو دلائل سے اور قرآن کے معجزانہ بیان سے، محد ﷺ کی سیرت پاک سے اور صحابہ کرام کی زندگیوں کے انقلاب سے انتہائی روشن طریقہ پر واضح ہوچکا ہے، اب کیا ایمان لانے کے لئے یہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ قیامت ان کے روبرو آ کھڑی ہو ؟ اور یہ تمام غیبی باتوں کا عینی مشاہدہ کرلیں، اس وقت تو بڑے سے بڑا کافر بھی ایمان لاتا ہے مگر اس ایمان کا کوئی اعتبار نہیں، خلاصہ یہ کہ ایمان کے لئے تمام شواہد و دلائل آچکے جو کہ ایک صاحب عقل و بصیرت کے ایمان لانے کے لئے کافی ہیں اب بھی اگر ایمان نہیں لاتے تو بس ایک علامت جس میں تمام مغیبات مشاہد ہوجائیں گے باقی رہ گئے ہے، اور وہ ہے قیامت۔
فقد جاء اشراطھا (الآیۃ) اگر مشرکین و کفار کو قیامت کے برپا ہونے کا انتظار ہے تو اس کی علامات بعیدہ تو آچکی ہیں ان میں سے ایک بڑی علامت خود نبی ﷺ کی بعثت ہے، صحیحین وغیرہما میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بعثت انا والساعۃ کھاتین میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں اور آپ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا : جس طرح ان دونوں انگلیوں کے درمیان کوئی انگلی نہیں ہے، اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور اسی جیسی ایک حدیث بخاری شریف میں سہل بن سعد ؓ سے بھی مروی ہے۔
Ayah 47:19واستغفر لذنبک والمومنین والمومنات (الآیۃ) اس آیت میں نبی ﷺ کو استغفار کا حکم دیا گیا ہے اپنے لئے بھی اور مومنین کے لئے بھی، یہاں یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) تو معصوم ہوتے ہیں پھر ان کو استغفار کا کیوں حکم دیا گیا ہے ؟
جواب :۔ بوجہ عصمت اگرچہ انبیاء (علیہم السلام) سے گناہ کے سر زد ہونے کا احتمال نہیں تھا مگر عصمت کے باوجود بعض اوقات خطا اجتہادی سر زد ہوجاتی ہے، خطاء اجتہادی اگرچہ قانون شرع میں گناہ نہیں ہے بلکہ اس پر بھی اجر ملتا ہے انبیاء مدعلیہم السلام کو ان کی خطا اجتہادی سر زد ہوجاتی ہے، خطاء اجتہادی اگرچہ قانون شرع میں گناہ نہیں ہے بلکہ اس پر بھی اجر ملتا ہے انبیاء (علیہم السلام) کو ان کی خطا پر متنبہ کردیا جاتا ہے مگر ان کی شان عالی کے اعتبار سے اس کو ذنب سے تعبیر کردیا جاتا ہے جیسا کہ سورة عبس میں آپ پر ایک قسم کا عتاب فرمایا وہ بھی اسی خطاء اجتہادی کی مثال تھی جس کی تفصیل (انشاء اللہ) سورة عبس میں آئیگی۔ (معارف)
اور بعض حضرانت نے ” ذنب “ سے مراد خلاف اولیٰ لیا ہے جس کا انبیاء سے سر زد ہونا ممکن ہے اور نہ یہ عصمت کے خلاف ہے، بعض اوقات امت کی سہولت اور بیان جواز کے لئے نبی خلاف اولیٰ کو اختیار کرلیتا ہے، اس کے علاوہ اسلام نے جو اخلاق انسان کو سکھائے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ اپنے رب کی بندگی بجا لانے میں اداء حق کی خاطر جان لڑانے میں خواہ اپنی حد تک کتنی ہی کوشش کرتا رہا ہو، بندہ کو اس زعم میں مبتلا نہ ہونا چاہیے کہ جو کچھ مجھے کرنا چاہئیت ھا وہ میں نے کردیا ہے اس لئے کہ کسی بھی نبدے سے اس کی شایان شان حق ادا ہو ہی نہیں سکتا، اس لئے کہ بندہ جس قدر بھی شکر کرے گا توفیق شکر کا شکر لازم ہوگا اور بندہ جتنا بھی شکر کرے گا یہ سلسلہ بڑھتا ہی رہے گا اداء شکر میں اگر جان بھی دیدے پھر بھی اس کا حق ادا نہ ہوگا آخر میں یہی کہتا ہوگا۔
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
اس کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں کہ اس بات کا اقرار کرے کہ اے میرے مالک، تیرا جو میرے اوپر حق تھا میں کما حقہ نہیں کرسکا ہوں اور ہمہ وقت اپنے قصور کا اعتراف کرتا رہے، یہی روح ہے اللہ کے اس ارشاد کی کہ اے نبی اپنے قصور کی معاونت مانگو، اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاذ اللہ نبی نے فی الواقع جان بوجھ کر کوئی قصور کیا تھا۔